Surat uz Zumur

Surah: 39

Verse: 45

سورة الزمر

وَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحۡدَہُ اشۡمَاَزَّتۡ قُلُوۡبُ الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِالۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اِذَا ذُکِرَ الَّذِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِذَا ہُمۡ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ ﴿۴۵﴾

And when Allah is mentioned alone, the hearts of those who do not believe in the Hereafter shrink with aversion, but when those [worshipped] other than Him are mentioned, immediately they rejoice.

جب اللہ اکیلے کا ذکر کیا جائے تو ان لوگوں کے دل نفرت کرنے لگتے ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا ( اور کا ) ذکرکیا جائے تو ان کے دل کھل کر خوش ہو جاتے ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَحْدَهُ ... And when Allah Alone is mentioned, means, when it is said there is no (true) God except Allah Alone, ... اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لاَ يُوْمِنُونَ بِالاْخِرَةِ ... the hearts of those who believe not in the Hereafter are filled with disgust. Mujahid said, "Their hearts are filled with disgust means they recoil in horror." This is like the Ayah: إِنَّهُمْ كَانُواْ إِذَا قِيلَ لَهُمْ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ Truly, when it was said to them: "La ilaha illa Allah," they puffed themselves up with pride. (37:35) which means, they were too proud to follow it. Their hearts could not accept anything good, and whoever cannot accept good will accept evil. Allah says: ... وَإِذَا ذُكِرَ الَّذِينَ مِن دُونِهِ ... and when those besides Him are mentioned, meaning, the idols and false gods -- this was the view of Mujahid -- ... إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ behold, they rejoice! means, they feel happy.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

45۔ 1 یا کفر اور استکبار، مطلب یہ ہے کہ مشرکین سے جب یہ کہا جائے کہ معبود صرف ایک ہی ہے تو ان کے دل یہ بات ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے۔ 45۔ 1 ہاں جب یہ کہا جائے کہ فلاں فلاں بھی معبود ہیں یا وہ بھی آخر اللہ کے نیک بندے ہیں وہ بھی کچھ اختیار رکھتے ہیں وہ بھی مشکل کشائی اور حاجت روائی کرسکتے ہیں تو پھر مشرکین بڑے خوش ہوتے ہیں منحرفین کا یہی حال آج بھی ہے جب ان سے کہا جائے کہ صرف یا اللہ مدد کہو کیونکہ اس کے سوا کوئی مدد کرنے پر قادر نہیں ہے تو سیخ پا ہوجاتے ہیں یہ جملہ ان کے لیے سخت ناگوار ہوتا ہے لیکن جب یا علی مدد یا یارسول اللہ مدد کہا جائے اسی طرح دیگر مردوں سے استمداد واستغاثہ کیا جائے مثلا یا شیخ عبد القادر شیئ اللہ وغیرہ تو پھر ان کے دل کی کلیاں کھل اٹھتی ہیں۔ فتشابھت قلوبھم۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦١] مشرکوں کی ایک پکی علامت توحید خالص سے چڑ :۔ اس آیت میں مشرکوں کی ایک پکی خصلت کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ مشرک بتوں کے پجاری ہوں یا قبروں کے یا پیروں فقیروں کے نیز کسی بھی دور کے مشرک ہوں سب میں یہ خصلت پائی جاتی ہے کہ اگر اللہ اکیلے کی ہی صفات بیان کی جائیں & اس کے محیرالعقول کارنامے بیان کیے جائیں & اس کی حکمت سے لبریز آیات کی تشریح بیان کی جائے تو اس سے مشرکوں کے سینے ٹھنڈے نہیں ہوتے بلکہ ان میں انقباض اور گھٹن پیدا ہونے لگتی ہے۔ اور بسا اوقات وہ بیان کرنے والے کو بتوں کا یا اولیاء اللہ کا منکر ہونے کا طعنہ دینے لگتے ہیں۔ اس کے بجائے اگر ولیوں کی کرامات بیان کی جائیں۔ اور یہ بتایا جائے کہ فلاں بزرگ نے اپنی گستاخی کا یوں انتقام لیا تھا۔ فلاں شخص کی قسمت میں ایک لڑکا بھی نہیں لکھا تھا لیکن فلاں بزرگ نے اللہ تعالیٰ سے اصرار اور تکرار کرکے اس شخص کے حق میں سات بیٹے اللہ تعالیٰ سے منوا لیے۔ چناچہ اس کے ہاں سات بیٹے پیدا ہوئے۔ جب کوئی ایسے من گھڑت قصے بیان کرتا ہے تو سامعین سبحان اللہ ! کے نعرے لگانے لگتے ہیں اور بڑے خوش رہتے ہیں البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ ان کے بزرگوں کے بیان میں اگر کہیں اللہ کا نام آجائے تو اسے گوارا کرلیتے ہیں۔ لیکن اصل محبت انہیں اپنے اولیاء سے ہی ہوتی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ ۔۔ : ” اِشْمَأَزَّ “ نفرت سے بھر گیا، تنگ پڑگیا۔ یہ بات دنیا بھر کے مشرکوں میں مشترک ہے، خواہ وہ نام کے مسلمان کیوں نہ ہوں کہ کوئی شخص اکیلے اللہ کا اور اس کی کبریائی اور توحید کا ذکر کرے تو ان کے دل نفرت سے بھر جاتے ہیں اور تنگ پڑجاتے ہیں اور ان کے چہروں پر ناگواری اور نفرت کے آثار نمایاں ہوجاتے ہیں۔ کہتے ہیں یہ شخص اولیاء اور بزرگوں کو نہیں مانتا، اسی لیے صرف اللہ ہی کی بات کرتا چلا جاتا ہے، نہ کسی ولی کی قوت و تصرف کا ذکر کرتا ہے جو (ان کے خیال میں) اللہ تعالیٰ کی تقدیر کا تیر راستے سے واپس ہٹا لاتے ہیں اور نہ کسی دستگیر یا گنج بخش یا مشکل کشا کی دستگیری یا مشکل کشائی کا بیان کرتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ فرمایا : ( ۭ وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا ) [ بني إسرائیل : ٤٦ ] ” اور جب تو قرآن میں اپنے رب کا، اکیلے اسی کا ذکر کرتا ہے تو وہ بدکتے ہوئے اپنی پیٹھوں پر پھرجاتے ہیں۔ “ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ : یعنی اکیلے اللہ کے ذکر پر ان کے دلوں کے تنگ پڑنے کی وجہ آخرت پر یقین نہ ہونا ہے، اگر آخرت پر یقین ہوتا اور وہ ایمان رکھتے کہ ہمیں اس دن اس اکیلے کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے تو وہ ایسا کبھی نہ کرتے۔ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖٓ۔ : ” يَسْتَبْشِرُوْنَ “ باب استفعال میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں بھی زیادتی ہوتی ہے، یعنی بہت خوش ہوجاتے ہیں، جیسا کہ ” اِشْمَاَزَّتْ “ میں حروف کی زیادتی ان کی نفرت اور دل کی تنگی کے زیادہ ہونے کا اظہار کرتی ہے۔ ” اِشْمِءْزَازٌ“ اور ” اِسْتِبْشَارٌ“ کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ اکیلے اللہ کے ذکر پر دل کی تنگی میں اور من دون اللہ کے ذکر پر اس کی خوشی میں وہ انتہا کو پہنچے ہوئے ہوتے ہیں۔ ” اذا “ مفاجات کے لیے ہے ” اچانک “ یعنی جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ یا اس کے بغیر اس کے سوا اور ہستیوں کا ذکر کیا جائے اور ان کی جھوٹی سچی کرامات بیان ہونا شروع ہوں تو اچانک ان کے چہروں پر خوشی پھیل جاتی ہے۔ مفسر آلوسی نے روح المعانی میں اپنا تجربہ لکھا ہے کہ ایک دن میں نے ایک آدمی سے کہا جو اپنی کسی مشکل میں کسی فوت شدہ سے استغاثہ کر رہا تھا اور اسے پکار کر کہہ رہا تھا کہ اے فلاں ! میری مدد کر۔ میں نے اس سے کہا، تم ” یا اللہ “ کہو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (وَاِذَا سَاَلَكَ عِبَادِيْ عَنِّىْ فَاِنِّىْ قَرِيْبٌ ۭ اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ) [ البقرۃ : ١٨٦ ] ” اور جب میرے بندے تجھ سے میرے بارے میں سوال کریں تو بیشک میں قریب ہوں، میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ “ تو وہ شخص سخت غصے میں آگیا۔ بعد میں لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ کہتا تھا، یہ شخص اولیاء کا منکر ہے۔ کچھ لوگوں نے مجھے یہ بھی بتایا کہ اس نے کہا، اللہ تعالیٰ کی بہ نسبت ولی جلدی سن لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں گمراہی سے محفوظ رکھے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا ذُكِرَ اللہُ وَحْدَہُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ۝ ٠ ۚ وَاِذَا ذُكِرَ الَّذِيْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِذَا ہُمْ يَسْتَبْشِرُوْنَ۝ ٤٥ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ ذكر الذِّكْرُ : تارة يقال ويراد به هيئة للنّفس بها يمكن للإنسان أن يحفظ ما يقتنيه من المعرفة، وهو کالحفظ إلّا أنّ الحفظ يقال اعتبارا بإحرازه، والذِّكْرُ يقال اعتبارا باستحضاره، وتارة يقال لحضور الشیء القلب أو القول، ولذلک قيل : الذّكر ذکران : ذكر بالقلب . وذکر باللّسان . وكلّ واحد منهما ضربان : ذكر عن نسیان . وذکر لا عن نسیان بل عن إدامة الحفظ . وكلّ قول يقال له ذكر، فمن الذّكر باللّسان قوله تعالی: لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ، وقوله تعالی: وَهذا ذِكْرٌ مُبارَكٌ أَنْزَلْناهُ [ الأنبیاء/ 50] ، وقوله : هذا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي [ الأنبیاء/ 24] ، وقوله : أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا [ ص/ 8] ، أي : القرآن، وقوله تعالی: ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ [ ص/ 1] ، وقوله : وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ [ الزخرف/ 44] ، أي : شرف لک ولقومک، وقوله : فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ [ النحل/ 43] ، أي : الکتب المتقدّمة . وقوله قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْراً رَسُولًا [ الطلاق/ 10- 11] ، فقد قيل : الذکر هاهنا وصف للنبيّ صلّى اللہ عليه وسلم «2» ، كما أنّ الکلمة وصف لعیسی عليه السلام من حيث إنه بشّر به في الکتب المتقدّمة، فيكون قوله : ( رسولا) بدلا منه . وقیل : ( رسولا) منتصب بقوله ( ذکرا) «3» كأنه قال : قد أنزلنا إليكم کتابا ذکرا رسولا يتلو، نحو قوله : أَوْ إِطْعامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ يَتِيماً [ البلد/ 14- 15] ، ف (يتيما) نصب بقوله (إطعام) . ومن الذّكر عن النسیان قوله : فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ أَنْ أَذْكُرَهُ [ الكهف/ 63] ، ومن الذّكر بالقلب واللّسان معا قوله تعالی: فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آباءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْراً [ البقرة/ 200] ، وقوله : فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ وَاذْكُرُوهُ كَما هَداكُمْ [ البقرة/ 198] ، وقوله : وَلَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ [ الأنبیاء/ 105] ، أي : من بعد الکتاب المتقدم . وقوله هَلْ أَتى عَلَى الْإِنْسانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئاً مَذْكُوراً [ الدهر/ 1] ، أي : لم يكن شيئا موجودا بذاته، ( ذک ر ) الذکر ۔ یہ کبھی تو اس ہیت نفسانیہ پر بولا جاتا ہے جس کے ذریعہ سے انسان اپنے علم کو محفوظ رکھتا ہے ۔ یہ قریبا حفظ کے ہم معنی ہے مگر حفظ کا لفظ احراز کے لحاظ سے بولا جاتا ہے اور ذکر کا لفظ استحضار کے لحاظ سے اور کبھی ، ، ذکر، ، کا لفظ دل یاز بان پر کسی چیز کے حاضر ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اس بنا پر بعض نے کہا ہے کہ ، ، ذکر ، ، دو قسم پر ہے ۔ ذکر قلبی اور ذکر لسانی ۔ پھر ان میں کسے ہر ایک دو قسم پر ہے لسیان کے بعد کسی چیز کو یاد کرنا یا بغیر نسیان کے کسی کو ہمیشہ یاد رکھنا اور ہر قول کو ذکر کر کہا جاتا ہے ۔ چناچہ ذکر لسانی کے بارے میں فرمایا۔ لَقَدْ أَنْزَلْنا إِلَيْكُمْ كِتاباً فِيهِ ذِكْرُكُمْ [ الأنبیاء/ 10] ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے ۔ وَهذا ذِكْرٌ مُبارَكٌ أَنْزَلْناهُ [ الأنبیاء/ 50] اور یہ مبارک نصیحت ہے جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ؛هذا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ وَذِكْرُ مَنْ قَبْلِي [ الأنبیاء/ 24] یہ میری اور میرے ساتھ والوں کی کتاب ہے اور مجھ سے پہلے ( پیغمبر ) ہوئے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ أَأُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْ بَيْنِنا [ ص/ 8] کیا ہم سب میں سے اسی پر نصیحت ( کی کتاب ) اتری ہے ۔ میں ذکر سے مراد قرآن پاک ہے ۔ نیز فرمایا :۔ ص وَالْقُرْآنِ ذِي الذِّكْرِ [ ص/ 1] اور ایت کریمہ :۔ وَإِنَّهُ لَذِكْرٌ لَكَ وَلِقَوْمِكَ [ الزخرف/ 44] اور یہ ( قرآن ) تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لئے نصیحت ہے ۔ میں ذکر بمعنی شرف ہے یعنی یہ قرآن تیرے اور تیرے قوم کیلئے باعث شرف ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ فَسْئَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ [ النحل/ 43] تو اہل کتاب سے پوچھ لو ۔ میں اہل ذکر سے اہل کتاب مراد ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ قَدْ أَنْزَلَ اللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْراً رَسُولًا [ الطلاق/ 10- 11] خدا نے تمہارے پاس نصیحت ( کی کتاب ) اور اپنے پیغمبر ( بھی بھیجے ) ہیں ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں الذکر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وصف ہے ۔ جیسا کہ عیسیٰ کی وصف میں کلمۃ قسم ہے اس قرآن کی جو نصیحت دینے والا ہے ۔ کا لفظ وارد ہوا ہے ۔ اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو الذکر اس لحاظ سے کہا گیا ہے ۔ کہ کتب سابقہ میں آپ کے متعلق خوش خبردی پائی جاتی تھی ۔ اس قول کی بنا پر رسولا ذکرا سے بدل واقع ہوگا ۔ بعض کے نزدیک رسولا پر نصب ذکر کی وجہ سے ہے گویا آیت یوں ہے ۔ قد أنزلنا إليكم کتابا ذکرا رسولا يتلوجیسا کہ آیت کریمہ ؛ أَوْ إِطْعامٌ فِي يَوْمٍ ذِي مَسْغَبَةٍ يَتِيماً [ البلد/ 14- 15] میں کی وجہ سے منصوب ہے اور نسیان کے بعد ذکر کے متعلق فرمایا :َفَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ أَنْ أَذْكُرَهُ [ الكهف/ 63] قو میں مچھلی ( وہیں ) بھول گیا اور مجھے ( آپ سے ) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا ۔ اور ذکر قلبی اور لسانی دونوں کے متعلق فرمایا :۔ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آباءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْراً [ البقرة/ 200] تو ( مبی میں ) خدا کو یاد کرو جسطرح اپنے پاب دادا کیا کرتے تھے بلکہ اس سے بھی زیادہ ۔ فَاذْكُرُوا اللَّهَ عِنْدَ الْمَشْعَرِ الْحَرامِ وَاذْكُرُوهُ كَما هَداكُمْ [ البقرة/ 198] تو مشعر حرام ( یعنی مزدلفہ ) میں خدا کا ذکر کرو اور اسطرح ذکر کرو جس طرح تم کو سکھایا ۔ اور آیت کریمہ :۔ لَقَدْ كَتَبْنا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ [ الأنبیاء/ 105] اور ہم نے نصیحت ( کی کتاب یعنی تورات ) کے بعد زبور میں لکھ دیا تھا ۔ میں الذکر سے کتب سابقہ مراد ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛هَلْ أَتى عَلَى الْإِنْسانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئاً مَذْكُوراً [ الدهر/ 1] انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھی ۔ شمأز قال اللہ تعالی: اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ [ الزمر/ 45] ، أي : نَفَرَتْ. ( ش م ء ز ) الاشمأزاز ۔ منقبض و گرفتہ ہوجانا ۔ قرآن میں ہے ۔ اشْمَأَزَّتْ قُلُوبُ الَّذِينَ [ الزمر/ 45]( تو ) ان لوگوں کے دل منقبض ہوجاتے ہیں ۔ قلب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، کقلب الثّوب، وقلب الإنسان، أي : صرفه عن طریقته . قال تعالی: وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] . ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں جیسے قلب الثوب ( کپڑے کو الٹنا ) اور قلب الانسان کے معنی انسان کو اس کے راستہ سے پھیر دینے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ [ العنکبوت/ 21] اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے ۔ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَالَّذِينَ هَادُوا وَالنَّصَارَى وَالصَّابِئِينَ } ( سورة البقرة 62) اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ آخرت آخِر يقابل به الأوّل، وآخَر يقابل به الواحد، ويعبّر بالدار الآخرة عن النشأة الثانية، كما يعبّر بالدار الدنیا عن النشأة الأولی نحو : وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوانُ [ العنکبوت/ 64] ، وربما ترک ذکر الدار نحو قوله تعالی: أُولئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ [هود/ 16] . وقد توصف الدار بالآخرة تارةً ، وتضاف إليها تارةً نحو قوله تعالی: وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ [ الأنعام/ 32] ، وَلَدارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا «1» [يوسف/ 109] . وتقدیر الإضافة : دار الحیاة الآخرة . و «أُخَر» معدول عن تقدیر ما فيه الألف واللام، ولیس له نظیر في کلامهم، فإنّ أفعل من کذا، - إمّا أن يذكر معه «من» لفظا أو تقدیرا، فلا يثنّى ولا يجمع ولا يؤنّث . - وإمّا أن يحذف منه «من» فيدخل عليه الألف واللام فيثنّى ويجمع . وهذه اللفظة من بين أخواتها جوّز فيها ذلک من غير الألف واللام . اخر ۔ اول کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے اور اخر ( دوسرا ) واحد کے مقابلہ میں آتا ہے اور الدارالاخرۃ سے نشاۃ ثانیہ مراد لی جاتی ہے جس طرح کہ الدار الدنیا سے نشاۃ اولیٰ چناچہ فرمایا { وَإِنَّ الدَّارَ الْآخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ } ( سورة العنْکبوت 64) ہمیشہ کی زندگی کا مقام تو آخرت کا گھر ہے لیکن کھی الدار کا لفظ حذف کر کے صرف الاخرۃ کا صیغہ استعمال کیا جاتا ہے جیسے فرمایا : ۔ { أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ } ( سورة هود 16) یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے آخرت میں آتش جہنم کے سوا اور کچھ نہیں ۔ اور دار کا لفظ کبھی اخرۃ کا موصوف ہوتا ہے اور کبھی اس کی طر ف مضاف ہو کر آتا ہے چناچہ فرمایا ۔ { وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يَتَّقُونَ } ( سورة الأَنعام 32) اور یقینا آخرت کا گھر بہتر ہے ۔ ان کے لئے جو خدا سے ڈرتے ہیں ۔ (6 ۔ 32) { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ } ( سورة النحل 41) اور آخرت کا اجر بہت بڑا ہے ۔ اگر وہ اسے جانتے ہوتے ۔ یہ اصل میں ولاجر دار الحیاۃ الاخرۃ ہے ( اور دار کا لفظ الحیاۃ الاخرۃ کی طرف مضاف ہے ) اور اخر ( جمع الاخریٰ ) کا لفظ الاخر ( معرف بلام ) سے معدول ہے اور کلام عرب میں اس کی دوسری نظیر نہیں ہے کیونکہ افعل من کذا ( یعنی صیغہ تفصیل ) کے ساتھ اگر لفظ من لفظا یا تقدیرا مذکورہ ہو تو نہ اس کا تثنیہ ہوتا اور نہ جمع اور نہ ہی تانیث آتی ہے اور اس کا تثنیہ جمع دونوں آسکتے ہیں لیکن لفظ آخر میں اس کے نظائر کے برعکس الف لام کے بغیر اس کے استعمال کو جائز سمجھا گیا ہے تو معلوم ہوا کہ یہ الاخر سے معدول ہے ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ بشر واستبشر : إذا وجد ما يبشّره من الفرح، قال تعالی: وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] ، يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] ، وقال تعالی: وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] . ويقال للخبر السارّ : البِشارة والبُشْرَى، قال تعالی: هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ، وقال تعالی: لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] ، وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] ، يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] ، وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] . ( ب ش ر ) البشر التبشیر کے معنی ہیں اس قسم کی خبر سنانا جسے سن کر چہرہ شدت فرحت سے نمٹما اٹھے ۔ مگر ان کے معافی میں قدر سے فرق پایا جاتا ہے ۔ تبیشتر میں کثرت کے معنی ملحوظ ہوتے ہیں ۔ اور بشرتہ ( مجرد ) عام ہے جو اچھی وبری دونوں قسم کی خبر پر بولا جاتا ہے ۔ اور البشرتہ احمدتہ کی طرح لازم ومتعدی آتا ہے جیسے : بشرتہ فابشر ( یعنی وہ خوش ہوا : اور آیت کریمہ : { إِنَّ اللهَ يُبَشِّرُكِ } ( سورة آل عمران 45) کہ خدا تم کو اپنی طرف سے بشارت دیتا ہے میں ایک قرآت نیز فرمایا : لا تَوْجَلْ إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلامٍ عَلِيمٍ قالَ : أَبَشَّرْتُمُونِي عَلى أَنْ مَسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُونَ قالُوا : بَشَّرْناكَ بِالْحَقِّ [ الحجر/ 53- 54] مہمانوں نے کہا ڈریے نہیں ہم آپ کو ایک دانشمند بیٹے کی خوشخبری دیتے ہیں وہ بولے کہ جب بڑھاپے نے آپکڑا تو تم خوشخبری دینے لگے اب کا ہے کی خوشخبری دیتے ہو انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو سچی خوشخبری دیتے ہیں ۔ { فَبَشِّرْ عِبَادِ } ( سورة الزمر 17) تو میرے بندوں کو بشارت سنادو ۔ { فَبَشِّرْهُ بِمَغْفِرَةٍ وَأَجْرٍ كَرِيمٍ } ( سورة يس 11) سو اس کو مغفرت کے بشارت سنادو استبشر کے معنی خوش ہونے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ [ آل عمران/ 170] اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے ( اور شہید ہوکر ) ان میں شامل ہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں ۔ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ [ آل عمران/ 171] اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہورہے ہیں ۔ وَجاءَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَسْتَبْشِرُونَ [ الحجر/ 67] اور اہل شہر ( لوط کے پاس ) خوش خوش ( دورے ) آئے ۔ اور خوش کن خبر کو بشارۃ اور بشرٰی کہا جاتا چناچہ فرمایا : هُمُ الْبُشْرى فِي الْحَياةِ الدُّنْيا وَفِي الْآخِرَةِ [يونس/ 64] ان کے لئے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی ۔ لا بُشْرى يَوْمَئِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ [ الفرقان/ 22] اس دن گنہگاروں کے لئے کوئی خوشی کی بات نہیں ہوگی ۔ وَلَمَّا جاءَتْ رُسُلُنا إِبْراهِيمَ بِالْبُشْرى [هود/ 69] اور جب ہمارے فرشتے ابراہیم کے پاس خوشخبری سے کرآئے ۔ يا بُشْرى هذا غُلامٌ [يوسف/ 19] زہے قسمت یہ تو حسین ) لڑکا ہے ۔ وَما جَعَلَهُ اللَّهُ إِلَّا بُشْرى [ الأنفال/ 10] اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے رذریعہ بشارت ) بنایا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھو تو ان لوگوں کے دلوں میں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے نفرت و تنگی پیدا ہوتی ہے اور جب اس کے علاوہ لات و عزی کا تذکرہ ہوتا ہے تو اسی وقت یہ لوگ اپنے بتوں کے ذکر سے خوش ہوجاتے ہیں۔ شان نزول : وَاِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ (الخ) ابن المنذر نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت مبارکہ رسول اکرم کی کعبہ کے پاس سورة نجم کی تلاوت کرنے اور مشرکین کے اپنے بتوں کے تذکرہ پر خوش ہونے کے وقت نازل ہوئی ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٥ { وَاِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَحْدَہُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ } ” اور جب ذکر کیا جاتا ہے اکیلے اللہ کا تو جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ان کے دل ُ کڑھنے لگتے ہیں۔ “ یہ اصلاً تو کفار کا ذکر ہے ‘ مگر مسلمانوں میں سے بھی جو مشرکانہ ذوق رکھتے ہیں ان کا یہی حال ہے کہ اگر کہیں صرف اللہ ہی کی بات ہو رہی ہو تو انہیں یہ اچھا نہیں لگتا۔ کسی تقریر یا وعظ میں اگر ساری گفتگو توحید پر ہی ہو تو عام طور پر لوگ گھبرا جاتے ہیں کہ یہ کیا بات ہوئی ؟ یہ کیسی تقریر ہے جس میں نہ تو اولیاء اللہ کی کرامات کا ذکر کیا جارہا ہے اور نہ ہی شان نبوت بیان ہو رہی ہے ! { وَاِذَا ذُکِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِہٖٓ اِذَا ہُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ } ” اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر کیا جاتا ہے تب وہ خوش ہوجاتے ہیں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

64 This evil is common to almost all polytheistic people of the world, and even some unfortunate Muslims also suffer from it, They profess with the tongue that they believe in Allah, but when One Allah alone is mentioned before them, their faces arc distorted, and they say, "This man certainly does not believe in the saints and holy men; that is why he talks of Allah and Allah alone. " And if others besides Allah arc mentioned, they are delighted, and their faces brighten up with joy. Their this attitude shows as to who is the actual object of their love and esteem. 'Allama Alusi, in his commentary Ruh al-Ma ani, has related his own experience here. He says: "One day I saw that a man was invoking the help of a dead saint in his affliction. I said; O bondsman of Allah, invoke Allah, for He Himself says: 'If My servants ask you, O Prophet, concerning Me, tell them I am quite near to them. I hear and answer the prayer of the supplicant when he calls to Me," (AI-Baqarah: 186), Hearing this the man became angry, the people told me afterwards that he said: This man is a denier of the saints; and some others heard him also say: The saints answer the prayers more promptly than does Allah."

سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :64 یہ بات قریب قریب ساری دنیا کے مشرکانہ ذوق رکھنے والے لوگوں میں مشترک ہے ، حتّیٰ کہ مسلمانوں میں بھی جن بد قسمتوں کو یہ بیماری لگ گئی ہے وہ بھی اس عیب سے خالی نہیں ہیں ۔ زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اللہ کو مانتے ہیں ۔ لیکن حالت یہ ہے کہ اکیلے اللہ کا ذکر کیجیے تو ان کے چہرے بگڑنے لگتے ہیں ۔ کہتے ہیں ، ضرور یہ شخص بزرگوں اور اولیاء کو نہیں مانتا ، جبھی تو بس اللہ ہی اللہ کی باتیں کیے جاتا ہے ۔ اور اگر دوسروں کا ذکر کیا جائے تو ان کے دلوں کی کلی کھل جاتی ہے اور بشاشت سے ان کے چہرے دمکنے لگتے ہیں ۔ اس طرز عمل سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کو اصل میں دلچسپی اور محبت کس سے ہے ۔ علامہ آلوسی نے روح المعانی میں اس مقام پر خود اپنا ایک تجربہ بیان کیا ہے ۔ فرماتے ہیں کہ ایک روز میں نے دیکھا کہ ایک شخص اپنی کسی مصیبت میں ایک وفات یافتہ بزرگ کو مدد کے لیے پکار رہا ہے ۔ میں نے کہا اللہ کے بندے ، اللہ کو پکار ، وہ خود فرماتا ہے کہ وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعَوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۔ میری یہ بات سن کر اسے سخت غصہ آیا اور بعد میں لوگوں نے مجھے بتایا کہ وہ کہتا تھا یہ شخص اولیاء کا منکر ہے ۔ اور بعض لوگوں نے اس کو یہ کہتے بھی سنا کہ اللہ کی نسبت ولی جلدی سن لیتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٤٥۔ ٤٦۔ مشرکین مکہ جو کہتے تھے کہ ہم نیک لوگوں کی مورتوں کی پوجا اس لئے کرتے ہیں کہ وہ نیک لوگ بار گاہ الٰہی میں سفارش کریں گے ان مشرکین کی اس بات کا ایک جواب تو اللہ تعالیٰ نے سورة یونس میں دیا تھا جس کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن وہ نیک لوگ بجائے سفارش کے ان مشرکوں کے شرک سے اپنی بیزاری ظاہر کریں گے دوسرا جواب اس بات کا ان آیتوں میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن کی جن آیتوں میں اکیلے اللہ کا نام آئے تو ان آیتوں کو سن کر ان اللہ کے سامنے کھڑے ہونے والے منکروں کے دل میں نفرت پیدا ہوجاتی ہے اور جب ان کے بتوں کا نام آئے تو ان کے دل خوش ہوجاتے ہیں یہ سفارش کی امید کا طریقہ نہیں ہے بلکہ یہ مشرکوں کا طریقہ ہے جن مشرکوں کے حق میں اللہ کا یہ وعدہ ہے کہ جس طرح اونٹ سوئی کے ناکے میں نہیں جاسکتا اسی طرح مشرک کی نجات بھی نہیں ہوسکتی اسی واسطے ابراہیم علیہ اسلام اپنے باپ آزر کی سفارش کریں گے اور وہ منظور نہ ہوگی ان مشرکین کی حالت تو آزر سے بھی بدتر ہے کہ ان کی سفارش کو تو کوئی کھڑا بھی نہ ہوگا بلکہ جن سے ان کو سفارش کی امید ہے وہ بجائے سفارش کے ان سے بیزاری ظاہر کریں گے۔ اب آگے فرمایا اے رسول اللہ کے اگر اس فہمائش کے بعد بھی یہ لوگ اپنے جھوٹے جھگڑوں کی باتوں سے باز نہ آئیں تو تم ان کا فیصلہ اللہ پر سونپ دو اس نے آسمان و زمین سب کچھ پیدا کیا ہے اس لئے آسمان و زمین کی کوئی ظاہر و باطن حالت اس کے علم سے باہر نہیں ہے وہ اپنے علم کے موافق وقت مقررہ پر ان کے سب چھوٹے بڑے جھگڑوں کا جب فیصلہ کر دے گا تو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی قیامت کے دن ایسے لوگوں کا جو فیصلہ ہوگا اس کی تفصیل سورة الحاقہ میں آئے گی جس کا حاصل یہ ہے کہ یہ لوگ جب اپنے اعمال ناموں میں اول سے آخر تک بدیاں لکھی ہوئی دیکھیں گے تو بہت پچھتائیں گے اور یہ بےوقت کا پچھتانا ان کے کچھ کام نہ آئے گا آخر ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیا جائے گا اور زنجیروں میں ان کی جماعت کو پرویا جا کر دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ مسند امام احمد ٢ ؎ ترمذی وغیرہ میں چند صحابہ کی معتبر روایتیں ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ ان زنجیروں میں سے ہر ایک زنجیر کی لمبائی چالیس برس کے راستہ کے فاصلہ کی برابر ہوگی سورة الانبیا میں گزر چکا ہے کہ ان لوگوں کو ذلیل کرنے کے لئے ان کے ان بتوں کو بھی دوزخ میں ڈال دیا جائے گا جن کی یہ لوگ پوجا کرتے تھے۔ مسند امام احمد ترمذی ٣ ؎ نسائی اور مستدرک حاکم کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی صحیح روایت سورة ص میں گزر چکی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ابو طالب کی بیماری کے وقت اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قریش ابو طالب کے گھر پر جمع ہوئے اور اس مجلس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا ذکر سن کر بڑی نفرت کے ساتھ قریش وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے یہ قصہ اس بات کی تفسیر ہے کہ اکیلے اللہ کے ذکر کو سن کر ان لوگوں کے دل میں ایک نفرت پیدا ہوجاتی تھی۔ سورة النجم کی تفسیر میں صحیح بخاری ٤ ؎ کے حوالہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت آئے گی۔ کہ سورة النجم کے ختم پر جب اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ کیا تو آپ کے ساتھ مشرکین مکہ نے بھی سجدہ کیا مشرکین مکہ کے سجدہ کرنے کا سبب جو تفسیر ابن جریر ابن ١ ؎ ابی حاتم وغیرہ میں چند روایتوں سے بیان کیا گیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ جب مکہ میں سورة النجم نازل ہوئی اور اس سورة کی آیت افرء یتم الات و العزی و مناۃ الثالثہ الاخرے کو اللہ کے رسول نے پڑھا تو شیطان نے مشرکین مکہ کے کانوں میں کچھ ایسے لفظ پھونک دیئے جن سے ان بتوں کی تعریف نکلتی تھی اس واسطے ختم سورة پر جب اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ کیا تو اپنے بتوں کی تعریف کی خوشی میں مشرکین مکہ نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا کے بعد حضرت جبرئیل (علیہ السلام) آئے اور انہوں نے شیطان کی شرارت کا حال کھول دیا یہ قصہ اس بات کی تفسیر ہے کہ مشرکین مکہ اپنے بتوں کی تعریف سن کر بہت خوش ہوتے تھے۔ محی الدین ٢ ؎ ابن عربی قاضی عیاض وغیرہ نے اگرچہ اس قصہ کو غلط ٹھہرایا ہے لیکن سورة الحج میں گزر چکا ہے ٣ ؎ اور سورة النجم میں آئے گا کہ اس مرسل روایت کے تین طریقے صحیح ہیں جس سے ایک روایت کو دوسری روایت سے تقویت ہوجاتی ہے بغیر ذکر صحابی کے تابعی کی روایت کو مرسل کہتے ہیں۔ مفسرین کی بڑی جماعت کا ہی مذہب ہے کہ تفسیر کے باب میں تابعیوں کا قول صحابہ کے قول کے برابر ہے اور صحابہ کا قول حدیث نبوی کے برابر ہے کیونکہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عقلی تفسیر کی ممانعت جو فرمائی ہے اس ممانعت سے صحابہ اور تابعین بیخبر نہیں ہیں اس لئے اس باب میں صحابہ جو کچھ کہتے ہیں وہ اللہ کے رسول سے سن کر کہتے ہیں۔ اس قاعدہ کے موافق تفسیر کے باب میں صحیح مرسل روایت کا جو اعتبار کیا جاسکتا ہے وہ ظاہر ہے اس واسطے امام بخاری نے صحیح بخاری کتاب التفسیر میں مجاہد کے قول کا جگہ جگہ اعتبار کیا ہے۔ مجاہدین جبیر حضرت عبد اللہ بن عباس کے نامی شاگرد اور ثقہ تابعی ہیں صحیح مسلم کے حوالہ ٤ ؎ سے ابوہریرہ کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے جس میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک ایک منکر حشر کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے رو برو کھڑا کرکے دنیا کی طرح طرح کی نعمتیں یاد دلائے گا اور یہ منکر حشر شخص ان نعمتوں کا جب اقرار کرے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس اللہ نے وہ سب نعمتیں پیدا کی تھیں کبھی تیرے دل میں یہ خیال بھی آیا تھا کہ ان نعمتوں کے حساب و کتاب کے لئے ایک دن تجھ کو اس کے رو برو کھڑا ہونا پڑے گا وہ منکر حشر شخص کہے گا نہیں یہ خیال تو میرے دل میں کبھی نہیں آیا اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا جس طرح تو نے دنیا میں میرے رو برو کھڑا ہونے کو بھلا رکھا تھا اسی طرح بھولی ہوئی چیز کے طور پر آج میں بھی تجھ کو اپنی نظر رحمت سے دور ڈال دیتا ہوں۔ آیتوں میں لایومنون بالاخرۃ جو فرمایا یہ حدیث اس کی تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ انتظام الٰہی میں جب حشر اور قیامت کا قائم ہونا ٹھہر چکا ہے تو ان منکرین حشر کے انکار حشر سے کچھ نہیں ہوسکتا بلکہ انتظام الٰہی کے موافق ناگہانی طور پر ایک دن اللہ کے رو برو ان لوگوں کو کھڑا ہونا پڑے گا اور حشر کے انکار کا جرم ان لوگوں کو اللہ کی رحمت سے دور ڈال دے گا جس کا نتیجہ وہی ہوگا جو سورة الحاقہ کے حوالہ سے اوپر گزرا۔ صحیح مسلم ٥ ؎ میں حضرت عائشہ (رض) کی حدیث ہے کہ اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب تہجد کی نماز کے لئے اٹھا کرتے تھے تو آخری آیت کے لفظوں کو دعا میں شریک کرلیا کرتے تھے۔ (٢ ؎ جامع ترمذی ابواب صفۃ جھنم ص ٩٦ ج ٢۔ ) (٣ ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة ص ‘ ص ١٧٨ ج ٢۔ ) (٤ ؎ صحیح بخاری تفسیر سورة النجم ص ٧٣١ ج ٢۔ ) (١ ؎ بحوالہ تفسیر الدر المنثور ص ٣٦٦‘ ٣٦٧ ج ٤۔ ) (٢ ؎ اس بحث کی تفصیل کے لئے دیکھیں تفسیرہذا جلد ٤ ص ٢٨٥ سورة حج۔ ) (٣ ؎ اس بحث کی تفصیل کے لئے دیکھیں تفسیرہذا جلد ٤ ص ٢٨٥ سورة حج۔ ) (٤ ؎ صحیح مسلم فصل فی بیان ان الاعضاء منطقتہ شاھدۃ یوم القیمۃ ص ٤٠٩ ج ٢۔ ) (٥ ؎ صحیح ملم باب صلوٰۃ النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و دعائہ باللیل ص ٣٦٣ ج ١۔ )

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(39:45) اشمازت ماضی واحد مؤنث غائب اشمیزاز (افعیلال) مصدر سے منقبض یا گرفتہ ہوجانا۔ غم و غصہ سے اس طرح بھر جانا کہ چہرے سے رکاوٹ اور نفرت کا اظہار ہونے لگے۔ ش م ء ز مادہ۔ (ان کے دل کڑھنے لگتے ہیں) ذکر۔ ماضی مجہول واحد مذکر غائب ذکر سے (باب نصر) ذکر کیا گیا ۔ ذکر کیا جاتا ہے۔ ذکر کیا جائے۔ اذا ہم یستبشرون : اذا مفاجاتیہ ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب الذین لایؤمنون بالاخرۃ کی طرف راجع ہے۔ یستبشرون مضارع جمع مذکر غائب استبشار (استفعال) مصدر وہ خوش ہوجاتے ہیں۔ اذا ہم یستبشرون تو فورا اسی وقت وہ خوشیاں منانے لگتے ہیں ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 11 افسوس ہے کہ آج بھی یہی کیفیت بہت سے ان مسلمانوں کی ہے جو اولیاء پرستی کے مرضی میں مبتلا ہیں، ان کے سامنے اللہ کی خالص توحید کا ذکر ہو تو ان کے دل بھینچ جاتے ہیں اور کہتے ہیں، یہ شخص ضرور اولیاء اللہ کا منکر ہے لیکن اگر اولیاء اللہ کے فضائل و کرامات کے من گھڑت قصے سنائے جائیں تو گویا ان کے دل کی کلی کھل جاتی ہے اور خوشی سے ان کے چہرے دمکنے لگتے ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اصل محبت اور دلچسپی اللہ تعالیٰ سے نہیں بلکہ اپنے ان اولیاء سے ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ یعنی بدون اس کے اذن کے کسی کی مجال نہیں کہ سفارش کرسکے، اور اذن کے لئے دو شرطیں ہیں۔ شفیع کا مقبول ہونا اور مشفوع لہ کا قابل مغفرت ہونا، پس جن ارواح کو یہ معبود قرار دیتے ہیں اگر وہ شیطاطین ہیں تو دونوں شرطیں مفقود، اور اگر وہ ملائکہ وغیرہم ہیں تو شرط ثانی مفقود۔ بہرحال اذن مفقود ہے، پس ان کی شفاعت بھی منفی ہے، اور یہی مبنی تھا ان کے معبود قرار دینے کا پس ان کی معبودیت باطل ٹھہری۔ اور حق تعالیٰ کی توحید ثابت ہوگئی۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : سفارش کے ختیارات تمام کے تمام اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ وہ اپنی ذات، صفات کے اعتبار سے اکیلا ہے۔ اس بات کا کھول کر ذکر کیا جاتا ہے تو مشرک اسے برا سمجھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا دائمی اور حقیقی مالک ہے۔ وہ اپنی مخلوق پر بلا شرکت غیرے اختیار رکھتا ہے۔ اس نے کسی اعتبار سے کسی کو بھی کوئی اختیار نہیں دیا۔ توحید کے اس پہلو کو کھول کر بیان کیا جائے تو مشرک کو یہ بات بری لگتی ہے جس بنا پر توحید کے بیان سے نفرت کرتا ہے۔ لیکن جوں ہی بزرگوں کی جھوٹی، سچی کرامات اور ان کی شخصیت کا ذکر کیا جائے تو شرک سے محبت رکھنے والے لوگوں کے چہرے کھل جاتے ہیں۔ مشرکانہ ماحول کے غلبہ کی وجہ سے اہل توحید کی غالب اکثریت ایسی ہے جو توحید خالص اور عقیدہ کے مختلف پہلوں پر گفتگو سننے کی بجائے دوسرے عنوانات پر وعظ سننا زیادہ پسند کرتی ہے۔ اسی وجہ سے توحید سے نفرت کرنے کی وجہ سے اہل مکہ مطالبہ کرتے تھے کہ اس قرآن کو بدل دیا جائے۔ آج کے مشرک یہ مطالبہ کرنے کی جرأت تو نہیں کرتے۔ لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ قرآن مجید میں جہاں بھی ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ “ اور ” مِنْ دُوْنِہٖ “ کے الفاظ آئے ہیں ان کا ترجمہ صرف بت ہی کرتے ہیں۔ یقین کے لیے مشرکانہ عقیدہ رکھنے والے کسی بھی مفسر کی تفسیر دیکھی جاسکتی ہے۔ حالانکہ اکثر مقامات پر ” مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ “ سے مراد بت نہیں زندہ یا فوت شدہ شخصیات ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ آخرت پر حقیقی ایمان نہیں رکھتے۔ اگر ان کا آخرت پر حقیقی ایمان ہو تو ان کے دل اللہ کی ذات، اس کی صفات اور اختیارات کی بات سن کر باغ باغ ہوجانے چاہییں۔ کیونکہ کہ بڑی سے بڑی ہستی کو پیدا کرنے اور اسے شان دینے والا تو صرف ایک ” اللہ “ ہے مشرک کے آخرت پر ایمان کی اس لیے بھی نفی کی گئی ہے کہ اگر اس کا آخرت پر حقیقی ایمان ہو تو ” اللہ “ کی ذات، صفات اور اختیارات کو بلا شرکت غیرے تسلیم کرئے۔ اور اللہ تعالیٰ کی توحید پر مطمئن ہوجائے اور اس کے ذکر پر انقباض کی بجائے خوشی کا اظہار کرتا۔ من دون اللہ سے مراد بزرگ ہیں : (اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمْثَالُکُمْ فَادْعُوْھُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَکُمْ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ) [ الاعراف : ١٩٤] ” بیشک جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، وہ تمہاری طرح کے بندے ہیں، تو انہیں پکارو، پس چاہیے کہ تمہاری پکار کو قبول کریں، اگر تم سچے ہو (یعنی وہ تمہاری دعاؤں اور پکار سے بیخبر ہیں۔ ) “ (تفصیل کیلئے دیکھیں میری کتاب ” انبیاء کا طریقہ دعا “ ) من دون اللہ سے مراد علماء، اولیاء اور عیسیٰ ( علیہ السلام) : (اِتَّخَذُوْا أَحْبَارَہُمْ وَرُہْبَانَہُمْ أَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ وَالْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ ) [ توبۃ : ٣١] ” انہوں نے بنا لیا اپنے پادریوں کو راہبوں کو پروردگار اللہ کو چھوڑ کر اور مریم کے فرزند مسیح کو بھی۔ “ من دون اللہ سے مراد بت : (قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِنْ دُون اللَّہِ مَا لَا یَنْفَعُکُمْ شَیْءًا وَلَا یَضُرُّکُمْ )[ الانبیاء : ٦٦] ” ابرہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا تم اللہ تعالیٰ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو کچھ بھی نفع و نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ “ مسائل ١۔ اللہ کی توحید پر مشرک ناراض ہوتا ہے۔ ٢۔ اللہ کے سوا دوسروں کے ذکر پر مشرک خوش ہوتا ہے۔ ٣۔ مشرک کا آخرت پر حقیقی ایمان نہیں ہوتا۔ تفسیر بالقرآن من دون کے دلائل : ١۔ میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ (یونس : ١٠٤) ٢۔ مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ (الانعام : ٥٦) ٣۔ کیا میں اللہ کے سوا ان کو پکاروں جو نفع اور نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ (الانعام : ٧١) ٤۔ جن کو لوگ اللہ کے سوا پکارتے ہیں انھوں نے کوئی چیز پیدا نہیں کی بلکہ وہ خود پیدا کیے گئے ہیں۔ (النحل : ٢٠) ٥۔ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہارے جیسے بندے ہیں۔ (الاعراف : ١٩٤) ٦۔ انہوں نے اپنے پادریوں اور راہبوں اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا معبود بنا لیا۔ (التوبۃ : ٣١) نوٹ : مشرکین کی توحید سے نفرت کے دلائل کے لیے سورة المومن کی آیت ١٢ ملاحظہ فرمائیں !

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 45 یہ ایک حقیقی صورت حال کی نقشہ کشی ہے جو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں موجود تھی۔ اس وقت صورت یہ تھی کہ جب مشرکین کے خداؤں کا ذکر احترم سے کیا جاتا تو یہ مشرکین کھل اٹھتے اور بہت خوش ہوتے ۔ اور جب کلمہ توحید کا بیان ہوتا تو یہ لوگ مرجھا جاتے اور ان کی طبیعت میں انقباض پیدا ہوجاتا ۔۔۔۔ لیکن یہ ایک نفسیاتی حالت ہے جو ہر زمان ومکان میں پائی جاتی ہے۔ ہر دور میں ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ وحدہ کی طرف لوگوں کو دعوت دی جائے اور صرف اللہ کی شریعت کے نفاذ کا مطالبہ کیا جائے اور صرف اسلامی نظام اور اسلامی دستور ومنشور کی بات کی جائے تو ان کو سخت انقباض ہوتا ہے لیکن اس کے مقابلے میں جب انسانوں کے بنائے ہوئے نظام ہائے زندگی کی بات کی جائے ، انسانی قوانین کی بات کی جائے تو وہ بہت ہی خوش ہوتے ہیں ، کھل اٹھتے ہیں اور ایسی باتوں کو خوش آمدید کہتے ہیں اور ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی تصویر کشی اس آیت میں کی گئی ہے۔ یہ لوگ ہر زمان ومکان میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے۔ ان کے مزاج میں بگاڑ پیدا ہوگیا ہے۔ اور یہ لوگ ضال اور مضل ہیں۔ اگرچہ کوئی معاشرہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے معاشرے سے مختلف ہو۔ اگرچہ ان کی جنس اور قوم عربوں سے جدا ہو۔ ایسے منحرفین ، گمراہوں اور بگڑے ہوئے لوگوں کا جواب وہی ہے جو اللہ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتایا تھا جب آپ کو ایسے حالات سے مقابلہ درپیش تھا۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

46:۔ ” واذا ذکر الخ “ یہ شکوی ہے۔ ان کا حال بھی عجیب ہے۔ اگر واقعی حقیقت ان کے سامنے پیش کی جائے یعنی کہا جائے کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کرو تو اس سے ان کے دل متنفر ہوتے ہیں۔ لیکن اگر غیر اللہ کی پرستش اور عبادت کی اجازت دی جائے یا اللہ کے ساتھ ان کے معبودوں کا ذکر ہی کیا جائے تو بہت خوش ہوتے ہیں (واذا ذکر اللہ وحدہ) ای قیل لا الہ الا اللہ (اشمازت) انقبضت و نفرت (قلوب الذین لا یومنون بالاخرۃ واذا ذکر الذی من دونہ) ای الاوثان (اذا ھم یستبشرون) واذکر اللہ معہم اولم یذکر (جامع البیان ص 398) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(45) اور جب تنہا صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور اس اکیلے اور یگانہ معبود کا نام لیا جائے تو ان لوگوں کے دل جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے سخت کبیدہ متنفر اور منقبض ہوتے ہیں اور جہاں اللہ تعالیٰ کے سوا دوسروں کا ذکر کیا گیا تو اسی وقت یہ لوگ خوش ہوجاتے اور خوشیاں کرنے لگتے ہیں۔ یعنی جب کے قلوب کو آخرت کا یقین نہیں ہے ان بدنصیبوں کی حالت یہ ہے کہ جب ان کے سامنے صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جائے اور لا الہ الا اللہ کہا جائے تو ان کے دل منقبض ہوجاتے ہیں اور جب خدا تعالیٰ کے ساتھ دوسروں کو بھی ذکر کیا جائے یا فقط دوسروں ہی کا ذکر ہو تو یہ لوگ خوش ہونے لگتے ہیں۔ اگرچہ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے ابوجہل ولید بن عقبہ صفوان اور ابی بن خلف مراد ہیں لیکن واقعہ یہ ہے کہ ہر کافر اور مشرک کا یہی حال ہے کہ صرف اللہ کا نام ان کو کھٹکتا ہے ہاں اگر ان کے فرضی معبودوں کا ذکر کیا جائے تو بہت خوش ہوتے ہیں بلکہ فقیر کا تجربہ تو یہ ہے کہ بعض اہل بدعت بھی اتباع سنت اور اتباع شریعت کی باتوں سے دل تنگ ہوتے ہیں اور اولیا اللہ کی فرضی کہانیوں سے خوش ہوتے ہیں۔