Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 105

سورة النساء

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ الۡکِتٰبَ بِالۡحَقِّ لِتَحۡکُمَ بَیۡنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىکَ اللّٰہُ ؕ وَ لَا تَکُنۡ لِّلۡخَآئِنِیۡنَ خَصِیۡمًا ﴿۱۰۵﴾ۙ

Indeed, We have revealed to you, [O Muhammad], the Book in truth so you may judge between the people by that which Allah has shown you. And do not be for the deceitful an advocate.

یقیناً ہم نے تمہاری طرف حق کے ساتھ اپنی کتاب نازل فرمائی ہے تاکہ تم لوگوں میں اس چیز کے مطابق فیصلہ کرو جس سے اللہ نے تم کو شناسا کیا ہے اور خیانت کرنے والوں کے حمایتی نہ بنو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Necessity of Referring to What Allah has Revealed for Judgment Allah says to His Messenger, Muhammad, إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ ... Surely, We have sent down to you the Book in truth, meaning, it truly came from Allah and its narrations and commandments are true. Allah then said, ... لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللّهُ ... that you might judge between men by that which Allah has shown you, In the Two Sahihs, it is recorded that; Zaynab bint Umm Salamah said that Umm Salamah said that the Messenger of Allah heard the noise of disputing people close to the door of his room, and he went out to them saying, أَلاَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّمَا أَقْضِي بِنَحْوٍ مِمَّا أَسْمَعُ وَلَعَلَّ أَحَدَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَأَقْضِيَ لَهُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ مُسْلِمٍ فَإِنَّمَا هِيَ قِطْعَةٌ مِنْ نَارٍ فَلْيَحْمِلْهَا أَوْ لِيَذَرْهَا Verily, I am only human and I judge based on what I hear. Some of you might be more eloquent in presenting his case than others, so that I judge in his favor. If I judge in one's favor concerning the right of another Muslim, then it is a piece of the Fire. So let one take it or leave it. Imam Ahmad recorded that Umm Salamah said, "Two men from the Ansar came to the Messenger of Allah with a dispute regarding some old inheritance, but they did not have evidence. The Messenger of Allah said, إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَ وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ وَإِنَّما أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلى نَحْوٍ مِمَّا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْيًا فَلَ يَأْخُذْهُ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ يَأْتِي بِهَا إِسْطَامًا فِي عُنُقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَة You bring your disputes to me, but I am only human. Some of you might be more persuasive in their arguments than others. I only judge between you according to what I hear. Therefore, whomever I judge in his favor and give him a part of his brother's right, let him not take it, for it is a part of the Fire that I am giving him and it will be tied around his neck on the Day of Resurrection. The two men cried and each one of them said, `I forfeit my right to my brother.' The Messenger of Allah said, أَمَا إِذْ قُلْتُمَا فَاذْهَبَا فَاْقَتَسِمَا ثُمَّ تَوَخَّيَا الْحَقَّ ثُمَّ اسْتَهِمَا ثُم لِيُحْلِلْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا صَاحِبَه Since you said that, then go and divide the inheritance, and try to be just in your division. Then draw lots, and each one of you should forgive his brother thereafter (regardless of who got the best share)." ... وَلاَ تَكُن لِّلْخَأيِنِينَ خَصِيمًا so be not a pleader for the treacherous. وَاسْتَغْفِرِ اللّهِ إِنَّ اللّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا

حقیقت چھپ نہیں سکتی اللہ تعالیٰ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ یہ قرآن کریم جو آپ پر اللہ نے اتارا ہے وہ مکمل طور پر اور ابتداء تا انتہا حق ہے ، اس کی خبریں بھی حق اس کے فرمان بھی برحق ۔ پھر فرماتا ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان وہ انصاف کرو جو اللہ تعالیٰ تمہیں سمجھائے ، بعض علمائے اصول نے اس سے استدلال کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اجتہاد سے حکم کرنے کا اختیار دیا گیا تھا ، اس کی دلیل بخاری مسلم کی حدیث بھی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دروازے پر دو جھگڑنے والوں کی آواز سنی تو آپ باہر آئے اور فرمانے لگے میں ایک انسان ہوں جو سنتا ہوں اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں بہت ممکن ہے کہ یہ ایک شخص زیادہ حجت باز اور چرب زبان ہو اور میں اس کی باتوں کو صحیح جان کر اس کے حق میں فیصلہ دے دوں اور جس کے حق میں فیصلہ کر دوں فی الواقع وہ حقدار نہ ہو تو وہ سمجھ لے کہ وہ اس کے لئے جہنم کا ٹکڑا ہے اب اسے اختیار ہے کہ لے لے یا چھوڑ دے ۔ مسند احمد میں ہے کہ دو انصاری ایک ورثے کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنا قضیہ لائے واقعہ کو زمانہ گذر چکا تھا دونوں کے پاس گواہ کوئی نہ تھا تو اس وقت آپ نے وہی حدیث بیان فرمائی اور فرمایا کہ میرے فیصلے کی بنا پر اپنے بھائی کا حق نہ لے لے اگر ایسا کرے گا تو قیامت کے دن اپنی گردن میں جہنم کی آگ لٹکا کر آئے گا اب تو وہ دونوں بزرگ رونے لگے اور ہر ایک کہنے لگا میں اپنا حق بھی اپنے بھائی کو دے رہا ہوں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اب تم جاؤ اپنے طور پر جہاں تک تم سے ہوسکے ٹھیک ٹھیک حصے تقسیم کرو پھر قرعہ ڈال کر حصہ لے لو اور ہر ایک دوسرے کو اپنا رہا سہا غلطی کا حق معاف کر دو ۔ ابو داؤد میں بھی یہ حدیث ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں کہ میں تمہارے درمیان اپنی سمجھ سے ان امور میں فیصلہ کرتا ہوں جن میں کوئی وحی مجھ پر نازل شدہ نہیں ہوتی ، ابن مردویہ میں ہے کہ انصار کا ایک گروہ ایک جہاد میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا وہاں ایک شخض کی ایک چادر کسی نے چرالی اور اس چوری کا گمان طعمہ بن ابیرق کی طرف تھا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ قصہ پیش ہوا چور نے اس چادر کو ایک شخص کے گھر میں اس کی بےخبری میں ڈال دیا اور اپنے کنبہ قبیلے والوں سے کہا میں نے چادر فلاں کے گھر میں ڈال دی ہے تم رات کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور آپ سے ذکر کرو کہ ہمارا ساتھی تو چور نہیں چور فلاں ہے اور ہم نے پتہ لگا لیا ہے کہ چادر بھی اس کے گھر میں موجود ہے اس طرح آپ ہمارے ساتھی کی تمام لوگوں کی روبرو بریت کر دیجئے اور اس کی حمایت کیجئے ورنہ ڈر ہے کہ کہیں وہ ہلاک نہ ہو جائے آپ نے ایسا ہی کیا اس پر یہ آیتیں اتری اور جو لوگ اپنے جھوٹ کو پوشیدہ کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ان کے بارے میں ( آیت یستخفون ) سے دو آیتیں نازل ہوئیں ، پھر اللہ عزوجل نے فرمایا جو برائی اور بدی کا کام کرے اس سے مراد بھی یہی لوگ ہیں اور چور کے اور اس کے حمایتوں کے بارے میں اترا کہ جو گناہ اور خطا کرے اور ناکردہ گناہ کے ذمہ الزام لگائے وہ بہتان باز اور کھلا گنہگار ہے ، لیکن یہ سیاق غریب ہے بعض بزرگوں سے مروی ہے کہ یہ آیت بنوابیرق کے چور کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، یہ قصہ مطلول ترمذی کتاب التفسیر میں بزبانی حضرت قتادہ اس طرح مروی ہے کہ ہمارے گھرانے کے بنوابیرق قبیلے کا ایک گھر تھا جس میں بشر ، بشیر اور مبشر تھے ، بشیر ایک منافق شخص تھا اشعار کو کسی اور کی طرف منسوب کرکے خوب مزے لے لے کر پڑھا کرتا تھا ، اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم جاتنے تھے کہ یہی خبیث ان اشعار کا کہنے والا ہے ، یہ لوگ جاہلیت کے زمانے سے ہی فاقہ مست چلے آتھے مدینے کے لوگوں کا اکثر کھانا جو اور کھجوریں تھیں ، ہاں تونگر لوگ شام کے آئے ہوئے قافلے والوں سے میدہ خرید لیتے جسے وہ خود اپنے لئے مخصوص کر لیتے ، باقی گھر والے عموماً جو اور کھجوریں ہی کھاتے ، میرے چچا رفاعہ یزید نے بھی شام کے آئے ہوئے قافلے سے ایک بورا میدہ کا خریدا اور اپنے بالا خانے میں اسے محفوظ کر دیا جہاں ہتھیار زرہیں تلواریں وغیرہ بھی رکھی ہوئی تھیں رات کو چوروں نے نیچے سے نقب لگا کر اناج بھی نکال لیا اور ہتھیار بھی چرالے گئے ، صبح میرے پاس آئے اور سارا واقعہ بیان کیا ، اب ہم تجسس کرنے لگے تو پتہ چلا کہ آج رات کو بنو ابیرق کے گھر میں آگ جل رہی تھی اور کچھ کھا پکار رہے تھے غالباً وہ تمہارے ہاں سے چوری کر گئے ہیں ، اس سے پہلے جب اپنے گھرانے والوں سے پوچھ گچھ کر رہے تھے تو اس قبیلے کے لوگوں نے ہم سے کہا تھا کہ تمہارا چور لبید بن سہل ہے ، ہم جانتے تھے کہ لبید کا یہ کام نہیں وہ ایک دیانتدار سچا مسلمان شخص تھا ۔ حضرت لبید کو جب یہ خبر ملی تو وہ آپے سے باہر ہوگئے تلوار تانے بنوابیرق کے پاس آئے اور کہنے لگے یا تو تم میری چوری ثابت کر ورنہ میں تمہیں قتل کر دونگا ان لوگوں نے ان کی برات کی اور معافی چاہ لی وہ چلے گئے ، ہم سب کے سب پوری تحقیقات کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ چوری بنوابیرق نے کی ہے ، میرے چچا نے مجھے کہا کہ تم جا کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر تو دو ، میں نے جاکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سارا واقعہ بیان کیا اور یہ بھی کہا کہ آپ ہمیں ہمارے ہتھیار دلوا دیجئے غلہ کی واپسی کی ضرورت نہیں ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اطمینان دلایا کہ اچھا میں اس کی تحقیق کروں گا ، یہ خبر جب بنوابیرق کو ہوئی تو انہوں نے اپنا ایک آدمی آپ کے پاس بھیجا جن کا نام اسید بن عروہ تھا انہوں نے آکر کہا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ تو ظلم ہو رہا ہے ، بنوابیرق تو صلاحیت اور اسلام والے لوگ ہیں انہیں قتادہ بن نعمان اور ان کے چچا چور کہتے ہیں اور بغیر کسی ثوب اور دلیل کے چور کا بدنما الزام ان پر رکھتے ہیں وغیرہ ، پھر جب میں خدمت نبوی میں پہنچا تو آپ نے مجھ سے فرمایا یہ تو تم بہت برا کرتے ہو کہ دیندار اور بھلے لوگوں کے ذمے چوری چپکاتے ہو جب کہ تمہارے پاس اس کا کوئی ثبوت نہیں ، میں چپ چاپ واپس چلا آیا اور دل میں سخت پشیمان اور پریشان تھا خیال آتا تھا کہ کاش کہ میں اس مال سے چپ چاپ دست بردار ہو جاتا اور آپ سے اس کا ذکر ہی نہ کرتا تو اچھا تھا ، اتنے میں میرے چچا آئے اور مجھ سے پوچھا تم نے کیا کیا ؟ میں نے سارا واقعہ ان سے بیان کیا جسے سن کر انہوں نے کہا اللہ المستعان اللہ ہی سے ہم مدد چاہتے ہیں ، ان کا جانا تھا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی میں یہ آیتیں اتریں پس خائنین سے مراد بنو ابیرق ہیں ، آپ کو استغفار کا حکم ہوا یہ یہی آپ نے حضرت قتادہ کو فرمایا تھا ، پھر ساتھ ہی فرما دیا گیا کہ اگر یہ لوگ استفغار کریں تو اللہ انہیں بخش دے گا ، پھر فرمایا ناکردہ گناہ کے ذمہ گناہ تھوپنا بدترین جرم ہے ، اجرا عظیما تک یعنی انہوں نے جو حضرت لبید کی نسبت کہا کہ چور یہ ہیں جب یہ آیتیں اتریں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بنوابیرق سے ہمارے ہتھیار دلوائے میں انہیں لے کر اپنے چچا کے پاس آیا یہ بیچارے بوڑھے تھے آنکھوں سے بھی کم نظر آتا تھا مجھ سے فرمانے لگے بیٹا جاؤ یہ سب ہتھیار اللہ کے نام خیرات کر دو ، میں آج تک اپنے چچا کی نسبت قدرے بدگمان تھا کہ یہ دل سے اسلام میں پورے طور پر داخل نہیں ہوئے لیکن اس واقعہ نے بدگمانی میرے دل سے دور کر دی اور میں ان کے سچے اسلام کا قائل ہو گیا ، بشیر یہ سن کر مشرکین میں جا ملا اور سلافہ بنت سعد بن سمیہ کے ہاں جاکر اپنا قیام کیا ، اس کے بارے میں اس کے بعد کی ( وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ ۭ وَسَاۗءَتْ مَصِيْرًا ١١٥؁ۧ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ ۭوَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا ١١٦؁ ) 4 ۔ النسآء:115-116 ) تک نازل ہوئیں اور حضرت حسان نے اس کے اس فعل کی مذمت اور اس کی ہجو اپنے شعروں میں کی ، ان اشعار کو سن کر اسکی عورت کو بڑی غیرت آئی اور بشیر کا سب اسباب اپنے سر پر رکھ کر ابطح میدان میں پھینک آئی اور کہا تو کوئی بھلائی لے کر میرے پاس نہیں آیا بلکہ حسان کی ہجو کے اشعار لے کر آیا ہے میں تجھے اپنے ہاں نہیں ٹھہراؤں گی ، یہ روایت بہت سی کتابوں میں بہت سی سندوں سے مطول اور مختصر مروی ہے ۔ ان منافقوں کی کم عقلی کا بیان ہو رہا ہے کہ وہ جو اپنی سیاہ کاریوں کو لوگوں سے چھپاتے ہیں بھلا ان سے کیا نتیجہ؟ اللہ تعالیٰ سے تو پوشیدہ نہیں رکھ سکتے ، پھر انہیں خبردار کیا جا رہا ہے کہ تمہارے پوشیدہ راز بھی اللہ سے چھپ نہیں سکتے ، پھر فرماتا ہے مانا کہ دنیوی حاکموں کے ہاں جو ظاہر داری پر فیصلے کرتے ہیں تم نے غلبہ حاصل کر لیا ، لیکن قیامت کے دن اللہ کے سامنے جو ظاہر وباطن کا عالم ہے تم کیا کر سکو گے؟ وہاں کسے وکیل بنا کر پیش کرو گے جو تمہارے جھوٹے دعوے کی تائید کرے ، مطلب یہ ہے کہ اس دن تمہاری کچھ نہیں چلے گی ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

