Surat uz Zumur

Surah: 39

Verse: 67

سورة الزمر

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدۡرِہٖ ٭ۖ وَ الۡاَرۡضُ جَمِیۡعًا قَبۡضَتُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ وَ السَّمٰوٰتُ مَطۡوِیّٰتٌۢ بِیَمِیۡنِہٖ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۶۷﴾

They have not appraised Allah with true appraisal, while the earth entirely will be [within] His grip on the Day of Resurrection, and the heavens will be folded in His right hand. Exalted is He and high above what they associate with Him.

اور ان لوگوں نے جیسی قدر اللہ تعالٰی کی کرنی چاہیے تھی نہیں کی ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے ، وہ پاک اور برتر ہے ہر اس چیز سے جسے لوگ اس کا شریک بنائیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Idolators did not make a just Estimate of Allah such as is due to Him Allah states; وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ ... ... وَالاْاَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ They made not a just estimate of Allah such as is due to Him. means, the idolators did not give Allah His due when they worshipped others alongside Him. He is the Almighty, and there is none mightier than Him; He is the One Who is able to do all things; He is the Owner of all things and everything is under His control and power. Mujahid said, "This was revealed concerning Quraysh." As-Suddi said, "They did not venerate Him as He deserves to be venerated." Muhammad bin Ka`b said, "If they had made a just estimate of Allah such as is due to Him, they would not have lied." Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, said: وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ (They made not a just estimate of Allah such as is due to Him), "These are the disbeliever who did not believe that Allah had power over them. Whoever believes that Allah is able to do all things, has made a just estimate of Allah such as is due to Him, and whoever does not believe that, has not made a just estimate of Allah such as is due to Him." Many Hadiths have been narrated concerning this Ayah and how it and other Ayat like it are to be interpreted and accepted without any attempts to twist or change the meaning. Concerning the Ayah, وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ (They made not a just estimate of Allah such as is due to Him), Al-Bukhari recorded that Abdullah bin Mas`ud, may Allah be pleased with him, said, "One of the rabbis came to the Messenger of Allah and said, `O Muhammad! We learn that Allah will put the heavens on one finger, the earths on one finger, the trees on one finger, the water and dust on one finger, and the rest of creation on one finger, then He will say: I am the King.' The Messenger of Allah smiled so broadly that his molars could be seen, in confirmation of what the rabbi had said. Then the Messenger of Allah recited: وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالاْاَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ... They made not a just estimate of Allah such as is due to Him. And on the Day of Resurrection the whole of the earth will be grasped by His Hand." Al-Bukhari also recorded this in other places of his Sahih. It was also recorded by Imam Ahmad and Muslim, and by At-Tirmidhi and An-Nasa'i in the (books of) Tafsir in their Sunans. Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said, "I heard the Messenger of Allah say: يَقْبِضُ اللهُ تَعَالَى الاَْرْضَ وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الاَْرْضِ Allah will grasp the earth and roll up the heavens in His Right Hand, then He will say: "I am the King, where are the kings of the earth."" This version was recorded only by Al-Bukhari; Muslim recorded another version. Al-Bukhari also recorded from Ibn Umar, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah said: إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْبِضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الاَْرَضِينَ عَلَى أُصْبُعٍ وَتَكُونُ السَّموَاتُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِك On the Day of Resurrection, Allah, may He be blessed and exalted, will grasp the earth with one finger, and the heavens will be in His Right Hand, then He will say, "I am the King." This version was also recorded by Al-Bukhari. It is recorded that Ibn Umar, may Allah be pleased with him, said, "The Messenger of Allah recited this Ayah on the Minbar one day: وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالاَْرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ They made not a just estimate of Allah such as is due to Him. On the Day of Resurrection the whole earth will be grasped by His Hand and the heavens will be rolled up in His Right Hand. Glorified be He, and High be He above all that they associate as partners with Him! The Messenger of Allah said while moving his hand forward and backward: يُمَجِّدُ الرَّبُّ نَفْسَهُ أَنَا الْجَبَّارُ أَنَا الْمُتَكَبِّرُ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْعَزِيزُ أَنَا الْكَرِيم And the Lord will glorify Himself, saying "I am Compeller, I am the Proud, I am the King, I am the Mighty, I am the Most Generous." And the Minbar shook so much that we feared that the Messenger of Allah would fall." This was also recorded by Muslim, An-Nasa'i and Ibn Majah.

زمین و آسمان اللہ کی انگلیوں میں ۔ مشرکین نے دراصل اللہ تعالیٰ کی قدر و عظمت جانی ہی نہیں اسی وجہ سے وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگے ، اس سے بڑھ کر عزت والا اس سے زیادہ بادشاہت والا اس سے بڑھ کر غلبے اور قدرت والا کوئی نہیں ، نہ کوئی اس کا ہمسر اور کرنے والا ہے ۔ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ انہیں اگر قدر ہوتی تو اس کی باتوں کو غلط نہ جانتے ۔ جو شخص اللہ کو ہر چیز پر قادر مانے ، وہ ہے جس نے اللہ کی عظمت کی اور جس کا یہ عقیدہ نہ ہو وہ اللہ کی قدر کرنے والا نہیں ۔ اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں آئی ہیں ۔ اس جیسی آیتوں کے بارے میں سلف صالحین کا مسلک یہی رہا ہے کہ جس طرح اور جن لفظوں میں یہ آئی ہے اسی طرح انہی لفظوں کے ساتھ انہیں مان لینا اور ان پر ایمان رکھنا ۔ نہ ان کی کیفیت ٹٹولنا نہ ان میں تحریف و تبدیلی کرنا ، صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ یہودیوں کا ایک بڑا عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہم یہ لکھا پاتے ہیں کہ اللہ عزوجل ساتوں آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور سب زمینوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور درختوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوق کو ایک انگلی پر رکھ لے گا پھر فرمائے گا میں ہی سب کا مالک اور سچا بادشاہ ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات کی سچائی پر ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کے مسوڑھے ظاہر ہوگئے ۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی ۔ مسند کی حدیث بھی اسی کے قریب ہے اس میں ہے کہ آپ ہنسے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور روایت میں ہے کہ وہ اپنی انگلیوں پر بتاتا جاتا تھا پہلے اس نے کلمے کی انگلی دکھائی تھی ۔ اس روایت میں چار انگلیوں کا ذکر ہے ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے اللہ تعالیٰ زمین کو قبض کرلے گا اور آسمان کو اپنی داہنی مٹھی میں لے لے گا ۔ پھر فرمائے گا میں ہوں بادشاہ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟ مسلم کی اس حدیث میں ہے کہ زمینیں اس کی ایک انگلی پر ہوں گی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں ہوں گے پھر فرمائے گا میں ہی بادشاہ ہوں ۔ مسند احمد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور آپ اپنا ہاتھ ہلاتے جاتے آگے پیچھے لا رہے تھے اور فرماتے تھے اللہ تعالیٰ اپنی بزرگی آپ بیان فرمائے گا کہ میں جبار ہوں میں متکبر ہوں میں مالک ہوں میں باعزت ہوں میں کریم ہوں ۔ آپ اس کے بیان کے وقت اتنا ہل رہے تھے کہ ہمیں ڈر لگنے لگا کہ کہیں آپ منبر سمیت گر نہ پڑیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی پوری کیفیت دکھا دی کہ کس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکایت کیا تھا ؟ کہ اللہ تبارک و آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا اور فرمائے گا میں بادشاہ ہوں ۔ اپنی انگلیوں کو کبھی کھولے گا کبھی بند کرے گا اور آپ اس وقت ہل رہے تھے یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہلنے سے سارا منبر ہلنے لگا اور مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گرا نہ دے ۔ بزار کی رویت میں ہے کہ آپ نے یہ آیت پڑھی اور منبر ہلنے لگا پس آپ تین مرتبہ آئے گئے واللہ اعلم ۔ معجم کبیر طبرانی کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی ایک جماعت سے فرمایا میں آج تمہیں سورۃ زمر کی آخری آیتیں سناؤں گا جسے ان سے رونا آگیا وہ جنتی ہوگیا اب آپ نے اس آیت سے لے کر ختم سورۃ تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں بعض روئے اور بعض کو رونا نہ آیا انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ہر چند رونا چاہا لیکن رونا نہ آیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا میں پھر پڑھوں گا جسے رونا نہ آئے وہ رونی شکل بناکر بہ تکلف روئے ۔ ایک اس سے بڑھ کر غریب حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے تین چیزیں اپنے بندوں میں چھپالی ہیں اگر وہ انہیں دیکھ لیتے تو کوئی شخص کبھی کوئی بدعملی نہ کرتا ۔ ( ١ ) اگر میں پردہ ہٹا دیتا اور وہ مجھے دیکھ کر خوب یقین کرلیتے اور معلوم کرلیتے کہ میں اپنی مخلوق کے ساتھ کیا کچھ کرتا ہوں جبکہ ان کے پاس آؤں اور آسمانوں کو اپنی مٹھی میں لے لوں پھر اپنی زمین کو اپنی مٹھی میں لے لوں پھر کہوں میں بادشاہ ہوں میرے سوا ملک کا مالک کون ہے؟ ( ٢ ) پھر میں انہیں جنت دکھاؤں اور اس میں جو بھلائیاں ہیں سب ان کے سامنے کردوں اور وہ یقین کے ساتھ خوب اچھی طرح دیکھ لیں ۔ ( ٣ ) اور میں انہیں جہنم دکھا دوں اور اس کے عذاب دکھا دوں یہاں تک کہ انہیں یقین آ جائے ۔ لیکن میں نے یہ چیزیں قصداً ان سے پوشیدہ کر رکھی ہیں ۔ تاکہ میں جان لوں کہ وہ مجھے کس طرح جانتے ہیں کیونکہ میں نے یہ سب باتیں بیان کردی ہیں ۔ اس کی سند متقارب ہے اور اس نسخے سے بہت سی حدیثیں روایت کی جاتی ہیں ۔ واللہ اعلم ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

کیونکہ اس کی بات بھی نہیں مانی جو اس نے پیغمبروں کے ذریعے سے ان تک پہنچائی تھی اور عبادت بھی اس کے لیے خالص نہیں کی بلکہ دوسروں کو بھی اس میں شریک کرلیا حدیث میں آتا ہے کہ ایک یہودی عالم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور کہا کہ ہم اللہ کی بابت کتابوں میں یہ بات پاتے ہیں کہ وہ قیامت والے دن آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور فرمائے گا میں بادشاہ ہوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسکرا کر اس کی تصدیق فرمائی اور آیت وما قدروا اللہ کی تلاوت فرمائی صحیح بخاری تفسیر سورة زمر محدثین اور سلف کا عقیدہ ہے کہ اللہ کی جن صفات کا ذکر قرآن اور احادیث صحیحہ میں ہے جس طرح اس آیت میں ہاتھ کا اور حدیث میں انگلیوں کا اثبات ہے ان پر بلا کیف و تشبیہ اور بغیر تاویل و تحریف کے ایمان رکھنا ضروری ہے اس لیے یہاں بیان کردہ حقیقت کو مجرد غلبہ وقوت کے مفہوم میں لینا صحیح نہیں ہے۔ 67۔ 1 اس کی بابت بھی حدیئث میں آتا ہے کہ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا اَنَا المُلْکُ ، اَیْنَ مُلُوک الاٰرْضِ ' میں بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ (آج کہاں ہیں ؟ '

