Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 22

سورة الصافات

اُحۡشُرُوا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا وَ اَزۡوَاجَہُمۡ وَ مَا کَانُوۡا یَعۡبُدُوۡنَ ﴿ۙ۲۲﴾

[The angels will be ordered], "Gather those who committed wrong, their kinds, and what they used to worship

ظالموں کو اور ان کے ہمراہیوں کو اور ( جن ) جن کی وہ اللہ کے علاوہ پرستش کرتے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ ... (It will be said to the angels:) Assemble those who did wrong, together with their companions, An-Nu`man bin Bashir, may Allah be pleased with him, said, "Their companions means their counterparts, those who are like them." This was also the view of Ibn Abbas, Sa`id bin Jubayr, Ikrimah, Mujahid, As-Suddi, Abu Salih, Abu Al-`Aliyah and Zayd bin Aslam. Sharik said, narrating from Simak, from An-Nu`man: "I heard Umar say: احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ (Assemble those who did wrong, together with their companions), means, `Those who are like them. So those who committed Zina will be gathered with others who committed Zina, those who dealt in Riba will be gathered with others who dealt in Riba, those who drank wine will be gathered with others who drank wine.' Mujahid and Sa`id bin Jubayr narrated from Ibn Abbas: وَأَزْوَاجَهُمْ (their companions), means "Their friends." ... وَمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

22۔ 1 یعنی جنہوں نے کفر و شرک اور معاصی کا ارتکاب کیا۔ یہ اللہ کی طرف سے حکم ہوگا۔ 22۔ 2 اس سے مراد کفر و شرک اور تکذیب رسل کے ساتھ یا بعض کے نزدیک جنات و شیاطین ہیں۔ اور بعض کہتے ہیں کہ وہ بیویاں ہیں جو کفر و شرک میں ان کی ہمنوا تھیں۔ 22۔ 3 وہ مورتیاں ہوں یا اللہ کے نیک بندے، سب کو ان کی تذلیل کے لئے جمع کیا جائیے گا۔ تاہم نیک لوگوں کو اللہ جہنم سے دور ہی رکھے گا، اور دوسرے معبودوں کو ان کے ساتھ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ تاہم وہ دیکھ لیں کہ یہ کسی کو نقصان پہنچانے پر قادر نہیں ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٣] زوج کے تینوں معانی اکٹھے مراد ہیں :۔ ازواج کا لفظ تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس مقام پر تینوں معنی دے رہا ہے۔ ایک معنی یہ ہے کہ مرد بیوی کا اور بیوی مرد کی زوج ہے۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا کہ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ظالموں اور ان کی بیویوں کو جو بغاوت میں ان کی شریک تھیں سب کو گھیر لاؤ۔ زوج کا دوسرا معنی اس کے مماثل ہوتا ہے۔ جیسے ایک جوتا دوسرے کا زوج ہے۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا ظالموں کی جتنی اقسام ہیں ان سب کو گھیر کرلے آؤ۔ اور زوج کا تیسرا معنی اس کی ضد ہے جیسے رات دن کا زوج ہے اور دن رات کا، یا تاریکی روشنی کا زوج ہے۔ اور روشنی تاریکی کا۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہوگا۔ معبودوں اور ان کے عبادت گزاروں سب کو گھیر گھار کر ہمارے سامنے لا حاضر کرو۔ [١٤] معبودان باطل کی تین اقسام :۔ اللہ کے سوا معبودوں کی بڑی قسمیں دو ہیں۔ ایک غیر ذوی العقول، ان میں بت، ستارے، شجر و حجر اور حیوانات وغیرہ مثلاً گائے، بیل اور سانپ وغیرہ سب کچھ آجاتا ہے۔ دوسرے ذوی العقول جسے انبیائ، فرشتے، اولیاء اور بزرگ۔ پھر انسانوں اور جنوں میں سے کچھ ایسے معبود ہیں جو خود بھی چاہتے تھے کہ اللہ کے مقابلہ میں ان کی اطاعت کی جائے یا ان کی خدائی اور خدائی اختیارات تسلیم کئے جائیں۔ ان سب میں سے صرف فرشتے، انبیاء اور وہ بزرگ جہنم میں نہیں جائیں گے جو خود شرک سے منع کرتے رہے۔ باقی سب معبودوں کو اکٹھا کرکے جہنم میں پھینک دیا جائے گا اور اس کی وجہ پہلے کئی جگہ درج کی جاچکی ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَهُمْ : یہاں ” الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا “ سے مراد کفار و مشرکین ہیں۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ انھیں اور ان کے ” من دون اللہ “ معبودوں کو جہنم کی طرف لے جانے کا حکم ہوگا اور ظاہر ہے موحد مسلمان اللہ کے سوا کسی معبود کی پرستش نہیں کرتے۔ نیز دیکھیے سورة انعام (٨٢) اور لقمان (١٣) ” وَاَزْوَاجَهُمْ “ طبری میں علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابن عباس (رض) سے مروی ہے : ” أَزْوَاجٌ“ (جوڑوں) سے مراد ان جیسے دوسرے لوگ ہیں۔ “ بیویاں بھی مراد ہوسکتی ہیں، جو کفرو شرک میں ان کی ہم نوا تھیں۔ یعنی قیامت قائم ہونے کے ساتھ فرشتوں کو حکم ہوگا کہ کفار و مشرکین کو مومنوں سے الگ کرو اور ان میں سے ہر ہر قسم کو الگ الگ اکٹھا کرو، مثلاً زانیوں کو زانیوں کے ساتھ، سود خوروں کو سود خوروں کے ساتھ، چوروں کو چوروں کے ساتھ، اسی طرح مشرک خاوندوں کو ان کی مشرک بیویوں کے ساتھ اکٹھا کرنے کا حکم ہوگا، جیسا کہ ایمان والے اپنی بیویوں کے ساتھ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (جَنّٰتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَاۗىِٕهِمْ وَاَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيّٰــتِهِمْ ) [ الرعد : ٢٣ ] ” ہمیشگی کے باغات، جن میں وہ داخل ہوں گے اور ان کے باپ دادوں اور ان کی بیویوں اور ان کی اولادوں میں سے جو نیک ہوئے۔ “ ان کے ساتھ ان کے بتوں اور دوسرے باطل معبودوں کو بھی اکٹھا کر کے جہنم کے راستے کی طرف لے جانے کا حکم ہوگا، جن کی وہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر عبادت کرتے رہے تھے۔ جن میں شیاطین اور وہ جنّ اور انسان بھی شامل ہوں گے جو اپنی عبادت کروانے پر خوش تھے۔ مقصد انھیں ذلیل کرنا ہوگا کہ اب اپنے خداؤں سے کہو کہ تمہاری مدد کریں۔ البتہ فرشتے، انبیاء اور صلحاء، جنھیں وہ پوجتے رہے تھے، وہ اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ دیکھیے سورة انبیاء (٩٨ تا ١٠٣) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In verse 22, it was said: احْشُرُ‌وا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ (Muster all those who were unjust, and their fellows). Here, the text has used the word:(أَزْوَاجَ azwaj) for cohorts, fellow travelers, or people of the same persuasion - a word literally meaning &pair&. Then, this word is very commonly used in the sense of spouses. That is why some commentators have said that it means wives of the Mushriks who were also Mushriks. But, in the sight of most commentators, the word: أَزْوَاجَ (azwaj) at this place means nothing but people of the same persuasion, and it also finds support in a saying of Sayyidna ` Umar. Imam al-Baihaqi, ` Abd-ur-Razzaq and others have reported this saying of Sayyidna ` Umar (رض) under their explanation of this verse. They have said that the word: أَزْوَاجَهُمْ (azwajuhum) in the text means &other people like them.& Thus, (while mustering the unjust), huddled together there will be the people of the same interest, fornicators with other fornicators and drunkards with other drunkards. (Ruh-ul-Ma’ ani and Mazhari) In addition to that, by saying: وَمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ (and whatever they used to worship - 37:22), it was expressly laid out that, along with the Mushriks, all those false objects and entities like idols and shaitans they used to worship and equate with Allah as His associates in the life of the world will all be mustered together - so that, at that time, the helplessness of these false objects of worship could be demonstrated publicly.

احشر والذین ظلموا و ازواجھہم (یعنی ان ظالموں کو جنہوں نے شرک کے ظلم عظیم کا ارتکاب کیا اور ان کے ہم مشربوں کو جمع کرلو) یہاں ہم مشربوں کے لئے ازواج کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے لفظی معنی ہیں ” جوڑ “ اور یہ لفظ شوہر اور بیوی کے معنی میں بھی بکثرت استعمال ہوتا ہے۔ اسی لئے بعض مفسرین نے اس کے معنی بیان کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ اس سے مشرکین کی وہ بیویاں مراد ہیں جو خود بھی مشرک تھیں۔ لیکن اکثر مفسرین کے نزدیک یہاں ” ازواج “ سے مراد ہم مشرب ہی ہے، اور اس کی تائید حضرت عمر کے ایک ارشاد سے بھی ہوتی ہے۔ امام بیہقی اور عبدالرزاق وغیرہ نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت عمر کا یہ قول نقل کیا ہے، کہ یہاں ازواجہم سے مراد ہیں ان جیسے دوسرے لوگ، چناچہ سود خور سود خوروں کے ساتھ، زنا کار دوسرے زانیوں کے ساتھ، اور شراب پینے والے دوسرے شراب پینے والوں کے ساتھ جمع کئے جائیں گے۔ (روح المعانی و مظہری) اس کے علاوہ و ما کانوا یعبدون کے الفاظ سے بتادیا گیا کہ مشرکین کے ساتھ ان کے وہ باطل معبود یعنی بت اور شیاطین بھی جمع کئے جائیں گے، جنہیں یہ لوگ دنیا میں اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتے تھے، تاکہ اس وقت ان باطل معبودوں کی بےبسی کا اچھی طرح نظارہ کرایا جائے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

