Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 172

سورة النساء

لَنۡ یَّسۡتَنۡکِفَ الۡمَسِیۡحُ اَنۡ یَّکُوۡنَ عَبۡدًا لِّلّٰہِ وَ لَا الۡمَلٰٓئِکَۃُ الۡمُقَرَّبُوۡنَ ؕ وَ مَنۡ یَّسۡتَنۡکِفۡ عَنۡ عِبَادَتِہٖ وَ یَسۡتَکۡبِرۡ فَسَیَحۡشُرُہُمۡ اِلَیۡہِ جَمِیۡعًا ﴿۱۷۲﴾

Never would the Messiah disdain to be a servant of Allah , nor would the angels near [to Him]. And whoever disdains His worship and is arrogant - He will gather them to Himself all together.

مسیح ( علیہ السلام ) کو اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی ننگ و عار یا تکبر و انکار ہرگز ہو ہی نہیں سکتا اور نہ مقرب فرشتوں کو اس کی بندگی سے جو بھی دل چرائے اور تکبر و انکار کرے اللہ تعالٰی ان سب کو اکٹھا اپنی طرف جمع کرے گا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Prophets and Angels Are Never too Proud to Worship Allah Allah says; لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْداً لِّلّهِ وَلاَ الْمَليِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ ... Al-Masih will never be too proud to be a servant of Allah, nor the angels who are the near (to Allah). Ibn Abi Hatim recorded that Ibn Abbas said that, `proud', means insolent. Qatadah said that, الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْداً لِّلّهِ وَلاَ الْمَليِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ (Al-Masih will never be too proud to be a servant of Allah nor the angels who are near (to Allah). (they) will never be arrogant. Allah then said, ... وَمَن يَسْتَنكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيهِ جَمِيعًا And whosoever rejects His worship and is proud, then He will gather them all together unto Himself. on the Day of Resurrection. Then, Allah will judge between them with His just judgment that is never unjust or wrong.

اس کی گرفت سے فرار ناممکن ہے! مطلب یہ ہے کہ مسیح علیہ السلام اور اعلیٰ ترین فرشتے بھی اللہ کی بندگی سے انکار اور فرار نہیں کر سکتے ، نہ یہ ان کی شان کے لائق ہے بلکہ جو جتنا مرتبے میں قریب ہوتا ہے ، وہ اسی قدر اللہ کی عبادت میں زیادہ پابند ہوتا ہے ۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ فرشتے انسانوں سے افضل ہیں ۔ لیکن دراصل اس کا کوئی ثبوت اس آیت میں نہیں ، اس لئے یہاں ملائکہ کا عطف مسیح پر ہے اور استنکاف کا معنی رکنے کے ہیں اور فرشتوں میں یہ قدرت بہ نسبت مسیح کے زیادہ ہے ۔ اس لئے یہ فرمایا گیا ہے اور رک جانے پر زیادہ قادر ہونے سے افضیلت ثابت نہیں ہوتی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کو لوگ پوجتے تھے ، اسی طرح فرشتوں کی بھی عبادت کرتے تھے ۔ تو اس آیت میں مسیح علیہ السلام کو اللہ کی عبادت سے رکنے والا بتا کر فرشتوں کی بھی یہی حالت بیان کر دی ، جس سے ثابت ہو گیا کہ جنہیں تم پوجتے ہو وہ خود اللہ کو پوجتے ہیں ، پھر ان کی پوجا کیسی؟ جیسے اور آیت میں ہے آیت ( وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَـدًا سُبْحٰنَهٗ ۭ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُوْنَ ) 21 ۔ الانبیآء:26 ) اور اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ جو اس کی عبادت سے رکے ، منہ موڑے اور بغاوت کرے ، وہ ایک وقت اسی کے پاس لوٹنے والا ہے اور اپنے بارے میں اس کا فیصلہ سننے والا ہے اور جو ایمان لائیں ، نیک اعمال کریں ، انہیں ان کا پورا ثواب بھی دیا جائے گا ، پھر رحمت ایزدی اپنی طرف سے بھی انعام عطا فرمائے گی ۔ ابن مردویہ کی حدیث میں ہے کہ اجر تو یہ ہے کہ جنت میں پہنچا دیا اور زیادہ فضل یہ ہے کہ جو لوگ قابل دوزخ ہوں ، انہیں بھی ان کی شفاعت نصیب ہو گی ، جن سے انہوں نے بھلائی اور اچھائی کی تھی ، لیکن اس کی سند ثابت شدہ نہیں ، ہاں اگر ابن مسعود کے قول پر ہی اسے روایت کیا جائے تو ٹھیک ہے ۔ پھر فرمایا جو لوگ اللہ کی عبادت و اطاعت سے رک جائیں اور اس سے تکبر کریں ، انہیں پروردگار درد ناک عذاب کرے گا اور یہ اللہ کے سوا کسی کو دلی و مددگار نہ پائیں گے ۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت ( اِنَّ الَّذِيْنَ يَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِيْ سَيَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِيْنَ ) 40 ۔ غافر:60 ) جو لوگ میری عبادت سے تکبر کریں ، وہ ذلیل و حقیر ہو کر جہنم میں جائیں گے ، یعنی ان کے انکار اور ان کے تکبر کا یہ بدلہ انہیں ملے گا کہ ذلیل و حقیر خوار و بےبس ہو کر جہنم میں داخل کئے جائیں گے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

172۔ 1 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح بعض لوگوں نے فرشتوں کو بھی خدائی میں شریک ٹھہرا رکھا تھا، اللہ تعالیٰ فرما رہا ہے کہ یہ تو سب کے سب اللہ کے بندے ہیں اور اس سے انہیں قطعاً کوئی انکار نہیں ہے۔ تم انہیں اللہ یا اس کی خدائی میں شریک کس بنیاد پر بناتے ہو۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٢٩] الوہیت مسیح کی تردید :۔ اس آیت میں الوہیت مسیح کی تردید میں ایک اور دلیل پیش کی گئی ہے۔ جو یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا بندہ اور غلام بن کر رہنے میں کچھ عار محسوس کرنا تو درکنار، اسے قابل فخر سمجھتے تھے اور یہی حال مقرب فرشتوں کا بھی ہے۔ لہذا نہ عیسیٰ اللہ کی الوہیت میں شریک بن سکتے ہیں اور نہ مقرب فرشتے۔ کیونکہ جو کسی کا بندہ اور غلام ہو وہ اس کا شریک نہیں ہوسکتا۔ اور جو اس کا شریک ہو وہ اس کا بندہ اور غلام نہیں ہوسکتا۔ عیسائیوں پر سیدنا عیسیٰ کے عبادت کرنے سے حجت اس لیے قائم کی گئی کہ وہ خود اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ سیدنا عیسیٰ زیتون کی پہاڑی پر اللہ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ ان سے پوچھا یہ جا رہا ہے کہ اگر وہ اللہ یا اللہ کا حصہ یا اللہ کا بیٹا تھے تو وہ اس کی عبادت کیوں کرتے تھے ؟ پھر فرشتے ایسی مخلوق ہیں جن کا نہ باپ ہے اور نہ ماں۔ لیکن اللہ ہونے کے وہ بھی مدعی نہیں بلکہ وہ بھی برضا ورغبت اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں۔ پھر جب فرشتے جو عیسیٰ سے لطیف تر مخلوق ہیں، اللہ کی عبادت میں عار محسوس نہیں کرتے تو پھر عیسیٰ کیسے کرسکتے ہیں ؟۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ ۔۔ : اس آیت میں نصاریٰ اور مشرکین دونوں کے غلط عقیدے کی تردید ہے، کیونکہ نصرانی مسیح (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا اور مشرکین فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ یہ دونوں اللہ کی بندگی کا اقرار کرتے ہیں اور اس کا بندہ ہونے پر کچھ بھی عار اور شرم محسوس نہیں کرتے۔ یہی حال ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تھا کہ جب کوئی شخص آپ کو اللہ کا بندہ کہتا تو آپ کو بےانتہا خوشی ہوتی۔ کیونکہ اس مالک الملک اور شہنشاہ مطلق کا بندہ ہونا انتہائی عزت و شرف کا مقام ہے، نہ کہ کسی ذلت و رسوائی کا۔ ابن قیم (رض) نے اپنی کتاب ” انوار القلوب “ میں لکھا ہے کہ آدمی کے لیے بندگی کے مقام سے زیادہ عزت کا کوئی مقام نہیں، اکرم الخلق محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین مقامات پر، جو نہایت عزت کے مقامات ہیں، لفظ ” عبد “ یعنی بندہ کہہ کر ذکر کیا گیا ہے، وہ تین مقام یہ ہیں : 1 نزول وحی۔ دیکھیے کہف : ١۔ فرقان : ١۔ نجم : ١٠۔ حدید : ٩۔ 2 اسراء و معراج۔ دیکھیے بنی اسرائیل : ١) 3 دعا۔ (دیکھیے جن : ١٩) ۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

From the affirmation of Allah&s absolute purity and the refutation of assumed Godhood of Sayyidna &Isa (علیہ السلام) earlier, the text now moves to further strengthen the argument by showing that Sayyidna &Isa (علیہ السلام) would himself confess to being a servant of Allah and so will the angels (which includes Sayyidna Jibra&il (علیہ السلام) alleged to be a person of Trinity). Then, follows the warning for those who choose to retract in distaste and the good news for those who believe and are good in deeds for they will be rewarded for their belief and deeds with many more added graces from Allah. Commentary The Honour of being a servant of Allah Maulana Shabbir Ahmad ` Usmani, in his comments on the opening statement of Verse 172: لَّن يَسْتَنكِفَ الْمَسِيحُ أَن يَكُونَ عَبْدًا لِّلَّـهِ (The Masih shall never spurn being a slave of Allah, nor shall the angels, the close ones), says that so it is because being a servant of Allah, being devoted to His worship and being obedient to His will and command, is an honour by itself and certainly a nobility of the highest class. Sayyidna Masih (علیہ السلام) and the close angels are the best testifiers to the worth and value of this blessing. How could they spurn an honour like that? Quite contrary to this, the worst disgrace and dishonour there can be imagined lies in worshipping someone other than Allah. This is what the Christians did when they took Sayyidna Masih (علیہ السلام) as the son of Allah and the object of their worship. Similar was the case with disbelievers who took angels as daughters of Allah and started worshipping them alongwith their idols. So, for them, there is punish¬ment, and disgrace. (Notes in Tafsir Usmani)

خلاصہ تفسیر (نصاری خواہ مخواہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کو اللہ یا جزو اللہ بنا رہے ہیں، خود حضرت) مسیح (کی یہ کیفیت ہے کہ سکونت ارض کی حالت میں تو ان کا اقرار عبدیت جو کہ مبطل الوہیت ہے مشہور اور سب کو معلوم ہی ہے لیکن اب بھی سکونت سماء کی حالت میں کہ سکونت ارض سے ارفع اور مظنہ تعلی کا ہے، یا قیامت تک وہ جس حالت میں ہوں ان سے کوئی پوچھ کر دیکھئے اس حالت میں بھی) ہرگز خدا کا بندہ بننے سے عار (اور انکار) نہیں کریں گے اور نہ مقرب فرشتے (کبھی عار کریں گے، جن میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) بھی ہیں، جن کو آلہ کار ایک جزو مانتے ہیں خود ان سے کوئی پوچھ کر دیکھے) اور (وہ عار کریں کیسے اس عار کرنے کا ایسا برا انجام ہے کہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کی بندگی سے عار کرے گا اور تکبر کرے گا تو (اس کا انجام سن لو) اللہ تعالیٰ ضرور سب لوگوں کو اپنے پاس (یعنی حساب کے موقع پر) جمع کریں گے پھر جو لوگ (دنیا میں) ایمان لائے ہوں گے اور انہوں نے اچھے کام کئے ہوں گے (یعنی عبد بنے رہے ہوں گے، کیونکہ حاصل عبدیت کا یہی ایمان اور اعمال ہیں) تو ان کو تو ان کا پورا ثواب (بھی) دیں گے (جو کہ ایمان اور اعمال پر منصوص ہے) اور (اس کے علاوہ) ان کو اپنے فضل سے اور زیادہ (بھی) دیں گے، (جس کی تفصیل منصوص نہیں) اور جن لوگوں نے (عبد بننے سے) عار کیا ہوگا اور تکبر کیا ہوگا تو ان کو سخت درد ناک سزا دیں گے اور وہ لوگ کسی غیر اللہ کو اپنا یار اور مددگار نہ پاویں گے۔ معارف ومسائل اللہ کا بندہ ہونا اعلی درجہ کی شرافت اور عزت ہے :۔ لن یستنکف المسیح ان یکون عبداللہ الخ یعنی مسیح کو اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی عار نہیں اور نہ ہی اللہ کے مقرب فرشتوں کو عار ہے اس لئے کہ اللہ کا بندہ ہونا اور اس کی عبادت کرنا اور اس کے حکموں کو بجا لانا تو اعلیٰ درجہ کی شرافت اور عزت ہے، حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ملائکہ مقربین سے اس نعمت کی قدر و قیمت پوچھئے انکو اس سے کیسے ننگ اور عار آسکتا ہے، البتہ ذلت اور غیرت تو اللہ کے سوا کسی دوسرے کی بندگی میں ہے، جیسے نصاری نے حضرت مسیح کو ابن اللہ اور معبود مان لیا اور مشرکین فرشتوں کو بیٹیاں مان کر ان کی اور بتوں کی عبادت کرنے لگے، سو ان کے لئے ہمیشہ کو عذاب اور ذلت ہے (فوائد عثمانی)

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ اَنْ يَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلہِ وَلَا الْمَلٰۗىِٕكَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَ۝ ٠ۭ وَمَنْ يَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُہُمْ اِلَيْہِ جَمِيْعًا۝ ١٧٢ نكف يقال : نَكَفْتُ من کذا، واسْتَنْكَفْتُ منه : أَنِفْتُ. قال تعالی: نْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْداً لِلَّهِ [ النساء/ 172] ، وَأَمَّا الَّذِينَ اسْتَنْكَفُوا[ النساء/ 173] وأصله من : نَكَفْتُ الشيْءَ : نَحَّيْتُهُ ، ومن النَّكْفِ ، وهو تَنْحِيَةُ الدَّمْعِ عن الخَدِّ بِالإِصْبَعِ ، وبَحْرٌ لا يُنْكَفُ. أي : لا يُنْزَحُ ، والانْتِكَافُ : الخُرُوجُ مِنْ أَرْضٍ إِلَى أَرْضٍ. ( ن ک ف ) نکفت من کذا واستنکفت منہ کے معنی کسی چیز کو اپنے لئے باعث عار سمجھنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : نْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْداً لِلَّهِ [ النساء/ 172] مسیح اس بات سے عار نہیں رکھتے کہ خدا کے بندے ہوں ۔ وَأَمَّا الَّذِينَ اسْتَنْكَفُوا[ النساء/ 173] اور جنہوں نے ( بندہ ہونے سے ) عار و انکار اور تکبر کیا ۔ اصل میں یہ نکفت الشئی سے ہے جس کے معنی کسی چیز کو دور ہٹنا دینے کے ہیں اور اسی سے نکف ہے ۔ یعنی رخسار سے ہاتھ کے ساتھ آنسو پونچھنا اور بحر لانیکف بےپایاں سمندر کو کہتے ہیں ۔ الانتکاف ۔ ایک ملک سے دوسرے ملک میں چلا جانا ۔ عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] . الثاني : عَبْدٌ بالإيجاد، وذلک ليس إلّا لله، وإيّاه قصد بقوله : إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] . والثالث : عَبْدٌ بالعِبَادَةِ والخدمة، والناس في هذا ضربان : عبد لله مخلص، وهو المقصود بقوله : وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] ، إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] ، نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] ، عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] ، إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] ، كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] ، إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ، وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] ، وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] ، فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ، فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65] . وعَبْدٌ للدّنيا وأعراضها، وهو المعتکف علی خدمتها ومراعاتها، وإيّاه قصد النّبي عليه الصلاة والسلام بقوله : «تعس عَبْدُ الدّرهمِ ، تعس عَبْدُ الدّينار» وعلی هذا النحو يصحّ أن يقال : ليس كلّ إنسان عَبْداً لله، فإنّ العَبْدَ علی هذا بمعنی العَابِدِ ، لکن العَبْدَ أبلغ من العابِدِ ، والناس کلّهم عِبَادُ اللہ بل الأشياء کلّها كذلك، لکن بعضها بالتّسخیر وبعضها بالاختیار، وجمع العَبْدِ الذي هو مُسترَقٌّ: عَبِيدٌ ، وقیل : عِبِدَّى وجمع العَبْدِ الذي هو العَابِدُ عِبَادٌ ، فالعَبِيدُ إذا أضيف إلى اللہ أعمّ من العِبَادِ. ولهذا قال : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] ، فنبّه أنه لا يظلم من يختصّ بِعِبَادَتِهِ ومن انتسب إلى غيره من الّذين تسمّوا بِعَبْدِ الشمس وعَبْدِ اللّات ونحو ذلك . ويقال : طریق مُعَبَّدٌ ، أي : مذلّل بالوطء، وبعیر مُعَبَّدٌ: مذلّل بالقطران، وعَبَّدتُ فلاناً : إذا ذلّلته، وإذا اتّخذته عَبْداً. قال تعالی: أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] . العبد بمعنی غلام کا لفظ چار معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔ ( 1 ) العبد بمعنی غلام یعنی وہ انسان جس کی خریدنا اور فروخت کرنا شرعا جائز ہو چناچہ آیات کریمہ : ۔ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] اور غلام کے بدلے غلام عَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75] ایک غلام ہے جو بالکل دوسرے کے اختیار میں ہے ۔ میں عبد کا لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ( 2 ) العبد بالایجاد یعنی وہ بندے جسے اللہ نے پیدا کیا ہے اس معنی میں عبودیۃ اللہ کے ساتھ مختص ہے کسی دوسرے کی طرف نسبت کرنا جائز نہیں ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : ۔ إِنْ كُلُّ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ إِلَّا آتِي الرَّحْمنِ عَبْداً [ مریم/ 93] تمام شخص جو آسمان اور زمین میں ہیں خدا کے روبرو بندے ہوکر آئیں گے ۔ میں اسی معنی کی طرح اشارہ ہے ۔ ( 3 ) عبد وہ ہے جو عبارت اور خدمت کی بدولت عبودیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے اس لحاظ سے جن پر عبد کا لفظ بولا گیا ہے وہ دوقسم پر ہیں ایک وہ جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے بن جاتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا : ۔ وَاذْكُرْ عَبْدَنا أَيُّوبَ [ ص/ 41] اور ہمارے بندے ایوب کو یاد کرو ۔ إِنَّهُ كانَ عَبْداً شَكُوراً [ الإسراء/ 3] بیشک نوح (علیہ السلام) ہمارے شکر گزار بندے تھے نَزَّلَ الْفُرْقانَ عَلى عَبْدِهِ [ الفرقان/ 1] جس نے اپنے بندے پر قرآن پاک میں نازل فرمایا : ۔ عَلى عَبْدِهِ الْكِتابَ [ الكهف/ 1] جس نے اپنی بندے ( محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) پر یہ کتاب نازل کی ۔ إِنَّ عِبادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطانٌ [ الحجر/ 42] جو میرے مخلص بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں ۔ كُونُوا عِباداً لِي[ آل عمران/ 79] کہ میری بندے ہوجاؤ ۔ إِلَّا عِبادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ [ الحجر/ 40] ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں ۔ وَعَدَ الرَّحْمنُ عِبادَهُ بِالْغَيْبِ [ مریم/ 61] جس کا خدا نے اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے ۔ وَعِبادُ الرَّحْمنِ الَّذِينَ يَمْشُونَ عَلَى الْأَرْضِ هَوْناً [ الفرقان/ 63] اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں فَأَسْرِ بِعِبادِي لَيْلًا[ الدخان/ 23] ہمارے بندوں کو راتوں رات نکال لے جاؤ ۔ فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا[ الكهف/ 65]( وہاں ) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا ۔ ( 2 ) دوسرے اس کی پر ستش میں لگے رہتے ہیں ۔ اور اسی کی طرف مائل رہتے ہیں چناچہ ایسے لوگوں کے متعلق ہی آنحضرت نے فرمایا ہے تعس عبد الدرھم تعس عبد الدینا ر ) درہم دینار کا بندہ ہلاک ہو ) عبد کے ان معانی کے پیش نظر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا بندہ نہیں ہے یعنی بندہ مخلص نہیں ہے لہذا یہاں عبد کے معنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہیں لیکن عبد عابد سے زیادہ بلیغ ہے اور یہ بھی کہہ سکتے ہیں : ۔ کہ تمام لوگ اللہ کے ہیں یعنی اللہ ہی نے سب کو پیدا کیا ہے بلکہ تمام اشیاء کا یہی حکم ہے ۔ بعض بعض عبد بالتسخیر ہیں اور بعض عبد بالا اختیار اور جب عبد کا لفظ غلام کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی جمع عبید یا عبد آتی ہے اور جب عبد بمعنی عابد یعنی عبادت گزار کے ہو تو اس کی جمع عباد آئے گی لہذا جب عبید کی اضافت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ عباد سے زیادہ عام ہوگا یہی وجہ ہے کہ آیت : وَما أَنَا بِظَلَّامٍ لِلْعَبِيدِ [ ق/ 29] اور ہم بندوں پر ظلم نہیں کیا کرتے میں عبید سے ظلم کی نفی کر کے تنبیہ کی ہے وہ کسی بندے پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا خواہ وہ خدا کی پرستش کرتا ہو اور خواہ عبدالشمس یا عبد اللات ہونے کا مدعی ہو ۔ ہموار راستہ ہموار راستہ جس پر لوگ آسانی سے چل سکیں ۔ بعیر معبد جس پر تار کول مل کر اسے خوب بد صورت کردیا گیا ہو عبدت فلان میں نے اسے مطیع کرلیا محکوم بنالیا قرآن میں ہے : ۔ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرائِيلَ [ الشعراء/ 22] کہ تم نے بنی اسرائیل کو محکوم بنا رکھا ہے ۔ ملك ( فرشته) وأما المَلَكُ فالنحویون جعلوه من لفظ الملائكة، وجعل المیم فيه زائدة . وقال بعض المحقّقين : هو من المِلك، قال : والمتولّي من الملائكة شيئا من السّياسات يقال له : ملک بالفتح، ومن البشر يقال له : ملک بالکسر، فكلّ مَلَكٍ ملائكة ولیس کلّ ملائكة ملکاقال : وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] ، عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] ( م ل ک ) الملک الملک علمائے نحو اس لفظ کو ملا ئکۃ سے ماخوذ مانتے ہیں اور اس کی میم کو زائد بناتے ہیں لیکن بعض محقیقن نے اسے ملک سے مشتق مانا ہے اور کہا ہے کہ جو فرشتہ کائنات کا انتظام کرتا ہے اسے فتحہ لام کے ساتھ ملک کہا جاتا ہے اور انسان کو ملک ہیں معلوم ہوا کہ ملک تو ملا ئکۃ میں ہے لیکن کل ملا ئکۃ ملک نہیں ہو بلکہ ملک کا لفظ فرشتوں پر بولا جاتا ہے کی طرف کہ آیات ۔ وَالْمَلَكُ عَلى أَرْجائِها [ الحاقة/ 17] اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آئیں گے ۔ عَلَى الْمَلَكَيْنِ بِبابِلَ [ البقرة/ 102] اور ان باتوں کے بھی پیچھے لگ گئے جو دو فرشتوں پر اتری تھیں ۔ قرب الْقُرْبُ والبعد يتقابلان . يقال : قَرُبْتُ منه أَقْرُبُ وقَرَّبْتُهُ أُقَرِّبُهُ قُرْباً وقُرْبَاناً ، ويستعمل ذلک في المکان، وفي الزمان، وفي النّسبة، وفي الحظوة، والرّعاية، والقدرة . فمن الأوّل نحو : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] وَلا تَقْرَبُوا الزِّنى [ الإسراء/ 32] ، فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ بَعْدَ عامِهِمْ هذا [ التوبة/ 28] . وقوله : وَلا تَقْرَبُوهُنَ [ البقرة/ 222] ، كناية عن الجماع کقوله : فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ [ التوبة/ 28] ، وقوله : فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ [ الذاریات/ 27] . وفي الزّمان نحو : اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسابُهُمْ [ الأنبیاء/ 1] ، وقوله : وَإِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ أَمْ بَعِيدٌ ما تُوعَدُونَ [ الأنبیاء/ 109] . وفي النّسبة نحو : وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُرْبى[ النساء/ 8] ، وقال : الْوالِدانِ وَالْأَقْرَبُونَ [ النساء/ 7] ، وقال : وَلَوْ كانَ ذا قُرْبى [ فاطر/ 18] ، وَلِذِي الْقُرْبى [ الأنفال/ 41] ، وَالْجارِ ذِي الْقُرْبى [ النساء/ 36] ، يَتِيماً ذا مَقْرَبَةٍ [ البلد/ 15] . وفي الحظوة : لَا الْمَلائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ [ النساء/ 172] ، وقال في عيسى: وَجِيهاً فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ [ آل عمران/ 45] ، عَيْناً يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ [ المطففین/ 28] ، فَأَمَّا إِنْ كانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ [ الواقعة/ 88] ، قالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ [ الأعراف/ 114] ، وَقَرَّبْناهُ نَجِيًّا[ مریم/ 52] . ويقال للحظوة : القُرْبَةُ ، کقوله : قُرُباتٍ عِنْدَ اللَّهِ وَصَلَواتِ الرَّسُولِ أَلا إِنَّها قُرْبَةٌ لَهُمْ [ التوبة/ 99] ، تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنا زُلْفى[ سبأ/ 37] . وفي الرّعاية نحو : إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ [ الأعراف/ 56] ، وقوله : فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ [ البقرة/ 186] وفي القدرة نحو : وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ [ ق/ 16] . قوله وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْكُمْ [ الواقعة/ 85] ، يحتمل أن يكون من حيث القدرة ( ق ر ب ) القرب القرب والبعد یہ دونوں ایک دوسرے کے مقابلہ میں استعمال ہوتے ہیں ۔ محاورہ ہے : قربت منہ اقرب وقربتہ اقربہ قربا قربانا کسی کے قریب جانا اور مکان زمان ، نسبی تعلق مرتبہ حفاظت اور قدرت سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے جنانچہ فرب مکانی کے متعلق فرمایا : وَلا تَقْرَبا هذِهِ الشَّجَرَةَ [ البقرة/ 35] لیکن اس درخت کے پاس نہ جانا نہیں تو ظالموں میں داخل ہوجاؤ گے ۔ لا تَقْرَبُوا مالَ الْيَتِيمِ [ الأنعام/ 152] اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا ۔ وَلا تَقْرَبُوا الزِّنى [ الإسراء/ 32] اور زنا کے پا س بھی نہ جانا ۔ فَلا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرامَ بَعْدَ عامِهِمْ هذا [ التوبة/ 28] تو اس برس کے بعد وہ خانہ کعبہ کے پاس نہ جانے پائیں ۔ اور آیت کریمہ ولا تَقْرَبُوهُنَ [ البقرة/ 222] ان سے مقاربت نہ کرو ۔ میں جماع سے کنایہ ہے ۔ فَقَرَّبَهُ إِلَيْهِمْ [ الذاریات/ 27] اور ( کھانے کے لئے ) ان کے آگے رکھ دیا ۔ اور قرب زمانی کے متعلق فرمایا : اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسابُهُمْ [ الأنبیاء/ 1] لوگوں کا حساب ( اعمال کا وقت نزدیک پہنچا ۔ وَإِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ أَمْ بَعِيدٌ ما تُوعَدُونَ [ الأنبیاء/ 109] اور مجھے معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ عنقریب آنے والی ہے یا اس کا وقت دور ہے ۔ اور قرب نسبی کے متعلق فرمایا : وَإِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُوا الْقُرْبى[ النساء/ 8] اور جب میراث کی تقسیم کے وقت ( غیر وارث ) رشتے دار آجائیں ۔ الْوالِدانِ وَالْأَقْرَبُونَ [ النساء/ 7] ماں باپ اور رشتے دار ۔ وَلَوْ كانَ ذا قُرْبى [ فاطر/ 18] گوہ وہ تمہاری رشتے دار ہو ۔ وَلِذِي الْقُرْبى [ الأنفال/ 41] اور اہل قرابت کا ۔ وَالْجارِ ذِي الْقُرْبى [ النساء/ 36] اور رشتے در ہمسایوں يَتِيماً ذا مَقْرَبَةٍ [ البلد/ 15] یتیم رشتے دار کو ۔۔۔ اور قرب بمعنی کے اعتبار سے کسی کے قریب ہونا کے متعلق فرمایا : لَا الْمَلائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ [ النساء/ 172] اور نہ مقرب فرشتے ( عار ) رکھتے ہیں ۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : وَجِيهاً فِي الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ [ آل عمران/ 45]( اور جو ) دنیا اور آخرت میں آبرو اور ( خدا کے ) خاصوں میں سے ہوگا ۔ عَيْناً يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ [ المطففین/ 28] وہ ایک چشمہ ہے جس میں سے ( خدا کے ) مقرب پئیں گے ۔ فَأَمَّا إِنْ كانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ [ الواقعة/ 88] پھر اگر وہ خدا کے مقربوں میں سے ہے : قالَ نَعَمْ وَإِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ [ الأعراف/ 114]( فرعون نے ) کہا ہاں ( ضرور ) اور اس کے علاوہ تم مقربوں میں داخل کرلئے جاؤ گے ۔ وَقَرَّبْناهُ نَجِيًّا[ مریم/ 52] اور باتیں کرنے کے لئے نزدیک بلایا ۔ اور القربۃ کے معنی قرب حاصل کرنے کا ( ذریعہ ) کے بھی آتے ہیں جیسے فرمایا : قُرُباتٍ عِنْدَ اللَّهِ وَصَلَواتِ الرَّسُولِ أَلا إِنَّها قُرْبَةٌ لَهُمْ [ التوبة/ 99] اس کو خدا کی قربت کا ذریعہ ۔ أَلا إِنَّها قُرْبَةٌ لَهُمْ [ التوبة/ 99] دیکھو وہ بےشبہ ان کے لئے ( موجب ) قربت ہے۔ تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنا زُلْفى[ سبأ/ 37] کہ تم کو ہمارا مقرب بنادیں ۔ اور رعایت ونگہبانی کے متعلق فرمایا : إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِنَ الْمُحْسِنِينَ [ الأعراف/ 56] کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں کے قریب ہے ۔ فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ [ البقرة/ 186] میں تو تمہارے پاس ہوں ۔ جب کوئی پکارنے والا پکارتا ہے تو میں اسکی دعا قبول کرتا ہوں ۔ اور قرب بمعنی قدرہ فرمایا : وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ [ ق/ 16] اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں ۔ عبادت العُبُودِيَّةُ : إظهار التّذلّل، والعِبَادَةُ أبلغُ منها، لأنها غاية التّذلّل، ولا يستحقّها إلا من له غاية الإفضال، وهو اللہ تعالی، ولهذا قال : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] . والعِبَادَةُ ضربان : عِبَادَةٌ بالتّسخیر، وهو كما ذکرناه في السّجود . وعِبَادَةٌ بالاختیار، وهي لذوي النّطق، وهي المأمور بها في نحو قوله : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] ، وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] . ( ع ب د ) العبودیۃ کے معنی ہیں کسی کے سامنے ذلت اور انکساری ظاہر کرنا مگر العبادۃ کا لفظ انتہائی درجہ کی ذلت اور انکساری ظاہر کرنے بولا جاتا ہے اس سے ثابت ہوا کہ معنوی اعتبار سے العبادۃ کا لفظ العبودیۃ سے زیادہ بلیغ ہے لہذا عبادت کی مستحق بھی وہی ذات ہوسکتی ہے جو بےحد صاحب افضال وانعام ہو اور ایسی ذات صرف الہی ہی ہے اسی لئے فرمایا : أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔ عبادۃ دو قسم پر ہے (1) عبادت بالتسخیر جسے ہم سجود کی بحث میں ذکر کرچکے ہیں (2) عبادت بالاختیار اس کا تعلق صرف ذوی العقول کے ساتھ ہے یعنی ذوی العقول کے علاوہ دوسری مخلوق اس کی مکلف نہیں آیت کریمہ : اعْبُدُوا رَبَّكُمُ [ البقرة/ 21] اپنے پروردگار کی عبادت کرو ۔ وَاعْبُدُوا اللَّهَ [ النساء/ 36] اور خدا ہی کی عبادت کرو۔ میں اسی دوسری قسم کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ۔ الاسْتِكْبارُ والْكِبْرُ والتَّكَبُّرُ والِاسْتِكْبَارُ تتقارب، فالکبر الحالة التي يتخصّص بها الإنسان من إعجابه بنفسه، وذلک أن يرى الإنسان نفسه أكبر من غيره . وأعظم التّكبّر التّكبّر علی اللہ بالامتناع من قبول الحقّ والإذعان له بالعبادة . والاسْتِكْبارُ يقال علی وجهين : أحدهما : أن يتحرّى الإنسان ويطلب أن يصير كبيرا، وذلک متی کان علی ما يجب، وفي المکان الذي يجب، وفي الوقت الذي يجب فمحمود . والثاني : أن يتشبّع فيظهر من نفسه ما ليس له، وهذا هو المذموم، وعلی هذا ما ورد في القرآن . وهو ما قال تعالی: أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] . ( ک ب ر ) کبیر اور الکبر والتکبیر والا ستکبار کے معنی قریب قریب ایک ہی ہیں پس کہر وہ حالت ہے جس کے سبب سے انسان عجب میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ اور عجب یہ ہے کہ انسان آپنے آپ کو دوسروں سے بڑا خیال کرے اور سب سے بڑا تکبر قبول حق سے انکار اور عبات سے انحراف کرکے اللہ تعالیٰ پر تکبر کرنا ہے ۔ الاستکبار ( اسعاکال ) اس کا استعمال دوطرح پر ہوتا ہے ۔ ا یک یہ کہ انسان بڑا ببنے کا قصد کرے ۔ اور یہ بات اگر منشائے شریعت کے مطابق اور پر محمل ہو اور پھر ایسے موقع پر ہو ۔ جس پر تکبر کرنا انسان کو سزا وار ہے تو محمود ہے ۔ دوم یہ کہ انسان جھوٹ موٹ بڑائی کا ) اظہار کرے اور ایسے اوصاف کو اپنی طرف منسوب کرے جو اس میں موجود نہ ہوں ۔ یہ مذموم ہے ۔ اور قرآن میں یہی دوسرا معنی مراد ہے ؛فرمایا ؛ أَبى وَاسْتَكْبَرَ [ البقرة/ 34] مگر شیطان نے انکار کیا اور غرور میں آگیا۔ حشر الحَشْرُ : إخراج الجماعة عن مقرّهم وإزعاجهم عنه إلى الحرب ونحوها، وروي : «النّساء لا يُحْشَرن» أي : لا يخرجن إلى الغزو، ويقال ذلک في الإنسان وفي غيره، يقال : حَشَرَتِ السنة مال بني فلان، أي : أزالته عنهم، ولا يقال الحشر إلا في الجماعة، قال اللہ تعالی: وَابْعَثْ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 36] وَحَشَرْناهُمْ فَلَمْ نُغادِرْ مِنْهُمْ أَحَداً [ الكهف/ 47] ، وسمي يوم القیامة يوم الحشر کما سمّي يوم البعث والنشر، ورجل حَشْرُ الأذنین، أي : في أذنيه انتشار وحدّة . ( ح ش ر ) الحشر ( ن ) ( ح ش ر ) الحشر ( ن ) کے معنی لوگوں کو ان کے ٹھکانہ سے مجبور کرکے نکال کر لڑائی وغیرہ کی طرف لے جانے کے ہیں ۔ ایک روایت میں ہے (83) النساء لایحضرون کہ عورتوں کو جنگ کے لئے نہ نکلا جائے اور انسان اور غیر انسان سب کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ کہا جاتا ہے ۔ حشرت النسۃ مال بنی فلان یعنی قحط سالی نے مال کو ان سے زائل کردیا اور حشر کا لفظ صرف جماعت کے متعلق بولا جاتا ہے قرآن میں ہے : وَابْعَثْ فِي الْمَدائِنِ حاشِرِينَ [ الشعراء/ 36] اور شہروں میں ہر کار سے بھیج دیجئے ۔ اور قیامت کے دن کو یوم الحشر بھی کہا جاتا ہے جیسا ک اسے یوم البعث اور یوم النشور کے ناموں سے موسوم کیا گیا ہے لطیف اور باریک کانوں والا ۔ جمع الجَمْع : ضمّ الشیء بتقریب بعضه من بعض، يقال : جَمَعْتُهُ فَاجْتَمَعَ ، وقال عزّ وجل : وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] ، وَجَمَعَ فَأَوْعى [ المعارج/ 18] ، جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] ، ( ج م ع ) الجمع ( ف ) کے معنی ہیں متفرق چیزوں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر ملا دینا ۔ محاورہ ہے : ۔ چناچہ وہ اکٹھا ہوگیا ۔ قرآن میں ہے ۔ وَجُمِعَ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ [ القیامة/ 9] اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے ۔ ( مال ) جمع کیا اور بند رکھا ۔ جَمَعَ مالًا وَعَدَّدَهُ [ الهمزة/ 2] مال جمع کرتا ہے اور اس کو گن گن کر رکھتا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(١٧٢) حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی عبودیت کا اقرار کرنے میں ہرگز عار نہیں کریں گے، عیسائیوں نے کہا تھا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ جو بیان کرتے ہیں یہ ہم لوگوں کے لیے عار ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اس چیز میں کوئی عار نہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی عبودیت کا اقرار کرنے میں عار نہیں کرتے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبودیت کا اقرار کرنے سے عار اور ایمان لانے سے تکبر کرے تو ہم قیامت کے روز مومن و کافر سب کو جمع کریں گے۔ (اور مومنوں کو کافروں کا انجام دکھا دیں گے )

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧٢ (لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰہِ وَلاَ الْمَلآءِکَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَ ط) مسیح (علیہ السلام) کو تو اللہ کا بندہ ہونے میں اپنی شان محسوس ہوگی۔ جیسے ہم بھی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں کہتے ہیں : وَنَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ ۔ تو عبدیت کی شان تو بہت بلند وبالا ہے ‘ رسالت سے بھی اعلیٰ اور ارفع۔ (یہ ایک علیحدہ مضمون ہے ‘ جس کی تفصیل کا یہ محل نہیں ہے۔ ) چناچہ حضرت مسیح ( علیہ السلام) کے لیے یہ کوئی عار کی بات نہیں ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:172) لن یستنکف المسیح۔ استنکاف سے مضارع نفی تاکید بلن باب استفعال سے صیغہ واحد مذکر غائب۔ وہ ہرگز عار نہیں سمجھے گا ۔ وہ ہرگز حقیر سمجھ کر سرتابی نہیں کرے گا۔ ومن یستنکف۔ مضارع مجزوم بالشرط جو عار کرے گا۔ یا جو حقیر سمجھ کر سر تابی کریگا۔ جو حقیر سمجھ کر غرور کے ساتھ سرتابی کرے گا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 اس میں عیسائیوں ارمشرکین دونوں کے غلط عقیدہ کی تردید ہے کیونکہ عیسائی حضرت مسیح ( علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا اور مشرکین فرشتوں کو خدا کی بیٹاں کہتے تھے، اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ دونوں خدا کی بندگی کا اقرار کرتے ہیں اور اس کا بندہ ہونے پر کچھ بھی شرم محسوس نہیں کرتے یہی حال ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تھا جب کوئی شخص آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بندہ کہتا تو آپ کو بےانتہا خوشی ہوتی کیونکہ اس مالک الملک اور شہنشاہ مطلق کا بندہ ہونا انتہائی عزت وشرف کا مقام ہے نہ کہ کسی ذلت و رسوائی کا امام ابن القیم (رح) نے اپنی کتاب انوار القلوب میں لکھا ہے کہ آدمی کے لیے بندگی کے مقام سے زیادہ عزت کا کوئی مقام نہیں ہے اکر م الخلق محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تین مقامات پر جو کہ نہایت عزت کے مقامات ہیں لفظ عبد (بندہ) کہہ کر ذکر گیا ہے۔ (از فوائد سلفیہ )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

رکوع نمبر 24 ۔ آیات 9172 تا 177: اسرار و معارف : خود حضرت مسیح (علیہ السلام) کو تو اللہ کا بندہ بننے پہ فخر ہے زمینی زندگی تو خود اس پہ گواہ ہے اپنی آسمانی زندگی میں بھی انہیں بندگی پہ کوئی عار نہیں اور نہ مقرب فرشتوں کو بلکہ سب کو اللہ کا بندہ بننے ، اس کا حکم ماننے اور اس کے ارشادات کی تعمیل سے اس کی رضا حاصل کرنے کی فکر ہے اور اس کی غلامی ہی سب کے لیے باعث عزت و وقار ہے اور یہ جن لوگوں کو تم گمراہ پاتے ہو اور انہیں اللہ کریم کے آگے جھکتے ہوئے بھی شرم آتی ہے اور اپنی کمزوری کا احساس ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ اظہار تکبر کرتے ہیں کام میں بھی کلام میں بھی اکڑفوں کا اظہار کرتے ہیں۔ ان سب کو بھی اللہ ہی کے حضور جمع ہونا ہے ان کی اکڑفوں بھی نکل جائے گی۔ وہاں بات اطاعت اور غلامی پہ ہوگی جن کے عقائد درست ہوئے اور جنہوں نے عملی زندگی میں اطاعت کرنے کی کوشش کی انہیں نہ صرف بدلہ دیا جائے گا بلکہ ذات کریم کی طرف سے نوازا جائے گا۔ اور وہ اپنی شان اپنی پسند کے مطابق اضافہ کریں گے۔ عطا و بخشش میں انعام میں کتنا کرتے ہیں یہ صرف ان کی مرضی ۔ مگر جنہیں آج عبادت کرنے میں عار محسوس ہوتی ہے اور تکبر کرتے ہیں اکڑتے پھرتے ہیں ، انہیں بہت دردناک عذاب دیا جائے گا ایسا عذاب کہ جو ان کی امیدیں بھی منقطع کردے گا اور کسی کو بھی اپنی حمایت کرنے والا یا کسی طرح کی مدد کرنے والا نہ پائیں گے۔ اے اولاد آدم ! حق یہ ہے کہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے بہت بڑی دلیل آچکی۔ انسانی مزاج ہے کہ کسی بہت بڑے حادثے کے منتظر رہتے ہیں جس کے وقوع پر لوگ اکٹھے ہوجاتے ہیں پھر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور بڑا اچھا سلوک کرتے ہیں مثلاً باپ زندہ ہے دو بھائی ناراض ہوں گے وہ کوشش کرتا رہے پرواہ نہیں کریں گے مگر اس کی موت سب کو یکجا کردے گی۔ شہر میں بیمار بھوکے سب طرح کے مستحق ہوں گے۔ مگر کوئی نہیں پوچھے گا چھت گر جائے گی۔ آگ لگ جائے گی کوئی حادثہ ہوگا تو سب لپکیں گے ایسے ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیدائش اور بعثت کو اس دور کے علماء ، کاہن ، نجومی بہت بڑا حادثہ سمجھتے تھے بلکہ ہرقل جو مشہور ستارہ شناس بھی تھا چیخ اٹھا کہ آج بہت بڑا حادثہ ہوگیا ہے کہ وہ نبی جسے آخری زمانے میں مبعوث ہونا تھا پیدا ہوگیا ہے۔ برہان در اصل ایسی دلیل کو کہا جاتا ہے جو تشفی کردے اور جس کے بعد مزید کسی بحث کی ضرورت باقی نہ رہے۔ سو یہاں ساری انسانیت کو دعوت نظارہ دی جاتی ہے کہ ایسا بچپن ، ایسا لڑکپن ، ایسی جوانی ، ایسا حسن ، ایسی سنجیدگی ، ایسا روشن چہرہ۔ ایسی خوبصورت آواز ، ایسے علوم اور اتنی مہارت ، ایسی پاکیزگی اور اتنا تقدس ! ارے جاؤ ! ساری انسانیت میں تلاش کرو بھلا کوئی دوسرا اس کی نظیر ہے ؟ ہرگز نہیں ! جب ایسا صادق و امین اللہ کی توحید پہ گواہ ہے اس کی پسندیدہ باتوں کا حکم کرتا ہے اور اس کی ناپسند سے خبردار کرتا ہے تو پھر اس کے بعد تمہیں کون سے بڑے حادثے کا انتظار ہے۔ بھئی جو ہونا تھا ہوچکا اور پھر اللہ کی طرف سے تم پر بڑی واضح روشنی نازل فرمائی گئی یعنی اللہ کریم کا ذاتی کلام بعض حضرات یہاں نور بشر کی بحث کو لانا چاہتے ہیں ، جس کا یہ مقام نہیں ویسے اگر کوئی چاہے تو فقیر نے ایک کتابچہ اس عنوان کا لکھا ہے وہ دیکھ لے۔ یہاں ذات نبوت حق کی بہت بڑی دلیل کے طور پر پیش فرمائی جا رہی ہے اور قرآن حکیم یہ نور یہ روشنی بھی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وساطت سے ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) یہی تفسیر فرمایا کرتے تھے بہرحال جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور اس دلیل ، اس نور ، یا سیدھی بات یہ ہے کہ اللہ کے اس حبیب سے چمٹ گئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی غلامی اختیار کرلی انہیں اپنی رحمت اور مہربانی سے اپنے جلو میں اپنی پناہ میں لے لے گا۔ اور انہیں ہدایت نصیب فرما دے گا۔ اور آخر سورة میں پھر ایک مسئلہ جائیداد و وراثت کا ارشاد فرمادیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کلالہ کے بارے سوال کیا جاتا ہے۔ اللہ کریم اس کا جواب عطاء فرماتے ہیں دیکھئے نزول قرآن کی حکمتیں کہ کتنے صحابہ کو یہ شرف نصیب ہوا کہ انہوں نے سوال کیا جواب اللہ کریم کی طرف سے آیا پھر یہ واقعہ شان نزول ، حفاظت کا بھی اور معانی کے معین کرنے کا بھی ذریعہ بن گیا۔ سو وحی والہی شروع ہونے سے لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال مبارک تک لوگوں کو یہ شرف نصیب رہا کہ سوال آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کرتے اور جواب اللہ سے پاتے۔ سیدنا ابوبکر صدیق (رض) نے فاروق اعظم (رض) سے فرمایا۔ ام ایمن کے ہاں چلیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی کبھار تشریف لے جاتے تھے۔ یہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی غلام تھی اور بہت بوڑھی ہوچکی تھیں جب یہ حضرات وہاں پہنچے تو اس قدردرد سے روئیں کہ انہیں بھی رلا دیا۔ سیدنا ابوبکر (رض) نے فرمایا ام ایمن ! تم اس قدر کیوں روتی ہو کیا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اتنے دور چلے گئے ؟ فرمانے لگیں۔ نہیں یہ بات نہیں ! روتی اس لیے ہوں کہ سلسلہ وحی ختم ہوگیا ، اب کبھی کسی کی بات کا جواب اللہ کی طرف سے نہیں آئے گا۔ اور یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ یہود و نصاری اعتراض کرتے تھے عقائد میں بھی فرائض میں بھی جبکہ صحابہ معمولی سی بات بھی آپ کی بارگاہ سے پوچھا کرتے۔ تو یہاں کلالہ کا یعنی ایسا آدمی جس کی اولاد نہ ہو ، نہ ماں باپ ، مر جائے تو اس کی وراثت کا کیا ہوگا ؟ فرمایا اگر اس کی بہن ہو تو آدھے کی مالک ہوگی اس کے واجبات ادا کرکے جو بچ جائے اور اگر کوئی غصہ یعنی دور نزدیک کا رشتہ دار ہوگا تو اپنی حیثیت کے مطابق پائے گا ورنہ پھر اسی کو مل جائے گا۔ اور اگر بہن کلالہ مر جاوے اور بھائی باقی بچے تو سارے ترکہ کا وارث ہوگا اور اگر مرنیوالا مردہو اور بہنیں دو یا زیادہ ہوں تو وہ سب دو تہائی کی مالک ہوں گی اور اگر اسی رشتہ کے کئی بہن بھائی ہوں تو مرد کو خاتون کے مقابلہ میں دوگنا ملے گا۔ یہ سب باتیں تمہیں گمراہی سے بچانے کے لیے اور راہ ہدایت پہ چلانے کے لیے خود ذات باری نے ارشاد فرمائی ہیں اور وہ ہر شے کا علم رکھتے ہیں کسی سے پوچھ سن کر فیصلہ کرنے کے محتاج نہیں۔ اس لئے جو بات اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے طے ہوجائے اسے قبول کرنا ہی سب سے بہترین طریقہ اور راستہ ہے اللہ کریم توفیق قوبلیت کے ساتھ عمل کی قوت بھی نصیب فرمائے ! آمین۔ تمت سورة النساء ۔ وللہ الحمد اولہ و آخرہ۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 172-173 لغات القرآن : لن یستنکف، وہ ہرگز برا بہ سمجھے گا۔ المقربون، قریب والے۔ یستکبر، وہ تکبر کرتا ہے۔ فسیحشرھم، جلد ہی ہم ان کو جمع کریں گے۔ تشریح : حضرت مسیح (علیہ السلام) ہوں یا کوئی پیغمبر یا کوئی فرشتہ ہو، جو اللہ سے جتنا قریب ہوگا، اتنا ہی عاجزی کا پیکر ہوگا، وہ جانتا ہے کہ اللہ کی بندگی سب سے بڑی عزت اور مرتبت ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) جب تک زمین پر تھے اپنے آپ کو اللہ کا بندہ ہی سمجھتے تھے اور اس سے آپ کو ننگ وعار نہ تھا بلکہ عزت اور بلندی تھی۔ آج جب کہ آپ آسمان پر ہیں ، تب بھی اپنے آپ کو اللہ کا بندہ سمجھتے ہیں۔ تکبر کرنا اور شیخی مارنا یہ تو ابلیس، فرعون اور ابوجہل کی عادت ہے، تکبر کیا ہے ؟ تکبر یہ ہے کہ اگر کوئی چیز اپنے پاس ہے یا نہیں ہے، تو ان لوگوں کو جن کے پاس کم ہے یا نہیں ہے پست اور ذلیل سمجھنا اور حقارت کا سلوک کرنا۔ ایسے تکبر کرنے والوں کے لئے اللہ نے دکھ بھرا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ لیکن اللہ کے احسانات کو یاد کرنا، اس کا شکر ادا کرنا یہ تکبر نہیں ہے بلکہ اللہ کے نزدیک ایک پسندیدہ فعل ہے۔ قیامت کا ہولناک دن ہوگا جب سب کی شیخی نکل جائے گی۔ تکبر کرنے والے ذلیل و خوار ہو کر رہیں گے اور عاجزی اور تواضع اختیار کرنے والے سر بلند ہوں گے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدائی کا مرتبہ دیا حالانکہ وہ اللہ کے بندے تھے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بندہ یعنی اس کا غلام اور فرمانبردار ہونے سے قطعاً کوئی انکار نہ تھا جو اپنے آپ کو اللہ کا بندہ ہونے سے انکار کرے گا اس کی سزادرد ناک عذاب ہے۔ عبد کا معنی ہے۔۔ انسان اور غلام (المنجد) قرآن مجید نے دو ٹوک الفاظ اور انداز میں واضح کیا ہے کہ جتنے پیغمبر دنیا میں مبعوث کیے گئے وہ سارے کے سارے عبد اور بشر تھے خاص طور پر جن انبیاء ( علیہ السلام) کی عبدیت کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی ان کی سوانح حیات کو قرآن مجید نے اتنا واضح انداز میں بیان کیا ہے کہ جس سے ان کے عبد ہونے میں ذرہ برابر بھی شبہ باقی نہیں رہتا۔ یہودیوں نے حضرت عزیر (علیہ السلام) کے بارے میں جب یہ نظریہ گھڑا کہ وہ اللہ کے بیٹے ہیں تو اس باطل نظریہ کی تردید کے لیے حضرت عزیر (علیہ السلام) کی زندگی کا اہم ترین واقعہ یوں بیان کیا کہ اس شخص کی مثال سامنے رکھیے کہ جو ایک بستی کے قریب سے گزرا اور اس نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے کہ اللہ تعالیٰ اس بستی کو کس طرح زندہ کرے گا ؟ اللہ تعالیٰ نے اسے سو سال تک فوت کیے رکھا پھر اسے اٹھا کر پوچھا کہ اے میرے پیغمبر تم کتنی دیر یہاں ٹھہرے ہو ؟ حضرت عزیر (علیہ السلام) کو یہ خبر نہ تھی کہ وہ کتنی مدت تک مردہ پڑے رہے ہیں۔ چناچہ انھوں نے جواب دیا کہ بارالہا ! میں ایک دن یا اس کا کچھ وقت یہاں ٹھہرا ہوں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا نہیں تم سو سال تک مردہ پڑے رہے ہو۔ اب اپنے کھانے پینے کو دیکھو کہ وہ جوں کا توں ترو تازہ ہے اور اس میں کوئی سڑا ندھ پیدا نہیں ہوئی۔ پھر اپنے گدھے کی طرف دیکھو کہ ہم تجھے کس طرح لوگوں کے لیے دلیل بناتے ہیں اپنے گدھے کی ہڈیوں کی طرف دیکھیے پھر ان کے سامنے گدھے کی ہڈیاں جڑیں اور اس کے اوپر گوشت چڑھا اس پر کھال اور بال اگے جب یہ سب کچھ واضح اور ثابت ہوا تو حضرت عزیر (علیہ السلام) پکار اٹھے کہ میں جان چکا ہوں کہ اللہ ذرے ذرے پر اقتدار اور اختیار رکھنے والا ہے۔ (البقرہ : ٢٥٩) معجزات کی بنا پر ہی عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں عیسائیوں نے من گھڑت عقیدہ قائم کیا کہ وہ تین میں سے ایک ہیں یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں تو اس باطل نظریہ کی تردید کے لیے قرآن مجید میں آل عمران کے نام سے ایک مفصل سورت نازل کی گئی جس میں عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاندانی پس منظر، ان کی نانی محترمہ کا اللہ تعالیٰ کے حضور نذر ماننا، بیٹے کی بجائے حضرت مریم کا پیدا ہونا، حضرت زکریا (علیہ السلام) کا مریم کی کفالت کرنا، مریم کی والدہ کا مریم کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے وقف کرنا۔ اس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کے خاندانی پس منظر کیساتھ ان کی سوانح حیات کو پوری طرح کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح یحییٰ (علیہ السلام) کا خدا کا بیٹا ہونے کی نفی کرتے ہوئے ان ہی کی زبان سے وضاحت کروائی گئی کہ میں اللہ کا بندہ اور رسول ہونے کے سوا کچھ نہیں ہوں۔ (مریم : ٣٠) اسی بنیاد پر یہاں وضاحت کی گئی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا بندہ ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے یہاں یہ بات بھی واضح ہوجانی چاہیے اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا اور ہے کہ نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت میں بھی باطل عقائد کے لوگ ہوں گے جس کی بنا پر حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں بھی متعدد آیات میں روز روشن کی طرح یہ حقیقت واضح کردی گئی کہ آپ اللہ کے رسول اس کے بندے اور بشر ہیں اس عقیدہ کا یہاں تک التزام کردیا گیا کہ آدمی اس وقت تک دائرۂ اسلام میں داخل نہیں ہوسکتا جب تک وہ کلمۂ شہادت میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عبدیت کا اقرار نہیں کرلیتا اور اس کی پنجگانہ نماز مکمل نہیں ہوسکتی جب تک تشہد میں آپ کی عبدیت کی شہادت نہیں دیتا۔ یاد رہے کہ انبیاء ( علیہ السلام) کی عبدیت انسانیت کا شرف ہے۔ انبیاء کرام (علیہ السلام) شرف انسانیت کی شان اور ترجمان ہوا کرتے تھے۔ اس لیے ان کو عبد اور بشر ہونے میں ذرہ برابر بھی تأمل نہیں تھا۔ اس ضمن میں سند کی طرف توجہ کیے بغیر ہم تفسیر ضیاء القرآن سے ایک حوالہ نقل کرتے ہیں۔ ” حضور رحمۃ للعالمین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) معراج کی رات مقام قرب کی انتہا تک پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے آپ سے پوچھا ” بما اشرفک یامحمد “۔ اے سراپا ستائش و خوبی ! میں آج تجھے کس اعزاز سے مشرف کروں تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عرض کی ” بنسبتی الیک بالعبودیۃ “ ” مجھے اپنا بندہ ہونے کا شرف عطا فرما “ شاید یہی حکمت ہے کہ جس سورة میں معراج کا ذکر ہے وہاں حضور کے متعلق عبدہ کا لفظ مذکو رہے۔ “ اسی لیے اس فرمان کے آخر میں فرمایا کہ جو لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی اس حیثیت پر ایمان لائیں گے اور صالح کر دار اپنائیں گے۔ اللہ تعالیٰ انھیں ان کے اعمال کا پورا پورا صلہ دینے کے ساتھ اپنی طرف سے مزید اجر سے نوازیں گے۔ اور جنھوں نے عقیدہ توحید اور اللہ کی الوہیت سے انکار کیا۔ ان کے لیے اذیت ناک عذاب ہوگا۔ کوئی ان کی خیر خواہی اور مدد نہیں کرسکے گا۔ مسائل ١۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے تھے اور بندہ ہونا اپنے لیے عار نہیں سمجھتے تھے۔ ٢۔ اللہ کی بندگی کو عار نہیں سمجھنا چاہیے۔ ٣۔ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بندگی کو عار نہیں سمجھتے۔ ٤۔ جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کو عار سمجھے گا اسے اذیت ناک سزا دی جائے گی۔ ٥۔ ایمان لانے اور عمل صالح کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے نوازتے ہیں۔ تفسیر بالقرآن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا مرتبہ و مقام اور ان کا اقرار کہ میں اللہ کا بندہ ہوں : ١۔ حضرت عیسیٰ کی تخلیق اللہ تعالیٰ کے نزدیک آدم جیسی ہے۔ (آل عمران : ٥٩) ٢۔ حضرت عیسیٰ کو اللہ نے اپنی طرف اٹھا لیا۔ (النساء : ١٥٨) ٣۔ عیسیٰ بن باپ کے پیدا ہوئے۔ (آل عمران : ٥٩) ٤۔ عیسیٰ نے اپنی والدہ کی گود میں اپنی نبوت اور بندہ ہونے کا اعلان فرمایا۔ (مریم : ٢٩، ٣٠) ٥۔ عیسیٰ مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو تندرست کرتے تھے (آل عمران : ٤٩) ٦۔ عیسیٰ مٹی سے اڑنے والا پرندہ بناتے تھے۔ (آل عمران : ٤٩) ٧۔ عیسیٰ لوگوں کے اندوختے کی خبر دیتے تھے۔ (آل عمران : ٤٩) ٨۔ حضرت عیسیٰ کی حضرت جبریل امین خصوصی معاونت فرماتے تھے۔ (البقرۃ : ٢٥٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ١٧٢ تا ١٧٣۔ قرآن کریم نے عقیدہ توحید لوگوں کے ذہنوں میں بٹھانے کی بڑی کوشش کی ہے ۔ ایسی وحدانیت جس کے اندر شرک کا کوئی شائبہ نہ ہو اور نہ اس کے اندر اللہ تعالیٰ کیلئے کسی قسم کا تشبہ لازم آتا ہو ۔ قرآن کریم نے یہ کہا ہے کہ اللہ جیسا کوئی بھی نہیں ہے اور نہ کوئی چیز اس جیسی ہے ۔ نہ اللہ کی ماہیت میں اس کا کوئی شریک ہے ۔ نہ صفت میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ نہ خاصیت میں اس کے ساتھ کوئی شریک ہے ۔ اور قرآن کریم نے خالق اللہ اور مخلوقات کے درمیان ایک ہی رابطہ جائز رکھا ہے ۔ اور وہی حقیقت ہے کہ اللہ کے سوا تمام اشیاء (جس میں زندہ مخلوق بھی ہے) اس کے بندے اور تابع فرمان ہیں ۔ جو شخص بھی قرآن کا مطالعہ کرے گا وہ دیکھے گا کہ قرآن کریم نے اس حقیقت کو ذہن نشین کرانے کیلئے بہت ہی زور دیا ہے۔ اس حقیقت کے ہر پہلو کو زیر بحث لایا گیا ہے ۔ اس طرح کہ انسان کے دماغ میں کوئی شیڈ ‘ کوئی شک اور کوئی پیچیدگی نہ رہے ۔ پھر قرآن نے مزدی یہ دعوی بھی کیا ہے کہ یہ وہ حقیقت ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں کو مبعوث فرمایا ہے اس لئے قرآن کریم نے ہر رسول کی سیرت کے واقعات بیان کرتے وقت اور ہر رسول کی دعوت کا خلاصہ پیش کرتے وقت یہ کہا ہے کہ تمام رسولوں کی دعوت عقیدہ توحید کی طرف رہی ہے ۔ نوح (علیہ السلام) کی رسالت کا یہی عقیدہ رہا ہے اور نبی آخر الزماں حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا محور بھی عقیدہ توحید رہا ہے ہر رسول کی دعوت میں یہ فقرہ بنیادی رہا ہے ۔ (یاقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ) ” اے قوم ! اللہ کی بندگی کرو ‘ تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ۔ “ لہذا یہ بات نہایت ہی تعجب انگیز تھی کہ ان سماوی ادیان کے پیروکاروں میں سے کوئی شخص یا قوم عقیدہ توحید کے اندر تحریف کرے ‘ حالانکہ ان ادیان میں عقیدہ توحید مرکزی نکتہ رہا ہے اور ان ادیان نے اسے نہایت ہی قطعی اور فیصلہ کن انداز میں پیش کیا ہے ۔ لہذا یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ کسی دین سماوی کے پیروکار اللہ کے لئے کسی کو بیٹے یا بیٹیاں قرار دیں ۔ یا یہ کہ ذات باری اقانیم کی صورت میں کسی مخلوق کے اندر امتزاج اختیار کرے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے عقائد صرف باہر کے بت پرستوں ہی سے اخذ کئے جاسکتے ہیں۔ اسلام میں تو الوہیت اور عبودیت باہم متقابل ہیں یہی اسلام کی اساس ہے ۔ اللہ اور بندے کے درمیان حاکم و محکوم اور معبود اور عابد کے سوا کوئی اور تعلق نہیں ہوسکتا تھا ۔ محکوم اور عابد مخلوق ہوگی اور حاکم اور معبود اللہ ہوگا ۔ جب تک لوگ اس سیدھے نظریے اور عقیدے کو قبول نہ کریں گے نہ ان کی زندگی درست ہو سکتی ہے اور نہ ہی ان کے تصورات درست ہو سکتے ہیں ورنہ ان کے خیالات میں خواہ مخواہ کوئی شیڈ کوئی ملاوٹ اور کوئی شبہ موجود رہے گا ۔ ہاں یہ درست ہے کہ لوگوں کی زندگی اس وقت تک درست نہیں ہوسکتی اور نہ ان کی سوچ میں ٹھہراؤ پیدا ہو سکتا ہے جب تک انہیں اپنے اور اپنے رب کے درمیان اس رابطے کا یقین نہ ہوجائے کہ رب ان کا حاکم ہے اور وہ اس کے محکوم ہیں۔ رب خالق ہے اور وہ مخلوق ہیں ۔ رب ان کا مالک ہے اور وہ اس کے مملوک ہیں ۔ یہ سب بندے اور مخلوقات اپنی اس حیثیت میں ایک جیسے ہیں ۔ ان میں سے کوئی بھی اللہ کا بیٹا نہیں ہے ۔ کسی کے ساتھ اللہ کا امتزاج نہیں ہے اس لئے اللہ کے ساتھ کسی کی کوئی قرابت نہیں ہے ۔ الا یہ کہ کسی کے پاس ایمان اور عمل کی کوئی پونجی ہو اور وہ اس پونجی کو اللہ کے سامنے قلبی رجحان کے ساتھ پیش کرے اور یہ تقرب وہ ہے جو اللہ کے ساتھ اس کی مخلوق میں ہر شخص حاصل کرسکتا ہے ۔ رہی یہ بات کہ کوئی اللہ کا بیٹا ہے یا یہ کہ کسی کے ساتھ اللہ نے امتزاج اختیار کرلیا ہے تو یہ کسی بشر کو بھی حاصل نہیں ہے ۔ جب تک لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں یہ حقیقت نہیں بیٹھ جاتی کہ وہ سب کے سب ایک ہی رب کے بندے اور غلام ہیں ‘ اس وقت تک ان کی زندگی درست ہو سکتی ہے ‘ نہ ان کے باہمی رابطے قائم ہو سکتے ہیں اور نہ وہ فرائض حیات کو اچھی طرح سرانجام دے سکتے ہیں ۔ اس تصور کا نتیجہ یہ ہے کہ احکم الحاکمین کے ساتھ سب کا موقف برابر فاصلے پر ہوگا اور اس کے ساتھ قرب حاصل کرنا سب کیلئے کھلا ہوگا ۔ یوں تمام بنی نوع انسان کے درمیان مرتبہ کے اعتبار سے مکمل مساوات ہوگی ۔ اس طرح کہ مالک الملک کے ساتھ ان کا فاصلہ برابر ہوگا اور یہاں پر وہ کھوٹا اور غلط دعوی بالکل باطل ہوجائے گا کہ یہاں اللہ اور بندے کے درمیان کوئی واسطہ بھی ہو سکتا ہے ۔ اس تصور کے مطابق کسی فرد یا کسی نسب یا کسی طبقہ حاکمہ کی جانب سے اپنے لئے حاصل کردہ وہ تمام حقوق بےاصل ہوجاتے ہیں کہ وہ دوسرے لوگوں سے رب کے ساتھ تعلق کے حوالے سے کسی طرح ممتاز ہیں۔ اس تصور کے سوا عوام الناس کے اندر حقیقی مساوات قائم نہیں ہوسکتی نہ انسانوں کا کوئی نظام حیات یا انکی کوئی سوسائٹی اصول مساوات پر قائم ہوسکتی ہے ۔ اس لئے عقیدہ توحید اس نقطہ نظر سے محض ایک ایسا مسئلہ ہی نہیں رہتا کہ وہ ویک وجدانی تصور ہے جو کسی شخص کے قبل میں مضبوطی سے بیٹھ جائے اور بس ‘ بلکہ عقیدہ توحید ایک نظام زندگی ‘ معاشرتی رابطہ اور بنی نوع انسان کی مختلف نسلوں اور اقوام کے درمیان روابط یعنی سوشیالوجی اور بین الاقوامی مسئلہ بھی بن جاتا ہے ۔ حقیقت یہ ہے اسلام نے انسان کو عقیدہ توحید دیکر اسے ایک جدید زندگی اور نشاۃ ثانیہ عطا کی ہے ۔ اس کی رو سے انسان تمام انسانوں کی غلامی سے آزاد ہو کر صرف ایک رب ذوالجلال کا غلام بن جاتا ہے ۔ یہی سبب ہے کہ اسلام کی تاریخ میں کوئی ایسا کنیسہ قائم نہیں ہوا جو لوگوں کو اپنا محکوم اس تصور حیات کی اساس پر بنائے کہ وہ ابن اللہ کا نمائدہ ہے ۔ یا وہ اس اقنوم کا نمائندہ ہے جو لوگوں کو اپنا محکوم اس تصور حیات کی اساس پر بنائے کہ وہ ابن اللہ کا نمائندہ ہے ۔ یا وہ اس اقنوم کا نمائندہ ہے جو اللہ کے اقانیم کیلئے متمم ہے ۔ اس وجہ سے اسلامی تاریخ میں مسلمانوں پر تھیاکریسی کا نظام کبھی قائم نہیں ہوا جس میں کوئی بادشاہ اپنے لئے ظل اللہ فی الارض کا لقب اختیار کرے اس طرح کہ اسے حکومت کا حق من جانب اللہ ہے یا یہ کہ وہ از جانب اللہ قانون سازی کرسکتا ہے اس لئے کہ وہ اللہ کا قرابت دار ہے یا اللہ نے اپنے اختیارات اسے تفویض کردیئے ہیں ۔ کنیسہ اور پوپ نے اپنے لئے یہ حق محفوظ کئے رکھا ۔ اسی طرح پیٹر کے پیرو بھی اپنے لئے اس حق کا دعوی کرتے تھے ۔ یہ حق یورپ میں ابنیت اور امتزاج اقانیم کے نظریات کے تحت لوگ اپنے لئے مخصوص کرتے رہے ۔ جب صلیبیوں نے مسلمانوں کے خلاف جنگیں شروع کیں اور مسلمانوں سے لڑتے رہے ۔ تو وہ صلیبی جنگوں میں شکست کے ساتھ ساتھ اسلام کے نظریہ توحید سے بھی شکست کھا گئے ، ان جنگوں کے نتیجے میں یورپ کے اندر تحریک اصلاح مذہب شروع ہوگئی اور مارٹن لوتھر ‘ کالون اور زنجلی کی تحریکات شروع ہوئیں ۔ جنہوں نے کنیسہ کے باطل تصورات کی دھجیاں بکھیر دیں ۔ یہ سب مصلحین اسلام کے سیدھے سادھے تصور حیات سے متاثر ہوئے ۔ انہوں نے انسان کے تقدس کے نظریے یا اس تصور کی نفی کی کہ اللہ نے اپنے اختیارات کسی کو تفویض کئے ہیں اس لئے کہ انہوں نے دیکھا کہ اسلام میں ایک الہ ہے اور مقابلے میں تمام لوگ بندے ہیں اور ان کے درمیان کوئی واسطہ نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں قرآن کریم میں الوہیت مسیح کے نظریہ کی فیصلہ کن انداز میں تردید کردی گئی ۔ اسی طرح روح القدس کی خدائی کی بھی تردید کردی کہ وہ اقانیم ثلاثہ میں سے ایک ہیں ۔ غرض کسی شکل میں بھی کسی کیلئے نظریہ الوہیت کی تردید کردی گئی چاہئے کوئی یہ نظریہ کسی کیلئے بھی اختیار کرے ۔ قرآن کریم فیصلہ کن انداز میں یہ اعلان کرتا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم اللہ کے بندے ہیں اور انہوں نے کبھی بھی اللہ کا بندہ ہونے کو اپنے لئے عار نہیں سمجھا اسی طرح ملائکہ مقربین بھی اللہ کے بندے ہیں اور انہوں نے بھی اپنے لئے اپنی اس حیثیت کو کبھی عار نہیں سمجھا تمام مخلوقات اس کی بندگی میں ہے اور عنقریب انکو اللہ کے سامنے اجتماعی طور پر اٹھایا جائے گا ۔ جو لوگ اللہ کی بندگی کو اپنے لئے عار اور توہین سمجھتے ہیں وہ عذاب الیم کا انتظار کریں اور جو لوگ اپنے آپ کو اللہ کا بندہ و غلام سمجھتے ہیں وہ انعام واکرام کے امیدوار ہوں۔ (آیت) ” لن یستنکف المسیح ان یکون عبداللہ ولا الملئکۃ المقربون ومن یستنکف عن عبادتہ ویستکبر فسیحشرھم الیہ جمیعا (١٧٢) فاما الذین امنوا وعملوا الصلحت فیوفیھم اجورھم ویزیدھم من فضلہ واما الذین استنکفوا واستکبروا فیعذبھم عذابا الیما ، ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیا ولا نصیرا (١٧٣) (٤ : ١٧٢۔ ١٧٣) ” ” مسیح نے کبھی اس بات کو عار نہیں سمجھا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو اور نہ مقرب ترین فرشتے اس کو اپنے لئے عار سمجھتے ہیں ، اگر کوئی اللہ کی بندگی کو اپنے لئے عار سمجھتا ہے اور تکبر کرتا ہے تو ایک وقت آئے گا جب اللہ سب کو گھیر کر اپنے سامنے حاضر کرے گا ۔ اس وقت وہ لوگ جنہوں نے ایمان لا کر نیک طرز عمل اختیار کیا ہے اپنے اجر پورے پورے پائیں گے اور اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید اجر عطا فرمائے گا ۔ اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ہے ان کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی ومددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ‘ ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے ۔ “ حضرت مسیح ابن مریم اپنے آپ کو اللہ کی بندگی کے مقام سے بلند نہیں سمجھتے ۔ اس لئے کہ وہ اللہ کے نبی اور رسول ہیں ۔ وہ تمام لوگوں سے زیادہ مقام الوہیت اور مقام عبودیت سے واقف ہیں ۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ الوہیت اور عبودیت الگ الگ حقائق ہیں اور ان کے درمیان امتزاج ممکن نہیں ہے ۔ وہ سب سے زیادہ جانتے تھے کہ وہ اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں اور اللہ کی درمیان امتزاج ممکن نہیں ہے ۔ وہ سب سے زیادہ جانتے تھے کہ وہ اللہ کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہیں ‘ اور اللہ کی مخلوق اللہ جیسی نہیں ہو سکتی ۔ نہ وہ اللہ کا جزو ہو سکتی ہے اور وہ سب سے زیادہ اس بات کو اچھی طرح جانتے تھے کہ بندگی کے فرائض صرف اللہ کے سامنے بجا لائے جانے چاہئیں ۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے اللہ کی بندگی بجا لانا ایک حقیقت ہے اور اس کی اس قدر تاکید کی گئی ہے کہ اس میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہو سکتی اس لئے کہ اللہ کی بندگی کا انکار صرف کافر کرسکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی تخلیق اور انشاء کو نہیں مانتے اور یہ کہ بندگی وہ مرتبہ ہے اور وہ اعزاز ہے جو اللہ اپنے رسولوں کو اس وقت دیتے ہیں جب وہ اعلی اور افضل مراتب پر فائز ہوتے ہیں ۔ یہی حال ملائکہ مقربین کا ہے جن میں روح القدس شامل ہیں ۔ ان کا حال بھی یہی ہے جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور تمام دوسرے رسل کا ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں ۔ لہذا اب حضرت مسیح کے ان پیروکاروں کو کیا کہا جاسکتا ہے کہ وہ حضرت مسیح کے حوالے سے اس بات کی نفی کرتے ہیں جس کے وہ خود مقرر ہیں ۔ (آیت) ” ومن یستنکف عن عبادتہ ویستکبر فسیحشرھم الیہ جمیعا (٤ : ١٧٢) (اگر کوئی اللہ کی بندگی کو اپنے لئے عار سمجھتا ہے اور تکبر کرتا ہے تو ایک وقت آئے گا جب اللہ سب کو گھیر کر اپنے سامنے حاضر کرے گا) اس لئے اگر وہ خدا کی بندگی کو اپنے لئے عار سمجھتے ہیں اور اللہ کے مقابلے میں بڑائی کرتے ہیں تو ان فعل انہیں اللہ کے سامنے لا کھڑا ہونے سے ہر گز نہ بچاسکے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ تمام لوگوں پر حاکم مطلق ہے اور اللہ کی حاکمیت کے مقابلے میں مقرب بندے اور تمام لوگ ایک ہی جیسے ہیں۔ جن لوگوں نے حق کو پہچان لیا اور انہوں نے اللہ کی عبودیت کا اقرار کرلیا اور انہوں نے نیک کام کئے ‘ اس لئے کہ نیک کام کرنا اللہ کی عبودیت کے اقرار کا لازمی ثمرہ ہے تو اللہ تعالیٰ انہیں ان کے صلہ پورا پورا دے گا اور اس صلے سے مزید ان پر اپنا فضل بھی کرے گا ۔ (آیت) ” واما الذین استنکفوا واستکبروا فیعذبھم عذابا الیما ، ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیا ولا نصیرا (٤ :۔ ١٧٣) ”(اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ہے ان کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی ومددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ‘ ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے) اللہ تعالیٰ اپنی مخلوقات کی جانب سے بندگی کا اقرار اور اس کی بندگی و عبادت کا مطالبہ اس لئے نہیں کرتے کہ اللہ کو ان کے اقرار غلامی یا بندگی کی کوئی خاص ضرورت ہے ۔ وہ تو غنی بادشاہ ہے یا یہ کہ اگر یہ لوگ بندگی کریں گے تو اس کی حکومت اور سلطنت میں کوئی اضافہ ہوجائے گا یا یہ کہ اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو اس کی مملکت میں کوئی کمی ہوجائے گی ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا ارادہ یہ ہے کہ لوگ اللہ کی ربوبیت اور حاکمیت کا مفہوم سمجھ لیں ۔ وہ اپنے تصورات و عقائد کی تصحیح کرلیں اور وہ اپنے جذبات اور اپنے شعور کے اندر اصلاح کرلیں جس کے نتیجے میں ان کی زندگی اور زندگی کے طور طریقوں کی اصلاح از خود ہوجائے گی ۔ اس لئے کہ کوئی نظام زندگی اس وقت تک پرسکون اور پرامن نہیں ہو سکتا اور کوئی تصور اور عقیدہ اس وقت تک مستحکم اور مستقر نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنی بنیاد میں مستحکم نہ ہو ۔ زندگی کا کوئی تصور اور کوئی نظام اللہ کی حاکمیت اور اللہ کی بندگی کے بغیر مستحکم نہیں ہو سکتا اور نہ اس کے بغیر زندگی میں اچھے آثار نمودار کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ یہ حقیقت اپنے تمام پہلوؤں کے ساتھ جس کا بیان اوپر کردیا گیا ہے لوگوں کے ذہن نشین ہوجائے اور اس پر ان کی زندگی کا تفصیلی نقشہ مرتب ہوجائے تاکہ وہ انسانوں کی بندگی سے نکل کر صرف اللہ کی بندگی میں داخل ہوجائیں ۔ انہیں معلوم ہوجائے کہ اس پوری کائنات اور اس کرہ ارض پر اصل حاکم کون ہے ۔ وہ اس کے سوا کسی کے آئے نہ جھکیں ۔ وہ اسی کے نظام زندگی اور اسی کے منہاج کے پیرو ہوجائیں ۔ وہ اسی کی شریعت کی اطاعت کریں۔ صرف ان حکمرانوں کی اطاعت کریں جو اللہ تعالیٰ کا نظام زندگی نافذ کرنے والے ہوں ۔ اللہ کا ارادہ صرف یہ ہے کہ وہ یہ جان لیں کہ بندے سب کے سب اللہ کے بندے ہیں۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ اللہ کے بندے دوسرے لوگوں کے مقابلے میں سراٹھا کے چلیں اور اگر وہ سر جھکاتے ہیں تو صرف اللہ کے سامنے سرجھکائیں ۔ اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ لوگ جبار ‘ قہار اور اللہ کے باغی حکمرانوں کے مقابلے میں اپنی عزت نفس کا شعور حاصل کریں ۔ جب لوگ اللہ کے سامنے رکوع و سجود کریں تو ان کا فرض ہے کہ وہ صرف اللہ کو یاد کریں اور اللہ کے سوا کسی کو یاد نہ کریں ۔ اللہ تعالیٰ کی منشاء یہ ہے کہ یہ لوگ اچھی طرح سمجھیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب رشتہ داری اور نسب کی وجہ سے حاصل نہیں ہوتا ۔ یہ قرب صرف تقوی اور عمل صالح کی وجہ سے نصیب ہوتا ہے ۔ اس زمین کی تعمیر اور نیک کام اللہ کی قرابت اور نزدیکی کا باعث ہیں۔ اللہ یہ چاہتا ہے کہ لوگوں کو حقیقت ربوبیت اور حاکمیت کا ادراک ہو اور وہ اپنے مقام بندگی کو اچھی طرح پہچان لیں ۔ وہ اللہ کی حاکمیت کیلئے غیرت اور حمیت رکھتے ہوں اور جو شخص بھی اللہ کے حق حاکمیت میں شریک ہونا چاہتا ہے وہ اس کیلئے سد راہ بن جائیں اور تمام حقوق حاکمیت صرف اللہ کے ساتھ خاص کردیں ۔ اس طرح ان کی زندگی کی اصلاح ہوجائے گی ۔ وہ ترقی کریں گے ۔ اور اساس بندگی پر مکرم ہوں گے ۔ اس عظیم حقیقت کا ادراک ‘ تمام انسانوں کی جانب سے صرف اللہ کی طرف دیکھنا ‘ تمام لوگوں کے قلوب کا اللہ کے ساتھ مربوط ہوجانا ۔ تمام لوگوں کے اعمال کا خدا خوفی پر مبنی ہوجانا ‘ تمام لوگوں کے نظام زندگی کا سب کو چھوڑ چھاڑ کر اللہ کے اذن اور حکم پر مبنی ہوجانا وغیرہ یہ سب امور ہیں جو اس دنیا میں بھلائی آزادی ‘ عدل اور استقامت کا عظیم سرمایہ ہیں ۔ جس سے انسانیت کے سرمایہ میں اس دنیاوی زندگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اور آخرت میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ غرض یہ ایک ایسا سروسامان ہے جس سے اس دنیا میں حریت ‘ شرافت ‘ عدل اور استقامت کا دور دورہ ہوگا اور ایسے نیکو کار لوگوں کا انجام آخرت میں کیا ہوگا ‘ ان پر اللہ کا کرم ہوگا ان پر اس کا فضل خاص ہوگا ۔ اور وہ اللہ کے فیض خاص سے فیض یاب ہوں گے ۔ ہمارا فرض ہے کہ درج بالا نکات کی روشنی اسلام اور ایمان کے تقاضوں پر غور کریں ‘ اور یہ فیصلہ کریں کہ ایسا ایمان تمام رسولوں کی رسالتوں کی اساس رہا ہے ۔ بعد کے ادوار میں ایمان کی اس اصلی صورت میں تحریف اور تبدیلی ہوگئی ۔ ایمان کے اس حقیقی نقطہ نظر سے معلوم ہوگا کہ ایمان کے اس حقیقی نقطہ نظر سے معلوم ہوگا کہ ایمان لانے کی وجہ سے بشریت کو ایک نیا جنم نصیب ہوگا اور اس صورت میں ایمان مقام شرافت اور اعلان حریت ہوگا ۔ اس کے نتیجے میں عدل و انصاف کا قیام ہوگا اور انسان انسان کی بندگی اور غلامی سے نکل آئے گا ۔ جو لوگ اللہ کی بندگی کو اپنے آپ سے فرو تر سمجھتے ہیں اور پھر وہ اس کرہ ارض پر دوسری لا تعداد اور نہ ختم ہونے والی بندگیوں میں پھنس جاتے ہیں ‘ آخر کار وہ اپنی نفسانی خواہشات کے بندے بن جاتے ہیں ۔ پھر وہ ادہام اور خرافات کے غلام بن جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے جیسے انسانوں کے غلام بن جاتے ہیں اور پھر ان کی پیشانیاں ان انسانوں کے سامنے جھکتی ہیں پھر ان کی زندگی میں ان کے نظم ونسق میں ‘ ان کے قانون میں ‘ اور ان کے حسن وقبح کے پیمانوں پر بھی انہی جیسے انسان حاکم ہوجاتے ہیں حالانکہ حقیقت نفس الامری میں وہ دونوں برابر اور ایک جیسے انسان ہوتے ہیں لیکن اس طرح غیر اللہ کی اطاعت کرکے انہوں نے غیر اللہ کو اپنا الہ تسلیم کرلیا ۔ یہ تو ان کی پوزیشن ہوگی ہیں اس دنیا میں کہ وہ اپنے جیسے لوگوں کے غلام ہوگئے اور آخر میں انکی پوزیشن یہ ہوگی ۔ (آیت) ” فیعذبھم عذابا الیما ، ولا یجدون لھم من دون اللہ ولیا ولا نصیرا (١٧٣) (٤ : ١٧٣) ”(ان کو اللہ دردناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی ومددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ‘ ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے) اسلامی نظریہ حیات میں یہ ایک اہم مسئلہ ہے جسے قرآن نے اس آیت میں پیش کیا ہے ۔ اس کے ذریعے اس وقت اہل کتاب یعنی یہود ونصاری کی تردید کی گئی ہے اور اب قیامت تک یہ ہمارے لئے سنگ میل ہے ۔ سابقہ سبق میں یہودیوں پر تنقید کرکے بتایا گیا تھا کہ لوگو ! حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر اللہ گواہ ہیں جس کی شہادت قطعی برہان ہے ۔ اسی طرح یہاں نصاری کی تردید کرکے پھر تمام لوگوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ یہ رسالت اللہ کی جانب سے برہان ہے ۔ اور یہ ایک نئی روشنی ہے جس سے جہالت کی تاریکیاں چھٹ جائیں گی اور تمام شبہات دور ہوجائیں گے ۔ جس شخص نے اس سے ہدایت حاصل کی اور اسے پختگی سے پکڑا تو اس پر اللہ کی رحمت ہوگی اور اللہ کا فضل اس کے شامل حال ہوگا اور اس روشنی اور ہدایت میں وہ صراط مستقیم پائے گا ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اہل ایمان کی جزاء اور اہل کفر کی سزا کا ذکر اسباب النزول صفحہ ١٨٠ میں لکھا ہے کہ نجران کے نصاریٰ کا جو وفد آیا تھا انہوں نے کہا تھا کہ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہمارے صاحب کو عیب لگاتے ہیں آپ نے فرمایا تمہارا صاحب کون ہے ؟ انہوں نے کہا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں آپ نے فرمایا وہ کون سی بات ہے جو میں ان کے بارے میں کہتا ہوں جسے تم ان کے بارے میں عیب سمجھتے ہو انہوں نے کہا کہ آپ کا کہنا ہے کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں آپ نے فرمایا کہ عیسیٰ کے لیے یہ عار نہیں ہے کہ وہ اللہ کا بندہ بنیں وہ کہنے لگے (ہمارے خیال میں تو) یہ ان کے لیے عار ہے اس پر آیت شریفہ (لَنْ یَّسْتَنْکِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّکُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰہِ ) نازل ہوئی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جب دنیا میں تھے انہوں نے اللہ ہی کی عبادت کی دعوت دی اور اللہ ہی کو اپنا اور سب کا رب بتایا اور اپنے کو اللہ کا بندہ بتایا۔ سورة آل عمران میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ارشاد نقل فرمایا ہے جو انہوں نے بنی اسرائیل سے خطاب کرکے فرمایا تھا (اِنَّ اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ) (بلاشبہ اللہ میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے سو تم اس کی عبادت کرو یہ سیدھا راستہ ہے) سورة مریم میں ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے (جبکہ وہ نومولود ہی تھے) حاضرین سے فرمایا (اِنِّیْ عَبْدُ اللّٰہِ ) (میں اللہ کا بندہ ہوں) پہلا کلمہ جو ان کی زبان سے نکلا وہ یہی تھا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اور سورة مائدہ میں ہے (وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ اعْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَ مَاْوٰہُ النَّار) (اور مسیح نے کہا اے بنی اسرائیل اللہ کی عبادت کرو جو میرا رب ہے اور تمہارا رب ہے بلاشبہ جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرے تو اللہ نے اس پر جنت حرام فرما دی اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے) جس کسی بھی بندہ کو اللہ کی معرفت حاصل ہو وہ اللہ کی ربوبیت اور اپنی عبدیت کا اعتراف کرتا ہے، اور جیسے جیسے معرفت بڑھتی جاتی ہے، عبدیت کا اقرار بھی بڑھتا جاتا ہے۔ اور ہر عارف کو اس بات پر فخر ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں تمام انبیاء کرام اور تمام فرشتے ساری مخلوق سے بڑھ کر معرفت الٰہیہ کی نعمت سے مشرف ہیں اور ان سب کو اس بات کا اعتراف ہے اور اس بات پر فخر ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں سید المخلوقات خاتم النّبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جگہ جگہ اپنا بندہ بتایا اور اپنی طرف نسبت فرما کر آپ کو مشرف فرمایا۔ ارشاد ہے : (سُبْحَانَ الَّذِیْٓ اَسْرٰی بعَبْدِہٖ ) اور ارشاد ہے (تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ ) اور فرمایا (فَاَوْحٰی اِِلٰی عَبْدِہٖ مَا اَوْحٰی) درحقیقت کسی مخلوق کے لیے اس سے بڑھ کر کوئی شرف نہیں کہ اسے بندگی کی نعمت حاصل ہو اور وہ اللہ کا بندہ بن جائے۔ دیگر حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھی اللہ جل شانہٗ نے وصف عبدیت کے ساتھ یاد فرمایا۔ سورة صٓ میں ہے (وَاذْکُرْ عَبْدَنَا دَاوُودَ ذَا الْاَیْدِ اِِنَّہٗ اَوَّابٌ) اور فرمایا (وَاذْکُرْ عَبْدَنَا اَیُّوْبَ ) اور فرمایا (وَاذْکُرْ عِبَادَنَا اِبْرَاھِیْمَ وَاِِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ اُوْلِی الْاَیْدِیْ وَالْاَبْصَارِ ) جبکہ اللہ کا بندہ ہونا سب سے زیادہ فخر اور شرف کی بات ہے کوئی نبی اور فرشتہ اس کو اپنے لیے کیسے عار سمجھ سکتا ہے کہ وہ اللہ کا بندہ ہونے کا اقرار کرے، کوئی شخص اللہ کا بندہ بن جائے اور اللہ اسے اپنا بندہ فرما کر خطاب فرمائے اس سے بڑھ کر کوئی شرف نہیں۔ وما احسن قول القائل و مما ذادنی عجبا وتیھا و کدت باخمصی اطا الثریا دخولی تحت قولک یا عبادی واَن صیرت احمد لی نبیا مخلوق اور مملوک ہونے کے اعتبار سے تو سبھی اللہ کے بندے ہیں لیکن اپنے علم و معرفت اور اقرار و اعتراف کے ساتھ جو اپنے بندہ ہونے کا اقرار کرے اور اس کو فخر جانے اور اپنے عمل سے عبدیت کا مظاہرہ کرے یہ سب سے بڑا شرف ہے اور کسی مخلوق کی ذلت اس سے بڑھ کر نہیں کہ وہ غیر اللہ کی بندگی کرے اور اللہ کے سوا کسی کا بندہ نہ بنے جو لوگ اللہ کا بندہ نہیں بنتے وہ مخلوق کے سامنے سر جھکاتے ہیں اور تراشیدہ بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ العیاذ باللہ۔ نصاریٰ کی یہ جہالت کی بات تھی کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہونے کو عار سمجھا اللہ جل شانہٗ نے فرمایا کہ مسیح اور تمام فرشتے ان کو ہرگز اس بات سے عار نہیں کہ وہ اللہ کے بندے ہیں انہیں اللہ کا بندہ ہونے کا اقرار ہے۔ اور فرمایا (وَ مَنْ یَّسْتَنْکِفْ عَنْ عِبَادَتِہٖ وَ یَسْتَکْبِرْ فَسَیَحْشُرُھُمْ اِلَیْہِ جَمِیْعًا) (الآیات) جو شخص اللہ کی بندگی سے استنکاف کرے یعنی اسے اپنے لیے عار سمجھے اور تکبر کرے تو وہ ان سب کو اپنی طرف جمع فرمائے گا۔ ) بندگی کا اقرار کرنے والوں اور خالق ومالک کی عبادت میں مشغول ہونے والوں کو پورے پورے اجر دے گا۔ اور مزید اپنے فضل سے بہت زیادہ عطا فرمائے گا اور جن لوگوں نے اللہ کا بندہ بننے کو اپنے لیے عار سمجھا اور تکبر کیا ان کو درد ناک عذاب دے گا اور وہاں کوئی حمایتی و مددگار نہ ملے گا۔ نصاریٰ کی تردید فرمانے کے بعد پھر تمام انسانوں کو خطاب فرمایا کہ (یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ قَدْ جَآءَ کُمْ بُرْھَانٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا) (اے لوگو ! بیشک آئی ہے تمہارے پاس دلیل تمہارے رب کی طرف سے اور ہم نے اتارا ہے تمہاری طرف واضح نور) برہان دلیل کو کہتے ہیں یہاں دلیل سے اور نور مبین سے کیا مراد ہے۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ اکثر مفسرین کا قول یہ ہے کہ دلیل سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی مراد ہے اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ اس سے قرآن مراد ہے۔ مفسر ابن کثیر نے ابن جریج کا اور صاحب درمنثور نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ نور مبین سے قرآن مجید مراد ہے۔ درحقیقت یہ کوئی اختلاف نہیں کیونکہ قرآن حجت بھی ہے اور نور مبین بھی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات گرامی بھی حجت اور نور مبین بھی ہے اللہ تعالیٰ شانہٗ نے خاتم النّبیین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معجزات کثیرہ کے ساتھ مبعوث فرمایا آپ کی ذات گرامی ساری مخلوق کے لیے اللہ کی طرف سے ایک حجت ہے اور آپ کے اوصاف اور کمالات اخلاق اور صفات اور نعوت اور آپ کی دعوت توحید اور دلائل توحید اس قدر واضح ہیں کہ کسی بھی شخص کے لیے جو اپنی عقل کو ذرا بھی استعمال کرے ان سے منحرف ہونے اور کفر اختیار کرنے کا کوئی بھی جواز نہیں ہے۔ آپ کی ذات گرامی حجت ہے اور نور مبین ہے کہ آپ نے کھول کر ہدایت کے راستے بتائے اور خیر و شر کا امتیاز واضح فرمایا پھر جس طرح آپ کی ذات گرامی لوگوں پر حجت ہے اور نور مبین ہے اسی طرح قرآن کریم بھی گمراہی معجزہ ہونے کے اعتبار سے لوگوں پر حجت ہے جس نے واضح طور پر توحید کے دلائل بیان کیے اور کافروں اور مشرکوں کی گمراہی بیان کی اور صالحین اور طالحین کا نجام بتایا اور حجت ہونے کے ساتھ ساتھ وہ نور مبین بھی ہے جس نے خالق ومالک کو راضی کرنے کے طریقے سکھائے احکام شرعیہ واضح فرمائے اور صلاح و فلاح کے راستے بتائے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

113 یہ وَلَا تَقُوْلُوْا ثَلَاثَۃ سے متعلق ہے استنکاف کے معنی ناک بھوں چڑھانے کے ہیں یعنی اس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی توہین یا تخفیف نہیں کیونکہ وہ تو خود اللہ کی عبادت سے نفرت نہیں کرتے اور اس کا بندہ اور عابد ہونے سے ناک بھوں نہیں چڑھاتے پھر تم انہیں کو معبود بناتے ہو یہی حال فرشتوں کا ہے وَمَنْ یَّسْتَنْکِف زجر ہے اور فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصّٰلحت بشارت اخروی ہے۔ وَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْکَفُوا الخ تخویف اخروی ہے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 حضرت مسیح کو ہرگز اس بات سے ننگ و عار نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ ہو یعنی اللہ تعالیٰ کا بندہ بننے سے مسیح کوئی عار نہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتے خدا کے بندے ہونے سے کوئی عار محسوس کرتے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی بندگی سے عار کرے گا اور اس کی بندگی سے سرکشی کرے گا تو سن لو ! کہ اللہ تعالیٰ ضرور سب عبادت گزاروں اور نافرمانوں کو اپنے پاس جمع کرے گا۔ استنکاف۔ کسی چیز کو برا سمجھنا ناک چڑھانا اپنی حمیت اور شان کے خلاف سمجھنا۔ مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح جن کو تم الوہیت میں شریک کر رہے ہو خود ان کی یہ حالت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ بننے سے کسی قسم کی برائی اور عار محسوس نہیں کرتے بلکہ خدا کا بندہ ہونا اپنے لئے موجب عزت سمجھتے ہیں اور یہی حالت ان فرشتوں کی ہے جو بارگاہ خداوندی میں مقرب ہیں مثلاً جبریل میکائیل ، اسرافیل اور عزرائیل وغیرہ فرشتوں کا ذکر شاید اس لئے فرمایا کہ کفار بھی ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں کہا کرتے تھے یا اس وجہ سے کہ نصاریٰ روح القدس کو مجموعہ اقانیم ثلاثہ کا ایک جزو سمجھتے تھے اور چونکہ مقربین ملائکہ میں روح القدس بھی ہیں اس کے مقرب فرشتوں میں ان کی طرف اشارہ ہو کہ جن اقانیم کا نام تم نے اللہ رکھا ہے ان کے اجزاء کی تو خود یہ حالت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بندہ بننے سے کوئی برا نہیں مانتے اور جب وہ خود اپنے کو بندہ کہتے ہیں تو تم ان کو کیوں خدائی میں شریک کرتے ہو۔ یہ شرکت بھی عجیب ہے کہ تم جن کو شریک بتاتے ہو وہ اپنے کو خدا کا بندہ کہتے ہیں اور عبودیت کا اقرار کرتے ہیں اور بات بھی یہ ہے کہ اس کی عبودیت سے انکار و اسنکاف ہی کون کرسکتا ہے کیونکہ جو شخص بھی اس کی عبادت سے ناک بھوں چڑھائے گا اور اپنی شان کے خلاف سمجھے گا اور اس کی عبادت اور عبودیت کے ماقبلہ میں سرکشی اور تکبر کرے گا تو یہ بات سن لو کہ ہم سب کو خواہ وہ عبادت گزار ہوں یا عبادت سے استنکاف و استکبار کرنے والے ہوں ان سب کو اپنے پاس جمع کریں گے چونکہ آگے تفصیل آرہی ہے اور دونوں گروہوں کا ذکر ہوا ہے اس لئے فسیحشرھم کی ضمیر کا مرجع ہم نے سب کو قرار دیا ہے اور ترجمہ میں سب اچھے برے کردیا ہے۔ بعض معتزلہ نے اس آیت سے ملائکہ کا بشر پر افضل ہونا ثابت کیا ہے حالانکہ آیت کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبودیت اور اس کی عبادت سے کوئی بھی عار نہیں کرتا خواہ وہ امام ہو یا ماموم خوا ہ کوئی کبیر ہو یا صغیر کوئی بزرگ ہو یاحقیر یہ مطلب نہیں ہے کہ معطوف معطوف علیہ سے شان میں برتر ہے جیسا کہ معتزلہ نے استدلال کیا ہے مزید تحقیق کے لئے بخاری کی شرح فتح الباری ملاحظہ کی جائے اور وہ بحث ملاحظہ کی جائے جو حدیث من ذکرنی کے تحت علامہ ابن حجر (رح) نیکی ہے اب آگے ہر دو فریق کی جزا و سزا کی تفصیل ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)