Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 41

سورة الصافات

اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ رِزۡقٌ مَّعۡلُوۡمٌ ﴿ۙ۴۱﴾

Those will have a provision determined -

انہیں کے لئے مقررہ روزی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

For them there will be a known provision, Qatadah and As-Suddi said, "This means Paradise." It is explained further in the next Ayah:

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢١] جنت کے رزق کی خصوصیات :۔ یعنی وہ رزق جو کتاب و سنت میں جابجا مذکور ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ ہر قسم کے اور آپس میں ملتے جلتے پھلوں پر مشتمل ہوگا۔ جبکہ ان کا مزا بالکل ایک دوسرے سے جداگانہ ہوگا۔ نیز انہیں ہر وہ چیز مہیا کی جائے گی جس کی وہ خواہش کریں گے۔ اس رزق کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ باعزت طور پر دیا جائے گا۔ ایک یہ ہے کہ وہ کبھی ختم نہ ہوگا نہ اس کا سلسلہ منقطع ہوگا۔ ایک یہ کہ جو زرق انہیں دیا جائے گا اسے اس دنیا میں پوری طرح سمجھا بھی نہیں جاسکتا کیونکہ ویسی چیزیں نہ کسی نے دیکھی ہیں، نہ سنی ہیں اور نہ کسی کے حاشیہ خیال میں آسکتی ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ رزق صرف لذت حاصل کرنے کے لئے کھایا جائے گا۔ بھوک لگنے کی بنا پر نہیں کھایا جائے گا۔ یعنی اس لئے نہیں کہ محنت مشقت کی وجہ سے بدن کے کچھ اجزاء تحلیل ہوچکے ہیں تو ان کی تلافی کے لئے یا اپنی زندگی کی بقا کے لئے وہ رزق کھایا جائے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اُولٰۗىِٕكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ : یعنی ایسی روزی جو ان کے لیے مقرر ہوچکی ہے، جس کے ملنے کا انھیں یقین ہے کہ ہمیشہ ملتی رہے گی، کبھی روکی نہیں جائے گی۔ اگلی آیت میں اس کی کچھ تفصیل بیان فرمائی۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary After having described the condition of the people of Jahannam (Hell), the verses cited above have mentioned the condition of the people of Jannah (Paradise). This description is in two parts. The initial ten verses describe the comforts the people of Jannah will be blessed with. After that, the verses that follow take up an event relating to a particular inmate of Jannah which has lessons of guidance. Out of what has been said in the first ten verses, a few things are worth mentioning. These are as follows: 1. It was said in the first verse (41): أُولَـٰئِكَ لَهُمْ رِ‌زْقٌ مَّعْلُومٌ (Those are the people for whom there is a known provision). Commentators explain it variously. (1) Some say that it refers to the detailed description of the provisions of Paradise mentioned in different Surahs of the Qur&an. Maulana Ashraf Thanavi has elected to go by this very Tafsir. (2) Others have said that &known provision& means that its timings are determined and known, that is, it will be bestowed punctually all mornings and evenings as indicated in another verse بُكْرَ‌ةً وَعَشِيًّا &and for them there is their provision in it, morning and evening& -Maryam, 19:62) where the words: صُبح و شَام (morning and evening) have been explicitly mentioned. (3) Then, there is a third Tafsir as well. According to this explanation, &known provision& means that this provision will be certain and everlasting - unlike the world of our experience where no one can say with any degree of certainty what and how much of that provision he or she is going to get; nor does anyone know how long his provision will remain available to him or her. Every human heart is all the time under the fear that the blessings he has may disappear in future- may be, comes a tomorrow and they are no more there. Jannah will be free of this danger. Instead, the provision of Paradise will be certain and everlasting, both. (Qurtubi, and others).

