Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 161

سورة النساء

وَّ اَخۡذِہِمُ الرِّبٰوا وَ قَدۡ نُہُوۡا عَنۡہُ وَ اَکۡلِہِمۡ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ ؕ وَ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ مِنۡہُمۡ عَذَابًا اَلِیۡمًا ﴿۱۶۱﴾

And [for] their taking of usury while they had been forbidden from it, and their consuming of the people's wealth unjustly. And we have prepared for the disbelievers among them a painful punishment.

اور سود جس سے منع کئے گئے تھے اسے لینے کے باعث اور لوگوں کا مال ناحق مار کھانے کے باعث اور ان میں جو کفار ہیں ہم نے ان کے لئے المناک عذاب مہیا کر رکھا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُواْ عَنْهُ ... And their taking of Riba though they were forbidden from taking it, Allah prohibited them from taking Riba', yet they did so using various kinds of tricks, ploys and cons, thus devouring people's property unjustly. ... وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ... and their devouring men's substance wrongfully. Allah said, ... وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا And We have prepared for the disbelievers among them a painful torment. Allah then said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢١١] یہود کی سود خوری اور حرام خوری کے سلسلہ میں دیکھئے سورة آل عمران کی آیت نمبر ٧٥ کا حاشیہ نمبر ٦٦، اور ٦٧۔ [٢١٢] ذلت اور مسکنت :۔ آج بھی دنیا میں سب سے بڑی سود خور اور حرام خور اور مالدار قوم یہود ہی ہے لیکن اپنی اس مالداری کے باوجود یہود ہمیشہ پٹتے ہی رہے ہیں اور کہیں بھی امن کی زندگی بسر نہیں کرسکے۔ موجودہ دور میں جو یہود کی حکومت اسرائیل قائم ہوئی ہے وہ بھی دوسری حکومتوں سے قائم ہے اور انہی کے زیر سایہ چل رہی ہے اور ان کی اس غاصبانہ حکومت کو آج تک بیشتر ممالک نے تسلیم ہی نہیں کیا۔ یہ عذاب تو دنیا میں ملا۔ اور آخرت میں تو بہرحال انہیں ان کی سب نافرمانیوں اور بدعہدیوں کی سزا مل کے ہی رہے گی۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَّاَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُھُوْا عَنْهُ ۔۔۔۔۔ اس وقت جو تورات موجود ہے اس میں بھی متعدد مقامات پر سود کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ (دیکھیے کتاب خروج، باب ٢٢، فقرہ ٢٥ تا ٢٧) ۔ وَاَ كْلِهِمْ اَمْوَال النَّاس بالْبَاطِلِ : یعنی رشوت، جوئے، دھوکے اور دوسرے ناجائز ذرائع سے لوگوں کے اموال کھانا۔ گناہوں کی دو قسمیں ہیں، مخلوق پر ظلم اور حق سے اعراض۔ اوپر کی آیت : ( وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ ) ( ان کے اللہ کے راستے سے بہت زیادہ روکنے کی وجہ سے) سے مخلوق پر ظلم کی طرف اشارہ ہے، باقی کا تعلق ” اعراض عن الحق “ سے ہے۔ (کبیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّاَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُھُوْا عَنْہُ وَاَكْلِہِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ۝ ٠ۭ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ مِنْہُمْ عَذَابًا اَلِـــيْمًا۝ ١٦١ رِّبَا : الزیادة علی رأس المال، لکن خصّ في الشرع بالزیادة علی وجه دون وجه، وباعتبار الزیادة قال تعالی: وَما آتَيْتُمْ مِنْ رِباً لِيَرْبُوَا فِي أَمْوالِ النَّاسِ فَلا يَرْبُوا عِنْدَ اللَّهِ [ الروم/ 39] ، ونبّه بقوله : يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبا وَيُرْبِي الصَّدَقاتِ [ البقرة/ 276] ، أنّ الزیادة المعقولة المعبّر عنها بالبرکة مرتفعة عن الرّبا، ولذلک قال في مقابلته : وَما آتَيْتُمْ مِنْ زَكاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ [ الروم/ 39] الربا ( سود ) راس المال یعنی اصل سرمایہ پر جو بڑھوتی لی جائے وہ ربو کہلاتی ہے ۔ لیکن شریعت میں خاص قسم کی بڑھوتی پر یہ لفظ بولا جاتا ہے ۔ چناچہ زیادہ ہونے کے اعتبار سے فرمایا : ۔ وَما آتَيْتُمْ مِنْ رِباً لِيَرْبُوَا فِي أَمْوالِ النَّاسِ فَلا يَرْبُوا عِنْدَ اللَّهِ [ الروم/ 39] اور تم کو جو چیز ( عطیہ ) زیادہ لینے کے لئے دو تاکہ لوگوں کے اموال میں بڑھوتی ہو وہ اللہ کے یہاں نہیں بڑھے گی ۔ اور آیت : ۔ يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبا وَيُرْبِي الصَّدَقاتِ [ البقرة/ 276] اللہ سود کو بےبرکت کرتا ہے اور خیرات کو بڑھاتا ہے ۔ میں محق کا لفظ لا کر اس بات پر تنبیہ کی ہے کہ ربا ، ، یعنی سود میں برکت نہیں ہوتی اس کے مقابلہ میں زکوۃ کے متعلق فرمایا : ۔ وَما آتَيْتُمْ مِنْ زَكاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ [ الروم/ 39] اور تم ( محض ) خدا کی رضا جوئی کے ارادے سے زکوہ دیتے ہو تو جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہی اپنے دیئے ہوئے کو خدا کے ہاں بڑھا رہے ہیں ۔ نهى النهي : الزّجر عن الشیء . قال تعالی: أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] ( ن ھ ی ) النهي کسی چیز سے منع کردینا ۔ قرآن میں ہے : أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهى عَبْداً إِذا صَلَّى[ العلق/ 9- 10] بھلاتم نے اس شخص کو دیکھا جو منع کرتا ہے ( یعنی ) ایک بندے کو جب وہ نماز پڑھنے لگتا ہے ۔ أكل الأَكْل : تناول المطعم، وعلی طریق التشبيه قيل : أكلت النار الحطب، والأُكْل لما يؤكل، بضم الکاف وسکونه، قال تعالی: أُكُلُها دائِمٌ [ الرعد/ 35] ( ا ک ل ) الاکل کے معنی کھانا تناول کرنے کے ہیں اور مجازا اکلت النار الحطب کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔ اور جو چیز بھی کھائی جائے اسے اکل بضم کاف و سکونا ) کہا جاتا ہے ارشاد ہے { أُكُلُهَا دَائِمٌ } ( سورة الرعد 35) اسکے پھل ہمیشہ قائم رہنے والے ہیں ۔ ميل المَيْلُ : العدول عن الوسط إلى أَحَد الجانبین، والمَالُ سُمِّي بذلک لکونه مائِلًا أبدا وزَائلا، ( م ی ل ) المیل اس کے معنی وسط سے ایک جانب مائل ہوجانے کے ہیں اور المال کو مال اس لئے کہا جاتا ہے ۔ کہ وہ ہمیشہ مائل اور زائل ہوتا رہتا ہے ۔ بطل البَاطِل : نقیض الحق، وهو ما لا ثبات له عند الفحص عنه، قال تعالی: ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] ( ب ط ل ) الباطل یہ حق کا بالمقابل ہے اور تحقیق کے بعد جس چیز میں ثبات اور پائیداری نظر نہ آئے اسے باطل کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں سے : ذلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ هُوَ الْباطِلُ [ الحج/ 62] یہ اس لئے کہ خدا کی ذات برحق ہے اور جن کو یہ لوگ خدا کے سوا کے پکارتے ہیں وہ لغو ہیں ۔ عد ( اعداد) والإِعْدادُ مِنَ العَدِّ كالإسقاء من السَّقْيِ ، فإذا قيل : أَعْدَدْتُ هذا لك، أي : جعلته بحیث تَعُدُّهُ وتتناوله بحسب حاجتک إليه . قال تعالی: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] ، وقوله : أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ، وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] ، وقوله : وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] ، قيل : هو منه، وقوله : فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ [ البقرة/ 184] ، أي : عدد ما قد فاته، وقوله : وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] ، أي : عِدَّةَ الشّهر، وقوله : أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] ، فإشارة إلى شهر رمضان . وقوله : وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] ، فهي ثلاثة أيّام بعد النّحر، والمعلومات عشر ذي الحجّة . وعند بعض الفقهاء : المَعْدُودَاتُ يومُ النّحر ويومان بعده فعلی هذا يوم النّحر يكون من المَعْدُودَاتِ والمعلومات، والعِدَادُ : الوقت الذي يُعَدُّ لمعاودة الوجع، وقال عليه الصلاة والسلام :«ما زالت أكلة خيبر تُعَادُّنِي» وعِدَّانُ الشیءِ : عهده وزمانه . ( ع د د ) العدد الاعداد تیار کرنا مہیا کرنا یہ عد سے ہے جیسے سقی سے اسقاء اور اعددت ھذا لک کے منعی ہیں کہ یہ چیز میں نے تمہارے لئے تیار کردی ہے کہ تم اسے شمار کرسکتے ہو اور جس قدر چاہو اس سے حسب ضرورت لے سکتے ہو ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ [ الأنفال/ 60] اور جہاں تک ہوسکے ( فوج کی جمیعت سے ) ان کے ( مقابلے کے لئے مستعد رہو ۔ اور جو ) کافروں کے لئے تیار کی گئی ہے ۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں ۔ أُولئِكَ أَعْتَدْنا لَهُمْ عَذاباً أَلِيماً [ النساء/ 18] ایسے لوگوں کے لئے ہم نے عذاب الیم تیار کر رکھا ہے وَأَعْتَدْنا لِمَنْ كَذَّبَ [ الفرقان/ 11] اور ہم نے جھٹلا نے والوں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَأً [يوسف/ 31] اور ان کے لئے ایک محفل مرتب کی ۔ میں بعض نے کہا ہے کہ اعتدت بھی اسی ( عد ) سے ہے اور آیت کریمہ : ۔ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ [ البقرة/ 185] تم روزوں کا شمار پورا کرلو ۔ کے معنی یہ ہیں کہ تم ماہ رمضان کی گنتی پوری کرلو ۔ أَيَّاماً مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 184] گنتی کے چند روز میں ماہ رمضان کی طرف اشارہ ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُوداتٍ [ البقرة/ 203] اور گنتی کے دنوں میں خدا کو یاد کرو ۔ میں سے عید قربان کے بعد کے تین دن مراد ہیں اور معلومات سے ذوالحجہ کے دس دن بعض فقہاء نے کہا ہے کہ ایام معدودۃ سے یوم النحر اور اس کے بعد کے دو دن مراد ہیں اس صورت میں یوم النحر بھی ان تین دنوں میں شامل ہوگا ۔ العداد اس مقرر وقت کو کہتے ہیں جس میں بیماری کا دورہ پڑتا ہو ۔ آنحضرت نے فرمایا مازالت امۃ خیبر تعادنی کہ خیبر کے دن جو مسموم کھانا میں نے کھایا تھا اس کی زہر بار بار عود کرتی رہی ہے عد ان الشئی کے معنی کسی چیز کے موسم یا زمانہ کے ہیں كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ ألم الأَلَمُ الوجع الشدید، يقال : أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قال تعالی: فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَما تَأْلَمُونَ [ النساء/ 104] ، وقد آلمت فلانا، و عذاب أليم، أي : مؤلم . وقوله : لَمْ يَأْتِكُمْ [ الأنعام/ 130] فهو ألف الاستفهام، وقد دخل علی «لم» . ( ا ل م ) الالم کے معنی سخت درد کے ہیں کہا جاتا ہے الم یالم ( س) أَلَمَ يَأْلَمُ أَلَماً فهو آلِمٌ. قرآن میں ہے :۔ { فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ } ( سورة النساء 104) تو جس طرح تم شدید درد پاتے ہو اسی طرح وہ بھی شدید درد پاتے ہیں ۔ اٰلمت فلانا میں نے فلاں کو سخت تکلیف پہنچائی ۔ اور آیت کریمہ :۔ { وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ } ( سورة البقرة 10 - 174) میں الیم بمعنی مؤلم ہے یعنی دردناک ۔ دکھ دینے والا ۔ اور آیت :۔ اَلَم یَاتِکُم (64 ۔ 5) کیا تم کو ۔۔ نہیں پہنچی ۔ میں الف استفہام کا ہے جو لم پر داخل ہوا ہے ( یعنی اس مادہ سے نہیں ہے )

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری اخذھم الربواوقدنھواعنہ واکلھم اموال الناس بالباطلی، ان کی سود خوری کی بنا پر جبکہ انہیں اس سے منع کیا گیا تھا اور لوگوں کے مال ناجائز طریقے سے کھانے کی بنا پر) ۔ اس پر دلالت کرتا ہے کہ کفار بھی شرائع کے مخاطب بنائے گئے ہیں اور ان شرائع کے وہ مکلف ہیں نیز ان کے ترک پر وہ عقاب کے مستحق ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سود خوری پر ان کی مذمت کی ہے اور یہ بتایا کہ اس پر انہیں سزا بھی دی گئی ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٦١ (وَّاَخْذِہِمُ الرِّبٰوا وَقَدْ نُہُوْا عَنْہُ ) شریعت موسوی میں سود حرام تھا ‘ آج بھی حرام ہے ‘ لیکن انہوں نے اس حکم کا اپنا ایک من پسند مفہوم نکال لیا ‘ جس کے مطابق یہودیوں کا آپس میں سود کا لین دین تو حرام ہے ‘ کوئی یہودی دوسرے یہودی سے سودی لین دین نہیں کرسکتا ‘ لیکن غیر یہودی سے سود لینا جائز ہے ‘ کیونکہ وہ ان کے نزدیک Gentiles اور Goyems ہیں ‘ انسان نما حیوان ہیں ‘ جن سے فائدہ اٹھانا اور ان کا استحاصل کرنا ان کا حق ہے۔ ہم سورة آل عمران (آیت ٧٥) میں یہود کا یہ قول پڑھ چکے ہیں : (لَیسَ عَلَیْنَا فِیْ الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ) کہ ان امیینّ کے بارے میں ہم پر کوئی گرفت ہے ہی نہیں ‘ کوئی ذمہ داری ہے ہی نہیں۔ ہم جیسے چاہیں لوٹ مار کریں ‘ جس طرح چاہیں انہیں دھوکہ دیں ‘ ہم پر کوئی مواخذہ نہیں۔ لہٰذا سو دکھانے میں ان کے ہاں عمومی طور پر کوئی قباحت نہیں ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

201. The Torah categorically lays down the injunction: 'And if you lend money to any of my people with you who is poor, you shall not be to him as a creditor, and you shall not exact interest from him. If ever you take your neighbour's garment in pledge, you shall restore it to him before the sun goes down; for that is his only covering, it is his mantle for his body; in what else shall he sleep? And if he cries to me, I will hear, for I am compassionate' (Exodus 22: 25-7). This is one of several passages of the Torah which embody the prohibition of interest. The followers of the Torah, however, are most conspicuously engaged in transactions involving interest and have become notorious the world over for their meanness and hard-heartedness in monetary matters. 202. God has kept in store a painful punishment both in this world and in the Next for those Jews who have deviated from the course of true faith and sincere obedience to God, and are steeped in rejection of faith and rebellion against God. The severe punishment which has befallen the Jews in this world is unique and should serve as a lesson for all. Two thousand years have gone by and they have remained scattered all over the world and have been treated everywhere as outcasts. There has been no period during the last two millennia when they have not been looked on ignominiously and there is no part of the world where they are respected despite their enormous riches. What is more, this nation has been left dangling between life and death, unlike other nations which once appeared on the stage of history and then vanished. Their condemnation to this state of suspension makes them a lesson for all nations till the end of time. It marks the tragic fate that meets a people who, despite enjoying the guidance of the Book of God, dare to defy God. It would seem that their punishment in the Hereafter must be even more severe than in the present world. (For the questions which arise about the validity of our view, in spite of the establishment of the state of Israel, see Towards Understanding the Qur'an, vol. I, (Surah 3: 112, n. 90.)

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :200 توراۃ میں بالفاظ صریح یہ حکم موجود ہے کہ: ”اگر تو میرے لوگوں میں سے کسی محتاج کو جو تیرے پاس رہتا ہو ، قرض دے تو اس سے قرض خواہ کی طرح سلوک نہ کرنا اور نہ اس سے سود لینا ۔ اگر تو کسی وقت اپنے ہمسایہ کے کپڑے گرو رکھ بھی لے تو سورج کے ڈوبنے تک اس کو واپس کر دینا کیونکہ فقط وہی ایک اس کا اوڑھنا ہے ، اس کے جسم کا وہی لباس ہے ، پھر وہ کیا اوڑھ کر سوئے گا ۔ پس جب وہ فریاد کرے گا تو میں اس کی سنوں گا کیونکہ میں مہربان ہوں“ ۔ ( خروج باب ۲۲:۲۷-۲۵ ) اس کے علاوہ اور بھی کئی مقامات پر توراۃ میں سود کی حرمت وارد ہوئی ہے ۔ لیکن اس کے باوجود اسی تورات کے ماننے والے یہودی آج دنیا کے سب سے بڑے سود خوار ہیں اور اپنی تنگ دلی و سنگ دلی کے لیے ضرب المثل بن چکے ہیں ۔ سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :201 غالباً یہ اسی مضمون کی طرف اشارہ ہے جو آگے سورہ انعام آیت ۱٤٦ میں آنے والی ہے ۔ یعنی یہ کہ بنی اسرائیل پر تمام وہ جانور حرام کر دیے گئے جن کے ناخن ہوتے ہیں ، اور ان پر گائے اور بکری کی چربی بھی حرام کر دی گئی ۔ اس کے علاوہ ممکن ہے کہ اشارہ ان دوسری پابندیوں اور سختیوں کی طرف بھی ہو جو یہودی فقہ میں پائی جاتی ہیں ۔ کسی گروہ کے لیے دائرہ زندگی کی تنگ کر دیا جانا فی الواقع اس کے حق میں ایک طرح کی سزا ہی ہے ۔ ( مفصل بحث کے لیے ملاحظہ ہو سورہ انعام حاشیہ نمبر ۱۲۲ ) سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :202 یعنی اس قوم کے جو لوگ ایمان و اطاعت سے منحرف اور بغاوت و انکار کی روش پر قائم ہیں ان کے لیے خدا کی طرف سے دردناک سزا تیار ہے ، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ دنیا میں جو عبرتناک سزا ان کو ملی اور مل رہی ہے وہ کبھی کسی دوسری قوم کو نہیں ملی ۔ دو ہزار برس ہو چکے ہیں کہ زمین پر کہیں ان کو عزت کا ٹھکانا میسر نہیں ۔ دنیا میں تِتّر بِتّر کر دیے گئے ہیں اور ہر جگہ غریب الوطن ہیں ۔ کوئی دور ایسا نہیں گزرتا جس میں وہ دنیا کے کسی نہ کسی خطہ میں ذلت کے ساتھ پامال نہ کیے جاتے ہوں اور اپنی دولت مندی کے باوجود کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں انہیں احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو ۔ پھر غضب یہ ہے کہ قومیں پیدا ہوتی اور مٹتی ہیں مگر اس قوم کو موت بھی نہیں آتی ۔ اس کو دنیا میں لَا یَمُوْتُ فِیْھَا وَلَا یَحْیٰی کی سزا دی گئی ہے تاکہ قیامت تک دنیا کی قوموں کے لیے ایک زندہ نمونہ عبرت بنی رہے اور اپنی سرگزشت سے یہ سبق دیتی رہے کہ خدا کی کتاب بغل میں رکھ کر خدا کے مقابلہ میں باغیانہ جسارتیں کرنے کا یہ انجام ہوتا ہے ۔ رہی آخرت تو ان شاء اللہ وہاں کا عذاب اس سے بھی زیادہ دردناک ہوگا ۔ ( اس موقع پر جو شبہ فلسطین کی اسرائیلی ریاست کے قیام کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اسے رفع کرنے کے لیے ملاحظہ ہو سورہ آل عمران آیت ۱۱۲ ) ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:161) نھوا۔ نھی سے ماضی مجہول جمع مذکر غائب۔ ان کو منع کیا گیا۔ ان کو روکا گیا۔ نہی ینہی (فتح) ونہی ینہی نھوا۔ اصل میں نہیوا تھا۔ ماقبل مکسور کی وجہ سے یاء پر ضمہ دشوار تھا۔ اس لئے یہ ضمہ ماقبل کو دیا۔ اب ی اور و ساکنین ہونے کی وجہ سے ی گرگئی۔ جو چیزیں باوجود پہلے حلال ہونے کے اب اہل یہود پر حرام کردی گئی تھیں ان کی وجوہات یہ چار جرائم تھے۔ ان کا ظلم کرنا۔ لوگوں کو راہ حق سے روکنا۔ سود کھانا۔ اور لوگوں کا مال ناحق ہڑپ کرنا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 اس وقت جو توراۃ موجود ہے اس میں بھی متعدد مقامات پر سو دکوحرام قرار دیا گیا ہے۔ (دیکھئے کتاب خروج باب 22 ۔ 25 ۔ 27)4 یعنی رشوت جوا دھوکا اور دوسرے ناجائز ذرائع سے تمام گناہ دو قسم پر ہیں ظلم علی الخلق واعابض عن الحق آیت میں وبصدھم سے ظلم علی الخلق سے ہے (کبیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ : یہودیوں کے جرائم کی فہرست جاری ہے۔ یہودیوں کی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر زیادتیوں اور پے درپے حیلہ سازیوں، گستاخیوں اور تہمتوں کی وجہ سے جن میں انبیاء کو قتل کرنا، شرک کا ارتکاب کرنا، سود کو جائز قرار دینا حالانکہ ان پر حرام کیا گیا تھا، دوسروں کا ناجائز طریقے سے مال کھانے اور لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی سرکشی اور تمرد میں کمی لانے اور انکی ہوس زر کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے چند حلال چیزوں کو ان پر حرام قراردے دیا۔ جس طرح مریض کو بیماری سے بچانے کے لیے حکیم حاذق اس پر کچھ پابندیاں اور احتیاطیں لازم قراردیتا ہے اگر مریض صحت یاب ہوجائے تو پابندیاں اٹھالی جاتی ہیں ورنہ انہی پابندیوں کے ساتھ مریض موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے یا مراعات یافتہ آدمی کو اس کی غلطی پر سرزنش کرنے کے لیے اس سے کچھ مراعات اور اختیارات واپس لے لیے جاتے ہیں۔ یہودیوں کیساتھ بھی ایسا ہی کیا گیا تاکہ وہ اپنی سرکشی و بغاوت سے باز آجائیں لیکن انہوں نے اپنی روایتی بغاوت کو برقرار رکھا اور پابندیوں اٹھائے ہوئے انکی نسلیں ختم ہوگئیں جنہیں قیامت کے دن ہولناک عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تقریباً پانچ سو سال کے بعد عیسیٰ (علیہ السلام) نے آکر کچھ پابندیاں ختم فرمائیں جن کا تذکرہ قرآن مجید کی آیت میں کیا گیا ہے۔ یہودیوں پر جو پابندیاں عائد کی گئی تھیں سورة الانعام ١٤٦ میں بیان ہوئی ہیں۔ (وَعَلَی الَّذِینَ ہَادُواْ حَرَّمْنَا کُلَّ ذِی ظُفُرٍ وَمِنَ الْبَقَرِ وَالْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ شُحُومَہُمَا إِلاَّ مَا حَمَلَتْ ظُہُورُہُمَا أَوِ الْحَوَایَا أَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ ذٰلِکَ جَزَیْنَاہُم بِبَغْیِہِمْ وِإِنَّا لَصَادِقُونَ ) [ الأنعام : ١٤٦] ” اور ان لوگوں پر جو یہودی ہوئے ہم نے ہر ناخن والا جانور حرام کیا تھا نیز ان پر گائے اور بکری کی چربی بھی حرام کی الّا یہ کہ وہ پشتوں، آنتوں سے لگی ہو یا ہڈیوں سے چمٹی ہوئی ہو۔ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا کے طور پر ایسا کیا اور ہم بالکل سچ کہہ رہے ہیں۔ “ مسائل ١۔ آدمی کی ناشکری کی وجہ سے اللہ کی نعمتیں چھن جاتی ہیں۔ ٢۔ یہودیوں کی سرکشی کم کرنے کے لیے چند حلال چیزیں ان پر حرام کی گئیں۔ ٣۔ اللہ کے راستے سے روکنا بہت بڑا گناہ ہے۔ ٤۔ سود اور ناجائز مال کھانے والوں کو دردناک عذاب ہوگا۔ تفسیر بالقرآن یہودونصاریٰ کے ظلم : ١۔ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پھانسی دینے کی کوشش کی۔ (النساء : ١٥٧) ٢۔ اللہ تعالیٰ کی آیات میں تحریف کرنا۔ (النساء : ٤٦) ٣۔ زبان مروڑ کر کلام اللہ کا مفہوم بدلنا۔ (آل عمران : ٧٨) ٤۔ اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دینا، اللہ کے راستہ سے روکنا، سود کھانا اور لوگوں کا مال غلط طریقہ سے کھانا۔ (النساء : ١٦٠، ١٦١) ٥۔ بار بار وعدہ کی خلاف ورزی کرنا، اللہ کی آیات کا انکار اور انبیاء کو قتل کرنا، حضرت مریم [ پر الزام لگانا۔ (النساء : ١٥٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

آخر میں فرمایا (وَ اَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِیْنَ مِنْھُمْ عَذَابًا اَلِیْماً ) دنیا کی سزا تحریم طیبات بیان فرمانے کے بعد ان کی آخرت کی سزا بیان فرمائی اور وہ یہ کہ ان میں سے جو لوگ کفر پر برقرار رہیں گے اور اسی حالت میں مرجائیں گے تو درد ناک عذاب میں مبتلا ہوں گے جو ان کے لیے تیار فرمایا ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 3 بالآخر یہود کے انہی بڑے بڑے گناہوں کے باعث ہم نے بہت سی وہ پاکیزہ چیزیں جو پہلے سے ان کے لئے حلال تھیں ان پر حرام کردیں یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں ان کی حرمت کا حکم نازل کردیا اور نیز اسی سبب سے وہ چیزیں ان پر حرام ہی رہیں کہ وہ اپنی ناشائستہ حرکات سے باز نہ آتے اور وہ بہت لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکتے تھے یعنی دین میں تحریف کر کے اور کتمان حق کر کے اللہ تعالیٰ کی راہ سے مانع ہوتے تھے اور نیز اس وجہ سے کہ یہ لوگ سود لیا کرتے تھے حالانکہ ان کو اس سود لینے سے توریت میں ممانعت کردی گئی تھی اور نیز اس وجہ سے کہ یہ لوگوں کے مال ناجائز اور غیر مشروع طریقہ پر کھا جاتے تھے اور ہم نے ان میں سے ان لوگوں کے لئے جو کفر پر قائم رہنے والے ہیں درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ ان کے بڑے بڑے جرائم جیسا کہ ظلم کے لفظ سے مفہوم ہوتا ہے اس امر کے موجب ہوئے کہ ان پر شریعت موسوی میں بعض حلال اور لذیذ چیزیں جو پہلے حضرت یعقوب زمانہ میں حلال تھیں اب حرام کردی گئیں اور چونکہ ان کی عادت یہ تھی کہ برے کاموں پر قائم رہتے تھے اور ہمیشہ ان کا ارتکاب کرتے رہتے تھے اس لئے وہ چیزیں ان پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی تشریف آوری تک حرام ہی رہیں البتہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں کچھ تبدیلی ہوئی جیسا کہ ان کے الفاظ تیسرے پارے میں گزر چکے ہیں ولا حل لکم بعض الذی حرم علیکم اور آخر میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں تمام احکام کو اٹھا یا گیا، جیسا کہ نویں پارے میں ویحل لھم الطیبات و یحرم علیھم الخبائث تمام وہ چیزیں جو لذیذ اور نافع اور پاکیزہ ہیں حلال کی گئیں اور وہ چیزیں جو غیر طیبات اور جسم کو یا روح کو ضرر رساں ہیں وہ امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر حرام کردی گئیں ان یہود پر طیبات کی حرمت عقوبت کا موجب ہیں اور امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر غیر طیبات کی حرمت موجب رحمت و شفقت ہے ہماری اس تقریر سے اور تیسیر میں جو تفصیل ہم نے عرض کی ہے اس سے وہ شبہ دور ہوگیا ہوگا جو عام طور سے لوگ کیا کرتے ہیں۔ وہ شبہ یہ ہے کہ توریت کے بعد جو گناہ یہ لوگ کرتے تھے مثلاً سور کھانا، یا غلط مسئلہ بتا کر رشوت لینا یا کلام الٰہی میں تحریف کرنا وغیرہ تو یہ گناہ حرمت طیبات کا سبب کیسے قرار دیئے جاسکتے ہیں کیونکہ یہ گناہ بعد کے ہیں اور سزا ان سے پہلے کی ہے۔ اسی کا جواب ہے کہ تحریم عام ہے اور بطریق عموم مجاز حددث اور استمرار دونوں کو شامل ہے۔ لہٰذا بعض کا حدوث مسبب ہے اور بعض کا استمرار مسببے، یہاں سابقہ اور لاحقہ دونوں جرائم کی طرف اشارہ ہے، عذاب اخروی کا جاں تک تعلق ہے وہ دونوں حالتوں میں یقینی ہے اوپر عذاباً مبینا فرمایا تھا یہاں عذاباً الیما فرمایا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیوی سزائیں عقوبت اخروی سے سبکدوش نہیں کرسکتیں، ہاں ! اگر شریعت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئیں تو پچھلی خطائیں معاف ہوسکتی ہیں یہود کے جرائم سابقہ اور مستمرہ کی وجہ سے ان پر کون کونسی چیزیں کی گئیں اس کی تفصیل آٹھویں پارہ میں آجائے گی اور کچھ چوتھے پارے میں بھی آچکا ہے کل الطعام کان حلا کو ملاحظہ کرلیا جائے۔ آٹھویں پارے میں بھی طیبات کی حرمت کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا ذلک جزینا ھم ببغھم بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ انہوں نے آپ ہی تحریف کر کے بعض چیزوں کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا ۔ (واللہ اعلم) بہرحال ! سرکشی کے خوگر اور جرائم پیشہ لوگ تھے خود بھی اپنے لئے سختیاں پیدا کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے بھی شریعت سخت کردی۔ وبصدھم عن سبیل اللہ کا ترجمہ ہم نے شاہ ولی اللہ صاحب کی عبارت سے کیا ہے ورنہ بعض لوگوں نے کثیراً کو صد کی قید بنا کر یوں ترجمہ کیا کہ اللہ کی راہ میں بہت رکاوٹ ڈالتے تھے اور بڑے بڑے اٹکائو پیدا کرتے تھے، انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کردیا کرتے تھے مطلب میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں ان کا یہ حاشیہ کثیراً پر ہے یعنی اوپر سے سب شرارتیں ان کی جو ذکر کیں بعضی پہلے ہوئیاں اور بعضی پیچھے مجمل یہ کہ گناہ پر دلیر تھے اس واسطے ان کو شریعت سخت رکھی کہ سرکشی ٹوٹے۔ (موضح القرآن) حضرت شاہ صاحب نے جو بعضی پیچھے فرمائیں اس پر جو شبہ وارد ہوتا تھا اس کی تقریر اور جواب ہم نے تسہیل میں دے دیا ہے۔ آیت سے یہ معلوم ہوا ہے کہ ارتکاب جرائم طیبات کی حرمت کا موجب ہیں اس امت میں اگرچہ یہ تو نہیں ہوتا کہ بنی اسرائیل کی طرح بعض چیزیں حرام کردی جائیں ہاں ! یہ ضرور ہے کہ ناشکری اور کفران نعمت سے نعمت سلب ہوجاتی ہے۔ بعض اہل سلوک نے فرمایا ہے کہ ارتکاب محرمات تو بڑی چیز ہے ، ارتکاب مباحات بھی حرمان مناجات کا موجب ہوجاتے ہیں۔ العیاذ باللہ اب آگے ان لوگوں کا بیان ہے جو اسلام کے حلقہ بگوش ہوگئے اور اسلام کے دامن میں پناہ گزیں ہوگئے ان کو مستثنا فرماتے ہیں اور ان کے لئے اجر عظیم کا وعدہ کرتے ہیں۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)