Surat Suaad

Surah: 38

Verse: 46

سورة ص

اِنَّاۤ اَخۡلَصۡنٰہُمۡ بِخَالِصَۃٍ ذِکۡرَی الدَّارِ ﴿ۚ۴۶﴾

Indeed, We chose them for an exclusive quality: remembrance of the home [of the Hereafter].

ہم نے انہیں ایک خاص بات یعنی آخرت کی یاد کے ساتھ مخصوص کر دیا تھا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Verily, We did choose them by granting them the remembrance of the Abode. Mujahid said, "This means: We made them strive for the Hereafter, and there is nothing else for them besides that." As-Suddi also said, "The remembrance of the Hereafter and striving for it." Malik bin Dinar said, "Allah removed the love of this world from their hearts, and singled them out for land remembrance of the Hereafter." Qatadah said, "They used to remind the people about the Abode of the Hereafter and to strive for it." وَإِنَّهُمْ عِندَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَيْنَ الاْإَخْيَارِ

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

46۔ 1 یعنی ہم نے ان کو آخرت کی یاد کے لئے چن لیا تھا، چناچہ آخرت ہر وقت ان کے سامنے رہتی تھی (آخرت کا ہر وقت استحضار، یہ بھی اللہ کی ایک بڑی نعمت اور زاہد وتقویٰ کی بنیاد) یا وہ لوگوں کو آخرت اور اللہ کی طرف بلانے میں کوشاں رہتے تھے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٣] یعنی آخرت کی یاد رکھنا ہی وہ نسخہ کیمیا ہے جو انسان کو اللہ کا برگزیدہ بنا دیتا ہے۔ ان برگزیدہ ہستیوں نے اس دنیا کو بس ایک مسافر خانہ کی طرح سمجھا اور آخرت کا گھر ہی ہمیشہ ان کا مطمح نظر رہا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّآ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ : ان انبیاء میں پائی جانے والی خاص صفت کو پہلے مبہم رکھا کہ ” ہم نے انھیں ایک خاص صفت کے ساتھ چُن لیا “ تاکہ شوق اور تجسّس پیدا ہو کہ وہ خاص صفت کیا ہے، پھر بتایا کہ وہ صفت اصل گھر کی یاد ہے۔ اصل گھر سے مراد آخرت ہے، کیونکہ دنیا گھر نہیں بلکہ گزر گاہ ہے۔ ان انبیاء کا خاص وصف یہ تھا کہ وہ ہر وقت آخرت کو یاد رکھتے تھے اور ہر معاملہ میں اسی کو پیش نظر رکھتے تھے، دنیا کی ہوس کا ان میں کوئی شائبہ نہ تھا اور لوگوں کو بھی وہ ہمیشہ آخرت یاد دلاتے رہتے تھے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Concern for &Akhirah is a distinct attribute of the noble prophets The word &home& in the statement: ذِكْرَ‌ى الدَّارِ‌ (remembering the [ eternal ] Home [ in the Hereafter ]- 38:46) refers to the &Akhirah, (the Hereafter, the life-to-come). Instead of using the word: &Akhirah, the text has used the word: الدَّارِ‌ (ad-dar: home) whereby it has warned human beings that they must take &Akhirah as their real Home, and make the concern for it the basis for whatever they think and do. Right from here, we also come to know that the concern for &Akhirah further sharpens and furbishes one&s intellectual and physical faculties (helping it to flourish in an essentially true perspective). Hence, the view of some atheists that such concern blunts human faculties is baseless.

فکر آخرت انبیاء کا امتیازی وصف ہے : ذکری الدار۔ اس کے لفظی معنی ہیں ” گھر کی یاد “ اور ” گھر “ سے مراد آخرت ہے۔ آخرت کے بجائے یہ لفظ استعمال کر کے تنبیہ کردی گئی ہے کہ انسان کو اپنا اصلی گھر آخرت ہی کو سمجھنا چاہئے اور اسی کی فکر کو اپنے افکار و اعمال کی بنیاد بنانا چاہئے۔ یہیں سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ فکر آخرت انسان کی فکری اور عملی قوت کو اور زیادہ جلا بخشتی ہے۔ بعض ملحدین کا یہ خیال بالکل بےبنیاد ہے کہ فکر آخرت انسان کی قوتوں کو کند کردیتی ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّآ اَخْلَصْنٰہُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِكْرَى الدَّارِ۝ ٤٦ۚ خلص الخالص کالصافي إلّا أنّ الخالص هو ما زال عنه شوبه بعد أن کان فيه، والصّافي قد يقال لما لا شوب فيه، وقوله تعالی: فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] ، أي : انفردوا خالصین عن غيرهم .إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِينَ [يوسف/ 24] ( خ ل ص ) الخالص ( خالص ) خالص اور الصافی دونوں مترادف ہیں مگر الصافی کبھی ایسی چیز کو بھی کہہ دیتے ہیں جس میں پہلے ہی سے آمیزش نہ ہو اور خالص اسے کہتے ہیں جس میں پہلے آمیزش ہو مگر اس سے صاف کرلیا گیا ہو ۔ آیت کریمہ : ۔ فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا [يوسف/ 80] جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہوکر صلاح کرنے لگے میں خلصوا کے معنی دوسروں سے الگ ہونا کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَنَحْنُ لَهُ مُخْلِصُونَ [ البقرة/ 139] اور ہم خالص اس کی عبادت کرنے والے ہیں ۔ إِنَّهُ مِنْ عِبادِنَا الْمُخْلَصِينَ [يوسف/ 24] بیشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے ۔ دار الدَّار : المنزل اعتبارا بدورانها الذي لها بالحائط، وقیل : دارة، وجمعها ديار، ثم تسمّى البلدة دارا، والصّقع دارا، والدّنيا كما هي دارا، والدّار الدّنيا، والدّار الآخرة، إشارة إلى المقرّين في النّشأة الأولی، والنّشأة الأخری. وقیل : دار الدّنيا، ودار الآخرة، قال تعالی: لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ، أي : الجنة، ( د و ر ) الدار ۔ منزل مکان کو کہتے ہیں کیونکہ وہ چار دیواری سے گھرا ہوتا ہے بعض نے دراۃ بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کی جمع دیار ہے ۔ پھر دار کا لفظ شہر علاقہ بلکہ سارے جہان پر بولا جاتا ہے اور سے نشاۃ اولٰی اور نشاہ ثانیہ میں دو قرار گاہوں کی طرف اشارہ ہے بعض نے ( باضافت ) بھی کہا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ : لَهُمْ دارُ السَّلامِ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ الأنعام/ 127] ان کے لئے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

ہم نے ان کو خالص اللہ تعالیٰ کی یاد اور آخرت کے ذکر کے ساتھ خاص کیا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٦ { اِنَّآ اَخْلَصْنٰہُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرَی الدَّارِ } ” ہم نے ان کو خالص کرلیا تھا ایک خالص شے ‘ یعنی آخرت کے گھر کی یاد دہانی کے لیے ۔ “ ان لوگوں کی زندگی کا ایک یہی مقصد تھا کہ وہ ہمیشہ لوگوں کو آخرت کی زندگی کی طرف متوجہ کرتے رہتے تھے۔ اس حوالے سے یہ بات میں بارہا عرض کرچکا ہوں کہ اللہ کا جو بندہ اس مقام پر پہنچ جاتا ہے اسے دنیا کے مال و دولت اور دوسری چیزوں میں کوئی دلچسپی نہیں رہتی۔ زندگی میں اگر اس کا کوئی ہدف ہوتا ہے تو بس یہی کہ وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے ‘ انہیں آخرت کے برے انجام سے بچائے۔ پھر اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اسی ہدف کے لیے صرف ہوتا ہے اور اس کی تمام تر صلاحیتیں اسی مشن کے لیے وقف ہوجاتی ہیں۔ حضرت شیخ معین الدین اجمیری (رح) کی مثال لے لیجیے۔ آپ (رح) یہی مشن لے کر اجمیر پہنچے تھے۔ اجمیر اس زمانے میں ہندو راجپوتوں کا مرکزی شہر اور کفر کا گڑھ تھا۔ حضرت شیخ علی ہجویری (رح) تو لاہور اس وقت تشریف لائے تھے جب یہ علاقہ اسلامی حکومت میں شامل ہوچکا تھا ‘ لیکن حضرت معین الدین (رح) نے اس شہر کو اپنا ٹھکانہ بنایا جو اس وقت مکمل طور پر کفر و شرک کے اندھیروں میں ڈوبا ہوا تھا۔ بہر حال آپ (رح) اپنا گھر بار چھوڑ کر کوئی کاروبار کرنے کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے کے لیے آئے تھے اور یہی آپ (رح) کی زندگی کا مقصد اور مشن تھا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

49 That is, "The real cause for their success and eminence was that there was no tinge of-worldliness in their character: all their efforts, mental and physical, were directed towards the Hereafter. They remembered it themselves and urged others also to remember it. That is why Allah exalted them to such high ranks as have never been attained by those who remained absorbed in earning worldly wealth and prosperity. In this regard, one should also keep in view the subtle point that Allah here has only used the word ad-dar (that abode, or the real abode) for the Hereafter. This is meant to impress the truth that this world is no abode for man, but only a passage and a rest house, which man has to Ieave in any cast. The real abode is the abode of the Hereafter. He who works to adorn that abode is the man of insight and such a one should inevitably be a commendable person in the sight of Allah. As for him who in order to adorn his transitory abode in this rest house behaves in a way as to ruin his real abode in the Hereafter, is foolish, and naturally cannot be liked by Allah.

سورة صٓ حاشیہ نمبر :49 یعنی ان کی تمام سرفرازیوں کی اصل وجہ یہ تھی کہ ان کے اندر دنیا طلبی اور دنیا پرستی کا شائبہ تک نہ تھا ، ان کی ساری فکر و سعی آخرت کے لیے تھی ، وہ خود بھی اس کو یاد رکھتے تھے اور دوسروں کو بھی یاد دلاتے تھے ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ مرتبے دیے جو دنیا بنانے کی فکر میں منہمک رہنے والے لوگوں کو کبھی نصیب نہ ہوئے ۔ اس سلسلے میں یہ لطیف نکتہ بھی نگاہ میں رہنا چاہیے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے آخرت کے لیے صرف الدار ( وہ گھر ، یا اصل گھر ) کا لفظ استعمال فرمایا ہے ۔ اس سے یہ حقیقت ذہن نشین کرنی مطلوب ہے کہ یہ دنیا سرے سے انسان کا گھر ہے ہی نہیں ، بلکہ یہ صرف ایک گزر گاہ ہے ، ایک مسافر خانہ ہے ، جس سے آدمی کو بہرحال رخصت ہو جانا ہے ۔ اصل گھر وہی آخرت کا گھر ہے ۔ جو شخص اس کو سنوارنے کی فکر کرتا ہے وہی صاحب بصیرت ہے اور اللہ کے نزدیک لامحالہ اسی کو پسندیدہ انسان ہونا چاہیے ۔ رہا وہ شخص جو اس مسافر خانے میں اپنی چند روزہ قیام گاہ کو سجانے کے لیے وہ حرکتیں کرتا ہے جن سے آخرت کا اصل گھر اس کے لیے اجڑ جائے وہ عقل کا اندھا ہے اور فطری بات ہے کہ ایسا آدمی اللہ کو پسند نہیں آ سکتا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(38:46) اخلصنہم بخالصۃ۔ اخلصنا۔ اخلاص (افعال) سے ماضی کا صیغہ جمع متکلم۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب اور اس کا مرجع حضرت ابراہیم و حضرت استحق و حضرت یعقوب علیہم الصلوٰۃ والتسلیم ہیں) بخالصۃ باء سببیہ ہے خالصۃ اسم فاعل واحد مؤنث اور اس کی تنوین تفخیم (تعظیم و تکریم) کے لئے ہے۔ ای خصلۃ خالصۃ جلیلۃ الشان لاشوب فیہا۔ ایک عظیم الشان اور ہر قسم کی آلائش یا ملاوٹ سے پاک خصلت۔ ترجمہ ہوگا :۔ ہم نے ان کی ایک عظیم الشان اور ہر قسم کی ملاوٹ سے پاک خصلت کی وجہ سے ان کو (اپنے لئے) مخصوص کرلیا۔ ای جعلنا ہم خالصین لنا بسب خصلۃ خالصۃ جلیلۃ الشان لاشوب فیہا۔ ذکری الدر۔ اس کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) یہ خالصۃ کا بیان ہے مضاف مضاف الیہ ہے یعنی الدر کا۔ کی یاد۔ (2) یہ ضمیر مقدر کی خبر ہے ای ہی ذکری الدار (اور یہ خصلت) الدار کی یاد ہے۔ ذکری مصدر ہے بمعنی ذکر کرنا۔ یاد کرنا۔ نصیحت کرنا۔ الدار میں الف لام عہد کا ہے بمعنی الدار الاخرۃ۔ دار آخرت ۔ ذکری الدار۔ دار آخرت کی یاد۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 یعنی وہ ہر معاملہ میں اپنے پیش نظر صرف آخرت رکھتے تھے۔ دنیا طلبی اور دنیا پرستی کا ان میں شائبہ تک نہ تھا۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ شاید یہ اس لئے بڑھا دیا ہو کہ اہل غفلت کے کان ہوں کہ جب انبیاء اس فکر سے خالی نہ تھے تو ہم کس شمار میں ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

