The Idolators did not make a just Estimate of Allah such as is due to Him
Allah states;
وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ
...
...
وَالاْاَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ
They made not a just estimate of Allah such as is due to Him.
means, the idolators did not give Allah His due when they worshipped others alongside Him. He is the Almighty, and there is none mightier than Him; He is the One Who is able to do all things; He is the Owner of all things and everything is under His control and power.
Mujahid said,
"This was revealed concerning Quraysh."
As-Suddi said,
"They did not venerate Him as He deserves to be venerated."
Muhammad bin Ka`b said,
"If they had made a just estimate of Allah such as is due to Him, they would not have lied."
Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas, may Allah be pleased with him, said:
وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ
(They made not a just estimate of Allah such as is due to Him),
"These are the disbeliever who did not believe that Allah had power over them. Whoever believes that Allah is able to do all things, has made a just estimate of Allah such as is due to Him, and whoever does not believe that, has not made a just estimate of Allah such as is due to Him."
Many Hadiths have been narrated concerning this Ayah and how it and other Ayat like it are to be interpreted and accepted without any attempts to twist or change the meaning.
Concerning the Ayah,
وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ
(They made not a just estimate of Allah such as is due to Him), Al-Bukhari recorded that Abdullah bin Mas`ud, may Allah be pleased with him, said,
"One of the rabbis came to the Messenger of Allah and said, `O Muhammad! We learn that Allah will put the heavens on one finger, the earths on one finger, the trees on one finger, the water and dust on one finger, and the rest of creation on one finger, then He will say: I am the King.' The Messenger of Allah smiled so broadly that his molars could be seen, in confirmation of what the rabbi had said. Then the Messenger of Allah recited:
وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ
وَالاْاَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ
...
They made not a just estimate of Allah such as is due to Him. And on the Day of Resurrection the whole of the earth will be grasped by His Hand."
Al-Bukhari also recorded this in other places of his Sahih.
It was also recorded by Imam Ahmad and Muslim, and by At-Tirmidhi and An-Nasa'i in the (books of) Tafsir in their Sunans.
Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, said,
"I heard the Messenger of Allah say:
يَقْبِضُ اللهُ تَعَالَى الاَْرْضَ وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الاَْرْضِ
Allah will grasp the earth and roll up the heavens in His Right Hand, then He will say: "I am the King, where are the kings of the earth.""
This version was recorded only by Al-Bukhari;
Muslim recorded another version.
Al-Bukhari also recorded from Ibn Umar, may Allah be pleased with him, that the Messenger of Allah said:
إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَقْبِضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الاَْرَضِينَ عَلَى أُصْبُعٍ وَتَكُونُ السَّموَاتُ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِك
On the Day of Resurrection, Allah, may He be blessed and exalted, will grasp the earth with one finger, and the heavens will be in His Right Hand, then He will say, "I am the King."
This version was also recorded by Al-Bukhari.
It is recorded that Ibn Umar, may Allah be pleased with him, said,
"The Messenger of Allah recited this Ayah on the Minbar one day:
وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالاَْرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّماوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ
They made not a just estimate of Allah such as is due to Him. On the Day of Resurrection the whole earth will be grasped by His Hand and the heavens will be rolled up in His Right Hand. Glorified be He, and High be He above all that they associate as partners with Him!
The Messenger of Allah said while moving his hand forward and backward:
يُمَجِّدُ الرَّبُّ نَفْسَهُ أَنَا الْجَبَّارُ أَنَا الْمُتَكَبِّرُ أَنَا الْمَلِكُ أَنَا الْعَزِيزُ أَنَا الْكَرِيم
And the Lord will glorify Himself, saying "I am Compeller, I am the Proud, I am the King, I am the Mighty, I am the Most Generous."
And the Minbar shook so much that we feared that the Messenger of Allah would fall."
This was also recorded by Muslim, An-Nasa'i and Ibn Majah.
