Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 174

سورة الصافات

فَتَوَلَّ عَنۡہُمۡ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿۱۷۴﴾ۙ

So, [O Muhammad], leave them for a time.

اب آپ کچھ دنوں تک ان سےمنہ پھیر لیجئے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

So turn away from them for a while, means, `bear their annoyance with patience and wait until an appointed time, when We shall cause you to prevail and will grant you victory.' وَأَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

174۔ 1 یعنی ان کی باتوں اور ایذاؤں پر صبر کیجئے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتّٰى حِيْنٍ : ” ایک وقت “ سے مراد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب تک ہم آپ کو جنگ کی اجازت نہیں دیتے آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑے رکھیں، بس زبانی طور پر دعوت و تبلیغ کا کام کرتے رہیں اور انھیں دیکھتے جائیں، بہت جلد یہ اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ یاد رہے، یہ آیات مکی دور کی ہیں۔ اور ” ایک وقت “ سے ” یوم بدر “ بھی مراد ہوسکتا ہے اور فتح مکہ بھی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا، ہجرت کے بعد جب جہاد شروع ہوا تو کچھ زیادہ مدت نہ گزری تھی کہ کفار نے اپنی شکست اور مسلمانوں کی فتح کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور ان آیات کے اترنے کے بعد چودہ، پندرہ سال ہی گزرے تھے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس مکہ سے چھپ کر نکلے تھے، اسی مکہ میں دن کی روشنی میں دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ فاتحانہ شان سے داخل ہوئے اور کوئی مقابلے میں نہ ٹھہر سکا۔ پھر چند سال بعد ہی ساری دنیا نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ مسلمان صرف عرب ہی نہیں بلکہ روم، مصر اور ایران وغیرہ پر بھی غالب آگئے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَتَوَلَّ عَنْہُمْ حَتّٰى حِيْنٍ۝ ١٧٤ۙ ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے متعلق فرمایا : ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] اور جو شخص تم میں ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہیں میں سے ہوگا ۔ وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر سے دوستی کرے گا ۔ اور تعدیہ بعن کے متعلق فرمایا : ۔ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے ۔ حين الحین : وقت بلوغ الشیء وحصوله، وهو مبهم المعنی ويتخصّص بالمضاف إليه، نحو قوله تعالی: وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] ( ح ی ن ) الحین ۔ اس وقت کو کہتے ہیں جس میں کوئی چیز پہنچے اور حاصل ہو ۔ یہ ظرف مبہم ہے اور اس کی تعین ہمیشہ مضاف الیہ سے ہوتی ہے جیسے فرمایا : ۔ وَلاتَ حِينَ مَناصٍ [ ص/ 3] اور وہ رہائی کا وقت نہ تھا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧٤{ فَتَوَلَّ عَنْہُمْ حَتّٰی حِیْنٍ } ” تو (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ ان سے ذرا رخ پھیر لیجیے ایک وقت تک کے لیے۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی مخالفت کی پروا نہ کریں اور ان کی استہزائیہ باتوں سے اعراض کریں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:174) تول۔ امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تولی (تفعل) مصدر سے عن کے صلہ کے ساتھ۔ اس کا مطلب ہے تو منہ پھیر لے۔ تو اعراض کر۔ تو پھر آ۔ جب اس کا تعدیہ بلاواسطہ ہوتا ہے تو اس کے معنی دوستی رکھنے، کسی کام کو اٹھانے اور والیو حاکم ہونے کے ہوتے ہیں۔ جیسے :۔ (1) ومن یتونھم منکم فانہ منھم۔ (5:15) اور جو شخص تم میں سے ان کو دوست بنائے گا وہ بھی انہی میں سے ہوگا۔ (2) والذی تولی کبرہ منہم (24:11) اور جس نے ان میں سے اس بہتان کا بڑا بوجھ اٹھایا ہے۔ (3) فہل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض (47:22) تم سے عجب نہیں کہ اگر تم حاکم ہوجاؤ تو ملک میں فساد کرنے لگو حتی حین۔ ایک مدت تک۔ ایک وقت تک۔ تھوڑے زمانہ تک ای الی مدۃ یسیرۃ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے ساتھ بھی اللہ کا وعدہ ہے جو ہر صورت پورا ہو کر رہے گا اس لیے آپ کو ان سے الجھنے کی بجائے ایک وقتتک ان سے اعراض اور انتظار کرنا چاہیے۔ بے شک یہ آپ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن آپ ان کو ایک وقت کے لیے صرف نظر فرمائیں کیونکہ عنقریب یہ کھلی آنکھوں کے ساتھ دیکھ لیں گے کہ ہمارا عذاب ان کو کس طرح آلیتا ہے۔ جہاں تک دنیا کی پکڑ کا معاملہ ہے جب ہم نے انہیں ذلیل کرنے کا فیصلہ کرلیا تو پھر کوئی طاقت انہیں بچانے والی نہ ہوگی۔ لہٰذا جب اللہ کے وعدے کا وقت آن پہنچا تو نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح اہل مکہ اور یہود ونصارٰی پر غالب آئے کہ کوئی دم مارنے کی جرأت نہ کرسکا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دس ہزار کا لشکر جرار لے کر مکہ کا محاصرہ کیا تو چڑیا بھی پر نہیں مار سکی تھی اور دنیا جان گئی کہ مکہ کے بڑے بڑے سردار آپ سے معافی کے خواستگار ہوئے۔ اور آپ نے انہیں معاف کرتے ہوئے فرمایا کہ جاؤ تم آزاد ہو تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ جہاں تک یہودیوں کا معاملہ ہے۔ انہیں ہمیشہ کے لیے مدینہ سے نکال باہر کیا اور جب خیبرکا محاصرہ کیا تو شہر کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے اس آیت کی تلاوت کی۔ (فَاِِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِہِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِیْنَ ) [ الصّٰفّٰت : ١٧٧] ” جب عذاب کا نزول کسی کے آنگن میں ہوتا ہے تو ڈرائے گئے لوگوں کی صبح بڑی بھیانک ہوتی ہے۔ “ سلطنت رومہ کا اس طرح برا حال ہوا کہ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تیس ہزار کا لشکر لے کرتبوک کے میدان میں اترے تو اس وقت کی واحد سیاسی اور عسکری طاقت روم بھی آپ کا سامنا کرنے کی جرأت نہ کرسکا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے عسکری، اخلاقی اور دینی طور پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کامیابیوں سے سرافراز فرمایا اور صرف تیئس سال میں امن و سکون کا وہ انقلاب آیا جس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ مسائل ١۔ اے نبی ! کفار آپ سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں آپ ان کی بات پر توجہ نہ دیں۔ ٢۔ کافر اللہ تعالیٰ کے عذاب میں جلدی کرتے ہیں۔ ٣۔ عنقریب کافر اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ تفسیر بالقرآن کفارکا انجام : ١۔ اللہ تعالیٰ نے متقین کے ساتھ جنت کا وعدہ فرمایا ہے اور کافروں کا انجام دوزخ کی آگ ہے۔ (الرعد : ٣٥) ٢۔ کفار کے چہرے کالے ہوں گے اور جنتیوں کے چہرے پرنور ہوں گے۔ (آل عمران : ١٠٦۔ ١٠٧) ٣۔ کافر ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ (الزخرف : ٧٤) ٤۔ مجرم کے لیے جہنم ہے۔ (طٰہٰ : ٧٤) ٥۔ کفار کے چہروں پر ذلت چھائی ہوگی اور متقین کے چہرے ہشاش بشاش ہوں گے۔ (یونس : ٢٦۔ ٢٧) ٦۔ زمین میں چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ (النحل : ٣٦) ٧۔ ہم نے ان سے انتقام لیا دیکھئے جھٹلانے والوں کا انجام کیسا ہوا۔ (الزخرف : ٢٥) ٨۔ قیامت کے دن منکرین کے لیے ہلاکت ہے۔ (الطور : ١١) ٩۔ منکرین کے لیے جہنم کا کھولتا ہوا پانی ہے۔ (الواقعۃ : ٩٢) ١٠۔ کفار سے فرما دیں کہ عنقریب تم مغلوب ہوگے اور تمہیں جہنم کی طرف اکٹھا کیا جائے گا۔ (آل عمران : ١٢) ١١۔ کفار کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت ہی بری جگہ ہے۔ (النساء : ٩٧) ١٢۔ کفار کے لیے جہنم کی آگ ہے۔ اس میں انہیں موت نہیں آئے گی۔ (فاطر : ٣٦) ١٣۔ مجرم لوگ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ (الزخرف : ٧٤) ١٤۔ کفار کا ٹھکانہ جہنم ہے جب اس کی آگ ہلکی ہونے لگے گی تو ہم اس کو اور بھڑکا دیں گے۔ (بنی اسرائیل : ٩٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

