Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 30

سورة الصافات

وَ مَا کَانَ لَنَا عَلَیۡکُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍ ۚ بَلۡ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا طٰغِیۡنَ ﴿۳۰﴾

And we had over you no authority, but you were a transgressing people.

اور کچھ ہمارا زور تو غم پرتھا ( ہی ) نہیں ، بلکہ تم ( خود ) سرکش لوگ تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ ... And we had no authority over you. means, `we had no proof of the truth of that to which we called you.' ... بَلْ كُنتُمْ قَوْمًا طَاغِينَ Nay! But you were a transgressing people. `You yourselves were evildoers and transgressors against the truth, so you responded to us and neglected the truth which the Prophets brought with proof, and you went against them.' فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَا إِنَّا لَذَايِقُونَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

30۔ 1 تابعین اور متبوعین کی یہ باہمی تکرار قرآن کریم میں کئی جگہ بیان کی گئی ہے۔ ان کی ایک دوسرے کو یہ ملامت عرصہ قیامت (میدان محشر) میں ہوگی اور جہنم میں جانے کے بعد جہنم کے اندر بھی ملاحظہ ہو

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧] اس کے جواب میں ان کے قائد، لیڈر اور پیشوا حضرات یہ جواب دیں گے کہ تم خود مجرم ضمیر تھے تم نے اپنا فائدہ اسی میں دیکھا تھا کہ ہمارے ساتھ لگ جاؤ۔ ہم نے زبردستی تمہیں اپنی اطاعت پر مجبور نہیں کیا تھا نہ ہم میں کوئی ایسا زور اور طاقت تھی۔ آج تم خواہ مخواہ ہمیں مورد الزام ٹھہرا رہے ہو۔ لہذا جیسے مجرم ہم ہیں ویسے ہی تم بھی مجرم ہو۔ اگر ہم گمراہ تھے تو ایک گمراہ سے بجز گمراہی کی طرف بلانے کے اور کیا توقع ہوسکتی ہے ہم نے وہی کچھ کیا جو ہمارے حال کے مناسب تھا۔ مگر تمہیں اپنی عقل اور عاقبت اندیشی سے کام لینا چاہئے تھا۔ آج تو ہم سب کو اپنی غلط کاریوں کا مزہ چکھنا ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ : یہ دوسرا جواب ہے کہ ہمارا تم پر کوئی ایسا غلبہ نہ تھا جو تمہیں کفر پر قائم رہنے پر مجبور کرتا۔ تم اپنی رضا سے کفر پر مطمئن اور خوش تھے۔ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِيْنَ : یہ تیسرا جواب ہے کہ بلکہ خود تمہارے خمیر میں حد سے تجاوز اور سرکشی بھری ہوئی تھی، اس لیے تم حق کو چھوڑ کر ہمارے پیچھے لگ گئے اور انبیاء کی مخالفت کرتے رہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ۝ ٠ ۚ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِيْنَ۝ ٣٠ سلط السَّلَاطَةُ : التّمكّن من القهر، يقال : سَلَّطْتُهُ فَتَسَلَّطَ ، قال تعالی: وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] ، وقال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] ، ومنه سمّي السُّلْطَانُ ، والسُّلْطَانُ يقال في السَّلَاطَةِ ، نحو : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] ، ( س ل ط ) السلاطۃ اس کے معنی غلبہ حاصل کرنے کے ہیں اور سلطتہ فتسلط کے معنی ہیں میں نے اسے مقہود کیا تو وہ مقہود ہوگیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردتیاوَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے ۔ اور اسی سے بادشاہ کو سلطان ، ، کہا جاتا ہے ۔ اور سلطان کا لفظ تسلط اور غلبہ کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے۔ قوم والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] ، ( ق و م ) قيام القوم۔ یہ اصل میں صرف مرودں کی جماعت پر بولا جاتا ہے جس میں عورتیں شامل نہ ہوں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ الآية [ الحجرات/ 11] طغی طَغَوْتُ وطَغَيْتُ «2» طَغَوَاناً وطُغْيَاناً ، وأَطْغَاهُ كذا : حمله علی الطُّغْيَانِ ، وذلک تجاوز الحدّ في العصیان . قال تعالی: اذْهَبْ إِلى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغى[ النازعات/ 17] ( ط غ ی) طغوت وطغیت طغوانا وطغیانا کے معنی طغیان اور سرکشی کرنے کے ہیں اور أَطْغَاهُ ( افعال) کے معنی ہیں اسے طغیان سرکشی پر ابھارا اور طغیان کے معنی نافرمانی میں حد سے تجاوز کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : إِنَّهُ طَغى[ النازعات/ 17] وہ بےحد سرکش ہوچکا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٠{ وَمَا کَانَ لَنَا عَلَیْکُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍج بَلْ کُنْتُمْ قَوْمًا طٰغِیْنَ } ” اور ہمیں تم پر کوئی اختیار تو تھا نہیں ‘ بلکہ تم خود ہی حد سے بڑھ جانے والے لوگ تھے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:30) طغین۔ اسم فاعل جمع مذکر بحالت نصب وجر۔ طغی یطغوا (باب نصر) طغو۔ طغو مصدر۔ حد سے گذر جانا۔ طغی یطغی وطغی یطغی (باب فتح وسمع) طغی و طغیان مصدر۔ کافر کا کفر میں غلو کرنا۔ یا ظلم و نافرمانی میں حد سے گذر جانا طغین ۔ نافرمان، سرکش، معصیت میں حد سے بڑھ جانے والے۔ یہاں نصب بوجہ کنتم کی خبر کے ہے ! آیت 29 کی طرح یہ آیت بھی گمراہ کرنے والے پیشوائوں کی طرف سے گمراہ ہونے والے چیلوں سے خطاب ہے۔ اسی طرح ہی اگلی آیت ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی خود تمہارے خمیر میں طغیان و سرکشی بھری تھی اس لئے تم نے حق کو چھوڑ کر ہماری اتباع کی تھی اور انبیاء کی مخالفت پر کمر باندھ لی تھی۔ ( ابن کثیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

وما کان ۔۔۔۔ سلطن کہ ہم نے تمہیں اس رائے کے اختیار کرنے پر مجبور کیا جو ہماری تھی۔ ایسا نہ تھا کہ تم ایک رائے کو اختیار کرنا تو نہ چاہتے تھے اور ہم نے تم سے زبردستی کرکے اس رائے کے اختیار کرنے پر مجبور کیا بل کنتم قوما طغین (30) ” “۔ تم خود ہی حد سے گزرنے والے تھے۔ کسی حد پر رکنے والے نہ تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(30) اور ہمارا تم پر کچھ زور اور غلبہ تو تھا ہی بلکہ تم خودہی حد سے نکل جانے والے تھے۔ یعنی گمراہ کرنا تو جب ہوتا کہ تم مومن ہوتے تو تو اہل ایمان ہی نہ تھے تو ہم پر گمراہ کرنے کا الزام ہی غلط ہے پھر کوئی حکومت بھی ہماری تم پر نہ تھی کہ ہم تم پر دبائو ڈالتے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ تم خود ہی سرکش اور حد سے نکل جانے والے لوگ تھے۔