Surat uz Zumur

Surah: 39

Verse: 38

سورة الزمر

وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ مَّنۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ لَیَقُوۡلُنَّ اللّٰہُ ؕ قُلۡ اَفَرَءَیۡتُمۡ مَّا تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ اَرَادَنِیَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ہَلۡ ہُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہٖۤ اَوۡ اَرَادَنِیۡ بِرَحۡمَۃٍ ہَلۡ ہُنَّ مُمۡسِکٰتُ رَحۡمَتِہٖ ؕ قُلۡ حَسۡبِیَ اللّٰہُ ؕ عَلَیۡہِ یَتَوَکَّلُ الۡمُتَوَکِّلُوۡنَ ﴿۳۸﴾

And if you asked them, "Who created the heavens and the earth?" they would surely say, " Allah ." Say, "Then have you considered what you invoke besides Allah ? If Allah intended me harm, are they removers of His harm; or if He intended me mercy, are they withholders of His mercy?" Say, "Sufficient for me is Allah ; upon Him [alone] rely the [wise] reliers."

اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ تو یقیناً وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے ۔ آپ ان سے کہئیے کہ اچھا یہ تو بتاؤ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو اگر اللہ تعالٰی مجھے نقصان پہنچانا چاہے تو کیا یہ اس کے نقصان کو ہٹا سکتے ہیں؟ یا اللہ تعالٰی مجھ پر مہربانی کا ارادہ کرے تو کیا یہ اس کی مہربانی کو روک سکتے ہیں؟ آپ کہہ دیں کہ اللہ مجھے کافی ہے ، توکل کرنے والے اسی پر توکل کرتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَلَيِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ ... And verily, if you ask them: "Who created the heavens and the earth?" Surely, they will say: "Allah." means, the idolators used to recognize that Allah was the Creator of all things, but despite that they still worshipped others besides Him, others who had no power to bring benefit or cause harm. Allah said: ... قُلْ أَفَرَأَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّهِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللَّهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ ... Say: "Tell me then, the things that you invoke besides Allah -- if Allah intended some harm for me, could they remove His harm Or if He (Allah) intended some mercy for me, could they withhold His mercy?" meaning, they cannot do any of that at all. Here Ibn Abi Hatim recorded a narration from Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, attributing it to the Prophet: احْفَظِ اللهَ يَحْفَظْكَ احْفَظِ اللهَ تَجِدْهُ تُجَاهَكَ تَعَرَّفْ إِلَى اللهِ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفْكَ فِي الشِّدَّةِ إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللهِ وَاعْلَمْ أَنَّ الاْإُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعُوا عَلى أَنْ يَضُرُّوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ عَلَيْكَ لَمْ يَضُرُّوكَ وَلَوِ اجْتَمَعُوا عَلى أَنْ يَنْفَعُوكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَكْتُبْهُ اللهُ لَكَ لَمْ يَنْفَعُوكَ جَفَّتِ الصُّحُفُ وَرُفِعَتِ الاْإَقْلَإمُ وَاعْمَلْ للهِ بِالشُّكْرِ فِي الْيَقِينِ وَاعْلَمْ أَنَّ فِي الصَّبْرِ عَلى مَا تَكْرَهُ خَيْرًا كَثِيرًا وَأَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا Be mindful of Allah and He will protect you; be mindful of Allah and you will find Him ever with you. Turn to Allah in times of ease and He will turn to you in times of difficulty. If you ask anyone for anything, then ask Allah; if you seek help from anyone, then seek help from Allah. Know that even if the entire nation were to come together to do you some harm that Allah has not decreed for you, they will never be able to harm you, and if they were to come together to do you some good that Allah has not decreed for you, they will never be able to do that. The pages have dried and the pens have been lifted. Strive for the sake of Allah with thankfulness and firm conviction, and know that in patiently persevering with regard to something that you dislike there is much goodness. Victory comes with patience, a way out comes from difficulty and with hardship comes ease. ... قُلْ حَسْبِيَ اللَّهُ ... Say: "Sufficient for me is Allah..." means, `Allah is enough for me.' ... عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ in Him those who trust must put their trust." As He mention in other Ayah; عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ In Him I put my trust, and let all those that trust, put their trust in Him. (12: 67) This is like what Hud, peace be upon him, said to his people: إِن نَّقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاكَ بَعْضُ ءَالِهَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّى أُشْهِدُ اللَّهِ وَاشْهَدُواْ أَنِّى بَرِىءٌ مِّمَّا تُشْرِكُونَ مِن دُونِهِ فَكِيدُونِى جَمِيعًا ثُمَّ لاَ تُنظِرُونِ إِنِّى تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ رَبِّى وَرَبِّكُمْ مَّا مِن دَابَّةٍ إِلاَّ هُوَ ءاخِذٌ بِنَاصِيَتِهَأ إِنَّ رَبِّى عَلَى صِرَطٍ مُّسْتَقِيمٍ "All that we say is that some of our gods have seized you with evil. " He said: "I call Allah to witness and bear you witness that I am free from that which you ascribe as partners in worship, with Him. So plot against me, all of you, and give me no respite. I put my trust in Allah, my Lord and your Lord! There is not a moving creature but He has the grasp of its forelock. Verily, my Lord is on the straight path." (11:54-56)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

38۔ 1 بعض کہتے ہیں کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مذکورہ سوال ان کے سامنے پیش کیا، تو انہوں نے کہا کہ واقعی وہ اللہ کی تقدیر کو نہیں ٹال سکتے، البتہ وہ سفارش کریں گے، جس پر یہ ٹکڑا نازل ہوا کہ مجھے تو میرے معاملات میں اللہ ہی کافی ہے۔ 38۔ 2 جب سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے تو پھر دوسروں پر بھروسہ کرنے کا کیا فائدہ ؟ اس لئے اہل ایمان صرف اس پر توکل کرتے ہیں، اس کے سوا کسی پر اعتماد نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٥٤] یہ بات تو مشرکین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ زمین و آسمان یعنی اس کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ اور خالق اپنی پیدا کی ہوئی یا بنائی ہوئی چیز میں ہر طرح کے تصرف کا اختیار بھی رکھتا ہے۔ اور ایسے تصرف کا اختیار خالق کے علاوہ دوسری کسی ہستی کو نہیں ہوسکتا۔ بالخصوص جب کہ وہ خود بھی اللہ کی مخلوق اور اسی کے زیر تصرف ہے۔ اب ایک طرف تو اللہ تعالیٰ ہے جو اپنی مخلوق میں تصرف کے وسیع اختیارات رکھتا ہے اور دوسری طرف جو بھی معبود ہوگا بہرحال وہ اللہ کی مخلوق ہی ہوگا اور اللہ کے مقابلہ میں اس کا کچھ اختیار بھی نہیں چل سکتا اب بتاؤ کہ ان دونوں میں سے کس پر بھروسا کرنا چاہئے اور کس کو اپنی مدد کے لئے کافی سمجھنا چاہئے۔ اور ان معبودوں کا تو یہ حال ہے کہ وہ سب مل کر بھی میری اس تکلیف کو دور نہیں کرسکتے جو اللہ نے میرے مقدر میں لکھ دی ہے اور اگر اللہ مجھے اپنی رحمت سے نوازنا چاہے تو یہ سب مل کر بھی اسے روک نہیں سکتے۔ کیونکہ اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ بھی اختیارات نہیں ہیں۔ پھر جو چیزیں میرے نفع و نقصان سے متعلق مجبور محض ہیں۔ ان پر بھروسہ کرنا تو سخت نادانی کی بات ہوگی۔ واضح رہے کہ رسول اللہ کے علاوہ اور بھی کئی رسولوں کو مشرکوں کی طرف سے اس قسم کی دھمکیاں دی جاتی رہیں کہ اگر تم ہمارے معبودوں کی گستاخی سے باز نہ آئے تو وہ تمہیں مخبوط الحواس بنادیں گے اور تمہیں تباہ کرکے رکھ دیں گے اور یہ کردیں گے اور وہ کردیں گے تو اس کے جواب میں رسول یہی کہتے رہے۔ خ مشرکوں کی دھمکی کا جواب :۔ ان معبودوں سے کہو کہ میرا جو کچھ بگاڑنا چاہتے ہیں بگاڑ لیں اور فوری طور پر سب مل کر میرے خلاف کارروائی کر دیکھیں اور مجھے مہلت بھی نہ دیں۔ تاکہ مجھے بھی علم ہوجائے کہ وہ کچھ کرسکتے ہیں یا نہیں اور تمہیں بھی

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَلَىِٕنْ سَاَلْــتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ۔۔ : اس آیت میں مشرکین کی جہالت اور ان کے قول و عمل کے تضاد کو اجاگر کیا ہے۔ فرمایا، اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یقیناً کہیں گے، اللہ تعالیٰ نے۔ اس اقرار کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ جب خالق وہ ہے تو مالک بھی وہی ہے، پھر کسی اور کے پاس کسی طرح کے نفع یا نقصان کا کیا اختیار ہوسکتا ہے۔ اس لیے اس اقرار کے بعد انھیں اللہ کے سوا دوسری ہستیوں کے نفع یا نقصان کا اختیار نہ رکھنے کا اقرار کروانے کے لیے فرمایا، ان سے کہیے کہ پھر یہ بتاؤ کہ وہ ہستیاں جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، اگر اللہ مجھے کوئی تکلیف یا نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے تو کیا وہ اس کی تکلیف یا نقصان کو ہٹا سکتی ہیں، یا اگر وہ مجھ پر کوئی مہربانی فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو روک سکتی ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے کفار کا جواب یہاں ذکر نہیں فرمایا۔ یا تو اس لیے کہ اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ جب خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے تو کوئی دوسرا اس کے ارادے کے خلاف کیا کرسکتا ہے، یا اس لیے کہ مشرک یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کے معبود کچھ اختیار نہیں رکھتے، یہ نہیں کہیں گے کہ وہ نہ تکلیف دور کریں گے اور نہ اس کی رحمت کو روک سکیں گے، بلکہ لاجواب ہو کر خاموشی اختیار کریں گے۔ قُلْ حَسْبِيَ اللّٰهُ ۔۔ : یعنی کافر اس سوال کے جواب میں خاموش رہیں تو آپ خود فرما دیں کہ مجھے تو اللہ کافی ہے، تمام بھروسا کرنے والے اسی پر بھروسا کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ تمام بھروسا کرنے والوں کو اسی پر بھروسا کرنا لازم ہے، کیونکہ جب کسی بات کا زیادہ زور سے حکم دینا ہو تو اسے خبر کی صورت میں بیان کیا جاتا ہے، مثلاً کہنا ہو کہ آج سب لوگ فلاں جگہ عصر کی نماز پڑھیں، تو کہا جائے گا، آج سب لوگ عصر کی نماز فلاں جگہ پڑھ رہے ہیں یا پڑھیں گے۔ هَلْ هُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّهٖٓ ۔۔ : اللہ کے سوا ہستیوں کو مؤنث کے صیغے کے ساتھ ذکر کرنے سے ان کے بےاختیار ہونے کا اظہار اور ان کی تحقیر مراد ہے۔ ” اللہ کے سوا نفع یا نقصان کا کوئی بھی مالک نہیں “ یہ مضمون اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے قرآن مجید میں جا بجا بیان فرمایا ہے۔ دیکھیے سورة رعد (١٤ تا ١٦) ، فرقان (٣) ، انعام (١٧) اور سورة یونس (١٠٦، ١٠٧) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَلَىِٕنْ سَاَلْــتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَيَقُوْلُنَّ اللہُ۝ ٠ ۭ قُلْ اَفَرَءَيْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ اِنْ اَرَادَنِيَ اللہُ بِضُرٍّ ہَلْ ہُنَّ كٰشِفٰتُ ضُرِّہٖٓ اَوْ اَرَادَنِيْ بِرَحْمَۃٍ ہَلْ ہُنَّ مُمْسِكٰتُ رَحْمَتِہٖ۝ ٠ ۭ قُلْ حَسْبِيَ اللہُ۝ ٠ ۭ عَلَيْہِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُوْنَ۝ ٣٨ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی ابداع ہی ہے سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ، ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ ضر الضُّرُّ : سوءُ الحال، إمّا في نفسه لقلّة العلم والفضل والعفّة، وإمّا في بدنه لعدم جارحة ونقص، وإمّا في حالة ظاهرة من قلّة مال وجاه، وقوله : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] ، فهو محتمل لثلاثتها، ( ض ر ر) الضر کے معنی بدحالی کے ہیں خواہ اس کا تعلق انسان کے نفس سے ہو جیسے علم وفضل اور عفت کی کمی اور خواہ بدن سے ہو جیسے کسی عضو کا ناقص ہونا یا قلت مال وجاہ کے سبب ظاہری حالت کا برا ہونا ۔ اور آیت کریمہ : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] اور جوان کو تکلیف تھی وہ دورکردی ۔ میں لفظ ضر سے تینوں معنی مراد ہوسکتے ہیں كشف كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره، ويقال : كَشَفَ غمّه . قال تعالی: وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا کاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [ الأنعام/ 17] ( ک ش ف ) الکشف كَشَفْتُ الثّوب عن الوجه وغیره، کا مصدر ہے جس کے معنی چہرہ وغیرہ سے پر دہ اٹھا نا کے ہیں ۔ اور مجازا غم وانداز ہ کے دور کرنے پر بھی بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلا کاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ [ الأنعام/ 17] اور خدا تم کو سختی پہچائے تو اس کے سوا کوئی دور کرنے والا نہیں ہے ۔ رحم والرَّحْمَةُ رقّة تقتضي الإحسان إلى الْمَرْحُومِ ، وقد تستعمل تارة في الرّقّة المجرّدة، وتارة في الإحسان المجرّد عن الرّقّة، وعلی هذا قول النّبيّ صلّى اللہ عليه وسلم ذاکرا عن ربّه «أنّه لمّا خلق الرَّحِمَ قال له : أنا الرّحمن، وأنت الرّحم، شققت اسمک من اسمي، فمن وصلک وصلته، ومن قطعک بتتّه» فذلک إشارة إلى ما تقدّم، وهو أنّ الرَّحْمَةَ منطوية علی معنيين : الرّقّة والإحسان، فركّز تعالیٰ في طبائع الناس الرّقّة، وتفرّد بالإحسان، فصار کما أنّ لفظ الرَّحِمِ من الرّحمة، فمعناه الموجود في الناس من المعنی الموجود لله تعالی، فتناسب معناهما تناسب لفظيهما . والرَّحْمَنُ والرَّحِيمُ ، نحو : ندمان وندیم، ولا يطلق الرَّحْمَنُ إلّا علی اللہ تعالیٰ من حيث إنّ معناه لا يصحّ إلّا له، إذ هو الذي وسع کلّ شيء رَحْمَةً ، والرَّحِيمُ يستعمل في غيره وهو الذي کثرت رحمته، قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] ، وقال في صفة النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] ، وقیل : إنّ اللہ تعالی: هو رحمن الدّنيا، ورحیم الآخرة، وذلک أنّ إحسانه في الدّنيا يعمّ المؤمنین والکافرین، وفي الآخرة يختصّ بالمؤمنین، وعلی هذا قال : وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ، تنبيها أنها في الدّنيا عامّة للمؤمنین والکافرین، وفي الآخرة مختصّة بالمؤمنین . ( ر ح م ) الرحم ۔ الرحمۃ وہ رقت قلب جو مرحوم ( یعنی جس پر رحم کیا جائے ) پر احسان کی مقتضی ہو ۔ پھر کبھی اس کا استعمال صرف رقت قلب کے معنی میں ہوتا ہے اور کبھی صرف احسان کے معنی میں خواہ رقت کی وجہ سے نہ ہو ۔ اسی معنی میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حدیث قدسی میں فرمایا ہے (152) انہ لما خلق اللہ الرحم قال لہ انا الرحمن وانت الرحم شفقت اسمک میں اسمی فمن وصلک وصلتہ ومن قطعت قطعتۃ ۔ کہ جب اللہ تعالیٰ نے رحم پیدا کیا تو اس سے فرمایا :۔ تین رحمان ہوں اور تو رحم ہے ۔ میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے اخذ کیا ہے ۔ پس جو تجھے ملائے گا ۔ ( یعنی صلہ رحمی کرے گا ) میں بھی اسے ملاؤں گا اور جو تجھے قطع کرلیگا میں اسے پارہ پارہ کردوں گا ، ، اس حدیث میں بھی معنی سابق کی طرف اشارہ ہے کہ رحمت میں رقت اور احسان دونوں معنی پائے جاتے ہیں ۔ پس رقت تو اللہ تعالیٰ نے طبائع مخلوق میں ودیعت کردی ہے احسان کو اپنے لئے خاص کرلیا ہے ۔ تو جس طرح لفظ رحم رحمت سے مشتق ہے اسی طرح اسکا وہ معنی جو لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔ وہ بھی اس معنی سے ماخوذ ہے ۔ جو اللہ تعالیٰ میں پایا جاتا ہے اور ان دونوں کے معنی میں بھی وہی تناسب پایا جاتا ہے جو ان کے لفظوں میں ہے : یہ دونوں فعلان و فعیل کے وزن پر مبالغہ کے صیغے ہیں جیسے ندمان و ندیم پھر رحمن کا اطلاق ذات پر ہوتا ہے جس نے اپنی رحمت کی وسعت میں ہر چیز کو سما لیا ہو ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی پر اس لفظ کا اطلاق جائز نہیں ہے اور رحیم بھی اسماء حسنیٰ سے ہے اور اس کے معنی بہت زیادہ رحمت کرنے والے کے ہیں اور اس کا اطلاق دوسروں پر جائز نہیں ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے :َ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ [ البقرة/ 182] بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔ اور آنحضرت کے متعلق فرمایا ُ : لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ ما عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَؤُفٌ رَحِيمٌ [ التوبة/ 128] لوگو ! تمہارے پاس تمہیں سے ایک رسول آئے ہیں ۔ تمہاری تکلیف ان پر شاق گزرتی ہے ( اور ) ان کو تمہاری بہبود کا ہو کا ہے اور مسلمانوں پر نہایت درجے شفیق ( اور ) مہربان ہیں ۔ بعض نے رحمن اور رحیم میں یہ فرق بیان کیا ہے کہ رحمن کا لفظ دنیوی رحمت کے اعتبار سے بولا جاتا ہے ۔ جو مومن اور کافر دونوں کو شامل ہے اور رحیم اخروی رحمت کے اعتبار سے جو خاص کر مومنین پر ہوگی ۔ جیسا کہ آیت :۔ وَرَحْمَتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَيْءٍ فَسَأَكْتُبُها لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأعراف/ 156] ہماری جو رحمت ہے وہ ( اہل ونا اہل ) سب چیزوں کو شامل ہے ۔ پھر اس کو خاص کر ان لوگوں کے نام لکھ لیں گے ۔ جو پرہیزگاری اختیار کریں گے ۔ میں اس بات پر متنبہ کیا ہے کہ دنیا میں رحمت الہی عام ہے اور مومن و کافروں دونوں کو شامل ہے لیکن آخرت میں مومنین کے ساتھ مختص ہوگی اور کفار اس سے کلیۃ محروم ہوں گے ) مسك إمساک الشیء : التعلّق به وحفظه . قال تعالی: فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 229] ، وقال : وَيُمْسِكُ السَّماءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ [ الحج/ 65] ، أي : يحفظها، واستمسَكْتُ بالشیء : إذا تحرّيت الإمساک . قال تعالی: فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ [ الزخرف/ 43] ، وقال : أَمْ آتَيْناهُمْ كِتاباً مِنْ قَبْلِهِ فَهُمْ بِهِ مُسْتَمْسِكُونَ [ الزخرف/ 21] ، ويقال : تمَسَّكْتُ به ومسکت به، قال تعالی: وَلا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوافِرِ [ الممتحنة/ 10] . يقال : أَمْسَكْتُ عنه كذا، أي : منعته . قال : هُنَّ مُمْسِكاتُ رَحْمَتِهِ [ الزمر/ 38] ، وكنّي عن البخل بالإمساک . والمُسْكَةُ من الطعام والشراب : ما يُمْسِكُ الرّمقَ ، والمَسَكُ : الذَّبْلُ المشدود علی المعصم، والمَسْكُ : الجِلْدُ الممسکُ للبدن . ( م س ک ) امسک الشئی کے منعی کسی چیز سے چمٹ جانا اور اس کی حفاطت کرنا کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 229] پھر ( عورت کو ) یا تو بطریق شاہستہ نکاح میں رہنے دینا یا بھلائی کے ساتھ چھور دینا ہے ۔ وَيُمْسِكُ السَّماءَ أَنْ تَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ [ الحج/ 65] اور وہ آسمان کو تھا مے رہتا ہے کہ زمین پر نہ گر پڑے ۔ استمسکت اشئی کے معنی کسی چیز کو پکڑنے اور تھامنے کا ارداہ کرنا کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ فَاسْتَمْسِكْ بِالَّذِي أُوحِيَ إِلَيْكَ [ الزخرف/ 43] پس تمہاری طرف جو وحی کی گئی ہے اسے مضبوط پکرے رہو ۔ أَمْ آتَيْناهُمْ كِتاباً مِنْ قَبْلِهِ فَهُمْ بِهِ مُسْتَمْسِكُونَ [ الزخرف/ 21] یا ہم نے ان کو اس سے پہلے کوئی کتاب دی تھی تو یہ اس سے ( سند ) پکڑتے ہیں ۔ محاورہ ہے : ۔ کیس چیز کو پکڑنا اور تھام لینا ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَلا تُمْسِكُوا بِعِصَمِ الْكَوافِرِ [ الممتحنة/ 10] اور کافر عورتوں کی ناموس قبضے میں نہ رکھو ( یعنی کفار کو واپس دے دو ۔ امسکت عنہ کذا کسی سے کوئی چیز روک لینا قرآن میں ہے : ۔ هُنَّ مُمْسِكاتُ رَحْمَتِهِ [ الزمر/ 38] تو وہ اس کی مہر بانی کو روک سکتے ہیں ۔ اور کنایہ کے طور پر امساک بمعنی بخل بھی آتا ہے اور مسلۃ من الطعام واشراب اس قدر کھانے یا پینے کو کہتے ہیں جس سے سد رہق ہوسکے ۔ المسک ( چوڑا ) ہاتھی دانت کا بنا ہوا زبور جو عورتیں کلائی میں پہنتی ہیں المسک کھال جو بدن کے دھا نچہ کو تھا مے رہتی ہے ۔ حَسْبُ يستعمل في معنی الکفاية، وحَسْبُ يستعمل في معنی الکفاية، حَسْبُنَا اللَّهُ [ آل عمران/ 173] ، أي : کافینا هو، وحَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ [ المجادلة/ 8] ، وَكَفى بِاللَّهِ حَسِيباً [ النساء/ 6] ، أي : رقیبا يحاسبهم عليه، وقوله : ما عَلَيْكَ مِنْ حِسابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَما مِنْ حِسابِكَ عَلَيْهِمْ مِنْ شَيْءٍ [ الأنعام/ 52] ، فنحو قوله : عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ [ المائدة/ 105] ، ونحوه : وَما عِلْمِي بِما کانُوا يَعْمَلُونَ إِنْ حِسابُهُمْ إِلَّا عَلى رَبِّي [ الشعراء/ 112- 113] ، وقیل معناه : ما من کفایتهم عليك، بل اللہ يكفيهم وإياك، من قوله : عَطاءً حِساباً [ النبأ/ 36] ، أي : کافیا، من قولهم : حسبي كذا، وقیل : أراد منه عملهم، فسمّاه بالحساب الذي هو منتهى الأعمال . وقیل : احتسب ابْناً له، أي : اعتدّ به عند اللہ الحسیب والمحاسب کے اصل معنی حساب لینے والا یا حساب کرنے والا کے ہیں ۔ پھر حساب کے مطابق بدلہ دینے والے کو بھی ھسیب کہا جاتا ہے ۔ ( اور یہی معنی اللہ تعالیٰ کے حسیب ہونے کے ہیں ) اور آیت کریمہ : ۔ وَكَفى بِاللَّهِ حَسِيباً [ النساء/ 6] تو خدا ہی ( گواہ اور ) حساب لینے والا کافی ہے ۔ میں حسیب بمعنی رقیب ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کی نگہبانی کے لئے کافی ہے جوان سے محاسبہ کرے گا ۔ حسب ( اسم فعل ) بمعنی کافی ۔ جیسے فرمایا : ۔ حَسْبُنَا اللَّهُ [ آل عمران/ 173] ہمیں خدا کافی ہے ۔ وحَسْبُهُمْ جَهَنَّمُ [ المجادلة/ 8] ان کو دوزخ رہی کی سزا کافی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ ما عَلَيْكَ مِنْ حِسابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَما مِنْ حِسابِكَ عَلَيْهِمْ مِنْ شَيْءٍ [ الأنعام/ 52] ایسے ہی ہے جیسا کہ آیت : ۔ عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ [ المائدة/ 105] اپنی جانوں کی حفاظت کرو جب تم ہدایت پر ہو تو کوئی گمراہ تمہارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا ۔ اور آیت : ۔ وَما عِلْمِي بِما کانُوا يَعْمَلُونَ إِنْ حِسابُهُمْ إِلَّا عَلى رَبِّي [ الشعراء/ 112- 113] مجھے کیا معلوم کہ وہ کیا کرتے ہیں ان کا حساب ( اعمال ) میرے پروردگار کے ذمے ہے ۔ کے مفہہوم کے مطابق ہے بعض نے آیت کے یہ معنی کئے ہیں کہ ان کو کافی ہونا تمہارا کام نہیں ہے ۔ بلکہ تیرے اور ان کے لئے اللہ ہی کافی ہے ۔ جیسا کہ آیت : ۔ عَطاءً حِساباً [ النبأ/ 36] میں حساب بمعنی کافی ہے اور یہ کے محاورہ سے لیا گیا ہے ۔ وكل والتَّوَكُّلُ يقال علی وجهين، يقال : تَوَكَّلْتُ لفلان بمعنی: تولّيت له، ويقال : وَكَّلْتُهُ فَتَوَكَّلَ لي، وتَوَكَّلْتُ عليه بمعنی: اعتمدته قال عزّ وجلّ : فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] ( و ک ل) التوکل ( تفعل ) اس کا استعمال دو طرح ہوتا ہے ۔ اول ( صلہ لام کے ساتھ ) توکلت لفلان یعنی میں فلاں کی ذمہ داری لیتا ہوں چناچہ وکلتہ فتوکل لی کے معنی ہیں میں نے اسے وکیل مقرر کیا تو اس نے میری طرف سے ذمہ داری قبول کرلی ۔ ( علیٰ کے ساتھ ) توکلت علیہ کے معنی کسی پر بھروسہ کرنے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ [ التوبة/ 51] اور خدا ہی پر مومنوں کو بھروسہ رکھنا چاہئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور اگر آپ کفار سے دریافت کریں کہ آسمان و زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ تو یہ یہی کہیں گے کہ اللہ نے پیدا کیا تو پھر آپ ان سے فرمایئے کہ بھلا یہ تو بتاؤ کہ جن معبودوں یعنی لات و عزی وغیرہ کو تم پوجتے ہو اگر اللہ تعالیٰ مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو کیا یہ لات و عزی اس کی دی ہوئی تکلیف و سختی کو مجھ سے دور کرسکتے ہیں یا اللہ تعالیٰ مجھے عافیت میں رکھنا چاہیے تو کیا یہ تمہارے لات و عزی وغیرہ مجھ سے اس کی دی ہوئی عافیت کو روک سکتے ہیں کہ تم مجھے بھی ان کی پوجا کے لیے کہتے ہو ؟ آپ فرما دیجیے کہ بس میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہوں اور بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسا کرتے ہیں یا یہ کہ مومنین کے لیے ضروری ہے کہ اسی ذات وحدی لاشریک پر بھروسا کریں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٨ { وَلَئِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ } ” اور (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو تو وہ یقینا یہی کہیں گے کہ اللہ نے ! “ { قُلْ اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ اَرَادَنِیَ اللّٰہُ بِضُرٍّ ہَلْ ہُنَّ کٰشِفٰتُ ضُرِّہٖٓ} ” تو ان سے کہیے کہ ذرا غور کرو ! جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا ‘ اگر اللہ نے میرے لیے کسی تکلیف کا فیصلہ کرلیا ہے تو کیا وہ (تمہارے معبود) اس تکلیف کو دور کرسکیں گے ؟ “ دراصل مشرکین ِمکہ ّاللہ تعالیٰ کو سب سے بڑے معبود کے طور پر تو مانتے تھے لیکن ساتھ ہی انہوں نے بہت سے چھوٹے معبود بھی بنا رکھے تھے۔ چناچہ اس آیت میں ان کے اسی عقیدے کے مطابق ایک منطقی سوال کیا گیا ہے کہ اگر تمہارا بڑا معبود اللہ کسی معاملے میں کوئی فیصلہ کرلے تو اس کے بعد کیا اس بڑے کا حکم چلتا ہے یا اس کے مقابلے میں تمہارے یہ چھوٹے معبود بھی اپنی من مرضی کرتے ہیں ؟ اور اگر بالفرض اللہ نے میرے لیے کسی ضرر کا فیصلہ کرلیا ہے تو کیا تمہارے یہ معبود اس کے اس فیصلے کے آڑے آسکتے ہیں ؟ { اَوْ اَرَادَنِیْ بِرَحْمَۃٍ ہَلْ ہُنَّ مُمْسِکٰتُ رَحْمَتِہٖ } ” یا اگر اس نے میرے لیے رحمت کا کوئی فیصلہ کرلیا ہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو روک سکتے ہیں ؟ “ { قُلْ حَسْبِیَ اللّٰہُ عَلَیْہِ یَتَوَکَّلُ الْمُتَوَکِّلُوْنَ } ” آپ کہہ دیجیے کہ میرے لیے تو اللہ ہی کافی ہے ! اور اسی پر توکل ّکرتے ہیں توکل کرنے والے۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

57 Ibn Abi Hatim has related from Ibn `Abbas that the Holy Prophet said: 'The person who desires that he should become most powerful among men should repose his trust in Allah; and the person who desires that he should become the wealthiest among men should have more trust in that which is with Allah than that which is in his own hand; and the person who desires that he should become most honourable among men should fear Allah Almighty."

سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :57 ابن ابی حاتم نے ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا من احب ان یکون اقوی الناس فلیتوکل علیٰ اللہ ، ومن احب ان یکون اغنی الناس فلیکن بما فی ید اللہ عزو جل اوثق منہ بما فی یدیہ ، ومن احب ان یکون اکرم الناس فلیتق اللہ عزو جلّ ۔ جو شخص چاہتا ہو کہ سب انسانوں سے زیادہ طاقتور ہو جائے اسے چاہیے کہ اللہ پر توکل کرے ۔ اور جو شخص چاہتا ہو کہ سب سے بڑھ کر غنی ہو جائے اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے اس پر زیادہ بھروسہ رکھے بہ نسبت اس چیز کے جو اس کے اپنے ہاتھ میں ہے ، اور جو شخص چاہتا ہو کہ سب سے زیادہ عزت والا ہو جائے اسے چاہیے کہ اللہ عز و جل سے ڈرے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٣٨۔ صحیح بخاری ١ ؎ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ایک جگہ گزر چکی ہے کہ قوم نوح میں کچھ نیک لوگ مرگئے تھے جن کے مرجانے کا رنج قوم کے لوگوں کو بہت تھا شیطان نے موقعہ پا کر قوم کے لوگوں کے دل میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ان نیک لوگوں کی صورت کے بت بنا کر نگاہ کے رو برو رکھ لئے جاویں۔ تو ان نیک لوگوں کے آنکھوں کے سامنے سے اٹھ جانے کا رنج کچھ کم ہوجاوے گا۔ قوم کے لوگوں نے اس شیطانی وسوسہ کے موافق عمل کیا۔ اور پھر رفتہ رفتہ اس ملعون نے اس وسوسہ سے جہان میں یہ بات پھیلائی کہ جو کوئی نیک لوگوں کی مورتوں کو پوجے گا تو یہ نیک لوگ بارگاہ الٰہی میں اس کی شفاعت کریں گے۔ اسی واسطے مشرک لوگ پشت در پشت بتوں کو شفعائنا عند اللہ کہتے چلے آئے اور خالق اور رزاق اللہ کو ہی سمجھتے رہے۔ مشرکوں کی اس بات پر انہیں یوں قائل کیا گیا ہے۔ کہ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ مخلوقات کے پیدا کرنے میں جب ان بتوں کا کچھ دخل نہیں ہے تو اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی تکلیف کو ٹال دینے یا راحت کو تکلیف سے بدل دینے میں نہ ان کو کچھ دخل ہے۔ نہ ان کے نقصان پہنچانے سے میں کچھ ڈرتا ہوں۔ مجھ کو تو فقط اللہ ہی کافی ہے جس پر سب کا بھروسہ ہے اور جس کے اختیار میں ساری مخلوقات کا نفع اور نقصان ہے۔ مسند امام احمد اور ٢ ؎ ترمذی میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے صحیح روایت ہے۔ جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمام مخلوقات کسی شخص کو کچھ نفع یا نقصان پہنچانے کا ارادہ کرے تو بغیر مرضی الٰہی کے نہ کسی کو کوئی نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان۔ یہ حدیث اللہ پر بھروسہ رکھنے کی گویا تفسیر ہے اس تفسیر میں یہ بات ایک جگہ گزر چکی ہے کہ دنیا عالم اسباب میں ظاہری اسباب کو کام میں لا کر ان اسباب کی تاثیر کو اللہ پر سونپنا شریعت میں بھی معنی اللہ پر بھرسہ رکھنے کے ہیں۔ یہ معنی نہیں ہیں کہ ظاہری اسباب کو آدمی بالکل کام میں نہ لاوے چناچہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے صحابہ تجارت زراعت سب کچھ کرتے تھے اور اپنا اصل بھروسہ اللہ پر رکھتے تھے اور خود اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبد (رض) اللہ بن عمر کی روایت میں فرمایا اللہ تعالیٰ نے میرا رزق میرے نیز کے ؟ ؟ ؟ ؟ ؟ رکھا ہے۔ عبد اللہ بن عمر کی یہ حدیث مسند امام احمد ٣ ؎ میں ہے اور اس کی سند کے ایک راوی عبد الرحمد بن ثابت بن ثوبان کو اگرچہ بعضے علما نے ضعیف قرار دیا ہے لیکن ابن معین نے ان عبد الرحمن کو معتبر اور ابوحاتم نے ثقہ کہا ہے علاوہ اس کے مصنف ابن ابی شیبہ میں بعضی مرسل روایتیں معتبر سند کی ایسی ہیں۔ جس سے اس روایت کو تقویت ہوجاتی ہے۔ (١ ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة نوح ص ٧٤٢ ج ٢۔ ) (٢ ؎ جامع ترمذی ابواب الزھد ص ٨٧ ج ٢۔ ) (٣ ؎ تفسیر ابن کثیر ص ٣١٥ ج ٤۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(39:38) سالتھم : میں ہم ضمیر جمع مذکر غائب کفار مکہ کی طرف راجع ہے۔ لیقولن : لام تاکید کے لئے ہے یقولن مضارع تاکید بانون ثقیلہ صیغہ جمع مذکر غائب وہ ضرور کہیں گے۔ اللّٰہ فعل محذوف کا فاعل ہے ای خلقہن اللّٰہ اللہ تعالیٰ نے ان (ارض و سماوات) کو پیدا کیا ہے۔ قل۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ ای قل یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) افرایتم۔ ہمزہ استفہامیہ ہے۔ جب یہ رایتم پر داخل ہوتا ہے تو اخبرونی (مجھے خبر دو ) کے معنی دیتا ہے۔ الفاء شرط مقدر کے جواب میں ہے۔ ای اذا کان خالق العالم العلوی واسفلی ھو اللّٰہ عزوجل کما اقررتم فاخبرونی۔ جب جیسا کہ تم نے اقرار کرلیا ہے کہ عالم بالا اور عالم زیریں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے تو پھر مجھے (یہ) بتاؤ۔ ما تدعون : ما موصولہ ہے ۔ تدعون مضارع جمع مزکر حاضر۔ دعاء (باب نصر) سے جن کو تم پکارتے ہو۔ جن کی تم پوجا کرتے ہو۔ ہل ہن۔ استفہام انکاری مراد ہے کیا وہ معبود ان باطل ۔ کیا وہ بت۔ کشفت ضرہ : ضرہ مضاف مضاف الیہ ۔ دونوں مل کر مضاف الیہ۔ کشفت اسم فاعل جمع مؤنث مضاف۔ اس کی (دی ہوئی) تکلیف کو دور کرنے والیاں۔ (یا دور کرنے والے بمعنی مذکر) کشف کھولنا۔ ظاہر کرنا۔ ننگا کرنا۔ ضرر کو رفع کرنا۔ ہل ہن کشفت ضرہ۔ (اگر اللہ تعالیٰ مجھے تکلیف پہنچانا چاہیے) تو کیا (تمہارے) یہ (معبودان باطل یا بت) اس کی دی ہوئی تکلیف کو رفع کرسکتے ہیں ؟ یعنی نہیں کرسکتے۔ او ارادنی۔ ای اوان ارادنی۔ جملہ کا عطف سابقہ جملہ پر ہے۔ یا (اگر) وہ مجھ پر (رحمت) کرنا چاہے۔ ہل ہن۔ جیسا کہ اوپر گزرا ہے۔ ممسکت۔ اسم فاعل جمع مؤنث ممسکۃ واحد مؤنث۔ ممسک واحد مذکر۔ امساک (افعال) مصدر۔ روکنے والیاں۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت سے نوازنا چاہے تو کیا تمہارے یہ بت جن کی تم پوجا کرتے ہو اس کی عطا کردہ رحمت کو روک سکتے ہیں۔ (مراد نہیں روک سکتے) ۔ حسبی۔ مضاف مضاف الیہ۔ حسب حسب یحسب کا مصدر ہے۔ بمعنی کافر ہونا۔ ی ضمیر واحد متکلم ہے۔ مجھ کو کافی ہے یتوکل۔ مضارع واحد مذکر توکل (تفعل) مصدر۔ وہ بھروسہ کرتا ہے اس سے متوکل اسم فاعل واحد مذکر۔ بھروسہ کرنے والا۔ متوکلون جمع توکل کرنے والے ۔ یعنی خیر کے ملنے اور تکلیف سے بچاؤ کے لئے اللہ پر توکل رکھنے والے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 مقاتل کہتے ہیں کہ یہ جملہ یعنی ” حسبی اللہ “ اس وقت نازل ہوا جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کفار مکہ سے مذکورہ دونوں سوال کئے اور وہ جواب میں خاموش رہے۔ ( شوکانی)13 حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص یہ چاہے کہ سب لوگوں سے زیادہ طاقتور ہوجائے اسے چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ کرے اور جو شخص یہ چاہے کہ سب لوگوں سے زیادہ غنی ہوجائے اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر زیادہ تکیہ کرلے اس مال و دولت جو اس کے پاس موجود ہے اور جو شخص یہ چاہے کہ وہ سب لوگوں سے زیادہ عزت والا ہو، اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار نہ کرے۔ (ابن کثیر) ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

لغات القرآن آیت نمبر 38 تا 41 : سالت (تو نے پوچھا) کاشفت ( کھولنے والے) ممسکت ( روکنے والے) حسبی ( مجھے کافی ہے) یخزی (ذلیل و رسوا کرتا ہے) یحل ( حلال ہوتا ہے) عذاب مقیم ( نہ ٹلنے والا عذاب) وکیل ( کام بنانے والا) تشریح آیت نمبر 38 تا 41 :۔ جیسا کہ اس سے پہلی آیات میں ارشاد فرمایا گیا تھا کہ کفار و مشرکین نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہتے تھے کہ آپ ہمارے بتوں کو برا نہ کہا کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے یہ معبود ناراض ہو کر آپ کو کوئی شدید نقصان پہنچا دیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ آپ ان کفار سے یہ پوچھئے کہ یہ زمین و آسمان اور اس کے اس نظام کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ کیا اس اللہ نے پیدا نہیں کیا جس کے ہاتھ میں ہر طرح کے نفع اور نقصانات کے مکمل اختیارات ہیں ؟ اگر اللہ ہی کسی کو نقصان پہنچانا چاہے یا کسی مصیبت میں مبتلا کر دے تو اس کے سوا کوئی اور ہے جو اس مصیبت کو دور کرسکے ؟ لہٰذا اگر میں اللہ کو چھوڑ کر ان کو پکاروں گا جنہیں تم پکارتے ہو اور اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا یہ تمہارے معبود مجھے اس نقصان سے بچا سکتے ہیں ؟ یا اگر اللہ مجھ پر رحم و کرم کرنا چاہے تو کیا دنیا کی کوئی طاقت ہے جو اس رحمت کو مجھ سے روک سکے گی ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا گیا کہ آپ وضاحت سے کہہ دیجئے کہ مجھے میرا اللہ ہی کافی ہے۔ میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں جس پر ہر ایک کو بھروسہ کرنا چاہیے۔ آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم اتنا سمجھانے کے باوجود بھی اپنی روش زندگی میں تبدیلی پیدا نہیں کرتے تو تم اپنی جگہ اپنی جہالتوں میں مبتلا رہو ۔ مجھے میرے پروردگار کا جو حکم ہے میں تو اسی پر چلتا رہوں گا ۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر ذلیل و رسوا کرنے والا عذاب آ کر رہے گا اور کسے وہ سزا ملے گی جس کو اگر کوئی اپنے اوپر سے ٹالنا چاہیے گا تو ٹال نہ سکے گا ۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم نے تمام لوگوں کے لئے اس کتاب بر حق کو نازل کیا ہے اس کے بعد اگر کوئی سیدھا راستہ اختیار کرے گا تو اس سے اسی کو فائدہ پہنچے گا لیکن اگر کسی نے گمراہی کا راستہ اختیار کرلیا تو اس کا وبال خود اسی پر پڑے گا آپ اس کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ پس میں بھی اسی پر توکل رکھتا ہوں اور تمہارے خلاف وعناد کی کچھ پروا نہیں کرتا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اللہ کی توحید اور دین حق سے بھٹکے ہوئے لوگوں سے ایک سوال۔ قرآن مجید نے اللہ کی توحید سمجھانے اور دین حق کی پہچان کروانے کے لیے ہر زاویہ سے کوشش فرمائی ہے کہ لوگ اللہ کی توحید کا اقرار کریں جو دین حق کی مرکزی اور پہلی اساس ہے۔ مشرکین کی سوئی ہوئی حِس کو بیدار کرنے کے لیے سوال کیا جارہا ہے کہ اے حبیب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر آپ ان سے استفسار فرمائیں کہ زمین و آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے ان کا جواب یہی ہوگا کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اب ان سے پھر سوال کریں کہ جن کو تم اللہ تعالیٰ کے سواپکارتے ہو اگر مجھے اللہ کی طرف سے تکلیف پہنچے تو کیا وہ اس تکلیف کو دور کرسکتے ہیں ؟ اگر میرا رب مجھ پر اپنی رحمت کا نزول فرمائے تو زمین و آسمانوں میں کوئی ایسی ہستی اور طاقت ہے جو اللہ کی رحمت کے نزول میں رکاوٹ ڈال سکے ؟ ظاہر بات ہے کہ جس طرح زمین و آسمانوں کی تخلیق میں کسی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اسی طرح کوئی نفع اور نقصان پر اختیار رکھنے والا نہیں ہے۔ اسی حقیقت کے پیش نظر مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں خوشی اور غم، عُسر اور یسر میں اپنے ” اللہ “ پر بھروسہ کروں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندے ” اللہ “ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اس سے پہلی آیت کے تناظر میں اس کا یہ بھی مفہوم لیا جاسکتا ہے۔ کہ جن بتوں، دیوتاؤں اور زندہ اور فوت شدہ ہستیوں سے مجھے ڈراتے ہو وہ میرا کچھ بھی بگاڑ اور سنوار نہیں سکتیں۔ اگر تم اتنی بڑی سچائی پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہو۔ تو مجھ سے الجھنے کی بجائے اپنے عقیدہ پر عمل کرو اور میں اپنے عقیدہ پر قائم رہتا ہوں۔ عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر دنیا کی ذلت نازل ہوتی ہے اور کون ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوتا ہے۔ (عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ کَانَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ قَالَ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِءْتَ مِنْ شَیْءٍ بَعْدُ أَہْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ أَحَقُّ مَا قَالَ الْعَبْدُ وَکُلُّنَا لَکَ عَبْدٌ اللَّہُمَّ لاَ مَانِعَ لِمَا أَعْطَیْتَ وَلاَ مُعْطِیَ لِمَا مَنَعْتَ وَلاَ یَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدّ ) [ رواہ مسلم : باب مَا یَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَہُ مِنَ الرُّکُوعِ ] ” حضرت ابو سعید (رض) سے روایت ہے انہوں نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب رکوع سے سر اٹھاتے تو کہتے، اے ہمارے رب ! تمام تعریفیں تیرے لیے ہیں آسمانوں و زمین کے درمیان خلاء جتنی اور اس کے بعد جتنی تو چاہتا ہے۔ تو اس تعریف کا سب سے زیادہ اہل ہے اور اس بزرگی کا سب سے زیادہ حق رکھتا ہے جو تعریف اور عظمت بندے بیان کرتے ہے ہم سب کے سب تیرے ہی بندے ہیں اے اللہ ! جو چیز تو عطاء فرمائے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو چیز تو روک لے اس کو کوئی عطا کرنے والا نہیں۔ تجھ سے بڑھ کر کوئی عظمت والا اور نفع نہیں دے سکتا۔ “ (عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ (رض) قَالَ کُنْتُ خَلْفَ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَوْمًا فَقَالَ یَاغُلَامُ إِنِّيْ أُعَلِّمُکَ کَلِمَاتٍ احْفَظِ اللّٰہَ یَحْفَظْکَ احْفَظِ اللّٰہَ تَجِدْہُ تُجَاھَکَ إِذَ ا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰہَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ باللّٰہِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّۃَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلآی أَنْ یَنْفَعُوْکَ بِشَیْءٍ لَمْ یَنْفَعُوْکَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ لَکَ وَلَوِ اجْتَمَعُوْا عَلٰی أَنْ یَّضُرُّوْکَ بِشَیْءٍ لَمْ یَضُرُّوْکَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰہُ عَلَیْکَ رُفِعَتِ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ ) [ رواہ الترمذی : کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع، باب منہ ] ” حضرت عبداللہ بن عباس (رض) بیان کرتے ہیں ایک دن میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے سوار تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بچے ! میں تجھے چند کلمات سکھاتا ہوں اللہ کو یاد رکھنا وہ تجھے یاد رکھے گا، جب تو اللہ تعالیٰ کو یاد کرے گا تو اسے اپنے سامنے پائے گا، جب تو سوال کرے تو اللہ ہی سے سوال کر، جب تو مدد طلب کرے تو اللہ تعالیٰ ہی سے مدد طلب کر اور یقین رکھ کہ اگر پوری مخلوق تجھے کچھ نفع دینے کے لیے جمع ہوجائے تو وہ اتنا ہی نفع دے سکتی ہے جتنا اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ رکھا ہے اور اگر وہ تجھے نقصان پہنچانے پر تل جائے تو تجھے اتنا ہی نقصان پہنچے گا جتنا تیرے حق میں لکھا گیا ہے، قلمیں اٹھالی گئیں ہیں اور صحیفے خشک ہوگئے ہیں۔ “ مسائل ١۔ ہر دور کے مشرک اس بات کا اعتراف کرتے رہے اور کرتے رہیں گے کہ زمین و آسمانوں کو صرف ایک اللہ نے پیدا کیا ہے ؟ ٢۔ اللہ کے سوا کوئی نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہے۔ ٣۔ حقیقت یہ ہے کہ سب کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔ ٤۔ مشرک دنیا میں ذلیل ہوتا ہے اور آخرت میں ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہوگا۔ تفسیر بالقرآن اللہ ہی نفع اور نقصان، شر اور خیر کا مالک ہے : ١۔ کیا تم اللہ کے سوا دوسروں کو خیر خواہ سمجھتے ہو۔ جو اپنے بھی نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ (الرعد : ١٦) ٢۔ میں انپے نفع و نقصان کا بھی مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے ؟ (یونس : ٤٩) ٣۔ کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں ؟ (المائدۃ : ٧٦) ٤۔ اگر اللہ تمہیں نفع و نقصان میں مبتلا کرنا چاہے تو کون اس سے بچائے گا۔ (الفتح : ١١) ٥۔ معبودان باطل اپنی جانوں کے نفع و نقصان کے مالک نہیں۔ (الفرقان : ٣) ٦۔ فرما دیجیے کہ میں اپنے نفس کے نفع و نقصان کا مالک نہیں مگر جو اللہ چاہے۔ (الاعراف : ١٨٨) ٧۔ اللہ کے سوا کسی کو نہ پکاروجو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع دے سکتا ہے۔ (یونس : ١٠٦) ٨۔ اللہ کے سوا کوئی ذرہ بھر بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں ہے۔ (الانبیاء : ٦٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ آپ ان مشرکین سے دریافت فرمائیے کہ یہ بتاؤ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا ؟ اس سوال کا جواب ان کے پاس اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے جب وہ جواب دے دیں (زبان حال سے یا قال سے) تو آپ ان سے فرمائیں کہ اب یہ بتاؤ کہ تم نے جو اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنا رکھے ہیں کیا انہیں ایسی قدرت ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے ضرر پہنچانا چاہے تو یہ اسے دور کردیں یا اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر رحمت فرمانا چاہے تو یہ اس کی رحمت کو روک دیں، اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے دکھ تکلیف کو اس کے سواء کوئی دور نہیں کرسکتا اور اس کی رحمت کو کوئی نہیں روک سکتا، جب یہ بات ہے تو تمہارے معبودوں سے میں کیوں ڈروں ؟ مجھے صرف اللہ کافی ہے صحیح معنی میں توکل کرنے والے صرف اسی پر توکل کرتے ہیں اور میرا بھی اسی پر توکل ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

39:۔ ” ولئن سالتھم الخ “ یہ چوتھی عقلی دلیل ہے لیکن علی سبیل الاعتراف من الخصم۔ اگر آپ مشرکین سے سوال کریں کہ بتاؤ آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے تو یقینا یہی جواب دیں گے کہ اللہ نے، ” قل افرءیتم الخ “ یہ پہلا بڑا ثمرہ ہے۔ یہ گذشتہ دلائل توحید کا مفصل ثمرہ و نتیجہ ہے۔ دلائل سابقہ تو تم نے سن ہی لیے۔ اب ذرا سوچ سمجھ کر اور انصاف سے بتاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے کسی تکلیف میں مبتلا کرنا چاہے تو کیا تمہارے مزعومہ کارساز جن کو تم اللہ کے سوا مصائب میں پکارتے ہو، اللہ کی لائی ہوئی تکلیف کو دور کرسکیں گے ؟ یا اگر اللہ مجھ پر رحمت فرمانا چاہے تو کیا وہ اس کی رحمت کو مجھ سے روک سکیں گے ؟ ہرگز نہیں۔ حاصل یہ کہ جن خود ساختہ کارسازوں سے مجھے ڈراتے ہو وہ بالکل بےبس اور عاجز ہیں اور خدا کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ ” قل حسبی اللہ الخ ‘] اس لیے آپ اعلان فرما دیں کہ تمام مصائب و مشکلات میں مجھے اللہ کافی ہے اور اگر کسی کو بھروسہ کرنا ہے تو اسی قادر وقیوم پر کرنا چاہیے نہ اس کی عاجز مخلوق پر۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(38) اور اگر آپ ان سے اے پیغمبر سوال کریں اور دریافت کریں کہ بھلا آسمانوں کو اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو یہ اس کا جواب یقینا یہی دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہیں آپ ان سے فرمائیے کہ بھلا یہ تو بتائو کہ جن معبودوں کو تم اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے ہو اگر اللہ تعالیٰ مجھے کوئی تکلیف اور دکھ پہنچانا چاہے تو کیا یہ تمہارے معبود اس کے بھیجے ہوئے ضرر اور دکھ کو مجھ سے دور کرسکتے ہیں اور دکھ کو ہٹا سکتے ہیں یا اگر اللہ تعالیٰ مجھ پر کوئی مہربانی کرنی چاہے تو کیا تمہارے وہ معبود اس کی مہربانی کو مجھ سے روک سکتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ مجھ کو کافی ہے بھروسہ کرنے والوں کو چاہیے کہ اسی کی ذات پر بھروسہ کیا کریں۔ آسمان و زمین کا حق تعالیٰ کو خالق ماننا مستلزم ہے کمال قدرت کو پس جب انہوں نے ملزوم کو مان لیا تو لازم کے ماننے سے ان کو سفر نہیں جب اس کو خالقیت میں تنہا مان لیا تو وہ کمال قدرت جو اس دعویٰ کو مستلزم تھا وہ بھی لاز آگیا تو اب ان سے یہ دریافت کرو کہ وہ غیر اللہ جن کو تم معبود سمجھتے ہو ان میں سے کوئی اس کا مزاحم ہوسکتا ہے اور مقابل ہوسکتا ہے کہ اس کی مرضی اور حکم کے خلاف کوئی میرا دکھ دور کرسکے یا اس کے فضل کو مجھ سے روک سکے۔ حدیث میں عبداللہ بن بریدہ (رض) سے مرفوعاً مروی ہے فرمایا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہ جو کوئی صبح کی نمازدس کلمے پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ کو نزدیک ان کلموں کے کفایت کرنے والا پائے گا ان دس میں پانچ دنیا کے لئے ہیں اور پانچ آخرت کے لئے وہ دس کلمے یہ ہیں۔ (1) حسبی اللہ لدینی (2) حسبی اللہ لما اھمنی (3) حسبی اللہ لمن بغی علی (4) حسبی اللہ لمن حسدنی (5) حسبی اللہ لمن کا دنی بسوء (1) حسبی اللہ عندالموت (2) حسبی اللہ عندلمسئلۃ فی القبر (3) حسبی اللہ عند المیزان (4) حسبی اللہ عند الصراط (5) حسبی اللہ عند الحوض حسبی اللہ لا الہ الا ھوعلیہ توکلت وھو رب العرش العظیم۔