Surat uz Zumur

Surah: 39

Verse: 8

سورة الزمر

وَ اِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّہٗ مُنِیۡبًا اِلَیۡہِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَہٗ نِعۡمَۃً مِّنۡہُ نَسِیَ مَا کَانَ یَدۡعُوۡۤا اِلَیۡہِ مِنۡ قَبۡلُ وَ جَعَلَ لِلّٰہِ اَنۡدَادًا لِّیُضِلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ ؕ قُلۡ تَمَتَّعۡ بِکُفۡرِکَ قَلِیۡلًا ٭ۖ اِنَّکَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ ﴿۸﴾

And when adversity touches man, he calls upon his Lord, turning to Him [alone]; then when He bestows on him a favor from Himself, he forgets Him whom he called upon before, and he attributes to Allah equals to mislead [people] from His way. Say, "Enjoy your disbelief for a little; indeed, you are of the companions of the Fire."

اور انسان کو جب کبھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ خوب رجوع ہو کر اپنے رب کو پکارتا ہے ، پھر جب اللہ تعالٰی اسے اپنے پاس سے نعمت عطا فرما دیتا ہے تو وہ اس سے پہلے جو دعا کرتا تھا ( اسے ) بھول جاتا ہے اور اللہ تعالٰی کے شریک مقرر کرنے لگتا ہے جس سے ( اوروں کو بھی ) اس کی راہ سے بہکائے ، آپ کہہ دیجئے! کہ اپنے کفر کا فائدہ کچھ دن اور اٹھالو ، ( آخر ) تو دوزخیوں میں ہونے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِذَا مَسَّ الاْإِنسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهُ مُنِيبًا إِلَيْهِ ... And when some hurt touches man, he cries to his Lord, turning to Him in repentance. means, at times of need, he prays to Allah and seeks His help alone, not associating anything with Him. This is like the Ayah: وَإِذَا مَسَّكُمُ الْضُّرُّ فِى الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلاَ إِيَّاهُ فَلَمَّا نَجَّـكُمْ إِلَى الْبَرِّ أَعْرَضْتُمْ وَكَانَ الاِنْسَـنُ كَفُورًا And when harm touches you upon the sea, those that you call upon vanish from you except Him. But when He brings you safe to land, you turn away. And man is ever ungrateful. (17:67) Allah says: ... ثُمَّ إِذَا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِّنْهُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُو إِلَيْهِ مِن قَبْلُ ... But when He bestows a favor upon him from Himself, he forgets that for which he cried for before, means, at the time of ease, he forgets that supplication and prayer. This is like the Ayah: وَإِذَا مَسَّ الاِنسَـنَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنبِهِ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَأيِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَأ إِلَى ضُرٍّ مَّسَّهُ And when harm touches man, he invokes Us, lying on his side, or sitting or standing. But when We have removed his harm from him, he passes on as if he had never invoked Us for a harm that touched him! (10:12) ... وَجَعَلَ لِلَّهِ أَندَادًا لِّيُضِلَّ عَن سَبِيلِهِ ... and he sets up rivals to Allah, in order to mislead others from His path. means, at times of ease, he associates others in worship with Allah and sets up rivals to Him. ... قُلْ تَمَتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيلً إِنَّكَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ Say: "Take pleasure in your disbelief for a while, surely, you are (one) of the dwellers of the Fire!" means, say to those whose way this is, `enjoy your disbelief for a while!' This is a stern threat and solemn warning, as in the Ayat: قُلْ تَمَتَّعُواْ فَإِنَّ مَصِيرَكُمْ إِلَى النَّارِ Say: "Enjoy! But certainly, your destination is the Fire!" (14:30) نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلً ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَى عَذَابٍ غَلِيظٍ We let them enjoy for a little while, then in the end We shall oblige them to (enter) a great torment. (31:24)

