After a refutation of beliefs held by Christians, specially those which ascribe Godhood to Jesus, alongwith the promise of reward for those who acknowledge the truth and punishment for those who insist on denying, the text turns to a universal address praising the blessed status and mission of His Messenger who taught what was the truth revealed to him, who conveyed the truth of the Qur&an admirably, and also those who believed in and testified to the truth of the Book and the Messenger. What is Burhan? The word, Burhan, appearing in verse قَدْ جَاءَكُم بُرْهَانٌ مِّن رَّبِّكُمْ proof has come to you from your Lord) lexically means proof refers to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . (Ruh al-Ma` ani) Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) says that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was referred to as &Burhan& in consideration of his blessed person, his noble morals, his miracles and his being the very recipient of the revelation of the Book of Allah. All these are open proofs of his prophethood beyond which there remains no need for any other proof. Thus, in summation, his person is, in itself, proof personified. As for the word, وَأَنزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُّبِينًا (and We have sent down to you a vivid light) (174), it refers to the Holy Qur&an (Ruh al-Ma` ani) which also seems to be the case in Verse 15 of Surah al-Ma` idah (5): قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ (There has come to you from Allah a light and clear Book). In the explanatory translation of Maulana Ashraf Thanavi (رح) in Bayan al-Qur&an, the rendering of this verse appears as: &There has come to you from Allah a light and (which is) a clear Book (that is) the Qur&an.& In this verse, what has been first identified as &Nu-r& (light) has later been called &kitabum-mubin& (clear Book). Let there be no doubt at this point that the conjunction demands dissimilarity, therefore, Nur (light) and Kitab (book) cannot be one and the same thing. The answer is that dissimilarity in expression is sufficient, even though the mean¬ings are the same. (Ruh al-Ma` ani) And if &Nur& (light) is taken as referring to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and &Kitab& (the Book) to the Holy Qur&an - that will also be correct (Ruh al-Ma` ani). But, this does not go on to prove that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was Nur or light in the literal sense, therefore, it is not against his being physically human.
خلاصہ تفسیر اے (تمام) لوگو یقیناً تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک (کافی) دلیل آچکی ہے (وہ ذات مبارک ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی) اور ہم نے تمہارے پاس ایک صاف نور بھیجا ہے (وہ قرآن مجید ہے پس رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور قرآن کے ذریعہ سے جو کچھ تم کو بتلایا جائے وہ سب حق ہے جن میں مضامین مذکورہ بھی داخل ہیں) سو جو لوگ اللہ پر ایمان لائے (جس کے لئے توحید و تنزیہ کا اعتقاد لازم ہے) اور انہوں نے اللہ (کے دین) کو (یعنی اسلام کو) مضبوط پکڑا (جس کے لئے رسول اور قرآن کی تصدیق لازم ہے) سو ایسوں کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں یعنی جنت میں) داخل کریں گے اور اپنے فضل میں ( لے لیں گے یعنی دخول جنت کے علاوہ اور بھی نعمائے عظمی دیں گے جن میں دیدار الہی بھی داخل ہے) اور اپنے تک (پہنچنے کا) ان کو سیدھا راستہ بتلا دیں گے (یعنی دنیا میں ان کو طریق رضا پر قائم و ثابت رکھیں گے اور اسی سے تارک ایمان و اعمال صالحہ کی حالت معلوم ہوگئی کہ ان کو یہ ثمرات نہ ملیں گے۔ ) معارف ومسائل برہان سے کیا مراد ہے ؟: (قولہ تعالی) قدجآء کم برھان من ربکم برہان کے لفظی معنی دلیل کے ہیں، اس سے مراد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس ہے (روح) حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس کو لفظ برہان سے اس لئے تعبیر فرمایا کہ آپ کی ذات مبارک اور آپ کے اخلاق کریمانہ، آپ کے معجزات اور آپ پر کتاب کا نزول، یہ سب چیزیں آپ کی نبوت اور آپ کی رسالت کے کھلے کھلے دلائل ہیں، جن کو دیکھنے کے بعد کسی اور دلیل کی احتیاج باقی نہیں رہتی تو یوں سمجھنا چاہئے کہ آپ کی ذات خود ہی ایک مجسم دلیل ہے۔ اور نور سے مراد قرآن مجید ہے (روح) جیسا کہ سورة مائدہ کی اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے قدجآء کم من اللہ نور و کتب مبین (٥: ٥١) ” یعنی تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک روشن چیز آئی ہے اور وہ ایک کتاب واضح یعنی قرآن ہے “ (بیان القرآن) اس آیت میں جس کو نر کہا گیا ہے آگے اسی کو کتاب مبین کہا گیا، یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے کہ عطف تو تغائر کو چاہتا ہے لہٰذا نور اور کتاب ایک چیز نہیں ہو سکتے، اس لئے کہ تغائر عنوان کا کافی ہے اگرچہ مصداق اور معنون ایک ہی ہے (روح) اور اگر نور سے مراد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات اقدس ہو، اور کتاب سے مراد قرآن مجید ہو تو یہ بھی صحیح ہے (روح) لیکن اس سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایسا نور محض ہونا ثابت نہیں ہوتا جو بشریت اور جسمانیت کے منافی ہو۔