Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 157

سورة النساء

وَّ قَوۡلِہِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِیۡحَ عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا ﴿۱۵۷﴾ۙ

And [for] their saying, "Indeed, we have killed the Messiah, Jesus, the son of Mary, the messenger of Allah ." And they did not kill him, nor did they crucify him; but [another] was made to resemble him to them. And indeed, those who differ over it are in doubt about it. They have no knowledge of it except the following of assumption. And they did not kill him, for certain.

اور یوں کہنے کے باعث کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا حالانکہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کے لئے ( عیسیٰ ) کا شبیہ بنا دیا گیا تھا یقین جانو کہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام ) کے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں انہیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے اتنا یقینی ہے کہ انہوں نے انہیں قتل نہیں کیا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللّهِ ... And because of their saying, "We killed Al-Masih, `Isa, son of Maryam, the Messenger of Allah," meaning, we killed the person who claimed to be the Messenger of Allah. The Jews only uttered these words in jest and mockery, just as the polytheists said, يَا أَيُّهَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ (O you to whom the Dhikr (the Qur'an) has been sent down! Verily, you are a mad man!). (15:6) When Allah sent `Isa with proofs and guidance, the Jews, may Allah's curses, anger, torment and punishment be upon them, envied him because of his Prophethood and obvious miracles; curing the blind and leprous and bringing the dead back to life, by Allah's leave. He also used to make the shape of a bird from clay and blow in it, and it became a bird by Allah's leave and flew. `Isa performed other miracles that Allah honored him with, yet the Jews defied and bellied him and tried their best to harm him. Allah's Prophet `Isa could not live in any one city for long and he had to travel often with his mother, peace be upon them. Even so, the Jews were not satisfied, and they went to the king of Damascus at that time, a Greek polytheist who worshipped the stars. They told him that there was a man in Bayt Al-Maqdis misguiding and dividing the people in Jerusalem and stirring unrest among the king's subjects. The king became angry and wrote to his deputy in Jerusalem to arrest the rebel leader, stop him from causing unrest, crucify him and make him wear a crown of thorns. When the king's deputy in Jerusalem received these orders, he went with some Jews to the house that `Isa was residing in, and he was then with twelve, thirteen or seventeen of his companions. That day was a Friday, in the evening. They surrounded `Isa in the house, and when he felt that they would soon enter the house or that he would sooner or later have to leave it, he said to his companions, "Who volunteers to be made to look like me, for which he will be my companion in Paradise?" A young man volunteered, but `Isa thought that he was too young. He asked the question a second and third time, each time the young man volunteering, prompting `Isa to say, "Well then, you will be that man." Allah made the young man look exactly like `Isa, while a hole opened in the roof of the house, and `Isa was made to sleep and ascended to heaven while asleep. Allah said, إِذْ قَالَ اللّهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ (And (remember) when Allah said: "O `Isa! I will take you and raise you to Myself)." (3:55) When `Isa ascended, those who were in the house came out. When those surrounding the house saw the man who looked like `Isa, they thought that he was `Isa. So they took him at night, crucified him and placed a crown of thorns on his head. The Jews then boasted that they killed `Isa and some Christians accepted their false claim, due to their ignorance and lack of reason. As for those who were in the house with `Isa, they witnessed his ascension to heaven, while the rest thought that the Jews killed `Isa by crucifixion. They even said that Maryam sat under the corpse of the crucified man and cried, and they say that the dead man spoke to her. All this was a test from Allah for His servants out of His wisdom. Allah explained this matter in the Glorious Qur'an which He sent to His honorable Messenger, whom He supported with miracles and clear, unequivocal evidence. Allah is the Most Truthful, and He is the Lord of the worlds Who knows the secrets, what the hearts conceal, the hidden matters in heaven and earth, what has occurred, what will occur, and what would occur if it was decreed. He said, ... وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـكِن شُبِّهَ لَهُمْ ... but they killed him not, nor crucified him, but it appeared as that to them, referring to the person whom the Jews thought was `Isa. This is why Allah said afterwards, ... وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُواْ فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلاَّ اتِّبَاعَ الظَّنِّ ... and those who differ therein are full of doubts. They have no (certain) knowledge, they follow nothing but conjecture. referring to the Jews who claimed to kill `Isa and the ignorant Christians who believed them. Indeed they are all in confusion, misguidance and bewilderment. This is why Allah said, ... وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا For surely; they killed him not. meaning they are not sure that `Isa was the one whom they killed. Rather, they are in doubt and confusion over this matter.

صحیح بخاری میں ہے اس وقت کیا ہو گا ، جب تم میں مسیح بن مریم اتریں گے اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہو گا ۔ ابو داؤد ، مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انبیاء کرام علیہم السلام سب ایک باپ کے بیٹے بھائی کی طرح ہیں ، مائیں جدا جدا اور دین ایک ۔ عیسیٰ بن مریم سے زیادہ تر نزدیک میں ہوں اس لئے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں ، یقیناً وہ اترنے والے ہیں پس تم انہیں پہچان رکھو ۔ درمیان قد ہے ، سرخ سفید رنگ ہے ۔ وہ دو گیروے رنگ میں رنگے ہوئے کپڑے اوڑھے اور باندھے ہوں گے ، بال خشک ہونے کے باوجود ان کے سر سے قطرے ٹپک رہے ہوں گے ، خنزیر کو قتل کریں گے ، جزیہ قبول نہ کریں گے ، لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں گے ، ان کے زمانے میں تمام ملتیں مٹ جائیں گی ، صرف اسلام ہی اسلام رہے گا ، ان کے زمانے میں اللہ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کرے گا ۔ پھر زمین پر امن ہی امن ہو گا یہاں تک کہ کالے ناگ اونٹوں کے ساتھ ، چیتے گایوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے ، انہیں کوئی نقصان نہ پہنچائیں گے ، چالیس برس تک ٹھہریں گے ، پھر فوت ہوں گے اور مسلمان آپ کے جنازے کی نماز ادا کریں گے ۔ ابن جریر کی اسی روایت میں ہے ، آپ لوگوں سے اسلام کے لئے جہاد کریں گے ، اس حدیث کا ایک ٹکڑا بخاری شریف میں بھی ہے اور روایت میں ہے سب سے زیادہ قریب تر حضرت عیسیٰ سے دنیا اور آخرت میں میں ہوں ۔ صحیح مسلم میں ہے قیامت قائم نہ ہو گی ، جب تک رومی اعماق یا والق میں نہ اتریں اور ان کے مقابلہ کے لئے مدینہ سے مسلمانوں کا لشکر نہ نکلے گا ، جو اس وقت تمام زمین کے لوگوں سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ بندے ہوں گے ، جب صفیں بندھ جائیں گی تو رومی کہیں گے تم سے ہم لڑنا نہیں چاہتے ، ہم میں سے جو دین بدل کر تم میں ملے ہم ان سے لڑنا چاہتے ہیں تم بیچ میں سے ہٹ جاؤ لیکن مسلمان کہیں گے واللہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم اپنے ان کمزور بھائیوں کو تمہارے حوالے کر دیں ۔ چنانچہ لڑائی شروع ہو گی مسلمانوں کے اس لشکر کا تہائی حصہ تو شکست کھا کر بھاگ کھڑا ہو گا ، ان کی توبہ اللہ تعالیٰ ہرگز قبول نہ فرمائے گا اور تہائی حصہ شہید ہو جائے گا ، جو اللہ کے نزدیک سب سے افضل شہید ہیں لیکن آخری تہائی حصہ فتح حاصل کرے گا اور رومیوں پر غالب آ جائے گا ، پھر یہ کسی فتنے میں نہ پڑیں گے ، قسطنطنیہ کو فتح کریں گے ، ابھی تو وہ اپنی تلواریں زیتون کے درختوں پر لٹکائے ہوئے مال غنیمت تقسیم کر ہی رہے ہوں گے جو شیطان چیخ کر کہے گا کہ تمہارے بال بچوں میں دجال آ گیا ، اس کے اس جھوٹ کو سچ جان کر مسلمان یہاں سے نکل کھڑے ہوں گے ، شام میں پہنچیں گے ، دشمنوں سے جنگ آزما ہونے کے لئے صفیں ٹھیک کر رہے ہوں گے کہ دوسری جانب نماز کی اقامت ہو گی اور حضرت عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے ، ان کی امامت کرائیں گے ، جب دشمن رب انہیں دیکھے گا تو اسی طرح گھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں گھلتا ہے ، اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اسے یونہی چھوڑ دیں ، جب بھی وہ گھلتے گھلتے ختم ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اسے آپ کے ہاتھ سے قتل کرائے گا اور آپ اپنے حربے پر اس کا خون لوگوں کو دکھائیں گے ۔ مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں معراج والی رات میں نے ابراہیم ، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی ، آپس میں قیامت کی نسبت بات چیت ہونے لگی ، ابراہیم علیہ السلام نے اپنی لاعلمی ظاہر کی ، اس طرح موسیٰ علیہ السلام نے بھی ، لیکن حضرت عیسیٰ نے فرمایا اس کے آنے کا ٹھیک وقت تو سوائے اللہ عزوجل کے کوئی نہیں جانتا ، ہاں مجھ سے میرے رب نے جو عہد لیا ہے وہ یہ ہے کہ دجال نکلے گا اس کے ہمراہ دو شاخیں ہوں گی ، مجھے دیکھ کر اس طرح پگھلنے لگے گا جس طرح سیسہ پگھلتا ہے ، یہاں تک کہ پتھر اور درخت بھی بولنے لگیں گے کہ اے مسلمان یہاں میرے پیچھے ایک کافر ہے اور اسے قتل کر لیں ، اللہ تعالیٰ ان سب کو غارت کر دے گا اور لوگ امن و امان کے ساتھ اپنے اپنے وطن اور شہروں کو لوٹ جائیں گے ، اب یاجوج ماجوج نکلیں گے ، ہر طرف سے چڑھ دوڑیں گے ، تمام شہرں کو روندیں گے ، جس جس چیز پر گذر ہو گا اسے ہلاک کر دیں گے ، جس پانی کے پاس سے گذریں گے پی جائیں گے ، لوگ پھر لوٹ کر میرے پاس آئیں گے ، میں اللہ سے دعا کروں گا ، اللہ ان سب کو ایک ساتھ فنا کر دے گا لیکن ان کے مردہ جسموں سے ہوا بگڑ جائے گی ، بدبو پھیل جائے گی ، پھر مینہ برسے گا اور اس قدر کہ ان کی تمام لاشوں کو بہا کر سمندر میں ڈال دے گا ۔ بس اس وقت قیامت کی اس طرح آمد آمد ہو گی جس طرح پورے دن کی حاملہ عورت ہو کہ اس کے گھر والے نہیں جانتے کہ صبح کو بچہ ہو جائے یا شام کو ، رات کو پیدا ہو یا دن کو؟ مسند احمد میں ہے حضرت ابو نضرہ فرماتے ہیں ہیں ہم حضرت عثمان بن ابو العاص کے پاس جمعہ والے دن آئے کہ ہم اپنا لکھا ہوا قرآن ان کے قرآن سے ملائیں ، جب جمعہ کا وقت آیا تو آپ نے ہم سے فرمایا غسل کر لو پھر خوشبو لے آئے جو ہم نے ملی ، پھر ہم مسجد میں آئے اور ایک شخص کے پاس بیٹھ گئے جنہوں نے ہم سے دجال والی حدیث بیان کی پھر حضرت عثمان بن ابو العاص آئے ، ہم کھڑے ہو گئے ، پھر سب بیٹھ گئے ، آپ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مسلمان کے تین شہر میں جائیں گے ، ایک دونوں سمندر کے ملنے کی جگہ پر ، دوسرا حیرہ میں اور تیسرا شام میں ، پھر تین گھبراہٹیں لوگوں کو ہوں گی ، پھر دجال نکلے گا ، یہ پہلے شہر کی طرف جائے گا ، وہاں کے لوگ تین حصوں میں بٹ جائیں گے ، ایک حصہ تو کہے گا ہم اس کے مقابلہ پر ٹھہرے رہیں گے اور دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے؟ دوسری جماعت گاؤں کے لوگوں میں مل جائے گی اور تیسری جماعت دوسرے شہر میں چلی جائے گی جو ان سے قریب ہو گا ، دجال کے ساتھ ستر ہزار لوگ ہوں گے ، جن کے سروں پر تاج ہوں گے ، ان کی اکثریت یہودیوں کی اور عورتوں کی ہو گی ، یہاں کے یہ مسلمان ایک گھاٹی میں سمٹ کر محصور ہو جائیں گے ، ان کے جانور جو چرنے چگنے کو گئے ہوں گے ، وہ بھی ہلاک ہو جائیں گے ، اس سے ان کے مصائب بہت بڑھ جائیں گے اور بھوک کے مارے برا حال ہو جائے گا ، یہاں تک کہ اپنی کمانوں کی تانیں سینک سینک کر کھا لیں گے ، جب سخت تنگی کا عالم ہو گا تو انہیں سمندر میں سے آواز آئے گی کہ لوگو تمہاری مدد آ گئی ، اس آواز کو سن کر یہ لوگ خوش ہوں گے ، کیونکہ آواز سے جان لیں گے کہ یہ کسی آسودہ شخص کی آواز ہے ، عین صبح کی نماز کے وقت حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے ، ان کا امیر آپ سے کہے گا کہ اے روح اللہ آگے بڑھئے اور نماز پڑھایئے لیکن آپ کہیں گے کہ اس امت کے بعض بعض کے امیر ہیں ، چنانچہ انہی کا امیر آگے بڑھے گا اور نماز پڑھائے گا ، نماز سے فارغ ہو کر اپنا حربہ ہاتھ میں لے کر مسیح دجال کا رخ کریں گے ، دجال آپ کو دیکھ کر سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا ، آپ اس کے سینہ پر وار کریں گے جس سے وہ ہلاک ہو جائے گا اور اس کے ساتھی شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوں گے ، لیکن انہیں کہیں امن نہیں ملے گا ، یہاں تک کہ اگر وہ کسی درخت تلے چھپیں گے تو وہ درخت پکار کر کہے گا کہ اے مومن یہ ایک کافر میرے پاس چھپا ہوا ہے اور اسی طرح پتھر بھی ۔ ابن ماجہ میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ کا کم و بیش حصہ دجال کا واقعہ بیان کرنے اور اس سے ڈرانے میں ہی صرف کیا ، جس میں یہ بھی فرمایا کہ دنیا کی ابتداء سے لے کر انتہا تک کوئی فتنہ اس سے بڑا نہیں ، تمام انبیاء اپنی اپنی امتوں کو اس سے آگاہ کرتے رہے ہیں ، میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری امت ہو ، وہ یقینا تمہیں میں آئے گا ، اگر میری موجودگی میں آ گیا تو میں آپ اس سے نمٹ لوں گا اور اگر بعد میں آیا تو ہر شخص کو اپنے آپ کو اس سے بچانا پڑے گا ۔ میں اللہ تعالیٰ کو ہر مسلمان کا خلیفہ بناتا ہوں ۔ وہ شام و عراق کے درمیان نکلے گا ، دائیں بائیں خوب گھومے گا ، لوگو اے اللہ کے بندو! دیکھو دیکھو تم ثابت قدم رہنا ، سنو میں تمہیں اس کی ایسی صفت بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتائی ۔ وہ ابتداء میں دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں ، پس تم یاد رکھنا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ، پھر وہ اس سے بھی بڑھ جائے گا اور کہے گا میں اللہ ہوں ، پس تم یاد رکھنا کہ اللہ کو ان آنکھوں سے کوئی نہیں دیکھ سکتا ، ہاں مرنے کے بعد دیدار باری تعالیٰ ہو سکتا ہے اور سنو وہ کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں ، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہو گا جسے پڑھا لکھا اور ان پڑھ غرض ہر ایمان دار پڑھ لے گا ۔ اس کے ساتھ آگ ہو گی اور باغ ہو گا اس کی آگ دراصل جنت ہو گی اور اس کا باغ دراصل جہنم ہو گا ، سنو تم میں سے جسے وہ آگ میں ڈالے ، وہ اللہ سے فریاد رسی چاہے اور سورہ کہف کی ابتدائی آیتیں پڑھے ، اس کی وہ آگ اس پر ٹھنڈک اور سلامتی بن جائے گی جیسے کہ خلیل اللہ پر نمرود کی آگ ہو گئی ، اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک اعرابی سے کہے گا کہ اگر میں تیرے مرے ہوئے باپ کو زندہ کر دوں تو تو مجھے رب مان لے گا وہ اقرار کرے گا ، اتنے میں دو شیطان اسکی ماں اور باپ کی شکل میں ظاہر ہوں گے اور ان سے کہیں گے بیٹے یہی تیرا رب ہے تو اسے مان لے ، اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک شخص پر مسلط کر دیا جائے گا اسے آرے سے چروا کر دو ٹکڑے کروا دے گا ، پھر لوگوں سے کہے گا میرے اس بندے کو دیکھنا اب میں اسے زندہ کر دوں گا ، لیکن پھر بھی یہی کہے گا کہ اس کا رب میرے سوا اور ہے ، چنانچہ یہ اسے اٹھا بیٹھائے گا اور یہ خبیث اس سے پوچھے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دے گا میرا رب اللہ ہے اور تو اللہ کا دشمن دجال ہے ۔ اللہ کی قسم اب تو مجھے پہلے سے بھی بہت زیادہ یقین ہو گیا ۔ دوسری سند سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ مومن میری تمام امت سے زیادہ بلند درجہ کا جنتی ہو گا ۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اس حدیث کو سن کر ہمارا خیال تھا کہ یہ شخص حضرت عمر بن خطاب ہی ہوں گے آپ کی شہادت تک ہمارا یہی خیال رہا ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ آسمان کو پانی برسانے کا حکم دے گا اور آسمان سے بارش ہو گی ، وہ زمین کو پیداوار اگانے کا حکم دے گا اور زمین سے پیداوار نکلے گی ، اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک قبیلے کے پاس جائے گا وہ اسے نہ مانیں گے ، اسی وقت ان کی تمام چیزیں برباد اور ہلاک ہو جائیں گی ، ایک اور قبیلے کے پاس جائے گا جو اسے خدا مان لے گا ، اسی وقت اس کے حکم سے ان پر آسمان سے بارش برسے گی اور زمین پھل اور کھیتی اگائے گی ، ان کے جانور پہلے سے زیادہ موٹے تازے اور دودھ والے ہو جائیں گے ۔ سوائے مکہ اور مدینہ کے تمام کا گشت کرے گا ، ان کے جانور پہلے سے زیادہ موٹے تازے اور دودھ والے ہو جائیں گے ۔ سوائے مکہ اور مدینہ کے تمام زمین کا گشت کرے گا ، جب مدینہ کا رخ کرے گا تو یہاں ہر ہر راہ پر فرشتوں کو کھلی تلواریں لئے ہوئے پائے گا تو ضریب کی انتہائی حد پر ضریب احمر کے پاس ٹھہر جائے گا ، پھر مدینے میں تین بھونچال آئیں گے ، اس وجہ سے جتنے منافق مرد اور جس قدر منافقہ عورتیں ہوں گی ، سب مدینہ سے نکل کر اس کے لشکر میں مل جائیں گے اور مدینہ ان گندے لوگوں کو اس طرح اپنے میں سے دور پھینک دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو لاگ کر دیتی ہے ، اس دن کا نام یوم الخلاص ہو گا ۔ ام شریک رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن عرب کہاں ہوں گے؟ فرمایا اولاً تو ہوں گے ہی بہت کم اور اکثریت ان کی بیت المقدس میں ہو گی ، ان کا امام پچھلے پیروں پیچھے ہٹے گا تا کہ آپ آگے بڑھ کر امامت کرائیں لیکن آپ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے کہ آگے بڑھو اور نماز پڑھاؤ ، اقامت تمہارے لئے کی گی ہے پس ان کا امام ہی نماز پڑھائے گا ، فارغ ہو کر آپ فرمائیں گے ، دروازہ کھول دو ، پس کھول دیا جائے گا ، ادھر دجال ستر ہزار یہودیوں کا لشکر لئے ہوئے موجود ہو گا ، جن کے سر پر تاج اور جن کی تلواروں پر سونا ہو گا ، دجال آپ کو دیکھ کر اس طرح گھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں گھلتا ہے اور ایک دم پیٹھ پھیر کر بھاگنا شروع کر دے گا لیکن آپ فرمائیں گے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ تو میرے ہاتھ سے ایک ضرب کھائے تو اسے ٹال نہیں سکتا ۔ چنانچہ آپ اسے مشرقی باب لد کے پاس پکڑ لیں گے اور وہیں اسے قتل کریں گے ، اب یہودی بد حواسی سے منتشر ہو کر بھاگیں گے لیکن انہیں کہیں سر چھپانے کو جگہ نہ ملے گی ، ہر پتھر ہر درخت ہر دیوار اور ہر جانور بولتا ہو گا کہ اے مسلمان یہاں یہودی ہے ، آ اسے مار ڈال ، ہاں ببول کا درخت یہودیوں کا درخت ہے یہ نہیں بولے گا ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس کا رہنا چالیس سال تک ہو گا ، سال آدھے سال کے برابر اور سال مہینہ بھر جیسا اور مہینہ جمعہ جیسا اور باقی دن مثل شرارہ کے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

157۔ 1 اس سے واضح ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہودی قتل کرنے میں کامیاب ہو سکے نہ سولی چڑھانے میں۔ جیسا کہ ان کا منصوبہ تھا۔ جیسا کہ) سورة آل عمران کی آیت نمبر 55 کے حاشیہ) مختصر تفصیل گزر چکی ہے۔ 157۔ 2 اس کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو یہودیوں کی سازش کا پتہ چلا تو انہوں نے اپنے حواریوں کو جن کی تعداد 12 یا 17 تھی جمع کیا اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص میری جگہ قتل ہونے کے لئے تیار ہے ؟ تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی شکل و صورت میری جیسی بنادی جائے ۔ ایک نوجوان اس کے لئے تیار ہوگیا۔ چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو وہاں سے آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ بعد میں یہودی آئے اور انہوں نے اس نوجوان کو لے جا کر سولی چڑھا دیا۔ جسے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ہم شکل بنادیا گیا تھا۔ یہودی یہی سمجھتے رہے کہ ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی دی ہے درآنحالیکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اس وقت وہاں موجود ہی نہ تھے وہ زندہ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھائے جاچکے تھے (ابن کثیر و فتح القدیر) 157۔ 3 عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہم شکل شخص کو قتل کرنے کے بعد ایک گروہ تو یہی کہتا رہا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیا گیا جب کہ دوسرا گروہ جسے یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ مصلوب شخص عیسیٰ (علیہ السلام) نہیں کوئی اور ہے، بعض کہتے ہیں کہ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر جاتے ہوئے بھی دیکھا تھا بعض کہتے ہیں کہ اس اختلاف سے مراد وہ اختلاف ہے جو خود عیسائیوں کے ایک فرقے نے کہا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) جسم کے لحاظ تو سولی دے دیے گئے لیکن لاہوت (خداوندی) کے اعتبار سے نہیں۔ ملکانیہ فرقے نے کہا یہ قتل و صلب ناسوت اور لاہوت دونوں اعتبار سے مکمل طور پر ہوا ہے (فتح القدیر) بہرحال وہ اختلاف اور تردد اور شک کا شکار رہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٠٧] یہود کی الزام تراشیاں :۔ یہود کے دلوں پر اللہ نے جو بدبختی کی مہر لگائی تھی تو اس کی وجوہ صرف وہی نہیں جو اوپر مذکور ہو چکیں۔ بلکہ ان کے جرائم کی فہرست آگے بھی چلتی ہے۔ جن میں سے ان کا ایک جرم یہ تھا کہ سیدہ مریم پر تہمت لگا دی اور سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو ولد الحرام کہتے تھے اور سیدنا زکریا سے منسوب کرتے تھے اور دوسرا جرم یہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہ ہم نے سیدنا عیسیٰ کو سولی پر چڑھا کر مار ڈالا ہے۔ یعنی سیدنا عیسیٰ کی پیدائش اور وفات جو دونوں معجزانہ طور پر واقع ہوئی تھیں ان کا صرف انکار ہی نہیں بلکہ ماں بیٹا دونوں پر الزامات بھی لگاتے رہے۔ ان الزامات اور ان کے جوابات کے لیے دیکھیے سورة آل عمران کی آیت نمبر ٥٤، ٥٥ کے حواشی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَّقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ ۚ: یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہود خود مسیح (علیہ السلام) کی رسالت کا اقرار کر کے اپنے گمان میں انھیں قتل کرنے کا دعویٰ اور اس پر فخر کر رہے ہیں، یہ کیسے ہوسکتا ہے ؟ مفسرین نے اس کے چند جواب دیے ہیں، پہلا یہ کہ وہ جو اپنے آپ کو ” رسول اللہ “ سمجھتا تھا، ہم نے اسے قتل کردیا۔ دوسرا یہ کہ وہ بطور طنز انھیں ” رسول اللہ “ کہہ رہے تھے۔ تیسرا یہ کہ یہودیوں کا عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کو بطور فخر ذکر کرنے پر اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے اکرام اور شرف کے اظہار کے لیے اپنے پاس سے لفظ ” رسول اللہ “ کا اضافہ کردیا کہ ان ظالموں نے کتنی بڑی ہستی کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا۔ چوتھا یہ کہ یہودیوں کو نہ مریم [ کے پاکباز ہونے میں کوئی شک تھا، نہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے رسول ہونے میں، کیونکہ پیدائش کے دن ہی بطور معجزہ اللہ تعالیٰ نے مسیح (علیہ السلام) کی زبانی تمام یہودیوں کے سامنے مریم [ کی پاکبازی اور مسیح (علیہ السلام) کی رسالت ثابت فرما دی تھی، مگر قوم یہود کو جب مسیح (علیہ السلام) نے ان کے کفر و شرک، ریا کاری اور سود خوری پر ٹوکا تو وہ ان کی جان کے درپے ہوگئے اور گناہوں نے ان کے دل اس طرح مسخ کردیے تھے کہ جس عظیم خاتون کو وہ تیس سال تک پاکباز سمجھتے رہے اس پر زنا کی تہمت لگا دی اور جسے دل سے رسول مانتے رہے گناہوں سے ٹوکنے پر اسے قتل کرنے کے درپے ہوگئے، حتیٰ کہ اپنے خیال میں قتل میں کامیاب ہوگئے اور اس پر فخر بھی کرنے لگے۔ انسانی طبائع جب مسخ ہوتی ہیں تو ان کی شقاوت کہاں تک پہنچ جاتی ہے، یہ اس کی مثال ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی رسولوں کو قتل کرچکے تھے۔ وَمَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوْهُ وَلٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۭ: قرآن پاک نے یہودیوں کے دعویٰ کی صاف نفی کی اور فرمایا کہ نہ انھوں نے مسیح (علیہ السلام) کو قتل کیا اور نہ سولی دی، بلکہ ان کے لیے کسی اور آدمی کو مسیح (علیہ السلام) کی شبیہ (ان جیسا) بنادیا گیا۔ وہ اسے سولی دے کر سمجھتے رہے کہ ہم نے مسیح کو صلیب پر چڑھا دیا۔ یہ آدمی کون تھا اور کیسے شبیہ بنایا گیا، قرآن مجید یا حدیث رسول میں اس کی تفصیل بیان نہیں ہوئی، ہاں اگلی آیت میں آ رہا ہے کہ (عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہ انھوں نے قتل کیا نہ سولی دیا بلکہ) اللہ تعالیٰ نے انھیں اپنی طرف اٹھا لیا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی شبیہ بنائے جانے کی کیفیت کی ایک روایت ابن عباس (رض) سے صحیح سند کے ساتھ امام ابن کثیر اور ابن جریر نے بیان فرمائی ہے کہ جب یہودی مسیح (علیہ السلام) کو پکڑنے کے لیے گئے تو آپ نے اپنے حواریوں سے فرمایا کہ تم میں سے کون شخص اس بات پر راضی ہے کہ اسے میرا شبیہ بنادیا جائے ؟ ایک حواری اس پر راضی ہوگیا، چناچہ مسیح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف اٹھا لیا اور اس نوجوان کو مسیح (علیہ السلام) کی شکل و صورت میں تبدیل کردیا گیا، یہودی آئے اور اس نوجوان کو سولی دے دی۔ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ ۭ: عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہم شکل کو قتل کرنے کے بعد وہ لوگ خود تردد میں پڑگئے کہ جسے ہم نے سولی دی ہے، کون ہے ! بعض نے کہا، مسیح ہی قتل ہوئے ہیں اور بعض نے کہا کہ یہ مسیح تو نہیں بلکہ کوئی اور ہے۔ خود انھیں بھی یقین نہ ہوسکا کہ واقعی ہم نے انھی کو صلیب پر چڑھایا ہے، بس ایک گمان کی پیروی کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں۔ یقینی علم تو بہت دور ہے، خود وہ بھی اختلاف کا شکار ہیں اور شک میں مبتلا ہیں کہ کون قتل ہوا۔ یہ اختلاف یہود میں بھی تھا اور نصاریٰ کے فرقوں میں بھی ہے، جن میں سے بعض کہتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے ناسوت (انسانی جسم) کو سولی دی گئی اور لاہوت (ان کا وہ حصہ جو خدا تھا) اوپر اٹھا لیا گیا۔ بعض دونوں کی سولی کے قائل ہیں وغیرہ، قرآن مجید نے ان سب کو جھوٹا قرار دیا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary In the verse يَا عِيسَىٰ إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَ‌افِعُكَ (Isa, I am to take you in full and lift you towards Me... 3:55) appearing in Surah &Al-` Imran, Almighty Allah had made five promises in connection with foiling the Jewish plans against Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) and protecting him from their hostile intentions. A detailed explanation of these has been given earlier on that occasion in Surah &Al-` Imran. One of the promises made there was that the Jews will not be allowed to have their way with their intention to kill Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) . Instead of that, Allah will lift him towards Him. In the present verses (157-158) of Surah al-Nis-a&, it has been made explicit that they did not kill nor crucify Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) ، rather, what actually happened was that they were deluded by resemblance. How were the Jews &deluded by resemblance?& While explaining the words of the Qur&an: وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ (but they were deluded by resemblance), master exegete, Dahhak says: It so trans¬pired that, following the intention of Jews to kill Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) his disciples assembled at a given place. Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) joined them there. It was Iblis who gave the address of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) to the execution squad standing ready for the mission. Four thousand men surrounded the suspected house. Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) said to his disciples : &Is one of you willing to go out and be killed and then be in Paradise with me?& One of them offered to do so. Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) gave him his shirt and head-cover. Then, cast on him was the resem¬blance of Jesus and as soon as he came out, the Jews, believing him to be Jesus, caught him and crucified him, and Sayyidna ` Isa was lifted. (Qurtubi) According to some reports, the Jews had sent a person known to Arabs as Teetlanoos to kill Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) . He did not find Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) in the house for he was already lifted by Allah towards Himself. So, when this person came out of the house, he had been made to resemble the looks of Sayyidna ` Isa . The Jews took him to be Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) . Thus, they took away their own man and killed him. (Mazhari) There is room for whichever of the situations came to pass - the Holy Qur&an has not determined any particular situation. Therefore, Allah alone knows what really happened. However, this sentence of the Holy Qur&an seen with other exegetical reports does yield the common factor that the Jews and Christians were subjected to compelling delusion. The event as it took shape remained hidden from them, though they did advance all sorts of claims based on their conjectures which only landed them into mutual differences. This is what the Holy Qur&an points out to in the following words: وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ﴿١٥٧﴾ And those who disputed in this matter are certainly in doubt about it. They have no knowledge of it, but they follow whims. It means that they do not have certitude based on any true knowl¬edge. The diverse claims put forward by those who have differed in the case of Masih (علیہ السلام) are simply based on doubt and conjecture. The truth of the matter is that they certainly did not kill Masih (علیہ السلام) rather Allah lifted him towards Himself. According to some other reports, when some of them woke up to what had happened, they said, We seem to have killed our own man, for the man we have put to death resembles Masih in face only but not in the rest of the body. Now, if this man we have killed is Masih (علیہ السلام) where, then, is our man? And if this is our man where, then, is Masih (علیہ السلام) ?& Verse 158, part of which was referred to immediately earlier, ends at: وَكَانَ اللَّـهُ عَزِيزًا حَكِيمًا : (And Allah is All-Mighty, All-Wise) carrying a significant message. It means that the planning of Jews to kill Sayy¬idna ` Isa (علیہ السلام) was insignificant as matched against the Power of Allah who has taken it upon Himself to protect Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) . Might and mastery are His domain. If materialists in their single-track isolation, remain incapable of understanding the reality of the &lifting off of Sayyidna ` Isa (علیہ السلام) ، that is their own limitation. As for Allah, He is All-Wise - everything He does is based on wisdom and fitness to whatever end is desired.

معارف ومسائل سورة آل عمران کی آیت یعیسی انی متوفیک ورافع الی الآیہ (٣: ٥٥) میں حق تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دشمن یہود کے عزائم کو ناکام بنانے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی دستبرد سے بچانے کے سلسلہ میں پانچ وعدے فرمائے تھے جن کی تفصیل اور مکمل تشریح و تفسیر سورة آل عمران کی تفسیر میں بیان ہوچکی ہے ان وعدوں میں ایک وعدہ یہ بھی تھا کہ یہود کو آپ کے قتل پر قدرت نہیں دی جائے گی، بلکہ آپ کو اللہ تعالیٰ اپنی طرف اٹھا لیں گے، اس آیت میں یہود کی شرارتوں اور جھوٹے دعوؤں کے بیان میں اس وعدہ الٓہیہ کی تکمیل اور یہود کے مغالطہ کا مفصل بیان اور یہود کے اس قول کی مکمل تردید ہے کہ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیا ہے۔ ان آیات میں واضح کیا گیا کہ وما قتلوہ وما صلبوہ یعنی ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کو نہ قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ صورتحال یہ پیش آئی کہ معاملہ ان کے لئے مشتبہ کردیا گیا۔ یہود کو اشتباہ کس طرح پیش آیا ؟:۔ ولکن شبہ لھم کی تفسیر میں امام تفسیر حضرت ضحاک (رح) فرماتے ہیں کہ قصہ یوں پیش آیا کہ جب یہود نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ کیا تو آپ کے حواری ایک جگہ جمع ہوگئے، حضرت مسیح (علیہ السلام) بھی ان کے پاس تشریف لے آئے، ابلیس نے یہود کے اس دستہ کو جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے لئے تیار کھڑا تھا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا پتہ دیا اور چار ہزار آدمیوں نے مکان کا محاصرہ کرلیا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے حواریین سے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس کے لئے آمادہ ہے کہ باہر نکلے اور اس کو قتل کردیا جائے اور پھر جنت میں میرے ساتھ ہو، ان میں سے ایک آدمی نے اس غرض کے لئے اپنے آپ کو پیش کردیا، آپ نے اس کو اپنا کرتہ، عمامہ عطا کیا، پھر اس پر آپ کی مشابہت ڈال دی گئی اور جب وہ باہر نکل آیا تو یہود اسے پکڑ کرلے گئے اور سولی پر چڑھا دیا، اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھا لیا گیا۔ (قرطبی) بعض روایات میں ہے کہ یہودیوں نے ایک شخص طیطلانوس کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے واسطے بھیجا تھا، حضرت عیسیٰ تو مکان میں نہ ملے، اس لئے کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے اٹھا لیا تھا اور یہ شخص جب گھر سے نکلا تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ہمشکل بنادیا گیا تھا، یہودیہ سمجھے کہ یہی عیسیٰ ہے اور اسے اپنے ہی آدمی کو لیجا کر قتل کردیا (مظہری) ان میں سے جو بھی صورت حال پیش آئی ہو سب کی گنجائش ہے، قرآن کریم نے کسی خاص صورت کو متعین نہیں فرمایا، اس لئے حقیقت حال کا صحیح علم تو اللہ ہی کو ہے، البتہ قرآن کریم نے اس جملے اور دوسری تفسیری روایات سے یہ قدر مشترک ضرور نکلتی ہے کہ یہود و نصاری کو زبردست مغالطہ ہوگیا تھا، حقیقی واقعہ ان سے پوشیدہ رہا اور اپنے اپنے گمان و قیاس کے مطابق انہوں نے طرح طرح کے دعوے کئے اور ان کے آپس ہی میں اختلافات پیدا ہوگئے، اسی حقیت کی طرف قرآن کریم کے ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے : وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ مالھم بہ من علم الا اتباع الظن وما قتلوہ یقیناً کہ ان کے پاس صحیح علم کی بنیاد پر کوئی یقینی بات نہیں ہے جن جن لوگوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کر کے طرح طرح کے دعوے کئے ہیں یہ سب شک اور اٹکل کی باتیں ہیں، صحیح صورت واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو یقیناً قتل نہیں کیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ بعض روایات میں یہ بھی ہے کہ کچھ لوگوں کو تنبیہ ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے تو اپنے ہی آدمی کو قتل کردیا ہے اس لئے کہ یہ مقتول چہرے میں تو حضرت مسیح (علیہ السلام) کے مشابہ ہے، لیکن باقی جسم میں ان کی طرح نہیں اور یہ کہ اگر یہ مقتول مسیح (علیہ السلام) ہیں تو ہمارا آدمی کہاں ہے اور اگر یہ ہمارا آدمی ہے تو مسیح (علیہ السلام) کہاں ہیں ؟ وکان اللہ عزیزاً حکیماً اللہ جل شانہ زبردست قدرت و غلبہ والا ہے، یہود لاکھ دفعہ قتل کے منصوبے بناتے لیکن جب اللہ نے حضرت عیسیٰ کی حفاظت کا ذمہ لیا تو اس کی قدرت و غلبہ کے سامنے ان کے منصوبوں کی حیثیت کیا ہے، وہ قدرت والا ہے، صرف مادہ کے پرستار انسان اگر رفع عیسیٰ (علیہ السلام) کی حقیقت کو نہیں سمجھ سکے تو یہ ان کی اپنی کمزوری ہے، وہ حکمت والا ہے، اس کا ہر فعل حکمت و مصلحت پر مبنی ہوتا ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّقَوْلِـہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللہِ۝ ٠ۚ وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰكِنْ شُـبِّہَ لَہُمْ۝ ٠ۭ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْہِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْہُ۝ ٠ۭ مَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ۝ ٠ۚ وَمَا قَتَلُوْہُ يَقِيْنًۢا۝ ١٥٧ۙ قتل أصل القَتْلِ : إزالة الروح عن الجسد کالموت، لکن إذا اعتبر بفعل المتولّي لذلک يقال : قَتْلٌ ، وإذا اعتبر بفوت الحیاة يقال : موت . قال تعالی: أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] ( ق ت ل ) القتل ( ن ) الموت کی طرح اس کے معنی بھی جسم سے روح کو زائل کرنے کے ہیں لیکن موت اور قتل میں فرق یہ ہے کہ اگر اس فعل کو سرا انجام دینے والے کا اعتبار کیا جائے تو اسے قتل کہا جاتا ہے اور اگر صرف روح کے فوت ہونے کا اعتبار کیا جائے تو اسے موت کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں قرآن میں ہے : ۔ أَفَإِنْ ماتَ أَوْ قُتِلَ [ آل عمران/ 144] عيسی عِيسَى اسم علم، وإذا جعل عربيّا أمكن أن يكون من قولهم : بعیر أَعْيَسُ ، وناقة عَيْسَاءُ ، وجمعها عِيسٌ ، وهي إبل بيض يعتري بياضها ظلمة، أو من الْعَيْسِ وهو ماء الفحل يقال : عَاسَهَا يَعِيسُهَا ( ع ی س ) یہ ایک پیغمبر کا نام اور اسم علم ہے اگر یہ لفظ عربی الاصل مان لیا جائے تو ہوسکتا ہے کہ یہ اس عیس سے ماخوذ ہو جو کہ اعیس کی جمع ہے اور اس کی مؤنث عیساء ہے اور عیس کے معنی ہیں سفید اونٹ جن کی سفیدی میں قدرے سیاہی کی آمیزش ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے عیس سے مشتق ہو جس کے معنی سانڈ کے مادہ منو یہ کے ہیں اور بعیر اعیس وناقۃ عیساء جمع عیس اور عاسھا یعسھا کے معنی ہیں نر کا مادہ سے جفتی کھانا ۔ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس صلب والصَّلَبُ والاصْطِلَابُ : استخراج الودک من العظم، والصَّلْبُ الذي هو تعلیق الإنسان للقتل، قيل : هو شدّ صُلْبِهِ علی خشب، وقیل : إنما هو من صَلْبِ الوَدَكِ. قال تعالی: وَما قَتَلُوهُ وَما صَلَبُوهُ [ النساء/ 157] ، وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ [ الشعراء/ 49] والصَّلِيبُ : أصله الخشب الذي يُصْلَبُ عليه، والصَّلِيبُ : الذي يتقرّب به النّصاری، هو لکونه علی هيئة الخشب الّذي زعموا أنه صُلِبَ عليه عيسى عليه السلام، ( ص ل ب ) الصلب الصلب والاصطلاب کے معنی ہڈیوں سے چکنائی نکالنا کے ہیں اور صلب جس کے معنی قتل کرنے کے لئے لٹکا دینا کے ہیں ۔ بقول بعض اسے صلب اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں اس شخص کی پیٹھ لکڑی کے ساتھ باندھ دی جاتی ہے اور بعض نے کہا ہے کہ یہ صلب الودک سے ہے جس کے معنی ہڈیوں سے چکنائی نکالنا گے ہیں قرآن میں ہے : وَما قَتَلُوهُ وَما صَلَبُوهُ [ النساء/ 157] اور انہوں نے عیسٰی کو قتل نہیں کیا اور نہ سول پر چڑ ھایا ۔ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ [ الشعراء/ 49] اور کھجور کے تنوں پر سولی چڑھوادوں گا ۔ ۔ الصلیب اصل میں سوئی کی لکڑی کو کہتے ہیں نیز صلیب اس لکڑی کو بھی کہتے ہیں جو عیسائی بطور عبادت کے گلے میں اس خیال پر باندھ لیتے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس پر سولی لٹکایا گیا تھا ۔ اور جس کپڑے پر صلیب کے نشانات بنے ہوئے ہوں اسے مصلب کہاجاتا ہے ۔ صالب سخت بخار جو پیٹھ کو چور کردے یا پسینہ کے ذریعہ انسان کی چربی نکال لائے ۔ شبه الشِّبْهُ والشَّبَهُ والشَّبِيهُ : حقیقتها في المماثلة من جهة الكيفيّة، کاللّون والطّعم، وکالعدالة والظّلم، والشُّبْهَةُ : هو أن لا يتميّز أحد الشّيئين من الآخر لما بينهما من التّشابه، عينا کان أو معنی، قال : وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، أي : يشبه بعضه بعضا لونا لا طعما وحقیقة، ( ش ب ہ ) الشیبۃ والشبۃ کے اصل معنی مماثلت بلحاظ کیف کے ہیں مثلا لون اور طعم میں باہم مماثل ہونا یا عدل ظلم میں اور دو چیزوں کا معنوی لحاظ سے اس قدر مماثل ہونا کہ ایک دوسرے سے ممتاز نہ ہو سکیں شبھۃ کہلاتا ہے پس آیت کریمہ : ۔ وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے میں متشابھا کے معنی یہ ہیں کہ وہ میوے اصل اور مزہ میں مختلف ہونے کے باوجود رنگت میں ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہوں گے الاختلافُ والمخالفة والاختلافُ والمخالفة : أن يأخذ کلّ واحد طریقا غير طریق الآخر في حاله أو قوله، والخِلَاف أعمّ من الضّدّ ، لأنّ كلّ ضدّين مختلفان، ولیس کلّ مختلفین ضدّين، ولمّا کان الاختلاف بين النّاس في القول قد يقتضي التّنازع استعیر ذلک للمنازعة والمجادلة، قال : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] ( خ ل ف ) الاختلاف والمخالفۃ الاختلاف والمخالفۃ کے معنی کسی حالت یا قول میں ایک دوسرے کے خلاف کا لفظ ان دونوں سے اعم ہے کیونکہ ضدین کا مختلف ہونا تو ضروری ہوتا ہے مگر مختلفین کا ضدین ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔ پھر لوگوں کا باہم کسی بات میں اختلاف کرنا عموما نزاع کا سبب بنتا ہے ۔ اس لئے استعارۃ اختلاف کا لفظ نزاع اور جدال کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَاخْتَلَفَ الْأَحْزابُ [ مریم/ 37] پھر کتنے فرقے پھٹ گئے ۔ شكك الشَّكُّ : اعتدال النّقيضين عند الإنسان وتساويهما، والشَّكُّ : ضرب من الجهل، وهو أخصّ منه، لأنّ الجهل قد يكون عدم العلم بالنّقيضين رأسا، فكلّ شَكٍّ جهل، ولیس کلّ جهل شكّا، قال اللہ تعالی: وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ [هود/ 110] ( ش ک ک ) الشک کے معنی دونقیضوں کے ذہن میں برابر اور مساوی ہونے کے ہیں ۔ الشک : شک جہالت ہی کی ایک قسم ہے لیکن اس سے اخص ہے کیونکہ جہل میں کبھی سرے سے نقیضیں کا علم ہی نہیں ہوتا ۔ پس ہر شک جھل ہے مگر ہر جہل شک نہیں ہے ۔ قرآن میں ہے : وَإِنَّهُمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ [هود/ 110] وہ تو اس سے قوی شبہ میں پڑے ہوئے ہیں ۔ تبع يقال : تَبِعَهُ واتَّبَعَهُ : قفا أثره، وذلک تارة بالجسم، وتارة بالارتسام والائتمار، وعلی ذلک قوله تعالی: فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] ( ت ب ع) تبعہ واتبعہ کے معنی کے نقش قدم پر چلنا کے ہیں یہ کبھی اطاعت اور فرمانبرداری سے ہوتا ہے جیسے فرمایا ؛ فَمَنْ تَبِعَ هُدايَ فَلا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلا هُمْ يَحْزَنُونَ [ البقرة/ 38] تو جنہوں نے میری ہدایت کی پیروی کی ان کو نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ غمناک ہونگے ظن والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ، ( ظ ن ن ) الظن اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔ يقن اليَقِينُ من صفة العلم فوق المعرفة والدّراية وأخواتها، يقال : علم يَقِينٍ ، ولا يقال : معرفة يَقِينٍ ، وهو سکون الفهم مع ثبات الحکم، وقال : عِلْمَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 5] «2» ، وعَيْنَ الْيَقِينِ [ التکاثر/ 7] «3» وحَقُّ الْيَقِينِ [ الواقعة/ 95] وبینها فروق مذکورة في غير هذا الکتاب، يقال : اسْتَيْقَنَ وأَيْقَنَ ، قال تعالی: إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَما نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ [ الجاثية/ 32] ، وَفِي الْأَرْضِ آياتٌ لِلْمُوقِنِينَ [ الذاریات/ 20] ، لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ [ البقرة/ 118] وقوله عزّ وجلّ : وَما قَتَلُوهُ يَقِيناً [ النساء/ 157] أي : ما قتلوه قتلا تَيَقَّنُوهُ ، بل إنما حکموا تخمینا ووهما . ( ی ق ن ) الیقین کے معنی کسی امر کو پوری طرح سمجھ لینے کے ساتھ اس کے پایہ ثبوت تک پہنچ جانے کے ہیں اسی لئے یہ صفات علم سے ہے اور معرفت اور وغیرہ سے اس کا در جہ اوپر ہے یہی وجہ ہے کہ کا محاورہ تو استعمال ہوات ہے لیکن معرفۃ الیقین نہیں بولتے اور قدر معنوی فرق پایا جاتا ہے جسے ہم اس کتاب کے بعد بیان کریں گے استیتن والقن یقین کرنا قرآن میں ہے : ۔ إِنْ نَظُنُّ إِلَّا ظَنًّا وَما نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ [ الجاثية/ 32] ہم اس کو محض ظن ہی خیال کرتے ہیں اور ہمیں یقین نہیں آتا ۔ وَفِي الْأَرْضِ آياتٌ لِلْمُوقِنِينَ [ الذاریات/ 20] اور یقین کرنے والوں کے لئے زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں ۔ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ [ البقرة/ 118] یقین کرنے والوں کیلئے اور آیت کریمہ : ۔ وَما قَتَلُوهُ يَقِيناً [ النساء/ 157] اور انہوں نے عیسیٰ کو یقینا نہیں کیا ۔ کے معنی یہ ہیں کہ انہیں ان کے قتل ہوجانے کا یقین نہیں ہے بلکہ ظن وتخمین سے ان کے قتل ہوجانے کا حکم لگاتے ہیں ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٥٧ (وَّقَوْلِہِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی ابْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ج) یعنی اللہ کے رسول کو قتل کردیا ! یہاں یہ رَسُوْلَ اللّٰہِکے الفاظ ان کے نہیں ہیں ‘ بلکہ یہ اللہ کی طرف سے ہیں استعجابیہ نشان (sign of exclamation) کے ساتھ ‘ کہ اچھا ان کا دعویٰ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے ! جبکہ رسول تو قتل ہو ہی نہیں سکتا۔ اللہ کا تو فیصلہ ہے ‘ ایک طے شدہ امر ہے ‘ اللہ کی طرف سے لکھا ہوا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب آکر رہیں گے (کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ ط) (المجادلۃ : ٢١) تو ان کی یہ جرأت کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے ! (وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَہُمْ ط) معاملہ ان کے لیے مشتبہ کردیا گیا اور ایک شخص کی حضرت مسیح ( علیہ السلام) جیسی صورت بنا دی گئی ‘ ان کے ساتھ مشابہت کردی گئی۔ چناچہ انہوں نے جس کو مسیح سمجھ کر سولی پر چڑھایا ‘ وہ مسیح ( علیہ السلام) نہیں تھا ‘ ان کی جگہ کوئی اور تھا۔ انجیل برنباس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کا نام یہودا اسخریوطی (Judas Iscariot) تھا اور وہ آپ ( علیہ السلام) کے حواریوں میں سے تھا۔ ویسے اس کی نیت کچھ اور تھی ‘ اس میں بد نیتی بہر حال نہیں تھی (تفصیل کا یہاں موقع نہیں ہے) لیکن چونکہ اس نے آپ ( علیہ السلام) کو گرفتار کرایا تھا ‘ چناچہ اس گستاخی کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے اس کی شکل حضرت مسیح (علیہ السلام) جیسی بنا دی اور حضرت مسیح ( علیہ السلام) کی جگہ وہ پکڑا گیا اور سولی چڑھا دیا گیا۔ (وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ ط) انہیں خود پتا نہیں کہ کیا ہوا ؟ کیسے ہوا ؟ (مَا لَہُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ الاَّ اتِّبَاع الظَّنِّج وَمَا قَتَلُوْہُ یَقِیْنًا ) حضرت مسیح (علیہ السلام) ہرگز قتل نہیں ہوئے اور نہ ہی آپ ( علیہ السلام) کو صلیب پر چڑھایا گیا ۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

191. Their criminal boldness had reached such proportions that they attempted to put an end to the life of the one they themselves knew to be a Prophet, and subsequently went around boasting of this achievement. The least reflection on the incident of Jesus talking in his cradle (see the preceding note) makes it clear that there was no strong reason to doubt his prophethood. Moreover, the miracles of Jesus which they themselves witnessed (see Surah Al 'Imran 3: 49) had firmly established his claim to prophethood. Thus, whatever treatment they meted out to him was not based on any misconception, for they were fully aware that the person whom they were subjecting to criminal treatment had been appointed by God as the bearer of His message. It seems strange that a people should recognize a man to be a Prophet in their hearts and still try to assassinate him. The ways of degenerate nations are indeed strange. Such people are absolutely unprepared to tolerate the existence of those who reproach them for their corruption and seek to prevent them from evil. Hence the reformers, including Prophets, who arise among corrupt nations are always persecuted; they are imprisoned and even put to death. The Talmud mentions that: Nebuchadnezzar laid waste the land of Israel. . . when the city had been captured, he marched with his princes and officers into the Temple ... on one of the walls he found the mark of an arrow's head, as though somebody had been killed or hit nearby, and he asked: 'Who was killed here?' 'Zachariah, the son of Yohoyadah, the high priest', answered the people. 'He rebuked us incessantly on account of our transgressions, and we tired of his words, and put him to death.' (The Talmud Selections by H. Polano, London, Frederick Warne & Co.) The Bible also mentions that when the corrupt practices of Israel exceeded all limits, and Jeremiah warned them that God would have them overrun by other nations in punishment for their wickedness, his warning was greeted by the Jews with the accusation that he was a collaborator with the Chaldeans and hence a traitor. And under that pretext Jeremiah was sent to prison. In the same manner, about two and a half years before Jesus' crucifixion, John the Baptist suffered a cruel fate. On the whole the Jews knew him to be a Prophet, or at least acknowledged him to be one of the most religious people in the nation. But when he criticized the royal court of Herod, the King of Judah, he was first thrown into prison, and then, in response to the demand of a dancing girl, who was Herod's favourite 'mistress', his head was cut off. If this record of the Jews is kept in mind, it does not seem surprising that, after having subjected Jesus - according to their belief - to crucifixion, they might have been overcome by jubilation and in a fit of self-congratulation might have boastfully exclaimed: 'Yes, we have put a Prophet of God to death!' (For similar incidents see Towards Understanding the Qur'an, vol. I, (Surah 2, n. 79 - Ed.) 192. This again is a parenthetical statement. 193. This verse categorically states that Jesus was raised on high before he could be crucified, and that the belief of both the Jews and the Christians that Jesus died on the cross is based on a misconception. As a result of a comparative study of the Qur'anic and Biblical versions we are persuaded that, so far as the trial at the court of Pilate is concerned, it was probably Jesus who was tried. Pilate sentenced him to death after the Jews showed their deep hostility to Truth and righteousness by openly declaring that, in their view, the life of a thief was of higher value than that of a man with such a pure soul as Jesus. It was then that God raised Jesus up to heaven. The person the Jews subsequently crucified was someone else who, for one reason or another, was mistaken for the person of Jesus. The fact that the person who had actually been crucified was someone other than Jesus does not in any way detract from the guilt of those Jews, for in their minds it was Jesus whose head they were crowning with thorns, in whose face they were spitting, and whom they were subjecting to crucifixion. We are not in a position now to find out how and why such a confusion arose. As no authentic source of information is available to us, it would be inappropriate to conjecture and speculate about the cause of the misapprehension which led the Jews to believe that they had crucified Jesus, the son of Mary, whereas he had already passed far beyond their grasp. 194. "Those who differed' refers to the Christians. The Christians have dozens of different versions, rather than one universally agreed view, regarding the crucifixion of the Messiah. This in itself is an eloquent testimony that the Christians were doubtful about the actual event. Some of them held the view that the one who was crucified was someone other than-Jesus and that Jesus himself in fact remained standing somewhere nearby, laughing at their folly. Others were of the opinion that the one who was crucified was certainly Jesus himself, but that he did not die on the cross and was still alive when brought down from it. Others asserted that though Jesus died on the cross, he later returned to life, met his disciples and conversed with them about ten times. Again, some believe that the human body of Jesus suffered death and was buried, while the spirit of godhead in him was taken up on high. Yet others believe that after his death the Messiah was resurrected physically and was subsequently taken up to heaven in physical form. Had the truth been fully known and well-established so many divergent views could not have gained currency.

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :191 یعنی جرأت مجرمانہ اتنی بڑھی ہوئی تھی کہ رسول کو رسول جانتے تھے اور پھر اس کے قتل کا اقدام کیا اور فخریہ کہا کہ ہم نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے ۔ اوپر ہم نے گہوارے کے واقعہ کا جو حوالہ دیا ہے اس پر غور کرنے سے یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ یہودیوں کے لیے مسیح علیہ السلام کی نبوت میں شک کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہ تھی ۔ پھر جو روشن نشانیاں انہوں نے حضرت موصوف سے مشاہدہ کیں ( جن کا ذکر سورہ آل عمران رکوع ۵ میں گزر چکا ہے ) ان کے بعد تو یہ معاملہ بالکل ہی غیر مشتبہ ہو چکا تھا کہ آنجناب اللہ کے پیغمبر ہیں ۔ اس لیے واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے جو کچھ آپ کے ساتھ کیا وہ کسی غلط فہمی کی بنا پر نہ تھا بلکہ وہ خوب جانتے تھے کہ ہم اس جرم کا ارتکاب اس شخص کے ساتھ کر رہے ہیں جو اللہ کی طرف سے پیغمبر بن کر آیا ہے ۔ بظاہر یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کوئی قوم کسی شخص کو نبی جانتے اور مانتے ہوئے اسے قتل کر دے ۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ بگڑی ہوئی قوموں کے انداز و اطوار ہوتے ہی کچھ عجیب ہیں ۔ وہ اپنے درمیان کسی ایسے شخص کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتیں جو ان کی برائیوں پر انہیں ٹوکے اور ناجائز کاموں سے ان کو روکے ۔ ایسے لوگ چاہے وہ نبی ہی کیوں نہ ہوں ، ہمیشہ بد کردار قوموں میں قید اور قتل کی سزائیں پاتے ہی رہے ہیں ۔ تلمود میں لکھا ہے کہ بخت نصر نے جب بیت المَقْدِس فتح کیا تو وہ ہیکل سلیمانی میں داخل ہوا اور اس کی سیر کرنے لگا ۔ عین قربان گاہ کے سامنے ایک جگہ دیوار پر اسے ایک تیر کا نشان نظر آیا ۔ اس نے یہودیوں سے پوچھا یہ کیسا نشان ہے؟ انہوں نے جواب دیا”یہاں زکریا نبی کو ہم نے قتل کیا تھا ۔ وہ ہماری برائیوں پر ہمیں ملامت کرتا تھا ۔ آخر جب ہم اس کی ملامتوں سے تنگ آگئے تو ہم نے اسے مار ڈالا“ ۔ بائیبل میں یرمیاہ نبی کے متعلق لکھا ہے کہ جب بنی اسرائیل کی بد اخلاقیاں حد سے گزر گئیں اور حضرت یرمیاہ نے ان کو متنبہ کیا کہ ان اعمال کی پاداش میں خدا تم کو دوسری قوموں سے پامال کرادے گا تو ان پر الزام لگایا گیا کہ یہ شخص کسدیوں ( کلدانیوں ) سے ملا ہوا ہے اور قوم کا غدار ہے ۔ اس الزام میں ان کو جیل بھیج دیا گیا ۔ خود حضرت مسیح علیہ السلام کے واقعہ صلیب سے دو ڈھائی سال پہلے ہی حضرت یحییٰ کا معاملہ پیش آچکا تھا ۔ یہودی بالعموم ان کو نبی جانتے تھے اور کم از کم یہ تو مانتے ہی تھے کہ وہ ان کی قوم کے صالح ترین لوگوں میں سے ہیں ۔ مگر جب انہوں نے ہیرو دیس ( والی ریاست یہودیہ ) کے دربار کی برائیوں پر تنقید کی تو اسے برداشت نہ کیا گیا ۔ پہلے جیل بھیجے گئے ، اور پھر والی ریاست کی معشوقہ کے مطالبے پر ان کا سر قلم کر دیا گیا ۔ یہودیوں کے اس ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ انہوں نے اپنے زعم میں مسیح کو سولی پر چڑھانے کے بعد سینے پر ہاتھ مار کر کہا ہو“ہم نے اللہ کے رسول کو قتل کیا ہے” ۔ سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :192 یہ پھر جملہ معترضہ ہے ۔ سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :193 یہ آیت تصریح کرتی ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام صلیب پر چڑھائے جانے سے پہلے اٹھا لیے گئے تھے اور یہ کہ مسیحیوں اور یہودیوں ، دونوں کا یہ خیال کہ مسیح نے صلیب پر جان دی ، محض غلط فہمی پر مبنی ہے ۔ قرآن اور بائیبل کے بیانات کا متقابل مطالعہ کرنے سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ غالباً پیلاطس کی عدالت میں تو پیشی آپ ہی کی ہوئی تھی ، مگر جب وہ سزائے موت کا فیصلہ سنا چکا ، اور جب یہودیوں نے مسیح جیسے پاک نفس انسان کے مقابلہ میں ایک ڈاکو کی جان کو زیادہ قیمتی ٹھیرا کر اپنی حق دشمنی و باطل پسندی پر آخری مہر بھی لگا دی ، تب اللہ تعالیٰ نے کسی وقت آنجناب کو اٹھالیا ۔ بعد میں یہودیوں نے جس شخص کو صلیب پر چڑھایا وہ آپ کی ذات مقدس نہ تھی بلکہ کوئی اور شخص تھا جس کو نہ معلوم کس وجہ سے ان لوگوں نے عیسیٰ ابن مریم سمجھ لیا ۔ تاہم ان کا جرم اس سے کم نہیں ہوتا ۔ کیونکہ جس کو انہوں نے کانٹوں کا تاج پہنایا ، جس کے منہ پر تھوکا اور جسے ذلت کے ساتھ صلیب چڑھایا اس کو وہ عیسیٰ بن مریم ہی سمجھ رہے تھے ۔ اب یہ معلوم کرنے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے کہ معاملہ کس طرح ان کے لیے مشتبہ ہو گیا ۔ چونکہ اس باب میں کوئی یقینی ذریعہ معلومات نہیں ہے اس لیے مجرد قیاس و گمان اور افواہوں کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس شبہ کی نوعیت کیا تھی جس کی بنا پر یہودی یہ سمجھے کہ انہوں نے عیسیٰ ابن مریم کو صلیب دی ہے درآں حالے کہ عیسیٰ ابن مریم ان کے ہاتھ سے نکل چکے تھے ۔ سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :194 اختلاف کرنے والوں سے مراد عیسائی ہیں ۔ ان میں مسیح علیہ السلام کے مصلوب ہونے پر کوئی ایک متفق علیہ قول نہیں ہے بلکہ بیسیوں اقوال ہیں جن کی کثرت خود اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اصل حقیقت ان کے لیے بھی مشتبہ ہی رہی ۔ ان میں سے کوئی کہتا ہے کہ صلیب پر جو شخص چڑھایا گیا وہ مسیح نہ تھا بلکہ مسیح کی شکل میں کوئی اور تھا جسے یہودی اور رومی سپاہی ذلت کے ساتھ صلیب دے رہے تھے اور مسیح وہیں کسی جگہ کھڑا ان کی حماقت پر ہنس رہا تھا ۔ کوئی کہتا ہے کہ صلیب پر چڑھایا تو مسیح ہی کو گیا تھا مگر ان کی وفات صلیب پر نہیں ہوئی بلکہ اتارے جانے کے بعد ان میں جان تھی ۔ کوئی کہتا ہے کہ انہوں نے صلیب پر وفات پائی اور پھر وہ جی اٹھے اور کم و بیش دس مرتبہ اپنے مختلف حواریوں سے ملے اور باتیں کیں ۔ کوئی کہتا ہے کہ صلیب کی موت مسیح کے جسم انسانی پر واقع ہوئی اور وہ دفن ہوا مگر الوہیت کی روح جو اس میں تھی وہ اٹھالی گئی ۔ اور کوئی کہتا ہے کہ مرنے کے بعد مسیح علیہ السلام جسم سمیت زندہ ہوئے اور جسم سمیت اٹھائے گئے ۔ ظاہر ہے کہ اگر ان لوگوں کے پاس حقیقت کا علم ہوتا تو اتنی مختلف باتیں ان میں مشہور نہ ہوتیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

91: یعنی قرآنِ کریم نے یہ حقیقت بڑے پرزور الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ کوئی قتل کرسکا، اور نہ انہیں سولی دے سکا، بکہ ان کو استثناء ہوگیا، یعنی انہوں نے کسی اور شخص کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر اسے سولی پر چڑھا دیا، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے اوپر اٹھا لیا۔ قرآنِ کریم نے اس حقیقت کو واضح کرنے پر اکتفا فرمایا ہے اور اس واقعے کی تفصیل بیان نہیں فرمائی، بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جب آپ کا محاصرہ کیا گیا تو آپ کے مقدس ساتھیوں میں سے ایک نے یہ قربانی دی کہ خود باہر نکلے، اور اﷲ تعالیٰ نے ان کی صورت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسی بنا دی۔ دُشمنوں نے ان کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمجھ کر سولی پر لٹکا دیا، اور اﷲ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اوپر اٹھا لیا۔ ایک دوسری روایت کے مطابق جو شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جاسوسی کر کے انہیں گرفتار کرنے کے لئے اندر داخل ہوا تھا، اﷲ تعالیٰ نے اسی کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل میں تبدیل کردیا، اور جب وہ باہر نکلا تو اسی کو گرفتار کر کے سولی دی گئی، واللہ سبحانہ اعلم۔ 92: یعنی بظاہر تو وہ یقینی طور پر یہی سمجھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دے دی گئی تھی، لیکن چونکہ ان کے پاس اس کی کوئی یقینی دلیل نہیں ہے، اس لئے ایسا ہے جیسے وہ درحقیقت شک میں ہیں۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:157) وقولہم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم کا عطف حسب بالا فبما نقضہم میثاقھم پر ہے۔ ما قتلوہ سے لے کر آیۃ 159 تک جملہ معترضہ ہے۔ ما صلبوہ۔ ما نافیہ ہے۔ صلبوا صلب سے (باب ضرب) ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے انہوں نے اس کو سولی نہیں چڑھایا تھا۔ الصلب ھو تعلیق الانسان للقتل۔ کسی انسان کو لٹکا دینا تاکہ وہ مرجائے یہ صلب ہے۔ شبہ۔ وہی صورت بنادی گئی۔ مانند کردیا گیا۔ تشبیہ سے جس کے معنی کسی چیز کو کسی چیز کے مانند کردینے کے ہیں۔ ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے۔ ولکن شبہ لہم۔ بلکہ سولی چڑھانے کا معاملہ ان پر مشتبہ کردیا گیا۔ ان کو یوں معلوم ہوا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو سولی چڑھا دیا۔ لیکن حقیقت میں حضرت عیسیٰ کو وہ نہ قتل کرسکے اور نہ ہی سولی پر چڑھا سکے۔ محض مصلوب کی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے مشابہت کی وجہ سے غلط فہمی ہوئی ۔ وان الذین اختلوا ۔۔ الا اتباع الظن یہ ان اختلاف کرنے والوں کے متعلق ہے جو عیسائی تھے اور ان میں آپس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مصلوب ہونے پر کوئی متفق علیہ قول نہیں بلکہ ان میں بیسیوں اقوال ہیں جن کی کثرت اسی بات پر دلالت کرتی ہے کہ اصل حقیقت ان کے لئے بھی (یعنی نصاریٰ کے لئے بھی جنہوں نے یہود کے دعویٰ قتل و تصلیب پر اعتبار کرلیا ہے) مشبہ ہی رہی ۔ کوئی فرقہ ان میں سے کہتا ہے کہ جس شخص کو صلیب پر چڑھایا وہ مسیح نہ تھا بلکہ ان کی شکل کا کوئی اور آدمی تھا۔ کوئی کہتا ہے کہ صلیب پر چڑھایا تو مسیح کو ہی تھا مگر ان کی وفات صلیب پر نہ ہوئی تھی۔ اور کوئی کہتا ہے کہ صلیب پر موت مسیح کے جسم انسانی کی واقع ہوئی تھی مگر الوہیت کی روح جو اس میں تھی وہ اٹھالی گئی۔ اور کہتا ہے کہ مرنے کے بعد مسیح (علیہ السلام) جسم سمیت زندہ ہوئے اور جسم سمیت اٹھا لئے گئے۔ علی ہذا القیاس۔ وما قتلوہ بقینا۔ ان کی مندرجہ بالا غلطیوں کا قرآن حکیم نے ازالہ کردیا۔ کہ یقینا انہوں نے حضرت مسیح کو قتل نہیں کیا۔ بس یہ حقیقت ہے اور پھر اس کی مزید تصریح کردی۔ بل رفعہ اللہ الیہ۔ بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف (جسمانی طور پر زندہ) اٹھالیا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 8 یا یہودی انہیں محض طنزار سول اللہ ( علیہ السلام) کہا کرتے تھے اور پھر بزم خود قتل کرنے پر اس طرح کا فخر یہ ان کا انتہائی سنگین جرم تھا۔ ) رازی۔ قرطبی) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کے قتل کا دعویٰ کرتے ہوں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ ٰ ( علیہ السلام) کو رفعت شانکے پیش نظر یہ القاب ذکر فرادیئے ہوں (رازی)9 یعنی اللہ تعال نے ان کی ایک صورت بنادی اس صورت کو سولی چڑھا یا۔ (مو ضح) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہودی حضرت مسیح ( علیہ السلام) کو پکڑ نے کے لیے گئے تو آپ ( علیہ السلام) نے اپنے حواریوں سے فرمایا تم میں سے کون شخص اس بات پر راضی ہے کہ اسے میرا شبیہ بنادیا جائے ایک حواری اس پر راضی ہوگیا چناچہ حضرت مسیح ( علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف اٹھالیا اور اس نوجوان کو حضرت مسیح ( علیہ السلام) کی شکل و صورت میں تبدیل کردیا گیا یہودی آئے اور اسے سولی دیدی (ابن کثیر، ابن جریر بسند صحیح) ان اختلاف کرنے والوں میں یہود اور نصاریٰ دونوں شامل ہیں۔ یہود میں سے بعض تو کہتے ہیں کہ ہم نے واقعی مسیح ( علیہ السلام) کو سولی دے اور بعض مترد ہیں اور نصاری ٰ میں سے بعض تو کہتے ہیں کہ حضرت مسیح ( علیہ السلام) کے ناسوت یعنی جسم کو سولی دی گئی اور لاہوت (خداوندی) کے کو اوپر اٹھالیا گیا اور بعض دونوں کی سولی کے قائل ہیں غیرہ قرآن نے ان سب کی تکذیب کی۔ (وحیدی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

2۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے نام کے ساتھ جو رسول اللہ آیا ہے یہ یہود کا قول نہیں ہے بلکہ اللہ نے برھادیا ہے کہ دیکھو ایسے کی نسبت ایسا کہتے ہیں۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرمایا کہ میرے رسول بےدھڑک اپنا کام کرتے جائیے ہم آپ کو لوگوں کی سازشوں اور شرارتوں سے محفوظ رکھیں گے۔ اسی طرح ہی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا کہ تیرے دشمن جتنی چاہیں سازشیں اور شرارتیں کرلیں وہ تیرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ میں تجھے تیرے دشمنوں سے بچاؤں گا چناچہ یہودیوں نے جب عیسیٰ (علیہ السلام) کو تختہ دار پر لٹکانے کی کوشش کی تو جہاں عیسیٰ (علیہ السلام) محصور کیے گئے تھے انہیں لینے کے لیے یہودا نامی شخص اندر گیا جس کے بارے میں قرآن مجید نے اشارہ کیا ہے کہ یہ غدّارجب باہر آیا تو اسے عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہم شکل کردیا گیا۔ قرآن مجید کی اس وضاحت کے باوجود بائبل میں لکھا ہے کہ سولی کے وقت عیسیٰ (علیہ السلام) کے چہرہ پر تھوکا گیا اور انہیں کانٹوں کا ہار پہنا کر بڑی ذلت کے ساتھ تختۂ دار پر لٹکایا گیا اگر ان روایات کو صحیح مان لیا جائے تو اس سے مراد وہ شخص ہے جو آخری وقت تک واویلا کرتا رہا کہ میں عیسیٰ نہیں یہودا ہوں۔ لیکن اس کے باوجود اسے سولی پر لٹکادیا گیا جہاں تک عیسیٰ (علیہ السلام) کی ذات اقدس کا معاملہ ہے اللہ تعالیٰ نے انھیں اس قدر جمال اور جلال بخشا تھا کہ کوئی شخص انکے سامنے ایسی حرکت کرنے کی جرات نہیں کرسکتا تھا اور ہر آڑے و قت میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے جبریل امین (علیہ السلام) انکی مدد کیا کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق انہیں آسمانوں پر اٹھا لیا اور قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اہل کتاب کے شرک اور بغاوت کے خلاف شہادت دیں گے۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” وقولھم انا قتلنا المسیح عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم ، وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ، مالھم بہ من علم الا اتباع الظن ، وما قتلوہ یقینا “۔ (١٥٧) بل رفعہ اللہ الیہ ، وکان اللہ عزیزا حکیما (١٥٨) (٤ : ١٥٧۔ ١٥٨) (حالانکہ فی الواقع انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ صلیب پرچڑھایا بلکہ معاملہ ان کیلئے مشتبہ کردیا گیا اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں ۔ ان کے پاس اس معاملے میں کوئی علم نہیں ہے ۔ محض گمان ہی کی پیروی ہے ۔ انہوں نے مسیح کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھالیا ‘ اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے) ۔۔۔۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کے معاملے میں اہل یہود سخت خبط میں پڑے ہوئے تھے اور خود عیسائیوں کو بھی اس بارے میں سخت غلط فہمی لاحق تھی ۔ یہودی یہ کہتے تھے ” ہم نے عیسیٰ ابن مریم رسول اللہ “ کو قتل کردیا ہے ۔ لفظ رسول اللہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے لئے بطور مزاح استعمال کرتے تھے ۔ اور عیسائیوں کا کہنا یہ تھا “ انہیں سولی پر چڑھایا گیا اور دفن کردیا گیا لیکن تین دونوں کے بعد آپ دوبارہ اٹھ گئے ۔ “ اور ان کی تاریخ حضرت مسیح کی ولادت اور وفات سے اس طرح خاموش ہے کہ شاید اس واقعہ کی کوئی اہمیت ہی نہ تھی ۔ ان دونوں فریقوں نے اس عظیم واقعہ کے بارے میں وثوق کے ساتھ کوئی بات نہیں کہی تھی ۔ اس لئے کہ یہ واقعات بہت ہی تیزی سے وقوع پذیر ہوتے رہے اور نظروں سے اوجھل ہوتے رہے ۔ مختلف روایات پھیلتی رہیں اور سچ اور جھوٹ ایک دوسرے کے ساتھ گڈ مڈ ہوگئے ۔ کوئی بات یقین کے ساتھ کوئی نہ کہہ سکتا تھا ‘ نہ کسی نے کہی ‘ لہذا صرف وہی بات یقینی ہے جو اللہ رب العالمین نے فرمائی ۔ جن چار مروجہ اناجیل کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی گرفتاری کا قصہ بیان ہوا ہے ‘ آپ کی موت اور سولی پر چڑھانے کا جو قصہ اور پھر دفن کرنے اور پھر اٹھنے کا جو قصہ بیان ہوا ہے ‘ یہ تمام واقعات حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے کے بہت ہی بعد کے ادوار میں لکھے گئے ہیں ۔ اس دور میں حضرت مسیح کے شاگردوں پر مظالم ہوتے رہے اور دین مسیح کو دبایا جاتا رہا ۔ اس خوف ‘ رازداری اور تشدد اور جلاوطنی کی فضا میں یہ بات نہایت ہی مشکل تھی کہ کوئی صحیح اور تحقیقی بات لکھی جاسکے ۔ اس دور میں بیشمار انجیلیں لکھی گئیں ۔ جبکہ ٢٠٠ ء کے آخر میں جا کر ان میں سے ان مروجہ چار کو منتخب کیا گیا ۔ ان کو سرکاری اناجیل قرار دیا گیا۔ اور ان کو سرکاری اناجیل قرار دینے کے بھی بعض خاص مقاصد تھے اور شک وشبہ سے بالاتر نہ تھے ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد جو اناجیل تحریر ہوئیں ان میں سے ایک انجیل برناباس بھی تھی ۔ یہ انجیل ان چار منتخب اور تسلیم شدہ اناجیل سے مختلف تھی ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اٹھائے جانے کے واقعہ کے بارے میں یہ انجیل کہتی ہے ۔ ” جب سپاہی یہوداہ کے ساتھ اس جگہ پہنچے ‘ جہاں یسوع تھا ‘ تو مسیح نے جم غفیر کو پاس آتے سنا اور وہ گھر کے ایک گوشے میں ڈر کر سمٹ گیا ‘ گیارہ شاگرد (بدستور) سو رہے تھے ‘ جب خدائے تعالیٰ نے دیکھا کہ اس کا بندہ (یسوع) خطرے میں ہے تو اس نے اپنے فرشتوں ‘ جبرئیل ‘ میخائیل ‘ رفائیل اور اور یل کو حکم دیا کہ وہ یسوع کو دنیا سے نکال لائیں ‘ پاکیزہ فرشتے آئے اور وہ یسوع کو اس کھڑکی سے ‘ جس کا رخ جنوب کی طرف تھا ‘ نکال کر اور اٹھا کرلے گئے اور اسے تیسرے آسمان میں ان فرشتوں کی صحبت میں لے جا کر رکھ دیا ‘ جو تا ابد اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ‘ یہوداہ وقت کے ساتھ اسی کھڑی سے گھر میں داخل ہوا ‘ جس سے یسوع کو اٹھا لیا گیا تھا مسیح کے شاگرد سب کے سب (اب بھی) سو رہے تھے ‘ اب عجیب و غریب خدا نے ایک عجیب و غریب کام کیا اور وہ یہ کہ یہوداہ کی بولی اور اس کا چہرہ دونوں بدل گئے اور وہ یسوع کی طرح ہوگیا یہاں تک کہ ہمیں یقین ہوگیا کہ وہی یسوع ہے ۔ یہوداہ ہمیں جگانے کے بعد ڈھونڈنے لگا تاکہ معلوم کرے کہ ” استاد “ (یسوع) کہاں ہے ‘ ہمیں اس پر حیرت ہوئی اور ہم نے اس سے کہا : اے ہمارے آقا ! تو ہی تو ہمارا استاد ہے ‘ کیا تو نے ہمیں اس وقت بھلا دیا ہے ۔ ؛۔۔ ‘ غرض عیسائیوں کے پاس موجودہ ریکارڈ سے کوئی ایسا شخص جو اس معاملے میں تحقیق کرنا چاہے کوئی قابل یقین اور پختہ بات نہیں پاتا اس لئے کہ یہ واقعہ صبح صادق سے پہلے رات کی تاریکی میں پیش آیا تھا ۔ بعد میں آنے والے لوگوں نے جو دلائل پیش کئے وہ روایت در روایت پر مبنی تھے ۔ قرآن کریم اس بارے میں کہتا ہے ۔ (آیت) ” وان الذین اختلفوا فیہ لفی شک منہ ، مالھم بہ من علم الا اتباع الظن ، وما قتلوہ یقینا (١٥٧) بل رفعہ اللہ الیہ ، وکان اللہ عززا حکیما (١٥٨) (٤ : ١٥٧۔ ١٥٨) (اور جن لوگوں نے اس بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں ۔ ان کے پاس اس معاملے میں کوئی علم نہیں ہے ۔ محض گمان ہی کی پیروی ہے ۔ انہوں نے مسیح کو یقینا قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھالیا ‘ اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے) اور اس سے قبل قرآن کریم نے فیصلہ کن انداز میں فرمایا : (آیت) ” وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لھم “۔ (٤ : ١٥٧) (حالانکہ انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ صلیب پر چڑھایا بلکہ معاملہ ان کیلئے مشتبہ کردیا گیا۔ ) قرآن کریم یہاں رفع عیسیٰ (علیہ السلام) کی تفصیلات نہیں دیتا کہ آیا یہ رفع جسمانی تھا یا روحانی تھا ۔ بحالت حیات تھا ‘ یا فقط روحانی بعد الوفات تھا اور یہ کہ یہ تو فی کب واقعہ ہوئی اور کہاں ہوئی لیکن قرآن یہ کہتا ہے کہ انہوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ ہی اسے سولی پر چڑھایا ۔ یہ قتل اور سولی پر چڑھانے کا فعل اس شخص کے ساتھ ہوا جس کے بارے میں انہیں اشتباہ میں ڈالدیا گیا تھا کہ وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں ۔ اس کے سوا قرآن کریم یہاں مزید کچھ تفصیل نہیں بتاتا ۔ البتہ دوسری سورة ( سورة آل عمران) میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ۔ (آیت) ” (یاعیسی انی متوفیک ورافعک الی) (اے عیسیٰ میں تجھے واپس لے لوں گا اور تجھ کو اپنی طرف اٹھا لوں گا) اس آیت میں بھی اٹھائے جانے اور واپس لے لینے (وفات) کی تفصیلات نہیں دی گئیں نہ اس توفی کا وقت دیا گیا ہے اور نہ ہی ” توفی “ کی نوعیت بتائی گئی ہے ۔ ظلال القرآن میں ہم نے جو طریقہ اختیار کیا ہے ہم بھی اس میں قرآن کریم کے سائے میں رہتے ہوئے تفصیلات میں نہیں جاتے اس لئے کیفیت توفی پر ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے ۔ نہ اب تفصیلات کیلئے کوئی سبیل ہے ۔ محض اقاویل واساطیر نقل کرنے کا فائدہ ہی کیا ہوگا ۔ اب ہم واپس اصل موضوع کی طرف آتے ہیں اور قرآن کریم نے اہل کتاب پر جو استدراک کیا ہے اس کی طرف لوٹتے ہیں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

نیز سورة تحریم میں فرمایا (وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِیْ اَحْصَنَتَْ فَرْجَھَا) (الآیۃ) لیکن یہودی اسی پر اڑے رہے کہ حضرت مریم سے برائی کا صدور ہوا۔ پھر جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نبوت سے سرفراز ہوئے تو یہودیوں نے ان کی دشمنی میں اور زیادہ اضافہ کردیا۔ حتیٰ کہ اپنے خیال میں ان کو قتل ہی کردیا۔ اسی کو (وَقَوْلِھِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِیْحَ عِیْسَی بْنَ مَرْیَمَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ) میں بیان فرمایا۔ صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ وہ ان کو رسول مانتے نہ تھے۔ پھر بھی ان کو رسول اللہ کہا ان کا یہ کہنا مذاق بنانے کے تھا۔ اور یہ ممکن ہے کہ انہوں نے اس کی جگہ کوئی اور لفظ کہا ہو اللہ جل شانہ نے ان کی شان رفیع ظاہر فرمانے کے لیے لفظ رسول اللہ بڑھا کر ان کی صفت بیان فرما دی۔ اس کے بعد فرمایا (وَمَا قَتَلُوْہُ وَمَا صَلَبُوْہُ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ ) کہ ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہ قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا لیکن ان کو اشتباہ ہوگیا یہ اشتباہ کس طرح سے ہوا اس کے بارے میں مفسرین نے کئی باتیں لکھی ہیں۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو ایک جگہ قید کردیا تھا آپ نے ان کے لیے بددعا کی لہٰذا وہ بندر اور خنزیر بنا دئیے گئے جب یہ بات یہودیوں کے سردار کو پہنچی جس کا نام یہودا تھا اس نے یہودیوں کو جمع کیا اور سب اس بات پر متفق ہوگئے کہ ان کو قتل کردیا جائے۔ قتل کرنے کے لیے چلے تو اللہ تعالیٰ شانہ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیج دیا جنہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان کی طرف اٹھا لیا۔ یہودیوں میں ایک شخص قتل کرنے کے لیے اندر داخل ہوا جس کا نام طیطانوس تھا وہاں ان کو موجود نہ پایا اللہ تعالیٰ نے اس کی صورت عیسیٰ (علیہ السلام) کی صورت کے مشابہ بنا دی جب وہ باہر نکلا تو یہودیوں نے اسے قتل کردیا اور سولی پر چڑھا دیا۔ اور وہب بن منبہ سے یوں منقول ہے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ ستر حواری تھے جو ایک گھر میں جمع تھے۔ قتل کرنے والے جب آئے تو گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا ہر شخص عیسیٰ (علیہ السلام) کی صورت پر ہے یہ دیکھ کر وہ کہنے لگے کہ تم لوگوں نے ہم پر جادو کردیا تم میں عیسیٰ کون ہے وہ سامنے آجائے ورنہ ہم تم سب کو قتل کردیں گے یہ سن کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم میں ایسا کون شخص ہے جو آج اپنی جان جنت کے بدلے میں بیچ دے ان میں سے ایک شخص نے کہا کہ میں حاضر ہوں۔ لہٰذا وہ شخص باہر نکلا اور اس نے حاضرین سے کہا کہ میں عیسیٰ ہوں لہٰذا انہوں نے اس کو قتل کردیا اور سولی پر چڑھا دیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو آسمان پر اٹھا لیا۔ قتادہ اور مجاہد وغیرہما کا بھی یہی قول ہے۔ ایک قول یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں میں ایک شخص منافق تھا جب یہودیوں نے انہیں قتل کرنے کا ارادہ کیا تو اس منافق نے کہا کہ میں تمہیں بتادیتا ہوں کہ وہ کہاں ہیں اور اس نے تیس درہم اس کی اجرت بھی لے لی۔ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے گھر میں داخل ہوا تو آپ آسمان پر اٹھائے جا چکے تھے، منافق کی صورت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی جیسی صورت بنا دی گئی۔ لہٰذا ان لوگوں نے اندر داخل ہو کر اسی کو قتل کردیا اور وہ یہ سمجھتے رہے کہ ہم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کردیا۔ ان کے علاوہ اور بھی اقوال ذکر کیے گئے ہیں۔ (روح المعانی صفحہ ١٠: ج ٦) علامہ بغوی معالم التنزیل صفحہ ٤٩٦: صفحہ ج ١ میں لکھتے ہیں کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ایک گھر میں بند کردیا تھا اور ان پر ایک نگران مقرر کردیا تھا جب قتل کرنے کے لیے آئے تو اللہ تعالیٰ نے اس نگران کی صورت عیسیٰ (علیہ السلام) کی صورت بنا دی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اوپر اٹھا لیا۔ دور حاضر میں یورپ کے ریسرچ کرنے والوں نے ایک اور بات کا کھوج لگایا ہے اور وہ یہ کہ جب بنی اسرائیل نے طے کر ہی لیا کہ سیدنا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو شہید کر ہی دینا ہے تو حکومت وقت کے پاس شکایت لے کر گئے۔ اس زمانہ میں دمشق اور اس کے آس پاس علاقوں میں رومیوں کی حکومت تھی یہودی رومی حاکم کے پاس گئے اور کہا کہ یہاں ایسا ایسا ایک شخص ہے جو ہمارے دین سے نکل گیا اور ہمارے جوانوں کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ اس نے ہماری جماعت میں تفریق کردی اس کے ساتھی بڑھ رہے ہیں وہ تمہاری حکومت کے لیے خطرہ ہے کسی نظام اور قانون کے پابند نہیں اگر اس کے شر کو نہ روکا گیا تو ممکن ہے اس کی طاقت بڑھتے بڑھتے تمہارے لیے اور ہمارے لیے ایک بڑا فتنہ بن جائے اور تمہاری حکومت ہی ختم ہوجائے۔ چونکہ حکومت یہودیوں کے دین میں دخل نہیں دیتی تھی اس لیے دینی اعتبار سے حکومت کو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف ابھارنا اور چڑھانا مشکل تھا لہٰذا انہوں نے سیاسی امور کو سامنے رکھ کر حکومت کو بھڑکایا اور سمجھایا کہ اس شخص کی وجہ سے تمہاری حکومت کو شدید خطرہ ہے۔ جب یہودیوں نے بار بار شکایتیں پہنچائیں اور حکومت کے ذمہ داروں کے سامنے معاملہ کے سنگین ہونے کا اظہار کرتے رہے تو حکومت کی طرف سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو طلب کیا گیا۔ یہ جمعہ کا دن اور عصر کے بعد کا وقت تھا اور تھوڑی دیر میں سنیچر کی رات شروع ہونے والی تھی۔ یہودی چاہتے تھے کہ سنیچر کی رات شروع ہونے سے پہلے قصہ تمام ہوجائے۔ حاکم کے پاس بھاری تعداد میں جمع ہوگئے کہ کیا حکم دیتا ہے۔ آفتاب غروب ہونے ہی کو تھا کہ حاکم نے فیصلہ دے دیا کہ ان کو قتل کردیا جائے اور صلیب پر چڑھا دیا جائے۔ مجرم کو پھانسی کا پھندا خود لے کر جانا پڑتا تھا اور پھانسی گھر شہر سے دور تھا۔ یہودی قتل کے فیصلے سے بہت خوش ہوئے اور جو پولیس والے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ساتھ لے کر جا رہے تھے ان کے ساتھ کثیر تعداد میں یہودی بھی ساتھ گئے جن میں بہت سے بیوقوف نوجوان بھی تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے سخت دشمنی رکھنے والے بھی تھے۔ یہ لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو برا کہتے ہوئے اور تکلیف دیتے ہوئے ساتھ ساتھ جا رہے تھے۔ قانون یہ تھا کہ جس شخص کو کسی جرم کے تحت پھانسی دی جاتی تھی صلیب کی لکڑی اس سے اٹھوا کر پھانسی گھر تک لے جایا کرتے تھے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ضعیف الجثہ تھے، اسفار کرتے ہوئے لاغر ہوچکے تھے کچہری میں کھڑے کھڑے زیادہ وقت گزر گیا تھا اور صلیب بھاری تھا ان سے اٹھ نہ رہی تھی جو پولیس والا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ساتھ لے جا رہا تھا اس نے ایک یہودی نوجوان سے کہا کہ صلیب کی اس لکڑی کو اٹھا کرلے چل۔ وہ شخص بہت زیادہ دشمنی میں آگے تھا اس نے صلیب اٹھا لیا اور جلدی جلدی آگے لے کر چلنے لگا تاکہ معاملہ نپٹ جائے۔ اور سورج چھپنے سے پہلے قتل کا قصہ تمام ہوجائے۔ اسی طرح چلتے چلتے جب پھانسی گھر پہنچے تو پھانسی گھر کے پولیس والوں نے معاملہ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور پولیس والے فارغ ہوئے جو ہمراہ آ رہے تھے۔ پھانسی گھر کے پولیس والوں نے دیکھا کہ ایک نوجوان صلیب کو اٹھائے ہوئے ہے قانون کے مطابق انہوں نے اس نوجوان کو پکڑ لیا اور اسے پھانسی دینے لگے وہ چیختا چلاتا رہا اور اپنی برأت ظاہر کرتا رہا اور پکار پکار کر کہتا رہا کہ مجرم دوسرا شخص ہے میں نے تو دل لگی کے طور پر صلیب اٹھا لیا تھا۔ اور پولیس والوں نے جلدی کرنے کی وجہ سے مجھے اٹھانے کا حکم دیا تھا یہ اپنی زبان میں چیختا رہا رومیوں کی پولیس کے سامنے اول قانون کے مطابق یہی شخص مستحق سزا تھا دوسرے وہ اس کی زبان نہیں سمجھتے تھے۔ وہ سمجھے کہ جس مجرم کو پھانسی دی جاتی ہے وہ چیخ پکار تو کرتا ہی ہے۔ لہٰذا انہوں نے اپنے خیال میں حاکم کے حکم کے مطابق اسی نوجوان کو پھانسی دے دی کیونکہ وہ اسی کو مجرم سمجھتے تھے۔ یہودی دور کھڑے ہوئے خوش ہو رہے تھے کہ ہم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کروا دیا۔ قتل تو ہوا ان میں ہی ایک نوجوان اور سمجھ رہے تھے کہ سیدنا عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کروا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اوپر اٹھا لیا اور کافروں کے ارادوں اور شرارتوں سے انہیں بچا لیا۔ بہر حال جن لوگوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے قتل کا ارادہ کیا تھا وہ ان کے قتل میں ناکام ہوگئے اور ان کو اشتباہ ہوگیا۔ ان کا اپنا آدمی قتل ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ کی تقدیر غالب آئی اور ان کی مکاری دھری رہی۔ (وَمَکَرُوْا وَمَکَرَ اللّٰہُ وَاللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ ) ۔ پھر فرمایا (وَاِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْہِ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مَالَھُمْ بِہٖ مِنْ عِلْمٍ اِلَّا اتِّبَاع الظَّنِّ ) (اور جن لوگوں نے ان کے بارے میں اختلاف کیا وہ ان کی جانب سے شک میں ہیں ان کو ان کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے سوائے اٹکل پر چلنے کے) مطلب یہ ہے کہ جو لوگ قتل کے دعویدار ہیں انہیں قتل کا یقین نہیں یہ تردد تھا کہ اگر ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو ختم کردیا ہے تو ہمارا آدمی کہاں ہے اور ہمارا آدمی مقتول ہوا ہے تو عیسیٰ (علیہ السلام) کہاں ہیں۔ پھر فرمایا (وَمَا قَتْلُوْہُ یَقِیْنًا بَلْ رَّفَعَہُ اللّٰہُ اِلَیْہِ ) (اور یہ یقینی بات ہے کہ انہوں نے ان کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا) عیسیٰ (علیہ السلام) نہ مقتول ہوئے نہ انہیں ابھی تک طبعی موت آئی ہے۔ معراج کی رات میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے انہوں نے آسمان دوم میں ملاقات کی پھر وہ قیامت کے قریب نازل ہوں گے۔ دجال کو قتل کریں گے اور زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔ قرآن و حدیث کے موافق مسلمانوں کا یہی عقیدہ ہے جن لوگوں کو قرآن و حدیث کو ماننا نہیں ہے وہ اس کے خلاف باتیں کر کے اپنا ایمان کھو چکے ہیں اس بارے میں سورة آل عمران کی آیت (اِذْ قَال اللّٰہُ یٰعِیْسٰٓی اِّنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ ) کی تفسیر بھی دیکھ لی جائے۔ وہاں ہم ضروری معلومات سپرد قلم کر آئے ہیں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

104 یہ بھی یہود کا ایک جھوٹا دعویٰ تھا کہ ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو قتل کردیا ہے وَمَا قَتَلُوْہٗ وَ مَا صَلَبُوْ ہٗ یہاں ان کے غلط دعوے کی تردیدکردی کہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ان کے خبیث ہاتھوں سے بچالیا۔ وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُم۔ اس کے دو معنی ہیں اول یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شکل ایک دوسرے شخص پر ڈال دی گئی اور اسے ان کا شبیہ اور ہمشکل بنا دیا گیا جسے یہودیوں نے مسیح سمجھ کر سولی دے دی جیسا کہ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ جب یہود حضرت مسیح (علیہ السلام) کو سولی دینے کے لیے گرفتار کرنے گئے تو ایک شخص طیطانوس نامی کو اس مکان میں داخل کیا جس میں حضرت مسیح (علیہ السلام) تھے جب طیطانوس اندر داخل ہوا تو مسیح (علیہ السلام) کو وہاں نہ پایا کیونکہ اللہ نے آسمان پر اٹھا لیا اور طیطانوس کو ان کا ہمشکل بنا دیا وہ باہر نکلا تو یہودیوں نے اسے مسیح سمجھ کر سولی پر لٹکا دیا۔ چونکہ یہ شخص سخت ترین شریر تھا اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اس سے سخت اذیت پہنچی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس طرح کی شرارتوں کا بدلہ دیدیا۔ دوم یہ کہ وَلٰکنْ شُبِّہَ لَھُمْ (یعنی معاملہ ان کے لیے مشتبہ کردیا گیا) یہ ان یہودیوں کے بارے میں ہے جو اپنے آباء و اجداد کی تقلید میں کہتے چلے آرہے ہیں کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو سولی دیدی گئی اور یہ شبہ میں ڈالنے والے زمانہ مسیح کے علماء سو تھے جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے ہاتھوں سے نکل گئے تو انہوں نے ظلماً کسی کو پکڑ کر پھانسی دیدی اور کسی کو اسے دیکھنے نہیں دیا اور نہ کسی کو اس کے قریب آنے دیا اور پھر اسے دفن کردیا اور لوگوں میں یہ بات مشہور کردی کہ انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کو پھانسی دیدی ہے اس سے لوگوں کو شبہ پڑگیا کہ شاید ایسا ہی ہوا اور اس معاملے کا چونکہ عینی اور چشم دید گواہ کوئی نہیں تھا اس لیے یہ بات شب ہے سے آگے بڑھ کر یقین کی حد تک نہ پہنچی۔ یہ قول حضرت مولانا انور شاہ صاحب نے امام ابن حزم کی کتاب الملل والنحل سے عقیدۃ الا اسلام (ص 177) میں نقل کیا ہے اور حضرت شیخ (رح) نے اسی کو ترجیح دی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi