The Order for Ample Remembrance After the Fear Prayer
Allah says;
فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَةَ فَاذْكُرُواْ اللّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِكُمْ
...
When you have finished the Salah, remember Allah standing, sitting down, and on your sides,
Allah commands Dhikr after finishing the Fear prayer, in particular, even though such Dhikr is encouraged after finishing other types of prayer in general. In the case of Fear prayer, Dhikr is encouraged even more because the pillars of the prayer are diminished since they move about while performing it, etc., unlike other prayers.
Allah said about the Sacred Months,
فَلَ تَظْلِمُواْ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ
(so wrong not yourselves therein), (9:36) even though injustice is prohibited all year long. However, injustice is particularly outlawed during the Sacred Months due to their sanctity and honor.
So Allah's statement,
فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَةَ فَاذْكُرُواْ اللّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِكُمْ
(When you have finished Salah, remember Allah standing, sitting down, and on your sides), means, in all conditions,
...
فَإِذَا اطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُواْ الصَّلَةَ
...
But when you are free from danger perform the Salah.
when you are safe, tranquil and fear subsides,
فَأَقِيمُواْ الصَّلَةَ
(perform the Salah),
by performing it as you were commanded; fulfilling its obligations, with humbleness, completing the bowing and prostration positions etc.
Allah's statement,
...
إِنَّ الصَّلَةَ كَانَتْ عَلَى الْمُوْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا
Verily, the Salah is Kitaban on the believers at fixed hours.
means, enjoined, as Ibn Abbas stated.
Ibn Abbas also said,
"The prayer has a fixed time, just as the case with Hajj."
Similar is reported from Mujahid, Salim bin Abdullah, Ali bin Al-Husayn, Muhammad bin Ali, Al-Hasan, Muqatil. As-Suddi and Atiyah Al-Awfi.
The Encouragement to Pursue the Enemy Despite Injuries
Allah's statement,
صلوٰۃ خوف کے بعد کثرت ذکر
جناب باری عزاسمہ اس آیت میں حکم دیتا ہے کہ نماز خوف کے بعد اللہ کا ذکر بکثرت کیا کرو ، گو ذکر اللہ کا حکم اور اس کی ترغیب وتاکید اور نمازوں کے بعد بلکہ ہر وقت ہی ہے ، لیکن یہاں خصوصیت سے اس لئے بیان فرمایا کہ یہاں بہت بڑی رخصت عنایت فرمائی ہے نماز میں تخفیف کر دی ، پھر حالت نماز میں اِدھر اُدھر ہٹنا جانا اور آنا مصلحت کے مطابق جائز رکھا ، جیسے حرمت والے مہینوں کے متعلق فرمایا ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو ، جب کہ اور اوقات میں بھی ظلم ممنوع ہے لیکن ان کے مہینوں میں اس سے بچاؤ کی مزید تاکید کی ، تو فرمان ہوتا ہے کہ اپنی ہر حالت میں اللہ عزوجل کا ذکر کرتے رہو ، اور جب اطمینان حاصل ہو جائے ڈر خوف نہ رہے تو باقاعدہ خشوع خضوع سے ارکان نماز کو پابندی کے مطابق شرع بجا لاؤ ، نماز پڑھنا وقت مقررہ پر منجانب اللہ فرض عین ہے ، جس طرح حج کا وقت معین ہے اسی طرح نماز کا وقت بھی مقرر ہے ، ایک وقت کے بعد دوسرا پھر دوسرے کے بعد تیسرا پھر فرماتا ہے دشمنوں کی تلاش میں کم ہمتی نہ کرو چستی اور چالاکی سے گھاٹ کی جگہ بیٹھ کر ان کی خبر لو ، اگر قتل و زخم ونقصان تمہیں پہنچتا ہے تو کیا انہیں نہیں پہنچتا ؟ اسی مضمون کو ان الفاظ میں بھی ادا کیا گیا ہے ( اِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ ) 3 ۔ آل عمران:140 ) پس مصیبت اور تکلیف کے پہنچنے میں تم اور وہ برابر ہیں ، لیکن بہت بڑا فرق یہ ہے کہ تمہیں ذات عزاسمہ سے وہ اُمیدیں اور وہ آسرے ہیں جو انہیں نہیں ، تمہیں اجر و ثواب بھی ملے گا تمہاری نصرت و تائید بھی ہو گی ، جیسے کہ خود باری تعالیٰ نے خبر دی ہے اور وعدہ کیا ، نہ اس کی خبر جھوٹی نہ اس کے وعدے ٹلنے والے ، پس تمہیں بہ نسبت ان کے بہت تگ و دو چاہئے تمہارے دلوں میں جہاد کا ولولہ ہونا چاہئے ، تمہیں اس کی رغبت کامل ہونی چاہئے ، تمہارے دلوں میں اللہ کے کلمے کو مستحکم کرنے توانا کرنے پھیلانے اور بلند کرنے کی تڑپ ہر وقت موجود رہنی چاہئے اللہ تعالیٰ جو کچھ مقرر کرتا ہے جو فیصلہ کرتا ہے جو جاری کرتا ہے جو شرع مقرر کرتا ہے جو کام کرتا ہے سب میں پوری خبر کا مالک صحیح اور سچے علم والا ساتھ ہی حکمت والا بھی ہے ، ہر حال میں ہر وقت سزا وار تعریف و حمد وہی ہے ۔