Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 135

سورة النساء

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡا قَوّٰمِیۡنَ بِالۡقِسۡطِ شُہَدَآءَ لِلّٰہِ وَ لَوۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ اَوِ الۡوَالِدَیۡنِ وَ الۡاَقۡرَبِیۡنَ ۚ اِنۡ یَّکُنۡ غَنِیًّا اَوۡ فَقِیۡرًا فَاللّٰہُ اَوۡلٰی بِہِمَا ۟ فَلَا تَتَّبِعُوا الۡہَوٰۤی اَنۡ تَعۡدِلُوۡا ۚ وَ اِنۡ تَلۡوٗۤا اَوۡ تُعۡرِضُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرًا ﴿۱۳۵﴾

O you who have believed, be persistently standing firm in justice, witnesses for Allah , even if it be against yourselves or parents and relatives. Whether one is rich or poor, Allah is more worthy of both. So follow not [personal] inclination, lest you not be just. And if you distort [your testimony] or refuse [to give it], then indeed Allah is ever, with what you do, Acquainted.

اے ایمان والو! عدل و انصاف پر مضبوطی سے جم جانے والے اور خوشنودی مولا کے لئے سچی گواہی دینے والے بن جاؤ گو وہ خود تمہارے اپنے خلاف ہو یا اپنے ماں باپ کے یا رشتہ داروں عزیزوں کے وہ شخص اگر امیر ہو تو اور فقیر ہو تو دونوں کے ساتھ اللہ کو زیادہ تعلق ہے اس لئے تم خواہش نفس کے پیچھے پڑ کر انصاف نہ چھوڑ دینا اور اگر تم نے کج بیانی یا پہلو تہی کی تو جان لو کہ جو کچھ تم کرو گے اللہ تعالٰی اس سے پوری طرح باخبر ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Commanding Justice and Conveying the Witness for Allah Allah commands; يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ كُونُواْ قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاء لِلّهِ ... O you who believe! Stand out firmly for justice, as witnesses to Allah, Allah commands His believing servants to stand up for justice and fairness and not to deviate from it, right or left. They should not fear the blame of anyone or allow anyone to prevent them from doing something for the sake of Allah. They are also required to help, support and aid each other for Allah's sake. Allah's statement, شُهَدَاء لِلّهِ (as witnesses to Allah) is similar to His statement, وَأَقِيمُواْ الشَّهَـدَةَ لِلَّهِ And establish the testimony for Allah. (65:2) Testimony should be delivered precisely, for the sake of Allah, thus making the testimony correct, truly just, and free of alterations, changes or deletions. This is why Allah said, ... وَلَوْ عَلَى أَنفُسِكُمْ ... even though it be against yourselves, meaning, give correct testimony, and say the truth when you are asked about it, even if harm will effect you as a consequence. Indeed, Allah shall make a way out and give relief for those who obey Him in every matter. Allah's statement, ... أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالاَقْرَبِينَ ... or your parents, or your kin, means, even if you have to testify against your parents and kin, do not compromise for their sake. Rather, give the correct and just witness even if they are harmed in the process, for the truth presides above everyone and is preferred to everyone. Allah's statement, ... إِن يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقَيرًا فَاللّهُ أَوْلَى بِهِمَا ... be he rich or poor, Allah is a better Protector to both. means, do not favor someone (in your testimony) because he is rich, or feel pity for him because he is poor, for Allah is their caretaker, a better Protector of them than you, and has better knowledge of what is good for them. Allah's statement, ... فَلَ تَتَّبِعُواْ الْهَوَى أَن تَعْدِلُواْ ... So follow not the lusts, lest you may avoid justice; means, let not desire, lust or the hatred you have against others, lure you into injustice in your affairs. Rather, stand for justice in all situations. Allah said; وَلاَ يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَأنُ قَوْمٍ عَلَى أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى And let not the enmity and hatred of others make you avoid justice. Be just: that is nearer to piety. (5:8) when the Prophet sent Abdullah bin Rawahah to collect the tax on the fruits and produce of the Jews of Khyber, they offered him a bribe so that he would go easy on them. He said; "By Allah! I have come to you from the dearest of the creation to me (Muhammad), and you are more hated by me than an equivalent number of apes and swine. However, my love for him (the Prophet) and hatred for you shall not prevent me from being just with you." On that, they said, "This (justice) is the basis which the heavens and earth were created." We will mention this Hadith later in Surah Al-Ma'idah (Surah 5) Allah willing. Allah's statement afterwards, ... وَإِن تَلْوُواْ أَوْ تُعْرِضُواْ ... and if you Talwu or Tu`ridu. According to Mujahid and several others among the Salaf, means, "Distort your testimony and change it." Talwu, includes distortion and intentional lying. For instance, Allah said, وَإِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِيقًا يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُم بِالْكِتَـبِ And verily, among them is a party who Yalwuna (distort) the Book with their tongues (as they read). (3:78) Tu`ridu, includes hiding and withholding the testimony. Allah said, وَمَن يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ ءَاثِمٌ قَلْبُهُ Who hides it, surely, his heart is sinful. (2:283) The Prophet said, خَيْرُ الشُّهَدَاءِ الَّذِي يَأْتِي بِشَهَادَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا The best witness is he who discloses his testimony before being asked to do so. Allah then warned, ... فَإِنَّ اللّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا Verily, Allah is Ever Well-Acquainted with what you do. and will reward or punish you accordingly.

انصاف اور سچی گواہی تقوے کی روح ہے اللہ تعالیٰ ایمانداری کو حکم دیتا ہے کہ وہ عدل و انصاف پر مضبوطی سے جمے رہیں اس سے ایک انچ ادھر ادھر نہ سرکیں ، ایسا نہ ہو کہ ڈر کی وجہ سے یا کسی لالچ کی بنا پر یا کسی خوشامد میں یا کسی پر رحم کھا کر یا کسی سفارش سے عدل و انصاف چھوڑ بیٹھیں ۔ سب مل کر عدل کو قائم و جاری کریں ایک دوسری کی اس معاملہ میں مدد کریں اور اللہ کی مخلوق میں عدالت کے سکے جما دیں ۔ اللہ کے لئے گواہ بن جائیں جیسے اور جگہ ہے ( وَاَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ ) 65 ۔ الطلاق:2 ) یعنی گواہیاں اللہ کی رضا جوئی کے لئے دو جو بالکل صحیح صاف سچی اور بےلاگ ہوں ۔ انہیں بدبو نہیں ، چھپاؤ نہیں ، چبا کر نہ بولو صاف صاف سچی شہادت دوچاہے وہ تمہارے اپنے ہی خلاف ہو تم حق گوئی سے نہ رکو اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے فرماں بردار غلاموں کی مخلصی کی صورتیں بہت سی نکال دیتا ہے کچھ اسی پر موقوف نہیں کہ جھوٹی شہادت سے ہی اس کا چھٹکارا ہو ۔ گو سچی شہادت ماں باپ کے خلاف ہوتی ہو گو اس شہادت سے رشتے داروں کا نقصان پہنچتا ہو ، لیکن تم سچ ہاتھ سے نہ جانے دو گواہی سچی دو ، اس لئے کہ حق ہر ایک پر غالب ہے ، گواہی کے وقت نہ تونگر کا لحاظ کرو نہ غریب پر رحم کرو ، ان کی مصلحتوں کو اللہ اعلیٰ و اکبر تم سے بہت بہتر جانتا ہے ، تم ہر صورت اور ہر حالت میں سچی شہادت ادا کرو ، دیکھو کسی کے برے میں آ کر خود اپنا برا نہ کر لو ، کسی کی دشمنی میں عصبیت اور قومیت میں فنا ہو کر عدل و انصاف ہاتھ سے نہ جانے دو بلکہ ہر حال ہر آن عدل و انصاف کا مجسمہ بنے رہو ، جیسے اور جگہ فرمان باری ہے ۔ ( وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا ۭاِعْدِلُوْا ۣ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى ) 5 ۔ المائدہ:8 ) کسی قوم کی عداوت تمہیں خلاف عدل کرنے پر آمادہ نہ کر دے عدل کرتے رہو یہی تقویٰ کی شان کے قریب تر ہے ، حضرت عبداللہ بن رواحہ کو جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر والوں کی کھیتیوں اور باغوں کا اندازہ کرنے کو بھیجا تو انہوں نے آپ کو رشوت دینا چاہی کہ آپ مقدار کم بتائیں تو آپ نے فرمایا سنو اللہ کی قسم نبی صلی اللہ علیہ وسلم مجھے تمام مخلوق سے زیادہ عزیز ہیں اور تم میرے نزدیک کتوں اور خنزیروں سے بدتر ہو لیکن باوجود اس کے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں آ کر یا تمہاری عداوت کو سامنے رکھ کر ناممکن ہے کہ میں انصاف سے ہٹ جاؤں اور تم میں عدل نہ کروں ۔ یہ سن کر وہ کہنے لگے بس اسی سے تو زمین و آسمان قائم ہے ۔ یہ پوری حدیث سورہ مائدہ کی تفسیر میں آئے گی انشاء اللہ تعالیٰ پھر فرماتا ہے اگر تم نے شہادت میں تحریف کی یعنی بدل دی غلط گوئی سے کام لیا واقعہ کے خلاف گواہی دی دبی زبان سے پیچیدہ الفاظ کہے واقعات غلط پیش کر دئے یا کچھ چھپا لیا کچھ بیان کیا تو یاد رکھو اللہ جیسے باخبر حاکم کے سامنے یہ چال چل نہیں سکتی وہاں جا کر اس کا بدلہ پاؤ گے اور سزا بھگتو گے ، حضور رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے بہترین گواہ وہ ہیں جو دریافت کرنے سے پہلے ہی سچی گواہی دے دیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

135۔ 1 اس میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو عدل و انصاف قائم کرنے اور حق کے مطابق گواہی دینے کی تاکید فرما رہا ہے چاہے اس کی وجہ سے انہیں یا ان کے والدین اور رشتہ داروں کو نقصان ہی اٹھانا پڑے۔ اس لئے کہ حق سب پر حاکم ہے اور سب پر مقدم ہے۔ 135۔ 2 یعنی کسی مالدار کی وجہ سے رعایت نہ کی جائے نہ کسی فقیر کے فقر کا اندیشہ تمہیں سچی بات کہنے سے روکے بلکہ اللہ ان دونوں سے تمہارے زیادہ قریب اور مقدم ہے۔ 135۔ 3 یعنی خواہش نفس، عصبیت یا بغض تمہیں انصاف کرنے سے نہ روک دے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰٓي اَلَّا تَعْدِلُوْا) 005:008 ' تمہیں کسی قوم کی دشمنی اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم انصاف نہ کرو۔ 135۔ 4 تلووا، لیی سے ماخوذ ہے جو تحریف اور جان بوجھ کر جھوٹ بولنے کو کہا جاتا ہے۔ مطلب شہادت میں تحریف و تغیر ہے اور اعراض سے مراد شہادت کا چھپانا اور اس کا ترک کرنا ہے۔ ان دونوں باتوں سے بھی روکا گیا ہے۔ اس آیت میں عدل و انصاف کی تاکید اور اس کے لئے جن باتوں کی ضرورت ہے۔ ان کا اہتمام کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مثلاً : ہر حال میں عدل کرو اس سے انحراف نہ کرو، کسی ملامت گر کی ملامت اور کوئی اور محرک اس میں رکاوٹ نہ بنے بلکہ اس کے قیام میں تم ایک دوسرے کے معاون اور دست بازو بنو۔ صرف اللہ کی رضا تمہارے پیش نظر ہو، کیونکہ اس صورت میں تم تحریف، تبدیل اور کتمان سے گریز کرو گے اور تمہارا فیصلہ عدل کی میزان میں پورا اترے گا۔ عدل و انصاف کی زد اگر تم پر یا تمہارے والدین پر یا دیگر قریبی رشتے داروں پر بھی پڑے، تب بھی تم پروا مت کرو اور اپنی اور ان کی رعایت کے مقابلے میں عدل کے تقاضوں کو اہمیت دو ۔ کسی مال دار کو اس کی تونگری کی وجہ سے رعایت نہ کرو اور کسی تنگ دست کے فقر سے خوف مت کھاؤ کیونکہ وہی جانتا ہے کہ ان دونوں کی بہتری کس میں ہے ؟ فیصلے میں خواہش نفس، عصبیت اور دشمنی آڑے نہیں آنی چاہئے۔ بلکہ ان کو نظر انداز کر کے بےلاگ عدل کرو۔ عدل کا یہ اہتمام جس معاشرے میں ہوگا، وہاں امن و سکون اور اللہ کی طرف سے رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوگا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم نے اس نکتے کو بھی خوب سمجھ لیا تھا، چناچہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ (رض) کی بابت آتا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں خیبر کے یہودیوں کے پاس بھیجا کہ وہ وہاں کے پھلوں اور فصلوں کا تخمینہ لگا کر آئیں۔ یہودیوں نے انہیں رشوت کی پیشکش کی تاکہ وہ کچھ نرمی سے کام لیں۔ انہوں نے فرمایا " اللہ کی قسم میں اس کی طرف سے نمائندہ بن کر آیا ہوں جو دنیا میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے اور تم میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہو۔ لیکن اپنے محبوب کی محبت اور تمہاری دشمنی مجھے اس بات پر آمادہ نہیں کرسکتی کہ میں تمہارے معاملے میں انصاف نہ کروں۔ " یہ سن کر انہوں نے کہا " اسی عدل کیوجہ سے آسمان و زمین کا یہ نظام قائم ہے " (تفسیر ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٧٨] انصاف کی گواہی کا تاکیدی حکم :۔ اپنے خلاف گواہی دینے کا مطلب یہ ہے کہ اپنے جرم کا برملا اعتراف کرلے خواہ اس کا کتنا ہی نقصان برداشت کرنا پڑے اور یہ بڑا حوصلے اور اجر وثواب کا کام ہے۔ اپنے بعد سب سے قریبی والدین ہوتے ہیں پھر اس کے بعد دوسرے قرابت دار۔ اور ظاہر ہے کہ جو شخص اپنے خلاف گواہی دینے کی جرأت کرسکتا ہے وہ والدین اوراقرباء کے خلاف بدرجہ اولیٰ ایسی جرات کرسکے گا۔ اپنے خلاف گواہی دینے اور حق کی بات صاف صاف کہہ دینے سے بسا اوقات مخالف فریق پر بہت خوشگوار اثر پڑتا ہے اور اس کا دل از خود نرمی کی طرف مائل ہوجاتا ہے۔ [١٧٩] دولت مند کے حق میں غلط گواہی اس لیے دی جاتی ہے کہ اس طرح گواہی دینے والا اس سے کوئی دنیوی مفاد حاصل کرسکے۔ اور غریب کے حق میں اس لیے کہ امیر کے مقابلہ میں غریب پر رحم اور ترس کھانا چاہیے اور اس طرح شاید اس کا کچھ بھلا ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ یہ فرما رہے ہیں کہ ان دونوں کا اللہ وارث ہے اور وہ ان دونوں کا تم سے زیادہ خیر خواہ ہے۔ ان کا بلکہ تمہارا اپنا بھی نفع و نقصان تمہارے ہاتھ میں نہیں۔ لہذا جو بھی صورت ہو گواہی تمہیں انصاف کے ساتھ بالکل ٹھیک ٹھیک اور اللہ سے ڈر کر دینی چاہیے۔ [١٨٠] گواہی میں ہیرا پھیری کی صورتیں :۔ شہادت کے وقت لگی لپٹی یا گول مول سی بات مت کرو جس سے کسی فریق کو نقصان پہنچ جائے۔ اور اس کی کئی صورتیں ہیں مثلاً مبنی برحق شہادت کا کچھ حصہ چھپایا جائے اور سمجھے کہ میں نے شہادت کے وقت جھوٹ نہیں بولا۔ تو یہ کتمان حق، جھوٹی شہادت سے بھی بڑا گناہ ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ گواہ کو واقعہ کا پورا پورا علم ہے لیکن وہ اس ترتیب سے توڑ موڑ کر اور ہیرا پھیری کر کے بیان کرے کہ بات کچھ کی کچھ بن جائے۔ اور اس کا مقصد کسی ایک فریق کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے جس سے دوسرے کو از خود نقصان پہنچ جاتا ہے اور بعض دفعہ گواہ کسی اپنے ذاتی مفاد کے لیے بھی ایسے کام کرنے لگتا ہے۔ یہ سب صورتیں عدل و انصاف اور تقویٰ کے خلاف ہیں۔ واضح رہے کہ اگر اس آیت کو ظاہری مفہوم میں لیا جائے تو اس کا وہی مفہوم ہے جو اوپر بیان ہوا ہے تاہم ( کونوا قوامین بالقسط) کے الفاظ اس سے وسیع تر مفہوم کے حامل ہیں۔ قوام، قائم سے مبالغہ کا صیغہ ہے اور قسط ایسا عام لفظ ہے جس میں دنیوی معاملات، خانہ داری، باہمی معاملات اور لین دین، اپنے اور بیگانے، کافر اور مومن ہر ایک سے انصاف کرنے کا حکم شامل ہے اور یہ صرف عدالت میں گواہی دینے تک محدود نہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے، اس سے ڈرتے ہوئے جو بات کرو انصاف کی کرو۔ نیک کو نیک اور بد کو بد کہو۔ بات کہو تو سچی کہو خواہ اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو رہا ہو یا اس کی زد تمہارے والدین یا کسی قریبی رشتہ دار پر پڑ رہی ہو۔ امیر اور غریب، کافر اور مومن کسی سے بھی رعایت نہ کرو بلکہ صرف اللہ تعالیٰ کی رعایت رکھو۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بالْقِسْطِ ۔۔ : یعنی انصاف پر پوری طرح قائم رہ کر اللہ کے لیے گواہی دو ، چاہے وہ تمہارے خلاف ہی پڑے، یا والدین یا قرابت داروں کے اور اس میں تمہارا ذاتی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ (ابن کثیر) 2 اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اولاد کی شہادت ماں باپ کے خلاف قبول ہوگی اور یہ ان کے ساتھ ” بر “ یعنی احسان کے منافی نہیں ہے۔ والدین اور بھائی کی شہادت بھی سلف کے نزدیک مقبول ہے، مگر یہ اسی صورت میں ہے کہ جب وہ عادل ہوں اور ان پر تہمت نہ ہو۔ اسی تہمت کے پیش نظر بعض ائمہ نے میاں بیوی کی ایک دوسرے کے حق میں شہادت کو جائز رکھا ہے اور بعض نے رد کیا ہے۔ (قرطبی ) اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا ۔۔ : یعنی جس کے خلاف تمہاری گواہی پڑ رہی ہے وہ دولت مند ہے تب، اور غریب ہے تب، تم اللہ تعالیٰ اور اس کی شریعت سے بڑھ کر اس کے خیر خواہ نہیں ہوسکتے، لہٰذا نہ تم دولت مند کی دولت مندی کی وجہ سے اس کی بےجا حمایت یا مخالفت کرو اور نہ غریب پر ترس کھا کر اس کی بےجا رعایت کرو، بلکہ ہر صورت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق سچی گواہی دو ۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ غریب کی غربت تمہیں اس کی بےجا حمایت پر آمادہ کر دے، تم اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اس کے بندوں کے، خواہ وہ امیر ہوں یا غریب، نہ زیادہ خیر خواہ ہوسکتے ہو اور نہ زیادہ ان پر حق رکھنے والے۔ وَاِنْ تَلْوٗٓا “ لوی یلوی لیاً (ض) ہیچ دینا یعنی اگر تم زبان کو پیچ دے کر اس طرح بات بنا کر پیش کرو کہ جس کے خلاف گواہی پڑنی چاہیے وہ بچ جائے ” اَوْ تُعْرِضُوْا “ یعنی گواہی دینے ہی سے پہلو بچاؤ، بلکہ چھپا جاؤ تو بیشک تم جو کچھ کرتے ہو اللہ تعالیٰ ہمیشہ سے اس سے پوری طرح باخبر ہے، اس کی پوری سزا اللہ کے ہاں پاؤ گے۔ یہ نہ سمجھنا کہ ہم نے صاف جھوٹ نہیں بولا تو جھوٹی گواہی کے گناہ سے بچ جائیں گے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The real purpose of sending prophets and scriptures In this verse of Surah Al-Nisa&, all Muslims have been instructed to uphold justice and be true when appearing as witnesses. Besides, things which can become impediments to the establishment of justice or the availability of true evidence have been removed in a highly eloquent manner. A verse of Surah al-Ma` idah (Volume 3) which will follow immediately after the completion of Surah al-Nis-a& carries the same subject. In fact, their words are nearly common. Then, there is a verse in Surah al-Hadid which tells us that the important purpose of sending Sayyidna Adam (علیہ السلام) as the vice-regent of Allah in this world followed by other blessed prophets one after the other with the same status alongwith Scriptures and Missions was to see that justice prevails in the world with peace coming in its wake. The objective was to have every human being as a distinct individual adopt justice as his or her hallmark within his or her circle of influence of control. As for the chronically contumacious who would not take to the path of justice and fairness through good counsel, education and communication and continue being dogged in their contumacy, then, they will be the ones who have to be compelled to observe justice through legal process and due penalization and punishment. The words of this verse from Surah Al-Hadid (57:25) are as follows: لَقَدْ أَرْ‌سَلْنَا رُ‌سُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ وَأَنزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ We have sent Our messengers with clear signs and We have sent with them the Book and the Balance so that people stand firm with justice and we sent the iron in which there is great awe, and benefits for people. Thus we know that the system under which Prophets and Books were sent was basically aimed at establishing justice. The reference to sending down iron at the end of the verse hints towards the eventu¬ality when the good counsel alone would not be enough to make people abide by justice. Instead, there would still be some compulsive miscreants who must be disciplined with the deterrent of iron, chains and bars and other weapons, in the best interest of establishing justice. Abiding by justice is not for the government alone. Now, we have before us the present verse Surah al-Nis-a& (4:135), and verse 8 of Surah al-Ma` idah (5) - كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّـهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ وَلَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَ‌بُ لِلتَّقْوَىٰ وَاتَّقُوا اللَّـهَ إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ‌ بِمَا تَعْمَلُونَ Be steadfast for Allah as witnesses for justice. And malice against a people should not bid you to not doing justice. Do justice. That is nearer to Taqwa. And fear Allah. Surely, Allah is all-aware of what you do. (5:8) as well as the verse from Surah al-Hadid (57:25) cited immediately above. In these verses, it has been clearly stated that establishing, and maintaining justice and being steadfast on it is not simply the duty of governments and courts. The instruction has been given to every human being obligating him or her to fulfill the demands of justice by being personally firm about it and, at the same time, by making efforts that others too stay equally firm about seeing justice done. However, a certain level of justice does fall in the jurisdiction of government and its officials when the wicked, the rebellious and the contumacious challenge and confront the processes of justice by flouting it personally as well as by stopping others to carry out its dictates. On such occa¬sions, penalization and punishment do become necessary. This enforcement of justice, obviously, can be done only by government which holds the reins of power in its hands. In the world today, leave alone the illiterate millions, even fairly educated people think that the dispensing of justice is the sole duty of governments and courts and the masses of people are not responsible for it. This attitude is one of the major reasons which has made the government and the people act as two confronting parties in every country and every state. As a result, a gulf of conflict divides the rulers and the ruled. Masses of people from every country demand and expect justice and fairness from their government but, strangely enough, are not themselves ready and eager to uphold justice. The outcome is all too visible everywhere in the world. Law stands on hold. Crime wave rides high. No doubt, we have law-making bodies in every country costing millions. When elections come, the furore created to elect representatives really shakes God&s earth. Then, these elected few, being supposedly the cream of the whole country, go on to make laws with great concern and caution keeping in view the needs and senti¬ments of their electorate. Then, the law is put forth for public opinion. When favourable, the law is considered enforceable. Then, the whole machinery of the government with its countless departments and experienced personal goes about enforcing the law so made. Now, this is a window to the custom-ridden world we live in. We have to look afresh and aim higher. In order to do something like this, we have to shake off from the torpor of blind following, the following of self-promoting custodians of civilization, and we shall, then, realize that things are not as bright as we are being made to see. Compare the state of affairs for a hundred years from now, say 1857-1957. The data will confirm that with every increase in law-making, there increased the exhibition of popular will in law and a corresponding increase in the machinery of law enforcement. One kind of police sprouted out in many more kinds resulting in a more than matching increase in ever-escalating crimes causing people to remain far more deprived of justice. With this graph of conditions rising up, more disorder in the world started showing up. Belief in the Hereafter and the fear of God: The only guarantee of universal peace The world is waiting for someone sensitive and discerning who would cross over the barriers of customised routines and seriously consider the message brought by the Arabian messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and delib¬erate in the reality of things as they are. Peace in the world has never been achieved through penal codes, nor will it ever be. The guarantee of universal peace can be delivered by nothing but the belief in the Hereafter and the fear of God. This twosome is the channel through which all obligations of the ruler and the ruled, masses and the government merge together on a common platform. Everyone starts pulsating with the crucial sense of individual responsibility. When it comes to respecting and defending law, the masses of people cannot get away by saying that this was the job of the officials. It will be noticed that the verses of the Holy Qur&an dealing with the establish-ment of justice as cited above end with an exhortation to this very revolutionary article of faith. The present verse of Surah al-Nis-a& ends with the reminder: إِنَّ اللَّـهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرً‌ا (Allah is all-aware of what you do). At the end of the verse from Surah al-Ma` idah, first came the instruction to observe Tagwa, the fear of Allah, after which it was said: إِنَّ اللَّـهَ خَبِيرٌ‌ بِمَا تَعْمَلُونَ (Allah is aware of what you do). Then, at the end of Surah al-Hadid, it was said: إِنَّ اللَّـهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ (Allah is powerful, mighty). Seen together; these three verses do not rest at giving instructions to both officials and masses that they should not only uphold and establish justice personally but should also see that others too do that. These verses go further ahead through their concluding statements whereby they focus all attention to a decisive reality which has the potential to generate a great revolution in human life and its aspira¬tions. This, in a few words, is the realization of the power and domain of Almighty Allah, the thought of having to be present before Him, and of reckoning, and of retribution. This was, gain in a nutshell, the secret behind the peace which prevailed in the less educated world a hundred years ago as compared with what we have in our day; and, in fact, it is the abandoning of such a valuable teaching that has deprived the modern progress-claiming, high-flying and satellite-borne world from the blessings of genuine peace on earth. It is in the best interest of the liberal people of the world to realize that science and its progress can take them to all sorts of frontiers - they can climb the skies, camp on stars and visit the depths of seas - but, the real end-product of all these high-tech equipments and efforts is something which they would fail to find on far away stars or in ever new inventions. This is still there for seekers to find. It is there, clear and true as ever, in the message brought by the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who appeared in Arabia, may our lives be ransomed for him and may the peace and blessings of Allah be upon him, within the message and teaching of his, that of believing in Allah and believing in the life-to ¬come and its reckoning: أَلَا بِذِكْرِ‌ اللَّـهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ |"Listen! Hearts rest at peace through the Dhikr (remembrance) of Allah.|" (13:28) Day by day, the astonishing discoveries of science do no more than confirm the most perfect power of Almighty Allah and go on to clearly demonstrate the state-of-the-art mastery of His creation which has no match. Before the skill and range of such creativity, every human claim to progress stands humbled - as the famous Persian line: چہ سود چوں دل دانا و چشم بینا نیست seems to ask: If you have no wisdom and no vision, what is the use of doing what you do? Recapitulating, we can say that the Holy Qur&an has, on the one hand, declared the establishment of justice and fairness as the very purpose of a universal order in the world while, on the other hand, it has proposed a unique system which - if adopted and put into practice - would metamorphose this very blood-thirsty and iniquitous world into a society of virtuous people which, in turn, would become Paradise now, instant and cash, much earlier than the promised Paradise of the Hereafter. In fact, one of the explanations given regarding the verse of the Qur&an: لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَ‌بِّهِ جَنَّتَانِ : And for one who fears the high station of his or her رَبّ Rabb (Lord), there will be two Paradises& is exactly what has been stated above. That is, the God-fearing will have two Paradises, one in the Hereafter and the other right here in this world. There is nothing Utopian about the idea. That it is feasible has been already demonstrated by the great harbinger of this message, the Holy Prophet of Islam, upon him the blessings of Allah, and peace. He has bequeathed this message to posterity, not as some unproven theory, but as a practical and functioning system. Then, after him, came al-Khulafa& al-Rashidun, the rightly-guided Caliphs and many more from among the rulers who followed the Sunnah of the noble Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of Islam strictly. As and when they acted in accordance with the princi¬ples set for them, the lion and the lamb were seen drinking at the same water trough, an imaginary saying for the ideal climate of justice for all, the strong and the weak, the poor and the rich, the labourer and the capitalist. Totally eliminated was whatever difference there could be between human beings. Law was respected by every indi¬vidual in bolted homes and in the darkness of nights. This is no fairy tale. These are facts of authentic history widely corroborated and confessed, even by open-minded non-Muslims. After understanding the essence of the Qur&anic system, detailed explanation of the verse is given below. Explanation The verse under reference opens with the words: كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ be upholders of justice). The word, قِسْطِ Qist, when it begins with Kasrah on Qaf, (the vowel point for i), it means justice and fairness. The true sense of justice and fairness is that every holder of a right should be given his or her due in full. Taken generally, it includes the rights of Allah (Huququllah) and all kinds of human rights as well. Inclusive in the thrust of the meaning of &upholding justice& (qiyam bi l&qist) is that nobody shall inflict injustice on anybody; also that the perpetrator of injustice (zalim) shall be stopped from inflicting injustice (zulm) and the victim of injustice (mazlum) shall be supported; and also that appearing as witness shall not be avoided, if witness is needed to help the victim of injustice to have his or her usurped right back; and also that the witness shall be true and factual as it really is, whether for or against anyone; and also that those who hold the reins of authority and dispensation of justice in their hands shall treat both parties to the case before them, equally and equitably. There shall be no tilt of any sort toward any one of the two. Statements given by witnesses shall be heard carefully. Every effort possible shall be made to investi¬gate the case. Then, finally, perfect justice shall be observed in the verdict. Impediments to Justice Though the two verses from Surah al-Nis-a& and Surah al-M-a&idah quoted earlier come from two different chapters, yet their subject is almost the common denominator between them. The only difference is that justice is normally impeded, obstructed or compromised by two things. Firstly, by love, kinship or friendship or link with someone which pushes the witness to testify in his favour so that he remains shielded against loss or that he profits by it. As for the judge or Qadi who is to give the verdict is affected by any such linkage, he would naturally have the urge to decide the case in favour of the party of his linkage. Secondly, justice is impeded by hostility towards someone which may take the witness to testify against him, while it could also become the cause of an unfavourable judgement given by the judge or Qadi. So, love and hate are passions which can cause one to move away from the path of justice and become involved with all sorts of injustice and oppression. These very two impediments have been removed in both the verses of Surah al-Nisa& and Surah al-Ma` idah. The instruction given in the verse of Surah al-Nisa& is about removing the impedi¬ment of kinship or nearness. It has been said there: أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَ‌بِين (4:135 ( which means: even if your testimony goes against your parents or near relatives, say what is true and ignore the factor of such rela¬tionship when testifying the truth. And removed through the verse of Surah al-Ma` idah is the impediment of grudge, malice or enmity. So, there it was said: وَلَا يَجْرِ‌مَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَ‌بُ لِلتَّقْوَىٰ (And malice against a people should not bid you to not doing justice. Do justice. That is nearer to Taqwa - 5:2). As clear from the translation, it means that malice should not make one desert the path of justice and go about testifying or ruling against them. In addition to that, there is a slight difference between the form of address and the mode of expression appearing in these two verses. In Surah al-Nisa&, it was said: قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّـهِ (...upholders of , justice, witnesses for Allah - 4:135) while the words from Surah al-Ma` idah are: قَوَّامِينَ لِلَّـهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ (... be steadfast for Allah as witnesses for justice - 5:8). To explain, we can say that the first verse contains two instructions: Uphold justice and witness for Allah. As for the second verse, the same two things have been commanded but with a changed form of address, that is, &be steadfast for Allah and witnesses for justice.& Most commentators say that this change in address shows .that both these things are two interpretations of the same reality. At one place, it was referred to as being steadfast with justice and witnesses for Allah, while at another, the word arrangement was: Steadfast for Allah and witnesses for justice. Moreover, worth noticing is the mode of expression adopted in both these verses where multiple-worded sentences such as كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّـهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ or قَوَّامِينَ لِلَّـهِ have been preferred, although the command to do justice could have been given through the use of one single. word: اَقسِطوا : Aqsi tu: Do justice (as in Surah Al-Hujurat, 49:9). Actually, the choice of the longer sentence is there to indicate that being just and fair in a particular case accidentally does not liquidate one&s responsibility wholly. The reason is that being able to do justice in one or the other case is a natural possibility which can apply even to the most evil and tyrannical ruler who may find himself having done justice in some case. So, by the use of the word, qawwamin (those who uphold and are steadfast), it has been estab¬lished that upholding justice and fairness is a constant duty which must be observed at all times, under all conditions, for every friend or foe. Qur&anic Principles of Universal Justice Now, concluding our discussion about the meanings of verse 135 in conjunction with verse 8 of Surah a1-Ma` idah, it can be safely Said that the principles of universal justice by one and all enunciated through these two verses form part of the many distinctions of the glorious Qur&an. These can be better appreciated when seen through two major& aspects as given below: 1. To begin with, officials and masses of people have all been alerted to the supreme subduing power of Almighty Allah and to the ultimate reckoning of the fateful Day of Retribution so that they could think, stop and deter or be prepared to face the consequences. In view of this, the masses themselves have to respect law, and the officials who are responsible for the enforcement of law, they too, have to keep the thought of Allah and Akhirah (God and the Hereafter) before them while enforcing law and thus be the servants and not the thoughtless masters of God&s multitudes of people. They should make law a source of service to people and a source of betterment of the whole world, never causing their worries to increase, never engineering ways to condemn victims of injustice to. their grinding mills of red tape, never making them suffer from injustice multiplied with more injustices, and finally, never ever selling law for mean desires or paltry gains. By saying: Be steadfast for Allah - witnesses for Allah, both officials and masses have been exhorted to act for Allah and act with sincerity at its best. 2. The second element of importance here is that the responsibility of establishing justice and fairness as a way of life has been placed on the shoulders of all human beings. As for the verses from Surah al-Nis-a& and Surah al-Ma` idah wherein, by saying: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا (0 those who believe), the entire Muslim community has been addressed. But, in Surah al-Hadid, by saying: لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ (so that mankind stands firm with justice - 57:25), this duty has been considered binding on all human beings. Similarly, by saying: وَلَوْ عَلَىٰ أَنفُسِكُمْ (even though against yourselves...), instruction has been given that justice is not something to be demanded from others only, instead, it should also be exacted from one&s own self. It means that one should say nothing against what is true and just, even when one has to declare something against one&s own self, even if such an action is likely to bring loss upon one&s person, because this loss is insignificant, tiny and transitory. On the contrary, should someone elect to placate his self by flat lies, then he has bought for himself the severe punishment of the Day of Retribution.

