Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 144

سورة النساء

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡکٰفِرِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَؕ اَتُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ تَجۡعَلُوۡا لِلّٰہِ عَلَیۡکُمۡ سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۴۴﴾

O you who have believed, do not take the disbelievers as allies instead of the believers. Do you wish to give Allah against yourselves a clear case?

اے ایمان والو! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنے اُوپر اللہ تعالٰی کی صاف حجت قائم کر لو ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Prohibition of Wilayah with the Disbelievers Allah يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاء مِن دُونِ الْمُوْمِنِينَ ... O you who believe! Do not take disbelievers as friends instead of believers. Allah forbids His believing servants from taking the disbelievers as friends instead of the believers. This includes being friends and associates of the disbelievers, advising them, being intimate with them and exposing the secrets of the believers to them. In another Ayah, Allah said, لااَّ يَتَّخِذِ الْمُوْمِنُونَ الْكَـفِرِينَ أَوْلِيَأءَ مِن دُونِ الْمُوْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَىْءٍ إِلااَ أَن تَتَّقُواْ مِنْهُمْ تُقَـةً وَيُحَذِّرْكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ Let not the believers take the disbelievers as friends instead of the believers, and whoever does that, will never be helped by Allah in any way, except if you indeed fear a danger from them. And Allah warns you against Himself. (3:28) meaning, He warns you against His punishment if you fall into what He has prohibited. This is why Allah said here, ... أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُواْ لِلّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا Do you wish to offer Allah a manifest Sultan against yourselves! meaning, proof against you that warrants receiving His torment. Ibn Abi Hatim narrated that Ibn Abbas commented; سُلْطَانًا مُّبِينًا (manifest Sultan), "The word Sultan in the Qur'an means proof." There is an authentic chain of narration for this statement, which is also the saying of Mujahid, Ikrimah, Sa`id bin Jubayr, Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi, Ad-Dahhak, As-Suddi and An-Nadr bin Arabi. The Hypocrites and the Friends of Disbelievers are in the Lowest Depth of the Fire, Unless they Repent Allah then states that,

کافر سے دوستی آگ سے دوستی کے مترادف ہے کافروں سے دوستیاں کرنے سے ان سے دلی محبت رکھنے سے ان کے ساتھ ہر وقت اٹھنے بیٹھنے سے مسلمانوں کے بھید ان کو دینے سے اور پوشیدہ تعلقات ان سے قائم رکھنے سے اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو روک رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے ( لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ ) 3 ۔ آل عمران:28 ) مومنوں کو چاہئے کہ بجز مومنوں کے کفار سے دوستی نہ کریں ایسا کرنے والا اللہ کے ہاں کسی بھلائی کا مستحق نہیں ہاں اگر صرف بچاؤ کے طور پر ظاہر داری ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آپ سے ڈرا رہا ہے یعنی اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو گے تو تمہیں اس کے عذابوں کو یاد رکھنا چاہئے ، ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس کا فرمان مروی ہے کہ آپ نے فرمایا قرآن میں جہاں کہیں ایسی عبارتوں میں سلطان کا لفظ ہے وہاں اس سے مراد حجت ہے یعنی تم نے اگر مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دلی دوستی کے تعلقات پیدا کئے تو تمہارا یہ فعل کافی ثبوت ہو گا اور پوری دلیل ہو گی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے ، کئی ایک سلف مفسرین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے ۔ پھر منافقوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ یہ اپنے اس سخت کفر کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں داخل کئے جائیں گے درک درجہ کے مقابل کا مظہر ہے بہشت میں درجے ہیں ایک سے ایک بلند اور دوزخ میں درک ہیں ایک سے ایک پست ۔ حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں انہیں آگ کے صندوقوں میں بند کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا اور یہ جلتے بھنتے رہیں گے ، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں یہ صندوق لوہے کے ہوں گے جو آگ لگتے ہی آگ کے ہو جائیں گے اور چاروں طرف سے بالکل بند ہوں گے اور کوئی نہ ہو گا جو ان کی کسی طرح کی مدد کرے ۔ جہنم سے نکال سکے یا عذابوں میں ہی کچھ کم کروا سکے ۔ ہاں ان میں سے جو توبہ کرلیں نادم ہو جائیں اور سچے دل سے منافقت چھوڑ دیں اور رب سے اپنے اس گناہ کی معافی چاہیں ۔ پھر اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں صرف خوشنودی اللہ اور مرضی مولی کے لئے نیک اعمال پر کمر کس لیں ۔ ریا کاری کو اخلاص سے بدل دیں ۔ اللہ تعالیٰ کے دین کو مضبوطی سے تھام لیں تو بیشک اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا اور انہیں سچے مومنوں میں داخل کر دے گا اور بڑے ثواب اور اعلیٰ اجر عنایت فرمائے گا ، ابن ابی حاتم میں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اپنے دین کو خالص کر لو تو تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہو جائے گا ، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ غنی ہے بےنیاز ہے بندوں کو سزا کرنی وہ نہیں چاہتا ، ہاں جب گناہوں پر دلیر ہو جائیں تو گوش مالی ضروری ہے ، پس فرمایا اگر تم اپنے اعمال کو سنوار لو اور اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے دل سے ایمان لے آؤ تو کوئی وجہ نہیں جو اللہ تمہیں عذاب دے ۔ وہ تو چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی بھی قدر دانی کرنے الا ہے ، جو اس کا شکر کرے وہ اس کی عزت افزائی کرتا ہے وہ پورے اور صحیح علم والا ہے ۔ جانتا ہے کہ کس کا عمل اخلاص والا اور قبولیت اور قدر کے لائق ہے ۔ اسے معلوم ہے کہ کس دل میں قوی ایمان ہے اور کونسا دل ایمان سے خالی ہے ، جو اخلاص اور ایمان والے ہیں انہیں بھر پور اور کامل بدلے اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا ( اللہ ہمیں ایمان و اخلاص کی دولت سے مالا مال کرے اور پھر اجر و ثواب سے نہال کرے آمین ) الحمد اللہ! تفسیر محمدی ابن کثیر کا پانچواں پارہ ختم ہوا ۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے کلام کے سمجھنے سمجھانے کی اور اس پر عالم بن جانے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین! الہ تو اس پاک تفسیر کو میرے ہاتھوں ختم کرا اور پوری کتاب چھپی ہوئی مجھے دکھا ۔ میرے نامہ اعمال سے گناہوں کو مٹا کر نیکیاں تحریر فرما اور اپنے نیک بندوں میں شمار کر ، آمین!!

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

144۔ 1 یعنی اللہ نے تمہیں کافروں کی دوستی سے منع فرمایا ہے۔ اب اگر تم دوستی کرو گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم اللہ کو یہ دلیل مہیا کر رہے ہو کہ تمہیں بھی سزا دے سکے (یعنی معیصت الٰہی اور حکم عدولی کی وجہ سے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩٢] منافقوں سے دوستی کی ممانعت :۔ وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے تو تمہیں غیر مسلموں اور منافقوں سے دوستی گانٹھنے سے منع فرمایا ہے پھر اگر تم اللہ کے حکم کے علی الرغم یہی کام کرو گے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ کے حضور تم خود ہی اپنے آپ کو سزا کے مستحق قرار دے رہے ہو۔ یہ حکم نہایت جامع قسم کا ہے جس کا تعلق افراد سے بھی ہے اور حکومت سے بھی۔ اس دنیا سے بھی ہے اور آخرت سے بھی۔ یعنی جس طرح ایک شخص کو کسی غیر مسلم یا منافق سے دوستی لگانے میں نقصان ہی کا احتمال ہے، اسی طرح اگر کوئی اسلامی یا مسلمان حکومت بھی غیر مسلموں سے دوستی کے روابط قائم کرے گی تو نقصان ہی اٹھائے گی۔ اور اس کا تجربہ بارہا ہو بھی چکا ہے اور بسا اوقات منافقوں اور غداروں نے ہی جو حکومت کے ذمہ دارانہ مناصب پر فائز تھے، مسلمانوں کی حکومتوں کو ڈبویا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ ۔۔ : اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کافروں کو دوست بنانے کی جگہ جگہ ممانعت کی ہے، دیکھیے سورة آل عمران (٢٨) ، سورة مائدۃ (٥١) ، سورة مجادلہ (٢٢) اور سورة ممتحنہ (١) اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا ۔۔ : یعنی اس کے حکم کی خلاف ورزی کر کے عذاب الٰہی کے لیے ایسی واضح اور کھلی دلیل اپنے اوپر قائم کرنا چاہتے ہو کہ اس کے بعد مستحق عذاب ہونے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہ رہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ۝ ٠ۭ اَتُرِيْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلہِ عَلَيْكُمْ سُلْطٰنًا مُّبِيْنًا۝ ١٤٤ أخذ ( افتعال، مفاعله) والاتّخاذ افتعال منه، ويعدّى إلى مفعولین ويجري مجری الجعل نحو قوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصاری أَوْلِياءَ [ المائدة/ 51] ، أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِياءَ [ الشوری/ 9] ، فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا [ المؤمنون/ 110] ، أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ : اتَّخِذُونِي وَأُمِّي إِلهَيْنِ مِنْ دُونِ اللَّهِ [ المائدة/ 116] ، وقوله تعالی: وَلَوْ يُؤاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ [ النحل/ 61] فتخصیص لفظ المؤاخذة تنبيه علی معنی المجازاة والمقابلة لما أخذوه من النعم فلم يقابلوه بالشکر ( اخ ذ) الاخذ الاتخاذ ( افتعال ) ہے اور یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہوکر جعل کے جاری مجری ہوتا ہے جیسے فرمایا :۔ { لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ } ( سورة المائدة 51) یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ بناؤ ۔ { وَالَّذِينَ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ } ( سورة الزمر 3) جن لوگوں نے اس کے سوا اور دوست بنائے ۔ { فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخْرِيًّا } ( سورة المؤمنون 110) تو تم نے اس تمسخر بنالیا ۔ { أَأَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَهَيْنِ } ( سورة المائدة 116) کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو ۔ اور آیت کریمہ : { وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ } ( سورة النحل 61) میں صیغہ مفاعلہ لاکر معنی مجازات اور مقابلہ پر تنبیہ کی ہے جو انعامات خدا کی طرف سے انہیں ملے ان کے مقابلہ میں انہوں نے شکر گذاری سے کام نہیں لیا ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ دون يقال للقاصر عن الشیء : دون، قال بعضهم : هو مقلوب من الدّنوّ ، والأدون : الدّنيء وقوله تعالی: لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] ، ( د و ن ) الدون جو کسی چیز سے قاصر اور کوتاہ ہودہ دون کہلاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ دنو کا مقلوب ہے ۔ اور الادون بمعنی دنی آتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ لا تَتَّخِذُوا بِطانَةً مِنْ دُونِكُمْ [ آل عمران/ 118] کے معنی یہ ہیں کہ ان لوگوں کو راز دار مت بناؤ جو دیانت میں تمہارے ہم مرتبہ ( یعنی مسلمان ) نہیں ہیں ۔ الف ( ا) الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع : - نوع في صدر الکلام . - ونوع في وسطه . - ونوع في آخره . فالذي في صدر الکلام أضرب : - الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية . فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً [ البقرة/ 80] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ، أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ، أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخالِدُونَ [ الأنبیاء/ 34] ، أَكانَ لِلنَّاسِ عَجَباً [يونس/ 2] ، آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ [ الأنعام/ 144] . والتسوية نحو : سَواءٌ عَلَيْنا أَجَزِعْنا أَمْ صَبَرْنا [إبراهيم/ 21] ، سَواءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ [ البقرة/ 6] «1» ، وهذه الألف متی دخلت علی الإثبات تجعله نفیا، نحو : أخرج ؟ هذا اللفظ ينفي الخروج، فلهذا سأل عن إثباته نحو ما تقدّم . وإذا دخلت علی نفي تجعله إثباتا، لأنه يصير معها نفیا يحصل منهما إثبات، نحو : أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ [ الأعراف/ 172] «2» ، أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ [ الرعد/ 41] ، أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَةُ [ طه/ 133] أَوَلا يَرَوْنَ [ التوبة : 126] ، أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ [ فاطر/ 37] . - الثاني : ألف المخبر عن نفسه نحو : أسمع وأبصر . - الثالث : ألف الأمر، قطعا کان أو وصلا، نحو : أَنْزِلْ عَلَيْنا مائِدَةً مِنَ السَّماءِ [ المائدة/ 114] ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتاً فِي الْجَنَّةِ [ التحریم/ 11] ونحوهما . - الرابع : الألف مع لام التعریف «4» ، نحو : العالمین . - الخامس : ألف النداء، نحو : أزيد، أي : يا زيد . والنوع الذي في الوسط : الألف التي للتثنية، والألف في بعض الجموع في نحو : مسلمات ونحو مساکين . والنوع الذي في آخره : ألف التأنيث في حبلی وبیضاء «5» ، وألف الضمیر في التثنية، نحو : اذهبا . والذي في أواخر الآیات الجارية مجری أواخر الأبيات، نحو : وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا [ الأحزاب/ 10] ، فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا [ الأحزاب/ 67] ، لکن هذه الألف لا تثبت معنی، وإنما ذلک لإصلاح اللفظ . ا : الف با معنی کی تین قسمیں ہیں ۔ ایک وہ جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ دوسرا وہ جو وسط کلام میں واقع ہو ۔ تیسرا وہ جو آخر کلام میں آئے ۔ ( ا) وہ الف جو شروع کلام میں آتا ہے ۔ اس کی چند قسمیں ہیں : ۔ (1) الف الاستخبار اسے ہمزہ استفہام کہنے کے بجائے الف استخبار کہنا زیادہ صحیح ہوگا ۔ کیونکہ اس میں عمومیت ہے جو استفہام و انکار نفی تبکیت پر زجرو تو بیخ ) تسویہ سب پر حاوی ہے۔ چناچہ معنی استفہام میں فرمایا ۔ { أَتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ } [ البقرة : 30]( انہوں نے کہا ) کیا تو اس میں ایسے شخص کو نائب بنانا چاہتا ہے جو خرابیاں کرے اور کشت و خون کرتا پھرے اور تبکیت یعنی سرزنش کبھی مخاطب کو ہوتی ہے اور کبھی غیر کو چناچہ ( قسم اول کے متعلق ) فرمایا :۔ (1){ أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُم } [ الأحقاف : 20] تم اپنی لذتیں حاصل کرچکے ۔ (2) { أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْدًا } [ البقرة : 80] کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے ؟ (3) { آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ } [يونس : 91] کیا اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ؟ اور غیر مخاظب کے متعلق فرمایا :۔ (4) { أَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا } [يونس : 2] کیا لوگوں کے لئے تعجب خیز ہے ؟ (5) { أَفَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِل } [ آل عمران : 144] تو کیا اگر یہ مرجائیں یا مارے جائیں ؟ (6) { أَفَإِنْ مِتَّ فَهُمُ الْخَالِدُونَ } [ الأنبیاء : 34] بھلا اگر تم مرگئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ رہیں گے ؟ (7) { آلذَّكَرَيْنِ حَرَّمَ أَمِ الْأُنْثَيَيْنِ } [ الأنعام : 143] بتاؤ تو ( خدا نے ) دونوں نروں کو حرام کیا ہے ۔ یا دونوں ماديؤں کو ۔ اور معنی تسویہ میں فرمایا ، { سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا } [إبراهيم : 21] اب ہم گهبرائیں یا صبر کریں ہمارے حق میں برابر ہے ۔ { سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ } ( سورة البقرة 6) تم خواہ انہیں نصیحت کردیا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے ، وہ ایمان نہیں لانے کے ۔ اور یہ الف ( استخبار ) کلام مثبت پر داخل ہو تو اسے نفی میں تبدیل کردیتا ہے ۔ جیسے اخرج ( وہ باہر نہیں نکلا ) کہ اس میں نفی خروج کے معنی پائے جائے ہیں ۔ اس لئے کہ اگر نفی کے معنی نہ ہوتے تو اس کے اثبات کے متعلق سوال نہ ہوتا ۔ اور جب کلام منفی پر داخل ہو تو اسے مثبت بنا دیتا ہے ۔ کیونکہ کلام منفی پر داخل ہونے سے نفی کی نفی ہوئی ۔ اور اس طرح اثبات پیدا ہوجاتا ہے چناچہ فرمایا :۔ { أَلَسْتُ بِرَبِّكُم } [ الأعراف : 172] کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ( یعنی ضرور ہوں ) { أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ } [ التین : 8] کیا اللہ سب سے بڑا حاکم نہیں ہے یعنی ضرور ہے ۔ { أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ } [ الرعد : 41] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم زمین کا بندوبست کرتے ہیں ۔ { أَوَلَمْ تَأْتِهِمْ بَيِّنَة } [ طه : 133] کیا ان کے پاس کھلی نشانی نہیں آئی ۔ { أَوَلَا يَرَوْنَ } [ التوبة : 126] اور کیا یہ نہیں دیکھتے { أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُم } [ فاطر : 37] اور کیا ہم نے تم کو اتنی عمر نہیں دی ۔ (2) الف جو مضارع کے صیغہ واحد متکلم کے شروع میں آتا ہے اور میں |" کے معنی رکھتا ہے جیسے اسمع و ابصر یعنی میں سنتاہوں اور میں دیکھتا ہوں (3) ہمزہ فعل امر خواہ قطعی ہو یا وصلي جیسے فرمایا :۔ { أَنْزِلْ عَلَيْنَا مَائِدَةً مِنَ السَّمَاءِ } [ المائدة : 114] ہم پر آسمان سے خوان نازل فرما ۔ { رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ } [ التحریم : 11] اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا ۔ (4) الف جو لام کے ساتھ معرفہ بنانے کے لئے آیا ہے جیسے فرمایا { الْعَالَمِينَ } [ الفاتحة : 2] تمام جہانوں (5) الف نداء جیسے ازید ( اے زید ) ( ب) وہ الف جو وسط کلمہ میں آتا ہے اس کی پہلی قسم الف تثنیہ ہے ( مثلا رجلان ) اور دوسری وہ جو بعض اوزان جمع میں پائی جاتی ہے مثلا مسلمات و مساکین ۔ ( ج) اب رہا وہ الف جو کلمہ کے آخر میں آتا ہے ۔ وہ یا تو تانیث کے لئے ہوتا ہے جیسے حبلیٰ اور بَيْضَاءُمیں آخری الف یا پھر تثنیہ میں ضمیر کے لئے جیسا کہ { اذْهَبَا } [ الفرقان : 36] میں آخر کا الف ہے ۔ وہ الف جو آیات قرآنی کے آخر میں کہیں بڑھا دیا جاتا ہے جیسے { وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا } [ الأحزاب : 10] { فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا } [ الأحزاب : 67] تو یہ کوئی معنوی اضافہ نہیں کرتا بلکہ محض لفظی اصلاح ( اور صوتی ہم آہنگی ) کے لئے آخر میں بڑھا دیا جاتا ہے ( جیسا کہ ابیات کے اواخر میں الف |" اشباع پڑھاد یتے ہیں ) رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ سلط السَّلَاطَةُ : التّمكّن من القهر، يقال : سَلَّطْتُهُ فَتَسَلَّطَ ، قال تعالی: وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] ، وقال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] ، ومنه سمّي السُّلْطَانُ ، والسُّلْطَانُ يقال في السَّلَاطَةِ ، نحو : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] ، ( س ل ط ) السلاطۃ اس کے معنی غلبہ حاصل کرنے کے ہیں اور سلطتہ فتسلط کے معنی ہیں میں نے اسے مقہود کیا تو وہ مقہود ہوگیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردتیاوَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے ۔ اور اسی سے بادشاہ کو سلطان ، ، کہا جاتا ہے ۔ اور سلطان کا لفظ تسلط اور غلبہ کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار کو دوست نہ بنائو قول باری ہے یایھا الذین امنوالاتتخذوا الکافرین اولیاء من دون المومنین۔ اے ایمان والو ! مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق نہ بنائو) کیونکہ ولی وہ شخص ہوتا ہے جو اپنے رفیق کی مدد کر کے اور معاملات میں اس کا ہاتھ بٹا کر اس کی سرپرستی کرتا ہے۔ مومن اس لحاظ سے اللہ کا ولی ہوتا ہے کہ وہ اس کی اخلاص نیت کے ساتھ اطاعت کر کے اپنا رشتہ اس کے ساتھ جوڑتا ہے اور اللہ اہل ایمان کا اس لحاظ سے ولی ہوتا ہے کہ ان کی اطاعت پر جزا دے کر ان کی سرپرستی کرتا ہے۔ آیت کافروں سے مدد لینے ان کی معونت طلب کرنے ان کی طرف جھکائو ظاہر کرنے اور ان پر بھروسہ کرنے کی نہی کی مقتضی ہے۔ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ کافر کو کسی بھی لحاظ سے مسلمانوں کی سرپرستی کرنے کا استحقاق نہیں ہوتا۔ خواہ وہ مسلمان اس کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ ہو یا بیٹے کے سوا کوئی اور کیوں نہ ہو۔ اس میں یہ دلالت بھی ہے کہ ایسے معاملات میں ذمیوں کی معونت حاصل کرنا جائز نہیں ہے جن کے ساتھ مسلمانوں کے امور میں تصرف کرنے اور ان پر حکومت کرنے کا تعلق ہو۔ اس کی نظیر یہ قول باری ہے یایھا الذین امنوالاتتحذوابطانۃ من دونکم۔ اے ایمان لانے والو ! اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا راز دار نہ بنائو) ہمارے اصحاب نے خرید و فروخت کے لئے کسی ذمی کو اپنا وکیل بنانے نیز مضاربت کے لئے اسے اپنا مال حوالے کرنے کو مکروہ سمجھا ہے یہ آیت ہمارے اصحاب کے قول کی صحت پر دلالت کرتی ہے۔ قول باری ہے واحلصوا دینھم للہ، اور انہوں نے اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کردیا یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ دین کا ہر وہ کام جو ثواب کی خاطر کیا جائے اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ خالص اللہ کی رضا کی خاطر کیا جائے ریاکاری دنیاوی منفعت اور معصیت کے شائبہ سے پاک ہو۔ اس میں یہ دلالت بھی ہے کہ ہر وہ کام جو صرف ثواب کی خاطر کیا جاتا ہے مثلاً نماز اذان اور حج وغیرہ اس پر کسی قسم کا دنیاوی معاوضہ لینے کا کوئی جو از نہیں ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٤٤) خواہ منافق ہوں جیسے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھ اور خواہ دوسرے یہودی ہوں کیا تم ان منافقین سے دوستی کرکے یہ چاہتے ہو کہ اپنے اوپر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صریح حجت اور قتل کی معقول وجہ قائم کرلو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤٤ (یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَتَّخِذُوا الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ط) یہ مضمون پہلے آیت ١٣٩ میں بھی آچکا ہے۔ یہ بھی نفاق کی ایک علامت ہے کہ اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کے ساتھ دوستیوں کی پینگیں بڑھائی جائیں ‘ ان کو اپنا حمایتی ‘ مددگار اور راز دار بنایا جائے۔ (اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا ) اس طرح تم لوگ خود ہی اپنے خلاف ایک حجت فراہم کر رہے ہو۔ جب اللہ تعالیٰ آخرت میں تمہارا محاسبہ کرے گا ‘ تب اس سوال کا کیا جواب دو گے کہ تمہاری دوستیاں کافروں کے ساتھ کیوں تھیں ؟ اس طرح تمہارا یہ فعل تمہارے اپنے خلاف حجت قاطع بن جائے گا۔ اب جو آیت آرہی ہے وہ ایک اعتبار سے منافقین کے حق میں قرآن حکیم کی سخت ترین آیت ہے۔ اگرچہ بعض دوسرے اعتبارات سے ‘ بلکہ ایک خاص لطیف پہلو سے ایک آیت اس سے بھی سخت تر ہے جو سورة التوبہ میں آئے گی۔ در اصل طویل سورتوں میں سے سورة النساء اور سورة التوبہ دو ایسی سورتیں ہیں جن میں نفاق کا مضمون بہت زیادہ تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(144 ۔ 147) ۔ اوپر ذکر تھا کہ منافق لوگ یہود سے میل جول رکھتے تھے ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو منع فرمایا کہ وہ منافقوں کی سی عادت اختیار نہ کریں تفسیر خازن وغیرہ میں ان آیتوں کی شان نزول جو بیان کی گئی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ بعض انصار اور یہود میں ہجرت سے پہلے کی دوستی اور دودھ پلانے کی رشتہ داری تھی ان انصارے اس تعلق کے باقی رکھنے کا مسئلہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا ٣ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائی اور فرمایا کہ دین کے مخالف لوگوں سے میل جول رکھنا منافقوں کی عادت ہے جن کا ٹھکانہ جہنم کا ساتواں طبقہ ہے جس میں اور طبقوں سے زیادہ عذاب ہے کیونکہ ان لوگوں نے دنیا میں دلی کفر کے سوا ظاہری اسلام جتلا کر ایک طرح کی دغا بازی اللہ اور اللہ کے رسول سے کی تھی جس کے سبب سے ان کی سزا میں قیامت کے دن سختی ہوگی اور یہ بھی فرمایا کہ جو شخص منافقوں کی سی عادتیں اختیار کرتا ہے وہ اللہ کی خفگی اور اس کے عذاب کا ایک سبب مول لیتا ہے جس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہیے جنت کے ساتوں طبقوں کے درجات اور دوزخ کے ساتویں طبقوں کو درکات کہتے ہیں۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابو موسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اچھے رفیق کی مثال مشک پاس رکھنے والے شخص کی ہے کہ کبھی نہ کبھی اس سے کچھ فائدہ ضرور پہنچے گا زیادہ نہیں خوشبو ہی کا فائدہ سہی اور برے رفیق کی مثال کھال نوچنے والے شخص کی سی ہے کہ کبھی نہ کبھی اس سے نقصان ضرور پہنچے گا۔ زیادہ نہیں تو کبھی کوئی آگ کا پتنگا اڑ کر آن پڑے گا۔ جس سے کپڑے جل جائیں گے ١۔ حاصل یہ ہے کہ نیک صحبت سے نیک اثر پڑنے کی امید ہے اور بری صحبت سے برا اثر پڑنے کا خوف ان آیتوں میں مخالف دین لوگوں سے میل جول رکھنے کی جو ممانعت ہے یہ حدیث اس کی تفسیر ہے۔ پھر فرمایا کہ دنیا میں تو یہ منافق لوگ یہود کی دوستی کے بھروسے پر ہیں لیکن عقبیٰ میں دوزخ کے عذاب سے بچانے کی مدد ان کو کسی سے نہ پہنچے گی یہ اس لئے فرمایا کہ کلمہ گو گناہ گاروں کو اپنے دوستوں سے شفاعت کی مدد ملے گی جس کا ذکر شفاعت کی صحیح ٢ حدیثوں میں ہے جن منافق لوگوں کی اوپر مذمت تھی ان کی نجات کے لئے بطور استثنا کے یہ چار باتیں فرمائیں ایک تو یہ کہ ان لوگوں نے اب تک جو دو ولی کی باتیں کی ہیں ان پر یہ نادم ہوں عبد اللہ مغفل (رض) سے مستدرک حاکم میں روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پچھلے گناہوں پر انسان کا نادم ہونا یہی توبہ ہے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ٣۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس مذامت کے بعد آئندہ برے کاموں سے بچنے اور نیک کاموں میں مشغول ہونے کی کوشش کی جائے تاکہ اس مذامت کی ظاہر میں صداقت ہوجائے اور نیکیوں سے پچھلی بدیوں کا کفارہ ہوجائے۔ معتبر سند سے امام احمد اور ترمذی میں ابوذر (رض) اور معاذ بن جبل (رض) سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا انسان سے کوئی برا کام ہوجائے تو اس کے بعد نیک کام ضرور کرنا چاہیے۔ تاکہ نیکی سے بدی کا کفارہ ہوجائے ٤۔ تیسری بات یہ کہ اللہ کا سہارا مضبوط پکڑو جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اپنی کتاب میں طاعت کے بجا لانے اور گناہ سے بچنے کے احکام جو نازل فرمائے ہیں دوزخی کو چھوڑ کر ان احکام کی پابندی مضبوطی سے کی جائے۔ معتبر سند سے صحیح ابن حبان میں ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پچھلی امتیں اللہ کے رسولوں سے اختلاف کرنے کے سبب سے ہلاکت میں پڑگئیں ١ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے رسول جو احکام شرعی کی طرف سے لاتے ہیں جب تک انسان مضبوطی سے ان احکام کی پابندی نہ کرے تو وہ ہلاکت میں پڑجائے گا۔ چوتھی بات یہ کہ دین یہ کہ دین کا جو کام کیا جائے وہ خالص اللہ کے حکم کی تعمیل میں عقبیٰ کے اجر کی نیت سے ہو دنیا کے دکھاوے کا اس میں کچھ دخل نہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ دنیا کے دکھاوے کی شراکت کا کوئی عمل اللہ کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہے نسائی اور ابو داؤد میں معتبر سند سے ابو امامہ (رض) کی حدیث ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو کام خالص اللہ کے واسطے نہ ہو وہ اللہ کی بار گاہ میں مقبول نہیں ہوتا ٢۔ اب آگے فرمایا کہ جن لوگوں میں یہ چار باتیں ہیں ان کی گنتی ان کامل ایمان داروں میں ہے جن کے لئے اللہ تعالیٰ نے عقبیٰ میں بڑے بڑے اجر رکھے ہیں پھر فرمایا اللہ تعالیٰ نے انسان کو اور اس کی سب ضرورت کی چیزوں کو پیدا کیا اس کی شکر گزاری میں اگر انسان نے اتنا کیا کہ اللہ کو برحق معبود جانا اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کیا تو اللہ کو کچھ ضرور نہیں کہ پھر بھی ایسے لوگوں کے عقبیٰ کے عذاب میں پکڑے صحیحین کی معاذ بن جبل (رض) کی حدیث اوپر گزر چکی ہے ٣۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں اگر اللہ کا یہ حق بندوں سے ادا ہوگیا تو اللہ نے اپنے بندوں کا یہ حق اپنے ذمہ لیا ہے کہ وہ ان کو عقبیٰ کے عذاب سے بچائے ٤۔ یہ حدیث آیت کے اس ٹکڑے کی گویا تفسیر ہے اللہ تعالیٰ کی قدردانی یہ ہے کہ اس نے ایک نیکی کا ثواب دس سے لے کر سات سو تک اور اس سے بھی زیادہ ٹھہرایا ہے جیسی جس کی نیت ویسا ہی اس کا ثواب چناچہ اس کا ذکر صحیح بخاری وغیرہ ٥ میں حضرت عبد اللہ بن عباس (رض) کی روایت سے آیا ہے ” اللہ سب جانتا ہے “ کا یہ مطلب یہ ہے کہ اس کو دل کے ارادہ اور نیت کا حال معلوم ہے اسی واسطے اس نے دل کے ارادہ اور نیت کے موافق ثواب کے درجے ٹھہرائے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:144) سلطانا۔ سلطان ۔ زور۔ قوت۔ حجت۔ دلیل۔ اختیار۔ برہان۔ سند۔ حکومت۔ سلطان کے معنی حجت وبرہان کے ہیں۔ اسی معنی میں ارشاد الٰہی ہے۔ لا تنفذون الا بسلطان (55:33) نہیں نکل سکتے تم بدوں سند کے۔ کبھی اس سے مراد معجزہ لیا جاتا ہے۔ جیسے اذا رسلنہ الی فرعون بسلطن مبین (51:38) اور جب بھیجا ہم نے اس کو فرعون کے پاس کھلی سند دیکر۔ (یہاں مراد معجزہ بھی لیا جاسکتا ہے۔ اور کھلی دلیل بھی) ۔ یہاں واضح دلیل مراد ہے۔ یعنی کفار کے ساتھ اس قسم کے قریبی تعلقات اور پختہ مراسم منافقت کی کھلی دلیل ہیں۔ اس کے بعد اگر تم پر اللہ تعالیٰ کی گرفت آئے تو تم کو گلہ شکوہ کیسا ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 یعنی اس کے حکم کی خلاف ورزی کرکے عذاب الہی کے لیے ایسی واضح اور کھلی دلیل اپنے اوپر قائم کرنا چاہتے ہو کہ اس کے بعد مستحق عذاب ہونے میں کسی قسم کا شک وشبہ نہ رہے ان آیات کی شان نزول میں لکھا ہے کہ بعض انصار اور یہود میں ہجرت سے پہلے دوستی اررضاعی قرابت مندی تھی ان انصار (رض) نے اس تعلق کے باقی رکھنے کا مسئلہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (خازن

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 144-145 لغات القرآن : اتریدون، کیا تم چاہتے ہو ؟ ۔ سلطان مبین، کھلا ہوا ثبوت۔ الدرک الاسفل، سب سے نیچے درجہ تشریح : منافق کافر سے زیادہ خطرناک ہے۔ کافر اپنے عقیدہ سے مخلص ہے اگرچہ اس کا عقیدہ و عمل غلط ہے وہ اسلام کا دشمن ضرور ہے مگر کھلم کھلا۔ اس کے وار سے بچنا آسان ہے۔ مگر یہ منافق آستین کا سانپ ہے۔ یہ دوستی کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کی صفوں میں رہتا ہے۔ یہ زیادہ خطرناک ہے۔ اسی لئے فرمایا ہے کہ منافقین دوزخ کے بدترین حصہ میں رکھے جائیں گے۔ اسفل، کے معنی سب سے نیچے ہی کے نہیں ہیں بلکہ سب سے ذلیل جگہ کے بھی ہیں۔ سب سے نیچے طبقہ میں گرمی اور جلن سب سے زیادہ ہوگی اور وہاں ذلت اور رسوائی بھی سب سے زیادہ ہوگی۔ جو شخص بھی اقرار ایمان کے باوجود مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بنائے گا۔ وہ منافق سے قریب سے قریب تر ہوتا جائے گا۔ ہوسکتا ہے وہ شروع ہی سے منافق ہو۔ ہوسکتا ہے وہ آگے چل کر منافق بن جائے۔ اور جو شخص بھی مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا جگری اور گہرا دوست بنائے گا وہ اپنے خلاف اللہ تعالیٰ کو اپنے جہنمی ہونے کا واضح ثبوت مہیا کرے گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

8۔ خواہ منافق ہوں خواہ مجاہر ہوں۔ 9۔ حجت صریح یہی کہ ہم نے جب منع کردیا تھا تو پھر کیوں ایسا کیا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے کفر اور منافقین کے گھناؤنے کردار کی وجہ سے قرآن مجید مسلمانوں کو بار بار حکم دیتا ہے کہ ان کے ساتھ قلبی دوستی سے اجتناب کیا جائے کیونکہ یہ غیرت ایمانی اور ملّی مفاد کے خلاف ہے۔ کفار اور منافقین کے ساتھ معاشرتی، سیاسی اور کاروباری تعلقات رکھے جاسکتے ہیں لیکن انہیں اپنا ہمدرد اور خیر خواہ سمجھنا مسلمانوں کا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا کیونکہ یہ ملت اسلامیہ کے نقصان کے خواہاں، اللہ اور اس کے رسول کے دشمن ہیں جس کا مشاہدہ میدان احد سے لے کر ہر دور میں کیا گیا ہے۔ 2003 ء میں جب امریکہ نے عراق پر حملہ کا فیصلہ کیا تو ابتداء میں روس سمیت کئی ملکوں نے مخالفت کی لیکن جونہی امریکہ نے انہیں مفادات کا لالچ دیا تو روس عراق کا پرانا حلیف ہونے کے باوجود امریکہ کے ساتھ کھڑا ہوا۔ اس طرح پوری دنیا کا کفر مسلمانوں کے خلاف متحد ہوگیا۔ جب مسلمان کسی نکتہ پر اکٹھا ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو کفار مسلمانوں کو تنگ نظری کا طعنہ دیتے ہیں حالانکہ ان کی اپنی حالت یہ ہے کہ دوسری جنگ عظیم 1939 میں برطانیہ نے اپنے کئی شہریوں کو اس لیے حراست میں رکھا تھا کہ ان کے تعلقات جرمن قوم کے ساتھ پائے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ متحدہ ہندوستان کے وائسرائے لارڈ مونٹ بیٹن کا والد جو برطانوی بحری فوج کا اعلیٰ افسر تھا اسے بھی زیر حراست رکھا گیا کیونکہ وہ جاپان نژ اد تھا۔ حتی کہ جرمنوں کے ساتھ اس جنگ میں امریکہ نے اپنے ملک میں بعض لوگوں کے ساتھ بھی یہی رویّہ اختیار کیا جب کہ اسلام کفار کے ساتھ دلی دوستی اور کفار کو مسلمانوں سے مقدم سمجھنے کے سوا ان کے ساتھ سیاسی معاشرتی اور کاروباری تعلقات رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ مسائل ١۔ کفار کو دوست بناکر ایمانداروں کو اپنے خلاف حجّت قائم نہیں کرنی چاہیے۔ ٢۔ منافق جہنم کے نچلے طبقہ میں ہوں گے اور کوئی ان کی مدد نہیں کرسکے گا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ١٤٤ تا ١٤٧۔ یہ دوبارہ اہل ایمان کو پکار اور دعوت ہے اور یہاں پھر اس صفت اور لقب سے پکارا گیا جو انکو انہیں اس وقت کے ماحول سے ممیز کرتی ہے اور جس کی وجہ سے ان کا منہاج صاف ‘ ان کا طرز زندگی اور ان کا طرز متمیز ہوتا ہے اور یہی وہ صفت ہے جس کی وجہ سے وہ اللہ کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور ہدایات الہیہ پر عمل کرتے ہیں ۔ اس صفت اور لقب سے ان کو اس لئے پکارا جاتا ہے کہ منافقین کی راہ اختیار نہ کریں ۔ اور وہ اس بات سے ڈریں کہ وہ اہل ایمان کو چھوڑ کر اہل کفر کو دوست بنائیں ۔ یہ پکار اس لئے دی گئی کہ اس وقت اسلامی معاشرے کو اس کی اشد ضرورت تھی کیونکہ ابھی تک اہل ایمان اور اہل کفر مثلا مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان مدینہ میں سماجی تعلقات موجود تھے اور بعض مسلمانوں اور کفار اہل قریش کے درمیان بھی بدستور تعلقات موجود تھے اگرچہ یہ تعلقات محض دینی طور پر ہوں ۔ ہم نے بعض مسلمانوں کا اس لئے کہا ہے کہ بعض نے تو از خود اہل جاہلیت کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات توڑ لئے تھے یہاں تک کہ انہوں نے آباء اور ابناء کو بھی چھوڑ دیا تھا اور صرف اسلامی برداری تک اپنے آپ کو محدود کرلیا تھا جس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کو تعلیم دی تھی ۔ اور یہی وہ بعض لوگ تھے جن کو متنبہ کرنے کی ضرورت تھی کہ یہ تعلق رکھنا گویا نفاق کی راہ ہے اور یہ تنبیہ اس وقت کی گئی جب یہ کہ دیا گیا کہ یہ ہے تصویر ان منافقین کی ۔ اور ان کو یہ بھی بتادیا گیا کہ اگر تم باز نہ آئے تو اللہ کے غصب اور انجام بد سے نہ بچ سکو گے ۔ (آیت) ” اتریدون ان تجعلوا للہ علیکم سلطنا مبینا (٤ : ١٤٤) ( کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجت دے دو ) اہل ایمان کا دل تو اللہ کی پکڑ کی دھمکی اور اس کے عذاب کے اشارے ہی سے کانپ اٹھتا ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ یہاں بشکل استفہام ان کو متنبہ کیا گیا کہ اللہ کے عذاب سے ڈرو اور اپنے خلاف حجت قائم نہ کرو ۔ ایک بار پھر جھنجوڑا جاتا ہے ۔ لیکن بالواسطہ یعنی منافقین کے انجام بد کو دوبارہ دہرا کر کہ قیامت کے دن حال یہ ہوگا اور کس قدر خوفناک ہوگا ۔ (آیت) ” ان المنفقین فی الدرک الاسفل من النار ولن تجدلھم نصیرا “۔ (٤ : ١٤٥) ( یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو ان کا مددگار نہ پاؤ گے) درک اسفل یعنی سب سے نچلا طبقہ ‘ یہ اس صورت حال سے زیادہ مناسب ہے کہ دنیا میں وہز میں کی آلائشوں کے ساتھ چمٹے ہوئے تھے ‘ اور سب سے نیچے تھے ‘ اس طرح وہ قیامت میں بھی سب سے نیچے ہوں گے ۔ دنیا میں بھی انہوں نے رفعت اور بلندی درجات حاصل نہ کی لہذا وہاں بھی ان کا یہی حال ہوگا یہ لوگ طمع ‘ لالچ ‘ ضعف اور حیرانی کا شکار تھے ‘ اور اسی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ رکھ رکھاؤ اور اہل کفر کے ساتھ دوستی کرتے تھے اور انہوں نے یہ توہین آمیز موقف اختیار کیا ہوا تھا کہ نہ ادھر کے تھے اور نہ ادھر کے ۔ دنیا میں اس انجام بد کے لئے انہوں نے کام کیا ۔ آج وہ سب سے نچلے درجے میں ہیں ۔ اب یہاں ان کا کوئی یارومدگار نہیں ہے ۔ اہل کفر کے ساتھ دوستی وہ مدد اور نصرت کی خاطر ہی تو کرتے تھے لیکن اب یہ لوگ کہاں مدد کرسکتے ہیں ۔ ہاں توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے اور ان کے لئے موقع ہے کہ وہ باز آکر اخروی نجات حاصل کرلیں۔ (آیت) ” الا الذین تابوا واصلحو واعتصموا باللہ واخلصوا دینھم للہ فاولئک مع المومنین وسوف یوت اللہ المومنین اجرا عظیما “ (٤ : ١٤٦) البتہ جو ان میں سے تائب ہوجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور اللہ کا دامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لئے خالص کردیں ‘ ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ عنقریب اہل ایمان کو اجر دیگا) دوسری جگہوں پر صرف اس قدر کہا گیا تھا ۔ (آیت) ” الا الذین تابوا واصلحو (٤ : ١٤٦) اس لئے کہ توبہ اور اصلاح پذیری کے ضمن میں یہ ضروری ہوتا ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑا جائے اور دین اللہ کے لئے خالص ہوجائے ۔ لیکن یہاں توبہ ‘ اصلاح اور اعتصام باللہ اور اخلاص دین کا بھی ذکر کیا گیا ۔ اس لئے کہ یہاں بات ان لوگوں سے ہو رہی تھی جو مذبذب تھے ‘ منافق تھے ‘ اور اللہ کے سوا اور لوگوں کے دوست تھے ۔ چناچہ یہاں توبہ واصلاح کے ساتھ خلوص دین اور اعتصام باللہ کا ذکر کیا گیا تاکہ یہ لوگ ڈانو ڈول ایمان اور بودے کردار سے باز آجائیں ۔ اس طرح اعتصام باللہ سے انہیں قوت ملے گی اور اخلاص سے انہیں نیت کی صفائی ملے گی ۔ وہ دنیا میں بداعمالی کی گراٹوں اور آخرت میں آگ کے درجہ اسفل سے نجات پالیں گے ۔ دنیا میں توبہ کرنے والے لوگ مسلمانوں اور صرف اللہ کی درگاہ سے عزت طلب کرنے والوں کے ساتھ شامل ہوجائیں گے اور وہ دنیا اور زمین کی آلودگیوں سے ایمان کی قوت کے ذریعے پاک وصاف ہوکر بلند ہوں گے ۔ اور ایسے لوگوں کی جزاء کیا ہے ۔ (آیت) ” وسوف یوت اللہ المومنین اجرا عظیما “ (٤ : ١٤٦) (اللہ عنقریب اہل ایمان کو اجر عظیم عطا کرے گا) ان جھلکیوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ اسلامی معاشرے میں منافقین کی حقیقت کو واضح فرماتے ہیں ۔ انکی شان گرتی ہے ۔ اہل ایمان کو نفاق کی لغزشوں سے آگاہ کیا جاتا ہے ۔ انجام بد سے ڈرایا جاتا ہے ۔ منافقین کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رکھا جاتا ہے تاکہ ان میں سے جس کے اندر شمہ برابر خیر بھی ہو وہ اسلامی صفوں میں شامل ہوجائے ‘ نہایت سچائی اور نہایت اخلاص کے ساتھ ۔ اور سب سے آخر میں ایک عجیب جھلکی دکھائی جاتی ہے جس کا اثر نہایت ہی گہرا ہے ۔ خوفناک عذاب کے ذکر کے بعد اور عظیم اجر کے اعلان کے بعد تاکہ لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ بندوں کے عذاب سے غنی ہے ۔ اللہ کو ان کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ انہیں عذاب دے ۔ اور نہ اس تعذیب کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اپنی قوت کا اظہار چاہتا ہے۔ نہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے اندر ایسی کوئی خواہش ہے کہ وہ لوگوں کو تکلیف دے جیسا کہ بت پرستانہ تصورات میں ایسی باتیں پائی جاتی ہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ ہے کہ ایمان اور شکر خداوندی کے ذریعے لوگوں کی اصلاح ہو ۔ ایمان اور شکر ان کو محبوب ہو اور اللہ وہ ذات ہے جو نیک اعمال کا بدلہ دیتا ہے اور تمام خفیہ باتوں سے واقف ہے ۔ (آیت) ” ما یفعل اللہ بعذابکم ان شکرتم وامنتم وکان اللہ شاکرا علیما (٤ : ١٤٧) (آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزا دے ۔ اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو اور ایمان کی روشن پر چلو ۔ اللہ بڑا قدر دان ہے اور سب کے حال سے واقف ہے) اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو تو اللہ کو کیا پڑی ہے کہ وہ تمہیں عذاب دے ۔ اللہ تو کفر اور نافرمانی پر سزا دیتا ہے ۔ یہ ایسی تہدید ہے جو لوگوں کو ایمان اور شکر پر آمادہ کرسکتی ہے ۔ اللہ کو نہ انتقام کا کوئی داعیہ ہے اور نہ تعذیب میں کوئی مزہ آتا ہے ۔ نہ اللہ اس طریق کا کے مطابق اپنی قوت اور سلطنت کا اظہار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان باتوں سے بہت ہی بلند ہے ‘ اگر تم ایمان لاؤ اور شکر کرو تو یہ اللہ کے ہاں موجب مغفرت اور رضا مندی ہے ۔ اللہ کی جانب سے بندوں کا شکریہ ۔ یہ ایک ایسی بات ہے جو دل پر گہرا اثر کرتی ہے ۔ یہ معلوم ہے کہ اللہ کی جانب سے شکر کے معنی یہ ہیں کہ اللہ راضی ہے ۔ اور رضا مندی کا لازمی نتیجہ ثواب دارین ہے ۔ لیکن یہ تعبیر کہ اللہ شکر کرتا ہے نہایت ہی گہری اور اشاراتی تعبیر ہے ۔ اگر وہ ذات جو خالق ہے ‘ برتر ہے ‘ دونوں جہانوں سے بےنیاز ہے ‘ بندوں کا شکر ادا کرتا ہے اس بات پر کہ یہ بندے نیک ہوگئے ہیں ‘ اچھے مومن ہیں شکر بجا لانے والے ہیں اور اللہ کے احسانات کو ماننے والے ہیں ۔ حالانکہ وہ غنی بادشاہ ہے اور اس کو بندوں کے شکر ‘ احسان مندی اور صلاح کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اگر اس جہان کا پیدا کرنے والا ‘ وجود میں لانے والا ‘ برتر اور غنی بادشاہ اگر شکر بجا لاتا ہے تو پھر بندوں کا کیا فرض بنتا ہے جو مخلوق بھی ہیں اور ان پر رات دن انعامات کی بارش ہو رہی ہے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے بندوں کو اپنے خالق کا وفادار ہونا چاہئے ۔۔۔۔۔ بیشک یہ ایک نہایت ہی شرمسار کنندہ جھلکی ہے اور بندہ مومن ایک گہرا تاثر لے کر شکر نعمت کے لئے اٹھتا ہے ۔ یہ ایک روشن اشارہ ہے جو نشانات منزل متعین کرتا ہے ۔ وہ منزل جو اللہ تک جاتی ہے ‘ جو بخشندہ ‘ منعم ‘ شاکر اور علیم ہے ۔ یہ ہے قرآن کریم کے تیس پاروں میں سے ایک پارہ ۔ اور یہ اپنے دونوں بازوؤں کے نیچے اصلاح نظر ثانی ‘ درستی اور پاکیزگی پر مشتمل ہدایات کا ایک عظیم ذخیرہ لئے ہوئے ہے ۔ اس میں عالم نفس کی اصلاح ‘ اسلامی معاشرے کی اصلاح ‘ نظام حیات کی اصلاح اور دوسری تعمیری ہدایات ہیں جو اس کے طول و عرف میں پیوستہ ہیں ۔ ان ہدایات کے اندر انسان کو بالکل ایک نیا جنم دیا گیا ہے اور ایک ایسا انسان وجود میں لایا گیا ہے کہ جس کی مثال انسانیت نے نہ پہلے کبھی دیکھی تھی اور نہ بعد میں دیکھی ۔ حقیقت پسند مثالی انسان نظافت اور تطہیر میں مثالی ۔ ایک ایسا انسان جو زندگی کے مختلف میدانوں میں کام کرتا ہے اور یہ ایک ایسا انسان ہے جسے اسلامی زندگی نے جاہلیت کے گہرے گڑھوں سے نکال کر نہایت ہی عمودی بلندی پر سربلند کیا اور اعلی ترین بلندیوں پر پہنچا دیا ۔ نہایت ہی آسانی کے ساتھ ‘ نہایت ہی نرمی کے ساتھ اور نہایت ہی ہمدردی کے ساتھ ۔ (اسلام آباد ‘ ١٧ دسمبر ١٩٨٩ ء رات ٥٥ :، ١)

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر مسلمانوں کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ ) (مومنین کو چھوڑ کر کافروں کو دوست نہ بناؤ) کافر منافق ہوں یا دوسرے عام کافر ہوں ان کو دوست بنانا اور اہل ایمان کو چھوڑ دینا منافقوں کا طریقہ ہے تم اسے اختیار نہ کرو۔ (اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ عَلَیْکُمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا) (کیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کی حجت صریحہ قائم کرلو) یعنی اللہ تعالیٰ نے جس چیز سے منع فرمایا ہے اس چیز کو اختیار کر کے اپنے کو مجرم اور مستحق عذاب بنانے کے لیے اپنے عمل سے اپنے اوپر کیوں حجت قائم کرتے ہو۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

94 یہ خطاب بھی انہی لوگوں سے ہے جو منافقانہ طور پر مومن تھے اور کافروں سے دوستی رکھتے تھے یا یہ خطاب عام ہے مومنوں اور منافقوں سب کو شامل ہے قال ابن عطیۃ خطابہ للمؤمنین بدخل فیہ بحکم الظاھر المنافقون المظھرون للالیان (بحر ج 3 ص 379) اِنَّ الْمُنَافِقِیْنَ فِیْ الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ یہ منافقین کے لیے تخویف اخروی ہے۔ اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَاَصْلَحُوْ یہ حکم مذکور سے استثنا ہے یعنی جن منافقوں نے نفاق سے تو بہ کرلی اور دل کے اخلاص سے ایمان قبول کرلیا ان کو مذکورہ بالا عذاب نہیں ہوگا بلکہ جنت میں مخلص مومنوں کے ساتھ ہوں گے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجر عظیم پائیں گے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اے ایمان والو ! تم مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بنائو خواہ وہ کھلے کافر ہوں یا منافق ہوں کیا تم ان سے دوستی کر کے یہ چاہتے ہو کہ اپنے مجرم ہونے پر اللہ تعالیٰ کی جانب سے صریح اور کھلی حجت قائم کرلو اور اپنے خلاف کھلا الزام واقع کرلو۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جس طرح منافقین نے کفار کو دوست بنا رکھاے اور ان سے خفیہ ساز باز کرتے رہتے ہیں۔ اے مسلمانو ! تم ایسا نہ کرنا کہ کفار کو اپنا رفیق اور ہمراز بنا لو کہ تمہارا مقصد یہ ہے کہ تم اپنے سر پر الزام رکھ لو اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پرک ھلی حجت قائم ہوجائے جس کا جواب تم میں سے بن نہ آئے کفار سے موالاۃ کے سلسلے میں ہم تفصیلاًاوپر بیان کرچکے ہیں اور تیسرے پارے میں ہم نے موالاۃ اور مداراۃ کا فرق بھی بیان کردیا تھا اور وہاں صراحتہ اس بات کا ذکر کردیا تھا کہ کفار کے مختلف حالات ہیں اور ان ہی حالات کی بنا پر مختلف احکام ہیں۔ بہرحال ! کفار اور منافقین سے ان کے کفر و نفاق کی وجہ سے دوستی کرنا اور موالات رکھنا تو ہر حالت میں حرام ہے لیکن اشتراک یا ظاہری تعلقات اور کسی خاص مصلحت و ضرورت کی وجہ سے ان کی مدارت یا ان سے تعاون اور ان سے مصالحت اور معاہدہ یہ سب چیزیں جائز ہیں اسی طرح جب مسلمان حاکم ہوں اور کفار ذمی ہوں تو اور احکام ہیں اور مسلمان محکوم ہوں تو دوسرے احکام ہیں پھر حربی کافروں کا اور حکم ہے اور معاہد کا اور حکم ہے یہ سب تفصیل ہم عرض کرچکے ہیں۔ یہاں چونکہ منافقین کی مذمت ہے اور منافقین کو کافروں کی دوستی سے منع کیا گیا ہے اس لئے اسی قسم کی دوسی اور بطانت سے مسلمانوں منع کیا گیا ہے اور مدینہ کے حالات واقعات کے پیش نظر یہ نہایت ضروری تھا کہ خالص مسلمان کا فروں کے ساتھ وہ تعلقات قائم نہ کیں جو منافقوں نے قائم رکھے تھے بلکہ خود منافقوں سے بھی ہوشیار ہیں۔ سلطان کے معنی غلبہ، حجت، دلیل، رعب، دبدبہ، وغیرہ کے آتے ہیں قرآن کریم میں اکثر مقامات پر حجت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے خدا کی طرف سے کسی بندے پر حجت اور دلیل کا قائم ہونا۔ اس کا مطلب وہی ہے جو ہم عرض کرچکے ہیں کہ ایسا کرنے سے اپنے مجرم ہونے اور مستوجب سزا ہونے پر خود ہی دلیل قائم کرلو گے اور جب خدا کی طرف سے تم پر حجت قائم ہوجائے گی تو پھر کوئی عذر قابل سماعت نہ ہوگا۔ آگے کی آیت میں منافقین کی سزا کا ذکر ہے۔ چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ (تسہیل)