Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 170

سورة النساء

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَکُمُ الرَّسُوۡلُ بِالۡحَقِّ مِنۡ رَّبِّکُمۡ فَاٰمِنُوۡا خَیۡرًا لَّکُمۡ ؕ وَ اِنۡ تَکۡفُرُوۡا فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۷۰﴾

O Mankind, the Messenger has come to you with the truth from your Lord, so believe; it is better for you. But if you disbelieve - then indeed, to Allah belongs whatever is in the heavens and earth. And ever is Allah Knowing and Wise.

اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر رسول آگیا ہے پس تم ایمان لاؤ تاکہ تمہارے لئے بہتری ہو اور اگر تم کافر ہوگئے تو اللہ ہی کی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اور اللہ دانا ہے حکمت والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

170۔ 1 یعنی تمہارے کفر سے اللہ کا کیا بگڑے گا جیسے حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا ( اِنْ تَكْفُرُوْٓا اَنْتُمْ وَمَنْ فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ حَمِيْدٌ) 0014:008 (ابراہیم۔ 8) اگر تم اور روئے زمین پر بسنے والے سب کے سب کفر کا راستہ اختیار کرلیں تو وہ اللہ کا کیا بگاڑیں گے ؟ یقیناً اللہ تعالیٰ تو بےپروا تعریف کیا گیا ہے، اور حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ' اے میرے بندو ! اگر تمہارے اوّل وآخر تمام انسان اور جن اس ایک آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں جو تم میں سب میں متقی ہے تو اس سے میری بادشاہی میں اضافہ نہیں ہوگا اور اگر تمہارے اول و اخر انس و جن اس کے ایک آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں جو تم میں سب میں بڑا نافرمان ہے تو اس سے میری اس سے میری بادشاہی میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اے میرے بندو ! اگر تم سب ایک میدان میں جمع ہوجاؤ اور مجھ سے سوال کرو اور میں ہر انسان کو اس کے سوال کے مطابق عطا کروں تو اس سے میرے خزانے میں اتنی ہی کمی ہوگی جتنی سوئی کے سمندر میں ڈبو کر نکالنے سے سمندر کے پانی میں ہوتی ہے (صحیح مسلم کتاب البر، باب تحریم، الظلم)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٢٣] یعنی اللہ کی طرف سے تم پر اتمام حجت ہوچکی ہے اور روز آخرت تمہارے پاس پیش کرنے کو کوئی عذر نہ ہوگا اور سب شہادتیں تمہارے خلاف جائیں گی لہذا بہتر یہی ہے کہ بروقت سنبھل جاؤ اور رسول پر اور اللہ کی آیات پر ایمان لا کر اخروی زندگی سنوار لو، ورنہ اس روز اللہ کی گرفت اور اس کے عذاب سے کبھی بچ نہ سکو گے۔ جو کائنات کی ہر چیز پر مکمل قبضہ و اختیار رکھتا ہے۔ وہ تمہاری سب شرارتوں کو بھی جانتا ہے اور اپنے احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں سے نمٹنے کا طریقہ بھی اسے آتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمُ الرَّسُوْلُ بالْحَقِّ ۔۔ : متعدد طریقوں سے یہود کے اعتراضات و شبہات کی تردید اور قرآن کی حقانیت ثابت کرنے کے بعد اب سب لوگوں کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور قرآن پر ایمان لانے کی دعوت دی جا رہی ہے، جن میں یہود بھی شامل ہیں کہ جب یہ رسول برحق ہے اور قرآن بھی اللہ کی سچی کتاب ہے تو تمہیں لازم ہے کہ اس دعوت کو قبول کرلو، اس میں تمہارا بھلا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی بہتر ہے، ورنہ یاد رکھو کہ زمین و آسمان میں جتنی مخلوق ہے سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، اس کا تمہارے ایمان نہ لانے سے کچھ نہیں بگڑتا۔ دیکھیے سورة ابراہیم (٨) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

After answering the objections raised by the Jews and confirming the prophethood of Sayyidna Muhammad al-Mustafa, (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the Qur&an carries the message of Allah to all human beings wherever they may be as they are its direct addressees this verse. The essence of the message is: Your salvation lies nowhere but in your belief in the prophethood of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) so, believe and prosper. As for those who choose to disbelieve, they lose everything while Allah loses nothing. With His limitless domain and power, who can conceive of bringing any loss or harm to Him? This is something the disbelievers should worry about. Let them be certain that Allah knows everything about their believing and disbelieving and let not the delay or decrease in punishment in this world put them on the wrong foot for He is All-Wise too and does what His wisdom allows to prevail.