رکوع نمبر 6 اُحْشُرُوا الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَہُمْ وَمَا كَانُوْا يَعْبُدُوْنَ۝ ٢٢ۙ حشر ، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة . ( ح ش ر ) الحشر ( ن ) اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی کسب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں زوج يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر مماثلا له أو مضادّ زوج . قال تعالی: فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] ، وقال : وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ [ البقرة/ 35] ، وزَوْجَةٌ لغة رديئة، وجمعها زَوْجَاتٌ ، قال الشاعر : فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتي وجمع الزّوج أَزْوَاجٌ. وقوله : هُمْ وَأَزْواجُهُمْ [يس/ 56] ، احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] ، أي : أقرانهم المقتدین بهم في أفعالهم، وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلى ما مَتَّعْنا بِهِ أَزْواجاً مِنْهُمْ [ الحجر/ 88] ، أي : أشباها وأقرانا . وقوله : سُبْحانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْواجَ [يس/ 36] ، وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] ، فتنبيه أنّ الأشياء کلّها مركّبة من جو هر وعرض، ومادّة وصورة، وأن لا شيء يتعرّى من تركيب يقتضي كونه مصنوعا، وأنه لا بدّ له من صانع تنبيها أنه تعالیٰ هو الفرد، وقوله : خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] ، فبيّن أنّ كلّ ما في العالم زوج من حيث إنّ له ضدّا، أو مثلا ما، أو تركيبا مّا، بل لا ينفكّ بوجه من تركيب، وإنما ذکر هاهنا زوجین تنبيها أنّ الشیء۔ وإن لم يكن له ضدّ ، ولا مثل۔ فإنه لا ينفكّ من تركيب جو هر وعرض، وذلک زوجان، وقوله : أَزْواجاً مِنْ نَباتٍ شَتَّى [ طه/ 53] ، أي : أنواعا متشابهة، وکذلک قوله : مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] ، ثَمانِيَةَ أَزْواجٍ [ الأنعام/ 143] ، أي : أصناف . وقوله : وَكُنْتُمْ أَزْواجاً ثَلاثَةً [ الواقعة/ 7] ، أي : قرناء ثلاثا، وهم الذین فسّرهم بما بعد وقوله : وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ [ التکوير/ 7] ، فقد قيل : معناه : قرن کلّ شيعة بمن شایعهم في الجنّة والنار، نحو : احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] ، وقیل : قرنت الأرواح بأجسادها حسبما نبّه عليه قوله في أحد التّفسیرین : يا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ راضِيَةً مَرْضِيَّةً [ الفجر/ 27- 28] ، أي : صاحبک . وقیل : قرنت النّفوس بأعمالها حسبما نبّه قوله : يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً وَما عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ [ آل عمران/ 30] ، وقوله : وَزَوَّجْناهُمْ بِحُورٍ عِينٍ [ الدخان/ 54] ، أي : قرنّاهم بهنّ ، ولم يجئ في القرآن زوّجناهم حورا، كما يقال زوّجته امرأة، تنبيها أن ذلک لا يكون علی حسب المتعارف فيما بيننا من المناکحة . ( ز و ج ) الزوج جن حیوانات میں نر اور مادہ پایا جاتا ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے کا زوج کہلاتا ہے یعنی نر اور مادہ دونوں میں سے ہر ایک پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ حیوانات کے علاوہ دوسری اشیاء میں جفت کو زوج کہا جاتا ہے جیسے موزے اور جوتے وغیرہ پھر اس چیز کو جو دوسری کی مماثل یا مقابل ہونے کی حثیت سے اس سے مقترن ہو وہ اس کا زوج کہلاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى [ القیامة/ 39] اور ( آخر کار ) اس کی دو قسمیں کیں ( یعنی ) مرد اور عورت ۔ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ [ البقرة/ 35] اور تیری بی بی جنت میں رہو ۔ اور بیوی کو زوجۃ ( تا کے ساتھ ) کہنا عامی لغت ہے اس کی جمع زوجات آتی ہے شاعر نے کہا ہے فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتیتو میری بیوی اور بیٹیاں غم سے رونے لگیں ۔ اور زوج کی جمع ازواج آتی ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ هُمْ وَأَزْواجُهُمْ [يس/ 56] وہ اور ان کے جوڑے اور آیت : ۔ احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] جو لوگ ( دنیا میں ) نا فرمانیاں کرتے رہے ہیں ان کو اور ان کے ساتھیوں کو ( ایک جگہ ) اکٹھا کرو ۔ میں ازواج سے ان کے وہ ساتھی مراد ہیں جو فعل میں ان کی اقتدا کیا کرتے تھے اور آیت کریمہ : ۔ إِلى ما مَتَّعْنا بِهِ أَزْواجاً مِنْهُمْ [ الحجر/ 88] اس کی طرف جو مختلف قسم کے لوگوں کو ہم نے ( دنیاوی سامان ) دے رکھے ہیں ۔ اشباہ و اقران یعنی ایک دوسرے سے ملتے جلتے لوگ مراد ہیں اور آیت : ۔ سُبْحانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْواجَ [يس/ 36] پاک ہے وہ ذات جس نے ( ہر قسم کی ) چیزیں پیدا کیں ۔ نیز : ۔ وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] اور تمام چیزیں ہم نے دو قسم کی بنائیں ۔ میں اس بات پر تنبیہ کی ہے ۔ کہ تمام چیزیں جوہر ہوں یا عرض مادہ و صورت سے مرکب ہیں اور ہر چیز اپنی ہیئت ترکیبی کے لحا ظ سے بتا رہی ہے کہ اسے کسی نے بنایا ہے اور اس کے لئے صائع ( بنانے والا ) کا ہونا ضروری ہے نیز تنبیہ کی ہے کہ ذات باری تعالیٰ ہی فرد مطلق ہے اور اس ( خلقنا زوجین ) لفظ سے واضح ہوتا ہے کہ روئے عالم کی تمام چیزیں زوج ہیں اس حیثیت سے کہ ان میں سے ہر ایک چیز کی ہم مثل یا مقابل پائی جاتی ہے یا یہ کہ اس میں ترکیب پائی جاتی ہے بلکہ نفس ترکیب سے تو کوئی چیز بھی منفک نہیں ہے ۔ پھر ہر چیز کو زوجین کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اگر کسی چیز کی ضد یا مثل نہیں ہے تو وہ کم از کم جوہر اور عرض سے ضرور مرکب ہے لہذا ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر زوجین ہے ۔ اور آیت أَزْواجاً مِنْ نَباتٍ شَتَّى [ طه/ 53] طرح طرح کی مختلف روئیدگیاں ۔ میں ازواج سے مختلف انواع مراد ہیں جو ایک دوسری سے ملتی جلتی ہوں اور یہی معنی آیت : ۔ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] ہر قسم کی عمدہ چیزیں ( اگائیں ) اور آیت کریمہ : ۔ ثَمانِيَةَ أَزْواجٍ [ الأنعام/ 143]( نر اور مادہ ) آٹھ قسم کے پیدا کئے ہیں ۔ میں مراد ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَكُنْتُمْ أَزْواجاً ثَلاثَةً [ الواقعة/ 7] میں ازواج کے معنی ہیں قرناء یعنی امثال ونظائر یعنی تم تین گروہ ہو جو ایک دوسرے کے قرین ہو چناچہ اس کے بعد اصحاب المیمنۃ سے اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ [ التکوير/ 7] اور جب لوگ باہم ملا دیئے جائیں گے ۔ میں بعض نے زوجت کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ ہر پیروکار کو اس پیشوا کے ساتھ جنت یا دوزخ میں اکٹھا کردیا جائیگا ۔ جیسا کہ آیت : ۔ احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] میں مذکور ہوچکا ہے اور بعض نے آیت کے معنی یہ کئے ہیں کہ اس روز روحوں کو ان کے جسموں کے ساتھ ملا دیا جائیگا جیسا کہ آیت يا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ راضِيَةً مَرْضِيَّةً [ الفجر/ 27- 28] اے اطمینان پانے والی جان اپنے رب کی طرف لوٹ آ ۔ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ۔ میں بعض نے ربک کے معنی صاحبک یعنی بدن ہی کئے ہیں اور بعض کے نزدیک زوجت سے مراد یہ ہے کہ نفوس کو ان کے اعمال کے ساتھ جمع کردیا جائیگا جیسا کہ آیت کریمہ : ۔ يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً وَما عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ [ آل عمران/ 30] جب کہ ہر شخص اپنے اچھے اور برے عملوں کو اپنے سامنے حاضر اور موجود پائیگا ۔ میں بھی اس معنی کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَزَوَّجْناهُمْ بِحُورٍ عِينٍ [ الدخان/ 54] اور ہم انہیں حورعین کا ساتھی بنا دیں گے ۔ میں زوجنا کے معنی باہم ساتھی اور رفیق اور رفیق بنا دینا ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن نے جہاں بھی حور کے ساتھ اس فعل ( زوجنا ) کا ذکر کیا ہے وہاں اس کے بعد باء لائی گئی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ حوروں کے ساتھ محض رفاقت ہوگی جنسی میل جول اور ازواجی تعلقات نہیں ہوں گے کیونکہ اگر یہ مفہوم مراد ہوتا تو قرآن بحور کی بجائے زوجناھم حورا کہتا جیسا کہ زوجتہ امرءۃ کا محاورہ ہے یعنی میں نے اس عورت سے اس کا نکاح کردیا ۔ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٢٢۔ ٢٤) پھر اللہ تعالیٰ فرشتوں کو حکم دے گا کہ مشرکین کو اور جن و انس اور شیطاطین میں سے سب ان کے ہم مسلکوں کو اور ان کے بتوں جو جمع کرلو پھر ان سب کو دوزخ کے درمیان لے جاؤ۔ پھر فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان کو ذرا دوزخ کے قریب ٹھہراؤ۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٢٢{ اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَاَزْوَاجَہُمْ وَمَا کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ ’ (پھر حکم دیا جائے گا) جمع کرو ان سب ظالموں کو اور ان کے ساتھیوں کو اور ان کو بھی جن کی یہ لوگ پوجا کیا کرتے تھے ‘ پھر فرشتوں کو حکم ہوگا کہ ان کافروں ‘ مشرکوں اور ہر طرح کے مجرموں کو ‘ چاہے وہ انسانوں میں سے ہوں یا ِجنوں میں سے ‘ سب کو ایک جگہ جمع کرلو اور ان کے جھوٹے معبودوں کو بھی ساتھ ہی لے آئو۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