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

8۔ 1 یا اس تکلیف کو بھول جاتا ہے جس کو دور کرنے کے لئے وہ دوسروں کو چھوڑ کر، اللہ سے دعا کرتا تھا یا اس رب کو بھول جاتا ہے، جسے وہ پکارتا تھا اور پھر شرک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧] جمعرات کو مزاروں پر حاضری دینے والے :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک دنیادار اور جاہل قسم کے انسان کی فطرت بیان فرمائی ہے جو مزاروں پر جمعرات کو حاضری دینے میں اپنی سب سعادت سمجھتا ہے۔ اس سے زیادہ اسے نہ دین کے سمجھنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور نہ وہ اس کے لئے کوئی کوشش کرتا ہے۔ اور یہ سمجھتا ہے کہ یہ دنیا بس اللہ کے ان پیاروں کے سہارے ہی قائم ہے۔ جو ان مقبروں اور مزاروں میں موجود زندہ ہیں اور لوگوں کی داد رسی کر رہے ہیں۔ اور کچھ ایسے ہی عقیدے مشرکین مکہ کے اپنے بتوں سے وابستہ تھے۔ ایسے لوگوں کو جب کوئی ایسی مصیبت بن جاتی ہے کہ موت سامنے کھڑی نظر آنے لگتی ہے تو صرف اللہ کو پکارتے ہیں اور اللہ کے پیاروں کو بھول جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ سارے مشرکوں کا کبھی اس بات پر اتفاق نہیں ہوسکا کہ فی الواقع اللہ کے بعد وہ کون سی ہستی ہے۔ جو دافع البلاء ہوسکتی ہے۔ کسی کے نزدیک ایک بزرگ ہوتا ہے تو کسی کے نزدیک کوئی دوسرا بزرگ۔ البتہ اللہ کی ذات پر سب متفق ہوجاتے ہیں اور اسے پکارنے لگتے ہیں۔ پھر جب اللہ اس مصیبت سے نجات دے دیتا ہے اور انہیں سکھ چین نصیب ہوجاتا ہے تو پھر اللہ کو بھول جاتے ہیں اور اب ان کی ساری نیاز مندیاں بس اللہ کے پیاروں کے لئے رہ جاتی ہیں۔ [١٨] پھر وہ اسی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ دوسروں سے یوں کہنے لگتا ہے کہ ہمیں تو فلاں آستانے سے شفا نصیب ہوئی تھی۔ اور فلاں بزرگ کی نظر کرم کی وجہ سے ہم اس مصیبت سے بچ نکلے تھے اور فلاں بزرگ کی بارگاہ سے ہماری فلاں حاجت پوری ہوئی تھی اور ہمارے دن پھرے تھے اسی طرح دوسرے بہت سے لوگ بھی ان حضرتوں کے معتقد بن جاتے ہیں اور ہر جاہل اپنے اسی طرح کے تجربے بیان کر کرکے عوام میں گمراہی پھیلاتا جاتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّهٗ : اپنی وحدانیت اور کمال قدرت کے بہت سے دلائل اور انھیں دیکھنے کے بعد شکر یا کفر کرنے والوں کا انجام بیان فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے خوش حالی اور بدحالی میں انسان کی طبیعت کا ذکر فرمایا، ساتھ ہی بتادیا کہ دونوں حالتوں میں مومن و کافر اور عالم و جاہل برابر نہیں ہیں۔ آیت میں ’ الانسان “ سے مراد کافر و مشرک ہے، کیونکہ اس کے متعلق آگے آ رہا ہے : (وَجَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا) کہ نعمت ملنے پر وہ اللہ کے لیے کئی شریک بنا لیتا ہے۔ جن مشرک انسانوں کا یہاں ذکر ہے وہ کم از کم مصیبت میں تو ایک اللہ کو پکارتے تھے، مگر ہمارے زمانے کے کئی اسلام کے دعوے دار مصیبت میں اور سمندر میں طوفان کے وقت بھی غیر اللہ کو پکارتے رہتے ہیں۔ [ إِنَّا لِلّٰہِ وَ إِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ] دَعَا رَبَّهٗ مُنِيْبًا اِلَيْهِ : یعنی تکلیف اور مصیبت کے وقت وہ پورے خلوص کے ساتھ اپنے رب کو پکارتا ہے، اس وقت اسے کوئی دوسرا معبود یاد نہیں رہتا، وہ سب سے مایوس ہو کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ دلیل ہے کہ اس کے دل کی گہرائیوں میں یہ بات موجود ہے کہ وہ تکلیف اس کا کوئی حاجت روا یا مشکل کشا یا داتا یا دستگیر دور نہیں کرسکتا، اسے دور کرنے والا صرف ایک اللہ ہے۔ ” منیبا “ کا مطلب یہ ہے کہ وہ پہلے غیروں کو پکارتا تھا، مصیبت کے وقت سب کو چھوڑ کر واپس اللہ کی طرف آجاتا ہے۔ اِذَا خَوَّلَهٗ نِعْمَةً مِّنْهُ : نعمت عطا فرمانے سے مراد اس تکلیف کا دور کرنا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی نعمت مراد ہوسکتی ہے۔ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُوْٓا اِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ ، الیہ “ میں ضمیر ” ہٗ “ سے مراد ” ضر “ ہے۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے : (وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَان الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْۢبِهٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَاۗىِٕمًا ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهٗ مَرَّ كَاَنْ لَّمْ يَدْعُنَآ اِلٰى ضُرٍّ مَّسَّهٗ ) [ یونس : ١٢ ] ” اور جب انسان کو تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے پہلو پر یا بیٹھا ہوا یا کھڑا ہوا ہمیں پکارتا ہے، پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف دور کردیتے ہیں تو چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کسی تکلیف کی طرف، جو اسے پہنچی ہو، پکارا ہی نہیں۔ “ وَجَعَلَ لِلّٰهِ اَنْدَادًا لِّيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ : یعنی اللہ کی راہ (اسلام و توحید) سے وہ نہ صرف خود گمراہ ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور لوگوں سے کہتا پھرتا ہے کہ ہمیں تو فلاں آستانے سے شفا نصیب ہوئی تھی، فلاں بزرگ کی نظر کرم سے ہم مصیبت سے نکل آئے اور فلاں حضرت جی کی توجہ سے ہماری کشتی کنارے آ لگی۔ اس طرح یہ جاہل جھوٹی کہانیاں گھڑ کر بےبس اور بےاختیار مخلوق کو اللہ کا شریک بتا کر لوگوں کو گمراہ کرتا رہتا ہے۔ قُلْ تَمَــتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيْلًا۔۔ : فرمایا، اس مشرک انسان کو کہہ دے کہ اپنے کفر و شرک کے ذریعے سے لوگوں کو گمراہ کر کے حاصل ہونے والی لذتوں سے معمولی فائدہ اٹھا لے، مگر یہ بالکل تھوڑی مدت کے لیے ہے، بہت جلد یہ سب کچھ ختم ہوجائے گا اور تو آگ والوں میں شامل ہو کر ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنے والا ہے۔ آیت کی مزید تفسیر کے لیے دیکھیے سورة یونس (١٢) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّہٗ مُنِيْبًا اِلَيْہِ ثُمَّ اِذَا خَوَّلَہٗ نِعْمَۃً مِّنْہُ نَسِيَ مَا كَانَ يَدْعُوْٓا اِلَيْہِ مِنْ قَبْلُ وَجَعَلَ لِلہِ اَنْدَادًا لِّيُضِلَّ عَنْ سَبِيْلِہٖ۝ ٠ ۭ قُلْ تَمَــتَّعْ بِكُفْرِكَ قَلِيْلًا۝ ٠ ۤۖ اِنَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ۝ ٨ إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو : 11-إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف ) ماضی کیلئے آتا ہے اور جب ما کے ساتھ مرکب ہو ( اذما) تو معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے جیسا کہ شاعر نے کہا ع (11) اذمااتیت علی الرسول فقل لہ جب تو رسول اللہ کے پاس جائے تو ان سے کہنا ۔ مسس المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ، ( م س س ) المس کے معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔ اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا جاتا ہے جو انسان تو پہنچے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] اور کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ۔۔ چھوہی نہیں سکے گی نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ ضر الضُّرُّ : سوءُ الحال، إمّا في نفسه لقلّة العلم والفضل والعفّة، وإمّا في بدنه لعدم جارحة ونقص، وإمّا في حالة ظاهرة من قلّة مال وجاه، وقوله : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] ، فهو محتمل لثلاثتها، ( ض ر ر) الضر کے معنی بدحالی کے ہیں خواہ اس کا تعلق انسان کے نفس سے ہو جیسے علم وفضل اور عفت کی کمی اور خواہ بدن سے ہو جیسے کسی عضو کا ناقص ہونا یا قلت مال وجاہ کے سبب ظاہری حالت کا برا ہونا ۔ اور آیت کریمہ : فَكَشَفْنا ما بِهِ مِنْ ضُرٍّ [ الأنبیاء/ 84] اور جوان کو تکلیف تھی وہ دورکردی ۔ میں لفظ ضر سے تینوں معنی مراد ہوسکتے ہیں دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو : يا فلان، وقد يستعمل کلّ واحد منهما موضع الآخر . قال تعالی: كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ، ( د ع و ) الدعاء ( ن ) کے معنی ندا کے ہیں مگر ندا کا لفظ کبھی صرف یا آیا وغیرہ ہما حروف ندا پر بولا جاتا ہے ۔ اگرچہ ان کے بعد منادٰی مذکور نہ ہو لیکن دعاء کا لفظ صرف اس وقت بولا جاتا ہے جب حرف ندا کے ساتھ اسم ( منادی ) بھی مزکور ہو جیسے یا فلان ۔ کبھی یہ دونوں یعنی دعاء اور نداء ایک دوسرے کی جگہ پر بولے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِما لا يَسْمَعُ إِلَّا دُعاءً وَنِداءً [ البقرة/ 171] ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو کسی ایسی چیز کو آواز دے جو پکار اور آواز کے سوا کچھ نہ سن سکے ۔ نوب النَّوْب : رجوع الشیء مرّة بعد أخری. وَأَنِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ [ الزمر/ 54] ، مُنِيبِينَ إِلَيْهِ [ الروم/ 31] ( ن و ب ) النوب ۔ کسی چیز کا بار بارلوٹ کر آنا ۔ یہ ناب ( ن ) نوبۃ ونوبا کا مصدر ہے، وَأَنِيبُوا إِلى رَبِّكُمْ [ الزمر/ 54] اپنے پروردگار کی طر ف رجوع کرو ۔ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ [ الروم/ 31] ( مومنو) اس خدا کی طرف رجوع کئے رہو ۔ فلان ینتاب فلانا وہ اس کے پاس آتا جاتا ہے ۔ خول قوله تعالی: وَتَرَكْتُمْ ما خَوَّلْناكُمْ وَراءَ ظُهُورِكُمْ [ الأنعام/ 94] ، أي : ما أعطیناکم، والتّخویل في الأصل : إعطاء الخَوَل، وقیل :إعطاء ما يصير له خولا، وقیل : إعطاء ما يحتاج أن يتعهّده، من قولهم : فلان خَالُ مَالٍ ، وخَايِلُ مالٍ ، أي : حسن القیام به . والخَال : ثوب يعلّق فيخيّل للوحوش، والخَال في الجسد : شامة فيه . ( خ و ل ) التخویل ( تفعیل ) کے اصل معنی خول یعنی ایسی چیزیں عطا کرنے کے ہیں جو انسان کو خول کا کام دے اور بقول بعض ایسی چیزیں عطا کرنا جن کی نگہداشت کی ضرورت پڑے ۔ مال کے محاورہ سے ماخوذ ہے اور یہ کے محاورہ سے ماخوذ ہے یعنی فلاں مال کی خوب نگہداشت کرنے والا ہے ۔ قرآن میں ہے : وَتَرَكْتُمْ ما خَوَّلْناكُمْ وَراءَ ظُهُورِكُمْ [ الأنعام/ 94] اور جو امال ومتاع ) ہم نے تمہیں عطا فرمایا تھا وہ سب اپنی پیٹھ چھوڑ آئے ۔ اور الخال اس کپڑے کو کہا جاتا ہے جو وحسنی جانوروں کو ڈرانے کے لئے کھیت میں لٹکا دیا جاتا ہے ۔ نیز خال کے معنی تل یعنی بدن پر سیاہ نشان کے بھی آتے ہیں ۔ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ نسی النِّسْيَانُ : تَرْكُ الإنسانِ ضبطَ ما استودِعَ ، إمَّا لضَعْفِ قلبِهِ ، وإمَّا عن غفْلةٍ ، وإمَّا عن قصْدٍ حتی يَنْحَذِفَ عن القلبِ ذِكْرُهُ ، يقال : نَسِيتُهُ نِسْيَاناً. قال تعالی: وَلَقَدْ عَهِدْنا إِلى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً [ طه/ 115] ، فَذُوقُوا بِما نَسِيتُمْ [ السجدة/ 14] ، فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ [ الكهف/ 63] ، لا تُؤاخِذْنِي بِما نَسِيتُ [ الكهف/ 73] ، فَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ [ المائدة/ 14] ، ثُمَّ إِذا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِنْهُ نَسِيَ ما کانَ يَدْعُوا إِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ [ الزمر/ 8] ، سَنُقْرِئُكَ فَلا تَنْسى[ الأعلی/ 6] إِخبارٌ وضَمَانٌ من اللهِ تعالیٰ أنه يجعله بحیث لا يَنْسَى ما يسمعه من الحقّ ، وكلّ نسْيانٍ من الإنسان ذَمَّه اللهُ تعالیٰ به فهو ما کان أصلُه عن تعمُّدٍ. وما عُذِرَ فيه نحو ما رُوِيَ عن النبيِّ صلَّى اللَّه عليه وسلم : «رُفِعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأُ وَالنِّسْيَانُ» فهو ما لم يكنْ سَبَبُهُ منه . وقوله تعالی: فَذُوقُوا بِما نَسِيتُمْ لِقاءَ يَوْمِكُمْ هذا إِنَّا نَسِيناكُمْ [ السجدة/ 14] هو ما کان سببُهُ عن تَعَمُّدٍ منهم، وترْكُهُ علی طریقِ الإِهَانةِ ، وإذا نُسِبَ ذلك إلى اللہ فهو تَرْكُهُ إيّاهم استِهَانَةً بهم، ومُجازاة لِما ترکوه . قال تعالی: فَالْيَوْمَ نَنْساهُمْ كَما نَسُوا لِقاءَ يَوْمِهِمْ هذا[ الأعراف/ 51] ، نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ [ التوبة/ 67] وقوله : وَلا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْساهُمْ أَنْفُسَهُمْ [ الحشر/ 19] فتنبيه أن الإنسان بمعرفته بنفسه يعرف اللَّهَ ، فنسیانُهُ لله هو من نسیانه نَفْسَهُ. وقوله تعالی: وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذا نَسِيتَ [ الكهف/ 24] . قال ابن عباس : إذا قلتَ شيئا ولم تقل إن شاء اللَّه فَقُلْهُ إذا تذكَّرْتَه «2» ، وبهذا أجاز الاستثناءَ بعد مُدَّة، قال عکرمة «3» : معنی «نَسِيتَ» : ارْتَكَبْتَ ذَنْباً ، ومعناه، اذْكُرِ اللهَ إذا أردتَ وقصدتَ ارتکابَ ذَنْبٍ يكنْ ذلک دافعاً لك، فالنِّسْيُ أصله ما يُنْسَى کالنِّقْضِ لما يُنْقَض، ( ن س ی ) النسیان یہ سنیتہ نسیانا کا مصدر ہے اور اس کے معنی کسی چیز کو ضبط میں نہ رکھنے کے ہیں خواہ یہ ترک ضبط ضعف قلب کی وجہ سے ہو یا ازارہ غفلت ہو یا قصدا کسی چیز کی یاد بھلا دی جائے حتیٰ کہ وہ دل سے محو ہوجائے قرآن میں ہے : ۔ وَلَقَدْ عَهِدْنا إِلى آدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِيَ وَلَمْ نَجِدْ لَهُ عَزْماً [ طه/ 115] ہم نے پہلے آدم (علیہ السلام) سے عہد لیا تھا مگر وہ اسے بھول گئے اور ہم نے ان میں صبر وثبات نہ دیکھا ۔ فَذُوقُوا بِما نَسِيتُمْ [ السجدة/ 14] سو اب آگ کے مزے چکھو اس لئے کہ تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا ۔ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَما أَنْسانِيهُ إِلَّا الشَّيْطانُ [ الكهف/ 63] تو میں مچھلی وہیں بھول گیا ۔ اور مجھے آپ سے اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا ۔ لا تُؤاخِذْنِي بِما نَسِيتُ [ الكهف/ 73] کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذاہ نہ کیجئے فَنَسُوا حَظًّا مِمَّا ذُكِّرُوا بِهِ [ المائدة/ 14] مگر انہوں نے بھی اس نصیحت کا جوان کو کی گئی تھی ایک حصہ فراموش کردیا ۔ ثُمَّ إِذا خَوَّلَهُ نِعْمَةً مِنْهُ نَسِيَ ما کانَ يَدْعُوا إِلَيْهِ مِنْ قَبْلُ [ الزمر/ 8] پھر جب وہ اس کو اپنی طرف سے کوئی نعمت دے دیتا ہے تو جس کام کے لئے پہلے اس کو پکارتا ہے اسے بھول جاتا ہے اور آیت سَنُقْرِئُكَ فَلا تَنْسى[ الأعلی/ 6] ہم تمہیں پڑھائیں گے کہ تم فراموش نہ کرو گے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے ایسا بنادے گا کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے سنو گے اسے بھولنے نہیں پاؤ گے پھر ہر وہ نسیان جو انسان کے قصد اور ارداہ سے ہو وہ مذموم ہے اور جو بغیر قصد اور ارادہ کے ہو اس میں انسان معزور ہے اور حدیث میں جو مروی ہے رفع عن امتی الخطاء والنیان کہ میری امت کو خطا اور نسیان معاف ہے تو اس سے یہی دوسری قسم کا نسیان مراد ہے یعنیوی جس میں انسان کے ارادہ کو دخل نہ ہو اور آیت کریمہ : ۔ فَذُوقُوا بِما نَسِيتُمْ لِقاءَ يَوْمِكُمْ هذا إِنَّا نَسِيناكُمْ [ السجدة/ 14] سو اب آگ کے مزے چکھو اس لئے کہ تم نے اس دن کے آنے کو بھلا رکھا تھا ۔ میں نسیان بمعنی اول ہے یعنی وہ جس میں انسان کے قصد اور ارادہ کو دخل ہو اور کسی چیز کو حقیر سمجھ کرا سے چھوڑ دیا جائے ۔ پھر جب نسیان کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس سے ازراہ اہانث انسان کو چھوڑ ینے اور احکام الہیٰ کے ترک کرنے کی وجہ سے اسے سزا دینے کے معنی مراد ہوتے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَالْيَوْمَ نَنْساهُمْ كَما نَسُوا لِقاءَ يَوْمِهِمْ هذا[ الأعراف/ 51] تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے تھے اس طرح آج ہم بھی انہیں بھلا دیں گے ۔ نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ [ التوبة/ 67] انہوں نے خدا کو بھلا یا تو خدا نے بھی ان کو بھلا دیا ۔ وَلا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللَّهَ فَأَنْساهُمْ أَنْفُسَهُمْ [ الحشر/ 19] اور ان لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے انہیں ایسا کردیا کہ خود اپنے تئیں بھول گئے ۔ میں متنبہ کیا ہے کہ انسان اپنے نفس کی معرفت حاصل کرنے سے ہی معرفت الہیٰ حاصل کرسکتا ہے لہذا انسان کا اللہ تعالیٰ کو بھلا دینا خود اپنے آپکو بھال دینے کے مترادف ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذا نَسِيتَ [ الكهف/ 24] اور جب خدا کا نام لینا بھال جاؤ تو یاد آنے پر لے لو ۔ کے ابن عباس نے یہ معنی کئے ہیں کہ جب تم کوئی بات کہو اور اس کے ساتھ انشاء اللہ کہنا بھول جاؤ تو یاد آنے پر انشاء اللہ کہہ لیا کرو ۔ اسی لئے ابن عباس کے نزدیک حلف میں کچھ مدت کے بعد بھی انشاء اللہ کہنا جائز ہے اور عکرمہ نے کہا ہے کہ نسیت بمعنی ارتکبت ذنبا کے ہے ۔ اور آیت کے معنی یہ ہیں ۔ کہ جب تمہیں کسی گناہ کے ارتکاب کا خیال آئے تو اس وسوسہ کو دفع کرنے کے لئے خدا کے ذکر میں مشغول ہوجایا کرو تاکہ وہ وسوسہ دفع ہوجائے ۔ النسی کے اصل معنی ماینسیٰ یعنی فراموش شدہ چیز کے ہیں جیسے نقض بمعنی ماینقض آتا ہے ۔ مگر عرف میں نسی اس معمولی چیز کو کہتے ہیں جو در خود اعتناء نہ سمجھی جائے جعل جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها، ( ج ع ل ) جعل ( ف ) یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔ ندد نَدِيدُ الشیءِ : مُشارِكه في جَوْهَره، وذلک ضربٌ من المماثلة، فإنّ المِثْل يقال في أيِّ مشارکةٍ کانتْ ، فكلّ نِدٍّ مثلٌ ، ولیس کلّ مثلٍ نِدّاً ، ويقال : نِدُّهُ ونَدِيدُهُ ونَدِيدَتُهُ ، قال تعالی: فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْداداً [ البقرة/ 22] ، وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْداداً [ البقرة/ 165] ، وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْداداً [ فصلت/ 9] وقرئ : (يوم التَّنَادِّ ) [ غافر/ 32] «2» أي : يَنِدُّ بعضُهم من بعض . نحو : يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ [ عبس/ 34] . ( ن د د ) ندید الشئی ۔ وہ جو کسی چیز کی ذات یا جوہر میں اس کا شریک ہو اور یہ ممانعت کی ایک قسم ہے کیونکہ مثل کا لفظ ہر قسم کی مشارکت پر بولا جاتا ہے ۔ اس بنا پر ہرند کو مثل کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن ہر مثل ند نہیں ہوتا ۔ اور ند ، ندید ندید ۃ تینوں ہم معنی ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْداداً [ البقرة/ 22] پس کسی کو خدا کا ہمسر نہ بناؤ ۔ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْداداً [ البقرة/ 165] اور بعض لوگ ایسے ہیں جو غیر خدا کو شریک خدا بناتے ہیں ۔ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَنْداداً [ فصلت/ 9] اور بتوں کو اس کا مد مقابل بناتے ہو ۔ اور ایک قرات میں یوم التناد تشدید دال کے ساتھ ہے اور یہ نذ یند سے مشتق ہے جس کے معنی دور بھاگنے کے ہیں اور قیامت کے روز بھی چونکہ لوگ اپنے قرابتدروں سے دور بھاگیں گے جیسا کہ آیت کریمہ : ۔ يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ أَخِيهِ [ عبس/ 34] میں مذکور ہے اس لئے روز قیامت کو یو م التناد بتشدید الدال کہا گیا ہے ۔ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ سبل السَّبِيلُ : الطّريق الذي فيه سهولة، وجمعه سُبُلٌ ، قال : وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] ( س ب ل ) السبیل ۔ اصل میں اس رستہ کو کہتے ہیں جس میں سہولت سے چلا جاسکے ، اس کی جمع سبل آتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَأَنْهاراً وَسُبُلًا [ النحل/ 15] دریا اور راستے ۔ متع الْمُتُوعُ : الامتداد والارتفاع . يقال : مَتَعَ النهار ومَتَعَ النّبات : إذا ارتفع في أول النّبات، والْمَتَاعُ : انتفاعٌ ممتدُّ الوقت، يقال : مَتَّعَهُ اللهُ بکذا، وأَمْتَعَهُ ، وتَمَتَّعَ به . قال تعالی: وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] ، ( م ت ع ) المتوع کے معنی کیس چیز کا بڑھنا اور بلند ہونا کے ہیں جیسے متع النھار دن بلند ہوگیا ۔ متع النسبات ( پو دا بڑھ کر بلند ہوگیا المتاع عرصہ دراز تک فائدہ اٹھانا محاورہ ہے : ۔ متعہ اللہ بکذا وامتعہ اللہ اسے دیر تک فائدہ اٹھانے کا موقع دے تمتع بہ اس نے عرصہ دراز تک اس سے فائدہ اٹھایا قران میں ہے : ۔ وَمَتَّعْناهُمْ إِلى حِينٍ [يونس/ 98] اور ایک مدت تک ( فوائد دینوی سے ) ان کو بہرہ مندر کھا ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ قل القِلَّةُ والکثرة يستعملان في الأعداد، كما أنّ العظم والصّغر يستعملان في الأجسام، ثم يستعار کلّ واحد من الکثرة والعظم، ومن القلّة والصّغر للآخر . وقوله تعالی: ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] ( ق ل ل ) القلۃ والکثرۃ بلحاظ اصل وضع کے صفات عدد سے ہیں جیسا کہ عظم اور صغر صفات اجسام سے ہیں بعد کثرت وقلت اور عظم وصغڑ میں سے ہر ایک دوسرے کی جگہ بطور استعارہ استعمال ہونے لگا ہے اور آیت کریمہ ؛ثُمَّ لا يُجاوِرُونَكَ فِيها إِلَّا قَلِيلًا[ الأحزاب/ 60] پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہیں رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ۔ میں قلیلا سے عرصہ قلیل مراد ہے ۔ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] ( ص ح ب ) الصاحب ۔ کے معنی ہیں ہمیشہ ساتھ رہنے والا ۔ خواہ وہ کسی انسان یا حیوان کے ساتھ رہے یا مکان یا زمان کے اور عام اس سے کہ وہ مصاحبت بدنی ہو جو کہ اصل اور اکثر ہے یا بذریعہ عنایت اور ہمت کے ہو جس کے متعلق کہ شاعر نے کہا ہے ( الطوایل ) ( اگر تو میری نظروں سے غائب ہے تو دل سے تو غائب نہیں ہے ) اور حزف میں صاحب صرف اسی کو کہا جاتا ہے جو عام طور پر ساتھ رہے اور کبھی کسی چیز کے مالک کو بھی ھو صاحبہ کہہ دیا جاتا ہے اسی طرح اس کو بھی جو کسی چیز میں تصرف کا مالک ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] اس وقت پیغمبر اپنے رفیق کو تسلی دیتے تھے کہ غم نہ کرو ۔ نار والنَّارُ تقال للهيب الذي يبدو للحاسّة، قال : أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] ، ( ن و ر ) نار اس شعلہ کو کہتے ہیں جو آنکھوں کے سامنے ظاہر ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ [ الواقعة/ 71] بھلا دیکھو کہ جو آگ تم در خت سے نکالتے ہو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

