Surat uz Zumur

Surah: 39

Verse: 6

سورة الزمر

خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا وَ اَنۡزَلَ لَکُمۡ مِّنَ الۡاَنۡعَامِ ثَمٰنِیَۃَ اَزۡوَاجٍ ؕ یَخۡلُقُکُمۡ فِیۡ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمۡ خَلۡقًا مِّنۡۢ بَعۡدِ خَلۡقٍ فِیۡ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ لَہُ الۡمُلۡکُ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ فَاَنّٰی تُصۡرَفُوۡنَ ﴿۶﴾

He created you from one soul. Then He made from it its mate, and He produced for you from the grazing livestock eight mates. He creates you in the wombs of your mothers, creation after creation, within three darknesses. That is Allah , your Lord; to Him belongs dominion. There is no deity except Him, so how are you averted?

اس نے تم سب کو ایک ہی جان سے پیدا کیا ہے پھر اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور تمہارے لئے چوپایوں میں سے ( آٹھ نر و مادہ ) اتارے وہ تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں میں ایک بناوٹ کے بعد دوسری بناوٹ پر بناتا ہے تین تین اندھیروں میں ، یہی اللہ تعالٰی تمہارا رب ہے اس کے لئے بادشاہت ہے ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، پھر تم کہاں بہک رہے ہو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ ... He created you (all) from a single person; means, He created you, with all your varied races, types, languages and colors, from a single soul, who was Adam, peace be upon him. ... ثُمَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا ... then made from him his wife. who was Hawwa', peace be upon her. This is like the Ayah: يَـأَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِى خَلَقَكُمْ مِّن نَّفْسٍ وَحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيراً وَنِسَأءً O mankind! Have Taqwa of your Lord, Who created you from a single person, and from him He created his wife, and from them both He created many men and women. (4:1) ... وَأَنزَلَ لَكُم مِّنْ الاْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ ... And He has sent down for you of cattle eight pairs. means, He has created for you from among the cattles, eight pairs. These are the ones that are mentioned in Surah Al-An`am, eight kinds -- a pair of sheep, a pair of goats, a pair of camels and a pair of oxen. ... يَخْلُقُكُمْ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ ... He creates you in the wombs of your mothers, means, He forms you in your mothers' wombs. ... خَلْقًا مِن بَعْدِ خَلْقٍ ... creation after creation. Everyone of you is originally a Nutfah, then he becomes an `Alaqah, then he becomes a Mudghah, then he is created and becomes flesh and bones and nerves and veins, and the Ruh (soul) is breathed into him, and he becomes another type of creation. فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَـلِقِينَ So Blessed is Allah, the Best of creators. (23:14) ... فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَثٍ ... in three veils of darkness, means, in the darkness of the womb, the darkness of the placenta which blankets and protects the child, and the darkness of the belly. This was the view of Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, Mujahid, Ikrimah, Abu Malik, Ad-Dahhak, Qatadah, As-Suddi and Ibn Zayd. ... ذَلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ ... Such is Allah your Lord. means, the One Who created the heavens and the earth and everything in between, and created you and your forefathers, is the Lord. ... لَهُ الْمُلْكُ ... His is the kingdom, i.e. To Him belong sovereignty and control over all of that. ... لاَا إِلَهَ إِلاَّ هُوَ ... La ilaha illa Huwa. means, no one else should be worshipped except Him alone with no partner or associate. ... فَأَنَّى تُصْرَفُونَ How then are you turned away? means, how can you worship anything besides Him? What has happened to your minds?

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

6۔ 1 یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے، جن کو اللہ نے اپنے ہاتھ سے بنایا تھا اور اپنی طرف سے اس میں روح پھونکی تھی۔ 6۔ 2 یعنی حضرت حوا کو حضرت آدم (علیہ السلام) کی بائیں پسلی سے پیدا فرمایا اور یہ بھی اس کا کمال قدرت ہے کیونکہ حضرت حوا کے علاوہ کسی بھی عورت کی تخلیق، کسی آدمی کی پسلی سے نہیں ہوئی۔ یوں یہ تخلیق امر عادی کے خلاف اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔ 6۔ 3 یہ وہی چار قسم کے جانوروں کا بیان ہے بھیڑ، بکری، اونٹ، گائے، جو نر اور مادہ مل کر آٹھ ہوجاتے ہیں جن کا ذکر سورة انعام میں گزر چکا ہے۔ 6۔ 4 یعنی رحم مادر میں مختلف اطوار گزارتا ہے، پہلے، نطفہ، پھر عَلَقَۃَ پھر مُضْغَۃَ پھر ہڈیوں کا ڈھانچہ، جس کے اوپر گوشت کا لباس۔ ان کے تمام مراحل سے گزرنے کے بعد انسان کامل تیار ہوتا ہے۔ 6۔ 5 ایک ماں کے پیٹ کا اندھیرا اور دوسرا رحم مادر کا اندھیرا اور تیسرا اس جھلی یا پردہ جس کے اندر بچہ لپٹا ہوتا ہے۔ 6۔ 6 یا کیوں تم حق سے باطل کی طرف اور ہدایت سے گمراہی کی طرف پھر رہے ہو ؟

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١١] یہ توحید باری پر دوسری دلیل ہے کہ وہ تم سب کا خالق ہے۔ بظاہر الفاظ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نفس واحدہ یعنی سیدنا آدم سے تمہیں پیدا کیا پھر اس کے بعد اس کی بیوی بنائی مگر یہاں ترتیب زمانی کے بجائے ترتیب بیان کو ملحوظ رکھا گیا ہے اور ایسی مثالیں ہر زبان میں پائی جاتی ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے پہلے آدم کو پیدا کیا، پھر اس سے اس کی بیوی کو، پھر ان دونوں سے نسل چلا کر تمہیں پیدا کیا۔ [١٢] مویشیوں کے آٹھ جوڑے جن میں اہل عرب شرک کرتے تھے :۔ یعنی اونٹ، گائے، بھیڑ، بکری، یہ چار نوع ہیں ان کے نر و مادہ ملا کر کل آٹھ جوڑے ہوئے۔ اور ان کا ذکر پہلے سورة انعام کی آیت نمبر ١٤٣ کے تحت گزر چکا ہے یہی چار نوع یا آٹھ جوڑے تھے جو اہل عرب پالتے تھے۔ اور انہیں میں ان کی شرکیہ رسوم جاری تھیں۔ اسی لئے ان کا ہی ذکر کیا گیا جبکہ ہمارے ہاں اونٹ بہت کم ہوتا ہے اور دودھ وغیرہ کی اغراض کے لئے گائے کے بجائے بھینسیں زیادہ پالی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں بھی ان جانوروں کا دودھ مزاروں پر چڑھایا جاتا ہے۔ [١٣] تین تاریکیوں میں جنین کی پیدائش :۔ اللہ تعالیٰ کے حیرت انگیز کارناموں میں سے ایک یہ ہے کہ ہر جنین کی، خواہ وہ انسان کا بچہ ہو یا حیوان کا تین تہ بہ تہ تاریکیوں کے اندر پرورش ہوتی ہے اور تینوں پردے اس جنین کو بیرونی آفتوں سے محفوظ رکھتے ہیں تب جاکر جنین پیدا ہونے کے قابل بچہ بنتا ہے۔ ان میں پہلا پردہ ماں کا پیٹ ہے دوسرا پیٹ کے اندر رحم اور تیسرا رحم کے اندر جھلی جس میں جنین ملفوف اور محفوظ ہوتا ہے۔ پھر اس عرصہ میں اس جنین پر کئی مراحل اور اطوار گزرتے ہیں۔ پہلے وہ نطفہ ہوتا ہے۔ پھر منجمد خون ہے پھر گوشت کا لوتھڑا، پھر اس میں روح پھونکی جاتی ہے بعد ازاں اس کی شکل و صورت بنتی ہے اور یہ سب کچھ تین تاریکیوں کے اندر ہی ہوتا رہتا ہے۔ تاآنکہ وہ جنین مقررہ وقت کے بعد انسان کی شکل و صورت لے کر ماں کے پیٹ سے باہر آجاتا ہے۔ [١٤] جاہل عوام کو شرک کی گمراہیوں میں پھنسانے والے حضرات :۔ تمہارے پروردگار کی یہ صفات ہیں کہ وہ ہی تمہارا خالق ہے وہی تمہاری پرورش کرنے والا ہے اور وہی تمہارا اور ساری کائنات کا مالک ہے۔ لہذا وہی تمہاری نیاز مندیوں، نذروں نیازوں، قربانیوں اور عبادات کا مستحق ہوسکتا ہے۔ اب تم جو اللہ کے علاوہ دوسروں کے لئے یہ افعال بجا لاتے ہو تو بتاؤ کیا یہ سیدھی سی بات بھی تمہاری سمجھ میں نہیں آسکتی اور وہ کون لوگ ہیں جو تمہیں اس سیدھی سی بات سے پھیر کر غلط راہوں پر ڈال دیتے ہیں۔ اور یہ تو واضح بات ہے کہ اس سیدھی سی بات سے بہکانے والے وہی لوگ ہوسکتے ہیں جن کے کچھ اپنے دنیوی مفادات ایسے غلط راستوں سے وابستہ ہوں اور یہ لوگ ہوتے ہیں مندروں کے گرو اور مہنت بت خانوں کے پنڈت اور پروہت اور مزاروں کے سجادہ نشین اور مجاور حضرات جنہوں نے عوام کو طرح طرح کی داستانیں سنا کر اس جال میں پھنسا رکھا ہے۔ اور اس طرح اپنا تو الو سیدھا کرلیا ہے۔ لیکن جاہل عوام کو شرک کی گمراہیوں میں دھکیل رکھا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ ۔۔ : اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورة نساء کی پہلی آیت۔ وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ ۭ : یہ بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت و عظمت کی دلیل ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورة انعام (١٤٣، ١٤٤) جانوروں کی آٹھ قسمیں پیدا کرنے کے لیے ” انزل “ (اتارا) کا لفظ یہ توجہ دلانے کے لیے ہے کہ تمہیں ملنے والی نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہیں، جیسا کہ فرمایا : (وَفِي السَّمَاۗءِ رِزْقُكُمْ وَمَا تُوْعَدُوْنَ ) [ الذاریات : ٢٢ ] ” اور آسمان ہی میں تمہارا رزق ہے اور وہ بھی جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔ “ بیشمار جانوروں میں سے خاص طور پر ان جانوروں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ زیادہ تر یہی جانور لوگوں کے کھانے پینے، پہننے اور دوسری ضروریات میں استعمال ہوتے ہیں۔ لوہا بھی چونکہ انسانی ضروریات میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اس کے لیے بھی یہی الفاظ استعمال فرمائے : ( ۚ وَاَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ ) [ الحدید : ٢٥ ] ” اور ہم نے لوہا اتارا جس میں سخت لڑائی (کا سامان) ہے اور لوگوں کے لیے بہت سے فائدے ہیں۔ “ يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ : ایک پیدائش کے بعد دوسری پیدائش سے مراد نطفے سے لے کر مکمل انسان تک کے سارے مراحل ہیں۔ دیکھیے سورة مومنون (١٢ تا ١٤) ۔ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ : اس سے مراد پیٹ کی تاریکی، رحم کی تاریکی اور اس جھلی کی تاریکی ہے جو بچے کے اوپر لپٹی ہوتی ہے۔ ماؤں کے پیٹوں میں اتنی تاریکیوں کے اندر تمہاری مختلف مرحلوں میں پیدائش، وہیں تمہارے لیے ہر ضرورت مہیا کرنا اور ہر صدمے اور چوٹ سے محفوظ رکھنا، پھر خیریت سے اس دنیا میں لے آنا اس ذات واحد ہی کی کاری گری ہے۔ مزید دیکھیے سورة مرسلات (٢٠ تا ٢٣) اور سورة عبس (١٧ تا ٢٠) ۔ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ ۔۔ : یعنی جب تمہارا رب اللہ تعالیٰ ہے اور سب بادشاہی اسی کی ہے تو لازماً تمہارا الٰہ (معبود) بھی وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی اور کس طرح الٰہ ہوسکتا ہے، جو نہ تمہارا خالق، نہ مالک، نہ پروردگار، نہ بادشاہ اور نہ ہی اس کا ان کاموں میں کوئی حصہ، پھر تم ایسے معبود بنا کر کس طرح اور کدھر پھیرے جاتے ہو ؟ معلوم ہوا انسان کی اصل فطرت توحید کا عقیدہ ہے۔ اس سے ہٹانے والا شیطان ہوتا ہے یا دوسرے لوگ جو اسے غلط راستے کی طرف پھیر دیتے ہیں۔ اس میں آدمی کی غیرت کو ابھارا ہے کہ اپنی عقل اور اپنی مرضی استعمال کرنے کے بجائے اندھا دھند دوسروں کے کہنے پر غلط راستے پر جا رہے ہو، کچھ تو سوچو کہ تمہیں سیدھے راستے سے کس طرح ہٹایا اور کدھر کو لے جایا جا رہا ہے ؟