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٨٣] یعنی جن مشرکوں نے آپ کو بتوں کو سجدہ کرنے کا مشورہ دیا تھا، ان کم بختوں نے یہ سمجھا ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا مقام کس قدر ارفع و اعلیٰ ہے ان کو اللہ کی عظمت وکبریائی کا کچھ بھی اندازہ نہیں۔ بھلا اللہ کے مقابلہ میں یہ بتوں جیسی حقیر ہستیاں کیا شے ہیں۔ اگر انہیں اللہ کی عظمت اور اس کے مقام کا کچھ اندازہ ہوتا تو ایسی نادانی کی بات کبھی نہ کہتے۔ [٨٤] قیامت کے دن اللہ کا دنیا کے بادشاہوں سے خطاب :۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور کبریائی اور پوری کائنات پر کلی تصرف کا یہ حال ہے کہ اس کائنات کی ہر چیز اس کے ہاتھ میں بالکل بےبس ہے اور اسی مضمون کی تفسیر درج ذیل احادیث بھی پیش کرتی ہیں : ١۔ سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے آپ کو یہ فرماتے سنا کہ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) زمین کو ایک مٹھی میں لے لے گا اور آسمانوں کو اپنے داہنے ہاتھ میں لپیٹ لے گا۔ پھر فرمائے گا :&& میں بادشاہ ہوں (آج) زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟ && (بخاری۔ کتاب التفسیر) ٢۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ یہودیوں کا ایک عالم آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا : محمد ! ہم (اپنی کتابوں میں یہ لکھا ہوا) پاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ (قیامت کے دن) آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمینوں کو ایک انگلی پر، درختوں کو ایک انگلی پر، پانی اور گیلی مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوق کو ایک انگلی پر اٹھالے گا پھر فرمائے گا :&& میں بادشاہ ہوں && یہ سن کر آپ اتنا ہنسے کہ آپ کی کچلیاں ظاہر ہوگئیں۔ آپ نے اس عالم کے قول کی تصدیق کی۔ پھر یہی آیت پڑھی ( وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 67؀) 39 ۔ الزمر :67) تاآخر (بخاری۔ کتاب التفسیر) گویا مشرکوں کے سب معبود بھی اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں ہوں گے۔ جنہیں آج یہ اللہ کا ہمسر قرار دے رہے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ : یعنی جن لوگوں نے غیر اللہ کی عبادت کی، یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مطالبہ کیا کہ غیر اللہ کی عبادت کریں، انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عظمت وکبریائی کا اندازہ ہی نہیں کیا کہ اس کا مقام کس قدر بلند ہے اور اس کے سامنے وہ تمام ہستیاں جن کی وہ عبادت کر رہے ہیں، کس قدر حقیر اور بےبس ہیں، ورنہ وہ کبھی ایسا نہ کرتے۔ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ ۔۔ : یعنی اللہ تعالیٰ کی عظمت کا حال تو یہ ہے کہ قیامت کے دن پوری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں کاغذ کی طرح لپیٹے ہوئے ہوں گے، جیسا کہ فرمایا : (يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاۗءَ كَـطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ ) [ الأنبیاء : ١٠٤ ] ” جس دن ہم آسمان کو کاتب کے کتابوں کو لپیٹنے کی طرح لپیٹ دیں گے۔ “ 3 کچھ لوگ اللہ تعالیٰ کے قیامت کے دن زمین کو مٹھی میں لینے کو اور آسمانوں کو دائیں ہاتھ میں لپیٹنے کو اور قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں اللہ تعالیٰ کے متعلق آنے والے اس طرح کے الفاظ کو نہیں مانتے اور ان سب کی ایسی تاویل کرتے ہیں جو درحقیقت انکار ہے۔ ان کے کہنے کے مطابق اللہ تعالیٰ کے عرش پر ہونے کا مطلب اس کی حکومت ہے (انھیں اس سے غرض نہیں کہ قیامت کو آٹھ فرشتوں کے اسے اٹھانے کی کیا تاویل کریں گے) مٹھی میں لینے اور دائیں ہاتھ میں لپیٹنے کا مطلب ان سب کا اس کے قبضۂ قدرت میں ہونا ہے (انھیں اس سے غرض نہیں کہ یہ سب کچھ اس کے قبضۂ قدرت میں تو ہر وقت ہی ہے) یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے چہرے، پنڈلی، ہاتھ، انگلیوں، کان اور آنکھوں کا اور اس کے اترنے اور چڑھنے کا صاف انکار کرتے ہیں، بلکہ وہ اس کے سننے اور دیکھنے کے بھی منکر ہیں اور ان کا مطلب یہ کرتے ہیں کہ وہ جاننے والا ہے۔ اسی طرح وہ اس کے کلام کے بھی منکر ہیں۔ ان کے انکار کی اصل وجہ یہ ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی ان تمام صفات کو اپنی صفات کی طرح سمجھا، ورنہ اگر وہ ان تمام صفات اور الفاظ کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے کہ وہ ہماری طرح یا کسی بھی مخلوق کی طرح نہیں، بلکہ اس طرح ہیں جس طرح اس کی شان کے لائق ہے تو کبھی انکار نہ کرتے۔ دیکھیے انسان سمیع وبصیر ہے، فرمایا : (فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا) [ الدھر : ٢ ] ” سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنادیا۔ “ تو کیا ہم اللہ تعالیٰ کے سمیع وبصیر ہونے کا اس لیے انکار کردیں گے کہ اس سے وہ انسان کی طرح ہوجائے گا ؟ نہیں، ہرگز نہیں ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ ۚ وَهُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ ) [ الشورٰی : ١١ ] ” اس کی مثل کوئی چیز نہیں اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ “ یعنی اس کا سمع و بصر کسی اور کی مثل نہیں، بلکہ اس طرح ہے جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ اسی طرح یقیناً اس کے ہاتھ ہیں، جو دونوں ہی یمین (دائیں) ہیں، مٹھی بھی ہے، انگلیاں بھی، مگر انسان یا مخلوق کی طرح نہیں بلکہ جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ استعارہ کہہ کر ان کا انکار کرنا درست نہیں۔ قرآن مجید کی ان آیات کی تشریح جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمائی وہ اس قسم کی تاویلات کی تردید کرتی ہے۔ ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا، آپ فرما رہے تھے : ( یَقْبِضُ اللّٰہُ الْأَرْضَ ، وَ یَطْوِي السَّمٰوَاتِ بِیَمِیْنِہِ ، ثُمَّ یَقُوْلُ أَنَا الْمَلِکُ ، أَیْنَ مُلُوْکُ الْأَرْضِ ؟ ) [ بخاري، التفسیر، باب قولہ : ( والأرض جمیعا قبضتہ۔۔ ) : ٤٨١٢ ] ” اللہ تعالیٰ زمین کو مٹھی میں لے گا اور آسمانوں کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا : ” میں ہی بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ ؟ “ عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : ( أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ قَرَأَ ہٰذِہِ الْآیَۃَ ذَاتَ یَوْمٍ عَلَی الْمِنْبَرِ : (وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ) [ الزمر : ٦٧ ] وَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ یَقُوْلُ ہٰکَذَا بِیَدِہِ ، وَ یُحَرِّکُہَا، یُقْبِلُ بِہَا وَ یُدْبِرُ ، یُمَجِّدُ الرَّبُّ نَفْسَہُ أَنَا الْجَبَّارُ ، أَنَا الْمُتَکَبِّرُ ، أَنَا الْمَلِکُ ، أَنَا الْعَزِیْزُ ، أَنَا الْکَرِیْمُ فَرَجَفَ بِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ الْمِنْبَرُ ، قُلْنَا لَیَخِرَّنَّ بِہِ ) [ مسند أحمد : ٢؍٧٢، ح : ٥٤١٣ ] ” ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منبر پر یہ آیت پڑھی : (وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ ڰ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ۭ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ) ” اور انھوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جو اس کی قدر کا حق ہے، حالانکہ زمین ساری قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپیٹے ہوئے ہوں گے۔ وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس سے جو وہ شریک بنا رہے ہیں۔ “ اور آپ اپنے ہاتھ کو ہلاتے ہوئے اسے آگے اور پیچھے لے جاتے رہے۔ رب تعالیٰ نے خود اپنی تعریف بیان کی کہ میں جبار ہوں، میں متکبر ہوں، میں بادشاہ ہوں، میں عزیز ہوں، میں کریم ہوں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ منبر لرزنے لگا اور ہمیں خطرہ پیدا ہوا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر سمیت گرپڑیں گے۔ “ مسند احمد کے محقق نے فرمایا کہ اس کی سند مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور اس کے تمام راوی بخاری و مسلم کے راوی ہیں، ایک حماد بن سلمہ صرف مسلم کا راوی ہے۔ صحابہ کرام (رض) اور دوسرے سلف صالحین نے صفات کی آیات و احادیث کو ان کے ظاہری معنی پر محمول کیا ہے، ان کی تاویل نہیں کی اور کہا ہے کہ یہ صفات اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت ہیں جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے۔ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ : یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور بہت بلند ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In the last verse (67), it was said: وَالْأَرْ‌ضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَاوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ(and the whole earth will be in a single grip of His hand on the Day of Doom and the heavens, rolled up on His right hand). The earth being in the hand-grip of Allah Ta’ ala and the heavens being rolled up on His right hand appears here, in the view of the early forbears of Islam, in its real sense. But, the subject of the verse falls in the category of al-mutashabihat (of hidden meaning) the reality of which is not known to anyone except Allah Ta’ ala. For people in general, even trying to find out its reality is forbidden. Hence, the thing to do is no more but to believe that whatever Allah Ta’ ala means thereby is true and correct. And since the apparent words of this verse seem to suggest grasp, grip or a hand holding something (&qabdah&, mutthi, handful) as well as the presence of a right hand that are parts of a body while Allah Ta’ ala is pure and free from body and physicality. To this, towards the end of the verse, a hint was released: Do not take these words on the analogy of your body limbs. Allah Ta` la is free from these: سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِ‌كُونَ (Pure is He, far too high from what they ascribe to Him - 39:67). Later day scholars, taking this verse to be metaphorical, explain it by saying that having something grasped in hand and having something in the right hand is an allusion to having something under full possession and control - and it is this perfect possession and control that is meant here. And Allah, He is pure and high - He knows best.