اور جب آدمی کو جیسا کہ کافر ابو جہل ہے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے پروردگار حقیقی کی طرف خاص توجہ کے ساتھ ہاتھ پھیلا کر تکلیف اور سختی کو دور کرنے کے لیے اسی کو پکارنے لگتا ہے پھر جب اللہ تعالیٰ تکلیف کو نعمت کے ساتھ تبدیل کرتا تو اور اللہ کے ساتھ شریک بنانے لگتا ہے جس کی وجہ سے دوسروں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے گمراہ کرتا ہے۔ آپ ابوجہل وغیرہ سے فرما دیجیے کہ کفر کی بہار دنیاوی زندگی میں تھوڑے دنوں تک اور لوٹ لے تو پھر یہ دوزخیوں میں سے ہونے والا ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٨ { وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ ضُرٌّ دَعَا رَبَّہٗ مُنِیْبًا اِلَیْہِ } ” اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے رب کو پکارتا ہے اس کی طرف رجوع کرتے ہوئے “ { ثُمَّ اِذَا خَوَّلَہٗ نِعْمَۃً مِّنْہُ نَسِیَ مَا کَانَ یَدْعُوْٓا اِلَـیْہِ مِنْ قَـبْلُ } ” پھر جب وہ عطا کردیتا ہے اسے کوئی نعمت اپنی طرف سے تو وہ جس چیز کے لیے پہلے اس کے حضور دعائیں کر رہا تھا سب بھول جاتا ہے “ خَوَّلَ کے لفظی معنی اوڑھانے اور لپیٹنے کے ہیں۔ اردو لفظ ” خول “ اسی سے مشتق ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے گرد اپنی نعمت کا خول بنا دیتا ہے ‘ اسے اپنی نعمت اوڑھا دیتا ہے یا اپنی نعمت کے اندر اسے لپیٹ لیتا ہے۔ { وَجَعَلَ لِلّٰہِ اَنْدَادًا } ” اور وہ اللہ کے ّمد ِمقابل ٹھہرا لیتا ہے “ یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بہرہ ور ہونے کے بعد وہ قبل ازاں مانگی ہوئی اپنی دعائوں کو بھول جانے اور اللہ تعالیٰ سے اعراض کرنے پر ہی بس نہیں کرتا ‘ بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اللہ کے مد مقابل جھوٹے معبود بنانے کی جسارت بھی کر گزرتا ہے۔ { لِّیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ } ” تاکہ بہکائے لوگوں کو اس کے راستے سے۔ “ { قُلْ تَمَتَّعْ بِکُفْرِکَ قَلِیْلًاق اِنَّکَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ } ” (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ) آپ کہہ دیجیے کہ مزے اڑا لو اپنے کفر کے ساتھ تھوڑی دیر ‘ یقینا تم آگ والوں میں سے ہو ! “ کفر کی جو روش تم نے اختیار کر رکھی ہے ‘ اس کے ساتھ دنیا کی چند روزہ زندگی میں جو عیش کرسکتے ہو کرلو ‘ اس کے بعد تمہارا مستقل ٹھکانہ جہنم ہے۔ بالآخر اسی کی آگ میں تمہیں جھونک دیا جائے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