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In verse 6, it was said: وَأَنزَلَ لَكُم مِّنَ الْأَنْعَامِ ثَمَانِيَةَ أَزْوَاجٍ (and sent down for you eight pairs of the cattle.). The creation of the cattle has been expressed in this verse by saying that they have been &sent down from the skies& whereby an indication has been given that a major factor in their creation is water that is sent down from sky. Therefore, it can be said that these too were as if sent down from the skies. The noble Qur&an has used the same expression for human dress: أَنزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا (We have sent down to you clothing - A1-A` raf, 7:26). Then, this word also appears in relation to some minerals, for instance, iron: وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ j (and We sent down iron - Al-Hadid, 57:25). The purpose is to emphasize that these things were created through the intrinsic power of Allah Ta’ ala, and that they were given to human beings as His blessings. (Qurtubi) Towards the later part of verse 6, it was said: خَلْقًا مِّن بَعْدِ خَلْقٍ فِي ظُلُمَاتٍ ثَلَاثٍ (He creates you in the wombs of your mothers, creation after creation, in three layers of darkness.) Here, some clues to the mysteries of Divine power that work in the creation of man have been released. First of all, it was well within the power of Allah Ta’ ala that He could have made the infant come to be created whole and complete in the womb of the mother within a single instant. But, such was the dictate of wisdom and expedient consideration that it was not done. Instead, a process of gradualness was opted for as indicated by: خَلْقًا مِّن بَعْدِ خَلْقٍ (creation after creation). The purpose was to ensure that the woman in whose womb this &mini universe& was taking shape should gradually become used to bearing its burden. Secondly, the creation of this matchless marvel of beauty and efficiency provided with hundreds of precision gadgets, hair-thin veins to carry life-blood and spiritual input was not to look like things created by common industrialists in spacious factories under glowing lights. Instead of that, this marvel of creation has reached its completion at a place shielded by three layers of darkness, a location so hidden from night that it beats all imagination. فَتَبَارَ‌كَ اللَّـهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ (glorious is Allah, the best of the Creators – Al-mu’ minun, 23:14).

