Sequence Mentioned in the previous verses were details of injunctions. Now, in the present verses, Allah Almighty points to his blessings and favours saying that your being obligated with these injunctions is for your own good, even though you may not be able to understand its manifestation in details. Then, along with it, there is the motivation to follow the divine injunctions. Finally, there is the message of alert against the evil intentions of the misguided who wish ill of you and would like you to stray far away from the straight path. Commentary Following the description of several injunctions relating to marriage, the present verses say that Allah Almighty is making His injunctions very clear and explicit for you, and He is putting you in line with the ways of the noble prophets and the righteous who have come earlier. Do not think that these details of what is unlawful and what is not are there for you alone. The fact is that communities, earlier than you, were also charged with such injunctions. Those who acted in accordance with them were rewarded with Allah&s favour. As for those who follow the dictates of their desires, which includes fornicators, adulterers and nations and peoples adhering to false creeds who just do not recognize the restrictions of halal and haram and make no distinction between lawful and unlawful would very much like you too to move away from the straight path and start giving ear to their false intentions and crooked ways. Be on your guard against them. There are creeds where it is all right to marry women - marriage with whom is not proper. Then there are many atheists who favour the very elimination of the institution of marriage as something out of tune with modern times. Not content with what they call |"living together|", there are people in some countries who are talking about women as a shared item of enjoyment. All this comes from people who take orders from their desiring self. Some Muslims, subscribing to Islam yet weak in their faith, when they keep company with disbe¬lievers and atheists of such inclinations, fall a prey to their lustful claims and begin to think that their own religion is out-dated and that the position of the enemy is the very epitome of human progress. They do not realize that they have been framed into believing that people with such ideas are modern and forward-looking, something they start wishing their own religion could have permitted. Refuge with Allah from such spineless surrendering! The best policy is to take the warning given by Allah Almighty and stay away from owning and practicing ideas and ways of people with dispositions so wicked.
ربط آیات : ماقبل کی آیتوں میں احکام کی تفصیل مذکور ہوئی، ان آیتوں میں اللہ جل شانہ اپنا انعام و احسان بتلاتے ہیں اور یہ کہ ان احکام کی مشروعیت میں تمہارے ہی منافع و مصالح کی رعایت رکھی گئی ہے اگرچہ تم اس کی تفصیل کو نہ سمجھو، پھر اس کے ساتھ ہی ان احکام پر عمل کرنے کی ترغیب ہے اور گمراہوں کے ناپاک ارادوں پر بھی متنبہ کیا گیا کہ یہ لوگ تمہارے بدخواہ ہیں جو تمہیں مستقیم راستہ سے بھٹکانا چاہتے ہیں۔ خلاصہ تفسیر اللہ تعالیٰ کو (ان مضامین مذکورہ کے ارشاد فرمانے سے اسی طرح دوسرے مضامین سے اپنا کوئی نفع مقصود نہیں کہ یہ محال عقلی ہے ملکہ تم کو نفع پہنچانے کے لئے) یہ منظور ہے کہ (آیات احکام میں تو) تم سے (تمہاری مصلحت کے احکام) بیان کردے اور (آیات قصص میں) تم سے پہلے لوگوں کے احوال تم کو بتلا دے (تاکہ تم کو اتباع کی رغبت اور مخالفت سے خوف ہو) اور (خلاصہ مشترک مقصود یہ ہے کہ) تم پر (رحمت کے ساتھ) توجہ فرما دے (اور وہ توجہ یہی بیان فرمانا اور بتلانا ہے جس میں سرتاسر بندوں ہی کا نفع ہے جیسا مذکور ہوا) اور اللہ تعالیٰ بڑے علم والے ہیں (کہ بندوں کی مصلحت جانتے ہیں) بڑے حکمت والے ہیں (کہ بلا وجوب ان مصلحتوں کی رعایت فرماتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ کو تو (بیان احکام و قصص سے جیسا ابھی مذکور ہوا) تمہارے حال پر (رحمت کے ساتھ) توجہ فرمانا منظور ہے اور جو لوگ (کفار و فجار میں سے) شہوت پرست ہیں وہ یوں چاہتے ہیں کہ تم (راہ راست سے) بڑی بھاری کجی میں پڑجاؤ (اور انہی جیسے ہوجاؤ، چناچہ وہ اپنے فاسد خیالات مسلمانوں کے کانوں میں ڈالتے رہتے تھے اور اللہ تعالیٰ کو احکام میں جس طرح تمہاری مصلحت پر نظر ہے اسی طرح تمہاری آسانی پر بھی نظر ہے، جیسا ارشاد ہے کہ) اللہ تعالیٰ کو (احکام میں) تمہارے ساتھ تخفیف (یعنی آسانی بھی) منظور ہے اور (وجہ اس کی یہ ہے کہ) آدمی (بہ نسبت اور مکلفین کے بدن اور ہمت دونوں میں) کمزور پیدا کیا گیا ہے (اس لئے اس کے ضعف کے مناسب احکام مقرر فرمائے ہیں، ورنہ با اعتبار رعایت مصلحت کے اعمال شاقہ کا تجویز کیا جانا بھی مضائقہ نہ تھا، مگر ہم نے دونوں امر کا مجموعاً لحاظ فرمایا اور یہ بڑے علم و حکمت اور نیز رحمت و شفقت پر موقوف ہے۔ ) معارف ومسائل نکاح کے بہت سے احکام بیان فرمانے کے بعد ان آیات میں یہ بتایا کہ اللہ پاک واضح طور پر خوب کھول کر تمہیں احکام بتاتے ہیں اور انبیاء کرام اور صالحین عظام جو پہلے گذرے ہیں ان کے طریق کی رہبری فرماتے ہیں، تم یہ نہ سمجھو کہ یہ حرام و حلال کی تفصیلات صرف ہمارے ہی لئے ہے، بلکہ تم سے پہلے جو امتیں گذری ہیں ان کو بھی اس طرح کے احکام بتائے گئے تھے جنہوں نے عمل کیا اور مقربین بارگاہ خداوندی ہوئے۔ جو لوگ متبع شہوات ہیں یعنی زناکار اور وہ قومیں اور اصحاب مذاہب باطلہ جن کے نزدیک حرام حلال کوئی چیز نہیں وہ تم کو بھی راہ حق سے ہٹا کر اپنے باطل ارادوں کی طرف متوجہ کرنا چاہتے ہیں، تم ان سے ہوشیار رہنا، بعض مذہبوں میں اپنی محرم عورتوں سے بھی نکاح کرلینا درست ہے اور بہت سے ملحدین اس دور میں نکاح کو ختم کرنے ہی کے حق میں ہیں اور بعض ممالک میں عورت کو متاع مشترک قرار دیئے جانے کی باتیں ہو رہی ہیں یہ باتیں وہ لوگ کرتے ہیں جو سراپا نفس کے بندے اور خواہش کے غلام ہیں اسلام کا کلمہ پڑھنے والے بعض ضعیف الایمان لوگ جو ان ملحدوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں ان کی باتوں میں آ کر اپنے دین کو فرسودہ خیال کرنے لگتے ہیں اور دشمنوں کی باتوں کو انسانیت کی ترقی سمجھتے ہیں اور نادانستہ طور پر اس خام خیالی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ جیسے یہ لوگ ماڈرن نظریات کے حامی ہیں کاش ! ہمارا دین بھی اس کی اجازت دیتا، العیاذ باللہ ! اللہ پاک نے تنبیہ فرمائی ہے کہ تم لوگ اینے بدطنیت انسانوں کے نظریات کو اپنانے سے دور رہنا۔