105۔ 1 ان آیات (104 سے 113 تک) کے شان نزول میں بتلایا گیا ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر میں ایک شخص طعمہ یا بشیر بن ابیرق نے ایک انصاری کی زرہ چرالی، جب اس کا چرچہ ہوا اور اسے بےنقاب ہونے کا خطرہ محسوس ہوا تو اس نے وہ زرہ ایک یہودی کے گھر پھینک دی اور بنی ظفر کے کچھ آدمیوں کو ساتھ لے کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پہنچ گئے، ان سب نے کہا زرہ چوری کرنے والا فلاں یہودی ہے، یہودی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا بنی ابیرق نے زرہ چوری کرکے میرے گھر پھینک دی ہے۔ بنی ظفر اور بنی ایبرق (طمعہ بشیر وغیرہ) ہوشیار تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو باور کراتے رہے کہ چور یہودی ہے اور طعمہ پر الزام لگانے میں جھوٹا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی انکی چکنی چپڑی باتوں سے متاثر ہوگئے اور قریب تھا کہ اس انصاری کو چوری کے الزام سے بری کرکے یہودی پر چوری کی فرد جرم عائد فرما دیتے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی، جس سے ایک بات یہ معلوم ہوئی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی بحیثیت ایک انسان غلط فہمی میں پڑ سکتے ہیں۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ آپ عالم الغیب نہیں تھے ورنہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر فوراً صورتحال واضح ہوجاتی تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حفاظت فرماتا ہے اور اگر کبھی حق کے پوشیدہ رہ جانے اور اس سے ادھر ادھر ہوجانے کا مرحلہ آجائے تو فورا اللہ تعالیٰ اسے متنبہ فرما دیتا اور اس کی اصلاح فرما دیتا ہے جیسا کہ عصمت انبیا کا تقاضا ہے یہ وہ مقام عصمت ہے جو انبیاء کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہیں۔ 105۔ 2 اس سے مراد وہی بنی ابیرق ہیں۔ جنہوں نے چوری خود کی لیکن اپنی چرب زبانی سے یہودی کو چور باور کرانے پر تلے ہوئے تھے۔ اگلی آیت میں بھی ان کے اور ان کے حماتیوں کے غلط کردار کو نمایاں کرکے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خبردار کیا جا رہا ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٤٣] گمشدہ سامان سامان کی برآمدگی سے چوری ثابت نہیں ہوتی :۔ اس آیت اور اس سے اگلی چند آیات کا پس منظر یہ ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر کے ایک آدمی بشیر بن ابیرق نے کسی دوسرے انصاری کے گھر سے آٹے کا تھیلا اور ایک زرہ چوری کی۔ اور چالاکی یہ کی کہ آٹے کا تھیلا اور زرہ راتوں رات ایک یہودی کے ہاں امانت رکھ آیا۔ تھیلا اتفاق سے کچھ پھٹا ہوا تھا جس سے آٹا تھوڑا تھوڑا گرتا گیا جس سے سراغ لگانے میں بہت آسانی ہوگئی۔ اصل مالک نے پیچھا کیا تو بشیر بن ابیرق کے گھر پہنچ گیا اور اس سے اپنی چوری کا ذکر کیا لیکن وہ صاف مکر گیا اور خانہ تلاشی بھی کرا دی جہاں سے کچھ برآمد نہ ہوسکا۔ اب مالک پیچھا کرتا ہوا اس یہودی کے ہاں پہنچا اور اپنی چوری کا ذکر کیا تو یہودی کہنے لگا ایسی زرہ تو میرے پاس موجود ہے لیکن وہ تو فلاں شخص نے میرے پاس بطور امانت رکھی ہے۔ لہذا میں تمہیں نہیں دے سکتا۔ بالآخر مالک یہ مقدمہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عدالت میں لے گیا۔ اب چور اور اس کے خاندان والوں نے آپس میں یہ طے کیا کہ اصل مجرم اس یہودی کو ہی ثابت کیا جائے اور امانت کا درمیان میں نام ہی نہ آنے دیا جائے اور اس واقعہ سے قطعی لاعلمی کا اظہار کردیا جائے اور وہ یہ سمجھے کہ آپ یہود کی بات کا اعتبار نہیں کریں گے اس طرح ہم بری ہوجائیں گے۔ چناچہ فی الواقع ایسا ہی ہوا۔ انصاری چور اور اس کے حمأئیتوں نے اس واقعہ سے قطعاً لاعلمی کا اظہار کیا اور قسمیں بھی کھانے لگے جس کے نتیجہ میں آپ ان خائنوں کی باتوں میں آگئے اور یہودی کو جھوٹا سمجھا اور قریب تھا کہ آپ اس انصاری چور کو بری قرار دے دیں اور یہودی کو مجرم قرار دے دیں اور یہودی کے حق میں قطع ید کا فیصلہ سنا دیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی اصل صورت حال سے مطلع فرما دیا اور تنبیہ فرمائی، کہ آپ کو ایسے بددیانت لوگوں کی قطعاً حمایت نہ کرنا چاہیے۔ [١٤٤] اس آیت میں ایسے مسلمانوں کو خائن قرار دیا گیا ہے جنہوں نے محض خاندان اور قبیلہ کی عصبیت کی بنا پر مجرم کی حمایت کی تھی اور تمام لوگوں کو یہ بتادیا گیا ہے کہ انصاف کے معاملہ میں کسی قسم کا تعصب برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اگر ایک فریق دشمن قوم سے تعلق رکھتا ہے اور وہ حق پر ہے تو اسی کی حمایت کی جائے گی۔ مسلمانوں کی نہیں کی جائے گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ ۔۔ : جمہور مفسرین نے ان آیات (١٠٤ سے ١١٣ تک) کی شان نزول چوری کا ایک واقعہ بتایا ہے، جو ترمذی میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے اور شیخ ناصر الدین البانی (رض) نے اسے حسن کہا ہے۔ خلاصہ اس کا یہ ہے کہ بشر، بشیر اور مبشر تین بھائی تھے، جو ابیرق یا طعمہ بن ابیرق کے بیٹے تھے۔ بعض نے کہا کہ ان میں سے بشیر کی کنیت ابو طعمہ تھی، یہ لوگ مدینہ کے قبیلہ بنو ظفر سے تھے۔ ان میں بشیر سب سے بدتر تھا، یہ شخص منافق تھا اور مسلمانوں کی ہجو کر کے وہ شعر دوسروں کے نام لگا دیتا تھا۔ یہ غریب فاقہ زدہ لوگ تھے اور رفاعہ بن زید کے ہمسائے تھے۔ ایک دفعہ شام سے ایک قافلہ میدہ لے کر آیا تو رفاعہ بن زید نے اس میں سے ایک بوری خرید لی۔ مدینہ کے لوگ آٹا کھاتے تھے، رہا میدہ تو وہ گھر کے بڑے آدمیوں کے لیے سنبھال کر رکھ لیا جاتا تھا۔ رفاعہ نے وہ میدہ اپنے اسلحہ کے سٹور میں اسلحہ کے ساتھ محفوظ کردیا۔ ابیرق کے بیٹوں نے سٹور میں نقب لگا کر میدہ اور اسلحہ چرا لیا۔ صبح ہوئی تو رفاعہ نے اپنا اسلحہ اور میدہ نقب لگا کر چرانے کی بات اپنے بھتیجے قتادہ بن نعمان کے ساتھ کی۔ اب اس نے تفتیش شروع کی تو معلوم ہوا کہ اس رات ابیرق کے بیٹوں نے آگ جلائی تھی اور شاید انھوں نے رفاعہ کے میوہ ہی سے کھانا تیار کیا ہو۔ جب ابیرق کے بیٹوں کا راز فاش ہوگیا تو انھوں نے چوری کا وہ اسلحہ وغیرہ ایک یہودی کے گھر پھینک دیا اور ان کے قبیلے بنو ظفر کے کچھ لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہلے ہی آ کر شکایت کردی کہ رفاعہ بن زید اور اس کے بھتیجے نے ہمارے ایک گھر والوں پر، جو ایمان دار اور نیک لوگ ہیں، چوری کا الزام لگا دیا ہے۔ قتادہ کہتے ہیں، میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم نے بلا دلیل ایمان دار نیک لوگوں پر چوری کا الزام لگا دیا ہے۔ “ ان لوگوں نے مشہور کردیا کہ مسروقہ سامان یہودی کے گھر سے نکلا ہے، تو اس پر یہ آیات اتریں۔ [ ترمذی، التفسیر، باب ومن سورة النساء : ٣٠٣٦ ] اللہ تعالیٰ نے معاملے کی حقیقت کھول دی، تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ جرم تو بنو ابیرق کا تھا، مگر مجرم یہودی کو بنادیا گیا، کیونکہ وہ اپنا نہیں تھا۔ اس سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے انصاف پر بہت بڑا دھبا آسکتا تھا۔ وَلَا تَكُنْ لِّلْخَاۗىِٕنِيْنَ خَصِيْمًا : اس سے مراد ابیرق کے بیٹے ہیں کہ آپ ان کی حمایت نہ کریں، اس سے معلوم ہوا کہ آپ عالم الغیب نہیں تھے، ورنہ اللہ تعالیٰ کو یہ فرمانے کی ضرورت نہ تھی کہ ” آپ ان خیانت کرنے والوں کی طرف سے جھگڑا نہ کریں۔ “

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Sequence While discussing the matters relating to the open disbelievers, the Holy Qur&an has, in some places in the previous verses, referred to the hypocrites and has pointed out that Kufr or disbelief was the common denominator between them. Further on, a particular episode relating to some hypocrites finds mention in the present verses, details of which are being given below.