(آیت) وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَةَ اَزْوَاجٍ ۔ چوپاؤں کی تخلیق کو اس آیت میں انزال یعنی آسمان سے اتارنے کے ساتھ تعبیر فرما کر اس طرف اشارہ فرما دیا کہ ان کی تخلیق میں بڑا دخل اس پانی کا ہے جو آسمان سے نازل ہوتا ہے۔ اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ بھی گویا آسمان سے نازل ہوئے، قرآن کریم نے انسانی لباس کے لئے بھی یہی لفظ استعمال فرمایا ہے۔ (آیت) انزلنا علیکم لباساً ۔ اور بعض معدنی چیزوں مثلاً لوہے کے لئے بھی یہ لفظ آیا ہے۔ (آیت) وانزلنا الحدید۔ ان سب کا حاصل ان چیزوں کا اپنی قدرت سے پیدا کرنا اور انسان کو عطا کرنا ہے۔ (قرطبی) (آیت) خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ ۔ اس میں قدرت خداوندی کے ان رموز و اسرار کی کچھ نشاندہی کی گئی ہے جو انسان کی تخلیق میں کار فرما ہیں۔ اول تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں تو یہ بھی تھا کہ بچے کو شکم میں بیک وقت مکمل پیدا کردیتے۔ مگر یہ تقاضائے حکمت و مصلحت ایسا نہیں بلکہ خلقاً من بعد خلق تدریج اختیار کی کہ عورت جس کے پیٹ میں عالم اصغر بن رہا ہے وہ آہستہ آہستہ اس کا بوجھ برداشت کرنے کی عادی ہوتی چلی جائے۔ دوسرے اس بےنظیر حسین ترین مخلوق کو جس میں سینکڑوں نازک مشینیں اور بال کی برابر رگیں خون اور روح پہنچانے کے لئے لگائی گئی ہیں۔ یہ عام صنعت کاروں کی طرح کسی کھلی جگہ روشنیوں کی مدد سے نہیں بلکہ تین اندھیروں میں ایسی جگہ پیدا کی گئی ہے جہاں کسی کی نظر تو کیا فکر کی بھی رسائی نہیں۔ (آیت) فتبارک اللہ احسن الخالقین۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَاَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِيَۃَ اَزْوَاجٍ۝ ٠ ۭ يَخْلُقُكُمْ فِيْ بُطُوْنِ اُمَّہٰتِكُمْ خَلْقًا مِّنْۢ بَعْدِ خَلْقٍ فِيْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ۝ ٠ ۭ ذٰلِكُمُ اللہُ رَبُّكُمْ لَہُ الْمُلْكُ۝ ٠ ۭ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ۝ ٠ ۚ فَاَنّٰى تُصْرَفُوْنَ۝ ٦ نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ زوج يقال لكلّ واحد من القرینین من الذّكر والأنثی في الحیوانات الْمُتَزَاوِجَةُ زَوْجٌ ، ولكلّ قرینین فيها وفي غيرها زوج، کالخفّ والنّعل، ولكلّ ما يقترن بآخر مماثلا له أو مضادّ زوج . قال تعالی: فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى[ القیامة/ 39] ، وقال : وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ [ البقرة/ 35] ، وزَوْجَةٌ لغة رديئة، وجمعها زَوْجَاتٌ ، قال الشاعر : فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتي وجمع الزّوج أَزْوَاجٌ. وقوله : هُمْ وَأَزْواجُهُمْ [يس/ 56] ، احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] ، أي : أقرانهم المقتدین بهم في أفعالهم، وَلا تَمُدَّنَّ عَيْنَيْكَ إِلى ما مَتَّعْنا بِهِ أَزْواجاً مِنْهُمْ [ الحجر/ 88] ، أي : أشباها وأقرانا . وقوله : سُبْحانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْواجَ [يس/ 36] ، وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] ، فتنبيه أنّ الأشياء کلّها مركّبة من جو هر وعرض، ومادّة وصورة، وأن لا شيء يتعرّى من تركيب يقتضي كونه مصنوعا، وأنه لا بدّ له من صانع تنبيها أنه تعالیٰ هو الفرد، وقوله : خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] ، فبيّن أنّ كلّ ما في العالم زوج من حيث إنّ له ضدّا، أو مثلا ما، أو تركيبا مّا، بل لا ينفكّ بوجه من تركيب، وإنما ذکر هاهنا زوجین تنبيها أنّ الشیء۔ وإن لم يكن له ضدّ ، ولا مثل۔ فإنه لا ينفكّ من تركيب جو هر وعرض، وذلک زوجان، وقوله : أَزْواجاً مِنْ نَباتٍ شَتَّى [ طه/ 53] ، أي : أنواعا متشابهة، وکذلک قوله : مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] ، ثَمانِيَةَ أَزْواجٍ [ الأنعام/ 143] ، أي : أصناف . وقوله : وَكُنْتُمْ أَزْواجاً ثَلاثَةً [ الواقعة/ 7] ، أي : قرناء ثلاثا، وهم الذین فسّرهم بما بعد وقوله : وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ [ التکوير/ 7] ، فقد قيل : معناه : قرن کلّ شيعة بمن شایعهم في الجنّة والنار، نحو : احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] ، وقیل : قرنت الأرواح بأجسادها حسبما نبّه عليه قوله في أحد التّفسیرین : يا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ راضِيَةً مَرْضِيَّةً [ الفجر/ 27- 28] ، أي : صاحبک . وقیل : قرنت النّفوس بأعمالها حسبما نبّه قوله : يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً وَما عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ [ آل عمران/ 30] ، وقوله : وَزَوَّجْناهُمْ بِحُورٍ عِينٍ [ الدخان/ 54] ، أي : قرنّاهم بهنّ ، ولم يجئ في القرآن زوّجناهم حورا، كما يقال زوّجته امرأة، تنبيها أن ذلک لا يكون علی حسب المتعارف فيما بيننا من المناکحة . ( ز و ج ) الزوج جن حیوانات میں نر اور مادہ پایا جاتا ہے ان میں سے ہر ایک دوسرے کا زوج کہلاتا ہے یعنی نر اور مادہ دونوں میں سے ہر ایک پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ حیوانات کے علاوہ دوسری اشیاء میں جفت کو زوج کہا جاتا ہے جیسے موزے اور جوتے وغیرہ پھر اس چیز کو جو دوسری کی مماثل یا مقابل ہونے کی حثیت سے اس سے مقترن ہو وہ اس کا زوج کہلاتی ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثى [ القیامة/ 39] اور ( آخر کار ) اس کی دو قسمیں کیں ( یعنی ) مرد اور عورت ۔ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ [ البقرة/ 35] اور تیری بی بی جنت میں رہو ۔ اور بیوی کو زوجۃ ( تا کے ساتھ ) کہنا عامی لغت ہے اس کی جمع زوجات آتی ہے شاعر نے کہا ہے فبکا بناتي شجوهنّ وزوجتیتو میری بیوی اور بیٹیاں غم سے رونے لگیں ۔ اور زوج کی جمع ازواج آتی ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ هُمْ وَأَزْواجُهُمْ [يس/ 56] وہ اور ان کے جوڑے اور آیت : ۔ احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] جو لوگ ( دنیا میں ) نا فرمانیاں کرتے رہے ہیں ان کو اور ان کے ساتھیوں کو ( ایک جگہ ) اکٹھا کرو ۔ میں ازواج سے ان کے وہ ساتھی مراد ہیں جو فعل میں ان کی اقتدا کیا کرتے تھے اور آیت کریمہ : ۔ إِلى ما مَتَّعْنا بِهِ أَزْواجاً مِنْهُمْ [ الحجر/ 88] اس کی طرف جو مختلف قسم کے لوگوں کو ہم نے ( دنیاوی سامان ) دے رکھے ہیں ۔ اشباہ و اقران یعنی ایک دوسرے سے ملتے جلتے لوگ مراد ہیں اور آیت : ۔ سُبْحانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْواجَ [يس/ 36] پاک ہے وہ ذات جس نے ( ہر قسم کی ) چیزیں پیدا کیں ۔ نیز : ۔ وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنا زَوْجَيْنِ [ الذاریات/ 49] اور تمام چیزیں ہم نے دو قسم کی بنائیں ۔ میں اس بات پر تنبیہ کی ہے ۔ کہ تمام چیزیں جوہر ہوں یا عرض مادہ و صورت سے مرکب ہیں اور ہر چیز اپنی ہیئت ترکیبی کے لحا ظ سے بتا رہی ہے کہ اسے کسی نے بنایا ہے اور اس کے لئے صائع ( بنانے والا ) کا ہونا ضروری ہے نیز تنبیہ کی ہے کہ ذات باری تعالیٰ ہی فرد مطلق ہے اور اس ( خلقنا زوجین ) لفظ سے واضح ہوتا ہے کہ روئے عالم کی تمام چیزیں زوج ہیں اس حیثیت سے کہ ان میں سے ہر ایک چیز کی ہم مثل یا مقابل پائی جاتی ہے یا یہ کہ اس میں ترکیب پائی جاتی ہے بلکہ نفس ترکیب سے تو کوئی چیز بھی منفک نہیں ہے ۔ پھر ہر چیز کو زوجین کہنے سے اس بات پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ اگر کسی چیز کی ضد یا مثل نہیں ہے تو وہ کم از کم جوہر اور عرض سے ضرور مرکب ہے لہذا ہر چیز اپنی اپنی جگہ پر زوجین ہے ۔ اور آیت أَزْواجاً مِنْ نَباتٍ شَتَّى [ طه/ 53] طرح طرح کی مختلف روئیدگیاں ۔ میں ازواج سے مختلف انواع مراد ہیں جو ایک دوسری سے ملتی جلتی ہوں اور یہی معنی آیت : ۔ مِنْ كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ [ لقمان/ 10] ہر قسم کی عمدہ چیزیں ( اگائیں ) اور آیت کریمہ : ۔ ثَمانِيَةَ أَزْواجٍ [ الأنعام/ 143]( نر اور مادہ ) آٹھ قسم کے پیدا کئے ہیں ۔ میں مراد ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَكُنْتُمْ أَزْواجاً ثَلاثَةً [ الواقعة/ 7] میں ازواج کے معنی ہیں قرناء یعنی امثال ونظائر یعنی تم تین گروہ ہو جو ایک دوسرے کے قرین ہو چناچہ اس کے بعد اصحاب المیمنۃ سے اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ [ التکوير/ 7] اور جب لوگ باہم ملا دیئے جائیں گے ۔ میں بعض نے زوجت کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ ہر پیروکار کو اس پیشوا کے ساتھ جنت یا دوزخ میں اکٹھا کردیا جائیگا ۔ جیسا کہ آیت : ۔ احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْواجَهُمْ [ الصافات/ 22] میں مذکور ہوچکا ہے اور بعض نے آیت کے معنی یہ کئے ہیں کہ اس روز روحوں کو ان کے جسموں کے ساتھ ملا دیا جائیگا جیسا کہ آیت يا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ راضِيَةً مَرْضِيَّةً [ الفجر/ 27- 28] اے اطمینان پانے والی جان اپنے رب کی طرف لوٹ آ ۔ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ۔ میں بعض نے ربک کے معنی صاحبک یعنی بدن ہی کئے ہیں اور بعض کے نزدیک زوجت سے مراد یہ ہے کہ نفوس کو ان کے اعمال کے ساتھ جمع کردیا جائیگا جیسا کہ آیت کریمہ : ۔ يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ ما عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُحْضَراً وَما عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ [ آل عمران/ 30] جب کہ ہر شخص اپنے اچھے اور برے عملوں کو اپنے سامنے حاضر اور موجود پائیگا ۔ میں بھی اس معنی کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَزَوَّجْناهُمْ بِحُورٍ عِينٍ [ الدخان/ 54] اور ہم انہیں حورعین کا ساتھی بنا دیں گے ۔ میں زوجنا کے معنی باہم ساتھی اور رفیق اور رفیق بنا دینا ہیں یہی وجہ ہے کہ قرآن نے جہاں بھی حور کے ساتھ اس فعل ( زوجنا ) کا ذکر کیا ہے وہاں اس کے بعد باء لائی گئی ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ حوروں کے ساتھ محض رفاقت ہوگی جنسی میل جول اور ازواجی تعلقات نہیں ہوں گے کیونکہ اگر یہ مفہوم مراد ہوتا تو قرآن بحور کی بجائے زوجناھم حورا کہتا جیسا کہ زوجتہ امرءۃ کا محاورہ ہے یعنی میں نے اس عورت سے اس کا نکاح کردیا ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا نعم ( جانور) [ والنَّعَمُ مختصٌّ بالإبل ] ، وجمْعُه : أَنْعَامٌ ، [ وتسمیتُهُ بذلک لکون الإبل عندهم أَعْظَمَ نِعْمةٍ ، لكِنِ الأَنْعَامُ تقال للإبل والبقر والغنم، ولا يقال لها أَنْعَامٌ حتی يكون في جملتها الإبل ] «1» . قال : وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] ، وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً وَفَرْشاً [ الأنعام/ 142] ، وقوله : فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعامُ [يونس/ 24] فَالْأَنْعَامُ هاهنا عامٌّ في الإبل وغیرها . ( ن ع م ) نعام النعم کا لفظ خاص کر اونٹوں پر بولا جاتا ہے اور اونٹوں کو نعم اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ عرب کے لئے سب سے بڑی نعمت تھے اس کی جمع انعام آتی ہے لیکن انعام کا لفظ بھیڑ بکری اونٹ اور گائے سب پر بولا جاتا ہے مگر ان جانوروں پر انعام کا لفظ اس وقت بولا جاتا ہے ۔ جب اونٹ بھی ان میں شامل ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلَ لَكُمْ مِنَ الْفُلْكِ وَالْأَنْعامِ ما تَرْكَبُونَ [ الزخرف/ 12] اور تمہارے لئے کشتیاں اور چار پائے بنائے ۔ وَمِنَ الْأَنْعامِ حَمُولَةً وَفَرْشاً [ الأنعام/ 142] اور چار پایوں میں بوجھ اٹھا نے والے ( یعنی بڑے بڑے بھی ) پیدا کئے اور زمین سے لگے ہوئے ( یعنی چھوٹے چھوٹے بھی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَباتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعامُ [يونس/ 24] پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں ۔ مل کر نکلا ۔ میں انعام کا لفظ عام ہے جو تمام جانوروں کو شامل ہے ۔ بطن أصل البَطْن الجارحة، وجمعه بُطُون، قال تعالی: وَإِذْ أَنْتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهاتِكُمْ [ النجم/ 32] ، وقد بَطَنْتُهُ : أصبت بطنه، والبَطْن : خلاف الظّهر في كلّ شيء، ويقال للجهة السفلی: بَطْنٌ ، وللجهة العلیا : ظهر، وبه شبّه بطن الأمر وبطن الوادي، والبطن من العرب اعتبارا بأنّهم کشخص واحد، وأنّ كلّ قبیلة منهم کعضو بطن وفخذ وكاهل، وعلی هذا الاعتبار قال الشاعر : 58- النّاس جسم وإمام الهدى ... رأس وأنت العین في الرأس «1» ويقال لكلّ غامض : بطن، ولكلّ ظاهر : ظهر، ومنه : بُطْنَان القدر وظهرانها، ويقال لما تدرکه الحاسة : ظاهر، ولما يخفی عنها : باطن . قال عزّ وجلّ : وَذَرُوا ظاهِرَ الْإِثْمِ وَباطِنَهُ [ الأنعام/ 120] ، ما ظَهَرَ مِنْها وَما بَطَنَ [ الأنعام/ 151] ، والبَطِين : العظیم البطن، والبَطِنُ : الكثير الأكل، والمِبْطَان : الذي يكثر الأكل حتی يعظم بطنه، والبِطْنَة : كثرة الأكل، وقیل : ( البطنة تذهب الفطنة) «2» . وقد بَطِنَ الرجل بَطَناً : إذا أشر من الشبع ومن کثرة الأكل، وقد بَطِنَ الرجل : عظم بطنه، ومُبَطَّن : خمیص البطن، وبَطَنَ الإنسان : أصيب بطنه، ومنه : رجل مَبْطُون : علیل البطن، والبِطانَة : خلاف الظهارة، وبَطَّنْتُ ثوبي بآخر : جعلته تحته . ( ب ط ن ) البطن اصل میں بطن کے معنی پیٹ کے ہیں اس کی جمع بطون آتی ہے قرآں میں ہے ؛{ وَإِذْ أَنْتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ } ( سورة النجم 32) اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے ۔ بطنتۃ میں نے اس کے پیٹ پر مارا ۔ البطن ہر چیز میں یہ ظھر کی ضد ہے اور ہر چیز کی نیچے کی جہت کو بطن اور اویر کی جہت کو ظہر کہا جاتا ہے اسی سے تشبیہ کہا جاتا ہے ؛۔ بطن الامر ( کسی معاملہ کا اندرون ) بطن الوادی ( وادی کا نشیبی حصہ ) اور بطن بمعنی قبیلہ بھی آتا ہے اس اعتبار سے کہ تمام عرب کو بمنزلہ ایک شخص کے فرض کیا جائے ہیں اور ہر قبیلہ بمنزلہ بطن مخذ اور کاہل ( کندھا) وغیرہ اعضاء کے تصور کیا جائے ۔ اسی بناء پر شاعر نے کہا ہے ع ( طویل ) (57) الناس جسم اومامھم الھدیٰ راس وانت العین فی الراس ( کہ لوگ بمنزلہ جسم ہیں اور امام ہدی بمنزلہ سر ہے مگر تم سر میں آنکھ ہو ۔ اور ہر پیچیدہ معاملہ کو بطن اور جلی اور یہاں کو ظہر کہا جاتا ہے ۔ اسی سے بطنان القدر وظھرانھا کا محاورہ ہے ۔ یعنی دیگ کی اندرونی اور بیرونی جانب ۔ ہر اس چیز کو جس کا حاسہ بصر سے ادراک ہو سکے اسے ظاہر اور جس کا حاسہ بصر سے ادراک نہ ہوسکے اسے باطن کہا جاتا ہے قرآن میں ہے :۔ وَذَرُوا ظاهِرَ الْإِثْمِ وَباطِنَهُ [ الأنعام/ 120] اور ظاہری اور پوشیدہ ( ہر طرح کا ) گناہ ترک کردو ۔ ما ظَهَرَ مِنْها وَما بَطَنَ [ الأنعام/ 151] ظاہری ہوں یا پوشیدہ ۔ البطین کلاں شکم ۔ البطن بسیار خور المبطان جس کا بسیار خوری سے پیٹ بڑھ گیا ہو ۔ البطنۃ بسیارخوری ۔ مثل مشہور ہے ۔ البطنۃ نذھب الفطنۃ بسیار خوری ذہانت ختم کردیتی ہے ۔ بطن الرجل بطنا شکم پری اور بسیار خوری سے اتراجانا ۔ بطن ( ک ) الرجل بڑے پیٹ والا ہونا ۔ مبطن پچکے ہوئے پیٹ والا ۔ بطن الرجل مرض شکم میں مبتلا ہونا اس سے صیغہ صفت مفعولی مبطون مریض شکم آتا ہے ۔ البطانۃ کے معنی کپڑے کا استریا اس کے اندورنی حصہ کے ہیں اور اس کے ضد ظہارۃ ہے ۔ جس کے معنی کپڑے کا اوپر کا حصہ یا ابرہ کے ہیں اور بطنت ثوبی باٰ خر کے معنی ہیں میں نے ایک کپڑے کو دوسرے کے نیچے لگایا ۔ أمّ الأُمُّ بإزاء الأب، وهي الوالدة القریبة التي ولدته، والبعیدة التي ولدت من ولدته . ولهذا قيل لحوّاء : هي أمنا، وإن کان بيننا وبینها وسائط . ويقال لکل ما کان أصلا لوجود شيء أو تربیته أو إصلاحه أو مبدئه أمّ ، قال الخلیل : كلّ شيء ضمّ إليه سائر ما يليه يسمّى أمّا «1» ، قال تعالی: وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتابِ [ الزخرف/ 4] «2» أي : اللوح المحفوظ وذلک لکون العلوم کلها منسوبة إليه ومتولّدة منه . وقیل لمكة أم القری، وذلک لما روي : (أنّ الدنیا دحیت من تحتها) «3» ، وقال تعالی: لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرى وَمَنْ حَوْلَها [ الأنعام/ 92] ، وأمّ النجوم : المجرّة «4» . قال : 23 ۔ بحیث اهتدت أمّ النجوم الشوابک «5» وقیل : أم الأضياف وأم المساکين «6» ، کقولهم : أبو الأضياف «7» ، ويقال للرئيس : أمّ الجیش کقول الشاعر : وأمّ عيال قد شهدت نفوسهم «8» وقیل لفاتحة الکتاب : أمّ الکتاب لکونها مبدأ الکتاب، وقوله تعالی: فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ [ القارعة/ 9] أي : مثواه النار فجعلها أمّا له، قال : وهو نحو مَأْواكُمُ النَّارُ [ الحدید/ 15] ، وسمّى اللہ تعالیٰ أزواج النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم أمهات المؤمنین فقال : وَأَزْواجُهُ أُمَّهاتُهُمْ [ الأحزاب/ 6] لما تقدّم في الأب، وقال : ابْنَ أُمَ [ طه/ 94] ولم يقل : ابن أب، ولا أمّ له يقال علی سبیل الذم، وعلی سبیل المدح، وکذا قوله : ويل أمّه «1» ، وکذا : هوت أمّه «2» والأمّ قيل : أصله : أمّهة، لقولهم جمعا : أمهات، وفي التصغیر : أميهة «3» . وقیل : أصله من المضاعف لقولهم : أمّات وأميمة . قال بعضهم : أكثر ما يقال أمّات في البهائم ونحوها، وأمهات في الإنسان . ( ا م م ) الام یہ اب کا بالمقابل ہے اور ماں قریبی حقیقی ماں اور بعیدہ یعنی نانی پر نانی وغیرہ سب کو ام کہاجاتا ہے یہی وجہ ہے کہ حضرت حواء کو امنا کہا گیا ہے اگرچہ ہمارا ان سے بہت دور کا تعلق ہے ۔ پھر ہر اس چیز کو ام کہا جاتا ہے ۔ جو کسی دوسری چیز کے وجود میں آنے یا اس کی اصلاح وتربیت کا سبب ہو یا اس کے آغاز کا مبداء بنے ۔ خلیل قول ہے کہ ہر وہ چیز جس کے اندر اس کے جملہ متعلقات منضم ہوجائیں یا سما جائیں ۔۔ وہ ان کی ام کہلاتی ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ { وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ } ( سورة الزخرف 4) اور یہ اصل نوشتہ ( یعنی لوح محفوظ ) میں ہے ۔ میں ام الکتاب سے مراد لوح محفوظ ہے کیونکہ وہ وہ تمام علوم کا منبع ہے اور اسی کی طرف تمام علوم منسوب ہوتے ہیں اور مکہ مکرمہ کو ام القریٰ کہا گیا ہے ( کیونکہ وہ خطبہ عرب کا مرکز تھا ) اور بموجب روایت تمام روئے زمین اس کے نیچے سے بچھائی گئی ہے ( اور یہ ساری دنیا کا دینی مرکز ہے ) قرآن میں ہے :۔ { لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرَى وَمَنْ حَوْلَهَا } ( سورة الشوری 7) تاکہ تو مکہ کے رہنے والوں کے انجام سے ڈرائے ۔ ام النجوم ۔ کہکشاں ۔ شاعر نے کہا ہے ( طویل ) (23) بحیث اھتدت ام النجوم الشو ایک یعنی جہان کہ کہکشاں راہ پاتی ہے ام الاضیاف ۔ مہمان نواز ۔ ام المساکین ۔ مسکین نواز ۔ مسکینوں کا سہارا ۔ ایسے ہی جیسے بہت زیادہ مہمان نواز کو ، ، ابوالاضیاف کہا جاتا ہے اور رئیس جیش کو ام الجیش ۔ شاعر نے کہا ہے ( طویل ) (24) وام عیال قدشھدت تقوتھم ، ، اور وہ اپنی قوم کے لئے بمنزلہ ام عیال ہے جو ان کو رزق دیتا ہے ۔ ام الکتاب ۔ سورة فاتحہ کا نام ہے ۔ کیونکہ وہ قرآن کے لئے بمنزلہ اور مقدمہ ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ { فَأُمُّهُ هَاوِيَةٌ } ( سورة القارعة 9) مثویٰ یعنی رہنے کی جگہ کے ہیں ۔ جیسے دوسری جگہ دوزخ کے متعلق { وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ } ( سورة العنْکبوت 25) فرمایا ہے ( اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امہ ھاویۃ ایک محاورہ ہو ) جس طرح کہ ویل امہ وھوت امہ ہے یعنی اس کیلئے ہلاکت ہو ۔ اور اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ :۔ { وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ } ( سورة الأحزاب 6) میں ازواج مطہرات کو امہات المومنین قرار دیا ہے ۔ جس کی وجہ بحث اب میں گزرچکی ہے ۔ نیز فرمایا ۔ { يَا ابْنَ أُمَّ } ( سورة طه 94) کہ بھائی ۔ ام ۔ ( کی اصل میں اختلاف پایا جاتا ہے ) بعض نے کہا ہے کہ ام اصل میں امھۃ ہے کیونکہ اس کی جمع امھات اور تصغیر امیھۃ ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اصل میں مضاعف ہی ہے کیونکہ اس کی جمع امات اور تصغیر امیمۃ آتی ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ عام طور پر حیونات وغیرہ کے لئے امات اور انسان کے لئے امھات کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ ظلم) تاریکی) الظُّلْمَةُ : عدمُ النّور، وجمعها : ظُلُمَاتٌ. قال تعالی: أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍ [ النور/ 40] ، ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] ، وقال تعالی: أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ النمل/ 63] ، وَجَعَلَ الظُّلُماتِ وَالنُّورَ [ الأنعام/ 1] ، ويعبّر بها عن الجهل والشّرک والفسق، كما يعبّر بالنّور عن أضدادها . قال اللہ تعالی: يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [ البقرة/ 257] ، أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [إبراهيم/ 5] ( ظ ل م ) الظلمۃ ۔ کے معنی میں روشنی کا معدوم ہونا اس کی جمع ظلمات ہے ۔ قرآن میں ہے : أَوْ كَظُلُماتٍ فِي بَحْرٍ لُجِّيٍ [ النور/ 40] ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے ) جیسے دریائے عشق میں اندھیرے ۔ ظُلُماتٌ بَعْضُها فَوْقَ بَعْضٍ [ النور/ 40] ( غرض ) اندھیرے ہی اندھیرے ہوں ایک پر ایک چھایا ہوا ۔ أَمَّنْ يَهْدِيكُمْ فِي ظُلُماتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ [ النمل/ 63] بتاؤ برو بحری کی تاریکیوں میں تمہاری کون رہنمائی کرتا ہے ۔ وَجَعَلَ الظُّلُماتِ وَالنُّورَ [ الأنعام/ 1] اور تاریکیاں اور روشنی بنائی ۔ اور کبھی ظلمۃ کا لفظ بول کر جہالت شرک اور فسق وفجور کے معنی مراد لئے جاتے ہیں جس طرح کہ نور کا لفظ ان کے اضداد یعنی علم وایمان اور عمل صالح پر بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [ البقرة/ 257] ان کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے ۔ أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ [إبراهيم/ 5] کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے جاؤ ثلث الثَّلَاثَة والثَّلَاثُون، والثَّلَاث والثَّلَاثُمِائَة، وثَلَاثَة آلاف، والثُّلُثُ والثُّلُثَان . قال عزّ وجلّ : فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ [ النساء/ 11] ، أي : أحد أجزائه الثلاثة، والجمع أَثْلَاث، قال تعالی: وَواعَدْنا مُوسی ثَلاثِينَ لَيْلَةً [ الأعراف/ 142] ، وقال عزّ وجل : ما يَكُونُ مِنْ نَجْوى ثَلاثَةٍ إِلَّا هُوَ رابِعُهُمْ [ المجادلة/ 7] ، وقال تعالی: ثَلاثُ عَوْراتٍ لَكُمْ [ النور/ 58] ، أي : ثلاثة أوقات العورة، وقال عزّ وجلّ : وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلاثَ مِائَةٍ سِنِينَ [ الكهف/ 25] ، وقال تعالی: بِثَلاثَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُنْزَلِينَ [ آل عمران/ 124] ث ل ث ) الثلاثۃ ۔ تین ) مؤنث ) ثلاثون تیس ( مذکر ومؤنث) الثلثمائۃ تین سو ( مذکر ومؤنث ) ثلاثۃ الاف تین ہزار ) مذکر و مؤنث ) الثلث تہائی ) تثغیہ ثلثان اور جمع اثلاث قرآن میں ہے ؛۔ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ [ النساء/ 11] توا یک تہائی مال کا حصہ وواعدْنا مُوسی ثَلاثِينَ لَيْلَةً [ الأعراف/ 142] اور ہم نے موسیٰ سے تیس رات کو میعاد مقرر کی ۔ ما يَكُونُ مِنْ نَجْوى ثَلاثَةٍ إِلَّا هُوَ رابِعُهُمْ [ المجادلة/ 7] کسی جگہ ) تین ( شخصوں ) کا مجمع ) سر گوشی نہیں کرتا مگر وہ ان میں چوتھا ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثَلاثُ عَوْراتٍ لَكُمْ [ النور/ 58]( یہ ) تین ( وقت ) تمہارے پردے ( کے ) ہیں ۔ کے معنی یہ ہیں کہ یہ تین اوقات ستر کے ہیں ۔ وَلَبِثُوا فِي كَهْفِهِمْ ثَلاثَ مِائَةٍ سِنِينَ [ الكهف/ 25] اور اصحاب کہف اپنے غار میں ( نواوپر ) تین سو سال رہے ۔ بِثَلاثَةِ آلافٍ مِنَ الْمَلائِكَةِ مُنْزَلِينَ [ آل عمران/ 124] تین ہزار فرشتے نازل کرکے تمہیں مدد دے ۔ إِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدْنى مِنْ ثُلُثَيِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهُ [ المزمل/ 20] تمہارا پروردگار رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ ملك) بادشاه) المَلِكُ : هو المتصرّف بالأمر والنّهي في الجمهور وَالمِلْكُ ضربان : مِلْك هو التملک والتّولّي، ومِلْك هو القوّة علی ذلك، تولّى أو لم يتولّ. فمن الأوّل قوله : إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] ، ومن الثاني قوله : إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] ( م ل ک ) الملک ۔ بادشاہ جو پبلک پر حکمرانی کرتا ہے ۔ یہ لفظ صرف انسانوں کے منتظم کے ساتھ خاص ہے . اور ملک کا لفظ دو طرح پر ہوتا ہے عملا کسی کا متولی اور حکمران ہونے کو کہتے ہیں ۔ دوم حکمرانی کی قوت اور قابلیت کے پائے جانے کو کہتے ہیں ۔ خواہ نافعل اس کا متولی ہو یا نہ ہو ۔ چناچہ پہلے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِنَّ الْمُلُوكَ إِذا دَخَلُوا قَرْيَةً أَفْسَدُوها[ النمل/ 34] بادشاہ جب کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں ۔ تو اس کو تباہ کردیتے ہیں ۔ اور دوسرے معنی کے لحاظ سے فرمایا : ۔ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِياءَ وَجَعَلَكُمْ مُلُوكاً [ المائدة/ 20] کہ اس نے تم میں پیغمبر کئے اور تمہیں بادشاہ بنایا ۔ أنى أَنَّى للبحث عن الحال والمکان، ولذلک قيل : هو بمعنی كيف وأين «4» ، لتضمنه معناهما، قال اللہ عزّ وجل : أَنَّى لَكِ هذا [ آل عمران/ 37] ، أي : من أين، وكيف . ( انیٰ ) انی۔ یہ حالت اور جگہ دونوں کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اس لئے بعض نے کہا ہے کہ یہ بمعنیٰ این اور کیف ۔ کے آتا ہے پس آیت کریمہ ؛۔ { أَنَّى لَكِ هَذَا } ( سورة آل عمران 37) کے معنی یہ ہیں کہ کھانا تجھے کہاں سے ملتا ہے ۔ صرف الصَّرْفُ : ردّ الشیء من حالة إلى حالة، أو إبداله بغیره، يقال : صَرَفْتُهُ فَانْصَرَفَ. قال تعالی: ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152] ( ص ر ف ) الصرف کے معنی ہیں کسی چیز کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پھیر دینا یا کسی اور چیز سے بدل دینا ۔ محاور ہ ہے ۔ صرفتہ فانصرف میں نے اسے پھیر دیا چناچہ وہ پھر گیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ [ آل عمران/ 152] پھر خدا نے تم کو ان کے مقابلے سے پھیر کر بھگادیا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