خلاصہ تفسیر ان (اللہ کے مقبول بندوں) کے واسطے ایسی غذائیں ہیں جن کا حال (دوسری سورتوں میں) معلوم (ہو چکا) ہے یعنی میوے (جن کا ملنا سورة یٰسین آیت (آیت) لہم فیہا فاکہتہ میں اور جن کی صفات سورة واقعہ آیت (آیت) وفاکہتہ کثیرة لا مقطوعة ولا ممنوعہ میں اس کے قبل نازل ہوچکی ہیں، کیونکہ یٰسین اور واقعہ سورة صفٰت سے نزول میں مقدم ہیں۔ کذا فی الاتقان) اور وہ لوگ بڑی عزت سے آرام کے باغوں میں تختوں پر آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے (اور) ان کے پاس ایسا جام شراب لایا جائے گا (یعنی غلمان لائیں گے) جو بہتی ہوئی شراب سے بھرا جائے گا (اس سے شراب کی کثرت اور لطافت معلوم ہوئی اور دیکھنے میں) سفید ہوگی (اور پینے میں) پینے والوں کو لذیذ معلوم ہوگی (اور) نہ اس میں درد سر ہوگا (جیسے دنیا کی شراب میں ہوتا ہے جس کو خمار کہتے ہیں، اور نہ اس سے عقل میں فتور آئے گا، اور ان کے پاس نیچی نگاہ والی بڑی بڑی آنکھوں والی (حوریں) ہوں گی (جن کی رنگت ایسی صاف ہوگی کہ) گویا بیضے ہیں جو (پروں کے نیچے) چھپے ہوئے ہیں (کہ گردو غبار اور داغ سے بالکل محفوظ ہوتے ہیں تشبیہ محض صفائی میں ہے) پھر (جب سب لوگ ایک جلسہ میں جمع ہوں گے تو) ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر بات چیت کریں گے (اس بات چیت کے دوران میں) ان (اہل جنت) میں سے ایک کہنے والا (اہل مجلس سے) کہے گا کہ (دنیا میں) میرا ایک ملاقاتی تھا وہ (مجھ سے بطور تعجب) کہا کرتا تھا کہ کیا تو بعث کے معتقدین میں سے ہے، کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم (دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور زندہ کر کے) جزا سزا دیئے جائیں گے ؟ (یعنی وہ آخرت کا منکر تھا، اس لئے ضرور وہ دوزخ میں گیا ہوگا۔ حق تعالیٰ کا ارشاد ہوگا کہ (اے اہل جنت) کیا تم جھانک کر (اس کو) دیکھنا چاہتے ہو ؟ (اگر چاہو تو تم کو اجازت ہے) سو وہ شخص (جس نے قصہ بیان کیا تھا) جھانکے گا تو اس کو وسط جہنم میں (پڑا ہوا) دیکھے گا (اس کو وہاں دیکھ کر اس سے) کہے گا کہ خدا کی قسم تو تو مجھ کو تباہ ہی کرنے کو تھا (یعنی مجھ کو بھی منکر آخرت بنانے کی کوشش کیا کرتا تھا) اور اگر میرے رب کا (مجھ پر) فضل نہ ہوتا (کہ مجھ کو اس نے صحیح عقیدے پر قائم رکھا) تو میں بھی (تیری طرح) ماخوذ لوگوں میں ہوتا (اور اس کے بعد جنتی اہل مجلس سے کہے گا کہ) کیا ہم بجز پہلی بار مر چکنے کے (کہ دنیا میں مر چکے ہیں) اب نہیں مریں گے اور نہ ہم کو عذاب ہوگا ؟ (یہ ساری باتیں اس جوش مسرت میں کہی جائیں گی کہ اللہ تعالیٰ نے سب آفات اور کلفتوں سے بچا لیا اور ہمیشہ کے لئے بےفکر کردیا۔ آگے حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جنت کی جتنی جسمانی اور روحانی نعمتیں اوپر بیان کی گئیں) یہ بیشک بڑی کامیابی ہے، ایسی ہی کامیابی (حاصل کرنے) کے لئے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہئے (یعنی ایمان لانا اور اطاعت کرنا چاہئے) ۔ معارف ومسائل اہل دوزخ کے حالات بیان کرنے کے بعد ان آیات میں اہل جنت کے احوال کا تذکرہ کیا گیا ہے، یہ تذکرہ دو حصوں پر مشتمل ہے۔ ابتدائی دس آیتوں میں عام اہل جنت کو جو عیش و آرام حاصل ہوگا، اس کا بیان ہے اور اس کے بعد کی آیات میں ایک خاص جنتی کا عبرت آموز واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ ابتدائی دس آیتوں میں چند باتیں بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ (١) اولئک لھم رزق معلوم، کا لفظی ترجمہ یہ ہے ” انہی لوگوں کے لئے ایسا رزق ہے جس کا حال معلوم ہے “ مفسرین نے اس کے مختلف مطلب بتائے ہیں۔ بعض حضرات کا کہنا یہ ہے کہ اس سے جنتی غذاؤں کی ان تفصیلی صفات کی طرف اشارہ ہے جو مختلف سورتوں میں بیان کی گئی ہیں۔ چناچہ خلاصہ تفسیر میں حکیم الامت حضرت تھانوی نے اسی تفسیر کو اختیار فرمایا ہے۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ” رزق معلوم “ سے مراد یہ ہے کہ اس کے اوقات متعین اور معلوم ہیں، یعنی وہ صبح و شام پابندی کے ساتھ عطا کیا جائے گا، جیسا کہ دوسری آیت میں بکرة وعشیا (صبح و شام) کے الفاظ صراحةً آئے ہیں ایک تیسری تفسیر اور ہے، اور وہ یہ کہ ” رزق معلوم “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ یقینی اور دائمی رزق ہوگا، دنیا کی طرح نہیں کہ کوئی شخص یقین کے ساتھ نہیں بتاسکتا کہ کل مجھے کیا اور کتنا رزق ملنے والا ہے ؟ اور نہ کسی کو یہ علم ہے کہ جتنا رزق مجھے حاصل ہے وہ کب تک میرے پاس رہے گا ؟ ہر انسان کو ہر وقت یہ دھڑا لگا ہوا ہے کہ جو نعمتیں مجھے اس وقت حاصل ہیں وہ شاید کل میرے پاس نہ رہیں، جنت میں یہ خطرہ نہیں ہوگا بلکہ وہاں کا رزق یقینی ہوگا اور دائمی بھی۔ (تفسیر قرطبی وغیرہ)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اُولٰۗىِٕكَ لَہُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ۝ ٤١ۙ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤١{ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ رِزْقٌ مَّعْلُوْمٌ} ” یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے طے شدہ رزق ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

22 "A known provision" : A provision All of whose characteristics have been made known to them, which they are sure to receive, about which they have also the full satisfaction that they will continue to receive it for ever, and about which there is no apprehension that they may or may not get it at some time.

سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :22 یعنی ایسا رزق جس کی تمام خوبیاں بتائی جاچکی ہیں ، جس کے ملنے کا انہیں یقین ہے ، جس کے متعلق انہیں یہ بھی اطمینان ہے کہ وہ ہمیشہ ملتا رہے گا ، جس کے بارے میں یہ خطرہ لگا ہوا نہیں ہے کہ کیا خبر ، ملے یا نہ ملے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:41) رزق معلوم۔ موصوف وصفت۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔ (1) ایسا رزق جس کی مقدار معلوم ہو۔ لیکن اور جگہ ارشاد ہے :۔ یرزقون فیھا بغیر حساب (40:40) ان کو بیشمار رزق ملے گا۔ لہٰذا جو رزق بغیر حساب و شمار ہو اس کی مقدار مقرر نہیں کی جاسکتی۔ اور جس رزق کی مقدار متعین کی جاسکے وہ بغیر حساب کے کیسا ؟ (2) ایسا رزق کہ جس کی خصوصیات بلحاظ لذت و کیفیت معلوم ہوں جیسا کہ قرآن مجید میں اور جگہ آیا ہے وفاکھۃ کثیرۃ لا مقطوعۃ ولا ممنوعۃ (56:32:33) اور میوہ ہائے کثیر جو نہ کبھی ختم ہوں اور نہ کوئی ان سے روکے یا۔ وفاکھۃ مما یتخیرون ولحم طیر مما یشتھون۔ (56:20:21) اور میوے جن کو وہ پسند کریں اور پرندوں کا گوشت جو انہیں بھائے مطلب ایسا رزق جو کہ اس کا حال دوسری آیات سے معلوم ہوچکا ہے۔ (3) جس رزق کی عطا کا وقت معلوم ہو جیسا کہ ارشاد ہے :۔ ولہم رزقہم فیھا بکرۃ وعشیا (19:62) اور اس میں ان کو رزق ملے گا صبح وشام (یعنی ہر وقت جب وہ چاہیں گے) ۔ (4) قتادہ کے نزدیک الرزق المعلوم سے مراد الجنۃ ہے ؟ (5) یا ایسا رزق کہ جس کی ماہیت وخصوصیت اللہ ہی کو معلوم ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 15 یعنی ایسی روزی جو ان کے لئے مقرر ہوچکی ہے ہمیشہ ملتی رہے گی اور کبھی منقطع نہ ہوگی۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

اولئک لھم رزق۔۔۔۔۔۔ کانھن بیض مکنون (41 – 49 “۔ جنت کی نعمتیں کیسی ہوں گی ؟ اس میں نعمتوں کا ہر رنگ ہوگا جس میں نفس انسانی کی غذا بھی ہوگی اور انسانی احساسات اور انسانی جسم سب کے لیے متاع ہوگا ۔ مزید یہ کہ وہاں جو نفس جو کچھ چاہے گا وہ اسے ملے گا ۔ قسماقسم انعامات ، اس لیے کہ یہ لوگ سب سے پہلے تو اللہ کے مکرم بندے ہیں ، اللہ کی بندگی انسان کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے ۔ پھر عالم بالا میں وہ معزز ترین مہمان ہوں گے ۔ یہ ان کے آرام کی جگہ ہوگی اور وہاں ان کو کوئی مشقت اور ذیوئی نہ کرنا ہوگی ۔ پھر مزید یہ کہ آرام کے ساتھ اللہ کی رضامندی بھی انہیں حاصل ہوگی ۔ جو سب سے بڑی نعمت ہوگی ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

20:۔ اولئک الخ :۔ اللہ کے ان مقبول بندوں کے لیے ایسی روزی ہوگی جس کی صفتیں معرف ہیں۔ یعنی وہ منقطع نہیں ہوگی۔ خوش ذائقہ اور خوش رائحہ ہوگی۔ ایسی خوبیوں والی روزی نہ کسی آنکھ نے کبھی دیکھ نہ کسی کان نے کبھی سنی۔ فواکہ یہ رزق سے بدل ہے۔ جنت کی خوراک میووں اور پھلوں کی صورت میں ہوگی۔ وھم مکرمون الخ، اور وہ خدا کے یہاں معزز و مکرم ہوں گے۔ گوناگوں نعمتوں کے باغات ان کے مسکن ہوں گے۔ جنت جو مومنوں کا مسکن ہوگا وہ نعمتوں کا گھر ہوگا۔ اس میں ہر نعمت ایک سے ایک بڑھ کر ہوگی۔ وہ لعل و جواہر سے مرصع تختوں پر فروکش ہوں گے اور آمنے سامنے بیٹھ کر خوش و خرم ہوں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(41) ان مخلصین کے لئے روزی معلوم اور مقرر ہے۔ یعنی یہ لوگ اہل ایمان ہیں جو اللہ تعالیٰ کے مخصوص اور چیدہ بندے ہیں ان کی روزی معلوم ہے یعنی قرآن کریم کی کئی سورتوں میں ذکر ہوچکا ہے یا یہ کہ مقررہ ہے جو صبح اور شام ان کو پہنچائی جاتی ہے۔