Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 14

سورة النساء

وَ مَنۡ یَّعۡصِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَتَعَدَّ حُدُوۡدَہٗ یُدۡخِلۡہُ نَارًا خَالِدًا فِیۡہَا ۪ وَ لَہٗ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿٪۱۴﴾  13

And whoever disobeys Allah and His Messenger and transgresses His limits - He will put him into the Fire to abide eternally therein, and he will have a humiliating punishment.

اور جو شخص اللہ تعالٰی کی اور اس کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی نافرمانی کرے اور اس کی مُقّررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنّم میں ڈال دے گا ، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ، ایسوں ہی کے لئے رُسوا کُن عذاب ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And whosoever disobeys Allah and His Messenger, and transgresses His (set) limits, He will cast him into the Fire, to abide therein; and he shall have a disgraceful torment. This is because he changed what Allah has ordained and disputed with His judgment. Indeed, this is the behavior of those who do not agree with what Allah has decided and divided, and this is why Allah punishes them with humiliation in the eternal, painful torment. Imam Ahmad recorded that Abu Hurayrah said that, the Messenger of Allah said, إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْخَيْرِ سَبْعِينَ سَنَةً فَإِذَا أَوْصَى حَافَ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِشَرِّ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ النَّارَ A man might perform the actions of righteous people for seventy years, but when it is time to compile his will, he commits injustice. So his final work will be his worst, and he thus enters the Fire. وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الشَّرِّ سَبْعِينَ سَنَةً فَيَعْدِلُ فِي وَصِيَّتِهِ فَيُخْتَمُ لَهُ بِخَيْرِ عَمَلِهِ فَيَدْخُلُ الْجَنَّة A man might perform the deeds of evil people for seventy years, yet he is fair in his will. So his final work will be his best, and he thus enters Paradise. Abu Hurayrah said, "Read, if you will, تِلْكَ حُدُودُ اللّهِ (These are the limits (set by) Allah) until, عَذَابٌ مُّهِينٌ (a disgraceful torment)." In the chapter on injustice in the will, Abu Dawud recorded in his Sunan that Abu Hurayrah said that the Messenger of Allah said, إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ أَوِ الْمَرْأَةَ بِطَاعَةِ اللهِ سِتِّينَ سَنَةً ثُمَّ يَحْضُرُهُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّـةِ فَتَجِبُ لَهُمَا النَّار A man or a woman might perform actions in obedience to Allah for sixty years. Yet, when they are near death, they leave an unfair will and thus acquire the Fire. Abu Hurayrah then recited the Ayah, مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَأ أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَأرٍّ (After payment of legacies he (or she) may have bequeathed or debts, so that no loss is caused), until, وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (and that is the great success). (4:12-13) This was also recorded by At-Tirmidhi and Ibn Majah, and At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib".

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٦] احکام کے مطابق تقسیم نہ کرنے والے :۔ اگرچہ یہاں میراث کے احکام بیان ہو رہے ہیں مگر حکم عام ہے۔ خواہ احکام یتامیٰ کے حقوق کے متعلق ہوں یا عورتوں سے تعلق رکھتے ہوں۔ وصیت سے تعلق رکھتے ہوں یا کوئی دوسرے ضابطے ہوں۔ جو بھی اللہ تعالیٰ نے حدود مقرر کردی ہیں اگر ان سے کوئی تجاوز کرے گا وہ ہمیشہ کے لیے جہنم کے عذاب میں مبتلا رہے گا اور ربط مضمون کے لحاظ سے مطلب یہ ہوگا کہ جو شخص اس قانون وراثت کو توڑے، عورتوں کو ورثہ سے محروم رکھے یا صرف بڑے بیٹے کو مستحق وراثت قرار دے یا عورت مرد کو برابر کا حصہ دار قرار دے یا جائیداد کو سرے سے تقسیم ہی نہ کرے اور اسے مشترکہ خاندانی جائیداد قرار دے دے تو ایسے سب لوگ حدود اللہ سے تجاوز کرنے والے اور اسی عذاب الیم کے مستحق ہیں۔ یتیم پوتے کی وراثت کا مسئلہ :۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں یتیموں سے خیر خواہی، ان سے انصاف اور ان کے حقوق کی نگہداشت کی بڑی تفصیل سے تاکید فرمائی۔ لیکن یہ ذکر نہیں فرمایا۔ کہ یتیم پوتا بھی وراثت کا حقدار ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کی اہمیت یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود عبدالمطلب کی وفات کے وقت ان کے یتیم پوتے تھے لیکن آپ کو وراثت سے حصہ نہیں ملا۔ نہ ہی اللہ نے اس کا کہیں ذکر فرمایا۔ حالانکہ اگر یتیم پوتے کو وراثت میں حصہ دلانا اللہ کو منظور ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کے متعلق بھی قرآن میں کوئی واضح حکم نازل فرما دیتے۔ اور ایسے حکم کا نازل نہ ہونا ہی اس بات کی قوی دلیل ہے۔ کہ یتیم پوتا اپنے چچا یا چچاؤں اور پھوپھیوں وغیرہ کی موجودگی میں وراثت کا حق دار نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ اپنے مرنے والے باپ کی وراثت کا ہی حقدار ہوتا ہے۔ وراثت صرف اسے ملتی ہے جو میت کی وفات کے وقت موجود ہو :۔ اب یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے بعض متجددین کے واویلا کی بنا پر ہماری حکومت پاکستان نے قانون وراثت میں یتیم پوتے کو بھی حصہ دار قرار دیا ہے۔ اور یہ بات عقلی اور نقلی دونوں طرح سے غلط ہے۔ عقلی لحاظ سے اس طرح کہ کسی درخت کے پھل کو اس درخت کے ذریعہ زمین سے غذا اسی وقت تک ملتی ہے جب تک وہ درخت پر لگا رہے۔ اور جب درخت سے گرجائے تو اسے غذا نہیں مل سکتی۔ اور نقلی لحاظ سے اس طرح کہ تقسیم وراثت کے دو اصول ہیں۔ اور یہ دونوں کتاب اللہ سے مستنبط ہیں۔ پہلا یہ کہ وراثت میں حصہ صرف اس کو ملے گا۔ جو میت کی وفات کے وقت زندہ موجود ہو۔ اور جو میت کی زندگی میں مرچکا اس کا کوئی حصہ نہیں۔ الاقرب فالاقرب کا اصول :۔ دوسرا الاقرب فالاقرب کا اصول ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ قریبی رشتہ دار کی موجودگی میں دور کے رشتہ دار وراثت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اور قریبی سے مراد یہ ہے جس میں کوئی درمیانی واسطہ نہ ہو۔ جیسے میت کی صلبی اولاد۔ اس لحاظ سے بھی یتیم پوتا اپنے چچاؤں اور پھوپھیوں کی موجودگی میں وراثت کا حقدار قرار نہیں پاتا۔ یتیم پوتے کو وراثت میں حقدار ثابت کرنے والے اس معاملہ کو ایک شاذ قسم کی اور جذباتی قسم کی مثال سے سمجھانے کی کوشش فرماتے ہیں۔ مثلاً زید کے دو بیٹے ہیں۔ ایک بکر دوسرا عمر۔ زید کی وفات کے وقت بکر تو زندہ ہوتا ہے مگر عمر مرچکا ہوتا ہے۔ البتہ عمر کا ایک لڑکا خالد زندہ ہوتا ہے۔ اور سوال یہ اٹھایا جاتا ہے کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ بکر کو تو سارا ترکہ مل جائے اور عمر کے بیٹے خالد کو کچھ نہ ملے۔ حالانکہ وہ یتیم ہے اور مال کا زیادہ محتاج ہے۔ کیا اس کا جرم یہی ہے کہ اس کا باپ مرچکا ہے ؟ پھر ان حضرات نے یتیم پوتے کو حقدار بنانے کے لیے قائم مقامی کا اصول وضع کیا۔ یعنی خالد اپنے باپ عمر کا قائمقام بن کر اپنے دادا کے ترکہ سے آدھا ورثہ لینے کا حقدار ہے۔ قائم مقامی کا اصول :۔ غور فرمائیے کہ اسلام کے پورے قانون وراثت میں آپ کو کہیں یہ & قائم مقامی کا اصول & نظر آیا ہے۔ دراصل اس اصول کے موجد پرویز صاحب کے استاد محترم حافظ اسلم جیراج پوری ہیں۔ پھر اسی نظریہ کی پرویز صاحب نے آبیاری فرمائی۔ اس سے پہلے آپ کو یہ اصول پوری اسلامی شریعت میں اور اسلامی تاریخ میں کہیں نظر نہ آئے گا۔ وجہ یہ ہے کہ حق وراثت تو مرنے کے ساتھ ہی ختم ہوجاتا ہے۔ پھر جب حق وراثت ہی ختم ہوچکا تو قائم مقامی کس بات کی ؟ پھر اس اصول کو تسلیم کرنے کے مفاسد بیشمار ہیں۔ مثلاً میت کی بیوی اس سے پہلے فوت ہوچکی ہے۔ اب اس نظریہ قائم مقامی کی رو سے بیوی کے اقربین جائز طور پر ترکہ سے حصہ طلب کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اسی طرح میت اگر عورت ہے جس کا خاوند پہلے ہی فوت ہوچکا ہے تو خاوند کے رشتہ دار قائم مقام ہونے کی حیثیت سے ترکہ سے حصہ طلب کرسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں ورثہ کے حقدار صرف بیٹے ہی نہیں بیٹیاں بھی ہوتی ہیں۔ اور کسی بھی فوت شدہ بیٹی کی اولاد (یعنی بھانجے بھانجیاں بھی اس قائم مقامی کے اصول کے تحت ورثہ کا مطالبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اور یہ سلسلہ آگے چلتا ہی جاتا ہے۔ پھر اسے آخر کس قاعدہ کے تحت صرف یتیم پوتے تک ہی محدود رکھا جاسکتا ہے ؟ اس اصول کا دوسرا مفسدہ یہ ہے کہ مثلاً زید کے دونوں بیٹے بکر اور عمر فوت ہوچکے ہیں۔ بکر کی اولاد صرف ایک بیٹا ہے مگر عمر کے پانچ بیٹے ہیں۔ اور میت کا اقرب ہونے کے لحاظ سے سب ایک درجہ پر ہیں۔ اور سارے ہی ایک جیسے قائم مقام ہیں۔ تو کیا ورثہ ان میں برابر تقسیم کردیا جائے گا ؟ یا بکر کے بیٹے کو ٢/١ اور عمر کے بیٹوں کو صرف دسواں دسواں حصہ ملے گا ؟ ان میں سے کون سی تقسیم درست ہوگی اور کیوں ؟ قائم مقامی کے اصول کے حق میں ان لوگوں کی دلیل یہ ہے کہ اگر دادا باپ کے فوت ہونے کی صورت میں باپ کا قائم مقام بن کر ترکہ سے حصہ پاسکتا ہے تو پوتا اپنے فوت شدہ باپ کا قائم مقام بن کر دادا سے کیوں حصہ نہیں پاسکتا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ تقسیم بھی قائم مقامی کے اصول کے تحت نہیں ہوتی۔ بلکہ الاقرب فالاقرب کے اصول کے تحت ہی ہوتی ہے۔ بالائی یا آبائی جانب میں باپ کے بعد صرف دادا ہی اقرب ہوسکتا ہے جب کہ ابنائی جانب میں میت کے اقرب اس کے بیٹے ہوتے ہیں نہ کہ پوتے۔ ہاں اگر صلبی اولاد کوئی بھی زندہ نہ ہو تو پھر پوتے بھی وارث ہوسکتے ہیں۔ ان حضرات کا اصل ہدف یتیم کی خیر خواہی نہیں بلکہ سنت میں کیڑے نکالنا اور اس کی مخالفت ہے۔ اور وہ بھی کسی قرآن کی آیت سے نہیں بلکہ اپنی وضع کردہ اصول قائم مقامی کی بنا پر جس میں بنیادی غلطی یہ ہے کہ مرے ہوئے رشتہ داروں کو زندہ تصور کرکے قائم مقامی کا حق قائم کیا جاتا ہے۔ ورنہ کتاب و سنت میں یتیم سے ہمدردی کی بہت سی صورتیں موجود ہیں۔ مثلاً مرنے والا خود اس کے لیے ایک تہائی ورثہ وصیت کرنے کا حق رکھتا ہے۔ اس لیے کہ یتیم پوتا وارث نہیں اور وصیت ہوتی ہی غیر وارث کے لیے ہے۔ وارث کے لیے وصیت نہیں ہوسکتی اور اگر مرنے والا وصیت نہیں کرسکا۔ یا اس کے حق میں وصیت نہیں کرنا چاہتا تھا کہ بقیہ وارث اسے خود اپنی رضا سے اس میں شریک بنا سکتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر مناسب سمجھیں تو اسے اپنی مرضی سے سارے کا سارا ترکہ بھی دے سکتے ہیں اور ان باتوں کا انہیں بھی ایسا ہی حق ہے جیسا مرنے والے کو وصیت کرنے کا حق ہے۔ پھر اگر مرنے والا دادا کو بھی اس سے کوئی ہمدردی نہ ہو اور نہ ہی دوسرے وارثوں کو ہو۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا پوتا ہمدردی کا حقدار ہی نہیں تھا۔ ممکن ہے اپنے مرنے والے باپ سے اسے اتنا مال و دولت مل گیا ہو کہ دوسرے اسے دینے کی ضرورت ہی نہ سمجھیں۔ اس صورت میں آپ کی ہمدردی اس کے کس کام آسکتی ہے ؟

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَنْ يَّعْصِ اللہَ وَرَسُوْلَہٗ وَيَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ يُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِيْھَا۝ ٠ ۠ وَلَہٗ عَذَابٌ مُّہِيْنٌ۝ ١٤ ۧ عصا العَصَا أصله من الواو، لقولهم في تثنیته : عَصَوَانِ ، ويقال في جمعه : عِصِيٌّ. وعَصَوْتُهُ : ضربته بالعَصَا، وعَصَيْتُ بالسّيف . قال تعالی: وَأَلْقِ عَصاكَ [ النمل/ 10] ، فَأَلْقى عَصاهُ [ الأعراف/ 107] ، قالَ هِيَ عَصايَ [ طه/ 18] ، فَأَلْقَوْا حِبالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ [ الشعراء/ 44] . ويقال : ألقی فلانٌ عَصَاهُ : إذا نزل، تصوّرا بحال من عاد من سفره، قال الشاعر : فألقت عَصَاهَا واستقرّت بها النّوى وعَصَى عِصْيَاناً : إذا خرج عن الطاعة، وأصله أن يتمنّع بِعَصَاهُ. قال تعالی: وَعَصى آدَمُ رَبَّهُ [ طه/ 121] ، وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ النساء/ 14] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُيونس/ 91] . ويقال فيمن فارق الجماعة : فلان شقّ العَصَا ( ع ص ی ) العصا : ( لاٹھی ) یہ اصل میں ناقص وادی ہے کیونکہ اس کا تثنیہ عصوان جمع عصی آتی عصوتہ میں نے اسے لاٹھی سے مارا عصیت بالسیف تلوار کو لاٹھی کی طرح دونوں ہاتھ سے پکڑ کت مارا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَلْقِ عَصاكَ [ النمل/ 10] اپنی لاٹھی دال دو ۔ فَأَلْقى عَصاهُ [ الأعراف/ 107] موسٰی نے اپنی لاٹھی ( زمین پر ) ڈال دی ۔ قالَ هِيَ عَصايَ [ طه/ 18] انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے ۔ فَأَلْقَوْا حِبالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ [ الشعراء/ 44] تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔ القی فلان عصاہ کسی جگہ پڑاؤ ڈالنا کیونکہ جو شخص سفر سے واپس آتا ہے وہ اپنی لاٹھی ڈال دیتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 313 ) والقت عصاھا واستقربھا النوی ( فراق نے اپنی لاٹھی ڈال دی اور جم کر بیٹھ گیا ) عصی عصیانا کے معنی اطاعت سے نکل جانے کے ہیں دراصل اس کے معنی ہیں اس نے لاٹھی ( عصا ) سے اپنا بچاؤ کیا ۔ قرآن میں ہے : وَعَصى آدَمُ رَبَّهُ [ طه/ 121] اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم کے خلاف کیا تو ( وہ اپنے مطلوب سے ) بےراہ ہوگئے ۔ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ النساء/ 14] اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا ۔ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ( جواب ملا کہ ) اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ۔ اور اس شخص کے متعلق جو جماعت سے علیدہ گی اختیار کر سے کہا جاتا ہے فلان شق لعصا ۔ هان الْهَوَانُ علی وجهين : أحدهما : تذلّل الإنسان في نفسه لما لا يلحق به غضاضة، فيمدح به نحو قوله : وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ونحو ما روي عن النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم :«المؤمن هَيِّنٌ ليّن» الثاني : أن يكون من جهة متسلّط مستخفّ به فيذمّ به . وعلی الثاني قوله تعالی: الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذابَ الْهُونِ [ الأنعام/ 93] ، فَأَخَذَتْهُمْ صاعِقَةُ الْعَذابِ الْهُونِ [ فصلت/ 17] ، وَلِلْكافِرِينَ عَذابٌ مُهِينٌ [ البقرة/ 90] ، وَلَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ آل عمران/ 178] ، فَأُولئِكَ لَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ الحج/ 57] ، وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَما لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ [ الحج/ 18] ويقال : هانَ الأمْرُ علی فلان : سهل . قال اللہ تعالی: هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ [ مریم/ 21] ، وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ [ الروم/ 27] ، وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّناً [ النور/ 15] والْهَاوُونَ : فاعول من الهون، ولا يقال هارون، لأنه ليس في کلامهم فاعل . ( ھ و ن ) الھوان اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے انسان کا کسی ایسے موقعہ پر نر می کا اظہار کرتا جس میں اس کی سبکی نہ ہو قابل ستائش ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر متواضع ہوکر چلتے ہیں ۔ اور آنحضرت سے مروی ہے کہ مومن متواضع اور نرم مزاج ہوتا ہے دوم ھان بمعنی ذلت اور رسوائی کے آتا ہے یعنی دوسرا انسان اس پر متسلط ہو کت اسے سبکسار کرے تو یہ قابل مذمت ہے چناچہ اس معنی میں فرمایا : ۔ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذابَ الْهُونِ [ الأنعام/ 93] سو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے ۔ فَأَخَذَتْهُمْ صاعِقَةُ الْعَذابِ الْهُونِ [ فصلت/ 17] تو کڑک نے ان کو آپکڑا اور وہ ذلت کا عذاب تھا وَلِلْكافِرِينَ عَذابٌ مُهِينٌ [ البقرة/ 90] اور کافروں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے ۔ وَلَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ آل عمران/ 178] اور آخر کار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا ۔ فَأُولئِكَ لَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ الحج/ 57] انکے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا ۔ وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَما لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ [ الحج/ 18] اور جس کو خدا ذلیل کرے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں ۔ علی کے ساتھ کے معنی کسی معاملہ کے آسان ہو نیکے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ [ مریم/ 21] کہ بی مجھے آسان ہے ۔ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ [ الروم/ 27] اور یہ اس پر بہت آسان ہے ۔ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّناً [ النور/ 15] اور تم اسے ایک ہل کہ بات سمجھتے ہو ۔ ھاودن کمزور یہ ھون سے ہے اور چونکہ فاعل کا وزن کلام عرب میں نہیں پایا اسلئے ھاون کی بجائے ہارون بروزن فا عول کہا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٤) اور جو خیانت اور ظلم کرکے احکام خداوندی کی نافرمانی اور اس کے حدود سے تجاوز کرے گا تو جب تک اللہ تعالیٰ چاہے اس کو جہنم میں رکھے گا اور وہاں عذاب کے ساتھ ساتھ ذلت بھی ہوگی ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

25a. This is a terrifying verse in which those who either tamper with God's laws of inheritance or violate the legal bounds categorically laid down by God in His Book are warned of unending punishment. It is lamentable that, in spite of these very stern warnings, Muslims have occasionally been guilty of breaching God's laws with the same boldness and insolence as that of the Jews. Disobedience to God's law of inheritance has occasionally assumed the proportion of open rebellion against Him. In some instances, women have been disinherited altogether. In others, the eldest son has been declared the only legal heir. There are also instances where the entire system of inheritance distribution has been replaced by the system of joint family property. In still other instances, the shares of women have been made equal to those of men. In our time a few Muslim states, in imitation of the West, even contrived a new form of disobedience. This consists of imposing death duties so that governments, too, become one of the heirs of the deceased, an heir whose share God had altogether failed to mention! This is despite the fact that under Islamic dispensation governments may assume control of a dead man's inheritance only if it is either unclaimed or if the person concerned has specifically so bequeathed part of his inheritance.

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :25A یہ ایک بڑی خوفناک آیت ہے جس میں ان لوگوں کو ہمیشگی کے عذاب کی دھمکی دی گئی ۔ جو اللہ تعالیٰ کے مقرر کئے ہوئے قانون وراثت کو تبدیل کریں ، یا ان دوسری قانونی حدوں کو توڑیں جو خدا نے اپنی کتاب میں واضح طور پر مقرر کردی ہیں ۔ لیکن سخت افسوس ہے کہ اس قدر سخت وعید کے ہوتے ہوئے بھی مسلمانوں نے بالکل یہودیوں کی جسارت کے ساتھ خدا کے قانون کو بدلا اور اس کی حدوں کو توڑا ۔ اس قانون وراثت کے معاملہ میں جو نافرمانیاں کی گئی ہیں وہ خدا کے خلاف کھلی بغاوت کی حد تک پہنچتی ہیں ۔ کہیں عورتوں کو میراث سے مستقل طور محروم کیا گیا ۔ کہیں صرف بڑے بیٹے کو میراث کا مستحق ٹھیرایا گیا ، کہیں سرے سے تقسیم میراث ہی کے طریقے کو چھوڑ کر مشترک خاندانی جائیداد کا طریقہ اختیار کرلیا گیا ۔ کہیں عورتوں اور مردوں کا حصہ برابر کردیا گیا ۔ اور اب ان پرانی بغاوتوں کے ساتھ تازہ ترین بغاوت یہ ہے کہ بعض مسلمان ریاستیں اہل مغرب کی تقلید میں وفات ٹیکس ( Deat Duty ) اپنے ہاں رائج کر رہی ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ میت کے وارثوں میں ایک وارث حکومت بھی ہے جس کا حصہ رکھنا اللہ میاں بھول گئے تھے حالانکہ اسلامی اصول پر اگر میت کا ترکہ کسی صورت میں حکومت کو پہنچتا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ کسی مرنے والے کا کوئی قریب و بعید رشتہ دار موجود نہ ہو اور اس کا چھوڑا ہوا مال تمام اشیاء متروکہ کی طرح داخل بیت المال ہوجائے ۔ یا پھر حکومت اس صورت میں کوئی حصہ پاسکتی ہے جبکہ مرنے والا اپنی وصیت میں اس کے لئے کوئی حصہ مقرر کردے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

یعص۔ واحد مذکر غائب مضارع مجزوم (بوجہ عمل من جو اسم جازم فعل ہے) اصل میں یعصی تھا۔ عصیان مصدر باب ضرب۔ من یعص۔ جو نافرمانی کرے گا۔ یتعد۔ مضارع مجزوم واحد مذکر غائب اصل میں یتعدی تھا (عدوان مصدر) من یتعد جو حدود الٰہیہ سے تجاوز کرے گا۔ مھین۔ اسم فاعل واحد مذکر۔ اھانۃ مصدر۔ باب افعال۔ ذلیل و خوار کرنے والا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ جاہلیت میں جیسا یتامی اور مواریث کے معاملہ میں بہت سی بےاعتدالیاں تھیں جن کی اصلاح اوپر کی آیات میں مذکور ہوئی اسی طرح عورتوں کے معاملہ میں بھی طرح طرح کے رسوم قبیحہ اور بےعنوانیاں شائع تھیں آگے الرجال قوامون تک ان معاملات کی اصلاح فرماتے ہیں اور جو خطا و قصور شرعا معتبر ہو اس پر تادیب کی اجازت دیتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 یہ تمام احکام مذکورہ اللہ تعالیٰ کی باندھی ہوئی حدیں اور اس کے مقرر کردہ ضابطے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی صحیح اطاعت و فرمانبرداری کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسے باغوں میں ابتداً ہی داخل کردے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی یہ لوگ ان باغوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بغیر کسی عذاب کے ابتداً جنت میں داخل ہوجانا اور وہاں ہمیشہ رہنا بہت بڑی کامیابی ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اللہ و رسول کا کہنا نہ مانے گا اور اس کی باندھی ہوئی حدوں کو توڑ کر بڑھ جائے گا اور اس کے مقررہ ضابطوں سے تجاوز کرنے پر اصرار کرے گا اور اس کے قوانین کی بالکل خلاف ورزی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کو آگ میں داخل کردے گا۔ اور اس کا یہ حال ہوگا کہ وہ اس آگ میں ہمیشہ ہمیش پڑا رہے گا اور اس کو ذلت و اہانت آمیز اور رسوا کن عذاب ہوگا۔ (تیسیر) ان دونوں آیتوں میں مخلص مسلمان اور کامل کافر کا ذکر ہے۔ اسی رعایت سے ہم نے تیسیر میں اپنے ترجمہ کا خلاصہ کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ مسلمان جو اعتقاد اور عمل دونوں کے اعتبار سے صحیح راہ پر قائم ہے وہ تو بغیر کسی عذاب کے ابتداً ہی جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ اور جنت اس کا ہمیشہ کیلئے مسکن اور قرار گاہ ہوگی اور جو کافر ہے یعنی اعتقاداً اور عملاً ہر اعتبار سے کفر پر قائم ہے تو اس کا ٹھکانہ دائمی طور پر جہنم ہے۔ رہے وہ لوگ جو اعتقاد مسلمان ہیں اور ان کے اعمال اسلامی نہ ہوں اور ان سے گناہ سرزد ہوتے رہتے ہوں ان کے لئے عذاب کے بعد آخر میں نجات ہے۔ یہ بحث پہلے پارے میں تفصیل کے ساتھ گزر چکی ہے۔ رہی یہ بات کہ کسی کا اعتقاد غیر اسلامی ہو لیکن عمل اچھے ہوں تو ایسا شخص بھی کافر ہے سو یہ بحث بھی پہلے پارے میں آچکی ہے کہ اعتقاد اعمال کا بنی ہے اگر کسی کا اعتقاد صحیح نہیں ہے تو اس کے سب اعمال کا رت ہیں۔ بہرحال ! میراث اور یتامیٰ کی بحث کو ان دو آیتوں پر ختم کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ معاملات نہایت اہم اور بہت ہی غور طلب ہیں۔ یتامیٰ کی اور ان کے مال کی حفاظت اور ورثاء کے حصص کی صحیح تقسیم یہ ایسے امور ہیں کہ ان میں کوتاہی کبیرہ گناہ ہے اور قرآن کریم کے مقابلہ میں خاندانی رسوم اور خاندانی رواج کو ترجیح دینا اور ان پر اڑنا کفر ہے۔ جیسا کہ لڑکیوں کے ترکہ میں بعض ہندوستان کے خاندان شریعت کے مقابلہ میں رواج کو ترجیح دے رہے ہیں اور اس گناہ سے تائب ہونے کو تیار نہیں ہیں اور لڑکیوں کا حق ان کو دینے پر آمادہ نہیں ہیں۔ ابن ماجہ نے حضرت انس (رض) سے مرفوعاً نقل کیا ہے جس نے کسی وارث کی میراث کو قطع کیا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث کو قطع کردے گا۔ بخاری اور مسلم نے حضرت سعد بن ابی وقاص سے مرفوعاً نقل کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی بیماری میں عیادت کی غرض سے ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے عرض کیا۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے پاس مال بہت ہے اور فقط ایک بیٹی وارث ہے تو کیا میں اپنا دو ثلث مال خیرات کرسکتا ہوں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا نہیں انہوں نے کہا اچھا آدھا مال دے سکتا ہوں آپ نے فرمایا نہیں انہوں نے عرض کی اچھا ایک ثلث فرمایا ہاں ایک ثلث خیرات کرسکتا ہے اور ثلث بھی بہت ہے اگر تو اپنے ورثاء کو مالدار چھوڑ کر مرے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ ان کو محتاج چھوڑ کر مرے جو لوگوں سے مانگتے پھریں۔ مطلب یہ ہے کہ ورثاء کیلئے مال چھوڑ کر مرنا اس سے بہتر ہے کہ تو وصیت کرکے اپنی دولت ختم کرجائے اور ورثاء محتاج رہ جائیں۔ حضرت معاذ بن جبل کا قول ابن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے مالوں کی تہائی تم پر صدقہ کردی ہے کہ تم اپنی نیکیاں زیادہ بڑھالو۔ یعنی تیسرا حصہ تمہارے مالوں کا تمہارے لئے چھوڑ دیا ہے کہ تم وصیت کرکے اپنی نیکیاں بڑھالو۔ ہر چند کہ ایک ثلث کی وصیت کرنا جائز ہے لیکن صحابہ (رض) کا عام رجحان یہی ہے کہ وصیت ثلث سے بھی کم ہو تو بہتر ہے۔ شاید یاد ہوگا ہم دوسرے پارے میں عرض کرچکے ہیں کہ میراث کے احکام جاری ہونے سے قبل ورثاء کیلئے وصیت جائز تھی لیکن جب ہر وارث کا حصہ مقرر کردیا گیا تو اب کسی وارث کیلئے وصیت جائز نہیں ہے اگر کوئی وارث کے حق میں وصیت کرجائے گا تو وہ وصیت نافذ نہ ہوگی۔ یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ قرآن کریم نے جو حصے بیان کئے ہیں ان کی تفصیل یہ ہے۔ آدھا، چوتھائی، آٹھ عورتیں چار مردیہ ہیں باپ، دادا، زوج یعنی خاوند اور ماں شریک بھائی، آٹھ عورتیں یہ ہیں۔ بیوی، بیٹی، پوتی، حقیقی بہن، علاتی بہن، اخیانی بہن، والدہ اور جد صحیحہ یعنی دادی۔ یہ بارہ قسمیں ذوی الفروض کہلاتی ہیں اس کے بعد عصبات ہیں ان میں شریعت کا یہ قاعدہ ہے کہ جو میت سے قریب تر ہوگا وہ دوسروں پر مقدم ہوگا۔ ذوی الفروض سے اگر کچھ بچ جائے تو اس کا حقدارعصبہ ہوتا ہے۔ البتہ باپ ذوی الفروض بھی ہے اور بعض صورتوں میں عصبہ بھی ہوتا ہے اگر عصبات نہ ہوں تو پھر ذوی الارحام مستحق ہوتے ہیں باقی تفصیل فرائض کی کتابوں سے معلوم کیجئے یا مقامی علماء سے دریافت کیجئے۔ اب آگے عورتوں کے حقوق اور ان کے احکام مذکور ہیں چونکہ زمانۂ جاہلیت میں یتامیٰ کے ساتھ اور اہل میراث کے ساتھ جس طرح غیر منصفانہ اور جابرانہ سلوک ہونا تھا۔ اسی طرح عورتوں کے ساتھ بھی سخت ناانصافی کا برتائو کیا جاتا تھا۔ جیسا کہ ہندوستان کی کافر قوموں میں اب تک وہ وحشیانہ سلوک موجود ہے اور مسلمانوں کی بعض ان قوموں میں بھی وہ غیر منصفانہ طریقے عورتوں کے ساتھ برتے جاتے ہیں جو اس ترقی کے دور میں بھی کافرانہ رسموں میں مبتلا ہیں عورتوں کے یہ احکام تقریباً تین چار رکوع تک مسلسل بیان ہوئے ہیں۔ البتہ کسی خاص مناسبت سے درمیان میں بعض اور باتیں بھی آگئی ہیں جیسا کہ قرآن کریم کی بلاغت کا قاعدہ اور کلام الٰہی کی خاص خوبی ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)