نسل انسانی کا منبع ایک ہی جان تھی قول باری ہے (خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا) حرف ” ثم “ کلام کے صلہ کی طرف راجع ہے۔ گویا یوں فرمایا، ” خلقکم من نفس واحدۃ ثم اخبرکم انہ جعل منھا زوجھا “ (اس نے تم لوگوں کو ایک ذات سے پیدا کیا اور پھر تمہیں یہ بتایا کہ اس نے اس کا جوڑا بنایا) اس لئے کہ ترتیب کے معنی کی بنیاد پر اسے اولاد آدم کی طرف راجع کرنا درست نہیں ہے۔ کیونکہ اولاد سے پہلے والدین کا وجود ہوتا ہے۔ اس کی مثال یہ قول باری ہے (ثم اللہ شھید علی ما یفعلون۔ پھر اللہ اس پر گواہ ہے جو یہ کرتے ہیں) اسی طرح یہ قول باری ہے (ثم اتینا موسیٰ الکتاب تماما) اور اسی طرح کی دوسری آیت۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اس نے تم لوگوں کو تن واحد یعنی آدم سے پیدا کیا ہے اور پھر ان ہی سے یعنی ان کی سب سے چھوٹی پسلی سے حضرت حوا کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آٹھ نر و مادہ چار پایوں کے پیدا کیے یعنی بھیڑ اور دنبہ میں دو قسم نر و مادہ اور بکری میں دو قسم نر و مادہ اور ایسے ہی اونٹ میں دو قسم نر و مادہ اور گائے بھینس میں دو قسم نر و مادہ۔ وہ تمہیں ماؤں کے پیٹ میں ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت پر بناتا ہے یعنی نطفہ پھر علقہ پھر مضغہ اور پھر ہڈیاں تین تاریکیوں میں ہوتا ہے، ایک تاریکی شکم کی دوسری رحم کی تیسری اس جھلی کی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے ان مور کا خالق تمہارا رب ہے اسی کی سلطنت ہے جو ہمیشہ رہے گی کبھی اس کو فنا نہیں اس کے علاوہ کوئی خالق و مصور نہیں پھر جھوٹ کی وجہ سے کہاں پھرے جاتے ہو یا یہ کہ پھر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھ کے کہاں اس کا شریک ٹھہراتے ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦ { خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا } ” اس نے پیدا کیا تمہیں ایک جان سے ‘ پھر اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا “ جو لوگ نظریہ ارتقاء (evolution theory) کو مانتے ہیں یا یہ سمجھتے ہیں کہ قرآن مجید کے ساتھ اس کے بعض اجزاء کی مطابقت ہے ‘ وہ اس کی تعبیر یوں کرتے ہیں کہ ابتدا میں پیدا کیے جانے والے حیوانات (lower animals) میں نر اور مادہ کی تقسیم نہیں تھی۔ جیسے امیبا (Amoeba) ہے جو دو حصوں میں تقسیم ہو کر اپنے جیسے ایک نئے وجود کو جنم دے دیتا ہے۔ اس کے بعد اگلے مرحلے پر ان کا خیال ہے کہ ایسے جانور پیدا کیے گئے جن کے اندر بیک وقت مذکر اور مونث دونوں جنسیں (sexes) موجود تھیں۔ جیسے کہ برسات کے موسم میں زمین سے نکلنے والے کینچو وں (earth worms) میں سے ہر ایک کیڑا مذکر و مونث دونوں جنسوں کا حامل (hermaphrodite) ہوتا ہے۔ اس کے بعدرفتہ رفتہ دونوں جنسوں میں مزید تفریق ہوئی اور پھر تیسرے مرحلے میں دونوں جنسیں علیحدہ علیحدہ پیدا ہونا شروع ہوئیں۔ { وَاَنْزَلَ لَکُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمٰنِیَۃَ اَزْوَاجٍ } ” اور تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ جوڑے اتار دیے “ مویشیوں کے آٹھ جوڑوں کے بارے میں قبل ازیں ہم سورة الانعام (آیت ١٤٣ ‘ ١٤٤) میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ ان میں اونٹ نر اور مادہ ‘ گائے نر اور مادہ ‘ بھیڑ نر اور مادہ اور بکری نر اور مادہ آٹھ مویشی شامل ہیں جو اس وقت عرب میں عموماً پائے جاتے تھے۔ { یَخْلُقُکُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّہٰتِکُمْ خَلْقًا مِّنْم بَعْدِ خَلْقٍ } ” وہ پیدا کرتا ہے تمہیں تمہارے مائوں کے پیٹوں میں ایک خلق کے بعد دوسری خلق “ یہاں پر خَلْقًا مِّنْم بَعْدِ خَلْقٍسے تخلیق کے مختلف مراحل مراد ہیں۔ ان مراحل کا ذکر قرآن میں متعدد مقامات پر نُطْفَۃ ‘ عَلَقَۃ ‘ مُضْغَۃ ‘ مُضْغَۃ مُخَلَّقَۃ وَّغَیْرِ مُخَلَّقَۃ اور خَلْقًا اٰخَرَ کے الفاظ سے ہوا ہے۔ البتہ سورة المومنون کے پہلے رکوع کی آیات اس موضوع پر قرآن کے ذروہ سنام کا درجہ رکھتی ہیں۔ { فِیْ ظُلُمٰتٍ ثَلٰثٍ } ” (یہ تخلیق ہوتی ہے) تین اندھیروں کے اندر “ ماں کے پیٹ میں بچے کی تخلیق کا یہ عمل تین پردوں کے اندر ہوتا ہے۔ یعنی ایک پردہ تو پیٹ کی بیرونی دیوار (abdominal wall) کا ہے۔ دوسرا پردہ رحم (uterus) کی موٹی دیوار ہے ‘ جبکہ تیسرا پردہ رحم کے اندر کی وہ جھلی (مَشِیمہ) ہے جس کے اندر بچہ لپٹا ہوتا ہے۔ اس میں غور طلب نکتہ یہ ہے کہ تین پردوں کی یہ بات قرآن نے صدیوں پہلے اس وقت کی جس وقت علم جنینیات (Embryology) کے بارے میں انسان کی معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر کیتھ ایل مور (جسے ایمبریالوجی پر دنیا بھر میں سند مانا جاتا ہے) نے تسلیم کیا ہے کہ قرآن نے علم جنین کے بارے میں جو معلومات فراہم کی ہیں وہ واقعتا حیران کن ہیں اور یہ کہ ماں کے پیٹ کے اندر انسانی تخلیق کے مختلف مراحل کی جو تعبیر قرآن نے کی ہے اس سے بہتر تعبیر ممکن ہی نہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ تین پردوں کے اندر انسان کی تخلیق فرماتا ہے۔ اس کے اعضاء اور اس کی شکل کو جیسے چاہتا ہے بناتا ہے۔ { ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ لَہُ الْمُلْکُط لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَج فَاَنّٰی تُصْرَفُوْنَ } ” وہ ہے اللہ تمہارا رب ‘ اسی کی بادشاہی ہے ‘ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ تو تم لوگ کہاں سے پھرائے جا رہے ہو ! “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