14 "The unjust people" dces not only imply those who committed injustices in the world, but as a Qur'anic term Zalim implies every such person, who might have adopted the way of rebellion and disobedience against Allah. " 15 The word "azwaj"in the original might also imply their wives, who were their associates in this rebellion, and also all those people who were rebellious and disobedient like them. Moreover it may also mean that the culprits of different categories will be gathered together in separate groups.

سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :14 ظالم سے مراد صرف وہی لوگ نہیں ہیں جنہوں نے دوسروں پر ظلم کیا ہو ، بلکہ قرآن کی اصطلاح میں ہر وہ شخص ظالم ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں بغاوت و سرکشی اور نافرمانی کی راہ اختیار کی ہو ۔ سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :15 اصل میں لفظ ازواج استعمال کیا گیا ہے جس سے مراد ان کی وہ بیویاں بھی ہو سکتی ہیں جو اس بغاوت میں ان کی رفیق تھیں ، اور وہ سب لوگ بھی ہو سکتے ہیں جو انہی کی طرح باغی و سرکش اور نافرمان تھے ۔ علاوہ بریں اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ ایک ایک قسم کے مجرم الگ الگ جتھوں کی شکل میں جمع کیے جائیں گے ۔ سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :16 اس جگہ معبودوں سے مراد دو قسم کے معبود ہیں ۔ ایک وہ انسان اور شیاطین جن کی اپنی خواہش اور کوشش یہ تھی کہ لوگ خدا کو چھوڑ کر ان کی بندگی کریں ۔ دوسرے وہ اصنام اور شجر و حجر وغیرہ جن کی پرستش دنیا میں کی جاتی رہی ہے ۔ ان میں سے پہلی قسم کے معبود تو خود مجرمین میں شامل ہوں گے اور انہیں سزا کے طور پر جہنم کا راستہ دکھایا جائے گا ۔ اور دوسری قسم کے معبود اپنے پرستاروں کے ساتھ اس لیے جہنم میں ڈالے جائیں گے کہ وہ انہیں دیکھ کر ہر وقت شرمندگی محسوس کریں اور اپنی حماقتوں کا ماتم کرتے رہیں ۔ ان کے علاوہ ایک تیسری قسم کے معبود وہ بھی ہیں جنہیں دنیا میں پوجا تو گیا ہے مگر خود ان کا اپنا ایما ہرگز یہ نہ تھا کہ ان کی پرستش کی جائے ، بلکہ اس کے برعکس وہ ہمیشہ انسانوں کو غیر اللہ کی پرستش سے منع کرتے رہے ، مثلاً فرشتے ، انبیا اور اولیاء ۔ اس قسم کے معبود ظاہر ہے کہ ان معبودوں میں شامل نہ ہوں گے جنہیں اپنے پرستاروں کے ساتھ جہنم کی طرف دھکیلا جائے گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:22) احشروا۔ حشر یحشر (باب نصر) حشر مصدر سے فعل امر جمع مذکر حاضر کا صیغہ ہے۔ تم اکٹھا کرو ! ازواجہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کے ازواج ۔ اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) اس سے مراد کفار کے ہم مشرب لوگ ہیں جو انہی کی طرح ہیں۔ یعنی سود خوار سود خواروں کے ساتھ، شرابی شرابیوں کے ساتھ۔ زانی زانیوں کے ساتھ۔ وغیرہ وغیرہ۔ (2) حضرت حسن بصری (رح) کے نزدیک اس سے مراد کافروں کی مشرک بیبیاں ہیں۔ (3) کافروں کے چیلے اور پیروکار۔ ما کانوا یعبدون۔ میں ما موصولہ ہے۔ احشروا۔۔ مسئولون۔ یہ اللہ کا ملائکہ کو حکم ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 جوڑ والوں سے مراد ان کے وہ ساتھی اور رفیق ہیں جو انہی کی طرح شرک و کفر میں مبتلا تھے۔ یا ان سے مرادان کی وہ بیویواں ہیں جو سرکشی و بغاوت پر ان کے موافقت کیا کرتی تھیں اور ان کی روش سے خوش تھیں۔ حضرت عمر (رض) نے ان سے گناہ گاروں کی الگ الگ ٹولیاں مراد لی ہیں۔ یعنی سود خوروں کا الگ جتھا ہوگا اور زنا کرنے والوں کا الگ اور شراب نوشوں کا الگ۔ (شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 22 تا 74 ۔ اسرار و معارف : حکم ہوگا کہ ظالموں کو ان کے ہم مشربوں سمیت جمع کیا جائے کہ جو دنیا میں کفر و شرک اور برائی میں ایک دوسرے کے مددگار تھے آج ایک جیسی سزا بھی پائیں ساتھ ان شیاطین کو بھی جمع کرلو جن کی انہوں نے عمر بھر اطاعت کی اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے آج انہیں جہنم کی راہ دکھاؤ کہ یہی ان کے زندگی بھر کے سفر کا انجام ہے مگر ٹھہرو ان سے بات تو ہوجائے اور سوال ہوگا بھئی کیا بات ہے زندگی بھر تو اللہ کو چھوڑ کر ایک دوسرے سے امید باندھا کیے مگر آج ایک دوسرے کے مدد نہیں کر رہے ہو۔ مگر جواب کیا دیتے تو یہ سرجھکائے شرمندہ کھڑے ہوں گے کہ اس روز اس بات کا کوئی جواب نہ ہوگا۔ پھر ایک دوسرے پوچھیں گے کہ دنیا میں تو تم لوگ بڑے بڑھ بڑھ کر بولتے تھے اور ہمیں قبول حق سے روکنے کیلئے بڑے زور دار دعوے کرتے تھے آج بتاؤ تو دوسرے کہیں گے تم خود ہی بےایمان تھے اور حق کو قبول کرنے پہ آمادہ نہ تھے بھلا ہم کیا تم کو زبردستی کفر پر روک سکتے تھے ہرگز نہیں یہ تم ہی تھے جو ہر وقت سرکشی اور بغاوت پر آمادہ تھے۔ پھر سب ہی کہنے لگیں گے اب ان باتوں سے کیا حاصل ہم پر اللہ کا ارشاد صادق آیا اب ہمیں اپنے اعمال کا مزہ چکھنا ہی پڑے گا بھلا اگر ہم نے تمہیں گمراہ کیا ہے تو ہم کون سے حق پر تھے جب خود گمراہ تھے تو تمہیں ہدایت کی بات کیسے بتا سکتے تھے۔ شیخ کا بنیادی وصف : شیخ میں بنیادی طور پر ایمان اور عقیدے کی پختگی ضروری ہے ورنہ کسی کمزور عقیدے والے یا بدعقیدہ شخص کو شیخ بنا لیا تو چونکہ وہ خود راہ گم کردہ ہے طالب اور مرید کو بھی گمراہ کردے گا۔ اور پھر حشر کو تو یہ سب مل کر عذاب میں گھر جائیں گے کہ بدکاروں کے اعمال پر ایسا ہی پھل لگا کرتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ انہیں اللہ کی وحدانیت اور عظمت کی طرف دعوت دی جاتی تو کہا کرتے تھے کہ یہ بات ہمیں گوارا ہی نہیں اور بہت اکڑ دکھاتے تھے نیز کہتے تھے کہ بھلا ایک پاگل شخص اور محض شاعرانہ تخیلات پر بات کرنے والے کی بات مان کر ہم اپنے خداؤں کو چھوڑ دیں۔ قول نبی کو اسباب کے ترازو میں جانچنے والے : ارشادات نبوی کو جب وہ لوگ اسباب کے حوالے سے دیکھتے تو دنیا میں ہر طرف کفر مسلط تھا حکومتیں اور حکمران زندگی کے ہر شعبہ کے لوگ نہ صرف کفر و شرک میں غرق تھے بلکہ حق کے خلاف صف آرا ہوگئے۔ اس حال میں وہ لوگ نبی (علیہ السلام) کو پاگل قرار دیتے کہ جس نے ساری دنیا کی مخالفت مول لی ہے اور پھر جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غلبہ حق کی نوید سناتے تو وہ کہتے یہ شاعرانہ تعلی ہے اور مھض خیال ہے عملاً ایسا ممکن نہیں اور یہ نہ جان سکے کہ اللہ کا رول ہے جو حق بات کے ساتھ مبعوث ہوا ہے اور تاریخ بھی گواہ ہے کہ ہمیشہ ہی اللہ کے رسول سچ ہی بتاتے آئے ہیں اللہ کرے آج کے مسلم بھی اس حقیقت کو جان لیں کہ انکار کرنے والو تمہیں بہت ہی دردناک عذاب بھگتنا پڑے گا اور یہ تمہارے اس کرتوت کی سزا ہوگی ورنہ بلا وجہ کسی کو عذاب نہ ہوگا۔ ہاں اللہ کے وہ بندے جن میں خلوص تھا اپنی انا اور تکبر نہ تھا محض اپنی بڑائی کے لیے دین کے نام پر کفر اختیار نہ کرتے تھے وہ ان عذابوں کی ذلت سے محفوظ ہوں گے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہر طرح کے فکر سے آزاد کہ انہیں کسی شے کے نہ ملنے کا اندیزہ نہ رہے گا بلکہ یقین حاصل ہوجائے گا کہ ہمیشہ اللہ کی نعمتیں ملتی ہی رہیں گی اور وہ غذا کے محتاج بھی نہ رہیں گے بلکہ جنت میں غذا بقائے حیات کے لیے نہیں محض حصول لذت کے لیے کھائی جائیگی اور انہیں بہت عزت و احترام نصیب ہوگا۔ جنت کی نعمتوں میں ایک دوسرے کے سامنے تخ تبچھا کر بیٹھیں گے اور خوبصورت جام گردش میں ہوں گے نورانی رنگ کے مشروب جو پینے میں انتہائی لذیذ اور جن سے نہ تو آدمی کو نشہ چڑھے نہ بہک جائے اور انہیں خوبصورت موٹی آنکھوں اور نیچی نگاہوں والی بیویوں کی رفاقت میسر ہوگی ایسی حسین کہ گویا پروں کی تہہ سے کسی نے انڈا نکالا ہو۔ وہ بھی آپس میں گپ شپ کریں گے تو ایک جنتی کہے گا میرا ایک ساتھی ہوا کرتا تھا وہ مجھے کہا کرتا تھا کہ تم بھی مانتے ہو کہ جب مر کر خاک ہوجائیں گے تو پھر جی اٹھیں گے اور پھر کوئی جہاں آباد ہوگا بھلا یہ بھی کوئی ماننے کی بات ہے تم ایسی باتوں پہ ایمان رکھتے ہو تو ارشاد ہوگا اگر چاہو تو اسے دیکھ لو۔ اہل جنت کی نگاہ : اگرچہ جہنم بہت دور ہوگی مگر جب وہ جنت سے جھانکیں گے تو انہیں جہنم میں جلتا ہوا نظر آئے گا گویا موت کے بعد اہل جنت کی نگاہ میں اتنی وسعت ہوگی اگر یہ وصف زندگی میں نصیب ہوجائے اور اتباع نبوی اور صحبت کامل کے طفیل پہ نگاہ نصیب ہوجائے تو یہی کشف اور مشاہدہ کہلاتی ہے۔ تو اس سے بات کریں گے اور کہیں گے اللہ کی قسم تو تو مجھے بھی تباہی کے گڑھے میں ڈالنے لگا تھا اور اگر محض اللہ کا کرم ہاتھ تھام نہ لیتا تو آج میں بھی مجرموں کے ساتھ پکڑا ہوا آتا۔ یعنی بدکار کی مجلس اور دوستی سے اللہ بچائے کہ یہ باتوں باتوں میں تباہی کی طرف لے جاتی ہے۔ مگر آج اللہ کا احسان ہے کہ اب ہمیں موت کا اندیشہ بھی نہیں کہ موت کی منزل بھی دنیا سے یہاں آنے کی راہ میں تھی۔ سو موت کی گھاٹی بھی گزر گئی اور جنت کے داخلے کے بعد اب کبھی بھی عذاب کا اندیشہ نہ رہا اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ جب انسان کو محنت ہی کرنا ہے اور زندگی مشقت کرکے بسر کرنا ہے کہ اس کے بغیر تو ممکن نہیں تو پھر ایسی محنت اور اس طرح کی مشقت کرے کہ اس کامیابی کو پا لے ورنہ غلط پر تو عذاب مرتب ہوگا اور بھلا جنت کی نعمتیں بہتر ہیں یا ان سے نہ صرف محرومی بلکہ عذاب اور غذا میں دوزخ کا درخت زقوم جسے ہم نے ظالموں کی آزمائش بنا دیا ہے۔ گناہ پہ جرات رکھنے والے بھلا یہاں کتنی ہمت دکھاتے ہیں کہ یہ زقوم ایک ایسا درخت ہے جو دوزخ کے اندر پیدا ہوتا ہے اور آگ ہی میں اگتا ہے جس کے پھل بھی ایسے ہیبت ناک ہیں جیسے شیاطین کے سر ہوں کہ تلخی اور کڑواہٹ اپنی جگہ دیکھنے میں بھی بہت مکروہ ہے اور عذاب الہی ایسا ہے کہ یہ اس سے بچ نہ سکیں گے بلکہ اسے کھائیں گے اور پیٹ بھر بھر کھائیں گے اور اوپر سے پینے کے لیے جلتا ہوا پانی ملے گا جو اس کے کھانے سے ہونے والے زخموں تک کو جلاتا چلا جائے گا اور پھر آگ کے ڈھیروں میں بسر کرنے جائیں گے یہ اس بات کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے اپنے گمراہ اور کافر آباؤ اجداد کی پیروی کی اور ان کے نقش قدم پر چلے جو خود پہلے ہی گمراہی اختیار کیے ہوئے تھے اور ہمارا کرم ایسا کہ انہیں بھی مھروم نہ رکھا انبیاء بھیج کر اس دردناک انجام سے بروقت مطلع فرمایا مگر ان کو بات ماننے میں عار تھی اب اس کا انجام سامنے ہے جبکہ اسی گہ اور اسی وقت یعنی میدان حشر میں ہی اللہ کے مخلص بندے اس سب مصیبت سے محفوظ و مامون ہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی جو بانی اور مقتدائے کفر و شرک تھے۔ 3۔ یعنی شیاطین و اصنام

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

احشروا الذین ظلموا۔۔۔۔۔۔ انھم مسئولون (22 – 24) ( “۔ گھیر لاؤ اور اٹھالوؤ گرفتار کرکے ان لوگوں جنہوں نے ظلم کیا اور جو ظالموں کی صف میں تھے۔ یہ ایک جیسے ہیں۔ اس لیے ان کو جوڑے کہا گیا اور ان کو جہنم کا راستہ دکھاؤ۔ انداز کلام کس قدر سخت فیصلہ کن اور توہین آمیز ہے۔ فاھدوھم الی صراط الجحیم (37: 23) ” ان کو جہنم کا راستہ دکھاؤ “۔ جنت کا راستہ تو ان کو دکھایا جا رہا تھا لیکن انہوں نے اسے رد کردیا۔ اب جہنم کا راستہ ہی ان کے لیے رہ جاتا ہے جو ان کے لائق ہے۔ چشم زدن میں ان کو جہنم رسید کردیا گیا۔ جہنم تک پہنچا دیا گیا لیکن ایک ضمنی حکم میں کہا گیا کہ ذرا ٹھہراؤ ان کو ، ان سے کچھ پوچھ ہی لیا جائے اور اچانک ان کو ملامت سے بھرپور انداز میں خطاب کیا جاتا ہے۔ سوالیہ اندا زمین مکالمہ ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قیامت کے دن مجرمین کا ایک دوسرے پر بات ڈالنا اور چھوٹوں کا بڑوں کو الزام دینا یہاں سے (سورۃ الصّٰفّٰت) کا دوسرا رکوع شروع ہو رہا ہے، اس میں روز قیامت کے بعض مناظر اور اہل دوزخ کی آپس کی بعض باتیں اور اہل جنت کے اکرام و انعام کا اور باہم گفتگو کا تذکرہ فرمایا ہے اور رکوع ختم ہونے سے چند آیات پہلے زقوم کے درخت کا اور اس کے کھانے والوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔ (احْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا) (الآیات التسع) اول تو یہ فرمایا کہ دوسرا صور پھونکے جانے کے بعد جب میدان حشر میں پہنچیں گے تو اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہوگا کہ جن لوگوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا یعنی کفر اختیار کیا اور اس کے داعی بنے انہیں اور ان کے ہم مشربوں یعنی ان کا اتباع کرنے والوں کو اور ان معبودوں کو جن کی وہ اللہ کو چھوڑ کر عبادت کیا کرتے تھے ان سب کو جمع کرو، ان کو ایک جگہ جمع کرکے دوزخ کا راستہ بتادو کہ جاؤ اس میں داخل ہوجاؤ، اور وہاں ان کو ذرا ٹھہرا لو، ان سے سوال کیا جائے گا، جب ان کو ٹھہرا لیا جائے گا تو یہ سوال ہوگا کہ آج آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیوں نہیں کرتے ؟ دنیا میں تو بڑے یار بنے ہوئے تھے اور مدد کے وعدے بھی کرتے تھے۔ جو لوگ کفر کی دعوت دیتے تھے وہ تو یہاں تک کہہ دیتے تھے (اَتَّبِعُوْا سَبِیْلَنَا وَلْنَحْمِلْ خَطٰیٰکُمْ ) (کہ تم ہماری راہ کا اتباع کرلو تمہاری خطاؤں کو ہم اٹھا لیں گے) کیا بات ہے آج تم میں سے کوئی بھی کسی کا مددگار نہیں، وہاں تو ہر ایک خود ہی مبتلائے عذاب ہوگا دوسرے کی کچھ بھی مدد نہیں کرسکے گا اور سب شرم کے مارے سر جھکائے ہار مانے ہوئے کھڑے ہوں گے اور یہ مان لیں گے اور جان لیں گے کہ واقعی ہم مستحق عذاب ہیں۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس کسی بھی شخص نے (دنیا میں) کسی بھی چیز کی طرف دعوت دی ہوگی تو یہ شخص قیامت کے دن کھڑا کیا جائے گا جس کو دعوت دی ہوگی وہ اسے پکڑا رہے گا اس سے جدا نہیں ہوگا، اگرچہ ایک ہی شخص نے ایک ہی شخص کو دعوت دی ہوگی، اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (وَقِفُوھُمْ اِِنَّہُمْ مَّسْءُوْلُوْنَ مَا لَکُمْ لاَ تَنَاصَرُوْنَ ) (رواہ الترمذی فی تفسیر سورة الصفت) آپس میں ایک دوسرے کی مدد تو کیا کرتے وہاں تو چھوٹے بڑوں کو الزام دیں گے اور بڑوں سے کہیں گے کہ تم نے تو ہمارا ناس کردیا، دنیا میں تمہارا یہ حال تھا کہ ہمارے پاس بڑے زور دار طریقے سے آتے تھے اور ہم پر خوب زور ڈال کر کفر و شرک کی راہ دکھاتے تھے اور اپنی چودھراہٹ اور سرداری کو استعمال کرتے تھے، آج جب ہم مصیبت میں پھنسے ہوئے ہیں تو تمہاری طرف سے کچھ بھی مدد نہیں ؟ ان کے بڑے سردار اور چودھری کہیں گے بات یہ ہے کہ ہم نے جو کچھ کیا وہ اپنی جگہ ہے تمہاری گمراہی صرف ہمارے ہی گمراہ کرنے پر منحصر نہ تھی بلکہ تم خود ہی مومن نہیں تھے، ہم نے تم سے جو کچھ کہا اور تمہیں جو کچھ بتایا وہ بہت سے بہت ایسی بات تھی کہ تم کو کفر پر جمے رہنے کی تاکید کرتے رہے، کافر تو تم خود ہی تھے اگر ہم تمہیں نہ بہکاتے اپنے کفر کی وجہ سے پھر بھی تم آج سزا پاتے، اور اس بات کا بھی تو خیال کرو کہ ہم نے تمہیں جو کچھ بتایا اور کفر پر ابھارا اس میں ہماری باتیں ہی باتیں تو تھیں تم پر ہمارا ایسا کوئی تسلط نہیں تھا کہ لٹھ مار کر اور تلوار دکھا کر کفر پر جمے رہنے کی تاکید کرتے، بات یہ ہے کہ تم خود ہی سرکش تھے، تمہارے جذبات اور ہمارے جذبات میں یگانگت تھی لہٰذا تم نے ہماری بات مان لی : (قال صاحب الروح : بَلْ کُنْتُمْ قَوْمًا طَاغِیْنَ جواب اٰخر تسلیمی علیٰ فرض اضلالھم بانھم لہ یجبروھم علیہ وانما دعوھم لہ فَاَجَابُوْا باختیار ھم لموافقۃ ما دعوا لہ ھوا ھم) (صاحب تفسیر روح المعانی فرماتے ہیں (بَلْ کُنْتُمْ قَوْمًا طَاغِیْنَ ) یہ ایک دوسرا جواب ہے جو اس طرح ہے کہ بالفرض ہم مان لیتے ہیں کہ ہم نے تمہیں گمراہ کیا لیکن ہم نے تمہیں اس گمراہی کے ماننے پر مجبور نہیں کیا ہم نے تو فقط دعوت ہی دی اور انہوں نے اپنی مرضی و پسند سے اس دعوت کو قبول کرلیا۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

10:۔ احشروا الذین ظلموا الخ، ای یقال للملئکۃ، حضرت شیخ قدس سرہ فرماتے ہیں۔ یہ آیت مشرک پیشواؤں اور ان کے اتباع و اذناب کے بارے میں ہے الذین ظلموا سے مشرکین مراد ہیں۔ کیونکہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ الذین ظلموا یعنی اشرکو افان الشرک لظلم عظیم (مظہری ج 8 ص 112) ۔ احشروا الم شرکین (قرطبی ج 15 ص 73) و فی ھذا العطف دلالۃ علی ان الذین ظلموا المشرکون وھم الاحقاء بہذا الوصف فان الشرک لظلم عظیم (روح ج 23 ص 80) ۔ اور ازواجہم سے ان مشرکین کے ہم عقیدہ، ہم مسلک اور ہم مشرب (پیر بھائی) لوگ مراد ہیں جو مشرکانہ عقائد و اعمال میں ان کے ہمنوا تھے۔ عن عمر بن الخطاب (رض) (احشروا الذین ظلموا وازواجہم) قال اخوانہم (ابن کثیر ج 4 ص 4) ۔ وازواجہم ای اشیاعہم و اتباعہم وامثالہم (معالم ج 6 ص 20) ۔ وازواجہم ای اشیاعہم فی الشرک (قرطبی ج 15 ص 73) ۔ وما کانوا یعبدون الخ سے وہ اصنام و اوثان مراد ہیں جو انبیاء علیہم السلا، اولیاء کرام اور ملائکہ عظام کے ناموں پر بنائے گئے۔ نیز وہ شیاطین الانس والجن بھی اس میں شامل ہیں جو لوگوں کو شرک کی تعلیم دیتے تھے۔ اسی طرح وہ دین فروش علماء اور فریب کار پیر اور درویش بھی اس میں داخل ہیں جنہوں نے فوت شدہ بزرگوں کی قبروں اور خانقاہوں کو شرک و بدعت کے اڈے بنادیا اور ان کی اپنی بھی یہی خواہش تھی کہ مرنے کے بعد ان کی قبروں سے بھی یہی سلوک کیا جائے۔ (ما) قیل عام فی کل معبود حتی الملائکۃ والمسیح و عزیر (علیہم السلام) لکن خص منہ البعض بقولہ (ان الذین سبقت لہم منا الحسنی) الایۃ (روح ج 23 ص 80) ۔ یعی الاوثان والطواغیت وقال مقاتل یعنی ابلیس (مظہری ج 8 ص 112) ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو حکم ہوگا کہ تمام صنادید و پیشوایانِ شرک کو اور ان کے تمام اتباع و اذناب کو اکٹھا کرو اور ان کو جہنم کی راہ دکھا دو اور انہیں جہنم میں داخل کردو۔ دنیا میں انہیں صراط مستقیم کی طرف دعوت دی گئی۔ لیکن انہوں نے اس پر چلنا پسند نہ کیا آج انہیں جہنم کی راہ دکھا دو ۔ یہ حکم حساب کتاب کے آخر میں ہوگا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(22) فرشتوں کو حکم دیا جائے گا کہ ظلم کرنے والوں کو اور ان کے ہم مشرب ساتھیوں کو اور ان کو جن کو یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا پوجا کرتے تھے سب کو جمع اور اکٹھا کرلو۔