Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 151

سورة النساء

اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡکٰفِرُوۡنَ حَقًّا ۚ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابًا مُّہِیۡنًا ﴿۱۵۱﴾

Those are the disbelievers, truly. And We have prepared for the disbelievers a humiliating punishment.

یقین مانو کہ یہ سب لوگ اصلی کافر ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے اہانت آمیز سزا تیار کر رکھی ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

أُوْلَـيِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا ... They are in truth disbelievers. meaning, their disbelief in the Prophet they claim to believe in is clear. This is because their claimed faith in a certain Messenger is not true, for had they truly believed in him, they would have believed in other Messengers, especially if the other Messenger has a stronger proof for his truthfulness. Or at least, they would have strived hard to acquire knowledge of the truth of the other Messenger. Allah said, ... وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا And We have prepared for the disbelievers a humiliating torment. This is just punishment for belittling the Prophets whom they disbelieved in, by ignoring what the Prophet brought to them from Allah, and because they are interested in the insignificant possessions of this world. Or, their behavior could be the result of their disbelief in the Prophet after they were aware of his truth, just as the Jewish rabbis did during the time of Muhammad, the Messenger of Allah. The Jews envied the Messenger because of the great Prophethood that Allah gave him, and as a consequence, they denied the Messenger, defied him, became his enemies and fought against him. Allah sent humiliation upon them in this life, that shall be followed by disgrace in the Hereafter, وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَأوُوْاْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ (And they were covered with humiliation and misery, and they drew on themselves the wrath of Allah), (2:61) in this life and the Hereafter. Allah's statement,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

151۔ 1 اہل کتاب کے متعلق پہلے گزر چکا ہے کہ وہ بعض نبیوں کو مانتے تھے اور بعض کو نہیں۔ جیسے یہود نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) و حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عیسایؤں نے حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا انبیاء (علیہم السلام) کے درمیان تفریق کرنے والے یہ پکے کافر ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٠٠] یعنی یہ تیسرا گروہ بھی ایسے ہی پکا کافر ہے جیسے پہلے دو طرح کے لوگ پکے کافر ہیں ان میں کوئی فرق نہیں اور پکا کافر ہونے میں سب یکساں ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اُولٰۗىِٕكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا ۚ: یعنی ان لوگوں کے کافر ہونے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں۔” حَقًّا “ مصدر محذوف کی تاکید ہے۔ (کبیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا۝ ٠ۚ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّہِيْنًا۝ ١٥١ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ عد ( اعداد) والإِعْدادُ مِنَ العَدِّ كالإسقاء من السَّقْيِ ، فإذا قيل : أَعْدَدْتُ هذا لك، أي : جعلته بحیث تَعُدُّهُ وتتناوله بحسب حاجتک إليه . قال تعالی: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ، وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] ، وقوله : وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، قيل : هو منه، وقوله : فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ [ البقرة/ 184] ، أي : عدد ما قد فاته، وقوله : وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] ، أي : عِدَّةَ الشّهر، وقوله : أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] ، فإشارة إلى شهر رمضان . وقوله : وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] ، فهي ثلاثة أيّام بعد النّحر، والمعلومات عشر ذي الحجّة . وعند بعض الفقهاء : المَعْدُودَاتُ يومُ النّحر ويومان بعده فعلی هذا يوم النّحر يكون من المَعْدُودَاتِ والمعلومات، والعِدَادُ : الوقت الذي يُعَدُّ لمعاودة الوجع، وقال عليه الصلاة والسلام :«ما زالت أكلة خيبر تُعَادُّنِي» وعِدَّانُ الشیءِ : عهده وزمانه . ( ع د د ) العدد الاعداد تیار کرنا مہیا کرنا یہ عد سے ہے جیسے سقی سے اسقاء اور اعددت ھذا لک کے منعی ہیں کہ یہ چیز میں نے تمہارے لئے تیار کردی ہے کہ تم اسے شمار کرسکتے ہو اور جس قدر چاہو اس سے حسب ضرورت لے سکتے ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] اور جہاں تک ہوسکے ( فوج کی جمیعت سے ) ان کے ( مقابلے کے لئے مستعد رہو ۔ اور جو ) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں ۔ أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] اور ہم نے جھٹلا نے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اعتدت بھی اسی ( عد ) سے ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] تم روزوں کا شمار پورا کرلو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم ماہ رمضان کی گنتی پوری کرلو ۔ أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] گنتی کے چند روز میں ماہ رمضان کی طرف اشارہ ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] اور گنتی کے دنوں میں خدا کو یاد کرو ۔ میں سے عید قربان کے بعد کے تین دن مراد ہیں اور معلومات سے ذوالحجہ کے دس دن بعض فقہاء نے کہا ہے کہ ایام معدودۃ سے یوم النحر اور اس کے بعد کے دو دن مراد ہیں اس صورت میں یوم النحر بھی ان تین دنوں میں شامل ہوگا ۔ العداد اس مقرر وقت کو کہتے ہیں جس میں بیماری کا دورہ پڑتا ہو ۔ آنحضرت نے فرمایا مازالت امۃ خیبر تعادنی کہ خیبر کے دن جو مسموم کھانا میں نے کھایا تھا اس کی زہر بار بار عود کرتی رہی ہے عد ان الشئی کے معنی کسی چیز کے موسم یا زمانہ کے ہیں هان الْهَوَانُ علی وجهين : أحدهما : تذلّل الإنسان في نفسه لما لا يلحق به غضاضة، فيمدح به نحو قوله : وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ونحو ما روي عن النبيّ صلّى اللہ عليه وسلم :«المؤمن هَيِّنٌ ليّن» الثاني : أن يكون من جهة متسلّط مستخفّ به فيذمّ به . وعلی الثاني قوله تعالی: الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذابَ الْهُونِ [ الأنعام/ 93] ، فَأَخَذَتْهُمْ صاعِقَةُ الْعَذابِ الْهُونِ [ فصلت/ 17] ، وَلِلْكافِرِينَ عَذابٌ مُهِينٌ [ البقرة/ 90] ، وَلَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ آل عمران/ 178] ، فَأُولئِكَ لَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ الحج/ 57] ، وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَما لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ [ الحج/ 18] ويقال : هانَ الأمْرُ علی فلان : سهل . قال اللہ تعالی: هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ [ مریم/ 21] ، وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ [ الروم/ 27] ، وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّناً [ النور/ 15] والْهَاوُونَ : فاعول من الهون، ولا يقال هارون، لأنه ليس في کلامهم فاعل . ( ھ و ن ) الھوان اس کا استعمال دو طرح پر ہوتا ہے انسان کا کسی ایسے موقعہ پر نر می کا اظہار کرتا جس میں اس کی سبکی نہ ہو قابل ستائش ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر متواضع ہوکر چلتے ہیں ۔ اور آنحضرت سے مروی ہے کہ مومن متواضع اور نرم مزاج ہوتا ہے دوم ھان بمعنی ذلت اور رسوائی کے آتا ہے یعنی دوسرا انسان اس پر متسلط ہو کت اسے سبکسار کرے تو یہ قابل مذمت ہے چناچہ اس معنی میں فرمایا : ۔ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذابَ الْهُونِ [ الأنعام/ 93] سو آج تم کو ذلت کا عذاب ہے ۔ فَأَخَذَتْهُمْ صاعِقَةُ الْعَذابِ الْهُونِ [ فصلت/ 17] تو کڑک نے ان کو آپکڑا اور وہ ذلت کا عذاب تھا وَلِلْكافِرِينَ عَذابٌ مُهِينٌ [ البقرة/ 90] اور کافروں کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے ۔ وَلَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ آل عمران/ 178] اور آخر کار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا ۔ فَأُولئِكَ لَهُمْ عَذابٌ مُهِينٌ [ الحج/ 57] انکے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا ۔ وَمَنْ يُهِنِ اللَّهُ فَما لَهُ مِنْ مُكْرِمٍ [ الحج/ 18] اور جس کو خدا ذلیل کرے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں ۔ علی کے ساتھ کے معنی کسی معاملہ کے آسان ہو نیکے ہیں چناچہ قرآن میں ہے : ۔ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ [ مریم/ 21] کہ بی مجھے آسان ہے ۔ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ [ الروم/ 27] اور یہ اس پر بہت آسان ہے ۔ وَتَحْسَبُونَهُ هَيِّناً [ النور/ 15] اور تم اسے ایک ہل کہ بات سمجھتے ہو ۔ ھاودن کمزور یہ ھون سے ہے اور چونکہ فاعل کا وزن کلام عرب میں نہیں پایا اسلئے ھاون کی بجائے ہارون بروزن فا عول کہا جاتا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

178. Insofar as being an unbeliever is concerned, there is no difference between (1) those who believe neither in God nor in the Prophets, (2) those who believe in God but not in the Prophets, and (3) those whobelieve in some Prophets but reject others.

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :178 یعنی کافر ہونے میں وہ لوگ جو نہ خدا کو مانتے ہیں نہ اس کے رسولوں کو اور وہ جو خدا کو مانتے ہیں مگر رسولوں کو نہیں مانتے ، اور وہ جو کسی رسول کو مانتے ہیں اور کسی کو نہیں ، سب یکساں ہیں ۔ ان میں سے کسی کے کافر ہونے میں ذرہ برابر شک کی گنجائش نہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:151) حقا۔ بمعنی یقینا۔ درحقیقت۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 ان لوگوں کے کافر ہونے میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں حقا مصدر محذ وف کی تاکید ہے۔ ( کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 بلاشبہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر کرتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ با اعتبار ایمان لانے کے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں کے درمیان فرق کریں چناچہ وہ اپنی اس خواہش کا زبان سے اظہار بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پیغمبروں میں سے ہم بعض کو تو مانتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں اور بعضوں کو ہم نہیں مانتے اور یہ لوگ یوں چاہتے ہیں کہ کفر اور ایمان کے بین بین کوئی راہ اختیار کرلیں اور کفر و ایمان کے درمیان ایک ایسا راستہ نکال لیں جو نہ خالص کفر ہو اور نہ خالص ایمان ہو یعنی مسلمانوں اور مشرکوں کے درمیان ایک نئی راہ تجویز کرنا چاہتے ہیں تو ایسے لوگ یقینا کافر ہیں اور اصل کافر یہی لوگ ہیں اور کافروں کے لئے ہم نے اہانت آمیز اور ذلیل و رسوا کن سزا تیار کر رکھی ہے۔ (تیسیر) حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یہاں سے ذکر ہے یہود کا قرآن میں اکثر ذکر یہود کا اور منافقین کا ایک جا آیا ہے اس جگہ یہ فرمایا ہے کہ اللہ کا ماننا یہی ہے کہ زمانے کے پیغمبر کا حکم مانے اس بغیر الل کا ماننا غلط ہے۔ (موضح القرآن) اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو مان ک اس کی شان میں تخفیف کے مرتکب ہوتے ہیں او ور اس کو ایسی صفات کے ساتھ متصف کرتے ہیں جن سے اس کی ذات بالا اور برتر ہے رسولوں کے ساتھ کفر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے رسول ہونے کا انکار کرتے ہیں جیسے یہود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور نبی آخر الزمان حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منکر تھے یا اس اعتبار سے کہ بعض رسولوں کا انکار مستلزم ہے سب رسولوں کے انکار کو اللہ اور اس کے رسولوں میں تفریق ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ بعض پر ایمان لائیں اور بعض پر نہ لائیں اللہ پر ایمان لانا اور اس کے رسول میں جدائی ڈالنا اسی کو تفریق بین اللہ وسلہ فرمایا یا یہ مطلب کہ جب بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں تو اللہ تعالیٰ کے بعض احکام کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں اس کو فرمایا ویریدون ان یفر قوابین اللہ ورسلہ چناچہ اپنے اس عقیدے کو زبان سے بھی کہتے ہیں کہ ہم بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے۔ ظاہر ہے کہ اس عقیدے سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ بھی کفر لازم آیا اور سب رسولوں کے ساتھ بھی کفر لازم آیا کیونکہ ہر رسول دوسرے رسولوں کو رسول کہتا چلا آیا ہے جب بعض کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ کی بھی تکذیب ہوئی اور ہر رسول کی تکذیب ہوئی حقاً مضمون جملہ کی تاکید ہے اس لئے ہم نے مترجمین کے الفاظ کی رعایا رکھتے ہوئے تیسیر میں ترجمہ کیا ہے مھینا اہانت سے ہے رسوا کن ترجمہ حضرت مولانا شاہ ولی اللہ صاحب کا ہے۔ بین ذلک سبیلا کو ہم نے تیسیر میں صاف کردیا ہے گویا ان کا بعض پر ایمان لانا اور بعض سے انکار کرنا ایمان و کفر کے مابین ایک راہ کا اختیار کرنا ہے ۔ نہ مسلمانوں کا سا ایمان کہ سب کو مانیں اور نہ مشرکوں کا سا کفر کہ کسی رسول کو نہ مانیں۔ قرآن کی یہ آیت اس معاملہ میں بالکل صاف اور واضح ہے اور کسی ایک پیغمبر کے انکار کو بھی کفر بتاتی ہے شاید یاد ہوگا کہ ہم نے پہلے پارہ میں ان الذین امنوا والذین ھادوا کی تسہیل میں بتایا تھا کہ اگر اس آیت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانے کا ذکر نہیں ہے تو اس کو یہ مستلزم نہیں ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لائے بغیر کوئی نجات یافتہ ہوسکتا ہے خواہ توحید الٰہی ہو خواہ اعمال صالحہ ہوں۔ یا قیامت پر ایمان لانا ہو یہ سب باتیں پیغمبر کی رہنمائی کی محتاج ہیں جو شخص یہ چاہے کہ میں پیغمبر کو نظر انداز کر کے نجات کی صحیح راہ معلوم کرلوں تو یہ کھلا کفر ہے۔ اب چھٹے پارے کی اس آیت کو سامنے رکھ کر اس آیت کی تفسیر کرنی چاہئے اور آج کل جدت پسند لوگوں کے خیال سے اجتناب کرنا چاہئے جنہوں نے قرآن کریم کی تفسیر میں بڑی جرأت اور بےباکی اور بےباکی سے کام لیا ہے ۔ قرآن کریم سب باتیں ایک ہی آیت میں بیان نہیں کردیا کرتا اس لئے تفسیر کرتے وقت سب آیتوں کا لحاظ رکھنا چاہئے جب قرآن بعض رسولوں کے ماننے اور بعض کے نہ ماننے کو کفر بتارہا ہے تو خاتم النبین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نہ ماننے والے کس طرح نجات دائمی اور فلہم اجرھم عندربھم ولا خوف علیھم ولا ھم یخزنون کے مستحق ہوسکتے ہیں۔ پیغمبر پر ایمان لانا تو قانون کی ایک بنیادی دفعہ ہے اگر قانون کی دوسری دفعات میں اس کا ذکر نہ آئے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ جنرل اور بنیادی دفعہ ترک کردی گئی ہے آگے کی آیت میں طرفین کے عہدے کا اظہار ہے پھر اس کے بعد یہود کی حرکات قبیحہ کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ (تسہیل)