12 This dces not mean that first He created the human beings from Adam and then created his wife, Eve. But here, instead of the chronological order, there is the order of presentation, examples of which arc found in every language. For instance, we say, "Whatever you did today is known to me, and whatever you did yesterday is also in my knowledge." This cannot mean that what happened yesterday has happened after today. 13 That is, the camel, cow, sheep and goat whose four males and four females together make eight heads of cattle. 14 The three dark veils are: the belly, the womb and the caul or membrane enclosing the foetus. 15 "Your Lord" : your Master, Ruler and Providence. 16 That is, "All powers and authority rest with Him and it is He Who is ruling over the whole Universe. " >17 In other words, the reasoning is this: "When Allah alone is your Lord and His is the sovereignty, then inevitably your Deity also is He. How can another be your deity when he has neither any share in providence nor any role in sovereignty? After all, how can it be reasonable for you to take others as your deities when Allah alone is the Creator of the heavens and the earth, when Allah alone has subjected the sun and the moon for you, when He alone brings the day after the night and the night after the day, and when He alone is your own Creator and Lord as well as of all animals and cattle?" 18 These words need deep consideration. It has not been said: "Where are you turning away?" but °where are you being turned away?" That is, "There is someone else who is misleading you, and being thus deceived you do not understand such a simple and reasonable thing. " The other thing which by itself becomes evident from the style is: The word "you" is not addressed to the agents but to those who were turning away under their influence. Their is a subtle point in this which can be understood easily after a little thought. Those who were working to turn away others (from the Right Way) were present in the same society and were doing whatever they could openly and publicly. Therefore, there was no need to mention them by name. It was also useless to address them, for they were trying to turn away the people from the service of Allah, the One, and entrapping them for the service of others, and keeping them entrapped for selfish motives. Obviously, such people could not be made to see reason by argument, for it lay in their own interest not' to understand and see reason, and even after understanding they could hardly be inclined to sacrifice their interests. However, the condition of the common people who were being deceived and cheated, was certainly pitiable. They had no interest involved in the business; therefore, they could be convinced by reasoning and argument, and after a little understanding they could also see what advantages were being gained by those who were showing them the way to other deities, after turning them away from Allah. That is why the address has been directed to the common people, who were being misguided rather than those few who were misguiding them.

سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :12 یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلے حضرت آدم سے انسانوں کو پیدا کر دیا اور پھر ان کی بیوی حضرت حوا کو پیدا کیا ۔ بلکہ یہاں کلام میں ترتیب زمان کے بجائے ترتیب بیان ہے جس کی مثالیں ہر زبان میں پائی جاتی ہیں ۔ مثلاً ہم کہتے ہیں تم نے آج جو کچھ کیا وہ مجھے معلوم ہے ، پھر جو کچھ تم کل کر چکے ہو اس سے بھی میں باخبر ہوں ۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہو سکتا کہ کل کا واقعہ آج کے بعد ہوا ہے ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :13 مویشی سے مراد ہیں اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری ۔ ان کے چار نر اور چار مادہ مل کر آٹھ نر و مادہ ہوتے ہیں ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :14 تین پردوں سے مراد ہے پیٹ ، رحم اور مَشِیْمَہ ( وہ جھلی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے ) ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :15 یعنی مالک ، حاکم اور پروردگار ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :16 یعنی تمام اختیارات کا مالک وہی ہے اور ساری کائنات میں اسی کا حکم چل رہا ہے ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :17 دوسرے الفاظ میں استدلال یہ ہے کہ جب وہی تمہارا رب ہے اور اسی کی ساری بادشاہی ہے تو پھر لازماً تمہارا اِلٰہ ( معبود ) بھی وہی ہے ۔ دوسرا کوئی اِلٰہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ نہ پروردگاری میں اس کا کوئی حصہ نہ بادشاہی میں اس کا کوئی دخل ۔ آخر تمہاری عقل میں یہ بات کیسے سماتی ہے کہ زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا تو ہو اللہ ۔ سورج اور چاند کو مسخر کرنے والا اور رات کے بعد دن اور دن کے بعد رات لانے والا بھی ہو اللہ ۔ تمہارا اپنا اور تمام حیوانات کا خالق و رب بھی ہو اللہ ۔ اور تمہارے معبود بن جائیں اس کے سوا دوسرے ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :18 یہ الفاظ قابل غور ہیں ۔ یہ نہیں فرمایا کہ تم کدھر پھرے جا رہے ہو ۔ ارشاد یہ ہوا ہے کہ تم کدھر سے پھرائے جا رہے ہو ۔ یعنی کوئی دوسرا ہے جو تم کو الٹی پٹی پڑھا رہا ہے اور تم اس کے بہکائے میں آ کر ایسی سیدھی سی عقل کی بات بھی نہیں سمجھ رہے ہو ۔ دوسری بات جو اس انداز بیان سے خود مترشح ہو رہی ہے وہ یہ ہے کہ تم کا خطاب پھر انے والوں سے نہیں بلکہ ان لوگوں سے ہے جو ان کے اثر میں آ کر پھر رہے تھے ۔ اس میں ایک لطیف مضمون ہے جو ذرا سے غور و فکر سے بآسانی سمجھ میں آجاتا ہے ۔ پھر انے والے اسی معاشرے میں سب کے سامنے موجود تھے اور ہر طرف اپنا کام علانیہ کر رہے تھے ، اس لیے ان کا نام لینے کی حاجت نہ تھی ۔ ان کو خطاب کرنا بھی بیکار تھا ، کیونکہ وہ اپنی اغراض کے لیے لوگوں کو خدائے واحد کی بندگی سے پھیرنے اور دوسروں کی بندگی میں پھانسنے اور پھانسے رکھنے کی کوششیں کر رہے تھے ۔ ایسے لوگ ظاہر ہے کہ سمجھانے سے سمجھنے والے نہ تھے ، کیونکہ نہ سمجھنے ہی سے ان کا مفاد وابستہ تھا ، اور سمجھنے کے بعد بھی وہ اپنے مفاد کو قربان کرنے کے لیے مشکل ہی سے تیار ہو سکتے تھے ۔ البتہ رحم کے قابل ان عوام کی حالت تھی جو ان کے چکمے میں آ رہے تھے ۔ ان کی کوئی غرض اس کاروبار سے وابستہ نہ تھی ، اس لیے وہ سمجھانے سے سمجھ سکتے تھے ۔ اور ذرا سی آنکھیں کھل جانے کے بعد وہ یہ بھی دیکھ سکتے تھے کہ جو لوگ انہیں خدا کے آستانے سے ہٹا کر دوسرے آستانوں کا راستہ دکھاتے ہیں وہ اپنے اس کاروبار کا فائدہ کیا اٹھاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ گمراہ کرنے والے چند آدمیوں سے رخ پھیر کر گمراہ ہونے والے عوام کو مخاطب کیا جا رہا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

