Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 116

سورة النساء

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغۡفِرُ اَنۡ یُّشۡرَکَ بِہٖ وَ یَغۡفِرُ مَا دُوۡنَ ذٰلِکَ لِمَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ مَنۡ یُّشۡرِکۡ بِاللّٰہِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا ﴿۱۱۶﴾

Indeed, Allah does not forgive association with Him, but He forgives what is less than that for whom He wills. And he who associates others with Allah has certainly gone far astray.

اسے اللہ تعالٰی قطعًا نہ بخشے گا کہ اس کے ساتھ شریک مقرر کیا جائے ، ہاں شرک کے علاوہ گناہ جس کے چاہے معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والا بہت دور کی گمراہی میں جا پڑا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Shirk Shall not be Forgiven, in Reality the Idolators Worship Shaytan We talked about Allah's statement, إِنَّ اللّهَ لاَ يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَن يَشَاء ... Verily, Allah forgives not (the sin of) setting up partners (in worship) with Him, but He forgives whom He wills, sins other than that, before (Ayah 48) and mentioned the relevant Hadiths in the beginning of this Surah. Allah's statement, ... وَمَن يُشْرِكْ بِاللّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَلاً بَعِيدًا and whoever sets up partners in worship with Allah, has indeed strayed far away. means, he will have taken other than the true path, deviated from guidance and righteousness, destroyed himself in this life and the Hereafter, and lost contentment in this life and the Hereafter.

مشرک کی پہچان اور ان کا انجام اس سورت کے شروع میں پہلی آیت کے متعلق ہم پوری تفسیر کر چکے ہیں اور وہیں اس آیت سے تعلق رکھنے والی حدیثیں بھی بیان کر دی ہیں ، حضرت علی فرمایا کرتے تھے قرآن کی کوئی آیت مجھے اس آیت سے زیادہ محبوب نہیں ( ترمذی ) مشرکین سے دنیا اور آخرت کی بھلائی دور ہو جاتی ہے اور وہ راہ حق سے دور ہو جاتے ہیں وہ اپنے آپ کو اور اپنے دونوں جہانوں کو برباد کر لیتے ہیں ، یہ مشرکین عورتوں کے پرستار ہیں ، حضرت کعب فرماتے ہیں ہر صنم کے ساتھ ایک جنبیہ عورت ہے ، حضرت عائشہ فرماتی ہیں اِنَاثًا سے مراد بت ہیں ، یہ قول اور بھی مفسرین کا ہے ، ضحاک کا قول ہے کہ مشرک فرشتوں کو پوجتے تھے اور انہیں اللہ کی لڑکیاں مانتے تھے اور کہتے تھے کہ ان کی عبادت ہے ہماری اصل غرض اللہ عزوجل کی نزدیکی حاصل کرنا ہے اور ان کی تصویریں عورتوں کی شکل پر بناتے تھے پھر حکم کرتے تھے اور تقلید کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ صورتیں فرشتوں کی ہیں جو اللہ کی لڑکیاں ہیں ۔ یہ تفسیر ( اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَالْعُزّٰى ) 53 ۔ النجم:24 ) کے مضمون سے خوب ملتی ہے جہاں ان کے بتوں کے نام لے کر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ خوب انصاف ہے کہ لڑکے تو تمہارے اور لڑکیاں میری؟ اور آیت میں ہے ( وَجَعَلُوا الْمَلٰۗىِٕكَةَ الَّذِيْنَ هُمْ عِبٰدُ الرَّحْمٰنِ اِنَاثًا ۭاَشَهِدُوْا خَلْقَهُمْ ۭ سَـتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْــَٔــلُوْنَ ) 43 ۔ الزخرف:19 ) ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور جنات میں نسب نکالے ہیں ، ابن عباس فرماتے ہیں مراد مردے ہیں ، حسن فرماتے ہیں ہر بےروح چیز اناث ہے خواہ خشک لکڑی ہو خواہ پتھر ہو ، لیکن یہ قول غریب ہے ۔ پھر ارشاد ہے کہ دراصل یہ شیطانی پوجا کے پھندے میں تھے ، شیطان کو رب نے اپنی رحمت سے کر دیا اور اپنی بارگاہ سے نکال باہر کیا ہے ، اس نے بھی بیڑا اٹھا رکھا ہے کہ اللہ کے بندوں کو معقول تعداد میں بہکائے ، قتادہ فرماتے ہیں یعنی ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے کو جنم میں اپنے ساتھ لے جائے گا ، ایک بچ رہے گا جو جنت کا مستحق ہو گا ، شیطان نے کہا ہے کہ میں انہیں حق سے بہکاؤں گا اور انہیں امید دلاتا رہوں گا یہ توبہ ترک کر بیٹھیں گے ، خواہشوں کے پیچھے پڑ جائیں گے موت کو بھول بیٹھیں گے نفس پروری اور آخرت سے غافل ہو جائیں گے ، جانوروں کے کان کاٹ کر یا سوراخ دار کرکے اللہ کے سوا دوسروں کے نام کرنے کی انہیں تلقین کروں گا ، اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں کو بگاڑنا سکھاؤں گا جیسے جانوروں کو خصی کرنا ۔ ایک حدیث میں اس سے بھی ممانعت آئی ہے ( شاید مراد اس سے نل منقطع کرنے کی غرض سے ایسا کرنا ہے ) ایک معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ چہرے پر گودنا گدوانا ، جو صحیح مسلم کی حدیث میں ممنوع ہے اور جس کے کرنے والے پر اللہ کی لعنت وارد ہوئی ہے ، ابن مسعود سے صحیح سند سے مروی ہے کہ گود نے والیوں اور گدوانے والیوں ، پیشانی کے بال نوچنے والیوں اور نچوانے والیوں اور دانتوں میں کشادگی کرنے والیوں پر جو حسن و خوبصورتی کے لئے اللہ کی بناوٹ کو بگاڑتی ہیں اللہ کی لعنت ہے میں ان پر لعنت کیوں نہ بھیجوں؟ جن پر رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت کی ہے اور جو کتاب اللہ میں موجود ہے پھر آپ نے ( وَمَآ اٰتٰىكُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ ۤ وَمَا نَهٰىكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ۭ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعِقَابِ ) 59 ۔ الحشر:7 ) پڑھی بعض اور مفسرین کرام سے مروی ہے کہ مراد اللہ کے دین کو بدل دینا ہے جیسے اور آیت میں ہے ( فَاَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفًا ۭ فِطْرَتَ اللّٰهِ الَّتِيْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۭ لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللّٰهِ ۭ ذٰلِكَ الدِّيْنُ الْـقَيِّمُ ڎ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ ) 30 ۔ الروم:30 ) یعنی اپنا چہرہ قائم رکھ کر اللہ کے یکطرفہ دین کا رخ اختیار کرنا یہ اللہ کی وہ فطرت ہے جس پر تمام انسانوں کو اس نے پیدا کیا ہے اللہ کی خلق میں کوئی تبدیلی نہیں ، اس سے پچھلے ( آخری ) جملے کو اگر امر کے معنی میں لیا جائے تو یہ تفسیر ٹھیک ہو جاتی ہے یعنی اللہ کی فطرف کو نہ بدلو لوگوں کو میں نے جس فطرف پر پیدا کیا ہے اسی پر رہنے دو ، بخاری ومسلم میں ہے ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے لیکن اس کے ماں باپ پھر اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں جیسے بکری کا صحیح سالم بچہ بےعیب ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان وغیرہ کاٹ دیتے ہیں اور اسے عیب دار کر دیتے ہیں ، صحیح مسلم میں ہے اللہ عزوجل فرماتا ہے میں نے اپنے بندوں کو یکسوئی والے دین پر پیدا کیا لیکن شیطان نے آکر انہیں بہکا دیا پھر میں نے اپنے حلال کو ان پر حرام کر دیا ۔ شیطان کو دوست بنانے والا اپنا نقصان کرنے والا ہے جس نقصان کی کبھی تلافی نہ ہو سکے ۔ کیونکہ شیطان انہیں سبز باغ دکھاتا رہتا ہے غلط راہوں میں ان کی فلاح وبہود کا یقین دلاتا ہے دراصل وہ بڑا فریب اور صاف دھوکا ہوتا ہے ، چنانچہ شیطان قیامت کے دن صاف کہے گا اللہ کے وعدے سچے تھے اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی میرا کوئی زور تم پر تھا ہی نہیں میری پکار کو سنتے ہی کیوں تم مست و بےعقل بن گئے؟ اب مجھے کیوں کوستے ہو؟ اپنے آپ کو برا کہو ۔ شیطانی وعدوں کو صحیح جاننے والے اس کی دلائی ہوئی اُمیدوں کو پوری ہونے والی سمجھنے والے آخرش جہنم واصل ہو نگے جہاں سے چھٹکارا محال ہو گا ۔ ان بدبختوں کے ذکر کے بعد اب نیک لوگوں کا حال بیان ہو رہا ہے کہ جو دل سے میرے ماننے والے ہیں اور جسم سے میری تابعداری کرنے والے ہیں میرے احکام پر عمل کرتے ہیں میری منع کردہ چیزوں سے باز رہتے ہیں میں انہیں اپنی نعمتیں دوں گا انہیں جنتوں میں لے جاؤں گا جن کی نہریں جہاں یہ چاہیں خود بخود بہنے لگیں جن میں زوال ، کمی یا نقصان بھی نہیں ہے ، اللہ کا یہ وعدہ اصل اور بالکل سچا ہے اور یقینا ہونے والا ہے اللہ سے زیادہ سچی بات اور کس کی ہو گی؟ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں نہ ہی کوئی اس کے سوا مربی ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطبے میں فرمایا کرتے تھے سب سے زیادہ سچی بات اللہ کا کلام ہے اور سب سے بہتر ہدایت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت ہے اور تمام کاموں میں سب سے برا کام دین میں نئی بات نکالنا ہے اور ہر ایسی نئی بات کا نام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی اور ہر گمراہی جہنم میں ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٥٤] اس آیت سے درج ذیل باتیں معلوم ہوئیں : ١۔ شرک ناقابل معافی جرم ہے جسے اللہ کسی صورت میں بھی معاف نہیں کرے گا۔ ٢۔ کیسے گناہوں کی معافی کی توقع ہوسکتی ہے :۔ دوسرے گناہوں کے متعلق یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا کہ وہ معاف ہوجائیں گے۔ اللہ جس کو چاہے اور جونسا گناہ چاہے معاف کردینے کا اختیار رکھتا ہے اور چاہے تو ان پر مواخذہ بھی کرسکتا ہے۔ گناہ بھی دو قسم کے ہوتے ہیں یا ایک ہی گناہ میں دو قسم کے حقوق ہوتے ہیں۔ ایک اللہ کا حق، دوسرے بندوں کا حق، اللہ جسے چاہے اپنا حق معاف کر دے اور جسے چاہے نہ کرے مگر بندوں کے حقوق کی ادائیگی لازمی ہے تب ہی اللہ اپنا حق بھی معاف کرے گا۔ بندوں کا حق خواہ اس دنیا میں ادا کردیا جائے یا ان سے معاف کرا لیا جائے یا اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے حقدار کو بدلہ اپنی طرف سے ادا کر دے۔ بہرحال بندوں کے حقوق کی معافی کے بعد اللہ کے حق کی معافی کی توقع ہوسکتی ہے۔ ٣۔ اور تیسری بات یہ کہ شرک ہی سب سے بڑی گمراہی ہے۔ شرک کو ہی ایک دوسرے مقام پر && ظلم عظیم && کہا گیا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ : پچھلی آیت میں اس شخص کا ذکر ہے جو رسول کی مخالفت کرتا ہے اور مومنوں کے راستے کے سوا کسی اور راستے کی پیروی کرتا ہے۔ ایسا ہی شخص ہوسکتا ہے جو اپنے کفر پر اصرار کرے اور دین اسلام قبول نہ کرے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کے کفر پر اڑنے کو شرک قرار دیا اور صراحت قرار دیا اور صراحت فرما دی کہ اس کی بخشش کی کوئی صورت نہیں۔ ہاں اگر کوئی شخص دین سلام قبول کرلے اللہ کی توحید اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کی شہادت دے اس کا عملی ثبوت دے اور ایسے فعل سے بچا رہے جس سے آدمی ملت اسلام سے خارج ہوجاتا ہے پھر کبیرہ گناہوں کا ارتکاب کر بیٹھے تو اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے چاہے تو ویسے ہی معاف کر دے یا سزا دے کر جنت میں داخل کر دے مگر جو شخص اسلام ہی قبول نہ کرے یا اسلام لا کر صریح ارتداد والے اعمال کا ارتکاب کرے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں معافی نہیں کیونکہ اسے معافی دینے کا مقصد باغی اور غدار کو معافی دینا ہے جو اپنی بغاوت اور عذر پر قائم ہو۔ بغاوت کو کوئی معمولی سے معمولی بادشاہ بھی برداشت نہیں کرتا تو بادشاہوں کا بادشاہ جس کی غیرت بےپناہ ہے بغاوت کو کیسے معاف کرسکتا ہے ؟ معلوم ہوا ابدی جہنمی صرف کفار و مشرکین ہوں گے مسلمان گناہ گار ہمیشہ جہنم میں نہیں رہیں گے۔ اس سے ان لوگوں کا رد نکلتا ہے جو کبیرہ گناہ کے مرتکب مسلم کو دائمی جہنمی کہتے ہیں۔ مزید دیکھیے اسی سورة کی آیت (٤٨) 2 اوپر سے منافقوں کا ذکر آ رہا ہے جو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلوں کو پسند نہ کرتے اور جدا راستے پر چلتے تھے۔ اس آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شرک کو نہیں بخشتا، تو معلوم ہوا کہ اسلام کے سوا کسی دوسرے دین ( طریقہ) کو محبوب رکھا جائے اور اس کو معمول بنایا جائے تو یہ شرک ہے، کیونکہ اسلام کے سوا جو دین بھی ہے شرک ہے، اگرچہ پرستش کا شرک نہ بھی کیا جائے۔ (موضح)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Sequence Though, the mention of Jihad in preceding verses includes all forces hostile to Islam, yet the actual description was limited to Jews and the hypocrites. Out of the larger group of antagonists there were the pagans who were much more in numbers. The verses that follow take up their beliefs and point out to the punishment they will face. This has a coherence of its own at this place. It will be recalled that the thief mentioned earlier became an apostate. The lasting punish¬ment he thus earned for himself becomes evident. (Bayan a1-Qur&an) Commentary The first verse (116) إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ‌ أَن يُشْرَ‌كَ بِهِ وَيَغْفِرُ‌ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ ۚ (Surely, Allah does not forgive the ascribing of a partner to Him and forgives anything short of that for whomsoever He wills ...) has appeared earlier (48) in Surah al-Nis-a& in the same words except for the words at their ends. In verse 48 appearing earlier, the words at the end are: وَمَن يُشْرِ‌كْ بِاللَّـهِ فَقَدِ افْتَرَ‌ىٰ إِثْمًا عَظِيمًا whoever ascribes a partner to Allah has designed a great sin) while the words at the end of verse 116 before us are: وَمَن يُشْرِ‌كْ بِاللَّـهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا (And whoever ascribes a partner to Allah has indeed gone far astray). As explained by master exegetes, the reason for this difference is that the addressees of the earlier verse (48) were the Jewish people of the Book who knew all about the truth of Tauhid (Allah&s oneness), the falsity of Shirk (ascribing of a partner to Allah) and the veracity of the mission of the noble Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) through the Torah. Despite that, they got involved in Shirk. Thus, through their own conduct, they pretended that it was the very teaching of the Torah which is total forgery and false accusation. That is why it was said: فَقَدِ افْتَرَ‌ىٰ إِثْمًا عَظِيمًا (... has designed a great sin) at the end of verse 48. As for the verse before us (116), the addressees were the pagans of Makkah who did not have the background of any Book or Prophet before that time, but the rational arguments in support of the Oneness of Allah were all too clear. Taking stones crafted with their own hands as their objects of worship was something ineffectual, false and erroneous even in the sight of someone with ordinary common-sense. Therefore, here it was said: فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا (... has indeed gone far astray). The eternal Punishment of Shirk and Kufr: Some people express doubt at this point. They think that punish¬ment should be proportionate to the deed. The crime of disbelieving and of ascribing partners to Allah committed by the Kafir and the Mushrik was committed within the limited time frame of a given life. Why would its punishment be limitless and permanent? The answer is that the doer of Kufr and Shirk simply does not regard what he does as crime. This is, on the contrary, taken as something good and proper, worth one&s while. Therefore, his line of action is accompanied by his firm intention that he will always be like that. Now, if such a Kafir or Mushrik adheres to this position right through the last breath, he has committed a permanent crime to the extent of his choice and volition, therefore, the punishment for it has to be permanent. Zulm: There are three kinds of Zulm (injustice): 1. That which Allah will never forgive. 2. That which could be forgiven. 3. That which meets retribution from Allah. The first kind of injustice is Shirk, the ascribing of a partner to Allah; the second kind of injustice is falling short in fulfilling the rights of Allah, known as Huququllah; and the third kind of injustice is the contravention of the rights of Allah&s created beings against each other, known as Huququl-‘Ibad. (Ibn Kathir vide Musnad Bazar) What is the reality of Shirk? To consider any created being other than Allah equal to Allah in worship, or in love and reverence, is what Shirk really is. The Holy Qur&an has reported the words of the disbelievers they shall utter on arrival into the Jahannam: اللَّـهِ إِن كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿٩٧﴾ إِذْ نُسَوِّيكُم بِرَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿٩٨﴾ By Allah, we were in obvious error when we had equated you with Allah, the Lord of all the worlds. (26:97, 98) It is evident that even the polytheists did not believe that the idols of their making were the Creator and the Master of the universe. It was, rather, under other erroneous assumptions that they had taken to regarding their idols equal to Allah in worship or in love and rever¬ence. This was the Shirk which caused their being in Jahannam (Fath al-Mulhim). In short, taking any created being as equal to Allah in His partic¬ular attributes - such as, the Creator, the Provider, the Absolute Master, the Knower of the Seen and the Unseen - is Shirk

خلاصہ تفسیر بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو (سزا دے کر بھی) نہ بخشیں گے کہ ان کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیا جائے (بلکہ سزائے ابدی میں مبتلا رکھیں گے) اور اس کے سوا اور جتنے گناہ ہیں (خواہ صغیرہ ہوں یا کبیرہ) جس کے لئے منظور ہوگا (بلا سزا) وہ گناہ بخش دیں گے (البتہ اگر وہ مشرک مسلمان ہوجائے تو پھر مشرک ہی نہ رہا اب وہ سزائے دائمی بھی نہ رہی گی) اور (وجہ اس شرک کے نہ بخشنے کی یہ ہے کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ (کسی کو) شریک ٹھراتا ہے وہ (امر حق سے) بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا (وہ امر حق توحید ہی جو عقلاً بھی واجب ہے اور کار ساز کی تعظیم اس کے حقوق میں سے ہے، پس مشرک نے حضرت صانع کار ساز کی اہانت کی، اس لئے ایسی سزا کا مستحق ہوگا، بخلاف دوسرے گناہوں کے کہ وہ گمراہی تو ہے مگر توحید کے خلاف اور اس سے بعید نہیں، اس لئے قابل مغفرت قرار دیا یا اور شرک کی طرح دوسری قسم کے کفر بھی ناقابل معافی ہونے میں شریک ہیں، کیونکہ اس میں بھی انکار ہوتا ہے، صانع کی کسی بتلائی ہوئی بات کا پس وہ اس کی صفت صدق کا انکار کرتا ہے اور بعض کافر خود ذات باری تعالیٰ ہی کے منکر ہیں، بعض کسی صفت کے منکر ہیں اور بعض صفت اور ذات دونوں کے منکر ہیں اور ان میں سے جس کا بھی انکار ہو وہ توحید کا انکار اور اس سے بعد ہے، پس کفر و شرک دونوں قابل معافی نہیں ہیں، آگے مشرکین کی بیوقوفی ان کے مذہبی طریقے میں بیان کرتے ہیں کہ) یہ (مشرک) لوگ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر (ایک تو) صرف چند زنانی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں اور (ایک) صرف شیطان کی عبادت کرتے ہیں جو کہ (خدا تعالیٰ کے) حکم سے باہر ہے (اور) جس کو (اس بےحکمی کی وجہ سے) اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت (خاصہ) سے دور ڈال رکھا ہے اور جس نے (جس وقت کہ رحمت خاصہ سے دور اور ملعون ہونے لگا) یوں کہا تھا ( جس سے اس کی عداوت صاف ظاہر معلوم ہو رہی تھی) کہ میں (پوری کوشش کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں کہ) ضرر تیرے بندوں سے اپنا مقرر حصہ اطاعت کا لوگوں اور (اس حصہ کی تفصیل یہ ہے کہ) میں ان کو (عقائد میں) گمراہ کروں گا اور میں ان کو (خیالات میں) ہوسیس دلاؤں گا (جس سے گناہ کی طرف میلان ہو اور ان کی مضرت نظر میں نہ رہے) اور میں ان کو (برے اعمال کرنے کی) تعلیم دوں گا جس سے وہ (بتوں کے نام پر) چوپاؤں کے کانوں کو تراشا وہ اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی صورت کو بگاڑا کریں گے (اور یہ اعمال فسقیہ میں سے ہے جیسے ڈاڑھی منڈانا بدن گدوانا وغیرہ) اور جو شخص اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر شیطان کو اپنا رفیق بنا دے گا (یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہ کرے اور شیطان کی اطاعت کرے، وہ (شخص) صریح نقصان (وزیان) میں واقع ہوگا (وہ زیان جہنم میں جانا ہے) شیطان ان لوگوں سے (عقائد کے متعلق جھوٹے) وعدے کیا کرتا ہے (کہ تم بےفکر رہو نہ کہیں حساب ہے نہ کتاب ہے) اور (خیالات میں) ان کو ہوسیں دلاتا ہے (کہ اس گناہ میں ایسی لذت ہے اس حرام ذریعہ میں ایسی آمدنی ہے اور اعمال شیطانیہ کا وجود اور لغویت اور مضرت خود ظاہر ہے) اور شیطان ان سے صرف جھوٹے (فریب آمیز) وعدے کرتا ہے (کیونکہ واقع میں حساب و کتاب حق ہے اور اس کی ہوسوں کا فریب ہونا تو بہت جلدی کھل جاتا ہے) ایسے لوگوں کا (جو کہ شیطان کی راہ پر چلتے ہیں) ٹھکانا جہنم ہے (اور وہ خسران مبین یہی ہے) اور اس (جہنم) سے ہیں بچنے کی جگہ نہ پائیں گے (کہ وہاں جا کر پناہ لیں۔ ) معارف ومسائل ربط آیات :۔ اوپر ذکر جہاد میں گو سب مخالفین اسلام داخل ہیں، لیکن بیان احوال میں اب تک یہود اور منافقین کے احوال کا بیان ہوا تھا، اور مخالفین میں ایک جماعت بلکہ اوروں سے بڑی مشرکین کی تھی، آگے کچھ ان کے عقائد کی حالت اور طریقہ مذمت اور اس کی سزا کا مذکور ہے، اور اس مقام پر یہ اس لئے اور زیادہ مناسب ہوگیا کہ اوپر جس سارق کا قضیہ ذکر کیا گیا ہے اس میں یہ بھی ذکر ہے کہ وہ سارق مرتد تھا، پس اس سے اس کی دائمی سزا کا حال معلوم ہوگیا (بیان القرآن) پہلی آیت یعنی ان اللہ لایغفران یشرک بہ ویغفرمادون ذلک لمن یشآء شروع میں سورة نساء (آیت نمبر ٨٤) میں انہی الفاظ کے ساتھ آ چکی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ وہاں خاتمہ آیت پر ومن یشرک باللہ فقد افتری اثما عظیماً آیا ہے اور یہاں ومن یشرک بااللہ فقد ضل ضلاً بعیداً وجہ فرق کی ائمتہ تفسیر کی تصریحات کے مطابق یہ ہے کہ پہلی آیت کے مخاطب براہ راست یہود اہل کتاب تھے، جن کو بذریعہ تورات توحید کا حق ہونا اور شرک کا باطل ہونا اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نبی برحق ہونا سب کچھ معلوم تھا، اس کے باجود وہ شرک میں مبتلا ہوگئے تو گویا اپنے عمل سے انہوں نے یہ ظاہر کیا کہ تورات کی یہی تعلیم ہے جو سراسر افتراء اور بہتان ہے، اس لئے اس آیت کے آخر میں فقد افتری اثما عظیما ارشاد ہوا اور دوسری آیت کے مخاطب براہ راست مشرکین مکہ تھے، جن کے پاس اس سے پہلے نہ کوئی کتاب تھی نہ پیغمبر، مگر توحید کے عقلی دلائل بالکل واضح تھے اور اپنے ہاتھوں کے گھڑے ہوئے پتھروں کو اپنا معبود بنا لینا ادنی عقل والے کے لئے بھی لغو و باطل اور گمراہی تھا، اس لئے یہاں ارشاد ہوا فقد ضل ضلاً بعیداً شرک اور کفر کی سزا کا دائمی ہونا :۔ یہاں بعض لوگ یہ شبہ کرتے ہیں کہ سزا بقدر عمل ہونی چاہئے، مشرک اور کافر نے جو جرم کفر اور شرک کا کیا ہے، وہ محدود مدت عمر کے اندر کیا ہے تو اس کی سزا غیر محدود اور دائمی کیوں ہوئی ؟ جواب یہ ہے کہ کفر و شرک کرنے والا چونکہ اس کا جرم ہی نہیں سمجھتا بلکہ نیکی سمجھتا ہے، اس لئے اس کا عزم و قصد یہی ہوتا ہے کہ ہمیشہ اسی حال پر قائم رہے گا اور جب مرتے دم تک وہ اسی پر قائم رہا تو اپنے اختیار کی حد تک اس نے جرم دائمی کرلیا اس لئے سزا بھی دائمی ہوئی۔ ظلم کی تین قسمیں :۔ ظلم کی ایک قسم وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہرگز نہ بخشیں گے، دوسری قسم وہ ہے جس کی مغفرت ہو سکے گی اور تیسری قسم وہ ہے کہ جس کا بدلہ اللہ تعالیٰ لئے بغیر نہ چھوڑیں گے۔ پہلی قسم کا ظلم شرک ہے، دوسری قسم کا ظلم حقوق اللہ میں کوتاہی ہے اور تیسری قسم کا ظلم حقوق العباد کی خلاف ورزی ہے (ابن کثیر بحوالہ مسند بزار) شرک کی حقیقت :۔ شرک کی حقیقت، اللہ تعالیٰ کے سوا کسی مخلوق کو عبادت یا محبت و تعظیم میں اللہ تعالیٰ کے برابر سمجھنا ہے، قرآن کریم نے مشرکین کے اس قول کو جو وہ جہنم میں پہنچ کر کہیں گے، نقل کیا ہے : ” یعنی قسم خدا کی ہم کھلی گمراہی میں تھے جب کہ ہم نے تم کو اللہ رب العالمین کے برابر قرار دے دیا تھا۔ “ ظاہر ہے کہ مشرکین کا بھی یہ عقیدہ تو نہ تھا کہ ہمارے گھڑے ہوئے پتھر اس جہان کے خالق اور مالک ہیں، بلکہ انہوں نے دوسری غلط فہمیوں کی بناء پر ان کو عبادت میں یا محبت و تعظیم میں اللہ تعالیٰ کے برابر قرار دے رکھا تھا، یہی وہ شرک تھا جس نے ان کو جہنم میں پہنچا دیا (فتح الملہم) معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفات خالق، رازق، قادر مطلق، عالم الغیب والشہادة وغیرہ میں کسی مخلوق کو اللہ کے برابر سمجھنا شرک ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّ اللہَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِہٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ۝ ٠ۭ وَمَنْ يُّشْرِكْ بِاللہِ فَقَدْ ضَلَگ ضَلٰلًۢا بَعِيْدًا۝ ١١٦ غفر الغَفْرُ : إلباس ما يصونه عن الدّنس، ومنه قيل : اغْفِرْ ثوبک في الوعاء، واصبغ ثوبک فإنّه أَغْفَرُ للوسخ «1» ، والغُفْرَانُ والْمَغْفِرَةُ من اللہ هو أن يصون العبد من أن يمسّه العذاب . قال تعالی: غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] ( غ ف ر ) الغفر ( ض ) کے معنی کسی کو ایسی چیز پہنا دینے کے ہیں جو اسے میل کچیل سے محفوظ رکھ سکے اسی سے محاورہ ہے اغفر ثوبک فی ولوعاء اپنے کپڑوں کو صندوق وغیرہ میں ڈال کر چھپادو ۔ اصبغ ثوبک فانہ اغفر لو سخ کپڑے کو رنگ لو کیونکہ وہ میل کچیل کو زیادہ چھپانے والا ہے اللہ کی طرف سے مغفرۃ یا غفران کے معنی ہوتے ہیں بندے کو عذاب سے بچالیا ۔ قرآن میں ہے : ۔ غُفْرانَكَ رَبَّنا[ البقرة/ 285] اے پروردگار ہم تیری بخشش مانگتے ہیں ۔ شرك وشِرْكُ الإنسان في الدّين ضربان : أحدهما : الشِّرْكُ العظیم، وهو : إثبات شريك لله تعالی. يقال : أَشْرَكَ فلان بالله، وذلک أعظم کفر . قال تعالی: إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] ، والثاني : الشِّرْكُ الصّغير، وهو مراعاة غير اللہ معه في بعض الأمور، وهو الرّياء والنّفاق المشار إليه بقوله : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] ، ( ش ر ک ) الشرکۃ والمشارکۃ دین میں شریک دو قسم پر ہے ۔ شرک عظیم یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک ٹھہرانا اور اشراک فلان باللہ کے معنی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے ہیں اور یہ سب سے بڑا کفر ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّ اللَّهَ لا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ [ النساء/ 48] خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے ۔ دوم شرک صغیر کو کسی کام میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی جوش کرنے کی کوشش کرنا اسی کا دوسرا نام ریا اور نفاق ہے جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : جَعَلا لَهُ شُرَكاءَ فِيما آتاهُما فَتَعالَى اللَّهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ [ الأعراف/ 190] تو اس ( بچے ) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں ۔ خدا کا ( رتبہ ) اس سے بلند ہے ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ ضل الضَّلَالُ : العدولُ عن الطّريق المستقیم، ويضادّه الهداية، قال تعالی: فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] ويقال الضَّلَالُ لكلّ عدولٍ عن المنهج، عمدا کان أو سهوا، يسيرا کان أو كثيرا، فإنّ الطّريق المستقیم الذي هو المرتضی صعب جدا، قال النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم : «استقیموا ولن تُحْصُوا» ( ض ل ل ) الضلال ۔ کے معنی سیدھی راہ سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ اور یہ ہدایۃ کے بالمقابل استعمال ہوتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَمَنِ اهْتَدى فَإِنَّما يَهْتَدِي لِنَفْسِهِ وَمَنْ ضَلَّ فَإِنَّما يَضِلُّ عَلَيْها[ الإسراء/ 15] جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے سے اختیار کرتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے تو گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا ۔ اور ضلال کا لفظ ہر قسم کی گمراہی پر بولا جاتا ہے یعنی وہ گمراہی قصدا یا سہوا معمول ہو یا زیادہ کیونکہ طریق مستقیم ۔ جو پسندیدہ راہ ہے ۔۔ پر چلنا نہایت دشوار امر ہے ۔ جیسا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :(11) استقیموا ولن تحصوا کہ استقامت اختیار کرو اور تم پورے طور پر اس کی نگہداشت نہیں کرسکوگے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١١٦) طعمہ کے طریقہ پر جو حالت شرک پر مرجائے گا، اس کی مغفرت نہ ہوگی اور شرک سے کم جو گناہ ہوں گے جو اس کا اہل ہوگا تو اس کی مغفرت فرما دیں گے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١١٦ (اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآءُ ط) ۔ گویا یہ بھی کوئی فری لائسنس نہیں ہے۔ یاد رہے کہ یہ آیت اس سورة مبارکہ میں دوسری بار آرہی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

144. In this and the following verses we are asked to consider coolly, the end result of obsession with rage and anger, and what kind of people one chooses to identify with in place of the righteous people from whom one foolishly dissociates oneself.

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :144 اس رکوع میں اوپر کے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے ارشاد ہوا ہے کہ اپنی جاہلیت کے طیش میں آکر یہ شخص جس راہ کی طرف گیا ہے وہ کیسی راہ ہے ، اور صالحین کے گروہ سے الگ ہو کر جن لوگوں کا ساتھ اس نے اختیار کیا ہے وہ کیسے لوگ ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

69: یعنی شرک سے کم کسی گناہ کو اللہ تعالیٰ جب چاہے توبہ کے بغیر بھی محض اپنے فضل سے معاف کرسکتا ہے لیکن شرک کی معافی اس کے بغیر ممکن نہیں کہ مشرک اپنے شرک سے سچی توبہ کرکے موت سے پہلے پہلے اسلام قبول کرے اور توحید پر ایمان لے آئے۔ یہی مضمون پیچھے آیت نمبر 48 میں بھی گذر چکا ہے

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(116 ۔ 122) ۔ اس سے پہلے یہ آیت اہل کتاب کے ذکر میں تھی اس لئے وہاں فقد افتری ( ٤۔ ٤٨) فرمایا تھا کیونکہ اہل کتاب کا شرک جان بوجھ کر افتراء کے طور پر تھا یہاں عرب کے مشرکوں اور مرتدلوگوں کا ذکر ہے اس لئے فقد ضل فرمایا کہ یہ لوگ جو کچھ کرتے ہیں وہ ان کی جہالت کا سبب ہے، باقی معنی آیت کے پہلی جگہ جہاں یہ ہے۔ وہاں بیان کئے گئے ہیں عرب کے مشرک لوگ اپنے بتوں کے نام لات و منات اور عزیٰ عورتوں کے سے رکھتے تھے۔ اس واسطے فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کے سوا عورتوں کو پکارتے ہیں۔ اللہ کے سوا جس چیز کی کوئی پوجا کرتا ہے وہ شیطان کے بہکانے سے کرتا ہے اس لئے فرمایا کہ حقیقت میں یہ لوگ شیطان معلون کی پوجا کرتے ہیں۔ نصیب مفروض کے معنی ایک معین اور مقرر حصہ کے ہیں صحیح بخاری و مسلم میں ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے جس میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یاجوج ماجوج کو ملا کر بنی آدم کی ہزار آدمی کی جماعت میں سے نو سو ننانوے شیطان کا حصہ قرار پاکر اس کے ساتھ جہنم میں جائیں گے ٢۔ یہی گویا شیطان کا لوگوں کو گمراہ کرنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ ملعون طرح طرح سے لوگوں کو بہکاتا ہے اور ان کو راہ راست سے روکتا ہے۔ شیطان کی ” توقعیں دلانے “ کا یہ مطلب ہے کہ دنیا کی امیدوں کو اس طرح طویل طویل کر کے اس کو تازہ عمر انسان کے دل میں ڈال دیتا ہے کہ انسان ان امیدوں کے پورا کرنے میں مصروف ہو کر عقبیٰ سے غافل رہتا ہے اور اسی حالت میں اپنی عمر گذار دیتا ہے آخر وہ سب آرزو دل میں دل کی دل ہی میں رہتی ہیں اور انسان دنیا سے اٹھ جاتا ہے۔ چناچہ صحیح بخاری، ترمذی، نسائی وغیرہ میں عبد اللہ بن مسعود (رض) اور انس بن مالک (رض) سے جو روایتیں ہیں ان میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آدمی کی عمر کا ایک چھوٹا خط اور اس کی طرح طرح کی امیدوں کا ایک بڑا خط کھینچ کر اس مطلب کو اچھی طرح سمجھایا ہے۔ اس لئے یہ روایتیں ١ آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہیں یہ ذکر تفصیل سورة مائدہ میں آئے گا۔ کہ مشرکین مکہ بتوں کے نام پر کچھ جانور چھوڑتے تھے اور نہ سنائی کے لئے ان جانروں کے کانوں میں شگاف دے دیا کرتے تھے دین ابراہمی میں اس کا کہیں ذکر نہیں ہے اس لئے شیطان کے بہکاوے کی باتوں میں سے یہ بھی ایک بات تھی جس کو اس نے اپنے اس آیت کے دعوے کے موافق مشرکین مکہ میں رسم کے طور پر پھیلا دیا تھا اللہ کی بنائی ہوئی صورت کے بدلنے کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً بدن کی کھال کو گود کر اس میں سرمہ بھر لیا جاتا ہے۔ یا اصلی سر کے بالوں میں اور بال جوڑ کر اصلی بالوں کو لمبا کیا جائے اور اس طرح کی سب باتیں جن سے اصلی حالت کو بدل دیا جائے صحیحین اور سنن میں صحابہ کی ایک جماعت سے روایتیں ہیں ٢ جن میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے کام کرنے والوں پر خدا کی لعنت اترنے کی خبر دی ہے خدا کی لعنت کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے مرد اس طرح کی عورتیں خدا کی رحمت سے دور رہیں گے اسی واسطے فرمایا کہ جس نے ایسے کام کر کے شیطان کی دوستی ادا کی وہ بڑے نقصان میں پڑگیا جس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسا شخص شیطان کے ساتھ جہنم میں جائے گا پھر فرمایا کہ شیطان کے سب وعدے دغا بازی کے ہیں کیونکہ شیطان کو کچھ اختیار نہیں کہ وہ کسی کی امید پوری کرسکے یا اپنا کوئی وعدہ وفاکرے اس واسطے کی دلائی ہوئی امیدوں یا اس کے وعدوں پر جو کوئی بھروسہ کرتا ہے وہ بڑے دھوکے میں ہے اور انجام اس دھوکے کا وہی ہے جو فرمایا کہ دھوکا دینے والے اور دھوکا کھانے والوں کا سب کا ٹھکانہ جہنم ہے جہاں سے نکل بھاگنے کا کوئی راستہ نہیں اب مشرکوں اور منافقوں کے مقابلہ میں ان مومنوں کا ذکر فرمایا جو خود شرک سے بیزار اور ان کے علم دنیا کے دکھاوے سے پاک و صاف ہیں یہ تو ان لوگوں کا دنیا کا حال ہوا۔ عقبیٰ کا ان کا انجام یہ فرمایا۔ کہ ان کو ہم داخل کریں گے ایسے باغوں میں جن میں طرح طرح کے میوے اور طرح طرح کی نہریں ہیں اور دنیا میں کسی مال دار آدمی کے پاس کوئی باغ ہوتا تو وہ باغ اور باغ والا دونوں چند روزہ ہیں۔ عقبیٰ میں باغ والوں کو کبھی فنا ہے نہ باغ کو کبھی خزاں وزوال اوپر شیطان کے وعدہ کو دہوکا فرما کر اس کے مقابلہ میں فرمایا کہ یہ وعدہ اللہ کا ہے جو دونوں جہان کا مالک ہے اس لئے دونوں جہاں میں جو کچھ جس کو وہ چاہے دے سکتا ہے ایسے صاحب قدرت صاحب اختیار مالک کے وعدہ میں سوائے سچ کے اور کسی وہم و گمان کا دخل کیسے ہوسکتا ہے۔ اسی واسطے فرمایا اللہ کے زیادہ سچاوعدہ کس کا ہوسکتا ہے۔ صحیح بخاری و مسلم کی معاذ بن جبل (رض) کی حدیث اوپر گذرچ کی ہے ١۔ کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اس کے بعد بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ ان کو عذاب دوزخ سے نجات دے کر جنت میں داخل کرے ٢۔ یہ حدیث اس آیت کی گویا تفسیر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 معلوم ہوا کہ مشرک کے سوا مسلمان گنہگار ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گے اس سے ان لوگوں کو رد نکلتا ہے جو مر تکب کبیرہ کو دائمی جہنمی کہتے ہیں۔ (قرطبی)7 اوپر سے منا فقوں کا ذکر آرہا ہے جو پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ٖٖٖ فیصلوں کو پسند نہ کرتے او جدا راستے پر چلتے تھے، اس آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ شرک کو نہیں بخشا معلوم ہوا کہ اسلام کے سوا کسی دوسرے دین (طریقہ) کو محبوب رکھا جائے اور اس کو معمولی بنایا جائے تو یہ مشرک ہے۔ ، کیونکہ اسلام کے سوا جو دین بھی ہے سب شرک ہے اگرچہ پرستش کا شرک نہ بھی کیا جائے (ازموضح)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 18 ۔ آیات 116 تا 126 ۔ اسرار و معارف : ان اللہ لا یغفر ۔۔۔ محیطا۔ ایک اور بہت بڑی جماعت ان جہلا اور نادانوں کی ہے جنہوں نے اپنے آپ کو شرک جیسی مصیبت میں ڈال رکھا ہے اور وہ اوصاف جو صرف اللہ کو سزا وار ہیں دوسروں کو ان میں حصہ دار مانتے ہیں یا پھر وہ اطاعت جو صرف اللہ کا حصہ ہے اس میں دوسروں کو شریک کرلیتے ہیں یہی تین گروہ تھے علمائے یہود اور یہود و نصاری۔ جو ایمان نہ لائے تھے یا منافقین جو بظاہر ایمان لانے کا اظہار و اقرار کرتے مگر دل سے ایمان دار نہ تھے اور تیسرے مشرکین مکہ و عرب دنیا کی آبادی بلحاظ مذہب و ملت انہی تین گروہوں میں تقسیم کی جاسکتی تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے سوائے اس کے ک کہ جدید روشنی کے اندھیروں نے ذات باری کا سرے سے انکار کیا ہے اور ایک گروہ ایسا پیدا ہوچکا ہے جو اللہ کے وجود ہی کا قائل نہیں تو رب جلیل نے جہاں معاشرتی انصاف کا حکم دیا وہاں معاشرے کی حفاظت کا سوال پیدا ہوا تو انتظامی امور پہ روشنی ڈالی اور ساتھ جہاد کا حکم دیا اب کیسے لوگوں کے خلاف جہاد کی جائے گا اس کی حدود کیا ہوں گی اس کا جواب ارشاد فرمایا تو ایسے لوگ سامنے آگئے جو اسلام کا دعوی بھی رکھتے ہوں گے اور جہاد سے بھی بھاگیں گے سو کفار منافقین اور تیسرے گروہ مشرکین کا تذکرہ بھی فرما دیا۔ کہ شرک ایسا جرم ہے کہ جس کا خاتمہ شرک پر ہوگیا وہ کبھی بخشا نہ جائے گا اور اس کے علاوہ کوئی بڑے سے بڑا گناہ کرکے بغیر توبہ کے بھی فوت ہوگیا تو اللہ کی مغفرت کو عاجز نہیں کرسکتا لیکن اگر شرک پر مرا اور بغیر توبہ کے مرا تو کبھی معاف نہیں کیا جائے گا اور ابدی زندگی دوزخ میں گزارے گا چونکہ عقیدہ ابدی اور دائمی چیز ہوتا ہے جو کوئی شرک اور کفر بھی اختیار کرتا ہے اپنی طرف سے بہتر سمجھ کر اور ہمیشہ کے لیے زندگی بھر کا فیصلہ کرلیتا ہے۔ اس لیے سزا بھی ہمیشہ کے لیے کہ جس نے شرک اختیار کیا اس نے بہت ہی غلط راستے کا انتخاب کیا۔ اور حق سے بہت دور جا پڑا۔ شرک کی قسمیں : شرک کی متعدد قسمیں ہیں : 1 ۔ پہلی قسم تو یہ ہے کہ کوئی اللہ کی ذات میں کسی دوسرے کو شریک کرلے اور دو یا تین یا اس سے زیادہ معبود مقرر کرلے۔ یہ بہت کم ہے سوائے عیسائیوں کے جو تین میں ایک اور ایک میں تین کے قائل ہیں یا شیعہ کا فرقہ حلولیہ جو اللہ کے حلول کے قائل ہیں کہ امام میں داخل ہوجاتا ہے جیسے اسمعیلی بھی حلولیہ کی ایک شاخ ہیں۔ 2 ۔ دوسری قسم شرک کی وہ تصور ہو جو بعض مخلوق کے ساتھ پیدا ہوجاتا ہے کہ یہ خدا تو نہیں لیکن اللہ کی طرف سے اجازت یافتہ ہے جو چاہے کرے اگر یہ خوش ہو کر کوئی بات کہہ دے تو اللہ کبھی نہیں ٹالتا یا اسی کو نظام تفویض کردیا ہے جس کی مثال ہندوؤں کے ہاں دیوی دیوتا اور شیعوں میں فرقہ مفوضہ ہے یہی لوگ کبھی بت اور کبھی تعزئیے وغیرہ بنا کر ان کو راضی کرنے میں بڑی محنت کرتے ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارا کام کروا دیں گے اور۔ 3 ۔ تیسرا اور سب سے خطرناک شرک یہ ہے کہ انسان اپنی اپنے آپ کی اپنی ذات کی عبادت شروع کردے اور سارا دن ساری رات صرف اپنی خواہشات کی تکمیل میں صرف کردے اگر اللہ کا حکم بھی راستے میں حائل ہو تو اس کی پرواہ نہ کرے حلال و حرام کو نہ سوچے بلکہ ذاتی شہرت اور انا کی خاطر دولت بھی صرف کرے الیکشن بھی لڑے نمازیں بھی پڑھے روزے بھی رکھے نیک کام کرے یا گناہ کا کام مگر مقصد صرف اپنی خواہشات کی تکمیل ہو ایسے ہی لوگوں کو قرآن کریم فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا ہے اللہ کریم اس سے پناہ دے اس کی سمجھ بھی مشکل سے آتی ہے اور خدانخواستہ اگر خاتمہ شرک پر ہوگیا تو امید نجات بھی نہیں کہ زندگی میں توبہ کرلی تو درست۔ موت کے آثار یا آخرت کا کشف شروع ہوگیا تو کفر اور شرک سے توبہ کا وقت نکل گیا ہاں گناہ سے توبہ کی گنجائش مسلمان کیلئے تب بھی موجود ہے فرمایا ان کی جہالت دیکھو یہ زنانہ بت بنا کر یا زنانہ ناموں کو پوجتے اور ان کی عبادت کرتے ہیں انہیں مدد کے لیے پکارتے ہیں اور مشرکین فرشتوں کو بھی خدا کی بیٹیاں قرار دیتے تھے عبادت در اصل کسی کو ذاتی طور پر نفع پہنچانے والا یا نقصان سے بچانے والا یعنی نافع یا دافع ضرر سمجھ کر اس کی بات مان لینے کو کہا جاتا ہے اب اللہ کا بندہ تو کبھی اللہ کے مقابلے میں اپنی حیثیت نہیں منوائے گا وہ تو اللہ اور اس کے رسول کی بات پہنچائے گا تو اس کی اطاعت اللہ کی عبادت ہوگی لیکن کوئی شخص اپنی طرح سے حکم دے اور اللہ کے خلاف دے تو اللہ کا حکم چھوڑ کر اس کا حکم ماننا اسلام سے خارج کردے گا ایسے ہی کسی کو اس مرتبہ و منصب کا سمجھ کر پکارنا اور منت ماننا اس کے آگے رونا گڑگڑانا خواہ وہ واقعی کوئی وجود ہو یا ہمارے تخیل نے تراش رکھا ہو یہ سب شرک و کفر اور غیر اللہ کی عبادت قرار پائے گا۔ اہل مکہ عورت کو انسان تک ماننے کے لیے تیار نہ تھے محض ایک کھلونا سمجھتے تھے اور یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی عورت بھی گھر کا نظام چلا سکتی ہے اگر چند امیر کبیر خواتین کاروبار کرتی بھی تھیں تو مرد ملازموں سے کام لیتی تھیں اور مرد بزرگوں کی سرپرستی میں اور وہ بھی محض چند ورنہ مرنے والے کی بیویاں ، اس کی اولاد جائداد اور وراثت کی ساتھ تقسیم کرلی جاتی تھیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ان کی عقل پہ کیسے پتھر پڑے ہیں کہ عورت کو ایک گھر چلانے کا اہل نہیں مانتے اور ساری کائنات چلانے کی اہلیت مان رہے ہیں اور زنانہ ناموں کے بت بھی بنا رکھے ہیں اور انہیں پوجتے بھی ہیں اور پکارتے بھی در اصل یہ سب شیطان کی کرشمہ سازیاں ہیں اللہ کو چھوڑ کر کسی کو پکارو اور کسی نام سے پکارو سامنے تو صرف شیطان ہی ہوگا یہ بھی اسی سرکش شیطان کو پکارتے ہیں جو اللہ کا نافرمان ہو کر مردود ہوا جس پر لعنت کی گئی تو اس نے کہا تھا کہ اے اللہ جس بندے کی عظمت نہ ماننے پہ مجھے سزا ملی ہے میں اس بندے سے اپنی عظمت منواؤں گا اور ایک قابل ذکر حصہ ضرور لے ڈوبوں گا یعنی نماز کے وقت مصروفیت یاد دلا کر زکوۃ کے وقت فقرا اور تندگدستی کا خوف دلا کر جہاد کے وقت جان کا اندیشہ دل میں ڈال کر پھر دولت شہرت اقتدار کی ہوس پیدا کرکے میں انہیں بہکاؤں گا انہیں جھوٹی امیدیں دلاؤں گا اور یہ بتوں کے نام پر جانوروں کے کان چیرا کریں گے یعنی جانور مختص کردیں گے اور اللہ کی بنائی ہوئی صورتیں بدلیں گے جیسے عورتیں بال کٹا دیں بھنویں کٹا دیتی ہیں یا مردانہ لباس استعمال کرتی ہیں اور مرد داڑھی منڈواتے ہیں یا بالوں کا نمونہ عورتوں کا سا بنا لیتے ہیں یا لباس زنانہ پہن لیتے ہیں۔ یہ سب فسق ہے اور نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسا کرنے والوں پہ لعنت فرمائی ہے یاد رہے زینت یعنی بناؤ سنگھار عورت کو منع نہیں مگر شکل کا بدلنا خواہ بال کٹا کر یا لباس سے درست نہیں اور جس نے بھی شیطان سے دوستی کی یعنی امور بالا شیطان کی دوستی کا ثمر ہیں اگر کوئی اور آگے بڑھ گیا یہ اس کی اور بھی بدقسمتی ہوگی تو اس نے اللہ کو چھوڑ دیا کہ بیک وقت دو طرف دوستی ممکن نہیں اور جس نے اللہ کو چھوڑ کر شیطان کی دوستی پر بھروسہ کیا اس نے بہت بڑا نقصان کرلیا۔ ناقابل تلافی نقصان کہ یہ ان سے جھوٹے وعدے کرتا رہے گا اور انہیں امیدیں دلاتا رہے گا حالانکہ اس کے سارے وعدے سوائے فریب کے کوئی حقیقت نہیں رکھتے بالآخر ایسے لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہوگا جہاں سے بھاگنے کا بھی کوئی راستہ نہیں ان کے مقابلے میں جن کو ایمان کی دولت نصیب ہوگی اور ان کے اعمال بھی اس کی شہادت دیں گے ایمان اور عمل صالح کا رشتہ دعوے اور گواہ کا ہے کہ ایمان دعوی ہے اور عمل اس پر گواہ نیز عمل میں صالحیت کا ہونا ہی صحت ایمان کی دلیل بھی ہے کہ عمل وہی صالح ہوگا جو نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے مطابق ہوگا اور آپ کی اطاعت ہی ایمان کے درست ہونے کی دلیل بھی ہے تو ایسے لوگوں کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے یا انہیں ایسے باغات عطا فرمائیں گے جن کی ضرورت کے مطابق نہریں بہتی ہیں دنیا میں تو جہاں پانی کی رسائی ہے اس کے مطابق باغ لگایا جاسکتا ہے مگر آخرت کے باغ اور جنت کے باغ اپنا علیحدہ قانون رکھتے ہیں وہاں باغ کی ضرورت کے مطابق نہر کو وجود میں آنا ہوگا یا پانی کو پہنچنا ہوگا اور پھر وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے جنت میں داخل ہونے والا کوئی فرد ایسا نہیں ہوگا جسے پھر وہاں سے نکالے جانے کا ڈر ہو اور یہ اللہ کریم کا سچا وعدہ ہے شیطان کے سارے وعدے جھوٹے تھے مقابلے میں اللہ کا سچا اور پکا وعدہ ہے اور بھلا اللہ سے بڑھ کر کون سچا ہوسکتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اپنا تعلق محض کسی مذہب سے ظاہر کرلینا نجات کو کافی نہیں جیسا کہ اہل کتاب کو امید ہے کہ وہ اہل کتاب ہونے کی وجہ سے بخشے جائیں گے ہرگز نہیں جو بھی برائی کرے گا اس کی سزا پائے گا اور اس سزا سے بچانے والا یا مدد کرنے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں ملے گا نہ کوئی ہوسکتا ہے یہاں ایک حدیث کا مفہوم نقل کرنا ضروری خیال کرتا ہوں کہ صحابہ نے بہت ڈر محسوس کیا حتی کہ ابوبکر صدیق کمر پر ہاتھ رکھ کر چل رہے تھے تو نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا کیا بات ہے عرض کی یا رسول اللہ اس آیت نے کمر توڑ دی بھلا کون ہے جس سے چھوٹی موٹی خطا سرزد نہ ہو تو کوئی بھی نہیں بچ سکے گا فرمایا نہیں اس سے مراد سب کے لیے جہنم کی سزا نہیں ہے وہ تو کافر کا حصہ ہے مومن بیمار پڑتا ہے یا دنیا میں رنج اٹھاتا ہے حتی کہ اس کے پاؤں میں کانٹا لگ جائے تو بھی گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور اس سزا کا بدل قرار پاتا ہے سیدہ عائشہ الصدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ مومن ایک چیز ایک جیب سے تلاش کرتا ہے نہیں ملتی پریشان ہوتا ہے پھر دوسری جیب سے مل جاتی ہے یہ بھی کسی گناہ کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ نیکی کیا ہے : اب رہی بات نیکی کی کہ وہ کیا ہے فرمایا پہلی بات تو یہ ہے کہ شریعت پر عمل کرنے میں مرد عورت دونوں برابر کے شریک ہیں اگرچہ بعض احکام بعض وجوہ کی بنا پر مختلف ہیں مگر جواب دہی میں کوئی فرق نہیں جزا اور سزا میں کوئی فرق نہیں جو کمال بعد از نبوت مرد حاصل کرسکتا ہے خاتون بھی کرسکتی ہے کہ سب سے بڑا کمال تو صحابیت ہے جہاں مرد صحابی بنے خواتین بھی صحابیات بن گئیں پھر ولایت کا تو کوئی ایسا درجہ نہیں جو خواتین کے لیے ممنوع ہو ہاں شرط یہ ہے مرد ہو یا عورت عمل نیک کرے یعی وہ عمل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہو دوسرے اس کا ایمان یعنی عقیدہ درست ہو۔ رسومات اور رواجات کو دین کا درجہ نہ دے بلکہ جو بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہنچی ہو اسی کو درست مانے عقیدے کے ماملے میں بھی اور اسی کے لیے کوشاں ہو میدان عمل میں بھی ایسے لوگ مرد اور عورتیں یقیناً جنت میں داخل ہوں گے اور ان کے کام سے تل بھر بھی ضائ عنہ جائے گا بلکہ کام سے بہت زیادہ ملے گا کم کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اصل دین یا کمال دین کیا ہے : اب دین کا حسن کیا ہے کمال دین کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر سر تسلیم کو خم کردے یعنی عملی زندگی میں وہ طریقہ پوری کوشش سے اپنا لے جو اللہ کی اطاعت کے لیے ضروری ہو اور اس پر محنت کرے راستے میں دکھ آئیں برداشت کرے یہ تو بات ہے ظاہر کی۔ اب اندر سے وہ انتہائی مخلص ہو دل خلوص کی دولت سے مالا مال ہو اس کی تعریف آپ نے حدیث احسان میں فرمائی ہے کہ اللہ کی عبادت ایسے کی جائے گویا آپ اللہ کو دیکھ رہے ہیں اور اگر یہ درجہ نصیب نہ ہو تو کم از کم یہ ضرور ہو کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے اور یہی سارے سلوک کی بنیاد ہے جب تک کوئی انسان مرد ہو یا عورت اس کا دل اللہ اللہ نہ کرے اور اسے توجہ اور تجلیات باری نصیب نہ ہوں اس کا اللہ کے روبرو ہونا یا اللہ کو اپنے روبرو خیال کرنا تو دور کی بات ہے دل آدمی کے ساتھ مسجد میں آتا ہی نہیں بازار میں رہ جاتا ہے کاروبار میں رہ جاتا ہے عزیز و اقارب میں رہ جاتا ہے سو فرمایا دین کا حسن یہ ہے کہ عمل صالح ہو ظاہ رہے جب تک آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث نہیں ہوئے تھے اہل کتاب کا عیسیٰ (علیہ السلام) کی اطاعت کرنا عمل صالح تھا ہاں جو چیزیں انہوں نے از خود ایجاد کرلی تھیں وہ تو اطاعت ہی نہ رہیں تو صالح کیا ہوں گی اور دوسرے صدق دل سے یعنی عمل سنت کے مطابق ہو اور خلوص کے ساتھ ہو یہ کسی بھی آدمی کے دین کے حسن کا معیار ہے اب ہر آدمی خود اندازہ کرسکتا ہے کہ اس کا دین کس قدر حسین ہے یا نہیں۔ دین نام ہے ملت ابراہیمی کا جو بالکل سیدھے چلنے والے تھے ملت ابراہیم (علیہ السلام) کا معنی بھی واضح ہوگیا کہ اس طرح تک سیدھا چلنا جیسے سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) چلتے تھے جنہوں نے عمر بھر اطاعت کی کبھی کسی حکم کی وجہ جاننے کی کوئی کوشش بھی نہیں فرمائی سو حسن اسلام عمل میں محنت دل میں خلوص اور ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح سیدھے چلنے کا نام ہے جب ہی تو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنا دوست پسند فرمالیا تھا اور اپنا خلیل بنا لیا تھا یوں تو ارض و سما میں جو کچھ ہے سب ہی اللہ کا ہے مگر کسی کو اپنے لیے خاص کرلینا بالکل دوسری بات ہے عبد دیگر عبدہ چیزے دگر۔ اور اللہ تعالیٰ تو ساری کائنات کو اپنے سوا ہر شے کو احاطہ فرمائے ہوئے ہیں یہ زمین آسمان تو کائنات میں ایک چھوٹی سی شے ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 116-122 لغات القرآن : لایغفر، معاف نہیں کرے گا۔ ضل، بھٹک گیا۔ ضلال بعید، بھٹک کر دور تک پہنچ جانا۔ انت، عورتیں، دیویاں۔ مرید، باغی۔ اضلن، میں ضرور گمراہ کروں گا۔ امنین، میں ضرور امیدیں دلاؤں گا۔ امرن، میں ضرور سکھاؤں گا۔ یبتکن، ضرور پھاڑیں گے۔ اذان، کان۔ الانعام، مویشی، جانور۔ یغیرن، ضرور تبدیل کریں گے۔ غرور، دھوکا، فریب۔ محیص، بھاگنے کی جگہ۔ اصدق، زیادہ سچا۔ قیل، کہا گیا، قول۔ تشریح : یہاں بالکل واضح طریقہ سے کہہ دیا گیا ہے کہ شرک کی معافی نہیں ہے۔ اس کے سوا اگر اللہ چاہے تو ہر گناہ کی معافی ہوسکتی ہے۔ چونکہ شرک ہی سارے گناہوں کی جڑ ہے۔ یہ کفر کی سب سے خطرناک قسم ہے۔ جب بندہ اللہ کے سوا کسی اور کو معبود ٹھہراتا ہے تو وہ گویا اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے کہ کس کا حکم مانے اور کس کا حکم نہ مانے پھر اللہ کا وہی حکم مانتا ہے جہاں اس کا بنیادی مفاد مجروح نہ ہو۔ بقیہ ہر جگہ وہ شیطان کی پیروی کرتا ہے۔ آیت 117 میں ہے ” کہ وہ باغی شیطان کی پیروی کرتے ہیں “ ۔ شیطان کی پیروی سے مراد یہ نہیں ہے کہ اس کی پوجا پاٹ ہوتی ہے اسکو رکوع یا سجدہ کیا جاتا ہے ، یا اس سے دعائیں کی جاتی ہیں، شیطان کی عبادت سے مراد یہ ہے کہ اس کے بہکائے میں آجانا اس کے پر فریب وعدوں پر یقین کرلینا۔ اس کی دلائی ہوئی امیدوں پر لپکنا اور جیسے وہ چلائے ویسے چلنا۔ یہ اس کی بندگی کرنا ہی ہے۔ دنیا میں شیطان بہت سے روپ دھارتا ہے۔ کبھی حاکم کبھی لیڈر، کبھی چور، کبھی ڈاکو، کبھی دوست، کبھی رشتہ دار بن کر آتا ہے۔ ہر پھنسنے والے کے لئے جال الگ ہے۔ جو جس طرح پھنس سکے۔ عبادت صرف رسمی طریقوں کو بجا لانے کا نام نہیں ہے بلکہ معبود کے اشاروں اور حکموں پر چلنے کو عبادت کہتے ہیں۔ شرک یہ ہے کہ رسمی طریقے تو اللہ تعالیٰ کے بجالائے اور دنیا کے کاموں میں وہ مختلف طریقوں سے شیطان کا حکم مانتا رہے۔ اللہ کی بنائی ہوئی صورتوں میں ردوبدل کرنے سے مراد تہذیب تمدن سائنس ایجاد صنعت و حرفت مراد نہیں ہے کیونکہ یہ تو انسانی ترقی کے لئے لازمی ہیں۔ مراد ہے کہ مرد زنانہ کام کرنے اور عورت مردانہ کام یا پھر خاندانی منصوبہ بندی، عمل قوم لوط ” رہبانیت “ یعنی کسی چیز سے وہ کام لینا جو اللہ کی فطرت اور قدرت کے خلاف ہو۔ آج کل مغربی تہذیب یہی ہے۔ مگر وہ صحت، سکون، اخلاق، اعتماد، ازدواجی اور خاندانی محبت، ایمان داری، حلال و حرام کی کس پستی پر پہنچ گئی ہے اس سے ہر شخص اچھی طرح واقف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان کے سبز باغ مکرو فریب کے سوا کچھ نہیں ہوتے۔ اہل ایمان کیلئے جنت کا وعدہ ہے اور اللہ سے زیادہ قول کا سچا کون ہے ؟

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ مشرک نے حضرت صانع کی اہانت کی اس لیے ایسی ہی سزاکامستحق ہوگا بخلاف دوسرے گناہوں کے کچھ توضلال ہے مگر توحید کے خلاف اور اس سے بعید نہیں اس لیے قابل مغفرت قرار دیا گیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نئے خطاب کا آغاز۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کا انکار کرنا کفر ہے اور اس کی ذات وصفات اور عبادت میں کسی کو شریک ٹھہرانا شرک ہے جو سب سے بڑا گناہ، ظلم عظیم اور پرلے درجے کی گمراہی ہے۔ کفر و شرک کے سوا اللہ تعالیٰ جسے چاہے اور جو چاہے معاف فرما دے گا اس میں حقوق العباد بھی شامل ہیں۔ خاص کر ایسا شخص جو دوسروں کے حق کی ادائیگی اور اپنی زیادتی کی تلافی کرنا چاہتا تھا لیکن غفلت یا عدم وسائل کی وجہ سے تلافی نہیں کرسکا۔ اللہ تعالیٰ یقیناً اسے معاف فرما کر حق دار کی داد رسی فرما دے گا۔ جیسا کہ بخاری شریف میں کئی مقامات میں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان درج ہے جس میں آپ نے توحید کی برکات کا یوں ذکر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ محشر کے میدان میں اعلان فرمائیں گے جو دنیا میں کسی کی عبادت کرتا تھا وہ اس کے پاس چلا جائے۔ مشرک اپنے اپنے پیروں اور معبودوں کے پاس چلے جائیں گے لیکن کچھ لوگ کھڑے رہیں گے۔ جن میں فاجر لوگ بھی ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ان سے سوال فرمائیں گے کہ تم کیوں نہیں جاتے ؟ وہ عرض کریں گے کہ ہم دنیا میں تیرے ساتھ کسی کو مشکل کشا، حاجت روا، دستگیر اور آپ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک نہیں گردانتے تھے اب بھی تیری ذات کبریا کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ چناچہ شرک سے اجتناب کرنے اور توحید کے صلہ میں انہیں معاف کردیا جائے گا۔[ رواہ البخاری تفسیر سورة النساء۔ مسلم : کتاب الإیمان، باب معرفۃ طریق الرؤیۃ ] مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والا انتہا درجے کا گمراہ ہوتا ہے۔ تفسیر بالقرآن شرک کے نقصانات : ١۔ شرک بدترین گناہ ہے۔ (النساء : ٤٨) ٢۔ شرک ظلم عظیم ہے۔ (لقمان : ١٣) ٣۔ شرک سے اعمال غارت ہوجاتے ہیں۔ (الزمر : ٦٥) ٤۔ شرک کے بارے میں انبیاء کو انتباہ۔ (الانعام : ٨٨) ٥۔ شرک کرنے سے آدمی ذلیل ہوجاتا ہے۔ (الحج : ٣١) ٦۔ مشرک پر جنت حرام ہے۔ (المائدۃ : ٧٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

مشرکین کی بخشش نہیں وہ دور کی گمراہی میں ہیں : آخر میں فرمایا (اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ ) (الآیۃ) یہ آیت شریفہ چند رکوع پہلے سورة نساء ہی میں گزر چکی ہے البتہ آخر کے الفاظ میں تھوڑا سا اختلاف ہے۔ آیت کی تفسیر اور تشریح ہم وہاں لکھ چکے ہیں۔ یہاں اس مناسبت سے سابقہ مضمون کا اعادہ فرمایا ہے کہ چوری کرنے والا منافق ظاہراً بھی کافر ہوگیا اور مشرکوں میں جا کر مل گیا تھا۔ فائدہ : صاحب روح المعانی صفحہ ١٤٨: ج ٥ فرماتے ہیں کہ چند رکوع پہلے اس آیت کے ختم پر (فَقَدِ افْتَرٰیٓ اِثْماً عَظِیْماً ) فرمایا اور یہاں (فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا بَعِیْدًا) فرمایا۔ اس میں یہ نکتہ ہے کہ وہاں یہودیوں کے بارے میں بات ہو رہی تھی انہوں نے جو کچھ اپنی کتاب میں پڑھا تھا اس کی وجہ سے اس بات میں انہیں بالکل شک نہیں تھا کہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) واقعی اللہ کے رسول ہیں اور ان کی شریعت کا اتباع فرض ہے اور وہ جو کچھ ایمان کی دعوت دیتے ہیں اس کا ماننا لازم ہے اس سب کے باوجود انہوں نے شرک کی راہ اختیار کی اور کفر پر جمے رہے لہٰذا ان کا یہ عمل افتراء ہوگا اور اپنی طرف سے جھوٹ بنا کر اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے رہے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ اللہ کی طرف سے ہے اور ہم جس دین پر ہیں وہی اللہ تعالیٰ کا مجبوب دین ہے اور یہاں خالص مشرکین سے بات ہو رہی ہے جو اس سے پہلے نہ کتاب کو جانتے تھے نہ وحی سے واقف تھے ان کے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ ہدایت اور دین حق لے کر کوئی شخص نہیں آیا تھا۔ لیکن حجت کے ساتھ حق واضح ہونے کے بعد اپنی سابقہ گمراہی پر ہی برقرار رہے اور شرک ہی کو اختیار کیے رہے اس لیے ان کے حق میں (فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًا بَعِیْدًا) فرمایا اور یہ بتایا کہ یہ لوگ گمراہ تو تھے ہی اور زیادہ گمراہ ہوتے چلے گئے اور دور کی گمراہی میں جا پڑے۔ ملت ابراہیمیہ میں جو توحید کا حکم تھا یہ اس کو پشت پیچھے ڈال کر مشرک ہوگئے تھے اور سمجھانے پر بھی شرک سے باز نہ آئے گمراہی میں ہی آگے بڑھتے چلے گئے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

83 یہ مشرکین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ احکام سلطانیہ کے بعد اصلی مقصد یعنی توحید کا پہلے کی نسبت قدرے تفصیل سے بیان ہے وہاں کہا شرک نہ کرو یہاں بیان کیا کہ شرک بری بلا ہے اسے خدا کبھی نہ بخشے گا۔ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا اِنٰثًا سے شرک اعتقادی کی نفی کی گئی ہے۔ اِنٰثاً سے مراد فرشتے ہیں کیونکہ مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹیوں کے بمنزلہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے وہ خدا کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ ان بعضہم کان یعبد الملئکۃ و کانوا یقولون المائکۃ بنات اللہ (کبیر ج 3 ص 464) وقیل اِلَّا اِنٰثاً ملئکۃ لقولہم الملائکۃ بنات اللہ وھی شفعاءنا عند اللہ (قرطبی ص 387 ج 5)

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک کیا جائے خواہ اس کی ذات میں یا اس کی صفات مختصہ میں اور شرک سے کم درجے کے گناہوں کو خواہ وہ صغیر ہوں یا کبیرہ جس کے لئے وہ چاہے گا ان کو بخشدے گا اور بالکل سزا نہیں دے گا اور بات بھی یہ ہے کہ جس شخص نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کیا خواہ وہ شرک ذاتی ہو یا صفاتی یقینا ایسی گمراہی میں جا پڑا جو راہ حق سے بہت دور ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اوپر سے ذکر تھا منافقوں کا جو پیغمبر کے حکم پر راضی نہ ہو اور جدی راہ چلے یہ آیت فرمائی کہ اللہ شرک نہیں بخشتا تو شرک فرمایا حکم میں شریک کرنے کو یعنی سوائے دین اسلام کے اور دین پسند رکھے اور اس پر چلے پس جو دین ہے سوا اسلام کے سب شرک ہے اگرچہ پوجنے میں شرک نہ کرتے ہوں (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب نے خوب تقریر فرمائی یعنی اوپر پیغمبر کے حکم پر نہ چلنے کا ذکر تھا جیسے عام طور پر منافق کرتے ہیں یا اس واقعہ خاص میں بشیر نے یا طعمہ نے کیا اور اب آگے اللہ کے حکم میں شریک کرنے کا ذکر ہے یعنی حقیقی امر تو اللہ تعالیٰ ہے اور اس کا حکم ہے کہ تمہارا دین اسلام ہونا چاہئے۔ اب کوئی شخص یہ حکم نہ مانے اور کوئی دوسرا دین قبول کرلے تب بھی وہ مشرک ہے خواہ کسی بت کو سجدہ نہ کرے شاہ صاحب کے حاشیہ کو غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ شاہ صاحب کی مساعی کو مشکور فرمائے آیت کا مطلب یہ ہے کہ مشرک کسی درجہ کا بھی ہو وہ باوجود سزا کے بھی نہیں بخش دے گا اور جو شخص شرک کا مرتکب ہوا اور جس بدبخت نے اللہ تعالیٰ کے استھ شرک کیا خواہ اس کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک کیا خواہ اس کے حکم کے مقابلہ میں کسی دوسرے کا حکم مانا یا اللہ تعالیٰ کی صفات مختصہ میں کسی کو شریک مقرر کیا تو ایسا شخص انتہائی گمراہی میں جا پڑا اور ایسی گمراہی میں چلا گیا جو سیدھی راہ سے بہت دور ہے یعنی کوئی شخص سیدھی سڑک سے ذرا دائیں بائیں ہوجائے تو سیدھی راہ اختیار کرلینے کی توقع ہوتی ہے لیکن جو میلوں اور کوسوں دور چلا جائے وہ کس طرح سیدھی سڑک پر آسکتا ہے … شرک اس قدر مذموم ہے کہ آج کل ہر تہذیب میں اس کو برا سمجھا جاتا ہے یہاں تک کہ مشرک بھی شرک کو برا کہکتے ہیں اور چونکہ شرک ہر اعتبار سے قابل مذمت اور اللہ تعالیٰ کی توہین و اہانت ہے اس لئے اس جرم کو ناقابل معافی فرمایا اور حضرت شاہ صاحب نے یہ بات بھی صاف کردی کہ کفر اور شرک کا ایک ہی حکم ہے کیونکہ کفر بھی شرک کے ساتھ علت میں مشترک ہے جس طرح شرک واجب الوجود کی اہانت ہے اسی طرح کفر میں بھی شرک کے ساتھ علت میں مشترک ہے جس طرح شرک واجب الوجود کی اہانت ہے اسی طرح کفر میں بھی واجب الوجود کے کسی نہ کسی حکم کا انکار ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کے انکار ہی کو کفر کہتے ہیں اور ایسے کافر بھی ہیں جو واجب الوجود کی ذات ہی کا انکار کرتے ہیں تو خواہ کوئی اللہ تعالیٰ کی ذات کا منکر اور کسی صفت کا منکر ہو یا واجب الوجود کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرا کر اس کی توہین کرتا ہو ان سب کا حکم ایک ہی ہے آگے مشرکین کی حالت کا مزید بیان ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)