201. The Torah categorically lays down the injunction: 'And if you lend money to any of my people with you who is poor, you shall not be to him as a creditor, and you shall not exact interest from him. If ever you take your neighbour's garment in pledge, you shall restore it to him before the sun goes down; for that is his only covering, it is his mantle for his body; in what else shall he sleep? And if he cries to me, I will hear, for I am compassionate' (Exodus 22: 25-7). This is one of several passages of the Torah which embody the prohibition of interest. The followers of the Torah, however, are most conspicuously engaged in transactions involving interest and have become notorious the world over for their meanness and hard-heartedness in monetary matters.
202. God has kept in store a painful punishment both in this world and in the Next for those Jews who have deviated from the course of true faith and sincere obedience to God, and are steeped in rejection of faith and rebellion against God. The severe punishment which has befallen the Jews in this world is unique and should serve as a lesson for all. Two thousand years have gone by and they have remained scattered all over the world and have been treated everywhere as outcasts. There has been no period during the last two millennia when they have not been looked on ignominiously and there is no part of the world where they are respected despite their enormous riches. What is more, this nation has been left dangling between life and death, unlike other nations which once appeared on the stage of history and then vanished. Their condemnation to this state of suspension makes them a lesson for all nations till the end of time. It marks the tragic fate that meets a people who, despite enjoying the guidance of the Book of God, dare to defy God. It would seem that their punishment in the Hereafter must be even more severe than in the present world. (For the questions which arise about the validity of our view, in spite of the establishment of the state of Israel, see Towards Understanding the Qur'an, vol. I, (Surah 3: 112, n. 90.)
سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :200
توراۃ میں بالفاظ صریح یہ حکم موجود ہے کہ:
”اگر تو میرے لوگوں میں سے کسی محتاج کو جو تیرے پاس رہتا ہو ، قرض دے تو اس سے قرض خواہ کی طرح سلوک نہ کرنا اور نہ اس سے سود لینا ۔ اگر تو کسی وقت اپنے ہمسایہ کے کپڑے گرو رکھ بھی لے تو سورج کے ڈوبنے تک اس کو واپس کر دینا کیونکہ فقط وہی ایک اس کا اوڑھنا ہے ، اس کے جسم کا وہی لباس ہے ، پھر وہ کیا اوڑھ کر سوئے گا ۔ پس جب وہ فریاد کرے گا تو میں اس کی سنوں گا کیونکہ میں مہربان ہوں“ ۔ ( خروج باب ۲۲:۲۷-۲۵ )
اس کے علاوہ اور بھی کئی مقامات پر توراۃ میں سود کی حرمت وارد ہوئی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود اسی تورات کے ماننے والے یہودی آج دنیا کے سب سے بڑے سود خوار ہیں اور اپنی تنگ دلی و سنگ دلی کے لیے ضرب المثل بن چکے ہیں ۔
سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :201
غالباً یہ اسی مضمون کی طرف اشارہ ہے جو آگے سورہ انعام آیت ۱٤٦ میں آنے والی ہے ۔ یعنی یہ کہ بنی اسرائیل پر تمام وہ جانور حرام کر دیے گئے جن کے ناخن ہوتے ہیں ، اور ان پر گائے اور بکری کی چربی بھی حرام کر دی گئی ۔ اس کے علاوہ ممکن ہے کہ اشارہ ان دوسری پابندیوں اور سختیوں کی طرف بھی ہو جو یہودی فقہ میں پائی جاتی ہیں ۔ کسی گروہ کے لیے دائرہ زندگی کی تنگ کر دیا جانا فی الواقع اس کے حق میں ایک طرح کی سزا ہی ہے ۔ ( مفصل بحث کے لیے ملاحظہ ہو سورہ انعام حاشیہ نمبر ۱۲۲ )
سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :202
یعنی اس قوم کے جو لوگ ایمان و اطاعت سے منحرف اور بغاوت و انکار کی روش پر قائم ہیں ان کے لیے خدا کی طرف سے دردناک سزا تیار ہے ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ دنیا میں جو عبرتناک سزا ان کو ملی اور مل رہی ہے وہ کبھی کسی دوسری قوم کو نہیں ملی ۔ دو ہزار برس ہو چکے ہیں کہ زمین پر کہیں ان کو عزت کا ٹھکانا میسر نہیں ۔ دنیا میں تِتّر بِتّر کر دیے گئے ہیں اور ہر جگہ غریب الوطن ہیں ۔ کوئی دور ایسا نہیں گزرتا جس میں وہ دنیا کے کسی نہ کسی خطہ میں ذلت کے ساتھ پامال نہ کیے جاتے ہوں اور اپنی دولت مندی کے باوجود کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو ۔ پھر غضب یہ ہے کہ قومیں پیدا ہوتی اور مٹتی ہیں مگر اس قوم کو موت بھی نہیں آتی ۔ اس کو دنیا میں لَا یَمُوْتُ فِیْھَا وَلَا یَحْیٰی کی سزا دی گئی ہے تاکہ قیامت تک دنیا کی قوموں کے لیے ایک زندہ نمونہ عبرت بنی رہے اور اپنی سرگزشت سے یہ سبق دیتی رہے کہ خدا کی کتاب بغل میں رکھ کر خدا کے مقابلہ میں باغیانہ جسارتیں کرنے کا یہ انجام ہوتا ہے ۔ رہی آخرت تو ان شاء اللہ وہاں کا عذاب اس سے بھی زیادہ دردناک ہوگا ۔ ( اس موقع پر جو شبہ فلسطین کی اسرائیلی ریاست کے قیام کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اسے رفع کرنے کے لیے ملاحظہ ہو سورہ آل عمران آیت ۱۱۲ ) ۔