Surat us Saaffaat

Surah: 37

Verse: 6

سورة الصافات

اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنۡیَا بِزِیۡنَۃِۣ الۡکَوَاکِبِ ۙ﴿۶﴾

Indeed, We have adorned the nearest heaven with an adornment of stars

ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت سے آراستہ کیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Adornment and Protection of the Heaven comes from Allah Allah says, إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاء الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ Verily, We have adorned the near heaven with the stars. Allah tells us that He has adorned the lowest heaven with the heavenly bodies for those among the people of the earth who look at it. The stars and planets in the sky give light to the people of earth, as Allah says: وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَأءَ الدُّنْيَا بِمَصَـبِيحَ وَجَعَلْنَـهَا رُجُوماً لِّلشَّيَـطِينِ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ And indeed We have adorned the nearest heaven with lamps, and We have made such lamps (as) missiles to drive away the Shayatin, and have prepared for them the torment of the blazing Fire. (67:5) وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِى السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّنَّـهَا لِلنَّـظِرِينَ وَحَفِظْنَـهَا مِن كُلِّ شَيْطَـنٍ رَّجِيمٍ إِلاَّ مَنِ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ مُّبِينٌ And indeed, We have put the big stars in the heaven and We beautified it for the beholders. And We have guarded it from every outcast Shaytan. Except him who steals the hearing then he is pursued by a clear flaming fire. (15:16-18) And Allah says here:

شیاطین اور کاہن ۔ آسمان دنیا کو دیکھنے والے کی نگاہوں میں جو زینت دی گئی ہے اس کا بیان فرمایا ۔ یہ اضافت کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے اور بدلیت کے ساتھ بھی معنی دونوں صورتوں میں ایک ہی ہیں ۔ اس کے ستاروں کی ، اس کے سورج کی روشنی زمین کو جگمگادیتی ہے ، جیسے اور آیت میں ہے ( وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيْرِ Ĉ۝ ) 67- الملك:5 ) ہم نے آسمان دنیا کو زینت دی ستاروں کے ساتھ ۔ اور انہیں شیطانوں کے لیے شیطانوں کے رجم کا ذریعہ بنایا اور ہم نے ان کے لیے آگ سے جلا دینے والے عذاب تیار کر رکھے ہیں ۔ اور آیت میں ہے ہم نے آسمان میں برج بنائے اور انہیں دیکھنے والوں کی آنکھوں میں کھب جانے والی چیز بنائی ۔ اور ہر شیطان رجیم سے اسے محفوظ رکھا جو کوئی کسی بات کو لے اڑنا چاہتا ہے وہیں ایک تیز شعلہ اس کی طرف اترتا ہے ۔ اور ہم نے آسمانوں کی حفاظت کی ہر سرکش شریر شیطان سے ، اس کا بس نہیں کہ فرشتوں کی باتیں سنے ، وہ جب یہ کرتا ہے تو ایک شعلہ لپکتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے ۔ یہ آسمانوں تک پہنچ ہی نہیں سکتے ۔ اللہ کی شریعت تقدیر کے امور کی کسی گفتگو کو وہ سن ہی نہیں سکتے ۔ اس بارے کی حدیثیں ہم نے آیت ( حَتّىٰٓ اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَاذَا ۙ قَالَ رَبُّكُمْ ۭ قَالُوا الْحَقَّ ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيْرُ 23؀ ) 34- سبأ:23 ) ، کی تفسیر میں بیان کردی ہیں ، جدھر سے بھی یہ آسمان پر چڑھنا چاہتے ہیں وہیں سے ان پر آتش بازی کی جاتی ہے ۔ انہیں ہنکانے پست و ذلیل کرنے روکنے اور نہ آنے دینے کے لیے یہ سزا بیان کی ہے اور آخرت کے دائمی عذاب ابھی باقی ہیں ، جو بڑے المناک درد ناک اور ہمیشگی والے ہوں گے ۔ ہاں کبھی کسی جن نے کوئی کلمہ کسی فرشتے کی زبان سے سن لیا اور اسے اس نے اپنے نیچے والے سے کہدیا اور اس نے اپنے نیچے والے سے وہیں اس کے پیچھے ایک شعلہ لپکتا ہے کبھی تو وہ دوسرے کو پہنچائے اس سے پہلے ہی شعلہ اسے جلا ڈالتا ہے کبھی وہ دوسرے کے کانوں تک پہنچا دیتا ہے ۔ یہی وہ باتیں ہیں جو کاہنوں کے کانوں تک شیاطین کے ذریعہ پہنچ جاتی ہیں ، ثاقب سے مراد سخت تیز بہت زیادہ روشنی والا ہے ، حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ شیاطین پہلے جاکر آسمانوں میں بیٹھتے تھے اور وہی سن لیتے تھے اس وقت ان پر تارے نہیں ٹوٹتے تھے یہ وہاں کی وحی سن کر زمین پر آکر ایک کی دس دس کر کے کاہنوں کے کانوں میں پھونکتے تھے ، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت ملی پھر شیطانوں کا آسمان پر جانا موقوف ہوا ، اب یہ جاتے ہیں تو ان پر آگ کے شعلے پھینکے جاتے ہیں اور انہیں جلادیا جاتا ہے ، انہوں نے اس نو پیدا امر کی خبر جب ابلیس ملعون کو دی تو اس نے کہا کہ کسی اہم نئے کام کی وجہ سے اس قدر احتیاط و حفاظت کی گئی ہے چنانچہ خبر رسانوں کی جماعتیں اس نے روئے زمین پر پھیلا دیں تو جو جماعت حجاز کی طرف گئی تھی اس نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نخلہ کی دونوں پہاڑیوں کے درمیان نماز ادا کر رہے ہیں اس نے جاکر ابلیس کو یہ خبر دی اس نے کہا بس یہی وجہ ہے جو تمہارا آسمانوں پر جانا موقوف ہوا ۔ اس کی پوری تحقیق اللہ نے چاہا تو آیت ( وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاۗءَ فَوَجَدْنٰهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا وَّشُهُبًا Ď۝ۙ ) 72- الجن:8 ) ، کی تفسیر میں آئے گی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤] آسمانوں کا وجود ایک ٹھوس حقیقت ہے :۔ نیلے آسمان پر چمکتے ہوئے ستارے یوں دکھائی دیتے ہیں جیسے اس میں ہیرے اور زمرد جڑے ہوئے ہیں۔ اور اس خوشنما منظر کو دیکھنے سے ہی انسان راحت محسوس کرتا ہے۔ موجودہ دور کے ہیئت دان کسی آسمان کے قائل نہیں۔ ان کے خیال کے مطابق آسمان صرف حد نگاہ کا نام ہے۔ جبکہ کتاب و سنت میں صراحت سے مذکور ہے کہ آسمان ایک ٹھوس حقیقت ہے اور ان کی تعداد سات ہے۔ آج کے ماہرین فلکیات کئی ستاروں کا زمین سے لاکھوں اور کروڑوں میل کا فاصلہ بتاتے ہیں اور یہ بھی بتاتے ہیں کہ ان ستاروں کی روشنی ذاتی نہیں ہوتی بلکہ انعکاس روشنی کے اصول کے تحت سورج کی روشنی سے ہی یہ منور اور روشن اور چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ بلکہ ہمارے چاند کی روشنی بھی سورج کی روشنی ہی کی مرہون منت ہے۔ اب قرآن یہ کہتا ہے کہ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ ان ماہرین کی تمام تر تحقیقات تاحال آسمان دنیا کے بھی نیچے ہیں۔ اور باقی آسمانوں کی تو اس کے بعد ہی باری آسکتی ہے۔ جو شاید انسان کی بساط سے باہر ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِزِيْنَةِۨ الْكَـوَاكِبِ :” الدُّنْيَا “ ” اَلْأَدْنٰی “ کی مؤنث ہے، سب سے قریب، یعنی جو آسمان ہماری زمین سے دکھائی دیتا ہے۔ ” زِیْنَۃٌ“ پر تنوین تنکیر کی ہے، اس لیے ترجمہ ” ایک انوکھی زینت “ کیا ہے۔ ” الْكَـوَاكِبِ “ ” زِیْنَۃٌ“ سے بدل ہے، ترجمے میں اسے ملحوظ رکھا گیا ہے۔ معلوم ہوا کہ ستاروں کی پیدائش کی بیشمار حکمتوں میں سے ایک آسمان دنیا کی آرائش و زیبائش ہے۔ اگر ستارے نہ ہوں تو نہ آسمان کا یہ حسن ہو نہ زمین پر روشنی ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے انھیں چراغ بھی فرمایا ہے : (وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيْحَ وَجَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّـيٰطِيْنِ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَاب السَّعِيْرِ ) [ الملک : ٥ ] ” اور بلاشبہ یقیناً ہم نے قریب کے آسمان کو چراغوں کے ساتھ زینت بخشی اور ہم نے انھیں شیطانوں کو مارنے کے آلے بنایا اور ہم نے ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the next verse, it was said: إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ (Verily, We have decorated the nearest sky with an adornment, the stars, - 37:6). Here, the expression السَّمَاءَ الدُّنْيَا : (as-sama&ud-dunya: the nearest sky) means the closest sky. The sense is that Allah Ta’ ala has made this sky closest to the world look good through the glittering presence of stars. Now, it is not necessary that these stars are located precisely within the sky. In fact, even if they are detached from it, even then, should they be looked at from the earth, they appear to be on the sky - and keep imparting a glow to it. What is being said here is no more but that this star spangled sky is an open proof of the fact that it did not come into existence on its own, instead, it has been created by its creator. And why a Being that can bring such enormous things into existence would need any partner and sharer in His creation? In addition to that, when even the disbelievers find it a settled matter that Allah Ta’ ala is the creator of all heavenly bodies, would it not be injustice that, despite His being the Creator and Master, someone or something else be taken as the object of worship? As for the problem of stars being part of the sky or being separate from it in the light of the Qur&an as well as that of the coherence of astronomy with the noble Qur&an, these have been taken up in detail in the commentary on Surah al-Hijr (Ma’ ariful-Qur an, Volume V, Verses 15:16, page 302)

( آیت) انا زینا السماء الدنیا بزینة الکواکب، اس میں السماء الدنیا سے مراد نزدیک ترین آسمان ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے اس نزدیک والے آسمان کو ستاروں کے ذریعے زینت بخشی ہے، اب یہ کوئی ضروری نہیں کہ یہ ستارے ٹھیک آسمان کے اندر ہوں، بلکہ اگر اس سے جدا ہوں تب بھی زمین سے دیکھا جائے تو وہ آسمان پر ہی معلوم ہوتے ہیں، اور ان کی وجہ سے آسمان جگمگاتا نظر آتا ہے۔ بتلانا صرف اس قدر ہے کہ یہ تاروں بھرا آسمان اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خود بخود وجود میں نہیں آ گیا بلکہ اسے پیدا کرنے والے نے پیدا کیا ہے، اور جو ذات اتنی عظیم الشان چیزوں کو وجود میں لا سکتی ہے اسے کسی شریک اور ساجھی کی کیا ضرورت ہے ؟ نیز جب یہ بات مشرکین کے نزدیک بھی طے شدہ ہے کہ ان تمام فلکی اجسام کا خالق اللہ تعالیٰ ہے تو یہ بڑے ظلم کی بات ہے کہ خالق ومالک تو وہ ہو اور عبادت کسی اور کی کی جائے ؟ رہا یہ مسئلہ کہ ستارے قرآن کی رو سے آسمان میں جڑے ہوئے ہیں یا اس سے الگ ہیں ؟ نیز قرآن کریم کا علم ہیئت کے ساتھ کیا ربط ہے ؟ اس موضوع پر مفصل بحث سورة حجر میں گزر چکی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا بِزِيْنَۃِۨ الْكَـوَاكِبِ۝ ٦ۙ زين الزِّينَةُ الحقیقيّة : ما لا يشين الإنسان في شيء من أحواله لا في الدنیا، ولا في الآخرة، فأمّا ما يزينه في حالة دون حالة فهو من وجه شين، ( زی ن ) الزینہ زینت حقیقی ہوتی ہے جو انسان کے لئے کسی حالت میں بھی معیوب نہ ہو یعنی نہ دنیا میں اور نہ ہی عقبی ٰ میں اور وہ چیز جو ایک حیثیت سی موجب زینت ہو لیکن دوسری حیثیت سے موجب زینت نہ ہو وہ زینت حقیقی نہیں ہوتی بلکہ اسے صرف ایک پہلو کے اعتبار سے زینت کہہ سکتے ہیں دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ «1» ، وتارة عن الأرذل فيقابل بالخیر، نحو : أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] ، دنا اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا ہ ۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ كب الْكَبُّ : إسقاط الشیء علی وجهه . قال عزّ وجل : فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ [ النمل/ 90] . والإِكْبَابُ : جعل وجهه مَكْبُوباً علی العمل . قال تعالی: أَفَمَنْ يَمْشِي مُكِبًّا عَلى وَجْهِهِ أَهْدى[ الملک/ 22] والکَبْكَبَةُ : تدهور الشیء في هوّة . قال : فَكُبْكِبُوا فِيها هُمْ وَالْغاوُونَ [ الشعراء/ 94] . يقال كَبَّ وكَبْكَبَ ، نحو : كفّ وكفكف، وصرّ الرّيح وصرصر . والکَوَاكِبُ : النّجوم البادية، ولا يقال لها كواکب إلّا إذا بدت . قال تعالی: فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأى كَوْكَباً [ الأنعام/ 76] ، وقال : كَأَنَّها كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ [ النور/ 35] ، إِنَّا زَيَّنَّا السَّماءَ الدُّنْيا بِزِينَةٍ الْكَواكِبِ [ الصافات/ 6] ، وَإِذَا الْكَواكِبُ انْتَثَرَتْ [ الانفطار/ 2] ويقال : ذهبوا تحت کلّ كوكب : إذا تفرّقوا، وكَوْكَبُ العسکرِ : ما يلمع فيها من الحدید . ( ک ب ب ) الکب ( ن ) کے معنی کسی کو منہ کے بل گرانے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : فَكُبَّتْ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ [ النمل/ 90] تو ایسے لوگ اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے ۔ الاکباب ۔ کسی چیز پر منہ کے بل گرجانا ۔ ( اور کنایہ ازہمہ تن مشغول شدن درکا ر ے ) اسی سے قرآن میں ہے : أَفَمَنْ يَمْشِي مُكِبًّا عَلى وَجْهِهِ أَهْدى[ الملک/ 22] بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گرگر پڑتا ہو ۔ وہ سیدھے رستے پر ہے ۔ یعنی جو غلط روش پر چلتا ہے ۔ الکبکبۃ کسی چیز کو اوپر سے لڑھا کر گڑھے میں پھینک دینا۔ قرآن میں ہے : فَكُبْكِبُوا فِيها هُمْ وَالْغاوُونَ [ الشعراء/ 94] تو وہ اور گمراہ ( یعنی بت اور بت پرست ) اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے ۔ کب وکبکب ( ثلاثی درباعی ، دونوں طرح آتا ہے مثل ۔ کف وکفکف وصرالریح وصر صر الکواکب ظاہر ہونے والے ستارے ، ستاروں کو کواکب اسی وقت کہاجاتا ۔۔۔ جب نمودار اور ظاہر ہوں ۔ قرآن میں ہے : فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأى كَوْكَباً [ الأنعام/ 76]( یعنی ) جب رات نے ان کو ( پردہ تاریکی سے ) ڈھانپ لیا ( تو آسمان میں ) ایک ستارہ نظر پڑا ۔ كَأَنَّها كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ [ النور/ 35] گویا وہ موتی کا سا چمکتا ہوا تارا ہے ۔ إِنَّا زَيَّنَّا السَّماءَ الدُّنْيا بِزِينَةٍ الْكَواكِبِ [ الصافات/ 6] بیشک ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کی زینت س مزین کیا ۔ وَإِذَا الْكَواكِبُ انْتَثَرَتْ [ الانفطار/ 2] اور جب ( آسمان کے ) ستارے جھڑ پڑیں گے ۔ محاورہ ہے : ذھبوا تحت کل کوکب وہ منتشر ہوگئے ۔ کوکب العسکر لشکر میں اسلہ کی چمک

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦۔ ٧) ار ہم ہی نے رونق دی ہے اس سے پہلے آسمان کو ایک عجیب آرئش یعنی ستاروں کے ساتھ اور ان ہی ستاروں کے ساتھ اس آسمان کی حفاظت بھی کی ہے ہر شریر شیطان سے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦{ اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآئَ الدُّنْیَا بِزِیْنَۃِ نِ الْکَوَاکِبِ } ” ہم نے مزین کردیا ہے آسمانِ دنیا کو ستاروں کی زیبائش سے۔ “ السَّمَائَ الدُّنْیَا مرکب توصیفی ہے ‘ یعنی سب سے قریب والا آسمان۔ دَنَا یَدْنُو کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور اسی سے ادنٰیہے یعنی ” قریب ترین “ جبکہ ” دُنْیَا “ کا لفظ اس کا مونث ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

5 "Lower heaven" : The nearer heaven which can be seen with the naked eye, without the help of a telescope. The worlds beyond which can be seen through the telescopes of different powers, and the worlds which have not so far been observed through any moans, are the distant heavens. In this connection, one should also note that "sama " is not something definite and determined, but man generally has been using this word and its other synonyms for the heavens since the earliest times.

سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :5 آسمان دنیا سے مراد قریب کا آسمان ہے ، جس کا مشاہدہ کسی دوربین کی مدد کے بغیر ہم برہنہ آنکھ سے کرتے ہیں ۔ اس کے آگے جو عالم مختلف طاقتوں کی دوربینوں سے نظر آتے ہیں ، اور جن عالَموں تک ابھی ہمارے وسائل مشاہدہ کی رسائی نہیں ہوئی ہے ، وہ سب دور کے آسمان ہیں ۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی ملحوظ خاطر رہے کہ سماء کسی متعین چیز کا نام نہیں ہے بلکہ قدیم ترین زمانے سے آج تک انسان بالعموم یہ لفظ عالَمِ بالا کے لیے استعمال کرتا چلا آ رہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦۔ ١٠۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی یہ نشانی جتلائی ہے کہ اس نے آسمان میں تارے پیدا کرکے آسمان کی رونق بڑھائی پھر فرمایا چوری سے شیاطین آسمان پر کی کچھ باتیں سننے کو جو آجاتے ہیں۔ تو ان ہی تاروں میں سے آگ کے شعلے لے کر اللہ کے فرشتے ان شیاطینوں پر آگ کے انگارے برساتے ہیں تاکہ وہ شیاطین آسمان پر کی باتیں نہ سننے پاویں۔ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عائشہ (رض) سے روایت ٢ ؎ ہے کہ ایک دن رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے روبرو کاہن لوگوں کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا کہ کاہن لوگ جھوٹے ہیں بعضے صحابہ نے عرض کیا کہ کاہنوں کی بعضی بعضی بات تو سچ نکلتی ہے آپ نے فرمایا کہ کبھی شیطان آسمان کی باتوں میں سے کوئی بات جو چرا لاتا ہے۔ وہ سچی نکل آتی ہے ورنہ اس ایک سچی بات کے ساتھ سینکڑوں جھوٹی باتیں ملا کر شیاطین کاہن لوگوں سے کہہ دیتے ہیں۔ اسلام سے پہلے کچھ لوگ ایسے تھے کہ مشرکوں کو کچھ آگے کی باتیں بتلا کر کمائی کرتے تھے ان لوگوں کو کاہن کہتے تھے۔ یہ کاہن لوگ شیاطین کے ناموں کے نذر نیاز کیا کرتے تھے اس نذر و نیاز کے لالچ سے شیاطین آسمان پر کی باتیں چوری سے سن آتے اور کاہنوں سے کہہ دیا کرتے تھے۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں جو دخل ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ غیب کی باتیں چورانے والے شیاطینوں کے پیچھے آگ کے انگارے لگ جاتے ہیں۔ لیکن اس پر بھی بچ بچا کر کوئی شیطان آسمان پر کی کبھی ایک آدھی بات سن آتا تھا۔ جس کو کاہنوں تک پہنچا دیتا۔ ترمذی نسائی مسند امام احمد وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) سے صحیح روایت ٣ ؎ ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن شریف کے نازل ہونے کے زمانہ میں آسمان کی خبروں کے روکنے کا انتظام زیادہ ہوگیا تھا۔ تاکہ قرآن شریف کا کوئی مضمون اللہ کے رسول پر نازل ہونے سے پہلے چوری کے طور پر کاہنوں تک نہ پہنچ جائے صحیح ٤ ؎ بخاری کے حوالہ سے قتادہ کا قول ایک جگہ گزر چکا ہے۔ کہ تارے اللہ تعالیٰ نے تین کاموں کے لئے پیدا کئے ہیں۔ ایک تو آسمان کی رونق دوسرے ان تاروں میں سے شعلے لے کر آسمان کی باتیں سننے والے شیاطینوں پر اللہ کے فرشتے انگارے برساتے ہیں۔ تیسرے تاروں کے حساب سے مسافر لوگ راستہ کا حال معلوم کرتے ہیں۔ اس کے سوا تاروں میں جس کسی نے اور کوئی تاثیر خیال کی وہ غلطی پر ہے۔ قدیمی فلسفی اور نحوی لوگ تاروں میں ان تین باتوں کے سوا جن تاثیرات کے قائل ہیں۔ ان میں اعتقاد کا غلط ہونا قتادہ کے اس قول سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ (٢ ؎ صحیح بخاری باب الکہانۃ ص ٨٥٧ ج ٢) (٣ ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة ص ١٩٠ ج ٢) (٤ ؎ صحیح بخاری باب فی النجوم ص ١٥٤ ج ١)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(37:6) زینا۔ ماضی جمع متکلم تزیین (تفعیل) مصدر ہم نے زینت دی ۔ ہم نے سنوارا۔ ہم نے رونق دی۔ السماء الدنیا۔ موصوف وصفت مل کر مفعول ہے زینا کا نزدیک کا آسمان یعنی وہ آسمان جو بہ نسبت دوسرے آسمانوں کے زیادہ قریب ہے۔ دنیا ادنی سے اسم تفضیل کا صیغہ واحد مؤنث ہے ! بزینۃ ن الکواکب، نون قطنی ہے الکواکب بدل ہے زینۃ سے اگر اضافت سے پڑھا جائے تو زینۃ الکواکب اضافت بیانیہ ہے۔ ہم نے آسمان دنیا کو سجایا ہے زینت کے ساتھ یعنی ستاروں سے یا ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں کے سنگھار سے سجایا ہے ! (یہاں ایک حسی اور بدیہی امر کی طرف اشارہ ہے۔ علم الافلاک کی یہاں کوئی بحث نہیں ہے بادی المنظر میں نیلے آسمان کے پس منظر میں چمکتے ہوئے ستارے وجہ تزیین و آرائش ہی معلوم ہوتے ہیں۔ فکان اجرام النجوم لوامعا۔ درر نثرن علی بساط ازرق (اجرام فلکی جھلملاتے ہوئے موتی ہیں جو آسمان کی نیلی بساط پر بکھرے ہوئے ہیں) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جس رب نے آسمانوں کو بنایا ہے اسی نے پہلے آسمان کو ستاروں سے روشن فرمایا ہے اور اس کی حفاظت کا بندوبست بھی کیا ہے۔ قرآن مجید نے یہ بات کئی مقامات پر بیان فرمائی ہے کہ آسمان دنیا یعنی پہلا آسمان جو لوگوں کو نظر آتا ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ نے ستاروں سے مزّین فرمایا ہے۔ ستاروں کے دو فائدے اور بھی ذکر فرمائے ہیں۔ ان سے لوگ راستوں کی راہنمائی حاصل کرتے ہیں اور انہی ستاروں سے آسمان دنیا کی حفاظت کا بندو بست کیا گیا ہے۔ کیونکہ شیاطین آسمان دنیا کے دروازوں کے قریب جا کر ملائکہ کی گفتگو سننا چاہتے ہیں تو ستارے شیاطین پر انگارے بن کر بر ستے ہیں اس طرح شیاطین پر مستقل طور پر عذاب مسلّط کردیا گیا ہے۔ اس بندوبست سے پہلے شیاطین آسمان کے قریب جا کر ملائکہ کی کچھ نہ کچھ باتیں سن کر کاہنوں، نجومیوں اور اس قسم کے لوگوں کے دلوں میں جھوٹ، سچ ملا کر کوئی نہ کوئی بات القا کرتے تھے۔ جسے آٹھویں پارے میں یوں بیان کیا گیا ہے۔ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل اس جھوٹ کی طرف مائل ہوں اور وہ اسے پسند کریں اور تاکہ وہ برائیاں کریں جو یہ کررہے ہیں۔ “ (الانعام : ١١٣) اسی بات کو اہل مکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر چسپاں کرتے اور کہتے تھے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس فرشتہ نہیں بلکہ جنات آتے ہیں جو پہلے لوگوں کے واقعات سنانے کے ساتھ اسے مزید باتیں بتاتے ہیں۔ اس الزام کی یہاں خاص انداز میں تردید کی گئی ہے۔ انیسویں پارے میں کھلے الفاظ میں وضاحت فرمائی۔ ” کیا میں تمہیں بتلاؤں کہ شیاطین کن لوگوں پر نازل ہوتے ہیں وہ ہر ایک جھوٹے اور بد کردار پر اترتے ہیں اور سنی سنائی باتیں پہنچاتے ہیں۔ “ (الشعراء : ٢٢١ تا ٢٢٣) ستاروں کے بارے میں کیا عقیدہ ہونا چاہیے : ” حضرت خالد جہنی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم (رض) نے حدیبیہ مقام پر ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ رات کو ہونے والی بارش کے اثرات فضا میں نمایاں تھے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور صحابہ سے پوچھا کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے رب نے کیا ارشاد فرمایا ہے۔ انہوں نے جواب دیا اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کچھ بندوں نے ایمان کی حالت میں صبح کی اور کچھ نے کفر کی حالت میں۔ جس نے کہا اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی وہ مجھ پر ایمان لایا اور اس نے ستاروں کا انکار کیا اور جس نے کہا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی اس نے میرا انکار کیا اور ستاروں پر ایمان لایا۔ “ [ رواہ البخاری : باب یَسْتَقْبِلُ الإِمَام النَّاسَ إِذَا سَلَّمَ ] تفسیر بالقرآن ستاروں کا بیان اور ان کے فوائد : ١۔ وہ ذات جس نے ستاروں کو اندھیروں میں تمہاری رہنمائی کے لیے پیدا فرمایا۔ (الانعام : ٩٧) ٢۔ لوگ ستاروں کی علامات سے راہ پاتے ہیں۔ (النحل : ١٦) ٣۔ چاند، سورج اور ستارے اللہ کے حکم کے پابند ہیں۔ (الاعراف : ٥٤) ٤۔ ہم نے آسمان میں برج بنائے اور دیکھنے والوں کے لیے انھیں خوبصورت بنایا۔ (الحجر : ١٦) ٥۔ بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے۔ (الفرقان : ٦١) ٦۔ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے خوبصورت بنایا ہے۔ (الصّٰفٰت : ٦) ٧۔ ہم نے آسمان دنیا کو ستاروں سے مزین کیا اور شیطانوں سے محفوظ فرمایا۔ (حٰم السجدۃ : ١٢) ٨۔ کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نگاہ نہیں کی کہ ہم نے اس کو کیسے بنایا اور سجایا ہے۔ (ق : ٦) ٩۔ جِنّات نے کہا کہ ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو اسے مضبوط چوکیداروں اور انگاروں سے بھرا ہو اپایا۔ (الجن : ٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

ربنا زینا السمآء۔۔۔۔ الخطفۃ فاتبعہ شھاب ثاقب (6 –۔۔ سورت کے آغاز میں ملائکہ کے بارے میں عربوں کے غلط خیالات پر بحث کی گئی تھی ، یہاں شیاطین کے بارے میں ان کے غلط خیالات کو لیا جاتا ہے۔ عربوں کئ یہ خیالات تھے کہ اللہ اور جنوں کے درمیان رشتہ داری ہے۔ بعض عرب محض اس خیال سے شیاطین کی پوجا کرتے تھے کہ شیاطین کو ملکوت السموات کی بعض غیوب کا علم ہوتا ہے۔ وہ ملاء اعلیٰ سے وابستہ ہوتے ہیں اور یوں نفع و نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ زمین ، آسمان اور مشرقوں کے ذکر کے بعد ، چاہے ان سے مراد ستاروں کے مشرق ہوں ، زمین کے اوپر جاری مشرق ہوں ، یا دونوں مشرق ہوں یا ان سے مراد نور اور روشنی ہو ، بہرحال اب یہاں کواکب کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ انا زینا السماء الدنیا بزینۃ الکواکب (37: 6) ” ہم نے آسمان دنیا کو تاروں سے آراستہ کیا ہے “۔ صرف ایک نظر ہی سے یہ زینت دکھائی دیتی ہے۔ چاندنی رات میں تارے اور کواکب کیا نظارہ پیش کرتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ تخلیق کائنات میں جمال ایک اہم عنصر ہے۔ جس طرح اللہ کی تخلیق غوروفکر کے بعد انوکھی معلوم ہوتی ہے۔ اسی طرح خوبصورت بھی معلوم ہوتی ہے۔ جمال اس کائنات کے نقشے میں کوئی عارضی رنگ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک حقیقی عنصر ہے۔ تخلیق کائنات میں دو چیزیں بنیادی مواد ہیں۔ ایک کمال درجے کا منصوبہ اور دوسرا نہایت ہی خوبصورت نقوش فطرت۔ یہ دونوں عنصر برابر اور مقصود بالذات ہیں۔ اور اس کائنات میں کمال و جمال دونوں اپنا اپنا کام کرتے ہیں۔ چاندنی رات میں جب انسان تاروں بھرے آسمان کو دیکھتا ہے تو وہ اس دنیا کے خوبصورت ترین منظر کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ یہ منظر اس قدر خوبصورت ہوتا ہے کہ انسان دیکھتا چلا جائے ، نظریں تھکتی نہیں اور دل ملول نہیں ہوتا۔ ہر ستارہ ضوبار ہوتا ہے اور چمکتا ہے۔ ہر سیارہ اپنا نور بکھیر رہا ہوتا ہے۔ انسان محسوس کر رہا ہے کہ یہ کائنات کی محبت بھری آنکھیں ہیں جو نظر چرا کے دیکھ رہی ہیں اور جب انسان ان پر نطر ڈالتا ہے تو یہ آنکھیں بند ہوجاتی ہیں ، چھپ جاتی ہیں اور جب آپ ان سے نظر ہٹاتے ہیں تو یہ آنکھیں پھر چمک اٹھتی ہیں اور اپنے منظور نطر کی تلاش میں رہتی ہیں۔ ہر رات ان آنکھوں کا موقف مختلف ہوتا ہے اور منزل جدا ہوتی ہے یہ بھی انسان کے لیے ایک ذہبی اور نفسیاتی خوارک ہے اور اسے جس قدر بھی کوئی کھائے سیر نہیں ہوتا اور نہ ملول ہوتا ہے۔ اگلی آیت میں بتایا جاتا ہے کہ ان کواکب کا ایک دوسرا فریضہ بھی ہے ۔ ان میں سے بعض شہاب ثاقب ہوتے ہیں اور یہ ان شیاطین پر بمباری کرتے ہیں جو ملاء اعلیٰ کے قریب جانے کی سعی کرتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد ستاروں کا تذکرہ فرمایا (اِِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآء الدُّنْیَا بِزِیْنَۃٍ نِ الْکَوَاکِبِ ) (بلاشبہ ہم نے قریب والے آسمان کو ایک خاص زینت کے ساتھ مزین کیا یعنی ستاروں کے ذریعے اسے زینت دی)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

3:۔ انا زینا الخ :۔ یہ جنات کا حال ہے کہ جب وہ ملا اعلی کی طرف چوری چھپے کوئی بات سننے جاتے ہیں تو ہر طرف سے آگ کے شعلے ان کا پیچھا کرتے اور انہیں واپس دھکیل دیتے ہیں اور شیاطین جن کے لیے دنیا کے اس عذاب کے علاوہ آخرت میں بھی عذاب لازم ہوگا تو ایسے راندہ بارداہ خداوندی کسی طرح شفیع غالب نہیں ہوسکتے۔ انا زینا السماء الدنیا الخ، ہم نے سب سے نچلے آسمان کو ستاروں کی زینت سے آراستہ اور مزین کردیا۔ اہل ہیئت کی تحقیق یہ ہے کہ سبعہ سیارہ کے علاوہ باقی تمام ستارے (ثوابت) ساتوں آسمان سے اوپر آٹھویں آسمان (کرسی) میں نصب ہیں۔ اگرچہ اس دعوی پر کوئی قطعی دلیل موجود نہیں، لیکن اگر اسے صحیح بھی مان لیا جائے تو ستاروں کا پہلے آسمان کے لیے زینت و آرائش ہونا اپنی جگہ درست ہے۔ ستارے خواہ کہیں ہوں لیکن دیکھنے میں تو پہلا آسمان ہی ان سے آراستہ نظر آتا ہے۔ کیونکہ تمام آسمان شیشے کی مانند شفاف ہیں۔ وعلی فرض صحتہ لا یقدح فی الایۃ لانہ یکفی لصحتہ کون السماء الدنیا مزینۃ بالکواکب کو نہا کذلک فی رای العین (روح ج 23 ص 68) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(6) ہم نے آسمان دنیا یعنی ورلے آسمان کو ایک عجیب آرائش کے ساتھ کہ وہ تارے میں آراستہ کیا ہے اور تاروں کی رونق کے ساتھ اس طرف کے آسمان کو رونق دی۔