2: اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں، اور ان کے جوڑے سے مراد حضرت حواء علیہم السلام 3: اس سے مراد اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری ہیں جن میں سے ہر ایک کے نر اور مادہ مل کر آٹھ جوڑے ہوجاتے ہیں۔ ان کا ذکر خاص طور پر اس لیے فرمایا گیا ہے کہ عام طور پر یہی مویشی انسان کے زیادہ کام آتے ہیں۔ انہی آٹھ جوڑوں کا ذکر سورۂ انعام : 143 میں گذرا ہے۔ 4: تین اندھیریاں اس طرح ہیں کہ ایک اندھیری پیٹ کی، دوسری رحم کی، اور تیسری اس جھلی کی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے، اور بناوٹ کے مرحلوں سے مراد یہ ہے کہ پہلے نطفہ ہوتا ہے، پھر خون، پھر لوتھڑا، پھر ہڈیاں وغیرہ جس کی تفصیل سورۂ حج : 5 اور سورۂ مومنون : 14 میں گذری ہے، اور سورۂ غافر : 67 میں آگے آئے گی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦۔ اوپر مشرکین مکہ کے شرک کا ذکر تھا۔ اس لئے ان آیتوں میں ان کے قائل کرنے کے لئے فرمایا کہ ان مشرکین کے ان کے بڑوں کو سب بنی آدم کے باپ ماں آدم اور حوا کو اور ان کی ضرورتوں کے لئے چوپایوں کے آٹھ نر مادہ کو یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کیا کہ اس میں کوئی شریک نہ تھا پھر جو کوئی اپنے خالق اور آسمان اور زمین کے بادشاہ کی تعظیم اور عبادت میں بلاسبب دوسروں کو شریک کرتا ہے۔ وہ راہ رست سے پھرا ہوا ہے صحیح ١ ؎ ومسلم کے حوالہ سے ابوہریرہ (رض) کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ حوا (علیہ السلام) آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے پیدا ہوئی ہیں اور پسلی کی ہڈی کی طرح ہر عورت کے مزاج میں ایک کجی ہے جو کوئی اس کجی کو جھیل کر عورت کے ساتھ نرمی سے گزارے گا تو گزر ہوجائے گی۔ ورنہ گزر مشکل ہے حضرت عبداللہ بن عباس ٢ ؎ عبد اللہ بن مسعود اور صحابہ کی ایک جماعت کا یہ قول ہے کہ پہلے تن تنہا آدم (علیہ السلام) کو جنت میں رہنے کا حکم ہوتا تھا۔ ایک دن آدم (علیہ السلام) جب سو رہے تھے تو ان کی نیند کی حالت میں ان کی بائیں پسلی سے اللہ تعالیٰ نے حوا (علیہ السلام) کو پیدا کردیا۔ یہ ابوہریرہ (رض) کی حدیث اور صحابہ کے قول ثم جعل منھا زوجھا کی گویا تفسیر ہیں۔ ترمذی ٣ ؎ وغیرہ کے حوالہ سے حضرت عمر (رض) کی صحیح صحیح حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی پشت سے بنی آدم کی روحوں کو نکالا۔ اور پھر جنتی اور دوزخیوں کی روحوں کو الگ الگ کیا۔ اس حدیث کے موافق صحابہ کی ایک جماعت کا قول ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے جنت میں جانے اور حوا (علیہا السلام) کی جسمانی پیدائش سے پہلے تمام بنی آدم کی روحیں آدم (علیہ السلام) کی پیش میں پیدا کی جا چکی تھیں۔ اس لئے پہلے خلقکم من نفس واحدۃ فرما کر پھر حوا (علیہا السلام) کی جسمانی پیدائش کا ذکر فرمایا صحیح بخاری ٤ ؎ و مسلم میں عبد اللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ نطفہ چایس دن تک رحم میں رہ کر جما ہوا خون ہوجاتا ہے پھر اس خون کا گوشت بن جاتا ہے اور ہڈیاں اسی گوشت سے بن کر ان ہڈیوں پر گوشت کا غلاف چڑھا دیا جاتا ہے اور پتلا تیار ہوجاتا ہے غرض چار ساڑھے چار مہینے میں یہ سب کچھ ہو کر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس پتلے میں جان پڑجاتی ہے۔ قد افلح المومنون میں اس کی تفصیل زیادہ گزر چکی ہے عبد اللہ بن مسعود کی یہ حدیث اور قد افلح المومنون میں کی تفصیل خلقا من بعد خلق کی گویا تفسیر ہے حضرت عبد اللہ بن عباس ٥ ؎ کے قول کے موافق تین اندھیروں میں ایک اندھیرا ماں کے پیٹ کا اور دوسرا رحم کا اور تیسرا اس جھلی کا جو بچے کے ساتھ نکلتی ہے۔ بھیڑ ‘ بکری ‘ اونٹ اور گائے کے اٹھ نر مادہ کا ذکر سورة الانعام میں گزر چکا ہے۔ صحیح مسلم ٦ ؎ میں حضرت ابوذر (رض) کی روایت سے ایک بہت بڑی حدیث قدسی سے اس میں اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی تفسیر فرماتی ہے حاصل اس حدیث کے ایک ٹکڑے کا یہ ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا سارا جہان اگر متقی ہوجائے تو اس سے اللہ کو نفع نہیں پہنچتا۔ اور اگر سارا جہان نافرمان ہوجاوے تو اس سے اللہ تعالیٰ کو کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔ جیسا جو عمل کرے گا وہ لکھا جاتا ہے کہ اگر نیک عمل ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے عمل کی حیثیت سے بڑھ کر جزا دیوے گا اگر عمل بد ہے تو عمل بد کی حیثیت کے موافق سزا ہوگی یا معاف بھی ہوجائے گا آدمی رات دن گناہوں میں گرفتار ہے۔ اس کو چاہئے کہ جب موقع پاوے اللہ کی جناب میں توبہ استغفار کرے اللہ تعالیٰ بخشے والا ہے۔ بغیرہدایت اور توفیق الٰہی کے آدمی گمراہی میں پڑا ہوا ہے اس کو چاہئے کہ اللہ تعالیٰ سے ہدایت کی التجا کرے اللہ تعالیٰ اس کو نیک راستہ پر لگا دے گا۔ اس حدیث کے لفظوں سے معلوم ہوا کہ نہ اللہ تعالیٰ کو نیک کام کی حیثیت سے بڑھ کر جزا دینے میں کچھ دریغ ہے نہ بدی کے بخش دینے میں کچھ دریغ ہے۔ نہ سارے جہان کے نیک ہوجانے سے اس کو کچھ نفع ہے نہ سارے جہان کے بد بن جانے سے کچھ ضرر ہے۔ یہی تفسیر اس آیت کی ہے اور اسی اپنی بےپرواہی کے کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے یہ اس آیت میں فرمایا ہے۔ کہ اگر سب لوگ اللہ کے منکر ہوجاویں تو اللہ کو ان کے منکر ہونے کی کچھ پروا نہیں خدا کی بادشاہی دنیا کے بادشاہوں کی بادشاہی جیسی نہیں۔ کہ ان کی بادشاہی کو فوج یا رعیت کے منحرف اور باغی ہوجانے سے ضرر پہنچ جاتا ہے۔ وہ ایسا زبردست بادشاہ ہے کہ کسی کے منحرف ہوجانے سے اس کی بادشاہت میں کچھ خلل نہیں پڑتا۔ اس واسطے کسی کے منکر اور منحرف ہوجانے کی اس کو ذرا بھی پروا نہیں۔ اس آیت میں یہ جو فرمایا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کے کفر کو پسند نہیں کرتا۔ مذہب اہل سنت کے موافق اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جو لوگ نیک راہ پر آنے کے قابل ٹھہر چکے ہیں۔ ان کو اللہ تعالیٰ ہر طرح نیک کام سے لگا دیتا ہے۔ اس صورت میں بندوں سے مراد آیت میں عام بندے نہیں ہیں۔ بلکہ جو بندے راہ راست پر آویں وہی بندے مراد ہیں۔ امام المفسرین عبد اللہ (رض) بن عباس (رض) اور مفسرین سلف نے آیت کے یہی معنی کئے ہیں۔ تفسر ابن جریر ١ ؎ وغیرہ میں صحیح سند اس معنی کی حضرت عبد اللہ بن عباس تک پہنچی ہے۔ فرقہ اہل سنت اور فرقہ معتزلہ میں جو چند مسئلوں میں بحث ہے۔ ان میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے معتزلی لوگ یہ کہتے ہیں کہ برا کام اللہ کے ارادہ سے نہیں ہوتا۔ اور اہل سنت یہ کہتے ہیں کہ خدا کی خدائی میں بغیر ارادہ خدا کے کچھ نہیں ہوسکتا لیکن خدا کا ارادہ اور چیز ہے اور ایک چیز پسند کر کے خدا تعالیٰ کا اس کے کرنے کا حکم دینا یہ اور چیز ہے۔ ہر چیز خدا کے ارادہ سے پیدا ہوئی ہے مگر کفر شرک بدعت اور برے کاموں سے خدا نے منع کیا ہے اور نیک کاموں کے کرنے کا خدا نے امر فرمایا ہے۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کا امر بجا لاوے گا اس سے خدا تعالیٰ خوش ہوگا اور اس کو جزا دیوے گا اور جو شخص ان کاموں کو کرے گا جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے تو اس میں اللہ تعالیٰ نے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں یہ تفصیل فرمائی ہے کہ اگر وہ منع کیا ہوا کام شرک ہے تو اس کو خدا تعالیٰ بغیر توبہ کے ہرگز نہ بخشے گا اور سوا شرک کے اور گناہوں کا گناہ گار بغیر توبہ کے مرجاوے گا تو ایسے شخص کی بخشش اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ (١ ؎ صحیح بخاری باب مداراۃ مع النساء ص ٧٧٩ ج ٢) (٢ ؎ تفسیر ہذا جلد اول تفسیر سورة بقرہ ص۔ ) (٣ ؎ جامع ترمذی تفسیر سورة الاعراف ص ١٥٥ ج ٢) (٤ ؎ بخاری شریف کتاب القدر ص ٩٧٦ ج ٢) (٥ ؎ بحوالہ تفسیر ابن کثیر ص ٤٦ ج ٤) (٦ ؎ صحیح مسلم ج ٢ ص ٣١٨ باب تحریم الظلم کتاب البر والصلۃ والادب) (١ ؎ تفسیر الدر المنثور ج ٥ ص ٣٢٣ تفسیر الایۃ المذکورۃ عن تفسیر ابن جرید و ابن المنذر و ابن ابی حاتم و البیہقی فی الاسماء و الصفات)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(39:6) منھا۔ میں ضمیر ھا نفس واحدۃ کی طرف راجع ہے۔ زوجھا۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا جوڑا۔ اس کا مقابل صنف۔ ھا کا مرجع نفس ہے۔ خلقکم من نفس واحدۃ ثم جعل منھا زوجھا۔ اس کا ترجمہ ہوگا :۔ اس نے تمہیں فرد واحد (حضرت آدم علیہ السلام) سے پیدا کیا پھر اسی (فرد واحد سے اس کا جوڑا بنایا۔ اس جملہ میں ثم اس پر دلالت کر رہا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے ان کی اولاد کی پیدائش کے بعد حضرت حوا کو بطور حضرت آدم کے جوڑے کے پیدا کیا گیا۔ یہ امر واقعہ کے خلاف ہے۔ (1) صاحب تفہیم القرآن اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں :۔ یہ مطلب نہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے انسانوں کو پیدا کردیا اور پھر ان کی بیوی حضرت حوا کو پیدا کیا۔ بلکہ یہاں کلام میں ترتیب زمان کی بجائے ترتیب بیان ہے جس کی مثالیں ہر زبان میں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً ہم کہتے ہیں کہ تم نے آج جو کچھ کیا وہ مجھے معلوم ہے پھر جو کچھ تم کل کرچکے ہو اس سے بھی میں باخبر ہوں اس کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا کہ کل کا واقعہ آج کے بعد ہوا ہے۔ (2) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ثم کا عطف خلقکم پر نہیں بلکہ فعل محذوف پر ہے۔ ای خلقکم من نفس واحدۃ خلقھا ثم جعل منھا زوجھا۔ اس نے تمہیں تن واحد سے پیدا کیا۔ (یعنی پہلے) اس نفس واحد کو پیدا کیا پھر اسی سے اس کا جوڑا بنایا۔ اور پھر ان دونوں سے تم لوگوں کو پیدا کیا۔ جیسا کہ اور جگہ ارشاد ہے :۔ خلقکم من نفس واحدۃ وخلق منھا زوجھا وبث منھم رجالا کثیرا ونسائ۔ (4:1) جس نے تم کو ایک تن سے پیدا کیا (یعنی اول) اور اس سے اس کا جوڑا بنایا۔ پھر ان دونوں سے کثرت سے مرد اور عورتیں (پیدا کرکے) پھیلا دیا۔ (3) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ثم تراخی (تاخر) کے لئے ہے اور یہ تراخی زمانی نہیں رتبہ کے لحاظ سے ہے (الترخی الرتبی) مؤخر الذکر (خلق زوج) کو اول الذکر (خلق الناس) پر مرتبہ کے لحاظ سے برتری دیتے ہوئے ادنیٰ کو پہلے اور اعلیٰ کو بعد میں بیان کیا۔ یا اس کے برعکس۔ اول الذکر کو اعلیٰ گردانتے ہوئے پہلے ذکر کیا اور مؤخر الذکر کو دوسرے مرتبے پر رکھتے ہوئے بعد میں بیان کیا۔ انزل : ای قضی اوقسم لکم : تمہارے لئے فیصلہ کر دئیے یا تمہارے حصہ میں کر دئیے۔ مطلب تمہارے لئے پیدا کر دئیے خلقا من بعد خلق۔ ردریحا ایک حالت سے دوسری حالت میں۔ ایک کیفیت سے دوسری کیفیت میں۔ ایک تغیر کے بعد دوسرا تغیر۔ جو شخص بھی جنین کے تغیرات سے واقف ہے اس پر روشن ہے کہ نو مہینہ تک کتنے تغیرات ہر روز وقوع پذیر ہوتے رہتے ہیں۔ ظلمت ثلث : تین تاریکیوں (کے اندر) ۔ (1) پیٹ کی تاریکی۔ (2) رحم کی تاریکی۔ (3) رحم کے اندر کی جھلی کا اندھیرا۔ جس میں بچہ کی تخلیق مکمل ہوتی ہے۔ اسے مشیمۃ کہتے ہیں۔ جھلی جس میں پیدائش کے وقت بچہ لپٹا ہوتا ہے۔ ذلک اللّٰہ ربکم لہ الملک لا الہ الا ھو : ذلکم یعنی یہ تمام کام کرنے والا۔ (جو اوپر مذکور ہیں) مبتداء ہے۔ اللّٰہ خبر اول۔ ربکم خبر دوم لہ الملک خبر سوم لاالہ الاھو خبر چہارم۔ یہی ہے تمہارا رب اسی کی حکومت ہے اور کوئی خدا بجز اس کے نہیں ہے۔ فانی تصرفون الفاء سببیہ انی بمعنی کیف او این۔ کیسے ؟ کہاں ؟ استفہام تعجبی ہے۔ سو (تعجب ہے کہ اس واضح و مکمل بیان کے بعد) تم کہاں (حق سے پھرے جا رہے ہو۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 یعنی حضرت حوا ( علیہ السلام) اس آیت میں لفظ ” ثم “ پھر ترتیب بیانی کیلئے نہ کہ ترتیب زمانی کیلئے بعنی مطلب یہ ہے کہ اس نے تمہیں ایک ایسے شخص سے بنایا جس کو اس نے ایک پیدا کیا وہ پھر اس سے اس کا جوڑ انکالا ( دیکھئے سورة نساء آیت)8 جن کا ذکر سورة ٔ انعام میں گزر چکا ہے یعنی اونٹ، گائے، بکری اور بھیڑ ان کے چار نر اور چار مادہ مل کر آٹھ طرح کے جانور ہوجاتے ہیں اور نر اور مادہ میں ہر ایک دوسرے کا زوج ہے۔ (ابن کثیر)9 پہلے نطفہ، پھر خون کا لوتھڑا پھر گوشت کا ٹکڑا پھر ہڈی اور وہ شکل جس میں بچہ پیدا ہوتا ہے۔10 ایک پیٹ کا اندھیرا دوسرا رحم کا اندھیرا اور تیسرا مشیمہ یعنی اس جھلی کا اندھیر جس میں بچہ لپٹا رہتا ہے۔11 یعنی اسے چھوڑ کر یا اس کے ساتھ دوسروں کو اپنا معبود بنا رہے ہو جبکہ نہ تمہیں پیدا کرنے میں ان کا کوئی دخل ہے اور نہ زمین و آسمان کی بادشاہی میں ان کا کوئی حصہ ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ مراد اس سے حوا ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : تخلیق کا ئنات کے ذکر کے بعد انسان اور چوپاؤں کی تخلیق کا بیان۔ اے لوگو ! جس ” اللہ “ نے زمین و آسمانوں کو پیدا کیا، لیل و نہار کا نظام ترتیب دیا اور سورج، چاند کو تمہاری خدمت پر لگایا۔ اسی نے تمہیں آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا اور آدم (علیہ السلام) سے اس کی بیوی حوا [ کو پیدا کیا۔ پھر تمہیں تمہاری ماؤں کے بطنوں میں تین اندھیروں میں پیدا کرتا ہے۔ یہ ہے تمہارا ” اللہ “ جس نے تمہیں پیدا کیا اور وہی تمہاری ہر قسم کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔ اسی کی بادشاہی ہے اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسے چھوڑ کر تم کہاں بھٹک رہے ہو۔ اسی نے تمہارے لیے آٹھ قسم کے چوپائے پیدا فرمائے۔ کچھ کو تم بار برداری اور سواری کے لیے استعمال کرتے ہو، کچھ کا دودھ پیتے اور گوشت کھاتے ہو، ان سے اور بھی فوائد حاصل کرتے ہو۔ چوپاؤں کے لیے ” اَنْزَلَ “ کا لفظ استعمال فرمایا ہے جس کے مفسرین نے تین معانی سمجھے ہیں۔ 1” اَنْزَلَ “ بمعنٰی پیدا کرنا 2 اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں چوپاؤں کو جنت میں پیدا فرمایا پھر ان کی نسل کو زمین پر اتار دیا۔ 3 انسان اور ہر جاندار چیز کا رزق زمین سے وابستہ ہے جسے پیدا کرنے کے لیے پانی کی ضرورت ہے اور پانی کا بنیادی تعلق آسمان یعنی بارش کے ساتھ ہے اس لیے مجازاً چوپاؤں کے لیے ” اَنْزَلَ “ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ آٹھ چوپائے : بھیڑ اور بکری، گائے اور اونٹ، جو جنس کے اعتبار سے جوڑا، جوڑا ہیں اور ان کی تعداد آٹھ بنتی ہے۔ تخلیق انسان کے مختلف مراحل اور مقام : ” پھر ہم نے اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوند میں تبدیل کیا۔ پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی پھر لوتھڑے کو بوٹی بنایا۔ پھر بوٹی سے ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت چڑھایا پھر اسے ایک دوسری شکل میں بناکھڑا کیا۔ بڑا ہی بابرکت ہے اللہ سب کاریگروں سے بہترین۔ “ [ المؤمنون : ١٣۔ ١٤] (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ حَدَّثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وَھُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوْقُ قَالَ إِنَّ أَحَدَکُمْ یُجْمَعُ خَلْقُہٗ فِیْ بَطْنِ أُمِّہٖ أَرْبَعِیْنَ یَوْمًانُطْفَۃً ثُمَّ یَکُوْنُ عَلَقَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَکُوْنُ مُضْغَۃً مِثْلَ ذٰلِکَ ثُمَّ یَبْعَثُ اللّٰہُ مَلَکًا فَیُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ کَلِمَاتٍ وَیُقَالُ لَہٗ أُکْتُبْ عَمَلَہٗ وَرِزْقَہٗ وَأَجَلَہٗ وَشَقِیٌّ أَوْ سَعِیْدٌ ثُمَّ یُنْفَخُ فِیْہِ الرُّوْحُ ) [ رواہ البخاری : کتاب بدء الخلق، باب ذکر الملائکۃ ] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں صادق و مصدوق رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان فرمایا کہ تم میں سے ہر کوئی اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن ٹھہرتا ہے اور جما ہوا خون بن جاتا ہے پھر چالیس دن بعد گوشت کا لوتھڑا بن جاتا ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرشتہ بھیجتے ہیں اس اس کا عمل، رزق، موت، نیک یا بد ہونا لکھنے کا حکم ہوتا ہے پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ “ تین اندھیرے : 1 ماں کے پیٹ کا اندھیرا 2 پیٹ میں رحم کا اندھیرا 3 رحم میں اس جھلی کا اندھیرا جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو آدم (علیہ السلام) سے پیدا فرمایا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے حوا [ کو حضرت آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا۔ ٣۔ ہر انسان کی تخلیق تین اندھیروں میں ہوتی ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے آٹھ چوپائے پیدا فرمائے۔ ٥۔ اللہ ہی سب کو پیدا کرنے والا ہے اور وہی سب کا مالک ہے۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کوئی ضرورتیں پوری کرنے والا ہے۔ ٧۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت کرنے اور اس کو حاجت روا ماننے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 6 انسان جب اپنے نفس پر غور کرتا ہے ، اس نفس پر جسے اس نے خود پیدا نہیں کیا اور وہ اس کی تخلیق کے آغاز کے بارے میں بھی خود نہیں جانتا ۔ صرف وہی معلومات اس کے پاس ہیں جو اللہ خالق نے دیئے ہیں۔ انسان کا نفس ایک ہے ، اس کی ذات ایک ہے۔ اس کی اس ذات اور نفس کے خصائص ایک ہیں اور اس نفس انسانی کے بعض خصائص دوسری مخلوقات سے باکل جدا ہیں۔ جس طرح نفس انسانی کے تمام افراد ایک مخصوص دائرے کے اندر محدود اور متمیز ہیں۔ اسی طرح ” نفس انسانی “ ان اربوں افراد کے درمیان ایک ہے جو اس زمین میں منتشر ہیں یا رہتے ہیں۔ اسی نفس واحد سے پھر اس کا جوڑا یا بیوی بھی پیدا ہوئی۔ تمام انسانی خصوصیات کے اندر عورت مرد کے ساتھ شریک ہے۔ اگرچہ تفصیلی خصوصیات مختلف ہیں لیکن بنیادی خصوصیات ایک ہی ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مردو عورت کی ساخت ایک ہی نقشے کے مطابق ہے۔ اسی نقشے کے اندر بعض ترمیمات کی وجہ سے مرد اور عورت الگ الگ ہوگئے ۔ ایک ہی ارادہ ہے جو مرد اور عورت کو الگ کرتا ہے۔ نفس انسانی کے اندر مرد و عورت کے اختلافات کے حوالے اور مناسبت سے یہاں دوسرے حیوانات کی اہم اجناس کے نرومادہ کے نظام کیطرف بھی اشارہ کردیا گیا کہ اس پوری کائنات میں اور انسانوں کے علاوہ دوسرے حیوانات میں بھی حق جاری ہے وانزل لکم من الانعام ثمٰنیة ازواج (39: 6) ” اور اسی نے تمہارے لیے مویشیوں میں سے آٹھ نرو مادہ پیدا کیے “۔ یہ آٹھ جانور نرومادہ جس طرح دوسری آیات میں آئے ہیں ، بھیڑ ، بکریاں ، ڈنگر اور اونٹ ہیں۔ یعنی نرومادہ کے شمار سے آٹھ بنتے ہیں۔ اور جب نرومادہ کو جمع کیا جائے تو ان پر ازواج یعنی جوڑوں کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یوں مجموعہ بن جاتا ہے۔ انداز بیان یہ بتاتا ہے کہ اللہ نے ان کو نازل کیا ہے یعنی پیدا کرکے تمہارے لیے مسخر کیا ہے۔ یہ تسخیر اللہ کی طرف سے منزل ہے۔ یعنی اللہ کے علوشان کا یہ کارنامہ ہے اور اس اللہ نے اس کی اجازت دی ہے کہ انسان ان آٹھ قسم کے جانوروں کو گوشت استعمال کرے۔ جانوروں میں نرومادہ کی خصوصیات کے تذکرے کے بعد پھر ماؤں کے پیٹ میں پائے جانے والے جنین کے مختلف مراحل کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔ یخلقکم فی۔۔۔ بعد خلق (39: 6) ” پھر وہ ماؤں کے پیٹوں میں تخلیق کے بعد تخلیق کرتا چلا جاتا ہے “۔ پہلے نطفہ ، پھر لوتھڑا ، پھر گوشت کا قطعہ ، پھر ہڈیاں ، پھر واضح شکل اور آخر میں اس کے اندر انسانی حواس کا پیدا کرنا اور انسانی خصوصیات کا پیدا کرنا۔ فی ظلمٰت ثلث (39: 6) ” تین تین تاریک پردوں کے اندر “۔ پہلے اس پردے کی تاریکی جس کے اندر جنین ہوتا ہے ، رحم کی م اور کی ظلمت جس کے اندر وہ ملفوف ہوتا ہے اور پھر ماں کا پیٹ جس کے اندر رحم ہوتا ہے اور اللہ کا دست قدرت اس ذرے کو روز بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ اور یہ دست قدرت روزا سے بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ پھر اس کی شکل و صورت بدلتی جاتی ہے۔ یہ ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔ اللہ اس مخلوق کی نگرانی کرتا ہے اور اسے بڑھنے کی طاقت دیتا ہے۔ اور یوں شکل بدلنا اس کے لیے ممکن ہوتا ہے۔ یہ قدم بقدم آگے جاتا ہے۔ اللہ کی تقدیر اور اندازے کے مطابق ۔ انسان کے اس مختصر سفر اور اس کے اندر اس کی ساخت کی ان دور رس تبدیلیوں پر ایک نظر ڈالنے اور ان تغیرات کو غور سے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر پائی جانے والی عجیب و غریب ضصوصیات کی کارفرمائی اور راہنمائی میں اس کمزور ترین اور خوردبینی خلیے نے جس انداز سے ترقی کی ، ان اندھیروں میں اور اس عجیب انداز میں ، تو انسان کو یقین ہوجاتا ہے کہ یہ سب باتیں انسان کے علم وبصیرت اور اس کی قدرت سے وراء ہیں۔ یہ تمام حقائق اس بات کے لیے کافی ہیں کہ انسان کو خالق کائنات کی معرفت پر مجبور کریں۔ اور انسان خالق کائنات کو اس کے ان زندہ آثار کے ذریعے پہچان لے اور اس تخلیق کے اندر جو وحدانیت ہے۔ اس کے آثار بالکل ظاہر و باہر ہیں اور کوئی سوچنے والا انسان کس طرح ان سے صرف نظر کرسکتا ہے۔ ذٰلکم اللہ ربکم له الملک لا اله الاھوفانیٰ نصرفون (39: 6) ” یہی تمہارا رب ہے بادشاہی اسی کی ہے کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے پھر تم کدھر جارہے ہو ؟ “ اللہ وحدہ کی ان نشانیوں کو دیکھتے ہوئے ، اللہ کی بےقید قدرت کے ان نشانات کو ملاحظہ کرتے ہوئے یہاں لوگوں کو خود اپنے طرز عمل پر خود کرنے کے لیے ذرا کھڑا کیا جاتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اب تمہارے سامنے صرف دو راستے ہیں۔ شکر کی راہ اور کفر کی راہ اور جو راہ بھی تم اختیار کرو گے اس کے سارے نتیجے کی ذمہ رادی انفرادی ہے۔ اور اشارہ دے دیا جاتا کہ وقت قریب ہے ۔ دنیا کا یہ مرحلہ ختم ہونے والا ہے۔ پھر حساب و کتاب ہوگا اور یہ حساب و کتاب وہ ذات لے گی جس نے تمہیں تین تاریک ترین پردوں کے اندر سے نکال کر ذمہ راد بنایا ہے۔ اور وہ اب تمارے دلوں کی خفیہ ترین باتوں کو بھی جانتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اس کے بعد ارشاد فرمایا (خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَۃٍ ) (اللہ نے تمہیں ایک جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے پیدا کیا) (ثُمَّ جَعَلَ مِنْہَا زَوْجَہَا) (پھر اسی جان سے ان کا جوڑا بنا دیا) یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی انسیت کے لیے حضرت حواء کو پیدا فرمایا ان کی پیدائش حضرت آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے فرما دی اور دونوں کی نسل دنیا میں پھیلا دی جو کروڑوں کی تعداد میں موجود ہے۔ (وَاَنْزَلَ لَکُمْ مِّنَ الْاَنْعَامِ ثَمَانِیَۃَ اَزْوَاجٍ ) (اور تمہارے لیے چوپایوں میں سے آٹھ قسمیں پیدا فرما دی ہیں) آٹھ قسموں سے اونٹ، گائے، بھیڑ اور بکری کے جوڑے نر اور مادہ مراد ہیں جیسا کہ سورة الانعام میں آٹھوں قسموں کا تذکرہ گزر چکا ہے۔ (یَخْلُقُکُمْ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّہَاتِکُمْ خَلْقًا مِنْ بَعْدِ خَلْقٍ ) (وہ ماؤں کے پیٹ میں تمہاری ایک پیدائش کے بعد دوسری پیدائش فرماتا ہے) یعنی نطفہ کو علقہ یعنی جما ہوا خون لوتھڑے کی شکل میں بنا دیتا ہے پھر اسے مضغتہ یعنی بوٹی بنا دیتا ہے پھر اس کو ہڈیاں بنا دیتا ہے پھر ان ہڈیوں پر گوشت چڑھا دیتا ہے۔ (فِیْ ظُلُمَاتٍ ثَلاَثٍ ) (یہ ساری تخلیق تین اندھیروں میں ہوتی ہے) ایک اندھیری ماں کے پیٹ کی دوسری رحم کی تیسری اس جھلی کی جس میں بچہ لپٹا ہوا ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور علم کامل پر دلالت کرتا ہے (ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمْ ) (یہ ہے اللہ تمہارا رب) (لَہٗ الْمُلْکُ ) (اسی کی سلطنت ہے) (لَآ اِِلٰہَ اِِلَّا ھُوَ ) (اس کے سوا کوئی معبود نہیں) (فَاَنَّی تُصْرَفُوْنَ ) (سو تم کہاں پھرے جا رہے ہو) حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف رخ کیے ہوئے ہو خالق کائنات جل مجدہٗ کی توحید سے منہ موڑ کر شرک میں مبتلا ہو رہے ہو جس نے تمہیں تین تاریک کوٹھڑیوں میں پیدا فرمایا اس کی توحید سے منہ موڑ کر غیروں کو لائق عبادت سمجھنا کیا یہ تمہاری حماقت نہیں ہے ؟