خلاصہ تفسیر بیشک ہم نے آپ کے پاس یہ کتاب بھیجی (جس سے) واقع کے موافق (حال معلوم ہوگا) تاکہ آپ (اس واقعہ میں) ان لوگوں کے درمیان اس کے موافق فیصلہ کریں جو کہ اللہ تعالیٰ نے (وحی کے ذریعہ سے) آپ کو (اصل حال) بتلا دیا ہے (وہ وحی یہ ہے کہ واقع میں بشیر چور ہے اور قبیلہ بنو ابیرق جو اس کے حامی ہیں کاذب ہیں) اور (جب اصل حال معلوم ہوگیا تو) آپ ان خائنوں کی طرف داری کی بات نہ کیجئے (جیسا بنو ابیرق کی اصل خواہش یہی تھی چناچہ دوسرے رکوع میں آتا ہے : لھمت طآئفة منھم ان یضلوک مگر آپ نے ایسا کیا نہ تھا، خود اسی جملہ سے آپ کا اس پر عمل نہ کرنا بھی معلوم ہوتا ہے، کیونکہ اس کا حاصل یہ ہے کہ فضل الہی نے غلطی سے بچا لیا جس میں ہر غلطی کی نفی ہوگئی اور منع فرمانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ فعل ماضی میں واقع ہوچکا ہو، بلکہ اصل فائدہ منع کا یہ ہے کہ آئندہ کے لئے حقیقت حال سے آگاہ کر کے اس کے کرنے سے روکتے ہیں، پس آپ کی حالت اور نہی کے مجموعہ کا حاصل یہ ہوگا کہ کہ جیسے اب تک طرفداری نہیں کی آئندہ بھی نہ کیجئے اور یہ انتظامات بھی مکمل نبی کو معصم رکھنے کے لئے ہیں اور آیت میں سب کو خائن کہا حالانکہ خائن سب نہ تھے، اس لئے کہ جو لوگ خائن نہ تھے وہ بھی خائن کی اعانت کر رہے تھے اس لئے وہ خائن ٹھہرے) اور (لوگوں کے کہنے سے حسن ظن کے طور پر آپ نے جو بنا بیرق کو دیندار سمجھ لیا ہے، گو ایسا سمجھنا گناہ تو نہیں، لیکن چونکہ اس میں یہ احتمال تھا کہ آپ کے اتنا فرما دینے سے اہل حق اپنا حق چھوڑ دیں گے، چناچہ ایسا ہی ہوا کہ حضرت رفاعہ خاموش ہو کر بیٹھ رہے، لہذا یہ کام نامناسب ہوا، اس لئے اس سے) آپ استغفار فرمایئے (کہ آپ کی شان عظیم ہے اتنا امر بھی آپ کے لئے قابل استغفار ہے) بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے مغفرت کرنے والے بڑے رحمت والے ہیں اور آپ ان لوگوں کی طرف سے کوئی جواب دہی کی بات نہ کیجئے (جیسا وہ لوگ آپ سے چاہتے تھے) جو کہ (لوگوں کی خیانت اور نقصان کر کے باعتبار وبال و ضرر کے درحقیقت) اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو نہیں چاہتے (بلکہ اس کو مبغوض رکھتے ہیں) جو بڑا خیانت کرنیوالا بڑا گناہ کرنیوالا ہو (جیسا کہ تھوڑے خیانت کرنے والے کا بھی محبوب نہیں رکھتے، لیکن چونکہ بشیر کا بڑا خائن ہونا بتلانا مقصود ہے، اس لئے یہ صیغہ مبالغہ کا لایا گیا) جن لوگوں کی یہ کیفیت ہے کہ (اپنی خیانت کو) آدمیوں سے تو (شرما کر) چھپاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے نہیں شرماتے، حالانکہ وہ (مثل ہر وقت کے) اس وقت (بھی) ان کے پاس ہے جب کہ وہ اللہ کی مرضی کے خلاف گفتگو کے متعلق تدبیریں کیا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کے سب اعمال کو اپنے (علمی) احاطہ میں لئے ہوئے ہیں ہاں (جو بشیر وغیرہ کی حمایت میں بعض اہل محلہ جمع ہو کر آئے تھے وہ سن لیں کہ) تم ایسے ہو کہ تم نے دنیوی زندگی میں تو ان کی طرف سے جواب دہی کی باتیں کرلیں سو (یہ بتلاؤ کہ) اللہ تعالیٰ کے روبرو قیامت کے دن ان کی طرف سے کون جوابدہی کرے گا یا وہ کون شخص ہوگا جو ان کا کام بنانے والا ہوگا (یعنی نہ کوئی زبانی جواب دہی کرسکے گا نہ کوئی عملی درستگی مقدمہ کی کرسکے گا) اور (یہ خائنین اگر اب بھی توبہ موافق قاعدہ شرعیہ کے کرلیتے تو معافی ہوجاتی کیونکہ ہمارا قانون یہ ہے کہ) جو شخص کوئی (متعد) برائی کرے یا (صرف) اپنی جان کا ضرر کرے (یعنی) ایسا گناہ نہ کرے جس کا اثر دوسروں تک پہنچتا ہے اور) پھر اللہ تعالیٰ سے (حسب قاعدہ شرعیہ) معانی چاہے (جس میں بندوں کے حقوق کو ادا کرنا یا ان سے معاف کرانا بھی داخل ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو بڑی مغفرت والا بڑی رحمت والا پائے گا اور (ضرور گنہگاروں کو اس کی کوشش کرنا چاہئے کیونکہ) جو شخص کچھ گناہ کا کام کرتا ہے تو وہ فقط اپنی ذات ہی کے لئے کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے ہیں (سب کے گناہوں کی ان کو خبر ہے) بڑے حکمت والے ہیں (مناسب سزا تجویز فرماتے ہیں) اور (یہ تو خود گناہ کرنے کا انجام ہوا اور جو کہ دوسروں پر تہمت لگا دے اس کا حال سنو کہ) جو شخص کوئی چھوٹا گناہ کرے یا بڑا گناہ پھر (بجائے اس کے کہ خود ہی توبہ کرلینا چاہئے تھی اس نے یہ کام کیا کہ) اس (گناہ) کی تہمت کسی بےگناہ پر لگا دی اس نے تو بڑا بھاری بہتان اور صریح گناہ اپنے (سر کے) اوپر لاد لیا (جیسا بشیر نے کیا کہ خود تو چوری کی اور ایک نیک بخت بزرگ آدمی لبید کے ذمہ چوری کی تہمت رکھ دی) اور اگر (اس مقدمہ میں) آپ پر (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کا فضل اور رحمت نہ ہو (جو کہ ہمیشہ آپ پر رہتا ہے) تو ان چالاک) لوگوں میں سے ایک گروہ نے تو آپ کو غلطی ہی میں ڈال دینے کا ارادہ کرلیا تھا (لیکن خدا کے فضل سے ان کی رنگ آمیز باتوں کا آپ پر کوئی اثر نہیں ہوا اور آئندہ بھی نہ ہوگا، چناچہ فرماتے ہیں) اور وہ (کبھی آپ کو) غلطی میں نہیں ڈال سکتے، لیکن (ارادہ سے) اپنی جانوں کو (مبتلائے گناہ اور عذاب کے اہل بنا رہے ہیں) اور آپ کو ذرہ برابر (اس قسم کا) ضرر نہیں پہنچا سکتے اور (آپ کو غلطی سے ضرر پہنچانا کب ممکن ہے جب کہ) اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور علم کی باتیں نازل فرمائیں ( جس کے ایک حصہ میں اس قصہ کی اطلاع بھی دیدی) اور آپ کو وہ (مفید اور عالی) باتیں بتلائی ہیں جو آپ (پہلے سے) نہ جانتے تھے اور آپ پر اللہ کا بڑا فضل ہے۔ معارف ومسائل ربط آیات :۔ اوپر ظاہری کفار کے معاملات کے ضمن میں چند جگہ منافقین کا ذکر آیا ہے کہ کفر دونوں میں یکساں ہے، آگے بھی بعض منافقین کے ایک خاص قصہ کے متعلق مضمون مذکور ہوتا ہے (بیان القرآن) آیات کا شان نزول :۔ مذکورہ سات آیات ایک خاص واقعہ سے متعلق ہیں، لیکن عام قرآنی اسلوب کے مطابق جو ہدایات اس سلسلہ میں دی گئی وہ مخصوص اس واقعہ کے ساتھ نہیں بلکہ تمام موجودہ اور آئندہ آنے والے مسلمانوں کے لئے عام اور بہت اصولی اور فروعی مسائل پر مشتمل ہیں۔ پہلے واقعہ معلوم کیجئے پھر اس سے متعلقہ ہدایات اور ان سے نکلنے والے مسائل پر غور کیجئے، واقعہ یہ ہوا کہ مدینہ میں ایک خاندان بنو ابیرق کے نام سے معروف تھا، ان میں سے ایک شخص جس کا نام ترمذی اور حاکم کی روایت میں بشیر ذکر کیا گیا ہے اور بغوی اور ابن جریر کی روایت میں طعمہ نام بتلایا گیا ہے اس نے حضرت قتادہ بن نعمان کے چچا رفاعہ (رض) کے گھر میں نقب لگا کر چوری کرلی۔ ترمذی کی روایت میں یہ بھی ہے کہ یہ شخص درحقیقت منافق تھا، مدینہ میں رہتے ہوئے بھی صحابہ کرام کی توہین میں اشعار لکھ کر دوسروں کے ناموں سے ان کی اشاعت کیا کرتا تھا۔ اور چوری کی صورت یہ ہوئی کہ ہجرت کے ابتدائی زمانہ میں تمام مسلمان فقر و فاقہ کے ساتھ تنگی سے بسر اوقات کرتے تھے اور ان کی عام خوراک جو کا آٹا تھا یا کھجوریں یا گیہوں کا آٹا جو بہت کم میسر تھا اور مدینہ میں ملتا بھی نہ تھا، ملک شام سے جب آتا تو کچھ لگ مہمانوں کے لئے یا کسی خاص ضرورت کے لئے خرید لیا کرتے تھے، حضرت رفاعہ نے اسی طرح کچھ گیہوں کا آٹا خرید کر ایک بوری میں اپنے لئے رکھ لیا، اسی میں کچھ اسلحہ وغیرہ بھی رکھ کر ایک چھوٹی کوٹھڑی میں محفوظ کردیا، ابن ابیرق، بشیر، یا طعمہ نے اس کو بھانپ لیا، تو نقب لگا کر یہ بوری نکال لی، حضرت رفاعہ نے جب صبح کو یہ ماجرا دیکھا تو اپنے بھتیجے قتادہ کے پاس آئے اور واقعہ چوری کا ذکر کیا، سب نے مل کر محلہ میں تفتیش شروع کی، بعض لوگوں نے بتایا کہا آج رات ہم نے دیکھا کہ بنو ابیرق کے گھر میں آگ روشن تھی، ہمارا خیال ہے کہ وہی کھانا پکایا گیا ہے، بنو ابیرق کو جب راز فاش ہونے کی خبر ملی تو خود آئے اور کہا کہ یہ کام لبید بن سہل کا ہے، حضرت لبید کو سب جانتے تھے کہ مخلص مسلمان اور نیک بزرگ ہیں ان کو جب یہ خبر ہوئی تو وہ تلوار کھینچ کر آئے اور کہا کہ چوری میرے سر لگاتے ہو اب میں تلوار اس وقت تک میان میں نہ رکھوں گا جب تک چوری کی حقیقت واضح نہ ہوجائے۔ بنو ابیرق نے آہستہ سے کہا کہ آپ بےفکر رہیں آپ کا نام کوئی نہیں لیتا، نہ آپ کا یہ کام ہوسکتا ہے، لغوی اور ابن جریر کی روایت میں اس جگہ یہ ہے کہ بنو ابیرق نے چوری ایک یہودی کے نام لگائی اور ہوشیاری یہ کی کہ آٹے کی بوری کو تھوڑا سا پھاڑ دیا تھا جس سے آٹا گرتا رہا اور رفاعہ کے مکان سے یہودی مذکور کے مکان تک اس آٹے کے آثار پائے گئے شہرت ہونے کے بعد چوری کیا ہوا اسلحہ اور زر ہیں بھی اس یہودی کے پاس رکھوا دیں اور تحقیق کے وقت اسی کے گھر سے برآمد ہوئیں، یہودی نے قسم کھائی کہ زرہیں مجھے ابن ابیرق نے دی ہیں۔ ترمذی کی روایت اور بغوی کی روایت میں تطبیق اس طرح ہو سکتی ہے کہ بنو ابیرق نے اولا چوری کو لبید بن سہل کے نام لگایا ہو، پھر جب بات بنتی نظر نہ آئی تو اس یہودی کے سر ڈالا ہو، بہرحال اب معاملہ یہودی اور بنو ابیرق کا بن گیا۔ ادھر حضرت قتادہ اور رفاعہ کو مختلف صورتوں سے یہ گمان غالب ہوگیا تھا کہ یہ کارروائی بنو ابیرق کی ہے، حضرت قتادہ نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر چوری کا واقعہ اور بسلسلہ تفتیش بنو ابیرق پر گمان غالب کا ذکر کردیا، بنو ابیرق کو خبر ملی تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر حضرت رفاعہ اور قتادہ کی شکایت کی کہ بلا ثبوت شرعی چوری ہمارے نام لگا رہے ہیں حالانکہ مسروقہ مال یہودی کے گھر سے برآمد ہوا ہے، آپ ان کو روکئے کہ ہمارے نام نہ لگائیں، یہودی پر دعویٰ کریں۔ ظاہری حالات و آثار سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بھی اسی طرف رجحان ہوگیا کہ یہ کام یہودی کا ہے، بنو ابیرق پر الزام صحیح نہیں، یہاں تک کہ بغوی کی روایت میں ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارادہ ہوگیا کہ یہودی پر چوری کی سزا جاری کردی جائے اور اس کا ہاتھ کاٹا جائے۔ ادھر جب حضرت قتادہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ آپ بغیر دلیل اور ثبوت کے ایک مسلمان گھرانے پر چوری کا الزام لگا رہے ہیں، حضرت قتادہ اس معاملہ سے بہت رنجیدہ ہوئے، اور افسوس کیا کہ کاش میں اس معاملہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کوئی بات نہ کرتا، اگرچہ میرا مال بھی جاتا رہتا اسی طرح حضرت رفاعہ کو جب یہ معلوم ہوا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا ارشاد فرمایا تو انہوں نے بھی صبر کیا اور کہا : واللہ المستعان اس معاملہ پر کچھ وقت نہ گزرا تھا کہ قرآن کریم کا ایک پورا رکوع اس بارے میں نازل ہوگیا جس کے ذریعہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر واقعہ کی حقیقت منکشف کردی گی اور ایسے معاملات کے متعلق عام ہدایات دی گئیں۔ قرآن کریم نے بنوا بیرق کی چوری کھول دی اور یہودی کو بری کردیا تو بنو ابیرق مجبور ہوئے اور مال مسروقہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کردیا، آپ نے رفاعہ (رض) کو واپس دلایا اور انہوں نے اب سب اسلحہ کہ جہاد کے لئے وقف کردیا، ادھر بنو ابیرق کی چوری کھل گئی تو بشیر بن ابیرق مدینہ سے بھاگ کر مکہ چلا گیا اور مشرکین کے ساتھ مل گیا، اگر وہ پہلے سے منافق تھا تو اب کھلا کافر ہوگیا اور اگر پہلے مسلمان تھا تو اب مرتد ہوگیا۔ تفسیر بحر محیط میں ہے کہ اللہ اور رسول کی مخالفت کے وبال نے بشیربن ابیرق کو مکہ میں بھی چین سے نہ رہنے دیا، اسی طرح پھرتے پھرتے آخر اس نے ایک اور شخص کے مکان میں نقب لگائی، تو دیوار اس کے اوپر گر گئی، اور وہیں دب کر مر گیا۔ یہاں تک تو واقعہ کی پوری تفصیل تھی، اب اس کے متعلق قرآنی ارشادت پر غور کیجئے۔: پہلی آیت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چوری کے واقعہ کی اصل حقیقت بتلا کر ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ پر قرآن اور وحی اسی لئے نازل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو علم و معرفت آپ کو عطا فرمایا ہے اس کے مطابق فیصلہ کریں اور خائنوں کی یعنی بنوا بیرق کی طرف داری نہ کریں اور اگرچہ ظاہری حالات اور قرائن کی بناء پر چوری کے معاملہ میں یہودی کی طرف آپ کا رجحان کوئی گناہ نہ تھا مگر تھا تو واقعہ کے خلاف، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اجتہاد کرنے کا حق حاصل تھا :۔ انا انزلنا الیک الکتب بالحق الخ اس آیت سے پانچ مسائل ثابت ہوئے، ایک تو یہ کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسے مسائل میں جن میں قرآن کریم کی کوئی نص صریح وارد نہ ہو اپنی رائے سے اجتہاد کرنے کا حق حاصل تھا، اور مہمات کے فیصلوں میں آپ بہت سے فیصلے اپنے اجتہاد سے بھی فرماتے تھے۔ دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اجتہاد رائے وہی معتبر ہے جو قرآنی اصول اور نصوص سے ماخوذ ہو، خالص رائے اور خیال معتبر نہیں اور نہ اس کو شریعت میں اجتہاد کہا جاسکتا ہے۔ تیسری بات یہ معلوم ہوئی کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اجتہاد دوسرے ائمہ، مجتہدین کی طرح نہ تھا، جس میں غلطی اور خطاء کا احتمال ہمیشہ باقی رہتا ہے، بلکہ جب آپ کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے فرماتے تو اگر اس میں کوئی غلطی ہوجاتی تو حق تعالیٰ اس پر آپ کو متنبہ فرما کر آپ کے فیصلہ کو صحیح اور حق کے مطابق کرا دیتے تھے اور جب آپ نے کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے خلاف کوئی چیز نہ آئی تو یہ علامت اس کی تھی کہ یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کو پسند اور اس کے نزدیک صحیح ہے۔ چوتھی بات یہ معلم ہوئی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ قرآن سے سمجھتے تھے وہ اللہ تعالیٰ ہی کا سمجھایا ہوا ہوتا تھا، اس میں غلط فہمی کا امکان نہ تھا، بخلاف دوسرے علماء و مجتہدین کے کہ ان کا سمجھا ہوا اللہ تعالیٰ کی طرف اس طرح منسوب نہیں کیا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بتلایا ہے، جیسا کہ اس آیت میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے متعلق بما آرئک اللہ وارد ہے، اسی وجہ سے جب ایک شخص نے فاروق اعظم (رض) سے یہ کہا فاحکم بما اراک اللہ تو آپ نے اس کو ڈانٹا کہ یہ خصوصیت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہے۔ پانچواں مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ جھوٹے مقدمہ اور جھوٹے دعویٰ کی پیروی یا وکالت کرنا یا اس کی تائید و حمایت کرنا سب حرام ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰىكَ اللہُ۝ ٠ۭ وَلَا تَكُنْ لِّلْخَاۗىِٕنِيْنَ خَصِيْمًا۝ ١٠٥ۙ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو حكم والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] ( ح ک م ) حکم الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ خون الخِيَانَة والنّفاق واحد، إلا أنّ الخیانة تقال اعتبارا بالعهد والأمانة، والنّفاق يقال اعتبارا بالدّين، ثم يتداخلان، فالخیانة : مخالفة الحقّ بنقض العهد في السّرّ. ونقیض الخیانة : الأمانة وعلی ذلک قوله : لا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] ، ( خ و ن ) الخیانۃ خیانت اور نفاق دونوں ہم معنی ہیں مگر خیانت کا لفظ عہد اور امانت کا پاس نہ کرنے پر بولا جاتا ہے اور نفاق دین کے متعلق بولا جاتا ہے پھر ان میں تداخل ہوجاتا ہے پس خیانت کے معنی خفیہ طور پر عہد شکنی کرکے حق کی مخالفت کے آتے ہیں اس کا ضد امانت ہے ۔ اور محاورہ میں دونوں طرح بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ لا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَماناتِكُمْ [ الأنفال/ 27] نہ تو خدا اور رسول کی امانت میں خیانت کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو ۔ خصم الخَصْمُ مصدر خَصَمْتُهُ ، أي : نازعته خَصْماً ، يقال : خاصمته وخَصَمْتُهُ مُخَاصَمَةً وخِصَاماً ، قال تعالی: وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصامِ [ البقرة/ 204] ، وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] ، ثم سمّي المُخَاصِم خصما، واستعمل للواحد والجمع، وربّما ثنّي، وأصل المُخَاصَمَة : أن يتعلّق كلّ واحد بخصم الآخر، أي جانبه وأن يجذب کلّ واحد خصم الجوالق من جانب، وروي : ( نسیته في خصم فراشي) «1» والجمع خُصُوم وأخصام، وقوله : خَصْمانِ اخْتَصَمُوا [ الحج/ 19] ، أي : فریقان، ولذلک قال : اخْتَصَمُوا وقال : لا تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ [ ق/ 28] ، وقال : وَهُمْ فِيها يَخْتَصِمُونَ [ الشعراء/ 96] ، والخَصِيمُ : الكثير المخاصمة، قال : هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ [ النحل/ 4] ، والخَصِمُ : المختصّ بالخصومة، قال : بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ [ الزخرف/ 58] . ( خ ص م ) الخصم ۔ یہ خصمتہ کا مصدر ہے جس کے معنی جھگڑنے کے ہیں کہاجاتا ہے خصمتہ وخاصمتہ مخاصمۃ وخصاما کسی سے جھگڑا کر نا قرآن میں ہے :۔ وَهُوَ أَلَدُّ الْخِصامِ [ البقرة/ 204] اور وہ حالانکہ سخت جھگڑا لو ہے ۔ وَهُوَ فِي الْخِصامِ غَيْرُ مُبِينٍ [ الزخرف/ 18] اور جھگڑنے کے وقت بات نہ کرسکے ۔ اور مخاصم کو خصم کہا جات ہے ، اور خصم کا لفظ واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے مگر کبھی تثنیہ بھی آجاتا ہے۔ اصل میں خصم کے معنی کنارہ کے ہیں ۔ اور مخاصمت کے معنی ایک دوسرے سے کو کنارہ سے پکڑنے کے ہیں ۔ اور بوری کو کونے سے پکڑکر کھینچنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔ ایک حدیث میں ہے :۔ (114) نسی تھا فی خصم فراشی کہ میں اسے اپنے بسترہ کے کونے میں بھول آیا ہوں خصم کی جمع خصوم واخصام آتی ہے اور آیت کریمہ ؛۔ اخْتَصَمُوا[ الحج/ 19] دوفریق جھگڑتے ہیں ۔ میں خصما ن سے دو فریق مراد ہیں اسی لئے اختصموا آیا ہے ۔ الاختصام ( افتعال ) ایک دوسرے سے جھگڑنا ۔ قرآن میں ہے :۔ لا تَخْتَصِمُوا لَدَيَّ [ ق/ 28] ہمارے حضور رد کد نہ کرو ۔ وَهُمْ فِيها يَخْتَصِمُونَ [ الشعراء/ 96] ۔۔۔۔ وہ آپس میں جھگڑیں گے ۔ الخصیم ۔ جھگڑا لو بہت زیادہ جھگڑا کرنے والا جیسے فرمایا :۔ هُوَ خَصِيمٌ مُبِينٌ [ النحل/ 4] مگر وہ ( اس بارے میں ) علانیہ جھگڑنے لگا ۔ الخصم سخٹ جھگڑالو جس کا شیوہ ہ جھگڑنا ہو ۔ قرآن میں ہے :َ بَلْ هُمْ قَوْمٌ خَصِمُونَ [ الزخرف/ 58] حقیقت یہ ہے ۔ یہ لوگ ہیں ہی جھگڑا لو،

