Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 153

سورة النساء

یَسۡئَلُکَ اَہۡلُ الۡکِتٰبِ اَنۡ تُنَزِّلَ عَلَیۡہِمۡ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ فَقَدۡ سَاَلُوۡا مُوۡسٰۤی اَکۡبَرَ مِنۡ ذٰلِکَ فَقَالُوۡۤا اَرِنَا اللّٰہَ جَہۡرَۃً فَاَخَذَتۡہُمُ الصّٰعِقَۃُ بِظُلۡمِہِمۡ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَتۡہُمُ الۡبَیِّنٰتُ فَعَفَوۡنَا عَنۡ ذٰلِکَ ۚ وَ اٰتَیۡنَا مُوۡسٰی سُلۡطٰنًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۵۳﴾

The People of the Scripture ask you to bring down to them a book from the heaven. But they had asked of Moses [even] greater than that and said, "Show us Allah outright," so the thunderbolt struck them for their wrongdoing. Then they took the calf [for worship] after clear evidences had come to them, and We pardoned that. And We gave Moses a clear authority.

آپ سے یہ اہل کتاب درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان کے پاس کوئی آسمانی کتاب لائیں ، حضرت موسیٰ ( علیہ السلام ) سے توانہوں نے اس سے بہت بڑی درخواست کی تھی کہ ہمیں کھلم کھلا اللہ تعالٰی کو دکھا دے پس ان کے اس ظلم کے باعث ان پر کڑاکے کی بجلی آپڑی پھر باوجودیکہ ان کے پاس بہت دلیلیں پہنچ چکی تھیں انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا ، لیکن ہم نے یہ بھی معاف فرما دیا اور ہم نے موسیٰ کو کھلا غلبہ ( اور صریح دلیل ) عنایت فرمائی ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Stubbornness of the Jews Allah says; يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاء ... The People of the Scripture (Jews) ask you to cause a book to descend upon them from heaven. Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi, As-Suddi and Qatadah said that; the Jews asked the Messenger of Allah to cause a book to come down to them from heaven, just as the Tawrah was sent down to Musa. Ibn Jurayj said that; the Jews asked the Messenger to cause books to come down to them addressed to so-and-so among them, testifying to the truth of what he was sent with. The Jews only asked for this because of their stubbornness, defiance, rejection and disbelief. The disbelievers of Quraysh also asked for similar things from the Prophet, as is mentioned in Surah Al-Isra', وَقَالُواْ لَن نُّوْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الاٌّرْضِ يَنْبُوعًا And they say: "We shall not believe in you, until you cause a spring to gush forth from the earth for us; (17:90) Allah said, ... فَقَدْ سَأَلُواْ مُوسَى أَكْبَرَ مِن ذَلِكَ فَقَالُواْ أَرِنَا اللّهِ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ... Indeed, they asked Musa for even greater than that, when they said, "Show us Allah in public," but they were struck with a bolt of lightning for their wickedness. injustice, transgression, defiance and rebellion. This part was explained in Surah Al-Baqarah. وَإِذْ قُلْتُمْ يَـمُوسَى لَن نُّوْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّـعِقَةُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ ثُمَّ بَعَثْنَـكُم مِّن بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ And (remember) when you said: "O Musa! We shall never believe in you until we see Allah plainly." But you were struck by a bolt of lightning while you were looking. Then We raised you up after your death, so that you might be grateful. (2:55,56) Allah's statement, ... ثُمَّ اتَّخَذُواْ الْعِجْلَ مِن بَعْدِ مَا جَاءتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ ... Then they worshipped the calf even after Al-Bayyinat had come to them. meaning, after they witnessed the tremendous miracles and unequivocal proofs at the hand of Musa in Egypt. They also witnessed the demise of their enemy, Fir`awn and his soldiers, when they all drowned in the sea. Yet soon after, when they passed by a people who were worshipping idols, they said to Musa, اجْعَل لَّنَا إِلَـهًا كَمَا لَهُمْ الِهَةٌ (Make for us a god as they have gods). (7:138) Allah explains the story of the Jews worshipping the calf in Surah Al-A`raf (7) and Surah Ta Ha (20) after Musa went to meet with his Lord. When Musa returned, Allah decreed that in order for the Jews to earn accepted repentance, then those who did not worship the calf would have to kill those who worshipped it. They complied with this command, and Allah resurrected them afterwards. Allah said here, ... فَعَفَوْنَا عَن ذَلِكَ وَاتَيْنَا مُوسَى سُلْطَانًا مُّبِينًا (Even) so We forgave them. And We gave Musa a clear proof of authority. Allah then said,

محسوس معجزہ کی مانگ اور بنی سرائیل کی حجت بازیاں یہودیوں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کی طرف سے توراۃ ایک ساتھ لکھی ہوئی ہمارے پاس لائے ، آپ بھی کوئی آسمانی کتاب پوری لکھی لکھائی لے آیئے ۔ یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے نام اللہ تعالیٰ خط بھیجے کہ ہم آپ کی نبوت کو مان لیں ۔ یہ سوال بھی ان کا بدنیتی سے بطور مذاق اور کفر تھا ۔ جیسا کہ اہل مکہ نے بھی اسی طرح کا ایک سوال کیا تھا ، جس طرح سورہ سبحان میں مذکور ہے کہ جب تک عرب کی سر زمین میں دریاؤں کی ریل پیل اور ترو تازگی کا دور دورہ نہ ہو جائے ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے ۔ پس بطور تسلی کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کی اس سرکشی اور بیجا سوال پر آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں ان کی یہ بد عادت پرانی ہے ، انہوں نے حضرت موسیٰ سے اس سے بھی زیادہ بیہودہ سوال کیا تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ خود کو دکھائے ۔ اس تکبر اور سرکشی اور فضول سوالوں کی پاداش بھی یہ بھگت چکے ہیں یعنی ان پر آسمانی بجلی گری تھی ۔ جیسے سورہ بقرہ میں تفصیل وار بیان گذر چکا ۔ ملاحظہ ہو آیت ( وَاِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ) 2 ۔ البقرۃ:52 ) یعنی جب تم نے کہا تھا کہ اے موسیٰ ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو ہم صاف طور پر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں پس تمہیں بجلی کے کڑاکے نہ پکڑ لیا اور ایک دوسرے کے سامنے سب ہلاک ہو گئے ، پھر بھی ہم نے تمہاری موت کے بعد دوبارہ تمہیں زندہ کر دیا تا کہ تم شکر کرو ۔ پھر فرماتا ہے کہ بڑی بڑی نشانیاں دیکھ چکنے کے بعد بھی ان لوگوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا ۔ مصر میں اپنے دشمن فرعون کا حضرت موسیٰ کے مقابلے میں ہلاک ہونا اس کے تمام لشکروں کا نامرادی کی موت مرنا ، ان کا دریا سے بچ کر پار نکل آنا ، ابھی ابھی ان کی نگاہوں کے سامنے ہوا تھا لیکن وہاں سے چل کر کچھ دور جا کر ہی بت پرستوں کو بت پرستی کرتے ہوئے دیکھ کر اپنے پیغمبر سے کہتے ہیں ہمارا بھی ایک ایسا ہی معبود بنا دو ۔ جس کا پورا بیان سورہ اعراف میں ہے اور سورہ طہ میں بھی ۔ پھر حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتے ہیں ، ان کی توبہ کی قبولیت کی یہ صورت ٹھہرتی ہے کہ جنہوں نے گو سالہ پرستی نہیں کی وہ گوسالہ پرستوں کو قتل کریں ۔ جب قتل شروع ہو جاتا ہے ، اللہ ان کی توبہ قبول فرماتا ہے اور مرے ہوؤں کو بھی دوبارہ زندہ کر دیتا ہے ۔ پس یہاں فرماتا ہے ہم نے اس سے بھی درگذر کیا اور یہ جرم عظیم بھی بخش دیا اور موسیٰ کو ظاہر حجت اور کھلا غلبہ عنایت فرمایا اور جب ان لوگوں نے توراۃ کے احکام ماننے سے انکار کر دیا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فرمانبرداری سے بیزاری ظاہر کی تو ان کے سروں پر طور پہاڑ کو معلق کھڑا کر دیا اور ان سے کہا کہ اب بولو! پہاڑ گرا کر پاش پاش کر دیں یا احکام قبول کرتے ہو؟ تو یہ سب سجدے میں گر پڑے اور گریہ زاری شروع کی اور احکام الٰہی بجا لانے کا مضبوط عہد و پیمان کیا یہاں تک کہ دل میں دہشت تھی اور سجدے میں کنکھیوں سے اوپر دیکھ رہے تھے کہ کہیں پہاڑ نہ گر پڑے اور دب کر نہ مر جائیں ، پھر پہاڑ ہٹایا گیا ۔ ان کی دوسری کشی کا بیان ہو رہا ہے کہ قول و فعل دونوں کو بدل دیا ، حکم ملا تھا کہ بیت المقدس کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور حطتہ کہیں یعنی اے اللہ ہماری خطائیں بخش کہ ہم نے جہاد چھوڑ دیا اور تھک کر بیٹھ رہے جس کی سا میں چالیس سال میدان تیہ میں سرگشتہ و حیران و پریشان رہے لیکن ان کی کم ظرفی کا یہاں بھی مظاہرہ ہوا اور اپنی رانوں کے بل گھسٹتے ہوئے دروازے میں داخل ہونے لگے اور حنطتہ فی شعرۃ کہنے لگے یعنی گیہوں کی بالیں ہمیں دے ۔ پھر ان کی اور شرارت سنئے ہفتہ وار دن کی تعظیم و کریم کرنے کا ان سے وعدہ لیا گیا اور مضبوط عہد و پیمان ہو گیا لیکن انہوں نے اس کی بھی مخالفت کی نافرمانی پر کمربستہ ہو کر حرمت کرنے کا ان سے وعدہ لیا گیا اور مضبوط عہد و پیمان ہو گیا لیکن انہوں نے اس کی بھی مخالفت کی نافرمانی پر کمر بستہ ہو کر حرمت کے ارتکاب کے حیلے نکال لئے ۔ جیسے کہ سورہ اعراف میں مفصل بیان ہے ملاحظہ ہو آیت ( وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ ) 7 ۔ الاعراف:163 ) ایک حدیث میں بھی ہے کہ یہودیوں سے خاصتہ اللہ تعالیٰ نے ہفتہ والے دن کی تعظیم کا عہد لیا تھا ۔ یہ پوری حدیث سورہ سبحان کی آیت ( وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا ) 17 ۔ الاسراء:101 ) کی تفسیر میں آئے گی انشاء اللہ!

