Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 17

سورة النساء

اِنَّمَا التَّوۡبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِیۡبٍ فَاُولٰٓئِکَ یَتُوۡبُ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۷﴾

The repentance accepted by Allah is only for those who do wrong in ignorance [or carelessness] and then repent soon after. It is those to whom Allah will turn in forgiveness, and Allah is ever Knowing and Wise.

اللہ تعالٰی صرف انہی لوگوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو بوجہ نادانی کوئی بُرائی کر گُزریں پھر جلد اس سے باز آجائیں اور توبہ کریں تو اللہ تعالٰی بھی اس کی توبہ قبول کرتا ہے ، اللہ تعالٰی بڑے علم والا حکمت والا ہے ۔ ْ

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Repentance is Accepted Until one Faces death Allah إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوَءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٍ ... Allah accepts only the repentance of those who do evil in ignorance and foolishness, and repent soon (afterwards); Allah states that He accepts repentance of the servant who commits an error in ignorance and then repents, even just before he sees the angel who captures the soul, before his soul reaches his throat. Mujahid and others said, "Every person who disobeys Allah by mistake, or intentionally is ignorant, until he refrains from the sin." Qatadah said that Abu Al-Aliyah narrated that the Companions of the Messenger of Allah used to say, "Every sin that the servant commits, he commits out of ignorance." Abdur-Razzaq narrated that, Ma`mar said that Qatadah said that, "the Companions of the Messenger of Allah agreed that every sin that is committed by intention or otherwise, is committed in ignorance." Ibn Jurayj said, "Abdullah bin Kathir narrated to me that Mujahid said, `Every person who disobeys Allah (even willfully), is ignorant while committing the act of disobedience."' Ibn Jurayj said, "Ata bin Abi Rabah told me something similar." Abu Salih said that Ibn Abbas commented, "It is because of one's ignorance that he commits the error." Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said about the Ayah, ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٍ (and repent soon (afterwards)), "Until just before he (or she) looks at the angel of death." Ad-Dahhak said, "Every thing before death is `soon (afterwards)."' Al-Hasan Al-Basri said about the Ayah, ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٍ (and repent soon afterwards), "Just before his last breath leaves his throat." Ikrimah said, "All of this life is `soon (afterwards)."' Imam Ahmad recorded that Ibn Umar said that the Messenger said, إِنَّ اللهَ يَقْبَلُ تَوْبَةَ الْعَبْدِمَالَمْ يُغَرْغِر Allah accepts the repentance of the servant as long as the soul does not reach the throat. This Hadith was also collected by At-Tirmidhi and Ibn Majah, and At-Tirmidhi said, "Hasan Gharib". By mistake, Ibn Majah mentioned that this Hadith was narrated through Abdullah bin `Amr. However, what is correct is that Abdullah bin Umar bin Al-Khattab was the narrator. Allah said, ... فَأُوْلَـيِكَ يَتُوبُ اللّهُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللّهُ عَلِيماً حَكِيماً It is they to whom Allah will forgive and Allah is Ever All-Knower, All-Wise. Surely, when hope in continued living diminishes, the angel of death comes forth and the soul reaches the throat, approaches the chest and arrives at the state where it is being gradually pulled out, then there is no accepted repentance, nor a way out of that certain end. Hence Allah's statements,

عالم نزع سے پہلے توبہ؟ مطلب یہ ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنے ان بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جو ناواقفیت کی وجہ سے کوئی برا کام کر بیٹھیں پھر توبہ کرلیں گو یہ توبہ فرشتہ موت کو دیکھ لینے کے بعد عالم نزع سے پہلے ہو ، حضرت مجاہد وغیرہ فرماتے ہیں جو بھی قصداً یا غلطی سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے وہ جاہل ہے جب تک کہ اس سے باز نہ آ جائے ۔ ابو العالیہ فرماتے ہیں صحابہ کرام فرمایا کرتے تھے کہ بندہ جو گناہ کرے وہ جہالت ہے ، حضرت قتادہ بھی صحابہ کے مجمع سے اس طرح کی روایت کرتے ہیں عطاء اور حضرت ابن عباس سے بھی اسی طرح مروی ہے ۔ توبہ جلدی کر لینے کی تفسیر میں منقول ہے کہ ملک الموت کو دیکھ لینے سے پہلے ، عالم سکرات کے قریب مراد ہے ، اپنی صحت میں توبہ کر لینی چاہئے ، غر غرے کے وقت سے پہلے کی توبہ قبول ہے ، حضرت عکرمہ فرماتے ہیں ساری دنیا قریب ہی ہے ، اس کے متعلق حدیثیں سنئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے جب تک سانسوں کا ٹوٹنا شروع نہ ہو ، ( ترمذی ) جو بھی مومن بندہ اپنی موت سے مہینہ بھر پہلے توبہ کر لے اس کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول فرما لیتا ہے یہاں تک کہ اس کے بعد بھی بلکہ موت سے ایک دن پہلے تک بھی بلکہ ایک سانس پہلے بھی جو بھی اخلاص اور سچائی کے ساتھ اپنے رب کی طرف جھکے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے ، حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں جو اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور جو مہینہ بھر پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے اور جو ہفتہ بھر پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے اور جو ایک دن پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ بھی قبول فرماتا ہے ، یہ سن کر حضرت ایوب نے یہ آیت پڑھی تو آپ نے فرمایا وہی کہتا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ، مسند احمد میں ہے کہ چار صحابی جمع ہوئے ان میں سے ایک نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو شخص اپنی موت سے ایک دن پہلے بھی توبہ کر لے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے ، دوسرے نے پوچھا کیا سچ مچ تم نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے ہی سنا ہے؟ اس نے کہا ہاں تو دوسرے نے کہا تم نے یہ سنا ہے؟ اس نے کہا ہاں ، اس نے کہا میں نے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہاں تک سنا ہے کہ جب تک اس کے نرخرے میں روح نہ آ جائے توبہ کے دروازے اس کے لئے بھی کھلے رہتے ہیں ، ابن مردویہ میں مروی ہے کہ جب تک جان نکلتے ہوئے گلے سے نکلنے والی آواز شروع نہ ہو تب تک توبہ قبول ہے ، کئی ایک مرسل احادیث میں بھی یہ مضمون ہے ، حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب ابلیس پر لعنت نازل فرمائی تو اس نے مہلت طلب کی اور کہا تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم کہ ابن آدم کے جسم میں جب تک روح رہے گی میں اس کے دل سے نہ نکلوں گا ، اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا مجھے اپنی عزت اور اپنے جلال کی قسم کہ میں بھی جب تک اس میں روح رہے گی اس کی توبہ قبول کروں گا ، ایک مرفوع حدیث میں بھی اس کے قریب قریب مروی ہے پس ان تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تک بندہ زندہ ہے اور اسے اپنی حیاتی کی امید ہے تب تک وہ اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اس پر رجوع کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس علیم و حکیم ہے ، ہاں جب زندگی سے مایوس ہو جائے فرشتوں کو دیکھ لے اور روح بدن سے نکل کر حلق تک پہنچ جائے سینے میں گھٹن لگے حلق میں اٹکے سانسوں سے غرغرہ شروع ہو تو اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی ۔ اسی لئے اس کے بعد فرمایا کہ مرتے دم تک جو گناہوں پر اڑا رہے اور موت دیکھ کر کہنے لگے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں تو ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی ، جیسے اور جگہ ہے آیت ( فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَكَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِيْنَ ) 40 ۔ غافر:84 ) ( دو آیتوں تک ) مطلب یہ ہے کہ ہمارے عذابوں کا معائنہ کر لینے کے بعد ایمان کا اقرار کرنا کوئی نفع نہیں دیتا اور جگہ ہے آیت ( يَوْمَ يَاْتِيْ بَعْضُ اٰيٰتِ رَبِّكَ لَا يَنْفَعُ نَفْسًا اِيْمَانُهَا لَمْ تَكُنْ اٰمَنَتْ مِنْ قَبْلُ اَوْ كَسَبَتْ فِيْٓ اِيْمَانِهَا خَيْرًا ۭ قُلِ انْتَظِرُوْٓا اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ ) 6 ۔ الانعام:158 ) مطلب یہ ہے کہ جب مخلوق سورج کو مغرب کی طرف سے چڑھتے ہوئے دیکھ لے گی اس وقت جو ایمان لائے یا نیک عمل کرے اسے نہ اس کا عمل نفع دے گا نہ اس کا ایمان ۔ پھر فرماتا ہے کہ کفر و شرک پر مرنے والے کو بھی ندامت و توبہ کوئی فائدہ نہ دے گی نہ ہی اس فدیہ اور بدلہ قبول کیا جائے گا چاہے زمین بھر کر سونا دینا چاہئے حضرت ابن عباس وغیرہ فرماتے ہیں یہ آیت اہل شرک کے بارے میں نازل ہوئی ہے ، مسند احمد میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنے بندیکی توبہ قبول کرتا ہے اور اسے بخش دیتا ہے جب تک پردہ نہ پڑ جائے پوچھا گیا پردہ پڑنے سے کیا مطلب ہے؟ فرمایا شرک کی حالت میں جان نکل جانا ۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے سخت درد ناک المناک ہمیشہ رہنے والے عذاب تیار کر رکھے ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٣٠] توبہ کس کی قبول ہے اور کس کی نہیں :۔ گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کی قبولیت کے لیے دو باتوں کی قید لگا دی۔ ایک تو یہ کہ وہ گناہ از راہ نادانی، جہالت یا نادانستہ طور پر سرزد ہوا ہو۔ اور دوسرے یہ کہ اس قصور وار کو بعد میں جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہوجائے اور وہ اللہ کے حضور توبہ کرے اور اگر اس کے برعکس معاملہ ہو یعنی گناہ بھی دانستہ طور پر اور اللہ کے احکام پر دلیر ہو کر کیا گیا ہو یا گناہ تو نادانستہ واقع ہوا ہو مگر توبہ میں عمداً تاخیر کرتا جائے تو ایسی صورتوں میں توبہ کے قبول ہونے کا کوئی امکان نہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَي اللّٰهِ : یہاں ” علی اللہ “ کے معنی یہ ہیں کہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے ذمہ لے لیا ہے، ورنہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز لازم نہیں ہے۔ (قرطبی) یہاں ایک سوال ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ صرف ان لوگوں کی توبہ قبول کرتا ہے جو جہالۃ سے گناہ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی جہالۃ سے گناہ نہ کرے بلکہ دیدہ دانستہ علم رکھتے ہوئے گناہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہی نہیں۔ جواب اس کا یہ ہے ” بجھالۃ “ یعنی اگر کبھی نادانی اور جذبات سے مغلوب ہو کر گناہ کا ارتکاب کر بھی لیتے ہیں تو ” من قریب “ یعنی جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں، کہ یہاں ” بجہالۃ “ کی قید احتراز کے لیے نہیں ہے، بلکہ بیان واقعہ کے لیے ہے، یعنی ہر گناہ ہوتا ہی جہالت اور نادانی کی وجہ سے ہے۔ گناہ کرنے والا اس کے انجام سے بیخبر ہو کر ہی گناہ کی جرأت کرتا ہے اگر اس کا انجام پوری طرح اس کی آنکھوں کے سامنے ہو تو وہ کبھی گناہ کا ارتکاب نہ کرسکتے، ” من قریب “ کا مفہوم یہ ہے کہ موت کے آثار مشاہدہ کرنے سے پہلے پہلے تائب ہوجاتے ہیں۔ ان دو شرطوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Repentance was mentioned in the previous verse. Now, given in the present two verses are conditions under which repentance is or is not accepted. Commentary Repentance from a deliberate sin At this point, it should be noted that the Holy Qur&an has used the words |"in ignorance|" which apparently gives an impression that the repentance may be accepted when a sin is committed unintentionally and unknowingly. But if it is committed deliberately, it will not be acceptable. However, according to the explanation of this verse given by the noble Companions, may Allah be pleased with them all, the word, جھالہ &jahalah|" (ignorance) here does not mean that a sinning person is not aware of a sin as sin, or has no intention or volition to commit a sin. Instead, it means that it was the insensitivity and heedlessness of a person towards the evil end of sin and its ultimate punishment which became the cause of his audacity to venture into sin, even though he knew a sin as sin, and had approached it with intention and volition as well. In other words, the word, &jahalah|" or ignorance used here is in the sense of carelessness or stupidity. This is supported by an evidence in Surah Yusuf. Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) (Joseph) had said to his brothers: هَلْ عَلِمْتُم مَّا فَعَلْتُم بِيُوسُفَ وَأَخِيهِ إِذْ أَنتُمْ جَاهِلُونَ ﴿٨٩﴾. Here the brothers have been called, & jahilun|", the ignorant ones, although what they did was not the outcome of any error or forgetfulness but they had done that knowingly and with full deliberation. Yet, it is because of their heedlessness towards the evil end of their act that they have been called &jahil|" (ignorant). Abu al-` Aliyah and Qatadah (رض) report that the noble Companions, may Allah be pleased with them all, agreed that کل ذنب اصابہ عبد فھو جھالۃ عمداً کان أو غیرہ ، that is, &any sin committed by a servant of Allah is, anyway, an act of ignorance, be it deliberate or otherwise.