After answering the objections raised by the Jews and confirming the prophethood of Sayyidna Muhammad al-Mustafa, (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the Qur&an carries the message of Allah to all human beings wherever they may be as they are its direct addressees this verse. The essence of the message is: Your salvation lies nowhere but in your belief in the prophethood of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) so, believe and prosper. As for those who choose to disbelieve, they lose everything while Allah loses nothing. With His limitless domain and power, who can conceive of bringing any loss or harm to Him? This is something the disbelievers should worry about. Let them be certain that Allah knows everything about their believing and disbelieving and let not the delay or decrease in punishment in this world put them on the wrong foot for He is All-Wise too and does what His wisdom allows to prevail.
ربط آیات : یہودیوں کے اعتراضات کا جواب اور نبوت محمدیہ علی صاحبہ السلام کے اثبات کے بعد اب تمام جہان کے انسانوں کو خطاب فرماتے ہیں کہ تمہاری نجات اسی میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر ایمان لے آؤ۔ خلاصہ تفسیر اے تمام (جہان کے) لوگو تمہارے پاس یہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچی بات (یعنی سچا دعویٰ ، سچی دلیل) لے کر تمہارے پروردگار (جل شانہ) کی طرف سے تشریف لائے ہیں سو (مقتضی اثبات دعوی بالدلیل الصحیح کا یہ ہے کہ) تم (ان پر اور جو توجیہ فرما دیں سب پر) یقین رکھو (جو پہلے سے یقین لائے ہوئے ہیں وہ اس پر قائم رہیں اور جو نہیں لائے اب اختیار کرلیں) یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا، (کیونکہ نجات ہوگی) اور اگر تم منکر ہوگئے تو (تمہارا ہی نقصان ہے، اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں، کیونکہ) اللہ تعالیٰ کی (تو) ملک ہے یہ سب جو کچھ (بھی) آسمانوں میں اور زمین میں (موجود) ہے (تو ایسے بڑے عظیم الشان مالک، قادر کو کیا نقصان پہنچا سکتے ہو، مگر اپنی خیر منالو) اور اللہ تعالیٰ (سب کے ایمان و کفر کی) پوری اطلاع رکھتے ہیں (اور دنیا میں جو پوری سزا نہیں دیتے تو اس لئے کہ) کامل حکمت والے (بھی) ہیں (وہ حکمت اس کو مقنضنی ہے۔ )