The tafseer of Surat Suaad, verse 54, from every tafseer on this site - read one or compare them with each other.
Verily, this is Our provision which will never finish. This is like the Ayat: مَا عِندَكُمْ يَنفَدُ وَمَا عِندَ اللَّهِ بَاقٍ Whatever is with you, will be exhausted, and whatever is with Allah will remain. (16:96) عَطَأءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ a gift without an end. (11:108) لَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ for them is a reward that will never come to an end. (84:25) أُكُلُهَا دَايِمٌ وِظِلُّهَا تِلْكَ عُقْبَى الَّذِينَ اتَّقَواْ وَّعُقْبَى الْكَـفِرِينَ النَّارُ its provision is eternal and so is its shade; this is the end of those who have Taqwa, and the end (final destination) of the disbelievers is Fire. (13:35) And there are many similar Ayat.
54۔ 1 رزق، بمعنی عطیہ ہے اور ھٰذَا سے ہر قسم کی مذکور نعمتیں اور وہ اکرام و اعزاز مراد ہے جن سے اہل جنت بہرہ یاب ہوں گے۔ نفاد کے معنی خاتمے کے ہیں یہ نعمتیں بھی غیر فانی ہوں گی اور اعزازو اکرام بھی دائمی۔
اِنَّ ھٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَہٗ مِنْ نَّفَادٍ ٥٤ۚۖ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة «2» ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو نفد النَّفَادُ : الفَناءُ. قال تعالی: إِنَّ هذا لَرِزْقُنا ما لَهُ مِنْ نَفادٍ [ ص/ 54] يقال : نَفِدَ يَنْفَدُ «1» قال تعالی: قُلْ لَوْ كانَ الْبَحْرُ مِداداً لِكَلِماتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ [ الكهف/ 109] ، ما نَفِدَتْ كَلِماتُ اللَّهِ [ لقمان/ 27] . وأَنْفَدُوا : فَنِيَ زادُهم، وخَصْمٌ مُنَافِدٌ: إذا خَاصَمَ لِيُنْفِدَ حُجَّةَ صاحبِهِ ، يقال : نَافَدْتُهُ فَنَفَدْتُهُ. ( ن ف د ) النفاد ( س ) ختم ہوجانا ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ هذا لَرِزْقُنا ما لَهُ مِنْ نَفادٍ [ ص/ 54] یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگا ۔ اور اس معنی میں فعل نفد ( س ) استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ قُلْ لَوْ كانَ الْبَحْرُ مِداداً لِكَلِماتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ أَنْ تَنْفَدَ [ الكهف/ 109] کہہ دو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے لکھنے کے لئے سیاہی ہو تو قبل اس کے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہوجائے ما نَفِدَتْ كَلِماتُ اللَّهِ [ لقمان/ 27] تو خدا کی باتیں ( یعنی اس کی صفتیں ختم نہ ہوں ۔ انفدوا ان کا تو شہ ختم ہوگیا ۔ اور خصم منا فد دوسرے کی حجت کو ختم کرنے کے لئے جھگڑنے والے کو کہتے ہیں اور نافدۃ ونفد تہ کے معنی دوسرے کی دلیل کو ختم کرنے کے ہیں ۔
(٥٤۔ ٥٥) بیشک یہ ان حضرات کے لیے ہماری عطا اور ہمارے انعامات ہیں اس کا کہیں اختتام ہی نہیں۔ یہ سب انعامات تو مومنوں کے لیے ہیں اور کافروں یعنی ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کے لیے آخرت میں برا ٹھکانا ہے۔
آیت ٥٤ { اِنَّ ہٰذَا لَرِزْقُنَا مَالَـہٗ مِنْ نَّفَادٍ } ” یہ ہیں ہماری عطا کی ہوئی چیزیں ‘ جو کبھی ختم نہیں ہوں گی۔ “
1۔ یعنی نعمت دائمہ ابدیہ ہے۔
(54) یہ ہماری عطا کردہ روزی ہے جو کبھی ختم ہونے والی نہیں۔