Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 51

سورة الصافات

قَالَ قَآئِلٌ مِّنۡہُمۡ اِنِّیۡ کَانَ لِیۡ قَرِیۡنٌ ﴿ۙ۵۱﴾

A speaker among them will say, "Indeed, I had a companion [on earth]

ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا کہ میرا ایک ساتھی تھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

A speaker of them will say: "Verily, I had a companion..." Al-`Awfi reported that Ibn Abbas, may Allah be pleased with him said, "This refers to an idolator man who had a companion among the believers in this world." يَقُولُ أَيِنَّكَ لَمِنْ الْمُصَدِّقِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٩] قرین ایسے ساتھی یا دوست کو کہتے ہیں جو اپنا ہم عمر ہو یا بہادری، قوت اور اسی طرح کے دیگر اوصاف میں ہمسر ہو اور اس لفظ کا استعمال عموماً برے معنوں میں ہوتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ اِنِّىْ كَانَ لِيْ قَرِيْنٌ : ” قَرِيْنٌ“ ایسے ساتھی یا دوست کو کہتے ہیں جو ہم عمر ہو، یا بہادری، قوت اور اس طرح کے دوسرے اوصاف میں ہم سر ہو، اور اس لفظ کا استعمال عموماً برے معنوں میں ہوتا ہے۔ (کیلانی) ان میں سے ایک جنتی کہے گا، دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا، جو مرنے کے بعد اٹھنے کا منکر تھا، وہ مذاق کرتے ہوئے انکار کے طور پر کہا کرتا تھا کہ کیا واقعی تم بھی ان لوگوں میں شامل ہو جو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے جیسی بعید از عقل بات کو مانتے ہیں، کیا جب ہم مرکر مٹی اور ہڈیاں ہوگئے تو کیا واقعی ہمیں ہمارے اعمال کی جزا دی جائے گی ؟ ” مَدِیْنُوْنَ “ ” مَدِیْنٌ“ کی جمع ہے، جو اصل میں ” دَانَ یَدِیْنُ دِیْنًا “ (ض) سے اسم مفعول ” مَدْیُوْنٌ“ ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْہُمْ اِنِّىْ كَانَ لِيْ قَرِيْنٌ۝ ٥١ۙ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ قرین الِاقْتِرَانُ کالازدواج في كونه اجتماع شيئين، أو أشياء في معنی من المعاني . قال تعالی: أَوْ جاءَ مَعَهُ الْمَلائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ [ الزخرف/ 53] . يقال : قَرَنْتُ البعیر بالبعیر : جمعت بينهما، ويسمّى الحبل الذي يشدّ به قَرَناً ، وقَرَّنْتُهُ علی التّكثير قال : وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفادِ [ ص/ 38] وفلان قِرْنُ فلان في الولادة، وقَرِينُهُ وقِرْنُهُ في الجلادة «1» ، وفي القوّة، وفي غيرها من الأحوال . قال تعالی: إِنِّي كانَ لِي قَرِينٌ [ الصافات/ 51] ، وَقالَ قَرِينُهُ هذا ما لَدَيَّ [ ق/ 23] إشارة إلى شهيده . قالَ قَرِينُهُ رَبَّنا ما أَطْغَيْتُهُ [ ق/ 27] ، فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ [ الزخرف/ 36] وجمعه : قُرَنَاءُ. قال : وَقَيَّضْنا لَهُمْ قُرَناءَ [ فصلت/ 25] . ( ق ر ن ) الا قتران ازداواج کی طرح اقتران کے معنی بھی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کے کسی معنی میں باہم مجتمع ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَوْ جاءَ مَعَهُ الْمَلائِكَةُ مُقْتَرِنِينَ [ الزخرف/ 53] یا یہ ہوتا کہ فر شتے جمع کر اس کے ساتھ آتے دو اونٹوں کو ایک رسی کے ساتھ باندھ دینا اور جس رسی کے ساتھ ان کو باندھا جاتا ہے اسے قرن کہا جاتا ہے اور قرنتہ ( تفعیل ) میں مبالغہ کے معنی پائے جاتے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَآخَرِينَ مُقَرَّنِينَ فِي الْأَصْفادِ [ ص/ 38] اور اور روں کو بھی جو زنجروں میں جکڑ ی ہوئی تھے ۔ اور آدمی جو دوسرے کا ہم عمر ہو یا بہادری قوت اور دیگر اوصاف میں اس کا ہم پلہ ہوا سے اس کا قرن کہا جاتا ہے اور ہم پلہ یا ہم سر کون قرین بھی کہتے ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ فلان قرن فلان او قرینہ فلاں اس کا ہم عمر ہم سر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنِّي كانَ لِي قَرِينٌ [ الصافات/ 51] کہ میرا ایک ہم نشین تھا ۔ وَقالَ قَرِينُهُ هذا ما لَدَيَّ [ ق/ 23] اور اس کا ہم نشین ( فرشتہ ) کہے گا یہ ( اعمال مانہ ) میرے پاس تیار ہے ۔ یہاں قرین سے مراد وہ فرشتہ ہے جسے دوسری جگہ شہید ( گواہ ) کہا ہے ۔ قالَ قَرِينُهُ رَبَّنا ما أَطْغَيْتُهُ [ ق/ 27] ، اس کا ساتھی ( شیطان ) کہے گا کہ اے ہمارے پروردگار میں نے اس کو گمراہ نہیں کیا ۔ فَهُوَ لَهُ قَرِينٌ [ الزخرف/ 36] تو وہ اس کا ساتھی ہوجا تا ہے ۔ قرین کی جمع قرنآء ہے قرآن میں ہے : ۔ وَقَيَّضْنا لَهُمْ قُرَناءَ [ فصلت/ 25] اور ہم نے شیبان کو ان کا ہم نشین مقرر کردیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥١۔ ٥٣) چناچہ ان اہل جنت میں سے ایک شخص یعنی یہوذا مومن کہے گا کہ دنیا میں میرا ایک ملنے والا تھا یعنی ابو فطروس اسی کا بھائی۔ وہ مجھے بطور انکار بعث کہا کرتا تھا کہ کیا تو بعث کے معتقدین میں سے ہے۔ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر ہمیں دوبارہ زندہ کر کے ہم سے حساب و کتاب لیا جائے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥١{ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْہُمْ اِنِّیْ کَانَ لِیْ قَرِیْنٌ} ” ان میں سے ایک کہنے والا کہے گا کہ میرا ایک ساتھی ہوا کرتا تھا۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٥١۔ ٦١۔ تفسیر اسمعیل سدی اور تفسیر ٢ ؎ ابن ابی حاتم وغیرہ میں بنی اسرائیل کا ایک قصہ اس آیت کے متعلق جو لکھا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے۔ کہ کسی تجارت میں دو شخص ساجھی تھے۔ جس میں ایک شخص مشرک تھا اور ایک مسلمان تھا۔ یہ مسلمان شخص اکثر اپنے دین کے کاموں میں مصروف رہ کر تجارت کے کاموں سے بیخبر رہتا تھا۔ اس مشرک ساجھی نے اپنے اس مسلمان ساتھی کا یہ حال دیکھ کر اپنے ساجھے سے اس کو الگ کردیا۔ اس ساجھی کے الگ ہونے کے وقت دونوں شخصوں کے حصہ میں چار چار ہزار اشرفیاں آئیں۔ اس مشرک شخص نے تو اپنی اشرفیاں دنیا کے طرح طرح کے کاموں میں لگائیں اور مسلمان شخص نے رفتہ رفتہ وہ اپنی سب اشرفیاں عاقبت کے اجر کے خیال سے اللہ کی راہ میں خیرات کر ڈالیں اور تنگ حال ہوگیا۔ ایک روز اس مشرک نے اس مسلمان کو تنگ دست دیکھ کر اس کے حال پر بڑا افسوس کیا۔ اور اس سے پوچھا کہ تیری اشرفیاں کہاں گئیں۔ پہلے تو اس مسلمان نے اپنی اشرفیوں کا حال اس مشرک سے چھپایا۔ لیکن جب اس مشرک شخص نے بہت کھود کھود کر پوچھا تو اس نے بیان کیا کہ وہ اشرفیاں عاقبت کے اجر کے خیال سے میں نے اللہ کی راہ میں خرچ کردیں۔ اس مشرک غاقبت کے منکر نے عاقبت اور عاقبت کے اجر کا نام سن کر اس مسلمان کو بہت برا بھلا کہا۔ قیامت کے دن اس مسلمان کو جنت میں اور مشرک کو دوزخ میں جب اللہ تعالیٰ داخل فرمائے گا۔ تو یہ مسلمان شخص اپنے مشرک ساجھی کا عاقبت کا انکار کرنا۔ اور برا کہنا یاد کر کے جنت میں سے جھانک کر اس کو دیکھے گا اور طرح طرح کے عذاب میں گرفتار پا کر یہ کہے گا۔ کہ اگر دنیا میں تیرا کہنا میں مان لیتا تو آج میں بھی اس مصیبت میں گرفتار ہوتا حضرت عبد اللہ (رض) بن عباس (رض) نے فرمایا ہے۔ کہ جنت کے مکانوں کی دیواروں میں کھڑکیاں ہوں گی جن میں سے اہل جنت اہل دوزخ کا حال دیکھ کر اپنے عیش و آرام کی بڑی قدر کریں گے۔ کیونکہ یہ قاعدہ ہے کہ دوسرے کی مصیبت دیکھ کر آدمی کو اپنے آرام کی قدر معلوم ہوتی ہے۔ اس مسلمان جنتی شخص کے کلام میں اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا ہے کہ وہ شخص جنت کی نعمتوں کی قدر اور اپنی خوشی ظاہر کرنے کی باتوں میں یہ بھی کہے گا۔ کہ یہ بھی بڑی مراد پوری ہونے کی بات ہے۔ کہ جنتی لوگ سدا اسی عیش میں رہویں گے اور سوا دنیا میں ایک دفعہ کی موت کا مزا چکھ لینے کے۔ اب ہم کو کبھی موت نہیں آئے گی اس کی تفسیر حضرت عبد (رض) اللہ بن عمر (رض) کی صحیحین ١ ؎ کی روایت میں ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ جنتیوں کے جنت میں اور دو زخمیوں کے دوزخ میں داخل ہوجانے کے بعد جنت اور دوزخ کے مابین میں موت کو ذبح کردیا جاوے گا۔ اور پھر فرشتے پکار کر اہل جنت اور اہل دوزخ کو سناویں گے کہ اب جو جس حال میں ہے۔ ہمیشہ وہ اسی حال میں رہے گا۔ اب کسی کو موت نہیں۔ اس خبر کو سن کر اہل جنت اپنے عیش و آرام سے ہمیشہ رہنے کی بڑی خوشی کریں گے۔ اور اہل دوزخ اپنا عذاب میں ہمیشہ رہنے کا حال دیکھ کر بڑا رنج کریں گے۔ جس خوشی کا اس حدیث میں ذکر ہے۔ وہی خوشی ہے۔ جس کا تذکرہ اس جنتی شخص نے اپنی خوشی اور مراد پانے کی باتوں میں کیا ہے۔ غرض جنت کی نعمتیں دنیا کی نعمتوں سے نرالی ہیں۔ پھر یہ کتنی بڑی بات ہے۔ کہ وہ نعمتیں ہمیشہ رہویں گی نہ ان نعمتوں کو دکھ کا خلل ہے۔ نہ بیماری کا نہ موت کا کچھ کھٹکا۔ دنیا کی نعمتوں کو دکھ کا بیماری کا موت کا ہر طرح کا کھٹکا لگا ہوا ہے جس کے سبب سے یہ کہنا چاہئے کہ دنیا کی بادشاہت وزارت کوئی نعمت پائیدار نہیں۔ کیونکہ زبان حال سے دنیا کی ہر نعمت یہ پکار رہی ہے۔ کہ آج ہے کل نہیں۔ عاقبت میں اس کے برخلاف معاملہ ہے۔ چناچہ صحیح ٢ ؎ مسلم میں حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت ابو سعیدخدری سے روایت ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے۔ کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ جنت کے لوگوں کو فرشتے ہر وقت پکار پکار کر سنا دیں گے۔ کہ جنت کی زندگانی کو موت نہیں اور جوانی کو بڑھاپا نہیں۔ صحت کو مرض نہیں۔ خوشی کو رنج نہیں۔ لمدینون اس کا مطلب یہ ہے۔ کہ کیا مرنے اور خاک ہوجانے کے بعد ہم پھر دوبارہ زندہ ہوں گے۔ اور ہماری نیکی بدی کا حساب و کتاب ہوگا۔ منکرین حشر کے اس عقلی اعتراض کا جواب عقلی طور پر اللہ تعالیٰ نے کئی آیتوں میں جو دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ خود دنیا کا موجودہ انتظام اس بات کو چاہتا ہے۔ کہ دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد قیامت کی سخت ضرورت ہے۔ کیونکہ چھوٹے چھوٹے حاکم فرمانبردار اور نافرمان رعایا کو ایک حالت پر رکھنا ناانصافی جانتے ہیں۔ پھر اس احکم الحاکمین کے انصاف سے یہ بعید ہے کہ اس کی بارگاہ میں نہ نیکی کا کچھ ثمرہ ہو نہ بدی کی کچھ پرسش۔ دنیا کی حالت سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ کہ یہاں بہت سے نیک لوگ تنگ دست ہیں۔ اور بد لوگ خوش حال۔ اس سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آسکتی ہے۔ کہ دنیا میں جزا و سزا کا موقعہ نہیں۔ بلکہ اس کے لئے ایک دوسرا جہان ہے۔ جس کا حال وحی کے ذریعہ سے انبیاء کو معلوم ہوا ہے۔ اور عقل بھی اس کا انکار نہیں کرسکتی۔ سورة جاثیہ میں اس عقلی جواب کی تفصیل زیادہ آوے گی۔ (٢ ؎ بوالہ تفسیر الدر المنثور ص ٧٥ ج ٥ تفسیر ابن کثیر ص ٩ ج ٤) (١ ؎ صحیح مسلم مع شرح نودی باب جھنم اعاذنا اللہ منھا ص ٣٨٢ ج ٢۔ ) (٢ ؎ صحیح مسلم مع شرح نودی باب الجنۃ وصفۃ نعیمھا واھلھا۔ ص ٢٣٨ ج ٢۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:51) قال قائل منہم۔ ای قال قائل من اھل الجنۃ۔ آپس میں گفتگو کرنے والے اہل جنت میں ایک بولے گا۔ یا کہے گا۔ اس جملہ کا عطف یطاف علیہم پر ہے دونوں کے درمیان کی عبارت بطور کلام معترضہ ہے۔ قرین۔ الاقتران۔ ازدواج کی طرح اقتران کے معنی بھی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کے کسی معنی میں باہم مجتمع ہونے کے ہیں۔ قرنت البعیر مع البعیر میں نے دو اونٹوں کو ایک رسی سے باندھ دیا۔ وہ آدمی جو دوسرے کا ہم عمر ہو یا بہادری وقوت اور دیگر اوصاف میں اس کا ہم پلہ ہو اسے اس کا قرن کہتے ہیں۔ اور ہم پلہ یا ہمسر یا ہمنشین کو قرین کہتے ہیں۔ یہاں آیہ ہذا میں بمعنی ساتھی یا ہمنشین ہی آیا ہے۔ قرین کی جمع قرناء ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(51) ان اہل جنت میں سے ایک کہنے والا کہے گا میرا دنیا میں ایک ملنے والا اور میرا ہم نشین تھا۔