TheQuranic
TheQuranic
Quran  ·  Hadith  ·  Knowledge

Surat us Saaffaat - سورة الصافات | Verse Number 21 Tafaseer

The tafseer of Surat us Saaffaat, verse 21, from every tafseer on this site - read one or compare them with each other.

ہٰذَا یَوۡمُ الۡفَصۡلِ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ ﴿۲۱﴾٪  5
[They will be told], "This is the Day of Judgement which you used to deny."
یہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلاتے رہے ۔
Bookmark
Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Info

This is the Day of Judgement which you used to deny. This will be said to them as a rebuke and reproof. Allah will command the angels to separate the disbeliever from the believers in the place where they are standing. Allah says:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Info

21۔ 1 فرشتے اور اہل ایمان کہیں گے کہ یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم مانتے نہیں تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو کہیں گے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Info

ھٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ : اس وقت فرشتے اور مومن انھیں کہیں گے، یا وہ خود ایک دوسرے کو ملامت کے لیے کہیں گے، ہاں ! یہی وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

Info

ھٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِيْ كُنْتُمْ بِہٖ تُكَذِّبُوْنَ۝ ٢١ۧ فصل ( جدا) الفَصْلُ : إبانة أحد الشّيئين من الآخر : حتی يكون بينهما فرجة، ومنه قيل : المَفَاصِلُ ، الواحد مَفْصِلٌ ، قال تعالی: وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] ، ويستعمل ذلک في الأفعال والأقوال نحو قوله : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ أَجْمَعِينَ [ الدخان/ 40] ( ف ص ل ) الفصل کے معنی دوچیزوں میں سے ایک کو دوسری سے اسی طرح علیحدہ کردینے کے ہیں کہ ان کے درمیان فاصلہ ہوجائے اسی سے مفاصل ( جمع مفصل ) ہے جس کے معنی جسم کے جوڑ کے ہیں . قرآن میں ہے : وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] اور جب قافلہ ( مصر سے ) روانہ ہوا ۔ اور یہ اقول اور اعمال دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے قرآن میں ہے : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ أَجْمَعِينَ [ الدخان/ 40] کچھ شک نہیں کہ فیصلے کا دن سب کے اٹھنے کا دن ہے ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Info

تو فرشتے ان سے فرمائیں گے کہ ہاں یہ وہی تمہارے اور اہل ایمان کے درمیان فیصلہ کا دن ہے جس کے ہونے کا تم دنیا میں انکار کرتے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Info

آیت ٢١{ ہٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ } ” (اُس وقت انہیں کہا جائے گا : ہاں) یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Info

13 It may be that this is said by the believers, or by the angels; or it may be, as it were, the common expression of the conditions prevailing in the plain of Resurrection or it may as well be another reaction of the people themselves. That is, they may be saying in their hearts. "In the world, you lived in a way as if no Day of Judgement would ever come. Now you have come to your doom! This is the same Day that you used to deny ! "

سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :13 ہو سکتا ہے کہ یہ بات ان سے اہل ایمان کہیں ، ہو سکتا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہو ، ہو سکتا ہے کہ میدان حشر کا سارا ماحول اس وقت زبان حال سے یہ کہہ رہا ہو ، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود انہی لوگوں کا دوسرا رد عمل ہو ۔ یعنی اپنے دلوں میں وہ اپنے آپ ہی کو مخاطب کر کے کہیں کہ دنیا میں ساری عمر تم یہ سمجھتے رہے کہ کوئی فیصلے کا دن نہیں آنا ہے ، اب آ گئی تمہاری شامت ، جس دن کو جھٹلاتے تھے وہی سامنے آگیا ۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Info

(37:21) ھذا یوم الفصل الذی کنتم بہ تکذبون۔ یہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ بعض مفسرین کے نزدیک توبیخ و تقریع (جھڑک و ملامت) کے طور پر ملائکہ کا کلام ہے جو کفار کے یویلنا ھذا یوم الدین کے جواب میں دیا گیا۔ اور بعض کے نزدیک یہ بھی کافروں کے کلام کا تتمہ ہے اور تکذبون تک انہی کا کلام ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Info

ھذا یوم ۔۔۔۔ بہٖ تکذبون (21) ” “۔ ان یہاں انداز کلام ” بیانی “ اور ” خبری “ سے بدل کر خطاب کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور خطاب ان لوگوں سے ہے جو مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی تکذیت کرتے تھے۔ ایک سخت حکم ہے جو ان کے کانوں سے بڑی سختی سے ٹکراتا ہے ۔ فیصلہ کن انداز میں ۔ اور اس کے بعد ردئے سخن اللہ کے کارندوں کی طرف

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Info

باری تعالیٰ کا ارشاد ہوگا (ھٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ) (یہ فیصلہ کا دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے) تمہارے جھٹلانے سے اس کی آمد نہیں رکی۔ اب تو تمہیں سزا بھگتنی ہوگی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

Info

(21) کہا جائے گا یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے۔ یہ شاید فرشتے جواب دیں گے جب وہ تعجب کے ساتھ کہیں گے ہائے یہ تو وہی جزا کا دن ہے تو فرشتے کہیں گے ہاں یہی وہ یوم الفصل ہے جس کو تم جھوٹا کہا کرتے تھے۔