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے ( انا انزلنا الیک الکتاب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تا کہ جو راہ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو) آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کتاب اس لیے نازل کی ہے کہ اس کی طرف سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جن احکامات و عبادات سے آگاہ کیا جائے آپ ان کی روشنی میں لوگوں کے درمیان فیصلے کریں۔ قول باری ہے ( ولا تکن للخائنین خصیما۔ تم بددیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو) روایت ہے کہ آیت ایک شخص کے متعلق نازل ہوئی تھی جس نے ایک زدہ چرالی تھی۔ جب اسے چوری ظاہر ہوجانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تو اس نے یہ زرہ ایک یہودی کے گھر یمں پھینک دی، جب یہ زرہ برآمد ہوگئی تو یہودی نے اس کی چوری سے انکار کیا لیکن اصل چور نے یہ ظاہر کیا کہ یہودی اس کا چور ہے۔ مسلمانوں کے ایک گرہ نے یہودی کے مقابلہ میں مسلمان کا ساتھ دیا جس کے نتیجے میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا میلان بھی ان کی بات کی طرف ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اصل چور کے بارے میں مطلع کردیا اور یہودی کی برأت واضح کر کے آپ کو اس مخاصمت سے منع فرما دیا اور چور کا ساتھ دینے والوں کی طرف میلان کی بنا پر آپ کو استغفار کا حکم دیا۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ ایک شخص کو جب تک کسی معاملے کی حقیقت کا علم نہ ہوجائے اس وقت تک حق کے اثبات یا نفی کے سلسلے میں کسی کی طرف سے اس کے لیے جھگڑنا جائز نہیں ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس جیسی صورت حال پر اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گرفت کی اور انہیں استغفار کا حکم دیا۔ یہ آیت اور اس کے مابعد کی آیت جس میں بددیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے کی نہی ہے اور اس سلسلے میں آخر تک جو کچھ ارشاد ہوا ہے، یہ سب اس شخص کی حمایت کی نہی کی تاکید مزید ہے جس کے حق پر ہونے کا کوئی علم نہ ہو۔ قول باری ( لتحکم بین الناس بما اراک اللہ) سے ان لوگوں نے بعض دفعہ استدلال کیا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی بات اپنے اجتہاد سے نہیں فرماتے تھے بلکہ آپ کے تمام اقوال و اقعال کا صدور نصوص کی بنا پر ہوتا تھا۔ نیز یہ آیت اس قول باری کی طرح ہے ( وما ینطق عن الھویٰان ھو الا وحی یوحی اور نہ وہ اپنی خواہش نفسانی سے باتیں بناتے ہیں۔ ان کا کام تو تمام تروحی ہی ہے جو ان پر بھیجی جاتی ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ دونوں میں کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی بات اپنے اجتہاد کی بنا پر نہیں فرماتے تھے۔ اس لیے کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ جو باتیں اجتہاد کی بنا پر آپ سے صادر ہوئی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان سے آگاہ کردیا تھا، ان کی رہنمائی کردی تھی اور ان کے کرلینے کا بذریعہ وحی حکم بھیج دیا تھا اس لیے آیت میں احکام کے اندر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اجتہاد کی نفی پر کوئی دلالت موجود نہیں ہے۔ قول باری ( ولا تکن للخائنین خصیما) کی تفسیر میں ایک قول ہے کہ اس میں یہ گنجائش ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان لوگوں کی طرف سے مدافعت کی تھی اور یہ بھی گنجائش ہے کہ آپ نے مدافعت کا ارادہ کیا تھا اس لیے کہ آپ کا میلان مسلمانوں کی طرف تھا، یہودی کی طرف نہیں تھا۔ کیونکہ آپ کو یہ گمان نہیں تھا کہ مسلمان حق پر نہیں ہوں گے، اور جبکہ ظاہری طور پر زرہ بھی یہودی کے گھر سے برآمد ہوئی تھی تو یہودی پر چوری کی تہمت زیادہ مناسب تھی اور مسلمان کی اس سے برأت اولیٰ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دونوں فریق میں سے کسی ایک طرف میلان کا اظہار کرنے سے منع فرما دیا اگرچہ ایک فریق یہودی تھا اور دسورا فریق مسلمان تھا۔ عدالتی فیصلوں کے سلسلے میں یہ بات ایک بنیاد اور اصل بن گئی کہ قاضی یا حاکم فریقین میں سے کسی کی طرف دوسرے کے خلاف کوئی میلان یا جھکائو نہ رکھے خواہ ان میں سے ایک فریق اس کے لیے قابل احترام ہو اور دوسرا فریق اس کے برعکس ہو۔ یہ آیت اس پر بھی دلالت کتری ہے کہ اگر مال مسروقہ کسی شخص کے ہاتھ میں نظر آ جائے تو اس سے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ اس شخص پرچوری کا حکم لگا دیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰنے یہودی کے پاس مال مسروقہ موجود ہونے کے باوجود اس پر چوری کا حکم لگانے سے منع فرما دیا تھا۔ کیونکہ یہودی یہ بات ماننے سے انکار کر رہا تھا کہ اس نے یہ زرہ اٹھائی ہے۔ یہ بات حضرت یوسف (علیہ السلام) کے اقدام کی طرح نہیں ہے جب آپ نے صاع یعنی پیمانہ خود اپنے بھائی کے شتیلہ بعنی کجاوے میں رکھوا دیا تھا اور پھر اسی بنا پر بھائی کو پکڑ کر اپنے پاس محبوس کردیا تھا۔ کیونکہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس سلسلے میں جو کارروائی کی تھی وہو مصر کے لوگوں کے دستور کے مطابق جائز تھی، ان لوگوں کا دستور تھا کہ یہ چور کو غلام بنا لیا کرتے تھے۔ چنانچہ آپ نے بھی اپنے بھائی کو اپنے پاس روک لیا تھا۔ آپ بھی اس دستور کو اپنا سکتے تھے لیکن آپ نے اسے غلام نہیں بنایا اور نہ ہی یہ کہا کہ یہ چور ہے ۔ چور ہونے کی بات کسی اور شخص نے کیہ تھی، جس نے آپ کے بھائی کو چور سمجھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ظن اور خواہشات نفسانی کی بنا پر فیصلہ کرنے اور حکم لگانے سے منع فرما دیا ہے۔ چناچہ ارشاد ہے ( اجتنبوا کثیرا من الظن ان بعض الظن اتم، بہت سے گمانوں سے بچو، بعض ظن گناہ ہوتے ہیں) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے ( ایاکم والظن فانہ اکذت الحدیث گمان سے بچو کیونکہ گمان سب سے بڑھ کر جھوٹ بات ہے) قول باری ہے ( ولا تکن للخائنین خصیما) نیز ارشاد ہے ( ولا تجادل عن الذین یختانون انفسھم جو لوگ اپنے نفس سے خیانت کرتے ہیں تم ان کی حمایت نہ کرو) ان دونوں آیتوں کے مفہوم میں اس بات کی گنجائش ہے ۔ یہودی کے گھر میں مسروقہ زرہ کی موجودگی کی بنا پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ذہن اس کے خلاف ہوگیا تھا اور اس کی بھی گنجائش ہے کہ آپ نے اس کا ارادہ کرلیا ہو۔ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو یہودی کی بےگناہی کی خبر دے دی گئی اور ان مسلمانوں کی طرف سے یہودی کے ساتھ جھگڑنے سے آپ کو روک دیا گیا جو چور کی طرفداری کر رہے تھے۔ مسلمانوں کا یہ گرہ بددیانت شخص کی بےگناہی کی گواہی دے رہا تھا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات کا طلبگار تھا کہ آپ صحابہ سے خود اس شخص کی بےگناہی بیان کردیں اور جو لوگ اس کے خلاف الزام لگا رہے تھے انہیں ڈانٹ دیں۔ اس صورت حال کے تحت یہ ممکن ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کی حمایت کا اظہار کیا ہو کیونکہ مذکورہ بالا گروہ کی طرف سے اس کی بےگناہی کیی گواہی دی جا رہی تھی اور یہ کہا جا رہا تھا کہ اس جیسے شخص پر ایسا الزام نہیں لگ سکتا۔ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ نے اس گروہ کے باطن کو اپنے ارشاد ( ولو لا فضل اللہ علیک ورحمتہ لھمت طآئفۃ منھم ان یضلوک۔ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہوتا اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تو تمہیں غلط فہمی میں مبتلا کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا) کے ذریعے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آشکار کردیا کہ یہ لوگ آپ سے اس خائن کی حمایت کا مطالبہ کر کے آپ کو غلط فہمی میں مبتلا کرنا چاہتے تھے۔ ایک قول یہ ہے کہ جس گروہ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس چیز کا مطالبہ کیا تھا اور خائن کی حمایت کی تھی وہ مسلمان تھا اور اسے بھی اس خائن کی بددیانتی اور چوری کے بارے میں صحیح علم نہیں تھا، تا ہم اس گروہ کے لیے یہ درست نہیں تھا کہ وہ یہودی کے گھر میں زرہ کی موجودگی کی وجہ سے اس پرچوری کا الزام لگا دیتا۔ اگر یہ پوچھا جائے کہ ظاہری صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس کے مطابق حاکم کا فیصلہ، جبکہ باطن اس کے برعکس ہو، کیسے غلط قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ حاکم پر تو صرف یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ظاہری صورت حال کے مطابق فیصلہ صادر کر دے۔ باطن کی حالت کا اعتبار کرنا اس کی ذمہ داری کے دائرے میں نہیں آتا۔ اس سوال کا یہ جواب ہے کہ ظاہری صورت حال کے مطابق فیصلہ گمراہی نہیں کہلائے گا اور نہ ہی غلط متصور ہوگا۔ گمراہی یہ ہوگی کہ بددیانت انسان کے متعلق حقیقت حال معلوم کیے بغیر اس کی بےگناہی کا فیصلہ صادر کردیا جائے۔ مذکورہ بالا واقعہ میں خائن کے حمائتیوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایسی ہی صورت حال کے تحت غلط فہمی میں مبتلا کرنے اور صحیح سمت سے ہٹانے کی کوشش کی تھی۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٠٥) اللہ تعالیٰ نے بذریعہ جبریل امین (علیہ السلام) حق اور باطل کو واضح کردینے کے لیے قرآن کریم نازل کیا ہے تاکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) طعمہ اور زید بن سمین کے درمیان اس چیز کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن کریم میں بتلایا ہے فیصلہ کردیں اور آپ طعمہ کی طرفداری نہ کیجیے۔ شان نزول : (آیت) ” انا انزلنا الیک “۔ (الخ) امام ترمذی (رح) اور حاکم (رح) وغیرہ نے قتادہ بن نعمان سے روایت نقل کی ہے، فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں میں سے ایک گھرانے کو بنو ابیرق کہا جاتا تھا، یعنی بشر، بشیر، مبشر، مگر بشیر منافق آدمی تھا، رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجو میں خود اشعار کہتا اور پھر اہل عرب میں سے کسی اور کی طرف منسوب کردیتا تھا اور پھر کہتا کہ فلاں نے ایسا کہا ہے۔ صحابہ کرام (رض) جب اس کے شعر کو سنتے تو فرماتے اللہ کی قسم اس خبیث کے سوا یہ شعر کسی اور کا نہیں ہوسکتا اور یہ گھرانہ زمانہ جاہلیت اور اسلام میں غربت اور فاقہ مستی والا تھا اور لوگوں کی اس تنگی کے زمانہ میں خوراک جو اور کھجوریں تھیں، چناچہ میرے چچا رفاعۃ بن زید نے ایک آٹے کی بوری خریدی اور اس کو ایک کمرہ میں رکھ دیا، جہاں ہتھیار، زرہ اور تلوار وغیرہ بھی رکھی ہوئی تھی تو کسی نے نیچے کی جانب سے اس کمرہ میں نقب لگائی اور وہ کھانا اور ہتھیار چرا کرلے گیا، جب صبح ہوئی تو میرے چچا رفاعۃ پریشانی کے عالم میں میرے پاس آئے اور بولے بھتیجے اس رات تو ہم پر کسی نے بہت ظلم کیا ہے کوئی ہمارے کمرے میں نقب لگا کر ہمارا کھانا اور ہتھیار لے گیا ہے، ہم نے گھروالوں سے اس کی تحقیق اور تلاش شروع کی، ہم سے کہا گیا کہ ہم نے بنو البیرق کو اس رات آگ روشن کرتے ہوئے دیکھا ہے اور ہم نے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں دیکھا یعنی کہ وہ چور ہے اور اب ہم نے اس کو تمہارے کھانے پر دیکھا ہے۔ ہم گھر میں اس چیز کی تحقیق کر ہی رہے تھے کہ اتنے میں بنو البیرق کہنے لگے کہ واللہ ہم لبید بن سہل کے اوپر چور ہونے کا گمان رکھتے ہیں اور لبید بن سہل (رض) ہم لوگوں سے بہت نیک مسلمان شخص تھے، لبید (رض) نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے اپنی تلوار سونت لی اور فرمایا اگر میں چوری کروں گا تو اللہ کی قسم میں اس تلوار سے اپنی گردن اڑا دوں گا، ورنہ اس چوری کے مسئلے کو میرے سامنے واضح بیان کردیں تو وہ لوگ کہنے لگے آپ کو ہم نہیں کہہ رہے آپ ایسے شخص نہیں، چناچہ ہم نے گھر میں اس چیز کی تحقیق کی، ہمیں اس قسم کا کوئی شک باقی نہیں رہا کہ وہ ایسے لوگ ہیں، میرے، چچا نے مجھ سے کہا، بھتیجے اگر تم رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر اس چیز کا تذکرہ کر دو تو اچھا ہو، چناچہ میں حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا کہ ہمارے پڑوسی ظالم ہیں، انہوں نے میرے چچا کے کمرہ میں نقب لگائی اور ہتھیار اور کھانا لے گئے بہتر ہے کہ ہو ہمارے ہتھیار واپس کردیں، کھانے کی تو کوئی بات نہیں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، اچھا میں اس کی تحقیق کرتا ہوں، بنوالبیرق نے جب یہ سنا تو ان میں سے ایک شخص اسیر بن عروہ نامی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور آپ سے اس چیز کے بارے میں گفتگو کی، اس بارے میں گھر والوں میں سے بہت سے لوگ جمع ہوگئے اور بولے یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتادہ اور اس کے چچا نے ہمارے گھروالوں کو جو جو مسلمان اور نیک آدمی ہیں، بغیر گواہ اور ثبوت کے چوری کا الزام لگانے کا ارادہ کیا ہے ؟ قتادہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا مسلمان اور نیک گھرانے پر بغیر گواہ اور ثبوت کے تم نے چوری کی تہمت لگانے کا ارادہ کیا ہے ؟ یہ سن کر میں واپس آیا اور اپنے چچا کو آکر اس چیز سے مطلع کیا، چچا نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہی مددگار ہے ہمیں اس پر تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اتنے میں قرآن کریم کی ” انا انرلنا “۔ سے اخیر تک یہ آیات نازل ہوگئیں یعنی آپ بنو البیرق کے حمایتی نہ بنیے اور قتادہ (رض) سے جو کچھ آپ نے فرمایا اس پر استغفار کیجیے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٠٥ (اِنَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الْکِتٰبَ بالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَآ اَرٰٹک اللّٰہُ ط) یعنی ایک تو اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کتاب دی ہے ‘ قانون دیا ہے ‘ اس کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بصیرت خاص دی ہے۔ مثلاً عدالت میں ایک جج بیٹھا ہے ‘ اس کے سامنے قانون کی کتاب ہے ‘ مقدمے سے متعلق متعلقہ ریکارڈ ہے ‘ شہادتیں ہیں ‘ اب ایک اس کی اپنی عقل (چھٹی حِس) اور قوت فیصلہ بھی ہوتی ہے ‘ جس کو بروئے کار لا کر وہ فیصلہ کرتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جیسا ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دکھاتے ہیں اس کے مطابق آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فیصلہ کریں۔ (وَلاَ تَکُنْ لِّلْخَآءِنِیْنَ خَصِیْمًا ) یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی طرف سے وکالت نہ فرمائیں۔ ایک شخص جو کہنے کو تو مسلمان ہے لیکن ہے خائن ‘ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی طرف داری نہیں کرنی چاہیے۔ اس کے پس منظر میں در اصل ایک واقعہ ہے۔ ایک منافق نے کسی مسلمان کے گھر میں چوری کے لیے نقب لگائی اور وہاں سے آٹے کا ایک تھیلا اور کچھ اسلحہ چرا لیا۔ آٹے کے تھیلے میں سوراخ تھا ‘ جب وہاں سے وہ اپنے گھر کی طرف چلا تو سوراخ میں سے آٹا تھوڑا تھوڑا گرتا گیا۔ اس طرح اس کے راستے اور گھر کی نشاندہی ہوتی گئی ‘ مگر اسے خبر نہیں تھی کہ آٹے کی لکیر اس کا راز فاش کر رہی ہے۔ گھر پہنچ کر اسے خیال آیا کہ ممکن ہے مجھ پر شک ہوجائے ‘ چناچہ اس نے اسی وقت جا کر وہ سامان ایک یہودی کے ہاں امانتاً رکھوا دیا ‘ لیکن آٹے کا نشان وہاں بھی پہنچ گیا۔ اگلے روز جب تلاش شروع ہوئی تو آٹے کی لکیر کے ذریعے لوگ کھوج لگاتے ہوئے اس کے مکان پر پہنچ گئے ‘ لیکن پوچھ گچھ پر اس نے صاف انکار کردیا۔ تلاشی لی گئی ‘ مگر کوئی چیز برآمد نہ ہوئی۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ آٹے کے نشانات مزید آگے جا رہے ہیں تو وہ کھوج لگاتے ہوئے یہودی کے گھر پہنچے ‘ اس کے ہاں سے سامان بھی بر آمد ہوگیا۔ یہودی نے حقیقت بیان کردی کہ یہ سامان رات کو فلاں شخص نے اس کے پاس امانتاً رکھوایا تھا۔ منافق کی قوم کے لوگوں نے کہا کہ یہودی جھوٹ بولتا ہے ‘ وہی چور ہے۔ جب کوئی فیصلہ نہ ہوسکا تو یہ جھگڑا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے لایا گیا۔ منافق کے قبیلے والوں نے قسمیں کھا کھا کر خوب وکالت کی کہ ہمارا یہ آدمی تو بہت نیک ہے ‘ اس پر خواہ مخواہ کا جھوٹا الزام لگ رہا ہے۔ یہاں تک کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دل بھی اس شخص کے بارے میں کچھ پسیجنے لگا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ خیانت کرنے والے کے حمایتی نہ بنیں ‘ اس کی طرف سے وکالت نہ کریں ‘ اس کا سہارا نہ بنیں ‘ اس کو مدد نہ پہنچائیں۔ یہاں خَصِیْمًا کے معنی ہیں جھگڑا کرنے والا ‘ بحث کرنے والا۔ لِلخَاءِنِیْنَ کا مطلب ہے خائن لوگوں کے حق میں۔ لیکن اگر عَلَی الخَاءِنِین ہوتا تو اس کا مطلب ہوتا خائن لوگوں کے خلاف۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

140. These and certain other verses which occur a little later on (see verses 113 ff.) deal with an important matter, related to an incident that took place around the time they were revealed. The incident involved a person called Tu'mah or Bashir ibn Ubayriq of the Banu Zafar tribe of the Ansar. This man stole an Ansari's coat of mail. While the investigation was in progress, he put the coat of mail in the house of a Jew. Its owner approached the Prophet (peace be on him) and expressed his suspicion about Tu'mah. But Tu'mah, his kinsmen and many of the Banu Zafar colluded to ascribe the guilt to the Jew. When the Jew concerned was asked about the matter he pleaded that he was not guilty. Tu'mah's supporters, on the other hand, waged a vigorous propaganda campaign to save Tu'mah's skin. They argued that the wicked Jew, who had denied the Truth and disbelieved in God and the Prophet (peace be on him), was absolutely untrustworthy, and his statement ought to be rejected outright. The Prophet (peace be on him) was about to decide the case against the Jew on formal grounds and to censure the plaintiff for slandering Banu Ubayriq, but before he could do so, the whole matter was laid bare by a revelation from God. (For the traditions cited here, see the commentary of Ibn Kathir on this verse - Ed.) It is obvious that the Prophet (peace be on him) would have committed no sin if he had given judgement on the evidence before him. Judges are quite often faced with such situations. False evidence is given in order to obtain wrong verdicts. The time when this case came up for decision was a time of severe conflict between Islam and unbelief. Had the Prophet (peace be on him) issued a wrong judgement on the basis of the evidence before him, it would have provided the opponents of Islam with an effective weapon against the Prophet (peace be on him) as well as against the entire Islamic community, and even Islam itself. They could have spread the word that the Prophet (peace be on him) and his followers were not concerned about right and justice: it would have been claimed that they were guilty of the same prejudice and chauvinism against which they had themselves been preaching. It was specifically to prevent this situation that God intervened in this particular case. In this and the following verses (105 ff.) the Muslims were strongly censured for supporting criminals for no other reason than either family or tribal solidarity and were told that they should not allow prejudice to interfere with the principle of equal justice for all. Man's instinctive honesty revolts against the idea of supporting one's own kin even when they are wrong, and denying others their legitimate rights.

" سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :140 اس رکوع اور اس کے بعد والے رکوع میں ایک اہم معاملہ سے بحث کی گئی ہے جو اسی زمانہ میں پیش آیا تھا ۔ قصہ یہ ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر میں ایک شخص طَعْمہ یا بشیر بن اُبَیرِق تھا ۔ اس نے ایک انصاری کی زرہ چرا لی ۔ اور جب اس کا تجسس شروع ہوا تو مال مسروقہ ایک یہودی کے ہاں رکھ دیا ۔ زرہ کے مالک نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے استغاثہ کی اور طعمہ پر اپنا شبہہ ظاہر کیا ۔ مگر طعمہ اور اس کے بھائی بندوں اور بنی ظفر کے بہت سے لوگوں نے آپس میں اتفاق کر کے اس یہودی پر الزام تھوپ دیا ۔ یہودی سے پوچھا گیا تو اس نے اپنی برأت ظاہر کی ۔ لیکن یہ لوگ طعمہ کی حمایت میں زور شور سے وکالت کرتے رہے اور کہا کہ یہ یہودی خبیث جو حق کا انکار اور اللہ کے رسول سے کفر کرنے والا ہے ، اس کی بات کا کیا اعتبار ، بات ہماری تسلیم کی جانی چاہیے کیونکہ ہم مسلمان ہیں ۔ قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس مقدمہ کی ظاہری روداد سے متاثر ہو کر اس یہودی کے خلاف فیصلہ صادر فرما دیتے اور مستغیث کو بھی بنی اُبَیرق پر الزام عائد کرنے پر تنبیہ فرماتے ۔ اتنے میں وحی آئی اور معاملہ کی ساری حقیقت کھول دی گئی ۔ اگرچہ ایک قاضی کی حیثیت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا روداد کے مطابق فیصلہ کر دینا بجائے خود آپ کے لیے کوئی گناہ نہ ہوتا ۔ اور ایسی صورتیں قاضیوں کو پیش آتی رہی ہیں کہ ان کے سامنے غلط روداد پیش کر کے حقیقت کے خلاف فیصلے حاصل کر لیے جاتے ہیں ۔ لیکن اس وقت جبکہ اسلام اور کفر کے درمیان ایک زبردست کشمکش برپا تھی ، اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم روداد مقدمہ کے مطابق یہودی کے خلاف فیصلہ صادر فرما دیتے تو اسلام کے مخالفوں کو آپ کے خلاف اور پوری اسلامی جماعت اور خود دعوت اسلامی کے خلاف ایک زبر دست اخلاقی حربہ مل جاتا ۔ وہ یہ کہتے پھرتے کہ اجی یہاں حق و انصاف کا کیا سوال ہے ، یہاں تو وہی جتھہ بندی اور عصبیت کام کر رہی ہے جس کے خلاف تبلیغ کی جاتی ہے ۔ اسی خطرے سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اس مقدمہ میں مداخلت فرمائی ۔ ان رکوعوں میں ایک طرف ان مسلمانوں کو سختی کے ساتھ ملامت کی گئی ہے جنہوں نے محض خاندان اور قبیلہ کی عصبیت میں مجرموں کی حمایت کی تھی ۔ دوسری طرف عام مسلمانوں کو سبق دیا گیا ہے کہ انصاف کے معاملہ میں کسی تعصب کا دخل نہ ہونا چاہیے ۔ یہ ہرگز دیانت نہیں ہے کہ اپنے گروہ کا آدمی اگر برسر باطل ہو تو اس کی بے جا حمایت کی جائے اور دوسرے گروہ کا آدمی اگر برسر حق ہو تو اس کے ساتھ بے انصافی کی جائے ۔ "

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

66: یہ آیتیں اگرچہ عام ہدایتوں پر مشتمل ہیں مگر ایک خاص واقعے میں نازل ہوئی ہیں، خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص بشر نے جو ظاہری طور پر مسلمان تھا، ایک صحابی حضرت رفاعہ (رض) کے گھر میں نقب لگاکر کچھ غلہ اور کچھ ہتھیار چرالئے، اور لے جاتے وقت ہوشیاری یہ کی کہ غلے کی بوری کا منہ اس طرح کھولا کہ تھوڑا تھوڑا غلہ راستے میں گرتا جائے یہاں تک کہ ایک یہودی کے گھر کے دروازے پر پہنچ کر بوری کا منہ بند کردیا اور بعد میں چوری کئے ہوئے ہتھیار اسی یہودی کے پاس رکھوادئے، جب چوری کی تفتیش شروع ہوئی توایک طرف غلے کے نشانات یہودی کے گھر تک پائے گئے اور دوسری طرف ہتھیار اسی کے پاس سے برآمد ہوئے، اس لئے شروع میں آنحضرتﷺ کا خیال یہ ہونے لگا کہ یہ چوری اسی یہودی نے کی ہے، یہودی سے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ ہتھیار تو میرے پاس بشر نامی شخص نے رکھوائے تھے، مگر چونکہ وہ اس پر کوئی گواہ پیش نہ کرسکا تھا، اس لئے آپ کا رجحان اس طرف ہونے لگا کہ وہ جان بچانے کے لئے بشر کا نام لے رہا ہے، دوسری طرف بشر کے خاندان بنو ابیرق کے لوگ بھی بشر کی وکالت کرتے ہوئے اس بات پر زور لگارہے تھے کے سزا بشر کے بجائے یہودی کو دی جائے، ابھی یہ معاملہ چل ہی رہا تھا کہ یہ آیات کریمہ نازل ہوگئیں اور ان کے ذریعے بشر کی دھوکہ بازی کا پردہ چاک کردیا گیا اور یہودی کو بے گناہ قرار دے کر بری کردیا گیا، بشر کو جب راز فاش ہونے کا پتہ لگا تو وہ فرار ہو کر کفار مکہ سے جاملا اور وہاں کفر کی حالت میں بری طرح اس کی موت واقع ہوئی، ان آیات کے ذریعے ایک طرف تو معاملے کی اصل حقیقت آنحضرتﷺ پر کھول دی گئی، اس کے علاوہ مقدمات کے فیصلے کرنے کے لئے اہم اصول بتادئے گئے ہیں، پہلا اصول یہ کہ تمام فیصلے کتاب اللہ کے احکام کے تابع ہونے چاہئیں، دوسرا اصول یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبرﷺ پر بہت سے ایسے امور کھولتے رہتے ہیں جو صراحۃً قرآن میں مذکور نہیں ہیں، فیصلے ان کی روشنی میں ہونے چاہئیں، آیت کے الفاظ اس طریقے کے مطابق فیصلہ کرو جو اللہ نے تمہیں سمجھادیا ہے، اسی طرف اشارہ کررہے ہیں اور ان سے قرآن کریم کے علاوہ آنحضرتﷺ کی سنت کی حجیت کا بھی ثبوت ملتا ہے، تیسرا اصول یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ جس کسی شخص کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ کسی مقدمے میں غلطی پر ہے، اس کی وکالت کرنا جائز نہیں ہے، بنو ابیرق جو بشر کی وکالت کررہی تھی ان کی تنبیہ کی گئی ہے کہ اول تو یہ وکالت جائز نہیں دوسرے اس کا فائدہ ملزم کو زیادہ سے زیادہ دنیا میں پہنچ سکتا ہے آخرت میں تمہاری وکالت اس کو اللہ کے عذاب سے نہیں بچا سکتی۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(105 ۔ 109) ۔ ترمذی، مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) اور قتادہ بن نعمان (رض) سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک صحابی قتادہ بن نعمان (رض) کی زرہ چوری جاتی رہی اور دریافت سے معلوم ہوا کہ قبیلہ بنی ظفر کے ایک شخص طعمہ بن ابیرق نے وہ ذرہ چرائی ہے طعمہ نے یہ چالاکی کی کہ وہ ذرہ ایک شخص یہودی زید بن سمین کے پاس رکھوا دی۔ اور طعمہ کی خانہ تلاشی کے وقت جب وہ ذرہ طعمہ کے گھر سے برآمد نہیں ہوئی تو طعمہ نے اسی یہودی کو چور ٹھہرا کر ذرہ کا پتہ اسی یہودی کے گھر میں ہونے کا دے دیا اور ادھر طعمہ کی قوم نے رات کو یہ مشور کیا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر طعمہ کی برأت کی گواہی ادا کی جائے چناچہ ان لوگوں نے جب گواہی ادا کردی تو ان کی گواہی کے بھروسہ پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے طعمہ کو بری اور یہودی کو چور ٹھہرا کر اس پر اصلی حال ظاہر ہوجانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں حاکم نے اس شان نزول کی روایت کو مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے ١ یہ آیتیں نازل فرما کر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو خبردار کردیا کہ اگرچہ طعمہ کی چالاکی اور اس کی قوم کی جھوٹی گواہی کے سبب سے ظاہر میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ طعمہ بری ہے۔ اور یہودی چور لیکن حقیقت میں معاملہ برعکس ہے پھر فرمایا کہ ظاہری روداد کی بنا پر اے رسول اللہ کے تم نے جو طعمہ کی برأت کی بابت یہودیوں سے جھگڑا کیا وہ استغفار کے قابل ہے کیونکہ کہ چوروں کی حمایت اللہ کو پسند نہیں اس کے بعد جھوٹی گواہی پر طعمہ کی قوم کے لوگوں کو یہ تنبیہ فرمائی کہ تم لوگوں نے جھوٹی گواہی کا مشورہ تو کیا مگر اتنا نہ سوچھا کہ اللہ غیب دان ہے ظاہر و باطن اس کو سب کچھ معلوم ہے اس سے یہ جھوٹی گواہی کا مشورہ کیونکر چھپارہ سکتا ہے۔ اور جب وہ عالم الغیب اس جھوٹی گواہی کے حال سے اپنے رسول کو خبردار کردے گا تو جھوٹے گواہوں کی کس قدر رسوائی ہوگی۔ پھر یہ تو دنیا کی رسوائی ہوئی۔ دنیا میں اگر اس رسوائی سے کوئی بچ جاوے اور کسی چالاکی یا جھوٹی گواہی سے اپنے مقابل پر غالب آجائے تو قیامت کے دن اس غیب دان کے روبرو ایسے چالاکوں۔ اور جھوٹے گواہوں کا وکیل کون ہوگا جو ان کو عقبیٰ کے عذاب سے چھوڑائے گا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

ولا ۔۔ خصیما۔ ای ولا تکن خصیما للخائنین۔ اور خیانت کرنے والوں کے لئے جھگڑا کرنے والا۔ یا طرفداری کرنے والا نہ بن۔ لاتکن۔ فعل ناقصہ۔ لاتکن کی ضمیر واحد مذکر حاضر۔ اسم لاتکن۔ خصیما خبر۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یعنی شریعت کے قواعد کے مطابق فیصلہ کرو جیسے اللہ نے تجھ کو دکھلا یا یعنی وحی بھیج کر یا کسی اور طریقے سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سمجھایا حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں یہ ادراک اللہ کا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ٰ خاص تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رائے اللہ تعالیٰ کے سمجھانے سے ٹھیک ہوتی تھی اس لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ واجب الا تباع ہے، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد یہ ممصب کسی اور کو حاصل نہیں ہے۔ اور امام یا مجتہد کی ہر بات صحیح نہیں ہوتی لہذا اس پر عمل کرنا بھی ضروری نہیں ہے (کذافی اللوحیدی) 7 ان آیات کی شان نزول کے تحت عطا نے لکھا ہے کہ انصار کے قبیلہ بنی ظفر میں ایک شخص طعمہ یا بشر بن ابیر تھا۔ اس نے ایک انصاری کی زرہ چرالی اور اسے ایک یہودی کے گھر میں پھینک دیا۔ یہود نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچا کہ بنی ابریق طعمہ اور اس کے بھائیوں) نے یہ زرہ چوری کر کے میرے گھر میں پھینک دی۔ جب بنی ظفر کے لوگوں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے آپس میں صلاح مشورہ کر کے ایکا کرلیا اور پھر شور مچا تے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچے کہ یہود دی جھوٹا ہے زرہ اسی نے چرائی ہے طعمہ اور اس کے بھائی اس الزام سے بری ہیں، قریب تھا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس یہو دی کے خلاف فیصلہ صادر فرمادیتے اور بنی ابیرق پر الزام رکھنے پر اسے سرزنش بھی کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (ابن جریر) عغا بازوں سے مرد طعمہ اور اس کے بھائی ہیں، یعنی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی حمایت نہ کریں۔ اصل یہی مجرم ہیں۔ معلوم ہوا کہ متہم شخص کی حمایت چائز نہیں ہے اور کافروں ذمی کا مال بھی مسلما نن کے مال کی محفوظ ہے۔ (قرطبی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 16 ۔ آیات 105 تا 112 ۔ اسرار و معارف : انا انزلنا۔۔۔ اثما مبینا۔ ہم نے آپ پر سچی کتاب نازل فرمائی ہے کہ آپ لوگوں کے درمیان انصاف کریں اور اس کے مطابق کریں جو اللہ نے آپ کو بتا دیا ہے یا دکھا دیا ہے۔ سب سے پہلی بات جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ نزول قرآن ہے ہی نافذ کرنے کے لیے اور جہاں تک جس کا اختیار ہے وہاں تک اسے قرآن (اسلام) نافذ کرنا چاہئے۔ جیسے کسی کو اپنے وجود پر ہی اختیار ہے تو اپنے وجود پر تو نافذ کرے۔ اسی طرح پیر صاحبان کو مریدین پر مولوی صاحبان کو اپنے ماننے والوں پر ، کسی کو گھر پر تو کسی کو محلہ پر اور کسی کو ملک پر اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اپنے اپنے اختیار کے مطابق ہم سب اس بات کے مکلف ہیں کہ اللہ کا قانون نافذ کریں بلکہ اس کے نزول کی ایک بہت بڑی وجہ یہی نفاذ ہے۔ اور لوگوں کے درمیان انصاف اس رائے اور معنی کے مطابق جو اللہ نے نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتلا دئیے تھے۔ بما اراک اللہ یہ صرف نبی کا منصب ہے۔ اس لیے بعد والوں کو انہیں کے دامانِ ارشادات سے خوشہ چینی کرنا ہوگی اور آپ کبھی بھی خیانت کرنے والوں کی طرفداری مت کریں بلکہ اللہ کریم سے توبہ کریں اور معافی چاہیں۔ ہوا یہ کہ ایک قبیلہ میں جسے بنو ابیرق کہتے تھے ایک آدمی سخت منافق تھا مگر بظاہر تو مسلمان ہی بنا ہوا تھا۔ کبھی کبھی مسلمانوں کے خلاف شعر کہہ کر فرضی ناموں سے یا کسی دوسرے کے نام سے شائع کردیتا تھا۔ ایک بار ایک صحابی کے گھر سے نقب لگا کر کچھ ہتھیار اور آٹا چوری کرلیا کہ گندم کا آٹا بھی وہاں تو شام سے آتا تھا۔ اور لوگ مہمان نوازی کے لیے رکھ چھوڑتے تھے۔ جب کچھ شور ہوا تو ایک صحابی کا نام لگانے کی کوشش کی وہ بڑے خفا ہوئے اور تلوار لے کر آگئے کہ جب تک چور سامنے نہ آئے گا چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ اس نے بات بگڑتی دیکھی تو ایک یہودی کا نام لگا دیا اور پہلے وہ چوری کا اسلحہ وغیرہ اسے دے دیا۔ پھر اس کے گھر سے بر آمد کروا دیا کچھ اور آثار ایسے بنائے کہ ابتداءً آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی اس پر شبہ ہوا مگر اللہ نے حقیقت حال واضح فرما دی۔ آپ نے یہودی کو چھوڑ دیا۔ بنو ابیرق نے مال پیش کردیا جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مالک کو لوٹا دیا۔ انہوں نے وہ اسلحہ راہ خدا میں دے دیا اور وہ آدمی مکہ مکرمہ بھاگ گیا مگر وہاں بھی ذلت کی موت مرا ، اور اللہ کی گرفت سے ، نہ تو دنیا میں بھاگ سکا نہ آخرت میں وہاں بھی کسی کو نقب لگائی تو وہ دیوار اوپر گر گئی اور اور دب کر ہلاک ہوا۔ تو اب ارشاد باری ملاحظہ فرمائیے کہ قرآن تو نازل ہی اس لیے ہوا ہے کہ نافذ کیا جائے اور یہ حق ہے سچی کتاب ہے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا منصب عالی یہ ہے کہ قرآن کے معانی آپ پر اللہ نے بیان فرما دئیے۔ آپ کو حق حاصل ہے کہ جس معاملہ میں ابھی حکم نازل نہ ہوا ہو آپ اپنی رائے یا اجتہاد سے فیصلہ صادر فرما دیں۔ مگر حفاظتِ الہیہ اس قدر حاصل ہے کہ غلط نہیں ہوسکتا کہ فوراً آپ کو متعلقہ امور سے مطلع فرما دیا جاتا تھا۔ حدیث رسول بھی وحی الہی ہے اگرچہ غیر متلو ہے یعنی جس کے الفاظ نبی کے ہیں معافی اللہ ہی کی طرف سے اور قرآن وحی متلو ہے کہ الفاظ و معافی دونوں اللہ کی طرف سے ہیں۔ سو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی حکم ہے کہ اللہ سے بخشش طلب فرمایا کیجیے۔ کہ آپ اس کے بندے تھے رسول تھے۔ اور بد دیانت لوگوں کے ساتھ نرمی کا یا طرفداری کا برتاؤ کبھی نہ کریں۔ اللہ خیانت کرنے والے بدکاروں کو کبھی پسند نہیں فرماتا۔ اگرچہ یہ سب لوگ اس طرح منافق نہ تھے مگر قبیلے کا آدمی تھا۔ اس کی طرفداری میں کوشش تو ضرور کرتے رہے جس پر اللہ نے سب کو ہی خوانا اثیما فرمایا ۔ دغا باز اور بدکار کہ جس کی حمایت کی جائے آدمی اس کا شریک جرم قرار پاتا ہے۔ فرمایا یہ برادری کا بھرم رکھنے کو لوگوں سے تو شرماتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ چور ثابت نہ ہو ورنہ خاندان کی نکٹی ہوگی۔ مگر اللہ سے کیوں نہیں شرماتے کیا اللہ اس بات کا زیادہ حقدار نہیں کہ اس سے شرم کی جائے جو تب بھی ان کے پاس موجود ہوتا ہے جب راتوں کو بیٹھ کر یہ لوگ یہ ناپسندیدہ مشورے کرتے ہیں اور ان کا کوئی عمل اللہ کی گرفت یا اس کی رسائی سے باہر تو نہیں ہے۔ چلو آج دنیا میں اگر کسی نے غلط حمایت کر بھی لی یہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی تھی ہر حاکم پر تو نزول وحی نہ ہوگا۔ اور ممکن ہے کچھ لوگ چرب زبانی سے کام لے کر حاکم کو دھوکا دے سکیں۔ مگر کل قیامت کو اللہ کے حضور کیا بنے گا وہاں کون کسی کی ناجائز طرداری کرسکے گا یا غلط وکالت کرسکے گا۔ یعنی وکالت ایک جائز پیشہ ہے مگر اس حد تک کہ کوئی شخص اپنا قانونی حق بھی بیان کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا تو اجرت پر کسی کو وکیل بنا لیتا ہے جو عدالت میں یا حاکم کے سامنے اس کی طرف سے بات کرتا ہے مگر یہ بھی تب جائز ہے جب وکیل اس کے قانونی حق کے لیے لڑے اگر جھوٹ بول کر یا جھوٹ پڑھا سکھا کر عدالت کو دھوکا دیا جائے تو یہ نہ صرف حرام ہوگا بلکہ کل ایک بہت بڑی عدالت میں جوابدہی کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ کہ وہاں تو جھوٹ کی وکالت بھی نہ چل سکے گی۔ اب جو لوگ یہاں جرم میں ملوث ہوچکے ہیں یا رشتہ داری کی وجہ سے اس کی حمایت کے لیے کوشاں رہے تو گناہگار تو ہوگئے۔ ان کے لیے کیا کوئی صورت کوئی راستہ ہے فرمایا ہاں کسی نے کتنا بڑا گناہ کیا ہو یا اپنے آپ پر بہت بڑا ظلم ڈھایا ہو پھر بھی اللہ سے توبہ کرے تو اللہ کو توبہ قبول کرنے والا اور بخشنے والا پائے گا۔ توبہ کیا ہے گناہ پر ندامت ، گناہ کو اسی وقت چھوڑ دینے کا فیصلہ اور آئندہ کبھی اس میں ملوث نہ ہونے کا پختہ عزم۔ اب توبہ کی قبولیت یہ ہے کہ اللہ کریم نہ صرف گذشتہ گناہ معاف فرما دیتے ہیں آئندہ بچنے کی توفیق بھی ارزاں کردیتے ہیں۔ اور اگر کوئی برائی کا راستہ نہیں چھوڑ سکتا تو نہ چھوڑے اس لیے کہ وہ جو کچھ کررہا ہے اپنی ہی جان پر غضب ڈھا رہا ہے اور اللہ کریم سب کچھ جانتے ہیں۔ یہ بھی اللہ کی حکمت ہے۔ کہ کون سی بات کب ظاہر ہوگی یا کس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ بہرحال جو کوئی بھی برائی کرکے کسی دوسرے بیگناہ کے سر منڈھنا چاہے تو ایک بہت بڑا بہتان بھی ہے اور سخت ترین گناہ بھی ایسے لوگوں کی نہ حمایت کی جائے نہ وکالت جائز ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 105-112 لغات القرآن : لتحکم، تاکہ تو فیصلہ کر دے۔ خائنین، خیانت کرنے والے۔ بددیانت۔ خصیم، جھگڑا لو آدمی۔ لاتجادل، جھگڑا نہ کر۔ یختانون، وہ خیانت کرتے ہیں۔ خوان، بہت زیادہ خیانت کرنے والا۔ یستخفون، البتہ وہ شرماتے ہیں۔ یرم، وہ مارتا ہے، وہ پھینکتا ہے، تہمت لگاتا ہے۔ تشریح : حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک مقدمہ پیش ہوا جس میں اصلی مجرم ایک نام نہاد مسلمان بشر نامی تھا۔ اس نے اور اس کے قبیلہ والوں نے صورت حال کی شکل یوں دے دی کہ ایک یہودی مجرم نظر آنے لگا۔ اس کے قبیلہ والے خوب چیختے چلاتے ہوئے آئے کہ ہم مسلمان ہیں ہم کیوں چوری کرنے لگے۔ اصل چور تو وہ جہنمی یہودی ہے۔ واقعات کی صورت کچھ ایسی تھی کہ قریب تھا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) متاثر ہوکر بشر کے حق میں اور یہودی کے خلاف فیصلہ دے دیتے اور چوری کے الازم میں اس کا ہاتھ کاٹا جاسکتا تھا۔ اتنے میں قرآنی وحی نے آکر حقیقت واضح کردی۔ یہودی بچ گیا۔ حضرت رفاعہ (رض) کو جن کا مال چوری ہوا تھا مال واپس مل گیا۔ اور (ایک روایت کے مطابق) مجرم بشر بھاگ کر اسلام کے دشمنوں کے پاس مکہ چلا گیا اور مرتد ہوگیا۔ وہاں اس نے ایک نقب زنی کی اور پھر کسی دیوار کے گرنے سے ہلاک ہوگیا۔ قاضی اپنی چھان بین کی حد تک صرف ظاہری روائداد مقدمہ پر فیصلہ دیتا ہے۔ اگر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظاہری گواہوں کی موجودگی میں فیصلہ فرما دیتے تو کوئی الزام نہ تھا لیکن چونکہ آپ نبی تھے اسلئے وحی الٰہی نے آکر آپ کی حفاظت کرلی اور فرمایا کہ آپ پر یہ کتاب نازل ہوئی ہے جو حق کی راہ بتاتی ہے تاکہ آپ صحیح فیصلہ فرمائیں۔ اور آپ قدم قدم پر اللہ سے مدد مانگیں۔ مجرم کو آگاہ کیا گیا کہ تم نے کسی کا مال بعد میں چرایا۔ پہلے تم نے اپنے نفس سے خیانت کی۔ یعنی گناہ کرنے سے پہلے گناہ کا ارادہ دل میں آیا۔ بہرکیف تم اب بھی سچے دل سے توبہ کرلو اور اللہ سے معافی مانگو تو اللہ کو معاف کرنے والا پاؤ گے۔ جرم اپنی جگہ ہے لیکن اپنے جرم کا الزام کسی بےگناہ کے سر چپکا دینا یہ گنا در گنا ہے۔ تہمت تراشی سے مجرم نے گناہ در گناہ کا بوجھ اپنے سر دھر لیا۔ جن لوگوں نے مجرم جانتے ہوئے اس کی حمایت اور وکالت کی تھی۔ اس کی طرف سے چیختے چلاتے اور لڑائی جھگڑا کرنے لگے تھے انہیں تنبیہہ کی گئی کہ قیامت کے دن کون ان کی طرف سے لڑے گا۔ مجرم کی حمایت اور وکالت الگ جرم ہے۔ تم جھوٹی طرف داری کیوں کرتے ہو جب کہ اللہ پوشیدہ حرکات کو اچھی طرح جانتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

4۔ بنوابیرق ایک خاندان تھا اس میں ایک شخص بشیر نام منافق تھا اس نے حضرت رفاعہ کی بخاری میں نقب دے کر کچھ آٹا اور کچھ ہتھیار جو اس میں رکھے تھے چرا لیے صبح کو پاس پڑوس میں تلاش کیا پتہ نہ چلا بعض قرائن قویہ سے بشیر پر شبہ ہوا بنوابیرق نے جو کہ بشیر کے شریک حال تھے اپنی برات کے لیے حضرت لبید کا نام لے دیا غرض حضرت رفاعہ نے اپنے برادر زادہ حضرت قتادہ کو جناب رسول اللہ کی خدمت میں بھیج کر اس واقعہ کی اطلاع دی آپ نے وعدہ تحقیق فرمایا بنوابیرق کو جو خبر ہوئی ایک شخص جو اسی خاندان کا تھا اسیر نام سب اس کے پاس آئے سب نے مشورہ کرکے جمع ہو کر مع بعض اہل محلہ کے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جمع ہوئے اور حضرت قتادہ اور حضرت رفاعہ کی شکایت کی کہ بدون گواہوں کے ایک مسلمان اور دین دار گھرانے پر چوری کی تہمت لگاتے ہیں اور مقصود ان کا یہ تھا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مقدمہ میں ان کی طرف داری کریں آپ نے یہ تو نہیں خیا لیکن اتنا ہوا کہ حضرت قتادہ جو آپ کے پاس حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ تم ایسے لوگوں پر بےسند کیوں الزام لگاتے ہو۔ انہوں نے اپنے چچا رفاعہ سے کہا۔ وہ اللہ پر بھروسہ کرکے خاموش ہوگئے اس پر اگلی آیتیں دو رکوع کے قریب تک نازل ہوئیں غرض چوری ثابت ہوئی اور مال برآمد ہوا اور مالک کو دے دیا گیا تو بشیر ناخوش ہو کر مرتد ہوگیا اور مکہ جاکر مشرکوں میں جاملا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں ومن یشاقق الرسول الخ۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : امت کو خارجی خطرات سے بچانے کے لیے اسلحہ اور مسلسل جہاد کی ضرورت ہے۔ داخلی انتشار سے محفوظ رکھنے کے لیے کرپٹ لوگوں کی طرفداری سے بچنا اور سب کے لیے قانون شریعت یکساں طور پر نافذ کرنا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید صرف اس لیے نازل نہیں فرمایا کہ اسے گلدانوں میں سجا کر رکھ دیا جائے۔ نزول قرآن کا مقصد یہ ہے کہ اخلاص، توجہ اور غور و خوض کے ساتھ اس کی تلاوت کی جائے۔ تعلیم و تربیت کا اہتمام کرتے ہوئے اسے اللہ کا قانون سمجھ کر اللہ کے بندوں پر نافذ کیا جائے۔ تاکہ انفرادی اور اجتماعی معاملات عدل و انصاف کے ساتھ چلتے رہیں۔ باہمی اختلاف کی صورت میں قرآن مجید ہی ان کے درمیان فیصل ہو۔ اسی لیے تو رات و انجیل نازل کی گئی تھیں۔ جس معاشرے میں قرآن مجید کا حکم جاری نہیں ہوتا ایسے لوگوں کو ظالم، فاسق اور کافر قرار دیا گیا ہے۔ جس کی تفصیل سورة المائدہ آیت ٤٥ تا ٥٠ میں بیان ہوئی ہے۔ (عَنِ ابْنِ عُمَرَ (رض) أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِقَامَۃُ حَدٍّ مِّنْ حُدُوْدِ اللّٰہِ خَیْرٌ مِّنْ مَطَرِ أَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً فِيْ بِلَاد اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ ) [ رواہ البخاری : کتاب الحدود، باب إقامۃ الحدود ] ” حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی حدود میں سے کسی حد کو کسی ملک میں نافذ کرنا چالیس دن کی بارش سے بہتر ہے۔ “ یہاں ایک پیش آمدہ واقعہ اور مقدمہ کے سلسلہ میں آپ کو ہدایات دی گئی ہیں۔ جو عدل و انصاف کے اصولوں کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جج کا غیر جانب دارہونا، کتاب و سنت کے مطابق فیصلے کرنا، وکیل ہو یا رشتہ دار اس کا مجرم کی حمایت سے اجتناب کرنا ‘ اس کے بعد شہادتوں کا درست ہونا ضروری ہے۔ یہ وہ چار بنیادی تقاضے ہیں جن کے بغیر کسی معاشرے میں عدل و انصاف کا بول بالا نہیں ہوسکتا۔ جج کو اپنی معلومات کے مطابق صحیح فیصلہ کرنا چاہیے اگر وہ بےعلمی میں غلط معلومات کی بنا پر غلط فیصلہ کرتا ہے تو اس کا سارا گناہ غلط معلومات دینے والوں کو ہوگا۔ جانتے بوجھتے غلط فیصلہ کی بنیاد پر لیا ہوا مال حلال نہیں آگ کا ٹکڑا ہوگا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فیصلہ کرنے سے پہلے بعض اوقات یہ بات بیان بھی کیا کرتے تھے جیسا کہ حدیث میں ہے : (عَنْ أُمِّ سَلَمَۃَ عَنِ النَّبِيِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ وَإِنَّکُمْ تَخْتَصِمُوْنَ إِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَکُمْ أَنْ یَّکُوْنَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِہٖ مِنْ بَعْضٍ وَأَقْضِيَ لَہٗ عَلٰی نَحْوِ مَا أَسْمَعُ فَمَنْ قَضَیْتُ لَہٗ مِنْ حَقِّ أَخِیْہِ شَیْءًا فَلَایَأْخُذْ فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَہٗ قِطْعَۃً مِّنَ النَّارِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الحیل، باب إذا غضب جاریۃ فزعم أنھا ماتت ] ” حضرت ام سلمہ (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتی ہیں کہ آپ نے فرمایا تم میرے پاس اپنے فیصلے لے کر آتے ہو میں ایک بشر ہوں ہوسکتا ہے کہ تم میں کوئی دوسرے سے دلائل پیش کرنے میں زیادہ مہارت رکھتاہو۔ میں تو اسی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں جو بات سنتا ہوں میں جس کے لیے اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کردوں۔ تو وہ اسے نہ لے کیونکہ میں اسے آگ کا ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوتا ہوں۔ “ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے نازل فرمایا ہے۔ ٢۔ کسی شخص کو مجرم کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔ ٣۔ ہر دم اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنی چاہیے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی رحیم اور بخشنے والا ہے۔ تفسیر بالقرآن قیام عدل : ١۔ فیصلہ انصاف سے کرنا چاہیے۔ (النساء : ٥٨) ٢۔ فیصلہ اللہ کے حکم کے مطابق ہونا چاہیے۔ (المائدۃ : ٤٩) ٣۔ اللہ کا حکم نافذ نہ کرنے والے کافر ہیں۔ (المائدۃ : ٤٤) ٤۔ اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والا ظالم ہوتا ہے۔ (المائدۃ : ٤٥) ٥۔ اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والے فاسق ہیں۔ (المائدۃ : ٤٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ٣٩ ایک نظر میں : ان آیات میں ایک ایسی کہانی کی طرف اشارہ ہے جس کی کوئی مثال اس کرہ ارض پر نہیں ملتی بلکہ انسانیت کی تاریخ میں اس کے ساتھ ملتی جلتی کوئی مثال نہیں ہے ۔ یہ مثال بھی شاہد عادل ہے کہ یہ دین من جانب اللہ ہے اور لازما من جانب اللہ ہے ۔ اس لئے کہ انسانوں کا تصور انصاف اور عدالت جس قدر بھی بلند ہو ‘ ان کی روح جس قدر بھی صاف ہوجائے اور ان کا مزاج جس قدر بھی صراط مستقیم پر قائم ہو وہ اپنے آپ کو اس مقام بلند تک نہیں پہنچا سکتے ‘ جس کی طرف ان آیات میں اشارہ کیا گیا ہے ۔ یہ کام صرف وحی الہی کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ انسانی تاریخ کے افق پر کھینچا جانے والا یہ گراف اس قدر اونچا ہے کہ اس مقام تک انسانیت صرف اسلامی نظام زندگی کے زیرسایہ ہی پہنچ سکی اور آئندہ بھی یہ سربلندی صرف اسلامی نظام ہی کے زیر سایہ نصیب ہو سکتی ہے ۔ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب مدینہ کے یہودی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف وہ تمام زہریلے تیر اور ہتھیار استعمال کر رہے تھے جو ان کے ترکش میں موجود تھے اور جس کی تفصیلات اس سورة ‘ سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں بیان ہوچکی ہیں۔ حالات ایسے تھے کہ یہودی اسلام کے خلاف ہر قسم کا جھوٹا پروپیگنڈا کر رہے تھے ۔ وہ مشرکین کا ایک محاذ اسلام خلاف بنا رہے تھے اور مشرکین کی حوصلہ افزائی کرتے تھے ۔ ان کے لئے راہ ہموار کرتے تھے ‘ پروپیگنڈے میں جھوٹی خبریں اڑاتے تھے ‘ لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرتے تھے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قیادت کی توہین کرتے تھے ‘ وحی اور رسالت میں شکوک پیدا کرتے تھے ۔ وہ اسلامی معاشرے میں اندر سے انتشار پیدا کرنے کی کوشش بھی کرتے تھے اور رات دن اس کام میں لگے ہوئے تھے کہ اسلام کے دشمنوں کو جمع کر کے مسلمانوں پر حملہ کرا دیں ۔ تحریک اسلامی مدینہ میں بالکل نئی تھی ‘ اور انسانوں کے نفوس کے اندر ابھی تک جاہلیت کے آثار موجود تھے ۔ بعض مسلمانوں اور یہودیوں اور مشرکوں کے درمیان ابھی تک رشتہ داری اور دوسرے روابط بھی قائم تھے اور یہ تمام امور صفوں کے لئے خطرے کا باعث تھے ۔ ایسے مشکل ‘ خطرناک ‘ اور ہنگامی حالات میں یہ آیات نازل ہوئیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو یہ سخت ہدایات دی گئیں ۔ مقصد یہ مقصد یہ تھا کہ ایک یہودی ملزم کے ساتھ انصاف کرو ‘ اس پر چوری کا الزام جھوٹا ہے اور جن لوگوں نے جھوٹا الزام لگایا ہے ان کا فرض ہے کہ وہ اس کی تلافی کریں ۔ یہ مدینہ کے انصار کا ایک گھرانا تھا ۔ انصار ان دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا سرمایہ تھا ‘ جو ان تمام یہودی سازشوں کے مقابلے میں آپ کے حامی ومدد گار تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور دین کے معاون تھے ۔ رواداری ‘ سربلندی اور عدل و انصاف کا یہ کس قدر اونچا معیار ہے ۔ اس کی تعریف و توصیف کے لئے تو الفاظ نہیں ملتے ۔ تمام باتیں ‘ تمام تبصرے اور تمام تشریحات اس معیار اور سطح سے نیچے رہ جاتی ہیں ۔ اس سطح اور معیار تک انسانی طاقتیں اپنی کوشش نہیں پہنچ سکتیں ‘ صرف انسان یہ معجزہ نہیں دکھا سکتے ‘ یہ تو اسلامی منہاج کی قیادت اور رہنمائی ہے جو کسی انسان کو اس مقام بلند تک پہنچاسکتی ہے ۔ وہ کہانی جو ان آیات کے پس منظر کے سلسلے میں بیان ہوئی اور جسے متعدد مصادر نے نقل کیا ہے ‘ مناسب ہے کہ انصار سے سنی جائے ۔ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچارفاعہ دونوں نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بعض غزوات میں جنگ فرمائی ۔ ان میں سے ایک کی زرہ گم ہوگئی (رفاعہ کی) عام طور پر انصار کے ایک خاندان بنو ابیرق کے ایک شخص کے بارے میں یہ شبہ ہونے لگا کہ اس نے یہ زرہ چوری کی ہے ۔ مالک نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یہ رپورٹ درج کرائی کہ طعمہ ابن ابیرق نے میری زرہ چرائی ہے ۔ بعض روایات میں بشیر ابن ابیرق کا نام آتا ہے ۔ اس کے بارے میں یہ بھی مشہور تھا کہ وہ صحابہ کرام کی ہجو میں اشعار لکھتا اور مشہور کرتا کہ یہ فلاں عرب شاعر کے ہیں ۔ جب چور کو معلوم ہوا کہ اس کے خلاف رپورٹ ہوچکی ہے تو اس نے جلدی سے یہ زرہ ایک یہودی زید ابن سمین کے گھر پھینک دی اور اپنے خاندان کے بعض لوگوں سے کہا کہ میں نے زرہ غائب کردی ہے اور فلاں کے گھر میں پھینک دی ہے اور یہ جلد ہی اس کے گھر سے برآمد ہوگی ۔ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاؤ اور یہ کہو کہ ہمارے بھائی تو بےگناہ ہیں اور فلاں شخص چور ہے اور ہم نے ۔۔۔۔ اس سلسلے میں معلومات جمع کرلی ہیں ۔ آپ برسرعام ہمارے آدمی کی برات فرمائیں اور اس کی صفائی فرمائی دیں اس لئے کہ اگر اسے آپ کے ذریعے اللہ نے باعزت طور پر بری نہ کیا تو اس کی عزت خاک میں مل جائے گی ۔ جب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہوا کہ فی الواقعہ زرہ یہودی کے گھر سے برآمد ہوگئی ہے تو آپ نے مجمع میں اعلان کردیا کہ ابن ابیرق بےگناہ ہے ‘ اس لئے کہ اس کے خاندان نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی تھی کہ قتادہ ابن النعمان اور ان کے چچا ہمارے ایک مسلمان خاندان کے گھر آئے اور اسے چوری کا ملزم بنا دیا اور یہ کام انہوں نے بغیر کسی ثبوت اور شہادت کے کیا ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا ۔ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” تم نے جان بوجھ کر ایک ایسے خاندان کے خلاف چوری کا الزام عائد کردیا جن کا اسلام اور نیکی مشہور ومعروف ہیں اور بغیر ثبوت کے “۔ میں واپس ہوگیا ‘ لیکن میری حالت یہ تھی کہ میں یہ کہہ رہا تھا کہ اگر میری تمام دولت چلی جاتی اور میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات نہ کرتا تو کہتا اچھا ہوتا ۔ اس پر میرے چچا رعافہ آئے تو مجھے کہا بھتیجے ! یہ تو نے کیا کیا ؟ تو میں نے اسے یہ بات بتائی جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہی تھی تو رفاعہ نے کہا اللہ ہی مددگار ہے ۔ اس پر زیادہ وقت نہ گزرا کہ یہ آیات نازل ہوئیں ۔ (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما ارک اللہ ولا تکن للخائنین خصیما “۔ (٤ : ١٠٥) ” یعنی آپ بنی ابیرق کے لئے وکیل صفائی نہ بنیں ۔ ” خصیم “ کے معنی وکیل ‘ دفاع کرنے والے اور کسی کی جانب سے مجادلہ اور مباحثہ کرنے والے کے ہوتے ہیں ۔ آپ نے قتادہ (رض) کو جو کہا اس سے اللہ کی مغفرت طلب کریں ‘ بیشک اللہ غفور الرحیم ہے ۔ مزید یہ آیات ۔ (ولاتجادل) سے (رحیما) تک ۔۔۔۔۔ اگر وہ معافی چاہتے تو اللہ ان کو معاف کردیتا ۔۔۔۔۔ اسی طرح (ومن یکسب) سے (اثما مبینا) تک اور (ولو لا فضل اللہ) سے (اجرا عظیما) تک ۔۔۔۔۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زرہ لے کر آئے اور رفاعہ کو دے دی ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ جب میرے چچا کے پاس زرہ پہنچی ۔ وہ بوڑھے تھے اور جاہلیت ہی میں ان کی نظر ختم ہوگئی تھی۔ میں یہ سمجھتا تھا کہ وہ مجبور ہو کر مسلمان ہوگئے ہیں ۔ جب میں نے ان کو زرہ دی تو انہوں نے یہ اللہ کی راہ میں ہوگئی ۔ یہاں سے مجھے یقین ہوگیا کہ وہ صحیح طرح مسلمان تھے ۔ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو بشیر (چور) مشرکین کے ساتھ مل گیا ۔ اس پر مزید آیات کا نزول ہوا۔ (آیت) ”۔ ومن یشاقق الرسول من بعد ماتبین لہ الھدی ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وسآءت مصیرا (١١٥) ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشآء ومن یشرک باللہ فقد ضل ضلا بعیدا “ (١١٦) (٤ : ١١٥۔ ١١٦) مسئلہ : صرف یہ نہ تھا کہ ایک بےگناہ بری کردیا گیا جس پر سازش کی وجہ سے الزام لگایا تھا اگرچہ اللہ کے ہاں کسی بےگناہ کا بری کرنا بھی ایک عظیم مسئلہ ہے ‘ مسئلہ تو اس سے بھی بڑا اور اہم تھا ۔ یعنی انصاف کی ترازو کو بالکل برابر کرنا مطلوب تھا کہ ہو کسی ایک طرف جھک نہ جائے ۔ نہ نفسانی خواہشات کی طرف اور نہ عصبیت کی وجہ سے ۔ نہ دوستی اور دشمنی کی وجہ سے ‘ میزان عدل میں کسی بھی طرح جھکاؤ نہ آجائے ۔ غرض جو حالات بھی ہوں ‘ انصاف ہو اور بےلاگ ہو۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس جدید معاشرے کو تمام آلائشوں سے پاک کردیا جائے اور اس کے اندر سے جاہلیت اور عصبیت کے باقی ماندہ آثار کو بھی مٹا دیا جائے چاہے یہ آثار جس شکل و صورت میں بھی ہوں ۔ خصوصا جبکہ ان کا تعلق عوام الناس کے مسئلہ عدل سے ہو ۔ اس کے بعد ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جانی تھی جو بالکل منفرد ہو اور پوری تاریخ انسانی میں بےمثال ہو ۔ یہ بنیاد بالکل پاک وصاف اور مستحکم اصولوں پر رکھنی تھی ۔ جن میں تعصب ‘ ذاتی رجحان ‘ وقتی مصلحتوں اور ذاتی خواہشات کا کوئی دخل نہ ہو ۔ اس مقدمے میں بیشمار اسباب موجود تھے جن کی وجہ سے مجرموں کے ساتھ نرمی کی جاسکتی تھی یا کم ازکم انکے بارے میں یہ آیات نازل نہ ہوتیں اور ان پر تنقید نہ کی جاتی ۔ ان کو اس طرح سرعام رسوا نہ کیا جاتا یا ان کی سرعام پردہ دری نہ کی جاتی ۔ پہلی وجہ تو یہ ہو سکتی تھی کہ اس مقدمے میں پہلا ملزم یہودی تھا اور یہودی وہ لوگ تھے کہ ان کے ترکش کا ہر تیر اسلام کے خلاف استعمال ہوتا تھا ۔ یہودی وہ لوگ تھے کہ اس زمانے میں مسلمانوں کو ان کی جانب سے تلخ ترین اذیتیں دی جاتی تھیں اور خدا کا کرنا ایسا ہے کہ ہر دور میں وہ مسلمانوں کے خلاف نیش زنی کرتے رہتے ہیں ۔ پھر یہودیوں کا نظریہ یہ تھا کہ ہو نہ کسی کا حق تسلیم کرتے تھے ‘ نہ کسی کے ساتھ عدل و انصاف کرتے تھے ۔ ان کی حالت یہ تھی کہ ان کے ہاں کوئی اخلاقی قدر بھی نہ تھی اور مسلمانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں تو وہ کسی اخلاقی اصول کے قائل ہی نہ تھے ۔ ایک سبب یہ بھی تھا کہ اصل ملزم انصاری تھے اور انصار وہ لوگ تھے جنہوں نے حضور کو پناہ دی اور آپ کی نصرت کی ۔ پھر انصار کے بعض گھرانوں کے درمیان جاہلیت سے دشمنیاں چلی آرہی تھیں اور جس طرح الزام اور تفتیش کا رخ یہودیوں کی طرف مڑ گیا تھا اس وقت ان تحقیقات کو یہاں سے ڈراپ کر کے اہل اسلام کی صفوں کے درمیان انتشار سے بچا جاسکتا تھا ۔ ایک تیسرا جواز یہ بھی تھا کہ اس طرح یہودیوں کے ہاتھ میں انصار کو ورغلانے کی خاطر ایک نیا ہتھیار آرہا تھا ۔ یہ کہ انصار اور مسلمان ایک دوسرے کی بھی چوریاں کرتے ہیں اور پھر یہودیوں پر الزام دھرتے ہیں ۔ یہودی اس واقعہ کو بھی اسلام کے خلاف استعمال کرسکتے تھے ۔ لیکن یہ معاملہ ان معمولی باتوں کی نسبت بہت زیادہ اہمیت رکھتا تھا ‘ ان تمام خدشات اور اعتبارات سے یہ معاملہ بہت اہم اور بلند تھا ۔ یہ باتیں اسلامی نقطہ نظر سے اہمیت نہ رکھتی تھیں ۔ اسلام کے پیش نظر یہ مقصد تھا کہ اس جماعت کو اس قدر تربیت دی جائے کہ وہ نظام خلافت ارضی اور منصب قیادت بشری کے لئے تیار ہوجائے ۔ یہ امت پوری انسانیت کی قیادت اور پورے کرہ ارض پر خلافت کے لئے اس وقت تک تیار نہیں ہو سکتی تھی جب تک اس کی تربیت نہایت ہی مستحکم اور برتر اصولوں پر نہ کی جائے جب تک اسلامی نظام زندگی کے اصول اس کی زندگی کا جزء نہ بن جائیں اس کے وجود کو پوری طرح دھو کر اور نچوڑ کر پاک وصاف نہ کردیا جائے اور اسے ہر قسم کی انسانی کمزوریوں سے پاک نہ کردیا جائے ‘ جو جاہلیت کے دور سے اس کی شخصیت کا جزء تھیں ۔ نیز جب تک خود اس امت کے درمیان پختہ نظام عدل قائم نہ کردیا جائے تاکہ وہ اس کے مطابق تمام لوگوں کے درمیان انصاف کریں ۔ اور ان کا یہ انصاف اور ان کی یہ عدالت تمام انسانی کمزوریوں سے پاک ہو اور وہ تمام ظاہری مصلحتوں سے صرف نظر کرنے کے قابل ہوجائیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات میں اور اس مشکل ترین مرحلے میں ایک یہودی کے واقعہ کے ذریعے امت مسلمہ کو عدل و انصاف کے راستے پر ڈالا ایسے حالات میں کہ اس دور میں مسلمان یہودیوں کی جانب سے بیشمار ریشہ دوانیوں کا شکار تھے اور وہ پورے عالم عرب میں مسلمانوں کے خلاف محاذ بنانے میں بھی مصروف تھے ۔ مدینہ کے منافقین کے بھی معاون و مددگار تھے ‘ اور وہ دین اسلام کے خلاف اپنے ترکش کا ہر تیر استعمال کر رہے تھے اور اس کے خلاف ہر سازش کر رہے تھے ۔ مسلمانان مدینہ کے لئے مدینہ میں نہایت ہی خطرناک حالات تھے جہاں وہ دشمنیوں اور سازشوں میں گھرے ہوئے تھے اور یہ سب سازشیں یہودیوں کی طرف سے تھیں ۔ اللہ نے ان حالات میں اپنے بندوں کو ہدایت دینے اور نشان راہ متعین کرنے کے لئے ایک یہودی کو چنا ۔ ان حالات میں ایک یہودی کا انتخاب اس لئے کیا گیا کہ کہ اللہ تعالیٰ جماعت مسلمہ کو یہ سمجھا سکے کہ عدل کا معیار کیا ہے اور اللہ تعالیٰ اس امت کو جو سکھانا چاہتے تھے وہ سکھائے ۔ لہذا اس معاملے میں اللہ کی پالیسی میں کوئی سیاست ‘ کوئی نام نہاد دانشوری اور کوئی زبانی ہیر پھیر نہ تھا ۔ اور لیپاپوتی اور واقعات کو چھپانے کی مہارت سے بھی کام نہ لیا گیا اور صاف صاف بات کی گئی ۔ اس مقدمے کے فیصلے میں تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ دیا گیا اور تمام ظروف واحوال سے صرف نظر کیا گیا ۔ معاملہ نہایت ہی حقیقت پسندانہ اور سنجیدہ تھا ۔ اس میں کسی قسم کی ملمع کاری اور لیپاپوتی نہ تھی ۔ حقیقت پسندی اسلامی نظام زندگی کی خصوصیات میں سے اہم خصوصیت ہے اور اس امت کے اوصاف میں سے یہ ایک اہم وصف ہے ۔ یہ اس امت کے مقاصد میں شامل ہے کہ وہ لوگوں عدل پھیلائے اور عدل کو اس معیار پر پہنچا دے جہاں تک کبھی انسانیت نہ پہنچی اور صرف اللہ کی جانب سے وحی اور ہدایت ہی کے نتیجے میں یہ امت یہاں تک پہنچی ۔ جب انسان اس مقام بلند تک پہنچا تو اس نے دیکھا کہ تاریخ کے تمام ازمنہ اور ادوار میں انسانی پستیوں کے گہرے گڑھے میں پڑے ہیں ۔ اس نے دیکھا کہ اس مقام بلند تک پہنچنے کی راہ میں نہایت ہی گہری گھائیاں ہیں ۔ اس راہ میں جگہ جگہ چالاکیاں ‘ ظاہر داریاں ‘ سیاست ‘ عیاری ‘ بلاغت ‘ مہارت ‘ حکومت کی مصلحت ‘ ملک کی مصلحت اور پارٹی کی مصلحت وغیرہ کی بےپناہ رکاوٹیں ہیں جو مختلف ناموں اور مختلف عنوانوں کے ساتھ عدل و انصاف کی راہ روکے کھڑی ہیں ۔ اور اگر اس بلندی سے انسان تمام نظامہائے زندگی کو دقت نظر سے دیکھے تو اسے دنیا میں گندگی ہی گندگی نظر آئے ۔ اس بلندی سے انسان جب نگاہ ڈالتا ہے تو اسے نظر آتا ہے کہ امت مسلمہ اس میدان میں یکہ و تنہا نظر آتی ہے ۔ جو زندگی کی ان غلاظتوں سے بلند ہو کر اس پاکیزہ مقام تک پہنچی ہے اور صرف امت مسلمہ کے لینڈ مارک شاہراہ تاریخ میں جگہ جگہ نظر آتے ہیں اور عدل و انصاف کی اس بلند چوٹی تک پہنچنے کے لئے صرف امت مسلمہ نے راہیں متعین کی ہیں اور وہ اس میدان میں منفرد ہے ۔ رہی وہ گندگی اور وہ تعفن جسے جاہلیت قدیمہ اور جاہلیت جدیدہ میں عدالت کا نام دیا جاتا ہے تو مناسب یہی ہے کہ ہم اس گندگی کو دبی رہنے دیں کیونکہ اس پاکیزہ ماحول کو اس کا تعفن گندہ کر دے گا اور ہر طرف بدبو پھیل جائے گی ۔ مناسب ہے کہ اب ہم آیات پر ذرا تفصیل سے بات کریں۔ درس نمبر ٣٩ تشریح آیات : ١٠٥۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ ١١٣۔ (آیت) ” نمبر ١٠٥ تا ١١٣۔ A) بات نہات ہی سختی سے کہی جارہی ہے ‘ یوں نظر آتا ہے کہ سچائی کے حق میں غیض وغضب سے کام لیا جا رہا ہے اور عدل قائم کرنے کے لئے سخت غیرت کا اظہار کیا جارہا ہے اور جذبات ‘ بات کے ماحول اور فضا سے ظاہر ہو رہے ہیں ۔ اس کا اظہار اس بات سے بھی ہو رہا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کرکے کہا جاتا ہے کہ ہم نے یہ کتاب سچائی کے ساتھ نازل کی تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اللہ کی اس کتاب کے مطابق فیصلے کریں ۔ آپ کو سختی سے منع کیا گیا کہ آپ خائن لوگوں کے طرفدار نہ ہوجائیں اور نہ ان کی جانب سے دفاع کریں اور آپ نے جو مجادلہ ان خائن لوگوں کی طرف سے کیا ہے اس پر اللہ سے مغفرت طلب کریں ۔ (آیت) ” انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ ولا تکن للخائنین خصیما (١٠٥) واستغفر اللہ ان اللہ کان غفورا رحیما (١٠٦) (٤ : ١٠٥۔ ١٠٦) (اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے ‘ تاکہ جو راہ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو ‘ تم بدیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو ‘ ۔ اور اللہ سے درگزر کی درخواست کرو ‘ وہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے ۔ A اس کے بعد اس ممانعت کو دوبارہ مکرر بیان کیا جاتا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ جن لوگوں کی طرف سے آپ نے خصومت کی وہ اپنے آپ سے خیانت کر رہے ہیں اور وجہ یہ ہے کہ چونکہ یہ خائن ہیں اور اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔ (آیت) ” ولا تجادل عن الذین یختانون انفسھم ان اللہ لا یحب من کان خوانا اثیما (٤ : ١٠٧) (جو لوگ اپنے نفس سے خیانت کرتے ہی تم ان کی حمایت نہ کرو ‘ اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو ۔ ) بظاہر تو انہوں نے دوسرے لوگوں کے ساتھ خیانت کی تھی لیکن درحقیقت وہ اپنے ساتھ خیانت کر رہے تھے ۔ انہوں نے اپنی جماعت اور پنے نظام کے خلاف خیانت کی ۔ اپنے اصولوں اور انکی ممتاز حیثیت کے خلاف خیانت کی ‘ انہوں نے اس امت کے خلاف خیانت کی جس کے وہ بھی افراد تھے ۔۔۔۔۔ پھر ایک دوسرے پہلو سے بھی وہ اپنے نفس کے خلاف خیانت کر رہے تھے ۔ وہ اپنے نفوس کو ایسے جرم میں ملوث کر رہے تھے جس کی سزا بہت ہی سخت تھی ۔ جہاں اللہ انہیں مجبور کرے گا اور پکڑ کر سزا دے گا ۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنے نفس کے خلاف بھی خیانت ہے ۔ ایک تیسری صورت یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کو جھوٹ کہہ کر اور جرم کر کے خیانت میں ملوث کر رہے تھے ۔ (آیت) ” ان اللہ لا یحب من کان خوانا اثیما “۔ (٤ : ١٠٧) (اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو) اور اللہ کی ناپسندیدگی تمام سزاؤں میں سے بڑی سزا ہے ۔ اس کے اندر ایک دوسرا اشارہ بھی ہے ‘ کہ جو لوگ اللہ کے محبوب نہیں ‘ چاہئے کہ کوئی ان کی حمایت نہ کرے ۔ کوئی ان کی وکالت نہ کرے ‘ اس لئے کہ ارتکاب جرم کرنے کی وجہ سے اللہ نے انہیں ناپسند کرلیا ہے ۔ ان لوگوں کو خیانت کار اور معصیت پیشہ کہنے کے بعد اب ان کی تصویر کشی اس طرح کی جاتی ہے اور ان کا پردہ یوں چاک ہوتا ہے : (آیت) ” یستخفون من الناس ولا یستخفون من اللہ وھو معھم اذیبیتون مالا یرضی من القول ۔۔۔۔۔ “۔ (٤ : ١٠٨) (یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چھپا سکتے ہیں مگر خدا سے نہیں چھپا سکتے ‘ وہ تو اس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب یہ راتوں کو چھپ کر اس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں ) انکی یہ تصویر نہایت ہی کریہہ المنظر ہے ۔ اس پر انسان کو بےاختیار ہنسی آتی ہے ۔ اس میں ان کی کمزوری اور سازش صاف صاف نظر آتی ہے ۔ یہ راتوں کو جمع ہوتے اور اپنا جرم چھپانے کی سازشیں کرتے ہیں اور خیانت کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ لوگوں سے یہ اپنا جرم چھپا سکتے مگر اللہ سے نہیں چھپا سکتے ۔ لوگوں سے چھپنا کوئی معنی نہیں رکھتا کیونکہ لوگ تو انہیں نفع ونقصان سے نہی بچا سکتے ۔ اور جو ذات نفع ونقصان کی مالک ہے اس سے وہ چھپ نہیں سکتے ۔ وہ تو ان کے ساتھ ہوتی ہے جب وہ سازشیں کرتے ہیں ۔ وہ ان کے ظاہر و باطن سے واقف ہے ۔ وہ ملمع کاری کرتے ہیں اور اللہ کی مرضی کے خلاف باتیں کرتے ہیں ۔ ان کا موقف کیسا بودا ہے کہ جس سے چھپاتے ہیں اس سے تو چھپ نہیں سکتے ۔ کیوں ؟ اس لئے کہ (آیت) ” وکان اللہ بما یعملون محیطا “۔ (٤ : ١٠٨) (ان کے سارے اعمال پر اللہ محیط ہے) اگر اللہ مطلقا تمام اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے تو وہ جو رات کو خفیہ سازشیں کرتے ہیں ان کا کیا فائدہ ہوگا ۔ اللہ تو اس مجلس میں ان کے ساتھ ہوتا ہے ہر چیز اس کی نظر میں ہے اور اس کے قبضے میں ہے ۔ اور یہ غضبناک حملہ ابھی جاری ہے اور اس کا اطلاق ان تمام لوگوں پر ہوتا ہے جو خائن لوگوں اور مجرموں کی طرف سے مجادلہ کرتے ہیں ۔ (آیت) ” ھانتم ھولآء جدلتم عنھم فی الحیوۃ الدنیا فمن یجادل اللہ عنھم یوم القیمۃ ام من یکون علیھم وکیلا “۔ (٤ : ١٠٩) (ہاں تم لوگوں نے ان مجرموں کی طرف سے دنیا کی زندگی میں تو جھگڑا کرلیا ‘ مگر قیامت کے روز ان کے لئے اللہ سے کون جھگڑا کرے گا ؟ آخر وہاں کون ان کا وکیل ہوگا ؟ اس بھاری دن سے تو وہ ہر گزنہ بچ سکیں گے ۔ ) خائنوں اور معصیت پیشہ لوگوں پر اس حملے کے بعد اور ان کے حامیوں ‘ مجادلوں اور وکیلوں کی مذمت کرنے کے بعد اب اس برے فعل کے بارے میں اور اس کے نتائج کے بارے میں اصولی بات کی جاتی ہے ۔ اس کا حساب و کتاب آخرت میں کیا ہوگا اور اس کی عمومی سزا کیا ہونا چاہئے اور اللہ تعالیٰ ایسے مجرموں کے ساتھ کیا معاملہ فرماتے ہیں اور پھر یہ کہ جو معاملہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تم بھی مجرموں اور ایک دوسرے کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھو اور اللہ کے بتائے ہوئے اخلاق اپناؤ خصوصا عدل و انصاف کے معاملے میں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

ایک منافق کا چوری کرنا اور اس کی طرف سے دفاع کرنے پر چند تنبیہات آیت بالا کا سبب نزول ایک واقعہ ہے جسے امام ترمذی نے اپنی کتاب میں حضرت قتادہ بن نعمان (رض) سے نقل کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے قبیلے میں تین آدمی تھے، بشر، بشیر، اور مبشر، ان کو بنی ابیرق کہا جاتا تھا، ان میں بشیر منافق آدمی تھا وہ ایسے شعر کہتا تھا جن میں انبیاء کرام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کی ہجو ہوتی تھی پھر ان اشعار کو بعض اہل عرل کی طرف منسوب کردیتا تھا اور کہتا رہتا تھا کہ فلاں نے یوں کہا فلاں نے یوں کہا آنحضرت سرور عالم کے صحابہ (جب ان اشعار کو سنتے تھے تو سمجھ لیتے تھے کہ یہ اسی کی حرکت ہے اور) کہتے تھے کہ اللہ کی قسم یہ شعر تو اسی خبیث نے کہے ہیں اور کہتے تھے کہ یہ ابن الابیرق کے اشعار ہیں، یہ تینوں آدمی حاجت مند تھے اور ان کو فاقے رہتے تھے جاہلیت میں بھی ان کا یہ حال تھا اور زمانہ اسلام میں بھی ان کی یہی حالت تھی۔ اہل مدینہ کا گزارہ اس وقت کھجوروں اور جو پر تھا۔ جب ملک شام سے مال برآمد کرنے والے تاجر آتے تو میدہ فروخت کرنے کے لیے آتے تھے یہ میدہ ایسے لوگ خاص کر اپنے لیے خرید لیتے تھے جو پیسے والے ہوتے تھے جبکہ ان کے اہل و عیال کھجوروں اور جو پر ہی گزارہ کرتے تھے۔ حضرت قتادہ بن نعمان نے مزید بیان فرمایا کہ شام سے کچھ تاجر آئے ان سے میرے چچا رفاعہ بن زید نے میدہ خرید لیا اور اسے اوپر کی منزل کے ایک کمرہ میں رکھ دیا اس کمرہ میں ہتھیار بھی تھے زرہ تھی اور تلوار بھی نیچے سے کسی نے اس کمرے میں نقب ڈال کر کھانے کی چیز (یعنی میدہ) اور ہتھیار چرا لیے۔ جب صبح ہوئی تو میرے چچا رفاعہ میرے پاس آئے اور فرمایا کہ اے میرے بھائی کے بیٹے اس رات میں ہمارے اوپر زیادتی کی گئی ہے کمرہ میں نقب لگایا گیا ہے اور ہمارا کھانے کا سامان اور ہتھیار کوئی شخص لے گیا۔ اس پر ہم نے تجسس کیا اور پتہ چلانے کی کوشش کی (محلے میں) پوچھ گچھ کی تو ہمیں لوگوں نے بتایا کہ بنی ابیرق نے اس رات میں آگ جلائی ہے (یعنی کھانے پکائے ہیں) اور ہمارا اندازہ یہی ہے کہ انہوں نے آپ ہی لوگوں کا مال چرا کر کھانے پکانے میں رات گزاری ہے جب ہم پوچھ گچھ کر رہے تھے۔ اس وقت بنو ابیرق بھی موجود تھے وہ یہ کہتے جا رہے تھے کہ اللہ کی قسم آپ لوگوں کا یہ مال لبید بن سہل نے چرایا ہے۔ لبید بن سہل نیک آدمی تھے سچے مسلمان تھے جب انہوں نے یہ بات سنی تو اپنی تلوار نکالی اور کہنے لگے کیا میں چراؤں گا ؟ اللہ کی قسم یا تو یہ چوری پوری طرح ظاہر ہوجائے گی ورنہ میں اسی تلوار سے تمہاری خبر لے لوں گا، میرے خاندان والوں نے کہا کہ آپ فکر میں نہ پڑیں، ہمیں یقین ہے کہ آپ یہ کام کرنے والے نہیں ہیں ہم برابر پوچھ گچھ کرتے رہے، یہاں تک کہ اس بات میں کوئی شک نہ رہا کہ اس کام کے کرنے والے بنو ابیرق ہی ہیں میرے چچا نے کہا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر پورا واقعہ بیان کر دو ۔ چناچہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا میں نے عرض کیا کہ ہمارے قبیلے میں ایک خاندان ہے جن سے دوسروں کے تعلقات اچھے نہیں ہیں انہوں نے میرے چچا رفاعہ کے گھر میں نقب لگا کر ہتھیار اور کھانے کا سامان چرا لیا ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ہتھیار واپس کردیں اب رہا کھانے کا سامان ہمیں اس کی حاجت نہیں یہ سن کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ میں اس بارے میں مشورہ کروں گا جب بنو ابیرق کو اس کا پتہ چلا تو انہوں نے اسیر بن عروہ نامی ایک شخص سے بات کی اور کچھ لوگ جمع ہو کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ قتادہ بن نعمان اور اس کے چچا نے ہمارے قبیلے کے ایک خاندان پر جو مسلمان ہیں اور نیک لوگ ہیں بغیر کسی گواہ اور ثبوت کے چوری کی تہمت لگائی ہے، حضرت قتادہ (رض) نے فرمایا کہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ سے بات کی تو آپ نے فرمایا کہ ایک خاندان جس کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور نیک لوگ ہیں تم بغیر کسی دلیل اور گواہوں کے ان کو چوری کی تہمت لگا رہے ہو۔ میں واپس ہوا اور مجھے یہ تمنا ہوئی کہ میرا کچھ مال جاتا رہتا اور اس بارے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے میں بات نہ کرتا تو اچھا ہوتا میرے چچا رفاعہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ تم نے کیا کیا ؟ میں نے ان کو وہ بات بتادی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمائی تھی اس پر چچا نے کہا اللہ المستعان کہ اللہ ہی سے مدد طلب کرتا ہوں اس کے بعد تھوڑا سا ہی وقت گزار تھا کہ قرآن مجید میں آیت بالا نازل ہوئیں۔ ان آیات میں خاء ینِیْنَ سے بنو ابیرق مراد ہیں۔ ارشاد ہوا (وَ لَا تَکُنْ لِّلْخَآءِنِیْنَ خَصِیْمًا) (یعنی آپ خیانت کرنے والوں کی طرفدار نہ بنیئے) نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَّاسْتَغْفِرِ اللّٰہَ ) (کہ قتادہ سے جو آپ نے بات کہی اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ سے استغفار کیجیے) ۔ جب قرآن مجید کی آیات بالا نازل ہوئیں تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہتھیار حاضر کر دئیے گئے، آپ نے ہتھیار رفاعہ کو واپس فرما دئیے اس کے بعد بشیر مشرکین کے ساتھ جا کرمل گیا اور سلافہ بن سعد کے پاس جا کر ٹھہر گیا۔ اس پر یہ آیت شریفہ (وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ (الی قولہ) فَقَدْ ضلَّ ضَلَا لاً بَعِیْداً ) نازل ہوئی۔ جب بشیر سلافہ کے پاس جا کر مقیم ہوگیا تو حسان بن ثابت نے کچھ شعر کہے۔ جن میں سلافہ کو متہم کیا سلافہ نے بشیر کی اونٹنی کا کجاوہ اٹھا کر اپنے گھر سے باہر سنگ ریزوں والی زمین پر جا کر پھینک دیا اور کہنے لگا تو میرے بارے میں حسان کے اشعار کا ذریعہ بن گیا مجھے تجھ سے کسی خیر کی امید نہیں۔ منکرین حدیث کی تردید : اللہ تعالیٰ شانہٗ نے اولاً تو اپنے نبی مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے آپ پر کتاب اتاری تاکہ آپ لوگوں کے درمیان اپنی اس سمجھ کے ذریعہ فیصلے فرمائیں جو اللہ نے آپ کو عطا فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر قرآن نازل فرمایا ہے اور قرآن کے معانی اور مفاہیم بھی آپ کو بتائے ہیں۔ دور حاضر میں ایک ایسا فرقہ پیدا ہوا جو یہ کہتا ہے کہ العیاذ باللہ نبی کی حیثیت ایک ڈاکیہ کی ہے۔ اس نے قرآن لا کر دے دیا آگے ہم اپنی سمجھ سے سمجھ لیں گے۔ یہ ان لوگوں کی جہالت ہے آیت بالا سے ان لوگوں کی کھلی تردید ہو رہی ہے، سورة نحل میں فرمایا (وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ للنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْھِمْ وَ لَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُوْنَ ) (اور ہم نے آپ کی طرف ذکر نازل کیا تاکہ آپ لوگوں کے لیے بیان کریں جو ان کی طرف اتارا گیا اور تاکہ وہ فکر کریں) معلوم ہوا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام صرف کتاب کا پہنچانا ہی نہ تھا بلکہ کتاب کا سمجھانا اور اس کے معانی اور مفاہیم کا بیان کرنا بھی منصب نبوت میں شامل تھا۔ خیانت کرنے والوں کی طرفداری کی ممانعت : اس کے بعد ارشاد فرمایا (وَلاَتَکُنْ لِّلْخَآءِنِیْنَ خَصِیْماً ) کہ آپ خیانت کرنے والوں کے طرفدار نہ بنیں۔ اور اللہ سے استغفار کریں۔ چونکہ آپ نے حضرت قتادہ جیسے مخلص صحابی کی بات پر زیادہ توجہ دینے کی بجائے یہ فرما دیا کہ میں مشورہ کروں گا جس سے اصلی چوروں کو اپنی بات کو آگے چلانے کا اور اپنے آپ کو بری کرانے کا کچھ موقعہ مل گیا اور اس طرح سے غیر شعوری طور پر ان کی کچھ حمایت سی ہوگئی جس کا ارادہ نہ تھا اور جو صورت حال سامنے آئی تھی اس میں جہاں یہ پہلو تھا کہ بغیر گواہ اور دلیل کے کسی پر یقین نہ کیا جائے وہاں یہ پہلو بھی سامنے ہونا مناسب تھا کہ جو خاندان مسلمانوں سے مل جل کر نہیں رہتا تھا اور ان میں ایک فرد بد ترین منافق بھی تھا اس وجہ سے تحقیق حال میں جلدی کی جاتی اور حضرت قتادہ (رض) کو تسلی بخش جواب دیا جاتا اس لیے آپ کو اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی کہ جو لوگ اپنے نفسوں کی خیانت کرتے ہیں آپ ان کی طرف سے جواب دہی نہ کیجیے ان لوگوں کا یہ حال ہے کہ دوسروں کا مال چرا کر تو خیانت کی ہی ہے اپنے نفسوں کی بھی خیانت کر رہے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے مال چرا کر اپنے کھانے پینے کا کام چلا کر بڑی ہوشیاری کا کام کیا اور اپنے خیال میں اس سے زیادہ ہوشیاری یہ کی کہ اپنا کیا ہوا عمل دوسرے کے سر ڈال دیا اس میں خود اپنے نفسوں کی خیانت ہے کیونکہ اس کا و بال آخرت میں خود ان پر پڑے گا، اور جب دنیا میں حقیقت ظاہر ہوگئی تو یہاں بھی ذلیل ہوئے۔ ان خیانت کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگوں سے چھپتے ہیں تاکہ ان کے سامنے شرمندہ نہ ہوں اور اللہ سے تو چھپ ہی نہیں سکتے۔ لوگوں سے شرماتے ہیں اللہ سے نہیں شرماتے حالانکہ وہ ان کے ساتھ ہے جبکہ وہ راتوں کو بیٹھ کر ایسی باتیں کرتے ہیں جن سے وہ راضی نہیں ہے۔ پھر فرمایا کہ تم دنیا والی زندگی میں ان کی طرف سے جواب دہی کرتے ہو یہاں کی جوا ب دہی کرنے سے اگر کوئی شخص اپنے کالے کرتوت سے بری ہو بھی جائے تو قیامت میں جب مواخذہ ہوگا اس وقت کون اللہ کے سامنے پیشی کے وقت ان کی طرف سے جو ابدہی کرے گا، اور وہاں ان کا کون وکیل ہوگا۔ وہاں نہ کوئی حمایتی ہوگا نہ وکیل ہوگا، اپنا کیا ہر ایک کو خود بھگتنا ہوگا اس میں ان لوگوں کو تنبیہ ہے جو مال چرا کر یا خیانت کر کے یا ڈاکیہ ڈال کر یا فائلوں میں رد و بدل کر کے یا کسی صاحب اقتدار سے مل جل کر اپنا کیس دبا دیتے ہیں اور دوسروں کا مال کھا جاتے ہیں یہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ دنیا میں ہم نے کاغذات ٹھیک کرکے یا کسی صاحب اقتدار کی پناہ لے کر اپنی جان کو دنیا میں بچا لیا تو آخرت میں بچ گئے۔ آخرت کا حساب ہر گھڑی سامنے رکھنا لازم ہے وہاں کوئی مددگار اور وکیل نہ ہوگا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

78 نواں حکم سلطانی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی احکام شرعیہ کی تعلیم فرما دی ہے۔ جب آپ سفر جہاد پر نکلیں تو فیصلے ظن وتخمین سے نہ کریں بلکہ قواعد شرعیہ کے مطابق کریں تاکہ آپ دھوکہ نہ کھا سکیں جیسا کہ طعمہ کے قصہ میں آپ کو دھوکہ دیا گیا) ۔ یہاں سے لیکر وَکَانَ فَضْلُ اللہِ عَلَیْکَ عَظِیْماً تک ایک واقعہ سے متعلق ہے واقعہ یہ ہے کہ طعمہ بن ابیرق نامی ایک منافق نے ایک صحابی حضرت رفاعہ بن زید کے مکان میں نقب لگا کر چوری کی۔ مال مسروقہ میں کچھ ہتھیار اور آٹے کا ایک تھیلا تھا۔ اتفاق سے تھیلے میں سوراخ تھا جس سے آٹا چور کے گھر تک راستہ میں گرتا گیا۔ جب چور کو اس بات کا احساس ہوا تو بدنامی سے بچنے کے لیے اس نے مال مسروقہ زید بن یاسمین نامی ایک یہودی کے پاس بطور امانت رکھ دیا۔ صبح جب مالک مکان کو اس واردات کا علم ہوا تو انہوں نے اپنے بھتیجے حضرت قتادہ بن نعمان سے اس کا ذکر کیا انہوں نے تفتیش سے معلوم کرلیا کہ یہ حرکت بنو ابیرق کی ہے چناچہ انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر سارا ماجرا کہہ سنایا جب بنو ابیرق کو اس کا علم ہو تو وہ باقاعدہ سازش کر کے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور زید بن یاسمین پر چوری کا الزام لگایا اور قسمیں کھا کھا کر اور اپنے ایمان واخلاص کا واسطہ دے کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یقین دلا دیا اور طعمہ بن ابیرق جو اصل چور تھا اس کو چوری کے الزام سے بالکل بری اور بےگناہ ثابت کردیا۔ چناچہ آپ نے ان منافقوں کی قسموں اور شہادتوں کو صحیح سمجھ کر یہودی کو چور اور طعمہ کو بےگناہ تصور کرلیا اور پھر یہودی کو چوری کی سزا دینے کا بھی ارادہ فرما لیا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں جن میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس اجتہادی لغزش پر تنبیہ فرمائی گئی۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi