TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Surat us Saaffaat 37:175 – Tafaseer

The tafseer of Surat us Saaffaat, verse 175, from every tafseer on this site - read one or compare them with each other.

وَّ اَبۡصِرۡہُمۡ فَسَوۡفَ یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۱۷۵﴾
And see [what will befall] them, for they are going to see.
اور انہیں دیکھتے رہیئے اور یہ بھی آگے چل کر دیکھ لیں گے ۔
Bookmark
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Info

And watch them and they shall see! means, `watch them and see what will happen to them by way of punishment for their opposition towards you and their disbelief in you.' Allah said, as a threat and a warning, فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ (and they shall see!). Then Allah says: أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Info

175۔ 1 کہ کب ان پر اللہ کا عذاب آتا ہے ؟

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Info

وَّاَبْصِرْہُمْ فَسَوْفَ يُبْصِرُوْنَ۝ ١٧٥ بصر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Info

آیت ١٧٥{ وَّاَبْصِرْہُمْ فَسَوْفَ یُبْصِرُوْنَ } ” اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں دیکھتے رہیے ‘ پس عنقریب وہ بھی دیکھ لیں گے۔ “ یعنی آپ ذرا انتظار کیجیے ‘ یہ لوگ اپنی شکست اور آپ کی فتح خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Info

94 That is. `It will not take long when they will see their defeat and your victory with their own eyes." This proved to be true as it had been foretold. Hardly 14 to 15 years had passed after the revelation of these vases when the pagans of Makkah witnessed the Holy Prophet enter their city as a conqueror, and then a few years later the same people saw that Islam had overwhelmed not only Arabia but the mighty empires of Rome and Iran as well.

سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :94 یعنی کچھ زیادہ مدت نہ گزرے گی کہ اپنی شکست اور تمہاری فتح کو یہ لوگ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے ۔ یہ بات جس طرح فرمائی گئی تھی اسی طرح پوری ہوئی ۔ ان آیات کے نزول پر بمشکل 14 ۔ 15 سال گزرے تھے کہ کفار مکہ نے اپنی آنکھوں سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فاتحانہ داخلہ اپنے شہر میں دیکھ لیا ، اور پھر اس کے چند سال بعد انہی لوگوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ اسلام نہ صرف عرب پر ، بلکہ روم و ایران کی عظیم سلطنتوں پر بھی غالب آگیا ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Info

(37:175) ابصرہم فسوف یبصرون۔ تو ان کو دیکھتا رہ۔ سو عنقریب یہ بھی دیکھ لیں گے۔ یعنی آپ ذرا اتنظار فرما دیں اور دیکھیں جس دن ان کو عذاب آلے گا اور یہ بھی اس وقت دیکھ لیں گے کہ ان کا کیا حشر ہوتا ہے۔ حین سے مراد یوم بدر۔ یوم فتح مکہ۔ وقت الموت یوم القیامت۔ ہوسکتا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Info

ف 13 یعنی جب تک ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان سے جنگ کرنے کی اجازت نہیں دیتے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں اور زبانی طور پر دعوت و تبلیغ کا کام کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ آیت مکی دور کی ہے۔14 چناچہ یہ وعدہ پورا ہوا اور چند سال بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فاتحانہ مکہ میں داخل ہوئے اور کفار نے اپنی ذلت و رسوائی اپنی آنکھوں سے دیکھی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

Info

(175) اور آپ ان کو دیکھتے رہیے سو یہ عنقریب خود بھی اپنا انجام دیکھ لیں گے۔ یعنی جو مہلت ان کو دی گئی ہے اس تک ان کی حالت اور ان کے انجام کا انتظار کیجئے تھوڑے ہی دنوں میں ان کو خود بھی اپنا انجام معلوم ہوا جاتا ہے۔ شاید اس پر اس وعید کی کفار کی جانب سے تعجیل کی گئی ہوگی کہ جو کچھ معلوم ہونا ہے وہ ہوجائے اس میں تاخیر کیوں ہورہی رہے ہم اپنا انجام دیکھنے کو تیار ہیں آگے اس کا جواب ہے۔