(آیت) وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِهٖ ۔ قیامت کے روز زمین کا اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں ہونا اور آسمانوں کا لپیٹ کر اس کے داہنے ہاتھ میں ہونا اسلاف متقدمین کے نزدیک اپنے حقیقی معنوں میں ہیں۔ مگر مضمون آیت متشابہات میں سے ہے جس کی حقیقت بجز خدائے تعالیٰ کے کسی کو معلوم نہیں۔ عام لوگوں کو اس کی حقیقت معلوم کرنے کی کوشش بھی ممنوع ہے بس اس پر ایمان لانا ہے کہ جو کچھ اس سے اللہ تعالیٰ کی مراد ہے وہ حق اور صحیح ہے۔ اور چونکہ اس آیت کے ظاہری الفاظ سے اللہ تعالیٰ کے لئے مٹھی اور داہنے ہاتھ کا ہونا معلوم ہوتا ہے جو اعضاء وجوارح جسمانی ہیں اور اللہ تعالیٰ جسم اور جسمانیت سے پاک ہے، اس کی طرف آیت کے خاتمہ میں اشارہ کردیا کہ ان الفاظ کو اپنے اعضاء پر قیاس مت کرو، اللہ تعالیٰ ان سے پاک ہے۔ سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ ۔ اور علماء متاخرین نے اس آیت کو ایک تمثیل و مجاز قرار دے کر یہ معنے بیان کئے کہ کسی چیز کا مٹھی میں ہونا اور داہنے ہاتھ میں ہونا کنایہ ہوتا ہے اس پر پوری طرح قبضہ وقدرت سے یہی مکمل قبضہ وقدرت مراد ہے۔ واللہ سبحانہ، وتعالیٰ اعلم۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا قَدَرُوا اللہَ حَقَّ قَدْرِہٖ۝ ٠ ۤۖ وَالْاَرْضُ جَمِيْعًا قَبْضَتُہٗ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِيّٰتٌۢ بِيَمِيْنِہٖ۝ ٠ ۭ سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ۝ ٦٧ قَدْرُ والتَّقْدِيرُ والقَدْرُ والتَّقْدِيرُ : تبيين كمّيّة الشیء . يقال : قَدَرْتُهُ وقَدَّرْتُهُ ، وقَدَّرَهُ بالتّشدید : أعطاه الْقُدْرَةَ. يقال : قَدَّرَنِي اللہ علی كذا وقوّاني عليه، فَتَقْدِيرُ اللہ الأشياء علی وجهين : أحدهما : بإعطاء القدرة . والثاني : بأن يجعلها علی مقدار مخصوص ووجه مخصوص حسبما اقتضت الحکمة، وذلک أنّ فعل اللہ تعالیٰ ضربان : ضرب أوجده بالفعل، ومعنی إيجاده بالفعل أن أبدعه کاملا دفعة لا تعتريه الزّيادة والنّقصان إلى إن يشاء أن يفنيه، أو يبدّله کالسماوات وما فيها . ومنها ما جعل أصوله موجودة بالفعل وأجزاء ه بالقوّة، وقدّره علی وجه لا يتأتّى منه غير ما قدّره فيه، کتقدیره في النّواة أن ينبت منها النّخل دون التّفّاح والزّيتون، وتقدیر منيّ الإنسان أن يكون منه الإنسان دون سائر الحیوانات . فَتَقْدِيرُ اللہ علی وجهين : أحدهما بالحکم منه أن يكون کذا أو لا يكون کذا، إمّا علی سبیل الوجوب، وإمّا علی سبیل الإمكان . وعلی ذلک قوله : قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْراً [ الطلاق/ 3] . والثاني : بإعطاء الْقُدْرَةِ عليه . وقوله : فَقَدَرْنا فَنِعْمَ الْقادِرُونَ [ المرسلات/ 23] ، تنبيها أنّ كلّ ما يحكم به فهو محمود في حكمه، أو يكون من قوله : قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْراً [ الطلاق/ 3] ، وقرئ : فَقَدَرْنا «1» بالتّشدید، وذلک منه، أو من إعطاء القدرة، وقوله : نَحْنُ قَدَّرْنا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ [ الواقعة/ 60] ، فإنه تنبيه أنّ ذلک حكمة من حيث إنه هو الْمُقَدِّرُ ، وتنبيه أنّ ذلک ليس كما زعم المجوس أنّ اللہ يخلق وإبلیس يقتل، وقوله : إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ، إلى آخرها . أي : ليلة قيّضها لأمور مخصوصة . وقوله : إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْناهُ بِقَدَرٍ [ القمر/ 49] ، وقوله : وَاللَّهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ [ المزمل/ 20] ، إشارة إلى ما أجري من تكوير اللیل علی النهار، وتكوير النهار علی اللیل، وأن ليس أحد يمكنه معرفة ساعاتهما وتوفية حقّ العبادة منهما في وقت معلوم، وقوله : مِنْ نُطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ [ عبس/ 19] ، فإشارة إلى ما أوجده فيه بالقوّة، فيظهر حالا فحالا إلى الوجود بالصّورة، وقوله : وَكانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَراً مَقْدُوراً [ الأحزاب/ 38] ، فَقَدَرٌ إشارة إلى ما سبق به القضاء، والکتابة في اللّوح المحفوظ والمشار إليه بقوله عليه الصلاة والسلام : «فرغ ربّكم من الخلق والخلق والأجل والرّزق» «1» ، والْمَقْدُورُ إشارة إلى ما يحدث عنه حالا فحالا ممّا قدّر، وهو المشار إليه بقوله : كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ [ الرحمن/ 29] ، وعلی ذلک قوله : وَما نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ [ الحجر/ 21] ، قال أبو الحسن : خذه بقدر کذا وبقدر کذا، وفلان يخاصم بقدر وقدر، وقوله : عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ [ البقرة/ 236] ، أي : ما يليق بحاله مقدّرا عليه، وقوله : وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدى [ الأعلی/ 3] ، أي : أعطی كلّ شيء ما فيه مصلحته، وهداه لما فيه خلاصه، إمّا بالتّسخیر، وإمّا بالتّعلیم کما قال : أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] ، والتَّقْدِيرُ من الإنسان علی وجهين : أحدهما : التّفكّر في الأمر بحسب نظر العقل، وبناء الأمر عليه، وذلک محمود، والثاني : أن يكون بحسب التّمنّي والشّهوة، وذلک مذموم کقوله : فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ [ المدثر/ 18- 19] ، وتستعار الْقُدْرَةُ والْمَقْدُورُ للحال، والسّعة في المال، القدر ( والتقدیر کے معنی کسی چیز کی کمیت کو بیان کرنے کے ہیں۔ کہاجاتا ہے ۔ قدرتہ وقدرتہ اور قدرہ ( تفعیل ) کے معنی کسی کو قدرت عطا کرنا بھی آتے ہیں محاور ہ ہے ۔ قدرنی اللہ علی کذا وتوانی علیہ اللہ نے مجھے اس پر قدرت عطافرمائی پس ، ، تقدیرالہی ِ ، ، کی دوصورتیں ہیں اللہ تعالیٰ کا اشیاء کو قدرت بخشنا یا اللہ تعالیٰ کا اشیاء کو مقدار مخصوص اور طرز مخصوص پر بنانا جیسا کہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے اس لئے کہ فعل دوقسم پر ہے اول ایجاد بالفعل یعنی ابتداء سے کسی چیز کو ایسا کامل وجو عطا کرنا کی جب تک مشیت الہی اس کے فنا یا تبدیل کی مقتضی نہ ہو اس میں کمی بیشی نہ ہوسکے جیسے اجرام سماویہ اور ومافیما کی تخلیق ( کہ ان میں تاقیامت کسی قسم کا تغیر نہیں ہوگا ) دوم یہ کہ اصول اشیاء کو بالفعل اور ان کے اجزاء کو بالقوۃ وجو عطافرمانا اور ان کو اس ندازہ کے ساتھ مقدر کرنا کہ اس کی خلاف ظہور پزیر نہ ہوسکیں جیسا کہ خرما کی گھٹلی کے متعلق تقیدر الہٰی یہ ہے کہ اس سے خرما کا درخت ہی اگتا ہے اور سیب بازیتون کا درخت نہیں اگ سکتا اسی طرح انسان کی منی سے انسان پی پیدا ہوتا ہے دوسرے جانور پیدا نہیں ہوسکتے ۔ پس تقدیر الہی کے دو معنی ہوئے ایک یہ کہ کسی چیز کے متعلق نفی یا اثبات کا حکم لگانا کہ یوں ہوگا اور یوں نہیں ہوگا ۔ عام اس سے کم وہ حکم برسبیل وجوب ہو یا برسبیل امکان چناچہ آیت ؛ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْراً [ الطلاق/ 3] خدا نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے ۔ میں یہی معنی مراد ہیں دوم کی چیز پر قدرت عطا کرنے کے ہیں ۔ اور آیت کریمہ ؛فَقَدَرْنا فَنِعْمَ الْقادِرُونَ [ المرسلات/ 23] پھر اندازہ مقرر کیا اور ہم ہی خوب اندازہ مقرر کرنے والے ہیں ۔ میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ اللہ کا ہر حکم قابل ستائش ہے ۔ اور یہ آیت : قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْراً [ الطلاق/ 3] خدا نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کررکھا ہے ۔ کے ہم معنی ہے اور اس میں ایک قراءت ققدر نا ( تشدیددال ) کے ساتھ بھی ہے اور اس کے معنی یا تو حکم کرنے کے ہیں اور یا اعطاء قدرت کے اور آیت کریمہ : نَحْنُ قَدَّرْنا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ [ الواقعة/ 60] ہم نے تم میں مرنا ٹھہراد یا ۔ میں اس امر تنبیہ ہے کہ موت مقدر کرنے والا چونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے اس لئ یہ بھی عین حکمت کے مطابق ہے اور مجوس کا یہ علم غلط ہے کہ اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے اور ابلیس مارتا ہے ۔ اور آیت کریمہ :إِنَّا أَنْزَلْناهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ [ القدر/ 1] ہم نے اس ( قرآن ) گوشب قدر میں نازل کرنا شروع کیا ۔ میں لیلۃ القدر سے خاص رات مراد ہے جسے اور مخصوصہ کی انجام دہی لے لئے اللہ نے مقرر کر رکھا ہے ۔ نیز فرمایا :إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْناهُ بِقَدَرٍ [ القمر/ 49] ہم نے ہر چیز اندازہ مقرر کے ساتھ پیدا کی ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَاللَّهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّهارَ عَلِمَ أَنْ لَنْ تُحْصُوهُ [ المزمل/ 20] اور خدا تو رات اور دن ، کا اندازہ رکھتا ہے اس نے معلوم کیا کہ تم اس کی نباہ نہ سکوگے ۔ میں سلسلہ لیل ونہار کے اجرء کی طرف اشارہ ہے اور یہ کہ ان کے اوقات کی معرفت حاصل کرنا اور پھر اوقات معینہ ، میں حق عبادات ادا کرنا کسی کے لئے ممکن نہیں ہے اور آیت کریمہ : مِنْ نُطْفَةٍ خَلَقَهُ فَقَدَّرَهُ [ عبس/ 19] نطفے سے بنایا پھر اس کا اندازہ مقرر کیا ۔ میں ان قویٰ کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے نطفہ میں بالقوۃ ودیعت کر رکھے ہیں اور وہ قتا فوقتا صورت کا لباس بہن کر ظہور پذیر ہوتے ہیں آیت کریمہ : وَكانَ أَمْرُ اللَّهِ قَدَراً مَقْدُوراً [ الأحزاب/ 38] اور خدا کا حکم ٹھہرچکا ہے ۔ میں قدر کے لفظ سے ان امور کی طرف اشارہ ہے جن کا فیصلہ ہوچکا ہے اور وہ لوح محفوظ میں لکھے جا چکے ہیں جن کی طرف کہ آنحضرت نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : فرغ ربکم من الخلق والاجل والرزق کہ اللہ تبارک وتعالیٰ خلق ۔ عمر اور رزق سے فارغ ہوچکا ہے اور مقدور کے لفظ سے ان امور کیطرف اشارہ ہے جو وقتا فوقتا ظہور پذیر ہوتے رہتے ہیں ۔ جن کی طرف آیت : كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ [ الرحمن/ 29] وہ ہر روز کام میں مصروف ر ہتا ہے ۔ میں اشارہ فرمایا ہے اسی معنی میں فرمایا : وَما نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَعْلُومٍ [ الحجر/ 21] اور ہم ان کو بمقدار مناسب اتارتے رہتے ہیں ۔ ابوالحسن نے کہا ہے کہ یہ قدر وقدر ( بفتح الدال وسکونہا ) دونوں طرح بولا جاتا ہے چناچہ محاورہ خذ بقدر کذا ) وقدر کذا ( کہ اتنی مقدار میں لے لو ) وفلان یخاصم بقدر وقدر اور آیت کریمہ : عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ [ البقرة/ 236] یعنی ) مقدور والا اپنے مقدور کے مطابق دے اور تنگدست اپی حیثیت کے مطابق ۔ میں قدر کے معنی یہ ہیں کہ جو شخص اپنی مقدور کے مطابق اخراجات ادا کرے ۔ اور آیت کریمہ : وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدى[ الأعلی/ 3] اور جس نے ( اس کا ) اناازہ ٹھہرادیا ( پھر اس کو ) رستہ بتایا : کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو وہ سمجھ عطا فرمادیا جس میں اس کی مصلحت ہے اور اسے تعلیمی یا تسخیری طور پر ان چیزوں کی طرف ہدایت کردی ہے جن میں اس کی نجات مضمرہ جیسے فرمایا : أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] جس نے ہر چیز کو اس کی شکل و صورت بخشی پھر راہ دکھائی ۔ جب ، ، تقدیر ، ، کا فاعل انسان ہو تو اس کے دومعنی ہوتے ہیں ایک تقدیر محمود یعنی عقل وفکر کے مطابق کسی امر پر غور فکر کرنا اور پھر اس فارمولا کے مطابق کسی امر بچہ غور فکر کرنا اور پھر اس فارمولا کے مطابق کسی کام کو سرا نجام دینا ۔ دوم تقدیر مذموم کہ انسان اپنی تمنا اور خواہش کے پیمانہ کے مطابق کسی امر پر غور فکر کرے اور عقل وفکر سے کام نہ لے جیسے فرمایا فَكَّرَ وَقَدَّرَ فَقُتِلَ كَيْفَ قَدَّرَ [ المدثر/ 18- 19] اس نے فکر کیا اور تجویز کی یہ مارا جائے اس نے کیسی تجویز کی ۔ اور استعارہ کے طورپر قدرۃ اور مقدور کے معنی حالت اور وسعت مالی کے بھی آتے ہیں اور قدر کے معنی اس معین وقت یا مقام کے بھی ہوتے ہیں جو کسی کام کے لئے مقرر ہوچکا ہو چناچہ فرمایا : إِلى قَدَرٍ مَعْلُومٍ [ المرسلات/ 22] ایک معین وقت تک ۔ نیز فرمایا : فَسالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِها [ الرعد/ 17] پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہ نکلے ۔ یعنی نالے اپنے ( ظرف کے مطابق بہ نکلتے ہیں ایک قرات میں بقدر ھا ہے جو بمعنی تقدیر یعنی اندازہ ۔۔۔ کے ہے اور آیت کریمہ : وَغَدَوْا عَلى حَرْدٍ قادِرِينَ [ القلم/ 25]( اور کوشش کے ساتھ سویرے ہی جاپہنچے ( گویا کھیتی پر ) قادر ہیں ۔ میں قادرین کے معنی قاصدین کے ہیں یعنی جو وقت انہوں نے مقرر کر رکھا تھا ۔ اندازہ کرتے ہوئے اس وقت پر وہاں جا پہنچے اور یہی معنی آیت کریمہ : فَالْتَقَى الْماءُ عَلى أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ [ القمر/ 12] تو پانی ایک کام کے لئے جو مقدر ہوچکا تھا جمع ہوگیا میں مراد ہیں ۔ اور قدرت علیہ الشئی کے معنی کسی پر تنگی کردینے کے ہیں گویا وہ چیز اسے معین مقدار کے ساتھ دی گئی ہے اس کے بالمقابل بغیر حساب ( یعنی بےاندازہ ) آتا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَمَنْ قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ [ الطلاق/ 7] اور جس کے رزق میں تنگی ہو ۔ یعنی جس پر اس کی روزی تنگ کردی گئی ہو ۔ نیز فرمایا : يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشاءُ وَيَقْدِرُ [ الروم/ 37] خدا جس پر جاہتا ہے رزق فراخ کردیتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے ۔ فَظَنَّ أَنْ لَنْ نَقْدِرَ عَلَيْهِ [ الأنبیاء/ 87] اور خیال کیا کہ ہم ان پر تنگی نہیں کریں گے اور ایک قرآت میں لن نقدر علیہ سے اور اسی سے لفظ اقدر مشتق ہے جس کے معنی کوتاہ گردن آدمی کے ہیں اوراقدر اس گھوڑے کو بھی کہتے ہیں جس کے دوڑتے وقت پچھلے پاؤں ٹھیک اس جگہ پڑیں جہاں اگلے پاؤں پڑے تھے ۔ اور آیت کریمہ وما قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ [ الأنعام/ 91] ان لوگوں نے خدا کی قدرشناسی جیسی کرنی چاہیے تھی نہیں کی ۔ یعنی لوگ اس کی حقیقت کو نہیں پاسکے اور پھر اس امر پر تنبیہ کی ہے کہ وہ اس کی کنہہ کا ادارک بھی کیسے کرسکتے ہیں جب کہ اس کی شان یہ ہے کہوالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 67] اور قیامت کے دن تمام زمین آں کی مٹھی میں ہوگی ۔ اور آیت کریمہ : أَنِ اعْمَلْ سابِغاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ [ سبأ/ 11] کو کشادہ زر ہیں بناؤ اور کڑیوں کو اندازے سے جوڑ دو ۔ میں قدرفی السرد کے معنی یہ ہیں کہ مضبوطی اور محکم زر ہیں بناؤ ۔ اور مقدارالشئی اس وقت یاز مانہ وغیرہ کو کہا جاتا ہے جو کسی چیز کے لئے مقرر کیا گیا ہو ۔ قرآن میں ہے : يَوْمٍ كانَ مِقْدارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ [ المعارج/ 4] اور اس روز ( نازل ہوگا ) جس کا اندازہ پچاس ہزار برس کا ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتابِ أَلَّا يَقْدِرُونَ عَلى شَيْءٍ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ [ الحدید/ 29]( یہ باتیں ) اسلئے ( بیان کی گئی ہیں ) کہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ خدا کے فضل کے ساتھ مختص ہے ( یعنی اس میں تاویل سے چارہ نہیں ہے ) القدر ( دیگ) برتن جس میں گوشت پکایا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : وَقُدُورٍ راسِياتٍ [ سبأ/ 13] اور دیگیں جو ایک ہی جگہ رکھی ہیں ۔ اور قدرت اللحم کے معنی ہانڈی میں گوشت پکانے کے ہیں اور ہینڈیاں پکائے ہوئے گوشت کو قدیر کہاجاتا ہے ۔ القدار ( قصاب ) وہ شخص جو اونٹ کو نحر ( ذبح ) کرکے دیگ میں اس کا گوشت پکاتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( الکامل) (351) ضرب القدار نقیعۃ القدام جیسا کہ قصاب سفر سے آنے والے کی خوشی میں دعوت کے لئے گوشت کاٹتا ہے ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ جمع الجَمْع : ضمّ الشیء بتقریب بعضه من بعض، يقال : جَمَعْتُهُ فَاجْتَمَعَ ، وقال عزّ وجل : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] ، وَجَمَعَ فَأَوْعى [ المعارج/ 18] ، جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] ، ( ج م ع ) الجمع ( ف ) کے معنی ہیں متفرق چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ملا دینا ۔ محاورہ ہے : ۔ چناچہ وہ اکٹھا ہوگیا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے ۔ ( مال ) جمع کیا اور بند رکھا ۔ جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے قبض القَبْضُ : تناول الشیء بجمیع الکفّ. نحو : قَبَضَ السّيفَ وغیرَهُ. قال تعالی: فَقَبَضْتُ قَبْضَةً [ طه/ 96] ، فَقَبْضُ الید علی الشیء جمعها بعد تناوله، وقَبْضُهَا عن الشیء جمعها قبل تناوله، وذلک إمساک عنه، ومنه قيل لإمساک الید عن البذل : قَبْضٌ. قال : يَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ [ التوبة/ 67] ، أي : يمتنعون من الإنفاق، ويستعار الْقَبْضُ لتحصیل الشیء وإن لم يكن فيه مراعاة الكفّ ، کقولک : قَبَضْتُ الدّار من فلان، أي : حزتها . قال : تعالی: وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 67] ، أي : في حوزه حيث لا تمليك لأحد . وقوله : ثُمَّ قَبَضْناهُ إِلَيْنا قَبْضاً يَسِيراً [ الفرقان/ 46] ، فإشارة إلى نسخ الظّلّ الشمس . ويستعار القَبْضُ للعدو، لتصوّر الذي يعدو بصورة المتناول من الأرض شيئا، وقوله : يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ [ البقرة/ 245] ، أي : يسلب تارة ويعطي تارة، أو يسلب قوما ويعطي قوما، أو يجمع مرّة ويفرّق أخری، أو يميت ويحيي، وقد يكنّى بِالْقَبْضِ عن الموت، فيقال : قَبَضَهُ الله، وعلی هذا النّحو قوله عليه الصلاة والسلام : «ما من آدميّ إلّا وقلبه بين أصبعین من أصابع الرّحمن» «2» أي : اللہ قادر علی تصریف أشرف جزء منه، فكيف ما دونه، وقیل : راعٍ قُبَضَةٌ: يجمع الإبلَ والِانْقِبَاضُ : جمع الأطراف، ويستعمل في ترک التّبسّط . ( ق ب ض ) القبض ( ض ) کے معنی چٹکی سے کوئی چیز لینے کے ہیں اور جو چیز چٹکی سے لی گئی ہو اسے قبض وقبیصۃ کہا جاتا ہے اس لئے قمیص حقیر چیز کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ اور آیت : ۔ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً [ طه/ 96] تو میں نے ایک مٹھی بھر لی ۔ میں ایک قرات فقبضت قبصۃ ( صاد مہلہ ) کے ساتھ بھی ہے ۔ قبوص سبک رفتار اور چست گھوڑا جو دوڑتے وقت صرف سم ہی زمین پر لگائے ۔ اور تیز رفتار گھوڑے پر اس کا اطلاق مجازی سرعت رفتاری کے لئے قبض کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ ( ق ب ض ) القبض کے معنی کسی چیز کو پورے پنجے کے ساتھ پکڑنے کے ہیں جیسے قبض السیف وغیرہ تلوار کو پکڑنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً [ طه/ 96] تو میں نے فرشتے کے نقش پا سے مٹی کی ایک مٹھی میں لے لینے کے ہیں اور قبضھا عن الشئی کے منعی کسی چیز کو پکڑنے سے ہاتھ سکیڑ لینے کے ہیں اسی مفہوم کے لحاظ سے مال خرچ کرنے سے ہاتھ روک لینے کو بھی قبض کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ يَقْبِضُونَ أَيْدِيَهُمْ [ التوبة/ 67] اور خرچ کرنے سے ہاتھ بند کئے رہتے ہیں ۔ یعنی خرچ نہیں کرتے ۔ اور استعارہ کے طور پر کیس چیز کے حاصل کرلینے کو بھی قبض کہا جاتا ہے اگر چہ اسے ہاتھ سے نہ پکڑا جائے جیسے محاورہ ہے : ۔ قبضت الدر من فلان یعنی اسے اپنے تصرف میں لے لیا قرآن میں ہے ۔ وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 67] اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی یعنی اللہ تعالیٰ کے تصرف میں ہوگی اور کسی کا ملک نہیں ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ ثُمَّ قَبَضْناهُ إِلَيْنا قَبْضاً يَسِيراً [ الفرقان/ 46] پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں ۔ میں سورج کے سایہ کو نقل کرنے کی طرف اشارہ ہے اور استعارہ کے طور پر قبض کے معنی تیز دوڑنے کے بھی آتے ہیں اس لحاظ سے کہ گویا دوڑ نے والا زمین سے کسی چیز کو پکڑتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ يَقْبِضُ وَيَبْصُطُ [ البقرة/ 245] اور خدا ہی روزی کو تنگ کرتا اور اسے وہی کشادہ کرتا ہے ۔ کے معنی یہ ہیں کہ وہ کبھی چھین لیتا ہے اور کبھی عطا کردیتا ہے ۔ یا ایک قوم سے چھین لیتا ہے اور دوسری کو عطا کردیتا ہے اور یا اس کے معنی زندہ کرنے اور مارنے کے ہیں کیونکہ کبھی قبض موت سے کنایہ ہوتا ہے چناچہ محاورہ ہے : ۔ قبضہ اللہ اللہ نے اس کی روح قبض کرلی اسی معنی میں آنحضرت نے فرمایا |" ما من آدميّ إلّا وقلبه بين أصبعین من أصابع الرّحمن»کہ ہر آدمی کا دل اللہ تعالیٰ کی دو انگلیوں کے درمیان میں ہے یعنی انسان کے سب سے اشرف جزء پر اللہ تعالیٰ کو تصرف حاصل ہے تو دوسرے اعضاء پر بالا ولٰی تصرف حاصل ہوگا ۔ راعی قبضۃ منتظم چرواہا الا نقباض کے معنی اطراف یعنی ہاتھ پاؤں سمیٹ لینے کے ہیں اور ترک تبسط یعنی بےتکلفی چھوڑ دینے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ قِيامَةُ والقِيامَةُ : عبارة عن قيام الساعة المذکور في قوله : وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] ، يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] ، وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] ، والْقِيَامَةُ أصلها ما يكون من الإنسان من القیام دُفْعَةً واحدة، أدخل فيها الهاء تنبيها علی وقوعها دُفْعَة، والمَقامُ يكون مصدرا، واسم مکان القیام، وزمانه . نحو : إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] ، القیامتہ سے مراد وہ ساعت ( گھڑی ) ہے جس کا ذکر کہ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ [ الروم/ 12] اور جس روز قیامت برپا ہوگی ۔ يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعالَمِينَ [ المطففین/ 6] جس دن لوگ رب العلمین کے سامنے کھڑے ہوں گے ۔ وَما أَظُنُّ السَّاعَةَ قائِمَةً [ الكهف/ 36] اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ وغیرہ آیات میں پایاجاتا ہے ۔ اصل میں قیامتہ کے معنی انسان یکبارگی قیام یعنی کھڑا ہونے کے ہیں اور قیامت کے یکبارگی وقوع پذیر ہونے پر تنبیہ کرنے کے لئے لفظ قیام کے آخر میں ھاء ( ۃ ) کا اضافہ کیا گیا ہے ۔ المقام یہ قیام سے کبھی بطور مصدر میمی اور کبھی بطور ظرف مکان اور ظرف زمان کے استعمال ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ كانَ كَبُرَ عَلَيْكُمْ مَقامِي وَتَذْكِيرِي [يونس/ 71] اگر تم کو میرا رہنا اور ۔ نصیحت کرنا ناگوار ہو ۔ طوی طَوَيْتُ الشیءَ طَيّاً ، وذلک كَطَيِّ الدَّرَجِ وعلی ذلک قوله : يَوْمَ نَطْوِي السَّماءَ كَطَيِّ السِّجِلِ [ الأنبیاء/ 104] ، ومنه : طَوَيْتُ الفلاةَ ، ويعبّر بِالطَّيِّ عن مُضِيِّ العمر . يقال : طَوَى اللهُ عُمرَهُ ، قال الشاعر : 304- طَوَتْكَ خطوبُ دهرک بعد نشر«1» وقوله تعالی: وَالسَّماواتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ [ الزمر/ 67] ، يصحّ أن يكون من الأوّل، وأن يكون من الثاني، والمعنی: مهلكات . وقوله :إِنَّكَ بِالْوادِ الْمُقَدَّسِ طُوىً [ طه/ 12] ، قيل : هو اسم الوادي الذي حصل فيه «2» ، وقیل : إن ذلک جعل إشارة إلى حالة حصلت له علی طریق الاجتباء، فكأنّه طَوَى عليه مسافةً لو احتاج أن ينالها في الاجتهاد لبعد عليه، وقوله : إِنَّكَ بِالْوادِ الْمُقَدَّسِ طُوىً [ طه/ 12] ، قيل : هو اسم أرض، فمنهم من يصرفه، ومنهم من لا يصرفه، وقیل : هو مصدر طَوَيْتُ ، فيصرف ويفتح أوّله ويكسر «3» ، نحو : ثنی وثنی، ومعناه : نادیته مرّتين «4» ، والله أعلم . ( ط و ی ) طویت الشئی طیا کے معنی ہی کسی چیز کو اس طرح لپیٹ لینا ۔ جیسا کہ کپڑے کو اس کی درز پر لپیٹ دیا جاتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : يَوْمَ نَطْوِي السَّماءَ كَطَيِّ السِّجِلِ [ الأنبیاء/ 104] جس دن ہم آسمان کو اسی طرح لپیٹ لیں گے جسطرح لکھے ہوئے کاغذوں کا طو مار لپیٹ دیا جاتا ہے ۔ اسی سے طویت الفلان ( جنگل کو قطع کرنا ) کا محاورہ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ جنگل کی مسافت کو قطع کیا گویا راستوں کو لپیٹ لیا طوی اللہ عمرہ اللہ تعالیٰ نے اس کی عمر ختم کردی گویا اس کی مدت عمر کو لپیٹ دیا ۔ شاعر نے کہا ہے ( الوافر ) ( 295 ) طوتک خطوب دھرک بعد نشر حوادثات زمانہ نے پھیلا نے کے بعد تمہیں لپیٹ دیا ( یعنی تمہاری عمر ختم کردی اور بعض نے کہا ہے کہ آیت کریمہ : وَالسَّماواتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ [ الزمر/ 67] اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپیٹے ہوں گے ۔ میں مطویات کا لفظ یا تو طویت الشئی کے محاورہ سے ماخوذ ہوگا جس کے معنی لپیٹ دینا کے ہیں اور یا طوی اللہ عمر سے ماخوذ ہوگا اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ جس روز آسمان کو فنا کردیا جائے گا ۔ اور آیت ؛إِنَّكَ بِالْوادِ الْمُقَدَّسِ طُوىً [ طه/ 12] تم ( یہاں ) پاک میدان ( یعنی ) طوی میں ہو ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ طوی اسی وادی المقدس کا نام ہے جہا حضرت موسٰی پہنچ چکے تھے ۔ اور بعض کہتے ہیں کہ طوی اس مرتبہ کی طرف اشارہ ہے جس سے انہیں اجتباء کے طور پر نوازا گیا تھا اگر وہ اس مرتبہ کو مساعی اور اجتہاد کی راہ سے حاصل کرنا چاہتے تو اس قدر طویل مسافت کو طے نہیں کرسکتے تھے وادی نبوت تک پہنچنے کی تما م مسافتیں ان کے لئے لپیٹ دی گئیں پھر اگر اسے اس وادی کا نام قرار دیا جائے تو اسے غیر منصرف بھی پڑھ سکتے ہیں اور منصرف بھی اور اگر اسے طویت کا مصدر ماناجائے تو منصرف ہی پڑھا جائیگا اور ثنی وثنی کی طرح فا کلمہ ( ط ) پر دونوں حرکتیں جائز ہوں گی اور اس صورت میں آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم نے موسٰی (علیہ السلام) ہ کو دو مرتبہ پکارا ۔ يمین ( دائیں طرف) اليَمِينُ : أصله الجارحة، واستعماله في وصف اللہ تعالیٰ في قوله : وَالسَّماواتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ [ الزمر/ 67] علی حدّ استعمال الید فيه، و تخصیص اليَمِينِ في هذا المکان، والأرض بالقبضة حيث قال جلّ ذكره : وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 67] «1» يختصّ بما بعد هذا الکتاب . وقوله :إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنا عَنِ الْيَمِينِ [ الصافات/ 28] أي : عن الناحية التي کان منها الحقّ ، فتصرفوننا عنها، وقوله : لَأَخَذْنا مِنْهُ بِالْيَمِينِ [ الحاقة/ 45] أي : منعناه ودفعناه . فعبّر عن ذلک الأخذ باليَمِينِ کقولک : خذ بِيَمِينِ فلانٍ عن تعاطي الهجاء، وقیل : معناه بأشرف جو ارحه وأشرف أحواله، وقوله جلّ ذكره : وَأَصْحابُ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 27] أي : أصحاب السّعادات والمَيَامِنِ ، وذلک علی حسب تعارف الناس في العبارة عن المَيَامِنِ باليَمِينِ ، وعن المشائم بالشّمال . واستعیر اليَمِينُ للتَّيَمُّنِ والسعادة، وعلی ذلک وَأَمَّا إِنْ كانَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ فَسَلامٌ لَكَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 90- 91] ، وعلی هذا حمل : 477- إذا ما راية رفعت لمجد ... تلقّاها عرابة باليَمِين ( ی م ن ) الیمین کے اصل معنی دایاں ہاتھ یا دائیں جانب کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ وَالسَّماواتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ [ الزمر/ 67] اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لیپٹے ہوں گے ۔ میں حق تعالیٰ کی طرف یمن نسبت مجازی ہے ۔ جیسا کہ ید وغیر ہا کے الفاظ باری تعالیٰ کے متعلق استعمال ہوتے ہیں یہاں آسمان کے لئے یمین اور بعد میں آیت : ۔ وَالْأَرْضُ جَمِيعاً قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ [ الزمر/ 67] اور قیامت کے دن تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی ۔ میں ارض کے متعلق قبضۃ کا لفظ لائے میں ایک باریک نکتہ کی طرف اشارہ ہے جو اس کتاب کے بعد بیان ہوگا اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنا عَنِ الْيَمِينِ [ الصافات/ 28] تم ہی ہمارے پاس دائیں اور بائیں ) اسے آتے تھے ۔ میں یمین سے مراد جانب حق ہے یعنی تم جانب حق سے ہمیں پھیرتے تھے اور آیت کریمہ : ۔ لَأَخَذْنا مِنْهُ بِالْيَمِينِ [ الحاقة/ 45] تو ہم ان کا دایاں ہاتھ پکڑ لیتے ۔ میں دایاں ہاتھ پکڑ لینے سے مراد روک دینا ہے جیسے محاورہ ہے : ۔ یعنی فلاں کو ہجو سے روک دو ۔ بعض نے کہا ہے کہ انسان کا دینا ہاتھ چونکہ افضل ہے سمجھاجاتا ہے اسلئے یہ معنی ہو نگے کہ ہم بہتر سے بہتر حال میں بھی اسے با شرف اعضاء سے پکڑ کر منع کردیتے اور آیت کریمہ : ۔ وَأَصْحابُ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 27] اور دہنے ہاتھ والے ۔ میں دہنی سمت والوں سے مراد اہل سعادت ہیں کو ین کہ عرف میں میامن ( با برکت ) ) کو یمین اور مشاے م ( منحوس ) کو شمالی کے لفظ سے یاد کیا جاتا ہے اور استعارہ کے طور پر یمین کا لفظ بر کت وسعادت کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَأَمَّا إِنْ كانَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ فَسَلامٌ لَكَ مِنْ أَصْحابِ الْيَمِينِ [ الواقعة/ 90- 91] اگر وہ دائیں ہاتھ والوں یعنی اصحاب خیر وبر کت سے ہے تو کہا جائیگا تجھ پر داہنے ہاتھ والوں کی طرف سے سلام اور ایس معنی میں شاعر نے کہا ہے ( 426 ) اذا ما رایۃ رفعت ملجد تلقا ھا عرا بۃ بالیمین جب کبھی فضل ومجد کے کاموں کے لئے جھنڈا بلند کیا جاتا ہے تو عرابۃ اسے خیر و برکت کے ہاتھ سے پکڑ لیتا ہے سبحان و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] ، وسُبْحانَكَ لا عِلْمَ لَنا [ البقرة/ 32] ، وقول الشاعرسبحان من علقمة الفاخر «1» قيل : تقدیره سبحان علقمة علی طریق التّهكّم، فزاد فيه ( من) ردّا إلى أصله «2» ، وقیل : أراد سبحان اللہ من أجل علقمة، فحذف المضاف إليه . والسُّبُّوحُ القدّوس من أسماء اللہ تعالیٰ «3» ، ولیس في کلامهم فعّول سواهما «4» ، وقد يفتحان، نحو : كلّوب وسمّور، والسُّبْحَةُ : التّسبیح، وقد يقال للخرزات التي بها يسبّح : سبحة . ( س ب ح ) السبح ۔ سبحان یہ اصل میں غفران کی طرح مصدر ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] سو جس وقت تم لوگوں کو شام ہو اللہ کی تسبیح بیان کرو ۔ تو پاک ذات ) ہے ہم کو کچھ معلوم نہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ۔ ( سریع) (218) سبحان من علقمۃ الفاخر سبحان اللہ علقمہ بھی فخر کرتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں سبحان علقمۃ ہے اس میں معنی اضافت کو ظاہر کرنے کے لئے زائد ہے اور علقمۃ کی طرف سبحان کی اضافت بطور تہکم ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ اصل میں ، ، سبحان اللہ من اجل علقمۃ ہے اس صورت میں اس کا مضاف الیہ محذوف ہوگا ۔ السبوح القدوس یہ اسماء حسنیٰ سے ہے اور عربی زبان میں فعول کے وزن پر صرف یہ دو کلمے ہی آتے ہیں اور ان کو فاء کلمہ کی فتح کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے جیسے کلوب وسمود السبحۃ بمعنی تسبیح ہے اور ان منکوں کو بھی سبحۃ کہاجاتا ہے جن پر تسبیح پڑھی جاتی ہے ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور ان لوگوں نے اللہ کی کچھ عظمت نہ کی جیسے عظمت کرنی چاہیے تھی۔ چناچہ بکواس کرنے لگے کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ کا ہاتھ بند ہے اور ذلیل و خوار مالک بن صیف یہودی کہنے لگا کہ معاذ اللہ اللہ تعالیٰ محتاج ہے ہم سے قرض مانگتا ہے حالانکہ ساری زمین قیامت کے دن اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوں گے او اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۔ اس کی ذات یہودیوں کی باتوں سے پاک و برتر ہے۔ شان نزول : وَمَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖ (الخ) امام ترمذی نے تصحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ ایک یہودی کا رسول اکرم کے پاس سے گزر ہوا وہ کہنے لگا اے ابو القاسم اس چیز کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنی اس انگلی پر اور زمینوں کو اس پر اور پانی کو اس پر اور پہاڑوں کو اس پر رکھے گا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ ابن ابی حاتم نے حسن سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں نے آسمان و زمین اور فرشتوں کی پیدائش کے بارے میں غور کرنا شروع کیا جب اس چیز سے فارغ ہوئے تو اس کا اندازہ لگانے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی کچھ عظمت نہ کی۔ اور سعید بن جبیر سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں نے پروردگار کی صفت کے بارے میں گفتگو شروع کی تو وہ ایسی باتیں تھیں جن کو جانتے بھی نہ تھے اور نہ دیکھی بھالی ہوئی تھیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور ابن المنذر نے ربیع بن انس سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت وسع کرسیہ السموت والارض نازل ہوئی اس وقت لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ کرسی کی تو صفت یہ ہے اور عرش کی کیا ہے اس پر یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٧ { وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ } ” اور انہوں نے اللہ کی قدر نہیں کی جیسے کہ اس کی قدر کا حق تھا “ یہ لوگ اللہ کی قدرت ‘ اس کی قوت اور اس کی صفات کا اندازہ نہیں کر پائے۔ اس معاملے میں یہ بہت اہم نکتہ ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ اگرچہ ہم انسان اللہ تعالیٰ کے علم ‘ اس کی قدرت اور اس کی دوسری صفات کو ناپ تول نہیں سکتے ‘ اگر ہم اس کی کوشش بھی کریں گے تو یوں سمجھیں کہ اس کوشش کی مثال سنار کی ترازو میں ٹنوں کے وزن کو تولنے جیسی ہوگی ‘ لیکن ہم یہ تو جان سکتے ہیں کہ وہ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ہستی ہے۔ اس آیت کے مصداق وہ لوگ ہیں جن کے اذہان اللہ کو عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْـرٌ ماننے سے بھی عاجز ہیں۔ اب اللہ کی قدرت اور عظمت کی ایک جھلک ملاحظہ ہو : { وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہٗ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیّٰتٌم بِیَمِیْنِہٖ } ” اور زمین پوری کی پوری اس کی مٹھی میں ہوگی قیامت کے دن اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ “ کیا اس کیفیت کا اندازہ کرنا انسانی فکر اور سوچ کے بس کی بات ہے ؟ آسمانوں کی پہنائیاں ! کائنات میں موجود کہکشائوں ‘ ستاروں اور سیاروں کی تعداد ! ایک ایک کہکشاں کی وسعت ! ایک ایک ستارے کی جسامت ! ان کہکشائوں اور ستاروں کے باہمی فاصلے ! ان فاصلوں اور وسعتوں کو ناپنے کے لیے انسان کے فرض کیے ہوئے نوری سالوں کے پیمانے ! ایک نوری سال کے فاصلے کا تصور ! اور پھر اربوں کھربوں نوری سالوں کی وسعتوں کا تخیل ! اور پھر یہ تصور کہ یہ سب کچھ لپٹا ہواہو گا اللہ کے داہنے ہاتھ میں ! ! بہر حال یہ ایسا موضوع ہے جس پر سوچتے ہوئے انسانی فکر اور اس کی قوت متخیلہ بھی تھک ہار کر رہ جاتی ہے۔ اور انسان کی عقل جو اللہ کی تخلیق کی ہوئی کائنات کے کسی ایک کونے کا احاطہ کرنے سے بھی عاجز ہے ‘ وہ اللہ کی قدرت کا کیا اندازہ کرے گی ! { سُبْحٰنَہٗ وَتَعٰلٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ } ” وہ پاک ہے اور بہت بلند وبالا اس تمام شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔ “

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

75 That is, "They have no conception of the greatness and glory of Allah; they have never tried to understand how high is the position of the Lord of the Universe and how insignificant arc the beings whom these foolish people have made associates in Godhead and worthy of their worship." 76 This is a figurative way of describing the complete control and authority of AIlah over the earth and heavens. Just as a man encloses a small ball in the hollow of his hand with perfect ease, or a person rolls up an handkerchief in his hand without any difficulty, so will All men (who fail to conceive the greatness and glory of Allah) sec with their own eyes, on the Day of Resurrection, that the earth and the heavens arc like an ordinary ball and a small scroll in the hand of Allah. Traditions have been related in Musnad Ahmad, Bukhari, Muslim, Nasa'i, Ibn Majah, Ibn Jarir and others, on the authority of Hadrat 'Abdullah bin 'Umar and Hadrat Abu Hurairah, that once during a sermon the Holy Prophet recited this verse and then said: "Allah will hold the heavens and the earths (i.e. the planets) in His grasp and will roll them about in such a way as a child rolls a ball, and will say: 'I am God, the One: I am the King: I am the All-Mighty, Owner of glory: Where arc the kings of the world? Where are the tyrants? Where are the arrogant?" -Saying these words he started so shaking that we feared that he might topple over alongwith the pulpit." 77 That is, there is no comparison whatever between Allah's greatness and glory and the insignificance of those who are associated with Him in Godhead.

سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :75 یعنی ان کو اللہ کی عظمت و کبریائی کا کچھ اندازہ ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے کبھی یہ سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کی کہ خداوند عالم کا مقام کتنا بلند ہے اور وہ حقیر ہستیاں کیا شے ہیں جن کو یہ نادان لوگ خدائی میں شریک اور معبودیت کا حق دار بنائے بیٹھے ہیں ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :76 زمین اور آسمان پر اللہ تعالیٰ کے کامل اقتدار تصرف کی تصویر کھینچنے کے لیے مٹھی میں ہونے اور ہاتھ پر لپٹے ہونے کا استعارہ استعمال فرمایا گیا ہے ۔ جس طرح ایک آدمی کسی چھوٹی سی گیند کو مٹھی میں دبا لیتا ہے اور اس کے لیے یہ ایک معمولی کام ہے ، یا ایک شخص ایک رومال کو لپیٹ کر ہاتھ میں لے لیتا ہے اور اس کے لیے یہ کوئی زحمت طلب کام نہیں ہوتا ، اسی طرح قیامت کے روز تمام انسان ( جو آج اللہ کی عظمت و کبریائی کا اندازہ کرنے سے قاصر ہیں ) اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ زمین اور آسمان اللہ کے دست قدرت میں ایک حقیر گیند اور ایک ذرا سے رومال کی طرح ہیں ۔ مسند احمد ، بخاری ، مسلم ، نسائی ، ابن ماجہ ، ابن جریر وغیرہ میں حضرت عبداللہ بن عمر اور حضرت ابوہریرہ کی روایات منقول ہوئی ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ دَوران خطبہ میں یہ آیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت فرمائی اور فرمایا اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں ( یعنی سیاروں ) کو اپنی مٹھی میں لے کر اس طرح پھرائے گا جیسے ایک بچہ گیند پھراتا ہے ، اور فرمائے گا میں ہوں خدائے واحد ، میں ہوں بادشاہ ، میں ہوں جبار ، میں ہوں کبریائی کا مالک ، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟ کہاں ہیں جبار؟ کہاں ہیں متکبر ، ؟ یہ کہتے کہتے حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ ہمیں خطرہ ہونے لگا کہ کہیں آپ منبر سمیت گر نہ پڑیں ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :77 یعنی کہاں اس کی یہ شان عظمت و کبریائی اور کہاں اس کے ساتھ خدائی میں کسی کا شریک ہونا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٦٧۔ ٧٠۔ ترمذی ١ ؎ میں حضرت عبد اللہ (رض) بن عباس کی روایت سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک روز ایک یہودی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اس بات میں آپ کیا فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آسمان و زمین اور پہاڑوں کے سوا تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر اور زمین پر ایک انگلی پر اور آسمان ایک انگلی پر اور پہاڑ ایک انگلی پر رکھے گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہی آیت نازل فرمائی۔ ترمذی نے اس حدیث کو صحیح بتلایا ہے لیکن صحیح بخاری ٢ ؎ اور مسلم نسائی ابن ماجہ مسند امام (٢ ؎ صحیح بخاری باب ما قدروا اللہ حق قدرہ ص ٧١١ ج ٢۔ ) احمد اور خود ترمذی کی ایک روایت میں اس قصہ کے بعد آیت کے نازل ہونے کا ذکر نہیں ہے بلکہ یہ ذکر ہے کہ اس قصہ کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی مگر جب کہ ترمذی کی شان نزول کی روایت بھی صحیح ہوچکی ہے تو دونوں طرح کی روایتوں میں یوں مطابقت ہوسکتی ہے کہ جس طرح آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادت تھی کہ جو آیت اترا کرتی تھی اسی وقت آپ اس کو پڑھا کرتے تھے اسی طرح نازل ہوتے ہی اس آیت کو بھی آپ نے پڑھا ہوگا ‘ جن صحابہ نے فقط آپ کی تلاوت کی حالت کو دیکھا انہوں نے وہی حالت روایت کی اور جن صحابہ نے آیت کے نازل ہونے کا موقع بھی دیکھا ‘ انہوں نے آیت کے نازل ہونے کا ذکر بھی اپنی روایت میں کیا ‘ حاصل کلام یہ ہے کہ اس آیت سے آخر رکوع تک اللہ تعالیٰ نے حشر کے متعلق چند باتوں کا ذکر فرمایا ہے اب مقصد اس سے محض قریش کو شرک سے ڈرانا اور ان کے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور قدرت کا بٹھانا ہے اس واسطے ترتیب سے اور حشر کی باتوں کا ذکر ان آیتوں میں نہیں فرمایا صحیح حدیثوں میں اس مختص ذکر کی تفصیل اور ترتیب یوں آئی ہے کہ پہلا صور پھونکا جا کر جب تمام دنیا ویران ہوجائے گی اس ویرانی کے زمانہ میں اللہ تعالیٰ زمین و آسمان اور تمام مخلوقات کو اپنی انگلیوں پر لے کر یہ فرمائے گا کہ آج وہ بادشاہت کے دعوے کرنے والے کہاں گئے اس وقت کوئی جواب دینے والا موجود نہ ہوگا اس لئے خود پھر فرمائے گا کہ سب ملک اللہ کا ہے پھر دوسرا صور پھونکا جا کر لوگ قبروں سے اٹھیں گے اور نئی زمین جو پیدا ہوگی اس پر میدان محشر میں سب جمع ہوں گے گرمی اور پسینہ سے گھبرا کر سب انبیا کے پاس جلد حساب و کتاب شروع ہونے کی شفاعت کی درخواست کریں گے اور سوا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کسی نبی کی جرأت اس شفاعت کی نہ ہوگی آخر کار آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شفاعت سے اللہ تعالیٰ اس نئی زمین پر لوگوں کے حساب و کتاب کے لئے تجلی فرمائے گا اس کا ذکر آیتوں میں ہے کہ اللہ کے نور سے زمین روشن ہوجائے گی۔ اللہ تعالیٰ کی انگلیوں کا نور زمین کو مٹھی میں لینے کا اور زمین پر تجلی فرمانے کا اور اللہ تعلایٰ کے ہاتھ کا ذکر ان آیتوں اور حدیثوں میں جو ہے اس باب میں صحیح مذہب وہی ہے جو صحابہ اور تابعین نے اختیار کیا ہے کہ جس قدر قرآن اور حدیث میں آیا ہے اس پر ایمان لانا چاہئے اور ان باتوں کا تفصیلی علم خدا کو سونپنا چاہئے اور طرح طرح کی تاویلیں کرکے صحابہ اور تابعین سے مخالفت نہ پیدا کرنی چاہئے۔ شاہ صاحت نے اپنے فائدہ میں یہ جو لکھا ہے کہ اللہ کا دایاں ہاتھ کہئے اور بایاں نہ کہئے یہ صحیح ١ ؎ مسلم کی عبد اللہ بن عمر (١ ؎ یہ حدیث مسلم میں نہیں مل سکی البتہ ترمذی شریف میں موجود ہے دیکھیں ترمذی ص ١٩٥ ج ٢۔ ) کی حدیث کا مضمون ہے کیونکہ اس حدیث میں اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ مخلوقات کے بائیں ہاتھ میں ذرا کمزوری ہوتی ہے اللہ کی ذات اس نقصان کی صفت سے پاک ہے مخلوقات کو مٹھی میں لینے کی مثال سے مشرکین مکہ کو یہ سمجھایا گیا ہے کہ جب تمام مخلوقات اللہ تعالیٰ کی قدرت کے آگے ایسی حقیر ہے کہ اس کی مٹھی میں آسکتی ہے تو مخلوقات میں کسی کو اس کا شریک کیونکر ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ صحیح بخاری ٢ ؎ و مسلم میں ابوہریرہ (رض) سے اور صحیح مسلم میں عبد اللہ بن عمر سے جو (٢ ؎ بخاری شریف باب ونفخ فی الصور الایۃ ص ٧١١ ج ٢۔ ) روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ صور دو دفعہ پھونکا جائے گا پہلے صور سے تمام دنیا اجڑ جائے گی اور دوسرے صور سے سب دنیا کے لوگ زندہ ہو قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے یہ پہلا صور جب پھونکا جائے گا تو اس وقت دنیا میں ایسے لوگ ہوں گے جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان نہ ہوگا۔ کیونکہ صحیح ٣ ؎ مسلم میں عبد اللہ بن عمر کی جو روایت ہے اس (٣ ؎ صحیح مسلم باب ذکر الدجال ص ٤٠٣ ج ٢۔ ) میں یہ بھی ہے کہ پہلے صور سے پہلے شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا آئے گی جس کے اثر سے ایسے سب لوگ مار جائیں گے جن کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہوگا۔ جو علما یہ کہتے ہیں کہ صورتین دفعہ پھونکا جائے گا وہ اس ٹھنڈی ہوا کو پہلا صور شمار کرتے ہیں۔ دونوں صور کے مابین میں چالیس برس کی مدت جو مشہور ہے اس باب میں کوئی حدیث تو نہیں ہے مگر اکثر صحابہ کا قول یہی ہے۔ اس تفسیر میں یہ بات گزر چکی ہے کہ ایسی باتوں میں صحابہ کا قول حدیث نبوی کے برابر ہوتا ہے کیونکہ ایسی غیب کی باتیں صحابہ عقل نہیں کہہ سکتے۔ الامن شاء اللہ کی تفسیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس کا قول یہی ہے کہ پہلے صور کے بعد جبرئیل ( علیہ السلام) میکائیل ( علیہ السلام) اسرافیل ( علیہ السلام) اور ملک الموت یہ چار فرشتے باقی رہیں گے پھر اللہ کے حکم سے یہ بھی مرجائیں گے۔ اگرچہ بعض روایتوں میں الامن شاء اللہ کی تفسیر شہیدوں کو ٹھہرایا گیا ہے لیکن وہ روایتیں ضعف سے خالی نہیں علاوہ ضعف کے اس تفسیر پر حافظ ابو جعفر ابن جریر نے یہ اعتراض بھی کیا ہے کہ جب آیت کا یہ مطلب ہے کہ جن مخلوقات نے پہلے صور تک موت کا مزہ نہیں چکھا ہے پہلے صور سے وہ ساری مخلوقات مرجائے گی ہاں جن کو اللہ تعالیٰ زندہ رکھنا چاہے گا وہ نہ مریں گے۔ شہید لوگ شہادت کے وقت موت کا مزہ چکھ چکے ہیں اس واسطے وہ آیت کے مطلب میں داخل نہیں ہوسکتے۔ مسند بزار ٤ ؎ اور طبرانی کے حوالہ (٤ ؎ الترغیب و الترہیب باب اترہیب من الریاء ص ٦٥ ج ١۔ ) سے انس (رض) بن مالک کی صحیح حدیث ایک جگہ سے گزر چکی ہے کہ قیامت کے دن سربمہر لوگوں کے نامہ اعمال حساب و کتاب کے لئے اللہ تعالیٰ کے رو برو پیش ہوں گے یہ حدیث ووضع الکتاب کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کتاب سے مقصود ہر شخص کا نامہ اعمال ہے صحیح بخاری ١ ؎ ترمذی وغیرہ میں جو چند صحابہ کی روایتیں ہیں ان (١ ؎ صحیح بخاری باب قولہ وکذلک جعلنکم امۃ وسطا الایۃ ص ٦٤٤ ج ٢۔ ) کا حاصل یہ ہے کہ جب نافرمان امتوں کے لوگ اپنے رسولوں کو جھٹلائیں گے اور یہ کہیں گے کہ یا اللہ ہم کو کسی رسول نے تیرا حکم نہیں پہنچایا تو اس پر اللہ تعالیٰ ان رسولوں سے فرمائے گا کہ تمہارے پاس اللہ کا پیغام پہنچا دینے کی کوئی گواہی ہے وہ رسول امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنا گواہ قرار دیں گے۔ امت محمدیہ (رض) کے لوگ کہیں گے یا اللہ تو نے نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو قرآن اتارا تھا اس میں پہلے نبیوں اور پہلی امتوں کا سب ذکر ہے جس سے ہم گواہی دیتے ہیں کہ تیرے رسول سچے ہیں۔ یہ روایتیں وجی بالنبیین و الشھداء کی گویا تفسیر ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گواہ سے مقصود امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہے۔ صحیح ٢ ؎ مسلم وغیرہ کے حوالہ سے ابوذر کی حدیث ایک جگہ گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم (٢ ؎ صحیح مسلم تحریم الظلم ص ٣١٩ ج ٢۔ ) اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا ہے۔ یہ حدیث وقضی بینھم بالحق وھم لایظمون کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ظلم اپنی ذات پاک پر حرام کرلیا اس لئے اس کا فیصلہ انصاف کے موافق ہوگا صحیح بخاری ٣ ؎ و مسلم کے حوالہ سے عبد اللہ (رض) بن عباس کی روایت سے حدیث قدسی ایک جگہ گزر چکی (٣ ؎ صحیح مسلم باب بیان تجاوز اللہ تعالیٰ عن حدیث النفس الخ ص ٧٨ ج ١ و بخاری شریف کتاب الرقاق باب من ھم بحسنۃ اوسیئۃ ص ٩٦٠ ج ٢۔ ) ہے کہ ایک نیکی کا بدلہ دس سے لے کر سات سو نیکیوں کے برابر اور بعض نیکیوں کا بدلہ اس سے بھی زیادہ دیا جائے گا اور بدیوں کی سزا میں کچھ زیادتی نہ کی جائے گی ووفیت کل نفس ماعملت کی یہ حدیث گویا تفسیر ہے۔ صحیح ٤ ؎ مسلم کے حوالہ سے (٤ ؎ صحیح مسلم حجاج ادم و موسیٰ ص ٣٤٥ ج ٢۔ ) عبد اللہ بن عمرو بن العاص کی حدیث میں جو کچھ ہونے والا تھا دنیا کے پیدا ہونے سے پچاس ہزار برس پہلے اپنے علم غیب کے نتیجہ کے طور پر اللہ تعالیٰ نے وہ سب لوح محفوظ میں لکھ لیا ہے ‘ یہ حدیث وھو اعلم بھا یفعلون کی گویا تفسیر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ نامہ اعمال کا لکھا جانا گواہی شاہدی یہ سب لوگوں کے قائل کرنے کے لئے ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کے علم غیب سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(39:67) ما قدروا اللّٰہ : ما قدروا ماضی منفی جمع مذکر غائب انہوں نے تعظیم نہیں کی۔ انہوں نے نہیں پہچانا۔ انہوں نے قدر نہیں پہچانی، انہوں نے قدردانی نہیں کی ۔ والارض جمیعا یعنی زمین اپنی تمام اندورونی و بیرونی اجزاء کے ساتھ۔ قبضتہ۔ مضاف مضاف الیہ۔ اس کا قبضہ ، اس کی مٹھی میں ہونا۔ اس کا تصرف، اس کا اختیار کامل۔ القبض کے معنی کسی چیز کو پانچوں انگلیوں سے مٹھی بھر کر پکڑنا۔ جیسے قبض السیف تلوار کو پکڑنا ۔ قبض علی کسی چیز کو بھرپور پکڑنا۔ قبض عن کسی چیز کی طرف سے ہاتھ کو کھینچ لینا۔ اسی مفہوم کے لحاظ سے خرچ سے ہاتھ روکنے کو قبض کہا جاتا ہے مثلاً ویقبضون ایدیہم (9:67) اور خرچ کرنے سے ہاتھ بند کئے رہتے ہیں۔ وقبض الی اپنی طرف سمیٹنا۔ مثلا ثم قبضنہ الینا قبضا یسیرا (25:46) پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ قبضۃ مٹھی بھر چیز۔ یعنی مکمل طور پر اس کے اختیار میں ہوگی۔ مطویت۔ اسم فعول جمع مؤنث۔ مطویۃ واحد۔ طی مصدر (باب ضرب) لپیٹے ہوئے۔ طے کرنا کے دو معنی ہیں۔ (1) لپیٹنا جیسے کاغذ یا کپڑے کو تہہ کرنا۔ دوسری جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ یوم نطوی السماء کطی السجل للکتب (21:104) جس دن ہم آسمان کو اسی طرح لپیٹ لیں گے جیسے کاغذات کا طومار لپیٹ لیا جاتا ہے۔ (2) مسافت کو قطع کرنا۔ عمر کو گزارنا۔ بقول امام راغب (رح) آیت میں دونوں معنی ہوسکتے ہیں۔ کاغذ کی طرح آسمانوں کا لپیٹ دیا جانا بھی ۔ اور فنا کردینا اور تباہ کردینا بھی۔ قیامت کے دن آسمان بہرحال فنا کر دئیے جائیں گے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 بعض لوگوں نے اس کو استعارہ قرار دیتے ہوئے آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ قیامت کے روز زمین و آسمان سب اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہوں گے۔ لیکن صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ واقعی زمین اور آسمانوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا، اس لئے اس آیت کو استعارہ پر محمول کرنا صحیح نہیں۔ صحیحین میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ زمین کو مٹھی میں لے گا اور آسمانوں کو دائیں ہاتھ میں لپیٹے گا اور پھر فرمائے گا ” میں ہوں بادشاہ، کہاں ہیں دنیا کے بادشاہ ؟ “ ایسے ہی الفاظ حضرت ابن عمر (رض) کی روایت میں بھی ہیں۔ مسند احمد میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منبر پر خطبہ میں یہ آیت پڑھی اور فرمایا :” اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں ہوں جبار، میں ہوں کبریائی کا مالک، میں ہوں عزت کا مالک “۔ یہ کہتے ہوئے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی انگلیوں کو ہلاتے ہوئے انہیں آگے اور پیچھے لے جاتے رہے اور پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایسا لرزہ طاری ہوا کہ منبر لرزنے لگا اور ہمیں خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گر نہ پڑیں “۔ ( ابن کثیر) یاد رہے کہ آیات صفات کو سلف (رح) نے ان کے ظاہری معنی پر محمول کیا ہے اور تاویل نہیں کی اور کہا ہے کہ صفات اللہ تعالیٰ کے لئے ثابت ہیں جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے۔ (کتاب التوحید) ۔4” اس کی ذات ان کے شرک سے ( کہیں) پاک و برتر ہے “۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ حق عظمت سے مراد توحید ہے اور اس کی نفی سے مراد شرک۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جو لوگ اللہ کے علاوہ یا اس کے ساتھ کسی کی عبادت کرتے ہیں وہ مشرک ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ناقدردان اور ناشکرے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر اپنی عبادت کا حکم دینے سے پہلے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ ہی ہر چیزکا خالق اور اس کا وکیل ہے۔ اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی چابیاں ہیں۔ جاہل لوگوں کی خواہش اور کوشش ہے کہ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کی جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے۔ یہی اس کے شکر ادا کرنے کا صحیح طریقہ ہے جو لوگ اللہ کے سوا یا اس کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے رب ذوالجلال کی قدرہی نہیں کی جس طرح اس کی قدر کرنے کا حق ہے۔ اسی کے پاس زمین و آسمانوں کی چابیاں ہیں اور قیامت کے دن بھی پوری کی پوری زمین اس کے قبضہ میں ہوگی اور ساتوں آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوں گے وہ مشرکوں کی مشرکانہ عبادت سے پاک اور ان کے بےہودہ عقائد سے بلند وبالا ہے۔ ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ زمین کو اپنے قبضہ میں لے لے گا اور آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر فرمائے گا میں ہی بادشاہ ہوں زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟ “ [ رواہ البخاری : باب یقبض اللّٰہ الارض ] (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ جَاءَ حَبْرٌ مِنَ الأَحْبَارِ إِلَی رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ ، إِنَّا نَجِدُ أَنَّ اللَّہَ یَجْعَلُ السَّمَوَاتِ عَلَی إِصْبَعٍ وَالأَرَضِینَ عَلَی إِصْبَعٍ ، وَالشَّجَرَ عَلَی إِصْبَعٍ ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَی عَلَی إِصْبَعٍ ، وَسَاءِرَ الْخَلاَءِقِ عَلَی إِصْبَعٍ ، فَیَقُولُ أَنَا الْمَلِکُ فَضَحِکَ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ تَصْدِیقًا لِقَوْلِ الْحَبْرِ ثُمَّ قَرَأَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (وَمَا قَدَرُوا اللَّہَ حَقَّ قَدْرِہِ وَالأَرْضُ جَمِیعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہِ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ ) )[ رواہ البخاری : باب قَوْلِہِ (وَمَاقَدَرُوا اللَّہَ حَقَّ قَدْرِہِ )] ” حضرت عبد اللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک یہودی عالم نبی معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہنے لگا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم تورات میں پاتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ آسمانوں کو ایک انگلی پر، زمینوں کو ایک انگلی پر، تمام درختوں کو ایک انگلی پر، پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر اور تمام مخلوقات کو ایک انگلی پر رکھ کر فرمائیں گے میں بادشاہ ہوں۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہودی کی بات کی تصدیق کرتے ہوئے مسکرا پڑے یہاں تک آپ کی ڈاڑھیں ظاہر ہوگئیں۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ( وَمَا قَدَرُوا اللَّہَ حَقَّ قَدْرِہِ وَالأَرْضُ جَمِیعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِینِہِ سُبْحَانَہُ وَتَعَالَی عَمَّا یُشْرِکُونَ ) “ 1 ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے شرف اور مقام کے پیش نظر اسے صرف اپنے سامنے جھکنے کا حکم دیا ہے لیکن مشرک اس کی ناقدری کرتے ہوئے در، در کی ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے۔ 2 ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو صرف اپنی بارگاہ سے مانگنے کا حکم دیا لیکن مشرک ہر جگہ جھولی پھیلائے پھرتا ہے۔ مسائل ١۔ مشرک اللہ تعالیٰ کی قدر نہیں کرتا۔ ٢۔ قیامت کے دن زمین و آسمان اللہ تعالیٰ کی مٹھی میں ہوں گے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ مشرکین کے شرک سے پاک اور بلندو بالا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ کا مشرک اور اس کے عقائد سے کوئی تعلق نہیں : ١۔ اللہ تعالیٰ بہت بلند ہے اس سے جو لوگ شرک کرتے ہیں۔ (النحل : ٣) ٢۔ اللہ تعالیٰ کا حکم آچکا وہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس چیز سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ (النحل : ١) ٣۔ کیا اللہ کے علاوہ کوئی اور الٰہ ہے بہت بلند ہے اللہ اس سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ (النمل : ٦٣) ٤۔ اللہ پیدا کرتا ہے اور مختار کل ہے دوسروں کو کوئی اختیار نہیں ہے اللہ ان کے شرک سے پاک ہے۔ (ا لقصص : ٦٨) ٥۔ قیامت کے دن آسمانوں کو اللہ اپنے دائیں ہاتھ پر لپیٹ لے گا۔ اللہ پاک ہے اور بہت بلند ہے اس چیز سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ ( الزمر : ٦٧) ٦۔ کیا ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی اور الٰہ ہے۔ اللہ بری ہے اس چیز سے جو وہ شرک کرتے ہیں۔ (الطور : ٤٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