& The master of exegesis, Mujahid said: کل عامل بمعصیۃ اللہ فھو جاھل حین عملھا |"Everyone who is doing anything in disobedience to Allah is, for that matter, ignorant while doing it,|" even though, on the outside, he may appear to be a person of great learning. (Ibn Kathir) In his Tafsir, al-Bahr al-Muhit, Abu Hayyan has said: This is just like what has been reported in a hadith لا یزنی الزانی وھو مؤمن ، that is, &a person who commits zina (adultery) will not be doing so while in a state of being a true Muslim.& It means that the time when he succumbed to the temptation of this evil act, that was the time when he was flung far off from the demand of his faith. For this reason, Sayyidna ` Ikrimah (رض) said : امور الدنیا کلّھا جھالۃ that is, &everything one does in this mortal world - outside the framework of obedience to Allah - is ignorance.& The logic is very obvious since the person disobeying Allah is preferring short-lived pleasures over those everlasting; and, anyone who takes the punishment which will last forever and ever in exchange for this short-lived series of pleasures cannot be called rational, sensible or smart. Such a person would be universally termed as ignorant, even if he knows the evil of his act and has all the inten¬tion and resolve to go ahead with it. The gist of the discussion so far is that the sin that a man commits, deliberately or mistakenly, gets committed due to nothing but jihalat& or ignorance. Therefore, there is a consensus of the entire Muslim ummah on the principle that the repentance of a person who commits some sin deliberately can also be accepted. (al-Bahr a1-Muhit) Incidentally, there is another point worth attention in the present verse which prescribes a condition for the acceptance of repentance - that one should repent soon without delaying it. The Qur&anic words are: |"Shortly thereafter|". At does |"shortly|" signify and how much time will come within the limit of |"shortly|"? The Holy (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has himself explained this in a hadith in the following words: اِن اللہ یقبَلُ توبۃَ العبد مالم یغَرُغِرُ . The hadith means that Allah Almighty accepts the repentance of His servant until the time he passes into the throes of death and his soul struggles to get out of his rattling throat. Muhaddith Ibn Marduwayh has narrated from Sayyidna ` Abdullah ibn ` Umar (رض) that he heard the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saying: &A believing servant of Allah who repents from his sin a month before his death, or repents a day or a moment earlier, Allah Almighty shall accept his repentance, the condition being that the repentance should be genuine and sincere. (Ibn Kathir) In short, the explanation of |"min qarib|" (shortly thereafter), given by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) himself tells us that virtually man&s whole life-time comes under |"qarib|" and, as such, any repentance which is offered well-before death shall be acceptable. However, the repentance made by man while in throes of death is not acceptable. Maulana Ashraf Thanavi (رح) in his Tafsir Bayan al-Qur&an, has elabo¬rated the subject by saying that man faces two conditions when close to death. Firstly, there is the condition of utter hopelessness when all medicines and efforts fail and man comes to realize that death is round the corner. This is known as the state of بأس i.e., conscious suffering. The second condition relates to what comes after, that is, when the pangs of the departure of human soul begin and the fated time of ghargharah (the onomatopoetic rattling sound emerging from the throat, a herald of approaching death) comes close. This is known as the state of بأس i.e., total despair. The first condition, that is, the condition of conscious suffering comes within the sense of مِن قرِیب |"min qari&b|" and the repentance made at that time is accepted; but, the repentance in the second condition, that is, the condition of total despair, is not acceptable, for this is a condition when the angels and things belonging to the Hereafter may start appearing before the dying person, and they are not included in the sense of |"min qarib|". This explanation given by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has been pointed out by the Holy Qur&an itself in the following verse (i.e. verse 18) where it is expressly mentioned that repenting, after the sure signs of death are visible, is not accepted. So, in the light of this explanation the addition of |"min qarib |" (shortly thereafter) in this verse serves to indicate that the very life-span of man is limited in time, and death, which he may think is far away, may actually be quite near. “ Relenting taken by Allah upon Himself” is a form of promise the fulfillment of which is certain. Otherwise the truth is that Allah Almighty does not necessarily owe anything to anyone. The second verse (18) describes those whose repentance is not acceptable with Allah, those who fearlessly go on committing sins throughout their entire lives yet, when death stands on their head and the withdrawal of their soul is set in motion and the angels of death start becoming visible, they start offering repentance. How could their repentance become acceptable when they kept running wild with their lives and wasted all opportunities of repenting while there was still time to repent. This is very much like Pharaoh and his people who called out while drowning that they were ready to believe in the Lord of Musa (Moses) and Ha-run (Aaron) ہارون (علیہ السلام) . Naturally, they were told that their declaration of faith at that time was of no consequence, because the time set for it was all over. The same thing has been pointed out in the last sentence of the verse which says that Allah also does not accept the repentance of those who die while they are still disbelievers. What is the worth of a declaration of faith right in the middle of one&s match with death facing the pangs of the withdrawal of they soul from the body? This confession or this declaration of faith is out of tune with the time and quite worthless now as their punishment stands prepared for them. What is repentance? After the literal explanation of these two verses, it seems necessary to define Taubah or repentance and determine its real nature and status. In his اَحیا العلوم &Ihya& al-` Ulum, Imam al-Ghazali (رح) has identified three different situations with regard to committing sins: The first state is that of total sinlessness, that is, no sin has ever been committed. This is either the hallmark of angels or that of the prophets, may peace be on them. The second stage of getting involved in sin comes when one takes the initiative and ventures into sin and then repeats and persists with it, never feeling ashamed or regretful and never thinking of stopping and abandoning it. This is the degree of the satans and the devils. The third station belongs to human beings, the children of Adam who, immediately after having committed a sin, regret it and resolve firmly not to go near it in future. This tells us that failing to repent after committing a sin is the style of devils exclusively. Therefore, it is the consensus of the entire Muslim ummah that Taubah is obligatory. The Holy Qur&an says: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّـهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا عَسَىٰ رَ‌بُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ‌ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِ‌ي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ‌ (0 those who believe, repent before Allah, a sincere repen¬tance; may be your Lord removes from you your sins and admits you to gardens beneath which rivers flow.) (66:8) How generous is the mercy of our Lord! A man spends a whole life-time in disobeying Him. Nevertheless, when he repents sincerely before his death, not only his sins are forgiven, but he receives much more when he is admitted into the circle of favoured servants of Allah and made an inheritor of Paradise. In a hadith, the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم has been reported to have said: التَّایٔب حبیب اللہ والتایٔب منَ الذَنّبِ کمن لاذنبَ لَہ that is, &one who repents from sin is loved by Allah and one who has repented from sin is like one who had never committed a sin.& (Ibn Majah) According to some narrations, if a servant of Allah repents from a sin and his repentance finds acceptance with Him, he is not only absolved from having to account for it, but the very record in writing posted by the angels is erased out from his book of deeds so that he may not be disgraced either. However, what is necessary is that the repentance is genuine and is offered in sincerity. This repentance stands on three pillars. Firstly, one should regret over and feel ashamed about what he or she has done. According to hadith, اِنَّما التَّوبۃُ النِّدم that is, &Taubah is (another name of) remorse&. Secondly, one should immediately leave off the sin he has committed and he should, for the future too, firmly resolve to stay away from it. Thirdly, one should think of making amends for what has gone by, that is, he should try to take measures to rectify what has happened in sin to the best of his ability. For example, if he has missed a prayer or a fast, he should make up for it by doing what is known as qada (compensatory worship). If one does not remember the correct number of such missed prayers and fasts, he should think, calculate and come to an-estimated number and then go on to offer qada for these in all seriousness. If one finds it impossible to do so all at one time, he could offer, with each salah due at its time, one qada of each salah he missed throughout his life, which is commonly known as ` umri gada. In the same way, one should do his best to make up, as and when convenient, for obligatory fasts he missed by offering qada fasts. May be one has not paid the obligatory zakah due on him; he should, then pay the zakah due on him for previous years as well, paying it all or paying it gradually. God forbid, if one has usurped someone&s right, he should return it back to him and if he has hurt someone, he should seek his forgiveness. But, should it be that one does not regret what he has done, or, despite being regretful, he does not leave off that sin for future, then, this repentance is no repentance even though it may be said a thousand times, as so delightfully put in verse by a Persian poet: توبہ بر لب سبحہ برکف دل پُر از ذوق گناہ معصیت را خندہ می آید از استغفارِ ما Repentance on the lips, rosary in hand and a heart full of the taste of sin, Sin laughs at my style of seeking forgiveness! The point being made here is that man, once he repents as stated earlier, and despite having been in all sorts of sins, becomes a servant dear to Allah. And should it ever be that, out of human weakness, one does fall into sin yet another time, he should immediately renew his repentance in the fond hope that this time, like every other time, Allah Almighty shall, being Most-Forgiving, relent towards him. Let me conclude with yet another Persian couplet which says: ایں درگہ ما درگہِ نومیدی نیست صد بار اگر توبۃ شکستی بازآ This is the Court of My Presence, not the Court of Despair. Even if you have broken (the promise in) your repentance a hundred times, come again!

