Surat us Saaffaat
Surah: 37
Verse: 68
سورة الصافات
ثُمَّ اِنَّ مَرۡجِعَہُمۡ لَا۠ اِلَی الۡجَحِیۡمِ ﴿۶۸﴾
Then indeed, their return will be to the Hellfire.
پھر ان سب کا لوٹنا جہنم کی ( آگ کے ڈھیرکی ) طرف ہوگا ۔
ثُمَّ اِنَّ مَرۡجِعَہُمۡ لَا۠ اِلَی الۡجَحِیۡمِ ﴿۶۸﴾
Then indeed, their return will be to the Hellfire.
پھر ان سب کا لوٹنا جہنم کی ( آگ کے ڈھیرکی ) طرف ہوگا ۔
Then thereafter, verily, their return is to the flaming fire of Hell. means, after that interval, they will be sent back to the burning fire, searing heat and scorching flames, and they will rotate between the one and the other. This is like the Ayah, يَطُوفُونَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيمٍ ءَانٍ They will go between it (Hell) and the fierce boiling water! (55:44) Qatadah recited this Ayah when discussing this Ayah. This is a good interpretation. Abdullah bin Mas`ud recited it differently, with the meaning "Their return in the afternoon." Abdullah, may Allah be pleased with him, used to say: "By the One in Whose Hand is my soul, midday on the Day of Resurrection will not come until the people of Paradise will be in Paradise and the people of Hell will be in Hell." Then he recited: أَصْحَـبُ الْجَنَّةِ يَوْمَيِذٍ خَيْرٌ مُّسْتَقَرّاً وَأَحْسَنُ مَقِيلً The dwellers of Paradise will, on that Day, have the best abode, and have the fairest of places for repose. (25:24) Allah's saying; إِنَّهُمْ أَلْفَوْا ابَاءهُمْ ضَالِّينَ
68۔ 1 یعنی زقوم کے کھانے اور گرم پانی کے پینے کے بعد انہیں دوبارہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
[٤١] اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخی جب بھوک سے بےتاب ہوجائیں گے تو انہیں جہنم کے اس علاقہ کی طرف لے جایا جائے گا جہاں بہت سے تھوہر کے درخت اگے ہوئے ہوں گے۔ وہ بھوک کے مارے اسے کھانے کی کوشش کریں گے تو وہ حلق میں پھنس جائے گا۔ جس پر انہیں پانی کی طلب ہوگی تو پیپ ملا کھولتا پانی پینے کو دیا جائے گا اس طرح ان کی بھوک کا علاج کیا جاوے گا اس مہمانی کے بعد انہیں پھر ان کے اصل ٹھکانوں تک لے جایا جائے گا۔
ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ : اس سے معلوم ہوا کہ زقوم کا درخت اور کھولتے پانی کے چشمے جہنم کے کسی خاص حصے میں ہوں گے، جب انھیں بھوک یا پیاس لگے گی تو انھیں اس مقام کی طرف ہانک دیا جائے گا، یا وہ خود ہی چلے جائیں گے، پھر دوبارہ انھیں بھڑکتی ہوئی آگ میں اپنے ٹھکانے کی طرف واپس لایا جائے گا، جیسا کہ فرمایا : (يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍ ) [ الرحمٰن : ٤٤ ] ” وہ اس (جہنم) کے درمیان اور کھولتے ہوئے سخت گرم پانی کے درمیان چکر کاٹتے رہیں گے۔ “
ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَہُمْ لَا۟اِلَى الْجَحِيْمِ ٦٨ رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے
آیت ٦٨{ ثُمَّ اِنَّ مَرْجِعَہُمْ لَا اِلَی الْجَحِیْمِ } ” پھر ان کا لوٹ کر آنا ہے جہنم کی طرف۔ “ یعنی زقوم کا کھانا اور کھولتا ہوا مشروب تو ان لوگوں کو ابتدائی ” مہمان نوازی “ کے طور پر دیا جائے گا۔ اس کے بعد انہیں ان کے مستقل ٹھکانے یعنی جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ اعاذنا اللّٰہ من ذٰلک !
37 This shows that when the dwellers of Hell will be in distress due to hunger and thirst, they will be driven to the side where there would be the zaqqum trees and the springs of boiling water. When they will have eaten and drunk, they will be brought back to Hell.
سورة الصّٰٓفّٰت حاشیہ نمبر :37 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل دوزخ جب بھوک پیاس سے بے تاب ہونے لگیں گے تو انہیں اس مقام کی طرف ہانک دیا جائے گا جہاں زقوم کے درخت اور کھولتے ہوئے پانی کے چشمے ہوں گے ۔ پھر جب وہ وہاں سے کھا پی کر فارغ ہو جائیں گے تو انہیں دوزخ کی طرف لایا جائے گا ۔
13: یعنی یہ عذاب بھگتنے کے بعد بھی وہ دوزخ سے نہیں نکلیں گے، بلکہ دوزخ ہی میں رہیں گے۔
(37:68) مرجعہم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان کا مرجع۔ لوٹنا۔ رجوع کرنا۔ رجع یرجع (ضرب) سے مصدر میمی ہے۔ رجوع مرجعۃ۔ رجعی ورجعان بھی مصدر ہیں۔ لا الی الجحیم۔ لا میں لام کے بعد الف زائد ہے۔ پڑھا نہیں جاتا۔ یہ قرآن مجید میں کئی جگہ اس صورت میں آیا ہے مثلاً ۔ لا اوضعوا (9:47) قواریرا (76:16) وغیرہ۔ لا الی الجحیم۔ جہنم کی طرف۔ فائدہ : 62 تا 68 آیات کی تشریح۔ جہنمیوں کو پہلے وسط جہنم میں لے جایا جائے گا۔ جہاں زقوم کا درخت اپنی بدصورتی ، بد ذائقی، زہریلی خاصیت کے ساتھ اگتا ہے وہاں بھوک کی شدت سے وہ پیٹ بھر کر کھائیں گے۔ پھر ان کو نہایت سخت گرم پانی کا محلول پلایا جائے یہ گرم پانی مقام جحیم سے باہر ہوگا :۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد خداوندی ہے :۔ یطوفون بینھا وبین حمیم ان (55:44) وہ دوزخ اور کھولتے ہوئے گرم پانی کے درمیان گھومتے پھریں گے۔ گرم پانی پلانے کے بعد ان کو لوٹا کر پھر جحیم میں لایا جائے گا۔ اور اسی طرح وہ چکر کاٹتے رہیں گے۔
ف 2 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زقوم کا درخت اور کھولتے پانی کے چشمے دوزخ کے کسی خاص علاقہ میں ہوں گے۔ جب ان کی بھوک یا پیاس لگے گی تو انہیں اس مقام کی طرف ہانک دیا جائے گا اور پھر دوزخ میں اپنے ٹھکانے کی طرف واپس لایا جائیگا
ثم ان ۔۔۔۔۔ الجحیم (37: 68) ” “۔ یوں اس منفرد منظر کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اور اس سورت کا پہلا سبق ختم ہوتا ہے۔ گویا یہ منظر ایک دیکھا ہوا منظر ہے۔
(ثُمَّ اِِنَّ مَرْجِعَہُمْ لاَ اِلَی الْجَحِیْمِ ) (پھر ان کا لوٹنا دوزخ ہی کی طرف ہوگا) زقوم کھانے اور گرم پانی پینے کے لیے جس جگہ جائیں گے وہ بھی دوزخ ہی میں ہوگی اور یہ چیزیں کھا پی کر بھی دوزخ میں ہی رہیں گے، اپنے ٹھکانے پر پہنچ جائیں گے۔ (قال صاحب الروح ای التی مقرھم من النار فانّ فی جھنّم مواضع اعدفی کل موضع منھا نوع من البلاء) (تفسیر روح المعانی کے مصنف (رح) فرماتے ہیں یعنی جہنم میں ان کے ٹھکانے کی طرف لوٹنا ہے کیونکہ جہنم میں کئی درجے ہیں ہر جگہ ایک الگ قسم کا عذاب ہے۔ ) زقوم کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ ہم نے اسے ظالموں کے لیے امتحان کی چیز بنایا ہے (یعنی موت کے بعد دوزخ میں داخل ہو کر اہل کفر بطور سزا کے زقوم کا درخت کھائیں گے وہاں اسے کھانا پڑے گا، اور دنیا میں اس کا ذکر آیا تو مذاق بنانے لگے جو ان کے لیے فتنہ یعنی امتحان کا سبب بن گیا کہ وہ اس کی خبر پر ایمان لاتے ہیں یا انکاری ہوتے ہیں۔ ) صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ کافروں نے جب یہ بات سنی تو کہنے لگے کہ تمہارے بیان کے مطابق تو دوزخ میں آگ ہی آگ ہے وہاں درخت کا کیا کام ؟ اور جب ابو جہل نے زقوم کے درخت کی بات سنی تو مذاق بناتے ہوئے کہنے لگا کہ ہم تو یہ جانتے ہیں کہ زقوم کھجور اور مسکہ کا نام ہے، وہاں جاکر بھی تو ہمارے مزے ہوں گے۔ یہ بات اس نے اپنے پاس سے بنائی۔ عربی لغت میں زقوم کا ترجمہ کھجور اور مسکہ نہیں ہے، اور یہ بات کہ آگ میں درخت کیسے زندہ رہے گا ؟ یہ بھی بیوقوفی کا سوال ہے، آگ تو اللہ کے حکم سے جلاتی ہے، اللہ تعالیٰ جس کو چاہے آگ میں زندہ اور ہرا بھرا رکھ سکتا ہے۔