23 "The man": the disbeliever who adopted the way of ingratitude. 24 That is, "At that time he dces not remember those other deities whom he used to invoke in good times; but he despairs of them all and turns only to Allah, Lord of the worlds." This is a clear proof of the fact that in the depths of his heart he has the feeling that all other deities are helpless, and the realization that Allah alone is the Possessor of all powers and authority, lies buried and hidden deep in his mind. " 25 That is, "He again forgets the bad times when abandoning all other deities he was invoking only Allah, the One." 26 That is, "He again starts serving others: he obeys them, prays to them and makes offerings before them." 27 That is, "He is not content with his own self having gone astray, but also leads others astray, telling them that the affliction which had befallen him, had been averted by the help of such and such a pious man or saint, or god and goddess." Thus, many other people also put their faith in these deities besides Allah, and are further misled as the ignorant and foolish people describe their experiences before them.

سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :23 انسان سے مراد یہاں وہ کافر انسان ہے جس نے ناشکری کی روش اختیار کر رکھی ہو ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :24 یعنی اس وقت اسے وہ دوسرے معبود یاد نہیں آتے جنہیں وہ اپنے اچھے حال میں پکارا کرتا تھا ، بلکہ ان سب سے مایوس ہو کر وہ صرف اللہ رب العالمین کی طرف رجوع کرتا ہے ۔ یہ گویا اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے دل کی گہرائیوں میں دوسرے معبودوں کے بے اختیار ہونے کا احساس رکھتا ہے اور اس حقیقت کا شعور بھی اس کے ذہن میں کہیں نہ کہیں دبا چھپا موجود ہے کہ اصل اختیارات کا مالک اللہ ہی ہے ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :25 یعنی وہ برا وقت پھر اسے یاد نہیں رہتا جس میں وہ تمام دوسرے معبودوں کو چھوڑ کر صرف اللہ وحدہ لاشریک سے دعائیں مانگ رہا تھا ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :26 یعنی پھر دوسروں کی بندگی کرنے لگتا ہے ۔ انہی کی اطاعت کرتا ہے ، انہی سے دعائیں مانگتا ہے ، اور انہی کے آگے نذر و نیاز پیش کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ سورة الزُّمَر حاشیہ نمبر :27 یعنی خود گمراہ ہونے پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ دوسروں کو بھی یہ کہہ کہہ کر گمراہ کرتا ہے کہ جو آفت مجھ پر آئی تھی وہ فلان حضرت یا فلاں دیوی یا دیوتا کے صدقے میں ٹل گئی ۔ اس سے دوسرے بہت سے لوگ بھی ان معبودان غیر اللہ کے معتقد بن جاتے ہیں اور ہر جاہل اپنے اسی طرح کے تجربات بیان کر کر کے عوام کی اس گمراہی کو بڑھاتا چلا جاتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

٨۔ سورة العنکبوت میں گزر چکا ہے کہ جب یہ مشرک لوگ کشتی میں سوار ہوتے اور دریا کے جوش کے سبب سے کشتی کے ڈوب جانے کا خوف ہوتا تو ایسے وقت پر اپنے بتوں کو بالکل بھول جاتے اور خالص اللہ سے ہی ڈوب جانے کی مصیبت کے ٹل جانے کی التجا کرتے اور جب وہ مصیبت ٹل جاتی تو پھر ترک میں گرفتار ہوجاتے۔ حاصل کلام یہ ہے کہ سورة العنکبوت کی آیتوں کو اس آیت کے ساتھ ملانے سے یہ مطلب ہوا کہ اگرچہ ان لوگوں کے دل اس بات کو جانتے تھے کہ مصیبت کے وقت سوا اللہ کے اور کسی میں مصیبت کو راحت میں بدل دینے کی قدرت نہیں۔ لیکن راحت کے وقت یہ لوگ اس بات پر قائم نہیں رہتے بلکہ مصیبت کے وقت خالص اللہ سے مصیبت کے ٹل جانے کی جو التجا کرتے ہیں۔ راحت کے وقت اس حالت کو یاد ہی نہیں رکھتے اب آگے فرمایا۔ اے رسول اللہ کے تم ان لوگوں سے کہہ دو کہ دنیا کی زندگی تھوڑے دن کی ہے۔ اس میں جو ان کا جی چاہے کر لیویں ‘ پھر مرنے کے ساتھ ہی ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ مسند ٢ ؎ امام احمد کے حوالہ سے عائشہ کی حدیث گزر چکی ہے۔ کہ منکر نکیر کے سوال و جواب کے بعد نیک شخص کے مردہ کو جنت میں اس کا ٹھکانہ اور بد شخص کے مردہ کو دوزخ کا ٹھکانہ اللہ کے فرشتے دکھا کر یہ کہہ دیتے ہیں کہ اس ٹھکانے میں جانے اور رہنے کے لئے تم کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ ابوداؤد ١ ؎ اور مسند امام احمد میں براء بن عازب کی صحیح حدیث ہے جس میں یہ ہے کہ نیک شخص کا مردہ جنت میں اپنا ٹھکانا دیکھ کر قیامت کے جلدی قائم ہو جان کی دعا مانگتا رہتا ہے۔ اور بد شخص کا مردہ دوزخ میں اپنا ٹھکانا دیکھ کر عذاب قبر کو ہلکا جانتا ہے اس لئے اس کی التجا یہ ہوتی ہے کہ قیامت جلدی سے قائم نہ ہو۔ حدیثیں تمتع بکفرک قلیلا کی گویا تفسیر ہیں۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ یہ مشرک لوگ دوزخ میں تو قیامت کے دن جھونکے جاویں گے مگر ان کو اپنے دوزخی ہونے کا انجام مرنے کے ساتھ ہی معلوم ہوجاوے گا۔ اور ایسے لوگوں کا دوزخ کا ٹھکانا ہر وقت گویا ان کی آنکھوں کے سامنے رہے گا۔ اس لئے کہ ان کی التجا یہ ہوگی کہ قیامت جلدی سے قائم نہ ہو۔ (٢ ؎ الترغیب ص ٦٨٨ ج ٤ باب فیما وردنی عذاب القبر و تعلیمہ ولھذا معنی شاھد عند مسلم ٢ ص ٣١٥ باب عرض مقعد المیت من الجنۃ والنار۔ ) (١ ؎ بحوالہ مشکوٰۃ فیما یقال عند من حضرہ الموت ص ١٤٢)

