The Stubbornness of the Jews
Allah says;
يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَن تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِّنَ السَّمَاء
...
The People of the Scripture (Jews) ask you to cause a book to descend upon them from heaven.
Muhammad bin Ka`b Al-Qurazi, As-Suddi and Qatadah said that;
the Jews asked the Messenger of Allah to cause a book to come down to them from heaven, just as the Tawrah was sent down to Musa.
Ibn Jurayj said that;
the Jews asked the Messenger to cause books to come down to them addressed to so-and-so among them, testifying to the truth of what he was sent with. The Jews only asked for this because of their stubbornness, defiance, rejection and disbelief.
The disbelievers of Quraysh also asked for similar things from the Prophet, as is mentioned in Surah Al-Isra',
وَقَالُواْ لَن نُّوْمِنَ لَكَ حَتَّى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الاٌّرْضِ يَنْبُوعًا
And they say: "We shall not believe in you, until you cause a spring to gush forth from the earth for us; (17:90)
Allah said,
...
فَقَدْ سَأَلُواْ مُوسَى أَكْبَرَ مِن ذَلِكَ فَقَالُواْ أَرِنَا اللّهِ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ
...
Indeed, they asked Musa for even greater than that, when they said, "Show us Allah in public," but they were struck with a bolt of lightning for their wickedness.
injustice, transgression, defiance and rebellion. This part was explained in Surah Al-Baqarah.
وَإِذْ قُلْتُمْ يَـمُوسَى لَن نُّوْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّـعِقَةُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ
ثُمَّ بَعَثْنَـكُم مِّن بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
And (remember) when you said: "O Musa! We shall never believe in you until we see Allah plainly." But you were struck by a bolt of lightning while you were looking. Then We raised you up after your death, so that you might be grateful. (2:55,56)
Allah's statement,
...
ثُمَّ اتَّخَذُواْ الْعِجْلَ مِن بَعْدِ مَا جَاءتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ
...
Then they worshipped the calf even after Al-Bayyinat had come to them.
meaning, after they witnessed the tremendous miracles and unequivocal proofs at the hand of Musa in Egypt. They also witnessed the demise of their enemy, Fir`awn and his soldiers, when they all drowned in the sea. Yet soon after, when they passed by a people who were worshipping idols, they said to Musa,
اجْعَل لَّنَا إِلَـهًا كَمَا لَهُمْ الِهَةٌ
(Make for us a god as they have gods). (7:138)
Allah explains the story of the Jews worshipping the calf in Surah Al-A`raf (7) and Surah Ta Ha (20) after Musa went to meet with his Lord. When Musa returned, Allah decreed that in order for the Jews to earn accepted repentance, then those who did not worship the calf would have to kill those who worshipped it. They complied with this command, and Allah resurrected them afterwards.
Allah said here,
...
فَعَفَوْنَا عَن ذَلِكَ وَاتَيْنَا مُوسَى سُلْطَانًا مُّبِينًا
(Even) so We forgave them. And We gave Musa a clear proof of authority.
Allah then said,
محسوس معجزہ کی مانگ اور بنی سرائیل کی حجت بازیاں
یہودیوں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کی طرف سے توراۃ ایک ساتھ لکھی ہوئی ہمارے پاس لائے ، آپ بھی کوئی آسمانی کتاب پوری لکھی لکھائی لے آیئے ۔ یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے نام اللہ تعالیٰ خط بھیجے کہ ہم آپ کی نبوت کو مان لیں ۔ یہ سوال بھی ان کا بدنیتی سے بطور مذاق اور کفر تھا ۔ جیسا کہ اہل مکہ نے بھی اسی طرح کا ایک سوال کیا تھا ، جس طرح سورہ سبحان میں مذکور ہے کہ جب تک عرب کی سر زمین میں دریاؤں کی ریل پیل اور ترو تازگی کا دور دورہ نہ ہو جائے ہم آپ پر ایمان نہیں لائیں گے ۔ پس بطور تسلی کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان کی اس سرکشی اور بیجا سوال پر آپ کبیدہ خاطر نہ ہوں ان کی یہ بد عادت پرانی ہے ، انہوں نے حضرت موسیٰ سے اس سے بھی زیادہ بیہودہ سوال کیا تھا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ خود کو دکھائے ۔ اس تکبر اور سرکشی اور فضول سوالوں کی پاداش بھی یہ بھگت چکے ہیں یعنی ان پر آسمانی بجلی گری تھی ۔ جیسے سورہ بقرہ میں تفصیل وار بیان گذر چکا ۔ ملاحظہ ہو آیت ( وَاِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ) 2 ۔ البقرۃ:52 ) یعنی جب تم نے کہا تھا کہ اے موسیٰ ہم تجھ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو ہم صاف طور پر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں پس تمہیں بجلی کے کڑاکے نہ پکڑ لیا اور ایک دوسرے کے سامنے سب ہلاک ہو گئے ، پھر بھی ہم نے تمہاری موت کے بعد دوبارہ تمہیں زندہ کر دیا تا کہ تم شکر کرو ۔ پھر فرماتا ہے کہ بڑی بڑی نشانیاں دیکھ چکنے کے بعد بھی ان لوگوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا ۔ مصر میں اپنے دشمن فرعون کا حضرت موسیٰ کے مقابلے میں ہلاک ہونا اس کے تمام لشکروں کا نامرادی کی موت مرنا ، ان کا دریا سے بچ کر پار نکل آنا ، ابھی ابھی ان کی نگاہوں کے سامنے ہوا تھا لیکن وہاں سے چل کر کچھ دور جا کر ہی بت پرستوں کو بت پرستی کرتے ہوئے دیکھ کر اپنے پیغمبر سے کہتے ہیں ہمارا بھی ایک ایسا ہی معبود بنا دو ۔ جس کا پورا بیان سورہ اعراف میں ہے اور سورہ طہ میں بھی ۔ پھر حضرت موسیٰ اللہ تعالیٰ سے مناجات کرتے ہیں ، ان کی توبہ کی قبولیت کی یہ صورت ٹھہرتی ہے کہ جنہوں نے گو سالہ پرستی نہیں کی وہ گوسالہ پرستوں کو قتل کریں ۔ جب قتل شروع ہو جاتا ہے ، اللہ ان کی توبہ قبول فرماتا ہے اور مرے ہوؤں کو بھی دوبارہ زندہ کر دیتا ہے ۔ پس یہاں فرماتا ہے ہم نے اس سے بھی درگذر کیا اور یہ جرم عظیم بھی بخش دیا اور موسیٰ کو ظاہر حجت اور کھلا غلبہ عنایت فرمایا اور جب ان لوگوں نے توراۃ کے احکام ماننے سے انکار کر دیا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فرمانبرداری سے بیزاری ظاہر کی تو ان کے سروں پر طور پہاڑ کو معلق کھڑا کر دیا اور ان سے کہا کہ اب بولو! پہاڑ گرا کر پاش پاش کر دیں یا احکام قبول کرتے ہو؟ تو یہ سب سجدے میں گر پڑے اور گریہ زاری شروع کی اور احکام الٰہی بجا لانے کا مضبوط عہد و پیمان کیا یہاں تک کہ دل میں دہشت تھی اور سجدے میں کنکھیوں سے اوپر دیکھ رہے تھے کہ کہیں پہاڑ نہ گر پڑے اور دب کر نہ مر جائیں ، پھر پہاڑ ہٹایا گیا ۔ ان کی دوسری کشی کا بیان ہو رہا ہے کہ قول و فعل دونوں کو بدل دیا ، حکم ملا تھا کہ بیت المقدس کے دروازے میں سجدے کرتے ہوئے جائیں اور حطتہ کہیں یعنی اے اللہ ہماری خطائیں بخش کہ ہم نے جہاد چھوڑ دیا اور تھک کر بیٹھ رہے جس کی سا میں چالیس سال میدان تیہ میں سرگشتہ و حیران و پریشان رہے لیکن ان کی کم ظرفی کا یہاں بھی مظاہرہ ہوا اور اپنی رانوں کے بل گھسٹتے ہوئے دروازے میں داخل ہونے لگے اور حنطتہ فی شعرۃ کہنے لگے یعنی گیہوں کی بالیں ہمیں دے ۔ پھر ان کی اور شرارت سنئے ہفتہ وار دن کی تعظیم و کریم کرنے کا ان سے وعدہ لیا گیا اور مضبوط عہد و پیمان ہو گیا لیکن انہوں نے اس کی بھی مخالفت کی نافرمانی پر کمربستہ ہو کر حرمت کرنے کا ان سے وعدہ لیا گیا اور مضبوط عہد و پیمان ہو گیا لیکن انہوں نے اس کی بھی مخالفت کی نافرمانی پر کمر بستہ ہو کر حرمت کے ارتکاب کے حیلے نکال لئے ۔ جیسے کہ سورہ اعراف میں مفصل بیان ہے ملاحظہ ہو آیت ( وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ ) 7 ۔ الاعراف:163 ) ایک حدیث میں بھی ہے کہ یہودیوں سے خاصتہ اللہ تعالیٰ نے ہفتہ والے دن کی تعظیم کا عہد لیا تھا ۔ یہ پوری حدیث سورہ سبحان کی آیت ( وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا ) 17 ۔ الاسراء:101 ) کی تفسیر میں آئے گی انشاء اللہ!