175. Shukr denotes an acknowledgement of benefaction and a feeling of gratitude. This verse states if a person does not behave ungratefully towards God then there is no reason why God should punish him.
The attitude of gratefulness to God consists of acknowledging His benefaction in one's heart, in confessing it in one's speech and by manifesting it in one's deeds. It is the sum-total of these which is termed shukr. This attitude requires:
(1) that a person should ascribe the benefaction to its real source, letting no one share in either the gratitude or the acknowledgement of benevolence;
(2) that his heart should be overflowing with love for, and loyalty to, the Benefactor, and that he should have no attachment to His opponents;
(3) that he should obey the Benefactor and should not use His bounties contrary to His directives.
176.The word used here is shakir which we have translated as 'All-Appreciative'. In the context of the God-man relationship, when the word shukr is used in respect of God, it denotes 'appreciation of services'. When it is used in respect of man, it denotes his acknowledgement of God's benefaction and his sense of gratitude to Him. To say that God 'thanks' His creatures stresses that God is fully appreciative of the services which His servants have rendered and will recompense them liberally. This contrasts sharply with the attitude of human beings, who are generally slow and uncharitable in appreciating the services rendered to them, and quick and severe in censuring people for their omissions. As for God, He is lenient and prone to overlook man's omissions. On the contrary, He rewards man manifold for his good deeds.
سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :175
شکر کے اصل معنی اعتراف نعمت یا احسان مندی کے ہیں ۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ کے ساتھ احسان فراموشی اور نمک حرامی کا رویہ اختیار نہ کرو ، بلکہ صحیح طور پر اس کے احسان مند بن کر رہو ، تو کوئی وجہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ خواہ مخواہ تمہیں سزا دے ۔
ایک محسن کے مقابلہ میں صحیح احسان مندانہ رویہ یہی ہو سکتا ہے کہ آدمی دل سے اس کے احسان کا اعتراف کرے ، زبان سے اس کا اقرار کرے اور عمل سے احسان مندی کا ثبوت دے ۔ انہی تین چیزوں کے مجموعہ کا نام شکر ہے ۔ اور اس شکر کا اقتضاء یہ ہے کہ اولاً آدمی احسان کو اسی کی طرف منسوب کرے جس نے دراصل احسان کیا ہے ، کسی دوسرے کے احسان کے شکریہ اور نعمت کے اعتراف میں اس کا حصہ دار نہ بنائے ۔ ثانیاً آدمی کا دل اپنے محسن کے لیے محبت اور وفاداری کے جذبہ سے لبریز ہو اور اس کے مخالفوں سے محبت و اخلاص اور وفاداری کا ذرہ برابر تعلق بھی نہ رکھے ۔ ثالثًا وہ اپنے محسن کا مطیع و فرمانبردار ہو اور اس کی دی ہوئی نعمتوں کو اس کے منشاء کے خلاف استعمال نہ کرے ۔
سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :176
اصل میں لفظ” شاکر“ استعمال ہوا ہے جس کا ترجمہ ہم نے ”قدردان“ کیا ہے ۔ شکر جب اللہ کی طرف سے بندے کی جانب ہو تو اس کے معنی”اعتراف خدمت“ یا قدر دانی کے ہوں گے ، اور جب بندے کی طرف سے اللہ کی جانب ہو تو اس کو اعتراف نعمت یا احسان مندی کے معنی میں لیا جائے گا ۔ اللہ کی طرف سے بندوں کا شکریہ ادا کیے جانے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ناقدر شناس نہیں ہے ، جتنی اور جیسی خدمات بھی بندے اس کی راہ میں بجا لائیں ، اللہ کے ہاں ان کی قدر کی جاتی ہے ، کسی کی خدمات صلہ و انعام سے محروم نہیں رہتیں ، بلکہ وہ نہایت فیاضی کے ساتھ ہر شخص کو اس کی خدمت سے زیادہ صلہ دیتا ہے ۔ بندوں کا حال تو یہ ہے کہ جو کچھ آدمی نے کیا اس کی قدر کم کرتے ہیں اور جو کچھ نہ کیا اس پر گرفت کرنے میں بڑی سختی دکھاتے ہیں ۔ لیکن اللہ کا حال یہ ہے کہ جو کچھ آدمی نے نہیں کیا ہے اس پر محاسبہ کرنے میں وہ بہت نرمی اور چشم پوشی سے کام لیتا ہے ، اور جو کچھ کیا ہے اس کی قدر اس کے مرتبے سے بڑھ کر کرتا ہے ۔