انا۔۔۔ الدار (38: 46) ” ان کو ایک خاص صفت کی نبا پر برگزیدہ کیا تھا اور وہ دار آخرت کی یاد تھی “۔ یہ انکا مرتبہ اور ان کی بلندی نے ان کو برگزیدہ بنادیا تھا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد ان کی ایک اور صفت بیان فرمائی (اِِنَّا اَخْلَصْنَاھُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرٰی الدَّارِ ) (یعنی ہم نے انہیں ایک خاص بات کے ساتھ مخصوص کیا تھا جو آخرت کی یاد ہے۔ ) یہ حضرات خالص آخرت کے کاموں میں اور وہاں کی فکر مندی میں لگے رہتے تھے۔ تفسیر ابن کثیر میں حضرت مالک بن دینار سے اس آیت کی تفسیر نقل کرتے ہوئے لکھا ہے (نزع اللّٰہ تعالیٰ من قلوبھم حب الدنیا وذکرھا اخلصھم بحب الاخرۃ وذکرھا) (یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں سے دنیا کی محبت اور اس کی یاد کو نکال دیا اور ان کے دلوں میں خالص آخرت کی محبت ڈال دی اور خالص اسی کے فکر سے آراستہ فرما دیا اور حضرت قتادہ (رح) سے نقل کیا ہے (کانوا یذکرون الناس الدار الاخرۃ والعمل لھا) (یعنی یہ حضرات دوسرے لوگوں کو آخرت یاد دلاتے تھے اور اس کے لیے عمل کرنے کی ترغیب دیتے تھے)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(46) اور ہم نے ان کو ایک خاص وصف کے ساتھ امتیاز دیا کہ وہ دارآخرت کا یاد کرنا تھا۔ مجاہد نے کہا کہ ہم نے ان کو اید آخرت کے لئے خاص کیا تھا کہ ان کو سوائے آخرت کے نہ کوئی ذکر تھا اور نہ کوئی فکر۔ بعض لوگوں نے کہا کہ ان کے ذکر جمیل کی طرف اشارہ ہے کہ ان کو پچھلے لوگ بہترین طریقے سے یاد کرتے ہیں حضرت مالک بن دینار فرماتے ہیں کہ ہم نے دنیا کی محبت ان کے دلوں سے کھینچ لی تھی اور ان کے دلوں کو آخرت کی محبت اور اس کے ذکر سے خاص کیا تھا۔