Surat Suaad

Surah: 38

Verse: 45

سورة ص

وَ اذۡکُرۡ عِبٰدَنَاۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ اُولِی الۡاَیۡدِیۡ وَ الۡاَبۡصَارِ ﴿۴۵﴾

And remember Our servants, Abraham, Isaac and Jacob - those of strength and [religious] vision.

ہمارے بندوں ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب ( علیہم السلام ) کا بھی لوگوں سے ذکر کرو جو ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Chosen and the Best among the Prophets Allah tells us about the virtues of His servants the Messengers and His Prophets: وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إبْرَاهِيمَ وَإِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ أُوْلِي الاْاَيْدِي وَالاْاَبْصَارِ And remember Our servants, Ibrahim, Ishaq, and Ya`qub, Ulil-Aydi wal-Absar. meaning, righteous deeds, beneficial knowledge, strength in worship and insight. Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, said: أُوْلِي الاَْيْدِي (Ulil-Aydi) "Of great strength and worship; وَالاْاَبْصَارِ (wal-Absar) means, understanding of the religion." Qatadah and As-Suddi said, "They were given strength in worship and understanding of the religion." إِنَّا أَخْلَصْنَاهُم بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ

اللہ تعالیٰ اپنے عابد بندوں اور رسولوں کی فضیلتوں کو بیان فرما رہا ہے اور ان کے نام گنوا رہا ہے ابراہیم اسحاق اور یعقوب صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین اور فرماتا ہے کہ ان کے اعمال بہت بہتر تھے اور صحیح علم بھی ان میں تھا ۔ ساتھ ہی عبادت الٰہی میں قوی تھے اور قدرت کی طرف سے انہیں بصیرت عطا فرمائی گئی تھی ۔ دین میں سمجھدار تھے اطاعت اللہ میں قوی تھے حق کے دیکھنے والے تھے ۔ ان کے نزدیک دنیا کی کوئی اہمیت نہ تھی صرف آخرت کا ہی ہر وقت خیال بندھا رہتا تھا ۔ ہر عمل آخرت کے لئے ہی ہوتا تھا ۔ دنیا کی محبت سے وہ الگ تھے ، آخرت کے ذکر میں ہر وقت مشغول رہتے تھے ۔ وہ اعمال کرتے تھے جو جنت دلوائیں ، لوگوں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب دیتے تھے ۔ انہیں اللہ تعالیٰ بھی قیامت کے دن بہترین بدلے اور افضل مقامات عطا فرمائے گا ۔ یہ بزرگان دین اللہ کے چیدہ مخلص اور خاص الخاص بندے ہیں ۔ اسماعیل اور ذوالکفل صلوات و سلامہ علیہم اجمعین بھی پسندیدہ اور خاص بندوں میں تھے ۔ ان کے بیانات سورہ انبیاء میں گذر چکے ہیں اس لئے ہم نے یہاں بیان نہیں کئے ۔ ان فضائل کے بیان میں ان کے لئے نصیحت ہے جو پند و نصیحت حاصل کرنے کے لئے عادی ہیں اور یہ مطلب بھی ہے کہ یہ قرآن عظیم ذکر یعنی نصیحت ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

45۔ 1 یعنی عبادت الٰہی اور نصرت دین میں بڑے قوی اور دینی و علمی نصیرت میں ممتاز تھے بعض کہتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا خاص انعام و احسان ہوا یا یہ لوگوں پر احسان کرنے والے تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٢] یعنی یہ تینوں پیغمبر اپنی پوری قوت سے دین کی سربلندی کے لئے جدوجہد کرتے رہے اور معصیت کے کاموں سے بچتے رہے۔ نیز وہ اللہ تعالیٰ کی ہر سو بکھری ہوئی آیات میں اور اللہ تعالیٰ کے احکام میں غور و فکر کرتے اور بصیرت حاصل کرتے تھے وہ حقیقت شناس تھے۔ اندھوں کی طرح نہیں چلتے تھے۔ بلکہ آنکھیں کھول کر علم و معرفت کی روشنی میں ہدایت کا سیدھا راستہ دیکھتے ہوئے چلتے تھے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاذْكُرْ عِبٰدَنَآ اِبْرٰهِيْمَ وَاِسْحٰقَ : پہلے تین انبیاء کے تفصیلی ذکر کے بعد چند انبیاء کا اجمالی ذکر فرمایا۔ ” الایدی “ ” یَدٌ“ کی جمع ہے، جو عربی زبان میں نعمت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور قوت کے معنی میں بھی۔ اس لحاظ سے ان انبیاء کے ” اُولِي الْاَيْدِيْ “ (ہاتھوں والے) ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ عبادت کی اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی بڑی قوت رکھتے تھے اور یہ بھی کہ ان پر اللہ تعالیٰ کے بہت سے انعامات تھے۔ ” وَالْاَبْصَارِ “ (آنکھوں) کی تفسیر میں تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ اس سے مراد دینی بصیرت اور اللہ تعالیٰ کی معرفت ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary The expression: أُولِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ‌(translated as: men of strength and men of vision) literally means &owners or possessors of hands and eyes.& The sense is that they devoted their physical and intellectual energies in remaining obedient to Allah Ta’ ala. When this is said, a hint is being released to the fact that the real end use of human body parts is no other but that they are spent or utilized in obedience to the Divine commands, and the those parts of the body that are not utilized in it, their existence or non-existence remains equal.