زمین و آسمان اللہ کی انگلیوں میں ۔
مشرکین نے دراصل اللہ تعالیٰ کی قدر و عظمت جانی ہی نہیں اسی وجہ سے وہ اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کرنے لگے ، اس سے بڑھ کر عزت والا اس سے زیادہ بادشاہت والا اس سے بڑھ کر غلبے اور قدرت والا کوئی نہیں ، نہ کوئی اس کا ہمسر اور کرنے والا ہے ۔ یہ آیت کفار قریش کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ انہیں اگر قدر ہوتی تو اس کی باتوں کو غلط نہ جانتے ۔ جو شخص اللہ کو ہر چیز پر قادر مانے ، وہ ہے جس نے اللہ کی عظمت کی اور جس کا یہ عقیدہ نہ ہو وہ اللہ کی قدر کرنے والا نہیں ۔ اس آیت کے متعلق بہت سی حدیثیں آئی ہیں ۔ اس جیسی آیتوں کے بارے میں سلف صالحین کا مسلک یہی رہا ہے کہ جس طرح اور جن لفظوں میں یہ آئی ہے اسی طرح انہی لفظوں کے ساتھ انہیں مان لینا اور ان پر ایمان رکھنا ۔ نہ ان کی کیفیت ٹٹولنا نہ ان میں تحریف و تبدیلی کرنا ، صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں ہے کہ یہودیوں کا ایک بڑا عالم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ہم یہ لکھا پاتے ہیں کہ اللہ عزوجل ساتوں آسمانوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور سب زمینوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور درختوں کو ایک انگلی پر رکھ لے گا اور پانی اور مٹی کو ایک انگلی پر اور باقی تمام مخلوق کو ایک انگلی پر رکھ لے گا پھر فرمائے گا میں ہی سب کا مالک اور سچا بادشاہ ہوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی بات کی سچائی پر ہنس دیئے یہاں تک کہ آپ کے مسوڑھے ظاہر ہوگئے ۔ پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی ۔ مسند کی حدیث بھی اسی کے قریب ہے اس میں ہے کہ آپ ہنسے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری اور روایت میں ہے کہ وہ اپنی انگلیوں پر بتاتا جاتا تھا پہلے اس نے کلمے کی انگلی دکھائی تھی ۔ اس روایت میں چار انگلیوں کا ذکر ہے ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے اللہ تعالیٰ زمین کو قبض کرلے گا اور آسمان کو اپنی داہنی مٹھی میں لے لے گا ۔ پھر فرمائے گا میں ہوں بادشاہ کہاں ہیں زمین کے بادشاہ؟ مسلم کی اس حدیث میں ہے کہ زمینیں اس کی ایک انگلی پر ہوں گی اور آسمان اس کے داہنے ہاتھ میں ہوں گے پھر فرمائے گا میں ہی بادشاہ ہوں ۔ مسند احمد میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن منبر پر اس آیت کی تلاوت کی اور آپ اپنا ہاتھ ہلاتے جاتے آگے پیچھے لا رہے تھے اور فرماتے تھے اللہ تعالیٰ اپنی بزرگی آپ بیان فرمائے گا کہ میں جبار ہوں میں متکبر ہوں میں مالک ہوں میں باعزت ہوں میں کریم ہوں ۔ آپ اس کے بیان کے وقت اتنا ہل رہے تھے کہ ہمیں ڈر لگنے لگا کہ کہیں آپ منبر سمیت گر نہ پڑیں ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی پوری کیفیت دکھا دی کہ کس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکایت کیا تھا ؟ کہ اللہ تبارک و آسمانوں اور زمینوں کو اپنے ہاتھ میں لے گا اور فرمائے گا میں بادشاہ ہوں ۔ اپنی انگلیوں کو کبھی کھولے گا کبھی بند کرے گا اور آپ اس وقت ہل رہے تھے یہاں تک کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ہلنے سے سارا منبر ہلنے لگا اور مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو گرا نہ دے ۔ بزار کی رویت میں ہے کہ آپ نے یہ آیت پڑھی اور منبر ہلنے لگا پس آپ تین مرتبہ آئے گئے واللہ اعلم ۔ معجم کبیر طبرانی کی ایک غریب حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی ایک جماعت سے فرمایا میں آج تمہیں سورۃ زمر کی آخری آیتیں سناؤں گا جسے ان سے رونا آگیا وہ جنتی ہوگیا اب آپ نے اس آیت سے لے کر ختم سورۃ تک کی آیتیں تلاوت فرمائیں بعض روئے اور بعض کو رونا نہ آیا انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ہر چند رونا چاہا لیکن رونا نہ آیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا میں پھر پڑھوں گا جسے رونا نہ آئے وہ رونی شکل بناکر بہ تکلف روئے ۔ ایک اس سے بڑھ کر غریب حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے تین چیزیں اپنے بندوں میں چھپالی ہیں اگر وہ انہیں دیکھ لیتے تو کوئی شخص کبھی کوئی بدعملی نہ کرتا ۔ ( ١ ) اگر میں پردہ ہٹا دیتا اور وہ مجھے دیکھ کر خوب یقین کرلیتے اور معلوم کرلیتے کہ میں اپنی مخلوق کے ساتھ کیا کچھ کرتا ہوں جبکہ ان کے پاس آؤں اور آسمانوں کو اپنی مٹھی میں لے لوں پھر اپنی زمین کو اپنی مٹھی میں لے لوں پھر کہوں میں بادشاہ ہوں میرے سوا ملک کا مالک کون ہے؟ ( ٢ ) پھر میں انہیں جنت دکھاؤں اور اس میں جو بھلائیاں ہیں سب ان کے سامنے کردوں اور وہ یقین کے ساتھ خوب اچھی طرح دیکھ لیں ۔ ( ٣ ) اور میں انہیں جہنم دکھا دوں اور اس کے عذاب دکھا دوں یہاں تک کہ انہیں یقین آ جائے ۔ لیکن میں نے یہ چیزیں قصداً ان سے پوشیدہ کر رکھی ہیں ۔ تاکہ میں جان لوں کہ وہ مجھے کس طرح جانتے ہیں کیونکہ میں نے یہ سب باتیں بیان کردی ہیں ۔ اس کی سند متقارب ہے اور اس نسخے سے بہت سی حدیثیں روایت کی جاتی ہیں ۔ واللہ اعلم ۔