The tafseer of Surat us Saaffaat, verse 21, from every tafseer on this site - read one or compare them with each other.
This is the Day of Judgement which you used to deny. This will be said to them as a rebuke and reproof. Allah will command the angels to separate the disbeliever from the believers in the place where they are standing. Allah says:
21۔ 1 فرشتے اور اہل ایمان کہیں گے کہ یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم مانتے نہیں تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو کہیں گے۔
ھٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ : اس وقت فرشتے اور مومن انھیں کہیں گے، یا وہ خود ایک دوسرے کو ملامت کے لیے کہیں گے، ہاں ! یہی وہ فیصلے کا دن ہے جسے تم نہیں مانتے تھے۔
ھٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِيْ كُنْتُمْ بِہٖ تُكَذِّبُوْنَ ٢١ۧ فصل ( جدا) الفَصْلُ : إبانة أحد الشّيئين من الآخر : حتی يكون بينهما فرجة، ومنه قيل : المَفَاصِلُ ، الواحد مَفْصِلٌ ، قال تعالی: وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] ، ويستعمل ذلک في الأفعال والأقوال نحو قوله : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ أَجْمَعِينَ [ الدخان/ 40] ( ف ص ل ) الفصل کے معنی دوچیزوں میں سے ایک کو دوسری سے اسی طرح علیحدہ کردینے کے ہیں کہ ان کے درمیان فاصلہ ہوجائے اسی سے مفاصل ( جمع مفصل ) ہے جس کے معنی جسم کے جوڑ کے ہیں . قرآن میں ہے : وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيرُ قالَ أَبُوهُمْ [يوسف/ 94] اور جب قافلہ ( مصر سے ) روانہ ہوا ۔ اور یہ اقول اور اعمال دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے قرآن میں ہے : إِنَّ يَوْمَ الْفَصْلِ مِيقاتُهُمْ أَجْمَعِينَ [ الدخان/ 40] کچھ شک نہیں کہ فیصلے کا دن سب کے اٹھنے کا دن ہے ۔ كذب وأنه يقال في المقال والفعال، قال تعالی: إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] ، ( ک ذ ب ) الکذب قول اور فعل دونوں کے متعلق اس کا استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے ۔ إِنَّما يَفْتَرِي الْكَذِبَ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ [ النحل/ 105] جھوٹ اور افتراء تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے
تو فرشتے ان سے فرمائیں گے کہ ہاں یہ وہی تمہارے اور اہل ایمان کے درمیان فیصلہ کا دن ہے جس کے ہونے کا تم دنیا میں انکار کرتے تھے۔
آیت ٢١{ ہٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ } ” (اُس وقت انہیں کہا جائے گا : ہاں) یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کو تم لوگ جھٹلایا کرتے تھے۔ “
13 It may be that this is said by the believers, or by the angels; or it may be, as it were, the common expression of the conditions prevailing in the plain of Resurrection or it may as well be another reaction of the people themselves. That is, they may be saying in their hearts. "In the world, you lived in a way as if no Day of Judgement would ever come. Now you have come to your doom! This is the same Day that you used to deny ! "
سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :13 ہو سکتا ہے کہ یہ بات ان سے اہل ایمان کہیں ، ہو سکتا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہو ، ہو سکتا ہے کہ میدان حشر کا سارا ماحول اس وقت زبان حال سے یہ کہہ رہا ہو ، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ خود انہی لوگوں کا دوسرا رد عمل ہو ۔ یعنی اپنے دلوں میں وہ اپنے آپ ہی کو مخاطب کر کے کہیں کہ دنیا میں ساری عمر تم یہ سمجھتے رہے کہ کوئی فیصلے کا دن نہیں آنا ہے ، اب آ گئی تمہاری شامت ، جس دن کو جھٹلاتے تھے وہی سامنے آگیا ۔
(37:21) ھذا یوم الفصل الذی کنتم بہ تکذبون۔ یہی فیصلہ کا دن ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ بعض مفسرین کے نزدیک توبیخ و تقریع (جھڑک و ملامت) کے طور پر ملائکہ کا کلام ہے جو کفار کے یویلنا ھذا یوم الدین کے جواب میں دیا گیا۔ اور بعض کے نزدیک یہ بھی کافروں کے کلام کا تتمہ ہے اور تکذبون تک انہی کا کلام ہے۔
ھذا یوم ۔۔۔۔ بہٖ تکذبون (21) ” “۔ ان یہاں انداز کلام ” بیانی “ اور ” خبری “ سے بدل کر خطاب کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور خطاب ان لوگوں سے ہے جو مرنے کے بعد اٹھائے جانے کی تکذیت کرتے تھے۔ ایک سخت حکم ہے جو ان کے کانوں سے بڑی سختی سے ٹکراتا ہے ۔ فیصلہ کن انداز میں ۔ اور اس کے بعد ردئے سخن اللہ کے کارندوں کی طرف
باری تعالیٰ کا ارشاد ہوگا (ھٰذَا یَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ) (یہ فیصلہ کا دن ہے جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے) تمہارے جھٹلانے سے اس کی آمد نہیں رکی۔ اب تو تمہیں سزا بھگتنی ہوگی۔
(21) کہا جائے گا یہ وہی فیصلے کا دن ہے جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے۔ یہ شاید فرشتے جواب دیں گے جب وہ تعجب کے ساتھ کہیں گے ہائے یہ تو وہی جزا کا دن ہے تو فرشتے کہیں گے ہاں یہی وہ یوم الفصل ہے جس کو تم جھوٹا کہا کرتے تھے۔