Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 134

سورة النساء

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ ثَوَابَ الدُّنۡیَا فَعِنۡدَ اللّٰہِ ثَوَابُ الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ سَمِیۡعًۢا بَصِیۡرًا ﴿۱۳۴﴾٪  16

Whoever desires the reward of this world - then with Allah is the reward of this world and the Hereafter. And ever is Allah Hearing and Seeing.

جو شخص دنیا کا ثواب چاہتا ہے تو ( یاد رکھو کہ ) اللہ تعالٰی کے پاس تو دنیا اور آخرت ( دونوں ) کا ثواب موجود ہے اور اللہ تعالٰی بہت سننے والا اور خوب دیکھنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

مَّن كَانَ يُرِيدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا فَعِندَ اللّهِ ثَوَابُ الدُّنْيَا وَالاخِرَةِ ... Whoever desires the rewards of this life, then with Allah is the reward of this worldly life and of the Hereafter. means, O those whose ultimate desire is this life, know that Allah owns the rewards of this life and the Hereafter. Therefore, if you ask Allah for both, He will enrich you, award you and suffice for you. As Allah said, فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَأ ءَاتِنَا فِى الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِى الاٌّخِرَةِ مِنْ خَلَـقٍ وِمِنْهُم مَّن يَقُولُ رَبَّنَأ ءَاتِنَا فِى الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الاٌّخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ أُولَـيِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِّمَّا كَسَبُواْ But of mankind there are some who say: "Our Lord! Give us in this world!" and for such there will be no portion in the Hereafter. And of them there are some who say: "Our Lord! Give us in this world that which is good and in the Hereafter that which is good, and save us from the torment of the Fire!" For them there will be allotted a share for what they have earned), (2:200-202) مَن كَانَ يُرِيدُ حَرْثَ الاٌّخِرَةِ نَزِدْ لَهُ فِى حَرْثِهِ Whosoever desires (by his deeds) the reward of the Hereafter, We give him increase in his reward. (42:20) and, مَّن كَانَ يُرِيدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهُ فِيهَا مَا نَشَاء لِمَن نُّرِيدُ (Whoever desires the quick-passing (transitory enjoyment of this world), We readily grant him what We will for whom We like) until, انظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ (See how We prefer one above another (in this world)). (17:18-21) So Allah said here, ... وَكَانَ اللّهُ سَمِيعًا بَصِيرًا And Allah is Ever All-Hearer, All-Seer.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

134۔ 1 جیسے کوئی شخص جہاد صرف مال غنیمت کے حصول کے لئے کرے تو کتنی نادانی کی بات ہے۔ جب اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت دونوں کا ثواب عطا فرمانے پر قادر ہے تو پھر اس سے ایک ہی چیز کیوں طلب کی جائے۔ ؟ انسان دونوں ہی کا طالب کیوں نہ بنے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧٧] خدنیا وآخرت دونوں کا مطالبہ کیوں ؟ یعنی اللہ کے ہاں تو سب کچھ موجود ہے۔ اب یہ ہر انسان کا اپنا اپنا ظرف ہے۔ اگر وہ دنیا کے فائدے ہی چاہتا ہے اور دنیا میں ہی مگن ہوگیا ہے تو اسے دنیا کے فائدے حاصل ہوجائیں گے اور جو آخرت کی بھلائی بھی چاہتا ہے اسے یقینا آخرت میں اجر وثواب ملے گا۔ اور اس کے علاوہ دنیا کے فائدوں میں سے بھی جو کچھ اس کے مقدر ہوچکا ہے وہ اسے مل کر رہے گا، لہذا عقلمند اور صاحب ظرف انسان کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ آخرت کے اجر وثواب پر مبذول کرے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یعنی جس شخص کا مطلوب و مقصود صرف دنیا ہی ہے اسے یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ کے پاس دنیا اور آخرت دونوں کا ثواب موجود ہے تو تم صرف فانی کی طلب میں کیوں بیٹھے ہو، دنیا اور آخرت دونوں کیوں طلب نہیں کرتے۔ اللہ کے احکام پر عمل کرو گے تو دنیا بھی تمہاری اور آخرت بھی۔ صرف دنیا کی طلب تو خسارا ہی خسارا ہے۔ رہا یہ کہ تمہارا عمل دنیا کے لیے ہے یا آخرت کے لیے، تو اسے اللہ تعالیٰ خوب سنتا ہے، دیکھتا ہے۔ (دیکھیے ہود : ١٥، ١٦۔ البقرۃ : ٢٠٠ تا ٢٠٢۔ بنی إسرائیل : ١٨ تا ٢١)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَنْ كَانَ يُرِيْدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللہِ ثَوَابُ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَۃِ۝ ٠ۭ وَكَانَ اللہُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا۝ ١٣٤ۧ كان كَانَ «3» : عبارة عمّا مضی من الزمان، وفي كثير من وصف اللہ تعالیٰ تنبئ عن معنی الأزليّة، قال : وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً [ الأحزاب/ 40] ، وَكانَ اللَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيراً [ الأحزاب/ 27] وما استعمل منه في جنس الشیء متعلّقا بوصف له هو موجود فيه فتنبيه علی أن ذلک الوصف لازم له، قلیل الانفکاک منه . نحو قوله في الإنسان : وَكانَ الْإِنْسانُ كَفُوراً [ الإسراء/ 67] وَكانَ الْإِنْسانُ قَتُوراً [ الإسراء/ 100] ، وَكانَ الْإِنْسانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا [ الكهف/ 54] فذلک تنبيه علی أن ذلک الوصف لازم له قلیل الانفکاک منه، وقوله في وصف الشّيطان : وَكانَ الشَّيْطانُ لِلْإِنْسانِ خَذُولًا [ الفرقان/ 29] ، وَكانَ الشَّيْطانُ لِرَبِّهِ كَفُوراً [ الإسراء/ 27] . وإذا استعمل في الزمان الماضي فقد يجوز أن يكون المستعمل فيه بقي علی حالته كما تقدّم ذكره آنفا، ويجوز أن يكون قد تغيّر نحو : كَانَ فلان کذا ثم صار کذا . ولا فرق بين أن يكون الزمان المستعمل فيه کان قد تقدّم تقدما کثيرا، نحو أن تقول : کان في أوّل ما أوجد اللہ تعالی، وبین أن يكون في زمان قد تقدّم بآن واحد عن الوقت الذي استعملت فيه کان، نحو أن تقول : کان آدم کذا، وبین أن يقال : کان زيد هاهنا، ويكون بينک وبین ذلک الزمان أدنی وقت، ولهذا صحّ أن يقال : كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا [ مریم/ 29] فأشار بکان أنّ عيسى وحالته التي شاهده عليها قبیل . ولیس قول من قال : هذا إشارة إلى الحال بشیء، لأنّ ذلك إشارة إلى ما تقدّم، لکن إلى زمان يقرب من زمان قولهم هذا . وقوله : كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ [ آل عمران/ 110] فقد قيل : معنی كُنْتُمْ معنی الحال «1» ، ولیس ذلک بشیء بل إنما ذلک إشارة إلى أنّكم کنتم کذلک في تقدیر اللہ تعالیٰ وحكمه، وقوله : وَإِنْ كانَ ذُو عُسْرَةٍ [ البقرة/ 280] فقد قيل : معناه : حصل ووقع، والْكَوْنُ يستعمله بعض الناس في استحالة جو هر إلى ما هو دونه، وكثير من المتکلّمين يستعملونه في معنی الإبداع . وكَيْنُونَةٌ عند بعض النّحويين فعلولة، وأصله : كَوْنُونَةٌ ، وكرهوا الضّمة والواو فقلبوا، وعند سيبويه «2» كَيْوِنُونَةٌ علی وزن فيعلولة، ثم أدغم فصار كَيِّنُونَةً ، ثم حذف فصار كَيْنُونَةً ، کقولهم في ميّت : ميت . وأصل ميّت : ميوت، ولم يقولوا كيّنونة علی الأصل، كما قالوا : ميّت، لثقل لفظها . و «الْمَكَانُ» قيل أصله من : كَانَ يَكُونُ ، فلمّا كثر في کلامهم توهّمت المیم أصليّة فقیل : تمكّن كما قيل في المسکين : تمسکن، واسْتَكانَ فلان : تضرّع وكأنه سکن وترک الدّعة لضراعته . قال تعالی: فَمَا اسْتَكانُوا لِرَبِّهِمْ [ المؤمنون/ 76] . ( ک و ن ) کان ۔ فعل ماضی کے معنی کو ظاہر کرتا ہے پیشتر صفات باری تعا لےٰ کے متعلق استعمال ہو تو ازلیت ( یعنی ہمیشہ سے ہے ) کے معنی دیتا ہے چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَكانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيماً [ الأحزاب/ 40] اور خدا ہر چیز واقف ہے ۔ وَكانَ اللَّهُ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيراً [ الأحزاب/ 27] اور خدا ہر چیز پر قادر ہے ۔ اور جب یہ کسی جنس کے ایسے وصف کے متعلق استعمال ہو جو اس میں موجود ہو تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ یہ وصف اس اسم کے ساتھ لازم وملزوم رہتا ہے اور بہت ہی کم اس علیحدہ ہوتا ہے ۔ چناچہ آیات : ۔ وَكانَ الْإِنْسانُ كَفُوراً [ الإسراء/ 67] اور انسان ہے ہی ناشکرا ۔ وَكانَ الْإِنْسانُ قَتُوراً [ الإسراء/ 100] اور انسان دل کا بہت تنگ ہے ۔ وَكانَ الْإِنْسانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا [ الكهف/ 54] اور انسان سب چیزوں سے بڑھ کر جھگڑا لو ہے ، میں تنبیہ کی ہے کہ یہ امور انسان کے اوصاف لازمہ سے ہیں اور شاذ ونا ور ہی اس سے منفک ہوتے ہیں اسی طرح شیطان کے متعلق فرمایا : ۔ كانَ الشَّيْطانُ لِلْإِنْسانِ خَذُولًا[ الفرقان/ 29] اور شیطان انسان کی وقت پر دغا دینے والا ہے ۔ وَكانَ الشَّيْطانُ لِرَبِّهِ كَفُوراً [ الإسراء/ 27] اور شیطان اپنے پروردگار کی نعمتوں کا کفران کرنے والا یعنی نا قدرا ہے ۔ جب یہ فعل زمانہ ماضی کے متعلق استعمال ہو تو اس میں یہ بھی احتمال ہوتا ہے کہ وہ چیز تا حال اپنی پہلی حالت پر قائم ہو اور یہ بھی کہ اس کی وہ حالت متغیر ہوگئی ہو مثلا کان فلان کذا ثم صار کذا ۔ یعنی فلاں پہلے ایسا تھا لیکن اب اس کی حالت تبدیل ہوگئی ہے نیز یہ ماضی بعید کے لئے بھی آتا ہے جیسے کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فلاں چیز پیدا کی تھی اور ماضی قریب کے لئے بھی حتی کہ اگر وہ حالت زمانہ تکلم سے ایک لمحہ بھی پہلے ہوتو اس کے متعلق کان کا لفظ استعمال ہوسکتا ہے لہذا جس طرح کان ادم کذا کہہ سکتے ہیں اسی طرح کان زید ھھنا بھی کہہ سکتے ہیں ۔ اس بنا پر آیت : ۔ كَيْفَ نُكَلِّمُ مَنْ كانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا[ مریم/ 29]( وہ بولے کہ ) ہم اس سے کہ گود کا بچہ ہے کیونکہ بات کریں ۔ کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ جو ابھی گو د کا بچہ تھا یعنی کم عمر ہے اور یہ بھی کہ جو ابھی گود کا بچہ ہے یعنی ماں کی گود میں ہے لیکن یہاں زمانہ حال مراد لینا بےمعنی ہے اس میں زمانہ قریب ہے جیسے آیت : ۔ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ [ آل عمران/ 110] جتنی امتیں ہوئیں تم ان سب سے بہتر ہو ۔ میں بھی بعض نے کہا ہے کہ کنتم زمانہ حالپر دلالت کرتا ہے لیکن یہ معنی صحیح نہیں ہیں بلکہ معنی یہ ہیں کہ تم اللہ کے علم اور حکم کے مطابق بہتر تھے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَإِنْ كانَ ذُو عُسْرَةٍ [ البقرة/ 280] اور اگر ( قرض لینے والا ) تنگ دست ہو ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہاں کان کے معنی کسی چیز کا واقع ہوجانا کے ہیں اور یہ فعل تام ہے ۔ یعنی اگر وہ تنگدست ہوجائے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کون کا لفظ کسی جوہر کے اپنے سے پست تر جو میں تبدیل ہونے کے لئے آتا ہے اور اکثر متکلمین اسے معنی ابداع میں استعمال کرتے ہیں بعض علامائے نحو کا خیال ہے کہ کینونۃ کا لفظ اصل میں کو نو نۃ بر وزن فعلولۃ ہے ۔ ثقل کی وجہ سے واؤ سے تبدیل ہوگئی ہے مگر سیبو کے نزدیک یہ اصل میں کیونو نۃ بر وزن فیعلولۃ ہے ۔ واؤ کو یا میں ادغام کرنے سے کینونۃ ہوگیا پھر ایک یاء کو تخفیف کے لئے گرادیا تو کینونۃ بن گیا جیسا کہ میت سے میت بنا لیتے ہیں جو اصل میں میوت ہے ۔ فرق صرف یہ ہے ۔ کہ کینو نۃ ( بتشدید یاء کے ساتھ اکثر استعمال ہوتا ہے المکان ۔ بعض کے نزدیک یہ دراصل کان یکون ( ک و ن ) سے ہے مگر کثرت استعمال کے سبب میم کو اصلی تصور کر کے اس سے تملن وغیرہ مشتقات استعمال ہونے لگے ہیں جیسا کہ مسکین سے تمسکن بنا لیتے ہیں حالانکہ یہ ( ص ک ن ) سے ہے ۔ استکان فلان فلاں نے عاجز ی کا اظہار کیا ۔ گو یا وہ ٹہھر گیا اور ذلت کی وجہ سے سکون وطما نینت کو چھوڑدیا قرآن میں ہے : ۔ فَمَا اسْتَكانُوا لِرَبِّهِمْ [ المؤمنون/ 76] تو بھی انہوں نے خدا کے آگے عاجزی نہ کی ۔ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ ثوب أصل الثَّوْب : رجوع الشیء إلى حالته الأولی التي کان عليها، أو إلى الحالة المقدّرة المقصودة بالفکرة، وهي الحالة المشار إليها بقولهم : أوّل الفکرة آخر العمل . فمن الرجوع إلى الحالة الأولی قولهم : ثَابَ فلان إلى داره، وثَابَتْ إِلَيَّ نفسي، وسمّي مکان المستسقي علی فم البئر مَثَابَة، ومن الرجوع إلى الحالة المقدرة المقصود بالفکرة الثوب، سمّي بذلک لرجوع الغزل إلى الحالة التي قدّرت له، وکذا ثواب العمل، وجمع الثوب أَثْوَاب وثِيَاب، وقوله تعالی: وَثِيابَكَ فَطَهِّرْ [ المدثر/ 4] ( ث و ب ) ثوب کا اصل معنی کسی چیز کے اپنی اصلی جو حالت مقدمہ اور مقصود ہوتی ہے اس تک پہنچ جانا کے ہیں ۔ چناچہ حکماء کے اس قول اول الفکرۃ اٰخرالعمل میں اسی حالت کی طرف اشارہ ہے یعنی آغاز فکر ہی انجام عمل بنتا ہے ۔ چناچہ اول معنی کے لحاظ سے کہا جاتا ہے ۔ شاب فلان الی درہ ۔ فلاں اپنے گھر کو لوٹ آیا ثابت الی نفسی میری سانس میری طرف ہوئی ۔ اور کنوئیں کے منہ پر جو پانی پلانے کی جگہ بنائی جاتی ہے اسے مثابۃ کہا جاتا ہے اور غور و فکر سے حالت مقدرہ مقصود تک پہنچ جانے کے اعتبار سے کپڑے کو ثوب کہاجاتا ہے کیونکہ سوت کاتنے سے عرض کپڑا بننا ہوتا ہے لہذا کپڑا بن جانے پر گویا سوت اپنی حالت مقصود ہ کی طرف لوٹ آتا ہے یہی معنی ثواب العمل کا ہے ۔ اور ثوب کی جمع اثواب وثیاب آتی ہے اور آیت کریمہ ؛۔ وَثِيابَكَ فَطَهِّرْ [ المدثر/ 4] اپنے کپڑوں کو پاک رکھو ۔ دنا الدّنوّ : القرب بالذّات، أو بالحکم، ويستعمل في المکان والزّمان والمنزلة . قال تعالی: وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] ، وقال تعالی: ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] ، هذا بالحکم . ويعبّر بالأدنی تارة عن الأصغر، فيقابل بالأكبر نحو : وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَ وعن الأوّل فيقابل بالآخر، نحو : خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] دنا ( دن و ) الدنو ( ن) کے معنی قریب ہونے کے ہیں اور یہ قرب ذاتی ، حکمی ، مکانی ، زمانی اور قرب بلحاظ مرتبہ سب کو شامل ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ وَمِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِها قِنْوانٌ دانِيَةٌ [ الأنعام/ 99] اور کھجور کے گابھے میں سے قریب جھکے ہوئے خوشے کو ۔ اور آیت کریمہ :۔ ثُمَّ دَنا فَتَدَلَّى[ النجم/ 8] پھر قریب ہوئے اور آگے بڑھے ۔ میں قرب حکمی مراد ہے ۔ اور لفظ ادنیٰ کبھی معنی اصغر ( آنا ہے۔ اس صورت میں اکبر کے بالمقابل استعمال ہوتا هے۔ جیسے فرمایا :۔ وَلا أَدْنى مِنْ ذلِكَ وَلا أَكْثَرَاور نہ اس سے کم نہ زیادہ ۔ اور کبھی ادنیٰ بمعنی ( ارذل استعمال ہوتا ہے اس وقت یہ خبر کے مقابلہ میں استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ [ البقرة/ 61] بھلا عمدہ چیزیں چھوڑ کر ان کے عوض ناقص چیزیں کیوں چاہتے ہو۔ اور کبھی بمعنی اول ( نشاۃ اولٰی ) استعمال ہوتا ہے اور الآخر ( نشاۃ ثانیہ) کے مقابلہ میں بولا جاتا ہے جیسے فرمایا :۔ کہ اگر اس کے پاس ایک دینا بھی امانت رکھو ۔ خَسِرَ الدُّنْيا وَالْآخِرَةَ [ الحج/ 11] اس نے دنیا میں بھی نقصان اٹھایا اور آخرت میں بھی بصیر البَصَر يقال للجارحة الناظرة، وللقوّة التي فيها، ويقال لقوة القلب المدرکة : بَصِيرَة وبَصَر، نحو قوله تعالی: فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] ، ولا يكاد يقال للجارحة بصیرة، ويقال من الأوّل : أبصرت، ومن الثاني : أبصرته وبصرت به وقلّما يقال بصرت في الحاسة إذا لم تضامّه رؤية القلب، وقال تعالیٰ في الأبصار : لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ [ مریم/ 42] ومنه : أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف/ 108] أي : علی معرفة وتحقق . وقوله : بَلِ الْإِنْسانُ عَلى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ [ القیامة/ 14] أي : تبصره فتشهد له، وعليه من جو ارحه بصیرة تبصره فتشهد له وعليه يوم القیامة، ( ب ص ر) البصر کے معنی آنکھ کے ہیں ، نیز قوت بینائی کو بصر کہہ لیتے ہیں اور دل کی بینائی پر بصرہ اور بصیرت دونوں لفظ بولے جاتے ہیں قرآن میں ہے :۔ فَكَشَفْنا عَنْكَ غِطاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ [ ق/ 22] اب ہم نے تجھ پر سے وہ اٹھا دیا تو آج تیری نگاہ تیز ہے ۔ اور آنکھ سے دیکھنے کے لئے بصیرۃ کا لفظ استعمال نہیں ہوتا ۔ بصر کے لئے ابصرت استعمال ہوتا ہے اور بصیرۃ کے لئے ابصرت وبصرت بہ دونوں فعل استعمال ہوتے ہیں جب حاسہ بصر کے ساتھ روئت قلبی شامل نہ ہو تو بصرت کا لفظ بہت کم استعمال کرتے ہیں ۔ چناچہ ابصار کے متعلق فرمایا :۔ لِمَ تَعْبُدُ ما لا يَسْمَعُ وَلا يُبْصِرُ [ مریم/ 42] آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں ۔ اور اسی معنی میں فرمایا ؛ ۔ أَدْعُوا إِلَى اللَّهِ عَلى بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي [يوسف/ 108] یعنی پوری تحقیق اور معرفت کے بعد تمہیں اللہ کی طرف دعوت دیتا ہوں ( اور یہی حال میرے پروردگار کا ہے ) اور آیت کریمہ ؛۔ بَلِ الْإِنْسانُ عَلى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ [ القیامة/ 14] کے معنی یہ ہیں کہ انسان پر خود اس کے اعضاء میں سے گواہ اور شاہد موجود ہیں جو قیامت کے دن اس کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دینگے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣٤) جو ان کے اعمال سے جو کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیے ہیں، صرف دنیاوی منافع چاہتا ہے تو وہ اپنی نیت کو درست کرکے صرف اللہ تعالیٰ کے لیے عمل کرے کیوں کہ اس کی قدرت میں دنیا و آخرت کے تمام منافع ہیں اور وہ تمہاری باتوں کو سننے والا اور تمہارے اعمال سے آگاہ ہے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣٤ (مَنْ کَانَ یُرِیْدُ ثَوَاب الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰہِ ثَوَاب الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ ط) جو شخص اپنی ساری بھاگ دوڑ اور دن رات کی محنت دنیا کمانے ‘ دولت اور جائیداد بڑھانے ‘ عہدوں میں ترقی پانے اور مادی طور پر پھلنے پھولنے میں لگا رہا ہے ‘ دوسری طرف اللہ کے احکام اور حقوق کو نظر انداز کر رہا ہے ‘ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس تو دنیا کے خزانے بھی ہیں اور آخرت کے بھی۔ اور یہ کہ وہ صرف دنیاوی چیزوں کی خواہش کر کے گویا سمندر سے قطرہ حاصل کرنے پر اکتفا کر رہا ہے۔ بقول علامہ اقبالؔ ؂ تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا ورنہ گلشن میں علاج تنگئداماں بھی ہے ! لہٰذا اللہ سے دنیا بھی مانگو اور آخرت بھی۔ اور اس طرح مانگو جس طرح اس نے مانگنے کا طریقہ بتایا ہے : (رَبَّنَآ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَاب النَّارِ ) (البقرۃ) ۔ تم لوگ اللہ کے ساتھ اپنے معاملات کو درست کرو ‘ اس کے ساتھ اپنا تعلق خلوص و اخلاص کی بنیادوں پر استوار کرو ‘ اس کی طرف سے جو ذمہ داریاں ہیں ان کو ادا کرو ‘ پھر اللہ تعالیٰ یقیناً دنیا میں بھی نوازے گا اور آخرت میں بھی۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

163. In the Qur'an God often rounds off His enunciation of laws by urging people to reform those aspects of family life and social order in which they are generally liable to commit injustice with admonitions designed to create in people the urge to follow those legal injunctions. Since in the preceding verse the believers were asked to treat women and orphans with justice and kindness it was deemed necessary to bring home to them the following points: First, that people should not entertain the illusion that they have the power to make or mar the destinies of others, that if they were to withdraw their support, people would be left helpless. The fact is that the destinies of all lie in the Hand of God alone and He need not remain dependent upon any single person as the sole instrument for helping any particular creature. The resources of the Lord of the heavens and the earth are limitless and He also knows how to use those resources. Second, that the followers of the Prophet (peace be on him) ought to heed the admonition that was made to them, just as it was made to the followers of the former Prophets: to fear God in all their actions. They are being told in effect that by following God's guidance they will secure their own well-being rather than be the source of any benefit to God, that they can do God no harm by disobeying Him, just as it did not lie in the power of the followers of the former Prophets to cause God any harm. The Lord of the Universe does not need people's obedience. If they disobey He may simply replace them with some other nation, and their dismissal will not diminish the majesty and splendour of His realm in the least. Third, that God alone has the power to dispense the good of this world as well as that of the Hereafter, to lavish transient benefits as well as abiding felicity. It all depends on a man's nature and the extent of his ambition what kind of benefit he seeks from God. If a man is infatuated with the fleeting benefits of this world, and is prepared to sacrifice the benefits of the everlasting life, then God will grant him only the good of this world and he will have no share in the good of the Hereafter. God's benevolence is like a river which never dries up, a river which is both capable of, and geared to, providing abundant water to all who need their tillage watered. It is short-sighted and unambitious to want one's fields to be irrigated only once, and to be prepared thereafter to face the prospect of eternal drought. Anyone with breadth of vision would commit himself to submit to God and obey Him, thereby earning the well-being of both worlds. The section ends with the assertion that God is All-Seeing and All-Hearing. This means that God is fully aware of the actions of His creatures, and is unlike those negligent sovereigns who are blind in lavishing their favours. God governs the universe with full knowledge and awareness. He has an eye on the capacities and ambitions of all human beings and knows their qualities exactly. He is fully aware of the purposes to which people devote their efforts and energies. Anyone who 'wilfully decides to be disobedient to God should therefore not cherish hopes of receiving the favours reserved for those who obey Him.