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

9:۔ ” خلقکم الخ “ یہ دوسری عقلی دلیل ہے اول سے علی سبیل الترقی۔ یعنی اس نے صرف زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے بلکہ تمہارا خالق بھی وہی ہے اپنی پیدائش میں غور و فکر کرو کہ کس کمال قدرت اور حسن تدبیر سے اس نے تمہاری ابتداء ایک جان (حضرت آدم علیہ السلام) سے فرمائی۔ اور پھر بشری سلسلہ نسل کو زوجین کے ذریعے سے آگے بڑھایا۔ پھر رحم مادر میں نطفہ سے لے کر کمال تخلیق تک جو مختلف احوال پیش آتے ہیں ان میں سے ہر ایک اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت کی دلیل ہے۔ پھر اس نے تمہارے فائدے کی خاطر مختلف انواع و اقسام کے چوپائے پید فرمائے۔ جن کا تم گوشت کھاتے، دودھ پیتے اور بعض سے اس کے علاوہ سواری اور بار برداری کا کام بھی لیتے ہو۔ وہ اللہ جس نے محض اپنی مہربانی سے اور اپنی قدرت کاملہ سے یہ سب کچھ کیا ہے وہی ساری کائنات کا مالک اور وہی تمہارا معبود برحق ہے اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ ” من نفس واحدۃ “ حضرت آدم علیہ السلام۔ ” منہا “ ضمیر ” نفس واحدۃ “ کی طرف راجع ہے اور اس کا مضاف مقدر ہے۔ ای من جنسہا یعنی جنسِ آدم و بشر ہی سے اس کا جوڑا پیدا فرمایا۔ ” و انزل “ قال سعید بن جبیر خلق (قرطبی) ۔ ” ثمٰنیۃ ازواج “ چوپایوں کی یہ آٹھ انواع سورة انعام میں مفصل گذر چکی ہیں۔ یعنی ” ابل “ (اونٹ، اونٹنی) ، ” بقر “ (گائے، بیل، بھینس، بھینسا بھی بقر میں داخل ہیں) ، ” ضان “ (دنبی دنبہ اور بھیڑ مینڈھا) ، ” معز “ (بکری، بکرا) ۔ ” خلقا من بعد خلق “ ، نطفہ سے علقہ (خون منجمد) علقہ سے مضغہ (بوٹی) مضغہ سے عظام (ہڈیا) اور پھر اس ڈھانچے سے انسان تام الخلقہ اس کی تفصیل سورة مومنون رکوع 1 میں مذکور ہے۔ ” فی ظلمٰت ثلث “ ، تینوں اندھیروں سے پیٹ، رحم اور مشیمہ ( وہ پردہ جس میں جنبین محفوظ ہوتا ہے) کے اندھیرے مراد ہیں (روح، جامع وغیرہما) ۔ 10:۔ ” ذلکم اللہ الخ “ یہ تنبیہ ہے۔ اور دلائل مذکورہ کا اجمالاً استحضار ہے تاکہ اس پر آئندہ حکم اور ثمرہ مرتب ہوسکے۔ صفات بالا سے متصف ذات بابرکات ہی تمہار رب اور مالک اور اس کائنات میں اور خود تمہارے اندر وہی متصرف ہے۔ ” لا الہ الا ھو “ یہ دلائل سابقہ کا ثمرہ ہے۔ جب سب کا خالق ومالک اور سارے عالم میں متصرف و مختار وہی ہے اور کوئی نہیں تو عبادت کے لائق بھی اس کے سوا اور کوئی نہیں۔ لہذا ہر قسم کی عبادت صرف اسی کے لیے بجا لاؤ۔ ” فانی توفکون “ پھر اس بیان شافی کے بعد کس دلیل سے اللہ کی خالص عبادت سے پھرے جاتے ہو اور غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو ؟ یعنی دلائل عقلیہ تو اللہ کی وحدانیت پر قائم ہیں۔ اس لیے تمہارا شرک کرنا محض بےدلیل ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(6) اسی نے تم کو پیدا کیا ایک نفس واحدہ سے اور اسی نے اس نفس واحدہ سے اس کا جوڑا بنایا اور اسی نے تمہارے لئے چوپایوں میں سے آٹھ جوڑے یعنی نرمادہ پیدا کئے وہی تم کو تمہارے مائوں کے پیٹ میں بتدریج ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت کے بعد تیسری کیفیت پر تین تاریکیوں میں بناتا ہے وہی اللہ تعالیٰ تو تمہارا پروردگار ہے اسی کی سلطنت اور اسی کا راج ہے اس کے سوا کوئی دوسرا عبادت کے لائق نہیں ہے تو پھر اب تم کہاں پھرے چلے جارہے ہو۔ یعنی نفس واحدہ حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور ان سے ان کا جوڑا یعنی حضرت حوا کو بنایا اور ان دونوں سے اولاد آدم کا سلسلہ شروع ہوا۔ چوپایوں کا ذکر آٹھویں پارے میں مفصلاً گزر چکا ہے مرادان سے بیل اونٹ بکری اور بھیڑیں ہیں چونکہ انسانی زندگی میں یہ چوپائے بہت ضروری ہیں اس لئے فرمایا۔ انزل لکم چونکہ ہرچیز کی پیدائش کے اسباب آسمان سے ہی ہوتے ہیں اس لئے شاید انزل فرمایا۔ ہم نے ترجمے میں پیدا کئے کیا ہے پھر عام انسانی پیدائش کا ذکر فرمایا کہ اس نے تمہاری مائوں کے پیٹ میں مختلف کیفیات کے ساتھ پیدا کیا یعنی پہلے نطفہ پھر خون پھر لوتھڑا وغیرہ۔ وقد خلقکم اطوارا۔ تین تاریکیوں سے مراد ماں کا پیٹ رحم اور شیمہ یعنی جھلی جو بجے کے ساتھ نکلتی ہے۔ پیدائش کا یہ سلسلہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ جو پروردگار ان صفات عامہ سے متصف ہے وہی تو تمہارا پروردگار اور رب ہے اسی کی ہر جگہ حکومت ہے اس کے سوا کوئی دوسرا لائق عبادت نہیں پھر تم راہ حق معلوم کرلینے کے بعد کہاں پھرے جاتے ہو اور منہ پھیر کر بھاگ جاتے ہو۔