ربط آیات : یہودیوں کے اعتراضات کا جواب اور نبوت محمدیہ علی صاحبہ السلام کے اثبات کے بعد اب تمام جہان کے انسانوں کو خطاب فرماتے ہیں کہ تمہاری نجات اسی میں ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر ایمان لے آؤ۔ خلاصہ تفسیر اے تمام (جہان کے) لوگو تمہارے پاس یہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سچی بات (یعنی سچا دعویٰ ، سچی دلیل) لے کر تمہارے پروردگار (جل شانہ) کی طرف سے تشریف لائے ہیں سو (مقتضی اثبات دعوی بالدلیل الصحیح کا یہ ہے کہ) تم (ان پر اور جو توجیہ فرما دیں سب پر) یقین رکھو (جو پہلے سے یقین لائے ہوئے ہیں وہ اس پر قائم رہیں اور جو نہیں لائے اب اختیار کرلیں) یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا، (کیونکہ نجات ہوگی) اور اگر تم منکر ہوگئے تو (تمہارا ہی نقصان ہے، اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان نہیں، کیونکہ) اللہ تعالیٰ کی (تو) ملک ہے یہ سب جو کچھ (بھی) آسمانوں میں اور زمین میں (موجود) ہے (تو ایسے بڑے عظیم الشان مالک، قادر کو کیا نقصان پہنچا سکتے ہو، مگر اپنی خیر منالو) اور اللہ تعالیٰ (سب کے ایمان و کفر کی) پوری اطلاع رکھتے ہیں (اور دنیا میں جو پوری سزا نہیں دیتے تو اس لئے کہ) کامل حکمت والے (بھی) ہیں (وہ حکمت اس کو مقنضنی ہے۔ )

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَيْرًا لَّكُمْ۝ ٠ۭ وَاِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَ لِلہِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۝ ٠ۭ وَكَانَ اللہُ عَلِــيْمًا حَكِـيْمًا۝ ١٧٠ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] کہو کہ میں لوگوں کے پروردگار کی پناہ مانگنا ہوں ۔ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس حقَ أصل الحَقّ : المطابقة والموافقة، کمطابقة رجل الباب في حقّه لدورانه علی استقامة . والحقّ يقال علی أوجه : الأول : يقال لموجد الشیء بسبب ما تقتضيه الحکمة، ولهذا قيل في اللہ تعالی: هو الحقّ قال اللہ تعالی: وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ وقیل بعید ذلک : فَذلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمُ الْحَقُّ فَماذا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلالُ فَأَنَّى تُصْرَفُونَ [يونس/ 32] . والثاني : يقال للموجد بحسب مقتضی الحکمة، ولهذا يقال : فعل اللہ تعالیٰ كلّه حق، نحو قولنا : الموت حق، والبعث حق، وقال تعالی: هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ، والثالث : في الاعتقاد للشیء المطابق لما عليه ذلک الشیء في نفسه، کقولنا : اعتقاد فلان في البعث والثواب والعقاب والجنّة والنّار حقّ ، قال اللہ تعالی: فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] . والرابع : للفعل والقول بحسب ما يجب وبقدر ما يجب، وفي الوقت الذي يجب، کقولنا : فعلک حقّ وقولک حقّ ، قال تعالی: كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] ( ح ق ق) الحق ( حق ) کے اصل معنی مطابقت اور موافقت کے ہیں ۔ جیسا کہ دروازے کی چول اپنے گڑھے میں اس طرح فٹ آجاتی ہے کہ وہ استقامت کے ساتھ اس میں گھومتی رہتی ہے اور لفظ ، ، حق ، ، کئی طرح پر استعمال ہوتا ہے ۔ (1) وہ ذات جو حکمت کے تقاضوں کے مطابق اشیاء کو ایجاد کرے ۔ اسی معنی میں باری تعالیٰ پر حق کا لفظ بولا جاتا ہے چناچہ قرآن میں ہے :۔ وَرُدُّوا إِلَى اللَّهِ مَوْلاهُمُ الْحَقِّ پھر قیامت کے دن تمام لوگ اپنے مالک برحق خدا تعالیٰ کے پاس واپس بلائیں جائنیگے ۔ (2) ہر وہ چیز جو مقتضائے حکمت کے مطابق پیدا کی گئی ہو ۔ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں ۔۔۔ یہ پ ( سب کچھ ) خدا نے تدبیر سے پیدا کیا ہے ۔ (3) کسی چیز کے بارے میں اسی طرح کا اعتقاد رکھنا جیسا کہ وہ نفس واقع میں ہے چناچہ ہم کہتے ہیں ۔ کہ بعث ثواب و عقاب اور جنت دوزخ کے متعلق فلاں کا اعتقاد حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔۔ فَهَدَى اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا لِمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ مِنَ الْحَقِّ [ البقرة/ 213] تو جس امر حق میں وہ اختلاف کرتے تھے خدا نے اپنی مہربانی سے مومنوں کو اس کی راہ دکھادی ۔ (4) وہ قول یا عمل جو اسی طرح واقع ہو جسطرح پر کہ اس کا ہونا ضروری ہے اور اسی مقدار اور اسی وقت میں ہو جس مقدار میں اور جس وقت اس کا ہونا واجب ہے چناچہ اسی اعتبار سے کہا جاتا ہے ۔ کہ تمہاری بات یا تمہارا فعل حق ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ كَذلِكَ حَقَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ [يونس/ 33] اسی طرح خدا کا ارشاد ۔۔۔۔ ثابت ہو کر رہا ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ خير الخَيْرُ : ما يرغب فيه الكلّ ، کالعقل مثلا، والعدل، والفضل، والشیء النافع، وضدّه : الشرّ. قيل : والخیر ضربان : خير مطلق، وهو أن يكون مرغوبا فيه بكلّ حال، وعند کلّ أحد کما وصف عليه السلام به الجنة فقال : «لا خير بخیر بعده النار، ولا شرّ بشرّ بعده الجنة» . وخیر وشرّ مقيّدان، وهو أن يكون خيرا لواحد شرّا لآخر، کالمال الذي ربما يكون خيرا لزید وشرّا لعمرو، ولذلک وصفه اللہ تعالیٰ بالأمرین فقال في موضع : إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] ، ( خ ی ر ) الخیر ۔ وہ ہے جو سب کو مرغوب ہو مثلا عقل عدل وفضل اور تمام مفید چیزیں ۔ اشر کی ضد ہے ۔ اور خیر دو قسم پر ہے ( 1 ) خیر مطلق جو ہر حال میں اور ہر ایک کے نزدیک پسندیدہ ہو جیسا کہ آنحضرت نے جنت کی صفت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خیر نہیں ہے جس کے بعد آگ ہو اور وہ شر کچھ بھی شر نہیں سے جس کے بعد جنت حاصل ہوجائے ( 2 ) دوسری قسم خیر وشر مقید کی ہے ۔ یعنی وہ چیز جو ایک کے حق میں خیر اور دوسرے کے لئے شر ہو مثلا دولت کہ بسا اوقات یہ زید کے حق میں خیر اور عمر و کے حق میں شربن جاتی ہے ۔ اس بنا پر قرآن نے اسے خیر وشر دونوں سے تعبیر کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ إِنْ تَرَكَ خَيْراً [ البقرة/ 180] اگر وہ کچھ مال چھوڑ جاتے ۔ حكيم فإذا قيل في اللہ تعالی: هو حَكِيم فمعناه بخلاف معناه إذا وصف به غيره، ومن هذا الوجه قال اللہ تعالی: أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] ، وإذا وصف به القرآن فلتضمنه الحکمة، نحو : الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] ، وعلی ذلک قال : وَلَقَدْ جاءَهُمْ مِنَ الْأَنْباءِ ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ حِكْمَةٌ بالِغَةٌ [ القمر/ 4- 5] ، وقیل : معنی الحکيم المحکم «3» ، نحو : أُحْكِمَتْ آياتُهُ [هود/ 1] ، وکلاهما صحیح، فإنه محکم ومفید للحکم، ففيه المعنیان جمیعا، والحکم أعمّ من الحکمة، فكلّ حكمة حكم، ولیس کل حکم حكمة، فإنّ الحکم أن يقضی بشیء علی شيء، فيقول : هو كذا أو ليس بکذا، قال صلّى اللہ عليه وسلم : «إنّ من الشّعر لحكمة» أي : قضية صادقة لہذا جب اللہ تعالے کے متعلق حکیم کا لفظ بولاجاتا ہے تو اس سے وہ معنی مراد نہیں ہوتے جو کسی انسان کے حکیم ہونے کے ہوتے ہیں اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق فرمایا ہے ۔ أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحاكِمِينَ [ التین/ 8] کیا سب سے بڑا حاکم نہیں ہے ؟ اور قرآن پاک کو حکیم یا تو اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ حکمت کی باتوں پر مشتمل ہے جیسے فرمایا ۔ الر تِلْكَ آياتُ الْكِتابِ الْحَكِيمِ [يونس/ 1] یہ بڑی دانائی کی کتان کی آیئیں ہیں ۔ نیز فرمایا : وَلَقَدْ جاءَهُمْ مِنَ الْأَنْباءِ ما فِيهِ مُزْدَجَرٌ حِكْمَةٌ بالِغَةٌ [ القمر/ 4- 5] اور ان کو ایسے حالات ( سابقین پہنچ چکے ہیں جن میں عبرت ہے اور کامل دانائی ) کی کتاب بھی ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قرآن پاک کے وصف میں حکیم بمعنی محکم ہوتا ہے جیسے فرمایا :، أُحْكِمَتْ آياتُهُ [هود/ 1] ا حکمت ایا تہ جس کی آیتہ ( جس کی آیتیں مستحکم ہیں ۔ اور یہ دونوں قول صحیح ہیں کیونکہ قرآن پاک کی آیات محکم بھی ہیں اور ان میں پراز حکمت احکام بھی ہیں لہذا ان ہر دو معافی کے لحاظ سے قرآن محکم سے ۔ حکم کا لفظ حکمۃ سے عام ہے ہر حکمت کو حکم کہہ سکتے ہیں ۔ لیکن ہر حکم حکمت نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ حکم کے معنی کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کے ہوتے ہیں کہ وہ یوں ہے یا یوں نہیں ہے ۔ آنحضرت نے فرمایا کہ بعض اشعار مبنی برحکمت ہوتے ہیں جیسا کہ کبید نے کہا ہے ( ویل ) کہ خدائے تعالیٰ کا تقوی ہی بہترین توشہ ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٧٠) خصوصا مکہ والو ! رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے لئے توحید اور قرآن پاک لے کر آئے ہیں، تمہاری پچھلی حالت جاہلیت کی گمراہی کے مقابلے میں سے آپ کی اور قرآن کی ہدایت کی تصدیق کرنا تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر تم حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کریم کا انکار کر بھی دو تو یاد رکھو ! یہ سب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے حکم کے غلام ہیں، وہ رب کریم ایماندار اور غیر ایماندار سے بخوبی واقف ہیں اور اس بات کا حکم دینے میں کہ اس کے علاوہ کسی اور کی عباد نہ کی جائے وہ از حد حکیم ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

اب اگلی آیات ایک طرح سے اس سورة کا حرف آخر ہیں۔ آیت ١٧٠ (یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآءَ کُمُ الرَّسُوْلُ بالْحَقِّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّکُمْ ط) بلکہ آخری الفاظ کا صحیح تر ترجمہ یہ ہوگا کہ ایمان لے آؤ ‘ اسی میں تمہاری خیریت ہے۔ اس آیت کے ایک ایک لفظ میں بہت زور اور جلال ہے اور اب بات بالکل دو ٹوک انداز اور حتمی طور پر کی جا رہی ہے۔ یعنی اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ کی طرف سے کوئی راہنمائی نہیں کی گئی ‘ ہمیں کچھ پتا نہیں تھا ‘ ہم پر بات واضح نہیں ہوئی تھی۔ ہمارے آخری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آجانے کے بعد تمہارا یہ بہانہ اب ختم ہوگیا۔ (وَاِنْ تَکْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِط وَکَان اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا ) آگے اہل کتاب سے جو خطاب ہے اس کے مخاطب خاص طور پر عیسائی ہیں ‘ جو حضرت مسیح (علیہ السلام) کی عقیدت و محبت میں حد سے گزر گئے تھے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

209. By disobeying one cannot hurt the Lord of the heavens and the earth. One can only hurt one's own self. 210. They are being told that their Lord was not at all unaware of the wickedness in which they indulged, nor did He lack the capacity to deal severely with those who only violated His commands.

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :209 یعنی زمین و آسمان کے مالک کی نافرمانی کر کے تم اس کا کوئی نقصان نہیں کر سکتے ، نقصان جو کچھ ہوگا تمہارا اپنا ہوگا ۔ سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :210 یعنی تمہارا خدا نہ تو بے خبر ہے کہ اس کی سلطنت میں رہتے ہوئے تم شرارتیں کرو اور اسے معلوم نہ ہو ، اور نہ وہ نادان ہے کہ اسے اپنے فرامین کی خلاف ورزی کرنے والوں سے نمٹنے کا طریقہ نہ آتا ہو ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:170) وان تکفروا فان اللہ ما فی السموت والارض۔ ان تکفروا کے بعد فھو غنی عنکم ولا یتضرر بکم۔ اگر تم انکار کرو گے یا کفر کروگے تو اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے وہ تمہارے کفرو ایمان سے بالاتر ہے اور تمہارے کفر سے اس کو کوئی ضرر نہیں پہنچے گا۔ بلکہ جو کچھ آسمان اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 6 متعدد جو و سے یہود کے شبہ کی تردید اور قرآن کی حقانت ثابت کرنے کے بعد اب سب لوگوں کو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت اور قرآن پر ایمان لانے کی دعوت دی جارہی ہے جن میں یہود بھی شامل ہیں کہ جب یہ رسول برحق اور قرآن بھی اللہ تعالیٰ کی چی کتاب ہے تو تم کو چاہیے کہ اس دعوت کو قبول کرلو، اس میں تمہارا بھلا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی بہتر ہے۔ ورنہ یادرکھو کہ زمین و آسمان میں جتنی مخلوق ہے سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے وہ تمہیں تمہارے بر اعمال پر سزا ینے کی بھی پوری قدرت رکھتا ہے (کبیر)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 170 لغات القرآن : خیر، بہتر۔ ان تکفروا، اگر تم کفر کرتے ہو۔ تشریح : اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تمام لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ تم فضول باتوں اور ہٹ دھرمی میں مت پڑو۔ سیدھی بات یہ ہے کہ اللہ کا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ تمہیں سنا رہا ہے اور سکھا رہا ہے وہ سب کا سب اللہ ہی کی طرف سے ہے اور خالص سچائی ہے۔ اگر تم ایمان لے آئے اور دین اسلام کے راستے پر چلے تو تمہارا ہی فائدہ ہے لیکن اگر تم نے کفر کا راستہ اختیار کرلیا تو تم اللہ کا کچھ بگاڑ نہ سکو گے۔ آسمانوں اور زمین کا مالک و منتظم وہی ہے اور یہ کارخانہ قدرت اسی کے علم و حکمت سے چل رہا ہے ۔ تم قادر مطلق کو کیا نقصان پہنچا سکتے ہو۔ تمہیں تو اپنی آخرت کی فکر ہونی چاہئے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

1۔ اوپر یہود کو خطاب تھا آگے نصاری کو ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : منکرین نبوت کو ایک مرتبہ پھر نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی ہے انکار کرنے والوں کو انتباہ کیا ہے کہ تمہارے کفر سے خدا کی خدائی میں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یہود کے بعد دعوت عام دی جا رہی ہے کہ اے لوگو ! یہودیوں کی طرح بہانہ تراشی اور حیلہ سازی کرنے کی بجائے سرور دو عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لاؤ۔ جو تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق کے ساتھ مبعوث کیے گئے ہیں۔ یہی تمہارے لیے بہتر راستہ ہے اگر تم ایمان لانے اور حق کا ساتھ دینے سے گریزاں ہو تو یاد رکھو۔ اللہ تعالیٰ کی بادشاہت میں کوئی فرق نہیں پڑتا زمین و آسمان کا ذرّہ ذرّہ اور چپہ چپہ اس کے تابع فرمان ہے۔ صرف باغی انسان ہی پوری کائنات کے طرزعمل کے خلاف طریقہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ یہ ڈھیل انسان کو اس لیے نہیں دی گئی کہ انسان کے اعمال و خیالات اللہ کے علم سے باہر ہیں اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے کے باوجود اپنی حکمت و مشیّت کے تحت انسان کو ایک وقت مقرر تک چھوڑے ہوئے ہے جب اس کی گرفت اور عتاب کا وقت آئے گا تو باغی اور ظالم کو چھڑانے اور بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ حق (اَلْحَقُّ ) اللہ کے ٩٩ صفاتی ناموں میں سے ایک نام ہے۔ (مشکوٰۃ : باب اسماء اللہ ) ” حق “ سے مراد قرآن اور اللہ کا پیغام ہے آپ کی نبوت کے بارے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے نہصرف دعا کی بلکہ مکہ شہر کی نشاندہی بھی فرمائی کہ اس شہر اور اس قوم میں آخری نبی ہونا چاہیے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اس سے آگے بڑھ کر آپ کا اسم گرامی لے کر بنی اسرائیل کو آپ کی نبوت کی بشارت سے نوازا۔ (عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِیَۃَ السُّلَمِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ إِنِّی عَبْدُ اللّٰہِ فِی أُمِّ الْکِتَابِ لَخَاتَمُ النَّبِیِّینَ وَإِنَّ آدَمَ لَمُنْجَدِلٌ فِی طینَتِہٖ وَسَأُنَبِّءُکُمْ بِتَأْوِیلِ ذَلِکَ دَعْوَۃِ أَبِی إِبْرَاہِیمَ وَبِشَارَۃِ عیسَی قَوْمَہُ وَرُؤْیَا أُمِّی الَّتِی رَأَتْ أَنَّہُ خَرَجَ مِنْہَا نُورٌ أَضَاءَ تْ لَہُ قُصُور الشَّامِ وَکَذٰلِکَ تَرٰی أُمَّہَات النَّبِیِّینَ صَلَوَات اللّٰہِ عَلَیْہِمْ ) [ رواہ احمد ] ” حضرت عرباض بن ساریہ سلمی بیان کرتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ بلاشبہ میں اللہ کا بندہ ہوں قرآن مجید میں مجھے خاتم النبیین قرار دیا گیا ہے جب حضرت آدم (علیہ السلام) ابھی مٹی اور روح کے درمیان تھے میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بشارت اور اپنی والدہ ماجدہ کا خواب ہوں انھوں نے دیکھا کہ ان کے وجود سے ایک روشنی نکلی جس سے ملک شام کے محلات روشن ہوگئے۔ اور اسی طرح ہی انبیاء کرام (علیہ السلام) کی مائیں دیکھا کرتی تھیں۔ “ (یَا عِبَادِی لَوْ أَنَّ أَوَّلَکُمْ وَآخِرَکُمْ وَإِنْسَکُمْ وَجِنَّکُمْ کَانُوا عَلَی أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مَا نَقَصَ ذَلِکَ مِنْ مُلْکِی شَیْءًا)[ رواہ مسلم : باب تَحْرِیم الظُّلْمِ ] ” اے میرے بندو اگر تمہارے پہلے، پچھلے جن و انس سارے کے سارے فاجر انسان کی طرح ہوجائیں میری بادشاہت میں کسی چیز کی کمی واقع نہیں ہوسکتی۔ “ مسائل ١۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق لے کر مبعوث ہوئے ہیں۔ ٢۔ کفر و شرک کرنے والے اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ علم و حکمت والا ہے۔ تفسیر بالقرآن رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مرتبہ و مقام : ١۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پوری دنیا کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا۔ (الاعراف : ١٥٨) ٢۔ آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا گیا۔ (الانبیاء : ١٠٧) ٣۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاتم النبیین ہیں۔ (الاحزاب : ٤٠) ٤۔ آپ کو پوری دنیا کے لیے داعی، بشیر اور نذیر بنا کر مبعوث کیا گیا ہے۔ (الاحزاب : ٤٥۔ ٤٦) ٥۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تمام انسانوں کے لیے رؤف، رحیم بنایا گیا ہے۔ (التوبۃ : ١٢٨) ٦۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت مومنوں پر اللہ تعالیٰ کا احسان عظیم ہے۔ (آل عمران : ١٦٤)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ١٧٠۔ اس دعوت عامہ سے پہلے ‘ اہل کتاب کی تمام افترا بازیوں کا رد کیا گیا تھا اور یہودیوں کی فطرت اور ان کے منکرات اور ان کی تاریخی بداعمالیوں کا تذکرہ کیا گیا تھا اور یہ بتایا تھا کہ یہ لوگ ہمیشہ ہٹ دھرم رہے ہیں ۔ انہوں نے یہی سلوک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بھی کیا حالانکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے قائد عظیم نبی اور ان کے نجات دہندہ تھے ۔ نیز اس دعوت عامہ سے قبل اللہ تعالیٰ نے رسالت کی حقیقت بھی بیان کردی تھی اور یہ بھی بتادیا تھا کہ رسالت کے مقاصد کیا ہوتے ہیں ۔ ان مقاصد کیلئے رسولوں کا بھیجنا ضروری تھا اور یہ بھی ضروری تھا کہ سب سے آخر میں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھیجا جائے اس لئے کہ یہ آخری نبی تمام جہانوں کیلئے ہے ۔ آپ کی دعوت “ کافۃ للناس ‘ ہے جبکہ آپ سے قبل جتنے رسول آئے تھے وہ اپنی اپنی قوم کی طرف بھیجے گئے تھے ۔ لیکن جب سلسلہ رسالت کا خاتمہ طے ہوا تو ضروری تھا کہ خاتم النبین تمام دنیاکیلئے پیغام لانے والے ہوں ۔ (آیت) ” لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل (٤ : ١٦٥) ” تاکہ رسولوں کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے۔ “ اگر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت عام نہ ہوتی اور اس کا اطلاق پوری دنیا کے لوگوں پر نہ ہوتا تو آپ کے بعد جو لوگ اور جو اقوام آتیں ‘ قیامت تک کیلئے ان پر حجت تمام نہ ہوتی بلکہ ان کے ہاتھ اللہ کے خلاف یہ حجت آجاتی کہ ان تک تو کوئی رسول سرے سے بھیجا ہی نہیں گیا ۔ اس لئے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کو تمام لوگوں اور تمام زمانوں کیلئے عام کر کے اور آخری رسالت قرار دے کر اس حجت کو تمام کردیا گیا ۔ چناچہ یہ بات کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا یا یہ کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا اللہ تعالیٰ کی صفت عدل و انصاف کے خلاف ہوگا ۔ کیونکہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ رسول بھیجنے کے بغیر ہی لوگوں کو جزا وسزا دین ۔ یہ بات ناقابل انکار ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قبل کسی نبی اور رسول کی رسالت رسالت عامہ نہ تھی اس لئے رسالت عامہ کی ضرورت تھی ۔ یہ رسالت عامہ اللہ کی صفت عدل اور لوگوں کے ساتھ اس کی رحمت کا تقاضا تھی اور اللہ کی یہ بات سچ تھی کہ ہم نے آپکو رحمت اللعالمین بنا کر بھیجا ہے ۔ آپ اس دنیا میں بھی رحمت تھے اور آخرت میں بھی رحمت ہوں گے ۔ جیسا کہ اس آیت کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے ۔ درس نمبر ٤٤ ایک نظر میں : اس سبق میں اہل کتاب میں سے نصاری کے ساتھ ایک راؤنڈ ہے جیسا کہ اس سے پہلے سبق میں یہودیوں کو لیا گیا تھا بہرحالت روئے سخن دونوں فرقوں کی طرف ہے جو مسیح اور مریم کے بارے میں افراط وتفریط میں مبتلا تھے ۔ اس سے پہلے سبق میں قرآن کریم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کی جانب سے یہودیوں کی خرافات کا جواب دیا تھا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو صلیب پر چڑھانے کے بارے میں صحیح صورت حال بیان کی تھی ۔ یہودیوں ‘ انکے اقوال و عقائد اور ان کی ہٹ دھرمی کے مقابلے میں سچائی کی مدافعت کی گئی تھی۔ اس سبق میں بھی موضوع سخن سچائی ہے اور روئے سخن خود نصاری کی طرف ہے کہ وہ خود بھی حضرت مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں غلو سے کام لیتے ہیں اور یہ کہ بعض اقوام کے اندر نصرانیت کے سادہ عقائد کے ساتھ ساتھ بت پرستی بھی انکے نظریات کا جزوبن گئی تھی ۔ جس وقت ان اقوام نے عیسائیت کو قبول کیا اور مضبوط تعلقات قائم ہوگئے تو خصوصا یونانی دیومالائی تصورات اور رومی قصے اور کہانیاں اور قدیم مصریوں کی توہم پرستی اور ہندوؤں کی بت پرستی وغیرہ انکے عقائد میں داخل ہوگئے ۔ قرآن کریم جس وقت نازل ہوا ‘ اس وقت اہل کتاب کے عقائد میں بےحد تحریفات ہوگئی تھیں ۔ انکے عقائد کے اندر جو دیومالائی قصے داخل ہوگئے تھے قرآن کریم نے ان کا بطلان کیا اور انکے تمام منحرف عقائد کی نشاند ہی کی ۔ اسی طرح دین ابراہیم (علیہ السلام) پر جو لوگ قائم تھے اور جو اپنے آپ کو دین حنیف پر سمجھتے تھے ‘ ان کے عقائد کے اندر بھی گہرا انحراف پیدا ہوگیا اور ان کے تصورات میں بھی قصے ‘ کہانیاں اور جاہلیت کے باطل طور طریقے داخل ہوگئے تھے ۔ یہ لوگ بھی جزیرۃ العرب میں موجود تھے ۔ اسلام اس لئے آیا کہ تمام انسانوں کیلئے ‘ انکے الہ کے بارے میں ان کے عقائد درست کر دے اور انسانوں کو ہر قسم کے انحراف اور خلل سے نجات دلائے ۔ عقائد کے اندر ہر قسم کے غلو اور افراط وتفریط کو ختم کر دے اور فکر انسانی کو سیدھی راہ پر ڈال دے ۔ اس طرح اسلام نے ارسطو کے تصور توحید میں اصلاح کی جو اس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت سے پہلے یونان میں پیش کیا تھا ۔ اسی طرح اسکندریہ میں افلاطون نے ولادت مسیح کے بعد جو افکار پیش کئے ان میں بھی اصلاح کی ۔ نیز ان دونوں کے بعد الہیات کے میدان میں جو افکار بھی نام نہاد بڑے دماغوں نے پیش کئے وہ سب کے سب گمراہی اور مخبوط الحواسی کی واضح مثال تھے ۔ یہ انسانی عقل کا نتیجہ تھا اور یہ تمام افکار اس بات کے محتاج تھے کہ اللہ کی جانب سے ارسال کردہ پیغام ان کی راہنمائی کرے اور ان گم کردہ راہ لوگوں کو سراب سے نکالے ۔ یہاں جو مسئلہ پیش کیا جاتا ہے وہ تثلیت کا مسئلہ ہے ‘ جس میں عیسائیوں نے یہ کہانی گھڑی تھی کہ حضرت مسیح خدا کے بیٹے ہیں ‘ اس غلط عقیدے کی تردید کرکے درست اور سیدھے طریقے سے عقیدے توحید کو سمجھایا گیا ۔ جس وقت اسلام آیا اس وقت عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے درمیان جو عقیدہ رائج تھا وہ یہ تھا کہ اللہ اقانیم ثلاثہ کے کے اندر ایک ہے ۔ باپ ‘ بیٹا اور روح القدس ۔ ان تینوں میں سے مسیح بیٹا تھا ۔ اس کے بعد مسیح کے بارے میں انکے مذاہب ومکاتب فکر مختلف تھے ۔ آیا وہ لاہوتی طبیعت رکھتے تھے یا ناسوتی طبیعت کے مالک تھے یا دونوں کا امتزاج تھے ۔ پھر ان کی اپنی حیثیت اختلاف طبعی کے باوجود ایک تھی یا مختلف حیثیات تھیں یا یہ کہ باپ کی طرح قدیم تھے یا نہیں وغیرہ وغیرہ ۔ ان اختلافی مذاہب فکر کے درمیان پھر تصادم بھی ہوتے رہے اور ایک دوسرے پر سخت مظالم بھی کئے گئے ۔ (اس کی تفصیلات اس سورة میں تشریح آیات کے وقت دی جائیں گی) تاریخی تحقیقات اس بات کی مظہر ہیں کہ عقیدہ تثلیث ‘ عقیدہ انبیت مسیح عقیدہ الوہیت مریم ‘ اور تثلیث کی متعدد شکلوں میں مریم کی شمولیت وغیرہ پہ تمام عقائد ابتدائی مسیحیت کا حصہ نہ تھے ۔ یہ عقائد تاریخ کے مختلف ادوار میں مسیحیت میں داخل ہوتے رہے ہیں اور مختلف بت پرست اقوام فوج در فوج مسیحیت میں داخل ہوتی رہیں اور بت پرستی ساتھ لاتی رہیں اس لئے کہ قبول عیسائیت کے ساتھ ان کی نظریاتی تطہیر نہ ہوسکی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ تثلیث مصر کے بعض قدیم مذاہب سے لی گئی ہے مثلا ان میں ” اور زوریس ‘ ایزلیس اور حوریس “ اور ان مذاہب میں دوسری متعدد تثلیثات اس عقیدے کا ماخذ ہیں ۔ نصاری میں بھی عقیدہ توحید کے حامل فرقے ہمیشہ رہے ہیں اور پوری تاریخ مسیحیت میں ان موحدین پر سخت مظالم ہوتے رہے ہیں ۔ خصوصا رومی کلیسیا کی طرف سے اور ان لوگوں نے جیسا کہ ہمیشہ اہل توحید کا شیوہ رہا ہے ‘ ان مظالم کا بےجگری کے ساتھ مقابلہ کیا۔ یہ مقابلہ کیا ۔ یہ مظالم چھٹی صدی عیسوی تک مختلف سوسائیٹوں کی طرف سے ہوتے رہے جو حکومت کی حامی تھیں ۔ ان موحدین پر جو مظالم ڈھائے گئے ان قتل عام ‘ جلاوطنی اور تمام دوسرے مظالم شامل تھے ۔ آج تک نصاری کے عقلمند لوگوں کے ذہنوں میں عقیدہ تثلیث کے بارے میں ایک شدید خلجان موجود ہے ۔ اور اہل کنیسہ اسے مختلف طریقوں سے لوگوں کے ذہنوں میں بٹھاتے ہیں اور ان کا آخری حربہ یہ ہے کہ یہ لوگ اسے یکے از مجہولات قرار دیتے ہیں اور ان کا کہنا یہ ہے کہ ان کا صحیح انکشاف اس وقت ہوگا جب زمین و آسمان کے تمام راز کھول دیئے جائیں گے ۔ رسالہ ” اصول وقوع “ کے مدیر مسٹر پیٹر جو عقیدہ تثلیث کے شارحین میں سے ممتاز شخص ہیں ‘ وہ کہتے ہیں کہ ” ہم نے اپنی عقل کی حدود کی حد تک اس کو یوں ہی سمجھا ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں ہم اس عقیدے کو اچھی طرح سمجھ سکیں جب اللہ تعالیٰ گے جب اللہ تعالیٰ زمین و آسمان کے رازوں سے پردہ اٹھائیں گے ۔ “ (دیکھئے نصرانیت پہ معاملات ابوزہرہ)

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

نصاریٰ کی گمراہی کا بیان اور ان کے عقیدہ تثلیث کی تردید اول تو تمام عالم کے انسانوں کو خطاب فرمایا کہ تمہارے پاس اللہ کا رسول حق لے کر پہنچا ہے ان کا تشریف لانا اللہ کی طرف سے ہے ان پر ایمان لاؤ۔ ایمان لاؤ گے تو تمہارے لیے بہتر ہوگا (کیونکہ حق قبول کرنا مستقل خیر ہے اور پھر اس کے سبب سے دائمی عذاب سے بچنا اور ہمیشہ کے لیے جنت اور جنت کی نعمتوں کامل جانا یہ سب خیر ہی خیر ہے) اللہ تعالیٰ بےنیاز ہے اسے تمہارے مومن ہونے کی کوئی حاجت نہیں ہے تم کفر اختیار نہ کرو کیونکہ جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اسی کا ہے تم بھی اسی کے ہو وہ خالق بھی ہے اور مالک بھی ہے اسے اختیار ہے اپنی مخلوق میں جو چاہے تصرف کرے۔ کفر کی پاداش میں اسے عذاب دینے کی بھی پوری طرح قدرت حاصل ہے۔ قال صاحب الروح وان تکفروا فھو سبحانہ و تعالیٰ قادر علی تعذیبکم بکفرکم لان لہ جل شانہ ما فی السموات والارض او فھو غنی عنکم لا یتضرر بکفرکم کمالا ینتفع بایمانکم ا ھ وَ کَان اللّٰہُ عَلِیْماً حَکِیْماً اور اللہ تعالیٰ علیم ہے اسے سب کے احوال معلوم ہیں اس پر کسی کا کفر اور ایمان پوشیدہ نہیں وہ حکیم بھی ہے اپنی حکمت کے موافق جزا سزا عطا فرمائے گا۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 4 اے انسانو ! بلاشبہ یہ رسول ! یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے حق بات لے کر آئے ہیں لہٰذا تم ان پر ایمان لے آئو اور جو ایمان لا چکے ہیں وہ اس پر قائم رہیں یہ ایمان لے آنا تمہارے لئے بہتر ہوگا اور اگر تم منکر رہے اور انکار کرتے رہے تو تمہارا ہی نقصان ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ تو ان سب چیزوں کا مالک ہے جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور آسمان و زمین کی سب چیزیں اسی کی ملک ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والا ہے ہر ایک کے کفر وا یمان کو جانتا ہے اور بڑی حکمت والا ہے اور بمقتضائے حکمت دنیا میں سزا نہیں دیتا۔ (تیسیر) اس آیت میں بھی اس شہادت کی تاکید اور تفصیل ہے جو اوپر گذر چکی ہے اگر الناس عام ہو جیسا کہ ہم نے اختیار کیا ہے تو آمنوا کا مطلب یہ ہوگا کہ کافر ایمان لائیں اور مومن ایمان پر قائم رہیں اور اگر کفار مراد ہوں جیسا کہ اکثر نے اختیار کیا ہے تو اس معنی کی ضرورت نہیں بلکہ مطلب یہ ہوگا کہ اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے یہ رسول حق لے کر آچکا ہے حق سے مراد یا اسلام ہے یا قرآن کریم۔ حق کا مطلب یہ ہے کہ ہر دعویٰ سچا اور ہر دلیل صادق لہٰذا اب رسول پر اور جو کچھ یہ لے کر آئے ہیں اس سب پر ایمان لے آئو ایسا کرنا تمہارے حق میں بہتر ہوگا اور تمہاری نجات ہوگی اور آخرت کے عذاب سے محفوظ ہو جائو گے اور اگر تم انکار کرو گے تو تم ہی کو نقصان پہنچے گا اللہ تعالیٰ کو تو کوئی نقصان نہیں ہوگا کیونکہ آسمانوں میں اور زمین میں جو چیزیں موجود ہیں سب اس کی ملک ہیں اور تمہارے کفر سے اللہ تعالیٰ کی ملک پر کوئی اثر نہیں پڑتا لہٰذا وہ ہر قسم کے نقصان سے پاک ہے مالک کی نافرمانی کا اثر بندوں ہی پر پڑے گا اور اللہ تعالیٰ کمال علم اور کمال حکمت کا مالک ہے۔ سب کی حالت کو جانتا ہے اور سب کے ساتھ حکیمانہ برتائو کرتا ہے۔ اب آگے نصاریٰ کو خطاب ہے اور نصاریٰ کو حکم دیا جاتا ہے کہ تم اپنے دین میں افراط وتفریط سے باز آئو اور شریعت اسلامیہ کی روشنی میں اپنی اصلاح کرو۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)