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(39:8) مس ماضی واحد مذکر غائب۔ مس مصدر باب نصر۔ چھونا۔ لاحق ہونا۔ اذا مس الانسان ضر جب انسان کو کوئی تکلیف (مرض وغیرہ) پہنچتی ہے۔ الانسان۔ ھذا وصف للجنس بحال بعض افرادہ جنس کے بعض افراد کی حالت پر جنس کو محمول گرداننا۔ جیسا کہ اور جگہ قرآن مجید میں ہے ان الانسان لظلوم کفار (14:34) انسان بڑا بےانصاف اور ناشکرا ہے۔ الانسان سے یہاں مراد جنس کافر ہے نہ کہ تمام جنس انسان۔ منیبا الیہ : منیبا اسم فاعل واحد مذکر منصوب۔ اللہ کی طرف خلوص سے رجوع کرنے والا۔ انابۃ مصدر افعال۔ نوب مادہ۔ خلوص عمل کے ساتھ اللہ سے توبہ کرنا۔ منیبا الیہ الانسان کا حال ہے۔ دعا ربہ منیبا الیہ۔ اپنے رب کو اس کی طرف دل سے رجوع کرتے ہوئے پکارتا ہے۔ خولہ ماضی واحد مذکر غائب۔ خول یخول تخویل (تفعیل) مصدر سے۔ جس کے معنی عطا کرنے کے ہیں۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب (جب) اس نے اس کو عطا کیا۔ نعمۃ مفعول ثانی خول یعنی حشم و خدم عطا کرنے کے ہیں بعض کے نزدیک اس کے معنی ایسی چیز عطا کرنے کے ہیں جس کی نگہداشت کی ضرورت پڑے۔ دونوں صورتوں میں مراد نعمت عظمیہ ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے وترکتم ما خولنکم وراء ظھورہم (2:94) اور تم اپنے پیچھے چھوڑ آئے جو کچھ ہم نے تم کو دیا تھا۔ نسی ما کان یدعوا الیہ من قبل : ما موصولہ ہے اور اس کا مابعد کا جملہ اس کا صلہ ہے ۔ موصول و صلہ مل کر نسی کا مفعول۔ کان یدعوا ماضی استمراری کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ ضمیر فاعل کا مرجع الانسان (مذکور ہ بالا) ہے۔ تو پیشتر ازیں جس چیز کیلئے وہ اسے پکار رہا تھا اسے بھول جاتا ہے۔ یعنی اس چیز کے لئے اپنی دعا و پکار کو بھول جاتا ہے۔ جعل ماضی بمعنی حال۔ اندادا۔ ند کی جمع۔ ند اس کو کہتے ہیں جو کسی شے کی ذات اور جوہر میں شریک ہو۔ مقابل۔ برابر۔ یہ جعل کا مفعول ہے۔ وہ اللہ کا شریک بنانے لگتا ہے۔ لیضل۔ لام تعلیل کا ہے۔ یا یہ لام عاقبت ہے جیسا کہ اور جگہ آیا ہے :۔ فالتقطہ ال فرعون لیکون لہم عدوا وحزنا (28: 8) چناچہ فرعون کے لوگوں نے اس (موسی) کو اٹھا لیا تاکہ وہ ان کے لئے دشمن اور غم کا باعث بنے۔ یضل مضارع منصوب (بوجہ عمل لام) واحد مذکر غائب اضلال (افعال) مصدر سے کہ گمراہ کر دے، بہکا دے (دوسروں کو) عن سبیلہ : ای عن سبیل اللّٰہ وھو التوحید یعنی خدا کی راہ (توحید) سے دوسروں کو (بھی) گمراہ کر دے۔ قل۔ خطاب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ہے ای قل یا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمتع۔ فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تمتع مصدر باب تفعل۔ تو فائدہ اٹھالے۔ تو برت لے۔ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی تمتع اور تمتعوا کے صیغے آئے ہیں اور دنیا سے فائدہ اٹھانے کو کہا گیا ہے وہ بطور زجر وتوبیخ و تہدید کہا گیا ہے۔ یعنی تمہیں ڈھیل دی جارہی ہے برت لوجو برتنا ہے مثال کے طور پر قل تمتعوا فان مصیرکم الی النار (14:30) کہہ دو (چند روز) فائدے اٹھالو آخر کار تم کو دوزخ کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 یعنی خدا کو بھول جاتا ہے۔ دوسرا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ” وہ اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس کے دفع کرنے کے لئے وہ اس نعمت کے ملنے سے پہلے خدا کو پکارتا تھا “۔2 یعنی اللہ کی راہ ( اسلام و توحید) سے وہ نہ صرف خود گمراہ ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس مقصد کیلئے وہ بہت سے جھوٹے معبودوں اور پیروں فقیروں کو خدا کے برابر قرار دے کر ان سے جھوٹی کرامتیں منسوب کرتا ہے اور لوگوں میں ان کا چرچا کرتا پھرتا ہے۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اس سورة کی تیسری آیت میں فرمایا گیا ہے کہ مشرک اپنے عقیدہ اور بات میں جھوٹا ہے۔ اب اس کے جھوٹ کا عملی ثبوت پیش کیا جارہا ہے۔ یہاں انسان سے مراد مشرک انسان ہے۔ مشرک کو تکلیف پہنچتی تو وہ اٹھتا، بیٹھتا، چلتا، پھرتا، رات اور دن اپنے رب کو پکارتا اور اس کے حضور فریادیں کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ جب بیماری کے بعد صحت، تنگی کے بعد فراخی اور غم کے بعد اسے خوشی نصیب کرتا ہے تو مشرک کو نہ اپنی فریادیں یاد رہتی ہیں اور نہ ہی رب یاد رہتا ہے۔ رب کو یاد رکھنا تو دور کی بات وہ نام و نہاد مسلمان کہلوانے کے باوجود اس بات کا دعویٰ اور پرچار کرتا ہے کہ میری حاجت روائی اور مشکل کشائی فلاں بزرگ اور مزار کے طفیل اور صدقے سے ہوئی ہے۔ اگر وہ کلمہ گو نہیں تو بتوں یا کسی اور چیز کا نام لیتا ہے۔ اس طرح دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتا ہے۔ خود گمراہ ہونے کے ساتھ جھوٹی کرامات اور من گھڑت کہانیوں سے دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے۔ اس شخص کو کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت اور اپنے کفر سے تھوڑا سا فائدہ اٹھا لے بالآخر تو نے جہنم میں جانا ہے۔ قرآن مجید کے کئی مقامات پر شرک کو کفر سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اس لیے سورة الکافرون پارہ ٣٠ میں مکہ کے مشرکوں کو کافر کے لفظ کسے مخاطب کیا ہے کیونکہ کفر اور شرک نتیجہ کے اعتبار سے ایک ہیں۔ اس سے پہلی آیت میں شرک کو نا شکری کہا گیا اور اب شرک کو کفر قرار دیا گیا ہے۔ مشرک کے مقابلے میں مومن کا کردار یہ ہے کہ وہ مشکلات اور پریشانیوں میں بھی اپنے رب کو پکارتا اور رات کی تاریکیوں میں اٹھ کر اس کے حضور قیام، سجود اور اس کی بارگاہ میں رو روکر فریاد پر فریاد کرتا ہے۔ کہ اے میرے پالنہار مجھے آخرت کی سختیوں سے مامون فرما۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان سے پوچھیں کیا علم والے اور علم نہ رکھنے والے برابر ہوسکتے ہیں ؟ ظاہر بات ہے یہ برابر نہیں ہوسکتے نصیحت تو عقل والے ہی حاصل کرتے ہیں۔ گویا کہ علم کے ساتھ عقل کی بہت ضرورت ہے اور صحیح عقل والا وہ ہے جو کفر و شرک اور اپنے رب کی نافرمانی سے بچے اور آخرت کا فکر کرے۔ یہاں مشرک کو بےعلم بھی قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ حقیقی علم اور عقل رکھنے والا شخص اپنے رب کے ساتھ نہ کفر کرتا ہے اور نہ ہی کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا ہے۔ (عَنْ أَبِی یَعْلٰی شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الْکَیِّسُ مَنْ دَانَ نَفْسَہُ وَعَمِلَ لِمَا بَعْدَ الْمَوْتِ وَالْعَاجِزُ مَنْ أَتْبَعَ نَفْسَہُ ہَوَاہَا ثُمَّ تَمَنَّی عَلَی اللّٰہِ )[ رواہ ابن ماجۃ : باب ذکر الموت والاستعداد لہ ] ” حضرت ابو یعلیٰ شداد بن اوس (رض) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عقلمند وہ ہے جو اپنے آپ کو پہچانتا ہے اور مرنے کے بعد فائدہ دینے والے اعمال سر انجام دیتا ہے۔ نادان وہ ہے جس نے اپنے آپ کو اپنے نفس کے پیچھے لگا اور اس کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہے۔ “ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ قَالَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ مَّاتَ یُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا دَخَلَ النَّارَ وَقُلْتُ أَنَا مَنْ مَّاتَ لَا یُشْرِکُ باللّٰہِ شَیْءًا دَخَلَ الْجَنَّۃَ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب ماجاء فی الجنائز ] ” حضرت عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو کوئی اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا وہ جہنم میں جائے گا اور میں کہتا ہوں جس شخص نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا اور وہ اسی حال میں فوت ہوا وہ جنت میں جائے گا۔ “ مسائل ١۔ مشرک صرف مصیبت کے وقت خالصتاً اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے۔ ٢۔ مشرک مصیبت ٹل جانے کے بعد اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے۔ ٣۔ شرک اور کفر ایک دوسرے کے مترادف ہیں۔ ٤۔ مشرک آگ میں داخل کیے جائیں گے۔ ٥۔ علم والے اور علم نہ رکھنے والے برابر نہیں ہوسکتے۔ گویا کہ مشرک جاہل ہے اور توحید والا صاحب علم ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن توحید اور شرک میں فرق : ١۔ توحید سب سے بڑی سچائی ہے۔ (المائدۃ : ١١٩، النساء : ٨٧، ١٢٢) ٢۔ شرک سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ (ھود : ١٨) ٣۔ توحید عدل ہے۔ (آل عمران : ١٨) ٤۔ شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔ (لقمان : ١٣) ٥۔ توحید دانائی ہے۔ (بنی اسرائیل : ٣٩) ٦۔ شرک بیوقوفی ہے۔ (الجن : ٤) ٧۔ توحید سب سے بڑی نیکی ہے۔ (البقرۃ : ١٧٧) ٨۔ شرک سب سے بڑا گناہ ہے۔ (النساء : ٤٨) ٩۔ توحید فرمانبرداری کا نام ہے۔ (النحل : ٤٨، الرعد : ١٥) ١٠۔ شرک بغاوت ہے۔ (یونس : ٢٣) ١١۔ شرک حقیقت کو چھپانا ہے۔ (البقرۃ : ٤٢) ١٢۔ توحید سب سے بڑی گواہی ہے۔ (آل عمران : ١٨، الانعام : ١٩، الروم : ٣٠)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر 216 ایک نظر میں پہلے سبق میں یہ بات کہی گئی کہ تخلیق انسان کی کہانی کیا ہے۔ یہ کہ تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا گیا ہے اور پھر اسی نفس سے ایک جوڑا بھی بنایا گیا ہے۔ پھر مویشیوں کو بھی بیشمار جوڑوں کی صورت میں بنایا گیا ہے۔ اور پھر تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تخلیق کے بعد تخلیق تمہیں دی اور تین ظلمتوں کے اندر تمہیں پیدا کیا ۔ پھر اللہ نے تمہیں انسانی خصوصیات عطا کیں اور پھر ان خصائص کا نظام تسلسل قائم کیا اور اس کو ترقی دی۔ اب یہاں انسانوں کی تفسیاتی دنیا کے حالات بتائے جاتے ہیں کہ خوشی اور غم اور امن وخوف کے وقت اس کی حالت کیا ہوتی ہے۔ وہ کس قدر کمزور ہیں اور کس قدر متلون مزاج ہیں اور کس قدر کمزور وناتواں ہیں الا یہ کہ وہ رب تعالیٰ کے ساتھ رابطہ قائم کرلیں۔ اور اسی کی طرف امید لگائے رہیں ، اس کے مطیع فرمان ہوجائیں اور صحیح راستہ پہچان لیں۔ اور اصل حقیقت کو پالیں اور اللہ نے انسان کو جو انسانی خصائص دیئے ہیں اپنے آپ کو ان کی راہ پر ڈالیں۔ درس نمبر 216 تشریح آیات آیت نمبر 8 یہ انسان کی فطرت کا مزاج ہے کہ جب خطرات لاحق ہوں تو انسانی فطرت کھل کر سامنے آجاتی ہے اور تمام پردے اور حجابات دور ہوجاتے ہیں جو اس فطرت کے اوپر چھائے ہوئے ہوں اور تمام اوہام و خرافات بھی دور ہوجاتے ہیں۔ خطرے کے وقت انسان صرف رب ذوالجلال کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور اس کے آگے جھک جاتا ہے۔ فطرت انسانی اس وقت اس بات کا ادراک کرلیتی ہے کہ یہ خطرہ صرف اللہ ہی کے ٹالنے سے ٹل سکتا ہے۔ اللہ کے سوا تمام دوسری قوتیں جھوٹی ثابت ہوتی ہیں۔ لیکن جب مشکلات دور ہوتی ہیں اور امن وامان اور خوشحالی کا دور آتا ہے اور اللہ مشکلات کو نعمتوں سے بدل دیتا ہے اور یوں مشکلات دور ہوجاتی ہیں تو یہی انسان جس کی فطرت کھل کر سامنے آگئی تھی پھر اوہام و خرافات میں پھنس کر اپنی سابقہ حالت کے زیر اثر آجاتا ہے۔ اور مشکلات میں اپنے گڑگڑانے ، اللہ کی طرف متوجہ ہونے اور توبہ کرنے کو بھول جاتا ہے۔ اس وقت پھر اس کی حالت نہیں ہوتی کہ وہ اللہ کو پکارے ، اس سے ڈرے اور یہ سمجھے کہ اب اللہ کے سوا کوئی بھی مشکلات کو دور نہیں کرسکتا ۔ یہ تمام حالات بھلا کر اب دوبارہ اللہ کے ساتھ اوروں کو شریک کرتا ہے۔ یا تو وہ ان الہوں کو پوجتا ہے جو جاہلیت کے دور میں پوجے جاتے تھے یا بعض اشخاص کو پوجتا ہے۔ یہ ایسے حالات کی بندگی کرتا ہے جو اللہ کے ساتھ سریک ہوتے ہیں ۔ جس طرح ہر جاہلیت کا ایک الٰہ ہوتا ہے۔ کبھی وہ اپنی خواہشات اور اپنے مفادات کو پوجتا ہے یا وہ مستقبل کی امیدوں اور ان جانے خوف سے ڈرتا ہے یا اپنی اولاد اور حکام ہے یا اپنے سرداروں اور لیڈروں کو پوجتا ہے۔ یاد رہے کہ یہ سردار بھی پوجے جاتے ہیں جس طرح خدا کو پوجا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ خدا سے بھی زیادہ پوجے جاتے ہیں۔ یارد ہے کہ شرک کی بھی کئی اقسام ہیں۔ بعض شرک نہایت ہی خفی ہوتے ہیں لوگ نہ اسے دیکھ سکتے ہیں اور نہ ان کو اس کا احساس ہوتا ہے۔ قرآن کریم صرف معروف ومشہور شرک ہی کو نہیں لیتا بلکہ وہ ہر اس بات کو لیتا ہے جو اپنے نقشے کے اعتبار شرک پر۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا انسان اللہ کے راستے سے گمراہ ہوجاتا ہے۔ کیونکہ اللہ کی راہ تو ایک ہوتی ہے۔ اس میں تعداد ممکن نہیں ہے۔ وہ یہ کہ زندگی صرف اللہ ہی کی ہوگی۔ محبت صرف اللہ کے ساتھ ہوگی۔ اور کسی شخص کے تصور میں بھی اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو۔ نہ مال کا خدا شریک ہو ، نہ اولاد کا خدا شریک ہو ، نہ وطن کا خدا شریک ہو ، نہ زمین کا خدا شریک ہو ، نہ رشتہ داری کا خدا شریک ہو ، شرک کی ان صورتوں میں سے جو کسی کے دل میں جاگزیں ہوگئی تو یہ انداز اللہ میں شامل ہوگی۔ اللہ کے راستے سے گمراہی ہوگی اور اللہ کے راستے سے گمراہی کا انجام آگ ہے اور یہ بات بہت جلد اس دنیا کی قلیل زندگی کے بعد سامنے آنے والی ہے قل تمتع۔۔۔ النار (39: 8) ” کہہ دیجئے کہ تھوڑے ہی دن اپنے کفر سے لطف اٹھالے یقیناً تو دوزخ میں جانے والا ہے “۔ اس دنیا کے دن جس قدر بھی طویل ہوں ، تھوڑے ہی ہیں۔ انسان کے دن زمین پر بہرحال گنے چنے ہیں اگرچہ عمر طویل کوئی پائے۔ بلکہ خود پوری جنس انسانی کی زندگی بھی اس کرۂ ارض پر قلیل ہے۔ جب ہم اس عمر کا مقابلہ ایام اللہ سے کریں۔ اس بری تصویر کے مقابلے میں اچھی تصویر اور اچھی نفسیاتی کیفیت بھی ہے۔ اللہ سے ڈرنے والا دل ، ہر حالت میں ، ہر آفت میں اللہ کو یاد کرنے والا دل ، دنیا میں آخرت کو نظر میں رکھ کر زندگی گزارنے والا دل ، اللہ کی رحمت کا طلبگار ، اللہ کے ساتھ ایسا رابطہ کرنے والا دل جس سے علم صحیح پیدا ہو ، اور اس کائنات کی حقیقت کو پالنے والا دل ، اس کی تصویر یہ ہے :