فتول عنھم ۔۔۔۔۔ فسوف یبصرون (174 – 179) ” “۔ ان سے منہ پھیر لیں۔ ان کو پوری طرح نظر انداز کردیں۔ ان کو کوئی اہمیت نہ دیں۔ ان کو اس دن تک اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ جب آپ ان کو دیکھیں گے اور وہ آپ کو دیکھ رہے ہوں گے اور اللہ کا وعدہ سچا ہو رہا ہوگا۔ ہاں آگرچہ یہ ہمارے عذاب کے آنے کے لیے بہت جلدی کر رہے ہیں لیکن اے کاش کہ وہ سوچ سکتے کہ اس دن کیا تباہی مچے گی۔ جب یہ عذاب ان کے صحن میں ہوگا جب ہمارے رسول ڈراتے ہیں اور لوگ مان کر نہیں دیتے تو اس وقت سخت عذاب نازل ہوتا ہے۔ دوبارہ حکم دیا جاتا ہے کہ آپ ان سے روگردانی کرلیں اور ان کو نظر اندا کردیں ۔ یہ دراصل ان کو درپیش آنے والے خوفناک انجام کی طرف اشارہ ہے۔ فتول عنھم حتی حین (37: 174) ” ذرا انہیں کچھ مدت کے لیے چھوڑ دیں “۔ اور عذاب کی ہولناکی کی طرف بھی دوبارہ اشارہ کردیا جاتا ہے۔ وابصرھم فسوف یبصرون (37: 175) ” اور دیکھتے رہو عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے “۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(174) سواے پیغمبر آپ تھوڑی مدت تک ان منکروں کو منہ نہ لگائیے اور ان سے منہ پھیر لیجئے یعنی تھوڑے زمانے تک صبر کیجئے۔