Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 147

سورة النساء

مَا یَفۡعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمۡ اِنۡ شَکَرۡتُمۡ وَ اٰمَنۡتُمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیۡمًا ﴿۱۴۷﴾

What would Allah do with your punishment if you are grateful and believe? And ever is Allah Appreciative and Knowing.

اللہ تعالٰی تمہیں سزا دے کر کیا کرے گا؟ اگر تم شکر گزاری کرتے رہو اور با ایمان رہو ، اللہ تعالٰی بہت قدر کرنے والا اور پورا علم رکھنے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

مَّا يَفْعَلُ اللّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَامَنتُمْ ... Why should Allah punish you if you have thanked (Him) and have believed in Him. by correcting your actions and having faith in Allah and His Messenger. ... وَكَانَ اللّهُ شَاكِرًا عَلِيمًا And Allah is Ever All-Appreciative (of good), All-Knowing. Allah appreciates those who appreciate Him, and has knowledge of those whose hearts believe in Him, and He will give them perfect reward.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

147۔ 1 شکر گزاری کا مطلب ہے کہ اللہ کے حکم کے مطابق برائیوں سے اجتناب اور عمل صالح کا اہتمام کرنا۔ یہ گویا اللہ کی نعمتوں کا عملی شکر ہے اور ایمان سے مراد اللہ کی توحید و ربوبیت پر اور نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفٰی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان ہے۔ 147۔ 2 یعنی جو اس کا شکر کرے گا، وہ قدر کرے گا، جو دل سے ایمان لائے گا، وہ اس کو جان لے گا اور اس کے مطابق وہ بہترین جزا دے گا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٩٥] شکر کی تعریف اور اس کی ممانعت :۔ شکر کا معنیٰ اعتراف نعمت ہے اور اس کے تین مدارج ہیں (١) قلبی۔ یعنی انسان دل سے اللہ کے یا کسی کے حسانات کا اعتراف کرے۔ (٢) قولی۔ تحدیث نعمت کے طور پر زبان سے بھی اس کا اقرار کرے اور اللہ کے احسانات کا دوسروں کے سامنے تذکرہ کرے (٣) عملی۔ یعنی اس شکر کے اثرات اس کے اعضاء وجوارح سے بھی ظاہر ہوں۔ اور یہ تینوں درجات دراصل لازم و ملزوم ہیں۔ اور بالترتیب وجود میں آتے ہیں۔ انسان جب اللہ کے احسانات کا خیال کرتا ہے تو اس کا دل اللہ کی محبت اور وفاداری کے جذبات سے لبریز ہوجاتا ہے۔ پھر اسی وفور جذبات کا ہی یہ اثر ہوتا ہے کہ خود اکیلے بھی اور دوسروں کے سامنے بھی ان احسانات کا تذکرہ کرتا ہے اور اس سے دل میں خوشی محسوس ہوتی ہے پھر اسی محبت و اخلاص کا اس کی فکر پر یہ اثر ہوتا ہے کہ اللہ کے جتنے زیادہ مجھ پر احسانات ہیں اتنا ہی زیادہ مجھے اس کا مطیع و فرمانبردار اور عبادت گزار بننا چاہیے اور اس کی واضح مثال یہ واقعہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی آخری زندگی میں رات کو اتنا قیام فرماتے کہ آپ کے پاؤں متورم ہوجاتے۔ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا && یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اللہ نے تو آپ کے سب اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرما دیئے ہیں۔ پھر آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں ؟ && تو آپ نے جواب دیا کہ && تو کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں && یہ واقعہ بہت سی احادیث صحیحہ میں مذکور ہے اور اس کا ماحصل یہ ہے کہ سچے مومن پر اللہ کے جتنے احسانات اور فضل و اکرام ہوتا ہے اتنا ہی اس کے جذبات محبت، خلوص اور وفاداری جوش میں آتے ہیں اور وہ ہر طرح سے ان احسانات کے شکر کا اظہار کرنے لگتا ہے۔ [١٩٦] لفظ && شکر && کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کا مطلب قدر دانی یا قدر شناسی ہوتا ہے یعنی انسان اگر تھوڑا سا عمل یا شکر ادا کرے تو اللہ انسان کے عمل سے بہت بڑھ کر اس کا صلہ عطا فرماتا ہے اور چھوٹے موٹے گناہوں کو ویسے ہی معاف فرما دیتا ہے جبکہ انسان کا یہ حال ہے کہ وہ اکثر ناشکرا ہی واقع ہوا ہے اور کوئی شخص اس کی مرضی کے خلاف کام کرے تو اس سے محاسبہ میں سختی کرتا ہے۔ اللہ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ مہربان ہے جتنا ایک ماں اپنے بچہ پر مہربان ہوتی ہے لہذا اگر انسان شرک کر کے، یا پے در پے نافرمانیاں کر کے اپنے اللہ کو ناراض نہ کرلے تو اللہ کبھی کسی کو خواہ مخواہ سزا نہیں دیتا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

مَا يَفْعَلُ اللّٰهُ بِعَذَابِكُمْ…... مقصد یہ بتانا ہے کہ عذاب کا باعث تمہارا شکر نہ کرنا اور ایمان نہ لانا ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ کو کیا ضرورت ہے کہ تمہیں عذاب دے، سو اگر تم دل سے ایمان لے آؤ اور قول و فعل سے اللہ کی فرماں برداری کر کے اس کا شکر ادا کرو تو اللہ قدر دان ہے اور سب کچھ جانتا بھی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

مَا يَفْعَلُ اللہُ بِعَذَابِكُمْ اِنْ شَكَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ۝ ٠ۭ وَكَانَ اللہُ شَاكِرًا عَلِــيْمًا۝ ١٤٧ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ فعل الفِعْلُ : التأثير من جهة مؤثّر، وهو عامّ لما کان بإجادة أو غير إجادة، ولما کان بعلم أو غير علم، وقصد أو غير قصد، ولما کان من الإنسان والحیوان والجمادات، والعمل مثله، ( ف ع ل ) الفعل کے معنی کسی اثر انداز کی طرف سے اثر اندازی کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ تاثیر عمدگی کے ساتھ ہو یا بغیر عمدگی کے ہو اور علم سے ہو یا بغیر علم کے قصدا کی جائے یا بغیر قصد کے پھر وہ تاثیر انسان کی طرف سے ہو یا دو سے حیوانات اور جمادات کی طرف سے ہو یہی معنی لفظ عمل کے ہیں ۔ عذب والعَذَابُ : هو الإيجاع الشّديد، وقد عَذَّبَهُ تَعْذِيباً : أكثر حبسه في العَذَابِ. قال : لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] واختلف في أصله، فقال بعضهم : هو من قولهم : عَذَبَ الرّجلُ : إذا ترک المأكل والنّوم فهو عَاذِبٌ وعَذُوبٌ ، فَالتَّعْذِيبُ في الأصل هو حمل الإنسان أن يُعَذَّبَ ، أي : يجوع ويسهر، ( ع ذ ب ) العذاب سخت تکلیف دینا عذبہ تعذیبا اسے عرصہ دراز تک عذاب میں مبتلا رکھا ۔ قرآن میں ہے ۔ لَأُعَذِّبَنَّهُ عَذاباً شَدِيداً [ النمل/ 21] میں اسے سخت عذاب دوں گا ۔ لفظ عذاب کی اصل میں اختلاف پا یا جاتا ہے ۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ عذب ( ض ) الرجل کے محاورہ سے مشتق ہے یعنی اس نے ( پیاس کی شدت کی وجہ سے ) کھانا اور نیند چھوڑدی اور جو شخص اس طرح کھانا اور سونا چھوڑ دیتا ہے اسے عاذب وعذوب کہا جاتا ہے لہذا تعذیب کے اصل معنی ہیں کسی کو بھوکا اور بیدار رہنے پر اکسانا شكر الشُّكْرُ : تصوّر النّعمة وإظهارها، قيل : وهو مقلوب عن الکشر، أي : الکشف، ويضادّه الکفر، وهو : نسیان النّعمة وسترها۔ والشُّكْرُ ثلاثة أضرب : شُكْرُ القلب، وهو تصوّر النّعمة . وشُكْرُ اللّسان، وهو الثّناء علی المنعم . وشُكْرُ سائر الجوارح، وهو مکافأة النّعمة بقدر استحقاقه . وقوله تعالی: اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] ، ( ش ک ر ) الشکر کے معنی کسی نعمت کا تصور اور اس کے اظہار کے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ کشر سے مقلوب ہے جس کے معنی کشف یعنی کھولنا کے ہیں ۔ شکر کی ضد کفر ہے ۔ جس کے معنی نعمت کو بھلا دینے اور اسے چھپا رکھنے کے ہیں شکر تین قسم پر ہے شکر قلبی یعنی نعمت کا تصور کرنا شکر لسانی یعنی زبان سے منعم کی تعریف کرنا شکر بالجوارح یعنی بقدر استحقاق نعمت کی مکافات کرنا ۔ اور آیت کریمہ : اعْمَلُوا آلَ داوُدَ شُكْراً [ سبأ/ 13] اسے داود کی آل میرا شکر کرو ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، وذلک ضربان : أحدهما : إدراک ذات الشیء . والثاني : الحکم علی الشیء بوجود شيء هو موجود له، أو نفي شيء هو منفيّ عنه . فالأوّل : هو المتعدّي إلى مفعول واحد نحو : لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] . والثاني : المتعدّي إلى مفعولین، نحو قوله : فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِناتٍ [ الممتحنة/ 10] ، وقوله : يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ إلى قوله : لا عِلْمَ لَنا «3» فإشارة إلى أنّ عقولهم طاشت . والعِلْمُ من وجه ضربان : نظريّ وعمليّ. فالنّظريّ : ما إذا علم فقد کمل، نحو : العلم بموجودات العالَم . والعمليّ : ما لا يتمّ إلا بأن يعمل کالعلم بالعبادات . ومن وجه آخر ضربان : عقليّ وسمعيّ ، وأَعْلَمْتُهُ وعَلَّمْتُهُ في الأصل واحد، إلّا أنّ الإعلام اختصّ بما کان بإخبار سریع، والتَّعْلِيمُ اختصّ بما يكون بتکرير وتكثير حتی يحصل منه أثر في نفس المُتَعَلِّمِ. قال بعضهم : التَّعْلِيمُ : تنبيه النّفس لتصوّر المعاني، والتَّعَلُّمُ : تنبّه النّفس لتصوّر ذلك، وربّما استعمل في معنی الإِعْلَامِ إذا کان فيه تكرير، نحو : أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] ، ( ع ل م ) العلم کسی چیش کی حقیقت کا اور راک کرنا اور یہ قسم پر ہے اول یہ کہ کسی چیز کی ذات کا ادراک کرلینا دوم ایک چیز پر کسی صفت کے ساتھ حکم لگانا جو ( فی الواقع ) اس کے لئے ثابت ہو یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی کرنا جو ( فی الواقع ) اس سے منفی ہو ۔ پہلی صورت میں یہ لفظ متعدی بیک مفعول ہوتا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے : ۔ لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ۔ اور دوسری صورت میں دو مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِناتٍ [ الممتحنة/ 10] اگر تم کا معلوم ہو کہ مومن ہیں ۔ اور آیت يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَاسے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے ہوش و حواس قائم نہیں رہیں گے ۔ ایک دوسری حیثیت سے علم کی دوقسمیں ہیں ( 1) نظری اور ( 2 ) عملی ۔ نظری وہ ہے جو حاصل ہونے کے ساتھ ہی مکمل ہوجائے جیسے وہ عالم جس کا تعلق موجودات عالم سے ہے اور علم عمل وہ ہے جو عمل کے بغیر تکمیل نہ پائے جسیے عبادات کا علم ایک اور حیثیت سے بھی علم کی دو قسمیں ہیں ۔ ( 1) عقلی یعنی وہ علم جو صرف عقل سے حاصل ہو سکے ( 2 ) سمعی یعنی وہ علم جو محض عقل سے حاصل نہ ہو بلکہ بذریعہ نقل وسماعت کے حاصل کیا جائے دراصل اعلمتہ وعلمتہ کے ایک معنی ہیں مگر اعلام جلدی سے بتادینے کے ساتھ مختص ہے اور تعلیم کے معنی با ر بار کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں ۔ حتٰی کہ متعلم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہوجائے ۔ بعض نے کہا ہے کہ تعلیم کے معنی تصور کیلئے نفس کو متوجہ کرنا کے ہیں اور تعلم کے معنی ایسے تصور کی طرف متوجہ ہونا کے اور کبھی تعلیم کا لفظ اعلام کی جگہ آتا ہے جب کہ اس میں تاکید کے معنی مقصود ہوں جیسے فرمایا ۔ أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو ۔ اور حسب ذیل آیات میں تعلیم کا لفظ استعمال ہوا ہے جیسے فرمایا ۔ الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] خدا جو نہایت مہربان اس نے قرآن کی تعلیم فرمائی ۔ قلم کے ذریعہ ( لکھنا ) سکھایا ۔ الحمد لله پاره مکمل هوا

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٤٧) اور اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے کر کیا کریں گے اگر تم توحید خداوندی کے قائل ہوجاؤ اور ظاہری اور باطنی اعتبار سے ایمان لے آؤ وہ ذات تو معمولی سی نیکی کو قبول کرتی اور بہت زیادہ ثواب دیتی ہے وہ رب کریم شکر گزاروں اور ناشکری کرنے والے کو بخوبی جانتے ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٤٧ (مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ ) اللہ تعالیٰ معاذ اللہ کوئی ایذا پسند (sadist) ہستی نہیں ہے کہ اسے لوگوں کو دکھ پہنچا کر خوشی ہوتی ہو۔ اس طرح کے رویے تو perverted قسم کے انسانوں کے ہوتے ہیں ‘ جن کی شخصیتیں مسخ ہوچکی ہوتی ہیں ‘ جو دوسروں کو تکلیف میں دیکھتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں ‘ دوسروں کو تکلیف اور کو فت پہنچا کر انہیں راحت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اللہ تو ایسا نہیں ہے۔ اس لیے فرمایا کہ اللہ تمہیں عذاب دے کر تم سے کیا لے گا ؟ (اِنْ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ط) (وَکَان اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیْمًا ) جو بندہ اس کے لیے کام کرے ‘ محنت کرے ‘ اللہ تعالیٰ اس کی قدر فرماتا ہے۔ اور جو کوئی جو کچھ بھی کرتا ہے سب اس کے علم میں ہوتا ہے۔ انسان کا کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو اللہ کے ہاں unaccounted رہ جائے ‘ اور اسے اس کا اجر نہ مل سکے۔ اب اس سورة کے آخری حصے میں فلسفۂ دین کے بہت اہم بنیادی نکات کی کچھ تفصیل آئے گی۔ اس ضمن میں پہلی بات تو تمدنی اور معاشرتی معاملات ہی سے متعلق ہے۔ معاشرے کے اندر کسی بری بات کا چرچا کرنا بالفعل کوئی اچھی بات نہیں ہے ‘ لیکن اس میں ایک استثناء رکھا گیا ہے ‘ اور وہ ہے مظلوم کا معاملہ۔ اگر مظلوم کی زبان سے ظلم کے ردِّ عمل کے طور پر کچھ نازیبا کلمات ‘ جلے کٹے الفاظ بھی نکل جائیں تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف کردے گا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

175. Shukr denotes an acknowledgement of benefaction and a feeling of gratitude. This verse states if a person does not behave ungratefully towards God then there is no reason why God should punish him. The attitude of gratefulness to God consists of acknowledging His benefaction in one's heart, in confessing it in one's speech and by manifesting it in one's deeds. It is the sum-total of these which is termed shukr. This attitude requires: (1) that a person should ascribe the benefaction to its real source, letting no one share in either the gratitude or the acknowledgement of benevolence; (2) that his heart should be overflowing with love for, and loyalty to, the Benefactor, and that he should have no attachment to His opponents; (3) that he should obey the Benefactor and should not use His bounties contrary to His directives. 176.The word used here is shakir which we have translated as 'All-Appreciative'. In the context of the God-man relationship, when the word shukr is used in respect of God, it denotes 'appreciation of services'. When it is used in respect of man, it denotes his acknowledgement of God's benefaction and his sense of gratitude to Him. To say that God 'thanks' His creatures stresses that God is fully appreciative of the services which His servants have rendered and will recompense them liberally. This contrasts sharply with the attitude of human beings, who are generally slow and uncharitable in appreciating the services rendered to them, and quick and severe in censuring people for their omissions. As for God, He is lenient and prone to overlook man's omissions. On the contrary, He rewards man manifold for his good deeds.

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :175 شکر کے اصل معنی اعتراف نعمت یا احسان مندی کے ہیں ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ کے ساتھ احسان فراموشی اور نمک حرامی کا رویہ اختیار نہ کرو ، بلکہ صحیح طور پر اس کے احسان مند بن کر رہو ، تو کوئی وجہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ خواہ مخواہ تمہیں سزا دے ۔ ایک محسن کے مقابلہ میں صحیح احسان مندانہ رویہ یہی ہو سکتا ہے کہ آدمی دل سے اس کے احسان کا اعتراف کرے ، زبان سے اس کا اقرار کرے اور عمل سے احسان مندی کا ثبوت دے ۔ انہی تین چیزوں کے مجموعہ کا نام شکر ہے ۔ اور اس شکر کا اقتضاء یہ ہے کہ اولاً آدمی احسان کو اسی کی طرف منسوب کرے جس نے دراصل احسان کیا ہے ، کسی دوسرے کے احسان کے شکریہ اور نعمت کے اعتراف میں اس کا حصہ دار نہ بنائے ۔ ثانیاً آدمی کا دل اپنے محسن کے لیے محبت اور وفاداری کے جذبہ سے لبریز ہو اور اس کے مخالفوں سے محبت و اخلاص اور وفاداری کا ذرہ برابر تعلق بھی نہ رکھے ۔ ثالثًا وہ اپنے محسن کا مطیع و فرمانبردار ہو اور اس کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کے منشاء کے خلاف استعمال نہ کرے ۔ سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :176 اصل میں لفظ” شاکر“ استعمال ہوا ہے جس کا ترجمہ ہم نے ”قدردان“ کیا ہے ۔ شکر جب اللہ کی طرف سے بندے کی جانب ہو تو اس کے معنی”اعتراف خدمت“ یا قدر دانی کے ہوں گے ، اور جب بندے کی طرف سے اللہ کی جانب ہو تو اس کو اعتراف نعمت یا احسان مندی کے معنی میں لیا جائے گا ۔ اللہ کی طرف سے بندوں کا شکریہ ادا کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ناقدر شناس نہیں ہے ، جتنی اور جیسی خدمات بھی بندے اس کی راہ میں بجا لائیں ، اللہ کے ہاں ان کی قدر کی جاتی ہے ، کسی کی خدمات صلہ و انعام سے محروم نہیں رہتیں ، بلکہ وہ نہایت فیاضی کے ساتھ ہر شخص کو اس کی خدمت سے زیادہ صلہ دیتا ہے ۔ بندوں کا حال تو یہ ہے کہ جو کچھ آدمی نے کیا اس کی قدر کم کرتے ہیں اور جو کچھ نہ کیا اس پر گرفت کرنے میں بڑی سختی دکھاتے ہیں ۔ لیکن اللہ کا حال یہ ہے کہ جو کچھ آدمی نے نہیں کیا ہے اس پر محاسبہ کرنے میں وہ بہت نرمی اور چشم پوشی سے کام لیتا ہے ، اور جو کچھ کیا ہے اس کی قدر اس کے مرتبے سے بڑھ کر کرتا ہے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:147) ما استفہامیہ ہے۔ ای انہ تعالیٰ لا یعذب الشاکر المؤمن یعنی اللہ تعالیٰ شکر گزار اور مومن بندے کو عذاب نہ دے گا۔ کیا کرے گا اللہ تمہیں سزا دے کر اور تم شکر گزار اور مومن ہو۔ شاکرا۔ قدرشناس ۔ قدردان ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 جن منافقین کی اوپر مذمت کی ہے ان کی نجات کے لیے بطور استثنا چاباتیں فرمائیں ایک یہ کہ اپنے پچھلے رویہ پر نادم ہوں۔ دوسرے یہ کہ آئندہ کے لیے اپنی پوری طرح اصلاح کرلیں تیسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ کی رسی مضبوط پکڑیں یعنی اس کی کتاب کے احکام پر پوری طرح عمل کریں چوتھی یہ کہ دین کا جو کام کریں خالص اللہ کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے کریں۔ (احسن التفاسیر) یہ چاروں کام درجہ بدرجہ اور ایک دوسرے پر مترتب ہوتے ہیں۔ رازی )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آخر میں (مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ ) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو کسی کے سزا دینے سے کوئی نفع نہیں پہنچتا اس کا کوئی کام اٹکا ہو انہیں ہے جو تم کو سزا دینے سے پورا ہوجائے۔ وہ حکمت کے مطابق کافروں کو سزا دیتا ہے اور کفر بہت بڑا کفران نعمت ہے اگر شکر گزار بندے بنو جس کا تقاضا یہ ہے کہ ایمان قبول کرو تو عذاب نہ ہوگا۔ (وَ کَان اللّٰہُ شَاکِرًا عَلِیْمًا) (اور اللہ تعالیٰ قدر دان ہے) اصحاب ایمان کے ایمان کی اور اعمال صالحہ کی قدر دانی فرماتا ہے (اسے ہر چیز کا علم بھی ہے) سب کا ثواب عطا فرمائے گا۔ قال صاحب الروح صفحہ ١٧٩: ج ٥ ای ایّ شیء یفعل اللّٰہ سبحانہ بسبب تعذیبکم ایتشفی بہ من الغیظ ؟ ام یدرک بہ الثارام یستجلب نفعًا ؟ اویستدفع بہ ضرراً کما ھو شان الملوک وھو الغنی المطلق المتعالی عن امثال ذلک وانما ھو امریقتضیہ مرض کفرکم و نفاقکم فاذا احتمیتم عن النفاق و نقیتم نفوسکم بشریۃ الایمان والشکر فی الدنیا برئتم و سلمتم والاھلکتم ھلاکا محیص عنہ بالخلود فی النار۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

95 یہ خطاب منافقوں سے ہے یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کے انعامات کی قدر شناسی کرو اور اخلاص کے ساتھ ایمان لے آؤ تو اسے کیا ضرورت ہے کہ وہ تمہیں بلا وجہ عذاب دے وہ تو قدر دان ہے اور سب کچھ جانتا ہے جو اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرے اور اس پر خالص ایمان لائے وہ ضرور اس کو اچھا بدلہ دے گا۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 یقین جانو ! کہ منافق جہن مکہ سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے اور اے مخاطب تو ان کے لئے ہرگز کوئی مددگار نہ پائے گا جو ان کو اس سے سزا بچا سکے مگر ہاں وہ لوگ اس عذاب سے مستثنیٰ ہیں جو نفاق سے توبہ کرلیں اور اپنے معاندانہ برتائو کی اصلاح کرلیں اور کافروں کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ پر پورا اعتماد اور توکل رکھیں اور اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے خلاص کرلیں یعنی دین کے جو اعمال کریں وہ خالص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کریں ت و ایسے توبہ کرنے والے لوگ کامل مومنوں کے ہمراہ ہونگے اور عنقریب ان کاملین مومنین کو اللہ تعالیٰ بہت بڑا صلہ اور اجر عطا فرمائے گا اور جو لوگ ان کے ہمراہ ہوں گے ان کو اجر عظیم ملے گا اور تم یہ تو سوچو کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہو اور تم ایمان لے آئو تو وہ تم کو عذاب کر کے اور سزا دے کر کیا کرے گا یعنی اس کو کیا پڑی ہے کہ وہ تم کو خواہ مخواہ سزا دے حالانکہ اللہ تعالیٰ بڑا قدر شناس اور خدمت کی قدر کرنے والا اور سب کی حالت کو خوب جاننے والا ہے۔ (تیسیر) درک طبقہ جہنم کے مختلف طبقات ہیں سب سے نیچے کے طبقہ کا نام ہادیہ ہے غالباً اسی طرح اشارہ ہے دوزخ کے طبقات یہ ہیں جہنم، لنطی حطمتہ، سعیر، سقر حجیم ہادیہ بہرحال ! منافقوں کو ہادیہ میں رکھا جائے گا۔ لیکن ہر گناہ کے لئے توبہ ہوسکتی ہے اس لئے تائبین کو مستثنیٰ فرما دیا۔ منافق میں نفاق تو اصل مبنی ہے اور نفاق کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ تو اخلاص فی الدین ختم ہوجاتا ہے اور ان باتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قیامت میں یہ اسلام کچھ کام نہیں آتا اور ظاہری اسلام کا دعویٰ بےکار ہوجاتا ہے اور مخلص مسلمانوں کی معیت نصیب نہیں ہوتی اور مسلمانوں کو جو اجر ملنے والا ہے اس میں شرکت سے محروم رہتے ہیں۔ اسی مناسبت سے یہ ترتیب بیان فرمائی کہ نفاق جو اصل ہے تمام امراض کی اس سے پہلے توبہ کرو۔ پھر مسلمانوں کے ساتھ جو غر شریفانہ برتائو ہے اس کی اصلاح کرو اور کفار کی دوستی کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کا دامن پکڑو اور اسی پر بھروسہ رکھو اور اخلاص فی الدین اختیار کرو یعنی دین کا جو کام کرو اس میں اللہ تعالیٰ کی ضا مندی اور خوشنودی پیش نظر رکھو جب نفاق دور ہوگا اور یہ خوبیاں پیدا ہوجائیں گی تو جہنم کی سزا سے محفوظ رہو گے اور قیامت میں مخلص مسلمانوں کی معیت اور ہمراہی کی دولت نصیب ہوگی اور جب مسلمانوں کے ہمراہ ہو گے تو جو سلوک مسلمانوں کے ساتھ ہوگا وہی تمہارے ساتھ ہوگا۔ سبحان اللہ ! کیا ترتیب ہے آخر میں اس بات پر تنبیہہ فرمائی ک دو باتیں اگر بندوں کی جانب سے ہوں ایک ایمان اور ایک شکر تو ہم کو کیا پڑی کہ ہم ان کو عذاب کریں شکر سے مراد اعمال صالحہ ہیں۔ بعض لوگوں نے ایمان کو شکر کا عطف تفسیری قرار دیا ہے اور یہ مطلب لیا ہے کہ ایمان کامل کے اگر پابند ہو تو اللہ تعالیٰ عذاب کر کے کیا کرے گا نتیجے کے اعتبار سے دونوں کا حاصل ایک ہی ہے۔ ایمان کامل بھی وہی ہے جس کے ساتھ اعمال صالحہ ہوں، غرض ! مومن شاکر کو عذاب سے مامون فرماتا اور یہ بتانا مقصود ہے کہ عذاب سے ہمارا کچھ فائدہ اور نہ عذاب کے ترک سے ہمارا کوئی نقصان اگر تم حکم کی تعمیل کرو گے تو سزا سے محفوظ رہو گے۔ ان دو جملوں میں تمام دین کا خلاصہ آگیا ایمان میں تمام عقائد آگئے اور شکر میں اوامر کا بجالانا اور نواہی سے بچنا آگیا ۔ شاکر اعلیما کا یہ مطلب ہے کہ ہمارے ہاں خدمت گذاروں کی بڑی قدر ہے۔ (تسہیل)