خلاصہ تفسیر اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کو یاد کیجئے جو ہاتھوں (سے عام کرنے) والے اور آنکھوں (سے دیکھنے) والے تھے (یعنی ان میں قوت عملیہ بھی تھی اور قوت علمیہ بھی اور) ہم نے ان کو ایک خاص بات کے ساتھ مخصوص کیا تھا کہ وہ یاد آخرت کی ہے (چنانچہ یہ ظاہر ہے کہ انبیاء میں یہ صفت سب سے زیادہ تام اور کامل ہوتی ہے، اور شاید یہ جملہ اس لئے بڑھا دیا ہے کہ اہل غفلت کے کان ہوں کہ جب انبیاء اس فکر سے خالی نہ تھے تو ہم کس شمار میں ہیں) اور وہ (حضرات) ہمارے یہاں منتخب اور سب سے اچھے لوگوں میں سے ہیں (یعنی منتخب لوگوں میں بھی سب سے بڑھ کر، چناچہ ظاہر ہے کہ انبیاء، دوسرے اولیاء اور صلحا سے افضل ہوتے ہیں) اور اسماعیل اور الیسع اور ذوالکفل کو بھی یاد کیجئے اور یہ سب بھی سب سے اچھے لوگوں میں سے ہیں (آگے توحید اور آخرت اور رسالت کا کسی قدر مفصل بیان ہے) ایک نصیحت کا مضمون تو یہ ہوچکا (اس سے مراد انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات ہیں کہ ان واقعات میں کافروں کے لئے عقیدہ رسالت کی تبلیغ ہے، اور مومنوں کے لئے اخلاق جمیلہ اور اعمال فاضلہ کی تعلیم ہے) اور (دوسرا مضمون آخرت کی جزا و سزا کے متعلق اب شروع ہوتا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ) پرہیزگاروں کے لئے (آخرت میں) اچھا ٹھکانہ ہے، یعنی ہمیشہ رہنے کے باغات جن کے دروازے ان کے واسطے کھلے ہوئے ہوں گے (ظاہر مراد یہ ہے کہ پہلے سے کھلے ہوں گے) وہ ان باغوں میں تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے (اور) وہ وہاں (جنت کے خادموں سے) بہت سے میوے اور پینے کی چیزیں منگوائیں گے اور ان کے پاس نیچی نگاہ والیاں ہم عمر ہوں گی (مراد حوریں ہیں اے مسلمانو) یہ (جس کا اوپر ذکر ہوا) وہ (نعمت) ہے جس کا تم سے روز حساب آنے پر وعدہ کیا جاتا ہے، بیشک یہ ہماری عطا ہے، اس کا کہیں ختم ہی نہیں (یعنی دائمی اور ابدی نعمت ہے) یہ بات تو ہوچکی (جو نیک بخت پرہیزگاروں کے متعلق تھی) اور (آگے کافروں کے متعلق مضمون ہے، وہ یہ کہ) سرکشوں کے لئے (یعنی جو کفر میں دوسروں کے رہنما تھے ان کے لئے) برا ٹھکانا ہے، یعنی دوزخ، اس میں داخل ہوں گے، سو وہ بہت ہی بری جگہ ہے، یہ کھولتا ہوا پانی اور پیپ (موجود) ہے سو یہ لوگ اس کو چکھیں اور (اس کے علاوہ) اور بھی اس قسم کی (ناگوار اور موجب آزار) طرح طرح کی چیزیں (موجود) ہیں (اس کو بھی چکھیں، اور جو تابع تھے ان کے لئے بھی یہی چیزیں ہیں، گو تقدم و تاخر اور اشدیت اور شدت کا تفاوت ہو، باقی نفس عذاب میں سب شریک ہیں، چناچہ جب کافروں کے رہنما اول داخل جہنم ہو چکیں گے، پھر ان کے پیرو آئیں گے تو رہنما آپس میں کہیں گے کہ لو) یہ ایک جماعت اور آئی جو تمہارے ساتھ (عذاب میں شریک ہونے کے لئے جہنم میں) گھس رہے ہیں ان پر خدا کی مار یہ بھی دوزخ ہی میں آ رہے ہیں (یعنی کوئی ایسا آتا جو عذاب کا مستحق نہ ہوتا تو اس کے آنے کی خوشی بھی ہوتی اور اس کی آؤ بھگت بھی کرتے، یہ تو خود ہی جہنمی ہیں۔ ان سے کیا امید، اور ان کے آنے کی کیا خوشی اور کیا آؤ بھگت ؟ ) وہ (پیرو اپنے رہنماؤں سے) کہیں گے، بلکہ تمہارے ہی اوپر خدا کی مار (کیونکہ) تم ہی تو یہ (مصیبت) ہمارے آگے لائے (کیونکہ) تم ہی نے ہم کو بہکایا تھا) سو (جہنم) بہت ہی برا ٹھکانہ ہے (جو تمہاری بدولت ہمارے آگے آیا۔ اس کے بعد جب ان میں سے ہر شخص دوسرے پر الزام رکھنے لگے گا تو اس وقت یہ متبعین ان سے خطاب چھوڑ کر حق تعالیٰ سے) دعا کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار جو شخص اس (مصیبت) کو ہمارے آگے لایا ہو اس کو دوزخ میں دونا عذاب دیجؤ، اور وہ لوگ (یعنی متبعین یا سب دوزخی آپس میں) کہیں گے کہ کیا بات ہے ہم ان لوگوں کو (دوزخ میں) نہیں دیکھتے جن کو ہم برے لوگوں میں شمار کیا کرتے تھے (یعنی مسلمانوں کو بد راہ اور حقیر سمجھا کرتے تھے، وہ کیوں نظر نہیں آتے) کیا ہم نے (ناحق) ان کی ہنسی کر رکھی تھی (اور وہ اس قابل نہ تھے اور جہنم میں نہیں آئے) یا (یہ کہ جہنم میں موجود ہیں مگر) ان (کے دیکھنے) سے نگاہیں چکرا رہی ہیں (کہ ان پر نظر نہیں جمتی۔ مطلب یہ کہ عذاب کے ساتھ یہ ایک اور حسرت ہوگی کہ جن لوگوں کو ہم برا سمجھتے تھے وہ عذاب سے بچ گئے، اور) یہ بات یعنی دوزخیوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا بالکل سچی بات ہے (کہ ضرور ہو کر رہے گی) ۔ معارف ومسائل اُولِي الْاَيْدِيْ وَالْاَبْصَارِ ۔ اس کے لفظی معنی یہ ہیں کہ ” وہ ہاتھوں اور نگاہوں والے تھے “ مطلب یہ ہے کہ اپنی فکری اور عملی توانائیاں اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کرتے تھے۔ اس سے اس بات کی طرف اشارہ کردیا کہ اعضاء انسانی کا اصل مصرف یہ ہے کہ وہ اطاعت الٰہی میں خرچ ہوں، اور جو اعضاء اس میں خرچ نہ ہوں ان کا ہونا نہ ہونا برابر ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاذْكُرْ عِبٰدَنَآ اِبْرٰہِيْمَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ اُولِي الْاَيْدِيْ وَالْاَبْصَارِ۝ ٤٥ ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، ( ذک ر ) الذکر ۔ یہ کبھی تو اس ہیت نفسانیہ پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے علم کو محفوظ رکھتا ہے ۔ یہ قریبا حفظ کے ہم معنی ہے مگر حفظ کا لفظ احراز کے لحاظ سے بولا جاتا ہے اور ذکر کا لفظ استحضار کے لحاظ سے اور کبھی ، ، ذکر، ، کا لفظ دل یاز بان پر کسی چیز کے حاضر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس بنا پر بعض نے کہا ہے کہ ، ، ذکر ، ، دو قسم پر ہے ۔ ذکر قلبی اور ذکر لسانی ۔ پھر ان میں کسے ہر ایک دو قسم پر ہے لسیان کے بعد کسی چیز کو یاد کرنا یا بغیر نسیان کے کسی کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ہر قول کو ذکر کر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ ذکر لسانی کے بارے میں فرمایا۔ لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔ عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] ، عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] ، إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] ، كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] ، إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ، وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] ، وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ، فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65] . وعَبْدٌ للدّنيا وأعراضها، وهو المعتکف علی خدمتها ومراعاتها، وإيّاه قصد النّبي عليه الصلاة والسلام بقوله : «تعس عَبْدُ الدّرهمِ ، تعس عَبْدُ الدّينار» وعلی هذا النحو يصحّ أن يقال : ليس كلّ إنسان عَبْداً لله، فإنّ العَبْدَ علی هذا بمعنی العَابِدِ ، لکن العَبْدَ أبلغ من العابِدِ ، والناس کلّهم عِبَادُ اللہ بل الأشياء کلّها كذلك، لکن بعضها بالتّسخیر وبعضها بالاختیار، وجمع العَبْدِ الذي هو مُسترَقٌّ: عَبِيدٌ ، وقیل : عِبِدَّى وجمع العَبْدِ الذي هو العَابِدُ عِبَادٌ ، فالعَبِيدُ إذا أضيف إلى اللہ أعمّ من العِبَادِ. ولهذا قال : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] ، فنبّه أنه لا يظلم من يختصّ بِعِبَادَتِهِ ومن انتسب إلى غيره من الّذين تسمّوا بِعَبْدِ الشمس وعَبْدِ اللّات ونحو ذلك . ويقال : طریق مُعَبَّدٌ ، أي : مذلّل بالوطء، وبعیر مُعَبَّدٌ: مذلّل بالقطران، وعَبَّدتُ فلاناً : إذا ذلّلته، وإذا اتّخذته عَبْداً. قال تعالی: أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] . العبد بمعنی غلام کا لفظ چار معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1 ) العبد بمعنی غلام یعنی وہ انسان جس کی خریدنا اور فروخت کرنا شرعا جائز ہو چناچہ آیات کریمہ : ۔ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] اور غلام کے بدلے غلام عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے ۔ میں عبد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ( 2 ) العبد بالایجاد یعنی وہ بندے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اس معنی میں عبودیۃ اللہ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] تمام شخص جو آسمان اور زمین میں ہیں خدا کے روبرو بندے ہوکر آئیں گے ۔ میں اسی معنی کی طرح اشارہ ہے ۔ ( 3 ) عبد وہ ہے جو عبارت اور خدمت کی بدولت عبودیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اس لحاظ سے جن پر عبد کا لفظ بولا گیا ہے وہ دوقسم پر ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بن جاتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : ۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو ۔ إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] بیشک نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] جس نے اپنے بندے پر قرآن پاک میں نازل فرمایا : ۔ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] جس نے اپنی بندے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پر یہ کتاب نازل کی ۔ إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں ۔ كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] کہ میری بندے ہوجاؤ ۔ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔ وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ ۔ فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65]( وہاں ) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا ۔ ( 2 ) دوسرے اس کی پر ستش میں لگے رہتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف مائل رہتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی آنحضرت نے فرمایا ہے تعس عبد الدرھم تعس عبد الدینا ر ) درہم دینار کا بندہ ہلاک ہو ) عبد کے ان معانی کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا بندہ نہیں ہے یعنی بندہ مخلص نہیں ہے لہذا یہاں عبد کے معنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہیں لیکن عبد عابد سے زیادہ بلیغ ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں : ۔ کہ تمام لوگ اللہ کے ہیں یعنی اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے بلکہ تمام اشیاء کا یہی حکم ہے ۔ بعض بعض عبد بالتسخیر ہیں اور بعض عبد بالا اختیار اور جب عبد کا لفظ غلام کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی جمع عبید یا عبد آتی ہے اور جب عبد بمعنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہو تو اس کی جمع عباد آئے گی لہذا جب عبید کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ عباد سے زیادہ عام ہوگا یہی وجہ ہے کہ آیت : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے میں عبید سے ظلم کی نفی کر کے تنبیہ کی ہے وہ کسی بندے پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا خواہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہو اور خواہ عبدالشمس یا عبد اللات ہونے کا مدعی ہو ۔ ہموار راستہ ہموار راستہ جس پر لوگ آسانی سے چل سکیں ۔ بعیر معبد جس پر تار کول مل کر اسے خوب بد صورت کردیا گیا ہو عبدت فلان میں نے اسے مطیع کرلیا محکوم بنالیا قرآن میں ہے : ۔ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] کہ تم نے بنی اسرائیل کو محکوم بنا رکھا ہے ۔ آتینا وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] . [ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ يد الْيَدُ : الجارحة، أصله : وقوله : فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] ، ( ی د ی ) الید کے اصل معنی تو ہاتھ کے ہیں یہ اصل میں یدی ( ناقص یائی ) ہے کیونکہ اس کی جمع اید ویدی اور تثنیہ یدیان اور آیت کریمہ : ۔ فَرَدُّوا أَيْدِيَهُمْ فِي أَفْواهِهِمْ [إبراهيم/ 9] تو انہوں نے اپنے ہاتھ ان کے مونہوں پر رکھ دئے ۔ بصر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، نحو قوله تعالی: كَلَمْحِ الْبَصَرِ [ النحل/ 77] ، ووَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں جیسے فرمایا ؛کلمح البصر (54 ۔ 50) آنکھ کے جھپکنے کی طرح ۔ وَ إِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ [ الأحزاب/ 10] اور جب آنگھیں پھر گئیں ۔ نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق، یعقوب (علیہم السلام) کو یاد کیجیے جو عبادت الہی میں بہت طاقت والے اور دین میں بہت بصیرت والے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٥ { وَاذْکُرْ عِبٰدَنَآ اِبْرٰہِیْمَ وَاِسْحٰقَ وَیَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ } ” اور تذکرہ کیجیے ہمارے بندوں ابراہیم (علیہ السلام) ‘ اسحاق ( علیہ السلام) اور یعقوب ( علیہ السلام) کا ‘ جو قوت والے اور بصیرت والے تھے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

48 The actual words in the Text mean "Those who possessed the hands and the insights." The hand, as we have explained above, implies power and capability. To describe these Prophets as "men of great power and insight" means that they were practical men: they possessed great power to obey Allah and to abstain from sin, and they had made great efforts for raising the Word of Allah in the world. "Insight" does not mean eye-sight but the vision of the heart and mind. They could sec and recognize the Truth: they did not live like the blind in the world, but they walked the straight path of guidance, in the full light of knowledge, with open eyes. In these words, there is a subtle allusion to this also that the people who commit evil, and have gone astray, arc in fact, deprived of the hands as well as the eyes. He only, who works in the cause of Allah, possesses the hands, and he, who distinguishes between the light of the Truth and the darkness of falsehood, only possesses the eyes.

سورة صٓ حاشیہ نمبر :48 اصل الفاظ ہیں اُولِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ ( ہاتھوں والے اور نگاہوں والے ) ۔ ہاتھ سے مراد ، جیسا کہ ہم اس سے پہلے بیان کر چکے ہیں ، قوت و قدرت ہے ۔ اور ان انبیاء کو صاحب قوت و قدرت کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ نہایت با عمل لوگ تھے ، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور معصیتوں سے بچنے کی زبردست طاقت رکھتے تھے ، اور دنیا میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے کے لیے انہوں نے بڑی کوششیں کی تھیں ۔ نگاہ سے مراد آنکھوں کی بینائی نہیں بلکہ دل کی بصیرت ہے ۔ وہ حق ہیں اور حقیقت شناس لوگ تھے ۔ دنیا میں اندھوں کی طرح نہیں چلتے تھے بلکہ آنکھیں کھول کر علم و معرفت کی پوری روشنی میں ہدایت کا سیدھا راستہ دیکھتے ہوئے چلتے تھے ۔ ان الفاظ میں ایک لطیف اشارہ اس طرف بھی ہے کہ جو لوگ بد عمل اور گمراہ ہیں وہ درحقیقت ہاتھوں اور آنکھوں ، دونوں سے محروم ہیں ۔ ہاتھ والا حقیقت میں وہی ہے جو اللہ کی راہ میں کام کرے اور آنکھوں والا دراصل وہی ہے جو حق کی روشنی اور باطل کی تاریکی میں امتیاز کرے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٥۔ ٤٧۔ اوپر ایوب (علیہ السلام) کا قصہ اس لئے فرمایا تھا کہ اگر اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کے ساتھ مسلمان مشرکین مکہ کی ایذا دہی پر صبر کریں گے تو ان کا انجام بھی اچھا ہوگا۔ اسی مطلب کے لئے اب ابراہیم۔ ‘ اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کا نام یاد دلایا کہ ان کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے وقت پر لوگوں کی ہدایت اور عقبے کی نصیحت کے لئے چنا تھا۔ انہوں نے بھی دنیا میں بڑی بڑی مصیبتیں جھیلیں اور صبر کیا۔ اے رسول اللہ کے تم اور تمہارے ساتھ کے مسلمان صبر سے کام لیویں گے تو وقت مقررہ آنے پر ان مشرکوں کی ساری سرکشی خاک مل جاوے گی۔ اور جس چنی ہوئی بات کے لئے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم اور نسل ابراہیمی کو چھانٹا ہے وہ بات بھی اللہ کی وحدانیت کا پھیلانا اور شرک کا مٹانا ہے جس کا ظہور مکہ اور تمام جزیرہ عرب میں اللہ تعالیٰ کے ارادہ ازلی کے موافق جلد ہوجاوے گا اللہ سچا ہے اور اللہ کا وعدہ سچا ہے مشرکین مکہ جن بتوں کی حمایت میں اللہ کے رسول اور ان کے ساتھ کے مسلمانوں کو طرح طرح سے ایذا دیتے تھے آخر فتح کے وقت اللہ کے رسول نے لکڑیاں مار مار کر ان بتوں کو گرا دیا۔ اور کسی مشرک کو اللہ کے رسول کا ہاتھ پکڑنے کی جرأت نہ ہوئی۔ فتح مکہ کے وقت کا یہ قصہ صحیح بخاری ٢ ؎ کی عبد (رض) اللہ بن مسعود اور صحیح مسلم کی ابوہریرہ (رض) کی روایتوں کے حوالہ سے ایک جگہ گزر چکا ہے یہی روایتیں ان آیتوں کی گویا تفسیر ہیں کیونکہ آیتوں میں ابراہیم۔ ‘ اسحق۔ ‘ اور یعقوب (علیہ السلام) کا نام لیکر جس انجام کو اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا تھا۔ اس انجام کا ظہور ان حدیثوں سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے صحیح بخاری ١ ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث ایک جگہ سے گزر چکی جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی وحدانیت کا پھیلانا سب انبیا کے دین میں ہمیشہ سے رہا ہے۔ ہر زمانہ کی ضرورت کے لحاظ سے نماز روزہ کے احکام شریعت میں بدلتے رہتے ہیں۔ ابراہیم۔ ‘ اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کے ساتھ توحید کو چنی ہوئی بات جس کو فرمایا اس کا مطلب اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ جس بات کی نصیحت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) اور نسل ابراہیمی کو چھانٹا ہے وہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ پچھلے سب انبیا کی شریعتوں میں سے چنی ہوئی ایک بات ہے۔ ان آیتوں میں مشرکین مکہ کو ایک یہ تنبیہ بھی ہے۔ کہ یہ لوگ بنی اسماعیل میں ملت ابراہیمی پر اپنے آپ کو بتلاتے ہیں لیکن ابراہیم (علیہ السلام) اور نسل ابراہیمی کو جس چنی ہوئی بات کے لئے اللہ تعالیٰ نے منتخب کیا اس کے مٹانے کے یہ لوگ درپے ہیں۔ اس لئے ابراہیم (علیہ السلام) اور اسماعیل (علیہ السلام) دونوں کا طریقہ ان لوگوں کی بت پرستی کے طریقہ کے بالکل برخلاف ہے۔ اور عمرو بن لحی سے پہلے اس بت پرستی کے طریقہ کا نام و نشان تک مکہ میں نہیں تھا۔ یہ عمرو بن لحی وہی شخص ہے جس نے پہلے پہل ملت ابراہیمی کو بگاڑ کر مکہ میں بت پرستی پھیلائی ہے اس عمرو بن لحی کا پورا قصہ ایک جگہ گزر چکا ٢ ؎ ہے اولی الا ید والابصار اس کا مطلب عبد اللہ بن عباس کے قول کے موافق یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے بندوں میں تھے اس لئے ان کے ہاتھ پیروں کی عبادت ان کے دلوں کا نور ایمانی سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے موافق تھا۔ (٢ ؎ صحیح بخاری غزوۃ الفتح ص ٦١٤ ج ٢ و صحح ٥ مسلم باب فتح مکہ ص ١٠٣ ج ٢) (١ ؎ تفسیر ہذا جلد ٢ ص ١٠٣۔ ) (٢ ؎ تفسیرابن کثیر ص ١٩١ ج ٣ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(38:45) واذکر عبدنا ۔۔ الخ اس کا عطف واذکر عبد نا ایوب پر ہے۔ اور یاد کر ہمارے بندوں کو۔۔ ابراہیم واسحق و یعقوب : عبدنا کا عطف بیان ہے یا بدل ۔ اولی الایدی والابصار۔ ہاتھوں والے اور آنکھوں والے۔ الایدی القوۃ سے مجاز مرسل ہے۔ سبب کو ذکر کرکے مسبب مراد لیا گیا ہے (اکثر اعمال ہاتھوں ہی سے کئے جاتے ہیں اور مضبوط ہاتھ ہی قوت کا سبب بنتے ہیں) ابصار جمع بصر کی ہے بمعنی آنکھ لیکن یہاں مراد بصیرت لی گئی ہے کیونکہ آنکھیں ہی خدا شناسی کا بہترین ذریعہ ہے۔ مراد یہ ہے کہ یہ تینوں بندے اللہ کے خاص بندے اطاعت خداوندی میں مستعد اور طاقت ود اور دین و معرفت الٰہیہ میں صاحب بصیرت تھے یعنی عملی اور علمی قوتوں کے مالک تھے۔ اور اس کے برعکس جاہلوں کو اپاہج اور اندھا کہیں گے کہ اطاعت خداوندی میں لولے اور حقیقت کو دیکھنے میں کورے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 ید ( جمع ایدی) کا لفظ عربی زبان میں نعمت اور طاقت کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے ان انبیاء ( علیہ السلام) کے ہاتھوں والے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ عبادت کی بڑی طاقت رکھتے تھے یا ان پر اللہ تعالیٰ کے بہت سے انعامات تھے جن کے ذریعے وہ لوگوں پر احسان کیا کرتے تھے۔” آنکھوں “ کی تفسیر میں تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ ان سے مراد دینی بصیرت اور معرفت الٰہی ہے۔ ( شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 45 تا 64 :۔ اولی الایدی ( ہاتھوں والے ( طاقت ور) اولی الابصار (آنکھوں والے ( صاحب بصیرت لوگ) اخلصنا (ہم نے منتخب کیا ، ہم نے چن لیا) الاخیار ( خیر) ( انتہائی نیک لوگ) الدار (گھر) ماب (ٹھکانہ) مفتحۃ (کھولی گئی ، کھلی ہوئی) اتراب ( ہم عمر ( عورتیں) نفاد (ختم ہونے والا) المھاد (بستر ، ٹھکانہ) حمیم (گرم پانی ، کھولتا پانی) غساق (سڑی ہوئی بد بودار چیز) مقتحم (بےسوچے سمجھے بولنا) لا مرحبا (خوش خبری نہیں ہے) سخری (مذاق بنانا ، مذاق اڑانا) زاغت ( زیع) خطاء ہوگئی، بھٹک گئی) تشریح : آیت نمبر 45 تا 64 :۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کو دی گئی نعمتوں اور کفار و مشرکین کو دی جانے والی سزاؤں کا ذکر کرتے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کر کے فرمایا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ ان لوگوں کے سامنے حضرت ابراہیم خلیل اللہ ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا ذکر خیر کیجئے جو ہاتھوں اور آنکھوں والے تھے یعنی جنہیں اللہ تعالیٰ نے جسمانی قوت و طاقت اور فہم و فراست اور ذہنی بصیرت کی دولت سے مالا مال کیا تھا یہ نہایت اعلیٰ درجہ کے لوگ تھے۔ اللہ نے ان کو جو صلاحتیں اور عظمتیں عطاء کی تھیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نہ تو دنیا کی حقیر اور عارضی لذتوں کی طرف مائل تھے نہ وہ دنیا کی راحتوں کو زیادہ اہمیت دیتے تھے بلکہ ان کا ہر عمل ، کوشش اور جدوجہد اللہ کی رضا و خوشنودی اور ان کی ساری بھاگ دوڑ صرف آخرت کے اس گھر کی طرف تھی جس کی ہر نعمت ہمیشہ کے لئے ہوگی ۔ فرمایا کہ اسی طرح حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت الیسع (علیہ السلام) اور ذوالکفل (علیہ السلام) کا ذکر کیجئے جو سب کے سب اللہ کے منتخب بندے تھے جو ہر بات کو حقیقی نظر سے دیکھ کر فیصلے کیا کرتے تھے جو بالکل صحیح تھے۔ فرمایا کہ اللہ سے ڈرنے والے ایسے لوگوں کے لئے جنت کو بہترین ٹھکانہ بنایا گیا ہے ۔ کہ ایسی راحتوں سے بھر پور جنتیں ہوں گی جن کے دروازے ان کے لئے ہمیشہ کھلے رہیں گے ۔ وہ تکیہ لگائے بہترین مسہریوں پر بیٹھے ہوئے مشروبات اور طرح طرح کے مزیدار میوے اور پھلوں سے دل کو بہلا رہے ہوں گے ان کے چاروں طرف شرم حیاء کی پیکر نیچی نگاہیں رکھنے والی ہم عمر نہایت حسین و جمیل حوریں ہوں گی ۔ اس حساب والے دن ان کو ہر وہ چیز دی جائے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ یہ نعمتیں دنیا کی وقتی اور عارضی نعمتیں نہیں ہوگی جن کے ختم ہوجانے کا ڈر اور خوف لگا رہتا ہے بلکہ جو چیز بھی دی جائے گی وہ ہمیشہ کے لئے ہوگی جس میں کبھی کسی طرح کی کمی نہیں آئے گی ۔ نہ ان کو وہاں کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے۔ اس کے بر خلاف وہ لوگ جنہوں نے کفر و شرک اور گناہوں میں زندگی گزاری ہوگی ، جنہوں نے سر کشی ، ضد اور ہٹ دھرمی کرتے ہوئے انبیاء کرام کی تعلیمات کو جھٹلایا ہوگا ان کو جہنم جیسی بد ترین جگہ کی طرف دھکیل دیا جائے گا جس میں کھولتا ہوا گرم پانی اور لہو پیپ ان کی غذا ہوگی بلکہ اس جیسی بہت سے عذاب کی شکلیں ہوں گی جن میں انہیں جھونک دیا جائے گا ۔ جب یہ اہل جہنم دیکھیں گے کہ کچھ لوگوں کی جماعتیں جہنم کی طرف آرہی ہیں تو وہ ان کو پہچان کر کہیں گے کہ یہ تو یہاں بھی پہنچ گئے۔ اور وہ اوپر تلے گھستے ہی چلے آئیں گے۔ وہ آنے والوں کا استقبال کرنے کے بجائے ان پر لعنتیں بھیجتے ہوئے کہیں گے کہ تمہارا ستیا ناس ہوجائے تم نے دنیا میں ہمیں گمراہ کیا اور ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا ۔ آج ہمیں جو بھی عذاب دیا جا رہا ہے اس میں مبتلا کرنے والے تم لوگ ہو جنہوں نے ہمیں جہنم جیسی بد ترین جگہ تک پہنچا دیا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے الٰہی ! یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں غلط راستے پر ڈال دیا تھا ان کو جہنم کی دوگنی سزا دیجئے۔ قرآن کریم میں دوسرے مقامات پر فرمایا گیا ہے کہ جب وہ دوگنی سزا کا مطالبہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ جو لوگ راستے سے بھٹک گئے ہیں اور جنہوں نے بھٹکایا تھا دونوں کو برابر سزا ملے گی۔ اسی دوران انہیں ان اہل ایمان کا خیال آجائے گا جنہیں وہ دنیا میں ان کے ایمان اور عمل صالح کی وجہ سے گھٹیا اور حقیر شمار کر کے دن رات ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ کہیں گے کہ وہ کہاں ہیں ؟ بعد میں انہیں معلوم ہوگا کہ وہ تو جنت کی ابدی راحتوں میں مگن اور خوش ہیں اور اللہ نے ان کو ان کے نیک اعمال کا اجر عظیم عطاء فرمادیا ہے۔ اس طرح وہ کفار حسرتوں کے ساتھ ایک دوسرے سے لڑتے اور جھگڑتے رہیں گے۔ فرمایا کہ ان دونوں کافر گروہوں کا آپس میں لڑنا بر حق ہے اور ایسا ہی ہوگا اور اہل جنت ابدی راحتوں میں ہوں گے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ یعنی ان میں قوت عملیہ بھی تھی اور قوت علمیہ بھی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حضرت داؤد (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) اور حضرت ایوب (علیہ السلام) کے تذکرہ کے بعد ان کے جدّ امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) ، حضرت یعقوب (علیہ السلام) حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور کچھ دوسری شخصیات کا مختصر بیان۔ سورة ہود کی آیت ٧١ میں ذکر ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق کے ساتھ ہی پوتے یعقوب (علیہ السلام) کی خوشخبری دی۔ جس طرح یہ حضرات ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اسی طرح دیگر اوصاف حمیدہ کے ساتھ ان میں یکساں طور پر ایک خوبی بدرجہ اتم پائی جاتی تھی۔ وہ یہ تھی کہ یہ حضرات ہاتھوں اور آنکھوں والے یعنی صاحب قوت، سخی اور صاحب بصیرت تھے۔ یہ بات حقیقت ہونے کے ساتھ ہر زبان میں محاورہ کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہے کہ فلاں شخص آنکھیں اور ہاتھ رکھتا ہے۔ جس کا معنٰی ہے کہ یہ شخص ہوشیار، طاقتور اور فیاض ہے۔ جو کام کرنا چاہیے کرسکتا اور اسے اندھو وں کی طرح نہیں بلکہ سوچ، سمجھ کر کرتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ طاقت اور بصیرت رکھنے والا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ طاقت رکھنے والے لوگ فہم و بصیرت سے کورے ہوتے ہیں اور صاحب بصیرت لوگ قوت کے استعمال میں تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان شخصیات کو بصیرت کے ساتھ قوت فیصلہ بھی دی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ، حضرت اسحاق (علیہ السلام) حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دعوت دین کے لیے وسائل بھی دیئے اور بصیرت سے سرفراز بھی فرمایا۔ ان کی بصیرت کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ان کے کسی کام کے پیچھے دنیا کی غرض نہ تھی۔ وہ جو کام کرتے قیامت پر نظر رکھتے ہوئے کرتے جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے انہیں آخرت میں بھی پسند فرما لیا اور دنیا میں بھی وہ ” اللہ “ کے بہت ہی پسندیدہ اور نیک بندے تھے۔ ذالا ید کا مفہوم : ” حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویوں میں بعض نے آپ سے پوچھا کہ ہم میں سے کون سی بیوی آپ سے جنت میں پہلے ملے گی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس کے ہاتھ لمبے ہیں۔ چناچہ انہوں نے چھڑی کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو ناپنا شروع کیا تو سودہ (رض) کے ہاتھ سب سے لمبے تھے لیکن ہمیں بعد میں پتہ چلا کہ ہاتھ لمبے ہونے سے مراد زیادہ صدقہ دینا تھا۔ چناچہ ہم سے جو پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملیں وہ زینب (رض) تھی جو صدقہ و خیرات کرنے کو بہت پسند کرتی تھی۔ (بخاری) مسلم کی روایت میں ہے حضرت عائشہ (رض) نے بیان کیا رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت میں مجھے سب سے پہلے وہ بیوی ملے گی جس کے ہاتھ لمبے ہیں۔ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیویاں اندازہ لگاتی تھیں کہ کس کے ہاتھ لمبے ہیں چناچہ ہم میں سے زینب کے ہاتھ لمبے ثابت ہوئے اس لیے کہ وہ اپنے ہاتھوں کی کمائی صدقہ و خیرات کردیا کرتی تھیں۔ “ [ متفق علیہ : باب الانفاق وکراھیۃ الامساک ] مسائل ١۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) غیر معمولی اقتدار اور اختیارات رکھنے کے باوجود اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والے تھے۔ ٢۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) شدید بیماری اور سخت ترین آزمائشوں میں صابر رہے اور صرف اپنے رب سے فریاد کرتے رہے۔ ٣۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) نے نعمتیں چھن جانے کے وقت صبر کیا اور نعمتیں ملنے کے بعد شکر ادا کیا۔ ٤۔ حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت اسماعیل حضرت الیاس اور ذوالکفل اللہ تعالیٰ کے نیک بندے اور آخرت پر نظر رکھنے والے تھے۔ ٥۔ پرہیزگاروں کے لیے آخرت میں بہترین مقام ہوگا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 45 تا 48 یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چنے ہوئے نیک اشخاص اور حضرت سلیمان سے قبل تھے لیکن حضرت ایوب کے دور کے بارے میں ہمیں یقینی معلومات نہیں ہیں۔ ذوالکفل کے بارے میں بھی صحیح معلومات نہیں ہیں۔ ان کے بارے قرآن کریم میں صرف اشارات ہی پر اکتفاء کیا گیا ہے۔ نبی اسرائیل کے نبیوں میں سے ایک نبی کا نام عبرانی میں الشیع آتا ہے۔ یہی عربی میں السیع ہیں۔ اسی لئے ہم بھی ترجیح دیتے ہیں۔ رہے ذوالکفل تو ان کے بارے میں زیادہ تاریخی معلومات نہیں ہیں۔ اولی الایدی والابصار (38: 45) ” بڑی قوت رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے “۔ مطلب یہ ہے کہ وہ ہاتھ پاؤں سے عمل صالح کرنے والے اور نظریاتی اعتبار سے فکر مستقیم کے مالک تھے۔ گویا جو عمل صالح نہیں کرتا وہ کمزور ہوتا ہے اور جو شخص فکر سلیم نہیں رکھتا وہ آنکھوں کے باوجود اندھا ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں ان پیغمبروں کے اعزاز کی صفت کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اللہ کے خالص بندے تھے۔ اور ان کی دوسری خاص صفت یہ تھی وہ دار آخرت کو ہر وقت یاد کرنے والے اور اس کا لحاظ کرنے والے تھے۔ وہ صرف رضائے الہٰی اور فلاح کے لیے کام کرتے تھے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا تذکرہ ان آیات میں اول چند حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کا اجمالی تذکرہ فرمایا اس کے بعد متقیوں کا انعام بیان فرمایا جو باغوں اور ہم عمر بیویوں اور مطعومات اور مشروبات کی صورت میں دیا جائے گا۔ ارشاد فرمایا کہ ہمارے ان بندوں کو یاد کیجیے یعنی ابراہیم اور ان کے بیٹے اسحاق اور ان کے بیٹے یعقوب کو یاد کیجیے ان حضرات کی نبوت کا تذکرہ قرآن مجید میں دوسری جگہ آچکا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ تو بہت جگہ آیا ہے توحید کی دعوت کے سلسلہ میں ان کا تکلیفیں اٹھانا آگ میں ڈالا جانا کافروں اور مشرکوں سے مباحثہ کرنا، اللہ تعالیٰ کا حکم ملنے پر بیٹے کو ذبح کرنے کے لیے لٹا دینا یہ سب گزر چکا ہے۔ اپنے بیٹے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے ساتھ مل کر کعبہ شریف بنانا پھر حج کے لیے لوگوں کو پکارنا اور یہ دعا کرنا کہ اے ہمارے رب مکہ والوں میں انہیں میں سے ایک شخص نبی بنا کر بھیجنا جو آپ کی کتاب پڑھ کر سنائے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے۔ یہ بیان بھی گزر چکا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد جتنے بھی نبی آئے سب انہی کی نسل میں سے تھے۔ خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی اسماعیل میں سے اور باقی تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) بنی اسحاق میں سے تھے جنہیں بنی اسرائیل کہا جاتا ہے اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب تھا حضرت اسماعیل اور اسحاق ( علیہ السلام) بڑھاپے میں عطاء کیے گئے تھے اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بطور شکر یوں کہا (اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَ ھَبَ لِیْ عَلَی الْکِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ اِنَّ رَبِّیْ لَسَمِیْعُ الدُّعَآءِ ) (سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے بوڑھی عمر میں اسماعیل اور اسحاق عطاء فرمائے بلاشبہ میرا رب دعا کا سننے والا ہے۔ ) ان حضرات کا ایک خاص وصف (اُوْلِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ ) بیان فرمایا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ وہ ہاتھوں والے تھے اور آنکھوں والے تھے اور اس کا مطلب علماء نے یہ لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی اطاعت اور عبادت کی قوت عطاء فرمائی اور دینی بصیرت اور تفقہ فی الدین کی نعمت سے نوازا تھا۔ (ذکرہ ابن کثیر)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

38:۔ ” واذکر عبدنا الخ “۔ یہ چوتھی نقلی دلیل ہے ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا ذکر کرو جو ظاہری اعمال طاعت اور باطنی علوم اوردینی بصیرت میں کامل تھے۔ ” اولی الایدی والابصار “ اولی القوۃ فی الطاعۃ والبصیرۃ فی الدین او اولی الاعمال الجلیلۃ والعلوم الشریفۃ (ابو السعود جلد 7 ص 209) ۔ ہم نے ان کو یاد آخرت کے لیے خاص کردیا اور ان کی تمام تر توجہ اللہ کی اطاعت اور عبادت اور اس کی رضا جوئی پر مرکوز تھی گویا وہ ہر وقت آخرت کی تیاری میں مصروف رہتے تو جن کا اپنا یہ حال ہو بھلا وہ شفیع غالب کس طرح ہوسکتے ہیں۔ بیشک وہ ہمارے مقبول، برگزیدہ اور نیک بندے تھے لیکن شفیع غالب نہ تھے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(45) اور اے پیغمبر ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحاق اور یعقوب کو یاد کیجئے جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی ہاتھوں سے بندگی کرتے اور آنکھوں سے قدرتیں دیکھ کر یقین زیادہ کرتے۔ یعنی قوت عملیہ اور علمیہ میں کمال رکھتے تھے اور علم وعمل میں کامل تھے آگے اور ان کی خوبیاں فرمائیں۔