Surat Suaad

Surah: 38

Verse: 49

سورة ص

ہٰذَا ذِکۡرٌ ؕ وَ اِنَّ لِلۡمُتَّقِیۡنَ لَحُسۡنَ مَاٰبٍ ﴿ۙ۴۹﴾

This is a reminder. And indeed, for the righteous is a good place of return

یہ نصیحت ہے اور یقین مانو کہ پرہیزگاروں کی بڑی اچھی جگہ ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

هَذَا ذِكْرٌ ... This is a Reminder, means, a reminder to those who will be reminded. As-Suddi said, "This means the Holy Qur'an." The Final Return of the Blessed Allah tells us that His blessed, believing servants will have a good final return in ... وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَأبٍ ... And verily, for those who have Taqwa is a good final return. Allah tells us that His blessed, believing servants will have a good final return in the Hereafter, which means their ultimate destination. Then He explains it further, as He says:

صالحین کے لئے اجر ۔ نیکو کار تقوے والوں کے لئے دار آخرت میں کتنا پاک بدلہ اور کیسی پیاری جگہ ہے؟ ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کے دروازے ان کے لئے بند نہیں بلکہ کھلے ہوئے ہیں ۔ کھلوانے کی بھی زحمت نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جنت میں ایک محل عدن ہے جس کے آس پاس برج ہیں جس کے پانچ ہزار دروازے ہیں اور ہر دروازے پر پانچ ہزار چادریں ہیں ان میں صرف نبی یا صدیق یا شہید یا عادل بادشاہ رہیں گے ( ابن ابی حاتم ) اور یہ تو بہت سی بالکل صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں ۔ اپنے تختوں پر تکئے لگائے بےفکری سے چار زانو با آرام بیٹھے ہوئے ہوں گے ۔ اور جس قوم کو جس میوے شراب کا جی چاہے حکم کے ساتھ خدام باسلیقہ حاضر کر دیں گے ۔ ان کے پاس ان کی بیویاں ہوں گی جو عفیفہ ، پاک دامن ، نیچی نگاہوں والی اور ان سے محبت و عشق رکھنے والی ہوں گی جن کی نگاہیں کبھی دوسرے کی طرف نہ اٹھی ہیں نہ اٹھیں نہ اٹھ سکیں ۔ ان کی ہم عمر ہوں گی ان کی عمروں کے لائق ہوں گی ۔ ان صفات والی جنت کا وعدہ اللہ سے ڈرتے رہنے والے بندوں سے ہے ، قیامت کے دن یہ اس کے وارث و مالک ہوں گے جبکہ قبروں سے اٹھ کر آگ سے نجات پا کر حساب سے فارغ ہو کر یہاں آ کر بہ آرام بسیں گے ۔ یہ ہے ہمارے انعام جس میں نہ کبھی کمی آئے گی نہ یہ منقطع ہو گا ۔ جیسے فرمایا ( مَا عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ 96؀ ) 16- النحل:96 ) تمہارے پاس جو کچھ ہے وہ ختم ہو جاتا ہے اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں ہے اور جگہ غیر ممنون بھی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی ہے وہ باقی رہنے والا ہے اور آیت میں غیرجذوذ ہے اور جگہ غیرممنون بھی ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ نہ اس میں کبھی کمی اور گھاٹا آئے نہ کبھی وہ ختم اور فنا ہو ۔ جیسے ارشاد ہے ) اُكُلُهَا دَاۗىِٕمٌ وَّظِلُّهَا ۭ تِلْكَ عُقْبَى الَّذِيْنَ اتَّقَوْاڰ وَّعُقْبَى الْكٰفِرِيْنَ النَّارُ 35؁ ) 13- الرعد:35 ) ، اس کے میوے اور کھانے پینے اور اس کے سائے دائمی ہیں ۔ پرہیزگاروں کا انجام یہی ہے اور کافروں کا انجام جہنم ہے ۔ اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٥] یعنی اللہ کے انعامات صرف نبیوں اور پیغمبروں تک محدود نہیں بلکہ اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنے والے کو اچھا ٹھکانا ملے گا۔ اگرچہ ان کے اعمال کے مطابق ان کے درجات میں فرق ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

ھٰذَا ذِكْرٌ ۭ وَاِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍ : یعنی یہ تو ایک نصیحت انبیاء کے بیان میں ہوئی، اب عام متقین کا انجام سنو ! یقیناً ان کے لیے بہت اچھا ٹھکانا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

ھٰذَا ذِكْرٌ۝ ٠ ۭ وَاِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍ۝ ٤٩ۙ ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، ( ذک ر ) الذکر ۔ یہ کبھی تو اس ہیت نفسانیہ پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے علم کو محفوظ رکھتا ہے ۔ یہ قریبا حفظ کے ہم معنی ہے مگر حفظ کا لفظ احراز کے لحاظ سے بولا جاتا ہے اور ذکر کا لفظ استحضار کے لحاظ سے اور کبھی ، ، ذکر، ، کا لفظ دل یاز بان پر کسی چیز کے حاضر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس بنا پر بعض نے کہا ہے کہ ، ، ذکر ، ، دو قسم پر ہے ۔ ذکر قلبی اور ذکر لسانی ۔ پھر ان میں کسے ہر ایک دو قسم پر ہے لسیان کے بعد کسی چیز کو یاد کرنا یا بغیر نسیان کے کسی کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ہر قول کو ذکر کر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ ذکر لسانی کے بارے میں فرمایا۔ لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ أوب الأَوْبُ : ضرب من الرجوع، وذلک أنّ الأوب لا يقال إلا في الحیوان الذي له إرادة، والرجوع يقال فيه وفي غيره، يقال : آب أَوْباً وإِيَاباً ومَآباً. قال اللہ تعالی: إِنَّ إِلَيْنا إِيابَهُمْ [ الغاشية/ 25] وقال : فَمَنْ شاءَ اتَّخَذَ إِلى رَبِّهِ مَآباً [ النبأ/ 39] ، والمآب : المصدر منه واسم الزمان والمکان . قال اللہ تعالی: وَاللَّهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ [ آل عمران/ 14] ، ( او ب ) الاوب ۔ گو اس کے معنی رجوع ہونا کے ہیں لیکن رجوع کا لفظ عام ہے جو حیوان اور غیر حیوان دونوں کے لوٹنے پر بولا جاتا ہے ۔ مگر اواب کا لفظ خاص کر حیوان کے ارادہ لوٹنے پر بولا جاتا ہے ۔ اب اوبا ویابا ومآبا وہ لوٹ آیا قرآن میں ہے ۔ { إِنَّ إِلَيْنَا إِيَابَهُمْ } ( سورة الغاشية 25) بیشک ہماری طرف لوٹ کر آنا ہے ۔ { فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ مَآبًا } ( سورة النبأ 39) اپس جو شخص چاہے اپنے پروردگار کے پاس ٹھکانا بنائے ۔ المآب۔ یہ مصدر ( میمی ) ہے اور اسم زمان اور مکان بھی ۔ قرآن میں ہے :۔ { وَاللهُ عِنْدَهُ حُسْنُ الْمَآبِ } ( سورة آل عمران 14) اور اللہ کے پاس اچھا ٹھکانا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٩ { ہٰذَا ذِکْرٌط وَاِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍ } ” یہ ایک ذکر ہے ‘ اور یقینا متقین کے لیے بہت ہی اچھی لوٹنے کی جگہ ہے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٩۔ ٦٤۔ اوپر فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کے تمام کارخانوں کو بےنتیجہ نہیں پیدا کیا ان آیتوں میں وہ نتیجہ بیان فرمایا کہ جو دنیا میں عذاب الٰین سے ڈر کر مناہی کے کاموں سے بچنے اور عقبے کے ثواب کا اعتقاد دل میں رکھ کر نیک کاموں میں لگے رہے ان کے لئے اچھا ٹھکانا ہے پھر اس اچھے ٹھکانا کی تفصیل بیان فرمائی کہ وہ رہنے کے محل اور ان محلوں میں طرح طرح کے میووں کے باغ ہیں اور ان محلوں کے دروازے ان لوگوں کے اندر جانے کے انتظار میں خود بخود کھلے ہوئے ہوں گے کسی سے کہنے اور دروازہ کہلوانے کی ضرورت نہیں مسند ابو یعلی ١ ؎ اور بیہقی میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم کھا کر فرمایا۔ جس طرح دنیا میں لوگ اپنے گھروں کو پہنچانتے ہیں اس سے زیادہ جنتی لوگ جنت میں داخل ہونے کے وقت اپنے گھروں کو پہچانیں گے۔ اور بغیر کسی سے پوچھنے کے لئے اپنے اپنے گھروں میں چلے جائیں گے۔ اس حدیث کو آیتوں کی تفسیر میں بڑا دخل ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن جنت کے محلوں کے درازوے بھی کھلے ہوں گے اور جنتی لوگ جنت میں داخل ہونے کے وقت اپنے اپنے ٹھکانے کو پہچان بھی لیویں گے اس واسطے بغیر کسی کشمکش کے ہر ایک جنتی اپنے محل میں چلا آوے گا۔ اسماعیل بن ابی رافع اور محمد بن یزید بن ابی زیاد یہ دو راوی اس حدیث کی سند میں اگرچہ ایسے ہیں۔ کہ ان کو بعضے علما نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن اسماعیل بن ابی رافع کو امام بخاری نے ثقہ کہا ہے۔ اور محمد بن یزید کی روایتوں کو ترمذی نے صحیح ٹھہرایا ہے۔ اس لئے یہ حدیث معتبر ہے قصرت الطرف اس کا مطلب یہ ہے کہ اپنے خاوند کے سوا وہ کسی غیر مرد کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گی۔ جنتی لوگ جب جنت میں طرح طرح کی نعمتوں سے خوش ہوں گے تو ان سے یہ کہا جائے گا۔ یہ وہی نعمتیں ہیں جن کا وعدہ تم سے دنیا میں اللہ کے رسولوں نے کیا تھا۔ قیامت کے دن ہر ایک نیکی بدی کا حساب ہو کر فیصلہ ہوگا اس لئے اس کو یوم الحساب فرمایا۔ جنت میں ہر فصل کا میوہ ہر وقت ملے گا اور جس پیڑ میں سے کوئی میوہ توڑا جائے گا۔ اسی وقت وہ میوہ پھر پیدا ہوجائے گا اس لئے فرمایا وہاں کی دی ہوئی روزی ہمیشہ رہے گی۔ کبھی بگڑنے کی نہیں ھذا کا اشارہ جنت کی نعمتوں کی طرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جنت کی نعمتوں کا یہ مختصر سا ذکر ہے ان نعمتوں کا تفصیلی حال نیک لوگوں کو اسی وقت معلوم ہوگا جب وہ لوگ جنت میں جائیں گے۔ صحیح بخاری ٢ ؎ و مسلم کے حوالہ سے ابو (رض) ہریرہ کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اہل جنت کے واسطے وہ نعمتیں جنت میں پیدا کی گئی ہیں۔ جو نہ کسی نے آنکھوں سے دیکھی نہ کانوں سے سنی نہ کسی کے دل میں ان کا تصور گزر سکتا ہے اس حدیث سے یہ مطلب اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے۔ کہ جنت کی نعمتوں کے ذکر کی جو آیتیں اور حدیثیں سنی گئی ہیں۔ وہ جنت کی نعمتوں کی مختصر حال کی ہیں کیونکہ جنت کی بہت سی نعمتیں ایسی ہیں کہ وہ اب تک کانوں سے نہیں سنی گئیں۔ اہل جنت کے ذکر کے بعد آگے اہل دوزخ کا ذکر فرمایا جس کا حاصل یہ ہے کہ جن لوگوں نے دنیا میں نافرمانی کی۔ مرنے کے بعد ان کے لئے برا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جس میں یہ لوگ جھونکے جائیں گے۔ کھولتا ہوا پانی اور پیپ یہ چیزیں ان کو پلائی جائیں گی۔ یہاں فقط ان ہی چیزوں کا ذکر ہے جو دوزخیوں کو پلائی جاویں گی سورة الصافات میں گزر چکا ١ ؎ ہے کہ پہلے سینڈھ کا پھل ان لوگوں کو کھلایا جا کر اس کے اوپر یہ پیپ کا ملا ہوا کھولتا پانی پلایا جائے گا۔ اس لئے کھانے کا ذکر و اخر من شکلہ ازواج فرما کر بیان کو مختصر کردیا غساق کی تفسیر حضرت عبد اللہ (رض) بن عباس نے اس پیپ کی فرمائی ہے جو اہل دوزخ کے جسموں میں سے جاری ہوگی۔ ترمذی ٢ ؎ اور مستدرک حاکم میں ابو سعید خدری سے روایت ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اس پیپ کا ایک ڈول بھی زمین پر آن پڑے تو بدبو کے سبب سے تمام دنیا کے لوگوں کی زندگی دشوار ہوجاوے۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور منذری نے اس کی صحت کی تائید کی ہے۔ سورة محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آوے گا کہ جب یہ کھولتا ہوا پانی دوزخیوں کو پلایا جاوے گا تو ان کی انتڑیاں کٹ کر نکل پڑیں گی ترمذی ٣ ؎ نسائی وغیرہ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ سینڈھ کے عرق کا ایک قطرہ بھی زمین پر آن پڑے تو اہل دنیا کی زیست تلخ ہوجاوے۔ دوزخ میں جا کر بہکنے والے بہکانے والوں پر اور بہکانے والے بہکنے والوں پر لعن طعن جو کریں گے۔ آگے ان کا ذکر ہے یہ ذکر سورة الاعراف میں گزر چکا ہے۔ مشرکین مکہ کے مال دار لوگ تنگ دست مسلمان کو حقیر سمجھتے تھے اور ہمیشہ ان سے مسخرا پن کیا کرتے تھے۔ جب یہ مال دار مشرک دوزخ میں جھونکے جانے کے بعد ان تنگ دست مسلمانوں کو وہاں نہ پاویں گے۔ تو یہ باتیں کریں گے کہ یا تو ہماری نگاہ کا قصور ہے کہ وہ تنگ دست مسلمان یہاں ہم کو نظر نہیں آتے۔ یا ہمارا مسخر پن بےجا تھا وہ لوگ اچھے تھے۔ جنت میں چلے گئے ‘ بہکنے والے اور بہکانے والے آپس میں لعن طعن کی باتیں کریں گے۔ اسی کو دوزخیوں کا آپس کا جھگڑا فرمایا۔ صحیح بخاری ٤ ؎ و مسلم میں انس (رض) بن مالک سے اور صحیح بخاری و ترمذی وغیرہ میں ابوذر (رض) سے جو روایتیں ہیں ان میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ سے فرمایا مجھ کو دوزخ کے عذاب کا حال جو کچھ معلوم ہے۔ اگر وہ تفصیل وار تم سے کہہ دوں تو تم اپنے بیوی بچوں کو چھوڑ کر جنگل میں نکل جائو اور سوا رونے کے اور تم کچھ نہ کرسکو۔ ان روایتوں کو آخری آیتوں کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب قرار پایا کہ جس طرح جنت کی نعمتوں کی پوری تفسیر علمائے امت کی حد علم سے باہر ہے۔ وہی حال دوزخ کے عذاب کا ہے کہ یہ پورا حال اللہ کے رسول نے علماء امت کو نہیں بتلایا۔ اس لئے شریعت محمدی (رض) میں جو کچھ یہ حال ہے وہ جنت کے حال کی طرح مختصر طور پر ہے۔ (١ ؎ الترغیب و الترہیب فصل فی وصف نساء اھدالجنۃ۔ ص ٩٩٠ ج ٤) (٢ ؎ صحیح بخاری باب ماجاء فی صفۃ الجنۃ وانھا مخلوقہ ص ٤٦٠ ج ١) (١ ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص ١٠) (٢ ؎ ترمذی شریف باب ماجاء فی صفۃ شراب اھل النار۔ ص ٩٥ ج ٢) (٣ ؎ تفسیر ہذا جلد ہذا ص ١٠) (٤ ؎ صحیح بخاری باب لوتعلمون ما اعلم لضحکتم قلیلا ولبکیتم کثیرا ص ٩٦٠ ج ٢‘ ترمذی شریف باب لوتعلمون ما اعلم لضحکتم قلیلا ولبکیتم کثیرا۔ ص ٦١ ج ٢)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(38:49) ھذا ذکر۔ (1) ھذا : اشارۃ الی ما تقدم من اموروہم یعنی یہ اشارہ ہے مقدم الذکر واقعات انبیاء کی طرف۔ ذکر۔ شرف لہم۔ (جو) ان کے لئے ایک شرف تھا۔ (بیضاوی۔ علامہ پانی پتی (رح)) (3) ھذا ذکر۔ یہ ہے ذکر۔ یعنی جو طریقہ مندرجہ بالا اخیار نے حرزجان بنا رکھا تھا شرف و عزت حاصل کرنے کا وہی طریقہ ہے۔ (4) ذکر کو تمام کرنے کے لئے عرب میں ھذا کہہ دیا کرتے ہیں کہ اس بات کو یاد رکھو۔ یا اصل بات یہ ہے (تفسیر حقانی) اسی معنی میں ہے ذلک للانتقال من نوع من الکلام الی اخر۔ (روح المعانی) ایک نوع کلام سے دوسری نوع کی طرف انتقال کے وقت یہ لکھ دیتے ہیں۔ اس کی مثال آگے چل کر اسی سورت کی آیت 55 میں ہے۔ متقین کے لئے انعام و اکرام بیان کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے۔ ھذا اوان للطغین لشرماب (38:55) متقین کی بات تو ہوچکی اور بیشک سرکشوں کے لئے برا ٹھکانا ہے۔ (5) ایک مضمون نصیحت کا تو یہ ہوچکا اور پرہیزگاروں کے لئے اچھا ٹھکانا ہے (بیان القرآن ، مظہری) حسن ماب۔ عمدہ لوٹنے کی جگہ۔ ملاحظہ ہو 38:25 ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ مراد قصص انبیاء ہے کہ مکذبین کے لئے اس میں اثبات ہے مسئلہ نبوت کا، اور مصدقین کے لئے اس میں تعلیم ہے۔ اخلاق جمیلہ اور اعمال فاضلہ کی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 213 تشریح آیات آیت نمبر 49 تا 64 درس ماضی میں ہم اللہ کے مختار بندوں کے ہم محفل تھے۔ ان لوگوں کی زندگی کی آزمائش اور پھر ان کی جانب سے مشکلات پر صبر کا پہلو نمایاں طور پت موضوع سخن تھا۔ آزمائش کے بعد ان سب بندوں کی رحمت اور اس کے فضل و کرم نے ڈھانپ لیا۔ اس محفل ذکر میں ہمیں یہ بتانا مقصود تھا کہ اس کراۂ ارض پر یہ اعلیٰ ترین زندگی ہے اور اس عارضی زندگی کو اس طرح گزرانا چاہئے۔ اب یہاں اس سبق میں یہ بتایا جاتا ہے عالم آخرت میں اللہ کے متقی بندوں کا کیا حال ہوگا اور سرکشوں اور جھٹلانے والوں کے روز شب کیا ہوں گے۔ گویا سابقہ سبق میں حیات فانی موضوع سخن تھا اور اس میں حیات باقیہ کے شب وروز زیر بحث ہیں ۔ یہ زندگی یہاں مناظر کی شکل میں دکھائی گئی جیسا کہ قرآن کریم کا انداز ہے۔ یہاں مناسب ہے کہ میں اپنی کتاب ” مشاہد قیامت “ کے کچھ اقتباسات دے دوں۔ ان مناظر کا آغاز یوں ہوتا ہے کہ دو مناظر ہیں اور دوانجام ہیں اور ایک دوسرے کے بالکل بالمقابل ہیں۔ مجموعی طور پر بھی ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں اور اجزاء کے اعتبار سے بھی یہ دونوں باہم متقابل ہیں۔ ہئیت وشکل اور مفہوم اور خواص کے اعتبار بھی دونوں ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہیں۔ مصبین ایک اچھے انجام تک پہنچ چکے ہیں (حسن مآب) ۔ جبکہ مفسدین برے انجام تک پہنچ چکے (شرمآب) ۔ اگر متقین کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے دروازے ان کے لیے ہر وقت کھلے ہیں۔ جنت عدن مفتحة لھم الابواب (38: 50) اور وہ اس میں بالمقابل تکیے لگائے بیٹھے ہیں اور اچھا کھانا اور اچھا پینا ان کو میسر ہے۔ اور ان کو نوجوان حوریں میسر ہیں اور جوانی کے باوجود وہ شرمیلی بھی ہیں۔ نہ وہ کسی طرف نظر اٹھا کر دیکھتی ہیں اور نہ اٹھا کر چلتی ہیں اور جوانی کے ساتھ ہم عمر بھی ہیں۔ پھر یہ تمام سہولیات دائمی ہیں اور اللہ کی طرف سے ہیں اور ماله من نفاد ” ختم ہونے والی نہیں ہیں “۔ تو مکذبین بھی ایک جائے قرار میں نظر آتے ہیں۔ یہ بہت ہی بری جائے قرار ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

متقی حضرات کی نعمتوں کا ذکر ( وَّاِِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَآبٍ ) (اور بلاشبہ پرہیزگاروں کے لیے اچھا ٹھکانا ہے) پھر اس ٹھکانے کی تفسیر بتائی (جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَۃً لَہُمُ الْاَبْوَابُ ) (یعنی ہمیشہ رہنے کے باغیچے ہوں گے جن کے دروازے ان کے لیے کھلے ہوں گے) جب جنت میں داخل ہونے لگیں تو اس کے دروازے کھلے ہوئے پائیں گے جیسا کہ ان لوگوں کا اکرام اور استقبال کیا جاتا ہے جنہیں مہمانی کے طور پر بلایا جاتا ہے سورة زمر میں اسی کو فرمایا (حَتّٰیٓ اِذَا جَآءُ وْھَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُھَا) اس کے بعد ان حضرات کے بیٹھنے کا اور میووں کا اور پینے کی چیزیں طلب کرنے کا تذکرہ فرمایا (مُتَّکِءِینَ فِیْہَا یَدْعُوْنَ فِیْہَا بِفَاکِہَۃٍ کَثِیْرَۃٍ وَّشَرَابٍ ) پھر ان کی بیویوں کا تذکرہ فرمایا (وَعِنْدَھُمْ قَاصِرَات الطَّرْفِ اَتْرَابٌ) (ان کے پاس ایسی بیویاں ہوں گی جو نظریں پست کیے ہوں گی یعنی اپنے شوہروں کے علاوہ کسی کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھیں گی اور وہ ہم عمر بھی ہوں گی۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(49) یہ ایک نصیحت کا مضون تھا جو ہوچکا اور یقینا متقیوں اور پرہیزگاروں کے لئے اچھا ٹھکانا ہے پھرجانے کا۔ مطلب یہ ہے کہ یہ قرآن کریم ایک نصیحت ہے یا یہ کہ انبیاء کا تذکرہ ایک نصیحت کا مضمون تھا جو ختم ہوا بلا شبہ جو لوگ متقی اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے ایک اچھی بازگشت ہے اور بہترین ٹھکانا ہے۔