Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 174

سورة النساء

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَکُمۡ بُرۡہَانٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ نُوۡرًا مُّبِیۡنًا ﴿۱۷۴﴾

O mankind, there has come to you a conclusive proof from your Lord, and We have sent down to you a clear light.

اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے سند اور دلیل آپہنچی اور ہم نے تمہاری جانب واضح اور صاف نور اتار دیا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

The Description of the Revelation that Came From Allah Allah says; يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءكُم بُرْهَانٌ مِّن رَّبِّكُمْ ... O mankind! Verily, there has come to you a convincing proof from your Lord; Allah informs all people that a plain, unequivocal proof has come to them from Him. One that eradicates all possibility of having an excuse, or falling prey to evil doubts. Allah said, ... وَأَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا and We sent down to you a manifest light. that directs to the Truth. Ibn Jurayj and others said, "It is the Qur'an."

قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی مکمل دلیل اور حجت تمام ہے اللہ تبارک و تعالیٰ تمام انسانوں کو فرماتا ہے کہ میری طرف سے کامل دلیل اور عذر معذرت کو توڑ دینے والی ، شک و شبہ کو الگ کرنے والی برہان ( دلیل ) تمہاری طرف نازل ہو چکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف کھلا نور صاف روشنی پورا اجالا اتار دیا ہے ، جس سے حق کی راہ صحیح طور پر واضح ہو جاتی ہے ۔ ابن جریج وغیرہ فرماتے ہیں اس سے مراد قرآن کریم ہے ۔ اب جو لوگ اللہ پر ایمان لائیں اور توکل اور بھروسہ اسی پر کریں ، اس سے مضبوط رابطہ کر لیں ، اس کی سرکار میں ملازمت کر لیں ، مقام عبودیت اور مقام توکل میں قائم ہو جائیں ، تمام امور اسی کو سونپ دیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ پر ایمان لائیں اور مضبوطی کے ساتھ اللہ کی کتاب کو تھام لیں ان پر اللہ اپنا رحم کرے گا ، اپنا فضل ان پر نازل فرمائے گا ، نعمتوں اور سرور والی جنت میں انہیں لے جائے گا ، ان کے ثواب بڑھا دے گا ، ان کے درجے بلند کر دے گا اور انہیں اپنی طرف لے جانے والی سیدھی اور صاف راہ دکھائے گا ، جو کہیں سے ٹیڑھی نہیں ، کہیں سے تنگ نہیں ۔ گویا وہ دنیا میں صراط مستقیم پر ہوتا ہے ۔ راہ اسلام پر ہوتا ہے اور آخرت میں راہ جنت پر اور راہ سلامتی پر ہوتا ہے ۔ شروع تفسیر میں ایک پوری حدیث گذر چکی ہے جس میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ اللہ کی سیدھی راہ اور اللہ کی مضبوط رسی قرآن کریم ہے ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

174۔ 1 برہان ایسی دلیل قاطع جس کے بعد کسی کو عذر کی گنجائش نہ رہے اور ایسی حجت جس سے ان کے شبہات زائل ہوجائیں، اسی لئے آگے اسے نور سے تعبیر فرمایا۔ 174۔ 2 اس سے مراد قرآن کریم ہے جو کفر اور شرک کی تاریکیوں میں ہدایت کا نور ہے۔ ضلالت کی پگڈنڈیوں میں صراط مستقیم اور حبل اللہ المتین ہے۔ پس اس کے مطابق ایمان لانے والے اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے مستحق ہیں۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٢٣١] قرآن برہان کیوں ہے ؟ برہان ایسی واضح دلیل کو کہتے ہیں کہ فریقین کے درمیان فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہو۔ قرآن اس لحاظ سے برہان ہے کہ اس نے اپنے مخالب تمام کفار کو چیلنج کیا کہ && اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ اللہ کا کلام نہیں بلکہ کسی انسان کا کلام ہے تو تم سب مل کر اور ایک دوسرے کی مدد کر کے قرآن جیسی ایک سورت ہی بنا لاؤ && لیکن عرب بھر کے تمام فصحائ، بلغاء اور شعراء ایسا کلام پیش کرنے سے عاجز رہ گئے۔ اسی ایک چیلنج سے تین چیزوں کا ثبوت ملتا ہے اور یہ ثبوت بھی ایسا ہے جو فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے (١) وجود باری تعالیٰ کا ثبوت (٢) قرآن کے اللہ کا کلام ہونے کا ثبوت اور (٣) آپ کی نبوت کا ثبوت۔ اسی لحاظ سے قرآن کو برہان کہا گیا ہے۔ اور نورمبین اس لحاظ سے ہے کہ ہدایت انسانی یعنی دنیوی طریق زندگی اور اخروی نجات کے لیے زندگی کے ہر ہر پہلو پر روشنی ڈالنے والا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمْ بُرْهَانٌ۔۔ : جب اللہ تعالیٰ نے تمام گمراہ فرقوں کفار، منافقین، یہود و نصاریٰ پر دلائل قائم کردیے اور ان کے شکوک و شبہات کی بھی مکمل تردید فرما دی تو اب اس آیت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لانے کی عام دعوت دی کہ تمہارے پاس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نبی برحق ہونے کی واضح دلیل آچکی اور ہم نے حق کو واضح کرنے والا نور، یعنی قرآن مجید نازل فرما دیا جو انسان کو ضلالت کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لاتا ہے اور دل میں نور ایمان پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

After a refutation of beliefs held by Christians, specially those which ascribe Godhood to Jesus, alongwith the promise of reward for those who acknowledge the truth and punishment for those who insist on denying, the text turns to a universal address praising the blessed status and mission of His Messenger who taught what was the truth revealed to him, who conveyed the truth of the Qur&an admirably, and also those who believed in and testified to the truth of the Book and the Messenger. What is Burhan? The word, Burhan, appearing in verse قَدْ جَاءَكُم بُرْ‌هَانٌ مِّن رَّ‌بِّكُمْ proof has come to you from your Lord) lexically means proof refers to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . (Ruh al-Ma` ani) Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) says that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was referred to as &Burhan& in consideration of his blessed person, his noble morals, his miracles and his being the very recipient of the revelation of the Book of Allah. All these are open proofs of his prophethood beyond which there remains no need for any other proof. Thus, in summation, his person is, in itself, proof personified. As for the word, وَأَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورً‌ا مُّبِينًا (and We have sent down to you a vivid light) (174), it refers to the Holy Qur&an (Ruh al-Ma` ani) which also seems to be the case in Verse 15 of Surah al-Ma` idah (5): قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ‌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ (There has come to you from Allah a light and clear Book). In the explanatory translation of Maulana Ashraf Thanavi (رح) in Bayan al-Qur&an, the rendering of this verse appears as: &There has come to you from Allah a light and (which is) a clear Book (that is) the Qur&an.