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

153۔ 1 یعنی جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر گئے اور تختیوں پر لکھی ہوئی تورات لے کر آئے، اسی طرح آپ بھی آسمان پر جا کر لکھا ہوا قرآن مجید لے کر آئیں۔ یہ مطالبہ محض عناد، حجود اور تعنت کی بنا پر تھا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٠٢] یہود کا ایمان لانے کے لئے نوشتہ کا مطالبہ :۔ مثل مشہور ہے && خوئے بدرابہانہ بسیار && اسی مثل کے مصداق یہود مدینہ نے آپ سے یہ مطالبہ کیا کہ اگر آسمان سے کوئی لکھی ہوئی کتاب آپ پر آسمان سے نازل ہو تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے جیسا کہ موسیٰ پر تورات کی تختیاں نازل ہوئی تھیں۔ ان کے اس مطالبہ کے اللہ نے مختلف مقامات پر کئی طرح سے جواب دیئے ہیں۔ الزامی بھی اور تحقیقی بھی۔ الزامی جواب یہ ہے کہ سوال کرنا اور سوال کرتے جانا یہود کی عادت ثانیہ بن چکی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب ان پر آسمان سے تورات لکھی لکھائی نازل ہوئی تھی تو کیا یہ اس پر ایمان لے آئے تھے ؟ خ مطالبہ دیدار الہٰی :۔ انہوں نے تو اس سے بھی بڑا مطالبہ پیش کردیا تھا جو یہ تھا کہ ہم جب تک اللہ کو نہ دیکھ لیں اور وہ بھی یہ کہے کہ واقعی یہ کتاب تورات میں نے ہی نازل کی ہے۔ اس وقت تک اے موسیٰ ہم تمہارا کیسے اعتبار کریں۔ اگرچہ ان کا ہر مطالبہ انتہائی سرکشی پر مبنی تھا۔ تاہم موسیٰ (علیہ السلام) انہیں کوہ طور کے دامن میں لے گئے۔ بھلا اللہ تعالیٰ کی جس تجلی کو خود سیدنا موسیٰ بھی نہ سہار سکے تھے اور بےہوش ہو کر گرپڑے تھے یہ لوگ بھلا کیسے سہار سکتے تھے ؟ چناچہ جب بجلی کی صورت میں تجلیات ان پر پڑیں، تو سب کے سب مرگئے۔ پھر سیدنا موسیٰ کی دعا سے زندہ ہوئے اور یہ واقعہ تفصیل سے سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ لہذا اب پھر اگر ان کی خواہش کے مطابق اتارا جائے تو یہ لوگ وہی کچھ کریں گے جو پہلے کرچکے ہیں۔ [٢٠٣] معجزات موسیٰ :۔ یہ واضح دلائل یہ تھے۔ عصائے موسیٰ ، ید بیضاء آل فرعون پر چچڑیوں، جوؤں، مینڈکوں اور خون کا عذاب، جو سیدنا موسیٰ کی دعا سے دور کردیا جاتا مگر پھر بھی وہ لوگ ایمان نہ لاتے۔ جادوگروں کے مقابلہ میں سیدنا موسیٰ کی نمایاں کامیابی اور جادوگروں کا ایمان لانا، دریا کا پھٹنا اور اس میں فرعون اور آل فرعون کا غرق ہونا، اور بنی اسرائیل کا فرعونیوں سے نجات پانا وغیرہ۔ غرض ایسے دلائل یا معجزات بیشمار تھے۔ انہیں دیکھ کر بھی جو لوگ کماحقہ، ایمان نہ لائے تھے۔ اگر آپ پر کتاب اتار بھی دی جائے تو کیا یہ لوگ ایمان لے آئیں گے ؟ [٢٠٤] گؤسالہ پرستی :۔ تم اس قدر ظالم لوگ تھے کہ تم نے یہ نہ سمجھا کہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ہوتا رہا بلکہ تم میں سے اکثر نے یہی سمجھا کہ ہماری یہ نجات گؤ سالہ پرستی کی وجہ سے ہوئی ہے لہذا تم نے پھر سے گؤ سالہ پرستی شروع کردی۔ اور جب کسی بچھڑے کا نصب شدہ بت نہ ملا تو تم نے خود ہی بچھڑے کا بت بنا کر اس کی پوجا شروع کردی۔ یہ تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يَسْــَٔــلُكَ اَهْلُ الْكِتٰبِ ۔۔ : اس آیت میں یہود کی ایک اور جہالت کا بیان ہے اور اس کا مقصد ان کی سرکشی اور طبعی ضد و عناد کو بیان کرنا ہے۔ (کبیر) ان کا مقصد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا تو تھا نہیں، محض شرارت کے لیے اور لاجواب کرنے کے لیے نت نئے اعتراضات پیش کرتے رہتے۔ ان میں سے ان کی ایک فرمائش یہ تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تختیاں ملی تھیں، لہٰذا آپ بھی اللہ تعالیٰ کے پاس سے اسی طرح کی کتاب لا کردکھائیں، تاکہ ہم آپ کی تصدیق کریں اور آپ پر ایمان لائیں۔ قرآن نے اس اعتراض کے جواب میں پہلے تو ان پر ان کی گزشتہ کارستانیاں بطور الزام پیش کیں (کیونکہ اصل خاموش کرانے والا جواب الزامی ہوتا ہے کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لو، پھر اعتراض کرو) اور پھر آیت (١٦٣) ( اِنَّآ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ كَمَآ اَوْحَيْنَآ) سے اس اعتراض کا تحقیقی جواب دیا ہے۔ (کبیر) اور یہ سلسلۂ بیان آیت (١٧٠) تک چلا گیا ہے۔ اس کے بعد (يٰٓاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِيْ دِيْنِكُمْ ) سے نصاریٰ سے خطاب ہے۔ (فتح الرحمن) فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰٓى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فرمایا ( تمہاری اس فرمائش کے عین مطابق) موسیٰ (علیہ السلام) کتاب لائے تو تم نے اس سے بڑا مطالبہ پیش کردیا، یعنی یہ کہ ہمیں واضح طور پر سامنے اللہ تعالیٰ کا دیدار کراؤ۔ ( دیکھیے بقرہ : ٥٥) پھر اس سے بھی بڑی گستاخی کی کہ بچھڑے کو معبود بنا لیا، مگر ہم نے تمہیں معاف کردیا اور تمہاری اس ضد، عناد اور جہل کے باوجود موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے غلبہ اور اقتدار عطا فرما دیا اور تم لوگ ان کے حکم کی مخالفت نہ کرسکے۔ اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے بھی بشارت ہے کہ آخر کار یہ ضد اور عناد رکھنے والے مغلوب ہوں گے۔ اس کے بعد ان کی دوسری جہالتوں کا بیان ہے۔ (کبیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Some previous verses censured Jews for their mistrustfulness in matters of faith. In the present verses too, there appears a long list of some of their other evil doings and, because of these ugly problems with them, mention has been made of their punishment. This strain continues in many more verses coming later. Commentary Some Jewish chiefs came to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and demanded that he bring down a book from the heaven similar to that which came to Musa (علیہ السلام) ، all written from there: If so, they would believe him. They had made this demand not because they wished to believe with all their heart on this condition. It was just a device to drag and stall. In fact, because of their chronic urge to take an opposite stand, they were given to offering one or the other excuse all the time. By revealing this verse, Almighty Allah made the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) become aware of the real state of affairs. This was to give him comfort and peace of mind against the doings of a people who are used to harassing the prophets of Allah. They would go to unbelievable limits of audacity by going as far as committing outrage against Almighty Allah. Their forefathers had gone even beyond them by demanding something more grave: |"Make us see Allah openly.|" Upon this audacity of theirs, came& a thunderbolt from the heaven and destroyed them. Then, it was despite being fully cognizant of clear signs and proofs of Allah being One and free of any partners in His Divinity, they stooped lowest of the low by taking a calf as their object of worship bypassing their own genuine Creator. But, Allah still remained forbearing; otherwise the occasion demanded that they be eliminated. Then, Allah gave His prophet, Sayyidna Musa, peace be upon him, authority and power. Then, there came an occasion when these people had flatly refused to acknowledge the canonical law of the Torah whereupon Allah raised the Mount of Tur high suspending over them, thus threatening and forcing them to acknowledge the Law of Torah or otherwise they were to be mashed under the mountain. Allah had also told them to enter the gate of the city of Eliah humbly filled with fervour to obey Him. Allah had also asked them to catch fish on the day of Sabbath which was a command from Him and which was not to be transgressed. And Allah had taken a solemn pledge from them, but it so turned out that they contravened every single command one after the other breaking the solemn pledge with Allah. So, Allah too put disgrace on them in the mortal life of the world and they will have to undergo the worst punishment in the Hereafter as well.

ربط آیات :۔ مقابل کی آیات میں یہود کی بد اعتقادیوں کا ذکر کر کے ان کی مذمت مذکور تھی، ان آیات میں بھی ان کی کچھ دوسری خراب حرکتوں کی ایک طویل فہرست اور ان قباحتوں کی بناء پر ان کے عذاب و سزا کا ذکر ہے اور یہ سلسلہ دور تک چلا گیا ہے۔ خلاصہ تفسیر (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ سے اہل کتاب (یہود) یہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ ان کے پاس ایک خاص نوشتہ آسمان سے منگوا دیں سو (آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان لوگوں سے اس کو عجیب نہ سمجھئے کیونکہ یہ فرقہ ایسا معاند ہے کہ) انہوں نے (یعنی اس فرقہ کے جو لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے وقت موجود تھے انہوں نے) موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑی بات کی درخواست کی تھی اور یوں کہا تھا کہ ہم کو اللہ تعالیٰ کو کھلم کھلا (بلا حجاب) دکھلادو جس پر ان کی گستاخی کے سبب ان پر کڑک بجلی کی آپڑی، پھر (اس سے بڑھ کر ان کی یہ حرکت ہوچکی ہے کہ) انہوں نے گو سالہ کو (پرستش) کے لئے تجویز کیا تھا بعد اس کے بہت سے دلائل (تعیین حق و باطل کے) ان تک پہنچ چکے تھے (مراد ان دلائل سے معجزات ہیں، موسیٰ (علیہ السلام) کے جن میں سے غرق فرعون تک بہتوں کا مشاہدہ ہوچکا تھا) پھر ہم نے ان سے درگزر کردیا تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے بڑا رعب دیا تھا (اس رعب پر اور ہماری درگزر اور عنایت پر ان لوگوں کی یہ کیفیت تھی کہ نہ عنایت سے متاثر ہوتے تھے نہ رعب سے) اور ہم نے ان لوگوں سے (توراة پر عمل کرنے کے) قول قرار لینے کے واسطے کوہ طور کو اٹھا کر ان کے اوپر (محاذات میں) معلق کردیا تھا اور ہم نے ان کو یہ حکم دیا تھا کہ دروازہ میں عاجزی سے داخل ہونا اور ہم نے ان کو یہ حکم دیا تھا کہ یوم ہفتہ کے بارے میں (جو حکم تم کو ملا ہے کہ اس میں شکار نہ کریں اس میں حد شرع سے) تجاوز مت کرنا اور (اس کے علاوہ اور بھی) ہم نے ان سے قول وقرار نہایت شدید لئے (جس کا بیان واذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل میں مذکور ہے لیکن ان لوگوں نے باوجود اس قدر اہتمام کے پھر اپنے عہدوں کو توڑ ڈالا۔ ) معارف و مسائل یہودیوں کے کچھ سردار آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور آپ سے مطالبہ کیا کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) پر لکھی ہوئی کتاب آسمان سے نازل ہوئی تھی، اسی طرح کی ایک کاتب آپ بھی آسمان سے لائیں، تو ہم ایمان لے آئیں گے، ان کا مطالبہ اس لئے نہیں تھا کہ وہ دل سے ایمان لانا چاہتے تھے، اور یہ ان کی ایک شرط تھی، بلکہ وہ ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے کوئی نہ کوئی عذر کرتے ہی رہتے تھے، اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حقیقت حال سے آگاہ فرمایا اور ان کی تسلی کردی کہ درحقیقت یہ قوم ہی ایسی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو ستاتی ہی رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے خلاف بغاوت کرنے کے لئے بڑی سے بڑی حرکت بھی کر گذرتی ہے، ان کے آباء و اجداد نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سے بھی زیادہ بڑی بات کا مطالبہ کیا تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کھلم کھلا دکھلایا جائے ان کی اس گستاخی پر آسمان سے بجلی آئی اور ان کو ہلاک کردیا، پھر توحید اور خدائے واحد لاشریک کے براہین بنیات کو اچھی طرح سمجھنے بوجھنے کے بعد بھی خالق حقیقی کے بجائے بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے تھے، لیکن اس سب کچھ کے باوجود ہم نے عفو و درگزر سے کام لیا ورنہ تو موقع اس کا تھا کہ ان کا قلع قمع کیا جاتا ........ اور اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے غلبہ عطاء کیا ........ ایک موقع ایسا بھی آیا تھا کہ ان لوگوں نے تورات کی شریعت کو ماننے سے صاف انکار کردیا تھا تو ہم نے پہاڑ طور اٹھا کر ان پر معلق کردیا کہ شریعت کو ماننا ہی ہوگا، ورنہ پہاڑ کے نیچے کچل دیئے جاؤ گے ہم نے ان سے یہ بھی کہا کہ جب شہرایلیا کے دروازہ میں داخل ہو تو نہایت عاجزی سے اطاعت خداوندی کے جذبہ سے سرشار جھکائے ہوئے داخل ہو، یہ بھی ہم نے ان سے کہہ دیا تھا کہ ہفتہ کے روز مچھلیوں کا شکار نہ کھیلو، یہ ہمارا حکم ہے اس سے روگردانی نہ کرو اور اس طرح ہم نے ان سے مضبوط عہد لے لیا تھا، لیکن ہوا یوں کہ انہوں نے ایک ایک کر کے احکام کی خلاف ورزی کی اور ہمارے عہد کو توڑ ڈالا تو ہم نے دنیا میں بھی ان کو ذلیل کردیا اور آخرت میں بھی ان کو بدترین سزا بھگتنی ہوگی۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَسْــَٔــلُكَ اَہْلُ الْكِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْہِمْ كِتٰبًا مِّنَ السَّمَاۗءِ فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰٓى اَكْبَرَ مِنْ ذٰلِكَ فَقَالُوْٓا اَرِنَا اللہَ جَہْرَۃً فَاَخَذَتْہُمُ الصّٰعِقَۃُ بِظُلْمِہِمْ۝ ٠ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَاۗءَتْہُمُ الْبَيِّنٰتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِكَ۝ ٠ۚ وَاٰتَيْنَا مُوْسٰى سُلْطٰنًا مُّبِيْنًا۝ ١٥٣ سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا قائم مقام بن سکتا ہے اور مال کی استدعا کا جواب اصل میں تو ہاتھ سے ہوتا ہے لیکن زبان سے وعدہ یا انکار اس کے قائم مقام ہوجاتا ہے ۔ نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا كتب والْكِتَابُ في الأصل اسم للصّحيفة مع المکتوب فيه، وفي قوله : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153] فإنّه يعني صحیفة فيها كِتَابَةٌ ، ( ک ت ب ) الکتب ۔ الکتاب اصل میں مصدر ہے اور پھر مکتوب فیہ ( یعنی جس چیز میں لکھا گیا ہو ) کو کتاب کہاجانے لگا ہے دراصل الکتاب اس صحیفہ کو کہتے ہیں جس میں کچھ لکھا ہوا ہو ۔ چناچہ آیت : يَسْئَلُكَ أَهْلُ الْكِتابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتاباً مِنَ السَّماءِ [ النساء/ 153]( اے محمد) اہل کتاب تم سے درخواست کرتے ہیں ۔ کہ تم ان پر ایک لکھی ہوئی کتاب آسمان سے اتار لاؤ ۔ میں ، ، کتاب ، ، سے وہ صحیفہ مراد ہے جس میں کچھ لکھا ہوا ہو سما سَمَاءُ كلّ شيء : أعلاه، قال بعضهم : كلّ سماء بالإضافة إلى ما دونها فسماء، وبالإضافة إلى ما فوقها فأرض إلّا السّماء العلیا فإنها سماء بلا أرض، وحمل علی هذا قوله : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] ، ( س م و ) سماء ہر شے کے بالائی حصہ کو سماء کہا جاتا ہے ۔ بعض نے کہا ہے ( کہ یہ اسماء نسبیہ سے ہے ) کہ ہر سماء اپنے ماتحت کے لحاظ سے سماء ہے لیکن اپنے مافوق کے لحاظ سے ارض کہلاتا ہے ۔ بجز سماء علیا ( فلک الافلاک ) کے کہ وہ ہر لحاظ سے سماء ہی ہے اور کسی کے لئے ارض نہیں بنتا ۔ اور آیت : اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَماواتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ [ الطلاق/ 12] خدا ہی تو ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی زمنینیں ۔ کو اسی معنی پر محمول کیا ہے ۔ موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . رأى والرُّؤْيَةُ : إدراک الْمَرْئِيُّ ، وذلک أضرب بحسب قوی النّفس : والأوّل : بالحاسّة وما يجري مجراها، نحو : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] ، والثاني : بالوهم والتّخيّل، نحو : أَرَى أنّ زيدا منطلق، ونحو قوله : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] . والثالث : بالتّفكّر، نحو : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] . والرابع : بالعقل، وعلی ذلک قوله : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] ، ( ر ء ی ) رای الرؤیتہ کے معنی کسی مرئی چیز کا ادراک کرلینا کے ہیں اور قوائے نفس ( قوائے مدر کہ ) کہ اعتبار سے رؤیتہ کی چند قسمیں ہیں ۔ ( 1) حاسئہ بصریا کسی ایسی چیز سے ادراک کرنا جو حاسہ بصر کے ہم معنی ہے جیسے قرآن میں ہے : لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ثُمَّ لَتَرَوُنَّها عَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 6- 7] تم ضروری دوزخ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوگے پھر ( اگر دیکھو گے بھی تو غیر مشتبہ ) یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔ ۔ (2) وہم و خیال سے کسی چیز کا ادراک کرنا جیسے ۔ اری ٰ ان زیدا منطلق ۔ میرا خیال ہے کہ زید جا رہا ہوگا ۔ قرآن میں ہے : وَلَوْ تَرى إِذْ يَتَوَفَّى الَّذِينَ كَفَرُوا [ الأنفال/ 50] اور کاش اس وقت کی کیفیت خیال میں لاؤ جب ۔۔۔ کافروں کی جانیں نکالتے ہیں ۔ (3) کسی چیز کے متعلق تفکر اور اندیشہ محسوس کرنا جیسے فرمایا : إِنِّي أَرى ما لا تَرَوْنَ [ الأنفال/ 48] میں دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے ۔ (4) عقل وبصیرت سے کسی چیز کا ادارک کرنا جیسے فرمایا : ما كَذَبَ الْفُؤادُ ما رَأى[ النجم/ 11] پیغمبر نے جو دیکھا تھا اس کے دل نے اس میں کوئی جھوٹ نہیں ملایا ۔ جهر جَهْر يقال لظهور الشیء بإفراط حاسة البصر أو حاسة السمع . أمّا البصر فنحو : رأيته جِهَارا، قال اللہ تعالی: لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً [ البقرة/ 55] ، أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً [ النساء/ 153] ( ج ھ ر ) الجھر ( ف) اس کے اصل معنی کسی چیز کا حاسہ سمع یا بصر میں افراط کے سبب پوری طرح ظاہر اور نمایاں ہونے کے ہیں چناچہ حاسہ بصر یعنی نظروں کے سامنے کسی چیز کے ظاہر ہونے کے متعلق کہا جاتا ہے رایتہ جھرا کہ میں نے اسے کھلم کھلا دیکھا قرآن میں ہے :۔ لَنْ نُؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً [ البقرة/ 55] کہ جب تک ہم خدا کو سامنے نمایاں طور پر نہ دیکھ لیں تم پر ایمان نہیں لائیں گے ۔ أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً [ النساء/ 153] ہمیں نمایاں اور ظاہر طور پر خدا دکھا دو ۔ أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ } ( سورة يوسف 79) خدا پناہ میں رکھے کہ جس شخص کے پاس ہم نے اپنی چیز پائی ہے اس کے سو اہم کسی اور پکڑ لیں اور کبھی غلبہ اور قہر کی صورت میں جیسے فرمایا :۔ { لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ } ( سورة البقرة 255) نہ اس پر اونگھ غالب آسکتی اور نہ ہ نیند ۔ محاورہ ہے ۔ صعق الصَّاعِقَةُ والصّاقعة يتقاربان، وهما الهدّة الكبيرة، إلّا أن الصّقع يقال في الأجسام الأرضيّة، والصَّعْقَ في الأجسام العلويَّةِ. قال بعض أهل اللّغة : الصَّاعِقَةُ علی ثلاثة أوجه : 1- الموت، کقوله : فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ [ الزمر/ 68] ، وقوله : فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ [ النساء/ 153] . 2- والعذاب، کقوله : أَنْذَرْتُكُمْ صاعِقَةً مِثْلَ صاعِقَةِ عادٍ وَثَمُودَ [ فصلت/ 13] . 3- والنار، کقوله : وَيُرْسِلُ الصَّواعِقَ فَيُصِيبُ بِها مَنْ يَشاءُ [ الرعد/ 13] . وما ذكره فهو أشياء حاصلة من الصَّاعِقَةِ ، فإنّ الصَّاعِقَةَ هي الصّوت الشّديد من الجوّ ، ثم يكون منها نار فقط، أو عذاب، أو موت، وهي في ذاتها شيء واحد، وهذه الأشياء تأثيرات منها . ( ص ع ق ) الصاعقۃ اور صاقعۃ دونوں کے تقریبا ایک ہی معنی ہیں یعنی ہو لناک دھماکہ ۔ لیکن صقع کا لفظ اجسام ارضی کے متعلق استعمال ہوتا ہے اور صعق اجسام علوی کے بارے میں بعض اہل لغت نے کہا ہے کہ صاعقۃ تین قسم پر ہے اول بمعنی موت اور ہلاکت جیسے فرمایا : ۔ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَمَنْ فِي الْأَرْضِ [ الزمر/ 68] تو جو لوگ آسمان میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب کے سب مرجائیں گے ۔ فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ [ النساء/ 153] سو تم کو موت نے آپکڑا ۔ دوم بمعنی عذاب جیسے فرمایا : ۔ أَنْذَرْتُكُمْ صاعِقَةً مِثْلَ صاعِقَةِ عادٍ وَثَمُودَ [ فصلت/ 13] میں تم کو مہلک عذاب سے آگاہ کرتا ہوں جیسے عاد اور ثمود پر وہ ( عذاب ) آیا تھا ۔ سوم بمعنی آگ ( اور بجلی کی کڑک ) جیسے فرمایا : ۔ وَيُرْسِلُ الصَّواعِقَ فَيُصِيبُ بِها مَنْ يَشاءُ [ الرعد/ 13] اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے پھو حس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے ۔ لیکن یہ تینوں چیزیں دراصل صاعقہ کے آثار سے ہیں کیونکہ اس کے اصل معنی تو قضا میں سخت آواز کے ہیں پھر کبھی تو اس آواز سے صرف آگ ہی پیدا ہوتی ہے اور کبھی وہ آواز عذاب اور کبھی موت کا سبب بن جاتی ہے یعنی دراصل وہ ایک ہی چیز ہے اور یہ سب چیزیں اس کے آثار سے ہیں ۔ ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں عِجْلُ ( بچهڑا) : ولد البقرة لتصوّر عَجَلَتِهَا التي تعدم منه إذا صار ثورا . قال : عِجْلًا جَسَداً [ الأعراف/ 148] ، وبقرةٌ مُعْجِلٌ: لها عِجْلٌ. العجلۃ بچھڑے کو کہتے ہیں کیونکہ اس میں پھرتی پائی جاتی ہے جو بیل کی عمر تک پہنچنے پر ختم ہوجاتی ہے ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ عِجْلًا جَسَداً [ الأعراف/ 148] ایک بچھڑا ( بنالیا وہ ایک جسم تھا : ۔ اور وہ گائے جس کے ساتھ اس کا بچھڑ ہوا سے معجل کہا جاتا ہے ۔ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ بينات يقال : بَانَ واسْتَبَانَ وتَبَيَّنَ نحو عجل واستعجل وتعجّل وقد بَيَّنْتُهُ. قال اللہ سبحانه : وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَساكِنِهِمْ [ العنکبوت/ 38] فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ [ آل عمران/ 97] ، وقال : شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ [ البقرة/ 185] . ويقال : آية مُبَيَّنَة اعتبارا بمن بيّنها، وآية مُبَيِّنَة اعتبارا بنفسها، وآیات مبيّنات ومبيّنات . ( ب ی ن ) البین کے معنی ظاہر اور واضح ہوجانے کے ہیں اور بینہ کے معنی کسی چیز کو ظاہر اور واضح کردینے کے قرآن میں ہے ۔ وَتَبَيَّنَ لَكُمْ كَيْفَ فَعَلْنا بِهِمْ [إبراهيم/ 45] اور تم پر ظاہر ہوچکا تھا کہ ہم نے ان لوگوں کے ساتھ کس طرح ( کاملہ ) کیا تھا ۔ وَقَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنْ مَساكِنِهِمْ [ العنکبوت/ 38] چناچہ ان کے ( ویران ) گھر تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں ۔ ۔ فِيهِ آياتٌ بَيِّناتٌ [ آل عمران/ 97] اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں ۔ شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ [ البقرة/ 185] ( روزوں کا مہنہ ) رمضان کا مہینہ ہے جس میں قرآن ( وال وال ) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے ۔ عفو فالعَفْوُ : هو التّجافي عن الذّنب . قال تعالی: فَمَنْ عَفا وَأَصْلَحَ [ الشوری/ 40] وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوى [ البقرة/ 237] ( ع ف و ) عفوت عنہ کے معنی ہیں میں نے اس سے درگزر کرتے ہوئے اس کا گناہ متادینے کا قصد کیا ز لہذا یہاں اصل میں اس کا مفعول ترک کردیا گیا ہے اور عن کا متعلق مخذوف ہی یا قصدت ازالتہ ذنبہ سار فا عنہ پس عفو کے معنی گناہ سے درگزر کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے ۔ فَمَنْ عَفا وَأَصْلَحَ [ الشوری/ 40] مگر جو درگزر کرے اور معاملہ کو درست کرلے وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوى [ البقرة/ 237] اور اگر تم ہی اپنا حق چھوڑ دو تو یہ پرہیز گاری کی بات ہے ۔ آتینا وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] . [ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔ { فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لَا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا } [ النمل : 37] ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس سے مقابلہ کی ان میں سکت نہیں ہوگی ۔ { مُلْكًا عَظِيمًا } [ النساء : 54] اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی ۔ جن مواضع میں کتاب الہی کے متعلق آتینا ( صیغہ معروف متکلم ) استعمال ہوا ہے وہ اوتوا ( صیغہ مجہول غائب ) سے ابلغ ہے ( کیونکہ ) اوتوا کا لفظ کبھی ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے ۔ جب دوسری طرف سے قبولیت نہ ہو مگر آتینا کا صیغہ اس موقع پر استعمال ہوتا ہے جب دوسری طرف سے قبولیت بھی پائی جائے اور آیت کریمہ { آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ } [ الكهف : 96] تو تم لوہے کہ بڑے بڑے ٹکڑے لاؤ ۔ میں ہمزہ نے الف موصولہ ( ائتونی ) کے ساتھ پڑھا ہے جس کے معنی جیئونی کے ہیں ۔ سلط السَّلَاطَةُ : التّمكّن من القهر، يقال : سَلَّطْتُهُ فَتَسَلَّطَ ، قال تعالی: وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] ، وقال تعالی: وَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] ، ومنه سمّي السُّلْطَانُ ، والسُّلْطَانُ يقال في السَّلَاطَةِ ، نحو : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] ، ( س ل ط ) السلاطۃ اس کے معنی غلبہ حاصل کرنے کے ہیں اور سلطتہ فتسلط کے معنی ہیں میں نے اسے مقہود کیا تو وہ مقہود ہوگیا ۔ قرآن میں ہے :۔ وَلَوْ شاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ [ النساء/ 90] اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر مسلط کردتیاوَلكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلى مَنْ يَشاءُ [ الحشر/ 6] لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے ۔ اور اسی سے بادشاہ کو سلطان ، ، کہا جاتا ہے ۔ اور سلطان کا لفظ تسلط اور غلبہ کے معنی میں بھی آتا ہے ۔ جیسے فرمایا : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماً فَقَدْ جَعَلْنا لِوَلِيِّهِ سُلْطاناً [ الإسراء/ 33] اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٥٣) کعب اور اس کے ساتھی توریت کی طرح ایک نوشتہ کی درخواست کرتے ہیں یا چاہتے ہیں کہ ان پر ایسی کتاب نازل کردی جائے جس میں ان کی خیر وشر ثواب و عذاب و دیگر اعمال سب کچھ ہو، آپ سے جو سوال کرتے ہیں، اس سے بڑھ کر انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کیا تھا، مگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے ڈھٹائی اور جرأت کرنے کی وجہ سے ان کو آگ نے جلا دیا۔ مگر ان اوامرو نواہی کے آجانے کے باوجود انہوں نے بچھڑے کی پوجا شروع کردی، مگر اس زیادتی کے باوجود ہم نے معاف کیا اور ان کا خاتمہ نہیں کیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو تائید حق کیلئے ہم نے یدبیضاء اور عصا کا معجزہ دیا تھا۔ شان نزول : (آیت) ”۔ یسئلک اھل الکتب “۔ (الخ) ابن جریر (رح) نے محمد بن کعب قرطی (رح) سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی کہ موسیٰ (علیہ السلام) ہمارے پاس اللہ کی طرف سے الواح لے کر آئے، آپ بھی ہمارے پاس الواح لائیں، تاکہ ہم آپ کی تصدیق کریں، اس پر (آیت) یسئلک۔ سے لے کر بھتانا عظیما “۔ تک یہ آیات نازل ہوئیں تو ان یہودیوں میں سے ایک شخص گھٹنوں کے بل گرپڑا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) پر اور کسی پر کوئی چیز نازل نہیں کی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” وما قدرواللہ حق قدرہ “۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٥٣ (یَسْءَلُکَ اَہْلُ الْکِتٰبِ اَنْ تُنَزِّلَ عَلَیْہِمْ کِتٰبًا مِّنَ السَّمَآءِ ) یعنی جیسے تورات اتری تھی ‘ ویسے ہی تحریری شکل میں ایک کتاب آسمان سے اترنی چاہیے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو کہتے ہیں مجھ پر وحی آتی ہے ‘ لیکن کہاں لکھی ہوئی ہے وہ وحی ؟ کون لایا ہے ؟ ہمیں تو پتا نہیں۔ موسیٰ ( علیہ السلام) کو تو ان کی کتاب لکھی ہوئی ملی تھی اور وہ پتھر کی تختیوں کی صورت میں اسے لے کر آئے تھے۔ آپ پر بھی اسی طرح کی کتاب نازل ہو تو ہم مانیں۔ (فَقَدْ سَاَلُوْا مُوْسٰٓی اَکْبَرَ مِنْ ذٰلِکَ ) (یہ تعجب کی بات نہیں) انہوں نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑھ کر مطالبے کیے تھے اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ فکر نہ کریں ‘ ان کی پروا نہ کریں۔ انہوں نے ‘ ان کے آباء و اَجداد نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے اس سے بھی بڑے بڑے مطالبات کیے تھے۔ (فَقَالُوْْٓا اَرِنَا اللّٰہَ جَہْرَۃً ) کہ ہم خود اپنی آنکھوں سے اسے دیکھنا چاہتے ہیں ‘ جب دیکھیں گے تب مانیں گے۔ (فَاَخَذَتْہُمُ الصّٰعِقَۃُ بِظُلْمِہِمْ ج) ۔ (ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْم بَعْدِ مَا جَآءَ تْہُمُ الْبَیِّنٰتُ ) ان لوگوں کی نا ہنجاری کا اندازہ کریں کہ نو نو معجزے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے ہاتھوں دیکھنے کے بعد بھی انہوں نے بچھڑے کی پرستش شروع کردی۔ (فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِکَ ج وَاٰتَیْنَا مُوْسٰی سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا ) ۔ فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کو ان کی آنکھوں کے سامنے غرق کردیا۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

181. One of the odd demands which the Jews of Madina made to the Prophet (peace be on him) was that if he wanted them to accept his claim to prophethood he should have them either witness a book descending from the heavens or that each one of them should receive a writ from on high, confirming Muhammad's prophethood and the absolute necessity of believing in him. 182. The purpose here is not to describe the details of any particular event, but merely to mention, in brief, the crimes of the Jews. Hence passing references are made to the main incidents in the national history of the Jews. The particular event referred to has been mentioned earlier in Surah al-Baqarah. (See Towards Understanding the Qur'an, vol. I, (Surah 2: 55; also n. 71.) 183. 'Clear signs' refer here to the signs which people had constantly witnessed from the time of Moses' appointment to his prophetic office, to the drowning of Pharaoh and the deliverance of the Israelites out of Egypt. It is clear that He Who had secured the deliverance of the Israelites from the clutches of the powerful Egyptian empire was not the calf, but God, the Lord of the Universe. One is simply staggered at the overpowering predisposition of the Jews to error, as evidenced by the fact that at that very juncture in their history when they had experienced the most illustrious signs of God's power and grace they bowed down before the image of the calf, rather than before God, their Benefactor.

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :181 مدینہ کے یہودی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جو عجیب عجیب مطالبے کرتے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ہم آپ کی رسالت اس وقت تک تسلیم نہ کریں گے جب تک کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ایک لکھی لکھائی کتاب آسمان سے نازل نہ ہو ، یا ہم میں سے ایک ایک شخص کے نام اوپر سے اس مضمون کی تحریر نہ آجائے کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے رسول ہیں ، ان پر ایمان لاؤ ۔ سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :182 یہاں کسی واقعہ کی تفصیل بیان کرنا مقصود نہیں ہے ، بلکہ یہودیوں کے جرائم کی ایک مختصر فہرست پیش کرنی مقصود ہے ، اس لیے ان کی قومی تاریخ کے چند نمایاں واقعات کی طرف سرسری اشارات کیے گئے ہیں ۔ اس آیت میں جس واقعہ کا ذکر ہے وہ سورہ بقرہ آیت ۵۵ میں بھی گزر چکا ہے ۔ ( ملاحظہ ہو سورہ بقرہ ، حاشیہ نمبر ۷۱ ) سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :183 کھلی کھلی نشانیوں سے مراد وہ نشانیاں ہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رسول مقرر ہونے کے بعد سے لے کر فرعون کے غرق ہونے اور بنی اسرائیل کے مصر سے نکلنے تک پے در پے ان لوگوں کے مشاہدے میں آچکی تھیں ۔ ظاہر ہے کہ سلطنت مصر کی عظیم الشان طاقت کے پنجوں سے جس نے بنی اسرائیل کو چھڑایا تھا وہ کوئی گائے کا بچہ نہ تھا بلکہ اللہ رب العالمین تھا ۔ مگر یہ اس قوم کی طابل پرستی کا کمال تھا کہ خدا کی قدرت اور اس کے فضل کی روشن ترین نشانیوں کا تجربہ اور مشاہدہ کر چکنے کے بعد بھی جب جھکی تو اپنے محسن خدا کے آگے نہیں بلکہ ایک بچھڑے کی مصنوعی مورت ہی کے آگے جھکی ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(153 ۔ 154) ۔ تفسیر سدی، ابن جریر وغیرہ میں سلف کی ایک جماعت سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ یہود نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک روز یہ کہا کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو تختیوں پر لکھی ہوئی ساری تورات ایک ہی دفعہ اللہ کی طرف سے مل گئی تھی۔ اسی طرح یا تو سارا قرآن ایک دفعہ ہی آسمان سے لکھا ہوا تمہارے پاس آجائے۔ اگر یہ نہ ہو تو ہم لوگوں کے نام ایک تحریر اللہ کی طرف سے آجائے کہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی آخر الزمان ہیں۔ اس شرط کے پورا ہوجانے کے بعد ہم تم کو اللہ کا رسول مانیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں ٢۔ اور فرمایا کہ ان لوگوں کا یہ نادانی کا سوال کچھ تعجب کی بات نہیں ہے کیونکہ آخر یہ ان ہی کی اولاد ہیں جنہوں نے دنیا کی آنکھوں سے اللہ کو کھلم کھلا دیکھنا چاہا۔ جس سے ان پر بجلی گری جس کا قصہ بقرہ میں گزرا۔ بچھڑے کو پوجا جس کا ذکر سورة بقرہ میں گزر چکا اور مفصل ذکر سورة اعراف میں آئے گا۔ تورات کے احکام کے موافق عمل کرنے سے انکار کیا۔ اور پھر کوہ طور ان پر ڈالے جانے کا جب خوف دلایا گیا تو اس شرارت سے باز آئے۔ بیت المقدس کے دروازے میں گھستے وقت جو سجدہ شکر کا حکم ان کو دیا گیا تھا اس کے موافق عمل نہیں کیا۔ جس کے سبب سے ان پر طاعون کا عذاب آیا وجود ممانعت کے ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑیں۔ جس کے عذاب میں آدمی سے بندر ہوگئے۔ چناچہ سورة بقرہ میں یہ سب قصے گزرے۔ غرض جب ان کے نے یہ سب شرارتیں کیں تو ان کی اولاد میں سے حال کے لوگوں نے شرارت سے جو سوال کیا ہے اے نبی اللہ کے ان کی شرارت کا کچھ خیال نہ کرنا چاہیے۔ عقبیٰ میں اللہ تعالیٰ کے دیدار کا ذکر صحیح حدیثوں میں آیا ہے ١۔ اس لئے اس دنیا کی آنکھوں سے دیدار کی ممانعت سے جن لوگوں نے عقبیٰ کے دیدار کی ممانعت نکالی ہے ان کی بڑی غلطی ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:153) تنزل۔ تنزل مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ تواتار لائے۔ تواتروائے ۔ تنزیل بروزن تفعیل۔ ترتیب سے اور یکے بعد دیگرے تفریق سے نازل کرنا۔ اتارنا۔ تنزل منصوب بوجہ ان ناصبہ ہے۔ الصعقۃ۔ بجلی کی کڑک۔ صاعقہ کے اصل معنی فضا میں سخت آواز اور ہولناک دھماکہ کے ہیں۔ پھر کبھی تو اس آواز سے صرف آگ ہی پیدا ہوتی ہے اور کبھی وہ آواز عذاب اور نقصان کا سبب بن جاتی ہے اور کبھی اس سے موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔ لہٰذا ان آثار کی وجہ سے صاعقہ بمعنی آگ۔ عذاب۔ موت تینوں طرح قرآن میں مستعمل ہے۔ مثلاً ویرسل الصواعق (13:13) اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے۔ انذرتکم صاعقۃ مثل صاعقۃ عاد وثمود (41:13) میں تم کو مہلک عذاب سے آگار کرتا ہوں جیسے عاد وثمود پر وہ (عذاب) آیا تھا۔ اور فاخذتکم الصاعقۃ (51:44) سو تم کو (ایک ہولناک کڑک کے نتیجہ میں) موت نے آپکڑا۔ صاعقہ یا تو صعق یصعق (سمع) کا مصدر ہے۔ بےہوش ہونا۔ یا صعق سے بمعنی مذکور اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ بےہوش کرنے والی۔ بظلمھم۔ ای بسبب ظلمھم۔ یعنی بسبب ان کے ظلم کے۔ ثم اتخذوا العجل۔ کے بعد الھا محذوف ہے یعنی اس کے بعد انہوں نے بچھڑے کو (اپنا معبود) بنالیا۔ عجل۔ بچھڑا ۔ گوسالہ۔ گائے کا بچہ۔ امام ابو منصور ثعالبی نے فقہ اللغۃ میں گائے بیل کی عمر کے لحاظ سے تین الفاظ استعمال کئے ہیں۔ (1) عجل بچہ (2) شبوب جوان (3) فارض عمر رسیدہ۔ البینت۔ یعنی الدلات الواضحات صریح اور واضح دلیلیں مثلاً عصا۔ یدبیضائ۔ سمندر کا پھٹ جانا۔ سلطنا مبینا۔ روشن معجزات۔ واضح دلائل ۔ یارعب و دبدبہ۔ واضح غلبہ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 اس آیت میں یہو د کی دوسری جہالت کا بیان ہے اور اس سے مقصد ان کے تعنت اور جبلی صد وعناد کو بیان کرنا ہے۔ (کبیر) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان تو لانا نہیں چاہتے تھے مگر ازراہ شرارت نت نئے وارد کرتے رہتے تھے۔ ایک مرتبہ کچھ یہود آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تختیاں ملی تھیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں سے اسی طرح کی کتاب لاکر دکھائیں تاکہ ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق کریں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئیں (ابن جریر) قرآن نے اس شبہ کے جواب میں پہلے تو ان پر الزامات عائد کئے اور پھر انا اوحینا الا یہ سے اس شبہ کو تحقیقی جواب دیا ہے، کبیر) اور یہ سلسلئہ بیان آیت 107 تک چلا گیا ہے اس کے بعد یا ھل الکتاب الا تغلوا سے نصاریٰ سے خطاب ہے۔ (فتح الر حمن)9 فرمایا کہ موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کتاب لائے تو تم نے اس سے بھی بڑا مطالبہ پیش کردیا یعنی یہ کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا دیدار حاصل ہو۔ (دیکھئے سورت بقرہ آیت 55) 1 یعنی کو انہوں نے تعنت اور عناد سے کام لیا لیکن آخر کا رمو سی ٰ ( علیہ السلام) کو سلطنت واقتدار حاصل ہوگیا اور یہ لوگ ان کے حکم کے خلاف ورزی نہ کرسکے۔ اس میں بر سبیل تنبیہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بشارت دی ہے کہ آخر کار معاند مغلوب ہوں گے۔ اس کے بعد ان کی دوسری جہالتوں کا بیان ہے (کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 22 ۔ آیات 153 تا 162 ۔ بے عملی کے بہانے : کج بحثی کرنا یہود کی پرانی عادت ہے اور اس بدبخت قوم کی تاریخ ہی یہ ہے کہ اللہ کے بندوں کو اللہ کے دین اور اللہ کے رسولوں کو انہوں نے بہت ایذاء پہنچائی اور ہمیشہ الٹ بات سوچتے اور کہتے بھی ہیں کرتے بھی الٹ ہیں۔ اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرتے ہیں آپ آسمان سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آئیں پھر ہم ایمان لائیں گے مگر خود موسیٰ (علیہ السلام) سے جو طور پر سے لکھی لکھائی کتاب لے کر آگئے تھے انہوں نے اس سے بھی بہت بڑا سوال کردیا تھا اور وہ تھا کہ ہم کو کھلم کھلا اللہ کی زیارت کرا دیں جب مانیں گے اس زیادتی پر ان پر برق گری اور تباہ ہوگئے مگر موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے پھر زندگی عطاء ہوئی سمندر پھٹ کر راستہ بن گیا فرعون جیسا ظالم و جابر ان کے دیکھتے دیکھتے غرق ہوگیا اس سے پہلے کتنے مقابلے اور معرکے موسیٰ (علیہ السلام) کے فرعون کے ساتھ ہوئے یہ سب کچھ ان لوگوں کا آنکھوں دیکھا تھا۔ پھر بچھڑے کو سجدہ کرنے لگ گئے پھر سزا مسلط ہوئی۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے معافی لے کردی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو ہم نے رعب و دبدبہ اور شہروں اور قوموں پہ غلبہ عطا فرمایا جس کے طفیل انہیں بغیر مشقت کے شہروں پہ تسلط نصیب ہوتا رہا مگر یہ ایسے بد نصیب ہیں کہ پھر بگڑ گئے اور کہنے لگے۔ ہم سے یہ تورات کے احکام کی پابندی نہیں ہوتی بھلا یہ بھی کوئی بات ہے ہم اپنی مرضی سے رہیں گے جو چاہیں گے کریں گے ہم نے پورا طور پہاڑ اٹھا کر ان کے اوپر لٹکا دیا کہ مانو یا اوپر پہاڑ گرے گا تب مان کردیا۔ ہم نے انہیں بغیر لڑائی کے شہر پہ قبضہ دے دیا اور صرف اتنا حکم دیا کہ جب شہر کے دروازے میں داخل ہوگے تو سر جھکا کر اور عاجزی ظاہر کرتے ہوئے داخل ہونا اور ہفتہ کے روز مچھلی کا شکار نہ کرنا اور ان سے بڑے پکے وعدے لیے انہوں نے اپنے نبی کی وساطت سے بڑے وعدے کئے مگر ہوا کیا ان بدبختوں نے وعدے تور ڈالے اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو ناحق قتل کیا یعنی جب ان کو ممالک پہ قبضہ مل گیا ریاستوں اور سلطنتوں کے والی بنے تو یکسر بدل گئے حتی کہ پھر جب نبی بھیجے گئے تو انہوں نے ظلماً شہید کردئیے قتل تو ویسے بھی ناحق ہی تھا۔ یہاں قتل ناحق سے مراد غالبا یہ ہے کہ قاتل بھی جانتا ہے کہ مقتول ظلماً مارا جا رہا ہے اس کا کوئی گناہ یا قصور نہیں ، ان کرتوتوں کے مالک دعوے یہ کرتے تھے کہ ہمارے قلوب تو پردوں میں ہیں ہم کبھی گمراہ ہو ہی نہیں سکتے ان سب مظالم کا قدرتی نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کی طرف سے ان یہودیوں کے دلوں پر مہر کردی گئی ان میں بہت ہی کم خوش نصیب ہوں گے جن کو ایمان نصیب ہو ورنہ یہ کفر ہی پہ مرتے ہیں۔ اور ہمیشہ دین برحق کی مخالفت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ دیکھو ! حضرت مریم پر کیسا ظالمانہ بہتان لگایا اور کتنا بڑا طوفان باندھا کافر تو تھے ہی پھر ایک نئے نبی کے ساتھ بھی صرف کفر ہی نہیں کیا بلکہ ان کے خلاف ان کی نیک اور پارسا والدہ ماجدہ کے خلاف کتنا طوفان کھڑا کردیا پھر یہ ایسے بدکار ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے درپے ہوگئے چونکہ علمی اور دلائل کے میدان میں یہ مقابلہ کرنے سے عاجز آ چکے تھے۔ سو بادشاہ کو بھڑکا کر قتل کا حکم صادر کروایا اور پوری کوشش کی مگر قتل نہ کرسکے ان کا یہ کہنا کہ ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو قتل کردیا ہے۔ صریح جھوٹ ہے نہ یہ انہیں قتل کرسکے نہ سولی پ چڑھا سکے ہاں انہیں خود شبہ میں مبتلا کردیا گیا۔ بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ جو آدمی عیسیٰ (علیہ السلام) کی نشاندہی کرنے کے لیے فوجی دستہ لے کر گیا مکان کے اندر داخل ہوا تو عیسیٰ (علیہ السلام) تو موجود نہ تھے اللہ نے آسمانوں پہ اتھا لیا تھا لیکن اس شکل ان جیسی دکھائی دینے لگی۔ واپس باہر آیا کہ وہ وتو اندر نہیں ہیں مگر انہوں نے پکڑ لیا کہ ہم نے پہچان لیا ہے اور سولی پہ چڑھا دیا مگر اپنا آدمی تلاش کرنے اندر گئے تو اندر تو کوئی تھا نہیں باہر آئے تو اپنے آدمی کی لاش کو سولی پہ پاکر پریشان ہوگئے معاملہ چھپانا چاہا چھپا بھی نہ سکے کہ آدمی کہاں ہے ؟ پھر عیسیٰ کی میت دکھاؤ ان سب کا کوئی جواب نہ تھا۔ اسی لیے علمائے یہود میں خود اختلاف رائے موجود ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی نگاہ میں یہ سارا معاملہ مشکوک ہے اب ان کے پاس کوئی قطعی دلیل تو ہے نہیں سوائے اندازے کے اور گمان کے کہ اٹکل لگاتے رہیں یوں ہوا ہوگا یا پھر یوں ہوا ہوگا۔ اصل معاملہ کیا ہوا یہ واقعات جو مفسرین نے لیے ہیں یہ بھی کوئی زیادہ قابل بھروسہ نظر نہیں آتے کہ تفصیل نہ قرآن میں ہے نہ حدیث میں۔ ہاں کتاب اللہ نے ایک فیصلہ کردیا۔ وما قتلوہ یقینا۔ یہ یقینی اور قطعی بات ہے کہ وہ انہیں قتل نہیں کرسکے بلکہ اللہ کریم نے انہیں اٹھا لیا اور اللہ غالب بھی ہے اور حکمت والا بھی ہے۔ جو چاہے کرے جس تدبیر سے چاہے کرے یہ جو لوگ رفع سے مراد قبض روح لیتے ہیں ان کو یہ ضرور سوچ لینا چاہئے کہ قتل اور سولی کا نتیجہ بھی موت ہی تھا اگر وہ نہ دے سکے اللہ نے دے دی تو یہود کا مدعا تو پورا ہوگیا یہ رفعہ اللہ الیہ کی کیا ضرورت باقی رہی۔ فرق کیا پڑا ؟ غالباً بات پہلے سورة بقرہ میں گذر چکی ہے مگر پھر بھی چند الفاظ ان کی آگاہی کے لیے ضروری ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ آسمانوں پہ انسانی زندگی کا تصور ممکن نہیں ، کھاتے کیا ہوں گے ؟ رفع حاجت کیسے کرتے ہوں گے ؟ تو کیا رحم مادر کے تہہ در تہہ پردوں میں زندگی کا تصور آسان ہے ؟ وہ کہاں سے کھاتا ہے ، رفع حاجت کے لیے بچہ کہاں جاتا ہے جو قادر مطلق یہاں اہتمام کرسکتا ہے وہ وہاں بھی کرسکتا ہے پھر کوئی جس عالم میں بستا ہے ، غذا موسم اوقات وہاں کے ہوتے ہیں یہاں سے گئے تو دوہزار سال ہونے کو ہیں لیکن عنداللہ دنیا کے ہزار سال کا ایک دن ہے تو انہیں ابھی وہاں ٹھہرے ہوئے دو 3 روز بھی پورے نہیں ہوئے لہذا ان سب امور کے لیے پہلے قدرت باری کا اقرار ضروری ہے اللہ کو ہرچیز پہ قادر ماننا ضروری ہے اور وہ ہر شے پہ غالب ہے معترض اپنے اوپر قیاس کرتے ہیں اب ان کی موت کا مسئلہ کیسے حل ہوگا ؟ فرمایا وہ دنیا پہ دوبارہ نازل ہوں گے جس کی تفصیل حدیث شریف میں موجود ہے شادی کریں گے اولاد ہوگی مدینہ منورہ میں روضہ اطہر کے اندر دفن ہوں گے اور چوتھی قبر کی جگہ تاحال موجود بھی ہے سو ان کی موت کا سوال بھی حل ہوجائے گا۔ مولانا تھانوی نے لکھا ہے کہ قبض روح سے قبل برزخ کھول دیا جاتا ہے تو اس وقت ان کو پتہ چل جاتا ہے مگر اس وقت کا ایمان کافر کے لیے مفید نہیں ہوتا کہ کفر سے توبہ کا وقت گذر چکا ہوتا ہے اور انہیں زیادہ تسلی چاہئے تو یہ تھوڑا انتظار اور کرلیں یوم حشر ہم عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کے کرتوتوں پہ گواہ لائیں گے جو ان کے وہ مظالم جو ان کے ساتھ یا ان کے روبرو مسلمانوں کے ساتھ یا اسلام کے ساتھ انہوں نے روا روکھے ان سب کا حساب ہوگا تو ان کی تسلی ہوجائے گی۔ ہم نے ان پر بہت سی ایسی چیزیں حرام کردیں جو پہلے ان پر حلال تھیں اس کی وجہ ان کے مظالم تھے اور ان کے گناہ تھے حرام تو شریعت محمدی اور دینی اسلام نے بھی بعض اشیاء کو کیا ہے مگر وہ سب کی سب انسان کے لیے یا جسمانی طور پر مضر ہیں یا روحانی طور پر نقصان دہ ان پر تو بطور سزا ایسی چیزیں جو انسانوں کے لیے مفید تھیں حرام کردی گئیں کہ ان کے کرتوت ہی ایسے تھے۔ لوگوں کو نیکی اور بھلائی سے اور اللہ کے راستے سے روکنا اللہ کی یاد سے منع کرنا اور سود کھانا جبکہ وہ ان کے لیے حرام تھا اور ناجائز طور پر لوگوں کے مال کھاجانا یہ ایسے کرتوت تھے کہ ان کی وجہ سے یہ کفر میں مبتلا ہو کر اس دردناک عذاب کے سزاوار قرار پائے جو ہم نے کافروں کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ ہاں ان میں باوجود ان سب برائیوں کے کچھ لوگ ضرور ہیں جو علم دین میں پختہ اور صاحب کردار ہیں یہی وجہ ہے کہ جب آپ نے دعوے نبوت فرمایا تو چونکہ نشانیاں بھی پہلے سے ان کے پاس تھیں وقت کا اندازہ بھی تھا عقائد پہ بھی نظر تھی اور سب سے بڑی بات یہ کہ مخلص اور صاحب کردار تھے اور جو پہلی کتاب ان کے پاس تھی اس پر ایمان رکھتے تھے عمل کرتے تھے سو جب آپ پر نازل ہوئی تو اس پر بھی ایمان لے آئے نمازیں قائم کرتے ہیں یعنی پوری شرائط کے ساتھ ادا بھی کرتے ہیں اور دوسروں کو ادائیگی کی تلقین بھی زکوۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ پر اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں ایسے لوگوں کو ہم بہت بڑا انعام اور اجر عطا فرمائیں گے مگر یہ گنتی کے چند خوش نصیب تھے جیسے استثناء کا قانون تو ہر جگہ ہے ورنہ یہود بےبہبود نے ہمیشہ دین برحق اور دینداروں کو نقصان پہنچایا ظہور اسلام کے بعد اکثر جنگوں میں سازشیں ان کی تھیں پھر انہوں نے سب سے پہلے فرقہ بازی اور گروہ بندی کی بنیاد رکھی یہ ابن سبا یہودی اور اس کے گروہ کا کام تھا۔ جو آج تک اسلام اور مسلمانوں دونوں کو مسلسل نقصان پہ نقصان پہنچاتا چلا جا رہا ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 153-159 لغات القرآن : سالوا، انہوں نے سوال کیا۔ ارنا، ہمیں دکھا دے۔ لاتعدوا، تم حد سے نہ بڑھو۔ نقض، توڑنا۔ طبع اللہ، اللہ نے مہر لگا دی۔ ماصلبوہ، انہوں نے اس کو پھانسی نہیں دی۔ لیؤمنن، البتہ وہ ضرور ایمان لائیں گے۔ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسکین دینے کے لئے قوم یہود کی نفسیات اور بعض نازیبا حرکتوں کو پیش کیا ہے۔ یہود کے چند سردار حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا اگر آپ بھی ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب آسمان سے نازل شدہ ہمیں دکھا دیں جس طرح ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوچکی ہے تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی کہ یہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ ان کا جو مطالبہ ہے وہ سراسر بہانہ ہے۔ ان کے آباء و اجداد اس سے بھی زیادہ نامعقول مطالبے حضرت موسیٰ سے کرچکے ہیں۔ اگر صرف ایک مکمل لکھی ہوئی کتاب کا سوال ہوتا تو انہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر پوری طرح ایمان لے آنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہود نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ بھی کہا تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی صورت بےپردہ اور بےحجاب دکھا دو ۔ اس جسارت پر اللہ کے قہر کی صورت میں ان پر بجلی اچانک ٹوٹ پڑی۔ پھر اگرچہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی نظروں کے سامنے فرعون کو اس کے لشکریوں کے ساتھ غرق کردیا تھا۔ ان کیلئے من وسلویٰ کا انتظام کیا اور اپنی قدرت و حکمت کی دوسری اعلیٰ سے اعلیٰ نشانیاں دکھائیں، پھر بھی وہ ایمان لائے تو کس پر ؟ ایک خود ساختہ بچھڑے پر اور انہوں نے اس کو پوجنا شروع کردیا۔ اللہ نے ان کا یہ گناہ بھی معاف کیا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت کی دس ایسی تختیاں عطا فرمائیں جس میں دس واضح احکام تھے۔ ان آیات سے معلوم ہوتا کہ پھر بھی انہوں نے نافرمانی کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے کوہ طور اٹھا کر ان کے سروں کے اوپر معلق کردیا تھا کہ اگر حکم نہیں مانو گے تو کچل دئیے جاؤ گے۔ ڈر کے مارے حکم ماننے لگے مگر جب کوہ طور ان کے سروں پر سے اٹھا لیا گیا تو پھر باغی ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ جب شہر ایلیا میں داخل ہو تو دروازے میں خاکسارانہ سر جھکائے ہوئے اور اللہ کو سجدے کرتے ہوئے داخل ہونا۔ یہ بھی حکم دیا کہ سبت (ہفتہ) کے دن مچھلیاں نہ کپڑنا۔ انہوں نے اللہ کے احکام سے ہمیشہ کفر کیا اور نافرمانی اس درجہ کو پہنچ گئی کہ حضرت یحییٰ اور چند پیغمبروں کو ناحق قتل کر ڈالا۔ اور اب بےشرمی اور ضلالت کی انتہا یہ ہے کہ کھلم کھلا فخر و ناز سے دعویٰ کرتے پھرتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے رسول عیسیٰ مسیح کو بھی صلیب چڑھا کر موت دے دی۔ انہوں نے حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر جو بہتان عظیم لگایا اس کا جواب انہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبانی مل چکا تھا جب وہ چند گھنٹوں کے بچے ہی تھے۔ اور یہود یہ جواب سن کر مطمئن ہوگئے تھے۔ لیکن جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے نبوت کا کام شروع کیا اور اپنی امت کو نصیحت کرنے لگے تو پھر انہوں نے لعن طعن پر زبان دراز کی اور دشمنی کو اس درجہ پہنچا دیا کہ انہیں ایک عدالت سے موت کی سزا دلوادی۔ اور ان کو قید کرنے کی ناکام کوشش کی۔ لیکن راتوں رات اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو روح اور جسم کے ساتھ آسمان پر اٹھا لیا۔ کہا جاتا ہے کہ صبح کو یہودی قید خانے کے دروازے پر جمع ہوئے اور اپنے میں سے ایک کو بھیجا کہ اندر جا کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پکڑ کر باہر لاؤ۔ وہاں وہ انہیں ڈھونڈتا رہ گیا ۔ وہ نہیں ملے۔ جب وہ باہر نکلا تو اس کا چہرہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جیسا ہوگیا تھا۔ یہودیوں نے اسے ہی پکڑ کر صلیب پر لٹکا دیا اور مشہور کردیا کہ انہوں نے مسیح کو پھانسی دے دی۔ یہودیوں اور خود عیسائیوں میں صلیب کے طرح طرح کے واقعات مشہور ہیں کہ جو لٹکایا گیا وہ واقعی کون تھا۔ ایک گروہ کا کہنا یہ ہے کہ وہ حضرت عیسیٰ کا ایک ہم شکل حواری تھا جس نے اپنے نبی کے عوض اپنے آپ کو پیش کردیا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ وہی یہودی تھا جو اندر ڈھونڈنے گیا تھا۔ بہرحال حقیقت کیا تھی کسی کو نہیں معلوم۔ قرآن صرف اسی قدر ظاہر کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ کو جسم اور روح سمیت اوپر اٹھا لیا یعنی انہیں موت آئی نہ ان کو صلیب پر چڑھایا گیا بلکہ وہ اب تک زندہ ہیں مگر اس دنیا میں نہیں بلکہ آسمانوں پر زندہ ہیں۔ آیت 159 میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت عیسیٰ پھر اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ زندگی گزارنے کے بعد طبعی موت سے انتقال کریں گے۔ اس وقت ان کو چلتا پھرتا بولتا چالتا اور ہر طرح زندہ دیکھ کر تمام یہودی اور عیسائی ان کی غیر مصلوبیت اور رفع الی اللہ پر ایمان لے آئیں گے۔ اور جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے قیامت کے دن تمام پیغمبر اپنی اپنی امت کے ساتھ حاضر ہوں گے اور اپنی اپنی امت کی حرکات و اعمال پر گواہی دیں گے ۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ بھی وہاں موجود ہوں گے اور اپنی امت کی حرکات و اعمال پر گواہی دیں گے اور صلیب کے واقعہ سے پردہ ہٹائیں گے یہ مسئلہ سورة آل عمران میں بھی گزر چکا ہے حضور پرنور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی متواتر احادیث ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے قریب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا دنیا میں نزول ہوگا۔ وہ حضور کی امت بن کر جئیں گے اور وفات پائیں گے۔ ان کے زمانے میں یہودیت اور عیسائیت ختم ہوجائے گی کیونکہ سارے یہود و نصاریٰ صحیح صحیح ایمان لے آئیں گے۔ ہر طرف اسلام ہی کا بول بالا ہوگا۔ ان احادیث کی تعداد ایک سو سے کم نہیں ہے جو اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پھانسی نہیں دی گئی بلکہ وہ آسمانوں پر جسم و روح کے ساتھ زندہ ہیں۔ قرآن کریم اور متواتر احادیث کے باوجود قادیانیوں کا یہ دعویٰ کس قدر مضحکہ خیز اور جاہلانہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کا انتقال ہوگیا اور وہ کشمیر میں دفن ہیں (نعوذ باللہ) بغیر کسی ثبوت کے اتنا بڑا دعویٰ کرنا کائنات کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ اور ایسا دعویٰ وہی لوگ کرسکتے ہیں جن کی ساری بنیاد ہی جھوٹ پر ہے۔ اللہ ہمیں قادیانیوں کے فریب سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

6۔ یہود نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے براہ عناد یہ درخواست کی کہ ہم آپ سے جب بعیت کریں کہ ہمارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نوشتہ اس مضمون کا آئے کہ از جانب اللہ بنام فلاں یہودی آنکہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رسول ہیں۔ اس طرح ہر ہر یہودی کے نام یہ خطوط ہوں اللہ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تسلی فرمائی کہ یہ لوگ ہمیشہ سے ایسی جہالتیں کرتے آئے ہیں آپ دل شکستہ نہ ہوں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اہل کتاب موقعہ بموقعہ مختلف الفاظ اور انداز میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر اعتراض اٹھاتے رہتے تھے اسی سبب سے وہ آپ کی نبوت کا انکار اور انبیاء کے درمیان تفریق کرتے تھے جس کا سورة الانعام، آیت : ١٢٤ میں یہ جواب دیا گیا۔ کسی کو نبوت عطا کرنا اللہ تعالیٰ کا خاص کرم ہوا کرتا ہے جس کے بارے وہی جانتا ہے کہ کون سے کندھے بار نبوت اٹھا سکتے ہیں اور کس کا سینہ انوار نبوت کو سما سکتا ہے اور کون سی زبان اس کا حق ادا کرسکتی ہے اہل کتاب کے اعتراض کا مقصد یہ تھا کہ نبوت ہماری بجائے اسماعیل (علیہ السلام) کے خاندان کو نہیں ملنی چاہیے تھی اب اہل کتاب اس بات کو دوسرے انداز میں پیش کرتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ اے محمد کتاب تجھ پر نازل ہوئی ہے اور ہم پر نہیں اتری۔ ہم تب ایمان لائیں گے کہ جب ہم پر کتاب نازل کی جائے اور اس میں ہمیں براہ راست ایمان لانے کی دعوت دی جائے۔ یہاں اس بیہودہ سوال کا جواب فقط اتنا ہی دیا گیا ہے کہ یہ لوگ اس سے بڑھ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو لایعنی سوال کرچکے ہیں۔ جب کوہ طور سے موسیٰ (علیہ السلام) لکھی ہوئی کتاب ان کے پاس لائے تو یہ کہنے لگے کہ ہم اس کتاب کی تصدیق تب ہی کرسکتے ہیں کہ جب ہم براہ راست اللہ تعالیٰ کو خود دیکھ لیں ہمیں یقین ہو کہ واقعی ہی اللہ تعالیٰ کوہ طور پر آکر آپ سے ہم کلامی کرتا ہے تب ان کے گستاخانہ مطالبے کی پاداش میں کڑک نے انہیں آلیا اور وہ اس وقت مرگئے لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے صلہ میں انہیں دوبارہ زندہ کیا گیا۔ (الاعراف : ١٥٥) اس جواب کے ساتھ ان کے جرائم پر مشتمل درج ذیل فرد جرم عائدکر دی گئی جس میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تسلی دی گئی ہے کہ ایسی باتیں کرنا ان کا پرانا وطیرہ ہے اس کے ساتھ بھی مسلمانوں کو بےمقصد سوال کرنے سے احتراز کرنے کی نصیحت کی گئی ہے اور یہود کو انتباہ کیا گیا ہے کہ باز آجاؤ تمہاری بھلائی اسی میں ہے ورنہ تمہارے آباؤ اجداد کی طرح تمہیں بھی نیست و نابود کردیا جائے گا۔ ہاں تم وہی لوگ ہو جنہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے بڑے بڑے معجزات دکھائے جن میں موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ کا چودہویں رات کے چاند کی طرح چمکنا، لاٹھی کا اژدہا بن کر جادوگروں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل جانا، ملک کے جادو گر جو مصر کے چنے ہوئے دانشور تھے ان کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانا، بنی اسرائیل یعنی تمہارا بحفاظت دریا عبور کرنا، فرعون اور اس کے لشکروں کا غرقآب ہونا۔ ان عظیم معجزات کے باوجود جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) طور پر گئے تو تمہارا بچھڑے کو مشکل کشا اور معبود بنا ناان بڑے جرائم کے باوجود ہمارا تم کو معاف کردینا۔ یہودیوں کی گستاخیاں اور بےہودہ اعتراض : ١۔ سرور دوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اعتماد اور یقین کرنے کے بجائے اپنے آپ پر کتاب نازل کیے جانے کا مطالبہ کرنا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کو براہ راست دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔ ٣۔ بچھڑے کو معبود بنانا۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے پختہ عہد کو توڑنا۔ ٥۔ سجدہ کرنے کی بجائے کلام اللہ کو بدلنا اور تمرد اختیار کرنا۔ ٦۔ ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنا۔ ٧۔ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرنا۔ ٨۔ انبیاء (علیہ السلام) کو ناحق قتل کرنا۔ ٩۔ تعصب اور حسد کی وجہ سے اپنے دلوں کو ملفوف قرار دینا۔ ١٠۔ حضرت مریم [ پر بدکاری کا الزام لگانا۔ ١١۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کا دعوی کرنا۔ مسائل ١۔ بےمقصد سوال کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا پرلے درجے کی گستاخی ہے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو واضح دلائل عطا فرمائے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کو بار بار معاف کیا۔ تفسیر بالقرآن یہودیوں کے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبات : ١۔ ہم اللہ کو اپنے سامنے دیکھنا چاہتے ہیں۔ (البقرۃ : ٥٥) ٢۔ ہم ایک کھانے پر اکتفا نہیں کرسکتے۔ (البقرۃ : ٦١) ٣۔ گائے کے بارے میں بار بار سوال کرنا۔ (البقرۃ : ٦٨) ٤۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کے لیے پانی طلب کرنا۔ (البقرۃ : ٦٠) ٥۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مقتول کے بارے میں سوال کرنا۔ (البقرۃ : ٧٢) ٦۔ قوم کا مختلف عذابوں سے نجات کے لیے درخواست کرنا۔ (الاعراف : ١٣٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

جزیرۃ العرب میں یہودیوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام کے مقابلے میں کھلا معاندانہ دشمنی کا موقف اختیار کیا ۔ وہ آپ کے خلاف مسلسل خفیہ اور نہایت ہی معاندانہ سازشیں تیار کرتے رہے جن کی تفصیلات کو قرآن مجید نے بیان کیا ہے ۔ اور جن کے کچھ رنگ ہم سورة بقرہ ‘ سورة آل عمران اور خود اسی سورة کے پارہ پنجم میں دکھا چکے ہیں ۔ ان آیات میں جو باتیں کہی جا رہی ہیں وہ بھی ان کے اس مسلسل موقف کا ایک رنگ ہے ۔ ان کی پہلی ہٹ دھرمی یہ ہے کہ وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ آسمانوں سے ایک کتاب نازل فرما دیں ‘ یہ لکھی ہوئی ہو ‘ وہ مجسم طور پر آسمانوں سے انکے سامنے آرہی ہو اور وہ اسے اپنے ہاتھوں کے ساتھ چھولیں ۔ (آیت) ” یسئلک اھل الکتب ان تنزل علیھم کتبا من السمآء (٤ : ١٥٣) اے نبی ! یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر ان پر نازل کراؤ) اس سوال کا جواب ‘ حضرت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جانب سے خود اللہ تعالیٰ عنایت فرماتے ہیں اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کے سامنے ‘ یہودیوں کی تردید کرتے ہوئے خود یہودیوں کی اپنی تاریخ سے ‘ ان کا اپنے نجات دہندہ اور قائد اور عظیم نبی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ان کے رویے کی ایک جھلک پیش فرماتے ہیں ۔ حالانکہ ان یہودیوں کا زعم یہ ہے کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لاتے ہیں اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی تصدیق نہیں کرتے ۔۔۔۔۔۔ ان کی تاریخ کا یہ صفحہ الٹ کر بتایا جاتا ہے کہ ان کی یہ عادت کوئی نئی عادت نہیں ہے ۔ موجودہ مدینہ کے یہودی ہی ایسے سوالات نہیں کر رہے بلکہ از منہ قدیمہ سے ان کی ایسی ہی عادت رہی ہے ۔ ان کی جبلت آج بھی وہی ہے جو عہد موسیٰ میں ہوا کرتی تھی حالانکہ وہ انکے قائد بھی تھے ‘ نبی بھی تھے اور ان کے نجات دہندہ بھی تھے ۔ وہ موٹے دماغ کے لوگ ہیں ۔ ان کو صرف محسوس چیزوں کو دیکھ کر یقین ہوتا ہے ۔ جس طرح یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں ہٹ دھرم تھے ‘ عناد کرنیوالے تھے اور ماسوائے اس کے کہ انہیں کسی کی بات کو زبردستی تسلیم کرنے پر مجبور کردیا جائے ‘ یہ مان کر نہیں دیتے ۔ یہ آج بھی ویسے ہی کفر پیشہ اور غدار ہیں اور دوڑکر وعدہ توڑنے والے ہیں ۔ یہ وہی ہیں جھوٹے اور گندے لوگ ۔ وہ کسی موقف پر ثابت قدم رہنے والے نہیں ہیں ۔ اور نہ ہی یہ لوگ بدگوئی سے چوکتے ہیں ۔ یہ ہر وقت لالچ کے بندے ہیں اور دنیا پرستی انکا شعار ہے ۔ لوگوں کے مال باطل اور ناجائز طریقے سے کھانا ان کا وطیرہ ہے ۔ یہ بھی ان کی قدیم عادت ہے کہ یہ لوگ اللہ کے حکم سے روگردانی کرتے ہیں اور اس کے ہاں جو ثواب آخرت میں ملتا ہے اسے خاطر ہی میں نہیں لاتے ۔ ان آیات میں ان کے خلاف یہ مہم اسی لئے چلائی گئی ہے کہ ان کی حقیقت کھول کر سامنے رکھدی جائے ۔ انہیں شرمندہ کردیا جائے ۔ اس مہم کے زور اور اس کے تنوع کو دیکھ کر معلوم ہوجاتا ہے کہ اس وقت یہودی سازش کو بےنقاب کرنے کی کسی قدر ضرورت تھی جو سازش وہ اسلام اور وقت کے نبی کے خلاف کر رہے تھے ۔ یہودیوں کی یہی حیثیت اور ناپاک سازشیں ہیں جو آج تک اس دین اور اس کے ماننے والوں کے خلاف بدستور جاری ہیں ۔ (آیت) ” یسئلک اھل الکتب ان تنزل علیھم کتبا من السمآء (٤ : ١٥٣) اے نبی ! یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر ان پر نازل کراؤ) آپ ان کی اس ہٹ دھرمی سے پریشان نہ ہوں ‘ اس لئے کہ انکی یہ ہٹ دھرمی تعجب انگیز تعجب انگیز نہیں ہے ‘ نہ یہ کوئی نئی بات ہے ۔ (آیت) ” فقد سالوا موسیٰ اکبر من ذلک فقالوا ارنا اللہ جھرۃ (٤ : ١٥٣) ”(تو اس سے بڑھ چڑھ کر مجرمانہ مطالبے یہ پہلے موسیٰ سے کرچکے ۔ اس سے تو انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں خدا کو علانیہ دکھا دو ) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے جو بیشمار معجزات نازل فرمائے تھے وہ ان کے احساس کو نہ جگا سکے ۔ ان عظیم معجزات سے بھی ان کے وجدان کے اندر کوئی ارتعاش پیدا نہ ہوا۔ اور یہ حیران کن معجزات بھی ان کے دلوں کو مائل بہ ہدایت و اطاعت نہ کرسکے اور یہ بدبخت آگے بڑھے اور ذات باری کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کا مطالبہ کردیا ۔ بالکل کھلے بندوں دیکھنے کا ۔ یہ ان کا ایک متکبرانہ مزاج اور مطالبہ تھا ‘ جس میں ایمان کی تروتازگی سرے سے موجود ہی نہ تھی بلکہ ان کی جبلت میں سرے سے ایمان کی استعداد ہی موجود نہ تھی ۔ ٍ (آیت) ” فاخذتھم الصعقۃ بظلمھم) اور اسی سرکشی کی وجہ سے یکایک ان پر بجلی ٹوٹ پڑی تھی ۔ لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف ہی کردیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا اور اپنے آپ سے ان کے بارے میں عاجزانہ التماس کو قبول ہی کرلیا ۔ اس دعا کی تفصیلات سورة اعراف (١٥٥) میں ہیں ۔ (آیت) ” فلما اخذتھم الرجفۃ قال رب لوشئت اھلکنھم من قبل وایایء اتھلکنا بما فعل السفھآء منا ان ھی الا فتنک تضل بھا من تشآء وتھدی من تشآء انت ولینا فاغفرلنا وارحمنا وانت خیر الغفرین (١٥٥) واکتب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ انا ھدنا الیک (١٥٦) (٧ : ١٥٥۔ ١٥٦) (جب ان لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آپکڑا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا ۔ ” اے میرے سرکار ‘ آپ تو پہلے ہی ان کو اور مجھے ہلاک کرسکتے تھے ‘ کیا اس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کردیں گے ؟ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی آزمائش تھی جس کے ذریعے سے آپ جسے چاہتے ہیں گمراہی میں مبتلا کردیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت پخش دیتے ہیں ۔ ہمارے سرپرست تو آپ ہی ہیں ۔ پس ہمیں معاف کردیجئے اور ہم پر رحم فرمائیے ۔ آپ سب کو معاف فرمانے والے ہیں ۔ اور ہمارے لئے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجئے اور آخرت کی بھی ۔ ہم نے آپ کی طرف رجوع کرلیا ہے۔ “ ) (آیت) ” ثم اتخذوالعجل من بعد ما جآء تھم البینت “۔ (٤ : ١٥٣) (پھر انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا حالانکہ یہ کھلی کھلی نشانیاں دیکھ چکے تھے) یہ بچھڑا سونے کا بنا ہوا تھا ۔ اسے سامری نامی شخص نے بنایا تھا ۔ یہ اس نے سونے کے ان زیورات سے بنایا تھا ‘ جو انہوں نے مصری عورتوں سے لئے تھے جب وہ وہاں سے نکل رہے تھے ۔ یہ لوگ اس بچھڑے کے اردگرد جمع ہوگئے اور انہوں نے اسے اپنا معبود بنا لیا ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اس وقت کوہ طور پر گئے ہوئے تھے جہاں انہوں نے اپنے رب سے ایک مقررہ وقت میں بات کرنی تھی ۔ جہاں ان کو تورات کی الواح اور ہدایت اور نئی روشنی عطا ہونی تھی ۔ (آیت) ” (فعفونا عن ذلک) (اس پر بھی ہم نے ان سے درگزر کیا۔ ) لیکن یہودی یہودی ہی تو تھے ۔ ان کے ساتھ معاملات کرنے میں صرف خوف اور جبر مفید رہتا ہے ۔ (آیت) ” واتینا موسیٰ سلطنا مبینا (١٥٣) ورفعنا فوقھم الطور بمیثاقھم وقلنالھم ادخلوا الباب سجدا وقلنالھم لا تعدوا فی السبت واخذنا منھم میثاقا غلیظا “ (١٥٤) (٤ : ١٥٣۔ ١٥٤) (ہم نے ان سے درگزر کیا ۔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو صریح فرمان عطا کیا اور ان لوگوں پر طور کو اٹھا کر ان سے اس فرمان کی اطاعت کا عہد لیا ۔ ہم نے ان کو حکم دیا کہ دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو۔ ہم نے ان سے کہا کہ اللہ کا قانون نہ توڑو اور اس پر ان سے پختہ عہد لیا ۔ ) یہاں سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے جو سلطان عطا فرمایا وہ کیا چیز ہے ۔ غالبا وہ وہی شریعت ہے جو الواح میں موجود تھی ‘ تو اللہ تعالیٰ کی شریعت گویا اللہ کی جانب سے سلطان اور حاکمیت ہے اور اللہ کے سوا جو شریعت اور قانون بھی ہوگا اس پر اللہ کی جانب سے کوئی سلطان اور سند قبولیت نہ ہوگی ۔ عملا بھی غیر اللہ کی شریعت اور قوانین کو دلوں پر کوئی حکمرانی حاصل نہیں ہوتی ۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے لئے جو قوانین خود بناتے ہیں ان کی کوئی وقعت عوام الناس کے دلوں میں نہیں ہوتی ۔ ان قوانین کا نفاذ صرف اس صورت میں ہو سکتا ہے کہ داروغہ سر پر کھڑا ہو یا جلاد کی تلوار سر پر ہو ۔ رہی اللہ کی شریعت تو لوگ اس کے سامنے نہایت ہی عاجزی سے سرتسلیم خم کرتے ہیں اور ان کے دل مائل باطاعت ہوتے ہیں ۔ دلوں کے اندر شریعت کے خلاف ورزی کا خوف ہوتا ہے اور اللہ کی سزا کا ڈر نظروں میں ہوتا ہے ۔ لیکن یہودی جن کے دل شعور ایمان سے محروم تھے انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کی جانب سے دی گئی الواح شریعت کے ماننے سے صاف انکار کردیا ۔ اس مقام پر پھر ان پر اللہ کا غضب آتا ہے ‘ اس لئے کہ وہ اپنی فطرت اور اپنے مزاج کے اعتبار سے اس کے لائق تھے ۔ پھر انہوں نے دیکھا کہ ایک عظیم چٹان ان کے سروں پر لٹک رہی ہے ۔ یوں نظر آتا تھا کہ ابھی ان کے سروں پر گری کہ گری ۔ وہ چونکے فورا انہوں نے اس شریعت کو تسلیم کرنے کا اقرار کیا اور وعدہ کرلیا ۔ پختہ میثاق طے ہوگیا ۔ اور بڑی بڑی یقین دہانیوں کے ساتھ طے ہوگیا ۔ حالانکہ پہلے وہ نہ تسلیم کرنے تھے نہ عہد کرنے کیلئے تیار تھے اور نہ ہی اس عہد قدیم کو لینے کے لئے تیار تھے ۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ یہاں انہیں ان کی اس صفت قدیمہ کو یاد دلاتے ہیں ۔ یہاں اللہ تعالیٰ کے بیان کردہ اس منظر میں ایک سخت پتھر جو ان کے سروں پر لٹک رہا تھا اور دوسری طرف ان کے سینوں میں سخت پتھر کی طرح دل رکھے ہوئے ہیں۔ چناچہ اس منظر میں ان دو قسم کے پتھروں کے درمیان مناسبت پیدا کردی گئی ہے۔ اس طرح انداز تعبیر پختہ ‘ متعین اور مجسم ہوجاتا ہے ۔ جس طرح قرآن کریم کا عمومی انداز تعبیر ہے کہ وہ وہ بیت المقدس میں سجدہ ریز ہو کر داخل ہوں اور یہ کہ وہ سبت کا احترام کریں جسے خود ان کے مطابلے پر ان کیلئے خوشی کا دن بنایا گیا تھا ۔ لیکن ہوا کیا ؟ پتھر لٹکنے کے خوف وہراس کے غائب ہوتے ہی اور اس قاہرانہ فضا کے ختم ہوتے ہی ان کے قدم پھسل گئے اور فخر سے یہ کہنے لگے کہ ہمارے دل تو کسی نصیحت سے متاثر نہیں ہوتے ۔ وہ مردوں میں ہیں اور ان تک کوئی بات پہنچتی ہی نہیں ہے کیونکہ ان کے دروازے بند ہیں ۔ اور یہ کہنے کے بعد انہوں نے ان تمام برے افعال کا ارتکاب کیا جس کی تفصیلات اللہ میاں یہاں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتاتے ہیں ۔ یہ یہاں اس لئے گنوائے گئے ہیں تاکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہودیوں کو ذرا آئینہ دکھا دیں کہ وہ ہیں کیا ؟

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

یہود کے بیجا سوالات اور بری حرکتوں کا تذکرہ اور ان سے میثاق لینا یہودیوں کی شرارتوں اور ان کی ضد اور عناد کا تذکرہ قرآن مجید میں بہت سی جگہ بیان فرمایا گیا ہے۔ ان کو ایمان تو نہ لانا تھا لیکن ضد اور عناد کی وجہ سے طرح طرح کی باتیں کرتے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کی باتوں سے تکلیف ہوتی تھی۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے یہاں بھی یہودیوں کے ایک مطالبہ کا ذکر فرمایا ہے۔ اور وہ یہ کہ انہوں نے یہ سوال کیا کہ آپ آسمان سے ایک کتاب اتار دیں وہ کتاب ہم اترتی ہوئی دیکھ لیں۔ ہمارے ہاتھوں میں آجائے ہم اسے پڑھ لیں تو ہمیں اطمینان ہوجائے گا کہ واقعی آپ اللہ کے رسول ہیں۔ کتاب اتر نے پر ہم ایمان لاسکتے ہیں۔ اسی قسم کی بات مشرکین مکہ نے بھی کہی تھی۔ ان کا حال سورة بنی اسرائیل میں بیان فرمایا ہے، انہوں نے کہا تھا۔ (وَ لَنْ نُّوْمِنَ لِرُقِیِّکَ حَتّٰی تُنَزِّلَ عَلَیْنَا کِتٰبًا نَّقْرَؤُہٗ ) (اور ہم نہیں مانیں گے تیرے آسمان پر چڑھنے کو یہاں تک کہ تو اتار دے ہمارے اوپر ایک کتاب جسے ہم خود پڑھ لیں) نہ مشرکین مکہ کو ایمان لانا تھا اور نہ یہودیوں کو، خواہ مخواہ کی آڑ پکڑتے تھے۔ اور ایمان نہ لانے کے لیے بہانے ڈھونڈتے تھے۔ سورة انعام میں فرمایا (وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْہُ بِاَیْدِیْھِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ) (اور اگر ہم اتار دیں آپ پر کتاب کاغذ میں پھر وہ اسے چھو لیں اپنے ہاتھوں سے تو جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ضرور یوں کہیں گے کہ یہ تو صرف کھلا ہوا جادو ہے) منکرین کا یہ طریقہ تھا کہ یہ معجزات کا مطالبہ کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بات ہوجائے تو ہم مسلمان ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے بہت سے معجزات ظاہر فرمائے، جو ایک عقلمند منصف طالب حق آدمی کے لیے کافی تھے پھر بھی کہتے تھے کہ فلاں معجزہ ظاہر ہوجائے تو ایمان لے آئیں گے اللہ تعالیٰ کسی کا پابند نہیں جو مطالبے کے مطابق معجزہ بھیج دے لیکن پھر بھی بعض معجزات ان لوگوں کے کہنے کے مطابق ظاہر ہوئے جن میں معجزہ شق القمر بھی ہے لیکن چونکہ ماننا مقصود نہیں تھا اس لیے معجزات کو جادو بتا دیتے تھے۔ ان لوگوں کے عناد اور ضد اور مطالبات سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف پہنچتی تھی اور آپ فکر مند ہوتے تھے کہ یہ کسی طرح مسلمان ہوجائیں۔ آپ کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے فرمایا کہ آپ ان کی پرواہ نہ کریں اور انہوں نے جو سوال کیا ہے کہ آسمان سے کتاب اتار دو اس سے بڑا سوال پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کرچکے ہیں اور وہ سوال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ہمارے آمنے سامنے دکھا دو ۔ سورة بقرہ میں ان کی یہ بات اس طرح ذکر فرمائی ہے (وَاِذْقُلْتُمم یٰمُوْسٰی لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَھْرَۃً ) (اور جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ ، ہم تمہاری بات نہ مانیں گے یہاں تک کہ اللہ کو آمنے سامنے نہ دیکھ لیں) ۔ یہ دنیا اس قابل نہیں ہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ کا دیدار ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ کا دیدار جنت ہی میں ہوگا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دنیا میں دیدارالٰہی کا سوال کیا تھا جب رب تعالیٰ شانہٗ کی پہاڑ پر تجلی ہوئی تو وہ بےہوش ہو کر گرپڑے جب ایک مقرب نبی کا یہ حال ہے تو عوام کو دیدار الٰہی کی کہاں تاب ہوسکتی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) توریت شریف لینے کے لیے طور پر تشریف لے گئے تھے وہاں ان کو چالیس دن لگ گئے۔ یہاں پیچھے ان کی قوم نے بچھڑے کو معبود بنا لیا۔ جب آپ تشریف لائے تو ان لوگوں کی سرزنش کی اور سمجھایا اور ستر آدمیوں کو ساتھ لیا تاکہ بارگاہ خداوندی میں معذرت پیش کریں اور توبہ قبول کرنے کی درخواست کریں جب طور پر پہنچے اور اللہ تعالیٰ شانہٗ کا کلام سن لیا جس میں موسیٰ (علیہ السلام) کو خطاب تھا اور ان لوگوں کو بھی خطاب فرمایا کہ تم میری عبادت کرو۔ میرے سوا کسی کی عبادت نہ کرو تو اس پر کہنے لگے کہ ہم تو جب مانیں گے جب اللہ کو آمنے سامنے دیکھ لیں اس پر ان کو بجلی نے پکڑ لیا جس سے وہ سب مرگئے۔ بجلی کے پکڑنے کا تذکرہ سورة بقرہ میں بھی ہے۔ اور آیت بالا میں بھی ذکر فرمایا ہے (فَاَخَذَتْھُمُ الصَّاعِقَۃُ بِظُلُمِھِمْ ) کہ ان کے ظلم کی وجہ سے بجلی نے پکڑ لیا انہوں نے جو بےجا بات کا سوال کیا اور ایسی بات کا مطالبہ کیا جو اس دنیا میں ہونے والی نہیں اس کو ظلم سے تعبیر فرمایا۔ (معالم التنزیل) یہ جو فرمایا (ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآءَ تْھُمُ الْبَِیّْنَاتُ ) اس کے بارے میں صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ بینات سے مراد وہ معجزات ہیں جو اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا فرمائے تھے جن کا ظہور فرعون کے سامنے ہوا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اور یدبیضا اور سمندر کا پھٹ جانا جس میں آل فرعون غرق ہوئے اور بنی اسرائیل کو نجات ہوئی۔ بنی اسرائیل نے یہ سب چیزیں دیکھیں پھر بھی بچھڑے کو خدا بنا بیٹھے۔ پھر صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ بینات سے وہ واضح دلائل بھی مراد ہوسکتے ہیں جو اللہ کے معبود ہونے اور واحد لاشریک لہ ہونے پر دلالت کرتے ہیں اور یہ چیزیں ہر عقل مند کے سامنے ہیں اس کے باوجود ان لوگوں نے بچھڑے کی عبادت شروع کردی اور (فَعَفَوْنَا عَنْ ذٰلِکَ ) جو فرمایا (کہ ہم نے ان کے اس جرم کو معاف کردیا) اس کی تفسیر سورة بقرہ میں گزر چکی ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اپنی جانوں کو قتل کرو یہ تمہاری توبہ ہے (چنانچہ انہوں نے اس پر اس طرح عمل کیا کہ جن لوگوں نے بچھڑے کی عبادت نہیں کی تھی انہوں نے بچھڑا پوجنے والوں کو قتل کیا۔ ہزاروں آدمی قتل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے سب کی توبہ قبول فرمائی کما قال اللہ تعالیٰ (فَتَابَ عَلیْکُمْ اِنَّہٗ ھُوَ التَّوَّاب الرَّحِیمْ ) ۔ پھر فرمایا (وَاٰتَیْنَا مُوْسٰی سُلْطَانًا مُّبِیْنًا) (اور ہم نے موسیٰ کو سلطان مبین عطا کیا) سلطان مبین کا ایک ترجمہ تو وہی ہے جو اوپر ہم نے بیان کیا۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ تسلطاً ظاھرا علیھم حین امرھم ان یقتلوا انفسھم توبۃ عن اتخاذھم یعنی ہم نے موسیٰ کو بنی اسرائیل پر ایسا غلبہ عطا کیا کہ جب انہوں نے ان کو توبہ کرنے کے لیے اپنی جانوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تو ان لوگوں نے اس پر عمل کرلیا اور دوسرا معنی یہ ہے کہ ہم نے ان کو کھلے کھلے معجزات عطا کیے جو ان کی نبوت و رسالت پر واضح دلائل تھے۔ صاحب معالم التنزیل نے اسی معنی کو لیا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

100 یہ بھی یہود کے لیے زجر ہے۔ یہود ضد وعناد کی وجہ سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کرتے تھے کہ آپ ان کے لیے اللہ کی طرف سے دفعۃً ایک کتاب لے آئیں جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تورات لائے تھے تو پھر وہ آپ پر ایمان لے آئیں گے آیت کے اس حصے میں اسی سوال کا ذکر ہے اس کے بعد پورے رکوع میں یہود کے لیے زجریں اور ان کی بد باطنی اور شرارت نفس کا ذکر ہے کہ ان کا یہ سوال کوئی نئی بات نہیں بلکہ ان کی پوری تاریخ ہی اس قسم کی شرارتوں سے بھری پڑی ہے پھر اِنَّا اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ (رکوع 23) سے اصل سوال کا جواب دیا گیا ہے۔ 101 یہ یہود کی ایک شرارت کا ذکر ہے یعنی آپ سے تو انہوں نے یہی سوال کیا ہے کہ دفعۃ کتاب لائیں۔ خود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے تو انہوں نے یہاں تک مطالبہ کردیا تھا کہ جب تک خدا کو اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھیں گے اس وقت تک نہیں مانیں گے اور انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عدم موجودگی میں سامری کے گوسالہ کی پرستش بھی کی تھی حالانکہ مسئلہ توحید ان پر واضح کیا جا چکا تھا ثُمَّ اتَّخَذُوْ الْعِجْلَ میں ثُمَّ ترتیب کے لیے نہیں بلکہ محض تعقیب ذکری کے لیے ہے کیونکہ گوسالہ کی پرستش کا واقعہ مذکورہ سوال (اَرِنَا اللہَ جَہْرۃً ) سے پہلے کا ہے۔ وَرَفَعْنَا فَوْ قَہُمُ الطُّوْرَ ) یہ ان کی انتہائی سرکشی اور نافرمانی کا بیان ہے۔ وہ انتہائی سرکش تھے ہم نے ان پر کوہ طور اٹھا کر ان سے اطاعت کا عہد لیا۔ ہم نے ان سے کہا کہ تم شہر میں جاؤ اور اللہ کے گھر میں اس کی عبادت بجا لاؤ نیز ہم نے ہفتہ کے دن ان کو مچھلی کا شکار کرنے سے منع کردیا تھا اور ان تمام چیزوں کا ہم نے ان سے پختہ عہد لیا تھا مگر انہوں نے نہ صرف ان عہود و مواثیق کو توڑا بلکہ اور بھی بہت بڑے سنگین جرموں کا ارتکاب کیا جس کے نتیجہ میں انہیں طرح طرح کی سزائیں دی گئیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 اے پیغمبر ! آپ سے اہل کتاب یہ مطالبہ اور سوال کرتے ہیں کہ آپ ان کے لئے آسمان سے ایک کتاب اتار لائیں یعنی ایسی لکھی ہوئی کتاب جیسے حضرت موسیٰ پر توریت نازل ہوئی تھی سو اے پیغمبر ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ان کے اس مطالب کو عجیب نہ سمجھیں اور اس پر تعجب نہ کریں یہ تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس سوال سے بڑھ کر سوال کرچکے ہیں انہوں نے تو ان سے یہ کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کو ہمیں کھلا کھلا اور بلا حجاب دکھا دے چناچہ اس پر ان کو ایک سخت کڑا کے کی بجلی نے آپکڑا پھر اسی مطالبہ پر کیا موقف ہے انہوں ں نے تو بعد اس کے کہ ان کے پاس واضح دلائل اور کھلے معجزات آ چکے تھے ایک مخصوص بچھڑے کو معبود تجویز کرلیا تھا پھر ہم نے اس کو معاف کردیا تھا اور ان کی اس حرکت کو درگذر فرما دیا تھا اور ہم نے موسیٰ کو صریح غلبہ اور کھلی حجت عطا کی تھی۔ (تیسیر) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہود کے علماء نے یہ مطالبہ یکا تھا کہ آپ ہماے روبرو آسمان پر جائیں اور وہاں سے ایک لکھی لکھائی کتاب ہماری ہدایت کے لئے لے آئیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کتاب سے مراد خط ہو۔ جیسا کہ بعض روایات میں آیا ہے کہ یہود نے یہ کہا تھا کہ ہر شخص کے نام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایک خط لائو جس میں یہ لکھا ہوا ہو کہ محمد ہمارا فرستادہ اس پر ایمان لائو اس سوال پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں کو رنج اور قلق ہوا اس پر بطور تسلی فرمایا کہ تم اس مطالبہ کو کچھ عجیب نہ سمجھو یہ تو موسیٰ سے اللہ تعالیٰ کو دنیا میں بلا حجاب اور کھلم کھلا دیکھنے کا مطالبہ کرچکے ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ کو تو خیر جنت میں لوگ دیکھیں گے بھی اور خدا کے دیدار سے مشرف بھی ہوں گے یہ تو شرک جیسی نا معقول حرکت کا ارتکاب کرچکے ہیں جو ہر معقول انسان کے نزدیک غلط اور نامعقول ہے یہ اس کا بھی ارتکاب کرچکے ہیں اور شرک کا ارتکاب بھی انہوں نے اس حالت کے بعد کیا جبکہ ان کے پاس کھلے دلائل اور واضح معجزات آ چکے تھے مثلاً موسیٰ کا عصاید بیضا فلق بحر وغیرہ اور ثم یہاں ترتیب زمان کے لئے نہیں ہے کیونکہ بچھڑے کو معبود بنایا رئویت کے سوال سے پہلے کا ہے اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں جو یہود تھے ان کی طرف بچھڑے کی پرستش کو اور رئویت کے سوال کو منسوب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یا تو فرقہ کی وجہ سے نسبت کی گئی ہے اور یا اس وجہ سے کہ یہ لوگ اپنے بزرگوں کی ان بےہودگیوں پر خوش تھے اسی وجہ سے ان کی طرف منسوب کیا گیا۔ سلطان کا ترجمہ یہاں غلبہ اور حجت بیان کیا گیا ہے اور بعض نے رعب بھی کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نہ دلیل اور رعب و دبدہ سے قائل ہوتے تھے اور نہ اللہ تعالیٰ کی معافی اور درگذر کرنے سے متاثر ہوتے تھے اب آگے یہود کے اور واقعات کا ذکر ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)