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :163 بالعموم قانونی احکام بیان کرنے کے بعد ، اور بالخصوص تمدن و معاشرت کے ان پہلووں کی اصلاح پر زور دینے کے بعد جن میں انسان اکثر ظلم کا ارتکاب کرتا رہا ہے ، اللہ تعالیٰ اس قسم کے چند پر اثر جملوں میں ایک مختصر وعظ ضرور فرمایا کرتا ہے اور اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ نفوس کو ان احکام کی پابندی پر آمادہ کیا جائے ۔ اوپر چونکہ عورتوں اور یتیم بچوں کے ساتھ انصاف اور حسن سلوک کی ہدایت کی گئی ہے لہٰذا اس کے بعد ضروری سمجھا گیا کہ چند باتیں اہل ایمان کے ذہن نشین کر دی جائیں: ایک یہ کہ تم کبھی اس بھلاوے میں نہ رہنا کہ کسی کی قسمت کا بنانا اور بگاڑنا تمہارے ہاتھ میں ہے ، اگر تم اس سے ہاتھ کھینچ لو گے تو اس کا کوئی ٹھکانہ نہ رہے گا ۔ نہیں ، تمہاری اور اس کی سب کی قسمتوں کا مالک اللہ ہے اور اللہ کے پاس اپنے کسی بندے یا بندی کی مدد کا ایک تم ہی واحد ذریعہ نہیں ہو ۔ اس مالک زمین و آسمان کے ذرائع بے حد وسیع ہیں اور وہ اپنے ذرائع سے کام لینے کی حکمت بھی رکھتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ تمہیں اور تمہاری طرح پچھلے تمام انبیاء کی امتوں کو ہمیشہ یہی ہدایت کی جاتی رہی ہے کہ خدا ترسی کے ساتھ کام کرو ۔ اس ہدایت کی پیروی میں تمہاری اپنی فلاح ہے ، خدا کا کوئی فائدہ نہیں ۔ اگر تم اس کی خلاف ورزی کرو گے تو پچھلی تمام امتوں نے نافرمانیاں کر کے خدا کا کیا بگاڑ لیا ہے جو تم بگاڑ سکو گے ۔ اس فرمانروائے کائنات کو نہ پہلے کسی کی پروا تھی نہ اب تمہاری پروا ہے ۔ اس کے امر سے انحراف کرو گے تو وہ تم کو ہٹا کر کسی دوسری قوم کو سر بلند کر دے گا اور تمہارے ہٹ جانے سے اس کی سلطنت کی رونق میں کوئی فرق نہ آئے گا ۔ تیسرے یہ کہ خدا کے پاس دنیا کے فائدے بھی ہیں اور آخرت کے فائدے بھی ، عارضی اور وقتی فائدے بھی ہیں ، پائیدار اور دائمی فائدے بھی ۔ اب یہ تمہارے اپنے ظرف اور حوصلے اور ہمت کی بات ہے کہ تم اس سے کس قسم کے فائدے چاہتے ہو ۔ اگر تم محض دنیا کے چند روزہ فائدوں ہی پر ریجھتے ہو اور ان کی خاطر ابدی زندگی کے فائدوں کو قربان کر دینے کے لیے تیار ہو تو خدا یہ کچھ تم کو یہیں اور ابھی دے دے گا ، مگر پھر آخرت کے ابدی فائدوں میں تمہارا کوئی حصہ نہ رہے گا ۔ دریا تو تمہاری کھیتی کو ابد تک سیراب کرنے کے لیے تیار ہے ، مگر یہ تمہارے اپنے ظرف کی تنگی اور حوصلہ کی پستی ہے کہ صرف ایک فصل کی سیرابی کو ابدی خشک سالی کی قیمت پر خریدتے ہو ۔ کچھ ظرف میں وسعت ہو تو اطاعت و بندگی کا وہ راستہ اختیار کرو جس سے دنیا اور آخرت دونوں کے فائدے تمہارے حصہ میں آئیں ۔ آخر میں فرمایا اللہ سمیع و بصیر ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اندھا اور بہرا نہیں ہے کہ کسی شاہ بے خبر کی طرح اندھا دھند کام کرے اور اپنی عطاؤ بخشش میں بھلے اور برے کے درمیان کوئی تمیز نہ کرے ۔ وہ پوری با خبری کے ساتھ اپنی اس کائنات پر فرمانروائی کر رہا ہے ۔ ہر ایک کے ظرف اور حوصلے پر اس کی نگاہ ہے ۔ ہر ایک کے اوصاف کو وہ جانتا ہے ۔ اسے خوب معلوم ہے کہ تم میں سے کون کس راہ میں اپنی محنتیں اور کوششیں صرف کر رہا ہے ۔ تم اس کی نافرمانی کا راستہ اختیار کر کے ان بخششوں کی امید نہیں کر سکتے جو اس نے صرف فرماں برداری ہی کے لیے مخصوص کی ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

81: اس آیت میں یہ عمومی ہدایت دی گئی ہے کہ ایک مسلمان کو صرف دنیوی فائدوں ہی کی فکر میں نہیں پڑا رہنا چاہئے ؛ بلکہ اللہ سے دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگنی چاہئے اور پچھلی آیتوں سے اس کا تعلق بظاہر یہ ہے کہ میاں بیوی کو مصالحت یا علیحدگی کا فیصلہ کرتے وقت صرف دنیا کے فائدوں پر نظر نہیں رکھنی چاہئے ؛ بلکہ آخرت کی بھلائی بھی پیش نظر رکھنی چاہئے ؛ لہذا اگر مرد یا عورت اپنے کچھ دنیوی مفادات کی قربانی دے کر دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو آخرت میں بڑے ثواب کی امید ہے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 یعنی شریعت کے احکام پر عمل کرنے میں دنیا اور آخرت دونوں کا فائدہ ہے۔ لہذا دنیا کے لالچ میں آکر اللہ تعالیٰ کے احکام سے اعراض نہ کرو۔ (م۔ ع)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آخر میں فرمایا (مَنْ کَانَ یُرِیْدُ ثَوَاب الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰہِ ثَوَاب الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ ) اللہ سے آخرت کا ثواب مانگے اور اس کی آرزو بھی رکھے جو شخص دنیا کا طالب ہے اسے بتادو کہ اللہ کے پاس دونوں جہاں کا ثواب ہے۔ اشرف ترین چیز یعنی ثواب آخرت کا طالب ہونا چاہیے۔ (روح المعانی صفحہ ١٦٦: ج ٥) حضرت زید بن ثابت (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ جس کا مقصد آخرت ہی بن جائے اللہ تعالیٰ اس کے منتشر امور کو جمع فرما دے گا اور اس کے دل کو غنی کر دے گا اور دنیا اس کے پاس ذلیل ہو کر آئے گی اور جس کی نیت حصول دنیا ہو اس کے کاموں کو منتشر فرما دے گا اور اس کی آنکھوں کے سامنے تنگی کر دے گا۔ اور دنیا اسے اتنی ہی ملے گی جتنی اس کے لیے لکھ دی گئی۔ (الترغیب و الترہیب صفحہ ١٢١: ج ٤) آخر میں فرمایا (وَ کَان اللّٰہُ سَمِیْعًا بَصِیْرًا) یعنی اللہ تعالیٰ تمام اقوال کو سنتا ہے اور تمام احوال کو دیکھتا ہے۔ جو لوگ طالب دنیا ہیں صرف دنیا کے لیے عمل کرتے ہیں آخرت کی طرف نہیں بڑھتے اللہ تعالیٰ کو ان سب کا علم ہے جو لوگ ریا کاری کے طور پر عمل کرتے ہیں اللہ تعالیٰ سے ان کا حال پوشیدہ نہیں ہے وہ اپنے علم کے مطابق بدلہ دے گا۔ قال صاحب الروح صفحہ ١٦٧: ج ٥ ای کیف یرائی المرائی وان اللّٰہ سمیع بما یھجس فی خاطرہ و ما تامرہ بہ دواعیہ بصیر باحوالہ کلھا ظاھرھا و باطنھا و یجازیہ علیٰ ذلک۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 اگر وہ چاہے تو اے لوگو تم سب کو ایک ہی دفعہ معدوم کر دے اور تم سب کو فنا کر دے اور تمہاری جگہ دوسروں کو لا موجود کرے اور کسی دوسری مخلوق کو تمہاری جگہ لے آئے اور یہ تمہارا فنا کردینا اور دوسروں کو تمہاری جگہ لے آنا اس پر اللہ تعالیٰ کو پوری قدرت حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ ایسا کرنے پر قادر ہے اور دیکھو جو شخص صرف دنیا کا معاوضہ اور دنیا کا انعام چاہتا ہے تو وہ غلطی کرتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے پاس تو دنیا اور آخرت دونوں کا معاوضہ اور انعام موجود ہے تو ایسی حالت میں اعلیٰ کو چھوڑ کر ادنیٰ پر کیوں قناعت کرے اور اللہ تعالیٰ خوب سننے والا خوب دیکھنے والا ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ہر اعتبار سے مستغنی اور بےنیاز ہے اور وہ کسی کی اطاعت اور عبادت کا محتاج نہیں ہے جو بندہ عبادت کرتا ہے اور اس کی اطاعت بجا لاتا ہے تو وہ اپنے ہی فائدے اور نفع کو ایسا کرتا ہے لہٰذا تم اس کی اطاعت کو غنیمت سمجھو کہ اس نے تم کو اپنے کام میں لگا رکھا ہے ورنہ وہ تو اس پر بھی قادر ہے کہ تم سب کو یہ بیک وقت فنا کر دے اور تمہاری جگہ اور مخلوق کو لا بسائے اور ان کو اپنے کام میں لگا دے اور وہ مخلوق اس کے احکام کی بجائے آوری میں مشغول ہوجائے اور جب یہ عبادت و اطاعت کا کام دوسروں کے سپرد کیا جاسکتا ہے تو تم اپنی سعادت سمجھو کہ یہ کام تم سے لیا جا رہا ہے اس شفقت آمیز تنبیہہ کے بعد ایک اور بات تعلیم فرمائی کہ دیکھو جو اطاعت کرو اور جو حکم بجا لائو اس میں آخرت کے ثواب کا خیال کیا کرو اور صرف دنیوی منافع کا خیال نہ کیا کرو دین کے کاموں کا ثواب فقط دنیا میں طلب کرنا بڑی کمزوری اور غلطی کی بات ہے اور اس کا یہ مطلب نہ سمجھنا کہ اللہ تعالیٰ کے پاس معاوضہ اور ثواب نہیں ہے اس کے پاس تو دنیا اور آخرت دونوں کا انعام موجود ہے کوئی شخص اپنی غلطی سے دنیا میں لینا چاہے تو یہ لینے والے کا نقصان ہے اس لئے طلب کرنے والے کو آخرت کے انعام کی توقع کرنی چاہئے کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ آخرت کا ثواب چاہنے والوں کو تو دنیا اور آخرت دونوں میں انعام ملتا ہے اور فقط دنیا کے خواستگاروں کو آخرت میں محرومی ہوتی ہے اس لئے بہترین تہذیب سکھائی۔ اسی قسم کے مضمون کی آیت چوتھے پارے میں بھی گذر چکی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی غایت و شفقت اور مہربانی ہے کہ احکام کی بجائیآوری کے ساتھ انعام مانگنے کا بھی طریقہ تعلیم فرمایا۔ حضرت ابن عباس کا قول ہے ا کہ آیت ان یشا یذھبکم سے مشرکین اور منافقین مراد ہیں۔ بعض مفسرین نے آیت کو عام رکھا ہے۔ وکان اللہ سمیعاً بصیرا کا مطلب یہ ہے کہ ہر ایک شخص کی درخواست کو خواہ وہ دنیا کے لئے ہو یا دین کے لئے سنتا ہے اور ہر شخص کے اعمال کو اور ہر شخص کی نیت کو دیکھتا ہے۔ دونوں آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ موجودہ تمام مخلوق کو فنا کردینے اور اس کی جگہ دوسری مخلوق کو موجود کردینے پر قادر ہے خواہ وہ مخلوق بشر ہو یا فرشتے ہوں بہرحال ! وہ تم سے اطاعت کرنے میں بہتر ہوگی اور تم جیسی نہ ہوگی۔ جیسا کہ سورة محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ہے وان تتولو ایستبدل قوماً غیر کم ثم لایکونوا اشالکم اللہ تعالیٰ اس قسم کے انقلاب پر پوری طرح قادر ہے ۔ اگرچہ قوموں کی الٹ پلٹ ہمیشہ ہوتی رہتی ہے جیسا کہ آٹھویں پارے میں ہے۔ کما انشاکم من ذریۃ قوم اخرین اوپر کے لوگ مرتے جاتے ہیں اور ان کی جگہ نوجوان لیتے رہتے ہیں لیکن یہاں یکبارگی کسی قوم کا استیصال مراد ہے۔ دنیا کے معاوضہ کا خلاصہ یہ ہے کہ جہاد میں مثلاً صرف غنیمت مقصود ہو یا اور کسی نیک کام کا بدلا دنیا ہی میں حاصل کرنا مقصود ہو تو اللہ تعالیٰ کی قدرت میں دونوں باتیں موجود ہیں لیکن مسلمان کو چاہئے کہ اعلیٰ درجہ کی چیز کو چھوڑ کر ادنیٰ درجہ کی چیز کو اختیار نہ کرے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی سب مل کر شرع پر قائم رہو تو اللہ تعالیٰ دنیا بھی دے اور آخرت بھی (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب کا مقصد بھی یہ ہے کہ نیت نیک رکھو دنیا کی دولت اور شہرت وغیرہ کی آرزو نہ کرو اگر نیت نیک ہوگی تو اللہ تعالیٰ دنیوی خواہش بھی پوری کر دے گا اور آخرت میں بھی اجر عطا فرمائے گا اوپر سے مختلف احکام کا بیان ہو رہا ہے کچھ عبادات کا بیان تھا کچھ معاملات کا بیان تھا اسی میں طمعمہ اور بشیر کا ذکر ہوا معاملات میں چونکہ فیصلہ کرنیوالوں کو اور گواہوں کو اور خود صاحب معاملہ کو عدل و انصاف کی ضرورت ہے اس لئے آگے اس کا ذکر فرماتے ہیں چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)