Surat uz Zumur

Surah: 39

Verse: 10

سورة الزمر

قُلۡ یٰعِبَادِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوۡا رَبَّکُمۡ ؕ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوۡا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا حَسَنَۃٌ ؕ وَ اَرۡضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ ؕ اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوۡنَ اَجۡرَہُمۡ بِغَیۡرِ حِسَابٍ ﴿۱۰﴾

Say, "O My servants who have believed, fear your Lord. For those who do good in this world is good, and the earth of Allah is spacious. Indeed, the patient will be given their reward without account."

کہہ دو کہ اے میرے ایمان والے بندو! اپنے رب سے ڈرتے رہو جو اس دنیا میں نیکی کرتے ہیں ان کے لئے نیک بدلہ ہے اور اللہ تعالٰی کی زمین بہت کشادہ ہے صبر کرنے والوں ہی کو ان کا پورا پورا بے شمار اجر دیا جاتا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Command for Taqwa, Emigration and to worship Him alone with all Sincerity Allah commands His believing servants to remain steadfast in their obedience and have Taqwa of Him. قُلْ يَا عِبَادِ الَّذِينَ امَنُوا اتَّقُوا رَبَّكُمْ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ... Say: "O My servants who believe, have Taqwa of your Lord. Good is for those who do good in this world..." means, the one who does good deeds in this world, will have a good (reward) in this world and in the Hereafter. ... وَأَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ ... and Allah's earth is spacious! Mujahid said, "So emigrate through it and strive hard and keep away from idols." ... إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ Only those who are patient shall receive their reward in full, without reckoning. Al-`Awza`i said, "Their reward will not be weighed or measured; they will be given an immense reward." As-Suddi said: إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ (Only those who are patient shall receive their reward in full, without reckoning), means, "In Paradise." قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ

ہرحال میں اللہ کی اطاعت لازمی ہے ۔ اللہ تعالیٰ اپنے ایمان دار بندوں کو اپنے رب کی اطاعت پر جمے رہنے کا اور ہر امر میں اس کی پاک ذات کا خیال رکھنے کا حکم دیتا ہے کہ جس نے اس دنیا میں نیکی کی اس کو اس دنیا میں اور آنے والی آخرت میں نیکی ہی نیکی ملے گی ۔ تم اگر ایک جگہ اللہ کی عبادت استقلال سے نہ کر سکو تو دوسری جگہ چلے جاؤ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے ۔ معصیت سے بھاگتے رہو شرک کو منظور نہ کرو ۔ صابروں کو ناپ تول اور حساب کے بغیر اجر ملتا ہے جنت انہی کی چیز ہے ۔ مجھے اللہ کی خالص عبادت کرنے کا حکم ہوا ہے اور مجھ سے یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اپنی تمام امت سے پہلے میں خود مسلمان ہو جاؤں اپنے آپ کو رب کے احکام کا عامل اور پابند کر لوں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

10۔ 1 اس کی اطاعت کرکے، معاصی سے اجتناب کرکے اور عبادت و اطاعت کو اس کے لئے خالص کرکے۔ 10۔ 2 یہ تقویٰ کے فوائد ہیں۔ نیک بدلے سے مراد جنت اور اس کی ابدی نعمتیں ہیں۔ بعض اس کا مفہوم یہ کرتے ہیں، کہ جو نیکی کرتے ہیں ان کے لئے دنیا میں نیک بدلہ ہے ' یعنی اللہ انہیں دنیا میں صحت و عافیت، کامیابی اور غنیمت وغیرہ عطا فرماتا ہے۔ لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٠] یہاں بھلائی سے مراد صرف مال و دولت ہی نہیں اگرچہ مال و دولت بھی اس بھلائی میں شامل ہے۔ یعنی یہ ممکن ہے کہ اس دنیا میں پرہیزگاروں کو مال و دولت عطا ہوا اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں مال و دولت عطا نہ کیا جائے۔ البتہ بھلائی کی اور بھی بہت سی اقسام ہیں۔ جو انہیں یقیناً حاصل ہوتی ہیں۔ مثلاً ایسے لوگوں کی سب ہی عزت کرتے ہیں خواہ عزت کرنے والے دیندار ہوں یا دنیا دار۔ ایسے لوگوں کی بات قابل اعتماد سمجھی جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کی ساکھ قائم ہوتی ہے اور آخرت کی بھلائی جو بہرحال ایسے لوگوں کے لئے یقینی ہے۔ [٢١] حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے :۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورة ہجرت حبشہ سے پہلے یا اس عرصہ کے لگ بھگ نازل ہوئی تھی۔ جبکہ مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا تھا۔ اور انہیں احکام اسلام کی بجاآوری میں کفار مکہ کی طرف سے سخت دشواریاں پیش آرہی تھیں۔ یعنی اگر مکہ کی سرزمین یا آس پاس کا علاقہ تمہارے لئے تنگ ہوگیا ہے تو اللہ کی زمین بڑی وسیع ہے کسی دوسرے ملک میں چلے جاؤ۔ جہاں آزادی سے اسلام کے احکام بجا لاسکو۔ ترک وطن کے سلسلہ میں بھی تمہیں کئی طرح کی مشکلات پیش آئیں گی اور جہاں جاؤ گے وہاں بھی ابتدائ ً مشکلات پیش آسکتی ہیں۔ ان مشکلات کو اگر صبر و ثبات سے برداشت کرو گے تو اس کا ثواب بھی بےحساب ملے گا۔ واضح رہے کہ صبر کا تعلق ان مسلمانوں سے بھی ہے جو ہجرت کرکے چلے گئے تھے اور ان سے بھی جنہوں نے رسول اللہ کی صحبت یا کسی دوسری وجہ سے ہجرت نہ کی بلکہ مکہ میں ہی کفار کی سختیاں سہنے کے باوجود اپنے دین پر ڈٹے رہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلْ يٰعِبَادِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ : سورت کے شروع سے توحید کا بیان آرہا ہے، اب بڑی محبت کے ساتھ ایمان والوں کو ” میرے بندو “ کہہ کر انھیں یہ پیغام دینے کا حکم دیا کہ صرف زبان سے توحید کا اقرار کافی نہیں، بلکہ اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔ ” تَقْوٰی “ ” وَقٰی یَقِيْ وِقَایَۃً “ کا مصدر ہے، اس کا لفظی معنی ” بچنا “ ہے، مراد ایسے تمام کام چھوڑ دینا ہے جن کے کرنے سے اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ڈر ہے اور ایسے تمام کام کرنا جن کے چھوڑنے سے اس کے عذاب کا ڈر ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کرو اور اس کی نافرمانی سے اجتناب کرو۔ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَـنَةٌ“ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے۔” فِيْ هٰذِهِ الدُّنْيَا ‘ کا تعلق ” حَسَـنَةٌ‘ کے ساتھ ہے، یعنی جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک اعمال کیے ان کے لیے عظیم بھلائی ہے۔ اس بھلائی سے مراد دنیا کی بھلائی بھی ہے اور آخرت کی بھلائی بھی، کیونکہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اکثر دعا یہ تھی : (اَللّٰھُمَّ آتِنَا فِي الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِي الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ ) [ بخاري، الدعوات، باب قول النبي (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ربنا ۔۔ : ٦٣٨٩ ] ” اے اللہ ! ہمیں اس دنیا میں بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچانا۔ “ مزید دیکھیے سورة بقرہ (٢٠١) کی تفسیر۔ دنیا اور آخرت دونوں میں اس بھلائی کی تفصیل کے لیے سورة نحل (٩٧) کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ وَاَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ: یہ ہجرت کی طرف اشارہ ہے۔ یعنی اگر کسی جگہ تم اللہ کے تقویٰ پر کار بند نہیں رہ سکتے اور اللہ کے دین پر عمل کرنے میں کوئی رکاوٹ ہے تو اللہ کی زمین وسیع ہے، کسی دوسری جگہ چلے جاؤ، جہاں آزادی سے اللہ کے احکام پر عمل کرسکو۔ اس جملے کی مفصل تفسیر کے لیے سورة نساء کی آیات (٩٧ تا ١٠٠) اور ان کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ : صبر کا لفظی معنی باندھنا ہے۔ اہل علم نے صبر کی تین قسمیں بیان فرمائی ہیں، اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی پر صبر، اس کی منع کردہ چیزوں سے اجتناب پر صبر اور پیش آنے والی تکلیفوں اور مصیبتوں پر صبر۔ صابر وہ ہے جس کی خصلت ہی صبر ہو۔ فرمایا، جن لوگوں کی خصلت صبر ہے، صرف یہی لوگ ہیں جنھیں ان کا اجر کسی حساب کے بغیر دیا جائے گا۔ اس میں ہجرت کے دوران پیش آنے والی تکالیف پر صبر کی تلقین ہے اور اس پر بےحساب اجر کی بشارت ہے۔ بغیر حساب اجر سے مراد جنت ہے، کیونکہ وہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔ دنیا کی ہر نعمت خواہ کتنی ہو ختم ہونے والی ہے اور ختم ہونے والی ہر چیز کا حساب ہوسکتا ہے، جیسا کہ فرمایا : (مَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَهَا ۚ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ يُرْزَقُوْنَ فِيْهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ ) [ المؤمن : ٤٠ ] ” اور جس نے کوئی نیک عمل کیا، مرد ہو یا عورت اور وہ مومن ہوا تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اس میں بےحساب رزق دیے جائیں گے۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In verse 10, it was said: وَأَرْ‌ضُ اللَّـهِ وَاسِعَةٌ (and the earth of Allah is wide).In the sentence previous to this, Good deeds had been enjoined. This might prompt someone to come up with the excuse, &The city or country in which I live, or the social milieu I am stuck with around me stops me from doing good deeds.& This sentence carries an answer to this excuse - &if you find adherence to Islamic legal injunctions difficult while living in some particular country, city or social setup, then, leave it. The earth of Allah is wide enough. Go and live at a place and in a surrounding that is conducive to remaining obedient to Divine commandments.& This persuades one to migrate from a place living in which one cannot dutifully follow and observe what has been enjoined by his religion. Some rules relating to hijrah (emigration) have already appeared in the commentary on Surah An-Nisa& (Ma’ ariful-Qur’ an, Volume II, Index p. 659, see under Hijrah). In the last sentence of verse 10, it was said: إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُ‌ونَ أَجْرَ‌هُم بِغَيْرِ‌ حِسَابٍ (Certainly those who observe patience will be given their reward in full without measure.) The expression: بِغَيْرِ‌ حِسَابٍ (bighayri-hisab: without measure) means that the reward of those who endure ordeals will not be given to them under some pre-determined calculations or measures, instead, it will be sans-calculation, sans-reckoning, in a spirit of generosity at its most sublime as mentioned in a Hadith narration that follows. Some others have interpreted this expression in the sense of request, or claim, that is, in this worldly life, should someone have some right due on someone, he has to initiate the claim for it. But, with Allah, those who observe patience will be given their reward without any request or claim. Qatadah reports from Sayyidna Anas (رض) that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said, &On the Day of Judgment, a Scale of Justice will be set in place. When people who had given Sadaqah (charity) come forward, whatever they had given will be weighed, and they will be given their full reward against it. Similarly, the acts of worship such as Salah and Hajj will be weighed, and its reward would be duly given to those who had performed these. And when come those who had stood patient against trials and tribulations, for them, there will be no measure and weight, instead, their return and reward will be rolled down towards them without calculation, measure or reckoning - because, Allah Ta ala has said: إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُ‌ونَ أَجْرَ‌هُم بِغَيْرِ‌ حِسَابٍ (Certainly those who observe patience will be given their reward in full without measure. - 39:10). So much so that people who had lived their life of the mortal world in perfect peace and comfort would wish, &alas! Had our bodies been shredded with scissors during our life in the mortal world, we too would have earned a similar return for our endurance and patience against trials.& Imam Malik (رح) has taken: صَابرین (as-sabirun) in this verse to mean people who endure hardships and remain patient over sorrows of the mortal life. Some elders have said that it means people who hold their self in check against acts of disobedience and sin. Qurtubi says, &when the word: صَابِر (sabir: patient) is uttered unaccompanied by some other word, it invariably means a person who observes patience against hardships caused during the process of making one&s desiring self abstain from sins. And when the word: صَبر (sabir) is used for a person who remains patient against distress, it is coupled with some other words: صَابِرت علی کَذَا (one who is patient against such and such distress). وَاللہ سبحانہ و تعالیٰ اَعلَم Allah knows best.

(آیت) وَاَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌ ۭ۔ اس سے پہلے جملے میں اعمال صالحہ کا حکم ہے۔ اس میں کوئی یہ عذر کرسکتا تھا کہ میں جس شہر یا ملک میں رہتا ہوں یا جس ماحول میں پھنسا ہوا ہوں، اس کا ماحول مجھے اعمال صالحہ سے روکتا ہے۔ اس کا جواب اس جملے میں دے دیا گیا کہ اگر کسی خاص ملک یا شہر یا خاص ماحول میں رہتے ہوئے احکام شرعیہ کی پابندی مشکل نظر آئے تو اس کو چھوڑ دو اللہ کی زمین بہت وسیع ہے کسی ایسی جگہ اور ایسے ماحول میں جا کر رہو جو اطاعت احکام آلٰہیہ کے لئے سازگار ہو۔ اس میں ترغیب ہے ایسی جگہ سے ہجرت کی جس میں رہتے ہوئے انسان احکام دین کی پابندی نہ کرسکے۔ ہجرت کے مفصل احکام سورة نساء میں آ چکے ہیں۔ (آیت) اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ۔ بغیر حساب سے مراد یہ ہے کہ صبر کرنے والوں کا ثواب کسی مقرر اندازے اور پیمانے سے نہیں، بلکہ بےاندازہ و بےحساب دیا جائے گا۔ جیسا کہ روایت حدیث میں آگے آتا ہے۔ اور بعض حضرات نے بغیر حساب کے معنی درخواست و مطالبہ کے لئے ہیں یعنی جیسے دنیا میں کسی کا کوئی حق کسی کے ذمہ ہو تو اسے اپنے حق کا خود مطالبہ کرنا پڑتا ہے لیکن اللہ کے یہاں صابروں کو درخواست اور مطالبہ کے بغیر ہی ان کا ثواب عطا کیا جائے گا۔ حضرت قتادہ نے فرمایا کہ حضرت انس نے یہ حدیث سنائی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ قیامت کے روز میزان عدل قائم کی جائے گی۔ اہل صدقہ آئیں گے تو ان کے صدقات کو تول کر اس کے حساب سے پورا پورا اجر دے دیا جائے گا۔ اسی طرح نماز اور حج وغیرہ عبادات والوں کی عبادات کو تول کر حساب سے ان کا اجر پورا دے دیا جائے گا۔ پھر جب بلاء اور مصیبت میں صبر کرنے والے آئیں گے تو ان کے لئے کوئی گیل اور وزن نہیں ہوگا بلکہ بغیر حساب و اندازہ کے ان کی طرف اجر وثواب بہا دیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ ۔ یہاں تک کہ وہ لوگ جن کی دنیاوی زندگی عافیت میں گزری تمنا کرنے لگی گے کہ کاش دنیا میں ان کے بدن قینچیوں کے ذریعہ کاٹے گئے ہوتے تو ہمیں بھی صبر کا ایسا ہی صلہ ملتا۔ حضرت امام مالک نے اس آیت میں صابرین سے مراد وہ لوگ لئے ہیں جو دنیا کے مصائب اور رنج وغم پر صبر کرنیوالے ہیں اور بعض حضرات نے فرمایا کہ صابرین سے مراد وہ لوگ ہیں جو معاصی سے اپنے نفس کو روکیں۔ قرطبی فرماتے ہیں کہ لفظ صابر جب بغیر کسی دوسرے لفظ کے بولا جاتا ہے اس سے مراد یہی ہوتا ہے جو اپنے نفس کو گناہوں سے باز رکھنے کی مشقت پر صبر کرے اور مصیبت پر صبر کرنیوالے کے لئے لفظ صابر بولا جاتا ہے۔ تو صابر علی کذا کے الفاظ بولے جاتے ہیں۔ یعنی فلاں مصیبت پر صبر کرنے والا۔ واللہ اعلم۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلْ يٰعِبَادِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ۝ ٠ ۭ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوْا فِيْ ہٰذِہِ الدُّنْيَا حَسَـنَۃٌ۝ ٠ ۭ وَاَرْضُ اللہِ وَاسِعَۃٌ۝ ٠ ۭ اِنَّمَا يُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ۝ ١٠ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] ، عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] ، إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] ، كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] ، إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ، وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] ، وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ، فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65] . وعَبْدٌ للدّنيا وأعراضها، وهو المعتکف علی خدمتها ومراعاتها، وإيّاه قصد النّبي عليه الصلاة والسلام بقوله : «تعس عَبْدُ الدّرهمِ ، تعس عَبْدُ الدّينار» وعلی هذا النحو يصحّ أن يقال : ليس كلّ إنسان عَبْداً لله، فإنّ العَبْدَ علی هذا بمعنی العَابِدِ ، لکن العَبْدَ أبلغ من العابِدِ ، والناس کلّهم عِبَادُ اللہ بل الأشياء کلّها كذلك، لکن بعضها بالتّسخیر وبعضها بالاختیار، وجمع العَبْدِ الذي هو مُسترَقٌّ: عَبِيدٌ ، وقیل : عِبِدَّى وجمع العَبْدِ الذي هو العَابِدُ عِبَادٌ ، فالعَبِيدُ إذا أضيف إلى اللہ أعمّ من العِبَادِ. ولهذا قال : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] ، فنبّه أنه لا يظلم من يختصّ بِعِبَادَتِهِ ومن انتسب إلى غيره من الّذين تسمّوا بِعَبْدِ الشمس وعَبْدِ اللّات ونحو ذلك . ويقال : طریق مُعَبَّدٌ ، أي : مذلّل بالوطء، وبعیر مُعَبَّدٌ: مذلّل بالقطران، وعَبَّدتُ فلاناً : إذا ذلّلته، وإذا اتّخذته عَبْداً. قال تعالی: أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] . العبد بمعنی غلام کا لفظ چار معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1 ) العبد بمعنی غلام یعنی وہ انسان جس کی خریدنا اور فروخت کرنا شرعا جائز ہو چناچہ آیات کریمہ : ۔ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] اور غلام کے بدلے غلام عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے ۔ میں عبد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ( 2 ) العبد بالایجاد یعنی وہ بندے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اس معنی میں عبودیۃ اللہ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] تمام شخص جو آسمان اور زمین میں ہیں خدا کے روبرو بندے ہوکر آئیں گے ۔ میں اسی معنی کی طرح اشارہ ہے ۔ ( 3 ) عبد وہ ہے جو عبارت اور خدمت کی بدولت عبودیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اس لحاظ سے جن پر عبد کا لفظ بولا گیا ہے وہ دوقسم پر ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بن جاتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : ۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو ۔ إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] بیشک نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] جس نے اپنے بندے پر قرآن پاک میں نازل فرمایا : ۔ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] جس نے اپنی بندے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پر یہ کتاب نازل کی ۔ إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں ۔ كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] کہ میری بندے ہوجاؤ ۔ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔ وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ ۔ فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65]( وہاں ) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا ۔ ( 2 ) دوسرے اس کی پر ستش میں لگے رہتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف مائل رہتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی آنحضرت نے فرمایا ہے تعس عبد الدرھم تعس عبد الدینا ر ) درہم دینار کا بندہ ہلاک ہو ) عبد کے ان معانی کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا بندہ نہیں ہے یعنی بندہ مخلص نہیں ہے لہذا یہاں عبد کے معنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہیں لیکن عبد عابد سے زیادہ بلیغ ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں : ۔ کہ تمام لوگ اللہ کے ہیں یعنی اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے بلکہ تمام اشیاء کا یہی حکم ہے ۔ بعض بعض عبد بالتسخیر ہیں اور بعض عبد بالا اختیار اور جب عبد کا لفظ غلام کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی جمع عبید یا عبد آتی ہے اور جب عبد بمعنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہو تو اس کی جمع عباد آئے گی لہذا جب عبید کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ عباد سے زیادہ عام ہوگا یہی وجہ ہے کہ آیت : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے میں عبید سے ظلم کی نفی کر کے تنبیہ کی ہے وہ کسی بندے پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا خواہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہو اور خواہ عبدالشمس یا عبد اللات ہونے کا مدعی ہو ۔ ہموار راستہ ہموار راستہ جس پر لوگ آسانی سے چل سکیں ۔ بعیر معبد جس پر تار کول مل کر اسے خوب بد صورت کردیا گیا ہو عبدت فلان میں نے اسے مطیع کرلیا محکوم بنالیا قرآن میں ہے : ۔ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] کہ تم نے بنی اسرائیل کو محکوم بنا رکھا ہے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔ احسان الإحسان فوق العدل، وذاک أنّ العدل هو أن يعطي ما عليه، ويأخذ أقلّ مما له، والإحسان أن يعطي أكثر مما عليه، ويأخذ أقلّ ممّا له «3» . فالإحسان زائد علی العدل، فتحرّي العدل واجب، وتحرّي الإحسان ندب وتطوّع، وعلی هذا قوله تعالی: وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] ، وقوله عزّ وجلّ : وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] ، ولذلک عظّم اللہ تعالیٰ ثواب المحسنین، فقال تعالی: وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] ، وقال تعالی:إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] ، وقال تعالی: ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] ، لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] . ( ح س ن ) الحسن الاحسان ( افعال ) احسان عدل سے بڑھ کر چیز ہے کیونکہ دوسرے کا حق پورا دا کرنا اور اپنا حق پورا لے لینے کا نام عدل ہے لیکن احسان یہ ہے کہ دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دیا جائے اور اپنے حق سے کم لیا جائے لہذا احسان کا درجہ عدل سے بڑھ کر ہے ۔ اور انسان پر عدل و انصاف سے کام لینا تو واجب اور فرض ہے مگر احسان مندوب ہے ۔ اسی بنا پر فرمایا :۔ وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا قبول کیا اور وہ نیکو کا ر بھی ہے ۔ اور فرمایا ؛ وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] اور پسندیدہ طریق سے ( قرار داد کی ) پیروی ( یعنی مطالبہ خونہار ) کرنا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محسنین کے لئے بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] بیشک خدا نیکی کرنیوالوں کو دوست رکھتا ہے ۔ ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے ۔ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ «1» ، وتارة عن الأرذل فيقابل بالخیر، نحو : أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] ، دنا اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا ہ ۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ حسنة والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، والسيئة تضادّها . وهما من الألفاظ المشترکة، کالحیوان، الواقع علی أنواع مختلفة کالفرس والإنسان وغیرهما، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ، أي : خصب وسعة وظفر، وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ أي : جدب وضیق وخیبة «1» ، يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِكَ قُلْ : كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] والفرق بين الحسن والحسنة والحسنی أنّ الحَسَنَ يقال في الأعيان والأحداث، وکذلک الحَسَنَة إذا کانت وصفا، وإذا کانت اسما فمتعارف في الأحداث، والحُسْنَى لا يقال إلا في الأحداث دون الأعيان، والحسن أكثر ما يقال في تعارف العامة في المستحسن بالبصر، يقال : رجل حَسَنٌ وحُسَّان، وامرأة حَسْنَاء وحُسَّانَة، وأكثر ما جاء في القرآن من الحسن فللمستحسن من جهة البصیرة، وقوله تعالی: الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ [ الزمر/ 18] ، أي : الأ بعد عن الشبهة، ( ح س ن ) الحسن الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔ میں حسنتہ سے مراد فراخ سالی وسعت اور نا کامی مراد ہے الحسن والحسنتہ اور الحسنی یہ تین لفظ ہیں ۔ اور ان میں فرق یہ ہے کہ حسن اعیان واغراض دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے اسی طرح حسنتہ جب بطور صفت استعمال ہو تو دونوں پر بولا جاتا ہے اور اسم ہوکر استعمال ہو تو زیادہ تر احدث ( احوال ) میں استعمال ہوتا ہے اور حسنی کا لفظ صرف احداث کے متعلق بو لاجاتا ہے ۔ اعیان کے لئے استعمال نہیں ہوتا ۔ اور الحسن کا لفظ عرف عام میں اس چیز کے متعلق استعمال ہوتا ہے جو بظاہر دیکھنے میں بھلی معلوم ہو جیسے کہا جاتا ہے رجل حسن حسان وامرءۃ حسنتہ وحسانتہ لیکن قرآن میں حسن کا لفظ زیادہ تر اس چیز کے متعلق استعمال ہوا ہے جو عقل وبصیرت کی رو سے اچھی ہو اور آیت کریمہ : الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ [ الزمر/ 18] جو بات کو سنتے اور اچھی باتوں کی پیروی کرتے ہیں ۔ أرض الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن «4» ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه . ( ا رض ) الارض ( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس کی جمع ارضون ہے ۔ جس کا صیغہ قرآن میں نہیں ہے کبھی ارض کا لفظ بول کر کسی چیز کا نیچے کا حصہ مراد لے لیتے ہیں جس طرح سماء کا لفظ اعلی حصہ پر بولا جاتا ہے ۔ وسع السَّعَةُ تقال في الأمكنة، وفي الحال، وفي الفعل کالقدرة والجود ونحو ذلك . ففي المکان نحو قوله : إِنَّ أَرْضِي واسِعَةٌ [ العنکبوت/ 56] ، أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ واسِعَةً [ النساء/ 97] ، وَأَرْضُ اللَّهِ واسِعَةٌ [ الزمر/ 10] وفي الحال قوله تعالی: لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ [ الطلاق/ 7] وقوله : وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ [ البقرة/ 236] والوُسْعُ من القدرة : ما يفضل عن قدر المکلّف . قال تعالی: لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْساً إِلَّا وُسْعَها[ البقرة/ 286] تنبيها أنه يكلّف عبده دوین ما ينوء به قدرته، وقیل : معناه يكلّفه ما يثمر له السَّعَة . أي : جنّة عرضها السّموات والأرض کما قال : يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] وقوله : وَسِعَ رَبُّنا كُلَّ شَيْءٍ عِلْماً [ الأعراف/ 89] فوصف له نحو : أَحاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً [ الطلاق/ 12] وقوله : وَاللَّهُ واسِعٌ عَلِيمٌ [ البقرة/ 268] ، وَكانَ اللَّهُ واسِعاً حَكِيماً [ النساء/ 130] فعبارة عن سَعَةِ قدرته وعلمه ورحمته وإفضاله کقوله : وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْماً [ الأنعام/ 80] وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ [ الأعراف/ 156] ، وقوله : وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ [ الذاریات/ 47] فإشارة إلى نحو قوله : الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] ووَسِعَ الشّيءُ : اتَّسَعَ. والوُسْعُ : الجدةُ والطّاقةُ ، ويقال : ينفق علی قدر وُسْعِهِ. وأَوْسَعَ فلانٌ: إذا کان له الغنی، وصار ذا سَعَةٍ ، وفرس وَسَاعُ الخطوِ : شدید العدو . ( و س ع ) اسعۃ کے معنی کشادگی کے ہیں اور یہ امکنہ حالت اور فعل جیسے قدرت جو وغیرہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ وسعت مکانی کے متعلق فرمایا : ۔ إِنَّ أَرْضِي واسِعَةٌ [ العنکبوت/ 56] میری زمین فراح ہے ۔ أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ واسِعَةً [ النساء/ 97] کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا ۔ اور وسعت حالت کے متعلق فرمایا : ۔ لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ [ الطلاق/ 7] صاحب وسعت کو اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرنا چاہئے وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ [ البقرة/ 236]( یعنی مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق ۔۔۔۔۔ الواسع اس طاقت کو کہتے ہیں جو اس کام سے وزازیادہ ہو جو اس کے ذمہ لگایا گیا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْساً إِلَّا وُسْعَها[ البقرة/ 286] خدا کسی شخص کو اس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا ۔ میں تنبیہ فر مائی ہے کہ خدا بندے کے ذمہ اتنا ہی کام لگاتا ہے جو اس کی طاقت سے ذرا کم ہوتا ہے ۔ اور بعض نے اس کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جن احکام کا انسان کو مکلف بناتا ہے ان کا ثمرہ وسعت یعنی وہ جنت ہے جس کی پہنائی ارض وسما ہے جیسا کہ اس کی تائید میں دوسری جگہ فرمایا : ۔ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ [ البقرة/ 185] خدا تمہارا حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا ۔ اور آیت : ۔ وَسِعَ رَبُّنا كُلَّ شَيْءٍ عِلْماً [ الأعراف/ 89] اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے ۔ میں اللہ تعالیٰ کے احاطہ علمی کا بیان ہے جیسے دوسری جگہ اس مفہوم کو : أَحاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْماً [ الطلاق/ 12] خدا اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے سے تعبیر فرمایا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاللَّهُ واسِعٌ عَلِيمٌ [ البقرة/ 268] اور خدا کشائش والا اور علم والا ہے ۔ اور نیز آیت کریمہ : ۔ وَكانَ اللَّهُ واسِعاً حَكِيماً [ النساء/ 130] اور خدا بڑی کشائش اور حکمت والا ہے ۔ میں اللہ تعالیٰ کا بلحاظ علم وقدرت ورحمت وفضل کے وسیع ہونا مراد ہے جیس ا کہ آیت : ۔ وَسِعَ رَبِّي كُلَّ شَيْءٍ عِلْماً [ الأنعام/ 80] میرا پروردگار اپنے علم سے ہر چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ [ الأعراف/ 156] اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے ۔ سے معلوم ہوتا ہے اور آیت : ۔ وَإِنَّا لَمُوسِعُونَ [ الذاریات/ 47] اور ہم کو سب مقددر ہے میں اللہ تعالیٰ کی اس وسعت کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ آیت : ۔ الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] وہ ہے جس نے ہر چیز کو اس کی شکل اصورت بخشی اور پھر راہ دکھائی ۔ میں بیان کیا جاتا ہے یعنی وہدایت کے فیضان سے وہ ہر چیز کو اپنے اندر سمائے ہوئے ہے ) وسع الشئی اتسع کے معنی کسی چیز کے فراخ ہونا کے ہیں اور لواسع کے معنی تو نگر ی اور طاقت کے بھی آتے ہیں چناچہ محاورہ مشہور ہے کہ وہ اپنی طاقت کے مطابق خرچ کرتا ہے ۔ اوسع فلان وہ غنی اور صاحب اسعت ہوگیا فرس وساع الخطو وہ گھوڑا کو لمبی لمبی ڈگ بھرتا ہو نہایت تیزی سے دوڑے ۔ وفی پورا الوَافِي : الذي بلغ التّمام . يقال : درهم وَافٍ ، وكيل وَافٍ ، وأَوْفَيْتُ الكيلَ والوزنَ. قال تعالی: وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] ( و ف ی) الوافی ۔ مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں جیسے : درھم واف کیل واف وغیرہ ذالک اوفیت الکیل والوزن میں نے ناپ یا تول کر پورا پورا دیا ۔ قرآن میں ہے : وَأَوْفُوا الْكَيْلَ إِذا كِلْتُمْ [ الإسراء/ 35] اور جب کوئی چیز ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا پھرا کرو ۔ صبر الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ( ص ب ر ) الصبر کے معنی ہیں کسی کو تنگی کی حالت میں روک رکھنا ۔ لہذا الصبر کے معنی ہوئے عقل و شریعت دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے تقاضا کے مطابق اپنے آپ کو روک رکھنا ۔ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] صبر کرنے والے مرو اور صبر کرنے والی عورتیں اور روزہ کو صبر کہا گیا ہے کیونکہ یہ بھی ضبط نفس کی ایک قسم ہے چناچہ آنحضرت نے فرمایا «صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر» ماه رمضان اور ہر ماہ میں تین روزے سینہ سے بغض کو نکال ڈالتے ہیں أجر الأجر والأجرة : ما يعود من ثواب العمل دنیویاً کان أو أخرویاً ، نحو قوله تعالی: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ [يونس/ 72] ، وَآتَيْناهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ العنکبوت/ 27] ، وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا [يوسف/ 57] . والأُجرة في الثواب الدنیوي، وجمع الأجر أجور، وقوله تعالی: وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ [ النساء/ 25] كناية عن المهور، والأجر والأجرة يقال فيما کان عن عقد وما يجري مجری العقد، ولا يقال إلا في النفع دون الضر، نحو قوله تعالی: لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 199] ، وقوله تعالی: فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ [ الشوری/ 40] . والجزاء يقال فيما کان عن عقدٍ وغیر عقد، ويقال في النافع والضار، نحو قوله تعالی: وَجَزاهُمْ بِما صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيراً [ الإنسان/ 12] ، وقوله تعالی: فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ [ النساء/ 93] . يقال : أَجَر زيد عمراً يأجره أجراً : أعطاه الشیء بأجرة، وآجَرَ عمرو زيداً : أعطاه الأجرة، قال تعالی: عَلى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمانِيَ حِجَجٍ [ القصص/ 27] ، وآجر کذلک، والفرق بينهما أنّ أجرته يقال إذا اعتبر فعل أحدهما، وآجرته يقال إذا اعتبر فعلاهما «1» ، وکلاهما يرجعان إلى معنی واحدٍ ، ويقال : آجره اللہ وأجره اللہ . والأجير : فعیل بمعنی فاعل أو مفاعل، والاستئجارُ : طلب الشیء بالأجرة، ثم يعبّر به عن تناوله بالأجرة، نحو : الاستیجاب في استعارته الإيجاب، وعلی هذا قوله تعالی: اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ [ القصص/ 26] . ( ا ج ر ) الاجر والاجرۃ کے معنی جزائے عمل کے ہیں خواہ وہ بدلہ دنیوی ہو یا اخروی ۔ چناچہ فرمایا : ۔ {إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ } [هود : 29] میرا اجر تو خدا کے ذمے ہے ۔ { وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ } [ العنکبوت : 27] اور ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں سے ہوں گے ۔ { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا } [يوسف : 57] اور جو لوگ ایمان لائے ۔ ۔۔۔ ان کے لئے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے ۔ الاجرۃ ( مزدوری ) یہ لفظ خاص کر دنیوی بدلہ پر بولا جاتا ہے اجر کی جمع اجور ہے اور آیت کریمہ : { وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ } [ النساء : 25] اور ان کے مہر بھی انہیں ادا کردو میں کنایہ عورتوں کے مہر کو اجور کہا گیا ہے پھر اجر اور اجرۃ کا لفظ ہر اس بدلہ پر بولاجاتا ہے جو کسی عہد و پیمان یا تقریبا اسی قسم کے عقد کی وجہ سے دیا جائے ۔ اور یہ ہمیشہ نفع مند بدلہ پر بولا جاتا ہے ۔ ضرر رساں اور نقصان دہ بدلہ کو اجر نہیں کہتے جیسے فرمایا { لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ } [ البقرة : 277] ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا ۔ { فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ } ( سورة الشوری 40) تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے الجزاء ہر بدلہ کو کہتے ہیں خواہ وہ کسی عہد کی وجہ سے ہو یا بغیر عہد کے اچھا ہو یا برا دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ { وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا } [ الإنسان : 12] اور ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت کے باغات اور ریشم ( کے ملبوسات) عطا کریں گے ۔ { فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ } ( سورة النساء 93) اس کی سزا دوزخ ہے ۔ محاورہ میں ہے اجر ( ن ) زید عمرا یا جرہ اجرا کے معنی میں زید نے عمر کو اجرت پر کوئی چیز دی اور اجر عمر زیدا کے معنی ہوں گے عمرو نے زید کو اجرت دی قرآن میں ہے :۔ { عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ } [ القصص : 27] کہ تم اس کے عوض آٹھ برس میری خدمت کرو ۔ اور یہی معنی اجر ( مفاعلہ ) کے ہیں لیکن اس میں معنی مشارکت کا اعتبار ہوتا ہے اور مجرد ( اجرتہ ) میں مشارکت کے معنی ملحوظ نہیں ہوتے ہاں مال کے لحاظ سے دونوں ایک ہی ہیں ۔ محاورہ ہی ۔ اجرہ اللہ واجرہ دونوں طرح بولا جاتا ہے یعنی خدا اسے بدلہ دے ۔ الاجیرہ بروزن فعیل بمعنی فاعل یا مفاعل ہے یعنی معاوضہ یا اجرت کا پر کام کرنے والا ۔ الاستیجار کے اصل معنی کسی چیز کو اجرت پر طلب کرنا پھر یہ اجرت پر رکھ لینے کے معنی میں بولا جاتا ہے جس طرح کہ استیجاب ( استفعال ) بمعنی اجاب آجاتا ہے چناچہ آیت کریمہ : { اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ } [ القصص : 26] اسے اجرت پر ملازم رکھ لیجئے کیونکہ بہتر ملازم جو آپ رکھیں وہ ہے جو توانا اور امانت دار ہو میں ( استئجار کا لفظ ) ملازم رکھنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ غير أن تکون للنّفي المجرّد من غير إثبات معنی به، نحو : مررت برجل غير قائم . أي : لا قائم، قال : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] ، ( غ ی ر ) غیر اور محض نفی کے لئے یعنی اس سے کسی دوسرے معنی کا اثبات مقصود نہیں ہوتا جیسے مررت برجل غیر قائم یعنی میں ایسے آدمی کے پاس سے گزرا جو کھڑا نہیں تھا ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے حسب الحساب : استعمال العدد، يقال : حَسَبْتُ «5» أَحْسُبُ حِسَاباً وحُسْبَاناً ، قال تعالی: لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] ، وقال تعالی: وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] ( ح س ب ) الحساب کے معنی گنتے اور شمار کرنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے ۔ حسبت ( ض ) قرآن میں ہے : ۔ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسابَ [يونس/ 5] اور برسوں کا شمار اور حساب جان لو ۔ وَجَعَلَ اللَّيْلَ سَكَناً وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ حُسْباناً [ الأنعام/ 96] اور اسی نے رات کو ( موجب ) آرام ( ٹھہرایا ) اور سورج اور چانا ۔ کو ( ذرائع ) شمار بنایا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

آپ ان سے یہ بھی فرمایئے کہ کیا توحید خداوندی اور اس کے اوامرو نواہی کو جاننے والے یعنی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھی اور ابوجہل اور اس کے ساتھی ثواب و اطاعت اور درجہ میں کہیں برابر ہوسکتے ہیں۔ باقی قرآن کریم کی ان مثالوں سے وہ ہی لوگ نصیحت پکڑتے ہیں جو کہ عقل والے ہیں۔ نبی اکرم آپ خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ کرام سے فرما دیجیے چھوٹے بڑے تمام کاموں میں اپنے پروردگار کی پیروی کرتے رہو جو اس دنیا میں توحید پر قائم ہیں قیامت کے دن ان کو بدلے میں جنت ملے گی۔ اور سرزمین مدینہ منورہ دشمن وغیرہ سے محفوظ ہے اور یہ واقعہ ہجرت سے پہلے کا ہے اور تکالیف پر ثابت قدم رہنے والوں کو ان کا صلہ بےحساب ملے گا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠ { قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّکُمْ } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ کہیے کہ اے میرے وہ بندو جو ایمان لائے ہو ! اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرو۔ “ تم لوگ اللہ پر ایمان لائے ہو تو اب تمہیں ہر وقت اللہ کی رضا جوئی کی فکر ہونی چاہیے۔ لہٰذا اللہ جو کام کرنے کا حکم دے وہ کرو اور جس سے وہ منع کرے اس سے باز رہو۔ یہاں پر مسلمانوں کو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وساطت سے مخاطب کیا گیا ہے۔ یہاں پر یہ نکتہ ایک دفعہ پھر ذہن نشین کرلیں کہ مکی سورتوں میں اہل ایمان کو مخاطب کرنے کا یہی انداز ملتا ہے ‘ جبکہ یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کے الفاظ سے براہ راست خطاب کا اسلوب صرف مدنی سورتوں میں پایا جاتا ہے۔ چناچہ یہاں اہل ایمان سے براہ راست خطاب کرنے کے بجائے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ میری طرف سے میرے اہل ایمان بندوں کو یہ پیغام پہنچا دیں : { لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ ہٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃٌ} ” جو لوگ احسان کی روش اختیار کریں گے ‘ ان کے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی ہے۔ “ { وَاَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ} ” اور اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ “ اگر مکہ میں رہتے ہوئے تمہارے لیے توحید پر کاربند رہنا ممکن نہیں رہا تو یہاں سے ہجرت کر جائو۔ { اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَہُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ } ” یقینا صبر کرنے والوں کو ان کا اجر پورا پورا دیا جائے گا بغیر حساب کے۔ “ اجر کے حوالے سے یہاں پر یُوَفَّی کا اصول بھی بتایا گیا ہے اور بِغَیْرِ حِسَابٍ کی نوید بھی سنائی گئی ہے۔ یعنی پورا پورا بدلہ دینے کے بعد اللہ کا مزید فضل بھی ہوگا۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے معاملے میں حساب کا کوئی سوال ہی نہیں !

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

29 That is, °Do not rest content with belief but follow it up with piety and fear of God. Act according to what Allah has enjoined and avoid what He has forbidden and live in the world fearing His accountability . " 30 Good and well-being both of this world and of the Hereafter. 31 That is, "If one city, territory or land has become difficult for the worshippers of Allah, they may emigrate to another place where they may not have to face any such hardship. " 32 "Those . . . measure" : Those who brave all kinds of hardships and persecutions in following the way of God-worship and piety but do not abandon the way of the Truth. This also includes those people who emigrate to other countries and experience hardships in the foreign land for the sake of religion and faith, and those also who continue to face every kind of temptation and calamity firmly and patiently in the land where they are being persecuted."

سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :29 یعنی صرف مان کر نہ رہ جاؤ بلکہ اس کے ساتھ تقویٰ بھی اختیار کرو جن چیزوں کا اللہ نے حکم دیا ہے ان پر عمل کرو ، جن سے روکا ہے ان سے بچو اور دنیا میں اللہ کے مواخذے سے ڈرتے ہوئے کام کرو ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :30 دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی ۔ ان کی دنیا بھی سدھرے گی اور آخرت بھی ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :31 یعنی اگر ایک شہر یا علاقہ یا ملک اللہ کی بندگی کرنے والوں کے لیے تنگ ہو گیا ہے تو دوسری جگہ چلے جاؤ جہاں یہ مشکلات نہ ہوں ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :32 یعنی ان لوگوں کو جو خدا پرستی اور نیکی کے راستے پر چلنے میں ہر طرح کے مصائب و شدائد برداشت کرلیں مگر راہ حق سے نہ ہٹیں ۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو دین و ایمان کی خاطر ہجرت کر کے جلا وطنی کی مصیبتیں برداشت کریں ، اور وہ بھی جو ظلم کی سر زمین میں جم کر ہر آفت کا سامنا کرتے چلے جائیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

6: یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ اگر اپنے وطن میں دین پر عمل کرنا ممکن نہ ہو، یا سخت مشکل ہوجائے تو وہاں سے ہجرت کرکے ایسی جگہ چلے جاؤ جہاں دین پر عمل کرنا نسبۃً آسان ہو، اور اگر وطن چھوڑنے سے تکلیف ہو تو اس پر صبر کرو، کیونکہ صبر کا ثواب بے حساب ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

١٠۔ ١٦۔ اوپر منکرین حشر کا ذکر فرما کر اب ایمانداروں کا ذکر فرمایا جو علما یہ کہتے ہیں۔ کہ اس مکی سورة میں ان آیتوں میں سے پہلی آیت قل یعباد مدنی ہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ اس آیت میں ہجرت کا ذکر ہے اور ہجرت اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مدینہ میں آنے اور قرآن کا مدنی حصہ کا نازل ہونا شروع ہونے کے بعد فرض ہوئی ہے۔ لیکن جو علما اس آیت کو مدنی نہیں قراردیتے۔ وہ اس ہجرت کو حبشہ کی ہجرت کہتے ہیں۔ مشرکین مکہ نے جب مسلمانوں کو بہت ستانا شروع کیا تو نبوت کے پانچ برس کے بعد اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے اسی آدمی کے قریب مکہ سے حبشہ کو چلے گئے تھے۔ اسی کو حبشہ کی ہجرت کہتے ہیں۔ مدینہ کی ہجرت کے بعد یہ لوگ پھر حبشہ سے مدینہ کو چلے آئے۔ اسی واسطے ان لوگوں کو دو ہجرتوں والا کہا جاتا ہے۔ مدینہ کی ہجرت حبشہ کی ہجرت کے چھ ساڑھے چھ برس کے بعد ہے اللہ کے رسول دین کے جو احکام اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں ان کے دلی یقین اور زبانی اقرار کو ایمان کہتے ہیں اب ایمان کے ساتھ تقویٰ بھی ضرور ہے شریعت میں جن کاموں کے کرنے کا حکم ہے ان کے کرنے کو اور جن باتوں کی مناہی ہے ان سے بچنے کو تقویٰ کہتے ہیں۔ یہ سب کچھ اللہ کے خوف سے ہونا چاہئے کیونکہ دنیا کو دکھاوے کی کوئی بات بارگاہ الٰہی میں قبول نہیں ایمان کیساتھ تقویٰ کا ذکر فرمانے کی یہی تفسیر ہے جو بیان کی گئی چناچہ صحیح ١ ؎ مسلم میں سفیان (رض) بن عبد اللہ تقفی سے روایت ہے جس میں سفیان کہتے ہیں میں نے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا۔ حضرت اسلام میں مجھ کو کوئی ایسی بات بتلا دیجئے کہ پھر مجھ کو کسی بات کے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے آپ نے فرمایا۔ جن باتوں کے ماننے کا شریعت میں حکم ہے اور ان کے ماننے کا زبان سے اقرار کر اور پھر اس اپنے اقراد پر قائم رہ یہ سفیان بن عبد اللہ طائف کے رہنے والے صحابہ میں ہیں۔ صحیح بخاری میں ان سے کوئی روایت نہیں۔ حضرت عمر (رض) کی خلافت میں یہ سفیان بن عبد اللہ طائف کے حاکم بھی رہے ہیں۔ اقرار پر قائم رہنے کا یہی مطلب ہے کہ شریعت میں جن باتوں کے کرنے کا حکم ہے۔ ان کو کرنا اور مناہی کے حکم کی باتوں سے بچنا چاہئے۔ یعبادی الذین امنوا اتقوا ربکم کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے جس کا مطلب وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔ اب آگے فرمایا جو لوگ دنیا میں اس طرح کے نیک کاموں کے پابند ہوں گے۔ عقبے میں ان کی جزا جنت ہے۔ جہاں ہر طرح کا ہمیشہ کا آرام ہے پھر فرمایا۔ جس سر زمین میں مخالفوں کے ستانے کے سبب سے نیک کاموں کے کرنے کا موقع نہ ملے تو ایماندار شخص کو چاہئے کہ ایسی جگہ نہ رہے۔ اللہ کی سر زمین کچھ تنگ نہیں کشادہ ہے کہیں دوسری امن کی جگہ میں جا رہے پھر فرمایا جو شخص اپنے دین کی حفاظت کے لئے اپنے وطن اور رشتہ داروں کے چھوڑنے کی تکلیف پر صبر کرے گا۔ اس کو قیامت کے دن بےحساب اجر ملے گا۔ دین کی جو باتیں امت میں پھیلتی ہیں ان میں اللہ کے رسول امت کے لوگوں کے گویا استاد ہوتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مخاطب ٹھہرا کر قرآن شریف میں اسی طرح جگہ جگہ توحید کی تاکید فرمائی ہے جس طرح آگے کی آیتوں میں ہے تاکہ اللہ کے رسول بھی اسی طرح امت کے لوگوں میں توحید کو تاکید سے پھیلاویں مستدرک حاکم کے حوالہ سے نعمان بن بشیر کی صحیح حدیث ١ ؎ ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر وعظ کہنے میں ایسے مصروف ہوتے تھے کہ آپ کی چادر کاندھے پر سے اتر کر گر پڑتی تھی اس حدیث سے اچھی طرح سمجھ میں آسکتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے توحید اور دین کے احکام اپنے رسول پر نازل فرمائے اسی تاکید سے اللہ کے رسول نے وہ احکام لوگوں کو پہنچا دیئے۔ ابن ماجہ ٢ ؎ کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے لئے ایک گھر جنت میں اور ایک دوزخ میں بنایا ہے جو لوگ ہمیشہ کے لئے دوزخ میں جائیں گے ان کے جنت میں خالی گھر جنتیوں کو مل جائیں گے۔ یہ حدیث خسروا انفسھم و اھلیھم کی گویا تفسیر ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ اپنی جان کو دوزخ کے ہاتھ اور جنت کے مکان اور حوروں کو دوسروں کے ہاتھ ہار بیٹھے۔ دوزخ کے اوپر کے درجہ میں جو دوزخی ہوں گے۔ ان کے پائوں کے نیچے کا آگ کا ٹکڑا دوزخ کے نیچے کے درجہ پر بادل کی طرح چھایا ہوا ہوگا۔ اس واسطے نیچے کے آگ کے ٹکڑے کو بھی بادل فرمایا آخر کو فرمایا دوزخ کا عذاب انسان کی برداشت سے باہر ہے اس لئے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اور یہ فرماتا ہے کہ اے بندوں اللہ کے عذاب سے ڈرو۔ (١ ؎ صحیح مسلم مع نودی باب جامع اوصاف الاسلام۔ ص ٤٨ ج ١) (١ ؎ بحوالہ مشکوۃ شریف فی صفۃ النارواھلھا الفصل الثانی ص ٥٠٤) (٢ ؎ ابن ماجہ باب صفۃ الجنۃ ص ٣٣٢)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(39:10) یعاد : ای یا عبادی۔ اے میرے بندو ! الذین امنوا۔ یہ عباد کی تعریف ہے جو ایمان لائے ہیں۔ جو مومن ہیں۔ یعباد الذین امنوا۔ اے میرے مومن بندو ! یا اے میرے بندو جو ایمان آئے ہو۔ اتقوا ربکم : اتقوا فعل امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ اتقاء (افتعال) مصدر ۔ وقی مادہ سے تم ڈرو ۔ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔ وقی یقی (باب ضرب) وقایۃ ووقاء بمعنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا۔ مثلا ووقھم عذاب الجحیم۔ (44:56) اور خدا ان کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے گا۔ اتقوا ربکم اپنے پروردگار سے ڈرو۔ للذین احسنوا فی ھذہ الدنیا حسنۃ۔ اس کی مندجہ ذیل دو صورتیں ہیں۔ (1) عبارت یوں ہے ! للذین احسنوا حسنۃ فی ھذہ الدنیا حسنۃ فی الاخرۃ یعنی فی ھذہ الدنیا متعلق ہے احسنوا سے۔ اور ترجمہ یوں ہوگا :۔ ان لوگوں جنہوں نے اس دنیا میں نیک اعمال کئے آخرت میں اچھا بدلہ ہے۔ یعنی جنت۔ یوفی الصبرون : یوفی مضارع مجہول واحد مذکر غائب (یہاں جمع کے لئے ہے) توفیۃ (تفعیل) مصدر سے۔ پورا دیا جائے گا۔ الوافی۔ مکمل اور پوری چیز کو کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے واوفوا الکیل اذا کلتم (17:35) اور جب کوئی چیز ناپ کردینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو۔ یوفی الصبرون جو صبر کرنے والے ہیں ان کو بیشمار اجر ملے گا۔ (یعنی نہ صرف پورا پورا ان کے صبر کے مطابق بلکہ اس سے بھی زیادہ یعنی بےحساب) ۔ اسی مادی وفی سے باب افعال سے بمعنی عہد و پیمان کو پورا کرنا آیا ہے مثلاً اوفوا بعھدی اوف بعھدکم (2:40) اور اس اقرار کو پورا کرو جو تم نے مجھ سے کیا تھا اور میں اس اقرار کو پورا کروں گا جو میں نے تم سے کیا تھا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یعنی صرف زبان سے توحید کا اقرار کانی نہیں ہے بلکہ تقویٰ کی راہ اختیار کرو۔ یعنی اس کے اوامرکو بجا لائو اور اس کے نواہی سے باز ہو۔7 یہ ہجرت کی طرف اشارہ ہے یعنی اگر کسی جگہ رہتے ہوئے آزادی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت نہ کی جاسکتی ہو تو انہیں چاہیے کہ کسی دوسری جگہ چلے جائیں جہاں ان کے لئے یہ دشواریاں نہ ہوں۔ 8 یعنی خدا پرستی اور نیکی کی راہ میں جو بھی مصیبتیں اور تکلیفیں پیش آتی ہیں انہیں ہمت و جوانمردی سے برداشت کرتے ہیں مگر راہ حق سے نہیں ہٹتے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 2 ۔ آیات 10 تا 21: اسرار و معارف : آپ فرما دیجیے کہ اے اللہ کے ایماندار بندو اللہ سے ڈرو اللہ سے اپنا تعلق مضبوط رکھو دنیا کی کسی دوسری طاقت سے ڈر کر اس کی طرف مت جھکو کہ اللہ کی اطاعت اور اسی پر بھروسہ کرنے سے دنیا کی بھلائی بھی نصیب ہوتی ہے اگر کسی جگہ کوئی غیر اسلامی طاقت مسلط ہے اور تم مقابلہ نہیں کرپاتے تو اللہ کی زمین وسیع ہے وہ جگہ وقتی طور پر چھوڑ دو مگر اللہ کی اطاعت چھوڑ کر سمجھوتہ نہ کرو کہ یہ ہجرت میں صبر کرنا پڑے گا اس کا بدلہ بھی بےحساب ملے گا دنیا کی عظمت بھی اور قوت حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرکے پھر سے وہ مقام بھی حاصل کرلو گے اور آخرت کے انعامات بھی۔ اور یہ بھی فرما دیجیے کہ مجھے تو خالص اور بغیر کسی لگی لپٹی کے اللہ واحد کی عبادت کا حکم ملا ہے۔ مفادات کی خاطر اس میں سمجھوتے کرنے کی گنجائش نہیں اور یہ بھی بتا دیجیے کہ میری شان تو یہ ہے کہ سب سے پہلے اور سب سے زیادہ ماننے والا ، اعتبار و یقین رکھنے والا میں کود ہوں بلکہ یہ بتا دیجیے کہ اگر اس میں بھی خطا کروں حالانکہ ایسا ممکن ہیں تو پھر مجھے بھی آخرت کے عذاب کا اندیشہ ہوگا چہ جائیکہ تم لوگ دین کے بارے میں سمجھوتہ کرتے پھرو۔ آپ اعلان فرما دیجیے کہ خالص اور صرف اللہ ہی کی عبادت کرتا ہوں اور تمام امیدیں اسی سے رکھتا ہوں تم جس کی چاہو بندگی اور اطاعت کرتے رہو لیکن یہ جان لو کہ اگر وقتی طور پر دنیا کا کوئی معمولی فائدہ حاصل بھی کرلیا تو کیا کہ اصل نقصان تو اپنی جان اور خاندان تک کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کرنے کا ہے جو تمہارے کفر کا نتیجہ ہوگا اور یہی حقیقی نقصان ہے۔ کافروں کو جہنم میں آگ ہی کا اوڑھنا ہوگا اور آگ ہی کا بچھونا بھی ۔ اسی بات سے اللہ اپنے بندوں کو خبردار فرمانا چاہتا ہے اور فرماتا ہے اے میرے بندو میرے ساتھ رشتہ محبت استوار کرو۔ جو لوگ شیطانی پھندوں سے بچ جائیں اور اس کی اطاعت نہ کریں تو ایسے لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں اے میرے حبیب ((صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) میرے بندوں کو بشارت دیجیے ایسے لوگ جو انسانی علوم اور مذاہب دنیا کو سن تو لیتے ہیں جانتے ہیں مگر ان کے بودے پن کے باعث انہیں قبول نہیں کرتے بلکہ حق اور حسین بات کو کہ حق ہمیشہ احسن ہوتا ہے قبول کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لیے اللہ کریم ترقی درجات کے راستے کھول دیتے ہیں اور یہ لوگ ہی صاحب خرد یا عقلمند کہلانے کا حق رکھتے ہیں۔ بھلا جس نے کفر کیا اور اس کیلئے عذاب کا حکم جاری ہوگیا آپ اس کو کس طرح چھڑا سکتے ہیں آپ فکر میں کیوں مبتلا ہوئے جبکہ انہوں نے اپنے لیے خود یہی جگہ پسند کرلی ہے۔ ہاں آپ کی توجہ کی برکات تو انہیں نصیب ہیں جنہیں اللہ سے رشتہ محبت نصیب ہو ان کیلئے رہائش کی بہت ہی خوبصورت جگہیں ہیں کئی کئی منزلہ عمارتیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور یہ اللہ کا ان سے وعدہ ہے اللہ اپنے وعدوں کے خلاف نہیں کرتا بھلا آخرت میں یہ نعمتیں بخشنا اس کے لیے کون سی بڑی بات ہے جبکہ دنیا میں بھی اس نے کس قدر نعمتیں عطا کی ہیں پانی کو اٹھا کر بلندیوں سے برسایا پھر زمین پر اس کے خزانے بنا دئیے کہیں برف کی صورت تو کہیں زیر زمین نہروں اور چشموں کی صورت پھر بیشمار اقسام کے باغات اور ان میں پھل سجا دئیے جو کبھی پھول بنتے ہیں پھر پھل پھر پک کر تیار ہوجاتے ہیں اگر عقل سلامت ہو تو یہ سب عظمت الہی کے گواہ ہیں اور اس نظام میں اس کی قدرت کے کمالات کے بےپناہ دلائل موجود ہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

7۔ یعنی مداوم علی الطاعات و محترز عن المعاصی رہو کہ یہ سب فرع ہیں تقوی کی۔ 8۔ اس لئے اگر وطن میں کوئی نیکی کرنے سے مانع ہو تو ہجرت کر کے دوسری جگہ چلے جاو

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : عقل مند وہ ہے جو کفر و شرک اور اپنے رب کی نافرمانی سے بچتا رہے۔ اور دنیا کے مقابلے میں ایمان کو ترجیح دے اور ایمان کی خاطر وطن چھوڑنا پڑے تو ہجرت کر جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کی عظمت اور اہمیت اجاگر فرمانے کے لیے نبی محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پے درپے سات مرتبہ لفظ ” قُلْ “ سے حکم دیا ہے۔ اور اس موقعہ پر آخر میں فرمایا : اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ بات بھی فرما دیں کہ علم والے اور بےعلم یعنی موحد اور مشرک برابر نہیں ہوسکتے۔ اس لیے موحدین سے فرما دیں کہ کفار اور مشرکین سے ڈرنے کی بجائے صرف اپنے رب سے ڈرتے رہو اور ہمیشہ یاد رکھو کہ جن لوگوں نے اس دنیا میں نیکی کی۔ ان کے لیے دنیا اور آخرت میں اچھائی اور بہتری ہے۔ اگر کہیں دین پر عمل کرنا مشکل ہوجائے تو وہاں سے ہجرت کر جاؤ کیونکہ اللہ کی زمین بہت وسیع ہے۔ بیشک ہجرت کرنا آسان کام نہیں لیکن جو لوگ صبر سے مشکلات کا سامناکریں گے ان کے لیے قیامت کے دن بےحساب اجر ہوگا۔ ” حَسَنَۃٌ“ کا لفظ بھلائی، نیکی اور فائدہ کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ ہجرت کا لغوی معنٰی : ہجرت کا لغوی معنٰی ہے کسی چیز کو ترک کرنا، چھوڑ دینا۔ عرف عام میں دین کی خاطر کسی مقام کو چھوڑنے کا نام ہجرت ہے۔ شریعت کے وسیع تر مفہوم میں ہر اس چیز کو چھوڑ دینا ہجرت ہے۔ جس سے اللہ اور اس کے رسول نے منع فرمایا ہے۔ (وَالْمُھَاجِرُ مَنْ ھَجَرَ مَانَھَی اللّٰہُ عَنْہُ ) [ رواہ البخاری : باب المسلم من سلم المسلمون ] ” مہاجر وہ ہے جو اللہ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دے۔ “ کن حالات میں ہجرت کا حکم ہے ؟ جیسا کہ ابھی ذکر ہوا کہ مقصد حیات یعنی ایمان کے لیے ہر چیز قربان کردینا ہی اکمل ایمان کی نشانی ہے۔ ایسے ہی جذبات کا مندرجہ ذیل آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ (یٰعِبَادِيَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا إِنَّ أَرْضِيْ وَاسِعَۃٌ فَإِیَّايَ فَاعْبُدُوْنِ ) [ العنکبوت : ٥٦] ” اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو ! میری زمین بہت وسیع ہے بس تم میری بندگی کئے جاؤ۔ “ اس آیت مبارکہ میں و اضح اشا رہ موجود ہے اگر مکہ میں اللہ کی بند گی کرنا مشکل ہو رہی ہے تو ملک چھوڑ کر نکل جاؤ۔ ملک خدا تنگ نیست۔ اللہ کی زمین تنگ نہیں ہے جہاں بھی تم اللہ کے بندے بن کر رہ سکتے ہو وہاں چلے جاؤ۔ ہجرت ایمان کی کسوٹی ہے : اللہ اور اس کے رسول کی خاطر ہجرت کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ یہ ایسی پل صراط ہے جس کی دھار تلوار سے زیادہ تیز اور بال سے زیادہ باریک ہے ایمان سے خالی دل ہجرت کی تکالیف اور مشکلات برداشت نہیں کرسکتا یہ ایسا ترازو ہے جس میں ہر آدمی نہیں بیٹھ سکتا۔ اس پیمانے سے کھرے کھوٹے کا اندازہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے قرآن مجید نے اسے ایمان کا معیار قرار دیا ہے۔ (العنکبوت : ٢٦) ” حضرت عمر بن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمام اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے۔ آدمی اپنی نیت کے مطابق ہی صلہ پائے گا۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے جس نے دنیا کے فائدے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت اسی کے لیے ہوگی۔ “ [ رواہ البخاری : باب بدء الوحی ] مسائل ١۔ مومن کو ہر حال میں اپنے رب سے ڈرنا چاہیے۔ ٢۔ آخرت میں نیکی کا بدلہ بہترین اور بےحساب اجر ہے۔ ٣۔ جہاں دین پر عمل کرنا مشکل ہو وہاں سے ہجرت کرنے کا حکم ہے۔ ٤۔ صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر دیا جائے گا۔ تفسیر بالقرآن ہجرت کا حکم اور اجر : ١۔ ہجرت کا اجر وثواب اور فضیلت۔ (آل عمران : ١٩٥) ٢۔ ہجرت کے دوران فوت ہونے والے کو پورا ثواب ملے گا۔ (النساء : ١٠٠) ٣۔ ہجرت کا دنیا میں اجر۔ (النحل : ٤١، ٤٢) ٤۔ ہجرت نہ کرنے والوں کی سزا۔ (النساء : ٩٧، ٩٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 10 کہو اے میرے بندو ، جو ایمان ہوئے ہو ، قل یٰعباد الذین اٰمنوا (39: 10) اہل ایمان کی طرف نہایت ہی نظر کرم ہے۔ اصل میں عربی عبارت یوں ہے : قل یٰعباد الذین اٰمنوا (39: 10) یعنی ان سے میرا یہ پیغام کہہ دو کہ متقی بن جاؤ۔ اپنے رب سے ڈرو۔ لیکن اللہ نے اسے براہ راست پکارہ کے صیغے میں تبدیل کردیا۔ یہ ایک قسم کا اعلان اور تنبیہہ ہے۔ رسول اللہ ؐ تو مسلمانوں کو (یاعبادی) کہہ کر نہیں پکارتے تھے آپ تو عباد اللہ کہہ کر انہیں پکارتے تھے لیکن یہ اللہ کی نظر کرم ہے کہ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتا ہے کہ (یاعباد) کہہ کر پکارو۔ یوں یہ پکار اللہ کی جانب سے ہو اور حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے ڈائریکٹ خطاب کی حکایت فرمائیں۔ قل یٰعباد الذین اٰمنوا اتقوا ربکم (39: 10) ” اے نبی کہو ، اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو ، اپنے رب سے ڈرو “۔ تقویٰ کیا ہے ، وہی دل کی حساسیت۔ اللہ کی طرف ڈر اور خشیت کے ساتھ دیکھنا ۔ امید اور طمع کے ساتھ دیکھنا ۔ اس کے غضب ، ناراضگی سے ڈرتے رہنا۔ یہ ہے بہترین تصور اہل ایمان کی۔ اس آیت میں جو تصویر کشی کی گئی ہے اور اس میں جو رنگ بھرے گئے ہیں وہ وہی ہیں جو آیت سابقہ میں ہیں ، البتہ یہ عملی رنگ ہیں۔ للذین احسنوافی ھٰذہ الدنیا حسنة (39: 10) ” جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک رویہ اختیار کیا ، ان کے لیے بھلائی ہے “۔ کیا خوب جزاء ہے کہ اس دنیا میں اچھا سلوک کرو۔ تو یہاں اس حقیر دنیا میں بھی اچھائی پاؤ اور آخرت میں بھی اچھائی پاؤ۔ جو دار بقا دار دوام ہے۔ لیکن یہ انسان پر فضل وکرم ہے اور اللہ کو معلوم ہے کہ یہ انسان کس قدر ضعیف اور ناتواں ہے۔ اس لیے اللہ نے اس پر بےپناہ کرم کیا۔ وارض اللہ واسعة (39: 10) ” خدا کی زمین وسیع ہے “۔ لہٰذا زمین کی محبت اور کسی ایک جگہ کے ساتھ الفت تمہیں بہاکر نہ رکھ دے۔ نسب ، رشتہ داری اور دوستی کے روابط تمہیں بڑے کاموں سے روک نہ دیں۔ ہجرت ایک عظیم مقصد کے لیے ہوتی ہے ۔ اگر کوئی جگہ تمہارے دین کے لیے تنگ ہو اور جہاں تم اسلام کا محسنانہ نظام جاری نہیں کرسکتے تو پھر زمین سے چمٹے رہنا شیطان کی حرکت ہے۔ اور یہ انسان کے دل میں شرک کا ایک رنگ ہے۔ یہ قرآن کا نہایت ہی لطیف اشارہ ہے ، اس طرف انسان کے دل و دماغ میں خفی اس طرح سرایت کرتی ہے کہ بات اللہ کی وحدانیت اور اللہ سے ڈرنے کی ہورہی ہے۔ اور اس میں یہ لطیف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا سرچشمہ وہی ذات باری ہے جس نے انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ کیونکہ انسان کے دل و دماغ کا یہ علاج وہی ذات کرسکتی ہے جو انسان کی خالق ہے اور جو انسان کے بارے میں پوری معلومات رکھتی ہے۔ اور انسان کی شخصیت کے خفیہ گوشوں کو جانتی ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ یہ ہجرت انسانوں کے لیے کس قدر مشکل کام ہے۔ دنیا کے ان رابطوں کو یکلخت ترک کردیتا ، کوئی آسان کام نہیں ہے۔ ایک چالو زندگی کو ترک کرنا ، رزق کے ایسے وسائل جن کا انسان عادی ہوجائے۔ ان کو ترک کرنا ، چلتے ہوئے کاروبار کو چھوڑنا ، اور بالکل ایک نئی سرزمین پر ازسرنو زندگی شروع کرنا ایک بہت ہی مشکل کام ہے۔ اس کے لیے انسان مشکل سے تیار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں اس معاملے کو بڑا صبر کہا گیا ہے اور اس پر بڑے اور پورے اجر کا وعدہ کیا گیا ہے۔ انما۔۔۔۔ حساب (39: 10) ” صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بغیر حساب کے دیا جائے گا “۔ یہاں اللہ تعالیٰ انسانی دلوں کو نہایت ہی برمحل یہ احساس دلاتا ہے اور ان کو اس کام کے لیے آمادہ فرماتے ہیں جو بالعموم انسانوں کے لیے بہت ہی دشوار ہوتا ہے۔ اور ہجرت جیسے شدید حالات میں اللہ ان پر اپنی رحمت اور شفقت اور اپنے قرب کی شبنم گراتا ہے۔ اور وطن کے روابط ، الفت و محبت اور اہل و عیال اور رشتہ داریوں اور دوستوں کو قربان کرنے پر بعض بےحساب اجر کا وعدہ فرماتا ہے ۔ پاک ہے وہ ذات جو انسان کے بارے میں حلیم وخبیر ہے۔ اور انسانی قلوب کے ساتھ یہ مشفقانہ معاملہ کرتی ہے۔ اور انسانی نفسیات کے نشیب و فراز کے اندر گہرائیوں تک پائے جانے والے نہایت ہی خفیہ احساسات کو جانتی ہے اور ان کا مداوا کرتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ سے ڈرنے اور خالص اس کی عبادت کرنے کا حکم ان آیات میں اللہ جل شانہٗ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو متعدد باتوں کا اعلان کرنے کا حکم دیا ہے اول تو یہ فرمایا کہ آپ میرے مومن بندوں سے فرما دیجیے کہ تم اپنے رب سے ڈرو، یہ ڈرنا اعمال صالحہ پر ابھارنے اور گناہوں سے بچنے کا ذریعہ ہوتا ہے جب کوئی شخص اعمال صالحہ ادا کرتا ہے تو اس کی نیکیاں جمع ہوتی رہتی ہیں، ان نیکیوں پر صبر کرنا اور جمے رہنا مبارک ہے صبر کرنے والوں کا پورا پورا اجر وثواب اللہ تعالیٰ بغیر حساب کے عطا فرما دے گا، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا (وَّاَرْضُ اللّٰہِ وَاسِعَۃٌ) (اللہ کی زمین فراخ ہے۔ ) اس میں یہ بیان فرمایا کہ جو کوئی ایسی جگہ رہتا ہے جہاں کافر رہتے اور بستے ہیں اور ان کے نرغہ میں رہنے کی وجہ سے دین پر نہیں جم سکتا اور اعمال صالحہ انجام نہیں دے سکتا اور ممنوعات شرعیہ سے نہیں بچ سکتا تو وہاں سے چلا جائے اور کسی ایسی جگہ جاکر آباد ہوجائے جہاں احکام اسلام پر عمل کرسکتا ہو، اور کوئی شخص یہ نہ سوچے کہ میں یہاں سے کہاں جاؤں ہمت اور ارادہ کرے گا اور وطن کی محبت سے بالا تر ہو کر اللہ تعالیٰ کی محبت کے پیش نظر نکل کھڑا ہوگا تو انشاء اللہ بہت سی جگہ مل جائے گی، سورة النساء میں اسی کو یوں بیان فرمایا (وَمَنْ یُّھَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا کَثِیْرًا وَّسَعَۃً ) (اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہجرت کرے گا تو اس کو روئے زمین پر جانے کی بہت جگہ ملے گی اور بہت گنجائش۔ ) دوم یہ حکم دیا کہ آپ اعلان فرما دیں کہ مجھے یہ حکم ہوا ہے کہ صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کروں خالص اسی کی عبادت میں مشغول رہوں اور مجھے یہ بھی حکم ہوا ہے کہ مسلمانوں میں سب سے پہلا مسلمان ہوں چونکہ یہ امت آخری امت ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آخری نبی ہیں لہٰذا آپ اس کی آخری امت میں سب سے پہلے مسلمان ہیں جیسے دیگر تمام مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل پیرا ہونا لازم ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا دین پیش کرنے والے پر بھی ان احکام کی فرمانبرداری لازم ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی ذات سے متعلق ہیں اس اعلان میں یہ بتادیا کہ میں بھی اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں اور فرمانبردار ہوں اور صرف دوسروں ہی کو ایمان کی دعوت نہیں دیتا خود بھی مومن ہوں اور احکام پر عمل پیرا ہوں معلوم ہوا کہ ہر داعی کو اپنی دعوت پر خود بھی عمل پیرا ہونا لازم ہے۔ تیسرا حکم یہ دیا کہ آپ فرما دیجیے اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں تو بڑے دن کے عذاب کا خوف رکھتا ہوں (انبیاء کرام (علیہ السلام) گنہگار اور نافرمان نہیں ہوتے تھے بطور فرض یہ اعلان کروا دیا گیا کہ میں خود نافرمانی کے مواخذہ سے ڈرتا ہوں جبکہ اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں لہٰذا دیگر افراد کو تو زیادہ خوف زدہ ہونے اور مواخذہ سے ڈرنے کی ضرورت ہے۔ چوتھا حکم یہ دیا کہ آپ لوگوں سے فرما دیں کہ دیکھو میں تو خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہوں (اور تمہیں بھی اسی کی دعوت دیتا ہوں) تم میری دعوت قبول نہیں کرتے تو تم جانو اللہ کو چھوڑ کر جس کی چاہو عبادت کرلو لیکن اس کا انجام برا ہوگا۔ پانچویں حکم میں فرمایا کہ آپ فرما دیجیے اصل خسارہ والے وہ ہیں جو قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے اہل و عیال کی طرف سے خسارہ میں پڑیں گے یعنی اس کفر و شرک کے وبال میں قیامت کے دن جو ابتلا ہوگا وہ سخت خسارہ کی صورت میں سامنے آئے گا اس دن کا خسارہ معمولی نہ ہوگا اس دن اپنی اس جان کو کوئی نفع نہ پہنچا سکیں گے اور نہ عذاب سے بچا سکیں اللہ تعالیٰ کا حکم نافذ ہوگا دوزخ میں داخل ہوں گے فرشتے عذاب دیں گے اور جن لوگوں کو انہوں نے کفر و شرک پر ڈالا یعنی ان کے اہل و اولاد اور دوسرے لوگ جو اتباع کرنے والے تھے وہ بھی ان کے نہ رہیں گے وہ ان پر لعنت بھیجیں گے ہر ایک دوسرے سے بھاگے گا اور کوئی کسی کی مدد نہ کرسکے گا دنیا میں جو اپنے تھے وہ وہاں اپنے نہ رہیں گے۔ جب دنیا میں کفر و شرک پر ڈال کر اپنی جانوں کا ناس کھو دیا تو اپنی جانوں سے بھی گئے اور ان کی جانوں سے بھی (اَلاَ ذٰلِکَ ھُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ) (خبر دار خوب سمجھ لو کہ یہ واضح کھلا ہوا خسارہ ہے۔ )

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

17:۔ ” قل یعباد الخ “ یہ ایمان والوں کے لیے دنیوی اور اخروی بشارت ہے۔ میرے مومن بندوں سے کہہ دو کہ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہیں اس کے احکام کی تعمیل اور اس کے منہیات سے احتراز کرتے ہیں۔ جو لوگ پورے اخلاص کے ساتھ ایمان وتقوی پر قائم رہیں گے دنیا میں بھی ان پر انعام و اکرام کے دروازے کھولدئیے جائیں گے۔ یہ اس صورت میں ہے جبکہ ” فی ھذہ الدنیا “ ” حسنۃ “ کے متعلق ہو۔ اور اگر ” فی الدنیا “ ” احسنوا “ کے متعلق ہو تو مطلب یہ ہوگا کہ جو لوگ دنیا میں اعمال صالحہ بجا لائیں گے وہ آخرت میں اس کا اجر وثواب پائیں گے ” وارض اللہ واسعۃ “ یہ ہجرت کی ترغیب ہے اگر غلبہ کفار کی وجہ سے تم اپنے وطن میں اللہ کے دین پر قائم نہیں رہ سکتے اور نہ کما حقہ، اس کی عبادت کرسکتے ہو تو اللہ کی زمین فراخ ہے کسی دوسری جگہ چلے جاؤ۔ جہاں تم اطمینان سے اپنے دین کو قائم کرسکو۔ جو لوگ ہجرت کے مصائب و شدائد پر صبر کرتے اور خندہ پیشانی سے انہیں برداشت کرتے ہیں انہیں آخرت میں بےحساب اجر وثواب ملے گا۔ ” انما یوفی الصابرون “ الذین صبروا علی الہجرۃ و مفارقۃ المحاب والاقتداء بالانبیاء والصالحین اجرھم بغیر حساب (روح ج 23 ص 248) ۔ ” قل یا عباد الخ “ اللہ تعالیٰ کا مقول ہے جسے بعینہ بندگان خدا تک پہنچانے کا آں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم دیا گیا ہے۔ ” یٰعباد الخ “حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مقولہ نہیں تاکہ اس سے یہ استدلال کیا جاسکے کہ تمام مؤمنین آپ کے بندے ہیں جیسا کہ اہل بدعت بیان کرتے ہیں۔ ای قل لہم قولی ھذا بعینہ وفیہ تشریف لھم باضافتہم الی ضمیر الجلالۃ (روح ج 23 ص 248) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(10) اے پیغمبر آپ میرے امان والے بندوں سے فرمادیجئے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ جو لوگ اس دنیا میں بھلے اور اچھے کام کیا کرتے ہیں ان کے لئے آخرت میں بھی بھلائی ہے اور اللہ تعالیٰ کی زمین بہت وسیع اور فراخ ہے جو لوگ مصائب وآلام پر سہار کرتے ہیں اور ثابت قدم رہتے اور صبر کرنے والے ہیں تو سوائے اس کے نہیں کہ ان کے صبر کا صلہ ان کو بیشمار اور ان گنت دیاجائے گا۔ یعنی اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ طاعت اور فرمانبرداری اور خشیت الٰہی اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہا کریں اور بھلائیوں پر مدادست رکھیں کیونکہ جو لوگ اس دنیا میں بھلائی اور نیک کاموں کے خوگرہوتے ہیں ان کو بھلائی یعنی جنت ہے بعض لوگوں نے فی الدنیا کو حسنۃ کے متعلق کہا ہے او یوں معنی کئے ہیں کہ جو بھلے کام کرتے ہیں ان کو دنیا میں بھی بھلائی ہے یعنی صحت و عافیت عطا ہوئی ہے بہرحال دنیا میں صحت و عافیت اور آخرت میں بہشت عطا ہوتی ہے۔ اس طرح مفسرین کے دونوں قول جمع ہوسکتے ہیں پھر اگر وطن میں کوئی نیک کاموں سے مانع ہو اور تم میں دفاع کی طاقت اور قوت نہ ہو تو وطن سے ہجرت کرکے کوئی ایسی جگہ اختیار کرلو جہاں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں کوئی مزاحم نہ ہو کیونکہ میری زمین وسیع ہے۔ حضرت ابن عباس اور حضرت مجاہد نے آیت کی تفسیر ہجرت سے کی ہے اور مکہ والوں کو ہجرت کی ترغیب کے لئے اس آیت کا شان نزول فرمایا پھر ہجرت کرنے یا نہ کرنے پر جو مصائب وآلام آئیں ان کو خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرنے اور ان پر صبر کرنے والوں کو بغیر حساب اجر کا وعدہ فرمایا ہے یعنی بہت اجر دیاجائے گا اور بھر پور ملے گا اجر صبر کرنے والوں کو۔