خلاصہ تفسیر اے ایمان والو (تمام معاملات میں ادائے حق کے وقت بھی اور فیصلہ کے وقت بھی) انصاف پر خوب قائم رہنے والے (اور اقرار یا شہادت کی نوبت آوے تو) اللہ (کی خوشنودی کے لئے (سچی) گواہی (اور اظہار) دینے والے رہو، اگرچہ (وہ گواہی اور اظہار) اپنی ہی ذات کے خلاف ہو، (جس کو اقرار کہتے ہیں) یا کہ والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے مقابلہ میں ہو (اور گواہی کے وقت یہ خیال نہ کرو کہ جس کے مقابل ہمیں ہم گواہی دے رہے ہیں یہ امیر ہے اس کو نفع پہنچنا چاہئے تاکہ اس سے بےمروتی نہ ہو، یا یہ کہ یہ غریب ہے، اس کا کیسے نقصان کردیں، تم گواہی دینے میں کسی کی امیری غریبی یا نفع و نقصان کو نہ دیکھو، کیونکہ) وہ شخص (جس کے خلاف گواہی دینی پڑے گی) اگر امیر ہے تو اور غریب ہے تو، دونوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو زیادہ تعلق ہے (اتنا تعلق تم کو نہیں، کیونکہ تمہارا تعلق جس قدر ہے وہ بھی انہی کا دیا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ کا جو تعلق ہے وہ تمہارا دیا ہوا نہیں، پھر جب باوجود قوی تعلق کے اللہ تعالیٰ نے ان کی مصلحت اسی میں رکھی ہے کہ گواہی میں حق بات کہی جائے خواہ اس سے وقتی طور پر کچھ نقصان بھی پہنچ جائے تو تم ضعیف تعلق کے باوجود اپنی شہادت میں ان کی ایک عارضی مصلحت کا کیوں خیال کرتے ہو) سو تم (اس شہادت میں) خواہش نفس کا اتباع مت کرنا، کبھی تم حق سے ہٹ جاؤ اور اگر تم کج بیانی کرو گے (یعنی غلط گواہی دو گے) یا پہلو تہی کرو گے (یعنی شہادت کو ٹالو گے) تو (یاد رکھنا) بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے سب اعمال کی پوری خبر رکھتے ہیں۔ معارف و مسائل دنیا میں انبیاء (علیہم السلام) اور آسمانی کتابیں بھیجنے کا اصل مقصد عدل و انصاف کا قیام ہے اسی سے دنیا کا امن وامان قائم رہ سکتا ہے :۔ سورة نساء کی اس آیت میں تمام مسلمانوں کو عدل و انصاف پر قائم رہنے اور سچی گواہی دینے کی ہدایت کی گئی ہے، اور جو چیزیں قیام عدل یا سچی گواہی میں رکاوٹ ہو سکتی ہیں ان کو نہایت بلیغ انداز میں دور کیا گیا ہے، اسی مضمون کی ایک آیت سورة مائدہ میں بھی آنے والی ہے، دونوں کا مضمون بلکہ الفاظ بھی تقریباً مشترک ہیں اور سورة حدید کی آیت ٥٢ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں آدم (علیہ السلام) کو خلیفتہ اللہ بنا کر بھیجنے کا اور پھر ان کے بعد دوسرے انبیاء (علیہم السلام) کو یکے بعد دیگرے بحیثیت خلیفتہ اللہ بھیجتے رہنے کا اور ان کے ساتھ بہت سی کتابیں اور صحیفے نازل فرمانے کا اہم مقصد یہی تھا کہ دنیا میں انصاف اور اس کے ذریعہ امن وامان قائم ہو، ہر فرد انسانی اپنے اپنے دائرہ اختیار میں انصاف کو اپنا شعار بنالے اور جو سرکش لوگ وعظ و پند اور تعلیم و تبلیغ کے ذریعے عدل وا نصاف پر نہ آئیں، اپنی سرکشی پر اڑے رہیں، ان کو قانونی سیاست اور تعزیر و سزا کے ذریعہ انصاف پر قائم رہنے کے لئے مجبور کیا جائے۔ سورة حدید کی پچیسویں آیت میں اس حقیقت کو اس طرح واضح فرمایا ہے : ” یعنی ہم نے بھیجے ہیں اپنے رسول نشانیاں دے کر اور اتاری ان کے ساتھ کتاب اور ترازو تاکہ لوگ سیدھے رہیں انصاف پر اور ہم نے اتارا لوہا اس میں بڑا رعب ہے اور اس سے لوگوں کے کام چلتے ہیں۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ بعثت انبیاء اور تنزیل کتب سماویہ کا سارا نظام انصاف ہی کے لئے کھڑا کیا گیا ہے رسولوں کا بھیجنا اور کتابوں کا نازل کرنا اسی مقصد کے لئے عمل میں آیا ہے اور آخر میں لوہا اتارنے کا ذکر کر کے اس طرف بھی اشارہ فرما دیا کہ سب لوگوں کو انصاف پر قائم رکھنے کے لئے صرف وعظ و نصیحت ہی کافی نہ ہوگی، بلکہ کچھ شریر لوگ ایسے بھی ہوں گے جن کو لوہے کی زنجیروں اور دوسرے ہتھیاروں سے مرعوب کر کے انصاف پر قائم کیا جائے گا۔ عدل و انصاف پر قائم رہنا صرف حکومت کا فریضہ نہیں بلکہ ہر انسان کا مکلف ہے :۔ سورة حدید کی آیت مذکورہ اور سورة نساء کی اس آیت میں اسی طرح سورة مائدہ کی آیت کونوا قومین للہ شھدآء بالقسط ولایجرمنکم شنان قوم علی الاتعدلوا اعدلواھو اقرب للتقوی واتقواللہ ان اللہ خبیر بما تعملون، (آیت ٨) سے واضح طور پر یہ ہدایت دی گئی ہے کہ انصاف قائم کرنا اور اس پر قائم رہنا صرف حکومت اور عدالت کا فریضہ نہیں بلکہ ہر انسان اس کا مکلف و مخاطب ہے کہ وہ خود انصاف پر قائم رہے اور دوسروں کو انصاف پر قائم رکھنے کے لئے کوشش کرے، ہاں انصاف کا صرف ایک درجہ حکومت اور حکام کے ساتھ مخصوص ہے وہ یہ کہ شریر اور سرکش انسان جب انصاف کے خلاف اڑ جائیں، نہ خود انصاف پر قائم رہیں نہ دوسروں کو عدل و انصاف کرنے دیں، تو حاکمانہ تعزیر اور سزا کی ضرورت ہے یہ اقامت عدل و انصاف ظاہر ہے کہ حکومت ہی کرسکتی ہے جس کے ہاتھ میں اقتدار ہے۔ آج کی دنیا میں جاہل عوام کو چھوڑیئے لکھئے پڑھے تعلیم یافتہ حضرات بھی یہ سمجھتے ہیں کہ انصاف کرنا صرف حکومت و عدالت کا فریضہ ہے، عوام اس کے ذمہ دار نہیں ہیں اور یہی وہ سب سے بڑی وجہ ہے جس نے ہر ملک ہر سلطنت میں حکومت اور عوام کو دو متضاد فریق بنادیا ہے، راعی اور رعیت کے درمیان خلاف و اختلاف کی وسیع خلیج حائل کردی ہے، ہر ملک کے عوام اپنی حکومت سے عدل و انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن خود کسی انصاف پر قائم رہنے کے لئے تیار نہیں ہوتے، اسی کا نتیجہ ہے جو دنیا آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ قانون معطل ہے، جرائم کی روز افزوں ترقی ہے، آج ہر ملک میں قانون سازی کے لئے اسمبلیاں قائم ہیں، ان پر کروڑوں روپیہ خرچ ہوتا ہے، ان کے نمائندے منتخب کرنے کے لئے الیکشن میں خدا کی پوری زمین ہل جاتی ہے اور پھر یہ پورے ملک کا دل و دماغ ملک کی ضروریات اور لوگوں کے جذبات و احساسات کو سامنے رکھتے ہوئے بڑی احتیاط کے ساتھ قانون بناتے ہیں اور پھر رائے عامہ پھر اس کے نفاذ کے لئے حکومت کی لاتعداد مشینری حرکت میں آتی ہے جس کے ہزاروں بلکہ لاکھوں شعبے ہوتے ہیں اور ہر شعبہ میں ملک کے بڑے بڑے آزمودہ کار لوگوں کی محنتیں بروئے کار آتی ہیں، لیکن چلی ہوئی رسوم کی دنیا سے ذرا نظر کو اونچا کر کے دیکھا جائے اور جن لوگوں کو خواہ مخواہ تہذیب اور شائستگی کا ٹھیکہ دارمان لیا گیا ہے تھوڑی دیر کے لئے ان کو رانہ تقلید سے نکل کر حقیقت کا جائزہ لیا جائے تو ہر شخص بےساختہ یہ کہنے پر مجبور ہوگا کہ نگاہ خلق میں دنیا کی رونق بڑھتی جاتی ہے مری نظروں میں پھیکا رنگ محفل ہوتا جاتا ہے اب سے سو سال پہلے ٧٥٨١ ء سے ٧٥٨١ ء تک کا ہی موازنہ کریں اعداد و شمار محفوظ ہیں وہ گواہی دیں گے کہ جوں جوں قانون سازی بڑھی، قانون میں عوام کی مرضی کی نمائش بڑھی اور تنفیذ قانون کے لئے مشینری بڑھی، ایک پولیس کے بجائے مختلف اقسام کی پولیس بروئے کار آئی اتنے ہی روز بروز جرائم بڑھے، اور لوگ انصاف سے دور ہوتے چلے گئے اور اسی رفتار سے دنیا کی بدامنی بڑھتی چلی گئی۔ امن عالم کی ضمانت صرف عقیدہ آخرت اور خوف خدا دے سکتا ہے :۔ کوئی مرد رشید نہیں جو آنکھ کھول کر دیکھے اور چلتی ہوئی رسموں کی جکڑ بندی کو توڑ کر ذرا رسول عربی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لائے ہوئے پیغام کو سچ سمجھے اور اس حقیقت پر غور کرے کہ دنیا کا امن سکون نرے تعزیرات سے نہ کہی حاصل ہوا نہ آئندہ ہوگا، عالم کے امن وامان کی ضمانت صرف عقیدہ آخرت اور خوف خدا دے سکتا ہے، جس کے ذریعہ سارے فرائض راعی اور رعی اور عوام اور حکومت میں مشترک ہوجاتے ہیں اور ہر شخص اپنی ذمہ داری کو محسوس کرنے لگتا ہے، قانون کے احترام و حفاظت کے لئے عوام یہ کہہ کر آزاد نہیں ہوجاتے کہ یہ کام حکام کا ہے، قرآن مجید کی مذکورہ آیتیں بسلسلہ قیام عدل و انصاف اسی انقلابی عقیدہ کی تلقین پر ختم کی گئی ہیں۔ سورة نسآء کی اس آیت کے تم پر ان اللہ کان بما تعملون خبیراً کا ارشاد ہوا اور سورة مائدہ کی آیت کے آخر میں اول تقوی کی ہدایت فرمائی اور پھر فرمایا ان اللہ خبیر بما تعملون اور سورة حدید کی آیت کے آخر میں ارشاد ہوا : ان اللہ قوی عزیز ان تینوں میں حکام اور عوام دونوں کو عدل و انصاف پر قائم رہنے اور قائم رکھنے کی ہدایت دینے کے بعد خواتم آیات میں سب کی نظریں اس حقیقت کی طرف پھیر دی گئی ہیں جو انسان کی زندگی اور اس کے خیالات اور جذبات میں انقلاب عظیم پیدا کرنے والی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی قوت و سلطنت اس کے سامنے حاضری اور حساب کتاب اور جزا و سزا کا تصور یہی وہ چیز تھی جس نے اب سے سو برس پہلے کی ناخواندہ دنیا کو آج کی نسبت بہت زیادہ امن و سکون بخشا ہوا تھا اور یہی وہ چیز ہے جس کے نظر انداز کردینے کی وجہ سے آج کی ترقی یافتہ آسمانوں سے باتیں کرنے والی، سیارے اڑانے والی دنیا امن و چین سے محروم ہے۔ روشن خیال دنیا سن لے کہ سائنس کی حیرت انگیز ترقیوں سے وہ آسمان کی طرف چڑھ سکتے ہیں، سیاروں پر جاسکتے ہیں، سمندر میں جاسکتے ہیں، لیکن امن وامان اور سکون و اطمینان جو ان سارے سامان اور سارے کارخانوں کا اصل مقصد ہے وہ نہ ان کو کسی سیارے میں ہاتھ آئے گا، نہ کسی نئی سے نئی ایجاد میں، وہ ملے گا تو پیغمبر عربی روحی فداہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیغام اور ان کی تعلیمات میں، اللہ تعالیٰ کو ماننے اور آخرت کے حساب پر عقیدہ رکھنے میں الابذکر اللہ تطمئن القلوب، سائنس کے حیرت انکشافات روز بروز اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور اس کی بےمثال صنعت کاری کو اور زیادہ روشن کرتے جاتے ہیں، جن کے سامنے ہر انسانی ترقی اپنے عجز و درماندگی کا اعتراف کر کے رہ جاتی ہے، مگر ” چہ سود چوں دل وانا و چشم بینا نیست “ قرآن حکیم نے ایک طرف تو دنیا کے سارے نظام کا منشاء ہی قیام عدل و انصاف بتلایا، دوسری طرف اس کا ایک بےمثال انتظام ایسا عجیب و غریب فرمایا کہ اگر اس کے پورے نظام کو اپنایا جائے اور اس پر عمل کیا جائے تو یہی خونخوار و بدکار دنیا ایک ایسے صالح معاشرے میں تبدیل ہوجائے جو آخرت کی جنت سے پہلے نقد جنت اور ارشاد قرآنی ولمن خاف مقام ربہ جنثن جس کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ خدا سے ڈرنے والوں کو دو جنتیں ملیں گی، ایک آخرت میں، دوسری نقد دنیا ہی میں اس کا ظہور مشاہدہ میں آجائے اور یہ کوئی صرف فرضی خیالی یا خیالی اسکیم نہیں، اس پیغام کے لانے والے مقدس رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو عملی صورت میں لا کر چھوڑا ہے اور ان کے بعد خلفائے راشدین اور دوسرے متبع سنت سلاطین نے جب بھی اس پر عمل کیا تو شیر اور بکری کے ایک گھاٹ پر پانی پینے کی فرضی مثال ایک حقیقت بن کر لوگوں کے مشاہدہ میں آگئی، غریب و امیر مزدور و سرمایہ دار تفرقہ یک سر مٹ گیا، قانون کا احترام ہر فرد اپنے گھروں کے بند کمروں میں رات کی تاریکیوں میں کرنے لگا، یہ کوئی افسانہ نہیں، تاریخی حقائق ہیں، جن کا اعتراف غیروں نے بھی کیا، اور ہر صاف دل غیر مسلم بھی اس کے ماننے پر مجبور ہوا۔ مضمون آیت کے بعد آیت کی تفسیر تفصیلاً دیکھئے : مذکورہ آیت میں کونوا قومین بالقسط فرمایا گیا، قسط بکسر القاف کے معنی ہیں عدل و انصاف اور عدل و انصاف کی حقیقت یہ ہے کہ ہر صاحب حق کا حق پورا ادا کیا جائے اس کے عموم میں اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی داخل ہیں اور سب قسم کے انسانی حقوق بھی، اس لئے قیام بالقسط کے مفہوم میں یہ بھی داخل ہے کہ کوئی کسی پر ظلم نہ کرے اور یہ بھی داخل ہے کہ ظالم کو ظلم سے روکا جائے، مظلوم کی حمایت کی جائے اور یہ بھی داخل ہے کہ ظالم کو ظلم سے روکنے اور مظلوم کا حق دلوانے کے لئے شہادت کی ضررت پیش آئے تو شہادت سے گریز نہ کیا جائے اور یہ بھی داخل ہے کہ جن لوگوں کے ہاتھ میں حکومت اور انتظام ہے، جب دو فریق کا کوئی مقدمہ ان کے سامنے پیش ہو تو فریقین کے ساتھ برابری کا معاملہ کریں، کسی ایک طرف کسی طرح کا میلان نہ ہونے دیں، گواہوں کے بیانات غور سے سنیں، معاملہ کی تحقیق میں اپنی پوری کوشش خرچ کریں، پھر فیصلہ میں پورے پورے عدل وا نصاف کا معاملہ رکھیں۔ عدل و انصاف کے قیام میں رکاوٹ بننے والے اسباب :۔ سورة نساء اور سورة مائدہ کی یہ دونوں آیتیں اگرچہ مختلف سورتوں کی ہیں لیکن مضمون دونوں کا تقریباً قدر مشترک ہے، فرق اتنا ہے کہ عدل انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والی عادة دو چیزیں ہوا کرتی ہیں ایک کسی کی محبت و قرابت یا دوستی وتعلق جس کا تقاضا شاہد کے دل میں یہ ہوتا ہے کہ شہادت ان کے موافق دی جائے تاکہ یہ نقصان سے محفوظ رہیں یا ان کو نفع پہنچنے اور فیصلہ کرنے والے قاضی یا جج کے دل میں اس تعلق کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ فیصلہ ان کے حق میں دے، دوسری چیز کسی کی عداوت و دشمنی ہے، جو شاہد کو اس کے خلاف شہادت پر آمادہ کرسکتی ہے اور قاضی اور جج کو اس کے خلاف فیصلہ دینے کے باعث ہو سکتی ہے، غرض محبت و عداوت دو ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو عدل و انصاف کی راہ سے ہٹا کر ظلم و جور میں مبتلا کرسکتی ہیں، سورة نساء اور سورة مائدہ کی دونوں آیتوں میں میں انہی رکاوٹوں کو دور کیا گیا ہے، سورة نساء کی آیت میں قرابت وتعلق کی رکاوٹ دور کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے، ارشاد ہے : اوالوالدین والاقربین یعنی اگرچہ تمہاری شہادت اپنے ماں باپ یا قریبی رشتہ داروں ہی کے خلاف پڑے تو بھی حق بات کہنے اور سچی شہادت دینے میں اس تعلق کا لحاظ نہ کرو۔ اور سورة مائدہ کی آیت میں عداوت اور دشمنی کی رکاوٹ کو دور کیا گیا ہے، چناچہ فرمایا لایجرمنکم شنان قوم علی الاتعدلوا اعدلواھو اقرب للتقوی یعنی کسی قوم کا بغض و عداوت بھی تمہارے لئے اس کا باعث نہ ہونا چاہئے کہ راہ عدل کو چھوڑ کر ان کے خلاف گواہی یا فیصلہ دینے لگو۔ دونوں آیتوں کے عنوان و تعبیر میں بھی تھوڑا فرق ہے، سورة نساء کی آیت میں قومین بالقسط شھدآء للہ فرمایا گیا اور سورة مائدہ کی آیت میں قومین للہ شھدآء بالقسط ارشاد ہوا، یعنی پہلی آیت میں دو چیزوں کی ہدایت ہے، ایک قیام بالقسط اور دوسری شہادت للہ، اور دوسری آیت میں بھی دو ہی چیزیں مامور بہ ہی، مگر عنوان بدل کر قیام اللہ اور شہادت بالقسط۔ اکثر حضرات مفسرین نے فرمایا کہ اس تغیر عنوان سے یہ معلوم ہوا کہ یہ دونوں چیزیں دراصل ایک ہی حقیقت کی دو تعبیریں ہیں، کہیں قیام بالقسط اور شہادت للہ سے تعبیر کردیا گیا، کہیں قیام للہ اور شہادت بالقسط کے الفاظ سے بیان فرمایا گیا، ان دونوں آیتوں کے طرز بیان میں یہ بات خاص طور پر قابل نظر ہے کہ کونوا قومین بالقسط یا قومین للہ کا طویل جملہ اختیار فرمایا گیا، حالانکہ عدل و انصاف کا حکم صرف ایک لفظ اقسطوا کے ذریعہ بھی دیا جاسکتا تھا، اس طویل جملہ کے اختیار کرنے میں اس طرف اشارہ کرنا منظور ہے کہ اتفاقی طور پر کسی معاملہ میں عدل و انصاف کردینے سے ذمہ داری پوری نہیں ہوجاتی، کیونکہ کسی نہ کسی معاملہ میں انصاف ہوجاتا تو ایک ایسا طبعی امر ہے کہ ہر برے سے برے اور ظالم سے ظالم حاکم پر بھی صادق ہے کہ اس سے بھی کسی معاملہ میں تو انصاف ہو ہی جاتا ہے، اس جملہ میں لفظ قوامین استعمال فرما کر یہ بتلایا کہ عدل و انصاف پر ہمیشہ ہر وقت ہر حال اور ہر دوست دشمن کے لئے قائم رہنا ضروری ہے۔ پھر ان دونوں آیتوں میں پوری دنیا کو عدل و انصاف پر قائم کرنے اور قائم کرانے کے لئے جو زریں اصول اختیار کئے گئے ہیں وہ بھی قرآن عظیم ہی کی خصوصیات میں سے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم چیز تو یہ ہے کہ حکام اور عوام سب کو اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ اور روز جزاء کے حساب سے ڈرا کر اس کے لئے تیار کیا گیا ہے کہ عوام خود بھی قانون کا احترام کریں اور حکام جو تنفیذ قانون کے ذمہ دار ہیں وہ بھی تنفیذ قانون میں خدا و آخرت کو سامنے رکھ کر خلق خدا کے خادم بنیں، قانون کو خدمت خلق اور اصلاح عالم کا ذریعہ بنائیں، لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ اور مظلوم کو دفتر گردی کے چکر میں پھنسا کر مزید ظلم پر ظلم کا سبب نہ بنائیں، قانون کو اپنی ذلیل خواہشات یا چند ٹکوں میں فروخت نہ کریں، قومین للہ یاشھدآء للہ فرما کر حکام و عوام دونوں کو للہیت اور اخلاص عمل کی دعوت دی گئی ہے۔ دوسری بنیادی چیز یہ ہے کہ عدل و انصاف کو قیام کی ذمہ داری پورے افراد انسانی پر ڈال دی گئی ہے، سورة نساء اور مائدہ میں تو اس کا مخاطب یایھا الذین امنوا فرما کر پوری امت مسلمہ کو بنادیا گیا ہے اور سورة حدید میں لیقوم الناس بالقسط فرما کر اس فریضہ کو تمام افراد انسانی پر عائد کردیا گیا ہے، سورة نساء کی آیت میں ولو علی انفسکم فرما کر اس طرف ہدایت فرما دی کہ انصاف کا مطالبہ صرف دوسروں ہی سے نہ ہو، بلکہ اپنے نفس سے بھی ہونا چاہئے، اپنے نفس کے خلاف کوئی بیان یا اظہار کرنا پڑے تو بھی حق و انصاف کے خلاف کچھ نہ بولے، اگرچہ اس کا نقصان اس کی ذات ہی پر پڑتا ہو، کیونکہ یہ نقصان حقیر و قلیل اور عارضی ہے اور جھوٹ بول کر اس کی جان بچالی گئی تو قیامت کا شدید عذاب اپنی جان کے لئے خرید لیا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاۗءَ لِلہِ وَلَوْ عَلٰٓي اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ۝ ٠ۚ اِنْ يَّكُنْ غَنِيًّا اَوْ فَقِيْرًا فَاللہُ اَوْلٰى بِہِمَا۝ ٠ۣ فَلَا تَتَّبِعُوا الْہَوٰٓى اَنْ تَعْدِلُوْا۝ ٠ۚ وَاِنْ تَلْوٗٓا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللہَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرًا۝ ١٣٥ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ [ الحدید/ 19] . ( ا م ن ) الایمان کے ایک معنی شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آتے ہیں ۔ چناچہ آیت کریمہ :۔ الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، اور جو لوگ مسلمان ہیں یا یہودی یا عیسائی یا ستارہ پرست۔ اور ایمان کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوسکتا ہے جو تو حید کا اقرار کر کے شریعت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں داخل ہوجائے اور بعض نے آیت { وَمَا يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ } ( سورة يوسف 106) ۔ اور ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے مگر ( اس کے ساتھ ) شرک کرتے ہیں (12 ۔ 102) کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ قيام والْقِيَامُ علی أضرب : قيام بالشّخص، إمّا بتسخیر أو اختیار، و قیام للشیء هو المراعاة للشیء والحفظ له، و قیام هو علی العزم علی الشیء، فمن القِيَامِ بالتّسخیر قوله تعالی: مِنْها قائِمٌ وَحَصِيدٌ [هود/ 100] ، وقوله : ما قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوها قائِمَةً عَلى أُصُولِها [ الحشر/ 5] ، ومن القِيَامِ الذي هو بالاختیار قوله تعالی: أَمَّنْ هُوَ قانِتٌ آناءَ اللَّيْلِ ساجِداً وَقائِماً [ الزمر/ 9] . وقوله : الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 191] ، وقوله : الرِّجالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّساءِ [ النساء/ 34] ، وقوله : وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّداً وَقِياماً [ الفرقان/ 64] . والقِيَامُ في الآیتین جمع قائم . ومن المراعاة للشیء قوله : كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَداءَ بِالْقِسْطِ [ المائدة/ 8] ، قائِماً بِالْقِسْطِ [ آل عمران/ 18] ، وقوله : أَفَمَنْ هُوَ قائِمٌ عَلى كُلِّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ [ الرعد/ 33] أي : حافظ لها . وقوله تعالی: لَيْسُوا سَواءً مِنْ أَهْلِ الْكِتابِ أُمَّةٌ قائِمَةٌ [ آل عمران/ 113] ، وقوله : إِلَّا ما دُمْتَ عَلَيْهِ قائِماً [ آل عمران/ 75] أي : ثابتا علی طلبه . ومن القِيَامِ الذي هو العزم قوله : يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 6] ، وقوله : يُقِيمُونَ الصَّلاةَ [ المائدة/ 55] أي : يديمون فعلها ويحافظون عليها . والقِيَامُ والقِوَامُ : اسم لما يقوم به الشیء . أي : يثبت، کالعماد والسّناد : لما يعمد ويسند به، کقوله : وَلا تُؤْتُوا السُّفَهاءَ أَمْوالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ قِياماً [ النساء/ 5] ، أي : جعلها ممّا يمسككم . قيام اور قیام کا لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے :( 1 ) کسی شخص کا تسخیری طور پر یا اپنے ارادے سے کھڑا ہونا ۔ ( 2 ) قیام للشئی : یعنی شے کی حفاظت اور نگہبانی کرنا ۔ ( 3 ) کسی کام کا پختہ ارادہ کرلینا ۔ تسخیری طور کھڑا ہونے کے معنی میں فرمایا : ۔ مِنْها قائِمٌ وَحَصِيدٌ [هود/ 100] ان میں سے بعض تو باقی ہیں اور بعض تہس نہس ہوگئے ہیں ۔ ما قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوها قائِمَةً عَلى أُصُولِها [ الحشر/ 5] کجھور کے جو درخت تم نے کاٹے یا ان کو اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا سو خدا کے حکم سے تھا ۔ اور قیام اختیاری کے معنی میں فرمایا : ۔ أَمَّنْ هُوَ قانِتٌ آناءَ اللَّيْلِ ساجِداً وَقائِماً [ الزمر/ 9] یا وہ جو رات کے وقتوں میں زمین پیشانی رکھ کر اور کھڑے ہوکر عبادت کرتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِياماً وَقُعُوداً وَعَلى جُنُوبِهِمْ [ آل عمران/ 191] اور جو کھڑے اور بیٹھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں ۔ اور نیز ایت : ۔ وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّهِمْ سُجَّداً وَقِياماً [ الفرقان/ 64] اور وہ لوگ اپنے پروردگار کے آگے سجدہ کر کے ( عجز وادب سے ) کھڑے رہکر راتیں بسر کرتے ہیں ۔ میں قیام قائم کی جمع ہے اور کسی چیز کی حفاظت اور مراعات کے معنی میں فرمایا : ۔ الرِّجالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّساءِ [ النساء/ 34] مرد عورتوں پر راعی اور محافظ ہیں ۔ كُونُوا قَوَّامِينَ لِلَّهِ شُهَداءَ بِالْقِسْطِ [ المائدة/ 8] انصاف پر قائم رہو اور خدا کے لئے سچی گواہی دو ۔ قائِماً بِالْقِسْطِ [ آل عمران/ 18] جو انصافپر قائم ہیں ۔ أَفَمَنْ هُوَ قائِمٌ عَلى كُلِّ نَفْسٍ بِما كَسَبَتْ [ الرعد/ 33] تو کیا جو خدا ہر متنفس کے اعمال کا نگہبان ہے ۔ یہاں بھی قائم بمعنی حافظ ہے ۔ نیز فرمایا ؛ لَيْسُوا سَواءً مِنْ أَهْلِ الْكِتابِ أُمَّةٌ قائِمَةٌ [ آل عمران/ 113] یہ بھی سب ایک جیسے نہیں ہیں ۔ ان اہل کتاب میں کچھ لوگ حکم خدا پر قائم بھی رہیں ۔ اور آیت کریمہ : إِلَّا ما دُمْتَ عَلَيْهِ قائِماً [ آل عمران/ 75] تو جب تک اس کے سر پر ہر وقت کھڑے نہ رہو ۔ میں قائما کے معنی برابر مطالبہ کرنے والے کے ہیں اور قیام بمعنی عزم کے متعلق فرمایا : يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ [ المائدة/ 6] مومنو جب تم نماز پڑھنے کا قصد کیا کرو اور آیت کریمہ : ۔ يُقِيمُونَ الصَّلاةَ [ المائدة/ 55] اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ہیں ۔ میں یقیمون کے معنی نماز پر دوام اور راس کے ارکان کی حفاطت کرنے کے ہیں ۔ اور قیام دقوام اس چیز کو بھی کہتے ہیں جس کے سہارے کوئی چیز قائم رہ سکے جس طرح کہ عماد اور سناد اس چیز کو کہتے ہیں جس سے کسی چیز کو سہارا لگا دیا جائے ۔ قرآن پاک میں ہے ۔ وَلا تُؤْتُوا السُّفَهاءَ أَمْوالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ قِياماً [ النساء/ 5] اور بےعقلوں کو ان کا مال جسے خدا نے تم لوگوں کے لئے سبب معشیتبنایا مت دو ۔ یعنی ان کو تمہاری بقا کا سبب بنایا قسط الْقِسْطُ : هو النّصيب بالعدل کالنّصف والنّصفة . قال تعالی: لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ بِالْقِسْطِ [يونس/ 4] ، وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] والقِسْطُ : هو أن يأخذ قسط غيره، وذلک جور، والْإِقْسَاطُ : أن يعطي قسط غيره، وذلک إنصاف، ولذلک قيل : قَسَطَ الرّجل : إذا جار، وأَقْسَطَ : إذا عدل . قال : أَمَّا الْقاسِطُونَ فَكانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَباً [ الجن/ 15] وقال : وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ [ الحجرات/ 9] ، وتَقَسَّطْنَا بيننا، أي : اقتسمنا، والْقَسْطُ : اعوجاج في الرّجلین بخلاف الفحج، والقِسْطَاسُ : المیزان، ويعبّر به عن العدالة كما يعبّر عنها بالمیزان، قال : وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الإسراء/ 35] . ( ق س ط ) القسط ( اسم ) ( ق س ط ) القسط ( اسم ) نصف ومصفۃ کی طرح قسط بھی مبنی بر عدل حصہ کو کہتے ہیں ۔ چناچہ فرمایا : ۔ لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ بِالْقِسْطِ [يونس/ 4] تاکہ ایمان والوں اور نیک کام کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ بدلہ دے ۔ وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ [ الرحمن/ 9] اور قسط کے معنی دوسرے کا حق مررنا بھیآتے ہیں اس لئے یہ ظلم اور جو رے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے القسط پاؤں میں ٹیڑھا پن یہ افجع کی ضد ہے جس کے نزدیک اور ایڑیوں کی جانب سے دور ہو نیکے ہیں ۔ الا قساط اس کے اصل معنی کسی کو اس کا حق دینے کے ہیں اسی چیز کا نام انصاف ہے اسی بنا پر کہا گیا ہے کہ قسط الرجل فھو قاسط ) کے معنی ظلم کرنے اوراقسط کے معنی انصاف کرنے کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ أَمَّا الْقاسِطُونَ فَكانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَباً [ الجن/ 15] اور گنہگار ہوئے وہ دوزخ کا ایندھن بنے وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ [ الحجرات/ 9] اور انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ فقسطنا بیننا ہم نے ( کسی چیز کو آپس میں برا بر تقسیم کرلیا چناچہ القسطاس تراز دکو کہتے ہیں اور لفظ میزان کی طرح اس سے بھی عدل ونصاف کے معنی مراد لئے جاتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ وَزِنُوا بِالْقِسْطاسِ الْمُسْتَقِيمِ [ الإسراء/ 35] اور جب تول کر دو تو ترا زو سیدھی رکھ کر تولا کرو ۔ شَّهِيدُ وأمّا الشَّهِيدُ فقد يقال لِلشَّاهِدِ ، والْمُشَاهِدِ للشیء، وقوله : مَعَها سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] ، أي : من شهد له وعليه، وکذا قوله : فَكَيْفَ إِذا جِئْنا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنا بِكَ عَلى هؤُلاءِ شَهِيداً [ النساء/ 41] شھید یہ کبھی بمعنی شاہد یعنی گواہ آتا ہے چناچہ آیت مَعَها سائِقٌ وَشَهِيدٌ [ ق/ 21] اسکے ساتھ ( ایک) چلانے والا اور ( ایک ، گواہ ہوگا ۔ میں شہید بمعنی گواہ ہی ہے جو اس کے لئے یا اس پر گواہی دیگا ۔ اسی طرح آیت کریمہ : فَكَيْفَ إِذا جِئْنا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنا بِكَ عَلى هؤُلاءِ شَهِيداً [ النساء/ 41] بھلا اس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتانے والے کو بلائیں گے اور تم کو لوگوں کا حال بتانے کو گواہ طلب کریں گے ۔ میں بھی شہید بمعنی شاہد ہی ہے لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ نفس الَّنْفُس : ذاته وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، ( ن ف س ) النفس کے معنی ذات ، وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] اور خدا تم کو اپنے ( غضب سے ڈراتا ہے ۔ میں نفس بمعنی ذات ہے قربی وفي النّسبة نحو : وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُرْبى[ النساء/ 8] ، وقال : الْوالِدانِ وَالْأَقْرَبُونَ [ النساء/ 7] ، وقال : وَلَوْ كانَ ذا قُرْبى [ فاطر/ 18] ، وَلِذِي الْقُرْبى [ الأنفال/ 41] ، وَالْجارِ ذِي الْقُرْبى [ النساء/ 36] ، يَتِيماً ذا مَقْرَبَةٍ [ البلد/ 15] اور قرب نسبی کے متعلق فرمایا : وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُرْبى[ النساء/ 8] اور جب میراث کی تقسیم کے وقت ( غیر وارث ) رشتے دار آجائیں ۔ الْوالِدانِ وَالْأَقْرَبُونَ [ النساء/ 7] ماں باپ اور رشتے دار ۔ وَلَوْ كانَ ذا قُرْبى [ فاطر/ 18] گوہ وہ تمہاری رشتے دار ہو ۔ وَلِذِي الْقُرْبى [ الأنفال/ 41] اور اہل قرابت کا ۔ وَالْجارِ ذِي الْقُرْبى [ النساء/ 36] اور رشتے در ہمسایوں يَتِيماً ذا مَقْرَبَةٍ [ البلد/ 15] یتیم رشتے دار کو اور قرب بمعنی کے اعتبار سے کسی کے قریب ہونا غنی الغِنَى يقال علی ضروب : أحدها : عدم الحاجات، ولیس ذلک إلا لله تعالی، وهو المذکور في قوله : إِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ [ الحج/ 64] ، الثاني : قلّة الحاجات، وهو المشار إليه بقوله : وَوَجَدَكَ عائِلًا فَأَغْنى[ الضحی/ 8] ، وذلک هو المذکور في قوله عليه السلام : «الغِنَى غِنَى النّفس» والثالث : كثرة القنيّات بحسب ضروب الناس کقوله : وَمَنْ كانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ [ النساء/ 6] ، ( غ ن ی ) الغنیٰ ( تو نگری ) بےنیازی یہ کئی قسم پر ہے کلی طور پر بےنیاز ہوجانا اس قسم کی غناء سوائے اللہ کے کسی کو حاصل نہیں ہے چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ [ الحج/ 64] اور بیشک خدا بےنیاز اور قابل ستائش ہے ۔ 2 قدرے محتاج ہونا اور یا تیسر پر قانع رہنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَوَجَدَكَ عائِلًا فَأَغْنى[ الضحی/ 8] اور تنگ دست پا یا تو غنی کردیا ۔ میں اغنیٰ سے اس قسم کی غنا مراد ہے اور اس قسم کی غنا ( یعنی قناعت ) کے متعلق آنحضرت نے فرمایا ( 26 ) الغنٰی غنی النفس ۔ کہ غنی درحقیقت قناعت نفس کا نام اور غنیٰ کے تیسرے معنی کثرت ذخائر کے ہیں اور لوگوں کی ضروریات کئے لحاظ سے اس کے مختلف درجات ہیں جیسے فرمایا : ۔ وَمَنْ كانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ [ النساء/ 6] جو شخص آسودہ حال ہو اس کو ایسے مال سے قطعی طور پر پرہیز رکھنا چاہئے ۔ فقر الفَقْرُ يستعمل علی أربعة أوجه : الأوّل : وجود الحاجة الضّرورية، وذلک عامّ للإنسان ما دام في دار الدّنيا بل عامّ للموجودات کلّها، وعلی هذا قوله تعالی: يا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَراءُ إِلَى اللَّهِ [ فاطر/ 15] ، وإلى هذا الفَقْرِ أشار بقوله في وصف الإنسان : وَما جَعَلْناهُمْ جَسَداً لا يَأْكُلُونَ الطَّعامَ [ الأنبیاء/ 8] . والثاني : عدم المقتنیات، وهو المذکور في قوله : لِلْفُقَراءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا [ البقرة/ 273] ، إلى قوله : مِنَ التَّعَفُّفِ [ البقرة/ 273] ، إِنْ يَكُونُوا فُقَراءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ [ النور/ 32] . وقوله : إِنَّمَا الصَّدَقاتُ لِلْفُقَراءِ وَالْمَساكِينِ [ التوبة/ 60] . الثالث : فَقْرُ النّفس، وهو الشّره المعنيّ بقوله عليه الصلاة والسلام : «كاد الفَقْرُ أن يكون کفرا» «1» وهو المقابل بقوله : «الغنی غنی النّفس» «1» والمعنيّ بقولهم : من عدم القناعة لم يفده المال غنی. الرابع : الفَقْرُ إلى اللہ المشار إليه بقوله عليه الصلاة والسلام : ( اللهمّ أغنني بِالافْتِقَارِ إليك، ولا تُفْقِرْنِي بالاستغناء عنك) ، وإيّاه عني بقوله تعالی: رَبِّ إِنِّي لِما أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ [ القصص/ 24] ، وبهذا ألمّ الشاعر فقال : ويعجبني فقري إليك ولم يكن ... ليعجبني لولا محبّتک الفقر ويقال : افْتَقَرَ فهو مُفْتَقِرٌ وفَقِيرٌ ، ولا يكاد يقال : فَقَرَ ، وإن کان القیاس يقتضيه . وأصل الفَقِيرِ : هو المکسورُ الْفِقَارِ ، يقال : فَقَرَتْهُ فَاقِرَةٌ ، أي داهية تکسر الفِقَارَ ، وأَفْقَرَكَ الصّيدُ فارمه، أي : أمكنک من فِقَارِهِ ، وقیل : هو من الْفُقْرَةِ أي : الحفرة، ومنه قيل لكلّ حفیرة يجتمع فيها الماء : فَقِيرٌ ، وفَقَّرْتُ للفسیل : حفرت له حفیرة غرسته فيها، قال الشاعر : ما ليلة الفقیر إلّا شيطان فقیل : هو اسم بئر، وفَقَرْتُ الخَرَزَ : ثقبته، وأَفْقَرْتُ البعیر : ثقبت خطمه . ( ف ق ر ) الفقر کا لفظ چار طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ زندگی کی بنیادی ضروریات کا نہ پایا جانا اس اعتبار سے انسان کیا کائنات کی ہر شے فقیر و محتاج ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا يا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَراءُ إِلَى اللَّهِ [ فاطر/ 15] لوگو ! تم سب خدا کے محتاج ہو ۔ اور الانسان میں اسی قسم کے احتیاج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : وَما جَعَلْناهُمْ جَسَداً لا يَأْكُلُونَ الطَّعامَ [ الأنبیاء/ 8] اور ہم نے ان کے ایسے جسم نہیں بنائے تھے کہ کھانا نہ کھائیں ۔ ضروریات زندگی کا کما حقہ پورا نہ ہونا چناچہ اس معنی میں فرمایا : لِلْفُقَراءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا [ البقرة/ 273] ، إلى قوله : مِنَ التَّعَفُّفِ [ البقرة/ 273] تو ان حاجت مندوں کے لئے جو خدا کے راہ میں رے بیٹھے ہیں ۔إِنْ يَكُونُوا فُقَراءَ يُغْنِهِمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ [ النور/ 32] اگر وہ مفلس ہونگے تو خدا ان گو اپنے فضل سے خوشحال کردے گا ۔ إِنَّمَا الصَّدَقاتُ لِلْفُقَراءِ وَالْمَساكِينِ [ التوبة/ 60] صدقات ( یعنی زکوۃ و خیرات ) تو مفلسوں اور محتاجوں ۔۔۔ کا حق ہے ۔ فقرالنفس : یعنی مال کی ہوس۔ چناچہ فقر کے اس معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آنحضرت نے فرمایا : کا دالفقر ان یکون کفرا ۔ کچھ تعجب نہیں کہ فقر کفر کی حد تک پہنچادے اس کے بلمقابل غنی کے معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا الغنیٰ عنی النفس کو غنا تو نفس کی بےنیازی کا نام ہے ۔ اور اسی معنی میں حکماء نے کہا ہے ۔ من عدم القناعۃ لم یفدہ المال غنی جو شخص قیامت کی دولت سے محروم ہوا سے مالداری کچھ فائدہ نہیں دیتی ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف احتیاج جس کی طرف آنحضرت نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا (73) اللھم اغننی بالافتقار الیک ولا تفتونی بالاستغناء عنک ( اے اللہ مجھے اپنا محتاج بناکر غنی کر اور اپنی ذات سے بےنیاز کرکے فقیر نہ بنا ) اسی معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : رَبِّ إِنِّي لِما أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ [ القصص/ 24] کہ پروردگار میں اس کا محتاج ہوں کہ تو مجھ پر اپنی نعمت نازل فرمائے اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے (342) ویعجبنی فقری الیک ولم یکن لیعجبنی لولا محبتک الفقر مجھے تمہارا محتاج رہنا اچھا لگتا ہے اگر تمہاری محبت نہ ہوتی تو یہ بھلا معلوم نہ ہوتا ) اور اس معنی میں افتقر فھو منتقر و فقیر استعمال ہوتا ہے اور فقر کا لفظ ) اگر چہ قیاس کے مطابق ہے لیکن لغت میں مستعمل نہیں ہوتا ۔ الفقیر دراصل اس شخص کو کہتے ہیں جس کی ریڑھ ہڈی ٹوٹی ہوئی ہو چناچہ محاورہ ہے ۔ فقرتہ فاقرہ : یعنی مصیبت نے اس کی کمر توڑدی افقرک الصید فارمہ : یعنیشکار نے تجھے اپنی کمر پر قدرت دی ہے لہذا تیر ماریئے بعض نے کہا ہے کہ یہ افقر سے ہے جس کے معنی حفرۃ یعنی گڑھے کے ہیں اور اسی سے فقیر ہر اس گڑھے کو کہتے ہیں جس میں بارش کا پانی جمع ہوجاتا ہے ۔ فقرت اللفسیل : میں نے پودا لگانے کے لئے گڑھا کھودا شاعر نے کہا ہے ( الرجز) (343) مالیلۃ الفقیر الاالشیطان کہ فقیر میں رات بھی شیطان کی مثل ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہاں الفقیر ایک کنویں کا نام ہے۔ فقرت الخرز : میں نے منکوں میں سوراخ کیا ۔ افقرت البیعر اونٹ کی ناک چھید کر اس میں مہار ڈالنا ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے هوى الْهَوَى: ميل النفس إلى الشهوة . ويقال ذلک للنّفس المائلة إلى الشّهوة، وقیل : سمّي بذلک لأنّه يَهْوِي بصاحبه في الدّنيا إلى كلّ داهية، وفي الآخرة إلى الهَاوِيَةِ ، وَالْهُوِيُّ : سقوط من علو إلى سفل، وقوله عزّ وجلّ : فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ [ القارعة/ 9] قيل : هو مثل قولهم : هَوَتْ أمّه أي : ثکلت . وقیل : معناه مقرّه النار، والْهَاوِيَةُ : هي النار، وقیل : وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] أي : خالية کقوله : وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] وقد عظّم اللہ تعالیٰ ذمّ اتّباع الهوى، فقال تعالی: أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلهَهُ هَواهُ [ الجاثية/ 23] ، وَلا تَتَّبِعِ الْهَوى[ ص/ 26] ، وَاتَّبَعَ هَواهُ [ الأعراف/ 176] وقوله : وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْواءَهُمْ [ البقرة/ 120] فإنما قاله بلفظ الجمع تنبيها علی أنّ لكلّ واحد هوى غير هوى الآخر، ثم هوى كلّ واحد لا يتناهى، فإذا اتّباع أهوائهم نهاية الضّلال والحیرة، وقال عزّ وجلّ : وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] ، كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّياطِينُ [ الأنعام/ 71] أي : حملته علی اتّباع الهوى. ( ھ و ی ) الھوی ( س ) اس کے معنی خواہشات نفسانی کی طرف مائل ہونے کے ہیں اور جو نفساتی خواہشات میں مبتلا ہو اسے بھی ھوی کہدیتے ہیں کیونکہ خواہشات نفسانی انسان کو اس کے شرف ومنزلت سے گرا کر مصائب میں مبتلا کردیتی ہیں اور آخر ت میں اسے ھاویۃ دوزخ میں لے جاکر ڈال دیں گی ۔ الھوی ( ض ) کے معنی اوپر سے نیچے گر نے کے ہیں اور آیت کریمہ : ۔ فَأُمُّهُ هاوِيَةٌ [ القارعة/ 9] اسکا مرجع ہاویہ ہے : ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ یہ ھوت انہ کیطرف ایک محاورہ ہے اور بعض کے نزدیک دوزخ کے ایک طبقے کا نام ہے اور آیت کے معنی یہ ہیں کہ اسکا ٹھکانا جہنم ہے اور بعض نے آیت وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] اور ان کے دل مارے خوف کے ( ہوا ہو رہے ہوں گے ۔ میں ھواء کے معنی خالی یعنی بےقرار کئے ہیں جیسے دوسری جگہ فرمایا : ۔ وَأَصْبَحَ فُؤادُ أُمِّ مُوسی فارِغاً [ القصص/ 10] موسیٰ کی ماں کا دل بےقرار ہوگیا ۔ اور اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خواہشات انسانی کی اتباع کی سخت مذمت کی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلهَهُ هَواهُ [ الجاثية/ 23] بھلا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے ولا تَتَّبِعِ الْهَوى[ ص/ 26] اور خواہش کی پیروی نہ کرنا ۔ وَاتَّبَعَ هَواهُ [ الأعراف/ 176] اور وہ اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے ۔ اور آیت : ۔ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْواءَهُمْ [ البقرة/ 120] اگر تم ان کی خواہشوں پر چلو گے ۔ میں اھواء جمع لاکر بات پت تنبیہ کی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی خواہش دوسرے سے مختلف اور جدا ہے اور ایہ ایک کی خواہش غیر متنا ہی ہونے میں اھواء کا حکم رکھتی ہے لہذا ایسی خواہشات کی پیروی کرنا سراسر ضلالت اور اپنے آپ کو درطہ حیرت میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔ نیز فرمایا : ۔ وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَ الَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ [ الجاثية/ 18] اور نادانوں کی خواہش کے پیچھے نہ چلنا ۔ وَلا تَتَّبِعُوا أَهْواءَ قَوْمٍ قَدْ ضَلُّوا [ المائدة/ 77] اور اس قوم کی خواہشوں پر مت چلو ( جو تم سے پہلے ) گمراہ ہوچکے ہیں ۔ قُلْ لا أَتَّبِعُ أَهْواءَكُمْ قَدْ ضَلَلْتُ [ الأنعام/ 56] ( ان لوگوں سے ) کہدو کہ میں تمہاری خواہشوں پر نہیں چلتا ۔ ایسا کروں میں گمراہ ہوچکا ہوں گا ۔ وَلا تَتَّبِعْ أَهْواءَهُمْ وَقُلْ آمَنْتُ بِما أَنْزَلَ اللَّهُ [ الشوری/ 15] اور ان ( یہود ونصاریٰ کی کو اہشوں پر مت چلو اور ان سے صاف کہدو کہ میرا تو اس پر ایمان ہے ۔ جو خدا نے اتارا ۔ وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِ هُدىً مِنَ اللَّهِ [ القصص/ 50] اور اس سے زیادہ وہ کون گمراہ ہوگا جو خدا کی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہش کے پیچھے چلے ۔ الھوی ( بفتح الہا ) کے معنی پستی کی طرف اترنے کے ہیں ۔ اور اس کے بالمقابل ھوی ( بھم الہا ) کے معنی بلندی پر چڑھنے کے ہیں ۔ شاعر نے کہا ہے ( الکامل ) ( 457 ) یھوی مکار مھا ھوی الاجمال اس کی تنگ گھائیوں میں صفرہ کیطرح تیز چاہتا ہے ۔ الھواء آسمان و زمین فضا کو کہتے ہیں اور بعض نے آیت : ۔ وَأَفْئِدَتُهُمْ هَواءٌ [إبراهيم/ 43] اور ان کے دل مارے خوف کے ہوا ہور رہے ہوں گے ۔ کو بھی اسی معنی پر محمول کیا ہے یعنی بےقرار ہوتے ہیں ھواء کی طرح ہوں گے ۔ تھا ویٰ ( تفاعل ) کے معنی ایک دوسرے کے پیچھے مھروۃ یعنی گڑھے میں گرنے کے ہیں ۔ اھواء اسے فضا میں لے جا کر پیچھے دے مارا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَالْمُؤْتَفِكَةَ أَهْوى [ النجم/ 53] اور اسی نے الٹی بستیوں کو دے پئکا ۔ استھوٰی کے معنی عقل کو لے اڑنے اور پھسلا دینے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّياطِينُ [ الأنعام/ 71] جیسے کسی کی شیاطین ( جنات ) نے ۔۔۔۔۔۔۔ بھلا دیا ہو ۔ عدل العَدَالَةُ والمُعَادَلَةُ : لفظٌ يقتضي معنی المساواة، ويستعمل باعتبار المضایفة، والعَدْلُ والعِدْلُ يتقاربان، لکن العَدْلُ يستعمل فيما يدرک بالبصیرة كالأحكام، وعلی ذلک قوله : أَوْ عَدْلُ ذلِكَ صِياماً [ المائدة/ 95] ، والعِدُل والعَدِيلُ فيما يدرک بالحاسّة، کالموزونات والمعدودات والمکيلات، فالعَدْلُ هو التّقسیط علی سواء، وعلی هذا روي : «بالعَدْلِ قامت السّموات والأرض» «5» تنبيها أنه لو کان رکن من الأركان الأربعة في العالم زائدا علی الآخر، أو ناقصا عنه علی مقتضی الحکمة لم يكن العالم منتظما . والعَدْلُ ضربان : مطلق : يقتضي العقل حسنه، ولا يكون في شيء من الأزمنة منسوخا، ولا يوصف بالاعتداء بوجه، نحو : الإحسان إلى من أحسن إليك، وكفّ الأذيّة عمّن كفّ أذاه عنك . وعَدْلٌ يُعرَف كونه عَدْلًا بالشّرع، ويمكن أن يكون منسوخا في بعض الأزمنة، کالقصاص وأروش الجنایات، وأصل مال المرتدّ. ولذلک قال : فَمَنِ اعْتَدى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ [ البقرة/ 194] ، وقال : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُها [ الشوری/ 40] ، فسمّي اعتداء وسيئة، وهذا النحو هو المعنيّ بقوله : إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسانِ [ النحل/ 90] ، فإنّ العَدْلَ هو المساواة في المکافأة إن خيرا فخیر، وإن شرّا فشرّ ، والإحسان أن يقابل الخیر بأكثر منه، والشرّ بأقلّ منه، ورجلٌ عَدْلٌ: عَادِلٌ ، ورجالٌ عَدْلٌ ، يقال في الواحد والجمع، قال الشاعر : 311- فهم رضا وهم عَدْلٌ«1» وأصله مصدر کقوله : وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ [ الطلاق/ 2] ، أي : عَدَالَةٍ. قال تعالی: وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ [ الشوری/ 15] ، وقوله : وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّساءِ [ النساء/ 129] ، فإشارة إلى ما عليه جبلّة النّاس من المیل، فالإنسان لا يقدر علی أن يسوّي بينهنّ في المحبّة، وقوله : فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَواحِدَةً [ النساء/ 3] ، فإشارة إلى العَدْلِ الذي هو القسم والنّفقة، وقال : لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا[ المائدة/ 8] ، وقوله : أَوْ عَدْلُ ذلِكَ صِياماً [ المائدة/ 95] ، أي : ما يُعَادِلُ من الصّيام الطّعام، فيقال للغذاء : عَدْلٌ إذا اعتبر فيه معنی المساواة . وقولهم :«لا يقبل منه صرف ولا عَدْلٌ» «2» فالعَدْلُ قيل : هو كناية عن الفریضة، وحقیقته ما تقدّم، والصّرف : النّافلة، وهو الزّيادة علی ذلک فهما کالعَدْلِ والإحسان . ومعنی أنه لا يقبل منه أنه لا يكون له خير يقبل منه، وقوله : بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ [ الأنعام/ 1] ، أي : يجعلون له عَدِيلًا فصار کقوله : هُمْ بِهِ مُشْرِكُونَ [ النحل/ 100] ، وقیل : يَعْدِلُونَ بأفعاله عنه وينسبونها إلى غيره، وقیل : يَعْدِلُونَ بعبادتهم عنه تعالی، وقوله : بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ [ النمل/ 60] ، يصحّ أن يكون من قولهم : عَدَلَ عن الحقّ : إذا جار عُدُولًا، وأيّام مُعْتَدِلَاتٌ: طيّبات لِاعْتِدَالِهَا، وعَادَلَ بين الأمرین : إذا نظر أيّهما أرجح، وعَادَلَ الأمرَ : ارتبک فيه، فلا يميل برأيه إلى أحد طرفيه، وقولهم : ( وضع علی يدي عَدْلٍ ) فمثل مشهور «1» . ( ع د ل ) العدالۃ والمعادلۃ کے لفظ میں مساوات کے معنی پائے جاتے ہیں اور معنی اضافی کے اعتبار سے استعمال ہوتا ہے یعنی ایک دوسرے کے ہم وزن اور برابر ہوتا اور عدل عدل کے قریب قریب ایک ہی معنی ہیں لیکن عدل کا لفظ معنوی چیزوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے احکام شرعیہ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : ۔ أَوْ عَدْلُ ذلِكَ صِياماً [ المائدة/ 95] او عدل ذلک صیاما یا اس کے برابر روزے رکھنا اور عدل وعدیل کے الفاظ ان چیزوں کے لئے بولے جاتے ہیں جن کا اور اک حواس ظاہرہ سے ہوتا ہے جیسے وہ چیزیں جن کا تعلق ماپ تول یا وزن سے ہوتا ہے پس عدل کے معنی دو چیزوں کا برابر ہونا کے ہیں چناچہ اسی معنی میں مروی ہے بالعدل قامت السموت والاارض کہ عدل ہی سے آسمان و زمین قائم ہیں یعنی اگر عناصر اربعہ جن کائنات نے ترکیب پائی ہے میں سے ایک عنصر میں بھی اس کی معینہ مقدار سے کمی یا بیشی ہوجائے تو نظام کائنات قائم نہیں رہ سکتا ، العدل دو قسم پر ہے عدل مطلق جو عقلا مستحن ہوتا ہے یہ نہ تو کسی زمانہ میں منسوخ ہوا ہے اور نہ ہی کسی اعتبار سے تعدی کے ساتھ متصف ہوسکتا ہے مثلا کیسی کے احسان کے بدلہ میں اس پر احسان کرنا اور جو تمہیں تکلف نہ دے اسے ایزا رسانی باز رہنا قغیرہ ۔ دوم عدل شرعی جسے شریعت نے عدل کہا ہے اور یہ منسوخ بھی ہوسکتا ہے جیسے قصاص جنایات کی دیت اور مال مرتد کی اصل وغیرہ چناچہ آیات : ۔ فَمَنِ اعْتَدى عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ [ البقرة/ 194] پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ۔ واپس ہی تم اس پر کرو ۔ وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُها [ الشوری/ 40] اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے ۔ میں زیادتی اور برائی کی سزا کا کام بھی زیادتی اور برائی ہی قرار دیا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسانِ [ النحل/ 90] خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ میں عدل کے یہی معنی مراد کیونکہ کسی چیز کے برابر اس کا بدلہ دینے کا نام عدل یعنی نیکی کا بدلہ نیکی سے اور برائی کا بدلہ برائی سے اور نیکی کے مقابلہ میں زیادہ نیکی اور شر کے مقابلہ میں مسامحت سے کام لینے کا نام احسان ہے اور لفظ عدل واحد جمع دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے رجل عدل عادل ورجال عدل شاعر نے کہا ہے ( الطویل ) ( 303 ) فھم رضا وھم عدل وہ راضی رہنے والے اور عدال ہیں ۔ دراصل عدل کا لفظ مصدر ہے چناچہ آیت : ۔ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ [ الطلاق/ 2] اور اپنے میں سے دو منصب مردوں کو گواہ بنالو میں عدل کے معنی عدالہ ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَأُمِرْتُ لِأَعْدِلَ بَيْنَكُمُ [ الشوری/ 15] اور مجھے حکم ہوا کہ تم میں انصاف کروں لا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلى أَلَّا تَعْدِلُوا اعْدِلُوا[ المائدة/ 8] اور لوگوں کی دشمنی تم کو اس بات پر امادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو ۔ انصاف کیا کرو ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّساءِ [ النساء/ 129] اور تم خواہ کتنا ہی چاہو عورتوں میں ہر گز برابری نہیں کرسکو گے ۔ میں انسان کے طبعی میلان کی طرف اشارہ ہے کہ تمام بیویوں سے برابر وجہ کی محبت اس کی قدرت سے باہر ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَواحِدَةً [ النساء/ 3] اگر اس بات کا اندیشہ ہو کہ سب عورتوں سے یکساں سلوک نہ کرسکو گے تو ایک عورت کانی ہے ۔ میں عدل سے نان ونفقہ اور ازواجی تعلقات میں برابر ی مرادی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ أَوْ عَدْلُ ذلِكَ صِياماً [ المائدة/ 95] اس کے برابر روزے رکھنا ۔ میں عدل سے مراد یہ ہے کہ وہ روزے طعام سے فدیہ کے برابر ہوں کیونکہ فدیہ میں مساوت کے معنی ملحوظ ہوں تو اسے بھی عدل کہہ دیا جاتا ہے اور ( 33 ) لایقبل منہ صرف ولا عدل میں بعض نے کہا ہے کہ عدل کا لفظ فریضہ سے کنایہ ہے مگر اس کے اصل معنی وہی ہیں جو ہم بیان کرچکے ہیں اور صرف کا لفظ نافلۃ سے اور یہ اصل فرض سے بڑھ کر کام کرنے کا نام ہے لہذا یہ باہم تقابل کے اعتبار سے عدل اور احسان کے ہم مثل ہیں اور لایقبل منہ کے معنی یہ ہیں کہ اسکے پاس کسی قسم کی نیکی ہوگی جو قبول کی جائے اور یہ آیت : ۔ بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ [ الأنعام/ 1] کے معنی یہ ہیں کہ وہ دوسروں کو خدا کی مثل اور نظیر قرار دیتے ہیں ۔ لہذا یہ آیت : ۔ هُمْ بِهِ مُشْرِكُونَ [ النحل/ 100] کے ہم معنی ہوگی بعض نے اس کے معنی یہ کئے ہیں کہ وہ افعال الہیہ کو دوسروں کی طرف منسوب کرتے ہیں بعض نے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے عدول کرنا مراد لیا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بَلْ هُمْ قَوْمٌ يَعْدِلُونَ [ النمل/ 60] بلکہ یہ لوگ رستے سے الگ ہورہے ہیں ۔ بھی اسی معنی پر محمول ہوسکتی ہے یعنی اس کے معنی یعدلون بہ کے ہیں ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ عدل عن الحق سے مشتق ہو جس کے معنی حق سے ہٹ جانا کے ہیں ۔ ایام معتد لات معتدل زمانہ یعنی جب رات دن برابر ہوتے ہیں ۔ عادل بین الامرین اس نے دو چیزوں کے درمیان موازنہ کیا عادل الامر کسی معاملہ میں پھنس گیا اور کسی ایک جانب فیصلہ نہ کرسکا اور جب کسی شخص کی زندگی سے مایوسی ہوجائے تو اس کے متعلق کہا جاتا ہے : ۔ یعنی اب وہ زندہ نہیں رہ سکتا ۔ لوی اللَّيُّ : فتل الحبل، يقال : لَوَيْتُهُ أَلْوِيهِ لَيّاً ، ولَوَى يدَهُ ، قال : لوی يده اللہ الذي هو غالبه ولَوَى رأسَهُ ، وبرأسه أماله، قال تعالی: لَوَّوْا رُؤُسَهُمْ [ المنافقون/ 5] : أمالوها، ولَوَى لسانه بکذا : كناية عن الکذب وتخرّص الحدیث . قال تعالی: يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ [ آل عمران/ 78] ، وقال : لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ [ النساء/ 46] ، ويقال فلان لا يلْوِي علی أحد : إذا أمعن في الهزيمة . قال تعالی:إِذْ تُصْعِدُونَ وَلا تَلْوُونَ عَلى أَحَدٍ [ آل عمران/ 153] وذلک کما قال الشاعر : ترک الأحبّة أن تقاتل دونه ... ونجا برأس طمرّة وثّاب واللِّوَاءُ : الراية سمّيت لِالْتِوَائِهَا بالرّيح، واللَّوِيَّةُ : ما يلوی فيدّخر من الطّعام، ولَوَى مدینَهُ ، أي : ماطله، وأَلْوَى: بلغ لوی الرّمل، وهو منعطفه . ( ل و ی ) لویٰ ( ض ) الجبل یلویہ لیا کے معنی رسی بٹنے کے ہیں ۔ لوی یدہ : اس کے ہاتھ کو موڑ الویراسہ وبراسہ وبراسہ اس نے اپنا سر پھیرلیا یعنی اعراض کیا ۔ چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ لَوَّوْا رُؤُسَهُمْ [ المنافقون/ 5] تو سر پھیر لیتے ہیں لو یٰ لسانہ بکذا : کنایہ ہوتا ہے جھوٹ بولنے اور اٹکل بچوں کی باتیں بنانے سے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتابِ [ آل عمران/ 78] کتاب ( تو راۃ) کو زبان موڑ موڑ کر پڑھتے ہیں لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ [ النساء/ 46] زبان کو موڑ کر محاورہ ہے : ۔ فلان لا یلون علیٰ احد ۔ وہ کسی کی طرف گردن موڑ کر بھی نہیں دیکھتا ۔ یہ سخت ہزیمت کھا کر بھاگ اٹھنے کے موقع پر بولا جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِذْ تُصْعِدُونَ وَلا تَلْوُونَ عَلى أَحَدٍ [ آل عمران/ 153] جب تم لوگ دور بھاگ جاتے تھے ۔ اور کسی کو پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے تھے ۔ چناچہ شاعر نے اس معنی کو یوں ادا کیا ہے ( 401 ) ترک الاحبۃ ان تقاتل دو نۃ ونجا بر اس طمرۃ وثاب اور اس نے دوستوں کے درے لڑنا چھوڑ دیا اور چھلا نگیں بھر کر دوڑے والی گھوڑی پر سوار ہو کر بھاگ گیا ۔ اللواء ۔ جھنڈے کو کہتے ہیں ۔ کیونکہ وہ ہوا سے لہراتا رہتا ہے ۔ اللویۃ وہ کھانا جو لپیٹ کر توشہ کے طور پر رکھ دیا جائے ۔ لوی مدینہ ۔ اپنے مقروض کو ڈھیل دینا الویٰ ۔ ٹیلے کے لوی یعنی موڑ پر پہنچنا ۔ اعرض وإذا قيل : أَعْرَضَ عنّي، فمعناه : ولّى مُبدیا عَرْضَهُ. قال : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] ، فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ ( ع ر ض ) العرض اعرض عنی اس نے مجھ سے روگردانی کی اعراض کیا ۔ قرآن میں ہے : ثُمَّ أَعْرَضَ عَنْها [ السجدة/ 22] تو وہ ان سے منہ پھیرے ۔ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ [ النساء/ 63] تم ان سے اعراض بر تو اور نصیحت کرتے رہو ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے خبیر والخَبِيرُ : الأكّار فيه، والخبر : المزادة العظیمة، وشبّهت بها النّاقة فسمّيت خبرا، وقوله تعالی: وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] ، أي : عالم بأخبار أعمالکم، ( خ ب ر ) الخبر کسان کو ِِ ، ، خبیر ، ، کہاجاتا ہے ۔ الخبر۔ چھوٹا توشہ دان ۔ تشبیہ کے طور پر زیادہ دودھ دینے والی اونٹنی کو بھی خبر کہاجاتا ہے اور آیت کریمہ :۔ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِما تَعْمَلُونَ [ آل عمران/ 153] اور جو کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کی حقیقت کو جانتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

حاکم پر واجب ہے کہ وہ مقدمے کے فریقین کے درمیان انصاف کرے قول باری ہے یایھا الذین امنواکونواقوامین باقسط شھداء للہ ولوعلی انفسکم والوالدین ولاقربین۔ اے ایمان لانے والو ! انصاف کے علمبردار اور خدا واسطے کے گواہ بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو) تا آخر آیت۔ قابوس نے ابوظبیان سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ قول باری یایھا الذین امنواکونواقرامین بالقسط شھداء للہ۔ کا یہ مفہومہ ہے کہ دو شخص جو کسی معاملہ میں فریقین ہوں اور قاضی کی عدالت میں موجود ہوں۔ قاضی ایک کے ساتھ نہ صرف بےرخی برتے بلکہ اسے اس کے مطالبے اور حق سے بھی روکے۔ ہمیں عبدالقاقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں محمد بن عبداللہ بن مہران الدنیوری نے انہیں احمد بن یونس نے انہیں زبیر نے انہیں عباد بن کثیر بن ابی عبداللہ نے عطاء بن یسار سے، انہوں نے ام الومنین حضرت ام سلمہ (رض) سے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا من بتلی بالقضا بین المسلمین فلیعدل بینھم فی لخطہ واشارتہ و مقعدہ ولایرفع صوتہ علی احد الخصمین مالم یدفع علی الاخر۔ جو شخص مسلمانوں کے درمیان ان کے جھگڑوں کا فیصلہ کرنے کی آزمائش میں پڑگیا (یعنی قاضی کے عہدے پر مامور ہوگیا) تو اسے چاہیے کہ اپنی نظر اپنے اشارے اور اپنی نشست کے لحاظ سے ان کے درمیان انصاف سے کام لے، اور ایک فریق کے مقالہ میں دوسرے فریق سے اونچی آواز میں گفتگو نہ کرے جب تک اتنی ہی اونچی آواز سے دوسرے فریق سے بھی گفتگو نہ کرلے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ قول باری کو نواقوامین بالقسط۔ سے حق و انصاف پر قائم رہنے کے سلسلے میں اللہ کے حکم کا اظہار ہو رہا ہے یہ حکم ہر شخص پر یہ امر واجب کرتا ہے کہ اس پر لوگوں کے لازم ہونے والے حقوق کی ادائیگی میں وہ اپنی ذات سے پورا پورا نصاف کرے یعنی لوگوں کے حقوق کی پوری طرح ادائیگی کرے۔ نیز مظلوم کو ظالم سے انصاف دلائے اس کی داد رسی کرے اور ظالم کو ظلم کرنے سے روک دے کیونکہ یہ تمام باتیں انصاف قائم کرنے اور انصاف پر قائم رہنے کے اندر داخل ہیں۔ پھر اپنے قول شھداء للہ سے اس کی اور تاکید کردی یعنی واللہ اعلم۔ اس صورت میں جبکہ انصاف تک رسائی گواہی کے راستے ہوتی ہو۔ اس لئے آیت کا یہ ٹکڑا ظالم کے خلاف گواہی قائم کرنے کے حکم کو بھی متضمن ہے جس نے مظلوم کا حق دبا رکھا ہے اور اسے دینے سے انکاری ہے تاکہ گواہی کے ذریعے ظالم کے قبضے سے مظلوم کا حق نکال کر اس کے حوالے کردیا اجئے۔ یہ آیت اس قول باری کی طرح ہے ولاتکتموا الشھدۃ و من یکتمھا فانہ ثم قلبہ اور گواہی کو نہ چھپائو جو شخص گواہی چھپائے گا تو اس کی یہ حرکت اس بنا پر ہوگی کہ اس کا دل گہنگار ہے) آیت اس حکم کو بھی متضمن ہے کہ حق دار کا اقرار اور اعتراف کرلیا جائے۔ قول باری ہے ولوعلی انفسکم۔ کیونکہ اپنی ذات کے خلاف گواہی دینے کا مفہوم یہ ہے کہ اگر فریق مخالف کا کوئی حق اس پر عائد ہوتا ہو تو وہ اس کا اقرار و اعتراف کرلے۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی غیر کے حق کا اپنی ذات پر اقرار کرلے تو اس کا یہ اقرار جائز ہے بلکہ اگر حق دار اس اقرار کا اس سے مطالبہ کرے تو اس صورت میں اقرار کرنا اس پر واجب ہوگا۔ قول باری ہے اوالوالدین والاقربین۔ اس میں والدین اور رشتہ داروں پر گواہی قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ اگر کوئی انسان اپنے والدین اور اپنے تمام رشتہ داروں کے خلاف گواہی دے تو اس کی یہ گواہی درست ہوگی۔ کیونکہ اس کے والدین اس کے تمام رشتہ دار اور غیر رشتہ دار اس معاملے میں اس کے لئے یکساں ہیں۔ اگرچہ والدین کے خلاف اولاد کی گواہی کی بنا پر والدین قید میں بھی پڑ سکتے ہیں لیکن یہ بات حقوق الوالدین یعنی والدین کی نافرمانی کے ضمن میں نہیں آئے گی اور یہ بھی ضرور ی نہیں ہوگا کہ والدین چونکہ اپنے خلاف اپنے بچوں کی گواہی کو ناپسند کرتے ہیں۔ اس لئے بچے ایسی گواہی سے باز رہیں۔ اس لئے کہ بچے اس طرح والدین کے خلاف گواہی دے کر اور انہیں ظلم سے باز رکھ کر ایک گونہ ان کی مدد کریں گے جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے انصراخاک ظالماً اومظلوماً ۔ اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم) صحابہ نے عرضا کیا کہ اگر ہمارا بھائی مظلوم ہوگا تو اس کی مدد کی بات تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اگر ہمارا بھائی ظالم ہوگا تو اس کی مدد کیسی ؟ آپ نے اس پر فرمایا تردہ عن الظلوفذلک نصر منک ایاہ۔ اسے ظلم سے روک دو ۔ یہی تمہاری مدد ہوگی جو تم اسے پہنچائو گے) ۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد اس ارشاد سے ملتا جلتا ہے لاطاعۃ لمخلوق فی معصیۃ الخالق، خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی کسی قسم کی اطاعت نہیں) ۔ یہ چیز اس پر دلالت کرتی ہے کہ بیٹا اپنے ماں باپ کی صرف حلال اور جائز کاموں میں فرمانبرداری کرے گا جس کا م میں اللہ کی نافرمانی لازم آتی ہو اس میں وہ کسی صورت میں بھی ماں باپ کی فرمانبرداری نہیں کرے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیٹے کو اپنے والدین کے خلاف گواہی قائم کرنے کا حکم دیا ہے خواہ ا والدین اس بات کو ناپسند ہی کیوں نہ کریں۔ قول باری ہے ان یکن غلیتاً اوفقیراً فاللہ اولیٰ بھما، فریق معاملہ خواہ مال دار ہو یا غریب ، اللہ تم سے زیادہ اس کا خیر خواہ ہے کہ تم اس کا لحاظ کرو) آیت میں ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ گواہی دیتے وقت ہم اس شخص کے فقرکو دیکھتے ہوئے اس پر ترس نہ کھائیں جس کے خلاف ہم گواہی دینے جا رہے ہوں۔ اللہ تعالیٰ مالداروں اور فقیروں میں سے ہر ایک پر نظر عنایت رکھنے اور خیر خواہی کرنے کا سب سے بڑھ کر حقدار ہے اور ہر ایک کی ضروریات اور مصالح کو سب سے زیادہ جاننے والا ہے اس لئے تمہارے ذمہ تو صرف یہ ہے کہ اپنی معلومات اور علم کی بنیاد پر جو کچھ تمہارے پاس ہے اس کی گواہی دے دو ۔ قول باری فلاتتبعوا الھویٰ ان تعدلوا۔ لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو) یعنی خواہشات کی پیروی اور رشتہ داروں کی طرف میلان کی بنا پر انصاف کا دامن نہ چھوڑو۔ اس آیت کی نظیر یہ آیت ہے ان جعلنا ک خلیفۃ فی الارض فاحکم بین الناس باحق ولاتتبع الھدی۔ اے دائود ! ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے اس لئے لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور خواہش نفس کی پیروی نہ کرو) ۔ اس میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ گواہ پر یہ ضروری ہے کہ وہ اس شخص پر گواہی دے جس کے ذمے فریق ثانی کا حق عائد ہوتا ہے اگرچہ گواہ کو اس کی تنگدستی اور مفلوک الحالی کا علم ہی کیوں نہ ہو۔ اسی طرح گواہ کے لئے یہ بات بھی منع ہے کہ وہ اس ڈر کے تحت گواہی سے باز رہے کہ کہیں قاضی اپنی لاعلمی کی بنا پر اسے جھوٹا گواہ تصور کر کے قید میں نہ ڈال دے۔ جج یا گواہوں کی طرف سے مقدمہ میں سچائی سے پہلو نہ بچایا جائے قول باری ہے وان تلووا اوتعرصوافان اللہ کان بما تعملون خبیراً اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے) حضرت ابن عباس (رض) سے مروی قول کے مطابق یہ بات قاضی سے تعلق رکھتی ہے کہ اس کے سامنے مقدمے کے دونوں فریق پیش ہوتے ہیں تو وہ ان میں سے ایک سے بےرخی بھی کرے اور اسے اپنے حق اور مطالبے سے ہٹانے کی بھی کوشش کرے۔ لفظ لی کے معنی ہٹانے اور دفع کرنے کے ہیں اسی سے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ماخوذ ہے لی الواجد یحل رضہ و توبتہ جس مقروض کے پاس قرض کی ادائیگی کے لئے رقم موجود ہو اور پھر وہ ٹال مٹول اور حیلے بہانے کرے اور ادائیگی سے باز رہے تو اس کا یہ رویہ اس کی عزت و آبرو کو حلال کردیتا ہے اور اسے سزا کا مستحق بنا دیتا ہے) ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مراد یہ ہے کہ ایسے شخص کا ٹال مٹول کرنا اور حقدار کو اس کے حق سے ہٹائے رکھنا اسے درج بالا سزا کا مستحق بنا دیتا ہے۔ آیت زیر بحث میں قاضی مراد ہو تو آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ قاضی کسی ایک فریق کو اس عدل و انصاف اور مساوات کے حق سے دور کر دے جو مقدمے کے سلسلے میں اسے ملنا چاہیے۔ اس میں یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے گواہ مراد ہو اس صورت میں یہ مفہوم ہوگا کہ گواہ گواہی دینے پر مامور ہے اسے گواہی نہ دے کر حق دار کو اس کے حق سے دور نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی گواہی کے سلسلے میں کسی ٹال مٹول سے کام لینا چاہیے اور نہ ہی حق دار کی طرف گواہی کے مطالبے پر اس سے پہلو تہی کرنا چاہیے۔ اس میں کوئی امتناع نہیں اگر آیت کا حکم حاکم اور گواہ دونوں کے لئے تسلیم کرلیا جائے کیونکہ لفظ میں دونوں کا احتمال ہے اس لئے آیت سے یہ مفہوم اخذ ہوگا کہ اس مقدمہ کے فریقین کے درمیان نشست کے لحاظ سے نیز نظر ڈالنے کے لحاظ سے مساوات قائم کرنے کا حکم ہے اور کسی ایک فریق کے ساتھ سرگوشی نہ کرنے نیز تنہائی اختیار نہ کرنے کا امر ہے۔ جیسا کہ حضرت علی (رض) سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا :” ہمیں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فریقین میں سے کسی ایک کو نظر انداز کر کے دوسرے کی دعوت کرنے سے منع فرمایا ہے “۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٣٥) گواہی دینے میں عدل و انصاف پر خوب قائم رہو اور تم شہادت میں حق سے مت ہٹنا اور اگر تم کج روی اور حکام کے سامنے گواہی دینے سے احتراز کرو گے تو اللہ تعالیٰ شہادت کے چھپانے کے گناہ اور اس کے اظہار کی نیکی سے باخبر ہے۔ (گواہی کو چھپانا اسلام میں غیر پسندیدہ ہے۔ (آیت) ” ولا تکتموا الشھادۃ ومن یکتمھا فانہ اثم قلبہ “۔ (اور تم گواہی کو مت چھپاؤ جو گواہی چھپاتا ہے اس کا دل گناہگار ہے۔ (البقرۃ) (مترجم) یہ آیت معتیس بن حبابہ (رض) کے بارے میں نازل ہوئی ہے، ان کے پاس ان کے والد کے خلاف گواہی تھی، یعنی جو عہد میثاق میں ایمان لائے تھے اور اس کے بعد کفر اختیار کرلیا آج کے دن ایمان لے آؤ یا یہ کہ ان کے آباء کے نام لے کر کہا گیا ہے کہ اے ایمان والوں کی اولاد، حضرت عبداللہ بن سلام، اسد بن کعب، اسید بن کعب ثعلیۃ بن قیس، سلام بن اخت، مسلمہ، یامین بن یامین، یہ سب اہل توریت میں سے ایمان دار لوگ تھے۔ شان نزول : (آیت) ” یایھا الذین امنوا کونوا “۔ (الخ) ابن ابی حاتم (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل ہوئی تو اس وقت دو آدمی غنی اور فقیر رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جھگڑتے ہوئے آئے۔ اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس خیال سے کہ فقیر مالدار آدمی پر ظلم نہیں کرسکتا، فقیر کی حمایت میں تھے مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی ممانعت فرمائی اور مالدار اور فقیر کے درمیان انصاف کرنے کا حکم دیا۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣٥ (یٰٓایُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بالْقِسْطِ شُہَدَآءَ لِلّٰہِ ) یہ آیت قرآن کریم کی عظیم ترین آیات میں سے ہے۔ سورة آل عمران (آیت ١٨) میں ہم پڑھ آئے ہیں : (شَہِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ الاَّ ہُوَلا والْمَلآءِکَۃُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَآءِمًا م بالْقِسْطِ ط) اللہ گواہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ‘ اور سارے فرشتے اور اہل علم بھی اس پر گواہ ہیں ‘ وہ عدل کا قائم کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس زمین پر عدل قائم کرنا چاہتا ہے ‘ اس کے لیے وہ اپنے دین کا غلبہ چاہتا ہے ‘ اور اس عظیم کام کے لیے اس کے کارندے اور سپاہی اہل ایمان ہی ہیں۔ انہی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اس دنیا میں عدل قائم کرے گا۔ لیکن اہل ایمان کو اس عظیم مقصد کے لیے کوشش کرنی ہوگی ‘ جانوں کا نذرانہ پیش کرنا ہوگا ‘ ایثار کرنا ہوگا ‘ قربانیاں دینی ہوں گی ‘ تب جا کر کہیں دین غالب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ بہت ہی اہم معاملہ ہے۔ معاشرے میں عدل و قسط کے قیام کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ اس کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو اللہ کے گواہ کہا گیا ہے۔ عدل اجتماعی (Social Justice) پر اسلام نے جتنا زور دیا ہے بدقسمتی سے آج ہمارا مذہبی طبقہ اتنا ہی اس سے بےبہرہ ہے۔ آج کے مسلم معاشروں میں سرے سے شعور ہی نہیں کہ عدل اجتماعی کی بھی کوئی اہمیت اسلام میں ہے۔ اسلامی قوانین اور حدود و تعزیرات کے نفاذ کی اہمیت تو سب جانتے ہیں ‘ لیکن باطل نظام کی نا انصافیاں ‘ یہ جاگیر دارانہ ظلم و ستم اور غریبوں کا استحاصل (exploitation) کس طرح ختم ہوگا ؟ سرمایہ دار غریبوں کا خون چوس چوس کر روز بروز موٹے ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ نظام ایک ایسی چکی ہے جو آٹا پیس پیس کر ایک ہی طرف ڈالتی جا رہی ہے ‘ جبکہ دوسری طرف محرومی ہی محرومی ہے۔ یہاں دولت کی تقسیم کا نظام ہی غلط ہے ‘ ایک طرف وسائل کی ریل پیل ہے تو دوسری طرف بھوک ہی بھوک۔ ایک طرف امیر امیر تر ہو رہے ہیں تو دوسری طرف غریب غریب تر ‘ اور غربت تو ایسی لعنت ہے جو انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہے ‘ ازروئے حدیث نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : (کَادَ الْفَقْرُ اَنْ یَکُوْنَ کُفْرًا ) (١) لہٰذا سب سے پہلے وہ نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے جس میں عدل ہو ‘ انصاف ہو ‘ جس میں ضمانت دی گئی ہو کہ ہر شہری کی بنیادی ضروریات کی کفالت ہوگی۔ کفالت عامہ کی یہ ضمانت نظام خلافت میں دی جاتی ہے۔ جب نظام درست ہوجائے تو پھر حدود و تعزیرات کا نفاذ ہو۔ پھر جو کوئی چوری کرے اس کا ہاتھ کاٹاجائے۔ لیکن موجودہ حالات میں اگر اسلامی قوانین نافذ ہوں گے تو ان کا فائدہ الٹا لٹیروں اور حرام خوروں کو ہوگا ‘ بلیک مارکیٹنگ کرنے والے ان سے مستفید ہوں گے۔ جنہوں نے حرام خوری سے دولت جمع کر رکھی ہے ‘ وہ خوب پاؤں پھیلا کر سوئیں گے۔ چور کا ہاتھ کٹے گا تو انہیں چوری کا ڈر رہے گا نہ ڈاکے کا۔ تو اصل کام نظام کا بدلنا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ (معاذ اللہ) شریعت نافذ نہ کی جائے ‘ بلکہ مقصد یہ ہے کہ شریعت نافذ کرنے سے پہلے نظام (system) کو بدلا جائے ‘ دین کا نظام قائم کیا جائے اور پھر اس نظام کو قائم رکھنے کے لیے ‘ اس کو مستحکم اور مضبوط کرنے کے لیے ‘ اسے مستقل طور پر چلانے کے لیے قانون نافذ کیا جائے۔ کیونکہ قانون ہی کسی نظام کے استحکام کا ذریعہ بنتا ہے ‘ قانون کے صحیح نفاذ سے ہی کوئی نظام مضبوط ہوتا ہے۔ یہی مضمون آگے چل کر سورة المائدہ (آیت ٨) میں بھی آئے گا ‘ لیکن وہاں اس کی ترتیب بدل گئی ہے۔ وہاں ترتیب اس طرح ہے : (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَآء بالْقِسْطِز) ۔ اس ترتیب کے بدلنے میں ایک اشارہ یہ بھی ہے کہ اللہ اور عدل و قسط گویا مترادف الفاظ ہیں۔ ایک جگہ حکم ہے گواہ بن جاؤ اللہ کے اور دوسری جگہ فرمایا : گواہ بن جاؤ قِسط کے۔ ایک جگہ فرمایا : کھڑے ہوجاؤ قسط (عدل و انصاف) کے لیے جبکہ دوسری جگہ ارشاد ہوا کہ کھڑے ہوجاؤ اللہ کے لیے۔ معلوم ہوا کہ اللہ اور قسط کے الفاظ جو ایک دوسرے کی جگہ آئے ہیں ‘ آپس میں مترادف ہیں۔ (وَلَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ ج) ۔ ایک مؤمن کا تعلق عدل و انصاف اور قسط کے ساتھ ہونا چاہیے ‘ رشتہ داری کے ساتھ نہیں۔ یہاں پر حرف جار کے بدلنے سے معانی میں ہونے والی تبدیلی مدّ نظر رہے۔ شہادۃ علٰیکا مطلب ہے لوگوں پر گواہی ‘ ان کے خلاف گواہی ‘ جبکہ شہادۃ لِلّٰہ کا مطلب ہے اللہ کے لیے گواہی ‘ لہٰذا شُہَدَآءَ لِلّٰہ کے معنی ہیں اللہ کے گواہ۔ (اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِہِمَا ق ) ۔ اللہ ہر کسی کا کفیل ہے ‘ تم کسی کے کفیل نہیں ہو۔ تمہیں تو فیصلہ کرنا ہے جو عدل و انصاف پر مبنی ہونا چاہیے ‘ تمہیں کسی کی جانب داری نہیں کرنی ‘ نہ ماں باپ کی ‘ نہ بھائی کی اور نہ خود اپنی۔ ایک چور دروازہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اس کا حق تو نہیں بنتا ‘ لیکن یہ غریب ہے ‘ لہٰذا اس کے حق میں فیصلہ کردیا جائے۔ فرمایا کہ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ‘ تمہیں اس کی جانب داری نہیں کرنی۔ یہ حکم ہمیں واضح طور پر ہمارا فرض یاد دلاتا ہے کہ ہم سب اللہ کے گواہ بن کر کھڑے ہوجائیں۔ ہر حق بات جو اللہ کی طرف سے ہو اس کے علمبردار بن جائیں اور اس حق کو قائم کرنے کے لیے تن ‘ من اور دھن کی قربانی دینے کے لیے اپنی کمر کس لیں۔ (فَلاَ تَتَّبِعُوا الْہَوٰٓی اَنْ تَعْدِلُوْاج وَاِنْ تَلْوٗآ اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا ) یعنی اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا حق گوئی سے پہلوتہی کی تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ کو اس کی پوری پوری خبر ہے۔ تَلوٗا کا صحیح مفہوم آج کی زبان میں ہوگا chewing your words ۔ یعنی اس طریقے سے زبان کو حرکت دینا کہ بات کہنا بھی چاہتے ہیں لیکن کہہ بھی نہیں پا رہے ہیں ‘ حق بات زبان سے نکالنا نہیں چاہتے ‘ غلط بات نکل نہیں رہی ہے۔ یا پھر ویسے ہی حق بات کہنے والی صورت حال کا سامنا کرنے سے کنی کترا رہے ہیں ‘ موقع سے ہی بچ نکلنا چاہتے ہیں۔ لیکن یاد رکھو کہ ایسی کسی کوشش سے انسانوں کو تو دھوکہ دیا جاسکتا ہے مگر اللہ تو تمہاری ہر سوچ ‘ ہر نیت اور ہر حرکت سے باخبر ہے۔ اس کے بعد جو مضمون آ رہا ہے وہ شاید اس سورة مبارکہ کا اہم ترین مضمون ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

164. It is not enough for believers to uphold justice themselves: they are expected to be its standard-bearers. They are supposed not merely to practise justice in their own dealings but to strive for its triumph. They have to do all within their power to ensure that injustice is eradicated and replaced by equity and justice. A true believer is required to be the pillar supporting the establishment of right and justice. 165. The testimony of the believers should be solely for the sake of God. Their testimony should not be biased in favour of any of the parties concerned, they should not use any opportunity for personal aggrandizement, and they should not seek to please anyone but God.

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :164 یہ فرمانے پر اکتفا نہیں کیا کہ انصاف کی روش پر چلو ، بلکہ یہ فرمایا کہ انصاف کے علمبردار بنو ۔ تمہارا کام صرف انصاف کرنا ہی نہیں ہے بلکہ انصاف کا جھنڈا لے کر اٹھنا ہے ۔ تمہیں اس بات پر کمر بستہ ہونا چاہیے کہ ظلم مٹے اور اس کی جگہ عدل و راستی قائم ہو ۔ عدل کو اپنے قیام کے لیے جس سہارے کی ضرورت ہے ، مومن ہونے کی حیثیت سے تمہارا مقام یہ ہے کہ وہ سہارا تم بنو ۔ سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :165 یعنی تمہاری گواہی محض خدا کے لیے ہونی چاہیے ، کسی کی رو رعایت اس میں نہ ہو ، کوئی ذاتی مفاد یا خدا کے سوا کسی کی خوشنودی تمہارے مد نظر نہ ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

اوپر طعمہ کے قصہ میں گزرا کہ طعمہ کی قوم کے لوگوں نے ہم قومی کی رعایت سے جھوٹی گواہی دی۔ اب ان آیتوں میں سچی گواہی ادا کرنے کی تاکید فرمائی تفسیر ابن ابی حاتم اور تفسیر سدی وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیشی میں ایک مال دار شخص اور ایک محتاج شخص کا جھگڑا پیش ہوا۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دل میں یہ خیال گزرا کہ مال دار شخص نے محتاج شخص پر زیادوتی کی ہوگی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ٢۔ اس شان نزول کی بنا پر یہ آیت حاکم اور گواہ دونوں کے حکم کو شامل ہے حاکم کو تو یہ حکم ہے کہ فریقین کا بیان سننے سے پہلے کوئی رائے دل میں نہ قائم کرے اس باب میں صریح حدیث بھی حضرت علی (رض) کی روایت سے مسند امام احمد، ترمذی، ابو داؤد، صحیح ابن حبان میں ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا کہ فریقین کا بیان سنے بغیر کسی مقدمہ میں کوئی حکم نہیں دینا چاہیے ترمذی نے اس حدیث کو حسن اور ابن حبان نے اس کو صحیح کہا ہے ١۔ گواہوں کو اس آیت میں یہ حکم ہے کہ ان کا اپنا ذاتی یا ان کے کسی رشتہ دار کا نقصان بھی سچی گواہی کے ادا کرنے سے ہوتا ہے تو اس نقصان کے خیال سے بھی سچی گواہی کے ادا کرنے میں کچھ پس و پیش نہ کریں اور گواہی صاف لفظوں میں ادا کریں۔ نہ مال دار آدمی کا کچھ پاس کریں نہ محتاج آدمی پر کچھ ترس کھائیں کیونکہ مال دار اور محتاج ہر ایک شخص کی مصلحت اللہ کو خوب معلوم ہے خواش نفسانی کو دخل دے کر ایسی دو ٢ رخی بات دبی زبان سے نہ کہیں جس سے سچی گواہی میں بل پڑ کر حاکم کو شبہ ہوجائے۔ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے سب کاموں سے واقف ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو گواہ سچی گواہی میں کچھ کوتاہی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے باز پرس فرمائے گا۔ صحیح بخاری و مسلم میں انس (رض) اور ابو بکرہ (رض) سے روایتیں ہیں جن میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھوٹی گواہی کو کبیرہ گناہ فرمایا ہے ٢۔ گواہی میں رعایت سے کوئی بات گھڑی جائے یا دبی زبان سے کوئی دوزخی شہادت ادا کی جائے تو یہ باتیں بھی اس آیت کے حکم کے موافق جھوٹی گواہی میں داخل ہیں ان تعدلوا کا مطلب یہ ہے کہ گواہی میں خلل ڈال کر حق بات سے نہ پھرنا چاہیے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:135) قوامین جمع قوام واحد ۔ اگرچہ مبالغہ کا صیغہ ہے لیکن اسم فاعل کے معنی ہیں۔ انصاف کے لئے کھڑے ہونے والے۔ القسط۔ اسم مصدر۔ انصاف۔ یہ ظلم اور جور کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اگر باب ضرب (قسط یقسط قسطا وقسوطا) سے آئے تو معنی ہوتے ہیں حق سے تجاوز کرنا۔ حق کے خلاف کرنا۔ صفت قاسط سے جس کی جمع قاسطون وقساط ہے اگر باب افعال سے آئے تو بمعنی انصاف کرنا۔ عدل کرنا کے ہیں۔ پہلی مثال : واما القاسطون فکانوا لجھنم حطبا (72:15) اور جو دوسروں کا حق مار دینے والے ہیں۔ وہ دوزخ کا ایندھن بنے۔ یہاں مراد راہ حق سے مڑجانے والے بھی ہیں۔ دوسری مثال واقسطوا ان اللہ یحب المقسطین (49:9) اور انصاف سے کام لو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے کونوا قوامین بالقسط شھداء للہ۔ ای کونوا قوامین بالعدل فی جمیع الشھادات لوجہ اللہ۔ یعنی ہر شہادت میں خدا کی رضا کی خاطر عدل و انصاف کرنے والے بنو۔ ان یکن۔ خواہ وہ (مشہور علیہ) ہو یعنی وہ فریق جس کے خلاف گواہی دہ جا رہی ہو۔ خواہ وہ امیر ہو یا غریب۔ اولی بھما۔ اولی۔ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ زیادہ لائق ۔ زیادہ مستحق۔ زیادہ قریب۔ ولی سے۔ جب اس کا صلہ لام واقع ہو۔ تو یہ ڈانٹ اور دھمکی کے لئے آتا ہے۔ اس صورت میں خرابی اور برائی سے زیادہ قریب اور اس کے زیادہ مستحق ہونے کے معنی ہوں گے۔ مثلاً قرآن مجید میں ہے اولی لک فاولی (75:34) کم بختی ہو تیرے لئے کم بختی۔ فاللہ اولی بھما۔ اللہ ان دونوں کا بہتر خواہ ہے (یعنی غنی کا بھی اور فقیر کا بھی) یعنی تم کو ان کی خیرخواہی کی خاطھر جھوٹی گواہی دینے کی ضرورت نہیں۔ تم سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ ان کا خیر خواہ ہے۔ اس واسطے کونوا قوامین للہ۔ علامہ مودودی نے تفہیم القرآن میں فاللہ اولی بھما کا ترجمہ یہ کیا ہے (بہرحال اللہ تعالیٰ دونوں سے زیادہ اس کا مستحق ہے کہ تم اس کا لحاظ رکھو) ۔ لیکن الخازن۔ صاحب مدارک التنزیل۔ صاحب ضیاء القرآن اور علامہ عبد اللہ یوسف علی نے اول الذکر کو اختیار کیا ہے فلا تبتعوا الھوی ان تعدلوا۔ پس خواہش نفس کی پیروی نہ کرو انصاف کرنے میں۔ اس کا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے : خواہش نفس کی پیروی مت کرو تاکہ تم عدل کرنے والے بن سکو کیونکہ عدل عبارت ہے ترک خواہش نفسانی سے (الخازن) تلوا۔ تم پیچ دو ۔ تم تروڑ مڑور کر بیان کرو زبان کو گول مول کرکے بات کرو۔ (یعنی حق بات کو صاف بیان نہ کرو۔ اور زبان کو یوں بات دبا کر بات کرو کہ اس کا کچھ اور ہی مطلب نکل آئے) ۔ (نیز ملاحظہ ہو 4:64) تعرضوا۔ یعنی شہادت دینے سے پہلو تہی کروگے ۔ تعرضوا اصل میں تعرضون تھا ان شرطیہ کی وجہ سے نون اعرابی گرگیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 5 یعنی سچی شہادت دو چا ہے وہ تمہارے خلاف ہی پڑے اور اس میں پڑے اور اس میں تمہارا ذاتی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ (ابن کثیر)6 اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ اولاد کی شہادت ماں باپ کے خلاف قبول ہوگی اور یہ ان کے ساتھ بر یعنی احسان کے منافی نہیں ہے۔ والدیں اوبھائی کی شہادت بھی سلف کے نزدیک مقبول ہے۔ مگر یہ اسی صورت میں ہے جب وہ عدل ہوں اور ان پر تہمت نہ ہو۔ اسی تہمت کے پیش نظر بعض ائمہ نے میاں بیوی کی ایک دوسرے کے حق میں میں شہادت کو جائز رکھا ہے اور بعض نے ود کیا ہے۔ ( قرطبی) یعنی جس کے خلاف تمہاری گواہی پڑرہی ہے وہ دولتمند ہے تب اور غیر یب سے تب کسی حال میں اللہ کی شریعت سے زہادہ تمہاری طرف داری کا مستحق نہیں ہوسکتا۔ لہذا نہ تم دولتمند سے ڈر کر اس کی طرفداری کرو اور نہ غریب پر ترس کھا کر اس کی بےجارعایت کر بلکہ ہر صورت میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق سچی گوایہ دو ۔ سدی کہتے ہیں کہ دو آدمی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اپنا جھگڑا لے کر آئے جن میں سے ایک دولتمند تھا اور دوسرا غریب۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دلی رحجان غریب کی طرف تھا۔ کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خیال تھا کہ یہ بیچارہ امیر آدمی پر کیسے زیادتی کرسکتا ہے۔ اس پر کہ آیت نازل ہوئی (قرطبی۔ ابن کثیر) یعنی اگر اس طرح بناکر پیش کرو گے کہ جس کے خلاف گواہی پڑنی چاہیے وہ بچ جائے یا سرے سے گواہی ہی نہ دو گے تو جیسا کروگے اللہ کے ہاں اس کی سزا پاو گے (قرطبی۔ شوکانی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 20 آیات 135 تا 141: اسرار و معارف یا ایہا الذین آمنوا۔ ۔۔۔ سبیلا۔۔ قیام امن کی تدبیر اور شہادت کی اہمیت : جب بات حقوق کی ہے تو ذاتی طور پر ہو یا خانگی طور پر برادری اور قبیلے کی سطح پر ہو یا قوم و ملک کی سطح پر حقدار تک اس کے حقوق پہنچانے کے لیے امن شرط ہے بدا منی میں یہ سب کام ممکن ہی نہیں اور قیام امن کے لیے انصاف ضروری ٹھہرا۔ اگر انصاف نہیں ہوگا تو مظلوم بھی اپنا غبار کسی نہ کسی راستے نکالیں گے جو یقینا درست راستہ نہ ہوگا جس کے نتیجے میں بدامنی بھی ہوگی اور حقوق بھی مارے جائیں گے اب انصاف کی بنیاد شہادت پر ہے کہ گواہ حق اور کھری بات بیان کردے۔ اور یہ قیام امن اور حقوق کی حفاظت اسلام کا اصل مقصد ہے کہ اللہ کی زمین پہ جو اس قدر خوبصورت آرام دہ اور خدمت گذار بنائی گئی ہے فتنہ و فساد بپا کرکے اللہ کے بندوں کا سکون نہ چھینا جائے بلکہ انسانی حقوق تو اللہ اور اسلام نے کافر سے بھی نہیں چھینے حتے کہ فقہی احکام میں بھی مطلق انسان کا بچا ہوا پانی وغیرہ جو اس نے پی کر بچایا ہو پاک ہے ۔ خواہوہ کافر بھی ہو۔ انسان تو ہے اور قیام امن کی کوشش ہر مسلمان پر فرض ہے جہاں تک اس کا اختیار ہو زبان سے روکے یا ہاتھ سے روک سکے تو روکے یا کم از کم بری مجالس سے علیحدہ ہوجائے لیکن سب سے موثر کوشش وہ شہادت اور گواہی ہے جو ہم کسی امر پہ دیتے ہیں عدالت میں دیں مفتی کے روبرو دیں یا معاشرے میں عوام کے روبرو۔ آئندہ کے فیصلے بہت حد تک اس پہ منحصر ہوتے ہیں۔ اور یہی انصاف کو بنیاد فراہم کرتی ہے۔ بلکہ بعض اوقات عدالت مجبور ہوجاتی ہے کہ شہادتوں کے مطابق جو فیصلہ اسے کرنا پڑتا ہے وہ خود جج کی اپنی مرضی کے مطابق نہیں ہوتا اب اگر شہادت ہی درست نہ ہوگی تو انصاف کی بنیاد گئی انصاف نہیں ہوگا تو حقدار کو اس کا حق نہیں پہنچے گا اور نتیجہ فتنہ و فساد کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا یعنی پورے نظام کو ہلا کر رکھ دے گی سو فرمایا انصاف پر گواہی دو اور اللہ کے لیے دو یعنی صرف اس لیے نہیں کہ تم معاشرے میں اپنا بھرم رکھنے کو سچ بول رہے ہو یا کسی اور غرض سے بلکہ اللہ کے لیے سچ بولو ، اس لیے سچ بولو کہ کل تمہیں ایک عدالت میں پیش ہونا ہے جو خود بھی اس واقعہ کی گواہ ہے تم بھی گواہ ہو ، دیکھو کیا کہہ رہے ہو ؟ یعنی قیام امن کے لیے ایمان شرط ہے ورنہ ایمان کے بغیر جو کوشش کی جاتی ہے سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ ذاتی مفاد سے بالاتر نہیں ہوسکتی ، آدمی کوئی کام بغیر کسی نفع یا لالچ کے کر نہیں سکتا اللہ کے ساتھ ایمان ہے تو اس کی خوشنودی کا لالچ کافی ہے یہی امید سب کام کروا سکتی ہے لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر کوئی غرض تو ہونی چاہئے اور ظاہر ہے وہ ذاتی مفاد یا شہرت و اقتدار کے علاوہ کیا ہوسکتا ہے پھر ہر آدمی میں وہ خلوص کہاں سے آئے گا کہ پس دیوار یا زیر زمین بھی قانون کا احترام کرے آج کا مغربی معاشرہ اس بات پہ گواہ ہے کہ وہ اندرون ملک قیامت امن اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے مگر کبھی امن قائم نہیں کرسکتے اس لیے کہ قانون انسان کی آنکھ سے دیکھتا ہے نافذ کرنے والے ادارے کے کان سے سنتا ہے اب وہ زیر زمین یا پس دیوار تو دیکھ نہیں سکتا اس لیے وہاں سب کچھ بلکہ بہت کچھ ہوتا ہے اور قانون کچھ نہیں بگاڑ سکتا امریکہ جیسے ملک کے نیویار شہر میں صرف قتل کی اوسط دو قتل فی منٹ ہے آپ گاڑی سے ذرا غافل ہوئے اور لوگ لے اڑے چند ڈالروں کے لیے آدمی کو گولی کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے باوجود اس کے کہ امریکہ میں قانون کو منوانے کی اور قانون نافذ کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے تو وجہ کیا ہے۔ یہی کہ ظاہری کوشش تو ہے اللہ کے ساتھ ایمان نہیں ا سلیے نہ تو ظاہر کوششوں میں خلوص ہوتا ہے نہ دلوں میں خوف خدا ۔ یہ صرف ایمان کا نور ہے اور اللہ کی ذات کا یقین ہے جو پس دیوار بھی ساتھ ہے زیر زمین بھی ساتھ ہے حکومت کا کارندہ رعیت کا آدمی دیکھے نہ دیکھے اللہ تو دیکھ رہا ہے سو اے ایمان والو ! تم سچی اور صاف شہادت دو اور اللہ کے لیے دو اور اس حد تک سچ بولو کہ خواہ وہ شہادت خود تمہارے اپنے خلاف جاتی ہو۔ اپنا ذاتی نقصان ہوتا ہو یا ماں باپ کو نقصان پہنچتا ہو ، یا رشتہ داروں کے خلاف بات بن رہی ہو ایسی کسی بات کو درمیان نہ آنے دو کہ جو نقصان بھی ہوگا اللہ کی ناراضگی سے بہرحال کم ہوگا اور قیام امن اور معاشرے میں حقوق کی حفاظت کا فریضہ اس سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے دیکھو کسی کو امیر سمجھ کر اس سے دب مت جانا یا غریب سمجھ کر اس کے خلاف زیادتی ہرگز نہ کرنا کہ تمہارا تعلق ان لوگوں سے اتنا قریبی نہیں ہے جتنا خود اللہ کا ہے وہ بھی اس کی مخلوق ہیں جب اللہ سچ بولنے اور انصاف قائم کرنے کا حکم دے رہا ہے تو اپنے کسی جرم کی وجہ سے کوئی بھی اس کی زد میں آتا ہو اس سے اور لوگوں سے امیدیں وابستہ نہ کرو کہ وہ بھی اسی اللہ کے محتاج ہیں ، جس کی اطاعت کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے کبھی خواہشات نفس میں پھنس کر انصاف کا خون متہونے دو کہ لالچ یا رعب میں آکر ٹیڑھی میڑھی اور الجھی ہوئی بات کرو یا جاننے کے باوجود شہادت دینے سے اعراض کرو یعنی دامن بچانے کی کوشش کرو۔ ایسا کبھی نہ کرنا کہ ایسا کرنے سے ان بنیادی حقائق کا خون ہوگا جو اسلام کے مقاصد میں داخل ہیں یعنی عدل و انصاف کا قیام جس کے لیے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اور اپنے اپنے دائرہ اختیار میں ہر مسلمان جوابدہ ہے ہاں جہاں بات کسی کو سزا دینے یا قانون کو نافذ کرنے کی آتی ہے تو یہ ذمہ داری حکومت کی ہے ہر آدمی قانون کو ہاتھ میں نہیں لے سکتا مگر یہ بات یاد رکھو ! کہ اللہ کریم تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہیں اور کوئی بات ان کی ذات سے اوجھل اور پنہاں نہیں ہے۔ ارشاد ہوتا ہے : اے ایمان والو ! ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر اور وہ ایسے کہ جو کتاب اللہ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر نازل فرمائی ہے اسے مان کر دنیا کو دکھا دو یعنی اسے اپنے اعمال کی بنیاد بناؤ۔ نفع کیا ہوتا ہے اور نقصان کسے کہتے ہیں ؟ اچھا کون ہے اور کون اچھا نہیں ہے ؟ کون بڑا ہے کون چھوٹا ہے ؟ ان باتوں کو بھول جاؤ ! صرف اور صرف ایک بات یاد رکھو کہ اللہ نے اس کتاب میں جو اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پہ نازل فرمائی ہے کیا حکم دیا ہے اور وہ مان کر یعنی اس پر عمل کرکے ثابت کرو کہ ہم ماننے والے ہیں اور ان کتابوں پہ بھی ایمان رکھو جو پہلے اللہ کریم کی طرف سے نازل ہوچکی ہیں اور یہ دیکھ لو کہ جسے نہ اللہ پر ایمان نصیب ہوا نہ فرشتوں کا اقرار کیا نہ اللہ کی کتابوں کو مانا نہ اللہ کے رسولوں کی تصدیق کرنا نصیب ہوئی اور نہ ہی آخرت کو مان سکا وہ راہ حق سے کس قدر دور چلا گیا واقعی وہ بہت ہی دور بھٹک گیا اتنا دور کہ شاید واپس بھی آسکے کہ جو لوگ اقرار کرتے ہیں پھر انکار کردیتے ہیں پھر ایمان لائے پھر مرتد ہوئے۔ اور کفر و گمراہی میں بڑھتے ہی چلے گئے کہ عموماً منافقین یہود و نصاری میں سے تھے فرمایا پہلے انبیاء پر ایمان لایا پھر اسلام کے نام پر کفر اختیار کیا اب پھر وہی کرتوت دہرائے جس کے نتیجے میں وہ کفر کی دلدل میں دھنستے چلے گئے ایسے لوگوں کو اللہ کریم بخشش اور ہدایت دونوں سے محروم فرما دیتے ہیں یعنی اس قدر برائی کرتے ہیں کہ دلوں میں توبہ کی توفیق ہی نہیں رہتی اور خاتمہ کفر پہ ہوتا ہے ورنہ تو بڑے سے بڑا کافر بھی اگر خلوص سے توبہ کرلے تو اللہ کی مغفرت کے سامنے اس کے کفر یا گناہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ آپ ان منافقین کو بھی خوشخبری دے دیجئے کہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے اور منافقت ایسا درخت ہے جس کا پھل ہی اذیت اور تکلیف دینے والا ہے۔ اس عالم میں بھی اور آخرت میں بھی یہی لوگ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں سے دوستی کرتے ہیں ان سے تعلقات بڑھاتے ہیں پہلے لکھا جا چکا ہے کہ تعلقات کے لیے حدود ہیں کہ کس کے ساتھ کہاں تک تعلق جائز اور درس ہے اب کافر سے ایسا تعلق جس سے اسلام پر یا مسلمانوں پر حرف آتا ہو ہرگز جائز نہیں اور یہ بھی جائز نہیں کہ ان جیسی شکل بنائی جائے اور لباس پہنا جائے صرف اس لئے کہ اس لباس سے تو عزت ہوگی یعنی کوئی بھی حرکت جو مومنین کو چھوڑ کر یا مومن اور اسلام پر کافر کو ترجیح دینے کا باعث بن رہی ہو اور کوئی اس غرض سے اختیار کرے کہ ایسا کرنے سے میں معزز ہوجاؤ گا تو یہ بھی محض وہم ہے ورنہ ہر طرح کی عزت صرف اللہ کے پاس ہے کہ عزت کا مالک وہی ہے اگر آخرت کی اور ابدی عزت کی بات کرو تو اللہ نے ارشاد فرما دیا کہ یہ اللہ کے لیے ہے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ہے اور اللہ کے مومن بندوں کے لیے ہے اب دنیا کی بات کرو تو دنیا در اصل آخرت ہی کا سایہ ہے جن کے لیے آخرت میں عزت مقدر ہوتی ہے انہیں دنیا میں بھی لوگوں کے دلوں پر حکومت نصیب ہوتی ہے اور لوگ خلوص دل سے ان کی عزت کرتے ہیں اور ان کے علاوہ جو لوگ ہوتے ہیں انہیں عزت نصیب ہی نہیں ہوتی ہاں ان کے ساتھ لوگ عزت کی اداکری کرتے ہیں یعنی بظاہر بڑی عزت کرتے ہیں مگر دل سے کبھی اچھا نہیں جانتے یہ سب اللہ کی طرف سے ہے اور تمہارے پاس تو اللہ کی کتاب نازل ہوچکی تم سا خوش نصیب کون ہوگا ہر ہر بات میں تمہاری راہنمائی فرماتی ہے اس بارہ میں بھی ارشاد موجود ہے کہ جو لوگ حکام الہی کا انکار یا ان کے خلاف بات کر رہے ہوں یا ان کا مذاق اڑا رہے ہوں تو ان کے پاس مت بیٹھا کرو ، مت جاؤ ہاں اگر کوئی مجبوری ہے اور ضرور جانا ہے تو اس وقت جاؤ جب وہ کوئی دوسرا کام کر رہا ہو مثلاً جیسے کسی حاکم کے پاس کام کے سلسلہ میں بیٹھ کر وہ شراب پی رہا ہے یا جوا کھیل رہا ہے یا اسلام کے خلاف باتیں کر رہا ہے اور آپ اس لئے برداشت کریں اور پاس جا کر بیٹھیں کہ یہ میرا کام کردے گا تو یہ نہ صرف بیٹھنا حرام ہے بلکہ آپ بھی اسی کی مثل ہیں یعنی منافق تو وہ ہے ہی اور اگر کلمات کفریہ بک دے تو کافر ہونے میں بھی شبہ نہ ہوگا مگر کام کے لالچ میں پاس بیٹھنے والا بھی انہیں لوگوں میں شمار ہوگا ہاں دوسرے وقت عدالت میں یا دفتر میں کام کے سلسلہ میں جانا ہو تو وہاں وہ بھی تو دوسرا کام کر رہا ہوگا۔ جا کر کام کرلو ! ورنہ کفر پہ راضی ہونا بھی کفر ہے اور ایسی بری مجالس کو مٹانا اور ان کی رونق کم کرنا ہر مسلمان کا فریضہ ہے چلو ! جو شخص کچھ بھی نہیں کرسکتا وہ اگر شامل نہ ہو تو ایک آدمی تو کم ہوگا نیز علماء نے یہاں سے اخذ کیا ہے کہ ایسے لوگ جو منشاء نبوی کے خلاف اور سلف صالحین کے خلاف کتاب اللہ کا معنی کرتے ہیں ان کے پاس بیٹھنا اور ان کی بات سننا بھی حرام ہے کہ یہ بھی تحریف معنوی ہے۔ پھری ایس بری مجالس سے تو تنہائی بدرجہا بہتر ہے ہاں دل سے راضی نہیں مگر برداشت کرتا ہے تو کافر نہ ہوگا مگر سخت گناہگار ہوگا اور اگر کسی دنیوی مجبوری ، ملازمت وغیرہ کی وجہ سے مجبور ہے تو اس پر گناہ نہ ہوگا جیسے فوجی ملازم وغیرہ اور ایسے مجمعوں یا اجتماعات میں تبلیغ کے لیے جانا اور دلائل سے ، کردار سے ، اسلام کی فضیلت ثابت کرنا یا ان تک پہنچانا جہاد ہے اور افضل ترین عبادت ہے ورنہ پاس بیٹھنے والا بھی ویسا ہی شمار ہوگا جیسے وہ خود۔ اللہ کریم ان کفار و منافقین کو جو ہمیشہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی فکر میں رہتے ہیں اور موقع تاڑتے رہتے ہیں جب فتح ہوتی ہے تو کہتے ہیں ہم آپ کے ساتھ نہ تھے ہم نے مشورہ نہ دیا تھا اور جنگ میں تو وقت بدلتا رہتا ہے کبھی بظاہر کفار کا پلڑا بھاری نظر آئے تو کہتے ہیں۔ کیا تمہارے بچانے میں ہم نے بہت بڑا کردار ادا نہیں کیا اور مسلمانوں کو سمجھ ہی نہیں آنے دی اور تم لوگ صاف بچ گئے ، خود انہیں بھی تب پتہ چلے گا جب ان کا حشر ہی کافروں کے ساتھ ہوگا بلکہ ان کے ساتھ دوزخ میں ڈالے جائیں گے تب جانیں گے کہ یہ دھوکا مسلمانوں کو نہیں زندگی بھر اپنے آپ کو دیتے رہے اور قیامت کے دن تو یہ فیصلے ہو کر رہیں گے اور یہ بھی اللہ کا وعدہ ہے کہ منافق بھی زور لگالے اور کفار بھی کبھی کفر کو اسلام پہ اور کافروں کو مسلمانوں پر غلبہ نہ دے گا اب اگر خود مسلمان ہی شرط اسلام پہ پورا نہ اترے تو اس میں قصور کسی دوسرے کا نہیں بلکہ مسلمانوں کی بقاء علی الایمان آج بھی اسی میں ہے کہ سب کے سب جہاں ہیں وہاں اپنی سمت درست کرلیں خلوص کے ساتھ توبہ کرکے نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی غلامی اختیار کرلیں۔ یا اللہ ! ایسا ہی ہو !

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 135 لغات القرآن : قوامین، قائم رہنے والے، ذمہ دار۔ اولیٰ ، مہربان ، خیر خواہ۔ الھوی، خواہش۔ تلو، تم نے ہیر پھیر کی، زبان کو موڑا۔ تشریح : سورة نساء کی ان آیات کا مقصد یہ ہے کہ پہلے مسلمان تو اس حکم پر عمل کرکے دکھائیں ۔ پھر تمام دنیا کے سامنے اس اصول کو پیش کریں۔ پہلا مطالبہ یہی ہے کہ ہر شخص اپنی اپنی جگہ انصاف سے کام لے، ظلم نہ کرے، کسی کا حق نہ مارے۔ دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ ملک میں انصاف کی مشینری قائم کرو۔ اور اس مشینری کی ہر طرح مدد کرو۔ مدد کی خاص شکل یہ ہے کہ جب تم گواہ بنو تو لگی لپٹی مت کہو، چند اہم پہلو چھپا کر چند دیگر پہلو پیش کرکے اجمالی تصویر کا حلیہ میت بگاڑو۔ عدالت کو غلط تاثر نہ دو ۔ واقعات بالکل ٹھیک ٹھیک بیان کرو خواہ اس کی زد تمہارے اوپر ہی پڑتی ہو یا بال بچوں پر یا ماں باپ پر یا دوسرے عزیزوں اور رشتہ داروں پر یا کسی امیر پر یا کسی غریب پر۔ غلط بیانی سے یا کسی کو بھی ناجائز فائدہ پہنچانے کی کوشش نہ کرو کسی کو ناجائز بچانے کی کوشش نہ کرو۔ اللہ اپنے بندوں کا زیادہ خیر خواہ ہے اس کے مقابلے میں تمہاری رشتہ داروں سے محبت یا دوستوں سے محبت کوئی قیمت نہیں رکھتی ۔ تم کسی امیر یا با اثر ہستی کا خوف نہ کرو بلکہ صرف اللہ کے خوف کو اپنے دلوں میں جمالو۔ بےانصافی اور حق تلفی اپنے نفس سے شروع ہوتی ہے۔ پہلا بگاڑ وہیں آتا ہے۔ اس لئے پھر واضح طور پر حکم ہے کہ انصاف کے معاملہ میں اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ اگر تم نے جھوٹ کہا یا چالاکی اور ہوشیاری سے اصل معاملہ کو غلط رنگ دے دیا تو اللہ کے عذا ب سے نہیں بچ سکو گے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اس کو اقرار کہتے ہیں۔ 4۔ یعنی گواہی کے وقت یہ خیال نہ کرو کہ جس کے مقابلہ میں ةم گواہی دے رہے ہیں یہ امیر ہے اس کو نفع پہنچانا چاہیے تاکہ اس سے بےمروتی نہ ہو یا کہ یہ غریب ہے اس کا کیسے نقصان کردیں تم کسی کی امیری غریبی کو نہ دیکھو کیونکہ ان سے تمہارا تعلق جس قدر ہے وہ بھی اللہ کا دیا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ کو جو تعلق ہے وہ تمہارا دیا ہوا نہیں پھر جب باوجود تعلق قوی کے اللہ نے ان کی مصلحت اس میں رکھی ہے کہ اظہار حق کیا جائے تو تم تعلق ضعیف پر ان کی ایک عارضی مصلحت کا کیوں خیال کرتے ہو۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : سابقہ فرمان سے اس کا تعلق معنوی ہے کہ گھر سے لے کر عدالت تک انصاف پر قائم رہنا چاہیے۔ بنیادی طور پر امت مسلمہ فریضۂ شہادت کی ادائیگی کے لیے منتخب کی گئی ہے تاکہ دنیا میں اپنے قول اور فعل کے ساتھ حق کے ترجمان اور توحید کی گواہی دیتے رہیں۔ آخرت میں پہلی امتوں کے بارے میں انبیاء کی تائید اور ان کی نبوت کی شہادت دیں گے۔ جسے قرآن مجید اور رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یوں بیان فرمایا ہے : (لِتَکُوْنُوْا شُھَدَآءَ عَلَی النَّاسِ ) [ البقرۃ : ١٤٣] ” تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ۔ “ (أَنْتُمْ شُھَدَآءُ لِلّٰہِ فِی الْأَرْضِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الجنائز، باب ثناء الناس علی المیت ] ” مسلمانو ! تم زمین پر اللہ کے گواہ ہو۔ “ لیکن اس آیت میں لفظ ” قسط “ استعمال فرماکر عدل و انصاف قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہی انبیاء کی بعثت اور آسمانی کتابوں کے نزول کا مقصد بیان ہوا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے رسولوں کو واضح دلائل اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کیا تاکہ وہ لوگوں کے درمیان عدل قائم کریں اور لوہا نازل کیا جس میں بڑی قوت اور لوگوں کے لیے بڑے فوائد ہیں۔[ الحدید : ٢٥] یہاں شہادت سے مراد وہ گواہی ہے جو کسی واقعہ یا مقدمہ کے ثبوت کے لیے پیش کی جاتی ہے۔ اس پر قائم ہونے کا حکم دیا ہے جس کا معنی یہ ہے کہ اس پر پوری قوت اور صلاحیت کے ساتھ قائم رہا جائے۔ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے حکم کی تعمیل اور احترام کا جذبہ کار فرما ہونا چاہیے تاکہ معاشرے میں حق و انصاف کا بول بالا اور عدالتوں میں عدل کا ترازو قائم رہے۔ اس کے لیے گواہی کا عدل و انصاف کے اصول پر پورا اترنا اور قائم ہونا بےحد ضروری ہے۔ مقدمے کا ریکارڈ بھی تحریری شہادت کا درجہ رکھتا ہے۔ جج اس کا پابند ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ اچھی طرح گواہی کی چھان بین کرے کیونکہ گواہی کا مقدمے میں بنیادی کردار ہوتا ہے۔ کتنے مقدمات کے فیصلے اس بات پر شاہد ہیں کہ جھوٹی شہادتوں کی وجہ سے بےگناہ شخص پھانسی کے پھندے پر لٹک گیا اور اصل مجرم نہ صرف دندناتے پھرتے ہیں بلکہ مزید جرائم کا ارتکاب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ لہٰذا گواہی اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھ کر بلا رعایت اور لحاظ واقعات کے مطابق دینی چاہیے۔ بیشک یہ گواہی انسان کے اپنے نفس، والدین، اعزہ و اقرباء، مالدار یا کنگال کے خلاف ہو خواہ تمہیں ان کا مفاد اور جان کتنی ہی عزیز کیوں نہ ہو۔ والدین کا رشتہ مقدس اور قابل صد احترام، اعزہ و اقرباء تمہیں بڑے پیارے، دولت مند مؤثر اور غریب قابل رحم اور خیر خواہی کے لائق ہے لیکن یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سب کا تم سے زیادہ خیر خواہ اور ہمدرد ہے۔ تم کسی کو نہ نفع دے سکتے ہو اور نہ نقصان سے بچا سکتے ہو لہٰذا تم اچھے برے جذبات کے پیچھے لگنے کے بجائے شہادت عدل پر قائم ہوجاؤ۔ اس میں بےانصافی، لچک اور کسی قسم کا اغراض نہیں ہونا چاہیے۔ یقین جانو اللہ تعالیٰ تمہاری نیت اور عمل سے پوری طرح باخبر ہے۔ (عَنْ أَنَسٍ (رض) قَالَ سُءِلَ النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَنِ الْکَبَآءِرِ قَالَ الْإِشْرَاک باللّٰہِ وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ وَقَتْلُ النَّفْسِ وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الشھادات، باب ماقیل فی شھادۃ الزور ] ” حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کبیرہ گناہوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : اللہ کے ساتھ شرک کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، کسی جان کو ناحق قتل کرنا اور جھوٹی گواہی دیناکبیرہ گناہ ہیں۔ “ مسائل ١۔ مسلمانوں کو صرف اللہ کے لیے عدل و انصاف پر قائم ہونا چاہیے۔ ٢۔ عدل و انصاف کے راستے میں کسی رشتہ دار اور خواہش کو رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن عدل و قسط کی اہمیت : ١۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عدل و انصاف کا حکم۔ (الاعراف : ٢٩) ٢۔ انصاف کی بات کہنے کا حکم۔ (الانعام : ١٥٢) ٣۔ صلح بھی عدل و انصاف سے کروانا چاہیے۔ (الحجرات : ٩) ٤۔ رسولوں کی بعثت کا مقصد انصاف قائم کرنا تھا۔ (الحدید : ٢٥) ٥۔ کسی کی دشمنی عدل و انصاف میں رکاوٹ نہیں بننی چاہیے۔ (المائدۃ : ٨) ٦۔ اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔ (المائدۃ : ٤٢)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

درس نمبر ٢٤ ایک نظر میں : یہ سبق بھی امت مسلمہ کے لئے دست قدرت کی تربیت کا ایک نمونہ ہے جس کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ یہ ایک اچھی امت ہے اور جسے لوگوں کے لئے نکالا گیا ہے ۔ یہ سبق بھی اس اسلامی نظام زندگی کی ایک اہم کڑی ہے جو نہایت ہی مستحکم نظام ہے ۔ جس کے مقاصد اور اہداف متعین ہیں اور یہ نظام نفس انسانی کی بہتری کے لئے نازل کیا گیا ہے ۔ اس کے ذریعے نفس انسانی کا اس طرح علاج کیا گیا ہے کہ جس دست قدرت نے ذات انسان کو بنایا ہے ‘ وہی اس کی کمزوریوں کا علاج بھی کر رہا ہے ۔ یہ علاج اس لئے کامیاب ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی اس ممتاز مخلوق اور صنعت کے پرزے پرزے سے واقف ہے ‘ یہ اس کی حقیقت اور ماہیت کو اچھی طرح جانتا ہے اس کے رجحانات ومیلانات سے واقف ہے اور اس کی ضروریات اور اس کے اندر پوشیدہ ترین صلاحیتوں اور کمزوریوں سے بھی آگاہی رکھتا ہے ۔ اس سبق میں اسلامی نظام حیات کے اصول ‘ نہایت ہی اٹل اصول بتائے گئے ہیں جو مستقل ہیں ۔ ہر دور ‘ ہر جگہ اور ہر زمانے کے لئے ہیں تاکہ انسانیت کو جاہلیت کی پستیوں سے بلند کر کے نہایت اونچی بلندیوں تک پہنچائے اور جہان تک انسان ترقی کرچکا ہو اس سے اسے مزید آگے بڑھائے ۔ ان اصولوں کے ساتھ ساتھ اس سبق میں پہلی جماعت مسلمہ کے بھی کچھ خدوخال بیان کئے گئے ہیں جو اس قرآن کی پہلی مخاطب جماعت تھی ۔ ان آیات کے آئینے کے اندر پہلی تحریک اسلامی نہایت ہی خوبصرتی کے ساتھ بحیثیت ایک انسانی جماعت نظر آتی ہے ۔ اس میں بشری کمزوریاں بھی نظر آتی ہیں اور اعلی پاکیزگی کا میعار بھی نظر آتا ہے ۔ اس جماعت کے اندر جاہلی دور کی باقیات اور فطری کمزوریاں بھی نظر آتی ہیں ۔ قرآن کریم اس جماعت کی تربیت کرتے ہوئے ایک ایک کمزوری کو لیتا ہے اور ان کا علاج کرتا ہے ‘ پھر اس جماعت کو تقویت دے کر اسے ایک مثالی جماعت بنا رہا ہے ۔ تلقین کی جاتی ہے کہ وہ سچائی پر جم جائیں اور راہ حق میں جدوجہد کریں اور قربانیاں دیں ۔ سبق کا آغاز اس پکار سے کیا جاتا ہے جو جماعت مسلمہ کے نام ہے اسے کہا جاتا ہے کہ تم خیر امت ہو اور اس دنیا میں تمہارا ایک مقرر کردار ہے ‘ اسے ادا کرنے کے لئے کمر باندھو اور دنیا میں عدل و انصاف کا وہ معیار قائم کرو جو انسانیات کی تاریخ کا سب سے اونچا معیار اور مثالی عدل ہو ۔ اور عدل قائم کرنے میں تمہارا مطح نظر اور نصب العین ذات باری کی رضا کا حصول ہو ‘ اور اس معاملے میں کسی اور جذبے ‘ کسی اور خواہش اور کسی اور مصلحت کو پیش نظر مت رکھو ۔ اس معاملے میں خود اپنی جماعت ‘ اپنی حکومت اور اپنی امت (NAtion) کے مفادات کو بھی پیش نظر نہ رکھو ۔ اس میں خدا ترسی اور رضائے الہی کے سوا تمہارے پیش نظر کوئی اور جذبہ نہ ہو ۔ امت نے فی الواقعہ ایسا کیا اور اس کا ایک نمونہ ایک یہودی کے اوپر جھوٹے الزام کے واقعہ کی شکل میں خود قرآن کریم نے ریکارڈ کیا اور اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نبی کو بذریعہ وحی انصاف کرنے کی تنبیہ اور تاکید کی جس کا تذکرہ ہم تفصیلا کر آئے ہیں ۔ سبق کا آغاز اس حکم سے ہوتا ہے کہ عدل کرو ‘ مطلق اور خالص عدل کرو۔ مطلق اور خالص عدل کس قدر مشکل کام ہے ‘ اس کو رب کائنات ہی جانتا ہے ۔ جس نے انسان کو پیدا کیا ۔ رب کو معلوم ہے کہ اس راہ میں کیا کیا مشکلات پیش آتی ہیں ۔ اللہ کو معلوم ہے کہ انسان میں کمزوری کے کیا کیا پہلو ہیں ۔ انسان کے جذبات اس کی ذات کے لئے اور اقارب کے لئے کمزوروں اور زبردستوں کے لئے خصوصا والدین اور قریبی رشتہ داروں کے لئے ‘ فقراء اور اغنیاء کے لئے ‘ دوست اور دشمن کے لئے کیسے ہیں ۔ اس کے علاوہ دوسرے بیشمار جذبات اور یہ سب کے سب یا ان میں کوئی ایک بات عدل کے معاملے میں اثرانداز ہو سکتی ہے اور ان کو نظر انداز کرنا نہایت ہی مشکل کام ہے ۔ یہ کام اسی طرح مشکل ہے جس طرح ایک آدمی نہایت ہی عمودی چڑھائی پر چڑھ رہا ہو اور اس میں اس کے پیش نظر صرف رضائے الہی اور حبل اللہ رہے ۔ کس قدر مشکل ہے یہ کام ۔ دوسری دعوت اس سبق میں یہ ہے کہ مکمل ایمان لے آؤ ۔ اللہ کتابوں ‘ ملائکہ ‘ رسول اور یوم آخرت پر ایمان لاؤ ۔ یہ ہے مکمل ایمان ۔ اس کے تمام اجزاء کی اپنی اپنی جگہ بہت بڑی اہمیت ہے ۔ یہ تمام اجزاء مل کر ایمان کو مکمل کرتے ہیں اور انہی اجزاء سے مجموعی اسلامی تصور حیات وجود میں آتا ہے ‘ جو تمام دوسرے تصورات کے مقابلے میں زیادہ فوقیت رکھتا ہے ‘ جو کسی زمانے میں انسانی معاشروں کے اندر رائج ومعروف رہے ہیں ۔ اسلام سے پہلے بھی اور بعد میں بھی ۔ یہ نظریہ حیات بذات خود ‘ ہر نظریہ سے قوی اور برتر ہے اور اس سے تمام دوسری قدریں وجود میں آتی ہیں چاہے وہ اخلاقی ہوں ‘ اجتماعی ہوں یا تنظیمی ہوں اور جن کا عملی مظاہرہ پہلی جماعت اسلامی کی زندگی میں ہوا تھا اور آئندہ کے ادوار میں بھی جس جماعت نے اس نظام پر صحیح طرح ایمان کا اظہار کیا اور اس کے تقاضوں کو پورا کیا تو اس کی زندگی کے اندر بھی یہی تفوق اور برتری پیدا ہوئی ۔ قیامت تک یہ اصول اپنی جگہ قائم رہے گا اور قیامت میں تو بہرحال اللہ کا کلمہ ہی حق اور برتر ثابت ہوگا ۔ یہ ہے مفہوم اس آیت کا (آیت) ” (ولن یجعل اللہ للکفرین علی المومنین سبیلا (٤ : ١٤١) (اللہ نے کافروں کے لئے مسلمانوں کے مقابلے میں برتری کی کوئی سبیل نہیں رکھی) ۔ ان دو دعوتوں کے اب اللہ تعالیٰ منافقین پر تنقیدی حملہ شروع کرتے ہیں ۔ ان میں سے بعض تو وہ ہیں جو ابھی تک اپنے نفاق کو چھپائے ہوئے ہیں اور بعض وہ ہیں جو منافق رہنے کے بعد دوبارہ کفر کا اعلان کرچکے ہیں ۔ اس تنقیدی بیان میں منافقین کے مزاح انکی قابل نفرت صورت ‘ اسلامی صفوں کے اندر ان کی سرگرمیوں کی جو صورت حال ہے اس کی تفصیلات ان کا متلون موقف ‘ کہ اگر مسلمانوں کو فتح ہو تو وہ ان کی چاپلوسی کرتے ہیں اور اگر اہل کفر کو فتح نصیب ہو تو یہ انکے ہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور ہر جگہ خود اپنے آپ کو سبب فتح قرار دیتے ہیں ۔ نماز کے لئے نہایت ہی بوجھل قدموں کے ساتھ جاتے ہیں ۔ اور دکھاوے کے لئے پڑھتے ہیں ‘ ان کا رویہ نہایت ہی مذبذب ہوتا ہے ۔ نہ ادھر کے اور نہ ادھر کے ۔ اس تنقیدی حملے کے درمیان جا بجا اہل ایمان کو بھی ہدایات دی گئی ہیں جن سے اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ منافقین اس وقت اسلامی صفوں میں کس طرح گھسے ہوئے تھے اور کیا کیا کارستانیاں کر رہے تھے ۔ اسلامی صفوں میں منافقین کو کس قدر اثرورسوخ حاصل تھا ۔ ان حالات میں اس قسم کے تنقیدی حملے کی ضرورت اس لئے پیش آئی تاکہ اس وقت کے موجود حالات کو ملحوظ رکھتے ہوئے تحریک اسلامی کو قدم بقدم آگے بڑھایا جائے اور اس بات پر آمادہ کیا جائے کہ وہ منافقین سے آہستہ آہستہ دور ہوتے جائیں اور ان کے ساتھ تعلقات رکھنے سے اجتناب کریں ۔ ان کی مجالس میں نہ بیٹھیں ‘ جہاں وہ اکثر کفریہ گفتگوئیں کرتے ہیں اور اللہ کی آیات کے ساتھ مذاق کرتے ہیں ۔ البتہ اس دور میں قرآن کریم نے منافقین کے ساتھ بائیکاٹ کا حکم تو بہرحال نہیں دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جس وقت یہ آیات نازل ہو رہی تھیں اس وقت منافقین کا جتھا بڑا مضبوط تھا اور وہ اس قدر سرگرم تھے کہ اہل اسلام کے لئے ان کا مکمل بائیکاٹ ممکن ہی نہ تھا ۔ مسلمانوں کو اس تحذیر ار تنبیہ کرنے کے درمیان ہی یہ بتا دیا گیا کہ نفاق کی علامات کیا ہیں اور نفاق کا آغاز کس طرح شروع ہوتا ہے ۔ تاکہ وہ خود بھی نفاق کی علامات سے اپنے آپ کو بچانے کی سعی کریں ۔ سب سے پہلی ہدایت یہ دی جاتی ہے کہ تم منافقین کے ساتھ دوستی ہر گز نہ کرو اور منافقین کے ہاں اپنی عزت اور احترام بڑھانے کا لالچ نہ کرو ‘ اس لئے کہ عزت تو صرف اللہ کے ہاں ہے۔ اللہ کو ہر گز یہ بات پسند نہیں کہ وہ کافروں کو اہل اسلام پر برتری دے اور منافقین تو دنیا وآخرت میں ذلیل ہوں گے ۔ یہ ہے ان کی تصویر ذرا ملاحظہ کرو اور پھر آخرت میں وہ دوزخ کے اندر سب سے نیچے پڑے ہوں گے ۔ اس انداز میں یہ ہدایات اور تنبہات بتلاتی ہیں کہ اسلامی نظام زندگی نفس انسانی اور اس کے اندر رچی بسی عادات کو کس طرح درست کرتا ہے اور کسی موجود عملی صورت حال کے اندر اسلام اصلاح کی کاروائی کا آغاز کس طرح کرتا ہے ؟ اسلام نہایت ہی تدریج کے ساتھ کوئی تبدیلی لاتا ہے اور آخر کار کسی موجودہ صورت حال کو یکسر تبدیل کرکے اس کی جگہ نہایت ہی جدید صورت حالات لے کر آجائے ہے ۔ نیز اس سے اس بات کا بھی اظہار ہوتا ہے کہ اس دور میں مسلمانوں کے حالات کیا تھے ، کفر ونفاق کے محاذ ایک دوسرے کے ساتھ کس طرح معاون تھے اور وہ کس طرح جماعت مسلمہ اور دین اسلام کے خلاف گٹھ جوڑ کئے ہوئے تھے ۔ ان تمام تبصروں کے اندر غور کرنے سے یہ بات نظر آتی ہے کہ وہ کیا عظیم معرکہ تھا ۔ جس کے اندر قرآن کریم نے جماعت مسلمہ کو ڈال دیا تھا ۔ اور اس معرکہ میں ڈال کر قرآن کس نظام اور منہاج کے مطابق جماعت مسلمہ اور نفس انسانی کی قیادت اور راہنمائی کر رہا تھا ۔ یہ معرکہ وہی معرکہ ہے جو ہر زمان ومکان کے اندر اسلام اور جاہلیت کے درمیان برپا رہا ہے اور کبھی ختم ہونے میں نہیں آتا ۔ وسائل بدل سکتے ہیں اور چہرے بدل سکتے ہیں لیکن اسلام اور جاہلیت کے درمیان جو جنگ ہے اس کی نوعیت آج بھی وہی ہے جو قرن اول میں تھی ۔ نیز ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کی سرگرمیوں میں قرآن کریم کی قیادت اور راہنمائی کو کس قدر اہمیت حاصل ہے ۔ قرآن کریم یہ قیادت جس طرح حضور کے درمیان جو جنگ ہے اس کی نوعیت آج بھی وہی ہے جو قرن اول میں تھی ۔ نیز ان آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ امت مسلمہ کی سرگرمیوں میں قرآن کریم کی قیادت اور راہنمائی کو کس قدر اہمیت حاصل ہے ۔ قرآن کریم یہ قیادت جس طرح حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں کرتا تھا ‘ وہی راہنمائی اور قیادت وہ آج بھی کرتا ہے ۔ قرآن کریم کسی ایک دور یا کسی ایک نسل کی راہنمائی کے لئے تو آیا ہی نہیں ہے ‘ یہ تو اس امت کا قائدہ ہے ‘ اس کا مرشد ہے اور اس کا ہادی ہے اور ہر دور اور ہر نسل کے لئے ہے ۔ اور اس سبق کے آخر میں ایک لمحہ فکریہ ! یہ کہ اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ لوگوں کو خواہ مخواہ عذاب دے ۔ اس کا مطالبہ تو صرف یہ ہے کہ ایمان لاؤ اور اللہ کا شکر بجا لاؤ ۔ اگر لوگ ایمان نہیں لاتے اور شکر گزار بندے نہیں بنتے تو اسے کوئی پرواہ نہیں ۔ وہ تو ان کے ایمان اور شکر گزاری دونوں سے بےنیاز ہے ۔ اللہ جو ہدایات دے رہا ہے وہ تو انکی اصلاح کے لئے ہے ۔ ان کو نرمی دینے کے لئے ہیں تاکہ وہ اس بات کے مستحق ہوجائیں کہ ان کو جنت میں انعامات ملیں ۔ اگر وہ ان ہدایات کی خلاف ورزی کریں گے اور الٹے پاؤں پھریں گے تو وہ خود عذاب جہنم کے مستحق ہوجائیں گے ۔ اس میں صرف ان ہی کا ذاتی نقصان ہے اور منافقین تو اس جہنم کے بھی سب سے خطرناک ” درک اسفل “ میں ہوں گے ‘ سب سے نیچے والے درجے ہیں ۔ درس نمبر ٤٢ تشریح آیات : ١٣٥۔۔۔۔۔ تا ۔۔۔۔۔ ١٤٧ (آیت) ” نمبر ١٣٥۔ یہ اہل ایمان کو خصوصی پکار ہے ۔ اس پکار میں ان کے لئے ایک جدید لقب اور ایک نئی صفت کو استعمال کیا گیا ہے اور اس لقب اور صفت میں وہ بالکل منفرد ہیں ۔ اور الذین امنوا کی روح بدل گئی ہے ۔ ان کے تصورات بالکل نئے ہوگئے ہیں ۔ ان کے اصول اور مقاصد بدل کر نئے ہوگئے ہیں ۔ وہ اس جدید انقلابی مہم کے راہنما بن گئے ہیں اور ان کے کاندھوں پر عظیم ذمہ داریاں عائد کردی گئی ہیں ‘ اب وہ پوری انسانیت کے لئے پاسبان ونگہبان ہیں ۔ وہ لوگوں کے درمیان اب فیصلہ کرنے والے ہیں ۔ اس لئے یہاں (آیت) ” (یایھا الذین امنوا) کے الفاظ نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں ۔ یعنی اس صفت ایمان ہی کی وجہ سے ان پر عالمی قیادت کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے اور پورے عالم کی قیادت کرنا گویا تقاضائے ایمان ہے اور صفت ایمان ہی کے تقاضے کے طور پر مسلمان اس قیادت کے مقام کا چارج لینے کے لئے یہ تیاری کر رہے تھے ۔ اسلامی منہاج تربیت کی یہ ایک نہایت ہی موثر جھلکی ہے ۔ اور امت مسلمہ کو ایک نہایت ہی بھاری ذمہ داری کا چارج دینے سے قبل ہی یہ جھلکی دکھائی گئی اور وہ بھاری ذمہ داری یہ ہے ۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا کونوا قومین بالقسط شھداء للہ ولو علی انفسکم اوالوالدین والاقربین ان یکن غنیا اوفقیرا فاللہ اولی بھما “۔ (٤ : ١٣٥) (اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو انصاف کے علمبردار اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے بنو اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے) یہ امانت اور ذمہ داری یہ تھی کہ تم نے عدل قائم کرنا ہے اور یہ عدل مطلق ہوگا جس کا علمبردار تم نے بننا ہے ۔ ہر حال اور ہر میدان میں تم نے انصاف کرنا ہے ۔ ایسا عدل جس کے ذریعے ظلم اور عدوان کی خودبخود نفی ہوجائے اور پورے کرہ ارض پر کہیں بھی ظلم نہ رہے اور یہ ایسا عدل ہو کہ ہر حقدار کو اس کا حق ملے ۔ اس حق رسیدگی میں مومن اور غیر مومن دونوں برابر ہوں جیسا کہ یہودی کے قصے میں واضح طور پر کہا گیا ہے ۔ اس میں رشتہ دار اور غیر رشتہ دار سب برابر ہوں ۔۔۔ دوست اور دشمن سب برابر ہوں۔ غنی اور فقیر کا درجہ ایک ہی ہو ۔ (آیت) ” (کونوا قومین بالقسط شھداء للہ ) (انصاف کے علمبردار اور اللہ کے لئے گواہی دینے والے بنو) یہ انصاف اور شہادت صرف اللہ کے لئے ہو اور اس کا معاملہ اللہ کے ساتھ ہو اور شہادت نہ ان کے لئے دی جائے جن کے حق میں دی جارہی ہو اور نہ ان کی وجہ سے دی جائے جن کے خلاف دی جارہی ہے ۔ یہ شہادت نہ کسی فرد اور نہ کسی جماعت کے مفادات کے لیے ہو اور نہ شہادت ان حالات سے متاثر ہو کردی جائے جو اس وقت موجود ہوں یا مقدمہ زیر بحث پراثر انداز ہو رہے ہوں خالصتا اللہ کے لئے اور خالصتا اللہ کے ساتھ معاملہ کرتے ہوئے ‘ صرف اس کی رضا کے لئے دی جائے اور ایسے حالات میں کہ کوئی میلان ‘ کوئی رجحان ‘ کوئی مصلحت اور کوئی خواہش اسے متاثر نہ کر رہی ہو ۔ نہ کسی کا لحاظ رکھا جا رہا ہو۔ (آیت) ” ولو علی انفسکم اولوالدین والاقربین “۔ (٤ : ١٣٥) (اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ ) یہاں اسلامی نظام نفس انسانی کو خود اس کے اپنے خلاف مسلح کر رہا ہے ۔ اپنے جذبات کے ساتھ ‘ اپنی ذات کے خلاف ‘ اپنے والدین کے خلاف اور اپنے رشتہ داروں کے خلاف ‘ اور یہ نہایت ہی دشوار مرحلہ ہے کہ کوئی اپنی ذات کے خلاف فیصلہ کرے ۔ محض زبانی جمع خرچ تو آسان ہوتا ہے لیکن عملا ایسا کرنا نہایت ہی مشکل ہوتا ہے ۔ انسان ذہنی لحاظ سے اس کے بارے میں سوچ تو سکتا ہے کہ ایسا ہونا چاہئے مگر عمل دشوار ہوتا ہے اور اس بات کی اصل مشکلات کا احساس اس وقت ہوتا ہے جب انسان عملا یہ کام کرے ۔ اس کے باوجود کہ یہ مشکل کام ہے ‘ اسلامی نظام نفس مومنہ کو تقوی کے ذریعے خود اپنی ذات کے خلاف مسلح کر رہا ہے کہ وہ اس خطرناک تجربے میں کود پڑے ‘ اس لئے کہ دنیا کے اندر عدل و انصاف کا یہی معیار ہونا چاہئے کہ کوئی اپنی ذات کے خلاف بھی فیصلہ کر گزرے اگر حق و انصاف اس کا تقاضا کرتے ہوں ۔ اور کچھ لوگ یہ فیصلہ عملا کرکے دکھائیں ۔ اس کے بعد نفس انسانی کو اپنے فطری اور اجتماعی شعور کے خلاف بھی مسلح کیا جاتا ہے کہ جس شخص کے حق میں یا خلاف گواہی دی جارہی ہو وہ غریب ہو ۔ اگر وہ غریب ہے تو مشکل یہ ہوتی ہے کہ کوئی رحمدل انسان اس کے خلاف شہادت دینا گواہی دی جارہی ہو وہ غریب ہو ۔ اگر وہ غریب ہے تو مشکل یہ ہوتی ہے کہ کوئی رحمدل انسان اس کے خلاف شہادت دینا ازروئے رحمدلی ‘ پسند نہیں کرتا اور یہ پسند کرتا ہے کہ اس کی کمزوری کی وجہ سے اس کے حق میں شہادت دے ۔ یا کسی اجتماعی مرتبہ ومقام کی وجہ سے یا کسی سوسائٹی کی طبقاتی منافرت کی وجہ سے کوئی کسی زیردست کے ساتھ نفرت کرتا ہو یا اگر مدمقابل گنی ہو تو اس کی وجاہت کا لحاظ رکھے اور اس کے خلاف شہادت نہ دے ۔ جاہلیت کے تمام نظاموں میں ایسا ہوتا رہا ہے ۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ایک گواہ ایک مالدار شخص کے ساتھ نفرت کرے اور اس کی مالداری اور برتری اسے پسند نہ ہو اور اس وجہ سے وہ شہادت حق نہ دے بلکہ مالدار کے خلاف شہادت دے دے ۔ یہ تمام فطری میلانات ہوئے اور جب عملا کسی کو واسطہ پڑتا ہے تو انصاف اور شہادت کے وقت یہ اپنا وزن انسان پر ڈالتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے تمام امور کو لے لیا کہ ذات ہو ‘ اقرباء ہوں ‘ غریب ہو یا امیر تم شہادت حق دو ۔ (آیت) ” ان یکن غنیا اوفقیرا فاللہ اولی بھما “۔ (٤ : ١٣٥) (فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے) یہ نہایت ہی مشکل اور بھاری کام ہے ۔ اسلام نے اہل ایمان کو عملی زندگی میں ڈالا اور اسے اس قدر بلندی تک پہنچایا کہ انہیں پوری انسانیت نے دیکھ لیا کہ اسلام نے اس کرہ ارض پر عالم انسانیت کے اندر یہ ایک عظیم معجزہ دکھایا تھا ۔ یہ ایک ایسا معجزہ تھا کہ صرف اسلامی نظام کے سایہ ہی میں رونما ہو سکتا تھا ۔ (آیت) ” فلا تتبعوا الھوی ان تعدلوا “۔ (٤ : ١٣٥) (لہذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو ‘) خواہشات نفسانیہ کی کئی اقسام ہوتی ہیں جن میں سے بعض کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے ۔ ذات کی محبت ‘ اہل و عیال کی محبت ‘ رشتہ داروں کی محبت ‘ کسی فقیر کے ساتھ رحمدلی ‘ (شہادت کے وقت) کسی غنی کی رعایت اور وجاہت کا لحاظ ‘ کسی امیر یا فقیر سے نفرت وغیرہ سب خواہشات نفسانیہ ہیں ۔ خاندان ‘ قبیلے ‘ قوم ‘ وطن اور حکومت کی طرفداری (شہادت کے وقت) دشمن سے نفرت اگرچہ دین کے دشمن ہوں ۔ غرض خواہشات کی بیشمار قسمیں اور رنگ ہیں ۔ ان تمام خواہشات سے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کے متاثر ہونے کو پسند نہیں کرتے ۔ اور اس تاثر کے تحت انصاف اور شہادت حق سے باز رہنے سے منع کرتے ہیں ۔ سب سے آخر میں اس بات پر متنبہ کیا جاتا ہے کہ شہادت کے اندر تحریف ہر گز نہ کرو اور شہادت سے منہ بھی نہ پھیرو۔ (آیت) ” وان تلوا اوتعرضوا فان اللہ کان بما تعملون خبیرا “۔ (٤ : ١٣٥) (اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے ۔ ) اس معاملے میں صرف یہ یاد دہائی کرائی جاتی ہے کہ تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے تاکہ اہل ایمان کے اندر یہ تاثر پختہ ہوجائے کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو اس کا انجام بہت ہی برا ہوگا تاکہ ان کا دل کانپ اٹھے اس لئے کہ قرآن کریم کی ان آیات کے مخاطب اہل ایمان ہی تو ہے ۔ روایات میں آتا ہے کہ جب عبداللہ ابن رواحہ (رض) کو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کی محصولات کی وصولی کے لئے بھیجا (یاد رہے کہ ان کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نصف محصولات پر فیصلہ کیا تھا) اور وہ فتح خیبر کے بعد وہاں گئے تو یہودیوں نے انکو اس امر کے لئے رشوت دینا چاہی کہ وہ ان کے ساتھ نرمی کریں تو انہوں نے یہودیوں سے کہا : ” خدا کی قسم میں تو ایک ایسے شخص کا نمائدہ ہوں جو اس پوری دنیا سے مجھے زیادہ محبوب ہے ۔ خدا کی قسم تم کو میں بندروں اور خنزیروں سے بھی زیادہ براسمجھتا ہوں لیکن حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت اور تمہاری نفرت مجھے اس بات پر آمادہ نہیں کرسکتی کہ میں تمہارے درمیان عدل کے سوا کچھ اور کروں “۔ اس پر یہودیوں نے کہا کہ ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے زمین و آسمان کا نظام قائم ہے ۔ عبداللہ ابن رواحہ (رض) مدرسہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تعلیم یافتہ تھے ‘ اور ان کی تعلیم وتربیت ربانی منہاج پر ہوئی تھی ۔ وہ انسان تھے اور پورے انسانی جذبات کے ساتھ کسی عدالت کی کرسی پر بیٹھے اور کامیاب رہے ۔ اور ان کے سوا دوسرے بھی کچھ کم نہ تھے جنھوں نے اسلامی نظام کے زیر سایہ معجزہ دنیا کو کر کے دکھایا ۔ سالوں پر سال گزرتے رہے ۔ صدیاں بیت گئیں اور یہ دور بہت دور چلا گیا ہے اور لائبریریاں فقہ اور قانون کی کتابوں سے بھر گئی ہیں ۔ قانونی ضابطوں اور انصاف کے رولز ریگولیش کی بہتات ہوگئی اور قانون اور انصاف کے محکمے اور وزارتیں تشکیل دے دی گئیں ۔ اور دماغ عدل و انصاف کا نام سن سن کر پھرگئے ۔ دنیا میں عدل کرنے کے بارے میں طویل ترین تقاریر اور مقالات پڑھے جانے لگے ۔ عدل و انصاف کے سلسلے میں کئی نظریات پیدا ہوئے اور کئی تنظیمیں وجود میں آئیں اور کانفرنسیں ہوئیں لیکن وہ حقیقی عدل کہاں ہے ؟ اس کا ذائقہ کسی نے نہیں چکھا ۔ یہ عدل لوگوں کے ضمیروں اور ان کی زندگی میں عنقاہی رہا ۔ اور یہ عدل ان انتظامات کے باوجود اس اعلی میعار تک نہ پہنچ سکا جو خیر القرون کا طرہ امتیاز تھا ۔ اس کا حقیقی وجود اگر کہیں تھا تو صرف اسلامی نظام کے دور میں تھا ۔ اس مختصر دور میں عدل کا گراف اس قدر بلندی تک پہنچا اور نبوت اور خلافت راشدہ کے بعد اگر وہ کہیں ملا تو صرف اسلامی معاشرے کے اندر ملا اور صرف ان دلوں میں ملا جن میں اسلام جاگزین تھا اور ان افراد اور ان سوسائٹیوں میں ملا جن کی تربیت اسلامی نظام کے زیر سایہ ہوچکی تھی ۔ جو یقینا ایک واحد اور مثالی عادلانہ نظام ہے ۔ وہ لوگ جو آج کل جدید سے جدید عدالتی نظام تشکیل دیتے ہیں ‘ عدل و انصاف کے لئے جدید سے جدید ذرائع استعمال کرتین ہیں اور عدلیہ کے لئے نہایت ہی پیچیدہ طریقہ کار طے کرتے ہیں ‘ ان لوگوں کو چاہئے کہ وہ ان امور کو بھی مدنظر رکھیں جو ہم نے اوپر دئیے ہیں ۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ طریقہ کار پیچیدہ ہے اور یہ نہایت ہی منظم عدالتی ڈھانچے اس سادہ اور نہایت ہی ابتدائی انتظامات سے زیادہ مفید ہوں گے جو اسلامی دور میں اختیار کئے گئے تھے ۔ یہ جدید لوگ جن کے ہاتھوں میں عدلیہ کا اہتمام ہے ‘ وہ سمجھتے ہوں گے کہ وہ بہت ہی کامیاب ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہے ۔ یہ ایک وہم ہے اور یہ وہم اس لئے پیدا ہوتا ہے کہ لوگ ظاہری حجم کو دیکھ کر حقیقت معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ اشیاء کی حقیقت ان کے ظاہری حجم سے معلوم نہیں ہوتی ۔ یہ اسلامی نظام ہی ہے جو ان سادہ حالات کے اندر اس قدر بلند معیار تک پہنچا اور آج بھی اسلام ہی ہے جو اس سطح تک عدل کے معیار کو پہنچا سکتا ہے ‘ بشرطیکہ اسے اختیار کیا جائے ۔ لیکن اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ہم جدید ترقی یافتہ دور میں نظام عدالت کے جدید انتطامات اور ضابطہ ہائے دیوانی اور فوجداری سے فائدہ نہ اٹھائیں یا محکمہ انصاف کی جدید تنظیم اور ترقی یافتہ اشکال کو ختم کرکے ان کی جگہ خلافت راشہ کی سادہ شکل جاری کردیں ۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ اصل مقصد شکل اور تنظیم نہیں ہے بلکہ اصل مطلوب وہ روح ہے جو ظاہری شکل کے اندر کار فرما ہوتی ہے چاہے اس کی ظاہری شکل اور جسامت جو بھی ہو اور وہ نظام کیسے ہی خیالات اور کیسے ہی زمان ومکان میں ہو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

سچی گواہی دینے اور انصاف پر قائم رہنے کا حکم لباب النقول صفحہ ٥٨ میں اس آیت کا سبب نزول بتاتے ہوئے بحوالہ ابن ابی حاتم مفسر سدی سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ دو شخصوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اپنا مقدمہ پیش کیا ان میں ایک غنی تھا اور ایک فقیر تھا۔ آپ کا رجحان فقیر کی طرف ہوا کیونکہ خیال مبارک میں یہ آیا کہ فقیر غنی پر کیا ظلم کرے گا۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ انصاف کو قائم رکھا جائے۔ اصل چیز انصاف ہے وہی مطلوب ہے کسی کی بھی طرفداری کرنے سے انصاف باقی نہیں رہتا انصاف کرنے کے جو اصول ہیں یعنی گواہی اور قسم اسی کے مطابق فیصلے کیے جائیں البتہ گواہ سچے ہوں اس لیے جہاں یہ حکم دیا کہ انصاف پر قائم رہو وہاں یہ حکم بھی دیا کہ اللہ کے لیے گواہی دینے والے بنو۔ گواہ بھی جھوٹی گواہی نہ دیں اور کسی کی طرف داری نہ کریں۔ حق کو خوب اچھی طرح واضح کریں گو اہی دینے میں غلط بیانی نہ کریں۔ جیسے زبان موڑ کر یا الفاظ کی ہیرا پھیری کر کے بعض گواہ گواہی دے جاتے ہیں۔ اس میں ظالم کی طرفداری ہوجاتی ہے یا حق واضح نہ ہونے سے حاکم فیصلہ دینے سے عاجز رہ جاتا ہے جس سے مظلوم کا حق مارا جاتا ہے اور گواہی دینے سے اعراض بھی نہ کرے کیونکہ جہاں کسی کا حق مارا جاتا ہو وہاں حق گواہی دینا واجب ہے اس واجب کی خلاف ورزی گناہ ہے۔ اسی کو فرمایا (وَ اِنْ تَلْوٗٓا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا) اور سورة بقرہ کے آخری رکوع میں فرمایا (وَلاَیَاْبَ الشُّھَدَآءُ اِذَا مَادُعُوْا) اور فرمایا (وَلَا تَکْتُمُوا الشَّھَادَۃَ وَ مَنْ یّکْتُمْھَا فَاِنَّہٗٓ اٰثِمٌ قَلْبٌ) ۔ مزید ارشاد فرمایا کہ اللہ کے لیے گواہی دو اور گواہی میں یہ نہ دیکھو کہ یہ کسی کے خلاف جائے گی اگر حق کہے گا وہی تمہاری اپنی جانوں کے خلاف ہو یا تمہارے والدین کے خلاف ہو یا رشتہ داروں کے خلاف ہو تب بھی صحیح اور حق گواہی دے دو ۔ اگر تمہارا یا تمہارے عزیزوں کا کچھ نقصان ہوگا تو حقیر دنیا کا نقصان ہوگا حق قائم کرنے اور حق دلانے کے سامنے حقیر دنیا کے نقصان کی کوئی حیثیت نہیں وَلَوْ عَلٰٓی اَنْفُسِکُمْ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب کسی کا کوئی حق اپنے ذمہ نکلتا ہو تو واضح طور پر اس کا اقرار کرنا لازم ہے گو یہ نفس کے خلاف گواہی ہے۔ نفس حق دینا نہیں چاہتا لیکن آخرت کی پیشی کو سامنے رکھ کر حقدار کا حق دے دینا لازم ہے۔ یہ جو فرمایا (اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِھِمَا) اس میں یہ بتایا کہ تم یہ نہ دیکھو کہ جس کے خلاف گواہی پڑ رہی ہے اور جس کے خلاف فیصلہ ہو رہا ہے یہ غنی ہے یا فقیر ہے۔ امیری غریبی اللہ کی دی ہوئی ہے اور امیر اور غریب سے اللہ تعالیٰ کو زیادہ تعلق ہے کیونکہ وہ اس کی مخلوق ہیں اور ان کا حاجت روا ہے تمہیں کسی امیر غریب سے اتنا تعلق نہیں ہے جتنا اللہ تعالیٰ کو تعلق ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے سب کی مصلحت اسی میں رکھی ہے کہ صحیح گواہی دی جائے حق بات کہی جائے تو تم اسی حکم پر عمل کرو۔ یہ نہ دیکھو کہ مالدار کے پاس مال جا رہا ہے یا اسے دینا پڑ رہا ہے یا غریب کو نہیں مل رہا ہے یا غریب کو دینا پڑ رہا ہے بلکہ ہمیشہ حق ہی کو اختیار کرو اور صحیح گواہی دو ۔ جس طرح رشتہ داری سامنے آجاتی ہے اور گواہی میں فیصلے میں حق کو اختیار نہیں کیا جاتا بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ جس کے خلاف فیصلہ جا رہا ہے وہ ہمارا رشتہ دار ہے اسی طرح یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہم جس کے خلاف گواہی دے رہے ہیں یا فیصلہ لکھ رہے ہیں وہ ہمارا دوست ہے یا ہم وطن ہے یا ہم پیشہ ہے یا ہم زبان ہے ایسے گواہ اور حاکم کے لیے سخت و بال اور گناہ کی بات ہے کہ ظلم کا ساتھ دے اور اس کی رعایت کرے جس سے کسی قسم کا تعلق ہے اور جس کا واقعی حق بنتا ہو اسے محروم کر دے، لسانی اور وطنی عصبیتوں کی وجہ سے متعصب عوام سے دب کر بہت سے اہل علم بھی عصبیت کے سیلاب میں بہہ جاتے ہیں۔ زمانہ قریب کے تاریخ شاہد ہے کہ تقسیم ہند کے بعد کافروں کے مظالم سے بچ کر بہت سے مسلمانوں کے بعض علاقوں میں ہجرت کر کے پہنچ گئے اور پھر وہاں گھر بنا لیے اور زمینیں خرید لیں۔ اور پیسے کما لیے جب علاقے کے لوگوں کو علاقائی عصبیت کا خیال آیا تو ان پناہ گزین مسلمانوں کو اپنے علاقے سے نکالنے پر تل گئے۔ پناہ گزینوں کو بےتحاشہ ختم کیا اور ان کے مالوں اور جائیدادوں پر قبضہ بھی کرلیا اس وقت حکام اور عوام بلکہ اہل علم تک اس جہالت پر آمادہ ہوگئے کہ یہ ہماری زمین ہے۔ یہ رقم ہمارے یہاں رہتے ہوئے کمائی ہے۔ لہٰذا یہ سب کچھ ہمارا ہے اس عصبیت جاہلیت کی وجہ سے پناہ گزین پر بڑے بڑے مظالم ہوئے اور حکام اور عوام سب نے (کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بالْقِسْطِ ) کی خلاف ورزی کی۔ اگر کسی کے دل میں انصاف کی بات تھی تو عوام کے خوف سے وہ زبان پر نہ لاسکا۔ انصاف پر قائم رہنے میں یہ سب داخل ہیں کہ کوئی کسی پر ظلم نہ کرے اور ظالم کو قتل سے روکا جائے۔ ظالم کی حمایت نہ کی جائے مظلوم کا حق دیا جائے اور دلایا جائے گواہی دینے میں کسی اپنے پرائے کا خیال نہ رکھا جائے۔ گواہی حق ہو، خواہ کسی کے بھی خلاف پڑے۔ اپنے نفس پر اور مظلوموں پر ظلم کرنے والے وہ لوگ بھی ہیں جو اللہ کے لیے گواہی نہیں دیتے جبکہ قرآن مجید میں (شُھَدَآءَ لِلّٰہِ ) فرمایا اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو روزانہ کچہری میں حاضر ہوجاتے ہیں اور جس کے خلاف گواہی دلوائی جائے تھوڑے سے پیسے لے کر گواہی دے دیتے ہیں۔ جھوٹی گواہی دینا بہت سے لوگوں کا کاروبار ہے۔ ایسی گواہی دینا حرام ہے اور اس پر جو اجرت لیتے ہیں وہ بھی حرام ہے۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم جانتے ہو قیامت کے دن اللہ کے سائے کی طرف سب سے پہلے پہنچنے والے کون ہیں، عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی جانتے ہیں۔ فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جب انہیں حق دیا جاتا ہے تو قبول کرلیتے ہیں اور اگر ان پر کسی کا حق ہو تو جب مانگا جائے دے دیتے ہیں اور لوگوں کے بارے میں وہی فیصلہ کرتے ہیں جو فیصلے اپنے لیے کرتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جیسے اپنے لیے حق اور انصاف چاہتے ہیں ایسے ہی جب دوسروں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا موقعہ آجائے اس وقت بھی انصاف کرتے ہیں۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٣٢٢) شروع آیت میں (یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) فرما کر یہ بتادیا کہ انصاف قائم کرنا اور سچی صحیح گواہی دینا یہ تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے جو لوگ حکام ہیں ان کو پوری امت انصاف کا پابند کرے تاکہ دنیا میں انصاف کی فضا بنے۔ جو لوگ حاکم بناتے ہیں ان پر فرض ہے کہ ایسے شخصوں کو حاکم بنائیں جو علم اور تقویٰ والے ہوں۔ ظالمانہ فیصلے نہ کریں قرآن و حدیث کے موافق فیصلے کریں۔ کافرانہ قانون کو سامنے رکھ کر فیصلے نہ کریں۔ اس آیت میں (کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بالْقِسْطِ شُھَدَآءَ لِلّٰہِ ) فرمایا اور سورة مائدہ میں (قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ شُھَدَآء بالْقِسْطِ ) فرمایا۔ دونوں کو ملانے سے معلوم ہوا کہ انصاف قائم کرنا اور صحیح گواہی دینا یہ دونوں کام اللہ کی رضا کے لیے کریں۔ لفظ للہ میں یہ بتایا کہ انصاف اور گواہی اللہ کی رضا کے لیے ہو اور آیت کے ختم پر (اِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا) فرما کر یہ بتایا کہ اللہ سے ڈرو قیامت کی پیشی کا دھیان رکھو۔ جب اللہ کی رضا بھی مقصود ہوگی اور اللہ کا خوف بھی ہوگا تو انصاف بھی قائم ہو سکے گا اور گواہ سچی گواہی دیں گے۔ اتباع ہویٰ سے پرہیز : آیت میں جو یہ فرمایا (فَلَا تَتَّبِعُوا الْھَوٰٓی اَنْ تَعْدِلُوْا) اس میں اجمالی طور پر مضمون بالا کی تاکید فرما دی کہ خواہش نفس کا اتباع نہ کرو۔ ظلم اسی وجہ سے ہوتا ہے کہ حق کو اختیار کرنے کی بجائے خواہش نفس کا اتباع کیا جاتا ہے اور اللہ کی رضا کو سامنے نہیں رکھا جاتا اسی وجہ سے ظالمانہ فیصلے ہوتے ہیں اور جھوٹی گواہیاں دی جاتی ہیں۔ لفظ (اَنْ تَعْدِلُوْا) میں ایک احتمال تو یہ ہے کہ عدول سے مشتق ہو جس کا معنی یہ ہوگا کہ اتباع ہویٰ نہ کرنا جس کی وجہ سے حق سے ہٹ جاؤ گے اور یہ بھی احتمال ہے کہ عدل سے مشتق ہو۔ جس کا معنی یہ ہوگا کہ اتباع ہویٰ نہ کرو کیونکہ اتباع ہویٰ کی وجہ سے عدل نہ کرسکو گے۔ و فیہ حذف مضاف ای کراھیۃ ان تعدلوا۔ گواہیوں اور فیصلوں میں رشتہ داریوں کو نہ دیکھا جائے : بے انصافی اختیار کرنے اور ظلم پر آمادہ ہونے کے لیے جس طرح رشتہ داروں کی یاد وستوں کی یا کسی بھی قسم کے تعلقات کی رعایت آڑے آجاتی ہے اسی طرح سے کسی قوم کی دشمنی اور بغض اور عناد بھی انصاف سے روکنے والے بن جاتے ہیں۔ اس پر سورة مائدہ میں تنبیہ فرمائی اور فرمایا (وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ اَنْ صَدُّوْکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ اَنْ تَعْتَدُو) (کہ کسی قوم کی دشمنی کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روک دیا ہے اس پر آمادہ نہ کر دے کہ تم زیادتی کر جاؤ) اور فرمایا (وَ لَا یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلیٰٓ اَنْ لاَّ تَعْدِلُوْا) (اور تمہیں کسی قسم کی دشمنی اس پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف نہ کرو) ۔ اسلام ظلم کا ساتھی نہیں : دین اسلام میں حق اور انصاف کی قدرو قیمت ہے اور اسی کا حکم دیا گیا ہے اور انصاف کے اصول مقرر فرما دیے ہیں۔ صاحب حق امیر ہو یا غریب اس کا حق دلانا فرض ہے۔ کسی سے اس لیے عناد کرنا کہ وہ امیر ہے یا غریب ہے یہ اسلام میں نہیں ہے اسلام حق کا ساتھی ہے ظلم کا ساتھی نہیں ہے، جب سے دنیا میں کمیونزم کا نظریہ چلا ہے اس وقت سے لوگوں کا کچھ مزاج ایسا ہوگیا کہ جس طرح سے ممکن ہو مالدار کو دباؤ۔ اگرچہ ظلم غریب کی طرف سے ہو جہاں کہیں کسی امیر اور غریب میں کوئی جھگڑا ہوجائے تو دیکھا جاتا ہے کہ عام لوگ غریب ہی کے ساتھی ہوجاتے ہیں حالانکہ حق کا ساتھی ہونا چاہیے اگر کسی امیر نے مزدور رکھا اور کام لے کر اس کی مزدوری نہ دی یا کم دی تو اس صورت میں غریب کا ساتھی ہونا چاہیے اور اس کا جو حق ہے وہ دلائیں اور اگر کسی غریب نے کسی امیر کا پیسہ مار لیا تو غریب سے اس کا پیسہ دلائیں اسلام حرام کا مخالف ہے اگر امیر کے پاس حرام ہے تو وہ گنہگار فاسق فاجر ہے جس کا مال مارا ہے اس کا مال واپس کرے۔ امیری یا غریبی حق ہونے کا اور حق دار ہونے کا معیار نہیں ہے۔ اب مزدور یہ کرتے ہیں کہ جتنا معاملہ کے اعتبار سے ان کا حق بنتا ہے اس سے زیادہ مانگتے ہیں اگر کارخانہ دار نہ دے تو ہڑتال کردیتے ہیں پھر ہڑتال کے زمانے کے بھی پیسے مانگتے ہیں اور اس کو مزدور کا حق سمجھا جاتا ہے اور لوگ عموماً مزدور کے طرف دار ہوجاتے ہیں یہ مزدوروں کی ناجائز حمایت ہے اور انصاف کے خلاف ہے اگر کسی حکومت کے غلط قانون کی وجہ سے مالدار کارخانہ چلانے کی مجبوری سے اس زمانے کے پیسے دے دے جس زمانے میں مزدوروں نے کام نہیں کیا تو مزدوروں کو وہ پیسہ لینا حلال نہ ہوگا۔ مزدور آٹھ گھنٹے روزانہ کا معاملہ کرتے ہیں پھر وقت کم دیتے ہیں اور تنخواہ پوری لیتے ہیں یا وقت پورا دیتے ہیں تو کام پورے وقت میں نہیں کرتے کچھ کام کیا پھر بیٹھ گئے باتوں میں وقت لگا یا جو کام سپرد نہیں ان کاموں میں لگ گئے اور تنخواہ پوری لے لی۔ ایسا کرنے سے پوری تنخواہ لینا حلال نہیں ہوتا۔ جو لوگ ایسے حق مارنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں وہ ظلم کے ساتھی ہیں۔ (اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰہُ اَوْلٰی بِھِمَا) کے بعدجو (فَلَا تَتَّبِعُوا الْھَویٰٓ اَنْ تَعْدِلُوْا) فرمایا ہے اس میں وہ لوگ غور کریں جو ظلم کے مواقع میں امیر یا غریب کا ساتھ دیتے ہیں اور اتباع ہویٰ کی وجہ سے حق کے ساتھی نہیں بنتے۔ وَاللّٰہُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ ھُوَ یَھْدِی السَّبِیْلَ ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

90 تنویر ثالث یہ نویں حکم سلطانی پر تنویر ہے وَلَوْ عَلیٰ اَنْفُسِکُمْ اصل میں تھا و لو کانت الشھادۃ علی انفسکم (مدارک ج 1 ص 199) یہ شبہ ہوسکتا تھا کہ کسی غریب آدمی کو فائدہ پہنچانے کے لیے یا ماں باپ کی رعایت کی خاطر یا کسی بڑے آدمی کی اصلاح کی خاطر شاید گواہی میں کمی بیشی جائز ہوگی تو فرمایا کہ یہ ہرگز جائز نہیں بلکہ شہادت میں کسی کی رو رعایت مت کرو اور ہمیشہ گواہی پوری پوری ادا کرو۔ نویں حکم سلطانی سے یہ مفہوم ہوتا تھا کہ گواہی ہمیشہ سچی اور صحیح دینی چاہئے۔ اس پر فرمایا اِنْ یَّکُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْراً الخ یعنی اگر کوئی غنی ہے یا فقیر تو تم ان کا معاملہ خدا کے سپرد کردو وہ ان کے حال کو اور ان کی بہتری کو تم سے زیادہ جانتا ہے والمعنی و کلوا امرھم الی اللہ تعالیٰ فھو اعلم بھم و بحالھم (خازن ج 1 ص 507) اس لیے تم اپنی خواہش کی پیروی کرتے ہوئے گواہی میں کمی بیشی مت کرو۔ اِنْ تَعْدِلُوا یا تو عدول (بمعنی حق سے اعراض) سے ماخوذ ہے یا عدل ضد جور سے۔ دونوں صورتوں میں بتقدیر مضاف ماقبل کا مفعول لہ ہے۔ وَاِنْ تَعْدِلُوْا من العدول عن الحق او من العدل وھو القسط فعلی الاول یکون التقدیر ارادۃ ان تجورا او محبۃ ان تجوروا و علی الثانی یکون التقدیر کراھۃ ان تعدلوا بین الناس و تقسِطوا (مدارک ج 1 ص 199 و بحر ج 3 ص 370 واللفظ لہ) پہلی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ تم حق اور انصاف سے روگردانی کی نیت سے خواہش نفس کی پیروی مت کرو اور دوسری صورت میں مفہوم یہ ہوگا تم عدل و انصاف کو ناپسند کرتے ہوئے خواہش نفس کا اتباع مت کرو۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اے ایمان والو ! تم تمام معاملات میں پوری مضبوطی کے ساتھ انصاف پر قائم رہنے والے اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے سچی گواہی دینے والے رہو یہ سچی گواہی خواہ تمہارے اپنے حق میں یا تمہارے ماں باپ کے حق میں یا تمہارے دوسرے قرابت داروں کے حق میں مضر ہی کیوں نہ ہوتی ہو اور خلاف ہی کیوں نہ ہو یعنی اس گواہی سے خواہ کسی کو بھی نقصان پہنچتا ہو اور گواہی کے وقت اس کا بھی خیال نہ کرو کہ فریق معاملہ کون ہے وہ فریق معاملہ کوئی مالدار ہے تب اور کوئی مفلس و نادار ہے تب بہرحال اللہ تعالیٰ ان دونوں کا تم سے زیادہ خیر خواہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا تعلق ان دونوں کے ساتھ تم سے زیادہ ہے لہٰذاتم گواہی دینے میں نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرنا کہ کہیں تم حق اور انصاف سے ہٹ جائو اور دیکھو، اگر تم کج بیانی کرو گے اور ہیر پھیر سے شہادت دو گے یا شہادت دینے سے پہلو تہی کرو گے تو یقین جانو ! کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ان تمام کاموں سے جو تم کرتے ہو باخبر ہے (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی گواہی میں محظوظ اصل کی خاطر نہ کرو اور محتاج پر ترس نہ کھائو اور قرابت نہ دیکھو حق ہو سو کہو اور اگر سچ کہا پر ملی زبان سے کہ سنتے کو شبہ پڑا یا تمام قصہ نہ کہا کچھ بات کام کی رکھ لی یہ بھی گناہ ہے۔ (موضح القرآن) معاملات کے بارے میں یہ آیت نہایت جامع ہے معاملہ کا ادا کرنا ہو یا کسی معاملہ کا فیصلہ کرنا ہو یا کسی معاملہ میں اقرار کرنا ہو، یا شہادت دینا ہو یا کسی معاملہ میں گواہی اور اظہار خیال اور اقرار وغیرہ کا تعلق اپنے یا اپنے متعلقین کے ساتھ ہو یا معاملہ کسی امیر کا ہو، یا غریب کا ہو ان سب باتوں میں مضبوطی کے ساتھ انصاف پر قائم رہنا چاہئے اور نفسانی خواہش کی پیروی نہ کرنا کہیں تم انصاف سے ہٹ جائو پھر شہادت دینے میں جس کوتاہی کا اندیشہ تھا کہ کبھی ہیر پھیر سے شہادت دو یا گواہی دینے سے ٹل جائو یا کچھ واقعہ بیان کرو اور کچھ چھپالو شہادت کے ان طریقوں پر بھی تنبیہہ فرمائی کہ اگر کوئی ایسی حرکت کرو گے تو اللہ تعالیٰ دانا اور بینا ہے وہ تم کو اس کی سزا دے گا۔ حضرت شاہ صاحب ان تعدلوا کا جو ترجمہ کیا ہے وہ ہم نے محاورے کے متروک ہوجانے کی وجہ سے چھوڑ دیا ہے پوری مضبوطی سے قائم رہنے کا مطلب یہ ہے کہ معاملہ کی خواہ کوئی صورت ہے مسلمانوں کو اس میں انصاف سے کام لینا چاہئے اور ہمیشہ مضبوطی کے ساتھ انصاف پر قائم رہنا چاہئے اور شہادت دینے کے وقت اللہ تعالیٰکی خوشنودی کا لحاظ کرنا چاہئے۔ شادت کا اثر خواہ اپنے پر پڑتا ہو جیسے کسی کے حق کا اقرار کرلینا اپنے ماں باپ اور رشتہ داروں پر اس کا اثر پڑتا ہو اور ان پر کسی کا حق ثابت ہوتا ہو بہرحال ! شہادت سچی ہونی چاہئے اور اقرار ٹھیک ٹھیک کرنا چاہئے۔ امیر غریب کا مطلب یہ ہے کہ امیر کی عایت کسی نفع کی توقع پر یا غریب کی رعایت ترس کھا کر نہ کیجیے کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر امیر اور غریب کا تم سے زیادہ خیر خواہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اسی شہادت سے خوش ہوتا ہے جو سچی اور ٹھیک ہو اور اس میں کسی کی رعایت نہ کی جائے مفسرین نے ان تعدلوا کو عدل اور عدول سے لیا ہے ہم نے دونوں کی رعایت کی ہے ۔ اگرچہ قاضی بیضاوی کا قول اختیار کیا ہے۔ واللہ اعلم اب آگے ایمان کا ذکر ہے جو اصل ہے تمام اعمال کی اور یہ بات ہم کئی دفعہ رض کرچکے ہیں کہ قرآن کریم کی ترتیب اور اس کا ربط کچھ اس ڈھنگ سے واقع ہوا ہے کہ متوسط درجے کے لوگ اس میں الجھتے ہیں حالانکہ ہر آیت اپنے موقع اور قرینے کے اعتبار سے اپنی جگہ ہوتی ہے اور سلسلہ کلام ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہوتا ہے چناچہ اس موقعہ پر بھی احکام فرعیہ کے ساتھ آگے کی آیتوں میں ایمان کا ذکر ہے اور اس کے بعد منکرین حق کی مذمت ہے وہ منکرین حق منافقوں میں سے ہوں یا کافروں میں سے ہوں یا اہل کتاب میں سے ہوں آخر سورت تک ان ہی کا ذکر ہے صرف آخر کی چند آیتوں میں ترکہ کے بعض مسائل کا بیان ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)