Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 127

سورة النساء

وَ یَسۡتَفۡتُوۡنَکَ فِی النِّسَآءِ ؕ قُلِ اللّٰہُ یُفۡتِیۡکُمۡ فِیۡہِنَّ ۙ وَ مَا یُتۡلٰی عَلَیۡکُمۡ فِی الۡکِتٰبِ فِیۡ یَتٰمَی النِّسَآءِ الّٰتِیۡ لَاتُؤۡ تُوۡنَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَ تَرۡغَبُوۡنَ اَنۡ تَنۡکِحُوۡہُنَّ وَ الۡمُسۡتَضۡعَفِیۡنَ مِنَ الۡوِلۡدَانِ ۙ وَ اَنۡ تَقُوۡمُوۡا لِلۡیَتٰمٰی بِالۡقِسۡطِ ؕ وَ مَا تَفۡعَلُوۡا مِنۡ خَیۡرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِہٖ عَلِیۡمًا ﴿۱۲۷﴾

And they request from you, [O Muhammad], a [legal] ruling concerning women. Say, " Allah gives you a ruling about them and [about] what has been recited to you in the Book concerning the orphan girls to whom you do not give what is decreed for them - and [yet] you desire to marry them - and concerning the oppressed among children and that you maintain for orphans [their rights] in justice." And whatever you do of good - indeed, Allah is ever Knowing of it.

آپ سے عورتوں کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں ، آپ کہہ دیجئے! کہ خود اللہ ان کے بارے میں حکم دے رہا ہے اور قرآن کی وہ آیتیں جو تم پر ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں پڑھی جاتی ہیں جنہیں ان کا مقرر حق تم نہیں دیتے اور انہیں اپنے نکاح میں لانے کی رغبت رکھتے ہو اور کمزور بچوں کے بارے میں اور اس بارے میں کہ یتیموں کی کارگزاری انصاف کے ساتھ کرو ۔ تم جو نیک کام کرو بے شبہ اللہ اسے پوری طرح جاننے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Ruling Concerning Female Orphans Allah says; وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاء قُلِ اللّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاء الَّلتِي لاَ تُوْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ ... They ask your instruction concerning women. Say: "Allah instructs you about them, and about what is recited unto you in the Book concerning the orphan girls whom you give not what they deserve and yet whom you desire to marry, Al-Bukhari recorded that Aishah said about the Ayah, "It is about the man who is taking care of a female orphan, being her caretaker and inheritor. Her money is joined with his money to such an extent, that she shares with him even the branch of a date that he has. So he likes (for material gain) to marry her himself, and hates to marry her to another man who would have a share in his money, on account of her share in his money. Therefore, he refuses to let her marry anyone else. So, this Ayah was revealed." Muslim also recorded it. Ibn Abi Hatim recorded that Aishah said, "The people asked Allah's Messenger (about orphan girls), so Allah revealed, وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاء قُلِ اللّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ (They ask your instruction concerning women. Say, "Allah instructs you about them and about what is recited unto you in the Book..."). What is meant by Allah's saying, `And about what is recited unto you in the Book' is the former verse (4:3) which said, وَإِنْ خِفْتُمْ أَلاَّ تُقْسِطُواْ فِي الْيَتَامَى فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاء (If you fear that you shall not be able to deal justly with the orphan girls, then marry (other) women of your choice.)" Aishah said, "Allah's statement, وَتَرْغَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ (whom you desire to marry...) also refers to the desire of the guardian not to marry an orphan girl under his supervision when she lacks property or beauty. The guardians were forbidden to marry their orphan girls possessing property and beauty without being just to them, as they generally refrain from marrying them (when they are neither beautiful nor wealthy)." The basis of this is recorded in Two Sahihs. Consequently, when a man is the caretaker of a female orphan, he might like to marry her himself. In this case, Allah commands him to give her a suitable dowry that other women of her status get. If he does not want to do that, then let him marry other women, for Allah has made this matter easy for Muslims. Sometimes, the caretaker does not desire to marry the orphan under his care, because she is not attractive to his eye. In this case, Allah forbids the caretaker from preventing the female orphan from marrying another man for fear that her husband would share in the money that is mutually shared between the caretaker and the girl. Ali bin Abi Talhah said that Ibn Abbas said, "During the time of Jahiliyyah, the caretaker of a female orphan would cover her with his rope, and when he did that, no man would marry her. If she was beautiful and he desired to marry her, he married her and took control of her wealth. If she was not beautiful, he did not allow her to marry until she died, and when she died he inherited her money. Allah prohibited and outlawed this practice. " ... وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْوِلْدَانِ ... and the children who are weak and oppressed, He also said about Allah's statement, that during the time of Jahiliyyah, they used to deny young children and females a share of inheritance. So Allah's statement, لااَ تُوْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ (you give not what they deserve) thus prohibiting this practice and designating a fixed share for each, لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الاُنثَيَيْنِ (To the male, a portion equal to that of two females..) whether they were young or old, as Sa`id bin Jubayr and others stated. ... وَأَن تَقُومُواْ لِلْيَتَامَى بِالْقِسْطِ ... and that you stand firm for justice to orphans. Sa`id bin Jubayr said about Allah's statement, "Just as when she is beautiful and wealthy you would want to marry her and have her for yourself, so when she is not wealthy or beautiful, marry her and have her for yourself." Allah's statement, ... وَمَا تَفْعَلُواْ مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللّهَ كَانَ بِهِ عَلِيمًا And whatever good you do, Allah is Ever All-Aware of it. encourages performing the good deeds and fulfilling the commandments, and states that Allah is knowledgeable of all of this and He will reward for it in the best and most perfect manner.

یتیموں کے مربیوں کی گوشمالی اور منصفانہ احکام صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت عائشہ فرماتی ہے اس سے مراد وہ شخص ہے جس کی پرورش میں کوئی یتیم بچی ہو جس کا ولی وارث بھی وہی مال میں شریک ہو گیا ہو اب چاہتا یہ ہو کہ اس یتیم سے میں نکاح کرلوں اس بنا پر اور جگہ اس کی شادی روکتا ہو ایسے شخص کے بارے میں یہ آیت اتری ہے ، ایک روایت میں ہے کہ اس آیت کے اترنے کے بعد جب پھر لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے ( يَسْتَـفْتُوْنَكَ ۭ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِي الْكَلٰلَةِ ) 4 ۔ النسآء:176 ) نازل فرمائی ۔ فرماتی ہیں کہ اس آیت میں جو یہ فرمایا گیا ہے ( ۙ وَمَا يُتْلٰي عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ فِيْ يَتٰمَي النِّسَاۗءِ الّٰتِيْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا كُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْھُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ ) 4 ۔ النسآء:127 ) اس سے مراد پہلی ( وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاۗءِ مَثْنٰى وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ۚ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُكُمْ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَلَّا تَعُوْلُوْا ) 4 ۔ النسآء:3 ) ہے آپ سے بھی منقول ہے کہ یتیم لڑکیوں کے ولی وارث جب ان کے پاس مال کم پاتے یا وہ حسین نہ ہوتیں تو ان سے نکاح کرنے سے باز رہتے اور اگر مالدار اور صاحب جمال پاتے تو نکاح کی رغبت کرتے لیکن اس حال میں بھی چونکہ ان لڑکیوں کا اور کوئی محافظ نہیں ہوتا تھا ان کے مہر اور حقوق میں کمی کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں روک دیا کہ بغیر پورا مہر اور پورے حقوق دینے کے نکاح کر لینے کی اجازت نہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ ایسی یتیم بچی جس سے اس کے ولی کو نکاح حلال ہو تو وہ اس سے نکاح کر سکتا ہے بشرطیکہ جو مہر اس جیسی اس کے کنبے قبیلے کی اور لڑکیوں کو ملا ہے اسے بھی اتنا ہی دے اور اگر ایسا نہ کرے تو اسے چاہئے اس سے نکاح بھی نہ کرے ۔ اس سورت کے شروع کی اس مضمون کی پہلی آیت کا بھی یہی مطلب ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس یتیم بچی سے خود اس کا ایسا ولی جسے اس سے نکاح کرنا حلال ہے اسے اپنے نکاح میں لانا نہیں چاہتا خواہ کسی وجہ سے ہو لیکن یہ جان کر کہ جب یہ دوسرے کے نکاح میں چلی جائے گی تو جو مال میرے اس لڑکی کے درمیان شراکت میں ہے وہ بھی میرے قبضے سے جاتا رہے گا ۔ تو ایسے ناواجبی فعل سے اس آیت میں روک دیا گیا ۔ یہ بھی مروی ہے کہ جاہلیت میں دستور تھا کہ یتیم لڑکی کا والی جب لڑکی کو اپنی ولایت میں لیتا تو اس پر ایک کپڑا ڈال دیتا اب کسی کی مجال نہ تھی کہ اس سے خود آپ نکاح کر لیتا اور مال بھی ہضم کر جاتا اور اگر وہ صورت شکل میں اچھی نہ ہوتی اور مالدار ہوتی تو اسے دوسری جگہ نکاح کرنے سے روک دیتا وہ بیچاری یونہی مر جاتی اور یہ اس کا مال قبضہ میں کر لیتا ۔ اس سے اللہ تعالیٰ اس آیت میں منع فرما رہا ہے ۔ حضرت ابن عباس سے اس کے ساتھ ہی یہ بھی مروی ہے کہ جاہلیت والے چھوٹے لڑکوں کو وارث نہیں سمجھتے تھے اس رسم کو بھی قرآن نے ختم دیا اور ہر ایک کو حصہ دلوایا اور فرمایا کہ لڑکی اور لڑکے کو خواہ چھوٹے ہوں خواہ بڑے حصہ ضرور دو ۔ البتہ لڑکی کو آدھا اور لڑکے کو پورا یعنی دو لڑکیوں کے برابر اور یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف کا حکم دیا کہ جب جمال و مال والی سے خود تم اپنا نکاح کر لیتے ہو تو پھر ان سے بھی کر لیا کرو جو مال وجمال میں کم ہوں پھر فرمایا یقین مانو کہ تمہارے تمام اعمال سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے ۔ تمہیں چاہئے کہ خیر کے کام کرو فرماں برداری کرو اور نیک جزا حاصل کرو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

127۔ 1 عورتوں کے بارے میں جو سوالات ہوتے رہتے ہیں، یہاں سے ان کے جوابات دیئے جا رہے ہیں۔ 127۔ 2 وَمَا یُتلَیٰ عَلَیْکُمْ اس کا عطف اللہ یفتیکُمْ پر ہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کی بابت وضاحت فرماتا ہے اور کتاب اللہ کی وہ آیات وضاحت کرتی ہیں جو اس سے قبل یتیم لڑکیوں کے بارے میں نازل ہوچکی ہیں۔ مراد سورة نساء کی آیت 3 جس میں ان لوگوں کو اس بےانصافی سے روکا گیا کہ یتیم لڑکی سے ان کے حسن و جمال کی وجہ سے شادی تو کرلیتے تھے لیکن مہر دینے سے گریز کرتے تھے۔ 127۔ 2 اس کے دو ترجمے کئے گئے ہیں، ایک تو یہی جو مرحوم مترجم نے کیا ہے اس میں فی کا لفظ محذوف ہے اس کا دوسرا ترجمہ عن کا لفظ محذوف مان کر کیا گیا ہے یعنی ترغبون عن ان تنکحوھن، " تمہیں ان سے نکاح کرنے کی رغبت نہ ہو " رغبت کا صلہ عن آئے تو معنی اعراض اور بےرغبتی کے ہوتے ہیں۔ جیسے (وَمَنْ يَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّةِ اِبْرٰھٖمَ ) 002:130 میں ہے یہ گویا دوسری صورت بیان کی گئی ہے کہ یتیم لڑکی بعض دفعہ بدصورت ہوتی تو اس کے ولی یا اس کے ساتھ وراثت میں شریک دوسرے ورثاء خود بھی اس کے ساتھ نکاح کرنا پسند نہ کرتے اور کسی دوسری جگہ بھی اس کا نکاح نہ کرتے، تاکہ کوئی اور شخص اس کے حصہ جائیداد میں شریک نہ بنے۔ اللہ تعالیٰ نے پہلی صورت کی طرح ظلم کی اس دوسری صورت سے بھی منع فرمایا۔ 127۔ 3 اس کا عطف۔ یتامی النساء۔ پر ہے۔ یعنی وما یتلی علیکم فی یتامی النساء وفی المستضعفین من الولدان۔ یتیم لڑکیوں کے بارے میں تم پر جو پڑھا جاتا ہے۔ (سورۃ النساء کی آیت نمبر 3) اور کمزور بچوں کی بابت جو پڑھا جاتا ہے اس سے مراد قرآن کا حکم (يُوْصِيْكُمُ اللّٰهُ فِيْٓ اَوْلَادِكُمْ ) 004:011 ہے جس میں بیٹوں کے ساتھ بیٹیوں کو بھی وراثت میں حصہ دار بنایا گیا ہے۔ جب کہ زمانہ جاہلیت میں صرف بڑے لڑکوں کو ہی وارث سمجھا جاتا تھا چھوٹے کمزور بچے اور عورتیں وراثت سے محروم ہوتی تھیں۔ شریعت نے سب کو وارث قرار دے دیا۔ 127۔ 4 اس کا عطف بھی یَتَامَی النِّسآءِ پر ہے۔ یعنی کتاب اللہ کا حکم بھی تم پر پڑھا جاتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرو۔ یتیم بچی صاحب جمال ہو تب بھی اور بدصورت ہو تب بھی۔ دونوں صورتوں میں انصاف کرو (جیسا کہ تفصیل گزری)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٦٦] یتیم لڑکیوں سے ناانصافی :۔ یتیم لڑکیوں کے بارے میں جو احکام پہلے سنائے جا چکے ہیں وہ اسی سورة نساء کی آیت نمبر ٣ میں مذکور ہیں اور اس آیت کا اس آیت سے گہرا تعلق ہے۔ ہوتا یہ تھا کہ یتیم لڑکیوں کے سرپرست ان سے نکاح کرنے کے سلسلہ میں کئی طرح کی بےانصافیوں کا ارتکاب کرتے تھے جن کی تفصیل اسی سورة کی آیت نمبر ٣ کے تحت بیان کی جا چکی ہے۔ ان بےانصافیوں سے بچنے کی خاطر ایسی یتیم لڑکیوں کے سرپرستوں نے یہ محتاط رویہ اختیار کیا کہ ان سے نکاح کرنا ہی چھوڑ دیا تھا تاکہ ان سے ان یتیم لڑکیوں کے حق میں کوئی بےانصافی کی بات سرزد نہ ہوجائے۔ لیکن اس طرح بھی بعض دفعہ نقصان کی صورت پیش آجاتی تھی اور وہ یہ تھی کہ جس قدر اخوت اور بہتر سلوک انہیں سرپرستوں سے نکاح کرنے میں میسر آسکتا تھا، غیروں کے ساتھ نکاح کرنے سے وہ میسر آ ہی نہ سکتا تھا اور بعض دفعہ ان کی زندگی تلخ ہوجاتی۔ اس آیت کے ذریعہ اولیاء کو ان کے زیر کفالت یتیم لڑکیوں سے نکاح کی اجازت دے دی گئی مگر اس شرط کے ساتھ کہ ایک تو ان کے حق مہر میں کمی نہ کرو اور دوسرے جو کچھ تم طے کرو وہ ادا ضرور کردو اور ان کے جو دوسرے حقوق وراثت وغیرہ ہوں، بھی انہیں ادا کردو۔ اور بعض مفسرین نے اس آیت سے یتیم بچیوں کا وراثت میں حصہ مراد لیا ہے جس کے احکام پہلے اسی سورة کی آیت نمبر ١١ میں گزر چکے ہیں۔ دور جاہلیت کا دستور یہ تھا کہ وہ نہ میت کی بیوی کو وراثت سے کچھ حصہ دیتے تھے اور نہ یتیم لڑکیوں کو۔ بلکہ وراثت کے حقدار صرف وہ لڑکے سمجھے جاتے تھے جو لڑائی کرنے اور انتقام لینے کے قابل ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے آیت میراث کی رو سے بیواؤں، یتیم لڑکیوں کے علاوہ چھوٹے بچوں کو بھی وراثت میں حقدار بنادیا اور اس آیت میں ماکَتَبَ لَھُنَّ کے الفاظ اسی بات پر دلالت کرتے ہیں۔ [١٦٦] یعنی ایسے یتیم بچے جو ان کے ولی کے زیر کفالت ہیں ان کے حقوق بھی انہیں پورے پورے ادا کرو۔ اور کسی طرح سے بھی ان سے ناانصافی نہ کرو، یتیموں سے حسن سلوک کے سلسلہ میں بھی پہلے سورة نساء کی ابتدا میں تفصیل گزر چکی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَاۗءِ ۭ ۔۔ : گو یہاں یہ صراحت نہیں ہے کہ عورتوں کے بارے میں کیا سوال کر رہے تھے، لیکن اگلی چار آیات میں جو فتویٰ دیا گیا ہے اس سے اس سوال کا خود بخود پتا چل جاتا ہے۔ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ ۙ وَمَا يُتْلٰي عَلَيْكُمْ ۔۔ : یہاں دراصل کچھ سوالوں کے جواب کے لیے پچھلی آیات کا حوالہ دیا ہے کہ کتاب کی اسی سورت میں جو کچھ پڑھا جاتا ہے وہ اسی سے متعلق ہے، مثلاً آیت (٣) اور اس کے بعد کی آیات یتیم لڑکیوں کے نکاح سے متعلق ہیں، پھر عورتوں کے حقوق اور نابالغ بچوں کی نگہداشت اور ان کا مال کھانے سے اجتناب اور ان کا ورثہ دینا یہ سب اسی کے بارے میں ہے۔ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْھُنَّ : ” اور رغبت رکھتے ہو کہ ان سے نکاح کرلو “ یہ ترجمہ اس صورت میں ہے کہ جب ” ترغبون “ کا صلہ ” فِیْ “ محذوف مانا جائے، جس کا معنی رغبت کرنا ہے اور اگر اس کا صلہ ” عَنْ “ محذوف مانا جائے تو ترجمہ یوں ہوگا کہ تم ان سے نکاح کرنا پسند نہیں کرتے۔ عائشہ (رض) کی حدیث سے اس دوسرے ترجمے کی تائید ہوتی ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں یتیم بچیوں پر دونوں طرح کا ظلم کیا جاتا تھا۔ ابتدا سورت میں اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ (قرطبی) اس آیت کے مطلب میں شاہ عبد القادر (رض) لکھتے ہیں : ” اس سورت کے اول میں یتیم کے حق کا ذکر تھا اور فرمایا تھا کہ یتیم لڑکی، جس کا کوئی ولی نہ ہو مگر اس کا چچا زاد، سو وہ اگر سمجھے کہ میں اس کا حق ادا نہ کرسکوں گا تو وہ اسے اپنے نکاح میں نہ لائے، کسی دوسرے سے اس کا نکاح کر دے اور خود اس کا ولی بن جائے۔ اب مسلمانوں نے ایسی عورتوں کو نکاح میں لانا موقوف کردیا، پھر دیکھا گیا کہ بعض اوقات لڑکی کے ولی ہی کے لیے اسے اپنے نکاح میں رکھنا بہتر ہوتا ہے، اس بنا پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رخصت مانگی گئی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اجازت مل گئی اور فرمایا کہ وہ جو کتاب میں منع کیا گیا تھا وہ اس وقت ہے کہ اس کا حق پورا نہ دو ، اگر ان کے حق کی بہتری کی سوچو تو رخصت ہے۔ “ (موضح) وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ : یعنی ان کے بارے میں بھی اپنے احکام یاد دلاتا ہے جو اس سورت کے شروع میں میراث کے تحت دیے گئے ہیں۔ [ دیکھیے النساء : ١٠، ١١ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

1. The Qur&anic words وَتَرْ‌غَبُونَ أَن تَنكِحُوهُنَّ admit two possible translations: First, and tend to marry them,|" which refers to the people who, attracted to the beauty of the orphan girls, used to marry them without giving them the due rights- of a wife. The second possible translation is: and you avoid marrying them|". It refers to the people who did not marry the orphan girls because of their unattractive features, but at the same time did not let them marry others, because they wanted that their wealth should remain in their hands. At the beginning of this Surah, particular injunctions relating to orphans and women were mentioned. Also stressed there was the mandatory nature of the need to fulfill their rights. The reason was that, during the days of Jahiliyyah, some people would simply refuse to give any part of the inheritance to them, others would unlawfully eat up what they got in inheritance or through any other alternate source, still others would marry them but avoided paying full dower they were entitled to; these were practices prohibited as stated earlier. This caused different situations to arise. There were those who thought that women and children are not entitled to inherit as a matter of right - may be, this injunction had come as an expedient measure for some people only and it was likely that it will be abrogated later. Some of them even waited for this to happen. But, when there was no abro¬gation, they decided among themselves that they should go directly to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and ask him. This they did. According to Ibn Jarir and Ibn al-Mundhir, this very question was the reason behind the revelation of this verse and the verses which followed carried additional rulings relating to women (Bayan al-Qur&an).

ربط آیات : شروع سورت میں یتیموں اور عورتوں کے خاص احکام اور ان کے حقوق ادا کرنے کا وجوب مذکور تھا، کیونکہ جاہلیت میں بعضے ان کو میراث ہی نہ دیتے تھے، بعضے جو مال میراث میں یا اور کسی طور سے ان کو ملتا اس کو ناجائز طور پر کھا جاتے بعضے ان سے نکاح کر کے ان کو مہر پورا نہ دیتے اوپر ان سب کی ممانعت کی گئی تھی، اس پر مختلف واقعات پیش آئے، بعض کو تو یہ خیال ہوا کہ عورتیں اور بچے فی نفسہ قابل میراث کے نہیں، کسی وقتی مصلحت سے یہ حکم چند لوگوں کے لئے ہوگیا ہے، امید ہے کہ منسوخ ہوجائے گا اور بعض اس کے منتظر رہے جب نسخ نہ ہوا تو یہ مشورہ ٹھہرا کہ خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھنا چاہئے اور حاضر ہو کر پوچھا، ابن جریر اور ابن المندر نے آیت کا سبب نزول اسی سوال کو نقل کیا ہے اور اس کے بعد کی آیتوں میں عورتوں سے متعلقہ چند اور مسائل بیان فرما دیئے گئے۔ (بیان القرآن) خلاصہ تفسیر اور لوگ آپ سے عورتوں (کی میراث اور مہر) کے باب میں حکم دریافت کرتے ہیں۔ آپ فرما دیجئے کہ اللہ تعالیٰ ان کے بارے میں تم کو (وہی سابق) حکم دیتے ہیں اور وہ آیات بھی ( تم کو حکم دیتی ہیں) جو کہ ( اس کے قبل نازل ہوچکی ہیں اور) اور قرآن کے اندر تم کو پڑھ کر سنائی جایا کرتی ہیں (کیونکہ قرآن کی تلاوت میں ان کی تلاوت بھی ظاہر ہے کہ ہوا ہی کرتی تھی) جو کہ ان یتیم عورتوں کے باب میں (نازل ہوچکی) ہیں جن (کے ساتھ تمہارا یہ معاملہ ہے کہ اگر وہ صاحب مال و صاحب جمال ہوئیں تو ان سے نکاح کرتے ہو، مگر ان) کو جو (شرع سے) ان کا حق (میراث و مہر کا) مقرر ہے نہیں دیتے ہو اور (اگر صاحب جمال نہ ہوئیں صرف صاحب مال ہوئیں تو) ان کے ساتھ (بوجہ خوش جمال نہ ہونے کے) نکاح کرنے سے نفرت کرتے ہو (لیکن بوجہ صاحب مال ہونے کے اس خوف سے کہ یہ مال کہیں اور نہ چلا جائے اور کسی سے بھی نکاح نہیں کرنے دیتے) اور (جو آیات کہ) کمزور بچوں کے باب میں (ہیں) اور (جو آیات) کہ اس باب میں (ہیں) کہ یتیموں کی (تمام) کارگزاری (عام اس سے کہ مہر و میراث کے متعلق ہو یا اور کچھ ہو) انصاف کے ساتھ کرو (یہ مضمون ہو ان آیات سابقہ کا، پس وہ آیتیں اپنا مضمون اب بھی تمہارے ذمہ واجب کر رہی ہیں اور ان کا حکم بعینہ باقی ہے تم انہی کے موافق عمل رکھو) اور جو نیک کام کرو گے (نساء و یتامی کے بارے میں یا اور امور میں بھی) سو بلا شبہ اللہ تعالیٰ اس کو خوب جانتے ہیں، (تم کو ان کی جزاء خیر دیں گے اور جانتے تو ہیں غیر خیر کو بھی لیکن یہاں ترغیب خیر کی مقصود ہے، اس لئے تخصیص کی گئی) اور اگر کسی عورت کو (قرائن سے) اپنے شوہر سے غالب احتمال بد دماغی (اور کج ادائی) یا بےپرواہی (اور بےرخی) کا ہو سو (ایسی حالت میں) دونوں کو اس امر میں کوئی گناہ نہیں کہ دونوں باہم ایک خاص طور پر صلح کرلیں، (یعنی عورت اگر ایسے شوہر کے پاس رہنا چاہے جو پورے حقوق ادا کرنا نہیں چاہتا اور اس لئے اس کو چھوڑنا چاہتا ہے تو عورت کو جائز ہے کہ اپنے کچھ حقوق چھوڑ دے مثلاً نان نفقہ معاف کر دے، یا مقدار کم کر دے اور اپنی باری معاف کر دے تاکہ وہ چھوڑے نہیں اور شوہر کو بھی جائز ہے کہ اس معافی کو قبول کرلے) اور (نزاع یافراق سے تو) یہ صلح (ہی) بہتر ہے اور (ایسی صلح ہوجانا کچھ بعید نہیں کیونکہ) نفوس کو (طبعاً ) حرص کے ساتھ اقتران (واتصال) ہوتا ہے (جب اس کی حرص پوری ہوجاتی ہے راضی ہوجاتا ہے، پس شوہر جب دیکھے گا کہ میری مالی اور جانی آزادی میں جس کی طبعی حرص ہے کچھ خلل نہیں آتا اور مفت میں عورت ملتی ہے تو وہ غالباً نکاح میں رکھنے پر راضی ہوجاتا ہے، پس شوہر جب دیکھے گا کہ میری مالی اور جانی آزادی میں جس کی کہ طبعی حرص ہے کچھ خلل نہیں آتا اور مفت میں عورت ملتی ہے تو وہ غالباً نکاح میں رکھنے پر راضی ہوجائے گا اور عورت کی حرص نکاح میں رہنے پر خواہ کسی وجہ سے ہو ظاہر ہے کہ سبب اصلی ہے صلح کا پس جانبین کی خاص خاص حرص نے اس صلح کی تکمیل کردی) اور (اے مردود) اگر تم (خود عورتوں کے ساتھ) اچھا برتاؤ رکھو (اور ان سے حقوق معاف کرانے کے خواہاں نہ ہو) اور ان کے ساتھ (کج ادائی اور بےرخی کرنے سے) احتیاط رکھو تو (تم کو بڑا ثواب ملے کیونکہ) بلاشبہ حق تعالیٰ تمہارے اعمال کی پوری خبر رکھتے ہیں (اور اعمال نیک پر ثواب دیا کرتے ہیں) اور (عادتاً ) تم سے یہ تو کبھی نہ ہو سکے گا کہ سب بیبیوں میں (ہر طرح سے) برابری رکھو (حتی کہ رغبت قلب میں بھی) گو (اس برابری کو) تمہارا کتنا ہی جی چاہے (اور تم کتنی ہی اس میں کوشش کرو لیکن چونکہ قلب کا میلان غیر اختیاری ہے، اس لئے اس پر قدرت نہیں، گو اتفاقاً بلا اختیار کہیں برابری ہو بھی جائے تو اس کی نفی آیت میں مقصود نہیں، غرض جب اختیار میں نہیں تو تم اس کے مکلف نہیں، لیکن اس کے غیر اختیاری ہونے سے یہ تو لازم نہیں آتا کہ ظاہری حقوق بھی اختیاری نہ رہیں بلکہ وہ تو اختیاری ہیں جب وہ اختیاری ہیں) تو (تم پر واجب ہے کہ) تم بالکل ایک ہی طرف نہ ڈھل جاؤ (بلکہ اس کا مطلب یہ کہ باطن سے بھی جس میں معذور تھے اور ظاہر سے بھی جس میں مختار ہو، یعنی حقوق شرعیہ میں ان سے نشوز و اعراض نہ کرو) جس سے اس (مظلومہ) کو ایسا کردو جیسے کوئی ادھر نہ ادھر (یعنی بیچ میں) لٹکی ہو (یعنی نہ تو اس کے حقوق ادا کئے جائیں کہ خاوند والی سمجھی جائے اور نہ اس کو طلاق دی جائے کہ بےخاوند والی کہی جائے، بلکہ رکھو تو اچھی طرح رکھو) اور (رکھنے کی صورت میں جو زمانہ ماضی میں کچھ ناگوار معاملات ان سے کئے گئے) اگر (ان معاملات کی فی الحال) اصلاح کرلو اور (آئندہ زمانہ میں ایسے معاملات سے) احتیاط رکھو تو (وہ امور گزشتہ معاف کردیئے جائیں گے، کیونکہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ بڑے مغفرت والے بڑی رحمت والے ہیں (چونکہ اصلاح ذنوب متعلقہ بحقوق العباد کے ان عباد کے معاف کرنے سے ہوتی ہے پس اصلاح میں یہ معافی بھی آگئی تو اس کے وقوع کے بعد توبہ شرعاً صحیح ہوگئی اس لئے مقبول ہوگئی) اور اگر دونوں میاں بیوی (میں کسی طرح بھی موافقفت نہ ہوئی اور دونوں) جدا ہوجائیں (یعنی خلع یا طلاق ہوجائے) تو (کوئی ان میں سے خواہ مرد اگر اس کی زیادتی ہے یا عورت اگر اس کی کوتاہی ہے یوں نہ سمجھے کہ بدون میرے اس دوسرے کا کام ہی نہ چلے گا، کیونکہ) اللہ تعالیٰ اپنی وسعت (قدرت) سے (دونوں میں سے) ہر ایک کو (دوسرے سے) بےاحتیاج کر دے گا (یعنی ہر ایک کا مقدر کام بےدوسرے کے چل جائے گا) اور اللہ تعالیٰ بڑے وسعت والے اور بڑی حکمت والے ہیں (ہر ایک کے لئے مناسب سبیل نکال دیتے ہیں۔ )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَاۗءِ۝ ٠ۭ قُلِ اللہُ يُفْتِيْكُمْ فِيْہِنَّ۝ ٠ۙ وَمَا يُتْلٰي عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ فِيْ يَـتٰمَي النِّسَاۗءِ الّٰتِيْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا كُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْھُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ۝ ٠ۙ وَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْيَتٰمٰي بِالْقِسْطِ۝ ٠ۭ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللہَ كَانَ بِہٖ عَلِــيْمًا۝ ١٢٧ استفتا الجواب عمّا يشكل من الأحكام، ويقال : اسْتَفْتَيْتُهُ فَأَفْتَانِي بکذا . قال : وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّساءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ [ النساء/ 127] ، فَاسْتَفْتِهِمْ [ الصافات/ 11] ، استفتا اور کسی مشکل مسلہ کے جواب کو فتیا وفتوی کہا جاتا ہے ۔ استفتاہ کے معنی فتوی طلب کرنے اور افتاہ ( افعال ) کے معنی فتی دینے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّساءِ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ [ النساء/ 127]( اے پیغمبر ) لوگ تم سے ( یتیم ) عورتوں کے بارے میں فتوی طلب کرتے ہیں کہدو کہ خدا تم کو ان کے ( ساتھ نکاح کرنے کے ) معاملے میں فتوی اجازت دیتا ہے فَاسْتَفْتِهِمْ [ الصافات/ 11] تو ان سے پوچھو۔ نِّسَاءُ والنِّسْوَان والنِّسْوَة جمعُ المرأةِ من غير لفظها، کالقومِ في جمعِ المَرْءِ ، قال تعالی: لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] ما بال النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] النساء والنسوان والنسوۃ یہ تینوں امراءۃ کی جمع من غیر لفظہ ہیں ۔ جیسے مرء کی جمع قوم آجاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] اور نہ عورتیں عورتوں سے تمسخر کریں ما بال النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کا ٹ لئے تھے ۔ تلاوة تختص باتباع کتب اللہ المنزلة، تارة بالقراءة، وتارة بالارتسام لما فيها من أمر ونهي، وترغیب وترهيب . أو ما يتوهم فيه ذلك، وهو أخصّ من القراءة، فکل تلاوة قراءة، ولیس کل قراءة تلاوة، لا يقال : تلوت رقعتک، وإنما يقال في القرآن في شيء إذا قرأته وجب عليك اتباعه . هنالک تتلوا کلّ نفس ما أسلفت[يونس/ 30] ، وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا [ الأنفال/ 31] التلاوۃ ۔ بالخصوص خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ کتابوں کے اتباع تلاوۃ کہا جاتا ہے کبھی یہ اتباع ان کی قراءت پڑھنے ) کی صورت میں ہوتی ہے اور کبھی ان کے ادا مرد نواحی ( احکام ) ترغیب وترہیب اور جو کچھ ان سے سمجھا جا سکتا ہے ان کی اتباع کی صورت ہیں ، مگر یہ لفظ قرآت ( پڑھنے ) سے خاص ہے یعنی تلاوۃ کے اندر قراۃ کا مفہوم تو پایا جاتا ہے مگر تلاوۃ کا مفہوم قراء ۃ کے اندر نہیں آتا چناچہ کسی کا خط پڑھنے کے لئے تلوت رقعتک نہیں بالتے بلکہ یہ صرف قرآن پاک سے کچھ پڑھنے پر بولا جاتا ہے کیونکہ اس کے پڑھنے سے اس پر عمل کرنا واجب ہوجاتا ہے اور آیت کریمہ : ۔ هنالک تتلوا کلّ نفس ما أسلفت «3» [يونس/ 30] وہاں ہر شخص اپنے ( اپنے ) اعمال کی ) جو اس نے آگے بھجیے ہوں گے آزمائش کرلے گا ۔ میں ایک قرآت تتلوا بھی ہے یعنی وہاں ہر شخص اپنے عمل نامے کو پڑھ کر اس کے پیچھے چلے گا ۔ وَإِذا تُتْلى عَلَيْهِمْ آياتُنا [ الأنفال/ 31] اورا ن کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو يتم اليُتْمُ : انقطاع الصَّبيِّ عن أبيه قبل بلوغه، وفي سائر الحیوانات من قِبَلِ أمّه . قال تعالی: أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی[ الضحی/ 6] ، وَيَتِيماً وَأَسِيراً [ الإنسان/ 8] وجمعه : يَتَامَى. قال تعالی: وَآتُوا الْيَتامی أَمْوالَهُمْ [ النساء/ 2] ، إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوالَ الْيَتامی [ النساء/ 10] ، وَيَسْئَلُونَكَ عَنِ الْيَتامی [ البقرة/ 220] وكلُّ منفردٍ يَتِيمٌ ، يقال : دُرَّةٌ يَتِيمَةٌ ، تنبيها علی أنّه انقطع مادّتها التي خرجت منها، وقیل : بَيْتٌ يَتِيمٌ تشبيها بالدّرّة اليَتِيمَةِ. ( ی ت م ) الیتم کے معنی نا بالغ بچہ کے تحت شفقت پدری سے محروم ہوجانے کے ہیں ۔ انسان کے علاوہ دیگر حیوانات میں یتم کا اعتبار ماں کیطرف سے ہوتا ہے اور جانور کے چھوٹے بچے کے بن ماں کے رہ جانے کو یتم کہاجاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی[ الضحی/ 6] بھلا اس نے تمہیں یتیم پاکر جگہ نہیں دی ۔ وَيَتِيماً وَأَسِيراً [ الإنسان/ 8] یتیموں اور قیدیوں کو یتیم کی جمع یتامیٰ ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : وَآتُوا الْيَتامی أَمْوالَهُمْ [ النساء/ 2] اور یتیموں کا مال ( جو تمہاری تحویل میں ہو ) ان کے حوالے کردو ۔ إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوالَ الْيَتامی [ النساء/ 10] جو لوگ یتیموں کا مال ( ناجائز طور پر ) کھاتے ہیں ۔ وَيَسْئَلُونَكَ عَنِ الْيَتامی [ البقرة/ 220] اور تم سے یتیموں کے بارے میں دریاقت کرتے ہیں ۔ مجازا ہر یکتا اور بےملی چیز کو عربی میں یتیم کہاجاتا ہے ۔ جیسا کہ گوہر یکتا درۃ یتیمۃ کہہ دیتے ہیں ۔ اور اس میں اس کے مادہ کے منقطع ہونے پر تنبیہ کرنا مقصود ہوتا ہے اور درۃ کے ساتھ تشبیہ دے کر یکتا مکان کو بھی یتیم کہہ دیا جاتا ہے ۔ إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی كتب ( فرض) ويعبّر عن الإثبات والتّقدیر والإيجاب والفرض والعزم بِالْكِتَابَةِ ، ووجه ذلك أن الشیء يراد، ثم يقال، ثم يُكْتَبُ ، فالإرادة مبدأ، والکِتَابَةُ منتهى. ثم يعبّر عن المراد الذي هو المبدأ إذا أريد توكيده بالکتابة التي هي المنتهى، قال : كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي [ المجادلة/ 21] ، وقال تعالی: قُلْ لَنْ يُصِيبَنا إِلَّا ما كَتَبَ اللَّهُ لَنا [ التوبة/ 51] ، لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ [ آل عمران/ 154] نیز کسی چیز کے ثابت کردینے اندازہ کرنے ، فرض یا واجب کردینے اور عزم کرنے کو کتابہ سے تعبیر کرلیتے ہیں اس لئے کہ پہلے پہل تو کسی چیز کے متعلق دل میں خیال پیدا ہوتا ہے پھر زبان سے ادا کی جاتی ہے اور آخر میں لکھ جاتی ہے لہذا ارادہ کی حیثیت مبداء اور کتابت کی حیثیت منتھیٰ کی ہے پھر جس چیز کا ابھی ارادہ کیا گیا ہو تاکید کے طورپر اسے کتب س تعبیر کرلیتے ہیں جو کہ دراصل ارادہ کا منتہیٰ ہے ۔۔۔ چناچہ فرمایا : كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي[ المجادلة/ 21] خدا کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے ۔ قُلْ لَنْ يُصِيبَنا إِلَّا ما كَتَبَ اللَّهُ لَنا [ التوبة/ 51] کہہ دو کہ ہم کو کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی بجز اس کے کہ جو خدا نے ہمارے لئے مقدر کردی ہے ۔ لَبَرَزَ الَّذِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ [ آل عمران/ 154] تو جن کی تقدیر میں مار جانا لکھا تھا ۔ وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرو ر نکل آتے ۔ رغب أصل الرَّغْبَةِ : السّعة في الشیء، يقال : رَغُبَ الشیء : اتّسع وحوض رَغِيبٌ ، وفلان رَغِيبُ الجوف، وفرس رَغِيبُ العدو . والرَّغْبَةُ والرَّغَبُ والرَّغْبَى: السّعة في الإرادة قال تعالی: وَيَدْعُونَنا رَغَباً وَرَهَباً [ الأنبیاء/ 90] ، فإذا قيل : رَغِبَ فيه وإليه يقتضي الحرص عليه، قال تعالی: إِنَّا إِلَى اللَّهِ راغِبُونَ [ التوبة/ 59] ، وإذا قيل : رَغِبَ عنه اقتضی صرف الرّغبة عنه والزّهد فيه، نحو قوله تعالی: وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْراهِيمَ [ البقرة/ 130] ، أَراغِبٌ أَنْتَ عَنْ آلِهَتِي[ مریم/ 46] ، والرَّغِيبَةُ : العطاء الکثير، إمّا لکونه مَرْغُوباً فيه، فتکون مشتقّة من الرّغبة، وإمّا لسعته، فتکون مشتقّة من الرّغبة بالأصل، قال الشاعر يعطي الرَّغَائِبَ من يشاء ويمن ( ر غ ب ) الرغبتہ اس کے اصل معنی کسی چیز میں وسعت کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے رغب الشیءُ کسی چیز کا وسیع ہونا اور حوض رغیب کشادہ حوض کو کہتے ہیں ۔ عام محاورہ ہے ۔ فلان رغبت الجوف فلاں پیٹو ہے فرس رغیب العدو تیز رفتار اور کشادہ قدم گھوڑا الرغبۃ والرغب والرغبیٰ ارادہ اور خواہش کی وسعت کو کہتے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَيَدْعُونَنا رَغَباً وَرَهَباً [ الأنبیاء/ 90] اور وہ ہم کو ( ہمارے فضل کی توقع اور ہمارے عذاب کے ) خوف سے پکارتے ہیں ۔ اور رغب فیہ والیہ کے معنی کسی چیز پر رغبت اور حرص کرنے کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ إِنَّا إِلَى اللَّهِ راغِبُونَ [ التوبة/ 59] ہم تو اللہ سے لو لگائے بیٹھے ہیں ۔ لیکن رغب عن کے معنی کسی چیز سے بےرغبتی کے ہوتے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ يَرْغَبُ عَنْ مِلَّةِ إِبْراهِيمَ [ البقرة/ 130] اور کون ہے جو ابراہیم کے طریقے سے انحراف کرے أَراغِبٌ أَنْتَ عَنْ آلِهَتِي[ مریم/ 46] اے ابراہیم کیا تو میرے معبودوں سے پھرا ہوا ہے ۔ اور رغیبۃ کے معنی بہت بڑے عطیہ کے ہیں ( ج رغائب ) یہ رغبت سے مشتق ہے یا تو اس لئے کہ وہ مرغوب فیہ ہوتی ہے اور یا اصل معنی یعنی وسعت کے لحاظ سے عطیہ کو رغبہ کہا جاتا ہے شاعر نے کہا ( الکامل ) يعطي الرَّغَائِبَ من يشاء ويمنعوہ جسے چاہتا ہے بڑے بڑے عطا یا بخشا اور جس سے چاہتا ہے روک لیتا ہے ۔ نكح أصل النِّكَاحُ للعَقْدِ ، ثم استُعِيرَ للجِماع، ومُحالٌ أن يكونَ في الأصلِ للجِمَاعِ ، ثمّ استعیر للعَقْد، لأَنَّ أسماءَ الجِمَاعِ كلَّهَا كِنَايَاتٌ لاسْتِقْبَاحِهِمْ ذكرَهُ كاسْتِقْبَاحِ تَعَاطِيهِ ، ومحال أن يَسْتَعِيرَ منَ لا يَقْصِدُ فحْشاً اسمَ ما يَسْتَفْظِعُونَهُ لما يَسْتَحْسِنُونَهُ. قال تعالی: وَأَنْكِحُوا الْأَيامی [ النور/ 32] ، إِذا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِناتِ [ الأحزاب/ 49] ، فَانْكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَ [ النساء/ 25] إلى غير ذلک من الآیات . ( ن ک ح ) اصل میں نکاح بمعنی عقد آتا ہے اور بطور استعارہ جماع کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے یہ ناممکن ہے کہ یہ اصل میں بمعنی جماع ہو اور پھر عقد میں بطور استعارہ استعمال ہوا ہو کیوں کہ عربی زبان میں جماع کے معنی میں تمام الفاظ کنائی ہیں ۔ کیونکہ نفس فعل کی طرح صراحتا اس کا تذکرہ بھی مکروہ سمجھا جاتا ہے لہذا یہ نہیں ہوسکتا کہ زبان ذکر فحش سے اس قدر گریزا ہو وہ ایک مستحن امر کے لئے قبیح لفظ استعمال کرے قرآن پاک میں ہے : ۔ وَأَنْكِحُوا الْأَيامی[ النور/ 32] اور اپنی قوم کی بیوہ عورتوں کے نکاح کردیا کرو ۔ إِذا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِناتِ [ الأحزاب/ 49] جب تم مومن عورتوں سے نکاح کر کے فَانْكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَ [ النساء/ 25] تو ان لونڈیوں کے ساتھ ان کے مالکوں سے اجازت حاصل کر کے نکاح کرلو ۔ علٰی ہذا لقیاس متعد آیات ہیں جن میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے ۔ اسْتَضْعَفْ واسْتَضْعَفْتُهُ : وجدتُهُ ضَعِيفاً ، قال وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ [ النساء/ 75] ، قالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ [ النساء/ 97] ، إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي[ الأعراف/ 150] ، وقوبل بالاستکبار في قوله : قالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا[ سبأ/ 33] استضعفتہ ۔ میں نے اسے کمزور سمجھا حقیر جانا ۔ قران میں ہے : ۔ وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا[ القصص/ 5] اور ہم چاہتے تھے کہ جنہیں ملک میں کمزور سمجھا گیا ہے ان پر احسان کریں : وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ [ النساء/ 75] اور ان بےبس مردوں عورتوں اور بچوں قالوا فِيمَ كُنْتُمْ قالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ [ النساء/ 97] تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز اور ناتوان تھے ۔ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي[ الأعراف/ 150] کہ لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ قالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا[ سبأ/ 33] اور کمزور لوگ برے لوگوں سے کہیں گے ۔ میں استضاف استکبار کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے قسط الْقِسْطُ : هو النّصيب بالعدل کالنّصف والنّصفة . قال تعالی: لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ بِالْقِسْطِ [يونس/ 4] ، وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] والقِسْطُ : هو أن يأخذ قسط غيره، وذلک جور، والْإِقْسَاطُ : أن يعطي قسط غيره، وذلک إنصاف، ولذلک قيل : قَسَطَ الرّجل : إذا جار، وأَقْسَطَ : إذا عدل . قال : أَمَّا الْقاسِطُونَ فَكانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَباً [ الجن/ 15] وقال : وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ [ الحجرات/ 9] ، وتَقَسَّطْنَا بيننا، أي : اقتسمنا، والْقَسْطُ : اعوجاج في الرّجلین بخلاف الفحج، والقِسْطَاسُ : المیزان، ويعبّر به عن العدالة كما يعبّر عنها بالمیزان، قال : وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الإسراء/ 35] . ( ق س ط ) القسط ( اسم ) ( ق س ط ) القسط ( اسم ) نصف ومصفۃ کی طرح قسط بھی مبنی بر عدل حصہ کو کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ بِالْقِسْطِ [يونس/ 4] تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے ۔ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] اور قسط کے معنی دوسرے کا حق مررنا بھیآتے ہیں اس لئے یہ ظلم اور جو رے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے القسط پاؤں میں ٹیڑھا پن یہ افجع کی ضد ہے جس کے نزدیک اور ایڑیوں کی جانب سے دور ہو نیکے ہیں ۔ الا قساط اس کے اصل معنی کسی کو اس کا حق دینے کے ہیں اسی چیز کا نام انصاف ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ قسط الرجل فھو قاسط ) کے معنی ظلم کرنے اوراقسط کے معنی انصاف کرنے کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ أَمَّا الْقاسِطُونَ فَكانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَباً [ الجن/ 15] اور گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ [ الحجرات/ 9] اور انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ فقسطنا بیننا ہم نے ( کسی چیز کو آپس میں برا بر تقسیم کرلیا چناچہ القسطاس تراز دکو کہتے ہیں اور لفظ میزان کی طرح اس سے بھی عدل ونصاف کے معنی مراد لئے جاتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الإسراء/ 35] اور جب تول کر دو تو ترا زو سیدھی رکھ کر تولا کرو ۔ فعل الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله، ( ف ع ل ) الفعل کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔ الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، وذلک ضربان : أحدهما : إدراک ذات الشیء . والثاني : الحکم علی الشیء بوجود شيء هو موجود له، أو نفي شيء هو منفيّ عنه . فالأوّل : هو المتعدّي إلى مفعول واحد نحو : لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] . والثاني : المتعدّي إلى مفعولین، نحو قوله : فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِناتٍ [ الممتحنة/ 10] ، وقوله : يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ إلى قوله : لا عِلْمَ لَنا «3» فإشارة إلى أنّ عقولهم طاشت . والعِلْمُ من وجه ضربان : نظريّ وعمليّ. فالنّظريّ : ما إذا علم فقد کمل، نحو : العلم بموجودات العالَم . والعمليّ : ما لا يتمّ إلا بأن يعمل کالعلم بالعبادات . ومن وجه آخر ضربان : عقليّ وسمعيّ ، وأَعْلَمْتُهُ وعَلَّمْتُهُ في الأصل واحد، إلّا أنّ الإعلام اختصّ بما کان بإخبار سریع، والتَّعْلِيمُ اختصّ بما يكون بتکرير وتكثير حتی يحصل منه أثر في نفس المُتَعَلِّمِ. قال بعضهم : التَّعْلِيمُ : تنبيه النّفس لتصوّر المعاني، والتَّعَلُّمُ : تنبّه النّفس لتصوّر ذلك، وربّما استعمل في معنی الإِعْلَامِ إذا کان فيه تكرير، نحو : أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] ، ( ع ل م ) العلم کسی چیش کی حقیقت کا اور راک کرنا اور یہ قسم پر ہے اول یہ کہ کسی چیز کی ذات کا ادراک کرلینا دوم ایک چیز پر کسی صفت کے ساتھ حکم لگانا جو ( فی الواقع ) اس کے لئے ثابت ہو یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی کرنا جو ( فی الواقع ) اس سے منفی ہو ۔ پہلی صورت میں یہ لفظ متعدی بیک مفعول ہوتا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے : ۔ لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ۔ اور دوسری صورت میں دو مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِناتٍ [ الممتحنة/ 10] اگر تم کا معلوم ہو کہ مومن ہیں ۔ اور آیت يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَاسے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے ہوش و حواس قائم نہیں رہیں گے ۔ ایک دوسری حیثیت سے علم کی دوقسمیں ہیں ( 1) نظری اور ( 2 ) عملی ۔ نظری وہ ہے جو حاصل ہونے کے ساتھ ہی مکمل ہوجائے جیسے وہ عالم جس کا تعلق موجودات عالم سے ہے اور علم عمل وہ ہے جو عمل کے بغیر تکمیل نہ پائے جسیے عبادات کا علم ایک اور حیثیت سے بھی علم کی دو قسمیں ہیں ۔ ( 1) عقلی یعنی وہ علم جو صرف عقل سے حاصل ہو سکے ( 2 ) سمعی یعنی وہ علم جو محض عقل سے حاصل نہ ہو بلکہ بذریعہ نقل وسماعت کے حاصل کیا جائے دراصل اعلمتہ وعلمتہ کے ایک معنی ہیں مگر اعلام جلدی سے بتادینے کے ساتھ مختص ہے اور تعلیم کے معنی با ر بار کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں ۔ حتٰی کہ متعلم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہوجائے ۔ بعض نے کہا ہے کہ تعلیم کے معنی تصور کیلئے نفس کو متوجہ کرنا کے ہیں اور تعلم کے معنی ایسے تصور کی طرف متوجہ ہونا کے اور کبھی تعلیم کا لفظ اعلام کی جگہ آتا ہے جب کہ اس میں تاکید کے معنی مقصود ہوں جیسے فرمایا ۔ أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو ۔ اور حسب ذیل آیات میں تعلیم کا لفظ استعمال ہوا ہے جیسے فرمایا ۔ الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] خدا جو نہایت مہربان اس نے قرآن کی تعلیم فرمائی ۔ قلم کے ذریعہ ( لکھنا ) سکھایا ؛

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ویستفتونک فی النساء قل اللہ یفتیکم فیھن۔ لوگ تم سے عورتوں کے معاملہ میں فتوی پوچھتے ہیں، کہو اللہ تمہیں ان کے معاملہ میں فتوی دیتا ہے) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ روایت کے مطابق آیت کا نزول اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہوا ہے جو اپنے ولی کے زیر پرورش ہوتی ہے۔ ولی کو اس کے مال اور جمال میں رغبت ہوتی ہے۔ وہ اس سے نکاح کرلیتا ہے لیکن مہر کے تعین میں انصاف سے کام نہیں لیتا۔ آپ کے ذریعے لوگوں کو ایسی یتیم لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے سے منع کردیا گیا یا پھر نکاح کی صورت میں مہر کی وہ رقم ادا کریں جو ان لڑکیوں کے مرتبے اور حیثیت کے مطابق ہو۔ قول باری ہے ومایتلیٰ علیکم فی الکتاب فی یت می النساء اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس کتاب میں سنائے جا رہے ہیں یعنی وہ احکام جو یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں) اس سے مراد وہ احکام ہیں جو اس سورت میں بیان کئے گئے ہیں یعنی یہ قول باری وان خفتم الاتفسطوا فی الیثا می فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنیٰ و ثلث و رباع۔ اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بےانصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ان میں سے دو دو تین تین چار چار سے نکاح کرلو) ہم نے اس کے مقام پر اس کی پوری وضاحت کردی ہے۔ واللہ الموفق۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٢٧) آپ سے عورتوں کی میراث کے بارے میں دریافت کرتے ہیں یہ سوال حینہ نے کیا تھا، اللہ تعالیٰ اسے بیان فرماتے ہیں اور ام کمتہ کی لڑکیوں کے بارے میں جو لوگ ان کی میراث کا واجب حصہ نہیں دیتے تھے، وہ بھی اس سورت کے ابتدا میں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، (تاکہ تم آئندہ اس طرح کی بےاعتدالیوں سے رک جاؤ) چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ حکم اس سورت کے شروع میں بیان فرمادیا ہے اور تم ان یتیموں کی عورتوں سے ان کی غربت کی وجہ سے نکاح کرنے سے نفرت کرتے ہو، لہٰذا ان عورتوں کو ان کا مال دے دو ، تاکہ ان کے مال کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو ان سے شادی کرنے کی ترغیب ہو اور اللہ تعالیٰ بچوں کی میراث کا بھی حکم بیان کرتے ہیں اور یہ چیز بھی بیان کرتے ہیں کہ یتیموں کے اموال کی عدل و انصاف کے ساتھ نگرانی کرو اور جو بھی تم ان لوگوں کے ساتھ احسان کرتے ہو، اللہ تعالیٰ اس میں تمہاری نیتوں سے آگاہ ہیں۔ شان نزول : (آیت) ” ویستفتونک فی السمآء “۔ (الخ) امام بخاری (رح) نے اس آیت کی تفسیر میں حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص کے پاس ایک یتیم لڑکی ہو جس کی وہ پرورش کر رہا ہو اور اس کا ولی اور وراث بھی وہی ہو اور یہ لڑکی اس کے مال میں حتی کہ کھجور کے درخت میں بھی شرکت رکھتی ہو، اب وہ شخص اس لڑکی سے خود نکاح کرنا چاہتا ہو اور دوسرے کسی سے اس کا نکاح پسند نہ کرے کہ کہیں وہ اس کے مال میں شریک ہوجائے گا تو ایسے شخص کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے اور ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت نقل کی ہے کہ جابر (رض) کی ایک چچا زاد بہن تھیں اور وہ بہت مالدار تھیں جو ان کو ان کے باپ سے وراثت میں ملا تھا، جابر (رض) خود ان سے نکاح کرنا نہیں چاہتے اور کسی دوسرے شخص سے اس ڈر کی وجہ سے ان کی شادی نہ کرتے تھے کہ خاوند اس کا مال لے جائے گا، چناچہ انہوں نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق دریافت کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اب جو آیات آرہی ہیں ان میں خطاب مسلمانوں ہی سے ہے لیکن ان کی حیثیت استدراک کی ہے اور ان کا تعلق اس سورة کی ابتدائی آیات کے ساتھ ہے۔ سورة النساء کے آغاز میں خواتین کے مسائل کے بارے میں کچھ احکام نازل ہوئے تھے ‘ جن میں یتیم بچیوں سے نکاح کے بارے میں بھی معاملات زیر بحث آئے تھے اور کچھ طلاق وغیرہ کے مسائل تھے۔ اس میں کچھ نکات لوگوں کے لیے وضاحت طلب تھے ‘ لہٰذا ایسے نکات کے بارے میں مسلمانوں کی طرف سے کچھ سوالات کیے گئے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ وضاحتیں طلب کی گئیں۔ جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ وضاحتیں نازل کی ہیں اور اس سوال کا حوالہ دے کر بات شروع کی گئی ہے جس کا جواب دیا جانا مقصود ہے ۔ آیت ١٢٧ (وَیَسْتَفْتُوْنَکَ فِی النِّسَآءِ ط) (قُلِ اللّٰہُ یُفْتِیْکُمْ فِیْہِنَّلا ) (وَمَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ فِی الْْکِتٰبِ فِیْ یَتٰمَی النِّسَآءِ ) یہ اسی سورة کی آیت ٣ کی طرف اشارہ ہے۔ آیت زیر نظر کے ساتھ مل کر اس آیت کی تشریح بھی بالکل واضح ہوگئی اور ثابت ہوگیا کہ وہاں جو فرمایا گیا تھا (وَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تُقْسِطُوْا فِی الْْیَتٰمٰی) تو اس سے اصل مراد یَتٰمَی النِّسَآءِتھا۔ یعنی اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ یتیم لڑکیوں سے شادی کرو گے تو ان کے ساتھ انصاف نہیں کرسکو گے (اس لیے کہ ان کی طرف سے کوئی نہیں جو ان کے حقوق کا پاسدار ہو اور تم سے باز پرس کرسکے ) تو پھر ان سے شادی مت کرو ‘ بلکہ دوسری عورتوں سے شادی کرلو۔ اگر ایک سے زائد نکاح کرنا چاہتے ہو تو اپنی پسند کی دوسری عورتوں سے ‘ دو دو ‘ تین تین یا چار چار سے کرلو (فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰی وَثُلٰثَ وَرُبٰعَ ج) (الّٰتِیْ لاَ تُؤْتُوْنَہُنَّ مَا کُتِبَ لَہُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْہُنَّ ) یتیم سمجھ کر مہر ادا کیے بغیر ان سے نکاح کرنے کے خواہش مند رہتے ہو۔ (وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْوِلْدَانِ لا) (وَاَنْ تَقُوْمُوْا لِلْیَتٰمٰی بالْقِسْطِ ط) (وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِہٖ عَلِیْمًا ) وہ تمہاری نیتوں کو جانتا ہے۔ اس نے شریعت کے احکام نازل کردیے ہیں ‘ بنیادی ہدایات تمہیں دے دی گئی ہیں۔ اب اضافی چیز تو بس یہی ہے کہ تمہاری نیّت صاف ہونی چاہیے۔ کیونکہ (وَاللّٰہُ یَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ ط) ( البقرۃ : ٢٢٠) اللہ جانتا ہے کہ کون حقیقت میں شرارتی ہے اور کس کی نیت صحیح ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

152. The actual query about women is not spelled out directly. The judgement pronounced a little later on in response to that query, however, makes it abundantly clear what the query was. 153. This is not a response to the query itself. Before attending to this, God once again emphasizes that people should implement His directives regarding orphans in general, and orphan girls in particular, as mentioned at the beginning of this surah (see verses 2 ff. above). This shows the importance of the rights of orphans in the sight of God. The protection of their rights, as we have pointed out, had already been stressed forcefully (see beginning of the surah, verses 1-14). But that was not deemed sufficient. Hence, when problems of family life came up for discussion, the question of the well-being of orphans automatically arose even before answering the questions people raised. 154. This alludes to verse 3 of this surah: 'And if you fear that you might not treat the orphans justly, then marry the women that seem good to you. ' 155. The words of the text ( ) may be interpreted as: 'Whom you wish to marry (out of greed)' and also as 'Whom you do not wish to marry.' In explanation of this verse 'A'ishah states that, in those days, guardians of orphan girls who had any significant inheritance from their parents used to perpetrate many wrongs on their wards. If the girl was both rich and good looking, the guardian desired to marry her and exploit both her attractiveness and wealth without either having to make the bridal-due (mahr) or even having to undertake her maintenance. If the girl was ugly, the guardian would neither marry her nor allow her to get married, for she might thus get a husband who would support her claim to her legitimate rights. (See the commentary of Ibn Kathir on this verse. The tradition is quoted by Ibn Kathir from Bukhari. See also n. 4 above -Ed.) 156. The reference here is to the injunctions regarding the protection of the rights of orphans at the beginning of the surah (see verses 1 ff . and 11 ff. above).

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :152 اس کی تصریح نہیں فرمائی گئی کہ عورتوں کے معاملہ میں لوگ کیا پوچھتے تھے ۔ مگر آگے چل کر جو فتویٰ دیا گیا ہے اس سے سوال کی نوعیت خود واضح ہو جاتی ہے ۔ سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :153 یہ اصل استفتاء کا جواب نہیں ہے بلکہ لوگوں کے سوال کی طرف توجہ فرمانے سے پہلے اللہ تعالیٰ نے ان احکام کی پابندی پر پھر ایک مرتبہ زور دیا ہے جو اسی سورۃ کے آغاز میں یتیم لڑکیوں کے متعلق بالخصوص اور یتیم بچوں کے متعلق بالعموم ارشاد فرمائے تھے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی نگاہ میں یتیموں کے حقوق کی اہمیت کتنی زیادہ ہے ۔ ابتدائی دو رکوعوں میں ان کے حقوق کے تحفظ کی تاکید بڑی شدت کے ساتھ کی جا چکی تھی ۔ مگر اس پر اکتفا نہیں کیا گیا ۔ اب جو معاشرتی مسائل کی گفتگو چھڑی تو قبل اس کے کہ لوگوں کے پیش کردہ سوال کا جواب دیا جاتا ، یتیموں کے مفاد کا ذکر بطور خود چھیڑ دیا گیا ۔ سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :154 ”اشارہ ہے اس آیت کی طرف جس میں ارشاد ہوا ہے کہ ”اگر یتیموں کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں ۔ ۔ ۔ ۔ “ ( سورہ نساء ۔ آیت ۳ ) سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :155 تَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْکِحُوْ ھُنَّ کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ”تم ان سے نکاح کرنے کی رغبت رکھتے ہو“ اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ”تم ان سے نکاح کرنا پسند نہیں کرتے“ ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس کی تشریح میں فرماتی ہیں کہ جن لوگوں کی سرپرستی میں ایسی یتیم لڑکیاں ہوتی تھیں جن کے پاس والدین کی چھوڑی ہوئی کچھ دولت ہوتی تھی وہ ان لڑکیوں کے ساتھ مختلف طریقوں سے ظلم کرتے تھے ۔ اگر لڑکی مالدار ہونے کے ساتھ خوبصورت بھی ہوتی تو یہ لوگ چاہتے تھے کہ خود اس سے نکاح کرلیں اور مہر و نفقہ ادا کیے بغیر اس کے مال اور جمال دونوں سے فائدہ اٹھائیں ۔ اور اگر وہ بدصورت ہوتی تو یہ لوگ نہ اس سے خود نکاح کرتے تھے اور نہ کسی دوسرے سے اس کا نکاح ہونے دیتے تھے تاکہ اس کا کوئی ایسا سر دھرا پیدا نہ ہو جائے جو کل اس کے حق کا مطالبہ کرنے والا ہو ۔ سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :156 اشارہ ہے ان احکام کی طرف جو اسی سورہ کے پہلے اور دوسرے رکوع میں یتیموں کے حقوق کے متعلق ارشاد ہو ئے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

74: تشریح : اسلام سے پہلے عورتوں کو معاشرے میں ایک کمتر مخلوق سمجھا جاتا تھا اور ان کے معاشرتی اور معاشی حقوق نہ ہونے کے برابر تھے، جب اسلام نے عورتوں کے حقوق ادا کرنے کی تاکید کی اور عورتوں کو بھی میراث میں حصہ دار قرار دیا تو یہ بات عربوں کے معاشرے میں اتنی اچنبھی تھی کہ بعض لوگ یہ سمجھتے رہے کہ عورتوں کو جو حقوق دئے گئے ہیں وہ شاید عارضی نوعیت کے ہیں اور کسی وقت منسوخ ہوجائیں گے، جب ان کی منسوخی کا حکم نہیں آیا تو ایسے حضرات نے آنحضرتﷺ سے پوچھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی جس میں یہ واضح کردیا گیا کہ یہ احکام عارضی نہیں ہمیشہ کے لئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کا حکم دیا ہے اور قرآن کریم کی جو آیات پہلے نازل ہوئی ہیں ان میں بہت سے احکام آچکے ہیں، اس کے ساتھ مرد و عورت کے باہمی تعلقات کے بارے میں کچھ مزید احکام بھی بیان فرمائے گئے ہیں۔ 75: یہ اس ہدایت کی طرف اشارہ ہے جو سورۂ نساء کی آیت نمبر : ٣ میں گزری ہے، صحیح بخاری کی ایک حدیث میں حضرت عائشہ (رض) نے اس ہدایت کا پس منظر یہ بتایا ہے کہ بعض اوقات ایک یتیم لڑکی اپنے چچا کے بیٹے کی سرپرستی میں ہوتی تھی، وہ خوبصورت بھی ہوتی اور اس کے باپ کا چھوڑا ہوا مال بھی اچھا خاصا ہوتا تھا، اس صورت میں اس کا چچازاد یہ چاہتا تھا کہ اس کے بالغ ہونے پر وہ خود اس سے نکاح کرلے ؛ تاکہ اس کا مال اسی کے تصرف میں رہے ؛ لیکن نکاح میں وہ اس کو اتنا مہر نہیں دیتا تھا، جتنا اس جیسی لڑکی کو دینا چاہئے، دوسری طرف اگر لڑکی زیادہ خوبصورت نہ ہوتی تو اس کے مال کے لالچ میں اس سے نکاح تو کرلیتا تھا ؛ لیکن نہ صرف یہ کہ اس کا مہر کم رکھتا تھا ؛ بلکہ اس کے ساتھ ایک محبوب بیوی جیسا سلوک بھی نہیں کرتا تھا۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت عائشہ (رض) اور صحابہ (رض) سے جو روایات ہیں ٢ ان کا حاصل یہ ہے کہ لوگوں کی پرورش میں جب کوئی یتیمہ لڑکی ایسی ہوتی جس کا کچھ مال بھی ہوتا۔ اور خوبصورت بھی ہوتی تو اس کے متولیوں میں ایسا شخص جس سے اس لڑکی کا نکاح جائز ہوتا وہ شخص اس لڑکی سے نکاح کرلیا کرتا تھا۔ اور جو لڑکی بد صورت ہوتی تو نہ خود اس سے نکاح کرتا نہ کسی دوسرے شخص سے اس کا نکاح کرنے دیتا یہاں تک کہ وہ مرجاتی تو اس کے مال پر قبضہ کرلیتا۔ اسی طرح جب کوئی متولی لڑکی یتیمہ سے نکاح کرلیتا تو نہ اس کا مہر پورا ادا کرتا نہ اس کے اور حقوق ادا کرتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے وان خفتم ان لا تقسطوا فی الیتمی (٣/٤) فرما کر لوگوں کو اس طرح کے نکاح سے روکا تھا۔ لیکن بعض جگہ لڑکے کے لئے متولیوں میں اچھی نظر آتی تھی۔ کہ وہیں نکاح ہوجائے تو بہتر ہے۔ اسی طرح زمانہ جاہلیت میں چھوٹے لڑکے اور لڑکی کو لوگ کچھ حصہ نہیں دیتے تھے اللہ تعالیٰ نے آیات یوصیکم اللہ میں لڑکے کا دوہرا۔ لڑکی کا اکہرا حصہ ٹھہرا کر جاہلیت کے اس دستور کو بھی توڑدیا۔ ان دستورات کے ٹوٹ جانے کے سبب سے لوگ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ان ابواب کے گھڑی گھڑی مسئلے پوچھتے تھے کہ شاید کوئی آیت اترے۔ جس سے وہ قدیمی دستورات پھر قائم ہوجائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور فرمایا کہ اس باب میں پہلے جو حکم ہوچکا ہے اب بھی وہی قائم ہے کہ ایسی لڑکیوں کے حقوق ادا کرنے کا پورا لحاظ رکھا جائے اور ان کے حقوق میں کوئی بےانصافی نہ کی جائے تو ایسی لڑکیوں سے متولیوں کو نکاح کی اجازت ہے نہیں تو غیر جگہ ان کا نکاح کیا جائے تاکہ متولی لوگوں کے رعب سے غیر لوگ ان لڑکیوں کے حقوق ادا کرتے رہیں۔ اور متولی لوگ ان لڑکیوں کو گھر کی لڑکیاں سمجھ کر ان کے حقوق میں کوتاہی جو کرتے تھے وہ بات بھی جاتی رہے۔ اسی طرح لڑکے اور لڑکا کا جو حصہ مقرر کردیا گیا ہے اس کے موافق عمل کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کی کتاب آسمانی تم کو یہی فتویٰ دیتے ہیں۔ جس کی تم لوگوں کو ہدایت کی گئی۔ اللہ تعالیٰ کی اس شریعت کے موافق جو کوئی عورتوں اور یتیم لڑکوں کے ساتھ کچھ بھلائی کرے گا وہ اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اس کی پوری جزا دے گا۔ اور جو اس کے برخلاف کرے گا وہ سزا پائے گا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:127) یستفتونک۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ استفتائ۔ استفعال مصدر۔ ک ضمیر مفعول۔ واحد مذکر حاضر۔ آپ سے فتوی لیتے ہیں۔ آپ سے مسئلہ معلوم کرتے ہیں۔ استفتاء کسی مشکل بات کا حل دریافت کرنا۔ افتائ۔ کسی مشکل مسئلہ کو حل کرنا۔ ف ت ی حروف مادہ۔ یفتیکم۔ وہ تم کو حکم دیتا ہے۔ تم کو مشکل بات کا حل بتاتا ہے۔ افتاء افعال سے واحد مذکر غائب ۔ ترغبون۔ تم چاہتے ہو۔ تم رغبت کرتے ہو۔ رغبۃ مصدر مضارع جمع مذکر حاضر۔ رغب الیہ طلبہ یعنی خواہش کرنا۔ ورغب عنہ ترکہ متعدا۔ کسی چیز کو عمداً چھوڑ دینا۔ اس کی طرف رغبت نہ رکھنا۔ اس آیت کی ترکیب میں حسب ذیل ملحوظ رہیں۔ یفتیکم (وہ تمہیں فتوی دیتا ہے۔ مشکل بات کا حل بتاتا ہے) ان باتوں میں۔ یفتیکم (ا) فیھن ای فی النساء (جن کے متعلق تم دریافت کرتے ہو۔ یفتیکم (محذوف) (ب) فی یتامی النساء ۔۔ تنکحوھن۔ یفتیکم (محذوف) (ج) فی المستضعفین من الولدان یفتیکم (محذوف) یفتیکم (محذوف) (د) فی ان تقوموا للیتامی بالقسط۔ یتامی النساء (مضاف مضاف الیہ) بیوہ عورتوں کے یتیم بچے۔ ای اولاد النساء بعض نے اس کا مطلب النساء الیتامی (موصوف و صفت) یتیم لڑکیاں لیا ہے۔ ترغبون۔ کا صلہ عن یا الی یا فی مذکور نہیں۔ لہٰذا ترغبون عن ان تنکحوھن کا مطلب ہوگا جن سے تم نے نکاح کرنا نہیں چاہیے (بوجہ ان کے عدم حسن اور عدم مال و دولت کے) اور ترغبون الی یا فی ان تنکحوھن کا مطلب ہوگا جن کے ساتھ تم نکاح کی خواہش رکھتے ہو (بوجہ ان کے حسن اور مال و دولت کے) ۔ ترغبون کا عطف تؤتون پر بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں اس کی تقدیر ہوگی۔ ولا ترغبون ان تنکحوھن اور نہ تم خواہش رکھتے ہو ان کے ساتھ نکاح کی۔ یتامی النساء اور مستضعفین کے متعلق احکام سورة النساء سورة ہذا کے رکوع 1 و 2 میں ارشاد فرمائے ہیں۔ وما یرلی سے علیما تک اصل استفتاء کا جواب نہیں ہے بلکہ قل اللہ یفتیکم فیہن (کہہ دے اے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کو کہ (ابھی) اللہ تعالیٰ تم کو ان عورتوں کے بارے میں بتاتا ہے) یہ کہہ کر لوگوں کی توجہ سابقہ احکام کی طرف مبذول کرائی جا رہی ہے۔ جو اسی سورة کے آغاز میں یتیم لڑکیوں کے متعلق بالخصوص اور یتیم بچوں کے متعلق بالعموم فرمائے گئے تھے۔ اس سے یہ یاد دلانا مقصود ہے کہ لوگوں کے ذہن نشین ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یتیموں کے حقوق کی کتنی اہمیت ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 گویہاں یہ صراحت نہیں ہے کہ عورتوں کے بارے میں کیا سوال کررہے تھے۔ لیکن اگلی چار آیات جو فتویٰ دیا گیا ہے اس سے اس سوال کا خود بخود پتا چل جاتا ہے۔ تفاسیر میں ہے کہ صحابہ کرام (رض) نے عورتوں کو وارثت اور ان کے متعلقہ چند احکام کے بارے میں استفسار کیا تو یہ آیت نازل ہوئیں۔ (قرطبی) 1 یعنی قرآن تم کو حکم دیتا ہے شروع سورت میں یتیم لڑکیوں کے بیان کردو حقوق کی طرف اشارہ ہے۔ (دیکھئے۔ آیت ب 3)2 یہ تر جمہ اس صورت میں ہے جب توغبون کا صلا فی مخذوف مانا جائے اور اگر اس کا صلہ عب مخذ وف ماان جائے تو ترجمہ یوں ہوگا تم ان سے نکاح کرنا پسند نہیں کرتے۔ حضرت عائشہ (رض) کی حدیث سے اس دوسرے ترجمہ کی تا ئید ہوتی ہے زمانہ جاہلیت میں یتیم بچیوں پر دونوں طرح ظلم کیا جاتا ہے تھا۔ ابتدا سورت میں اس کی تفصیل گزرچکی ہے۔ (قرطبی) اس آیت کے مطلب میں شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں اس سورت کے اول میں یتیم کے حق کا ذکر تھا اور فرمایا تھا کہ یتیم لڑکی جس کا کوئی ولی نہ ہو مگر اس کا چچا زاد۔ سو وہ اگر سمجھے کہ میں اس کا حق ادانہ کرسکو تو وہ اس کو اپنے نکاح میں نہ لائے کسی دوسرے سے اس نکاح کر دے اور خود اس کا ولی بن جائے۔ اب مسلمانوں نے ایسی عورتوں کو نکاح میں لانا موقوف کردیا۔ پھر دیکھا گیا کہ بعض اوقات لڑکی کے ولی کو یہی اسے نکاح میں رکھنا بہتر ہوتا ہے اس بنا پر حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے رخصت مانگی گئی اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اجازت مل گئی اور فرمایا وہ جو کتاب میں منع کیا گیا تھا وہ اس وقت ہے کہ اس حق پورا نہ دو اگر ان کے حق کے بہتری سوچو تو رخصت ہے۔ ( ماخوذ از موضح)3 یعنی ان کے بارے میں بھی اپنے احکام یاد لاتا ہے جو اس سورت کے شروع میں بسلسلئہ میراث دیے گئے ہیں۔ (دیکھئے آیت 10 ۔ 12)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 19 ۔ آیات 127 تا 134 ۔ ویستفتونک ۔۔۔۔۔ سمیعا بصیرا۔ اسرار و معارف : پھر بات اپنے اصل موضوع کو پلٹتی ہے کہ قبل اسلام عورت کو انسان سمجھا ہی نہ جاتا تھا۔ اسلام نے اسے میراث میں حقوق دلوا دئیے اور وراثت تک میں حصہ دار بنا دیا کہاں سے اٹھایا کہاں پہنچا دیا ؟ جبکہ اہل عرب تو عورتوں کو خود میراث سمجھ کر بانٹ لیا کرتے تھے۔ سو بعض طبقوں نے ان امور کی تصدیق چاہی کہ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ اسلام عورت کو مرد کی طرح وراثت میں حصہ قرار دے شاید وقتی طور پر ایسا کیا گیا ہوگا ممکن ہے کچھ خاص لوگوں کے لیے ہو ورنہ وہاں تو یہ سوچنا بھی ممکن نظر نہ آتا تھا سو ارشاد ہوا کہ ابھی تک آپ کی بارگاہ میں عورتوں سے متعلق پوچھا جاتا ہے فرمائیے ! کہ خود رب جلیل اس بارے میں فتوے ارشاد فرماتے ہیں فتوے سے مراد وہ جواب ہوتا ہے جو فیصلہ کن ہو جس میں فیصلہ کردیا گیا ہو کہ اول تو بات وہی ہے جو نازل کی جا چکی ہے اور وعورت بھی انسانیت ہی کی ایک فرد ہے اور جس طرح مرد کی ذمہ داریاں ہیں عورت کی بھی ذمہ داریاں ہیں ویسے ہی مرد کے حقوق ہیں ، تو عورت کے بھی حقوق ہیں اگرچہ ذمہ داریوں اور حقوق کی نوعیت میں کچھ فرق ہے تو بحیثیت جسمانی ساخت کے اور نظام حیات کو چلانے کی صلاحیت کے اعتبار سے دونوں میں کام بانٹ دیا گیا ہے سو حقوق میں اسی قدر فرق ہے اور بس۔ ایک معاشرتی برائی : پھر خصوصاً لوگ یتیم بچیوں سے نکاح تو کرلیتے تھے مگر ان کے حقوق واجبہ مثلاً حق مہر تک ادا کرنا گوارا نہ تھا یا انہیں کوئی حیثیت دینے کو تیار نہیں ہوتے تھے یا مال کے لالچ میں شادی کرلی صورت پسند نہ آئی تو زندگی بھر پرواہ نہ کی یا صورت پسند آگئی شادی کرلی مگر دوسرے حقوق غصب کرلئے ایسے ہی یتیم رہ جانے والے کمزور بچوں کے امور کہ لوگ یتیم پروری کے نام پر ساتھ تو رکھ لیتے مگر حقیقتاً ان کا مال بھی کھا جاتے اور ان سے خدمت بھی لیا کرتے۔ فرمایا اللہ کریم ان تمام بد رسومات کو رد فرماتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ یتیموں اور کمزوروں سے بھی انصاف پہ قائم رہو اور انصاف کیا کرو اور جو بھلائی بھی تم کرتے ہو اللہ کریم اسے خوب جانتے ہیں۔ گھریلو زندگی کو خوشگوار بنانے کی تدابیر : 1 ۔ اب اگر کسی عورت کو خاوند کی روز روز لڑائی سے شکایت ہو اس کے خیال میں اسے پوری توجہ نہیں دے رہا جیسے اس کا جی بھر گیا ہو تو دونوں مل کر اگر بعض شرائط پر صلح کرلیں تو کوئی حرج نہیں۔ بلکہ اچھی بات یہ ہے کہ میاں بیوی کی بات آپس میں طے ہونی چاہئے اگر مرد غلطی پر ہے تو اپنی اصلاح کرے یا عورت زیادتی کر رہی ہے تو اپنے آپ کو درست کرلے کچھ حقوق معاف کردے یا معاف کروا لے بہرحال آپس میں مل کر صلح کرلیں تو بہت اچھی بات بات ہے اور صلح میں ہمیشہ بہتری ہوتی ہے جائز حد تک اگر حقوق قربان کرنا پڑیں تو فرد سے لے کر قوم اور ملک تک کی زندگی صلح سے متاثر ہوتی ہے۔ یا جنگ سے تباہ ہوتی ہے ذاتی اور گھریلو جھگڑے بعض اوقات اولاد تک کی زندگیوں میں تلخیاں گھول دیتے ہیں ایسے ہی قبائل اور خاندان جب لڑتے ہیں تو تباہی کیطرف جاتے ہیں۔ ملکوں پہ جنگ کے بادل منڈلانے لگیں تو لاکھوں نیندیں حرام ہوجاتی ہیں اگر اس بڑی مصیبت کو ٹالنے اور اس سے بچنے کے لیے اپنے حقوق میں سے کچھ قربان بھی کرنا پڑے تو بڑی بات نہیں۔ کسی ایک گھر کی زندگی بچا لینا بھی بہت بڑی قربانی ہے اور جب حقوق چھوڑنے کا لالچ دیا جائے تو عموماً انسانی طبائع میں کچھ پا لینے کی تمنا تو حرص کی حد تک ہوتی ہے اور اگر تم نیکی اور پرہیزگاری کو شعار بنا لو تو یہ سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں ان سب کا جواب موجود ہے صرف خلوص کی ضرورت ہے۔ للہیت کی ضرورت ہے اور جو کام بھی اللہ کی رضا کے لیے کئے جائیں وہ ضائع تو نہیں جاتے کہ اللہ کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے۔ 2 ۔ اب ایک اور بات کی بھی وضاحت ہوجائے کہ کئی شادیوں یا دوسری شادیوں کے لیے فرمایا تھا چار تک کرسکتے ہو ، بیک وقت کرسکتے ہو مگر شرط انصاف ہے اگر تم بیویوں میں انصاف نہ کرسکو تو بہتر ہے دوسری شادی ہی نہ کرو ! ایک ہی بیوی سے گذارہ کرو۔ یہاں اس کی مزید تفصیل ارشاد فرما دی کہ انصاف سے مراد ان امور میں انصاف ہے جو آدمی کے اختیار میں ہیں عزت نفس۔ لباس۔ کھانا پینا۔ گھر۔ رہائش یا میاں بیوی کے تعلقات وغیرہ جہاں تک کیفیات قلبی کا معاملہ ہے تو وہ تم چاہو بھی تو نہیں کرسکتے کہ دل اختیار میں تھوڑا ہی ہوا کرتے ہیں جو سب کو ایک جیسا چاہیں سو یہ تو تمہاری خواہش اور کوشش کے باوجود ممکن نہیں ، ہاں یہ نہ ہو کہ ایک ہی طرف جھک جاؤ اور دوسری کو درمیان میں لٹکتا چھوڑ دو ، نہ وہ خاوند والی ہو کہ اس کے حقوق جو اسے نہ ملے اور نہ بغیر خاوند والی کہ نکاح تو بہرحال ہے لہذا صلح میں بہتری ہے اگرچہ وقتی طور پر کوئی دکھ بھی نظر آتا ہو اور اللہ کریم سے معاملہ درست رکھو کہ وہ بہت بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ 3 ۔ اگر ان سب کوششوں کے باوجود کوئی مل کر گذارہ نہیں کرسکتا یا اکٹھا نہیں رہ سکتا تو عورت بھی آزادی کا مطالبہ کرسکتی ہے جو اسلامی عدالت یا قاضی حالات دیکھ کر اسے دلوا دے اور مرد بھی طلاق دینے کا حق رکھتا ہے لیکن دونوں فریق یہ خیال نہ کریں کہ اس کے بغیر دوسرے کا گذارا نہیں ہوگا۔ اللہ کریم اپنے کرم سے سب کے لیے راستہ پیدا فرما دے گا اور سب کا گذارا ہوتا رہے گا۔ کہ اللہ کے ہاں بڑی وسعت ہے اور وہ بہت بڑا با تدبیر بھی ہے۔ اور آسمانوں اور زمینوں میں جو کچھ بھی ہے جہاں تک علم انسانی پہنچ سکا وہ بھی اور جو ابھی علم انسانی کی دسترس سے باہر ہے وہ بھی سب اللہ کے لیے ہے انسان کا یہاں رہنا بسنا تو اس کی آزمائش ہے اور بس۔ سو اسلام انسانیت کا مذہب ہے۔ ہم نے تم سے پہلوں پہ جو کتابیں نازل فرمائیں انہیں بھی یہی حکم دیا اور تمہیں بھی یہی حکم دیا جاتا ہے کہ اللہ کے ساتھ معاملہ کھرا رکھو اور خلوص کے سات اطاعت کا رکھو لیکن اگر کوئی نافرمانی بھی کرے تو عظمت باری میں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ارض و سما کی ساری مخلوق تو اسی کی غلام ہے اس کے باوجود اسے کسی غلامی کی احتیاج نہیں یعنی وہ کسی حال میں بھی محتاج نہیں بلکہ غنی ہے اور ہمیشہ تعریفوں اور خوبیوں کا مالک ، اور پھر غور سے سن لو ! کہ یہ زمین و آسمان یا ان میں کی ہر چیز صرف اس کی ملکیت ہی نہیں بلکہ اسی کی تخلیق بھی اور آئندہ بھی وہی ان سب کا کارساز ہے مرکز امید ہے اور ایسا قادر ہے کہ لوگو ! اگر چاہے تمہیں فناء کردے اور تمہاری جگہ انہیں شہروں اور آبادیوں پر دوسروں کو قابض کردے اور وہ ایسا کرسکتا ہے یعنی یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ قومیں سلطنتیں اور ممالک بستے اور اجڑتے رہتے ہیں وہ جو چاہتا ہے کرسکتا ہے اگر کوئی محض دنیا کی لذات ہی حاصل کرنا چاہے تو دنیا کی راحتیں بھی اللہ ہی کے پاس ہیں وہی عطاء کرسکتا ہے اور آخرت اسی کے دست قدرت میں ہے جو آخرت کا طالب ہو چاہے تو اسے دنیا بھی عطا کردے اور جو محض دنیا کا طالب ہو وہ بھی بھلا اس کی نافرمانی کرکے کہاں سے پا لے گا کہ اللہ سب کچھ سنتا بھی ہے اور سب حالات دیکھتا بھی ہے اسی لیے طالب آخرت کو دنیا سے کنارہ کشی کی ضرورت نہیں بلکہ دنیا حاصل کرنے کے لیے طریقہ وہ اپنائے جس کی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اجازت دی ہو اس پر آخرت بطور انعام مرتب ہوجاتی ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 127 لغات القرآن : یستفتونک، وہ آپ سے پوچھتے ہیں۔ یفتی، وہ بتاتا ہے۔ یتلی، تلاوت کیا گیا۔ لاتؤتون، تم نہیں دیتے ترغبون، رغبت کرتے ہو، چاہتے ہو۔ تشریح : قرآن کریم میں بار بار یتیموں کے حقوق اور خصوصاً یتیم لڑکیوں کے حقوق کی نگہداشت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اسی سورة نساء کی آیت نمبر 3 میں یتیم لڑکیوں سے نکاح کے متعلق احکامات سنا دئیے گئے ہیں۔ اب مزید وضاحت فرمائی جا رہی ہے۔ خطاب ان لوھوں کی طرف ہے جن کا یہ حال ہے کہ یہ یتیم لڑکیاں جو مال و جمال والی ہوتیں ان لڑکیوں سے تو خود نکاح کرلیتے تھے اگر وہ صرف مال والی ہو تین تو ان کا نکاح ہونے نہیں دیتے تھے کہ ان کے مال پر سے تصرف ختم نہ ہوجائے۔ پھر وہ یتیم لڑکیاں جو بےبس اور بےکس تھیں ان پر بےحساب زیادتی کیا کرتے تھے۔ ان کے حقوق کی یاد دہانی پھر کرائی جا رہی ہے۔ یتیم لڑکوں کے متعلق بھی احکام پہلے گزر چکے ہیں۔ پھر یاد دہانی کرائی جا رہی ہے کہ ان کے ساتھ انصاف کا معاملہ کرو۔ جو ولی ضرورت مند ہے وہ بقدر ضرورت ان کے مال میں سے لے سکتا ہے ۔ جو ولی خوش حال ہے اسے یتیم کے مال میں سے نہیں لینا چاہئے۔ اور کسی ولی کو اجازت نہیں ہے کہ زیر کفالت یتیم کے مال کو خرد برد کر دے ہر شخص کو حکم ہے کہ یتیم کے ساتھ بھلائی کرے اور ہر بھلائی کا انعام آخرت میں ہے۔ آگے کی آیات میں پھر اسی مسئلہ پر تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ خلاصہ مطلب یہ ہوا کہ جو آیتیں اس بارے میں پہلے آچکی ہیں جن کو تم وقتا فوقتا سنتے رہتے ہو وہ ان احکام کے باب میں اب بھی واجب العمل ہیں کوئی حکم جدید نہیں دیا جاتا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : نیا خطاب شروع ہوا۔ قرآن مجید میں یتیموں کے حقوق کی ادائیگی اور ان کی ترغیب و فضیلت کے بارے میں تیئس مقامات پر ذکر ہوا ہے۔ جن میں یتیم بچیوں کے متعلق اس سورت کی آیت 4 میں حکم دیا تھا کہ یتیم بچیاں نکاح کے قابل ہوجائیں تو ان سے نکاح کرلو بشرطیکہ ان کا حق مہر خوشی کے ساتھ ادا کیا جائے۔ یہ لوگ پھر آپ سے یتیم لڑکیوں کے بارے میں فتویٰ چاہتے ہیں انہیں فرمائیں فتویٰ تو اللہ تعالیٰ پہلے ہی دے چکے ہیں لہٰذا اس پر عمل کرو۔ جن کے دلوں میں چور ہے وہ چاہتے ہیں کہ یتیموں کے حقوق سے جان چھوٹ جائے حالانکہ ان کا حال یہ ہے کہ یتیم بچیوں کے مال اور جمال کی وجہ سے ان کے ساتھ نکاح کرنا اور ان کے مال اور نام سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں لیکن حقوق دینے سے ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔ یاد رکھو اللہ تعالیٰ کا فتویٰ اور حکم وہی ہے جو یتیموں کے متعلق پہلے بیان ہوچکا ہے اس میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ ہوئی ہے نہ ہوگی۔ لہٰذا یتیموں کے بارے میں انصاف کرنے پر قائم ہوجاؤ اور اچھی طرح جان لو جو بھی نیکی کرو گے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری نیت اور عمل کو پوری طرح جانتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) رسول گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا : (کَافِلُ الْیَتِیْمِ لَہٗ أَوْلِغَیْرِہٖ أَنَا وَھُوَ کَھَاتَیْنِ فِی الْجَنَّۃِ وَأَشَارَ مَالِکٌ بالسَّبَابَۃِ وَالْوُسْطیٰ ) [ رواہ مسلم : کتاب الزھد ‘ باب الإحسان إلی الأرملۃِ والمسکین والیتیم ] ” اپنے یا عزیز رشتہ دارکسی یتیم کی کفالت کرنے والا اور میں جنت میں ان دوانگلیوں کی طرح ہوں گے۔ راوی نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کا اشارہ کیا۔ “

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ٤١ ایک نظر میں : اس سورة کے آغاز میں اسلام نے جاہلی معاشرے کی اصلاح کے جس کام کا آغاز کیا تھا یہ سبق اسی کا ایک حصہ ہے ۔ اس اصلاح کا تعلق عورتوں کے حقوق اور خاندانی نظام کے ساتھ ہے ۔ ایک خاندان کے نتیجے میں جو بچے پیدا ہوتے ہیں ان میں سے بعض یتیم رہ جاتے ہیں ۔ ان کے مسائل اس میں لے گئے ہیں ۔ اسلامی معاشرے کو تنبیہ کی گئی ہے کہ ان مسائل کے اندر جاہلیت کے دور کی جو ناہمواریاں رہ گئی ہیں انہیں دور کیا جائے اور ایک گھرانے کو اس اساس پر اٹھایا جائے کہ اس کے اندر مرد اور عورت دونوں کا احترام ہو ‘ دونوں کی مصلحتوں کا خیال رکھا جائے ۔ خاندان کے اندر جو اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں ان کی اصلاح کی تدابیر اس سبق کا موضوع ہے ۔ یعنی اگر اختلافات ہوں تو معاملات کے بگاڑ سے پہلے ان کی اصلاح کی جائے تاکہ گھرانے ٹوٹنے نہ پائیں ۔ خصوصا وہ بچے جو ان گھرانوں میں پیدا ہوچکے ہوتے ہیں اور خاندان ان کے لئے نرسری ہوتا ہے ان کی صحیح ترتیب ہو سکے ۔ نیز عام معاشرے کے اندر زیردست لوگوں کی دیکھ بھال کی جائے تاکہ یہ نہ ہو کہ غالب اور زور آور لوگوں کا قانون چلے اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا دور دورہ ہو ۔ یہ سبق بعض معاملات کی اصلاح اس طرح کرتا ہے کہ انہیں نظام کائنات کے ساتھ مربوط کرتا ہے ۔ جس سے مخاطب کو یہ تصور دینا مطلوب ہے کہ عورتوں ‘ گھرانوں ‘ خاندانوں اور معاشرے کے اندر کمزوروں کے مسائل معمولی مسائل نہیں ہیں ۔ ان کی بہت بڑی اہمیت ہے جس کی تفصیلات ہم اس پارے میں دے چکے ہیں ۔ پارہ چہارم کے مقدمے میں ‘ ہم تفصیل کے ساتھ بیان کرچکے ہیں کہ اسلام میں خاندانی نظام کو کتنی عظیم اہمیت دی گئی ہے ۔ اور یہ کہ اسلامی نظام نے خاندانی ادارے کو جاہلیت کی رسوم بد سے پاک کرنے کے لئے کس قدر عظیم جدوجہد کی ہے اور کس قدر کوشش کی ہے کہ معاشرے کے اندر لوگوں کی اخلاقی ‘ نفسیاتی اور اجتماعی سطح کو بلند کیا جائے تاکہ اسلامی معاشرہ ان تمام معاشروں پر فوقیت حاصل کرلے جو اس وقت اس کے اردگرد پھیلے ہوئے تھے ۔ جو دین اسلام کو قبول نہ کرتے تھے اور جن کی تربیت اسلامی منہاج کے مطابق نہ تھی اور جو اسلامی نظام کے زیر حکومت نہ تھے ۔ اب ذرا تفصیلات کے ساتھ زیر بحث آیات کو لیجئے ۔ درس نمبر ٤١ تشریح آیات : ١٢٧۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ١٣٤ (آیت) ” نمبر ١٢٧۔ سورة نساء کے ابتدا میں جو آیات نازل ہوئی تھیں ان کی وجہ سے کئی سوالات پیدا ہوگئے تھے اور لوگ سوالات کیا کرتے تھے ۔ مسلمانوں کی جانب سے ’ اسلامی معاشرے کی تشکیل کے ابتدائی دور میں مختلف مسائل کے بارے میں سوالات کرنا ایک عام پریکٹس تھی اور اس کی تہ میں یہ جذبہ کار فرما تھا کہ وہ اسلامی نظام زندگی سے متعلق احکام معلوم کرنا چاہتے تھے اس لئے کہ جاہلیت سے اسلام کی طرف منتقل ہونے کا عمل دراصل ان کی زندگیوں میں ایک گہرا انقلاب تھا ۔ اس کی وجہ سے ان کے شعور میں جاہلیت کے دور میں ہونے والے تمام افعال اور رسول کے بارے میں شک پیدا ہوگیا تھا ۔ وہ ہر وقت یہ محسوس کرتے تھے کہ کسی پیش آمدہ معاملے میں اسلام نے سابق پریکٹس کو منسوخ نہ کردیا ہو ۔ یہ بیداری اور اسلامی احکام کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے کا جذبہ ان حضرات کی ایک عام صفت تھی ۔ اس کے باوجود بعض آثار جاہلیت ان کی زندگیوں میں باقی تھے ۔ اصل بات یہ ہے کہ انکے اندر ایک قومی جذبہ موجود تھا ‘ جس کے مطابق وہ اپنی زندگی کے تمام حالات کو اسلام کے مطابق ڈھالتے تھے اور اس روح کے ساتھ وہ بعض احکام کے بارے میں استفسارات کرتے تھے یہ کام وہ محض علم و ثقافت اور محض سوال کی خاطر نہ کرتے تھے جیسا کہ آج کل مفتی حضرات کے پاس اکثر سوالات محض حصول علم و ثقافت کے لئے ہوتے ہیں کوئی عمل کرنے کے لئے نہیں پوچھتا ۔ اس وقت مسلمانوں کو دینی مسائل کے پوچھنے کی حقیقی ضرورت بھی تھی ‘ اس لئے کہ یہ دین ان کے لئے زندگی کا نظام تھا اور وہ اس کے مسائل پوچھنے کے معاملے میں بہت ہی سرگرم تھے ، مقصد یہ تھا کہ ان کی عملی زندگی احکام دین کے مطابق بن جائے ۔ وہ جاہلیت سے نکلنے کے عمل سے گزر رہے تھے اور جاہلیت کی تمام عادات وتقالید اور اوضاع واطوار سے خائف تھے کہ کہیں کوئی بات نظام اسلام کے خلاف نہ ہو ۔ اسلام نے ان کے اندر جو تغیر اور انقلاب برپا کردیا تھا اس کے بارے میں وہ بہت ہی حساس تھے ۔ دوسرے الفاظ میں اسلام نے انہیں ان کے اس سچے عزم اور اسلام کے بارے میں ان کے جوش و خروش کی وجہ سے ملا ۔ وہ اس شکل میں کہ اللہ کی خاص عنایت اور توجہ انکی طرف مبذول ہوئی ذات باری نے خود براہ راست انہیں ان کے اس استفاء کا جواب دیا ۔ (آیت) ” (ویستفتونک فی النسآئ) (٤ : ١٢٧) (لوگ تم سے عورتوں کے معاملہ میں فتوی پوچھتے ہیں) وہ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھتے تھے اور اللہ تعالیٰ حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہتے تھے : ” کہو اللہ تمہیں فتوی دیتے ہیں ‘ تمہارے سوال اور بقیہ دونوں امور کے بارے میں جن کا ذکر اس آیت میں ہوا ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی وہ عنایت ہے جس کی قدروقیمت صحابہ کرام ہی جانتے تھے ۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی مہربانی ‘ نہایت ہی عزت افزائی کرتے ہوئے بذات خود جماعت مسلمہ کو فتوی دیتے ہیں اور یہ اللہ کی جانب سے نیابت یا بندہ پروری اور مہربانی ہے اور بندوں کی جدید زندگی کے لئے ضروری سوالوں کا جواب خود دیا جا رہا ہے ۔ یہ سوال ان عملی حالات کے بارے میں تھا جو جاہلیت میں روز مرہ کا معمول تھے ۔ وہ جاہلیت جس سے پوچھنے والوں کو اللہ اور اللہ کے نظام نے نکالا تھا ۔ دوسرے یہ سوالات ان امور کے بارے میں تھے جن کے ذریعے جدید اسلامی معاشرے کو مزید ترقی دینا مطلوب تھا ۔ (آیت) ” (قل اللہ یفتیکم فیھن وما یتلی علیکم فی الکتب فی یتمی النساء التی لا توتونھن ما کتب لھن وترغبون ان تنکحوھن والمستضعفین من الولدان وان تقوموا للیتمی بالقسط (٤ : ١٢٧) (کہو اللہ تعالیٰ تمہیں ان کے معاملے میں فتوی دیتا ہے ‘ اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس کتاب میں سنائے جارہے ہیں ۔ یعنی وہ احکام جو ان یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں جن کے حق تم ادا نہیں کرتے اور جن کے نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو (یا لالچ کی بنا پر تم خود ان سے نکاح کرلینا چاہتے ہو) اور وہ احکام جو ان بچوں کے متعلق ہیں جو بیچارے کوئی زور نہیں رکھتے ۔ اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو) علی ابن ابو طلحہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے اس آیت کے بارے میں نقل کیا ہے کہ جاہلیت کے دور میں جس کے پاس یتیم لڑکی ہوتی ‘ وہ اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتا ‘ جب وہ ایسا کرلیتا تو اس یتیم لڑکی کے ساتھ کوئی شخص بھی کبھی نکاح نہ کرسکتا ۔ اگر وہ خوبصورت ہوتی اور وہ اسے پسند کرتا تو وہ اس کے ساتھ خود نکاح کرلیتا اور اس کا مال کھاتا رہتا ۔ اور اگر بدصورت ہوتی تو دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی اس کا نکاح کرنے کی اجازت نہ دیتا یہاں تک کہ وہ مرجاتی اور یہ اس کے مال کا وارث ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس فعل کا حرام قرار دیا اور آئندہ کے لئے اس سے منع فرمایا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” والمستضعفین من الولدان “۔ (٤ : ١٢٧) (اور بچوں میں سے کمزور لوگ) کون تھے ؟ جاہلیت میں دراصل کمزور بچوں کو وراثت میں سے حق نہ دیا جاتا تھا اور نہ لڑکیوں کو دیا جاتا تھا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ! (آیت) ” لا توتونھن ما کتب لھن “۔ (٤ : ١٢٧) (تم ان کو وہ حق نہیں دیتے جس اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دے دیا ہے) اللہ نے اس سے بھی روک دیا اور ہر حقدار کا حصہ قرآن میں مقرر کردیا اور کہا کہ مرد کا حصہ دو عورتوں کے برابر ہے خواہ عورتوں چھوٹی ہوں یا بڑی ہوں۔ سعید بن جبیر (رض) کہتے ہیں (آیت) ” (وان تقوموا للیتمی بالقسط “۔ (٤ : ١٢٧) کی تفسیر یہ ہے کہ اگر یتیم لڑکی مالدار اور خوبصورت ہو تو ولی کہتا کہ میں اسے اپنے لئے چن لیتا ہوں اور اس کے ساتھ نکاح کرلیتا اور اگر صاحب مال و جمال نہ ہوتی تو اسے دوسروں کے نکاح میں دے دیتا ۔ (آیت) ” ویستفتونک فی النسآء قل اللہ یفتیکم فیھن “۔ تاآیت (وترغبون ان تنکحوھن) کے بارے میں حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں ۔ یہ اس شخص کے بارے میں ہے جس کے پاس یتیم لڑکی ہوتی ۔ وہ اس کا ولی اور وارث ہوتا ۔ وہ اسے اپنے مال میں شریک کرلیتی یہاں تک کہ کھجور کے اس گچھے میں بھی جو کھانے کے لئے توڑ لیا جاتا ۔ وہ اس کے ساتھ نکاح کرنا بھی پسند نہ کرتا تھا اور کسی دوسرے شخص کے نکاح میں بھی نہ دیتا تھا کہ وہ اس کے ساتھ مال میں شریک نہ ہوجائے ۔ اس طرح وہ عورت معطل رہتی ۔ (بخاری مسلم) ابن ابو حاتم (رح) نے عروہ ابن زبیر (رض) سے حضرت عائشہ (رض) کی ایک دوسری روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں : حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا :” اس آیت کے بعد لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کے بعد دوبارہ ان عورتوں کے بارے میں پوچھا تو یہ آیت نازل ہوئی ۔ (آیت) ” ویستفتونک فی النسآء قل اللہ یفتیکم فیھن قل اللہ یفتیکم فیھن وما یتلی علیکم فی الکتب “۔ (٤ : ١٢٧) حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ اس آیت میں یہ جو کہا گیا ہے کہ جو تم پر کتاب میں پڑھا جاتا ہے (یعنی سابقہ احکام) تو اس سے مراد وہ سابقہ آیت ہے یعنی (آیت) ” وان خفتم الا تقسطوا فی الیتامی فانکحوا ماطاب لکم من النسائ “۔ یعنی اگر وہ صاحب مال و جمال نہ ہوں اور تم انکے ساتھ نکاح نہ کرنا چاہتے ہو۔ اور اگر وہ صاحب مال و جمال ہوں اور تم ان کے ساتھ نکاح کرنا چاہتے ہو صرف مال کی غرض ہو تو نکاح نہ کرو الا یہ کہ عدل کے ساتھ نکاح کرنا چاہو۔ ان احادیث اور قرآنی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جاہلیت کے دور میں کیا ہو رہا تھا ۔ خصوصا یتیم نوجوان عورتوں کے ساتھ ۔ یتیم لڑکی کے ساتھ ولی کی طرف سے مال و دولت میں بھی بےایمانی ہوتی اور اس کے مہر میں بھی اس کے ساتھ زیادتی ہوتی ۔ اس کا مال لٹایا جاتا اور اگر وہ بدصورت ہوتی تو اس کا مال بھی ہڑپ ہوتا اور اس کے ساتھ نکاح بھی نہ ہوتا ۔ کسی دوسرے کے نکاح میں بھی نہ دی جاتی کہ کہیں وہ ولی کے ساتھ مال میں شریک نہ ہوجائے کیونکہ مال ولی کے تصرف میں ہوتا ۔ یہی حال چھوٹے بچوں اور لڑکیوں کا ہوتا ۔ ان کو میراث سے محروم کردیا جاتا ۔ اس لئے کہ وہ ضعیف ہوتے تھے اور وہ اس مال کی مدافعت نہ کرسکتے تھے یا وہ جنگ نہ کرسکتے تھے ۔ اس لئے ان کے لئے کوئی حق یا حصہ نہ ہوتا اور یہ قبائلی تصورحیات کے مطابق ہوتا جن کی مطابق قبیلے کے تمام اموال جنگ کرنے والوں کے لئے ہوتے اور ضعیفوں کے لئے کچھ نہ ہوتا ۔ یہ تھے وہ بدوی اور بدنما رسم و رواج جن کو اسلام نے تبدیل کرنا شروع کیا اور ان کی جگہ ترقی یافتہ قرآنی رسم و رواج کی بنیاد ڈالی اور یہ تبدیلی ایسی نہ تھی کہ گویا بہت ہی تیزی سے بطور لانگ جمپ یہ انقلابی تبدیلی کی گئی اور عربی معاشرے کو ایک ترقی یافتہ معاشرہ بنا دیا گیا بلکہ یہ عربوں کے لئے ایک نیا جنم تھا ۔ ان کی حقیقت کو بدل کر ایک نئی حقیقت انکو دی گئی ۔ یہاں جو اہم بات ہم ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ نشاۃ جدیدہ کسی منصوبے کے تحت نشاۃ ثانیہ نہ تھی اور نہ اس کے لئے کوئی خاص منصوبہ بنایا گیا تھا اور نہ منصوبے کے لئے کوئی ابتدائی تیاری کی گئی تھی یا یہ ترقی کسی مادی تبدیلی کی وجہ سے ہوئی تھی اور صرف عربوں کی زندگی میں ہوئی تھی ۔ اس لئے کہ حقیقت ملکیت کے جاہلی سبب محاربت کو منسوخ کرکے ‘ اس کی جگہ انسانی اساس پر حق ملکیت کو استوار کرنا ‘ بچے ‘ یتیم اور عورت کو بھی انسانی حقوق عطا کرنا محض اس وجہ سے نہ تھا کہ معاشرے کے اندر تبدیلی آگئی تھی اور اس معاشرے کے اندر جنگی قوت رکھنا یا دفاع کرنا ہی اہم عامل نہ رہا تھا ‘ اس وجہ سے جنگی قوت رکھنے والے افراد خاندان ان کی امتیازی حیثیت کو ختم کردیا گیا ۔ اب خاندان والوں کے لئے جنگی قوت رکھنے والے افراد کی سرے سے ضرورت ہی نہ تھی اور نہ ان کی امتیازی حیثیت کی ضرورت تھی ۔ ایسا ہر گز نہیں ہے ۔ اس لئے کہ اسلامی دور میں بھی جنگی افراد کی افراد کی اہمیت اپنی جگہ قائم تھی ۔ ان کی ضرورت بھی تھی لیکن جو فرق پڑا وہ یہ تھا کہ اسلامی نظام آگیا تھا اور یہ انسان کے لئے ایک جدید جنم تھا ۔ یہ جنم ایک کتاب کے ذریعے ملا تھا ۔ ایک نظام سے انہیں یہ جنم ملا تھا اور جدید معاشرہ اس جدید نظام نے قائم کیا تھا اور اسی سرزمین پر قائم کیا تھا جس پر جاہلیت قائم تھی اور انہی حالات میں جن میں ذرائع پیداوار کے اندر کوئی تبدیلی نہ کی گئی تھی ۔ نہ مادے اور اس کے خواص میں کوئی تبدیلی کی گئی تھی بلکہ تصور حیات اور نظریہ حیات کے اندر انقلاب پیدا ہوگیا تھا ۔ اور یہ انقلاب محض اس نظریہ جدیدہ کی وجہ سے ہوا تھا ۔ یہ بات بھی حقیقت تھی کہ اسلامی نظام نے لوگوں کے ذہنوں اور طرز عمل سے جاہلیت کے آثار کو مٹانے کے لئے طویل ترین جدوجہد کی اور ان کی جگہ اسلامی تصورات اور اسلامی عادات واطوار بٹھانے کیلئے سخت محنت کی ۔ یہ بھی حقیقت تھی کہ جاہلیت کے بعض اطوار ابھی تک اپنے آپ کو بچانے کے لئے کوشاں تھے اور بعض انفرادی حالات میں انکا پھر سے ظہور ہوجاتا تھا ۔ یہ عادات واطوار مختلف شکلوں میں اپنے آپ کو زندہ رکھنا چاہتے تھے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ نظام جو آسمانوں سے نازل ہوا اور وہ تصورات جو اس نظام نے عطا کئے یہی تو جاہلیت کو بیخ وبن سے اکھاڑنے کی سعی میں مصروف تھے اور یہ بات نہ تھی کہ مادی صورت حال یا اس کے اندر موجود تضادات اس تبدیلی میں موثر تھے یا ذرائع پیداوار میں کوئی تبدیلی ہوگئی تھی یا کوئی اور مارکسی فیکٹر تھا جو مادے یا ذرائع پیداوار میں تبدیلی کی وجہ سے معاشرے میں تغیر لا رہا تھا ۔ عرب قوم کی زندگی میں جو نئی چیز تھی وہ دین تھی جو عالم بالا سے ان پر نازل ہوئی تھی ۔ اس پر بعض نفوس نے لبیک کہا اس لئے کہ وہ انسانی فطرت سے ہمکلام تھی اور یہ فطرت ہر انسان کے اندر موجود تھی ۔ یہی وجہ تھی کہ یہ عظیم انقلاب رونما ہوا بلکہ انسان کو یہ نیا جنم ملا ‘ جس نے زندگی کے تمام خدوخال بدل دیئے ‘ ہر پہلو سے بدل دیئے اور جاہلیت کے تو تمام نشانات مٹا دیئے ۔ معاشرے کے جدید وقدیم خدوخال کے درمیان جس قدر تنازع بھی نظر آئے اور اس تطہیر اور تجدید کی راہ میں جس قدر رنج والم اور قربانیاں بھی دی گئی ہوں ‘ یہ سب کچھ آسمانی رسالت کی وجہ سے ہوا ۔ ایک نظریاتی اور اعتقادی تصور تھا جو اس انقلاب کے لئے پہلا اور آخری فیکٹر تھا ۔ بلکہ اس نئے جنم کے لئے وہی اول وآخر عامل تھا ۔ پھر کیا ہوا ؟ پھر اس انقلاب کا طوفان صرف اسلامی معاشرے تک ہی محدود نہ رہا بلکہ اس نے پوری انسانی اقدار اور تمام انسانی معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اہل اسلام نے رسول سے تو صرف عورتوں کے بارے میں پوچھا تھا ‘ اور اللہ نے ان عورتوں کے علاوہ یتیم لڑکیوں ‘ چھوٹے بچوں اور ضعیفوں کے حق کے بارے میں بھی جواب دیا تھا ‘ تو اس سوال و جواب کو اللہ تعالیٰ نے اس مصدر کے ساتھ باندھ دیا جس کے ذریعے سے یہ انقلاب آیا تھا ۔ (آیت) ” وما تفعلوا من خیر فان اللہ کان بہ علیما “۔ (٤ : ١٢٧) (اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ جائے گی) جو کچھ بھی تم کرو گے وہ نامعلوم نہ رہ جائے گا ‘ ضائع نہ ہوگا ۔ اللہ کے ہاں ریکارڈ ہوگا اور جو چیز اللہ کے ہاں ریکارڈ ہوجائے وہ ہر گز ضائع نہ ہوگی ۔ یہ ہے ہو آخری مرجع جس کی طرف ایک مومن اپنے اعمال بھیجتا ہے اور یہی وہ قبلہ ہے جس کی طرف مومن کے فکر وعمل کا رخ ہوتا ہے ۔ اس مرجع کی قوت اور گرفت ہی ان ہدایات اور اس نظام کی قوت اور گرفت ہوتی ہے اور اس کا انسانی نفس اور اس کی عادات واطوار بلکہ پوری زندگی پر اثر ہوتا ہے ۔ یہ بات اہم نہیں ہوتی کہ کوئی بہت سی ہدایات دے یا لکھ دے ‘ یا کوئی نظام حیات تجویز کرے یا کوئی نیا نظم ونسق قائم کرے ۔ اصل حیات اہمیت اس گرفت اور قوت کی ہوتی ہے جو کسی ہدایت ‘ کسی نظام اور کسی تنظیم کی پشت پر ہوتی ہے ۔ وہ گرفت جس سے یہ تمام تصورات اور یہ تمام ادارے قوت نافذہ حاصل کرتے ہیں ۔ ان نظامہائے زندگی اور ان اقدار میں جو ایک انسان اللہ سے لیتا ہے اور ان میں جو ایک انسان اپنے جیسے انسانوں سے لیتا ہے ‘ زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے ۔ یہ اس صورت میں جیسے دوسری صفات کے حوالے سے انسانی نظام اور الہی نظام کے درمیان مساوات فرض کرلی جائے اور یہ بات فرض کرلی جائے کہ یہ دونوں نظام نہایت بلند اور ترقی یافتہ ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ایسا فرض کرنا بھی محال اور جنون ہے ۔ الا یہ کہ انسان سوچ لے کہ یہ بات کس کے منہ سے نکلی اور یہ کہ اس کے بارے میں ہماری سوچ کیا ہے اور اس کے بارے میں ہمارے رائے کیا ہے ۔ ایک طرف اللہ العلی العظیم کی بات ہے اور دوسری جانب انسان ابن انسان کی بات ہے ۔ اجتماعی ضابطہ بندی کا ایک قدم اور ۔ یہ بھی خاندان کے دائرے میں اور اس معاشرے میں جسے اسلام نیا جنم دے رہا تھا اور یہ جنم ملاء اعلی سے اسلامی نظام حیات کے ذریعے رہا تھا اور اس کے اندر کسی زمینی فیکٹر یاعامل کا کوئی داخل نہ تھا ۔ مادی ہو یا پیداوار سے متعلق ہو ۔ ملاحظہ ہو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یتیم بچوں اور بچیوں کے حقوق کی نگہداشت کرنے کا حکم صحیح بخاری صفحہ ٦٦١: ج ٢ میں حضرت عائشہ (رض) سے مروی ہے انہوں نے بیان فرمایا کہ کسی کے پاس کوئی یتیم بچی ہوتی تھی وہ اس کا ولی بھی ہوتا تھا۔ (اور شریک میراث بھی کیونکہ اس یتیم بچی کو اور اس کے ولی کو کسی وفات پانے والے سے میراث ملی) اب یہ ولی نہ تو اسے اپنے نکاح میں لیتا تھا اور نہ کسی دوسرے مرد سے اس کا نکاح کرتا تھا کیونکہ یہ ڈر تھا کہ دوسرے سے نکاح کر دوں گا تو وہ بحق زوجیت اس کا مال لے جائے گا۔ لہٰذا یتیم بچی کو تنگ کرتا تھا اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ صاحب فتح الباری صفحہ ٢٦٥: ج ٨ نے ابن ابی حاتم سے روایت نقل کی ہے کہ جابر (رض) کی ایک چچا زاد بہن تھی اس کا مال تھا جو اسے اپنے باپ کی میراث میں ملا تھا جابر کو اس سے اپنا نکاح کرنا منظور نہ تھا لیکن کسی دوسرے سے بھی اس ڈر سے کہ اس کا شوہر مال لے جائے گا نکاح کرنا نہیں چاہتے تھے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا اس پر یہ آیت بالا نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے فرمایا کہ وہ آپ سے فتویٰ طلب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ شانہ ان کو فتویٰ دیتا ہے اور اس سے پہلے جو قرآن میں آیات نازل ہوئی ہیں وہ بھی ان کو فتویٰ دے رہی ہیں جو ان پر تلاوت کی جاتی ہیں۔ یہ فتویٰ یتیم عورتوں کے بارے میں ہے جس کو تم ان کا مقررہ حق نہیں دیتے (یعنی میراث میں جو مال انہیں ملا ہے وہ دینا نہیں چاہتے اور تم ان سے نکاح کرنے سے بےرغبت ہو) ۔ اس طرح سے ان کو تکلیف ہوتی ہے۔ ایسی کوئی صورت اختیار نہ کرو جس سے ان کو تکلیف ہو۔ اسی طرح ضعیف بچوں کے بارے میں بھی تمہارے اوپر آیات تلاوت کی جا رہی ہیں ان میں ان کے حقوق کی نگہداشت کی تعلیم دی گئی ہے۔ خلاصہ یہ ہوا کہ یتیم لڑکیوں اور ضعیف بچوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں تمہارے لیے احکام موجود ہیں ان پر عمل کرو جن کو تم آپس میں پڑھتے اور سنتے رہتے ہو۔ اس آیت میں جن آیات کا حوالہ دیا گیا ہے وہ سورة نساء کے شروع میں گزر چکی ہیں۔ وھو قولہ تعالیٰ (وَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ تُقْسِطُوْا فِیْ الْیَتٰمٰی) اور (وَ اٰتُو الْیَتٰمٰیٓ اَمْوَالَھُمْ ) پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ بھی فتویٰ دیتا ہے کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف کے ساتھ قائم رہو۔ (صاحب روح المعانی (صفحہ ١٦١: ج لکھتے ہیں وھو خطاب للائمۃ ان ینظروا لھم ولیتو فوا حقوقھم والاولیاء والا وصیاء بالنصفۃ فی حقھم) یعنی یہ حکام کو حکم ہے کہ یتیموں کی دیکھ بھال کریں اور ان کا جو کسی پر حق ہو پورا پورا وصول کریں یا اولیاء اور اوصیاء کو حکم ہے کہ یتیم بچوں کے ساتھ انصاف کا برتاؤ کریں او صیاء وصی کی جمع ہے، وصی اسے کہتے ہیں جسے خود مرنے والا یا حاکم بچوں کے اموال کی دیکھ بھال کے لیے مقرر کرتا ہے۔ آخر میں فرمایا (وَ مَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِہٖ عَلِیْمًا) کہ جو کچھ تم خیر کا کام کرو گے اللہ کو اس کا علم ہے اپنے عمل خیر کا ثواب پاؤ گے، یتیم بچی کے ساتھ جو انصاف اور حسن سلوک سے پیش آؤ گے اللہ تعالیٰ اس کا ثواب بھی عطا فرمائیں گے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

87 تنویر اوّل یہ احکام رعیت میں سے دوسرے حکم پر تنویر ہے۔ وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِیْ الْیَتٰمیٰ الخ (رکوع 1) سے شبہ ہوسکتا تھا کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنا جائز نہیں یہاں اس شبہ کا ازالہ کردیا گیا۔ یعنی یہاں اس حکم کا منشا یہ نہیں کہ یتیم لڑکیوں سے نکاح کرنا جائز نہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان سے انصاف کا برتاؤ کرو اور ان کے حقوق ادا کرو اور اگر عدل نہ کرسکو تو پھر کسی دوسری عورت سے نکاح کرلو وَمَا یُتْلٰی عَلَیْکُمْ کا عطف لفظ اللہ پر ہے اور اس سے مراد وہی آیت ہے جو رکوع 1 میں گذر چکی ہے یعنی وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِیْ الْیَتٰمٰی الخ اور الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مجرور ہے اور فِیْھِنَّ میں ضمیر پر معطوف ہے اور وَ اَنْ تَقُوْمُوْا میں واؤ تفسیریہ ہے اور اَنْ تَقُوْمُوا یفتیکم کی تفسیر ہے یا یہ محل نصب میں یَامُرُکُمْ محذوف کا مفعول ہے اور واؤ تفسریہ ہے یا یہ محل نصب میں یَامُرُکُمْ محذوف کا مفعول ہے اور واؤ تفسیریہ ہے اصل میں تھا وَیَامُرُکُمْ ان تقوموا الخ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں یتیم لڑکیوں اور کمزوروں کے متعلق یہ حکم دیتا ہے کہ ان کے ساتھ ہر طرح انصاف کا برتاؤ کرو (من المدارک ج 1 ص 197 و الروح ج 5 ص ص 161) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 اور اے پیغمبر ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ لوگ آپ سے عورتوں کی میراث اور مہر وغیرہ کے بارے میں حکم دریافت کرتے ہیں آپ کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ تم کو ان عورتوں کے بارے میں حکم دیتا ہے اور اس بارے میں وہ آیات بھی تم کو حکم دیتی ہیں جو قرآن کریم میں تم کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی ہیں اور ان کی تم پر تلاوت کی جاتی رہتی ہے۔ یعنی سورة نساء کی گزشتہ آیات وہ آیات ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہیں جن کو تم ان کا وہ حق ہو شرعاً ان کے لئے مقرر ہے نہیں دیتے یعنی میراث اور مہر وغیرہ اور تم ان کے خوبصورت اور مالدار ہونے کی وجہ سے یہ چاہتے ہو کہ ان سے نکاح کرلو اور وہ آیات جو کمزور بچوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں اور وہ آیات جن میں یہ حکم ہے کہ تم یتایٰ کے حال کی انصاف کے ساتھ پوری نگہداشت کرو اور دیکھو تم جو بھلا اور نیک کام کرو گے الہل تعالیٰ اس سے بخوبی واقف اور اس کو جاننے والا ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جو سوالات تم کر رہے ہو ہم ان کے متعلق سورة نساء کی گزشتہ آیات میں احکام بیان کرچکے ہیں۔ ان ہی سابقہ احکام پر عمل کرنے کا تم کو حکم دیتے ہیں اور وہ آیات جن پر عمل کرنے کا ہم تم کو مکرر حکم دے رہے ہیں وہ تم جانتے ہو کیونکہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے جب قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں تو وہ آیات بھی تم جانتے ہو کیونکہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والے جب قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہیں تو وہ آیات بھی تم کو سنائی جاتی ہیں اور وہ آیات وہی ہیں جن میں تم کو ان یتیم لڑکیوں کے بارے میں احکام بتائے گئے ہیں جن کے مالدار اور خوبصورت ہونے کی وجہ سے تم ان کو اپنے نکاح میں تو لانا چاہتے ہو مگر ان کی حیثیت کے موافق ان کا مہر ادا نہیں کتے بلکہ کم مہر مقرر کر کے ان سے نکاح کرنا چاہتے ہو اور جو مالدار لڑکی بدصورت ہوتی ہے اس کے ساتھ نکاح کرنے سے نفرت کرتے ہ اور دوسری جگہ بھی اس کا نکاح نہیں کرتے کہ کہیں اس کی دولت میں کوئی دوسرا شریک نہ ہوجائے اور یہ سابقہ آیات وہی ہیں جن میں کمزور بچوں کے مال کی حفاظت اور ان کی پرورش کا حکم دیا گیا ہے اور نیز یہ آیات وہی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ یتامی کے تمام کام اور ان کے تمام حوائج اور ضروریات میں اور ان کے تمام کاموں میں انصاف کے ساتھ قائم رہو خواہ وہ مہر کا معاملہ ہو یا ان کی میراث کا قصہ ہو یا ان کے کھلانے پلانے اور دیکھ بھال اور ان کی اخلاقی تربیت کا معاملہ ہو سب میں انصاف کرو اور تم جو بھی کار خیر کرو گے اللہ تعالیٰ اس کو جانتا ہے اور وہ اس کا اجر تم کو دے گا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں اس سورت کے اول میں تقید تھا یتیم کے حق کا اور فرمایا تھا کہ لڑکی یتیم جس کا والی نہیں مگر چچا کا بیٹا اگر جانے کہ میں اس کا حق ادا نہ کروں گا تو آپ اس کو نکاح میں نہ لائے کسی اور کو دے کہ آپ اس کا حمایتی رہے تو مسلمانوں نے ایسی عورتوں کو نکاح میں لانا موقوف کیا پھر دیکھا کہ بعض جگہ لڑکی کے حق میں بہتر ہے کہ اپنا والی ہی نکاح میں لا دے جو وہ اس کی خاطر کرے گا غیر نہ کرے گا حضرت سے رخصت مانگی اس پر یہ آیت اتری رخصت ملی اور فرمایا وہ جو کتاب میں منع سنا تھا سو جب ہے کہ ان کا حق پورا نہ دو اور یتیم کے حق کی تاکید تھی اور جو بھلائی کیا چاہو تو رخصت ہے۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب کا مطلب شاید یہ ہے کہ گزشتہ آیت وان خفتم الا تقسطوا فی الیتایٰ کو سن کر مسلمانوں نے یتیم لڑکی سے جو اپنی ولایت میں ہو نکاح کرنا بالکل بند کردیا تھا پھر اس کے نقصانات محسوس ہوئے تو سوال کیا اللہ تعالیٰ نے ان گزشتہ احکام کو یاد دلاتے ہوئے فرمایا۔ وما تفعلوا من خیرفان اللہ کان بہ علیماً یعنی وہ تو یتیم بچوں کے مال کی حفاظت اور ان کو پورا مہر دینے کے سلسلے میں تھا اور اگر تم یتیمہ کا اپنے سے نکاح کرنے میں فائدہ دیکھو اور اس کا مہر پورا مقرر کرو تو اس سے نکاح کرنے کی رخصت ہے۔ فقیر نے ابھی شان نزول کے سلسلے میں عرض کیا تھا کہ سوالات مختلف تھے جیسا کہ بخاری اور مسلم اور ابن جریر وغیرہ کی روایات سے معلوم ہوتا ہے اس لئے بعض حضرات نے شاہ صاحب کی تفسیر کو ترجیح دی ہے اور بعض حضرات نے محض حکم سابق پر توجہ دلانے کو ترجیح دی ہے۔ (واللہ اعلم) اور چونکہ اس نکاح کے معاملے میں دو صورتیں پیش تھیں ایک مالدار اور خوبصورت لڑکی سے نکاح کی رغبت اور مہر کا کم مقرر کرنا دوسرے مالدار اور بدصورت لڑکی سے خود ناکح نہ کرنا اور نہ اس کو کہیں نکاح کرنے دینا اس وجہ سے بعض حضرات نے و ترغبون ان تنکحوھن کا ترجمہ یوں کیا ہے اور ان کے ساتھ نکاح کرنے سے نفرت کرتے ہو اور چونکہ واقعات کی بنا پر یہاں دونوں کی گنجائش ہے اس لئے ہم نے تسہیل میں دونوں مفہوم ادا کردیئے ہیں۔ وان تقوموا اللیتمی بالقسط کا مطلب ی ہے کہ یتیموں کے تما م کام اور تمام کار گزاری انصاف کے ساتھ کی جائے۔ ہم نے ترجمہ میں حضرت شاہ عبدالقادر صاحب کے اور تیسیر میں حضرت شاہ لی اللہ صاحب کے لافاظ اختیار کئے ہیں اگرچہ مطلب دونوں کا یکساں ہے آگے عورتوں کے بعض مسائل ارشاد ہوتے ہیں۔ (تسہیل)