Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 138

سورة الصافات

وَ بِالَّیۡلِ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۳۸﴾٪  8

And at night. Then will you not use reason?

اور رات کو بھی ، کیا پھر بھی نہیں سمجھتے؟

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Verily, you pass by them in the morning. And at night; will you not then reflect! meaning, `will you not learn a lesson from them and how Allah destroyed them, and realize that a similar end awaits the disbelievers.'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

138۔ 1 یہ اہل مکہ سے خطاب ہے جو تجارتی سفر میں ان تباہ شدہ علاقوں سے آتے جاتے، گزرتے تھے ان کو کہا جارہا ہے کہ تم صبح کے وقت بھی اور رات کے وقت بھی ان بستیوں سے گزرتے ہو، جہاں اب مردار بحیرہ ہے، جو دیکھنے میں بھی نہایت کر یہ ہے اور سخت متعفن اور بدبودار۔ کیا تم انہیں دیکھ کر یہ بات نہیں سمجھتے کہ رسولوں کے جھٹلانے کی وجہ سے ان کا یہ بد انجام ہوا، تو تمہاری اس روش کا انجام بھی اس سے مختلف کیوں کر ہوگا ؟ جب تم بھی وہی کام کر رہے ہو، جو انہوں نے کیا تو پھر اللہ کے عذاب سے کیوں کر محفوظ رہو گے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَبِالَّيْلِ۝ ٠ ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۝ ١٣٨ۧ ليل يقال : لَيْلٌ ولَيْلَةٌ ، وجمعها : لَيَالٍ ولَيَائِلُ ولَيْلَاتٌ ، وقیل : لَيْلٌ أَلْيَلُ ، ولیلة لَيْلَاءُ. وقیل : أصل ليلة لَيْلَاةٌ بدلیل تصغیرها علی لُيَيْلَةٍ ، وجمعها علی ليال . قال اللہ تعالی: وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] ( ل ی ل ) لیل ولیلۃ کے معنی رات کے ہیں اس کی جمع لیال ولیا ئل ولیلات آتی ہے اور نہایت تاریک رات کو لیل الیل ولیلہ لیلاء کہا جاتا ہے بعض نے کہا ہے کہ لیلۃ اصل میں لیلاۃ ہے کیونکہ اس کی تصغیر لیلۃ اور جمع لیال آتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس قرآن کو شب قدر میں نازل ( کرنا شروع ) وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ [إبراهيم/ 33] اور رات اور دن کو تمہاری خاطر کام میں لگا دیا ۔ عقل العَقْل يقال للقوّة المتهيّئة لقبول العلم، ويقال للعلم الذي يستفیده الإنسان بتلک القوّة عَقْلٌ ، وهذا العقل هو المعنيّ بقوله : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] ، ( ع ق ل ) العقل اس قوت کو کہتے ہیں جو قبول علم کے لئے تیار رہتی ہے اور وہ علم جو اس قوت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے ۔ اسے بھی عقل کہہ دیتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] اور سے توا ہل دانش ہی سمجھتے ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

وَبِالَّـیْلِ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ } ” اور رات کو بھی ‘ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ “ قومِ لوط ( علیہ السلام) کی تباہ ہونے والی بستیوں میں سے سدوم اور عامورہ کے شہر معروف تھے۔ حال ہی میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے آرکیالوجی کے کچھ ماہرین کی تحقیق کے نتیجے میں ان شہروں کے کھنڈرات اور آثار بحر ِمردار ُ کے پانی کے نیچے دریافت ہوئے ہیں ‘ جس سے تورات اور قرآن میں مذکور تفصیلات کی تصدیق ہوگئی ہے۔ اسی طرح جب اللہ کو منظور ہوگا حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی بھی دنیا کی نگاہوں کے سامنے آجائے گی۔ سورة القمر ‘ آیت ١٥ میں اس حوالے سے اشارہ موجود ہے کہ کسی وقت یہ کشتی ایک بڑی نشانی کے طور پر ظاہر ہوگی۔ ہمارا ایمان ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کی بیان کردہ تاریخ کے ثبوت ایک ایک کر کے دنیا کے سامنے آتے چلے جائیں گے۔ ان شاء اللہ !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

25: اہل عرب اپنی تجارت کے لیے جب شام کا سفر کرتے تو ان اجڑی ہوئی بستیوں پر سے گذارا کرتے تھے جہاں حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب آیا تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:138) وبالیل۔ رات کے وقت۔ مصبحین وبالیل۔ صبح وشام۔ یا۔ دن رات۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ صبح اور رات کا ذکر اس لئے کیا کہ عرب میں اکثر عادت رات کو صبح تک چلنے کی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(138) اور کبھی رات میں پھر بھی نہیں سمجھتے اور سمجھ سے کام نہیں لیتے۔ یعنی تمہارے تجارتی قافلے تو ان بستیوں پر صبح کو اور کبھی رات میں گزرا کرتے ہیں یعنی جب ملک شام جاتے ہو تو ان الٹی ہوئی بستیوں سے گزرتے ہو کیا پھر بھی نہیں سمجھتے کہ ان پر عذاب کیوں ہوا اور پیغمبر کی نافرمانی کی سزا ان کو کس طرح ملی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قوم لوط کی بستیاں الٹی ہوئی نظر آتی ہیں شام کی راہ میں۔