آیت نمبر 67 حقیقت یہ کہ انہوں نے اللہ کی ذات کی قدر نہیں کی ۔ ورنہ وہ اللہ کے ساتھ اس کی مخلوقات کو شریک نہ کرتے ۔ نہ انہوں نے اللہ کی بندگی کا حق ادا کیا ہے ، کیونکہ وہ عقیدۂ توحید اور اللہ کی عظمت کو سمجھ ہی نہیں سکے۔ ان کو اللہ کی جلالت قدر کا شعور ہی نہیں ہے۔ اللہ کی جلالت قدر اور عظمت کا شعور ان کو یوں دیا جاتا ہے ، قرآن کے مخصوص انداز بیان کے مطابق کہ قرآن اعلیٰ عقلی افکار کو بھی نہایت ہی مشخص انداز میں پیش کرتا ہے تاکہ کلی اور عقلی مفاہیم محدود انسانی ادراک کے قریب آجائیں۔ قرآن وسنت میں جہاں جہاں اس قسم کی تصاویر اور مناظر آتے ہیں وہ دراصل تمثیلات ہیں اور حقائق کو انسانی ادراک کے قریب تر کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ معانی کو ایسے الفاظ میں بیان کیا جائے جن کا تصور ان کے لیے ممکن ہو ، یہاں بھی اللہ کی قدرت مطلقہ کو مٹھی کی شکل میں لایا گیا ہے ، ورنہ نہ کسی شکل ، نہ کسی جگہ اور نہ کسی حد کا پابند ہے۔ یہاں عقلی حقائق کو حسی انداز دیا گیا ہے۔ اس کے بعد قیامت کا ایک طویل منظر آتا ہے۔ اس کا آغاز نفخہ اولی سے ذوتا ہے اور خاتمہ اس وقت ہوتا ہے جب قیامت کے تمام معاملات چکا دیئے جاچکے ہیں۔ اور اہل جہنم کو جہنم کی طرف چلا دیا جاتا ہے۔ اور اہل جنت کو جنت کی طرف رخصت کردیا جاتا ہے۔ اور صرف ذات باری رہ جاتی ہے اور تمام کائنات ذات باری کی حمد وثنا میں رطب کی طرف رخصت کردیا جاتا ہے۔ اور صرف ذات باری رہ جاتی ہے اور تمام کائنات ذات بارہ کی حمد وثنا میں رطب اللسان ہوتی ہے۔ یہ ایک زبردست منظر ہے۔ جوش و خروش اور حرکت سے پر ہے اور اس کی حرکات نہایت ترتیب سے آہستگی کے ساتھ شروع ہوتی ہیں اور آگے بڑھتی ہیں۔ یہاں تک کہ تمام حرکات ختم ہوجاتی ہیں ، تمام آوازیں بیٹھ جاتی ہیں اور منظر پر ایک خوفناک خاموشی چھا جاتی ہے۔ تمام مخلوقات اللہ واحد اور قہار کے سامنے سہم جاتی ہیں۔ دیکھئے ! ایک سخت آوازبلند ہوجاتی ہے اور سب لوگ مرکر گر جاتے ہیں۔ اس وقت زمین میں موجود پوری آبادی چشم زدن میں بےجان ہوجاتی ہے۔ آسمانوں کی پوری مخلوق بھی ختم ہوجاتی ہے۔ الاماشاء اللہ ۔ اب ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ کتنے وقفے کے بعد دوسری چیخ بلند ہوتی ہے۔ لیکن دوسری چیخ بلند ہوجاتی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ اللہ تعالیٰ شانہٗ کی ذات بہت بڑی ہے اس کو اس دنیا میں دیکھا نہیں جاسکتا لیکن اس کی صفات کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے اس کی صفت خالقیت کو سب عقل مند جانتے ہیں اور یہ مانتے ہیں کہ سب کچھ اسی نے پیدا کیا ہے اس کا حق ہے کہ صرف اسی کی عبادت کی جائے جن لوگوں نے کسی کو اس کا ساجھی ٹھہرایا اور عبادت میں شریک بنایا اور نہ صرف یہ کہ خود مشرک بنے بلکہ اس کے رسول کو بھی شرک کی دعوت دے دی ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی وہ تعظیم نہیں کی جس تعظیم کا وہ مستحق ہے اس کی ذات پاک کے لیے شریک تجویز کرنا بہت بڑی حماقت اور ضلالت ہے، دنیا میں اس کی قدرت کا مظاہرہ ہوتا رہتا ہے اور قیامت کے دن ایک مظاہرہ اس طرح سے ہوگا کہ ساری زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور سارے آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے وہ ہر عیب سے پاک ہے اور ان لوگوں کے شرکیہ اقوال و افعال سے بھی پاک ہے۔ چونکہ سورة شوریٰ میں ارشاد فرمایا ہے کہ (لَیْسَ کَمِثْلِہٖ شَیْءٌ) (اللہ کی مثل کوئی چیز نہیں ہے) اس لیے اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جسم سے اور اعضاء سے پاک ہے اگر آیت کریمہ کا معنی ہاتھ کی مٹھی لیا جائے اور بیمینہ سے داہنا ہاتھ مراد لیا جائے تو اس سے جسمیت اور مثلیت لازم آتی ہے اس لیے علماء کرام نے فرمایا ہے کہ آیت شریفہ کے مضمون کے بارے میں یوں عقیدہ رکھو کہ اس کا جو بھی مطلب اللہ کے نزدیک ہے وہ حق ہے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کا معنی اور مفہوم اسی کی طرف تفویض کرتے ہیں بعض علماء نے تاویل بھی کی ہے لیکن محققین تاویل کے بجائے تفویض کو اختیار کرتے ہیں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جسم سے اور اعضاء سے پاک ہے اور جو کچھ بھی قرآن و حدیث میں آیا ہے وہ سب حق ہے اس کا مطلب اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے ہم اپنی طرف سے مطلب تجویز نہیں کرتے اس طرح کا مضمون جہاں کہیں بھی آئے اس کے معنی کی تفویض بھی اللہ تعالیٰ کی طرف کی جائے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود (رض) نے بیان کیا کہ ایک یہودی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بلاشبہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو ایک انگلی پر، اور زمینوں کو ایک انگلی پر، اور پہاڑوں کو ایک انگلی پر اور درختوں کو ایک انگلی پر، اور (باقی) ساری مخلوق کو ایک انگلی پر روک لے گا پھر فرمائے گا اَنَا الْمَلِکُ (میں بادشاہ ہوں) یہ سن کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہنسی آگئی یہاں تک کہ آپ کی مبارک ڈاڑھیں ظاہر ہوگئیں اس کے بعد آپ نے آیت بالا (وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہٖ ) تلاوت فرمائی آپ کا ہنسنا اس یہودی کی تصدیق کے طور پر تھا۔ (صحیح بخاری ١١٠٢، ١١٠٣)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

64:۔ ” وما قدروا اللہ الخ “ ان نادانوں نے اللہ کی عظمت قدر اور جلالت شان کو کما حقہ نہیں پہچانا، وہ ساری کائنات کا خالق ومالک ہے۔ ہر جاندار کا رازق اور ہر چیز کا محافظ ہے۔ زمین و آسمان کے خزانے اس کے زری تصرف و اختیار ہیں۔ مگر مشرکین نے اللہ کے سوا اوروں کو معبود بنا رکھا ہے۔ ” والارض جمیعا الخ “ یہ کلام علی سبیل التمثیل ہے۔ اور اللہ کی قدرت و عظمت سے کنایہ ہے۔ اس کی عظمت و جبروت اور قدرت و ملکوت جس طرح دنیا میں ہر چیز پر حاوی ہے۔ اسی طرح قیامت کے دن بھی سب اس کی عظمت وکبریائی کے سامنے سر افگندہ ہوں گے اور اسی کی قدرت اور اسی کا تصرف ہی وہاں نافذ ہوگا۔ مشرکین کے تمام ارضی و سماوی معبود اس کی عظمت و سلطان کے سامنے عاجز ہوں گے۔ و فیہ رمز الی ان ما یشرکونہ معہ عز و جل ارضیا کان ام سماویا مقہور تحت سلطانہ جل شانہ وعز سلطانہ فالقبضۃ مجاز عن الملک او التصرف و الیمین مجاز عن القدرۃ التامۃ (روح ج 24 ص 26) ۔ 65:۔ ” سبحنہ الخ “ یہ تمام گذشتہ دلائل کا ثمرہ ہے۔ سورت کی ابتدا میں دو دلیلوں کے بعد ثمرہ ذکر کیا گیا۔ اور پھر یہاں تمام دلائل کے بعد بھی ثمرہ ذکر کیا گیا۔ تاکہ واضح ہوجائے کہ تمام دلائل دعوائے سورت کو صراحت سے ثابت کر رہے ہیں۔ یعنی ان تمام مذکورہ بالا دلائل سے روز روشن کی طرح ظاہر وعیاں ہوگیا کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں وہ ہر شریک سے پاک ہے اور ہر قسم کی عبادت صرف اسی کے لیے ہے اور اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(67) اور ان منکروں نے اللہ تعالیٰ کی وہ قدر نہیں پہچانی جو اس کی قدر پہچاننے کا حق تھا حالانکہ یہ تمام زمین قیامت کے اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان کاغذ کی طرح اس کے داہنے ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے اور اللہ تعالیٰ ان مشرکوں کے شرک سے پاک اور بالاتر ہے۔ قدر کا ترجمہ ہم نے قدر ہی کردیا چونکہ یہ لفظ عام طریقہ سے بولا اور سمجھا جاتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اور نہیں سمجھے اللہ کو جتنا کچھ وہ ہے بعض لوگوں نے قدر کو عظمت سے تعبیر کیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی شان جس عظمت و جلال کی مقتضی تھی اس کے موافق اس کی تعظیم نہیں کی آگے اس کی جلالت شان مذکور ہے کہ تمام زمینیں اس کی مٹھی میں ہوں گے اور تمام آسمان داہنے ہاتھ سے لپٹے ہوئے ہوں گے ہم نے ترجمے میں کاغذ کی طرح کیا چونکہ سورة انبیاء کے آخری رکوع میں کطی السجل للکتب فرمایا تھا بعض مفسرین نے بیمینہ کی تفسیر بقدر تہ سے بھی کی ہے یعنی آسمان کی قدرت سے لپٹ جائیں گے اور لپٹے ہوئے ہوں گے۔ داہنے ہاتھ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر ایک داہنا ہے کیونکہ بائیں کو دائیں سے کمتری ہے اور وہاں کمتری کا تصور بھی ناجائز ہے اس لئے اس کا ہر ہاتھ داہنا ہے مزید برآں یہ ہاتھ اور دونوں ہاتھ متشابہات میں سے ہیں جن کے معنی معلوم اور کیفیت مجہول ہے اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اس کے ہاتھ کیسے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر بندے اس کی عظمت و جلال اور اس کی شان وقدوسیت کو پہچانتے تو اس کے ساتھ شریک تجویزنہ کرتے حدیث میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں کہ زمین کو مٹھی میں اور آسمانوں کو ہاتھ پر لپیٹ کر فرمائے گا میں بادشاہ ہوں ۔ کہاں ہیں بادشاہ زمین کے ؟ میں قدوس یعنی پاک ہوں میں سلام ہوں یعنی سلامتی مجھ سے وابستہ ہے میں مومن یعنی امن دینے والا ہوں میں نگہبان ہوں میں عزیز یعنی غالب ہوں میں جبار ہوں یعنی زبردست میں متکبر ہوں یعنی سے سے بزرگ میں نے ہی دنیا کو پیدا کیا جب وہ کچھ نہ تھی اور میں ہی اس کا اعادہ کروں گا۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں اللہ کے فرمائے موافق اللہ کا داہنا ہاتھ کہئے اور بانوں نہ کہئے۔