Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 139

سورة النساء

الَّذِیۡنَ یَتَّخِذُوۡنَ الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ؕ اَیَبۡتَغُوۡنَ عِنۡدَہُمُ الۡعِزَّۃَ فَاِنَّ الۡعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا ﴿۱۳۹﴾ؕ

Those who take disbelievers as allies instead of the believers. Do they seek with them honor [through power]? But indeed, honor belongs to Allah entirely.

جن کی یہ حالت ہے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے پھرتے ہیں ، کیا ان کے پاس عزت کی تلاش میں جاتے ہیں؟ ( تو یاد رکھیں کہ ) عزت تو ساری کی ساری اللہ تعالٰی کے قبضہ میں ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُونِ الْمُوْمِنِينَ ... Those who take disbelievers for friends instead of believers, Allah describes the hypocrites as taking the disbelievers as friends instead of the believers, meaning they are the disbelievers' supporters in reality, for they give them their loyalty and friendship in secret. They also say to disbelievers when they are alone with them, "We are with you, we only mock the believers by pretending to follow their religion." Allah said, while chastising them for being friends with the disbelievers, ... أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ ... do they seek honor, with them, ... فَإِنَّ العِزَّةَ لِلّهِ جَمِيعًا Verily, then to Allah belongs all honor. Allah states that honor, power and glory is for Him Alone without partners, and for those whom Allah grants such qualities to. Allah said, مَن كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعاً Whosoever desires honor, then to Allah belong all honor, (35:10) and, وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُوْمِنِينَ وَلَـكِنَّ الْمُنَـفِقِينَ لاَ يَعْلَمُونَ But honor belongs to Allah, and to His Messenger, and to the believers, but the hypocrites know not. (63:8) The statement that honor is Allah's Alone, is meant to encourage the servants to adhere to their servitude to Allah and to be among His faithful servants who will gain victory in this life and when the Witnesses stand up to testify on the Day of Resurrection. Allah's statement,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

139۔ 1 جس طرح سورة بقرہ کے آغاز میں گزر چکا ہے کہ منافقین کافروں کے پاس جا کر یہی کہتے تھے کہ ہم تو حقیقت میں تمہارے ہی ساتھ ہیں، مسلمانوں سے تو ہم یونہی استہزاء کرتے ہیں۔ 139۔ 2 یعنی عزت کافروں کے ساتھ موالات و محبت سے نہیں ملے گی، کیونکہ یہ تو اللہ کے اختیار میں ہے اور وہ عزت اپنے ماننے والوں کو ہی عطا فرماتا ہے، دوسرے مقام پر پھر فرمایا، جو عزت کا طالب ہے تو اسے سمجھ لینا چاہئیے کہ عزت سب کی سب اللہ کے لئے ہے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے ہے اور مومنین کے لئے ہے، لیکن منافق نہیں جانتے۔ " یعنی وہ نفاق کے ذریعے سے اور کافروں سے دوستی کے ذریعے سے عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ درآنحالیکہ یہ طریقہ ذلت و خواری کا ہے عزت کا نہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٨٥] کافروں سے دوستی منافق کی مثال اور کردار :۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بنانا یا سمجھنا منافقت کی واضح علامت ہے۔ یہ لوگ کافروں کے ساتھ میل جول رکھ کر ان کے نزدیک مقبول بننا چاہتے ہیں۔ حالانکہ نتیجہ اس کے بالکل برعکس ہوتا ہے && دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا && والی بات بن جاتی ہے ایسے منافق، مسلمانوں کی نظروں سے بھی گرجاتے ہیں اور کافروں کی نظروں میں بھی ذلیل ہی رہتے ہیں اور ہر جگہ سے اپنا اعتماد کھو بیٹھتے ہیں اور جو شخص ہر حال میں ایک ہی گروہ سے منسلک رہے وہ دشمن کی نظروں میں بھی کم از کم قابل اعتماد ضرور ہوتا ہے۔ چناچہ مسلم میں اسی مضمون کی ایک حدیث بھی وارد ہے۔ آپ نے فرمایا && منافق کی مثال بکریوں کے دو گلوں کے درمیان پھرنے والی بکری کی سی ہے جو کبھی اس گلے میں جاتی ہے اور کبھی اس گلے میں۔ && (مسلم، کتاب صفۃ المنافقین و احکامھم) یہ بات بھی قابل غور ہے کہ منافق لوگ کافروں سے میل جول اس لیے رکھتے ہیں کہ ان کے ہاں وہ معتبر، مقبول اور معزز بن سکیں۔ لیکن اگر اللہ ان کافروں کو ہی، جن کے ہاں یہ عزت تلاش کر رہے ہیں ذلیل کر دے تو انہیں عزت کہاں سے ملے گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Seek Honour from Allah alone Close friendly relations with disbelievers and polytheists have been forbidden in the second verse (139). Warning has been served on those who do so. Right along, after giving the reason why people get involved with this disease, the practice has been declared ineffectual and absurd. The words of the text are: أَيَبْتَغُونَ عِندَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّـهِ جَمِيعًا (139) (Are they seeking honour in their company? But, indeed, all honour belongs to Allah). To explain, we can say that the urge to meet and be friendly with disbelievers and polytheists is generally prompted by the assumption that their outwardly visible influence, power and collective strength may give honour and power to those who have close relations with them. Almighty Allah has exposed the reality behind this absurd notion by saying: You want to acquire honour from those who them-selves have no honour. ` Izzah (عِزَّۃَ ) which means might and mastery, belongs to none but Allah and whenever some sort of might and mastery is given to any person, it is given by Allah. With the scheme of things being such, it would certainly be a gross lack of reason to go about acquiring honour by displeasing the owner and giver of real honour and stooping down to the level of scroungers for temporal honour through His enemies? The same subject has appeared in the Qur&anic Surah al-Munafiqun with one addition as follows: وَلِلَّـهِ الْعِزَّةُ وَلِرَ‌سُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلَـٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَعْلَمُونَ For Allah is all honour, and for His Messenger, and for believers - but, the hypocrites do not know. 63:8. By adding the messenger and the believers with Almighty Allah in this verse, it has been emphasized that Allah is the only owner-possessor of real honour and it is He Who bestows on whosoever He wills a certain part of that honour. Since the Messenger of Allah and those who believe in them are dear in the sight of Allah, therefore, honour and mastery are given to them. As for the disbelievers and the polytheists, they themselves do not have this kind of honour, then, what sort of honour can one get by acting in league with them? There-fore, Sayyidna ` Umar (رض) said: مَن اعتَزَّ بِالعبِیدِ اَذَلَّہُ اللہ Whoever seeks honour through human beings (His servants) is disgraced by Allah. (Jassas) As in Mustadrak al-Hakim, Sayyidna ` Umar (رض) said to Sayy¬idna Abu ` Ubaydah (رض) ، the Governor of Syria: کُنتم اَقَلَّ النَّاسِ وَ اَذَلَّ النَّاسِ فَکَثَّرَکُم بالاِسلام، وَ کُنتم اَذَلَّ النَّاسِ فَاَعَزَّکُمُ اللہُ بالاسلام مھما تطلُبُو العِزَّۃَ بغیرِ اللہِ یُذَلُّکُمُ اللہُ You were the lowest (in numbers) and the weakest (in strength) among the people (of the world), then Allah made you exceed in numbers and strength with (the grace of) Islam; and you were the meanest (in status) among the people (of the world), then Allah raised you in honour with (the grace of) Islam. So, understand this very clearly: If you seek honour from any source other than Allah, Allah will disgrace you. Explaining the meaning of this verse, the famous commentator, Abu Bakr al-Jassas has said in Ahkam al-Qur&an that the verse forbids the seeking of honour through friendship with disbelievers and sinners. However, the seeking of honour and power through Muslims is not forbidden because this verse of Su-rah al-Munafiqun has made it clear that Almighty Allah has blessed His messenger and the believers with honour. (Jassas, p. 352, v.2) If the ` Izzah or honour mentioned here means the everlasting honour of the life-to-come, the &Akhirah, then, its applicability to Allah&s messenger and the believers in the life of the present world is quite obvious, for the honour of the &Akhirah can never become the lot of any disbeliever or polytheist. Conversely, if it is taken to mean honour in the present life of the world, then, barring transitional periods and accidental happenings, this honour and mastery is, ulti¬mately, the right of Islam and Muslims alone. Until such time that Muslims remained Muslims in the true sense, the whole world witnessed the spectacle. Then, there shall be the later period when Muslims will reassemble around true Islam under the leadership of Sayyidna &Isa (علیہ السلام) ascendancy will again be theirs. That Muslims appear to be weak during the interim period, because of their weak¬ness of faith and involvement with sins does not go against it.

عزت اللہ ہی سے طلب کرنی چاہئے : دوسری آیت میں کافر و مشرکین کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے اور گھل مل کر رہنے کی ممانعت اور ایسا کرنے والوں کے لئے وعید مذکور ہے اور اس کے ساتھ ہی اس مرض میں مبتلا ہونے کی اصل منشاء اور سبب کو بیان کر کے اس کا لغو اور بیہودہ ہونا بھی بتلا دیا ہے ارشاد فرمایا ایبتغون عندھم العزة فان العزة للہ جمیعاً یعنی کفار مشرکین کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنے اور ان کے ساتھ ملنے کی غرض عموماً یہ ہوتی ہے کہ ان کی ظاہری عزت و قوت اور جتھے سے متاثر ہو کر یوں خیال کیا جاتا ہے کہ ان سے دوستی رکھی جائے تو ہمیں بھی ان سے عزت و قوت حاصل ہوجائے گی، حق تعالیٰ نے اس لغو خیال کی حقیقت اس طرح واضح فرمائی کہ تم ان کے ذریعہ عزت حاصل کرنا چاہتے ہو جن کے پاس خود عزت نہیں، عزت جس کے معنی ہیں قوت و غلبہ کے، وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے اور مخلوق میں سے جس کسی کو کبھی کوئی قوت و غلبہ ملتا ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے، تو کس قدر بےعقلی ہوگی کہ عزت حاصل کرنے کے لئے اصل عزت کے مالک اور عزت دینے والے کو تو ناراض کیا جائے اور اس کے دشمنوں کے ذریعہ عزت حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ قرآن مجید کی سورة منافقون میں بھی یہی مضمون ایک اضافہ کے ساتھ اس طرح آیا ہے۔ ” یعنی عزت تو صرف اللہ کے لئے ہے اور اس کے رسول کے لئے اور مسلمانوں کے لئے، لیکن منافقین اس گر کو نہیں جانتے۔ “ اس میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ رسول اور مؤمنین کا اضافہ کر کے یہ بھی بتلا دیا کہ اصل عزت کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے وہ جس کو چاہتا ہے کچھ حصہ عزت عطا فرما دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول اور ان پر ایمان لانے والے چونکہ اس کے نزدیک محبوب اور مقبول ہیں، اس لئے ان کو عزت و غلبہ دیا جاتا ہے، کفار و مشرکین کو خود ہی عزت نصیب نہیں، ان کے تعلق سے کسی دوسرے کو کیا عزت مل سکتی ہے، اس لئے حضرت فاروق اعظم (رض) نے فرمایا۔ ” یعنی جو شخص مخلوقات اور بندوں کے ذریعے عزت حاصل کرنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کردیتے ہیں۔ “ مستدرک حاکم میں ہے کہ حضرت فاروق اعظم نے ملک شام کے عامل (گورنر) سے فرمایا : کنتم اقل الناس اذل الناس فاعزکم اللہ بالاسلام مھما تطلبوا العزة بغیرہ یذلکم اللہ (مستدرک ص ٢٨/ج ٣) ” یعنی (اے ابوعبیدہ) تم تعداد میں سب سے کم اور سب سے زیادہ کمزور تھے۔ تم کو محض اسلام کی وجہ سے عزت و شوکت ملی ہے تو خوب سمجھ لو اگر تم اسلام کے سوا کسی دوسرے ذریعہ سے عزت حاصل کرنا چاہو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ذلیل کر دے گا۔ “ ابوبکر حصاص نے احکام القرآن میں فرمایا کہ مراد آیت مذکورہ سے یہ ہے کہ کافر و فجار سے دوستی کر کے عزت طلب نہ کرو، ہاں مسلمانوں کے ذریعہ عزت و قوت طلب کی جائے تو اس کی ممانعت نہیں، کیونکہ سورة منافقون کی آیت نے اس کو واضح کردیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اور مؤمنین کو عزت بخشی ہے (حصاص، ص ٢٥٣، ج ٢) یہاں عزت سے مراد اگر ہمیشہ قائم اور باقی رہنے والی آخرت کی عزت ہے تب تو دنیا میں اس کا مخصوص ہونا اللہ تعالیٰ کے رسول اور مؤمنین کے ساتھ واضح ہے کیوں کہ آخرت کی عزت کسی کافرو و مشرک کو قطعاً حاصل نہیں ہو سکتی، اور اگر مراد دنیا کی عزت لی جائے تو عبوری دور اور اتفاقی حوادث کو چھوڑ کر انجام کے اعتبار سے یہ عزت و غلبہ بالاخر اسلام اور مسلمانوں ہی کا حق ہے، جبتک مسلمان صحیح معنی میں مسلمان رہے، دنیا نے اس کا آنکھوں سے مشاہدہ کرلیا اور پھر آخر زمانہ میں جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی امامت و قیادت میں مسلمان صحیح اسلام پر قائم ہوجائیں گے تو پھر غلبہ انہی کا ہوگا، درمیانی اور عبوری دور میں مسلمانوں کے ضعف ایمان اور ابتلاء معاصی کی وجہ سے ان کا کمزور نظر آنا اس کے منافی نہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

الَّذِيْنَ يَتَّخِذُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ ٠ۭ اَيَبْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلہِ جَمِيْعًا۝ ١٣٩ۭ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ ولي والوَلِيُّ والمَوْلَى يستعملان في ذلك كلُّ واحدٍ منهما يقال في معنی الفاعل . أي : المُوَالِي، وفي معنی المفعول . أي : المُوَالَى، يقال للمؤمن : هو وَلِيُّ اللهِ عزّ وجلّ ولم يرد مَوْلَاهُ ، وقد يقال : اللهُ تعالیٰ وَلِيُّ المؤمنین ومَوْلَاهُمْ ، فمِنَ الأوَّل قال اللہ تعالی: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] ، إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ [ الأعراف/ 196] ، وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 68] ، ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا[ محمد/ 11] ، نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ [ الأنفال/ 40] ، وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلى[ الحج/ 78] ، قال عزّ وجلّ : قُلْ يا أَيُّهَا الَّذِينَ هادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِياءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ [ الجمعة/ 6] ، وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ [ التحریم/ 4] ، ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِ [ الأنعام/ 62] ( و ل ی ) الولاء والتوالی الولی ولمولی ۔ یہ دونوں کبھی اسم فاعل یعنی موال کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی اسم مفعول یعنی موالی کے معنی میں آتے ہیں اور مومن کو ولی اللہ تو کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن مولی اللہ کہنا ثابت نہیں ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰٰ کے متعلق ولی المومنین ومولاھم دونوں طرح بول سکتے ہیں ۔ چناچہ معنی اول یعنی اسم فاعل کے متعلق فرمایا : ۔ اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا [ البقرة/ 257] جو لوگ ایمان لائے ان کا دوست خدا ہے إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ [ الأعراف/ 196] میرا مددگار تو خدا ہی ہے ۔ وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ [ آل عمران/ 68] اور خدا مومنوں کا کار ساز ہے ۔ ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ مَوْلَى الَّذِينَ آمَنُوا[ محمد/ 11] یہ اسلئے کہ جو مومن ہیں ان کا خدا کار ساز ہے ۔ نِعْمَ الْمَوْلى وَنِعْمَ النَّصِيرُ [ الأنفال/ 40] خوب حمائتی اور خوب مددگار ہے ۔ وَاعْتَصِمُوا بِاللَّهِ هُوَ مَوْلاكُمْ فَنِعْمَ الْمَوْلى[ الحج/ 78] اور خدا کے دین کی رسی کو مضبوط پکڑے رہو وہی تمہارا دوست ہے اور خوب دوست ہے ۔ اور ودسرے معنی یعنی اسم مفعول کے متعلق فرمایا : ۔ قُلْ يا أَيُّهَا الَّذِينَ هادُوا إِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ أَوْلِياءُ لِلَّهِ مِنْ دُونِ النَّاسِ [ الجمعة/ 6] کہدو کہ اے یہود اگر تم کو یہ دعوٰی ہو کہ تم ہی خدا کے دوست ہو اور لوگ نہیں ۔ وَإِنْ تَظاهَرا عَلَيْهِ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ مَوْلاهُ [ التحریم/ 4] اور پیغمبر ( کی ایزا ) پر باہم اعانت کردگی تو خدا ان کے حامی اور ودست دار ہیں ۔ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِ [ الأنعام/ 62] پھر قیامت کے تمام لوگ اپنے مالک پر حق خدائے تعالیٰ کے پاس واپس بلائے جائیں گے ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ وأمّا الابتغاء فقد خصّ بالاجتهاد في الطلب، فمتی کان الطلب لشیء محمود فالابتغاء فيه محمود نحو : ابْتِغاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ [ الإسراء/ 28] ، وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] ( ب غ ی ) البغی الا بتغاء یہ خاص کر کوشش کے ساتھ کسی چیز کو طلب کرنے پر بولا جاتا ہے ۔ اگر اچھی چیز کی طلب ہو تو یہ کوشش بھی محمود ہوگی ( ورنہ مذموم ) چناچہ فرمایا : ۔ { ابْتِغَاءَ رَحْمَةٍ مِنْ رَبِّكَ } ( سورة الإسراء 28) اپنے پروردگار کی رحمت ( یعنی فراخ دستی ) کے انتظار میں ۔ وابْتِغاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلى [ اللیل/ 20] بلکہ اپنے خدا وندی اعلیٰ کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے دیتا ہے ۔ عز العِزَّةُ : حالةٌ مانعة للإنسان من أن يغلب . من قولهم : أرضٌ عَزَازٌ. أي : صُلْبةٌ. قال تعالی: أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً [ النساء/ 139] ( ع ز ز ) العزۃ اس حالت کو کہتے ہیں جو انسان کو مغلوب ہونے سے محفوظ رکھے یہ ارض عزاز سے ماخوذ ہے جس کے معنی سخت زمین کے ہیں۔ قرآن میں ہے : ۔ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعاً [ النساء/ 139] کیا یہ ان کے ہاں عزت حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔ عزت تو سب خدا ہی کی ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٣٩ (الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ط) ۔ ان منافقین کا وطیرہ یہ بھی تھا کہ وہ کفار کے ساتھ بھی دوستی رکھتے تھے اور اپنی عقل سے اس پالیسی پر عمل پیرا تھے کہ : Don&t keep all your eggs in one basket ۔ ان کا خیال تھا کہ آج اگر ہم سب تعلق ‘ دوستیاں چھوڑ کر ‘ یکسو ہو کر مسلمانوں کے ساتھ ہوگئے تو کل کا کیا پتا ؟ کیا معلوم کل حالات بدل جائیں ‘ حالات کا پلڑا کفار کی طرف جھک جائے۔ تو ایسے مشکل وقت میں پھر یہی لوگ کام آئیں گے ‘ اس لیے وہ ان سے دوستیاں رکھتے تھے۔ (اَیَبْتَغُوْنَ عِنْدَہُمُ الْعِزَّۃَ ) کیا وہ ان کے قرب سے عزت چاہتے ہیں ؟ کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں ؟ کیا ان کی محفلوں میں جگہ پا کر وہ معزز بننا چاہتے ہیں ؟ جیسے آج امریکہ جانا اور صدر امریکہ سے ملنا گویا بہت بڑا اعزاز ہے ‘ جسے پانے کے لیے کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ چند منٹ کی ایسی ملاقات کے لیے کس کس انداز سے lobbying ہوتی ہے ‘ خواہ اس سے کچھ بھی حاصل نہ ہو اور ان کی پالیسیاں جوں کی توں چلتی رہیں۔ (فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا ) لیکن وہ اللہ کو چھوڑ کر کہاں عزت ڈھونڈ رہے ہیں ؟

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

169. The term 'jzzah denotes a position which is at once exalted and secure. In other words, the term signifies 'inviolable honour and glory'.

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :169 “عزت” کا مفہوم عربی زبان میں اردو کی بہ نسبت زیادہ وسیع ہے ۔ اردو میں عزت محض احترام اور قدر و منزلت کے معنی میں آتا ہے ۔ مگر عربی میں عزت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی شخص کو ایسی بلند اور محفوظ حیثیت حاصل ہو جائے کہ کوئی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے ۔ دوسرے الفاظ میں لفظ عزت“ناقابل ہتک حرمت” کا ہم معنی ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:139) ایبتغون۔ ء استفہامیہ (کیا) یبتغون ۔ ابتغاء (افتعال) سے کیا وہ ڈھونڈھتے ہیں۔ تلاش کرتے ہیں۔ چاہتے ہیں۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 آج کل بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں ،۔ جو اپنے مغربی آقاوں کو خوش کرنے کے لیے اور ان نظروں عزت کا مقام ہے حاصل کرنے کے لیے قرآن و حدیث کے صریح احکام کا مذاق اڑاتے ہیں۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ چناچہ اللہ نے جلد ہی مسلمانوں کے ہاتھوں سب کو ذلیل و خوار فرمایا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ان آیات میں منافقین کے کردار اور ان کے انجام کے متعلق بیان ہو رہا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ومالک ہے اسی طرح وہ عزت و ذلّت کا بھی مالک ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اس کے حسن کردار کی وجہ سے عزت سے نوازتا ہے اور جسے چاہے اس کے گناہوں کی وجہ سے ذلت سے دوچار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بغیر نہ کوئی عزت دے سکتا ہے اور نہ ہی آدمی کو کوئی ذلیل و خوار کرسکتا ہے۔ ہر چیز اس کے قبضۂ قدرت میں ہے۔ اس عقیدہ کی ترجمانی اور عزت کی طلب، ذلت سے محفوظ رہنے کے لیے آل عمران آیت 26 میں دعا سکھلائی گئی ہے۔ دعا کیجیے کہ اے کائنات کے مالک تو جسے چاہتا ہے حکومت سے سرفراز کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے حکومت چھین لیتا ہے اور جسے تو چاہے عزتوں سے سرفراز فرماتا اور جس کو چاہے ذلیل و خوار کردیتا ہے۔ ہر قسم کی خیر تیرے ہاتھ میں ہے۔ بلاشک تو ہر چیز پر قدرت و سطوت رکھنے والا ہے۔ لیکن منافق کا حال یہ ہے کہ وہ دنیا کی عزت کی خاطر کافر اور بےایمان شخص سے بھی عزت کا طالب ہوتا ہے۔ اس کی کاسہ لیسی اور چاپلوسی کرتا ہے چاہے اسے اپنی غیرت اور ایمان کا سودا کرنا پڑے حالانکہ ہر قسم کی عزت و رفعت اللہ ذوالجلال کے ہاتھ میں ہے۔ مسائل ١۔ ہر قسم کی عزت اللہ کے اختیار میں ہے۔ ٢۔ کفار کو دوست نہیں بنانا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن عزت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے : ١۔ عزت اللہ کے پاس ہے۔ (فاطر : ١٠) ٢۔ عزت اللہ، اس کے رسول اور مومنوں کے لیے ہے۔ (المنافقون : ٨) ٣۔ اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلیل کرتا ہے۔ (آل عمران : ٢٦)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

عزت اللہ ہی کے لیے ہے اس آیت میں منافقین کی بد حالی کا تذکرہ ہے ارشاد فرمایا ہے کہ ان کو درد ناک عذاب کی خوشخبری سنا دیجیے خوشخبری تو اچھی حالت کی دی جاتی لیکن عذاب الیم کی خبر کو بھی خوشخبری سے تعبیر فرمایا کیونکہ وہ لوگ اپنی حرکتوں کے نتیجے میں اچھی حالت کے منتظر ہیں ان کی بےوقوفی ظاہر کرنے کے لیے اس خبر کو بشارت سے تعبیر فرمایا۔ منافقین نے جو نفاق اختیار کیا تھا۔ اس میں انہیں کافروں سے دوستی رکھنی پڑتی تھی۔ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ہم ایمان لائے اور کافروں سے کہتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ حالانکہ حقیقت میں کسی بھی فریق کے ساتھ نہ تھے۔ جیسا کہ آئندہ رکوع میں ہے (لَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ وَلَآ اِلٰی ھٰٓؤُلَآءِ ) فرمایا ہے کوئی فریق ان کو اپنا نہیں سمجھتا لیکن وہ یہی سمجھتے تھے کہ ہم بڑے کامیاب ہیں دونوں فریق کو اپنے تعلق میں الجھا رکھا ہے اس فریق سے بھی نفع حاصل کرتے ہیں اور دوسرے فریق سے بھی۔ ان کی یہ چالاکی انہیں لے ڈوبی ایمان سے محروم رکھا۔ اخلاص کے ساتھ ظاہراً و باطناً اسلام قبول کرکے سچے پکے مسلمان اس لیے بنتے تھے کہ انہیں یہ خیال تھا کہ اگر مسلمانوں کا غلبہ نہ ہوا تو ہم اسلام قبول کر کے اس عزت سے محروم ہوجائیں گے جو کافروں سے دوستی کرنے میں حاصل ہے اسی کو فرمایا (اَیَیْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّۃَ فَاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًا) (کیا کافروں کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں عزت تو ساری اللہ ہی کے لیے ہے) اللہ خود عزیز ہے وہ جس کو چاہے عزت دے اور جس کو چاہے ذلت دے۔ کافروں کی ذرا سی مال و جائیداد اور جتھہ کی جو عزت نظر آرہی ہے اس کی کچھ حیثیت نہیں اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو جو عزت دے گا اس کے سامنے یہ کچھ بھی نہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو عزت دی وہ سب کافر ذلیل ہوئے جنہوں نے ایمان قبول نہیں کیا اور منافقین نے بھی ان کے ساتھ ذلت اٹھائی۔ کافر زیر ہوتے چلے گئے اور اہل سلام کا غلبہ ہوتا گیا۔ اور ممالک فتح ہوتے چلے گئے یہ تو دنیا میں ہوا اور آخرت میں تو ہر کافر کے لیے عذاب مھین (ذلیل کرنے والاعذاب) مقرر ہے ہی۔ دنیا میں جواب مسلمانوں کی بدحالی ہے وہ اس لیے ہے کہ عمومی طور پر مسلمانوں نے ایمان کے تقاضوں کو اور ایمان کے مطالبات کو چھوڑ دیا ہے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ اسلام کو سب سے بڑی عزت سمجھے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی سے عزت مانگے اور مسلمانوں کی دوستی ہی میں عزت سمجھے۔ مسلمان ہوتے ہوئے کافروں سے دوستی کرنے میں یا ان کے افعال و اخلاق اختیار کرنے میں یا ان کی شکل و صورت اور وضع قطع اختیار کرنے میں عزت نہ سمجھے، جو لوگ اللہ کے ہاں ذلیل ہیں ان کے ساتھ یا ان جیسا ہونے میں عزت نہیں ہے۔ طارق بن شہاب بیان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) (اپنے زمانہ خلافت میں) شام کی طرف روانہ ہوئے اور اس وقت ہمارے ساتھ حضرت ابو عبیدہ بن جراح (رض) بھی تھے۔ چلتے چلتے حضرت عمر (رض) اپنی اونٹنی سے اتر گئے اور اپنے موزے اپنے کاندھے پر ڈال لیے اور اونٹنی کی باگ پکڑ کر چلنا شروع کردیا۔ حضرت ابو عبیدہ (رض) نے عرض کیا کہ اے امیر المؤمنین ! آپ ایسا کرتے ہیں کہ موزے نکال کر کاندھے پر ڈال کر اونٹنی کی باگ پکڑ کر چل رہے ہیں ؟ مجھے تو یہ اچھا نہیں لگتا کہ یہاں کے شہر والے اور لشکر اور نصاریٰ کے بڑے لوگ آپ کو اس حال میں دیکھیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا افسوس ہے تیری بات پر، اے ابو عبیدہ (رض) تیرے علاوہ کوئی شخص یہ بات کہتا تو اسے عبرتناک سزا دیتا جو امت محمدیہ کے لیے عبرتناک ہوتی پھر فرمایا کہ بلاشبہ ہم لوگ (یعنی عرب) ذلیل قوم تھے اللہ نے ہم کو اسلام کے ذریعہ عزت دی اس کے بعد جب کبھی بھی ہم اس چیز کے علاوہ عزت طلب کریں گے جس سے اللہ نے ہمیں عزت دی ہے تو اللہ ہمیں ذلیل فرما دے گا۔ (رواہ الحاکم فی المستدرک صفحہ ٢٦: ج ١) آج دیکھا جاتا ہے کہ مسلمان ہونے کے دعویدار نصاریٰ کے طور طریقے اختیار کرنے میں داڑھی مونڈنے میں فرنگی لباس پہننے میں کھانے پینے میں اور معیشت میں اور معاشرت میں حکومت میں اور سیاست میں دشمنان دین کی تقلید کرنے کو عزت کی چیز سمجھتے ہیں۔ کتاب اللہ، سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اتباع کرنے میں، ا سلامی لباس پہننے میں، بیاہ شادی میں، سنت کا طریقہ اختیار کرنے میں، اسلامی قوانین اختیار کرنے میں خفت اور ذلت محسوس کرتے ہیں جس طرح منافقین کافروں سے دوستی کر کے ان کے یہاں عزت چاہتے ہیں تھے آج کے مسلمان بھی انہیں کے طرز کو اپنا رہے ہیں اسلام اور اعمال اسلام میں عزت نہ سمجھنا اور کافروں سے دوستی کرنے اور ان کی طرف جھکنے اور ان کی تقلید میں عزت سمجھنا بہت بڑی محرومی ہے۔ حضرات صحابہ (رض) سچے مسلمان تھے کافران سے ڈرتے تھے۔ اب جبکہ مسلمان ہی کافروں کی طرف جھک رہے ہیں اور ان کے رنگ میں رنگے جا رہے ہیں تو عزت کہاں رہی ؟ یہود و نصاریٰ اور ہنوذ کا اتباع کرنے والے غور کرلیں۔ سورة منافقون میں فرمایا (وَ لِلّٰہِ الْعِزَّۃُ وَلِرَسُوْلِہٖ وَلِلْمؤْمِنِیْنَ وَلٰکِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ ) یعنی عزت اللہ کے لیے ہے اور اس کے رسول کے لیے اور مومنین کے لیے لیکن منافقین نہیں جانتے) ایمان کا دعویٰ کرتے ہوئے جو ذلت دیکھ رہے ہیں اسی سے سمجھ لیں کہ ایمان کے تقاضوں کے خلاف جا رہے ہیں جس کی وجہ سے عزت سے محروم ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

93 یہ منافقین کی ایک خباثت کا بیان ہے کہ ظاہری طور پر تو وہ ایمان کا اظہار کرتے ہیں لیکن پوشیدہ طور پر ان کی دوستی کافروں سے ہے اور ان کی دلی ہمدردیاں بھی کافروں کے ساتھ ہیں اور جب وہ آپس میں بیٹھتے ہیں تو اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں اس لیے ایمان والو تم ان سے الگ رہو۔ اَلَّذِیْنَ یَتَرَبَّصُوْنَ بِکُمْ ان کے دلوں کے کھوٹ کا یہ حال ہے کہ ہر وقت تم پر مصیبت کے منتظر رہتے ہیں اور ان کی دو رخی پالیسی کا نمونہ بھی دیکھ لو جب اللہ کی طرف سے تم کو کافروں پر فتح حاصل ہوتی ہے تو تم پر اپنا حق جتلاتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ تھے اور جہاد میں تمہارے شریک تھے اور اگر اتفاق سے کافروں کی فتح ہوگئی تو فوراً ان کے پاس پہنچ کر ان پر اپنا احسان جتلاتے ہیں کہ ہم (مسلمانوں کی فوج، بوجہ منافقت اور ظاہری اسلام اپنے آپ کو مسلمانوں میں شامل کرتے ہیں) تم پر غالب آچکے تھے مگر ہم نے اپنی خوش تدبیری سے لڑائی کا رخ بدل دیا اور تمہاری شکست فتح میں تبدیل ہوگئی یہ محض اس لیے ہوا کہ ہم نے تمہاری خفیہ طور پر مدد کی اور تمہیں پناہ دی اور مسلمانوں کو تم سے روک لیا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 اے پیغمبر ! آپ ان منافقین کو اس بات کی خوشخبری دے دیجیے کہ ان کے لئے آخرت میں بڑا اور درد ناک عذاب ہے جن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق اور دوست بناتے ہیں کیا یہ منافق کافروں کے پاس عزت کے جویاں ہیں اور ان کے پاس اعزاز چاہتے ہیں تو یقین جانو ! اور خبو سن لو کہ عزت جتنی بھی ہے سب کی سب اللہ ہی کے قبضے میں ہے اور ہر قسم کا سب اعزاز اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ (تیسیر) شاید یاد ہوگا ہم پہلے عرض کرچکے ہیں کہ مدینہ کاد ور ایک انقلابی دور تھا کفار کا بتدریج زوال ہو رہا تھا اور مسلمانوں کے پاس بتدریج اقتدار آ رہا تھا اس لئے لوگوں کو اطمینان نہیں تھا خالص مسلمان ایک جانب تھے اور کھلے ہوئے مخالف ایک جانب تھے کچھ کمزور لوگ زمانہ کا رنگ دیکھ رہے تھے اور اس کا انتظار کر رہے تھے کہ دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھا ہے۔ اس لئے وہ دونوں طرف تعلقات رکھنے کی کوشش کرتے تھے کہ جس طرف غلبہ اور قوت دیکھیں گے اسی طرف ہوجائیں گے وہ لوگ مسلمانوں کی مجلس میں بھی آتے تھے اور کفار سے بھی ساز باز رکھتے تھے اور ان سے بھی دوستانہ لگائے رکھتے تھے ان ہی لوگوں کو اس آیت میں تنبیہہ اور توبیخ ہے تو بیخ کو بشارت کے الفاظ میں بطور تحکم ادا فرمایا ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ عذاب کی خبر بشارت نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی عرض کرچکے ہیں بعض لوگوں نے کہا ہے کہ بشارت ہر اس خبر کو کہتے ہیں جس سے چہرے میں تغیر واقع ہو خواہ وہ خوشی کی خبر ہو یا رنج کی بعضوں نے اور طرح توجیہہ کی ہے۔ لیکن سیدھی بات وہ ہے جو ہم نے عرض کردی ہے اور ایک یہ بھی حاکمانہ انداز ہے کہ مجرم کو سزا کی خبر یہ کہہ کردیتے ہیں ک ہہم تم کو بشارت دیتے ہیں کہ تم کو جیل خانے بھیجیں گے اور تم کو قید کریں گے۔ عزت کے معنی قوت اور غلبہ کے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ کیا کفار کی دوستی سے ان کی خاہش یہ ہے کہ کافروں سے مل کر اور کافروں کے پاس جا کر عزت مل جائے گی اور عزت کی تلاش میں ان ک واپنا رفیق بتاتے ہیں تو سن لیں کہ تمام تر عزت اللہ ہی کے قبضے میں ہے جس کو وہ چاہے اعزاز عطا فرمائے جیسا کہ اپنے دوستوں کو اس نے اعزاز بخشا ہے واللہ اعلزۃ و لرسولہ وللمئومنین اور جب ہر قسم کا اعزاز اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے تو وہ جس کو چاہے معزز فرمائے اور ظاہر ہے کہ یہ اعزاز اس نے کفار کو نہیں بخشا تو کافروں کے پاس جا کر کوئی معزز نہیں ہوسکتا۔ بعض حضرات نے عزت کا ترجمہ اعزاز کے ساتھ کیا ہے اس صورت میں اس عزت کے مفائر ہے جس کا ذکر سورة منافقون میں آیا ہے۔ یہاں عزت سے وہ عزت مراد ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور سورة منافقون میں جو عزت ہے وہ اس معنی میں نہیں ہے اس لئے وہاں فرمایا ہے۔ وللہ العزۃ ولرسولہ وللمئومنین واللہ اعلم۔ بہرحال ! منافقین چونکہ کافروں کی ہمدردی حاصل کرنے کی غرض سے ان کی مجالس میں شریک ہوتے تھے اور وہاں قرآن کریم کے ساتھ استہزا کیا جاتا تھا اور اس قسم کی مجالس مکہ میں بھی ہوا کرتی تھیں چناچہ سورة انعام جو مکہ میں نازل ہوئی تھی اس میں بھی ارشاد فرمایا تھا۔ واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا فاعرض عنھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ مدینہ منورہ میں اس قسم کی مجالس یہود کے ہاں ہوتی تھیں اور یہ منافق اس میں شریک ہوتے تھے اور بعض مسلمان بھی ان کے ساتھ چلے جاتے تھے اس لئے مسلمانوں کو تنبیہہ فرمائی اور سابقہ حکم کا حوالہ دے کر فرمایا کہ تم اس قسم کی غیر شرعی مجالس میں شرکت نہ کرو جن میں دین حق کا مذاق اڑایا جا رہا ہو اور اس وقت تک علیحدہ رہو جب تک اہل مجلس کوئی اور گفتگو شروع نہ کریں اور جو منافقین اس قسم کی مجالس میں اپنی دلچسپی کا اظہار کرتے تھے ان کو اور کافروں کو شامل کر کے جہنم میں داخل کرنے کا اعلان فرمایا اور منافقین کی مذمت فرمائی چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)