Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 56

سورة الصافات

قَالَ تَاللّٰہِ اِنۡ کِدۡتَّ لَتُرۡدِیۡنِ ﴿ۙ۵۶﴾

He will say, "By Allah , you almost ruined me.

کہے گا واللہ! قریب تھا کہ تو مجھے ( بھی ) برباد کردے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

He said: "By Allah! You have nearly ruined me." The believer will say, addressing the disbeliever: `By Allah, you nearly caused me to be doomed, if I had obeyed you.' وَلَوْلاَ نِعْمَةُ رَبِّي لَكُنتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قَالَ تَاللّٰهِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِيْنِ :” اِنْ كِدْتَّ “ اصل میں ”إِنَّکَ کِدْتَّ “ تھا، دلیل اس کی ” لَتُرْدِيْنِ “ کا لام ہے۔ ” کِدْتَّ “ ” کَادَ یَکَادُ “ سے ماضی معلوم ہے۔ ” لَتُرْدِيْنِ “ اصل میں ” لَتُرْدِیْنِيْ “ تھا۔ ” أَرْدٰی یُرْدِيْ إِرْدَاءً “ (افعال) ہلاک کرنا۔ اسے مخاطب کر کے کہے گا، اللہ کی قسم ! یقیناً تو قریب تھا کہ مجھے راہ راست سے بہکا کر ہلاک کردیتا۔ ان آیات میں برے ساتھیوں سے اجتناب کا سبق ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا خاص فضل نہ ہو تو اس کا نتیجہ کتنا مہلک ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قَالَ تَاللہِ اِنْ كِدْتَّ لَتُرْدِيْنِ۝ ٥٦ۙ كَادَ ووُضِعَ «كَادَ» لمقاربة الفعل، يقال : كَادَ يفعل : إذا لم يكن قد فعل، وإذا کان معه حرف نفي يكون لما قد وقع، ويكون قریبا من أن لا يكون . نحو قوله تعالی: لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] ، وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] ، تَكادُ السَّماواتُ [ مریم/ 90] ، يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] ، يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] ، إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] ولا فرق بين أن يكون حرف النّفي متقدما عليه أو متأخّرا عنه . نحو : وَما کادُوا يَفْعَلُونَ [ البقرة/ 71] ، لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ [ النساء/ 78] . وقلّما يستعمل في كاد أن إلا في ضرورة الشّعر «1» . قال قد كَادَ من طول البلی أن يمصحا«2» أي : يمضي ويدرس . ( ک و د ) کاد ( س ) فعل مقارب ہے یعنی کسی فعل کے قریب الوقوع ہون کو بیان کرنے کے لئے آتا ہے مثلا کا دیفعل قریب تھا وہ اس کا م کو گزرتا یعنی کرنے والا تھا مگر کیا نہیں قرآن میں لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] تو تم کسی قدر ان کی طرف مائل ہونے ہی لگے تھے ۔ وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] قریب تھا کہ یہ ( کافر) لگ تم اس سے بچلا دیں ۔ تَكادُ السَّماواتُ [ مریم/ 90] قریب ہے کہ ( اس فتنہ ) سے آسمان پھٹ پڑیں ۔ ؛ يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] قریب ہے ک کہ بجلی کی چمک ان کی آنکھوں کی بصاحب کو اچک لے جائے ۔ يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] قریب ہوتے ہیں کہ ان پر حملہ کردیں إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] تو تو مجھے ہلا ہی کرچکا تھا ۔ اور اگر ا ن کے ساتھ حرف نفی آجائے تو اثباتی حالت کے برعکدس فعل وقوع کو بیان کرنے کیلئے آتا ہے جو قوع کے قریب نہ ہوا اور حروف نفی اس پر مقدم ہو یا متاخر دونوں صورتوں میں ایک ہی معنی دیتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : وَما کادُوا يَفْعَلُونَ [ البقرة/ 71] اور وہ ا یسا کرنے والے تھے نہیں ۔ لا يَكادُونَ يَفْقَهُونَ [ النساء/ 78] کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے۔ اور کاد کے بعد ا ان کا استعمال صرف ضرورت شعری کے لئے ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ہے ( الرجز) ( 387 ) قد کاد من طول البلیٰ ان یمصحا قریب تھا کہ زیادہ بوسیدہ گی کے باعث وہ سٹ جائے رَّدَى : الهلاك، والتَّرَدِّي : التّعرّض للهلاك، قال تعالی: وَما يُغْنِي عَنْهُ مالُهُ إِذا تَرَدَّى[ اللیل/ 11] ، وقال : وَاتَّبَعَ هَواهُ فَتَرْدى[ طه/ 16] ، وقال : تَاللَّهِ إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] ، والمرداة : حجر تکسر بها الحجارة فَتُرْدِيهَا . ( ر د ی ) الردی ۔ ( س ) کے معنی ہلاکت کے ہیں اور التردی ( تفعل ) کے معنی ہیں اپنے آپ کو ہلاکت کے سامنے پیش کرنا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَما يُغْنِي عَنْهُ مالُهُ إِذا تَرَدَّى[ اللیل/ 11] اور جب وہ جہنم میں گرے گا تو اس کا مال اس کے کچھ بھی کام نہ آئے گا ۔ وَاتَّبَعَ هَواهُ فَتَرْدى[ طه/ 16] اور وہ اپنی نفسانی خواہش کے پیچھے پڑا ( اگر ایسا کرو گے ) تو تم تباہ ہوجاؤ گے ۔ ( الارداء ) افعال ہلاک کرنا قرآن میں ہے :۔ تَاللَّهِ إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ [ الصافات/ 56] خدا کی قسم تو تو مجھے تباہ کرنے کو تھا ۔ المرداۃ وہ پتھر جس سے دوسرے پتھر توڑے جاتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٥٦۔ ٥٧) اور کہے گا کہ اللہ کی قسم تو، تو مجھے دین سے گمراہ کرنے کو تھا اور اگر میں تیری باتوں میں آجاتا تو تو مجھے تباہ ہی کر ڈالتا اور اگر میرے پروردگار کا مجھ پر فضل نہ ہوتا کہ اس نے مجھے ایمان کی توفیق دی اور کفر سے محفوظ رکھا تو میں بھی تیرے ساتھ دوزخ کے عذاب میں ہوتا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٥٦{ قَالَ تَاللّٰہِ اِنْ کِدْتَّ لَتُرْدِیْنِ } ” وہ پکار اٹھے گا : اللہ کی قسم ‘ تم تو قریب تھے کہ مجھے بھی برباد کردیتے ! “ یہ تو اللہ کا مجھ پر بڑا فضل ہوا کہ میں نے تمہاری باتوں پر زیادہ دھیان دینے کے بجائے اس آواز کی طرف توجہ دی جو میرے دل کی گہرائیوں سے نکلی تھی اور میں نے اسی بات کو قبول کیا جس کو میرے دل نے حق جانا۔ ورنہ اگر خدانخواستہ میں نے کہیں تمہاری بات مان لی ہوتی تو آج میں بھی تمہارے ساتھ جہنم کے اس گڑھے میں پڑا ہوتا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:56) قال۔ ای قال القائل۔ یعنی بات شروع کرنے والا۔ اپنے دنیا کے ساتھی کو مخاطب کر کے کہے گا۔ علامہ زمخشری (رح) آیت وتا اللہ لاکیدن اصنامکم۔۔ (21:57 ۔ اور خدا کی قسم میں تمہارے بتوں کی گت بنا ڈالوں گا) کی تشریح میں لکھتے ہیں :۔ حروف قسم میں باء تو اصل ہے اور وائو اس کا بدل۔ اور وائو کا بدل تا ہے لیکن تاء میں تعجب کے معنی زائد ہیں (آیت مذکورہ میں) گویا اس بات پر تعجب ہے کہ باوجود نمرود کی سرکشی اور زور آوری کے میرے لئے ان (بتوں) کا علاج کردینا اور اس کام کو سرانجام دینا کتنا آسان ہے “۔ آیت ہذا میں تعجب اس بات پر ہے کہ باوجود تو نے مجھے ہلاکت میں قریبا ڈال ہی دیا تھا۔ لیکن اپنے پروردگار کے فضل سے میں سلامت بچ نکلا۔ ان : ان سے مخففہ ہے۔ کدت۔ کاد یکید کید (باب ضرب) سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے۔ قریب تھا کہ تو (مجھے ہلاک کردیتا) ۔ کاد افعال مقاریہ میں سے ہے ۔ اگر یہ بصورت اثبات مذکور ہو تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کو آنے والا فعل واقع نہیں ہوا ۔ قریب الوقوع ضرور تھا۔ جیسا کہ آیت ہذا میں قریب تھا کہ تو مجھے ہلاک کر ڈالے لیکن میں پروردگار کے فضل سے ہلاکت سے بچ گیا۔ یا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے کہ :۔ کاد یزیغ قلوب فریق منہم ثم تاب علیہم۔۔ (9:117) ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل ہوچلا تھا پھر (اللہ نے) ان لوگوں پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمادی (اور وہ متزلزل ہونے سے بچ گئے) ۔ لتردین۔ لام فارقہ ہے۔ اللام الفاصلہ : یا ۔ اللام الفارقہ : جب ان (مخفف) کو ان (ثقیلہ ) کی جگہ استعمال کیا گیا ہو تو مسند سے قبل لام لایا جائے گا تاکہ اس ان کو ان نافیہ سے تمیز کیا جاسکے۔ مثلاً وان کنا عن دراستہم لغفلین (6:156) اور ہم نے تو ان کے پڑھنے پڑھانے سے نرے بیخبر ہی رہے ) ۔ تردین۔ تردی ارادء (افعال) سے مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر ہے ن وقایہ ی متکلم محذوف ہے ردی مادہ۔ الروی (باب سمع) کے معنی ہلاکت کے ہیں التردی (باب تفعل) کے معنی ہیں اپنے آپ کو ہلاکت کے سامنے پیش کرنا۔ جیسے ارشاد باری ہے وما یغنی عنہ مالہ اذا تردی (92:11) اور جب وہ جہنم میں گرے گا تو اس کا مال اس کے کچھ بھی کام نہ آئے گا۔ یا اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ فلا یصدنک من لا یؤمن بھا واتبع ھوہ فتردی (20:116) سو تمہیں اس کی طرف سے ایسا شخص باز نہ رکھنے پائے جو اس پر ایمان نہیں رکھتا اور اپنی خواہش (نفسانی) کی پیروی کرتا ہے ورنہ تم بھی تباہ ہو کر رہو گے۔ لتردین : تو نے مجھے ہلاک ہی کر ڈالا تھا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

قال تاللہ ۔۔۔۔۔ من المحضرین (56-57) ” “۔ یعنی میں بھی ان لوگوں میں سے ہوتا جنہیں پکڑکر کچہری میں لایا جاتا ہے اور وہ دراصل پیشی نہیں چاہتے ۔ اس دوست کو دیکھو وہ اپنی خوشحالی اور نیک انجامی کو بیان کرکے اپنی خوشی میں اضافہ کرتا ہے ۔ جب کہ اس کا دوست جہنم کے بچ میں پڑا ہے اور یہ اور اس کے دوست انعاماتا البیہ میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ یہ تحدیث نعمت ہے ، دوام نعمت پر خوشی کا اظہار ہے اور یوں لذت میں نفسیاتی اضافہ ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(56) یہ جنتی اس سے کہے گا اللہ تعالیٰ کی قسم تو تو قریب تھا کہ مجھ کو ہلاک ہی کردیتا۔