ربط آیات : ماقبل کی آیت میں توبہ کا ذکر آیا تھا، اب ان دو آیتوں میں قبول کی شرائط اور اس کے قبول ہونے اور نہ ہونے کی صورتیں بتلاتے ہیں۔ خلاصہ تفسیر توبہ جس کا قبول کرنا (حسب وعدہ) اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے وہ تو انہی کی ہے، جو حماقت سے کوئی گناہ (صغیرہ ہو یا کبیرہ ہو) کر بیٹھے ہیں، پھر قریب ہی وقت میں (یعنی قبل حضور موت جس کے معنی آگے آتے ہیں) توبہ کرلیتے ہیں، سو ایسوں پر تو اللہ تعالیٰ (قبول توبہ کے ساتھ) توجہ فرماتے ہیں (یعنی توبہ قبول کرلیتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں (کہ کس نے دل سے توبہ کی) حکمت والے ہیں (کہ دل سے توبہ نہ کرنے والے فضیحت نہیں کرتے) اور ایسے لوگوں کی توبہ (قبول) نہیں جو (برابر) گناہ کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سامنے موت ہی کھڑی ہوتی (حضور موت کا مطلب یہ ہے کہ اس کو دوسرے عالم کی چیزیں نظر آنے لگیں) تو کہنے لگا کہ میں اب توبہ کرتا ہوں (پس نہ تو ایسوں کی توبہ قبول) اور نہ ان لوگوں کی (توبہ یعنی ایمان لانا ایسے وقت کا مقبول ہے) جن کو حالت کفر پر موت آجاتی ہے، ان (کافر) لوگوں کے لئے ہم نے ایک درد ناک سزا (یعنی عقوبت دوزخ) تیار کر رکھی ہے۔ “ معارف ومسائل کیا قصدو اختیار سے کیا ہوا گناہ معاف نہیں ہوتا :۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قرآن مجید میں لفظ بجھالة کا وارد ہوا ہے اس سے بظاہر مفہوم ہوتا ہے کہ انجانی اور نادانی سے گناہ کرے تو اس کی توبہ قبول ہوگی، جان بوجھ کر کرے تو توبہ قبول نہیں ہوگی، لیکن صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے جو تفسیر اس آیت کی بیان فرمائی ہے، وہ یہ ہے کہ ” جہالتہ “ سے اسی جگہ پر مراد نہیں ہے کہ اس کو گناہ کے گناہ ہونے کی خبر نہ ہو، یا گناہ کا قصد و ارادہ نہ ہو، بلکہ مراد یہ ہے کہ اس کو گناہ کے انجام بد اور اخروی عذاب سے غفلت اس گناہ پر اقدام کا سبب ہوگئی، اگرچہ گناہ کو گناہ جانتا ہو اور اس کا قصد و ارادہ بھی کیا ہو۔ دوسرے الفاظ میں جہالت کا لفظ اس جگہ حماقت و بیوقوفی کے معنی میں ہے، جیسا کہ خلاصہ تفسیر میں مذکور ہوا ہے، اس کی نظیر سورة یوسف میں ہے، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے فرمایا تھا : ھل عملتم مافعلتم بیوسف واخیہ اذ انتم جھلون (٢١: ٩٨) اس میں بھائیوں کو جاہل کہا گیا ہے، حالانکہ انہوں نے جو کام کیا وہ کسی خطا یا نسیان سے نہیں بلکہ قصد و ارادہ سے جان بوجھ کر کیا تھا، مگر اس فعل کے انجام سے غفلت کے سبب ان کو جاہل کہا گیا ہے۔ ابو العالیہ اور قتادہ نے نقل کیا ہے کہ صحابہ کرام (رض) اس پر متفق تھے کہ کل ذنب اصابہ عبد فھو جھالہ عمداً کانا وغیرہ ” یعنی بندہ جو گناہ کرتا ہے خواہ بلاقصد ہو یا بالقصد بہرحال جہالت ہے۔ “ امام تفسیر مجاہد نے فرمایا : کل عامل بمعصیتہ اللہ فھو جاھل حین عملھا ” یعنی جو شخص کسی کام میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر رہا ہے وہ یہ کام کرتے ہوئے جاہل ہی ہے۔ “ اگرچہ صورت میں بڑا عالم اور باخبر ہو (ابن کثیر) اور ابوحیان نے تفسیر بحر محیط میں فرمایا کہ یہ ایسا ہی ہے جیسے حدیث میں ارشاد ہے : لایرنی الزنی وھو مومن، ” یعنی زنا کرنے والا مومن ہونے کی حالت میں زنا نہیں کرتا۔ “ مراد یہ ہے کہ جس وقت وہ اس فعل بد میں مبتلا ہوا ہے اس وقت وہ ایمانی تقاضہ سے دور جا پڑا۔ اسی لئے حضرت عکرمہ نے فرمایا کہ : امور الدنیا کلھا جھالة ” یعنی دنیا کے وہ سارے کام جو اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اطاعت سے خارج ہوں سب کے سب جہالت ہیں۔ “ اور وجہ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والا تھوڑی دیر کی لذت کو ہمیشہ باقی رہنے والی لذت پر ترجیح دے رہا ہے اور جو اس تھوڑی دیر کی لذت کے بدلہ میں ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب شدید خریدے وہ عاقل نہیں کہا جاسکتا، اس کو ہر شخص جاہل ہی کہے گا، اگرچہ وہ اپنے فعل بد کو جانتا ہو اور اس کا قصد و ارادہ بھی کر رہا ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ انسان کوئی گناہ قصداً کرے یا خطاءً دونوں حالت میں گناہ جہالت ہی سے ہوتا ہے، اسی لئے صحابہ وتابعین اور تمام امت کا اس پر اجماع ہے کہ جو شخص قصداً کسی گناہ کا مرتکب ہو اس کی بھی توبہ قبول ہو سکتی ہے۔ (بحر محیط) آیت مذکورہ میں ایک بات قابل غور یہ ہے کہ اس میں قبول توبہ کے لئے یہ شرط بتلائی ہے کہ قریب زمانہ میں ہی توبہ کرلے، توبہ کرنے میں دیر نہ کرے، اس میں قریب کا کیا مطلب ہے، اور کتنا زمانہ قریب میں داخل ہے ؟ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی تفسیر ایک حدیث میں خود اس طرح بیان فرمائی ہے : ان اللہ یقبل توبة العبد مالم یغرغر۔ حدیث کے معنی یہ ہیں کہ ” اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتے ہیں جب تک اس پر موت اور نزع روح کا غرغرہ طاری نہ ہوجائے۔ “ اور محدث ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو بندہ مومن موت سے ایک مہینہ پہلے اپنے گناہ سے توبہ کرے، یا ایک دن یا ایک گھڑی پہلے توبہ کرے، تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائیں گے، بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ سچی توبہ کی گئی ہو (ابن کثیر) خلاصہ یہ کہ من قریب کی تفسیر جو خود رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمائی، اس سے معلوم ہوا کہ انسان کی پوری عمر کا زمانہ قریب ہی میں داخل ہے، موت سے پہلے پہلے جو توبہ کرلی جاوے قبول ہوگی۔ البتہ غزغرہ موت کے وقت کی توبہ مقبول نہیں۔ اس کی توضیح جو حضرت حکیم الامت تھانوی نے تفسیر بیان القرآن میں بیان فرمائی ہے کہ موت کے قریب دو حالتیں پیش آتی ہیں، ایک تو ایاس و ناامیدی کی جب کہ انسان ہر دوا و تدبیر سے عاجز ہو کر یہ سمجھ لے کہ اب موت آنے والی ہے، اس کو حالت یاس بالیاء سے تعبیر کیا گیا ہے، دوسری حالت اس کے بعد کی ہے، جبکہ نزع روح شروع ہوجائے اور غرغرہ کا وقت آجائے، اس حالت کو باس بالباء کہا جاتا ہے، پہلی حالت یعنی حالت یاس تک تو من قریب کے مفہم میں داخل ہے اور توبہ اس وقت کی قبول ہوتی ہے، مگر دوسری حالت یعنی حالت باس کی توبہ مقبول نہیں، جب کہ فرشتے اور عالم آخرت کی چیزیں انسان کے سامنے آجائیں، کیونکہ وہ من قریب کے مفہوم میں داخل نہیں۔ اس آیت میں من قریب کا لفظ بڑھا کر اس کی طرف اشارہ کردیا گیا کہ انسان کی ساری عمر ہی ایک قلیل زمانہ ہے اور موت جس کو وہ بعید سمجھ رہا ہے اس کے بالکل قریب ہے۔ قریب کی یہ تفسیر جو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کی گئی ہے، دوسری آیت میں خود قرآن نے بھی اس کی طرف اشارہ فرما دیا ہے، جس میں یہ بتلایا ہے کہ موت کے وقت کی توبہ مقبول نہیں۔ خلاصہ مضمون آیت کا یہ ہوگیا کہ جو شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے خواہ جان بوجھ کر قصد و ارادہ سے کرے یا خطاء و ناواقفیت کی بناء پر کرے، وہ بہرحال جہالت ہی ہوتا ہے، ہر ایسے گناہ سے انسان کی توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لے لیا ہے بشرطیکہ موت سے پہلے پہلے سچی توبہ کرلے۔ اپنے ذمہ لے لینے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا وعدہ فرما لیا ہے جس کا پورا ہونا یقینی ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ کوئی فرض واجب یا کسی کا حق لازم نہیں ہوتا، پہلی آیت میں تو اس توبہ کا ذکر تھا جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابل قبول ہے، دوسری آیت میں اس توبہ کا بیان ہے جو قابل قبول نہیں۔ اس میں بیان فرمایا کہ ان لوگوں کی توبہ قابل قبول نہیں جو عمر بھر جرأت کے ساتھ گناہ کرتے رہے اور جب موت سر پر آپہنچی اور نزع روح شروع ہوگیا، موت کے فرشتے سامنے آگئے، اس وقت کہنے لگے کہ ہم اب توبہ کرتے ہیں، انہوں نے فرصت عمر گنوا کر توبہ کا وقت کھو دیا، اس لئے ان کی توبہ مقبول نہیں ہوگی، جیسے فرعون اور آل فرعون نے غرق ہونے کے وقت پکارا کہ ہم رب موسیٰ و ہارون پر ایمان لاتے ہیں تو ان کو جواب ملا کہ کیا اب ایمان لاتے ہو جب ایمان لانے کا وقت گزر چکا ؟ اور یہی مضمون آیت کے آخری جملہ میں ارشاد فرمایا ہے ان لوگوں کی توبہ بھی قابل قبول نہیں جن کو حالت کفر پر موت آگئی اور عین نزع روح کے وقت ایمان کا اقرار کیا، یہ اقرار و ایمان بےوقت اور بےسود ہے، ان کے لئے عذاب تیار کرلیا گیا ہے۔ توبہ کی تعریف اور حقیقت :۔ دونوں آیتوں کی لفظی تفسیر کے بعد ضرویر بات یہ باقی رہتی ہے کہ توبہ کی تعریف کیا ہے ؟ اور اس کی کیا حقیقت اور کیا درجہ ہے ؟ امام غزالی نے احیاء العلوم میں فرمایا کہ گناہوں پر اقدام کے تین درجے ہیں : پہلا یہ کہ کسی گناہ کا کبھی ارتکاب نہ ہو، یہ تو فرشتوں کی خصوصیت یا انبیاء (علیہم السلام) کی دوسرا درجہ یہ ہے کہ گناہوں پر اقدام کرے اور پھر ان پر اصرار جاری رہے، کبھی ان پر ندامت اور ان کے ترک کا خیال نہ آئے یہ درجہ شیاطین کا ہے، تیسرا مقام نبی آدم کا ہے کہ گناہ سر زد ہو تو فوراً اس پر ندامت ہو، اور آئندہ اس کے ترک کا پختہ عزم ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ گناہ سر زد ہونے کے بعد توبہ نہ کرنا یہ خالص شیاطین کا کام ہے اس لئے باجماع امت توبہ فرض ہے، قرآن مجید کا ارشاد ہے : ” یعنی ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے توبہ کرو سچی توبہ، تو کچھ عجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے گناہوں کا کفارہ کردیں اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کردیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ “ کریم الکرما اور رحیم الرحماء کی بارگاہ رحمت کی شان دیکھئے کہ انسان ساری عمر اس کی نافرمانی میں مبتلا رہے، مگر موت سے پہلے سچے دل سے توبہ کرلے تو صرف یہی نہیں کہ اس کا قصور معاف کردیا جائے بلکہ اس کو اپنے محبوب بندوں میں داخل کر کے جنت کا وارث بنادیا جاتا ہے۔ حدیث میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : ” یعنی گناہ سے توبہ کرنے والا اللہ کا محبوب ہے اور جس نے گناہ سے توبہ کرلی وہ ایسا ہوگیا کہ گویا اس نے گناہ کیا ہی نہ تھا۔ “ بعض روایات میں ہے کہ جب بندہ کسی گناہ سے توبہ کرے اور وہ اللہ کے نزدیک مقبول ہوجائے، تو صرف یہی نہیں کہ اس پر مواخذہ نہ ہو، بلکہ اس کو فرشتوں کے لکھے ہوئے نامہ اعمال سے مٹا دیا جاتا ہے، تاکہ اس کی رسوائی بھی نہ ہو۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ توبہ سچی اور توبتہ النصوح ہو، جس کے تین رکن ہیں، اول اپنے کئے پر ندامت اور شرمساری، حدیث میں ارشاد ہے، انما التوبة الندم ” یعنی توبہ نام ہی ندامت کا ہے “ دسرا رکن توبہ کا یہ ہے کہ جس گناہ کا ارتکاب کیا ہے اس کو فوراً چھوڑ دے اور آئندہ کو بھی اس سے باز رہنے کا پختہ عزم و ارادہ کرے۔ تیسرا رکن یہ ہے کہ تلافی منافات کی فکر کرے، یعنی جو گناہ سر زد ہوچکا ہے اس کا جتنا تدارک اس کے قبضہ میں ہے اس کو پورا کرے، مثلاً نماز روزہ فوت ہوا ہے تو اس کو قضا کرے فوت شدہ نمازوں اور روزوں کی صحیح تعداد یاد نہ ہو، تو غور و فکر سے کام لے کر تخمینہ متعین کرے پھر ان کی قضاء کرنے کا پورا اہتمام کرے، بیک وقت نہیں کرسکتا تو ہر نماز کے ساتھ ایک ایک نماز قضاء عمری کی پڑھ لیا کرے، ایسے ہی متفرق اوقات میں روزوں کی قضاء کا اہتمام کرے، فرض زکواة ادا نہیں کی تو گزشتہ زمانہ کی زکوة بھی یک مشت یا تدریجاً ادا کرے، کسی انسان کا حق لے لیا ہے تو اس کو واپس کرے، کسی کو تکلیف پہنچائی ہے تو اس سے معافی طلب کرے، لیکن اگر اپنے کئے پر ندامت نہ ہو، یا ندامت تو ہو مگر آئندہ کے لئے اس گناہ کو ترک نہ کرے، تو یہ توبہ نہیں ہے، گوہزار مرتبہ زبان سے توبہ توبہ کہا کرے۔ توبہ برلب سبحہ برکف دل پر از ذوق گناہ معصیت راخندہ می آیدز استغفار ما جب کسی انسان نے مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق توبہ کرلی تو وہ ہر طرح کا گناہ کر چکنے کے باوجود اللہ کا محبوب بندہ بن گیا اور اگر پھر بتقاضائے بشریت کبھی اس سے گناہ کا ارتکاب ہوگیا، تو پھر فوراً توبہ کی تجدید کرے، بارگاہ غفور کریم سے ہر دفع توبہ قبول کرنے کی امید رکھے۔ ایں درگہ مادرگہ نومید نیست صد بار اگر توبہ شکستی باز آ

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَي اللہِ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السُّوْۗءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ يَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِيْبٍ فَاُولٰۗىِٕكَ يَتُوْبُ اللہُ عَلَيْھِمْ۝ ٠ ۭ وَكَانَ اللہُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا۝ ١٧ توب التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار، فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول : فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع : ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت شرائط التوبة . وتاب إلى الله، فذکر «إلى الله» يقتضي الإنابة، نحو : فَتُوبُوا إِلى بارِئِكُمْ [ البقرة/ 54] ( ت و ب ) التوب ( ن) کے معنی گناہ کے باحسن وجود ترک کرنے کے ہیں اور یہ معذرت کی سب سے بہتر صورت ہے کیونکہ اعتذار کی تین ہی صورتیں ہیں ۔ پہلی صورت یہ ہے کہ عذر کنندہ اپنے جرم کا سرے سے انکار کردے اور کہہ دے لم افعلہ کہ میں نے کیا ہی نہیں ۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اس کے لئے وجہ جواز تلاش کرے اور بہانے تراشے لگ جائے ۔ تیسری صورت یہ ہے کہ اعتراف جرم کے ساتھ آئندہ نہ کرنے کا یقین بھی دلائے افرض اعتزار کی یہ تین ہی صورتیں ہیں اور کوئی چوتھی صورت نہیں ہے اور اس آخری صورت کو تو بہ کہا جاتا ہ مگر شرعا توبہ جب کہیں گے کہ گناہ کو گناہ سمجھ کر چھوڑ دے اور اپنی کوتاہی پر نادم ہو اور دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم کرے ۔ اگر ان گناہوں کی تلافی ممکن ہو تو حتی الامکان تلافی کی کوشش کرے پس تو بہ کی یہ چار شرطیں ہیں جن کے پائے جانے سے توبہ مکمل ہوتی ہے ۔ تاب الی اللہ ان باتوں کا تصور کرنا جو انابت الی اللہ کی مقتضی ہوں ۔ قرآن میں ہے ؛۔ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعاً [ النور/ 31] سب خدا کے آگے تو بہ کرو ۔ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی طرف بھی منسوب کردیتے ہیں جن سے بلا قصد افعال سر زد ہوتے ہیں بلکہ جمادات کی طرف بھی منسوب ہوجاتا ہے ۔ مگر عمل کا لفظ ان کی طرف بہت ہی کم منسوب ہوتا ہے صرف البقر العوامل ایک ایسی مثال ہے جہاں کہ عمل کا لفظ حیوانات کے لئے استعمال ہوا ہے نیز عمل کا لفظ اچھے اور بری دونوں قسم کے اعمال پر بولا جاتا ہے ، قرآن میں : ۔ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے ويقال : سَاءَنِي كذا، وسُؤْتَنِي، وأَسَأْتَ إلى فلان، قال : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] ، وقال : لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] ساء اور ساءنی کذا وسؤتنی کہاجاتا ہے ۔ اور اسات الی ٰ فلان ( بصلہ الی ٰ ) بولتے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الملک/ 27] تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے ۔ لِيَسُوؤُا وُجُوهَكُمْ [ الإسراء/ 7] تاکہ تمہارے چہروں کو بگاڑیں ۔ جهل الجهل علی ثلاثة أضرب : - الأول : وهو خلوّ النفس من العلم، هذا هو الأصل، وقد جعل ذلک بعض المتکلمین معنی مقتضیا للأفعال الخارجة عن النظام، كما جعل العلم معنی مقتضیا للأفعال الجارية علی النظام . - والثاني : اعتقاد الشیء بخلاف ما هو عليه . - والثالث : فعل الشیء بخلاف ما حقّه أن يفعل، سواء اعتقد فيه اعتقادا صحیحا أو فاسدا، كمن يترک الصلاة متعمدا، وعلی ذلک قوله تعالی: قالُوا : أَتَتَّخِذُنا هُزُواً ؟ قالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] ( ج ھ ل ) الجھل ۔ ( جہالت ) نادانی جہالت تین قسم پر ہے ۔ ( 1) انسان کے ذہن کا علم سے خالی ہونا اور یہی اس کے اصل معنی ہیں اور بعض متکلمین نے کہا ہے کہ انسان کے وہ افعال جو نظام طبعی کے خلاف جاری ہوتے ہیں ان کا مقتضی بھی یہی معنی جہالت ہے ۔ ( 2) کسی چیز کے خلاف واقع یقین و اعتقاد قائم کرلینا ۔ ( 3) کسی کام کو جس طرح سر انجام دینا چاہئے اس کے خلاف سر انجام دنیا ہم ان سے کہ متعلق اعتقاد صحیح ہو یا غلط مثلا کوئی شخص دیا ۔ دانستہ نماز ترک کردے چناچہ اسی معنی کے اعتبار سے آیت : أَتَتَّخِذُنا هُزُواً ؟ قالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ مِنَ الْجاهِلِينَ [ البقرة/ 67] میں ھزوا کو جہالت قرار دیا گیا ہے ۔ قرب الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة . فمن الأوّل نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] ، ( ق ر ب ) القرب القرب والبعد یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلہ میں استعمال ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قربت منہ اقرب وقربتہ اقربہ قربا قربانا کسی کے قریب جانا اور مکان زمان ، نسبی تعلق مرتبہ حفاظت اور قدرت سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے جنانچہ فرب مکانی کے متعلق فرمایا : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے ۔ علم العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته، وذلک ضربان : أحدهما : إدراک ذات الشیء . والثاني : الحکم علی الشیء بوجود شيء هو موجود له، أو نفي شيء هو منفيّ عنه . فالأوّل : هو المتعدّي إلى مفعول واحد نحو : لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] . والثاني : المتعدّي إلى مفعولین، نحو قوله : فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِناتٍ [ الممتحنة/ 10] ، وقوله : يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَ إلى قوله : لا عِلْمَ لَنا «3» فإشارة إلى أنّ عقولهم طاشت . والعِلْمُ من وجه ضربان : نظريّ وعمليّ. فالنّظريّ : ما إذا علم فقد کمل، نحو : العلم بموجودات العالَم . والعمليّ : ما لا يتمّ إلا بأن يعمل کالعلم بالعبادات . ومن وجه آخر ضربان : عقليّ وسمعيّ ، وأَعْلَمْتُهُ وعَلَّمْتُهُ في الأصل واحد، إلّا أنّ الإعلام اختصّ بما کان بإخبار سریع، والتَّعْلِيمُ اختصّ بما يكون بتکرير وتكثير حتی يحصل منه أثر في نفس المُتَعَلِّمِ. قال بعضهم : التَّعْلِيمُ : تنبيه النّفس لتصوّر المعاني، والتَّعَلُّمُ : تنبّه النّفس لتصوّر ذلك، وربّما استعمل في معنی الإِعْلَامِ إذا کان فيه تكرير، نحو : أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] ، ( ع ل م ) العلم کسی چیش کی حقیقت کا اور راک کرنا اور یہ قسم پر ہے اول یہ کہ کسی چیز کی ذات کا ادراک کرلینا دوم ایک چیز پر کسی صفت کے ساتھ حکم لگانا جو ( فی الواقع ) اس کے لئے ثابت ہو یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی کرنا جو ( فی الواقع ) اس سے منفی ہو ۔ پہلی صورت میں یہ لفظ متعدی بیک مفعول ہوتا ہے جیسا کہ قرآن میں ہے : ۔ لا تَعْلَمُونَهُمُ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ [ الأنفال/ 60] جن کو تم نہیں جانتے اور خدا جانتا ہے ۔ اور دوسری صورت میں دو مفعول کی طرف متعدی ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِناتٍ [ الممتحنة/ 10] اگر تم کا معلوم ہو کہ مومن ہیں ۔ اور آیت يَوْمَ يَجْمَعُ اللَّهُ الرُّسُلَاسے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے ہوش و حواس قائم نہیں رہیں گے ۔ ایک دوسری حیثیت سے علم کی دوقسمیں ہیں ( 1) نظری اور ( 2 ) عملی ۔ نظری وہ ہے جو حاصل ہونے کے ساتھ ہی مکمل ہوجائے جیسے وہ عالم جس کا تعلق موجودات عالم سے ہے اور علم عمل وہ ہے جو عمل کے بغیر تکمیل نہ پائے جسیے عبادات کا علم ایک اور حیثیت سے بھی علم کی دو قسمیں ہیں ۔ ( 1) عقلی یعنی وہ علم جو صرف عقل سے حاصل ہو سکے ( 2 ) سمعی یعنی وہ علم جو محض عقل سے حاصل نہ ہو بلکہ بذریعہ نقل وسماعت کے حاصل کیا جائے دراصل اعلمتہ وعلمتہ کے ایک معنی ہیں مگر اعلام جلدی سے بتادینے کے ساتھ مختص ہے اور تعلیم کے معنی با ر بار کثرت کے ساتھ خبر دینے کے ہیں ۔ حتٰی کہ متعلم کے ذہن میں اس کا اثر پیدا ہوجائے ۔ بعض نے کہا ہے کہ تعلیم کے معنی تصور کیلئے نفس کو متوجہ کرنا کے ہیں اور تعلم کے معنی ایسے تصور کی طرف متوجہ ہونا کے اور کبھی تعلیم کا لفظ اعلام کی جگہ آتا ہے جب کہ اس میں تاکید کے معنی مقصود ہوں جیسے فرمایا ۔ أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ [ الحجرات/ 16] کیا تم خدا کو اپنی دینداری جتلاتے ہو ۔ اور حسب ذیل آیات میں تعلیم کا لفظ استعمال ہوا ہے جیسے فرمایا ۔ الرَّحْمنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ [ الرحمن/ 1- 2] خدا جو نہایت مہربان اس نے قرآن کی تعلیم فرمائی ۔ قلم کے ذریعہ ( لکھنا ) سکھایا ؛

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

یہی بات درست ہے اس لیے حدیث کے ابتدائی الفاظ سے ضروری ہوجاتا ہے کہ اسے آیت میں مذکورسبیل کا بیان تسلیم کرلیاجائے۔ اوریہ بات تو معلوم ہی ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد اور حبس واذیت کے مابین کسی اور حکم کا واسطہ نہیں ہے اور یہ کہ سورة نور میں کوڑوں کی سزا کے حکم پر مشتمل آیت اس وقت تک نازل نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے کہ اگر اس وقت تک اس کا نزول ہوچکا ہوتا ہے تو آیت زیربحث میں مذکورسبیل کے بیان کے سلسلے میں مذکورہ بالاحدیث پرا سے مقدم تسلیم کرلیاجاتا۔ نیز حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس ارشاد (خذواعنی ، قدجعل اللہ لھن سبیلا، کے کوئی معنی نہ ہوتے۔ اس لیے یہ بات ثابت ہوگئی کہ حبس اور اذیت کے حکم کو منسوخ کرنے والی وہ حدیث ہے جس کے راوی حضرت عبادہ بن الصامت (رض) ہیں اور یہ کہ کوڑوں کے حکم پر مشتمل آیت اس کے بعد نازل ہوئی۔ اس میں سنت کے ذریعے قرآن کے نسخ کے جواز کی دلیل بھی موجود ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی نص سے حبس اور اذیت کی جو سزاواجب کردی تھی وہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مذکورہ بالاقول ہے منسوخ ہوگئی ۔ اگریہ کہاجائے کہ قول باری (واللذانیاتیانھامنکم) نیززیربحث دونوں آیتوں میں مذکورحبس اور اذیت کا تعلق بن بیا ہے جوڑے کے ساتھ تھا بیا ہے جوڑے کے ساتھ نہیں تھا تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ سلف کے درمیان اس بارے میں کوئی اختاف رائے نہیں تھا تو اس کے جواب میں کہاجائے گا کہ سلف کے درمیان اس بارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے کہ گھر میں تاموت بندرکھنے کا حکم بیاہی عورت کے لیے تھا۔ صرف سدی کا یہ قول تھا کہ اذیت پہنچانے کی سزابن بیا ہے جوڑے کے ساتھ مخصوص ہے۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت حبس میں مذکورہ سبیل کے متعلق جو فرمایا ہے۔ وہ لامحالہ ثیبہ یعنی بیاہی عورت کے بارے میں ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہوگیا کہ یہ حکم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد (الثیب بالثیب الجلد والرجم ) کی پر منسوخ قراردیاجائے۔ اس طرح حبس کی سزاکاحکم بہرصورت غیر قران یعنی احادیث کی بناء منسوخ ہونے سے بچ نہ سکا۔ ان احادیث میں محصن کوسنگسار کردینے کا وجوب ہے۔ ان میں سے ایک حضرت عباد (رض) ہ کی روایت کردہ حدیث ہے جس کا سابقہ سطور میں ذکر کیا ہے اسی طرح حضرت عبداللہ اور حضرت عائشہ کی روایت کردہ حدیثیں ہیں۔ اس سلسلے کی ایک اور حدیث ہے جس کی روایت حضرت عثمان (رض) نے کی ہے۔ جب آپ باغیوں کے گھیرے میں تھے تو آپ نے صحابہ کرام کو اس پر گواہ بنایا کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ ارشاد ہے (لایحل دام امرئی مسلم الاباحدی ثلاث، کفر بعد ایمان ، وزنا بعد احصان وقتل نفس بغیرنفس ، کسی مسلمان کا خون بہانا اس وقت تک حلال نہیں جب تک اس میں ان تین باتوں میں سے ایک بات نہ پائی جائے، مسلمان ہوجانے کے بعد کفر اختیار کرلیاہو صفت احصان کے حصول کے بعد ارتکاب زناکرلیاہو، کسی کی ناحق جان لی ہو۔ ) اسی سلسلے میں ماغر اورغامدی عورت کا واقعہ بھی قابل بیان ہے ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں کوسنگسار کرنے کا حکم دیا تھا امت نے ان آثارو واقعات کو اس کثرت سے نقل کیا ہے کہ اب اس کے متعلق کسی قسم کے شک وشبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ اگریہ کہا جائے کہ خوارج کا پوراٹولہ رجم کا انکاری ہے۔ اگر رجم کا حکم کثرت سے مروی ہوکر موجب علم ہوتاتو خوارج کا گروہ اس سے بیخبر نہ رہتا۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ان آثار کے تحت دی گئی خبر کے علم کا ذریعہ ان کسے ناقلین سے سماع اور ان کے ذریعے اس کی معرفت ہے جبکہ خوارج کو فقہاء اسلام اور راویان آثار کی مجالست کی توفیق ہی نہیں ہوئی بلکہ یہ گروہ ان حضرات سے الگ تھلگ رہ کر ان کی روایت کردہ احادیث وآثارکوقبول کرنے سے انکار کرتارہاجس کی بناپررجم کے حکم کے متعلق انہیں شک پیدا ہوگیا اور وہ اس کے اثبات کے قائل نہ ہوسکے۔ اگریہ کہاجائے کہ ان میں سے بہت سوں کو کثرت روایت کی بناپر اس حکم کی معرفت حاصل ہوگئی تھی لیکن صرف اپنے اس عقیدے کا بھرم رکھنے کے لیے کہ جو راوی اپناہم مسلک نہ ہو اس کی روایت مسترد و، اس کا انکارکربیٹھے تھے تو یہ بات بعید ازقیاس نہیں ہوگی، انہوں نے چونکہ اپنے اعتقاد ومسلک کے دائرے سے باہرآکرآثاروآحادیث کا سماع نہیں کیا اس لیے انہیں اس حکم کا علم نہ ہوسکا۔ یایہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے جن لوگوں کو اس حکم کا علم تھا ان کی تعداد اتنی تھوڑی تھی کہ ان کے لیے اسے چھپاجانے اور اس سے انکار کردینے کی گنجائش پیدا ہوگئی تھی۔ ان لوگوں کو چونکہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مبارک صحبت میسر نہیں ہوئی تھی کہ پھر انہیں اس حکم کا علم چشم دید کے طورپر ہوجاتایا انہیں ان لوگوں سے باربار سننے کا موقعہ ملتا جو اس حکم کے چشم دید گواہ تھے۔ چونکہ انہیں ان میں سے کوئی بات حاصل نہ ہوسکی اس لیے وہ اس حکم کو جان نہ سکے۔ آپ نہیں دیکھتے کہ مویشیوں کی زکواۃ کو نصاب کثرت روایت کے طریقے سے منقول ہوا ہے جو علم کا موجب ہے لیکن اس کے باجود اس کا علم دو میں سے ایک شخص کو ہوتا ہے ایک توفقیہ کو جس نے اسے سنا ہو اور اسے اس کا علم راویوں کے واسطے سے حاصل ہواہو اور دوسرادہ شخص جوان مویشیوں کا مالک ہو اورا سے ان کی زکواۃ نکالنے کے عمل سے باربار سابقہ پڑتا ہو جس کی وجہ سے وہ نصاف زکواہ سے باخبرہوگیا ہوتا کہ اس پر واجب ہونے والی کو اۃ کی وہ درست طریقے سے ادائیگی کرسکے۔ اس جیسے انسان کو جب کثرت سے باربار اس مسئلے کے متعلق سننے کا موقعہ ملتا ہے۔ توا سے اس کا علم حاصل ہوجاتا ہے اور اگر وہ اسے اکادکاطریقے سے سنتا ہے تو اسے اس کا علم حاصل نہیں ہوتا خوارج کی طرف سے رجم کی سزاکوتسلیم نہ کرنے اور ایک عورت کی پھوپھی یاخالہ کے زیرعقد ہوتے ہوئے اس سے نکاح کی حرمت کے قائل نہ ہونے اور اسی قسم کے درسرے مسائل میں جن کے ناقلین عادل رواۃ ہیں، خارجی اور باغی وسرکش قسم کے لوگ نہیں ہیں، ان کے انکار کے رولیے کی یہی وجہ ہے۔ زیربحث دونوں آیتوں میں بہت سے احکام موجود ہیں جن میں سے چند یہ ہیں۔ زناکے بارے میں چارگواہوں کی گواہی ہونی چاہیئے۔ زنا کی سزا کے طورپر عورت کو گھر میں بندکردیاجائے اور عورت و مرد دونوں کو ایذادی جائے اگر اس فعل قبیح کے مرتکب مرد اور عورت توبہ کرلیں توا نہیں سخت سست کہنے ذلیل کرنے اور ایذاپہنچانے کا عمل بندکردیاجائے۔ کیونکہ قول باری ہے (فان تاباواحلحافاعرضواعنھما، اگر یہ دونوں توبہ کرکے اپنی اصلاح کرلیں تو ان کاپیچھا چھوڑدو) تاہم یہ تو بہ ایذاپہنچانے کے عمل کے اسقاط میں مؤثر تھی۔ حبس کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ حبس کا معاملہ آیت میں ذکرہونے والی سبیل کے بیان پر موقوف تھا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی وضاحت فرمادی کہ یہ کوڑے اور سنگساری کی سزاکانام ہے اور پھر آیت میں مذکورہ تمام احکام منسوخ ہوگئے البتہ چارگواہوں کی گواہی کا حکم باقی رہاکیون کہ زنا کی ان دونوں سزاؤں کو منسوخ کرنے والی سزا یعنی کوڑے اور رجم میں گواہوں کی تعداد کا اعتبارا بھی تک باقی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے (والذین یرمون المحصنات ثم لم یاتواباربعۃ شھداء فاجلدوھم ثمانین جلدۃ، جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں اور پھر وہ چارگواہ پیش نہیں کرسکتے توا نہیں اسی کوڑے لگاؤ) ۔ نیز فرمایا (لولاجاءؤ اعلیہ یاربعۃ شھداء فاذلم یاتوابالشھداء فاو لئک عنداللہ ھم الاذبون، انہوں نے اس پرچارگواہ کیوں پیش نہیں کیئے۔ اب جب یہ چارگواہ نہ لاسکے تو اللہ کے نزدیک یہ جھوٹے ہیں) اس طرح نہ گواہوں کی تعدادکا اعتبار منسوخ ہو اورنہ ہی گواہی منسوخ ہوئی۔ یہ بات اس فعل قبیح کے مرتکب جوڑے پر حدزناجاری کرنے کی غرض سے گواہوں کو بلاکرا نہیں یہ منظر دکھادینے کے جواز کی موجب ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس فعل قبیح پر گواہی قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور گواہی اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتی جب تک نظربھرکریہ منظر دیکھ نہ لیا جائے یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ زناکارجوڑے پر حدزناجاری کرنے کی غرض سے نظر بھرکردیکھنے والے کی گواہی ساقط نہیں ہوتی۔ حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت مغیر (رض) ہ کے واقعہ میں شبل بن معبد، نافع بن الحارث اور زیاد کے ساتھ یہی طرزعمل اپنا یا تھا اور یہ بات ظاہر آیت کے موافق ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٧۔ ١٨) اللہ کی جانب سے توبہ تو ان ہی کی قبول ہے جو سزا سے واقف نہ ہونے کے سبب کوئی جرم کرلیتے ہیں اور پھر موت سے پہلے توبہ کرلیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نزع کی حالت سے قبل توبہ قبول فرمانے والے ہیں البتہ اس کے بعد توبہ قبول نہیں کرتے اور ایسے لوگوں کی جو موت کے سر پر آنے کے وقت توبہ کریں، قبول نہیں فرماتا، ان کفار کے لیے تو درد ناک عذاب ہے یہ آیت طعمہ اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو مرتد ہوگئے تھے۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧ (اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْءَ بِجَہَالَۃٍ ) (ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ ) ایک صاحب ایمان پر کبھی ایسا وقت بھی آسکتا ہے کہ خارجی اثرات اتنے شدید ہوجائیں یا نفس کے اندر کا ہیجان اسے جذبات سے مغلوب کر دے اور وہ کوئی گناہ کا کام کر گزرے۔ لیکن اس کے بعد اسے جیسے ہی ہوش آئے گا اس پر شدید ندامت طاری ہوجائے گی اور وہ اللہ کے حضور توبہ کرے گا۔ ایسے شخص کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اس کی توبہ قبول کرنا اللہ کے ذمے ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(17 ۔ 18) ۔ اوپر کی آیت میں توبہ کا ذکر تھا۔ اس لئے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کے قبول ہونے اور نہ ہونے کا ذکر فرمایا اوپر گذر چکا ہے کہ توبہ کے قبول ہونے کا وقت وہی ہے کہ آدمی گناہ کر کے اضطرار کی حالت سے پہلے تو بہ کرلے ورنہ موت کے آثار پیدا ہوجانے اور اضطرار کی حالت پیش آجانے کے وقت کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اضطرار کی حالت کے پیش آجانے کا یہ مطلب یہ ہے کہ جس طرح فرعون نے بالکل ڈوبتے وقت توبہ کی اور قبول نہ ہوئی اسی طرح خراٹا لگ جانے اور دم اکھڑے جانے کے وقت کوئی شخص توبہ کرے گا تو اس کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ چناچہ اس بات میں حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) کی حدیث جس کو ترمذی نے حسن کہا ہے ١ اوپر گذرچ کی ہے ٢ حاصل کلام یہ ہے کہ توبہ کے قبول ہونے کے لئے آئندہ گناہ سے باز رہنے اور نیک کام کرنے کا ارادہ ضرور ہے خراٹا لگ جانے کے بعد موت کا بالکل یقین ہوجاتا ہے اور اس ارادہ کا موقع باقی نہیں رہتا اس واسطے اس وقت کی توبہ پوری نہیں جیسے مغرب کی طرف سے آفتاب نکلنے کے وقت سب کو موت کا یقینھ ہوجائے گا۔ اور اس وقت کی توبہ مفید نہ ہونے کے سبب سے توبہ کا دروازہ جو مغرب کی طرف ہے وہ بند ہوجائے گا۔ چناچہ ٣ ترمذی وغیرہ میں جو معتبر سند سے روایتیں ہیں ان میں صراحت سے اس کا ذکر ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:17) انما التوبۃ علی اللہ للذین۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول کرنا اپنے ذمہ لے لیا ان لوگوں کے حق میں۔ التوبۃ۔ تاب۔ اس نے توبہ کی۔ وہ پھر آیا۔ گناہ سے وہ باز آیا۔ باب نصر سے اس نے قبول کیا۔ جب اس کا تعدیہ الیٰ کے ساتھ تو اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اور انابت کے معنی ہوتے ہیں۔ جیسے فتوبوا الی بارئکم (2:54) پس چاہیے کہ توبہ کرو تم اپنے خالق کے حضور۔ اور جب علیٰ سے ہوتا ہے تو توبہ قبول کرنے کے معنی میں آتا ہے ۔ فتاب علیکم (2:54) پھر حق تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول کرلی۔ من قریب۔ جلدی ۔ شتاب۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 2 یہا علی اللہ کے معنی یہ ہیں کہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے اپنے ذمہ لے لیا ہے رونہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز لازم نہیں ہے۔ (قرطبی) بحھالہ یعنی اگر کبھی نادانی اور جذبات سے مغلوب ہو کر گناہ کا ارتکاب کر بھی لیتے میں تو من قریب یعنی جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ بعض علما نے لکھا ہے کہ یہاں بجھالتہ کی قید احتراز کے لیے نہیں ہے۔ بلکہ بیان واقعہ کے لیے ہے یعنی ہر گناہ جہالت اور نادانی کی وجہ سے ہوتا ہے اور من قریب کا مفہوم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ع موت کے آثار مشاہدہ کرنے سے پہلے پہلے تائب ہوجاتے ہیں۔ ان دو شرطوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ (قرطبی۔ ابن کثیر) توبہ کے شرائط کے لیے دیکھئے سورت مریم آیت 8 ۔

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیات 17 تا 18: انما التوبۃ۔۔۔ اولئک اعتدنا لھم عذابا الیما۔ توبہ اور اس کی حقیقت : چونکہ توبہ کا ذکر آگیا تو اللہ کریم نے توبہ کی صورت ارشاد فرما دی کہ اگر کوئی نادانی سے برائی کر بیٹھے اور پھر اس حرکت پر شرمندہ ہو اور فوراً توبہ کرلے تو اللہ کریم ایسے لوگوں کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔ یہاں برائی کا تعلق جہالت سے ارشاد ہوا ہے تو مراد یہ نہ ہوگا کہ گناہ سے واقف نہ تھا ورنہ عمداً ایسا نہ کرتا بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ فعل جو اللہ کریم اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم کے خلاف ہو وہ جہالت ہے خواہ کتنے بڑے دانشور سے صادر ہو حضرت قتادہ (رض) کی روایت ہے اجمع اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) علی ان کل معصیۃ جھالۃ عمدا کان اولم یکن وکل من عصی اللہ فھو جاھل۔ کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اس بات پر اجماع ہے کہ ہر گناہ جہالت ہے خواہ ارادے سے کیا جائے یا غیر ارادی طور پر صادر ہو اور ہر وہ شخص جو اللہ کی نافرمانی کرے جاہل ہے پھر جلدی سے توبہ کرے اب اس جلدی کی حد کیا ہوگی تو اس سے اگلی آیہ کریمہ بتا رہی ہے کہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول نہیں ہوتی جو عمر بھر برائی پر ہی کاربند رہیں اور جب موت آجائے یعنی فرشتہ وغیرہ یا آخرت نظر آنے لگے تو اس وقت توبہ کا خیال آئے اور نہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول ہوتی ہے جن کی موت کفر پر واقع ہو یعنی عمر بھر کفر ہی پہ کاربند رہیں جیسے فرعون کہ وقت غرق پکارا کہ موسیٰ و ہارون کے رب پر ایمان لاتا ہوں تو ارشاد ہوا کہ اب ایمان لائے جب وقت گذر چکا اب کیا فائدہ تو اس سے مراد نزع روح یا جسے غرغرہ وغیرہ کہا جاتا ہے اس کے شروع ہونے سے پہلے کی توبہ شرف قبولیت کو پالے گی بشرطیکہ خلوص دل سے ہو یہاں صاحب مظہری (رح) نے اور لطیف بات نقل فرمائی ہے کہ قریب سے مراد دل کی حالت ہے کہ وہ مکمل طور پر تباہ نہ ہوچکا ہو اور اس پر ظلمت نہ چھا گئی ہو۔ القریب قیل ان یحیط السوء بحسناتہ فحبطھا۔ قریب سے مراد کہ برائیاں نیکیوں پر چھا نہ جائیں اور اعمال ضائع نہ ہوجائیں۔ ورنہ یہ ایک ایسی حالت ہے کہ توبہ کی توفیق ہی نصیب نہیں ہوتی اور دل پر کسی بات کا اثر نہیں ہوتا۔ توبہ کا پہلا رکن یہ ہے کہ گناہ سے ندامت ہو اور دل میں خجالت کو محسوس کرے دوسری بات کہ گناہ کو فوراً چھوڑ دے اور آئندہ نہ کرنے کا عہد کرے اور تیسری چیز یہ ہے کہ جس قدر ممکن ہو تلافی ما فات کرے یعنی اگر نماز روزہ چھوٹا ہے تو قضا کرنا شروع کرے جو بھی یاد ہے کسی کا مال ناجائز طریقے سے لیا ہے تو واپس کرے کسی سے زیادتی ہوئی ہے معافی مانگے یعنی ممکن حد تک تلافی کی کوشش ضروری ہے صرف زبان سے توبہ توبہ کہنا اور عملی طور پر گناہ میں ملوث رہنا توبہ نہیں بلکہ ایک عام سی بات ہے کہ اس دور کا مرد عورت جیسی شکل بنانا فخر کی بات سمجھنے لگا ہے اور عجیب بات ہے کہ عورت لباس وغیرہ میں بھی اور بالوں کی تراش خراش میں بھی مرد کی مشابہت کو بہتر سمجھنے لگی ہے حالانکہ دونوں صورتیں عنداللہ ملعون ہیں اور زبان سے شاید توبہ بھی کہتے ہوں گے توبہ طلب رحمت ہے اور وہ اتنا بڑا رحیم ہے کہ توبہ پر نہ صرف گناہ معاف فرماتا ہے بلکہ خطاؤں کو نیکیوں سے بدل دیتا ہے اور اپنے محبوب بندوں میں داخل فرما لیتا ہے مگر اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ مرد ہو یا عورت کم از کم اپنا حلیہ تو ٹھیک کرے اور ایسے عمل سے رک جائے جس پر لعنت یعنی رحمت سے دوری کی سزا مرتب ہوتی ہے اگر یہ صورت نصیب ہو تو نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے۔ سچی توبہ کا مقام : التائب حبیب اللہ والتائب من الذنب کمن لا ذنب لہ۔ گناہ سے توبہ کرنے والا اللہ کا محبوب ہے اور توبہ کرنے والا ایسا ہوگیا جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ تھا۔ اور یہ تو اللہ کریم کی صفت ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے خواہشوں اور آرزوؤں تک سے آگاہ ہے۔ اور اگر کسی نے غرغرہ موت تک توبہ نہیں کی تو یہ شیطان کے اوصاف میں سے ہے پھر جب موت سر پر آگئی آخرت ظاہر ہوگئی تو قبولیت توبہ کا وقت نکل گیا امام غزالی فرماتے ہیں کہ کبھی گناہ کا ارتکاب نہ ہونا یا فرشتوں کا مقام ہے اور یا پھر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کہ معصوم ہوتے ہیں اور مسلسل گناہ کرنا اور کبھی ندامت نہ ہونا یا ترک گناہ کی طرف نہ آنا یہ شیطان کی صفت ہے اور تیسرا درجہ بنی آدم کا ہے کہ گناہ کا ہوجانا اور اس پر فوراً ندامت کا ہونا آئندہ اسے چھوڑنے کا پختہ عزم اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت کا طلب کرنا ہے اگر مسلس برائی میں ہی موت نے آ لیا تو نہ صرف عذاب ہوگا بلکہ ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے جو ان کے لیے خاص طور پر تیار کیا گیا ہے۔ اعاذنا اللہ منہا۔ اور گناہ مسلسل پر احساس ندامت کا نہ ہونا شقاوت قلبی کا پتہ دیتا ہے جو دنیا کی زندگی میں ایک بہت بڑا عذاب ہے اور مفضی الی الکفر ہے کہ ایمان کا سلب ہوجانا آخری سزا ہے پھر کبھی نجات کی امید نہیں ہر تی اور موت کا وقت انسان کے علوم کی رسائی سے باہر ہے اس لیے زندگی میں مسلسل توبہ کی ضرورت ہے کیا خبر کونسی پل آخری پل ثابت ہو۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 17-18 لغات القرآن : التوبہ، توبہ، (لوٹنا) ۔ السوء، برائی ، گناہ۔ بجھالۃ، جہالت، نادانی۔ یتوبون، وہ توبہ کرتے ہیں۔ یعملون، عمل کرتے ہیں۔ السیات، (سیئۃ) برائی، گناہ۔ تبت، میں نے توبہ کرلی۔ اعتدنا، ہم نے تیار کیا ہے۔ تشریح : گذشتہ آیات میں بدکار مردوں اور بدکار عورتوں کی سزا کے بعد اللہ تعالیٰ نے توبہ کا ذکر فرمایا تھا۔ اب سورة النساء کی آیت 17، 18 میں توبہ قبول ہونے اور نہ ہونے کی صورتوں کا بیان فرمایا ہے۔ توبہ کے لفظی معنی ہیں ” لوٹنا “ واپس آنا ۔ جس جگہ کو چھوڑا تھا وہیں پلٹ کر واپس آنا۔ جب کوئی انسان گناہ کرتا ہے تو گویا وہ اللہ کی راہ سے ہٹ جاتا ہے لیکن جب وہ ندامت کے آنسوؤں کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں پلٹ کر آتا ہے اور اس بات کا عہد کرتا ہے کہ جو خطا اس سے سرزد ہوگئی ہے اس پر وہ ہمیشہ کے لئے شرمندہ ہے اور اب آئندہ نہ کرنے کا وہ اللہ سے عہد کر رہا ہے۔ تو یہ توبہ کہلائے گی اگر کوئی شخص زبان سے تو ” توبہ توبہ “ کہہ رہا ہے لیکن ذہن کے کسی گوشے میں تصور گناہ بھی موجود ہے تو یہ سراسر دھوکہ ہے ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ توبہ کا منشا ہی یہ ہے کہ اب وہ گناہ کے راستے سے پلٹ کر آگیا ہے اور نیکی کے ساتھ زندگی گزارنے کا بھرپور عزم رکھتا ہے۔ شریعت کی اصطلاح میں توبہ کے لیے یہ شرط ہے کہ گناہ کو برا سمجھ کر اسے چھوڑ دینا، جو کچھ خطا ہوچکی اس پر نادم اور شرمندہ ہونا۔ اس غلطی کو دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عہد کرنا۔ جن کاموں کا تدارک ہو سکتا ہے اسے دور کرنا یعنی اگر کوئی گناہ ہے جس کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو اس کو ادا کرنا اور اگر حقوق اللہ سے ہے تو اس کی قضا کرنا۔ جیسے چھوڑی ہوئی نمازیں اور روزے وغیرہ۔ جب یہ باتیں پوری ہوں گی تب تو بہ قبول کی جائے گی۔ لیکن وہ شخص جو گناہوں کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے مگر اس کو کبھی توبہ کی توفیق نہیں ہوتی وہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ ابھی تو کافی وقت پڑا ہے توبہ کرلیں گے جب موت کے فرشتے سامنے آکر کھڑے ہوجاتے ہیں تو پھر وہ شخص کہتا ہے کہ اب میں توبہ کرتا ہوں۔ اسی طرح وہ شخص جو کفر پر جما ہوا ہے اور اس کو موت آجاتی ہے تو اللہ ایسے لوگوں کی توبہ کو قبول نہیں کیا کرتا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ حماقت کی قید واقعی احترازی اور شرطی نہیں کیونکہ ہمیشہ گناہ حماقت ہی سے ہوتا ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اخلاقی بےراہروی کی سزا اور اس کی توبہ اور اب ان لوگوں کا ذکر ہوتا ہے جن کی توبہ قبول ہوگی اور جن کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ قرآن مجید کے اسلوب بیان میں بیشمار لطافتیں اور حکمتیں ہیں ان میں یہ بھی حکمت ہے کہ یہ محض قانون اور ضابطوں کی کتاب نہیں کہ جس میں پھیکا پن، جرم کی تفصیل اور صرف سزاؤں کا تذکرہ ہو قرآن مجید کی لطافت و بلاغت یہ ہے کہ وہ کسی قانون اور سزا کو محض ضابطے کے طور پر نہیں بلکہ اسے نصیحت اور خیر خواہی کے طور پر بیان اور نافذ کرتا ہے۔ بدکار لوگوں کی سزا کا ذکر کرنے کے فوراً بعد توبہ کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ جو لوگ جہالت سے سرزد ہونے والے گناہ کے فوراً بعد توبہ کریں گے اللہ تعالیٰ ان کی توبہ ضرور قبول فرمائے گا۔ البتہ ان لوگوں کی توبہ ہرگز قبول نہیں ہوگی جو پے در پے گناہ کرتے رہے یہاں تک کہ موت نے انہیں آلیا یا وہ کفر کی حالت میں مرے ان کے لیے نہایت ہی تکلیف دہ عذاب تیار کیا گیا ہے۔ جہالت کی تعریف کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عباس (رض) کے شاگرد حضرت عکرمہ (رض) فرمایا کرتے تھے جو کام بھی اللہ تعالیٰ کی تابعداری سے خارج ہو وہ جہالت تصور کیا جائے گا۔ لہٰذا جس شخص سے گناہ سرزد ہو اسے فوراً توبہ کرنی چاہیے۔ توبہ کے متعلق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشادات ١۔ توبہ کا دروازہ قیامت تک کھلا ہے اور ہر شخص کی توبہ نزع کے وقت سے پہلے قبول ہوسکتی ہے۔ نزع سے مراد موت کی وہ گھڑی ہے جب مرنے والے کو دنیا کی بجائے آخرت نظر آنے لگتی ہے۔ ٢۔ (کُلُّ بَنِيْ اٰدَمَ خَطَّاءٌ وَخَیْرُ الْخَطَّآءِیْنَ التَّوَّابُوْنَ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزھد، باب ذکر التوبۃ ] ” آدم کی ساری اولاد خطا کار ہے اور بہترین خطا کار توبہ کرنے والے ہیں۔ “ ٣۔ (مَنْ تَابَ قَبْلَ أَنْ یُغَرْغِرَ نَفْسُہٗ قَبِلَ اللّٰہُ مِنْہُ ) [ احمد : کتاب باقی مسند المکثرین، باب أحادیث رجال من أصحاب النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ] ” جس نے موت کے آثار ظاہرہونے سے پہلے توبہ کرلی اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ “ ٤۔ ( اَلتَّاءِبُ مِنَ الذَّنْبِ کَمَنْ لَّا ذَنْبَ لَہٗ ) [ رواہ ابن ماجۃ : کتاب الزھد ] ” گناہ سے توبہ کرنے والا گناہ نہ کرنے کے برابر ہوجاتا ہے۔ “ توبہ کی شرائط : توبہ کرنے والا اپنے گناہ پر نادم، آئندہ رک جانے کا عہد اور گناہ کے اثرات کو مٹانے کی کوشش کرے۔ مسائل ١۔ جہالت کی وجہ سے گناہ کرنے والا توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ جاننے والا ‘ حکمت والا ہے۔ ٣۔ موت کے وقت توبہ کرنے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ٤۔ کفار کے لیے دردناک عذاب ہے۔ تفسیر بالقرآن کس کی توبہ قبول نہیں ہوتی : ١۔ موت کے وقت توبہ قبول نہیں۔ (النساء : ١٨) ٢۔ فرعون کی غرق ہونے کے وقت توبہ قبول نہیں ہوئی۔ (یونس : ٩١، ٩٠) ٣۔ عذاب کے وقت ایمان قبول نہیں ہوتا۔ (المومن : ٨٥) ٤۔ مرتد کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ (البقرۃ : ٢١٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” انما التوبة علی اللہ للذین یعملون السوٓء بجھالة ثم یتوبون من قریب فاولئک یتوب اللہ علیھم ، وکان اللہ علیما حکیما ، (٧١) ولیست التوبة للذین یعملون السیات ، حتی اذا حضر احدھم الموت قال انی تبت الئن ولا الذین یموتون وھم کفار ، اولئک اعتدنا لھم عذابا الیما (٨١) اسی بارے میں ہم فی ضلال القرآن میں سورة آل عمران کی تشریح کرتے ہوئے توبہ پر بات کر آئے ہیں وہاں آیت ”۔ والذین اذا فعلوا فاحشة او ظلموا انفسھم ذکروا اللہ فاستغفروا لذنوبھم “ ” وہ لوگ جو کوئی فحش فعل کرلیتے ہیں یا اپنے نفسوں کے اوپر ظلم کر گزرتے ہیں ‘ اللہ کو یاد کرتے ہیں اور فورا اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں “ ۔ وہ پوری بحث اس آیت کی تفسیر میں بھی نقل کی جاسکتی ہے ۔ لیکن یہاں توبہ کے لئے جو انداز کلام اختیار کیا گیا ہے ‘ اس سے پیش نظر کوئی اور مقصد ہے ۔ یہاں زیادہ زور اس پر ہے کہ توبہ کی حقیقت کیا ہے ؟ وہ توبہ جسے اللہ قبول کرتا ہے اور جس کی قبولیت اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم کردی ہے ۔ (از راہ کرم) وہ توبہ وہ ہے جو نفس کی گہرائیوں سے اٹھے جس سے معلوم ہو کہ اس نفس انسانی نے ایک نیا جنم لیا ہے ‘ ندامت نے اسے گہرائیوں تک جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے اور اسے اس قدر ہلایا ہے کہ وہ اپنی سمت بدل گیا ہے ‘ وہ اللہ کی طرف مڑ گیا ہے توبہ اس معنی میں پوری عمر کے لئے رجوع ہے ‘ ایک نئی امید کی کرن ہے ۔ اس میں پاکیزگی اختیار کرنے کا عزم جدید ہوتا ہے ۔ اور ایک حقیقی نیت پائی جاتی ہے کہ توبہ کرنے والا جدید راہوں پر صدق دل سے چلے گا۔ (آیت) ” انما التوبة علی اللہ للذین یعملون السوٓء بجھالة ثم یتوبون من قریب فاولئک یتوب اللہ علیھم ، وکان اللہ علیما حکیما ، (٧١) ترجمہ : ” ہاں یہ جان لو کہ اللہ پر توبہ کی قبولیت کا حق انہی لوگوں کے لئے ہے جو نادانی کی وجہ سے برا فعل کر گزرتے ہیں اور اس کے بعد جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں ۔ ایسے لوگوں پر اللہ اپنی نظرعنایت سے پھر متوجہ ہوتا ہے ۔ اور اللہ ساری باتوں کی خبر رکھنے والا اور حکیم ودانا ہے ۔ وہ لوگ نادانی کی وجہ سے کوئی برا فعل کرتے ہیں گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ اس بات پر تقریبا اجماع نظر آتا ہے کہ جہالت سے مراد یہاں نظریاتی گمراہی ہے ‘ چاہے طویل ہو یا قصیر عرصے کے لئے ہو ۔ بشرطیکہ مرتکب گناہ اس پر اصرار نہ کر رہا ہو اور یہ کہ حالت نزع نہ شروع ہوگئی ہو اور وہ لوگ جو جلدی توبہ کرلیتے ہیں وہ کون ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں جو موت نظر یا سکرات الموت کے آغاز سے پہلے لوٹ آئیں ۔ ابھی انہیں موت کی دہلیز نظر نہ آئی ہو ۔ تو یہ توبہ ‘ توبہ ندامت تصور ہوگی ۔ گناہ سے نکل آنا عمل صالح کا عزم کرلینا اور گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کا عزم کرلینا ہی حقیقی توبہ ہے اور اس سے نفس انسانی گویا ایک نیا جنم لیتا ہے ۔ اور ضمیر از سر نو جاگ اٹھتا ہے ۔ (آیت) ” فاولئک یتوب اللہ علیھم ” ایسے لوگوں پر اللہ اپنی نظر عنایت سے پھر متوجہ ہوتا ہے ۔ “ اور اللہ ساری باتوں کا خبر رکھنے والا اور حکیم ودانا ہے ۔ (آیت) ” وکان اللہ علیما حکیما “۔ وہ تمام اقدامات علم و حکمت کی بنیاد پر کرتا ہے اور اپنے ضعیف بندوں کو لوٹ آنے کا موقعہ فراہم کرتا ہے کہ وہ از سر نو پاک صفوں میں آکر کھڑے ہوجائیں اور وہ اس طرح نہیں کرتا کہ گناہ گاروں کو دھتکار دے حالانکہ وہ حقیقتا باز آنے کی نیت رکھتے ہوں ۔ وہ اس کے در رحمت اور بارگاہ امن میں واپس آنا چاہتے ہیں ۔ اللہ رحیم وکریم ہیں ‘ وہ اپنے ضعیف بندوں کو دھتکارتے نہیں ۔ اور نہ ہی ان کا پیچھا کرتے ہیں ۔ اگر وہ باز آنا چاہیں ۔ وہ تو بےنیاز ہے ۔ اگر وہ باز آتے ہیں تو اسے کیا فائدہ ہے ‘ یہ تو خود ان کا فائدہ ہے ‘ یہ تو خود ان کا فائدہ ہے ۔ خود ان کی زندگی ‘ اس سے سلجھتی ہے ‘ وہ معاشرہ اصلاح پذیر ہوتا ہے ‘ جس میں خود وہ رہتے ہیں یہی تو سبب ہے کہ وہ ان کو ان کی واپسی ‘ توبہ اور پاکیزہ رویہ اختیار کرنے کے لئے وسیع مواقع فراہم کرتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

توبہ کی ضرورت اور اس کا طریقہ ان دونوں آیتوں میں توبہ کا قانون بیان فرمایا ہے اولاً تو یہ فرمایا کہ جو لوگ حماقت سے گناہ کر بیٹھیں پھر جلدی ہی توبہ کرلیں تو اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرماتا ہے اگر توبہ سچی ہو تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ضرور قبول ہوئی اور گناہ معاف ہوجائے گا، صغیرہ گناہوں کا کفارہ تو نیکیوں سے بھی ہوتا رہتا ہے لیکن کبیرہ گناہ (یقینی طور پر) صرف توبہ ہی سے معاف ہوتے ہیں اور صغیرہ گناہ پر اصرار کرنے سے صغیرہ بھی کبیرہ ہوجاتا ہے اور صغیرہ گناہ کو بھی معمولی نہ سمجھا جائے کیونکہ یہ بھی خالق ومالک جل مجدہ کی بغاوت ہے اور اس پر بھی مواخذہ اور عذاب ہوسکتا ہے جب کوئی گناہ ہوجائے چھوٹا ہو یا بڑا جلد سے جلد توبہ کریں جیسا کہ آیت بالا میں (ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ ) فرما کر جلدی توبہ کرنے کی ترغیب دی ہے۔ توبہ کی حقیقت : توبہ کی کیا حقیقت ہے اس کو سمجھنا چاہیے بہت سے لوگ زبان سے توبہ توبہ کے الفاظ نکال دیتے ہیں اور ان کے دل میں ذرا بھی اس بات کی کسک نہیں ہوتی کہ گناہ کو چھوڑیں سو جاننا چاہیے کہ توبہ کے تین جزو ہیں، اول یہ کہ جو بھی گناہ ہوگئے ہیں ان سب پر سچے دل سے خوف ندامت ہو اور اس بات کی شرمندگی و پشیمانی ہو کہ ہائے ! میں نے کیا کردیا ؟ میں نے اپنے خالق ومالک کی نافرمانی کردی۔ دوسرا جزو یہ ہے کہ آئندہ گناہ نہ کرنے کا خوب پکا مضبوط عہد ہو۔ تیسرا جزو یہ ہے کہ جو حقوق ضائع کیے (اللہ کے حقوق ہوں یا بندوں کے) ان کی ادائیگی کرے، اللہ کے حقوق مثلاً زکوٰتیں حساب کر کے دے اور اتنامال دیدے کہ یقین ہوجائے کہ اس سے زیادہ کی ادائیگی فرض نہ ہوگی۔ اور حج بھی کرے اور نمازوں کی بھی قضا کرے، فرضوں اور وتروں کی قضا ہوگئی تو ان میں بھی حساب لگائے کہ زیادہ سے زیادہ اتنی ہوں گی، ان سب کو ادا کرے، اگر رمضان کے روزے چھوڑے ہوں ان کو بھی قضا کرے اور ان کے علاوہ بھی غور کرے کہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کیا کیا ضائع کیے ہیں اور ان کی تلافی کی فکر کرے، بندوں کے حقوق کی بھی ادائیگی کرے، کس کس کی مال خیانت کی ہے چوری کی ہے، سودا بیچتے وقت ناپ تول میں کمی کی ہے اور خریدو فروخت میں دھوکہ دیا ہے قرض لے کر مار لیا ہے، غیبتیں کی ہیں یا سنی ہیں بہتان باندھے ہیں کسی کو گالیاں دی ہیں، مار پیٹ کی ہے وغیرہ وغیرہ ان سب امور کی تلافی کرے، مالی حقوق کو ادا کرے ادائیگی کا انتظام نہ ہو تو ان لوگوں سے معاف کرائے جن کے حقوق ہیں، جن کی غیبتیں کی ہیں یا سنی ہیں ان سے معافی مانگے اور جن پر بہتان باندھے ہیں ان سے بھی معافی مانگے اور جن کو گالیاں دی ہیں ان سب سے معافی مانگے، ظالمانہ مار پیٹ کی تلافی کرے یعنی جس کو بلا اجازت شرعی مارا ہو اگرچہ وہ اپنے سے چھوٹا ہی ہو اس کو بدلہ دے یا معافی مانگے اس میں خفت اور ذلت محسوس نہ کرے کیونکہ آخرت میں اصحاب حقوق کے گناہ ظلم کرنے والے کے ذمہ ڈال دئیے جائیں گے۔ حاصل یہ ہے کہ توبہ کے تین اہم جزو ہیں اول گناہ پر نادم ہونا، دوم آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عہد کرنا، سوم ضائع کردہ حقوق کی تلافی کرنا، یہ چیزیں نہ ہوں اور زبانی توبہ توبہ کرتا رہے تو اس سے مطلوب توبہ نہیں ہوتی خوب سمجھ لیا جائے آج کل غفلت کے ساتھ توبہ کی جاتی ہے جو زبان کی حد تک ہوتی ہے اور دل میں اس کا ذرا سا بھی اثر نہیں ہوتا، دل کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ میری زبان سے توبہ کے الفاظ نکل رہے ہیں، اسی کو حضرت رابعہ بصریہ نے فرمایا استغفارنا یحتاج الی استغفار کثیر یعنی ہمارا استغفار بھی ایک طرح کا گناہ ہے (کیونکہ غفلت کے ساتھ ہے) اس کے لیے بھی استغفار کی ضرورت ہے۔ ہست استغفار ما محتاج استغفار فرما۔ جب سچے دل سے پوری شرطوں کے ساتھ توبہ کی جائے گی تو ضرور قبول ہوگی۔ انشاء اللہ۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi