Surat uz Zumur

Surah: 39

Verse: 46

سورة الزمر

قُلِ اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ عٰلِمَ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ اَنۡتَ تَحۡکُمُ بَیۡنَ عِبَادِکَ فِیۡ مَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۴۶﴾

Say, "O Allah , Creator of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the witnessed, You will judge between your servants concerning that over which they used to differ."

آپ کہہ دیجئے! کہ اے اللہ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے چھپے کھلے کو جاننے والے تو ہی اپنے بندوں میں ان امور کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ الجھ رہے تھے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

How to supplicate After condemning the idolators for their love of Shirk and their hatred of Tawhid, Allah then says: قُلِ اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالاَْرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ... Say: "O Allah! Creator of the heavens and the earth! All-Knower of the unseen and the seen!..." meaning, `call you upon Allah Alone with no partner or associate, Who has created the heavens and the earth and originated them,' i.e., made them like nothing that ever before existed. عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ (All-Knower of the unseen and the seen!), means, what is secret and what is open. ... أَنتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِي مَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ You will judge between your servants about that wherein they used to differ. means, in this world; `You will judge between them on the Day when they are resurrected and brought forth from their graves.' In his Sahih, Muslim recorded that Abu Salamah bin Abdur-Rahman said, "I asked A'ishah, may Allah be pleased with her, how the Messenger of Allah started his prayer when he stood up to pray at night. She said, may Allah be pleased with her: `When the Messenger of Allah stood up to pray at night, he would start his prayer with the words: اللْهُمَّ رَبَّ جِبْرِيلَ وَمِيكَايِيلَ وَإِسْرَافِيلَ فَاطِرَ السَّموَاتِ وَالاَْرْضِ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ أَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيمَا كَانُوا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ اهْدِنِي لِمَا اخْتُلِفَ فِيهِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِكَ إِنَّكَ تَهْدِي مَنْ تَشَاءُ إِلى صِرَاطٍ مُسْتَقِيم "O Allah, Lord of Jibril, Mika'il and Israfil, Creator of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the seen, You will judge between Your servants concerning that wherein they differ. Guide me with regard to that wherein there is dispute concerning the truth by Your leave, for You guide whomsoever You will to the straight path." No Ransom will be accepted on the Day of Resurrection Allah says,

صبح وشام کے بعض وظائف ۔ مشرکین کو جو نفرت توحید سے ہے اور جو محبت شرک سے ہے اسے بیان فرما کر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک لہ فرماتا ہے کہ تو صرف اللہ تعالیٰ واحد کو ہی پکار جو آسمان و زمین کا خالق ہے اور اس وقت اس نے انہیں پیدا کیا ہے جبکہ نہ یہ کچھ تھے نہ ان کا کوئی نمونہ تھا ۔ وہ ظاہر و باطن چھپے کھلے کا عالم ہے ۔ یہ لوگ جو جو اختلافات اپنے آپس میں کرتے تھے سب کا فیصلہ اس دن ہو گا جب یہ قبروں سے نکلیں اور میدان قیامت میں آئیں گے ۔ حضرت ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن رحمتہ اللہ علیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز کو کس دعا سے شروع کرتے تھے؟ آپ فرماتے ہیں اس دعا سے ( ترجمہ ) یعنی اللہ اے جبرائیل ، میکائیل اور اسرافیل کے رب اے آسمان و زمین کو بےنمونے کے پیدا کرنے والے اسے حاضر و غائب کئے جانے والے تو ہی اپنے بندوں کے اختلاف کا فیصلہ کرنے والا ہے جس جس چیز میں اختلاف کیا گیا ہے تو مجھے ان سب میں اپنے فضل سے حق راہ دکھا تو جسے چاہے سیدھی راہ کی رہنمائی کرتا ہے ( مسلم ) حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جو بندہ اس دعا کو پڑھے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے فرشتوں سے فرمائے گا کہ میرے اس بندے نے مجھ سے عہد لیا ہے اس عہد کو پورا کرو ۔ چنانچہ اسے جنت میں پہنچا دیا جائے گا ۔ وہ دعا یہ ہے ( ترجمہ ) یعنی اے اللہ اے آسمان و زمین کو بےنمونے کے پیدا کرنے والے اے غائب و حاضر کے جاننے والے میں اس دنیا میں تجھ سے عہد کرتا ہوں کہ میری گواہی ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور میری یہ بھی شہادت ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں ۔ تو اگر مجھے میری ہی طرف سونپ دے گا تو میں برائی سے قریب اور بھلائی سے دور پڑ جاؤں گا ۔ اللہ مجھے صرف تیری رحمت ہی کا سہارا اور بھروسہ ہے پس تو بھی مجھ سے عہد کر جسے تو قیامت کے دن پورا کرے یقینا تو عہد شکن نہیں ۔ اس حدیث کے راوی سہیل فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن عبدالرحمٰن سے جب کہا کہ عون اس طرح یہ حدیث بیان کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا سبحان اللہ ہماری تو پردہ نشین بچیوں کو بھی یہ حدیث یاد ہے ( مسند احمد ) حضرت عبداللہ بن عمرو نے ایک کاغذ نکالا اور فرمایا کہ یہ دعا ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھائی ہے ( ترجمہ ) یعنی اے اللہ اے آسمان و زمین کو بےنمونہ پیدا کرنے والے چھپی کھلی کے جاننے والے تو ہر چیز کا رب ہے اور ہر چیز کا معبود ہے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو اکیلا ہے تیرا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں اور فرشتے بھی یہی گواہی دیتے ہیں ۔ میں شیطان سے اور اس کے شرک سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔ میں تجھ سے پناہ طلب کرتا ہوں کہ میں اپنی جان پر کوئی گناہ کروں یا کسی اور مسلمان کی طرف کسی گناہ کو لے جاؤں ۔ حضرت ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اس دعا کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن عمرو کو سکھایا تھا اسے سونے کے وقت پڑھا کرتے تھے ۔ ( مسند امام احمد ) اور روایت میں ہے کہ ابو راشد حبرانی نے کوئی حدیث سننے کی خواہش حضرت عبداللہ بن عمرو سے کی تو حضرت عبداللہ نے ایک کتاب نکال کر ان کے سامنے رکھ دی اور فرمایا یہ ہے جو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوائی ہے میں نے دیکھا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں صبح و شام کیا پڑھوں؟ آپ نے فرمایا یہ پڑھو ۔ ( اللھم فاطرالسموات والارض عالم الغیب والشھادۃ لا الہ الاانت رب کل شئی وملیکہ اعوذبک من شرنفسی وشرالشیطان وشرکہ او افترف علی نفسی سوء اور اجرہ الی مسلم ) ( ترمذی وغیرہ ) مسند احمد کی حدیث میں ہے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں مجھے اس دعا کے پڑھنے کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح شام اور سوتے وقت حکم دیا ہے ، دوسری آیت میں ظالموں سے مراد مشرکین ہیں ۔ فرماتا ہے کہ اگر ان کے پاس روئے زمین کے خزانے اتنے ہی اور ہوں تو بھی یہ قیامت کے بدترین عذاب کے بدلے انہیں اپنے فدیئے میں اور اپنی جان کے بدلے میں دینے کے لئے تیار ہو جائیں گے ۔ لیکن اس دن کوئی فدیہ اور بدلہ قبول نہ کیا جائے گا گو زمین بھر کر سونا دیں جیسے کہ اور آیت میں بیان فرما دیا ہے ۔ آج اللہ کے وہ عذاب ان کے سامنے آئیں گے کہ کبھی انہیں ان کا خیال بھی نہ گذرا تھا جو جو حرام کاریاں بدکاریاں گناہ اور برائیاں انہوں نے دنیا میں کی تھیں اب سب کی سب اپنے آگے موجود پائیں گے دنیا میں جس سزا کا ذکر سن کر مذاق کرتے تھے آج وہ انہیں چاروں طرف سے گھیر لے گی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

46۔ 1 حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کو تہجد کی نماز کے آغاز میں یہ پڑھا کرتے تھے اللھم رب چبریل ومیکائیل واسرفیل فاطر السموات والارض عالم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون اھدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تھدی من تشاء الی صراط مستقیم۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦٢] مشرکوں کو سمجھانے کے بعد دعا : یعنی جب اتنی موٹی موٹی باتوں میں بھی اختلاف اور جھگڑے ہونے لگیں۔ اللہ کے وقار اور اس کی عظمت کا احساس تک نہ رہے۔ اور ساری وفاداریاں اور نیاز مندیاں اللہ کے بجائے اللہ کے پیاروں کے لئے ہی وقف ہو کر رہ جائیں۔ تو اے اللہ ! اب تجھ سے فریاد ہے اور تیرا ہی حوصلہ ہے جو یہ سب کچھ برداشت کئے جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو مہلت دیئے جاتا ہے۔ اور ان کا فیصلہ قیامت کے دن پر ٹال رکھا ہے۔ جب کوئی شخص حق بات سننے کو تیار نہ ہو اور ناحق جھگڑا کرتا ہو تو ہر شخص کو یہ دعا پڑھنی چاہئے۔ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو سکھائی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۔ : کفار کو توحید کی دعوت دیتے ہوئے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو مشقتیں اٹھائیں اور ان کی ضد، عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے آپ کو جو تکلیفیں پہنچیں اور توحید کے واضح دلائل کے سامنے لاجواب ہو کر بھی وہ جس طرح شرک پر ڈٹے رہے، اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دینے کے لیے حکم دیا گیا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں اور سارا معاملہ اس کے سپرد کریں، کیونکہ وہی آسمان و زمین کو پیدا کرنے والا ہے، ہر چیز پر قادر ہے اور مخلوق کے تمام حاضر و غائب احوال کو جاننے والا ہے۔ اس لیے ان اسماء وصفات کے وسیلے سے اس سے دعا کریں کہ جب تیری توحید جیسی روشن اور واضح بات میں بھی جھگڑے ہونے لگے اور زمین و آسمان کو پیدا کرنے والے اور حاضر و غائب کو جاننے والے کا وقار بھی دلوں میں نہ رہا تو اب تجھی سے فریاد ہے، تو ہی ان جھگڑوں کا فیصلہ فرمائے گا۔ 3 ابو سلمہ بن عبد الرحمن بیان کرتے ہیں کہ میں نے عائشہ (رض) سے پوچھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات قیام کرتے تو اپنی نماز کا افتتاح کس چیز سے کرتے تھے ؟ انھوں نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات اٹھتے تو اپنی نماز کا افتتاح اس دعا سے کرتے : ( اَللّٰہُمَّ رَبَّ جِبْرَاءِیْلَ وَ مِیْکَاءِیْلَ وَ إِسْرَافِیْلَ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَ الْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّہَادَۃِ أَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ اہْدِنِيْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِإِذْنِکَ إِنَّکَ تَہْدِيْ مَنْ تَشَاءُ إِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ) [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ النبي (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) و دعاۂ باللیل : ٧٧٠ ] ” اے اللہ ! اے جبرائیل، میکائیل اور اسرافیل کے رب ! اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے ! اے حاضر و غائب کو جاننے والے ! تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے، مجھے حق کی ان تمام باتوں میں اپنے اذن سے سیدھی راہ پر لگا جن میں اختلاف کیا گیا ہے، کیونکہ تو ہی سیدھے راستے پر لگاتا ہے جسے چاہتا ہے۔ “ ابوراشد حبرانی کہتے ہیں، میں نے عبداللہ بن عمرو (رض) سے کہا کہ آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو کچھ سنا ہے اس میں سے کچھ ہمیں بیان کریں تو انھوں نے میرے سامنے ایک کتاب نکال کر کہا، یہ ہے وہ کتاب جو مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لکھوائی ہے۔ میں نے دیکھا تو اس میں لکھا تھا کہ ابوبکر (رض) نے کہا : ” یا رسول اللہ ! آپ مجھے سکھائیں کہ میں صبح اور شام کو کیا پڑھوں ؟ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” اے ابوبکر ! یہ پڑھو : ( اَللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوَاتِ وَ الْأَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّہَادَۃِ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ رَبَّ کُلِّ شَيْءٍ وَ مَلِیْکَہُ أَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ وَ مِنْ شَرِّ الشَّیْطَانِ وَ شِرْکِہِ وَ أَنْ أَقْتَرِفَ عَلٰی نَفْسِيْ سُوْءً ا أَوْ أَجُرَّہُ إِلٰی مُسْلِمٍ ) [ ترمذي، الدعوات، باب دعاء علمہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أبا بکر۔۔ : ٣٥٢٩، و قال الألباني صحیح ] ” اے اللہ ! اے آسمان و زمین کو پیدا کرنے والے، غائب و حاضر کو جاننے والے ! تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، اے ہر چیز کے رب اور اس کے بادشاہ ! میں تجھ سے اپنے نفس کے شر سے اور شیطان کے شر اور اس کے شرک سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں اپنے نفس پر کسی برائی کا ارتکاب کروں یا کسی مسلم کا برا کروں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In verse 46, it was said: قُلِ اللَّـهُمَّ فَاطِرَ‌ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ (Say, |"0 Allah, Creator of the heavens and the earth...). According to a narration of Sayyidna ` Abd-ur-Rahman Ibn ` Awf (رض) appearing in Sahih Muslim, he says, |"I asked Sayyidah ` A&ishah (رض) L as to what it was from which the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) began his nightly prayer (tahajjud)? She said, &When he rose for the salah of tahajjud, he used to recite this prayer: اَللَّھُمَّ رَبَّ جِبرِیلَ وَ میکَایٔیلَ وَ اِسرَافِیلَ ، فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الاَرضِ عالِمَ الغَیبِ وَ الشَّھَادَۃِ اَنتِ تَحکُمُ بَینَ عِبَادِکَ فِیمَا کَانُوا فِیہِ یَختَلِفُونَ ، اِھدِنِی لِما اختُلِفَ فِیہِ مِنَ لحَقَّ بِاِذنِکَ اِنَّکَ تَھدِی مَن تَشَآُء اِلٰی صِرَطِ مُّستَقِیم۔ 0 Allah, Lord of Jabra&i1 and Mika&il and Israfil, Creator of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the seen, you will judge between Your servants in that about which they used to differ.. Guide me, with Your will, to the truth in which people have disputes, for You are the One who guides whomsoever He wills to the straight path. A prayer that is answered Sayyidna Said Ibn Jubayr (رض) says that he knows a verse of the noble Qur&an after reciting which the prayer one makes is answered. Then he pointed out to this very verse that begins with the words: اللَّـهُمَّ فَاطِرَ‌ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ (0 Allah, Creator of the heavens and the earth... to the end of verse 39:46) - (al-Qurtubi)

خلاصہ تفسیر آپ (ان کی شدت عناد سے محزون نہ ہو جئے اور اللہ سے دعا میں یہ) کہئے کہ اے اللہ آسمان اور زمین کے پیدا کرنے والے باطن اور ظاہر کے جاننے والے آپ ہی (قیامت کے روز) اپنے بندوں کے درمیان ان امور میں فیصلہ فرما دیں گے جن میں باہم وہ اختلاف کرتے تھے۔ (یعنی آپ ان معاندین کی فکر میں نہ پڑیئے، بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کیجئے وہ خود عملی فیصلہ کردیں گے) اور (اس فیصلہ کے وقت یہ حالت ہوگی) کہ اگر ظلم (یعنی شرک وکفر) کرنے والوں کے پاس دنیا بھر کی تمام چیزیں ہوں اور ان چیزوں کے ساتھ اتنی چیزیں اور بھی ہوں تو وہ لوگ قیامت کے دن سخت عذاب سے چھوٹ جانے کے لئے (بےتامل) ان کو دینے لگیں (گو مقبول نہ ہو کما فی المائدة (آیت) ماتقبل منھم) اور خدا کی طرف سے ان کو وہ معاملہ پیش آوے گا جس کا ان کو گمان بھی نہ تھا (کیونکہ اول تو آخرت کے منکر تھے پھر اس میں بھی اس کے مدعی تھے کہ وہاں بھی ان کو عزت و دولت ملے گی) اور (اس وقت) ان کو تمام اپنے برے اعمال ظاہر ہوجاویں گے اور جس (عذاب) کے ساتھ وہ استہزاء کیا کرتے تھے وہ ان کو آ گھیرے گا (یوں تو مشرک غیر اللہ کے ذکر سے مسرور اور صرف اللہ کے ذکر سے نفور رہتا ہے) پھر جس وقت (اس مشرک) آدمی کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو (جن کے ذکر سے مسرور ہوا کرتا تھا ان سب کو چھوڑ کر صرف) ہم کو پکارتا ہے (جس سے پہلے نفور تھا) پھر جب ہم اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرما دیتے ہیں تو (اس توحید پر جس کا حق ہونا خود اس کے اقرار سے ثابت ہوچکا تھا قائم نہیں رہتا چناچہ اس نعمت کو حق تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کرتا بلکہ یوں) کہتا ہے کہ یہ تو مجھ کو (میری) تدبیر سے ملی ہے (اور چونکہ نسبت حق تعالیٰ کی طرف نہیں کرتا بلکہ اپنی تدبیر کا نتیجہ سمجھتا ہے اس لئے توحید پر قائم نہیں رہتا بلکہ اپنے قدیم طریقہ شرک کی طرف عود کر کے غیر اللہ کی عبادت میں لگ جاتا ہے۔ آگے حق تعالیٰ اس کے قول انما اوتیتہ کو رد فرماتے ہیں کہ نعمت اس کی تدبیر کا نتیجہ نہیں ہے) بلکہ وہ (نعمت خدا کی دی ہوئی اور اس کی طرف سے انسان کی) ایک آزمائش ہے (کہ دیکھیں اس کے ملنے پر ہم کو بھول جاتا ہے اور کفر کرتا ہے یا یاد رکھتا ہے اور شکر کرتا ہے اور اسی آزمائش کے لئے بعض نعمتوں میں اسباب و کسب کا واسطہ بھی رکھ دیا ہے۔ اس سے اور زیادہ آزمائش ہوگئی کہ دیکھیں اس ظاہری سبب پر نظر کرتا ہے یا علت حقیقیہ پر) لیکن اکثر لوگ (اس بات کو) سمجھتے نہیں (اس لئے اس کو اپنی تدبیر کا نتیجہ بتلاتے ہیں اور مبتلائے شرک رہتے ہیں آگے تفریح ہے کہ) یہ بات (بعض) ان لوگوں نے بھی کہی تھی جو ان سے پہلے ہو گزرے ہیں، جیسے قارون نے کہا تھا (آیت) انما اوتیتہ علیٰ علیم عندی یا جو لوگ منکر صانع کے ہو گزرے ہیں جیسے نمرود و فرعون۔ ظاہر ہے کہ وہ بھی کسی نعمت کی نسبت خدا کی طرف نہ کرتے تھے بلکہ غیر مکتسب اور غیر اختیاری میں بخت و اتفاق کی طرف اور مکتسب و اختیاری میں ہنر اور تدبیر کی طرف نسبت کرتے تھے) سو ان کی کارروائی ان کے کچھ کام نہ آئی (اور مانع عن العذاب نہ ہوئی) پھر (مانع نہ ہو سکنے کے بعد واقع للعذاب بھی نہ ہوئی بلکہ) ان کی تمام بد اعمالیاں ان پر آپڑیں (اور سزا یاب ہوئے) اور (زمانہ حال کے لوگ یہ خیال نہ کریں کہ کچھ ہونا تھا اگلوں کے ساتھ ہوچکا بلکہ) ان میں بھی جو ظالم ہیں ان پر بھی ان کی بد اعمالیاں ابھی پڑنے والی ہیں اور یہ (خدا تعالیٰ کو) ہرا نہیں سکتے (چنانچہ بدر میں خوب سزا ہوئی، آگے اس کی دلیل بیان فرمائی کہ بعضے احمق جو نعمت و رزق کو اپنی تدبیر کی طرف منسوب کرتے ہیں تو) کیا ان لوگوں کو (احوال میں غور کرنے سے) یہ معلوم نہیں ہوا کہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے زیادہ رزق دیتا ہے اور وہی (جس کے لئے چاہتا ہے) تنگی بھی کردیتا ہے (اس بسط و قدر) میں (غور کرنے سے) ایمان والوں کے واسطے (کہ اہل فہم ہوتے ہیں اس بات پر) نشانیاں (یعنی دلائل قائم) ہیں (کہ باسط و قابض وہی ہے تدبیر و سوء تدبیر اس میں علت حقیقیہ نہیں، پس ان دلائل کو جو شخص سمجھ لے گا وہ اپنی تدبیر کی طرف نسبت نہ کرے گا بلکہ خدا کے منعم ہونے سے ذہول نہ کرے گا جو سبب ہوگیا تھا ابتلا بالشرک کا بلکہ وہ موحد رہے گا اور مصیبت و راحت میں اس کا حال و قال متناقص و متعارض نہ ہوگا۔ معارف و مسائل (آیت) قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الایة۔ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عوف سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نے صدیقہ عائشہ سے دریافت کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رات کی نماز (یعنی تہجد) کو کس چیز سے شروع فرماتے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ آپ جب تہجد کی نماز کو اٹھتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔ اللھم رب جبریل ومیکائیل واسرافیل، فاطرالسموات والارض علم الغیب والشھادۃ انت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون، اھدنی لما اختلف فیہ من الحق باذنک انک تھدی من تشاء الی صراط مستقیم۔ قبولیت دعا : حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ مجھے قرآن کریم کی ایک ایسی آیت معلوم ہے کہ اس کو پڑھ کر آدمی جو دعا کرتا ہے قبول ہوتی ہے۔ پھر یہی آیت بتلائی :۔ (آیت) اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ الآیة۔ (قرطبی) مشاجرات صحابہ کے متعلق ایک اہم ہدایت : حضرت ربیع ابن خیثم سے کسی نے حضرت حسین (رض) کی شہادت کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے ایک آہ بھری اور اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ (آیت) قُلِ اللّٰهُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ آلایة۔ اور فرمایا کہ صحابہ کرام کے باہمی اختلافات کے متعلق جب تمہارے دل میں کوئی کھٹک پیدا ہو تو یہ آیت پڑھ لیا کرو۔ روح المعانی میں اس کو نقل کر کے فرمایا ہے کہ یہ عظیم الشان تعلیم ادب ہے جس کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

قُلِ اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَيْبِ وَالشَّہَادَۃِ اَنْتَ تَحْكُمُ بَيْنَ عِبَادِكَ فِيْ مَا كَانُوْا فِيْہِ يَخْتَلِفُوْنَ۝ ٤٦ «اللهم» قيل : معناه : يا الله، فأبدل من الیاء في أوله المیمان في آخره وخصّ بدعاء الله، وقیل : تقدیره : يا اللہ أمّنا بخیر مركّب تركيب حيّهلا . فطر أصل الفَطْرِ : الشّقُّ طولا، وفِطْرَةُ اللہ : هي ما رکز فيه من قوّته علی معرفة الإيمان، وهو المشار إليه بقوله : وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ مَنْ خَلَقَهُمْ لَيَقُولُنَّ اللَّهُ [ الزخرف/ 87] ، وقال : الْحَمْدُ لِلَّهِ فاطِرِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ فاطر/ 1] ( ف ط ر ) الفطر ( ن ض ) اس کے اصل معنی کسی چیز کو ( پہلی مرتبہ ) طول میں پھاڑنے کے ہیں ۔ اسی سے فطرت ہے جس کے معنی تخلیق کے ہیں اور فطر اللہ الخلق کے معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کی تخلیق اسطرح کی ہے کہ اس میں کچھ کرنے کی استعداد موجود ہے پس آیت کریمہ ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ فاطِرِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ فاطر/ 1] سب تعریف خدا ہی کو سزا وار ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے ۔ الَّذِي فَطَرَهُنَّ [ الأنبیاء/ 56] جس نے ان کو پیدا کیا علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، ( ع ل م ) العلم کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا غيب الغَيْبُ : مصدر غَابَتِ الشّمسُ وغیرها : إذا استترت عن العین، يقال : غَابَ عنّي كذا . قال تعالی: أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] ( غ ی ب ) الغیب ( ض ) غابت الشمس وغیر ھا کا مصدر ہے جس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے اوجھل ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ محاورہ ہے ۔ غاب عنی کذا فلاں چیز میری نگاہ سے اوجھل ہوئی ۔ قرآن میں ہے : أَمْ كانَ مِنَ الْغائِبِينَ [ النمل/ 20] کیا کہیں غائب ہوگیا ہے ۔ اور ہر وہ چیز جو انسان کے علم اور جو اس سے پودشیدہ ہو اس پر غیب کا لفظ بولا جاتا ہے شَّهَادَةُ : قول صادر عن علم حصل بمشاهدة بصیرة أو بصر . وقوله : أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ [ الزخرف/ 19] ، يعني مُشَاهَدَةِ البصر ثم قال : سَتُكْتَبُ شَهادَتُهُمْ [ الزخرف/ 19] ، تنبيها أنّ الشّهادة تکون عن شُهُودٍ ، وقوله : لِمَ تَكْفُرُونَ بِآياتِ اللَّهِ وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ [ آل عمران/ 70] ، أي : تعلمون، وقوله : ما أَشْهَدْتُهُمْ خَلْقَ السَّماواتِ [ الكهف/ 51] ، أي : ما جعلتهم ممّن اطّلعوا ببصیرتهم علی خلقها، وقوله : عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ [ السجدة/ 6] ، أي : ما يغيب عن حواسّ الناس وبصائرهم وما يشهدونه بهما الشھادۃ ۔ ( 1 ) وہ بات جو کامل علم ویقین سے کہی جائے خواہ وہ علم مشاہدہ بصر سے حاصل ہوا ہو یا بصیرت سے ۔ اور آیت کریمہ : أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ [ الزخرف/ 19] کیا یہ ان کی پیدائش کے وقت حاضر تھے ۔ میں مشاہدہ بصر مراد ہے اور پھر ستکتب شھادتھم ( عنقریب ان کی شھادت لکھ لی جائے گی ) سے اس بات پر تنبیہ کی ہے کہ شہادت میں حاضر ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَأَنْتُمْ تَشْهَدُونَ [ آل عمران/ 70] اور تم اس بات پر گواہ ہو ۔ میں تشھدون کے معنی تعلمون کے ہیں یعنی تم اس بات کو یقین کے ساتھ جانتے ہو ۔ اور آیت کریمہ ۔ ما أَشْهَدْتُهُمْ خَلْقَ السَّماواتِ [ الكهف/ 51] میں نے نہ تو ان کو آسمان کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا ۔ میں تنبیہ کی ہے کہ یہ اس لائق نہیں ہیں کہ اپنی بصیرت سے خلق آسمان پر مطع ہوجائیں اور آیت کریمہ : عالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهادَةِ [ السجدة/ 6] پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہے ۔ میں غالب سے وہ چیزیں مراد ہیں جن کا ادراک نہ تو ظاہری حواس سے ہوسکتا ہو اور نہ بصیرت سے اور شہادت سے مراد وہ اشیا ہیں جنہیں لوگ ظاہری آنکھوں سے دیکھتے ہیں ۔ حكم والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] ( ح ک م ) حکم الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] ، عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] ، إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] ، كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] ، إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ، وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] ، وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ، فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65] . وعَبْدٌ للدّنيا وأعراضها، وهو المعتکف علی خدمتها ومراعاتها، وإيّاه قصد النّبي عليه الصلاة والسلام بقوله : «تعس عَبْدُ الدّرهمِ ، تعس عَبْدُ الدّينار» وعلی هذا النحو يصحّ أن يقال : ليس كلّ إنسان عَبْداً لله، فإنّ العَبْدَ علی هذا بمعنی العَابِدِ ، لکن العَبْدَ أبلغ من العابِدِ ، والناس کلّهم عِبَادُ اللہ بل الأشياء کلّها كذلك، لکن بعضها بالتّسخیر وبعضها بالاختیار، وجمع العَبْدِ الذي هو مُسترَقٌّ: عَبِيدٌ ، وقیل : عِبِدَّى وجمع العَبْدِ الذي هو العَابِدُ عِبَادٌ ، فالعَبِيدُ إذا أضيف إلى اللہ أعمّ من العِبَادِ. ولهذا قال : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] ، فنبّه أنه لا يظلم من يختصّ بِعِبَادَتِهِ ومن انتسب إلى غيره من الّذين تسمّوا بِعَبْدِ الشمس وعَبْدِ اللّات ونحو ذلك . ويقال : طریق مُعَبَّدٌ ، أي : مذلّل بالوطء، وبعیر مُعَبَّدٌ: مذلّل بالقطران، وعَبَّدتُ فلاناً : إذا ذلّلته، وإذا اتّخذته عَبْداً. قال تعالی: أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] . العبد بمعنی غلام کا لفظ چار معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1 ) العبد بمعنی غلام یعنی وہ انسان جس کی خریدنا اور فروخت کرنا شرعا جائز ہو چناچہ آیات کریمہ : ۔ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] اور غلام کے بدلے غلام عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے ۔ میں عبد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ( 2 ) العبد بالایجاد یعنی وہ بندے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اس معنی میں عبودیۃ اللہ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] تمام شخص جو آسمان اور زمین میں ہیں خدا کے روبرو بندے ہوکر آئیں گے ۔ میں اسی معنی کی طرح اشارہ ہے ۔ ( 3 ) عبد وہ ہے جو عبارت اور خدمت کی بدولت عبودیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اس لحاظ سے جن پر عبد کا لفظ بولا گیا ہے وہ دوقسم پر ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بن جاتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : ۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو ۔ إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] بیشک نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] جس نے اپنے بندے پر قرآن پاک میں نازل فرمایا : ۔ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] جس نے اپنی بندے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پر یہ کتاب نازل کی ۔ إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں ۔ كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] کہ میری بندے ہوجاؤ ۔ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔ وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ ۔ فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65]( وہاں ) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا ۔ ( 2 ) دوسرے اس کی پر ستش میں لگے رہتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف مائل رہتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی آنحضرت نے فرمایا ہے تعس عبد الدرھم تعس عبد الدینا ر ) درہم دینار کا بندہ ہلاک ہو ) عبد کے ان معانی کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا بندہ نہیں ہے یعنی بندہ مخلص نہیں ہے لہذا یہاں عبد کے معنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہیں لیکن عبد عابد سے زیادہ بلیغ ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں : ۔ کہ تمام لوگ اللہ کے ہیں یعنی اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے بلکہ تمام اشیاء کا یہی حکم ہے ۔ بعض بعض عبد بالتسخیر ہیں اور بعض عبد بالا اختیار اور جب عبد کا لفظ غلام کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی جمع عبید یا عبد آتی ہے اور جب عبد بمعنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہو تو اس کی جمع عباد آئے گی لہذا جب عبید کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ عباد سے زیادہ عام ہوگا یہی وجہ ہے کہ آیت : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے میں عبید سے ظلم کی نفی کر کے تنبیہ کی ہے وہ کسی بندے پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا خواہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہو اور خواہ عبدالشمس یا عبد اللات ہونے کا مدعی ہو ۔ ہموار راستہ ہموار راستہ جس پر لوگ آسانی سے چل سکیں ۔ بعیر معبد جس پر تار کول مل کر اسے خوب بد صورت کردیا گیا ہو عبدت فلان میں نے اسے مطیع کرلیا محکوم بنالیا قرآن میں ہے : ۔ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] کہ تم نے بنی اسرائیل کو محکوم بنا رکھا ہے ۔ الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل ف ) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں کا باہم کسی بات میں اختلاف کرنا عموما نزاع کا سبب بنتا ہے ۔ اس لئے استعارۃ اختلاف کا لفظ نزاع اور جدال کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] پھر کتنے فرقے پھٹ گئے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

آپ اس طرح دعا فرمایے اے اللہ ہمارے ساتھ بھلائی فرمایئے اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے اے ظاہر و باطن کے جاننے والے تو ہی قیامت کے دن اپنے بندوں کے درمیان دین کی ان باتوں کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ باہم اختلاف کرتے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٦ { قُلِ اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ } ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہیے : اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ! غائب اور حاضر کے جاننے والے ! “ { اَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْ مَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ } ” یقینا تو ُ فیصلہ کرے گا اپنے بندوں کے مابین ان تمام چیزوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(39:46) قل۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ یہ امر دعا کے لئے ہے جیسا کہ اگلی عبارت سے ظاہر ہے۔ اللّٰہم۔ اے اللہ۔ یا اللہ۔ فاطر السموت۔ علم الغیب۔ میں فاطر اور علم منادی ہیں اور اضافت کی وجہ سے منصوب ہیں۔ اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ۔ اور اے غیب و شہادت کے جاننے والے۔ تحکم۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ تو حکم کرے گا، تو فیصلہ کرے گا۔ یہاں آخریہ معنی مراد ہیں اسی معنی میں اور جگہ قرآن مجید میں ہے واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل (4:58) اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو۔ آیت ہذا میں انت تحکم بمعنی انت وحدک تقدر ان تحکم (واحد تو ہی فیصلہ کی طاقت رکھتا ہے) آیا ہے۔ ما کانوا میں ما موصولہ ہے اور فیہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع ما موصولہ ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 12 یہ دعا ہے جو گویا اللہ تعالیٰ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسے موقع پر پڑھنے کے لئے سکھائی ہے جب لوگ حق بات سنیں اور ناحق جھگڑے کئے جائیں۔ بہت سی احادیث میں اس مضمون کی ادعیہ مذکور ہیں۔ ( شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ یعنی آپ ان مکابرین کی فکر میں نہ پڑیئے بلکہ ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کیجئے وہ عملی فیصلہ کردیں گے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : بیشک مشرک اللہ تعالیٰ کی توحید کے ذکر سے ناراض اور دوسروں کے ذکر پر خوش ہوتے ہیں۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کو اس بات کی پرواہ کیے بغیر صرف ایک رب کا ذکر کرنا اور اسی سے مانگنا ہے۔ اے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے رب سے دعا کیجیے ! الٰہی ! تو ہی زمینوں اور آسمانوں کو پیدا کرنے والا اور تو ہی ہر چیز کے ظاہر اور باطن کو جاننے والا ہے اور تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان کے اختلافات کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ مشرک اللہ کی وحدت کے ذکر پر ناراض اور اپنے معبودوں کے ذکر پر خوش ہوتے ہیں اور اہل توحید سے جھگڑا کرتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو یہ دعا سکھلائی گئی ہے کہ تمہیں مشرکین کی مخالفت کی پرواہ کیے بغیر اپنے رب کو یاد کرنا اور اس کی توحید کا پرچار کرتے رہنا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ذات کبریا کے حضور دعا کرتے رہو کہ اے بار الٰہا ! تو ہی زمینوں آسمانوں کا پیدا کرنے والا، غائب اور ظاہر کو جاننے والا ہے اور قیامت کے دن اپنے بندوں کے اختلافات کے درمیان فیصلہ صادر فرمانے والا ہے۔ اس کا بین السطور معنٰی یہ ہے کہ الٰہی ہمیں ایسی طاقت عطا فرما کہ دنیا میں بھی حق و باطل کے درمیان فیصلہ ہوجائے۔ اسی لیے ہجرت سے پہلے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ دعا سکھلائی گئی۔ (وَ قُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّ اَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَّ اجْعَلْ لِّیْ مِنْ لَّدُنْکَ سُلْطٰنًا نَّصِیْرًا وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَھُوْقًا) [ بنی اسرائیل : ٨٠۔ ٨١] ” اور دعا کیجیے میرے رب ! داخل کر مجھے سچائی کے ساتھ داخل کرنا اور نکال مجھے سچائی کے ساتھ نکالنا اور مجھے غلبہ اور مدد عطا فرما۔ اور فرما دیں حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بیشک باطل مٹنے ہی والا تھا۔ “ (رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْن)[ الاعراف : ٨٩] ” اے ہمارے رب ! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دے اور تو سب فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے۔ “ جانوروں کے درمیان فیصلہ : (عَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوْقَ إِلٰی أَھْلِھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ‘ حَتّٰی یُقَاد للشَّاۃِ الْجَلْحَاءِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَاءِ ) [ رواہ مسلم : کتاب البروالصلۃ، باب تحریم الظلم ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں قیامت کے دن لوگوں کے حقوق ان کے مالکوں کو ادا کرنا پڑیں گے، یہاں تک کہ جس بکری کے سینگ نہیں ہیں اس کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلایا جائے گا۔ “ مسائل ١۔ اللہ ہی زمینوں آسمانوں کا خالق اور ظاہر اور باطن کو جاننے والا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے والا ہے۔ ٣۔ مومن کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے ہی مدد طلب کرنی چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ہی لوگوں کے درمیان قطعی اور آخری فیصلہ کرنے والا ہے : ١۔ بیشک تیرا رب قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ (یونس : ٩٣) ٢۔ اللہ تعالیٰ ان کے معاملات کا فیصلہ فرمائے گا۔ (البقرۃ : ٢١٠) ٣۔ اللہ تعالیٰ حق کے ساتھ فیصلہ فرماتا ہے۔ (المومن : ٢٠) ٤۔ یقیناً اللہ تعالیٰ تمہارے درمیان اپنے حکم سے فیصلہ فرمائے گا۔ (النمل : ٧٨) ٥۔ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا۔ (یونس : ٥٤) ٦۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہارے اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا۔ (الحج : ٦٩) ٧۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عدل و انصاف کا ترازو قائم فرمائے گا۔ (الانبیاء : ٤٧) ٨۔ یقیناً اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ فرمائے گا جو وہ اختلاف کرتے تھے۔ (الزمر : ٣) ٩۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے گا اور مومنوں پر کافر کوئی راستہ نہیں پائیں گے۔ (النساء : ١٤١) ١٠۔ یا اللہ میرے حق میں فیصلہ فرمادے تو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ (یوسف : ٨٠) ١١۔ اے اللہ یقیناً تیرا وعدہ سچا ہے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔ (ھود : ٤٥) ١٢۔ وحی کی فرمانبرداری کرو اور صبر کرو تاآنکہ اللہ فیصلہ فرمادے اللہ تعالیٰ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ (یونس : ١٠٩)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 46 یہ اس فطرت کی پکار ہے جو زمین و آسمان کو دیکھ رہی ہو۔ اور اس کے لیے یہ بات مشکل ہو کہ وہ اللہ کی ذات کے سوا کسی کو الہہ مان سکے جو خالق ارض وسما ہے۔ لہٰذا یہ فطرت اس کی طرف اعتراف اور اقرار کے ساتھ متوجہ ہوتی ہے اور اللہ کی تعریف و تمجید ان صفات کے ساتھ کرتی ہے جو اس کے لائق ہیں یعنی ” اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے “۔ علم الغیب والشھادۃ (39: 46) ” اے حاضر و غائب کو جاننے والے “۔ اے ظاہر و باطن کو جاننے والے۔ انت۔۔۔۔ یختلفون (39: 46) ” تو ہی اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہتے ہیں “۔ کیونکہ قیامت کے دن تو وہی حاکم ہوگا۔ اور سب نے قیامت میں اسی کے سامنے آنا ہوگا۔ اور کوئی قیامت کی حاضری سے بچ کر نکلنے والا نہیں ہے۔ اور جب اللہ کے بندے قیامت کے روز کے فیصلے کے لیے حاضر کیے جائیں گے تو ان کی حالت پھر کیا ہوگی ذرا اسکرین پر یہ منظر دیکھیں :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک خاص دعا کی تلقین، انسان کی بدخلقی اور بدحالی کا تذکرہ یہ سات آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تلقین فرمائی کہ آپ یوں دعا کریں : (اللّٰہُمَّ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ عٰلِمَ الْغَیْبِ وَالشَّہَادَۃِ اَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْ مَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ) (اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا فرمانے والے غیب اور شہادۃ کے جاننے والے آپ اپنے بندوں کے درمیان فیصلہ فرمائیں گے ان باتوں کے بارے میں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مخاطبین جو رویہ اختیار کرتے، تکلیف پہنچاتے، اور تکذیب کرتے تھے اس سے آپ کو تکلیف ہوتی تھی، تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ دعا سکھائی آپ کے توسط سے امت کو بھی یہ دعا معلوم ہوگئی جس کسی کو دین کے دشمنوں سے تکلیف پہنچے یہ دعا پڑھے اللہ تعالیٰ عالم الغیب والشہادۃ ہے اسے سب کا حال معلوم ہے وہ اپنے علم کے مطابق جزا و سزا دے گا اور لوگوں میں جو اختلاف ہے حق بات نہیں مانتے اور باطل ہی کو حق سمجھتے ہیں اس بات کا آخرت کے دن فیصلہ ہوجائے گا اہل کفر دوزخ میں اور اہل ایمان جنت میں چلے جائیں گے۔ دوسری آیت میں اہل کفر کی قیامت کے دن کی بدحالی بیان فرمائی اور فرمایا کہ زمین میں جو کچھ ہے اگر کسی کافر کے پاس یہ سب کچھ ہوا اور اس کے علاوہ اور بھی اسی قدر ہو تو قیامت کے دن کے عذب سے بچنے کے لیے اس سب کو جان کے بدلہ دینے کو تیار ہوجائے گا اس سے ان کی بدحالی معلوم ہوگئی نہ وہاں کسی کے پاس کچھ ہوگا نہ جان کا بدلہ قبول ہوگا (وَّلَا یُقْبَلُ مِنْھَا عَدْلٌ وَّلَا تَنْفَعُھَا شَفَاعَۃٌ وَّلَا ھُمْ یُنْصَرُوْن) (نہ کسی کی طرف سے کوئی معاوضہ قبول کیا جائے گا اور نہ کسی کو کوئی سفارش مفید ہوگی اور نہ ان لوگوں کی مدد کی جائے گی۔ ) یہ لوگ جب دنیا میں تھے تو قیامت قائم ہونے ہی کے منکر تھے دوزخ پر اجمالی ایمان لانے کو تیار نہ تھے وہاں کی عقوبات اور سزاؤں کی تفصیل کو کیا جانتے اب جب وہاں طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہوں گے تو عذاب کی وہ چیزیں ان کے سامنے آجائیں گی جن کا انہیں خیال بھی نہ تھا لہٰذا جان کا فدیہ دینے کے لیے تیار ہوجائیں گے لیکن وہاں کچھ پاس نہ ہوگا اور اگر بالفرض کچھ پاس ہو تو قبول نہ ہوگا۔ تیسری آیت میں یہ فرمایا کہ دنیا میں جو انہوں نے برے عمل کیے وہ وہاں ظاہر ہوجائیں گے اور جس چیز کا مذاق اڑایا کرتے تھے یعنی عذاب جہنم وہ ان کو وہاں گھیر لے گا۔ چوتھی آیت میں انسان کا مزاج بیان فرمایا اور وہ یہ کہ اسے کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کو پکارنے لگتا ہے۔ پھر جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مہربانی ہوجاتی ہے اور نعمت نصیب ہوجاتی ہے تو یوں نہیں کہتا کہ یہ نعمت مجھے اللہ نے دی ہے بلکہ اس میں بھی اپنا کمال ظاہر کرتا ہے اور یوں کہتا ہے کہ میں نے اپنے علم کو استعمال کیا اپنے ہنر کو کام میں لایا تدبیریں سوچیں مال۔۔ گر سیکھئے یہ نعمت مجھے اسی کے ذریعہ ملی ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے ارشاد فرمایا (بَلْ ھِیَ فِتْنَۃٌ) یہ بات نہیں ہے کہ یہ مال اسے اس کے علم اور ہنر سے ملا یہ مال اللہ نے دیا ہے جب اس کے پاس مال نہیں تھا اس وقت بھی تو علم اور ہنر والا تھا اس وقت کیوں مال حاصل نہیں کرسکا یہ مال جو ہم نے دیا ہے یہ فتنہ ہے یعنی امتحان ہے کہ مال ملنے پر شکر گزار ہوتا ہے یا ناشکری اختیار کرتا ہے لیکن ان میں سے بہت سے لوگ نہیں جانتے اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کو نہیں پہچانتے، شکر کی ضرورت نہیں سمجھتے، ناشکری پر ہی جمے رہتے ہیں اور امتحان میں فیل ہوجاتے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

47:۔ ” قل اللہم الخ “ یہ دوسرا مفصل ثمرہ ہے۔ ” اللہم “ موصوف ” فاطر السموات الخ “ اس کی صفت، مقصود بالنداء آخر میں مقدر ہے۔ مقصود بالنداء کی کوئی تخصیص نہیں البتہ بقرینہ حدیث بعض مفسرین نے اھدنی لما اختلف فیہ من الھق مقدر مان ہے (جلالین، خازن) ۔ ایسے روشن اور قطعی دلائل کے بعد بھی اگر معاندین نہ مانیں تو آپ اللہ سے یوں دعا مانگا کریں کہ اے اللہ ان صفات مذکورہ والے مجھے اس ہدایت پر قائم رکھ اور قیامت کے دن ہمارے اور ان منکرین کے درمیان فیصلہ فرما۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(46) اے پیغمبر آپ یوں دعا کیجئے اے اللہ آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے چھپے اور کھلے کے جاننے والے تو ہی اپنے بندوں کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ فرمائے گا جن میں وہ باہم اختلاف کیا کرتے تھے۔ یعنی آپ ان بدکرداروں کی مخالفت اور سرکشی کی فکر نہ کیجئے بلکہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا کیجئے کیونکہ حقیقی اور عملی فیصلہ ان سب باتوں کا اسی کے سامنے ہوگا۔