& In this verse, what has been first identified as &Nu-r& (light) has later been called &kitabum-mubin& (clear Book). Let there be no doubt at this point that the conjunction demands dissimilarity, therefore, Nur (light) and Kitab (book) cannot be one and the same thing. The answer is that dissimilarity in expression is sufficient, even though the mean¬ings are the same. (Ruh al-Ma` ani) And if &Nur& (light) is taken as referring to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and &Kitab& (the Book) to the Holy Qur&an - that will also be correct (Ruh al-Ma` ani). But, this does not go on to prove that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was Nur or light in the literal sense, therefore, it is not against his being physically human.

خلاصہ تفسیر اے (تمام) لوگو یقیناً تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک (کافی) دلیل آچکی ہے (وہ ذات مبارک ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی) اور ہم نے تمہارے پاس ایک صاف نور بھیجا ہے (وہ قرآن مجید ہے پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کے ذریعہ سے جو کچھ تم کو بتلایا جائے وہ سب حق ہے جن میں مضامین مذکورہ بھی داخل ہیں) سو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے (جس کے لئے توحید و تنزیہ کا اعتقاد لازم ہے) اور انہوں نے اللہ (کے دین) کو (یعنی اسلام کو) مضبوط پکڑا (جس کے لئے رسول اور قرآن کی تصدیق لازم ہے) سو ایسوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں یعنی جنت میں) داخل کریں گے اور اپنے فضل میں ( لے لیں گے یعنی دخول جنت کے علاوہ اور بھی نعمائے عظمی دیں گے جن میں دیدار الہی بھی داخل ہے) اور اپنے تک (پہنچنے کا) ان کو سیدھا راستہ بتلا دیں گے (یعنی دنیا میں ان کو طریق رضا پر قائم و ثابت رکھیں گے اور اسی سے تارک ایمان و اعمال صالحہ کی حالت معلوم ہوگئی کہ ان کو یہ ثمرات نہ ملیں گے۔ ) معارف ومسائل برہان سے کیا مراد ہے ؟: (قولہ تعالی) قدجآء کم برھان من ربکم برہان کے لفظی معنی دلیل کے ہیں، اس سے مراد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس ہے (روح) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس کو لفظ برہان سے اس لئے تعبیر فرمایا کہ آپ کی ذات مبارک اور آپ کے اخلاق کریمانہ، آپ کے معجزات اور آپ پر کتاب کا نزول، یہ سب چیزیں آپ کی نبوت اور آپ کی رسالت کے کھلے کھلے دلائل ہیں، جن کو دیکھنے کے بعد کسی اور دلیل کی احتیاج باقی نہیں رہتی تو یوں سمجھنا چاہئے کہ آپ کی ذات خود ہی ایک مجسم دلیل ہے۔ اور نور سے مراد قرآن مجید ہے (روح) جیسا کہ سورة مائدہ کی اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے قدجآء کم من اللہ نور و کتب مبین (٥: ٥١) ” یعنی تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشن چیز آئی ہے اور وہ ایک کتاب واضح یعنی قرآن ہے “ (بیان القرآن) اس آیت میں جس کو نر کہا گیا ہے آگے اسی کو کتاب مبین کہا گیا، یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ عطف تو تغائر کو چاہتا ہے لہٰذا نور اور کتاب ایک چیز نہیں ہو سکتے، اس لئے کہ تغائر عنوان کا کافی ہے اگرچہ مصداق اور معنون ایک ہی ہے (روح) اور اگر نور سے مراد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس ہو، اور کتاب سے مراد قرآن مجید ہو تو یہ بھی صحیح ہے (روح) لیکن اس سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایسا نور محض ہونا ثابت نہیں ہوتا جو بشریت اور جسمانیت کے منافی ہو۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ قَدْ جَاۗءَكُمْ بُرْہَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْكُمْ نُوْرًا مُّبِيْنًا۝ ١٧٤ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ بره البُرْهَان : بيان للحجة، وهو فعلان مثل : الرّجحان والثنیان، وقال بعضهم : هو مصدر بَرِهَ يَبْرَهُ : إذا ابیضّ ، ورجل أَبْرَهُ وامرأة بَرْهَاءُ ، وقوم بُرْهٌ ، وبَرَهْرَهَة «1» : شابة بيضاء . والبُرْهَة : مدة من الزمان، فالبُرْهَان أوكد الأدلّة، وهو الذي يقتضي الصدق أبدا لا محالة، وذلک أنّ الأدلة خمسة أضرب : - دلالة تقتضي الصدق أبدا . - ودلالة تقتضي الکذب أبدا . - ودلالة إلى الصدق أقرب . - ودلالة إلى الکذب أقرب . - ودلالة هي إليهما سواء . قال تعالی: قُلْ : هاتُوا بُرْهانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ [ البقرة/ 111] ، قُلْ : هاتُوا بُرْهانَكُمْ هذا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ [ الأنبیاء/ 24] ، قَدْ جاءَكُمْ بُرْهانٌ مِنْ رَبِّكُمْ [ النساء/ 174] . ( ب ر ہ ) البرھان کے معنی دلیل اور حجت کے ہیں اور یہ ( رحجان وثنیان کی طرح فعلان کے وزن پر ہے ۔ بعض کے نزدیک یہ برہ یبرہ کا مصدر ہے جس کے معنی سفید اور چمکنے کے ہیں صفت ابرہ مونث برھاء ج برۃ اور نوجوان سپید رنگ حسینہ کو برھۃ کہا جاتا ہے البرھۃ وقت کا کچھ حصہ لیکن برھان دلیل قاطع کو کہتے ہیں جو تمام دلائل سے زدر دار ہو اور ہر حال میں ہمیشہ سچی ہو اس لئے کہ دلیل کی پانچ قسمیں ہیں ۔ ( 1 ) وہ جو شخص صدق کی مقتضی ہو ( 2 ) وہ جو ہمیشہ کذب کی مقتضی ہو ۔ ( 3) وہ جو اقرب الی الصدق ہو ( 4 ) جو کذب کے زیادہ قریب ہو ( 5 ) وہ جو اقتضاء صدق وکذب میں مساوی ہو ۔ قرآن میں ہے ۔ قُلْ : هاتُوا بُرْهانَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صادِقِينَ [ البقرة/ 111] اے پیغمبر ان سے ) کہدو کہ اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو ۔ قُلْ : هاتُوا بُرْهانَكُمْ هذا ذِكْرُ مَنْ مَعِيَ [ الأنبیاء/ 24] کہو کہ اس بات پر ) اپنی دلیل پیش کرویہ ( میری اور ) میرے ساتھ والوں کی کتاب بھی ہے نزل النُّزُولُ في الأصل هو انحِطَاطٌ من عُلْوّ. يقال : نَزَلَ عن دابَّته، والفَرْقُ بَيْنَ الإِنْزَالِ والتَّنْزِيلِ في وَصْفِ القُرآنِ والملائكةِ أنّ التَّنْزِيل يختصّ بالموضع الذي يُشِيرُ إليه إنزالُهُ مفرَّقاً ، ومرَّةً بعد أُخْرَى، والإنزالُ عَامٌّ ، فممَّا ذُكِرَ فيه التَّنزیلُ قولُه : نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] وقرئ : نزل وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] ( ن ز ل ) النزول ( ض ) اصل میں اس کے معنی بلند جگہ سے نیچے اترنا کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نزل عن دابۃ وہ سواری سے اتر پڑا ۔ نزل فی مکان کذا کسی جگہ پر ٹھہر نا انزل وافعال ) اتارنا قرآن میں ہے ۔ عذاب کے متعلق انزال کا لفظ استعمال ہوا ہے قرآن اور فرشتوں کے نازل کرنے کے متعلق انزال اور تنزیل دونوں لفظ استعمال ہوئے ہیں ان دونوں میں معنوی فرق یہ ہے کہ تنزیل کے معنی ایک چیز کو مرۃ بعد اخریٰ اور متفرق طور نازل کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اور انزال کا لفظ عام ہے جو ایک ہی دفعہ مکمل طور کیس چیز نازل کرنے پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ وہ آیات ملا حضہ ہو جہاں تنزیل لا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ [ الشعراء/ 193] اس کو امانت دار فر شتہ لے کر اترا ۔ ایک قرات میں نزل ہے ۔ وَنَزَّلْناهُ تَنْزِيلًا[ الإسراء/ 106] اور ہم نے اس کو آہستہ آہستہ اتارا نور ( روشنی) النّور : الضّوء المنتشر الذي يعين علی الإبصار، وذلک ضربان دنیويّ ، وأخرويّ ، فالدّنيويّ ضربان : ضرب معقول بعین البصیرة، وهو ما انتشر من الأمور الإلهية کنور العقل ونور القرآن . ومحسوس بعین البصر، وهو ما انتشر من الأجسام النّيّرة کالقمرین والنّجوم والنّيّرات . فمن النّور الإلهي قوله تعالی: قَدْ جاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتابٌ مُبِينٌ [ المائدة/ 15] ، وقال : وَجَعَلْنا لَهُ نُوراً يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُماتِ لَيْسَ بِخارِجٍ مِنْها [ الأنعام/ 122] ( ن و ر ) النور ۔ وہ پھیلنے والی روشنی جو اشیاء کے دیکھنے میں مدد دیتی ہے ۔ اور یہ دو قسم پر ہے دینوی اور اخروی ۔ نور دینوی پھر دو قسم پر ہے معقول جس کا ادراک بصیرت سے ہوتا ہے یعنی امور الہیہ کی روشنی جیسے عقل یا قرآن کی روشنی دوم محسوس جسکاے تعلق بصر سے ہے جیسے چاند سورج ستارے اور دیگر اجسام نیزہ چناچہ نور الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ قَدْ جاءَكُمْ مِنَ اللَّهِ نُورٌ وَكِتابٌ مُبِينٌ [ المائدة/ 15] بیشک تمہارے خدا کی طرف سے نور اور روشن کتاب آچکی ہے ۔ وَجَعَلْنا لَهُ نُوراً يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَنْ مَثَلُهُ فِي الظُّلُماتِ لَيْسَ بِخارِجٍ مِنْها [ الأنعام/ 122] اور اس کے لئے روشنی کردی جس کے ذریعہ سے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے کہیں اس شخص جیسا ہوسکتا ہے ۔ جو اندھیرے میں پڑا ہو اور اس سے نکل نہ سکے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ١٧٤ (یٰٓاَیُّہَا النَّاسُ قَدْ جَآءَ کُمْ بُرْہَانٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ ) یہ قرآن مجید اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دونوں کی طرف اشارہ ہے۔ قرآن اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مل کر برہان ہوں گے۔ تعارف قرآن کے دوران ذکر ہوچکا ہے کہ کتاب اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مل کر بیّنہ بنتے ہیں ‘ جیسا کہ سورة البیّنہ (آیات ١ تا ٣) میں ارشاد ہوا ہے۔ آیت زیر مطالعہ میں اسی بیّنہکو برہان کہا گیا ہے۔ یہاں چونکہ نور کے ساتھ لفظ انزال آیا ہے اس لیے اس سے مراد لازماً قرآن مجید ہی ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(174 ۔ 175) ۔ اوپر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اللہ کا رسول اور قرآن کا کلام ہونا ثابت فرما کر اس آیت میں اہل مکہ۔ اہل کتاب اور سب لوگو کو فرمایا اے لوگوں پاس یہ اللہ کا رسول اللہ کا کلام لے کر آئے ہیں جو ان کی پیروی کرے گا دنیا میں اللہ اس کو سیدھے راستہ پر قائم رکھے گا اور عقبیٰ میں اس کو جنت میں داخل کرے گا۔ یہاں یہ بات محذوف ہے کہ جو کوئی ایسا نہ کرے گا وہ ایسے وقت پر پچھتائے گا جس وقت کا پچھتانا اس کے کچھ کام نہ آئے گا صحیح روایتوں ٢ میں ہے کہ جس نے قرآن اور اللہ کے رسول کی نست کو مضبوط پکڑا اس نے نجات کا راستہ ڈھونڈ لیا۔ اس آیت میں برھان سے مطلب اللہ کے رسول کی ذات ہے کیونکہ آپ کا ہر ایک معجزہ آپ کی نبوت کی ایک سند ہے اور نُوْرٌمُبِیْنٌ سے قرآن مراد ہے۔ کیونکہ جس طرح اندھیرے میں روشنی سے آدمی کو راستہ نظر آنے لگتا ہے۔ اسی طرح قرآن سے آدمی کو نجات کا راستہ نظر آنے لگتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 جب اللہ تعالیٰ نے تمام فرق ضالتہ منافقین کفار یہود نصاری ٰ پر دلائل قائم کر دئے اور ان کے شہبات کی بھی مکمل طور پر تر دید فرمادی تو اب اس آیت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت پر ایمان لانے کی عام دعوت دی ہے یہاں ابران سے مراد آنحضر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات ہے کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کام ہی اثبات حق اور ابطال اور البطال باطل تھا۔ اور نووامبینا سے مراد قرآن پاک ہے جو انسانوں کو ضلالت کے اندھروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی کی طرف لاتا ہے اور دل میں نو ایمان پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے (راز ی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 174-175 لغات القرآن : برھان، دلیل۔ نور مبین، کھلا نور۔ فضل، رحمت، کرم۔ تشریح : برہان قاطع یعنی وہ دلیل جو انتہائی واضح ہو۔ جو اپنے مخالف تمام بحثوں کو کاٹ کر رکھ دے۔ جسے مانے بغیر چارہ نہ رہے۔ یہ برہان خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات بابرکات ہے۔ آپ کی صورت و سیرت ، لگن و مگن ، اخلاق اور شیریں زبانی، آپ کی محنت اور مشقت، آپ کی ضان فشانی اور قربانی، آپ کی قیادت اور نظامت، آپ کی سیاست اور حکومت ، آپ کا صلح و جنگ ، آپ کی تبلیغ و تنظیم اور جہاد و قتال، آپ کی محبت اور معافی غرض جس پہلو سے بھی دیکھئے آپ کی ذات ایک معجزہ ہے۔ کیا اس دلیل کے بعد کسی دلیل کی ضرورت ہے ؟ خصوصاً جب کہ اس برہان کے ساتھ نور مبین بھی ہے یعنی قرآن کریم جو صحیح راستہ دکھانے والی روشنی ہے۔ اب جب کہ برہان یعنی پیغمبر بھی ہے اور نور مبین یعنی قرآن کریم بھی ہے، تو اے لوگو ! تم اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کی راہ میں تن من دھن سے ڈٹ جاؤ۔ اللہ تمہیں اپنی رحمت اور بخشش خاص میں داخل کرے گا۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ وہ ذات مبارک ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی۔ 6۔ وہ قرآن مجید ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اس سورت کی ابتداء بھی ” یَاَ ایُّھَا النَّاسُ “ کے الفاظ سے ہوئی تھی۔ اور اختتام بھی انھی الفاظ اور مسائل سے کیا جارہا ہے۔ اس سورة مبارکہ میں یہود و نصاریٰ اور مومنوں کے ساتھ تیسری مرتبہ تمام لوگوں کو دعوت عام دی گئی ہے کہ اے لوگو ! ادھر ادھر کے اعمال اور عقائد کی اتباع چھوڑ کر صرف اس برہان کی پیروی اور واضح روشنی کے پیچھے چلو جو تمہارے لیے دو جہاں کے راستوں کو منور کر دے گی۔ برہان سے مراد مفسرین نے رسول مکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اور نور سے مراد قرآن مجید کی تعلیمات لی ہیں۔ رسول کی آمد کے بعد لوگوں کے پاس اللہ تعالیٰ کی عدالت عظمیٰ میں حجت ختم ہوجاتی ہے۔ اللہ کا رسول آچکا اور اس نے زندگی کے تمام شعبوں میں قرآن مجید پر عمل کرکے دکھلا دیا۔ لہٰذا لوگوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائیں یعنی اس کی توحید کو سمجھیں اور اس کے تقاضے پورے کریں اور قرآن و سنت کے ساتھ اعتصام کرتے ہوئے اپنی زندگی سنواریں۔ جس کے بدلے اللہ تعالیٰ انھیں اپنے فضل و کرم سے نوازتے ہوئے صراط مستقیم پر گامزن رہنے کی توفیق دے گا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ١٧٤۔ (آیت) ” یایھا الناس قد جآء کم برھان من ربکم “۔ (٤ : ١٧٤) (” لوگو ! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلیل روشن آگئی ہے “ قرآن کریم ایک ایسا کلام ہے جس کے اندر ایسے شواہد موجود ہیں کہ وہ کسی انسان کا کلام نہیں ہے ۔ اس کے اندر ربانی کاریگری کے شواہد پائے جاتے ہیں اور اس کو یہ شواہد انسانوں کے کلام سے ممتاز کرتے ہیں۔ کلام الہی میں الفاظ کی نشست وبرخاست اور روانی قابل دید ہوتی ہے ۔ اور کلام اللہ کی فصاحت اور بلاغت ایک ایسا معاملہ ہے کہ جس سے نہ صرف یہ کہ انکار نہیں کیا جاسکتا بلکہ بعض واقعات ایسے بھی دیکھنے میں آئے ہیں جو ناقابل یقین نظر آتے ہیں مثلا وہ لوگ جو عربی زبان سے بالکل ناواقف ہیں وہ بھی جب قرآن مجید کی تلاوت سنتے ہیں تو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے ۔ ایک دفعہ کا واقعہ ہے کہ ہم لوگ بحری جہاز پر سوار تھے ۔ بحراوقیانوس میں جانب امریکہ سفر کر رہے تھے ۔ ہم نے عرشہ پر جمعہ کی نماز کا اہتمام کیا ۔ ہم میں سے چھ آدمی مختلف عرب ممالک کے باشندے تھے اور کچھ دوسری قومیتوں اور نوبہ کے حبشی بھی تھے جو جہاز کے عملے میں شامل تھے ۔ میں نے خطبہ دیا اور خطبے میں قرآن کریم کی بعض آیات تلاوت کیں ۔ اس جہاز کے تمام باشندے ہمارے نماز کے اس اجتماع کو گھیرے ہوئے تھے ۔ یہ مختلف قومیتوں کے لوگ تھے ۔ غور سے دیکھ رہے تھے ۔ نماز کے بعد بہت سے لوگ ہمارے پاس آتے اور اپنے تاثرات بیان کرتے رہے ۔ لیکن ان میں یوگوسلاویہ کی ایک محترمہ بہت ہی متاثر تھی ۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے وہ اپنی وہ اپنی کمزور انگریزی میں ہم سے یوں کہنے لگی کہ تمہاری عبادت کے اندر جو خشوع و خضوع ہے میں اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکی ۔ مجھے تمہاری زبان کا ایک لفظ بھی نہیں آتا لیکن اس زبان کے اندر ایک ایسا صوتی ترنم ہے جو کبھی دیکھنے میں نہیں آیا ۔ اس کے بعد اس نے کہا کہ خطیب کے خطبہ میں بعض جملے نہایت ہی ممتاز ہیں اور ان کا مجھ پر بہت ہی اثر ہوا ہے ۔ میں سمجھ گیا کہ وہ خاص فقرے قرآنی آیات کے وہ حصے اور ٹکڑے تھے جو اپنی فصاحت وبلاغت کے اندر نہایت ہی ممتاز ہوتے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ جو لوگ عربی نہیں جانتے ان کے ہاں یہ قاعدہ کلیہ ہے اور ہر قاری کی تلاوت قرآن کا سامعین پر ضرور ایسا ہی اثر ہوتا ہے لیکن اس میں شک نہیں ہے کہ یہ قرآن کا بالکل ایک واضح وصف ہے کہ اس کی آواز ایسے لوگوں کو بھی مسحور کردیتی ہے جو بالکل عربی نہیں جانتے ۔ رہے وہ لوگ جو عربی کا خاص ذوق رکھتے ہیں اور جو عربی کے مختلف اسالیب سے واقف ہیں ‘ ان پر قرآن کے اثرات کی عجیب و غریب حکایات تاریخ کا حصہ ہیں ۔ جب حضور خود اہل کعبہ پر قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تھے ۔ تو اخنس ابن شریق ‘ ابو سفیان ابن حرب ‘ اور ابو جہل کا قصہ بہت ہی مشہور ہے ۔ سیرت ابن ہشام میں اس کی تفصیلات مذکور ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک رات ابوسفیان ابن حرب ‘ ابوجہل اور اخنس ابن شریق ثقفی ‘ بنی زہرہ کے حلیف رات کے وقت اپنی اپنی جگہ سے چل پڑے تاکہ حضور کا کلام سنیں جبکہ آپ رات کے وقت اپنے گھر میں نماز کے وقت تلاوت فرماتے تھے ۔ ہر شخ ایک بیٹھ گیا اور قرآن کریم کی تلاوت سے لطف اندوز ہوتا رہا ۔ ان میں سے کسی کو بھی دوسرے کے بارے میں خبر نہ تھی ۔ وہ رات کے وقت کلام الہی سنتے رہے یہاں تک کہ فجر طلوع ہوگئی ۔ جب واپس ہونے لگے تو یہ سب ایک دوسرے سے راستے میں مل گئے ۔ انہوں نے ایک دوسرے کو سخت سست کہا اور یہ بات نوٹ کی گئی کہ اگر کسی عام شخص نے دیکھ لیا تو وہ اس تحریک کا شکار ہوجائے گا ‘ پھر وہ واپس چلے گئے ، جب دوسری رات ہوئی تو پھر تینوں نہ رہ سکے اور پھر اپنے اپنے خفیہ مقامات پر بیٹھ گئے ‘ رات کو قرآن کریم سنتے رہے ‘ جب صبح ہونے لگی تو اتفاقا پھر راستے میں تینوں کی ملاقات ہوئی اور انہوں نے پہلے طرح ایکدوسرے کو ملامت کی ۔ جب تیسری رات ہوئی تو پھر یہ تینوں قرآن کریم کو سننے کیلئے پہنچ گئے ، رات گئے تک قرآن کریم سنتے رہے اور جب صبح کو لوٹنے لگے تو پھر راستے میں ایک دوسرے کو دیکھ لیا ۔ اب کے انہوں نے کہا کہ جب تک ہم حلف نہ اٹھالیں گے ہم رک نہ سکیں گے ۔ اس کے بعد انہوں نے حلف پر معاہدہ کیا اور گھروں کو چلے گئے ۔ یہ تو ایک قصہ تھا ‘ ان لوگوں کا جن کو زبان عربی اور قرآن کریم کے اندر ایک ذوق ہے ۔ وہ جس دور میں بھی ہوں وہ جانتے ہیں کہ قرآن کریم بذات خود ایک سطان اور برہان ہے اور لفظی اور معنوی لحاظ سے معجزہ ہے ۔ جہاں تک معنوعی اعجاز کا تعلق ہے تو قرآن کریم نے جو فکر پیش کی ہے ‘ جو نظام زندگی اس نے پیش کیا ہے ‘ اور زندگی کا جو نقشہ اس نے تجویز کیا ہے اس جگہ ہم اس کی تفصیلات نہیں دے سکتے ۔ لیکن ان تمام پہلوؤں سے بھی قرآن کریم معجزہ ہے اور اس کے اندر برہان اور سلطان موجود ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا مصدر اور منبع کیا ہے اور یہ کہ وہ انسانی کلام نہیں ہے ۔ اس کا انداز اور طرز ادا ایسی ہے جو کسی انسانی کلام کے اندر نہیں ہوتی ۔ اس لئے (آیت) ” وانزلنا الیکم نورا “۔ (٤ : ١٧٤) ” اور ہم نے تمہاری طرف ایسی روشنی بھیج دی ہے جو تمہیں صاف صاف راستہ دکھانے والی ہے ۔ “ ۔۔۔۔۔۔ ایسی روشنی جس کی شعاعوں میں اشیاء کی صحیح حقیقت نظر آتی ہے اور بہت ہی واضح نظر آتی ہے اور جس کی روشنی میں زندگی کے دو را ہے پر انسان کو حق و باطل کے راستوں میں سے حق کا راستہ صحیح نظر آتا ہے ۔ نفس کی داخلی راہوں کے اندر بھی اور زندگی کی خارجی شاہراہوں پر بھی ۔ جو نفس قرآن کی روشنی سے منور ہو اسے اپنا ماحول اچھی طرح نظر آتا ہے ۔ اس نور کے مقابلے میں دھند چھٹ جاتی ہے ‘ فضا کھل جاتی ہے اور پھر حقیقت واضح اور کھلی نظر آتی ہے ۔ جب یہ روشنی نفس انسانی کو حاصل ہوجاتی ہے تو انسان اپنے اوپر ہنسنے لگتا ہے کہ حقیقت تو بہت ہی کھلی تھی ‘ لیکن تعجب ہے کہ اسے نظر نہ آرہی تھی ۔ اور جب کوئی انسان اپنی روح کے ساتھ کچھ عرصہ قرآنی فضا کے اندر رہے اور قرآن سے اپنے تصورات ‘ حسن وقبح کے پیمانے اور اپنی اقدار اخذ کرلے تو وہ تمام معاملات کو نہایت ہی آسانی ‘ نہایت ہی سادگی اور نہایت ہی وضاحت کے ساتھ دیکھتا ہے اور پھر اسے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ کئی ایسے فیصلے جو اس نے کئے اور جو اس کے لئے خلجان کا باعث تھے ‘ اور وہ اسے سمجھ نہ آتے تھے ‘ اب بڑی آسانی سے اس کی سمجھ میں آجاتے ہیں۔ اب حقائق بڑی آسانی سے نکھر جاتے ہیں اور حقائق کے ساتھ جو مزید آلودگیاں تھیں ختم ہوجاتی ہیں اور تمام حقائق اس طرح ذہن میں اتر جاتے ہیں جس طرح ابھی اللہ کی جانب سے صاف و شفاف ہو کر سامنے آئے ہوں ۔ کس قدر کم الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ۔ (آیت) ” (وانزلنا الیکم نورا مبینا) (٤ : ١٧٤) ” اور ہم نے تم پر واضح کرنے والی روشنی اتاری ہے “۔ میں نے ان الفاظ کی تشریح اور ان پر تبصرہ صرف اس شخص کی خاطرہ کیا ہے جس نے اپنے اندر کتاب اللہ کی کچھ روشنی پائی ہو ‘ اس شخص کیلئے نہیں جس کے اندر اس روشنی کی کوئی چمک ہی نہ ہو ۔ یہ روحانی روشنی اس وقت حاصل کی جاسکتی ہے جب انسان اس کیلئے دلی کوشش کرے اور ذاتی ذوق پیدا کرے ۔ اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ قرآنی علوم کے اندر تجربہ رکھتا ہوں اور براہ راست قرآن سے روشنی پانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

114 یہاں سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن پر ایمان لانے کی ترغیب ہے۔ اور پھر فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَ اعْتَصمُوْا سے ایمان لانے والوں کے لیے اخروی بشارت ہے۔ برھانٌ سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور نور سے قرآن مجید مراد ہے ای رسولہ یبھر المنکر بالاعجاز (وَاَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ نُوْراً مُّبِیْناً ) قراٰنا یستضاء بہ فی ظلمات الحیرۃ (مدارک ج 1 ص 207) یعنی برہان سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد ہیں جو بذریعہ معجزات منکرین پر غالب آئے اور نور مبین سے مراد قرآن ہے جس کے ذریعے شکوک و شبہات اور حیرت کے اندھیروں میں روشنی حاصل کی جاتی ہے اسی طرح امام ثوری اور حسن سے منقول ہے (بُرْھَانٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ ) یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) والنور المنزل ھو القراٰن (قرطبی ج 6 ص 27) علی ہذا۔ حضرت ابن عباس، مجاہد، قتادہ، سدی سے بھی یہی منقول ہے (روح ج 6 ص 42)

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi