Surat uz Zumur

Surah: 39

Verse: 33

سورة الزمر

وَ الَّذِیۡ جَآءَ بِالصِّدۡقِ وَ صَدَّقَ بِہٖۤ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ﴿۳۳﴾

And the one who has brought the truth and [they who] believed in it - those are the righteous.

اور جو سچے دین کو لائے اور جس نے اس کی تصدیق کی یہی لوگ پارسا ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَالَّذِي جَاء بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ ... And he who has brought the truth and (those who) believed therein, Mujahid, Qatadah, Ar-Rabi` bin Anas and Ibn Zayd said, "The one who brought the truth was the Messenger." Abdur-Rahman bin Zayd bin Aslam said: وَالَّذِي جَاء بِالصِّدْقِ (And he who has brought the truth), means the Messenger of Allah. وَصَدَّقَ بِه (and (those who) believed therein) means the Muslims." ... أُوْلَيِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ they are those who have Taqwa. Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, said, "They fear and shun Shirk."

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

33۔ 1 اس سے پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ مراد ہیں جو سچا دین لے کر آئے۔ بعض کے نزدیک یہ عام ہے اور اس سے ہر وہ شخص مراد ہے جو توحید کی دعوت دیتا اور اللہ کی شریعت کی طرف کی رہنمائی کرتا ہے۔ 33۔ 2 بعض اس سے حضرت ابوبکر صدیق مراد لیتے ہیں جنہوں نے سب سے پہلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لائے۔ بعض نے اسے بھی عام رکھا ہے، جس میں سب مومن شامل ہیں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان رکھتے ہیں اور آپ کو سچا مانتے ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٤٩] یہ آیت سابقہ آیت کا عکس ہے۔ اور اس کا مصداق ایک بھی ہوسکتا ہے اور دو الگ الگ بھی۔ یعنی جو شخص خود بھی سچ بات پیش کرتا ہے۔ سچ ہی بولتا ہے اور اگر کوئی سچی بات اس کے سامنے پیش کی جائے تو اس کی تصدیق بھی کردیتا ہے تو ایسا شخص فی الواقع متقی ہے اور دوسری صورت میں سچ بولنے والا تو رسول ہے۔ اور اس کی تصدیق کرنے والے مومنین ہیں۔ اور ایسے لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَالَّذِيْ جَاۗءَ بالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهٖٓ‘ وَالَّذِيْ سے مراد پہلے گروہ کے بالمقابل گروہ ہے اور پہلی آیت کے ” مَنْ “ کی طرح اس آیت میں ” وَالَّذِيْ “ عموم کے لیے ہے، اس سے مراد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ہر وہ شخص ہے جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت لے کر اٹھ کھڑا ہو، کیونکہ یہ لوگ سچی بات لانے والے بھی ہیں اور اسے سچ ماننے والے بھی۔ سچ لے کر آنے کے ساتھ اس کی تصدیق کی شرط اس لیے لگائی کہ بعض اوقات آدمی سچ بیان کردیتا ہے، مگر اپنے تکبرّ کی وجہ سے اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتا، اس لیے تعریف کے قابل وہی ہے جس میں صدق اور تصدیق دونوں پائی جائیں، کیونکہ اس کا صدق اس کے علم کی دلیل ہے اور تصدیق اس کی تواضع اور تکبرّ سے پاک ہونے کی دلیل ہے۔ (سعدی) شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” جو سچی بات لے کر آیا وہ نبی اور جس نے سچ مانا وہ مومن ہے۔ “ (موضح) اس تفسیر کے مطابق دونوں کا مصداق الگ الگ ہے، اس لیے بعض مفسرین نے سچی بات لانے والے سے مراد نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لیے ہیں، کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس امت میں سب سے پہلے سچی بات لے کر آئے اور اس کی تصدیق کرنے والے سے مراد ابوبکر صدیق (رض) لیے ہیں، کیونکہ وہ سب سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے۔ اگرچہ ابوبکر (رض) کے علاوہ تمام مومن بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کی اور وہ تمام داعی بھی سچی بات لانے والوں میں شامل ہیں جنھوں نے اسلام کی دعوت دی۔ اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْمُتَّـقُوْنَ : یعنی یہی لوگ شرک سے بچنے والے اور جہنم سے بچے رہنے والے ہیں۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَالَّذِيْ جَاۗءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہٖٓ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْمُتَّـقُوْنَ۝ ٣٣ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال «1» : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ صدق الصِّدْقُ والکذب أصلهما في القول، ماضیا کان أو مستقبلا، وعدا کان أو غيره، ولا يکونان بالقصد الأوّل إلّا في القول، ولا يکونان في القول إلّا في الخبر دون غيره من أصناف الکلام، ولذلک قال : وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ص دق) الصدق ۔ یہ ایک الکذب کی ضد ہے اصل میں یہ دونوں قول کے متعلق استعمال ہوتے ہیں خواہ اس کا تعلق زمانہ ماضی کے ساتھ ہو یا مستقبل کے ۔ وعدہ کے قبیل سے ہو یا وعدہ کے قبیل سے نہ ہو ۔ الغرض بالذات یہ قول ہی کے متعلق استعمال ہوتے ہیں پھر قول میں بھی صرف خبر کے لئے آتے ہیں اور اس کے ماسوا دیگر اصناف کلام میں استعمال نہیں ہوتے اسی لئے ارشاد ہے ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ وہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ وقی الوِقَايَةُ : حفظُ الشیءِ ممّا يؤذيه ويضرّه . يقال : وَقَيْتُ الشیءَ أَقِيهِ وِقَايَةً ووِقَاءً. قال تعالی: فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] ، والتَّقْوَى جعل النّفس في وِقَايَةٍ مما يخاف، هذا تحقیقه، قال اللہ تعالی: فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] ( و ق ی ) وقی ( ض ) وقایتہ ووقاء کے معنی کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَوَقاهُمُ اللَّهُ [ الإنسان/ 11] تو خدا ان کو بچا لیگا ۔ التقویٰ اس کے اصل معنی نفس کو ہر اس چیز ست بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو لیکن کبھی کبھی لفظ تقوٰی اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنِ اتَّقى وَأَصْلَحَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ الأعراف/ 35] جو شخص ان پر ایمان لا کر خدا سے ڈرتا رہے گا اور اپنی حالت درست رکھے گا ۔ ایسے لوگوں کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٣۔ ٣٤) اور جو ذات توحید اور قرآن حکیم لے کر آئے یعنی نبی اکرم اور اس کی حضرت ابوبکر صدیق اور ان کے ساتھیوں نے تصدیق کی ایسے ہی لوگ کفر و شرک اور برائیوں سے بچنے والے ہیں وہ جو کچھ چاہیں گے ان کے لیے جنت میں سب کچھ ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٣ { وَالَّذِیْ جَآئَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِہٖٓ } ” اور وہ شخص جو سچائی لے کر آیا اور وہ جس نے اس کی تصدیق کی “ گزشتہ آیت کی طرح یہاں بھی دونوں احتمالات موجود ہیں۔ یعنی یہ الگ الگ دو کردار بھی ہوسکتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ دونوں خوبیاں کسی ایک ہی شخص میں پائی جائیں کہ وہ راست باز بھی ہے اور حق کی تصدیق کرنے والابھی۔ لیکن اس آیت کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ یہاں وَالَّذِیْ جَآئَ بِالصِّدْقِ سے مراد محمد ٌ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں جو اللہ کی طرف سے حق اور سچائی لے کر آئے ہیں اور وَصَدَّقَ بِہٖٓ سے مراد حضرت ابوبکر صدیق (رض) ہیں جنہوں نے اس سچائی کی بلا حیل و حجت تصدیق کی۔ { اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُتَّقُوْنَ } ” یہی لوگ ہیں کہ جو متقی ہیں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

52 It means this: "As to who will receive punishment in the trial before Allah on the day of Resurrection, you should note it well that the punishment inevitably will be inflicted on those wicked people who invented a false creed that there were other associates also with AIlah, who had a share in His Being, authority, powers and rights, and worse than that, when the truth was presented before them, they not only paid no heed to it, but, on the contrary, treated the one who presented it as an impostor. As far as the person who came with the truth, and those who affirmed faith in him, are concerned there can obviously be no question of their receiving any punishment from the Court of Allah. "

سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :52 مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جو مقدمہ ہونا ہے اس میں سزا پانے والے کون ہوں گے ، یہ بات تم آج ہی سن لو ۔ سزا لازماً انہی ظالموں کو ملنی ہے جنہوں نے یہ جھوٹے عقیدے گھڑے کہ اللہ کے ساتھ اس کی ذات ، صفات ، اختیارات اور حقوق میں کچھ دوسری ہستیاں بھی شریک ہیں ، اور اس سے بھی زیادہ بڑھ کر ان کا ظلم یہ ہے کہ جب ان کے سامنے سچائی پیش کی گئی تو انہوں نے اسے مان کر نہ دیا بلکہ الٹا اسی کو جھوٹا قرار دیا جس نے سچائی پیش کی ۔ رہا وہ شخص جو سچائی لایا اور وہ لوگ جنہوں نے اس کی تصدیق کی ، تو ظاہر ہے کہ اللہ کی عدالت سے ان کے سزا پانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(39:33) الذی جاء بالصدق وصدق بہ : الذی اسم موصول ، مبتداء جاء بالصدق وصدق بہ متعلق مبتدا۔ اولئک ہم المتقون۔ خبر۔ الصدق۔ سچ ۔ سچی بات۔ صداق بمعنی لا الہ الا اللّٰہ۔ صدق یصدق باب نصر کا مصدر ہے۔ صدق باب تفعیل ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب بہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب الصدق کی طرف راجع ہے اس نے اس کی تصدیق کی۔ الذی جاء بالصدق وصدق بہ کے متعلق مختلف اقوال ہیں :۔ (1) الذی جاء ۔۔ سے مراد رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ اور صدق بہ میں ضمیر فاعل کا مرجع بھی وہی ہیں۔ یعنی وہ سچ لائے اور اس کی تصدیق بھی کی۔ (2) الذی جاء سے مراد رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور صدق بہ سے مراد حضرت ابوبکر صدیق (رض) ہیں۔ (3) الذی جاء سے مراد حضرت جبرائیل ہیں اور صدق بہ سے مراد حضرت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ (4) الذی جاء ۔۔ سے مراد رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور صدق بہ سے مراد خود ان کی ذات اقدس اور آپ کے متبعین ہیں۔ (5) الذی جاء میں الذی بمعنی الذین ہے اور یہاں مراد صرف رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی نہیں بلکہ تمام انبیاء اور مؤمنین ہیں اس سے اگلا جملہ اس کی تصدیق کرتا ہے۔ اور ایسی مثال اور جگہ قرآن مجید میں ہے ولقد اتینا موسیٰ الکتب لعلہم یھتدون (23:49) ہم نے (حضرت) موسیٰ کو کتاب دی تاکہ وہ لوگ ہدایت پائیں۔ الذی بمعنی الذین متعدد جگہ قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے مثلا :۔ (1) مثلہم کمثل الذین استوقد نارا : ای الذین اس تو قدوا نارا اس کی دلیل اس کے بعد ارشاد الٰہی ہے۔ ذھب اللّٰہ بنورہم وترکیم فی ظلمت لایبصرون (2:17) (2) کالذی ینفق مالہ رئاء الناس۔ ای کالذین ینفقون ۔۔ بدلیل کلام مابعد لا یقدرون علی شیء مما کسبوا (2:264) ۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا :۔ اور جو لوگ سچی بات لے کر آئے اور خود بھی اس کو سچ جانا یہی لوگ اہل تقوی ہیں (خدا سے ڈرنے والے، پرہیزگار ہیں) ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 مراد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور ہر وہ شخص جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت لے کر کھڑا ہوا۔5 مراد تمام مومن ہیں۔6 یعنی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے ہاں عذاب سے محفوظ رہیں گے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : حق کو جھٹلانے والے کے مقابلے میں سچائی کی تصدیق کرنے والے کا مقام اور صلہ۔ جو شخص لوگوں کے سامنے سچائی کے ساتھ آیا اور جس نے سچائی کی حمایت کی وہی لوگ اپنے رب سے ڈرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جس کی وہ تمنا کریں گے۔ نیکی کرنے والوں کو اس طرح ہی صلہ دیا جائے گا۔ حق لانے والے سے مراد سرور دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی ہے۔ تصدیق کرنے والوں میں سر فہرست صحابہ کرام (علیہ السلام) کی جماعت ہے۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ ( علیہ السلام) کو حق بات کی دعوت دی تو انہوں نے اسے قبول کیا اور دل و جان کے ساتھ حق کا ساتھ دیا۔ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور صحابہ (رض) کے بعدہر آدمی اس صلہ کا حق دار ٹھہرے گا۔ جس نے سچائی کو قبول کیا اور خلوص دل کے ساتھ لوگوں تک حق بات پہنچانے کی جدوجہد کرتا رہا۔ ایسے لوگ ہی صاحب تقویٰ ہیں انہیں وہ سب کچھ دیا جائے گا جس کی وہ چاہت کریں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے گناہوں کو ختم فرمائے گا اور ان کے نیک کاموں کا بہترین بدلہ دینے کے ساتھ انہیں اپنے کرم سے مزید نوازتا رہے گا۔ گناہوں کے خاتمہ کے بارے میں ” کَفَّرَ “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنٰی ہے کسی بات کو ہر اعتبار سے چھپادیا جائے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدق دل سے حق کو ماننے والے اور اپنی استعداد کے مطابق اس کا پرچار کرنے والوں کے نامہ اعمال سے ان کے گناہوں کو کلیتاً ختم کردیا جائے گا۔ الحمد للہ علی ذالک ! (مَنْ دَلَّ عَلٰی خَیْرٍ فَلَہٗ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِہٖ ) [ رواہ مسلم : کتاب الإمارۃ، باب فضل إعانۃ الغازی ....] ” جس نے نیکی کے کام کی رہنمائی کی اس کو نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملے گا۔ “ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعا : (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) أَنَّ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کَانَ یَقُولُ فِی سُجُودِہٖ اللّٰہُمَّ اغْفِرْ لِی ذَنْبِی کُلَّہٗ دِقَّہٗ وَجِلَّہٗ وَأَوَّلَہٗ وَآخِرَہٗ وَعَلَانِیَتَہٗ وَسِرَّہٗ )[ رواہ مسلم : کتاب الصلاۃ ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں بلاشبہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے سجدوں میں پڑھا کرتے تھے اے اللہ میرے چھوٹے اور بڑے پہلے اور بعد والے، اعلانیہ اور پوشیدہ کیے ہوئے تمام کے تمام گناہ معاف فرمادے۔ “ احسن بات اور احسن عمل : (وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا اِِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ )[ حم السجدہ : ٣٣] ” اور اس شخص کی بات سے اچھی بات کسی کی ہوسکتی ہے کہ جس نے لوگوں کو اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیے اور اقرار کیا کہ میں مسلمان ہوں۔ “ مسائل ١۔ جس شخص نے حق قبول کیا اور اسے لوگوں تک پہنچایا اس کے لیے بہترین اجر ہوگا۔ ٢۔ حق قبول کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے والے کے گناہوں کو بالکل ختم کردیا جاتا ہے۔ ٣۔ مذکورہ شخص پر اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے بےانتہا کرم نوازیاں فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے گناہ معاف کرتا ہے : ١۔ میں اللہ سے مغفرت طلب کروں گا بیشک وہ بخشنے اور رحم کرنے والا ہے۔ (یوسف : ٩٨) ٢۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے معاف کر دے، جسے چاہے عذاب دے، وہ بخشنے اور رحم کرنے والا ہے۔ (آل عمران : ١٢٩) ٣۔ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کو اپنی رحمت میں داخل فرمائے گا یقیناً وہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (التوبۃ : ٩٩) ٤۔ اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرو یقیناً وہ معاف کرنے والا مہربان ہے۔ (البقرۃ : ١٩٩) ٥۔ اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہیں سکتے اللہ بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ ( النحل : ١٨) ٦۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے یہی لوگ امیدوار ہیں اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (البقرۃ : ٢١٨) ٧۔ اے رب ہمیں معاف کردے اور ہم پر رحم فرما تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔ (المومنون : ١٠٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 33 یہاں متقین اور ان کے لیے تیار شدہ جزاء کی تفصیلات دی جاتی ہیں .

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد اہل ایمان کا حال بتایا (وَالَّذِیْ جَاء بالصِّدْقِ ) (اور جو شخص سچی بات کو لے کر آیا) اس کا عموم تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) اور جو حضرات ان کے کام میں لگے حق کے داعی بنے ان سب کو شامل ہے (وَصَدَّقَ بِہٖ ) (اور جس نے سچی بات کی تصدیق کی) (اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الْمُتَّقُوْنَ ) (یہ لوگ پرہیز کرنے والے ہیں) شرک سے کفر سے گناہوں سے بچتے ہیں حضرت ابن عباس (رض) سے منقول ہے ” الصدق “ (سچی بات) سے کلمہ (لا الہ الا اللّٰہ) اور (الذی جآء) سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی مراد ہے

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

35:۔ ” والذی جاء الخ “ یہ منکرین کے مقابلے میں مومنین کا حال اور ان کے لیے بشارتِ اخروی ہے۔ جو شخص پیغامِ حق لے کر آیا۔ صرف لے کر ہی نہیں آیا بلکہ دل و جان سے اسے مانتا بھی ہے تو ایسے لوگ ہی حقیقت میں خدا سے ڈرنے والے اور پرہیز گار ہیں۔ اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور بالتبع صحابہ کرام (رض) مراد ہیں اور ” الصدق “ سے پیغام حق یعنی پیغام توحید مراد ہے۔ الموصول عبادرۃ عن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کما اخرجہ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی فی الاسماء والصفات عن ابن عباس و فسر الصدق بلا الہ الا اللہ والمؤمنون داخلون بدلالۃ السیاق وحکم التبعیۃ الخ (روح ج 24 ص 2) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(33) اور وہ لوگ جو سچی بات لے کر آئے اور خود بھی اس سچی بات کی تصدیق کی تو یہی لوگ ڈرانے والے اور پرہیزگار۔ چونکہ مفسرین کے اس آیت کی تفسیر میں کئی قول ہیں اس لئے ترجمہ اور تیسیر ہیں ان کی رعایت کی گئی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں جو سچ لایا وہ نبی اور جس نے سچ مانا وہ مومون۔ وہ لوگ جو سچ لائے اس میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام جو خدا کی طرف سے دین حق لے کر آئے یارسول کی طرف سے کوئی دین حق کی تبلیغ کے لئے کہیں گیا سب شامل ہیں اور رسول یارسول کے رسول نے خود بھی تصدیق کی اور دین حق کو سچا جانا یعنی خود صادق بھی اور مصدق بھی تو ان لوگوں کو متقی فرمایا۔ بعض حضرات نے فرمایا صادق رسول اور اس کی تصدیق کرنے والے اس کے تابعین حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ دین حق کو لانے والے بنی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور تصدیق کرنے والے ابوبکر صدیق (رض) ، حضرت عطا کا قول ہے کہ صدق کی وحدت حضرت ابن عباس (رض) اور سدی سے منقول ہے۔