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

تکلیف پہنچتی ہے تو انسان اپنے رب کو توجہ کے ساتھ پکارتا ہے اور نعمت کے زمانے میں دعاؤں کو بھول جاتا ہے یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں انسان کا مزاج بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ جب اسے تکلیف پہنچ جائے تو اپنے رب کی طرف رجوع کرکے پکارنا شروع کردیتا ہے دعا پر دعا کرتا چلا جاتا ہے جو دوسرے معبود بنائے ہوئے رہتا ہے ان سب کو یکسر بھول جاتا ہے اور خالص اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے نعمت عطا فرما دیتا ہے تو اس حاجت و ضرورت کو بھول جاتا ہے جس کے لیے پہلے اللہ سے دعا مانگی تھی اور صرف یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے شریک تجویز کرنے لگتا ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ دوسروں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے ہٹاتا ہے سورة العنکبوب میں فرمایا (فَاِذَا رَکِبُوْافِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ فَلَمَّا نَجّٰھُمْ اِلَی الْبَرِّ اِذَا ھُمْ یُشْرِکُوْنَ لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰتَیْنٰھُمْ وَلِیَتَمَتَّعُوْا فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ ) (سو جب کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو خالص اعتقاد کرکے اللہ ہی کو پکارنے لگتے ہیں پھر جب وہ انہیں خشکی کی طرف نجات دے دیتا ہے تو اچانک وہ شرک کرنے لگتے ہیں تاکہ ان نعمتوں کی ناقدری کریں جو ہم نے انہیں دی اور تاکہ نفع حاصل کرلیں، سو عنقریب جان لیں گے۔ ) ارشاد فرمایا (قُلْ تَمَتَّعْ بِکُفْرِکَ قَلِیْلًا) (آپ فرما دیجیے کہ تو اپنے کفر کے ذریعہ تھوڑا سا نفع حاصل کرلے) (اِنَّکَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ) (بےشک تو دوزخ والوں میں سے ہے) اس میں ان لوگوں کو تنبیہ فرما دی جو کفر کو اس لیے نہیں چھوڑتے کہ اس سے دنیا کے قلیل اور کثیر فوائد اور منافع وابستہ ہوتے ہیں کوئی اقتدار کی کرسی کی وجہ سے اور کوئی جائیداد باقی رکھنے کے لیے اور کوئی اعزہ و اقرباء کے تعلقات کے پیش نظر کفر پر جما ہوا ہے، یہ نہیں سمجھتے کہ یہ دنیا کا تھوڑا سا نفع ہے دوزخ کے دائمی عذاب کے سامنے ان چیزوں کی کچھ بھی حیثیت نہیں، دوزخ کی آگ بہت بڑا عذاب ہے اگر کسی سے یوں کہا جائے کہ دنیا والی آگ کو پانچ منٹ ہاتھ میں لے لو اور اس کے عوض بادشاہ یا وزیر یا بہت بڑے جاگیر دار بن جاؤ تو اسے کبھی گوارا نہیں کرسکتا عجیب بات ہے کہ دوزخ کے دائمی عذاب کے لیے تیار ہیں اور حقیر دنیا کا نقصان گوارا نہیں جو تھوڑا ہے اور تھوڑی مدت کے لیے ہے اگرچہ دیکھنے میں بہت زیادہ معلوم ہوتی ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

13:۔ “ و اذا مس الخ “ یہ زجر دوم ہے بصورت شکوی۔ ” الانسان “ سے انسان کافر مراد ہے (مدارک، قرطبی) انسان کافر و مشرک کا یہ ھال ہے کہ اس پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اپنے مزعومہ کارسازوں سے ناامید ہو کر پوری توجہ اور یکسوئی قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارتا ہے پھر جب اللہ تعالیٰ اسے اپنے انعام و احسان سے سرفراز فرما دیتا ہے تو اس منعم حقیقی کو بھول جاتا ہے۔ جسے پہلے مصیبت کے وقت پوری تضرع و عاجزی سے پکارتا رہا۔ یا اس مصیبت کو بھول جاتا ہے جس کی خاطر اللہ کو پکارتا رہا اور پھر سے اللہ کے ساتھ عبادت اور پکار میں شرک کرنے لگتا ہے۔ اور اللہ کے انعامات کو معبودانِ باطلہ کا احسان قرار دیتا ہے۔ ” نسی ما کان یدعوا الیہ “ ای نسی ربہ الذی کان یتضرع الیہ او نسی الضر الذی کان یدعو اللہ الی کشفہ (مدارک ج 4 ص 40) ۔ ” وجعل للہ اندادا “ ای فی حال العافیۃ یشرک باللہ و جعل لہ انداداً (ابن کثیر ج 4 ص 46) ۔ ” لیضل عن سبیلہ “ عز و جل الذی ھو التوحید (روح ج 23 ص 245) ۔ 14:۔” قل تمتع الخ “ یہ امر تہدید ہے، اچھا تو اگر ان واضح دلیلوں کے باوجود کفر پر ہی قائم رہنا چاہتے ہیں اور اسی میں اپنا فائدہ سمجھتا ہے تو چند دن اس سے فائدہ اٹھا لے آخر کار تیرا ٹھکانا جہنم ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

(8) اور انسان کو جب کوئی سختی اور تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اپنے پروردگار کی جانب پوری طرح رجوع ہو کر اس کو پکارنے لگتا ہے پھر جب اللہ تعالیٰ اس انسان کو اپنی طرف سے کوئی نعمت عطا فرمادیتا ہے تو جس سختی کو دور کرنے کے لئے وہ اس نعمت سے پہلے اللہ تعالیٰ کو پکاررہا تھا وہ اس کو بھول جاتا ہے اور دوسروں کو اللہ تعالیٰ کا ہمسر اور شریک ٹھہرانے اور بنانے لگتا ہے جس کا انجام اور نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی گمراہی کے علاوہ دوسروں کو بھی اللہ تعالیٰ کی راہ سے بےراہ اور گمراہ کرتا ہے۔ اے پیغمبر آپ ایسے شخص سے کہہ دیجئے کہ تو اپنے کفر اور ناسپاسی مراد ہے کہ جب کوئی بلا اور سختی آتی ہے تو مشرک اپنے معبودوں باطلہ سے توجہ ہٹا کر صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور اسی کی طرف رجوع ہوکر اس کو پکارنے لگتا ہے پھر جب وہ سختی اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے دور کردیتا ہے خواہ وہ مرض ہو یا سمندر کا طوفان ہو یا کاروبار کی پریشانی ہو وغیرہ وغیرہ تو وہ اس سختی کو یا اللہ تعالیٰ کو بھول جاتا ہے یعنی نہ وہ بلا یاد رہتی ہے نہ خدا یاد آتا ہے اور یہی نہیں بلکہ پھر وہ مشرک اپنے شرک کی طرف لوٹ جاتا ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے لوگوں کو گمراہ کرے یعنی خود تو گمراہ ہوتا ہی ہے، بلکہ دوسروں پر بھی اسی کی گمراہی کا اثر پڑتا ہے آگے بطور تہدید فرمایا کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے نالائق احسان فراموش سے کہہ دو کہ اچھا تو اپنے کفر کا کچھ اور دن فائدہ اٹھالے آخر کار تو تو جہنمی ہے۔ یہ مشرک کی مذمت فرمائی کہ مطلب نکل جانے کے بعد پھر بتوں کو پکارنے لگتا ہے۔ یہ مضمون اور بھی کئی جگہ گزر چکا ہے آگے اہل توحید کی مدح وثنا ہے۔