From the affirmation of Allah&s absolute purity and the refutation of assumed Godhood of Sayyidna &Isa (علیہ السلام) earlier, the text now moves to further strengthen the argument by showing that Sayyidna &Isa (علیہ السلام) would himself confess to being a servant of Allah and so will the angels (which includes Sayyidna Jibra&il (علیہ السلام) alleged to be a person of Trinity). Then, follows the warning for those who choose to retract in distaste and the good news for those who believe and are good in deeds for they will be rewarded for their belief and deeds with many more added graces from Allah. Commentary The Honour of being a servant of Allah Maulana Shabbir Ahmad ` Usmani, in his comments on the opening statement of Verse 172: لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ (The Masih shall never spurn being a slave of Allah, nor shall the angels, the close ones), says that so it is because being a servant of Allah, being devoted to His worship and being obedient to His will and command, is an honour by itself and certainly a nobility of the highest class. Sayyidna Masih (علیہ السلام) and the close angels are the best testifiers to the worth and value of this blessing. How could they spurn an honour like that? Quite contrary to this, the worst disgrace and dishonour there can be imagined lies in worshipping someone other than Allah. This is what the Christians did when they took Sayyidna Masih (علیہ السلام) as the son of Allah and the object of their worship. Similar was the case with disbelievers who took angels as daughters of Allah and started worshipping them alongwith their idols. So, for them, there is punish¬ment, and disgrace. (Notes in Tafsir Usmani)
خلاصہ تفسیر (نصاری خواہ مخواہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اللہ یا جزو اللہ بنا رہے ہیں، خود حضرت) مسیح (کی یہ کیفیت ہے کہ سکونت ارض کی حالت میں تو ان کا اقرار عبدیت جو کہ مبطل الوہیت ہے مشہور اور سب کو معلوم ہی ہے لیکن اب بھی سکونت سماء کی حالت میں کہ سکونت ارض سے ارفع اور مظنہ تعلی کا ہے، یا قیامت تک وہ جس حالت میں ہوں ان سے کوئی پوچھ کر دیکھئے اس حالت میں بھی) ہرگز خدا کا بندہ بننے سے عار (اور انکار) نہیں کریں گے اور نہ مقرب فرشتے (کبھی عار کریں گے، جن میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) بھی ہیں، جن کو آلہ کار ایک جزو مانتے ہیں خود ان سے کوئی پوچھ کر دیکھے) اور (وہ عار کریں کیسے اس عار کرنے کا ایسا برا انجام ہے کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کی بندگی سے عار کرے گا اور تکبر کرے گا تو (اس کا انجام سن لو) اللہ تعالیٰ ضرور سب لوگوں کو اپنے پاس (یعنی حساب کے موقع پر) جمع کریں گے پھر جو لوگ (دنیا میں) ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے اچھے کام کئے ہوں گے (یعنی عبد بنے رہے ہوں گے، کیونکہ حاصل عبدیت کا یہی ایمان اور اعمال ہیں) تو ان کو تو ان کا پورا ثواب (بھی) دیں گے (جو کہ ایمان اور اعمال پر منصوص ہے) اور (اس کے علاوہ) ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ (بھی) دیں گے، (جس کی تفصیل منصوص نہیں) اور جن لوگوں نے (عبد بننے سے) عار کیا ہوگا اور تکبر کیا ہوگا تو ان کو سخت درد ناک سزا دیں گے اور وہ لوگ کسی غیر اللہ کو اپنا یار اور مددگار نہ پاویں گے۔ معارف ومسائل اللہ کا بندہ ہونا اعلی درجہ کی شرافت اور عزت ہے :۔ لن یستنکف المسیح ان یکون عبداللہ الخ یعنی مسیح کو اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی عار نہیں اور نہ ہی اللہ کے مقرب فرشتوں کو عار ہے اس لئے کہ اللہ کا بندہ ہونا اور اس کی عبادت کرنا اور اس کے حکموں کو بجا لانا تو اعلیٰ درجہ کی شرافت اور عزت ہے، حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ملائکہ مقربین سے اس نعمت کی قدر و قیمت پوچھئے انکو اس سے کیسے ننگ اور عار آسکتا ہے، البتہ ذلت اور غیرت تو اللہ کے سوا کسی دوسرے کی بندگی میں ہے، جیسے نصاری نے حضرت مسیح کو ابن اللہ اور معبود مان لیا اور مشرکین فرشتوں کو بیٹیاں مان کر ان کی اور بتوں کی عبادت کرنے لگے، سو ان کے لئے ہمیشہ کو عذاب اور ذلت ہے (فوائد عثمانی)