Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 35

سورة النساء

وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَیۡنِہِمَا فَابۡعَثُوۡا حَکَمًا مِّنۡ اَہۡلِہٖ وَ حَکَمًا مِّنۡ اَہۡلِہَا ۚ اِنۡ یُّرِیۡدَاۤ اِصۡلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیۡنَہُمَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا خَبِیۡرًا ﴿۳۵﴾

And if you fear dissension between the two, send an arbitrator from his people and an arbitrator from her people. If they both desire reconciliation, Allah will cause it between them. Indeed, Allah is ever Knowing and Acquainted [with all things].

اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان آپس کی ان بن کا خوف ہو تو ایک مُنصِف مرد والوں میں اور ایک عورت کے گھر والوں میں سے مُقّرر کرو ، اگر یہ دونوں صُلح کرانا چاہیں گے تو اللہ دونوں میں ملاپ کرا دے گا ، یقیناً اللہ تعالیٰ پورے علم والا اور پوری خبر والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Appointing Two Arbitrators When the Possibility of Estrangement Between Husband and Wife Occurs Allah first mentioned the case of rebellion on the part of the wife. He then mentioned the case of estrangement and alienation between the two spouses. Allah said, وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُواْ حَكَمًا مِّنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِّنْ أَهْلِهَا ... If you fear a breach between the two, appoint (two) arbitrators, one from his family. The Fuqaha (scholars of Fiqh) say that when estrangement occurs between the husband and wife, the judge refers them to a trusted person who examines their case in order to stop any wrongs committed between them. If the matter continues or worsens, the judge sends a trustworthy person from the woman's family and a trustworthy person from the man's family to meet with them and examine their case to determine whether it is best for them to part or to remain together. Allah gives preference to staying together, and this is why Allah said, ... إِن يُرِيدَا إِصْلَحًا يُوَفِّقِ اللّهُ بَيْنَهُمَا ... if they both wish for peace, Allah will cause their reconciliation. Ali bin Abi Talhah reported that Ibn Abbas said, "Allah commands that a righteous man from the husband's side of the family and the wife's side of the family are appointed, so that they find out who among the spouses is in the wrong. If the man is in the wrong, they prevent him from his wife, and he pays some restitution. If the wife is in the wrong, she remains with her husband, and he does not pay any restitution. If the arbitrators decide that the marriage should remain intact or be dissolved, then their decision is upheld. If they decide that the marriage remains intact, but one of the spouses disagrees while the other agrees, and one of them dies, then the one who agreed inherits from the other, while the spouse who did not agree does not inherit from the spouse who agreed." This was collected by Ibn Abi Hatim and Ibn Jarir. Sheikh Abu Umar bin Abdul-Barr said, "The scholars agree that when the two arbitrators disagree, then the opinion that dissolves the marriage will not be adopted. They also agree that the decision of the arbitrators is binding, even if the two spouses did not appoint them as agents. This is the case if it is decided that they should stay together, but they disagree whether it is binding or not when they decide for separation." Then he mentioned that the majority holds the view that the decision is still binding, even if they did not appoint them to make any decision. ... إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا Indeed Allah is Ever All-Knower, Well-Acquainted with all things.

میاں بیوی مصالحت کی کوشش اور اصلاح کے اصول اوپر اس صورت کو بیان فرمایا کہ اگر نافرمانی اور کج بحثی عورتوں کی جانب سے ہو اب یہاں اس صورت کا بیان ہو رہا ہے اگر دونوں ایک دوسرے سے نالاں ہوں تو کیا کیا جائے؟ پس علماء کرام فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں حاکم ثقہ سمجھدار شخص کو مقرر کرے جو یہ دیکھے کہ ظلم و ذیادتی کس طرح سے ہے؟ اس ظالم کو ظلم سے روکے ، اگر اس پر بھی کوئی بہتری کی صورت نہ نکلے تو عورت والوں میں سے ایک اس کی طرف سے اور مرد والوں میں سے ایک بہتر شخص اسکی جانب سے منصب مقرر کردے اور دونوں مل کر تحقیقات کریں اور جس امر میں مصلحت سمجھیں اس کا فیصلہ کر دیں یعنی خواہ الگ کرا دیں خواہ میل ملاپ کرا دیں لیکن شارع نے تو اسی امر کی طرف ترغیب دلائی ہے کہ جہاں تک ہو سکے کوشش کریں کہ کوئی شکل نباہ کی نکل آئے ۔ اگر ان دونوں کی تحقیق میں خاوند کی طرف سے برائی بہت ہو تو اس کی عورت کو اس سے الگ کرلیں اور اسے مجبور کریں گے کہ اپنی عادت ٹھیک ہونے تک اس سے الگ رہے اور اس کے خرچ اخراجات ادا کرتا رہے اور اگر شرارت عورت کی طرف سے ثابت ہو تو اسے نان نفقہ نہیں دلائیں اور خاوند سے ہنسی خوشی بسر کرنے پر مجبور کریں گے ۔ اسی طرح اگر وہ طلاق کا فیصلہ دیں تو خاوند کو طلاق دینی پڑے گی اگر وہ آپس میں بسنے کا فیصلہ کریں تو بھی انہیں ماننا پڑے گا ، بلکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں اگر دونوں پنچ اس امر پر متفق ہوں گئے کہ انہیں رضامندی کے ساتھ ایک دوسرے سے اپنے تعلقات نباہنے چاہیں اور اس فیصلہ کے بعد ایک کا انتقال ہو گیا تو جو راضی تھا وہ اس کی جائیداد کا وارث بنے گا لیکن جو ناراض تھا اسے اس کا ورثہ نہیں ملے گا ( ابن جریر ) ایک ایسے ہی جھگڑے میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو منصف مقرر کیا تھا اور فرمایا تھا کہ اگر تم ان میں میل ملاپ کرنا چاہو تو میل ہو گا اور اگر جدائی کرانا چاہو تو جدائی ہو جائے گی ۔ ایک روایت میں ہے کہ عقیل بن ابو طالب نے فاطمہ بنت عتبہ بن ربیعہ نے نکاح کیا تو اس نے کہا تو وہ پوچھتی عتبہ بن ربیعہ اور شیبہ بن ربیعہ کہاں ہیں؟ یہ فرماتے تیری بائیں جانب جہنم میں اس پر وہ بگڑ کر اپنے کپڑے ٹھیک کر لیتیں ایک مرتبہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئیں اور واقعہ بیان کیا خلیفۃ المسلمین اس پر ہنسے اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ان کا پنچ مقرر کیا حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو فرماتے تھے ان دونوں میں علیحدگی کرا دی جائے لیکن حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے تھے بنو عبد مناف میں یہ علیحدگی میں ناپسند کرتا ہوں ، اب یہ دونوں حضرات حضرت عقیل رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر آئے دیکھا تو دروازہ بند ہے اور دونوں میاں بیوی اندر ہیں یہ دونوں لوٹ گئے مسند عبدالرزاق میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خلافت کے زمانے میں ایک میاں بیوی اپنی ناچاقی کا جھگڑا لے کر آئے اس کے ساتھ اس کی برادری کے لوگ تھے اور اس کے ہمراہ اس کے گھرانے کے لوگ بھی ، علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دونوں جماعتوں میں سے ایک ایک کو چنا اور انہیں منصف مقرر کر دیا پھر دونوں پنچوں سے کہا جانتے بھی ہو تمہارا کام کیا ہے؟ تمہارا منصب یہ ہے کہ اگر چاہودونوں میں اتفاق کرا دو اور اگر چاہو تو الگ الگ کرا دو یہ سن کر عورت نے تو کہا میں اللہ تعالیٰ کے فیصلہ پر راضی ہوں خواہ ملاپ کی صورت میں ہو جدائی کی صورت میں مرد کہنے لگا مجھے جدائی نامنظور ہے اس پر حضرت علی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں نہیں اللہ کی قسم تجھے دونوں صورتیں منظور کرنی پڑیں گی ۔ پس علماء کا اجماع ہے کہ ایسی صورت میں ان دونوں منصفوں کو دونوں اختیار ہیں یہاں تک کہ حضرت ابراہیم نخعی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ انہیں اجتماع کا اختیار ہے تفریق کا نہیں ، حضرت امام مالک رحمتہ اللہ علیہ سے بھی یہی قول مروی ہے ، ہاں احمد ابو ثور اور داؤد کا بھی یہی مذہب ہے ان کی دلیل ( اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَيْنَهُمَا ) 4 ۔ النسآء:35 ) والا جملہ ہے کہ ان میں تفریق کا ذکر نہیں ، ہاں اگر یہ دونوں دونوں جانب سے وکیل ہیں تو بیشک ان کا حکم جمع اور تفریق دونوں میں نافذ ہو گا اس میں کسی کو پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ دونوں پنچ حاکم کی جانب سے مقرر ہوں گے اور فیصلہ کریں گے چاہے ان سے فریقین ناراض ہوں یا یہ دونوں میاں بیوی کی طرف سے ان کو بنائے ہوئے وکیل ہوں گے ، جمہور کا مذہب تو پہلا ہے اور دلیل یہ ہے کہ ان کا نام قرآن حکیم نے حکم رکھا ہے اور حکم کے فیصلے سے کوئی خوش یا ناخوش بہر صورت اس کا فیصلہ قطعی ہو گا آیت کے ظاہری الفاظ بھی جمہور کے ساتھ ہی ہیں ، امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا نیا قول یبھی یہی ہے اور امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کا بھی یہی قول ہے ، لیکن مخالف گروہ کہتا ہے کہ اگر یہ حکم کی صورت میں ہوتے تو پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس خاوند کو کیوں فرماتے؟ کہ جس طرح عورت نے دونوں صورتوں کو ماننے کا اقرار کیا ہے اور اسی طرح تو بھی نہ مانے تو تو جھوٹا ہے ۔ واللہ اعلم ۔ امام ابن عبدالبر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں علماء کرام کا اجماع ہے کہ دونوں پنچوں کا قول جب مختلف ہو تو دوسرے کے قول کا کوئی اعتبار نہیں اور اس امر پر بھی اجماع ہے کہ یہ اتفاق کرانا چاہیں تو ان کا فیصلہ نافذ ہے ہاں اگر وہ جدائی کرانا چاہیں تو بھی ان کا فیصلہ نافذ ہے یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے لیکن جمہور کا مذہب یہی ہے کہ اس میں بھی ان کا فیصلہ نافذ ہے گو انہیں وکیل نہ بنایا گیا ہو ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

35۔ 1 گھر کے اندر مزکورہ تینوں طریقے کارگر ثابت نہ ہوں تو یہ چوتھا طریقہ ہے اور اس کی بابت کہا کہ حکمین (فیصلہ کرنے والے) اگر مخلص ہوں گے تو یقینا ان کی سعی اصلاح کامیاب ہوگی۔ تاہم ناکامی کی صورت میں حکمین کو تفریق بین الزوجین یعنی طلاق کا اختیار ہے یا نہیں ؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض اس کو حاکم مجاز کے حکم یا زوجین کے توکیل بالفرقہ (جدائی کے لیے وکیل بنانا) کے ساتھ مشروط کرتے ہیں اور جمہور علماء اس کے بغیر اس کے قائل ہیں (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو تفسیر طبری، فتح القدیر، تفسیر ابن کثیر)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٦١] زوجین میں ثالثی فیصلہ :۔ اور اگر میاں بیوی کے تعلقات سنورنے میں نہ آ رہے ہوں اور ان میں سے ہر کوئی دوسرے پر الزام تھوپ رہا ہو تو طلاق سے پہلے فریقین اپنے اپنے خاندان میں سے ثالث منتخب کریں جو پوری صورتحال کو سمجھ کر نیک نیتی سے اصلاح کی کوشش کریں۔ یہ ثالث طرفین کی طرف سے ایک ایک آدمی بھی ہوسکتا ہے دو دو بھی اور تین تین بھی۔ جو بات بھی میاں بیوی دونوں کو تسلیم ہو اختیار کی جاسکتی ہے۔ [٦٢] یہاں دونوں سے مراد میاں بیوی بھی ہوسکتے ہیں اور طرفین کے ثالث حضرات بھی۔ یعنی اگر ان کی نیت بخیر ہوگی تو اللہ تعالیٰ زوجین میں ضرور موافقت کی راہ نکال دے گا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ثالث سمجھوتہ کرانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو فہوالمراد۔ اور اگر وہ اس نتیجہ پر پہنچیں کہ تفریق کے بغیر اب کوئی چارہ کار نہیں رہا۔ تو کیا وہ یہ اختیار بھی رکھتے ہیں (یعنی مرد سے طلاق دلوانے کا یا خلع کا) یا نہیں۔ اکثر علماء کے نزدیک یہ ثالثی بنچ یہ اختیار بھی رکھتا ہے کیونکہ یہ بھی ایک طرح کی عدالت ہی ہوتی ہے۔ اور بعض علماء کہتے ہیں کہ ایسے اختیارات صرف عدالت کو ہیں اور یہ بنچ عدالت کے سامنے اپنی سفارشات پیش کرسکتا ہے۔ عدالت یہ اختیار خود بھی استعمال کرسکتی ہے اور وہ یہ اختیار اس ثالثی بنچ کو بھی تفویض کرسکتی ہے اور چاہے تو اپنی طرف سے علیحدہ بنچ مقرر کر کے اسے یہ اختیار دے سکتی ہے۔ جیسا کہ آج کل ہمارے ہاں یونین کونسلوں کو ایسے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا : پہلے صرف عورت کی طرف سے نشوز کا ذکر تھا اب اگر دونوں کی طرف سے نفرت اور مخالفت کا سلسلہ چل نکلے اور جدائی کا اندیشہ ہو تو حاکم کو چاہیے کہ میاں بیوی دونوں کی طرف ان کے خاندان کا ایک ایک سمجھدار آدمی بطور حکم (پنچ یا منصف) مقرر کردیں، اگر وہ دونوں اصلاح کرانے میں مخلص ہوں گے تو اللہ تعالیٰ دونوں میں موافقت پیدا کر دے گا۔ اگر اصلاح کی کوئی صورت نہ بنے تو کیا انھیں علیحدگی کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہے یا نہیں ؟ بعض علماء نے فرمایا کہ اگر میاں بیوی دونوں اسے صلح یا جدائی کا اختیار دیں کہ تم جو فیصلہ کرو ہمیں منظور ہوگا تو اسے علیحدگی کے فیصلہ کا بھی اختیار ہے۔ اور بعض نے فرمایا کہ اگر وہ حاکم جس نے اسے حکم مقرر کیا ہے اسے صلح یا جدائی دونوں کے فیصلے کا اختیار دیتا ہے تو اسے علیحدگی کے فیصلے کا اختیار رہے ورنہ نہیں مگر جمہور علماء کا کہنا ہے کہ حکم مقرر کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ حکم دونوں فریقوں کے معاملات کا جائزہ لے کر صلح یا تفریق کا جو فیصلہ کردیں نافذ ہوگا۔ اس کے لیے میاں بیوی یا حاکم کے اسے الگ اختیار دینے کی ضرورت نہیں۔ قرآن کریم میں زیادہ زور موافقت کرانے کی کوشش پر دیا گیا ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

It is to block the road to this terrible discord that, in the second verse, the Holy Qur&an addresses government authorities of the time, the guardians of the parties concerned and their supporters, and the general body of Muslims, and suggests a decent method which would cool down tempers, shut out avenues of accusations and make a compromise between the affected parties possible, so that the dispute which, no doubt, could not remain restricted to the couple&s home, would at least be settled within their families and not go to a court of law to become public knowledge. This particular method requires that concerned officials of the government or the guardians of the parties or a body of Muslims which has the necessary integrity, influence and authority should take charge and appoint two arbitrators to hep bring about a compromise between the parties concerned - taking one arbitrator from the man&s family and the other from that of the woman. At both these places, the Holy Qur&an has used the word, |"hakam|" for these appointees whereby it pin-points the necessary qualifications of these two persons, that is, they should have the capability to decide the dispute between the two. parties; and this capability, as obvious, will be found in a person who is both knowledgeable and trustworthy. In short, the rule that emerges from here is that a |"hakam|" or arbi¬trator from the man&s family and another from that of the woman should be appointed and sent to the husband and wife. Now, as for what they are going to do when they meet them and as to what rights they have in this matter - this the Holy Qur&an does not determine. However, it does add a remark at the end: إِن يُرِ‌يدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّـهُ بَيْنَهُمَا which means: If these two arbitrators desire to set things right, Allah Almighty will help them bring about harmony between the husband and the wife. So, two things emerge from this sentence: 1. If both arbitrators have good intentions and genuinely wish to bring about peace between the dissenting couple, there will be unseen help from Allah Almighty and they shall succeed in their mission, and it will be through their efforts that Allah Almighty will create love and harmony in the hearts of the couple. This leads to the conclusion that, in cases where mutual rapport is not restored, it may be because one of the arbitrators lacks perfect sincerity while pursuing the goal of peace-making. 2. The purpose of appointing these two arbitrators, as also under-stood from this sentence, is to bring about peace and amity between the husband and the wife and does not include anything beyond that. However, it would be something else if the parties affected by the mutual dispute agree to appoint these two arbitrators as their repre-sentatives and their attorneys in all respects in which case they would be admitting that any decision given by the two arbitrators jointly will be acceptable to and binding on both of them. Under this situation, the two arbitrators shall have absolute authority to decide their case. If both agree on divorce as the solution, they can effect a divorce. If they both decide that the women should be released under khul , a form of dissolution of marriage, the khul& shall come into effect, and their deci¬sion shall be binding on the parties. From among the pious elders, this is the position held by Hasan al-Basri and Imam Abu Hanifah. (Ruh ai-Ma ani, etc.) Cited in this connection is an incident which occurred in the pres¬ence of Sayyidna ` Ali (رض) . There too, one finds the proof that the two arbitrators referred to above do not have any intrinsic right other than that of making peace between the husband and wife - unless, of course, the parties concerned authorize them fully to decide as they deem fit. This incident, as narrated by ` Ubaidah al-Salmani, appears in the Sunnan of al-Baihaqi and is being reported below. A man and a woman came to Sayyidna ` Ali کَرَّمَ اللہ وجھہ along with groups of people accompanying both. Sayyidna ` Ali کَرَّمَ اللہ وجھہ asked them to appoint an arbitrator, one from the man&s family and another from the woman&s. When arbitrators were appointed, he addressed them both: &Do you know your responsibility? Do you know what you have to do? Hear me. If both of you agree to keep the husband and wife together and make peace between them, then do it. And if you come to the conclusion that matters cannot be set right between them or that they will not stay right later on, and both of you concur with the option that a separation between them is the expedient course, then do it.& When the woman heard this, she said: &I accept this. Let these two arbitra¬tors act in accordance with Divine law and I shall accept any decision they give whether it meets my wishes or goes against.& But, the husband said: &Separation and divorce are things I am not going to accept under any condition. However, I authorize the arbitrators to ask me to pay whatever financial penalty they impose and let my wife return to me in peace.& Sayyidna ALI کَرَّمَ اللہ وجھہ said: &No. You too should authorize the arbitrators in the same manner as was done by the woman.& From this incident, some mujtahid Imams deduced the principle that these arbitrators have an inherent authority to divorce as was done by Sayyidna ` Ali کَرَّمَ اللہ وجھہ who asked the parties concerned to do that, while the great Imam Abu Hanifah and Hasan al-Basri رحمۃ اللہ علیہما have taken the position that, had it been an inherent power of the arbitrators to divorce there was no need for Sayyidna ` Ali کَرَّمَ اللہ وجھہ to obtain the authorization from the parties concerned. Here, the very effort to seek the agreement of the parties is a proof of the fact that these arbitrators do not have such an inherent power. Nevertheless, they do become authorized if the husband and wife delegate the necessary authority to them. This teaching of the Holy Qur&an opens a new outlet of resolving mutual disputes, something which saves people from the botheration of going to courts and government officials and gives them an opportu¬nity to iron out a good deal of their disputes and claims through family-oriented arbitration. Arbitration in other disputes as well Muslim jurists say that the appointment of two arbitrators to make peace between two parties in dispute, is not limited to the disputes between a husband and a wife. It can be profitably used in other areas of discord. In fact, it should be so used, specially when the parties involved are related to each other, because a court decision is a short-term solution of the basic problem. at happens after is that such decisions leave the germs of hatred and hostility in the hearts of those affected and which reapear after a passage of time in forms that are much too unpleasant. Sayyidna ` Umar, may Allah be pleased with him, had promulgated an order for his judges which said: رُدُّوا القضاءَ بَین ذَوِی الاَرحَامِ حَتَّی یصطَلِحُوا فَاِنَّ فصلَ القَضَاءِ یُورِثُ الضَّغَأینَ (معین الحکام، ص 214) |"Send disputes between relatives back to them so that they make peace with the help of each other, as a court decision breeds heart burnings and hostility. Although this Faruqi directive concerns disputes rising in between relatives, yet, the reason given in this directive (that is, court decisions tend to create hatred and hostility in hearts) is a reason which covers not only the relatives but non-relatives as well. Wisdom lies in saving all Muslims from mutual hatred and hostility. Therefore, the Muslim jurists are of the view that it is appropriate for officials and judges that they, before hearing the cases formally, should make an. effort to find a way out whereby the disputing parties get together and agree on mutual conciliation. (See al-Tarablusi, Mu` in al-hukkam p.214 and also Ibn al-Shahnah: Lisn al-hukkam). Though brief, yet these two verses present a comprehensive system of family life which, if put into practice, could help eliminate a lot of disputes, hatreds and hostilities from the world. Men and women would live in peace among their families, secure against all those local dissensions which turn into all sorts of tribal, racial, national, even, international feuds. In the end, let us recapitulate the great Qur&anic mechanism of how to quash family feuds - a virtual gift to the whole world: 1. Resolve family disputes within the house using one method after the other. 2. When this is not possible, government officials or the kinsfolk make peace between the disputing parties through two arbitrators, so that, the dispute does not go out of the larger family circle, even if it goes out of the house itself. 3. When this too is not possible and the matter goes to the court finally, it is the duty of the judicial authority to investigate into the case background of both parties and come up with a decision which is just. It may be noted that by saying إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرً‌ا (Surely, Allah is All-Knowing, All-Aware) warning has been given to the two arbitrators as well to the effect that they should keep in mind that no injustice or crookedness from them will go unnoticed for they shall be appearing before the Being who knows all and is aware of everything.

اس دوسری آیت میں قرآن کریم نے اس فساد عظیم کا دروازہ بند کرنے کے لئے حکام وقت، فریقین کے اولیاء اور حامیوں کو اور مسلمانوں کی جماعتوں کو خطاب کر کے ایک ایسا پاکیزہ طریقہ بتلایا جس سے فریقین کا اشتعال بھی ختم ہوجائے اور الزام تراشی کے راستے بھی بند ہوجائیں اور ان کے آپس میں مصالحت کی راہ نکل آئے اور گھر کا جھگڑا اگر گھر میں ختم نہیں ہوا تو کم از کم خاندان ہی میں ختم ہوجائے عدالت میں مقدمہ کی صورت میں کوچہ و بازار میں یہ جھگڑا نہ چلے۔ وہ یہ کہ ارباب حکومت یا فریقین کے اولیاء یا مسلمان کی کوئی مقتدر جماعت یہ کام کرے کہ ان کے آپس میں مصاحلت کرانے کے لے دو حکم مقرر کریں، ایک مرد کے خاندان سے دوسرا عورت کے خاندان سے اور ان دونوں جگہ لفظ حکم سے تعبیر کر کے قرآن کریم نے ان دونوں شخصوں کے ضروری اوصاف کو بھی متعین کردیا کہ ان دونوں میں جھگڑوں کے فیصلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہو اور یہ صلاحیت ظاہر ہے کہ اسی شخص میں ہو سکتی ہے جو ذی علم بھی ہوا اور دیانتدار بھی۔ خلاصہ یہ ہے کہ ایک حکم مرد کے خانان کا اور ایک عورت کے خاندان کا مقرر کر کے دونوں میاں بیوی کے پاس بھیجے جائیں ........ اب وہاں جا کر یہ دونوں کیا کام کریں اور ان کے اختیارات کیا ہیں ........ قرآن کریم نے اس کو متعین نہیں فرمایا، البتہ آخر میں ایک جملہ یہ ارشاد فرمایا ان یرید اصلاحاً یوفق اللہ بینھما یعنی اگر یہ دونوں حکم اصلاح حال اور باہمی مصالحت کا ارادہ کرینگے تو اللہ تعالیٰ ان کے کام میں امداد فرما دیں گے اور میاں بیوی میں اتفاق پیدا کردیں گے۔ اس جملہ سے دو باتیں مفہوم ہوئیں : اول تو یہ کہ مصالحت کرانے والے دونوں حکم اگر نیک نیت ہوں اور دل سے چاہیں کہ باہم صلح ہوجائے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی غیبی امداد ہوگی، کہ یہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے اور ان کے ذریعہ دونوں میاں بیوی کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اتفاق و محبت پیدا فرما دیں گے، اس کے نتیجہ سے یہ بھی سمجھا سکتا ہے کہ جہاں باہمی مصالحت نہیں ہو پاتی تو دونوں حکمین میں سے کسی جانب اخلاص کے ساتھ صلح جوئی میں کمی ہوتی ہے۔ دوسری بات اس جملہ سے یہ بھی سمجھی جاتی ہے کہ ان دونوں حکمین کے بھیجنے کا مقصد میاں بیوی میں صلح کرانا ہے، اس سے زیادہ کوئی کام حکمین کے بھیجنے کے مقصد میں شامل نہیں، یہ دوسری بات ہے کہ فریقین رضا مند ہو کر انہیں دونوں حکموں کو اپنا وکیل، مختار یا ثالث بنادیں اور یہ تسلیم کرلیں کہ تم دونوں مل کر جو فیصلہ بھی ہمارے حق میں دو گے ہمیں منظور ہوگا، اس صورت میں یہ دونوں حکم کلی طور پر ان کے معاملہ کے فیصلہ میں مختار ہوجائیں گے دونوں طلاق پر متفق ہوجائیں تو طلاق ہوجائے گی دونوں مل کر خلع وغیرہ کی کوئی صورت طے کردیں تو وہی فریقین اور مرد کی جانب سے دیئے ہوئے اختیار کی بنا پر عورت کو طلاق دیدیں تو فریقین کو ماننا پڑے گی، سلف میں حسن بصری اور امام ابوحنیفہ کی یہی تحقیق ہے، (٤ وح المعانی وغیرہ) حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ نہیں تمہیں بھی ان حکمین کو ایسا ہی اختیار دینا چاہئے جیسا عورت نے دیدیا۔ اس واقعہ سے بعض ائمہ مجتہدین نے یہ مسئلہ اخذ کیا کہ ان حکمین کا با اختیار ہونا ضروری ہے جیسا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فریقین سے کہہ کر ان کو با اختیار بنوایا، اور امام اعظم ابوحنیفہ اور حسن بصری نے یہ قرار دیا کہ اگر ان حکمین کا با اختیار ہونا امر شرعی اور ضروری ہوتا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے اس ارشاد اور فریقین سے رضامندی حاصل کرنے کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی، فریقین کو رضامندی کرنے کی کوشش خود اس کی دلیل ہے کہ اصل سے یہ حکمین با اختیار نہیں ہوتے، ہاں، میاں بیوی ان کو مختار بنادیں تو با اختیار ہوجاتے ہیں۔ قرآن کریم کی اس تعلیم سے لوگوں کے باہمی جھگڑوں اور مقدمات کا فیصلہ کرنے کے متعلق ایک نئے باب کا نہایت مفید اضافہ ہوا، جس کے ذریعہ عدالت و حکومت تک پہنچنے سے پہلے ہی بہت سے مقدمات اور جھگڑوں کا فیصلہ برادریوں کی پنچایت میں ہوسکتا ہے۔ دوسرے نزاعات میں بھی حکم کے ذریعہ مصالحت کرائی جائے :۔ حضرات فقہاء نے فرمایا ہے کہ باہم صلح کرانے کے لئے دو حکموں کے بھیجنے کی یہ تجویز صرف میاں بیوی کے جھگڑوں میں محدود نہیں، بلکہ دوسرے نزاعات میں بھی اس سے کام لیا جاسکتا ہے اور لینا چاہئے، خصوصاً جب کہ جھگڑنے والے آپس میں عزیز و رشتہ دار ہوں، کیونکہ فیصلوں سے وقتی جھگڑا تو ختم ہوجاتا ہے، مگر وہ فیصلے دلوں میں کدورت و عداوت کے جراثیم چھوڑ جاتے ہیں جو بعد میں نہایت ناگوار شکلوں میں ظاہر ہوا کرتے ہیں ........ حضرت فاروق اعظم نے اپنے قاصدوں کے لئے یہ فرمان جاری فرما دیا تھا کہ : ” رشتہ داروں کے مقدمات کو انہی میں واپس کردو تاکہ وہ خود برادری کی امداد سے آپس میں صلح کی صورت نکال لیں، کیونکہ قاضی کا فیصلہ دلوں میں کینہ و عداوت پیدا ہونے کا سبب ہوتا ہے۔ “ فقہائے حنفیہ میں سے قاضی قدس علاء الدین طرابلسی نے اپنی کتاب معین الحکام میں اور ابن سحنہ نے لسان الحکام میں اس فرمان فاروقی کو ایسے پنچایتی فیصلوں کی خاص بنیاد بنایا ہے جن کے ذریعہ فریقین کی رضامندی سے صلح کی کوئی صورت نکالی جائے اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ اگرچہ فاروقی فرمان میں یہ حکم رشتہ داروں کے باہمی جھگڑوں سے متعلق ہے، مگر اس کی جو علت و حکمت اسی فرمان میں مذکور ہے کہ عدالتی فیصلے دلوں میں کدورت پیدا کردیا کرتے ہیں، یہ حکمت رشتہ دار اور غیر رشتہ داروں میں عام ہے، کیونکہ باہمی کدورت اور عداوت سے سب ہی مسلمان کو بچانا ہے، اس لئے حکام اور قضاة کے لئے مناسب یہ ہے کہ مقدمات کی سماعت سے پہلے اس کی کوشش کرلیا کریں کہ کسی صورت سے ان کے آپس میں رضامندی کے ساتھ مصالحت ہوجائے۔ غرض ان دو آیتوں میں انسان کی خانگی اور عائلی زندگی کا ایک ایسا جامع اور مکمل نظام ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر اس پر پورا عمل ہوجائے تو دنیا کے اکثر جھگڑے اور جنگ وجدال مٹ جائیں، مرد اور عورتیں سب مطمئن ہو کر اپنی خانگی زندگی کو ایک جنت کی زندگی محسوس کرنے لگیں اور خانگی جھگڑوں سے جو قبائلی اور پھر جماعتی اور ملکی جھگڑے اور جنگیں کھڑی ہوجاتی ہیں ان سب سے امن ہوجائے۔ آخر میں پھر اس عجیب و غریب قرآنی نظام محکم پر ایک اجمالی نظر ڈالئے جو اس نے گھریلو جھگڑوں کے ختم کرنے کے لئے دنیا کو دیا ہے : ١۔ گھر کا جھگڑا گھر ہی میں تدریجی تدبیروں کے ساتھ چکا دیا جائے۔ ٢۔ یہ صورت ممکن نہ رہے تو حکام یا برادری کے لوگ دو حکموں کے ذریعہ ان میں مصالحت کرا دیں تاکہ گھر میں نہیں تو خاندان ہی کے اندر محدود رہ کر جھگڑا ختم ہو سکے۔ ٣۔ جب یہ بھی ممکن نہ رہے تو آخر میں معاملہ عدالت تک پہونچے، وہ دونوں کے حالات و معاملات کی تحقیق کر کے عادلانہ فیصلہ کرے۔ آخر آیت میں ان اللہ کان علیماً خبیراً ، فرما کر دونوں حکموں کو بھی متنبہ فرما دیا کہ تم کوئی بےانصافی یا کج روی کرو گے تو تم کو بھی ایک علیم وخبیر سے سابقہ پڑنا ہے اس کو سامنے رکھو۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِہِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَھْلِہٖ وَحَكَمًا مِّنْ اَھْلِھَا۝ ٠ۚ اِنْ يُّرِيْدَآ اِصْلَاحًا يُّوَفِّقِ اللہُ بَيْنَہُمَا۝ ٠ۭ اِنَّ اللہَ كَانَ عَلِــيْمًا خَبِيْرًا۝ ٣٥ خفی خَفِيَ الشیء خُفْيَةً : استتر، قال تعالی: ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] ، ( خ ف ی ) خفی ( س ) خفیتہ ۔ الشیء پوشیدہ ہونا ۔ قرآن میں ہے : ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعاً وَخُفْيَةً [ الأعراف/ 55] اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو ۔ شقاق والشِّقَاقُ : المخالفة، وکونک في شِقٍّ غير شِقِ صاحبک، أو مَن : شَقَّ العصا بينک وبینه . قال تعالی: وَإِنْ خِفْتُمْ شِقاقَ بَيْنِهِما[ النساء/ 35] ، فَإِنَّما هُمْ فِي شِقاقٍ [ البقرة/ 137] ، أي : مخالفة، لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقاقِي [هود/ 89] ، وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتابِ لَفِي شِقاقٍ بَعِيدٍ [ البقرة/ 176] ، مَنْ يُشاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ الأنفال/ 13] ، أي : صار في شقّ غير شقّ أولیائه، نحو : مَنْ يُحادِدِ اللَّهَ [ التوبة/ 63] ، ونحوه : وَمَنْ يُشاقِقِ الرَّسُولَ [ النساء/ 115] ، ويقال : المال بينهما شقّ الشّعرة، وشَقَّ الإبلمة ، أي : مقسوم کقسمتهما، وفلان شِقُّ نفسي، وشَقِيقُ نفسي، أي : كأنه شقّ منّي لمشابهة بعضنا بعضا، وشَقَائِقُ النّعمان : نبت معروف . وشَقِيقَةُ الرّمل : ما يُشَقَّقُ ، والشَّقْشَقَةُ : لهاة البعیر لما فيه من الشّقّ ، وبیده شُقُوقٌ ، وبحافر الدّابّة شِقَاقٌ ، وفرس أَشَقُّ : إذا مال إلى أحد شِقَّيْهِ ، والشُّقَّةُ في الأصل نصف ثوب وإن کان قد يسمّى الثّوب کما هو شُقَّةً. ( ش ق ق ) الشق الشقاق ( مفاعلہ ) کے معنی مخالفت کے ہیں گویا ہر فریق جانب مخالف کو اختیار کرلیتا ہے ۔ اور یا یہ شق العصابینک وبینہ کے محاورہ سے مشتق ہے ۔ جس کے معنی باہم افتراق پیدا کرنے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : وَإِنْ خِفْتُمْ شِقاقَ بَيْنِهِما[ النساء/ 35] اگر تم کو معلوم ہو کہ میاں بیوی میں ان بن ہے ۔ فَإِنَّما هُمْ فِي شِقاقٍ [ البقرة/ 137] تو وہ تمہارے مخالف ہیں ۔ لا يَجْرِمَنَّكُمْ شِقاقِي [هود/ 89] میری مخالفت تم سے کوئی ایسا کام نہ کرادے ۔ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتابِ لَفِي شِقاقٍ بَعِيدٍ [ البقرة/ 176] وہ ضد میں ( آکر نیگی سے ) دور ہوگئے ) ہیں ۔ مَنْ يُشاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ الأنفال/ 13] اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے ۔ یعنی اس کے اولیاء کی صف کو چھوڑ کر ان کے مخالفین کے ساتھ مل جاتا ہے ۔ جیسے فرمایا : مَنْ يُحادِدِ اللَّهَ [ التوبة/ 63] یعنی جو شخص خدا اور رسول کا مقابلہ کرتا ہے ۔ وَمَنْ يُشاقِقِ الرَّسُولَ [ النساء/ 115] اور جو شخص پیغمبر کی مخالفت کرے ۔ المال بیننا شق الشعرۃ اوشق الابلمۃ یعنی مال ہمارے درمیان برابر برابر ہے ۔ فلان شق نفسی اوشقیق نفسی یعنی وہ میرا بھائی ہے میرے ساتھ اسے گونہ مشابہت ہے ۔ شقائق النعمان گل لالہ یا اس کا پودا ۔ شقیقۃ الرمل ریت کا ٹکڑا ۔ الشقشقۃ اونٹ کا ریہ جو مستی کے وقت باہر نکالتا ہے اس میں چونکہ شگاف ہوتا ہے ۔ اس لئے اسے شقثقۃ کہتے ہیں ۔ بیدہ شقوق اس کے ہاتھ میں شگاف پڑگئے ہیں شقاق سم کا شگاف فوس اشق راستہ سے ایک جانب مائل ہوکر چلنے والا گھوڑا ۔ الشقۃ اصل میں کپڑے کے نصف حصہ کو کہتے ہیں ۔ اور مطلق کپڑے کو بھی شقۃ کہا جاتا ہے ۔ بعث أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة، فالبعث ضربان : - بشريّ ، کبعث البعیر، وبعث الإنسان في حاجة . - وإلهي، وذلک ضربان : - أحدهما : إيجاد الأعيان والأجناس والأنواع لا عن ليس وذلک يختص به الباري تعالی، ولم يقدر عليه أحد . والثاني : إحياء الموتی، وقد خص بذلک بعض أولیائه، كعيسى صلّى اللہ عليه وسلم وأمثاله، ومنه قوله عزّ وجل : فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] ، يعني : يوم الحشر ( ب ع ث ) البعث ( ف ) اصل میں بعث کے معنی کسی چیز کو ابھارنے اور کسی طرف بیجھنا کے ہیں اور انبعث در اصل مطاوع ہے بعث کا مگر متعلقات کے لحاظ سے اس کے معنی مختلف ہوتے رہتے ہیں مثلا بعثت البعیر کے معنی اونٹ کو اٹھانے اور آزاد چھوڑ دینا کے ہیں اور مردوں کے متعلق استعمال ہو تو قبروں سے زندہ کرکے محشر کی طرف چلانا مراد ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] اور مردوں کو تو خدا ( قیامت ہی کو ) اٹھایا جائے گا پس بعث دو قمخ پر ہے بعث بشری یعنی جس کا فاعل انسان ہوتا ہے جیسے بعث البعیر ( یعنی اونٹ کو اٹھاکر چلانا ) کسی کو کسی کام کے لئے بھیجنا ) دوم بعث الہی یعنی جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو پھر اس کی بھی دوقسمیں ہیں اول یہ کہ اعیان ، اجناس اور فواع کو عدم سے وجود میں لانا ۔ یہ قسم اللہ تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے اور اس پر کبھی کسی دوسرے کو قدرت نہیں بخشی ۔ دوم مردوں کو زندہ کرنا ۔ اس صفت کے ساتھ کبھی کبھی اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو بھی سرفراز فرمادیتا ہے جیسا کہ حضرت عیسٰی (علیہ السلام) اور ان کے ہم مثل دوسری انبیاء کے متعلق مذکور ہے اور آیت کریمہ : ۔ فَهذا يَوْمُ الْبَعْثِ [ الروم/ 56] اور یہ قیامت ہی کا دن ہے ۔ بھی اسی قبیل سے ہے یعنی یہ حشر کا دن ہے حكم والحُكْم بالشیء : أن تقضي بأنّه كذا، أو ليس بکذا، سواء ألزمت ذلک غيره أو لم تلزمه، قال تعالی: وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] ( ح ک م ) حکم الحکم کسی چیز کے متعلق فیصلہ کرنے کا نام حکم ہے یعنی وہ اس طرح ہے یا اس طرح نہیں ہے خواہ وہ فیصلہ دوسرے پر لازم کردیا جائے یا لازم نہ کیا جائے ۔ قرآں میں ہے :۔ وَإِذا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ [ النساء/ 58] اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو ۔ أهل أهل الرجل : من يجمعه وإياهم نسب أو دين، أو ما يجري مجراهما من صناعة وبیت وبلد، وأهل الرجل في الأصل : من يجمعه وإياهم مسکن واحد، ثم تجوّز به فقیل : أهل الرجل لمن يجمعه وإياهم نسب، وتعورف في أسرة النبيّ عليه الصلاة والسلام مطلقا إذا قيل : أهل البیت لقوله عزّ وجلّ : إِنَّما يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ [ الأحزاب/ 33] ( ا ھ ل ) اھل الرجل ۔ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو اس کے ہم نسب یا ہم دین ہوں اور یا کسی صنعت یامکان میں شریک ہوں یا ایک شہر میں رہتے ہوں اصل میں اھل الرجل تو وہ ہیں جو کسی کے ساتھ ایک مسکن میں رہتے ہوں پھر مجازا آدمی کے قریبی رشتہ داروں پر اہل بیت الرجل کا لفظ بولا جانے لگا ہے اور عرف میں اہل البیت کا لفظ خاص کر آنحضرت کے خاندان پر بولا جانے لگا ہے کیونکہ قرآن میں ہے :۔ { إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ } ( سورة الأحزاب 33) اسے پیغمبر گے اہل بیت خدا چاہتا ہے کہ تم سے ناپاکی ( کا میل کچیل ) دور کردے ۔ رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل وکرم کرنا چاہئے ۔ صلح والصُّلْحُ يختصّ بإزالة النّفار بين الناس، يقال منه : اصْطَلَحُوا وتَصَالَحُوا، قال : أَنْ يُصْلِحا بَيْنَهُما صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ [ النساء/ 128] ( ص ل ح ) الصلاح اور الصلح کا لفظ خاص کر لوگوں سے باہمی نفرت کو دورکر کے ( امن و سلامتی پیدا کرنے پر بولا جاتا ہے ) چناچہ اصطلحوا وتصالحوا کے معنی باہم امن و سلامتی سے رہنے کے ہیں قرآن میں ہے : أَنْ يُصْلِحا بَيْنَهُما صُلْحاً وَالصُّلْحُ خَيْرٌ [ النساء/ 128] کہ آپس میں کسی قرار داد پر صلح کرلیں اور صلح ہی بہتر ہے ۔ وفق الوِفْقُ : المطابقة بين الشّيئين . قال تعالی: جَزاءً وِفاقاً [ النبأ/ 26] والتَّوْفِيقُ نحوه لكنه يختصّ في التّعارف بالخیر دون الشّرّ. قال تعالی: وَما تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ [هود/ 88] ( و ف ق ) الوفق ۔ دو چیزوں کے درمیان مطابقت اور ہم آہنگی ہونے کو کہتے ہیں قرآن نے اعمال کے نتائج کو ۔۔۔ جَزاءً وِفاقاً [ النبأ/ 26] ( یہ ) بدلہ ہے پور اپورا ۔ توفقل یہ متعدی ہے اور عرف میں یہ خبر کے ساتھ مخصوص ہوچکا ہے ( یعنی اسباب کا مقصد کے مطابق مہیا کردینا ) اور شر میں استعمال نہیں ہوتا ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَما تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ [هود/ 88] اور مجھے توفیق کا ملنا خدا ہی کے فضل سے ہے ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (وان خفتم شقاق بینھما فابعثوا حکمامن اھلہ وحکما من اھلھا، اور اگر تمہیں کہیں میاں اور بیوی کے درمیان تعلقات بگڑجانے کا اندیشہ ہو تو ایک حکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو) اس آیت کے مخاطب کون ہیں اس بارے میں اختلاف رائے ہے ، سعید بن جبیر اور ضحاک کا قول ہے یہ حاکم اور سلطان ہے جس کے پاس میاں بیوی اپنامقدمہ لے کرجاتے ہیں سدی کا قول ہے یہ میاں اور بیوی ہیں۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ قول باری (واللاتی تخافون نشوزھن) میں شوہروں کے خطاب ہے ، کیونکہ آیت کے تسلسل و ترتیب میں اس پر دلالت موجود ہے ، جو قول باری (واھجروھن فی المضاجع) کی صورت میں ہے اور قول باری (وان خفتم شقاق بینھما) میں بہتر بات یہی ہے یہ اس حاکم کو خطاب ہوجومقدمے کے دونوں فریق کے جھگڑے پر غور کرتا اور ظلم وتعدی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ یہ اس لیے کہ شوہر کا معاملہ بیان کرنے کے بعد اسے اپنی بیوی کو سمجھانے ، نصیحت کرنے اور اللہ سے ڈرنے کا حکم ملا، پھر باز نہ آنے پر خواب گاہ میں علیحدگی اختیار کرنے کے لیے کہا گیا اور پھر بھی باز نہ آنے اور سرکشی پر قائم رہنے کی صورت میں پٹائی کا حکم دیا گیا ہے اس کے بعد شوہر کے لیے اس کے سو اور کوئی چارہ نہیں رہ گیا، کہ وہ اپنامقدمہ فیصلے کے لیے اس شخص کے پاس لے جائے جوان دونوں میں سے مظلوم کی داد رسی کردے اور اس کا فیصلہ دونوں پر نافذ ہوجائے۔ شعبہ نے عمرو بن مرہ سے نقل کیا ہے انہوں نے سعید بن جبیر سے حکمین کے متعلق دریافت کیا توا نہیں غصہ آگیا کہنے لگے کہ میں تو اس وقت پیدا بھی نہیں ہوا تھا (دراصل سعید کو غلط فہمی ہوئی کہ سائل ان سے جنگ صفین کے نتیجے میں مقرر ہونے والے حکمین کے متعلق پوچھ رہا ہے۔ عمروبن مرہ نے کہا میں میاں بیوی کا جھگڑا نمٹانے والے حکمین کے متعلق معلوم کرنا چاہتاہوں یہ سن کر سعید بن جبیر نے فرمایا جب میاں بیوی کے درمیان لے دے شروع ہوجائے تورشتہ داروں کو چاہیے کہ دوحکم مقرر کردیں۔ یہ دونوں اس فریق کے پاس جائیں جس کی طرف جھگڑے کی ابتداء ہوئی تھی اور اسے سمجھائیں بجھائیں اگر وہ ان کی بات مان لے توفبھا، ورنہ پھر دوسرے فریق کے پاس جائیں اگر وہ ان کی بات سن کر ان کے حسب منشاء رویہ اپنانے پر رضامند ہوجائے توٹھیک ورنہ ان دونوں کے بارے میں وہ اپنافیصلہ سنادیں ، ان کا جو فیصلہ ہوگا وہ جائز ہوگا اور درست ہوگا۔ عبدالوہاب نے روایت کی ہ یکہ انہیں ایوب نے سعید بن جبیر سے خلع کی خواہش مند بیوی کے متعلق بیان کیا کہ شوہر پہلے اسے سمجھائے اگر وہ باز آجاے توٹھیک ہے ورنہ اس سے علیحدہ رہناشروع کردے اگر پھر بھی باز نہ آئے تو اس کی پٹائی کرے اور اگر پھر بھی وہ اپناسابقہ رویہ ترک نہ کرے توسلطان کے پاس اس کا معاملہ لے جائے ، سلطان خاوند اور بیوی کے رشتہ داروں میں سے ایک ایک حکم مقرر کردے گا۔ بیوی کے خاندان سے مقرر ہونے والاحکم شوہر کی کارگذاریاں گنوائے گا اور شوہر کے خاندان سے مقرر ہونے والاحکم بیوی کی کارگذاریاں بیا کرے گا۔ ان بیانات کی روشنی میں جس طریق کی طرف سے زیادہ ظلم نظر آئے گا اسے حکمین سلطان کے حوالے کردیں گے سلطان اسے ظلم کرنے سے روک دے گا، اگر عورت کی سرکشی ثابت ہوجائے گی تو مرد کو خلع کرلینے کا حکم دے دیاجائے گا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ یہ طریق کار اس لحاظ سے عنین (نامرد) مجبوب (جس کا عضو تناسل کٹ چکا ہو) اور ایلاء کے سلسلے میں اختیار کیے جانے والے طریق کار کی نظیر ہے کہ ان کے معاملات پر بھی سلطان سوچ بچار کرتا اور اللہ کے حکم سے بموجب ان کا فیصلہ کرتا ہے۔ جب میاں بیوی میں اختلافات بڑھ جائیں اور شوہر اپنی بیوی کی سرکشی اور نافرمانی کی شکایت کرے اور بیوی شوہر کے ظلم وستم اور اپنے حقوق کی پائمالی کی شاکی ہوتوایسی صورت میں حاکم میاں بیوی دونوں کے رشتہ داروں میں سے ایک ایک حکم مقرر کردے گاتا کہ وہ دونوں مل کر ان دونوں کے معاملات کی چھان بین کردیں اور اس کے نتائج سے حاکم کو آگاہ کردیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے خاندان سے ایک ایک حکم لینے کا حکم اس لیے دیاتا کہ ان دونوں کے اجنبی ہونے کی صورت میں کسی ایک کی طرف ان کے میلان کی بدگمانی پیدانہ ہوجائے لیکن جب ایک حکم مرد کی طرف سے اور دوسرا عورت کی طرف سے مقرر ہوگاتوایسی بدگمانی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اور ہر حکم اپنے فریق کی طرف سے بات کرے گا۔ قول باری (فابعثوا حکما من اھلہ وحکما من اھلھا) کی اس پر دلالت ہورہی ہے کہ شوہر کے خاندان سے مقرر ہونے والاحکم شوہر کا وکیل ہوگا اور بیوی کے خاندان والاحکم بیوی کا وکیل ہوگا، گویا اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا کہ شوہر کی طرف سے ایک شخص کو اوربیوی کی طرف سے ایک شخص کو حکم مقرر کردو۔ یہ بات ان لوگوں کے قول کے بطلان پر دلالت کرتی ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حکمین کو یہ اختیار ہے کہ میاں بیوی کے کہے بغیر وہ اگر چاہیں تو دونوں کو یکجا رکھیں اور اگر چاہیں توانمیں علیحدگی کرادیں۔ اسماعیل بن اسحاق کا خیال ہے کہ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب سے یہ منقول ہے کہ ان حضرات کے حکمین کے متعلق کوئی علم نہیں تھا، ابوبکرجصاص نے کہا کہ یہ ان حضرات کے خلاف ایک جھوٹا بیان ہے انسان کو اپنی زبان کی حفاظت کی کس قدر ضرورت ہے خاص طور پر جب وہ اہل علم کی طرف سے کوئی بات نقل کررہاہو۔ قول باری ہے (مایلفظ من قول الالدیہ رقیب عتید) وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر یہ کہ اس کے آس پاس ہی ایک تاک میں لگا رہنے والاتیار ہے) جس شخص کو اس بات کا علم ہو کہ اس کی کہی ہوئی باتوں پر مواخذہ بھی ہوگا، اس کی باتیں کم ہوتی ہیں اور جن باتوں سے اس کا تعلق نہیں ہوتا انکے متعلق وہ سوچ سمجھ کر اپنی زبان کھولتا ہے۔ زوجین کے درمیان اختلافات اور کشیدگی پیدا ہونے کی صورت میں حکمین مقرر کرنا کتاب اللہ کامنصوص حکم ہے تو یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ ان حضرات کی نظروں سے یہ مخفی رہ جائے جبکہ علم دین اور شریعت کے معاملات میں ان حضرات کو جواونچا مقام حاصل ہے وہ سب پر عیاں ہے ، بس بات صرف اتنی ہے کہ ان حضرات کے نزدیک حکمین کو زوجین کے وکلا کا کردار اداکرنا چاہیے ایک شوہر کا وکیل بن جائے اور دوسرا بیوی کا، حضرت علی (رض) سے اسی طرح کی روایت ہے۔ ابن عیینہ نے ایوب سے انہوں نے ابن سیرین سے انہوں نے عبیدہ سے روایت کی ہے حضرت علی کے پاس ایک دفعہ ایک مرد اور اس کی بیوی آئی ہر فریق کی حمایت میں بھی لوگوں کی ایک ایک ٹولی ساتھ تھی ، آپ نے ان کے متعلق پوچھاتولوگوں نے بتایا کہ ان دونوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ یہ سن کر آپ نے آیت (فابعثوا حکما من اھلہ، ، ایک حکم مرد کے رشتہ داروں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کردو اگر وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا) ۔ پھر حضرت علی نے دونوں حکم سے مخاطب ہوکر فرمایا تمہیں معلوم بھی ہے کہ تمہاری کیا ذمہ داری ہے تمہاری ذمہ داری یہ ہے کہ تم ان دونوں کے عقد زوجیت میں باقی رکھناچاہو تو باقی رہنے دو اوراگر نہیں علیحدہ کردینے میں تمہیں مصلحت نظر آئے توا نہیں علیحدہ کردو۔ یہ سن کر عورت نے کہا میں اللہ کی کتاب کے فیصلے پر راضی ہوں، مرد کہنے لگاجہاں تک علیحدگی کا تعلق ہے میں اس کے لیے رضامند نہیں ہوں حضرت علی نے یہ سن کر مرد سے فرمایا، تم جھوٹ کہتے ہو بخدا تم میرے ہاتھوں سے چھوٹ کر نہیں جاسکتے جب تک تم اس بات کا اقرار نہ کروجس کا تمہاری بیوی نے اقرار کیا ہے۔ حضرت علی نے یہ واضح کردیا کہ حکمین کا قول میاں بیوی کی رضامندی پر منحصر ہے۔ ہمارے اصحاب نے یہ کہا ہے کہ حکمین کو ان دونوں کے درمیان اس وقت تک علیحدگی کرانے کا اختیار نیہں ہے جب تک شوہراس پر رضامند نہ ہوجائے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس مسئلے میں کوئی اختلاف نہیں ہے اگر شوہر بیوی کے ساتھ بدسلوکی کا اقرار کرے تو بھی ان دونوں کے درمیان علیحدگی نہیں کرائی جاسکتی۔ اور حکمین کے فیصلے سے قبل حاکم بھی شوہر کو طلاق دینے پر مجبور نہیں کرسکتا، اسی طرح اگر عورت سرکشی اور نافرمانی کا اقرار کرے توحاکم اس سے خلع کر الینے پر مجبور نہیں کرسکتا، اور نہ ہی مہر کی واپسی کے لیے اس پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔ جب حکمین یعنی ثالثوں کے تقرر سے پہلے میاں بیوی دونوں کے متعلق مذکورہ بالاحکم ہے ، تو ان کے تقرر کے بعد بھی یہی ہوناچا ہے کہ شوہر کی رضامندی اور اس کی طرف سے اس معاملے کی حرکات کے لیے وکیل بنائے بغیرحکمین کا اس کی بیوی کو طلاق دے دیناجائز نہ ہو، اس طرح عورت کی رضامندی کے بغیر اس کی ملکیت سے مہر کی رقم نکلوا بھی درست نہ ہو۔ اسی بنا پر ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ حکمین کی طرف سے خلع کرانے کا عمل زوجین کی رضامندی کے ساتھ ہی درست ہوسکتا ہے ہمارے اصحاب کا یہ بھی قول ہے کہ میاں بیوی کی رضامندی کے بغیر حکمین کو ان دونوں کے درمیان تفریق کا اختیار نہیں ہوتا۔ کیونکہ جب حاکم وقت کو بھی اس کا اختیار نہیں ہے توحکمین کو اس کا اختیار کیسے ہوسکتا ہے حکمین تو دونوں کے وکیل ہوتے ہیں ایک حکم بیوی کو وکیل ہوتا ہے اور دوسرا شوہر کا اگر شوہر نے خلع یاتفریق کے سلسلے میں معاملہ اس کے سپرد کردیاہو۔ اسماعیل کا قول ہے کہ وکیل حکم یعنی ثالت نہیں ہوتاجوشخص بھی حکم بنے گا شوہر پر اس کا حکم چلنا جائز ہوگاخواہ شوہر اس کے حکم کو تسلیم کرنے سے انکارہی کیوں نہ کرتا رہے۔ اسماعیل کا یہ قول ایک مغالطہ ہے اس لیے کہ اس نے جو وجہ بیان کی ہے وہ وکالت کے معنی کے منافی نہیں ہے کیونکہ جب کوئی کسی کا وکیل بن جاتا ہے تو وکالت سے متعلقہ معاملے میں موکل پر اس کا حکم چلنا جائز ہوجاتا ہے ، اس لیے میاں پر حکمین پرچلنے کا جواز نہیں وکالت کے دائرے سے خارج نہیں کرتا۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ دو شخص کسی تیسرے آدمی کو اپنے جھگڑے کے تصیفے کے لیے حکم یاثالث بنالیتے ہیں اور اس صورت میں جھگڑا طے کرانے کے لحاظ سے اس ثالث کے حیثیت ان دونوں کے وکیل کی ہوتی ہے پھر جب ثالث کوئی فیصلہ کردیتا ہے ان دونوں کی آپس میں صلح ہوجاتی ہے اس کے ساتھ یہ بات بھی ہے کہ زوجین کی ناچاقی کے سلسلے میں مقرر ہونے والے ثالثوں کی کاروائی اور ان کی کوشش وکالت کے مفہوم سے کسی طرح بھی جدا نہیں ہوتی ، دو شخصوں کے جھگڑے کے سلسلے میں ثالث کا فیصلہ ایک لحاظ سے حاکم کے فیصلے کے مشابہ ہوتا ہے۔ اور ایک لحاظ سے وکالت کے مشابہ ہوتا ہے جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا ہے جبکہ میاں بیوی کی ناچاقی کے سلسلے میں تگ ودو کرنے والے ثالثوں کے کردار کی بنیاد خالص وکالت کے مفہوم پر ہوتی ہے جس طرح وکالت کی دیگر صورتوں کے اندر ہوتا ہے۔ اسماعیل نے کہا کہ وکیل حکم یاثالث نہیں کہلاسکتا حالانکہ بات اس طرح نہیں ہے جس طرح اسماعیل نے سوچا ہے کیونکہ اس خاص صورت میں وکیل کو ثالث کا نام محض اس لیے دیا گیا ہے تاکہ اس کی ذریعے اس وکالت کی اور تاکید ہوجائے جو اس کے سپرد کی گئی ہے۔ اسماعیل نے کہا ہے کہ حکمین کے حکم کامیاں بیوی دونوں پرچلنا جائز ہوتا ہے خواہ وہ اسے تسلیم کرنے سے انکار ہی کیوں نہ کرتے رہیں ، یہاں بھی بات اس طرح نہیں ہے ، اگر میاں بیوی انکار کردیں توحکمین کا حکم ان پر چل نہیں سکتا کیونکہ یہ دونوں وکیل ہوتے ہیں بلکہ حاکم کو ضرورت پیش آتی ہے کہ وہ ان دونوں کو میاں بیوی کے معاملے میں غور کرنے اور یہ معلوم کرنے کے لیے کہے کہ ان دونوں میں سے حق کے راستے سے کون ہٹا ہوا ہے۔ پھر اپنی جمع شدہ معلومات کو حاکم کے سامنے پیش کردیں اور اگر اس بارے میں دونوں کے درمیان اتفاق رائے ہوتوان کی بات قبول کرلی جائے گی اور میاں بیوی میں سے جو بھی ظالم ثابت ہوگا حاکم اسے ظلم کرنے سے روک دے گا۔ اس لیے یہ ممکن کہ انہیں اس بنا پر حکمین کا نام دیا گیا ہو کہ زوجین کے متعلق ان کا قول قبول کرلیاجاتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہو کہ جب زوجین کی طرف سے وکالت کرنے کا معاملہ ان کے سپرد کردیاجاتا ہے اور اسے ان کی اپنی صوابدید اور معاملے کو سلجھانے کے لیے ان کی کوشش اور تگ ودود پر چھوڑ دیاجاتا ہے توخلع کرانے کی بنا پر انہیں حکمین کہا گیا ہوکیون کہ حکم یعنی ثالت کا اسم معاملے کو سلجھانے کے لیے تگ ودو کرنے نیز فیصلے کو عدل وانصاف کے ساتھ نافذ کرانے کا مفہوم ادا کرتا ہے۔ جب اس معاملے کو ان کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہو اور انہوں نے میاں بیوی کو رشتہ دار ازدواج میں بندھنے رہنے یا ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرلینے کے سلسلے میں اپنافیصلہ سنادیا ہو اور وہ فیصلہ نافذ بھی ہوگیا ہوتوعین ممکن ہے کہ اس بنا پر انہیں حکمین کے نام سے موسوم کیا گیا ہو، جس معاملے کو سلجھانے کا کام ان کے سپرد کیا گیا تھا اس کے متعلق خیرواصلاح کے نقطہ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے کسی فیصلے پر پہنچ جانے کے بعد زوجین پرس کے نفاظ کے سارے عمل میں ان کی حیثیت حاکم وقت کی حیثیت کے مشابہ ہے اسی بنا پر انہیں حکمین کے لقب سے ملقب کیا گیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ زوجین کے وکیل ہی ہوں گے کیونکہ یہ بات تو بالکل درست نہیں ہے کہ زوجین کی اجازت کے بغیر کسی کو ان پر خلع اور طلاق جیسے امور کی ولایت حاصل ہوجائے ، اسماعیل کا خیال کہ حضرت علی سے مروی واقعہ میں جس کا گذشتہ سطور میں ذکر ہوچکا ہے شوہر کی تردید آپ نے اس لیے کی تھی کہ وہ کتاب اللہ کے فیصلے پر رضامندی نہیں ہوا، تھا، حضرت علی نے اس کی گرفت اس لیے نہیں کی تھی کہ اس نے وکیل نہیں بنایاتھابل کہ اس لیے گرفت کی تھی کہ وہ کتاب اللہ کے فیصلے پر ضامند نہیں ہوا تھا۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں یہ بات اس طرح نہیں ہے کہ کیونکہ اس شخص نے جب یہ کہاجہاں تک علیحدگی کا تعلق ہے تو اس کے لیے میں رضامند نہیں ہوں، تو حضرت علی نے جواب میں فرمایا تھا کہ تم جھوٹ کہتے ہو، بخدا اب تم میرے ہاتھ سے نکل کر نہیں جاسکتے جب تک اس طرح اقرار نہ کرو جس طرح تمہاری بیوی نے اقرار کیا ہے ۔ حضر ت علی نے علیحدگی کے معاملہ میں وکیل مقرر نہ کرنے پرس کی سرزنش کی اور اسے اس معاملے کے لیے وکیل پکڑنے کا حکم دیا، اس شخص نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ میں کتاب اللہ کے فیصلے پر رضامند نہیں ہوں، کہ پھر حضرت علی اس کی سرزنش کرتے ، اس نے تو یہ کہا تھا کہ میں علیحدگی پر رضامند نہیں ہوں جبکہ اس کی بیوی تحکیم پر رضامند ہوگئی تھی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بیوی سے علیحدگی کا فیصلہ شوہر پر اس وقت تک نافذ نہیں ہوسکتا جب تک شوہر نے اس کی وکالت کا معاملہ سپرد نہ کردیا ہو۔ اسماعیل کا قول ہے جب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا، (ان یریدا اصلاحا یوفق اللہ بینھما) توہ میں اس سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ حکمین اپناحکم اور فیصلہ نافذ کرائیں گے اور اگر انہوں نے فیصلہ کرتے وقت حق وانصآف کو پیش نظر رکھا تو اللہ تعالیٰ انہیں صحیح فیصلے کی توفیق عطا فرمائے گا۔ اسماعیل کا کہنا ہے کہ ایسی بات وکیلوں کو نہیں کہی جاتی کیونکہ وکیل کے لیے اس معاملے کے دائرے سے باہر قدم نکالنا درست نہیں ہوتا جس کے لیے اسے وکیل مقرر کیا گیا ہو۔ ابوبکرجصاص کہتے ہیں کہ اسماعیل نے جو کچھ کہا ہے وہ وکالت کے مفہوم اور معنی کے منافی نہیں ہے کیونکہ جب دونوں وکیلوں کو یہ معاملہ اس طرح سپرد کردیاجائے کہ وہ خیروصلاح کے حصول کی تگ ودو کے بعد اپنی صوابدید کے مطابق زوجین کے رشتہ ازدواج کو باقی رکھنے یا اسے منقطع کرنے کا جو بھی فیصلہ کریں اس میں ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنی سمجھ بوجھ سے پوری طرح کام لے کر فیصلے کا اعلان کریں۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ اگر ان کی نیتیں درست ہوں گی تو اللہ تعالیٰ بھی انہیں صلاح وخیر کی توفیق عطا فرمائے گا، اس لیے وکیل اور حکم یعنی ثالث میں کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ ہر وہ شخص جسے اس قسم کا کوئی معاملہ بھی خیروصلاح کو پیش نظر رکھتے ہوئے سلجھانے کے لیے حوالے کردیاجائے اسے توفیق ایزدی کی وہ صفت ضرور لاحق ہوجاتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے آیت زیر بحث میں بیان کی ہے۔ اسماعیل نے مزید کہا کہ حضرت ابن عباس ، مجاہد، ابوسلمہ، طاؤس، اور ابراہیم نخعی سے مروی ہے حکمین جو بھی فیصلہ کردیں وہ درست ہوگا۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ہمارے نزدیک ایسا ہی ہے ، لیکن ان حضرات کا یہ قول اسماعیل کے قول کی موافقت پر دلالت نہیں کرتا کیونکہ ان حضرات نے یہ نہیں فرمایا کہ خلع اور تفریق کے سلسلے میں زوجین کی رضامندی کے بغیر حکمین کی کاروائی درست ہوگی، بلکہ یہاں اس بات کی گنجائش ہے کہ ان حضرات کا مسلک ہی یہ ہو کہ حکمین کو خلع اور تفریق کا اختیار ہی نہیں ہوتا، جب تک زوجین وکالت کے قیام کے ذریعے اس بارے میں اپنی رضامندی کا اظہار نہ کردیں اور وہ اس چیز کے حصول کے بغیر حکم ہی ہوتے۔ ہاں اگر زوجین کی رضامندی حاصل ہوجائے تو اس کے بعد اس بارے میں ان کا ہر فیصلہ درست ہوگا، ذراغور کیجئے حکمین کے لیے شوہر کی رضامندی کے بغیر خلع کا فیصلہ دینا اور بیوی کی رضامندی کے بغیر اس کی ملکیت سے مال نکلوانا کیسے جائز ہوسکتا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (واتوالنساء صدقاتھن نحلہ، فان طبن لکم عن شی منہ نفسا فکلوہ ھنیا مریا) ۔ نیز فرمایا (ولایحل لکم ان تاخذوا ممااتیتموھن شیاء۔۔ تا۔۔۔۔ فیماافتدت بہ) جس خوف کا اس آیت میں ذکر ہے آیت (فابعثوا حکما من اھلہ وحکما من اھلھا) میں بھی وہی مراد ہے ، اللہ تعالیٰ نے بیوی کو دی ہوئی چیزوں میں کسی چیز کے واپس لینے کی شوہر کو ممانعت کردی لیکن اگر دونوں کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ وہ اللہ کے حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اس اندیشے کی شرط پر عورت کے لیے جس چیز کے بدلے چاہے اسے خلع حاصل کرلینے کی اجازت دے کر مرد کے لیے اسے لے لینا حلال قرار دے دیا۔ اس صورت حال کے تحت زوجین کی رضامندی کے بغیر حکمین کے لیے خلع ی اطلاق واقع کردینا کس طرح جائز ہوسکتا ہے ، جبکہ اللہ تعالیٰ نے منصوص طریقے سے یہ فرمادیا کہ دی ہوئی چیزوں میں سے کوئی چیز واپس لینا شوہر کے لیے حلال نہیں ہے الایہ کہ وہ اپنی خوشی سے کوئی چیز اسے واپس کردے۔ اس لیے جو لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ شوہر کی طرف سے خلع کے معاملے میں توکیل کے بغیر حکمین کو خلع کرادینے کا اختیار ہے ، وہ نص کتاب کی مخالفت کررہے ہیں۔ نیز ارشاد باری ہے (ولاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل وتدلوا بھا الی الحکام) اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمادیا کہ حاکم اور غیرحاکم دونوں اس حکم میں یکساں ہیں کہ کوئی شخص کسی کا مال لے کر کسی دوسرے کودے دینا کا اختیار نہیں رکھتا۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے (لایحل مال امری مسلم الابطیبۃ من نفسہ) کسی مسلمان کا مال کسی کے لیے حلال نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنی خوشی سے کچھ دے دے ) آپ کا یہ بھی ارشاد ہے (فمن قضیت لہ من حق اخیہ بشئی فانما قطع لہ قطعۃ من النار) جس شخص کو میں اپنے فیصلے کے ذریعے اس کے بھائی کا کوئی حق دے دوں گا تو گویا میں جہنم کی آگ کا ایک ٹکڑا کاٹ کر اس کے حوالے کردوں گا) ۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ حاکم کو یہ اختیار نہیں کہ وہ بیوی کے مال کا کوئی حصہ اس سے لے کر شوہر کے حوالے کردے ، نیزا سے یہ اختیار بھی نہیں کہ شوہر کی طرف سے وکیل مقرر ہوئے بغیر اور اس کی رضامندی سے بالابالابیوی پر طلاق واقع کردے۔ یہ کتاب وسنت اور اجماع امت کا حکم ہے جس کے رو سے حاکم کے لیے درج بالا حقوق کے علاوہ دوسرے حقوق کو ساقط کردینا اور انہیں کسی اور کی طرف منتقل کردینا بھی جائز نہیں ہے الایہ کہ حق والا بھی اس پر رضامند ہوجائے۔ اب ذرا حکمین کی حیثیت ملاحظہ کیجئے انہیں تو صرف زوجین کے درمیاں صلح کرانے اور ان میں سے جو ظلم کررہا ہو اس کی نشاندہی کرنے کے لیے مقرر کیا جاتا ہے جیسا کہ سعید نے قتادہ سے قول باری (وان خفتم شقاق بینھما) کے سلسلے میں روایت کی ہے کہ حکمین کا تقرر صرف صلح کرانے کی غرض سے کیا جاتا ہے۔ اگر انہیں اس میں ناکامی ہوجائے وہ ان میں سے جو ظالم ہوگا اس کی اور اس کے ظلم کی نشان دہی کردیں گے ، ان کے ہاتھوں میں زوجین کی علیحدگی نہیں ہوتی اور نہ ہی انہیں اس کا اختیار ہوتا ہے ، عطاء بن ابی رباح سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ اگر انہیں اس میں ناکامی ہوجائے تو وہ ان میں سے جو ظالم ہوگا اس کی اورا سکے ظلم کی نشان دہی کردیں گے ان کے ہاتھوں میں زوجین کی علیحدگی نہیں ہوتی اور نہ انہیں اس کا اختیار ہوتا ہے عطاء بن ابی رباح سے بھی اسی قسم کی روایت ہے۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ آیت کے ضمن میں یہ دلالت موجود ہے کہ حکمین کو زوجین کے درمیان علیحدگی کرادینے کا اختیار نہیں ہے یہ دلالت آیت کے ان الفاظ (ان یریدا اصلاحا یوفق اللہ بینھما) میں موجود ہے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اگر حکمین زوجین کے درمیان علیحدگی کراناچا ہیں، حکمین تو صرف اس لیے ہوتے ہیں کہ زوجین میں سے جس کی طرف سے ظلم ہورہا ہوا سے سمجھائیں اور اس کی سرزنش کریں نیز حاکم کو اس کی اطلاع دیں تاکہ وہ اسے ظلم سے روک دے ، اگر شوہر ظلم کررہا ہو تو اس کی سرزنش کرتے ہوئے یہ تلقین کریں کہ تمہارے لیے اپنی بیوی کو اس نیت سے ایذادینا حلال نہیں ہے کہ وہ خلع کرالے۔ اگر ظلم بیوی کی طرف سے ہورہا ہو تو اس سے یہ کہیں ، اب تمہارے لیے فدیہ یعنی خلع کرالینا حلال ہے ، حکمین کے سامنے عورت کی سرکشی اور نفرت کے ظہور کی بنا پر شوہر کو اپنی بیوی سے خود خلع کی رقم وصول کرنے کے سلسلے میں معذور سمجھاجائے گا، جب زوجین میں ہر ایک کو اس کے متعلقہ حکم یعنی تفریق اور خلع کی سمت موڑ دیاجائے گا تو اس پوری کاروائی میں حکمین کی حیثیت زوجین کے وکلاء جیسی ہوجائے گی جیسا کہ ہم بیان کر آئے ہیں۔ اب ان کے لیے جائز ہوگا کہ اگر بہتر سمجھیں توخلع کرادیں اور اگر انہیں زوجین کے درمیان رشتہ ازدواج باقی رکھنے میں بھلائی نظرآئے توصلح کرادیں، اس طرح حکمین ایک حالت میں گواہوں کا کردار ادا کرتے ہیں اور ایک حالت میں صلح کنندگان ، پھر ایک حالت میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنے والوں کا اور اگر انہیں زوجین میں علیحدگی کرانے اور رشتہ زوجیت باقی رکھنے کا کام سپرد کردیا گیا ہوتویہ ان کے وکیلوں کا کردار ادا کرسکتے ہیں ، رہ گیا یہ قول کہ حکمین زوجین کی طرف سے وکیل مقرر ہوئے بغیر ان کے درمیان خلع کر اسکتے ہیں اور انہیں ایک ودسرے سے علیحدہ کر اسکتے ہیں یہ تو ایک زبردستی کی بات ہے جو کتاب وسنت سے خارج ہے ۔ واللہ اعلم۔ سلطان اور حاکم سے بالابالا خلع کرالینا امام ابوحنیفہ ، امام یوسف ، امام محمد، زفر، امام مالک ، حسن بن صالح اور امام شافعی کا قول ہے کہ سلطان کے لیے بغیر خلع جائز ہے ، حضرت عمر ، حضرت عثمان ، اور حضرت ابن عمر سے اسی قسم کی روایت منقول ہے۔ حسن اور ابن سیرین کا قول ہے خلع صرف سلطان کے پاس جاکر ہوسکتا ہے ، سلطان کے بغیرخلع کے وقوع پر قول باری (فان طبن لکم عن شئی من نفسا فکلوہ ھنیا مریا) دلالت کرتا ہے کیونکہ اس کا ظاہر عورت سے خلع کے طور پر یا کسی اور وجہ سے مال لینے کے جواز کا مقتضی ہے نیز قول باری ہے (فلاجناح علیھما فیماافتدت بہ) اس میں سلطان کے پاس جاکر فدیہ دینے کی شرط نہیں ہے نیز جس طرح عقد نکاح اور دوسرے تمام عقود وسلطان کے پاس جاکر اورا سکے پاس گئے بغیر جائز ہوجاتے ہیں اسی طرح خلع بھی جائز ہوجاتا ہے۔ کیونکہ ان عقود کی اصولی طوپرخصوصیت نہیں کہ ان کا انعقاد سلطان کے پاس جاکر ہوتا ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٥) اور اگر میاں بیوی میں رنجش محسوس ہو اور یہ معلوم نہ ہو کہ ابتدا کس کی طرف سے ہے تو مرد کے گھروالوں میں سے ایک معاملہ فہم آدمی مرد کے پاس اور اسی طرح عورت کے گھروالوں میں سے ایک پختہ عمر شخص عورت کے پاس بھیجو تاکہ ہر ایک کے پاس جا کر وہ دونوں کی صحیح صورت حال معلوم کرے اور دیکھے کہ کون ظالم ہے اور کون مظلوم۔ اگر یہ دونوں میاں بیوی میں سچے دل سے اصلاح کرائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان میاں بیوی کے درمیان اتفاق فرما دیں گے۔ بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والے اور خبر دار ہیں۔ الرجال قوامون سے یہاں تک یہ آیت محمد بن سلمہ کی لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی، ان کی جانب سے اپنے خاوند اسعد بن ربیع کی نافرمانی ہوئی، ان کے خاوند نے ان کے ایک چپت مار دیا یہ اپنے خاوند سے قصاص کا مطالبہ کرنے کے لیے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ممانعت فرمادی۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٣٥ (وَاِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِہِمَا) ‘ اب اگر کوئی تدبیر نتیجہ خیز نہ ہو اور ان دونوں کے مابین ضدم ضدا کی کیفیت پیدا ہوچکی ہو کہ عورت بھی اکڑ گئی ہے ‘ مرد بھی اکڑا ہوا ہے ‘ اور اب ان کا ساتھ چلنا مشکل نظر آتا ہو تو اصلاح احوال کے لیے ایک دوسری تدبیر اختیار کرنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے۔ ّ َ (فَابْعَثُوْا حَکَمًا مِّنْ اَہْلِہٖ وَحَکَمًا مِّنْ اَہْلِہَا ج) (اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلاَحًا یُّوَفِّقِ اللّٰہُ بَیْنَہُمَا ط) اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلاَحًا “ میں مراد زوجین بھی ہوسکتے ہیں اور حکمین بھی۔ یعنی ایک تو یہ کہ اگر واقعتا شوہر اور بیوی موافقت چاہتے ہیں تو اللہ ان کے درمیان سازگاری پیدا فرما دے گا۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ شوہر اور بیوی دونوں کی خواہش ہوتی ہے کہ معاملہ درست ہوجائے ‘ لیکن کوئی نفسیاتی گرہ ایسی بندھ جاتی ہے جسے کھولنا ان کے بس میں نہیں ہوتا۔ اب اگر دونوں کے خاندانوں میں سے ایک ایک ثالث آجائے گا اور وہ دونوں مل بیٹھ کر خیر خواہی کے جذبے سے اصلاح احوال کی کوشش کریں گے تو اس گرہ کو کھول سکیں گے۔ یہ دونوں اسباب اختلاف کی تحقیق کریں گے ‘ میاں بیوی دونوں کے گلے شکوے اور وضاحتیں سنیں گے اور دونوں کو سمجھا بجھا کر تصفیہ کی کوئی صورت نکالیں گے۔ اِنْ یُّرِیْدَآ اِصْلاَحًا “ میں مراد حکمین بھی ہوسکتے ہیں کہ اگر وہ اصلاح کی پوری کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے مابین موافقت ‘ پیدا فرما دے گا۔ لیکن میرا رجحان پہلی رائے کی طرف زیادہ ہے کہ اس سے مراد میاں بیوی ہیں۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

60. The statement: 'if they both want to set things right', may be interpreted as referring either to the mediators or to the spouses concerned. Every dispute can be resolved providing the parties concerned desire reconciliation, and the mediators too are keen to remove the misunderstandings between them and to bring them together. 61. Whenever the relationship between a husband and a wife starts to break down, an attempt should first be made to resolve the dispute at the family level, before it is aggravated and leads to the disruption of the matrimonial tie. The procedure to be followed is that two persons, one on behalf of each family, should be nominated to look into the matter together and devise means whereby the misunderstanding between the spouses may be brought to an end. Who should nominate these mediators? God has not specified this so as to allow people full freedom to choose the most convenient arrangement. The parties would be free, for instance, to decide that the mediators be nominated either by the spouses themselves or by the elders of their respective families. If the dispute is brought before the court, the latter also has the right to nominate mediators, representing the families of both parties, before referring the matter for judicial verdict. There is disagreement among Muslim jurists about the extent of the mediators' authority. The Hanafi and Shafi'i schools are of the opinion that they normally have no authority to issue a binding verdict. All they may do is to recommend the solution they advocate, whereafter the spouses have the right either to accept or to reject it. The exception is if the spouses have nominated the mediators to act on their behalf in regard to either talaq or khul': they will then be bound by their verdict. This is the opinion of the Hanafi and Shafi'i schools. Another group of jurists argues that the authority of the mediators is confined to deciding how the spouses should reconcile their differences, and does not extend to the annulment of marriage. This is the opinion of Hasan al-Basri and Qatadah, among others. Yet another group holds the opinion that the mediators have full authority both in respect of reconciliation and annulment of marriage. This is the opinion of Ibn 'Abbas, Sa'id b. Jubayr, Ibrahim al-Nakha'i, al-Sha'bi, Muhammad b. Sinn and several other authorities. The precedents which have come down from early Islam, however, are the judgements of 'Uthman and 'Ali. These indicate that they conferred upon the mediators the authority to issue judgements binding on both parties. When the dispute between 'Aqil b. Abi Talib and his wife Fatimah b. 'Utbah b. Rabi'ah came up for the judgement of 'Uthman, he nominated Ibn 'Abbas and Mu'awiyah b. Abi Sufyan from the families of the husband and the wife respectively. He also told them that if they thought that separation was preferable, they should declare the marriage annulled. In a similar dispute 'Ali nominated mediators and authorized them either to bring about reconciliation or annul the marriage, whichever they considered appropriate. This shows that the mediators do not have judicial authority as such. (See the commentaries of Ibn Kathir and Jassas on this verse -Ed.) Such authority, however, may be conferred upon them by the courts, in which case their decision will have the force of a judicial verdict.

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :60 دونوں سے مراد ثالث بھی ہیں اور زوجین بھی ۔ ہر جھگڑے میں صلح ہونے کا امکان ہے بشرطیکہ فریقین بھی صلح پسند ہوں اور بیچ والے بھی چاہتے ہوں کہ فریقین میں کسی طرح صفائی ہو جائے ۔ سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :61 اس آیت میں ہدایت فرمائی گئی ہے کہ جہاں میاں اور بیوی میں ناموافقت ہوجائے وہاں نزاع سے انقطاع تک نوبت پہنچنے یا عدالت میں معاملہ جانے سے پہلے گھر کے گھر ہی میں اصلاح کی کوشش کر لینی چاہیے ، اور اس کی تدبیر یہ ہے کہ میاں اور بیوی میں سے ہر ایک کے خاندان کا ایک ایک آدمی اس غرض کے لیے مقرر کیا جائے کہ دونوں مل کر اسباب اختلاف کی تحقیق کریں اور پھر آپس میں سر جوڑ کر بیٹھیں اور تصفیہ کی کوئی صورت نکالیں ۔ یہ پنچ یا ثالث مقرر کرنے والا کون ہو؟ اس سوال کو اللہ تعالیٰ نے مبہم رکھا ہے تاکہ اگر زوجین خود چاہیں تو اپنے اپنے رشتہ داروں میں سے خود ہی ایک ایک آدمی کو اپنے اختلاف کا فیصلہ کرنے کے لیے منتخب کر لیں ، ورنہ دونوں خاندانوں کے بڑے بوڑھے مداخلت کر کے پنچ مقرر کریں ، اور اگر مقدمہ عدالت میں پہنچ ہی جائے تو عدالت خود کوئی کاروائی کرنے سے پہلے خاندانی پنچ مقرر کر کے اصلاح کی کوشش کرے ۔ اس امر میں اختلاف ہے کہ ثالثوں کے اختیارات کیا ہیں ۔ فقہاء میں ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ ثالث فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتے ، البتہ تصفیہ کی جو صورت ان کے نزدیک مناسب ہو اس کے لیے سفارش کر سکتے ہیں ، ماننا یا نہ ماننا زوجین کے اختیار میں ہے ۔ ہاں اگر زوجین نے ان کو طلاق یا خلع یا کسی اور امر کا فیصلہ کردینے کے لیے اپنا وکیل بنایا ہو تو البتہ ان کا فیصلہ تسلیم کرنا زوجین کے لیے واجب ہوگا ۔ یہ حنفی اور شافعی علماء کا مسلک ہے ۔ دوسرے گروہ کے نزدیک دونوں پنچوں کو موافقت کا فیصلہ کرنے کا اختیار ہے ، مگر علیحدگی کا فیصلہ وہ نہیں کر سکتے ۔ یہ حَسَن بصری اور قَتَادہ اور بعض دوسرے فقہاء کا قول ہے ۔ ایک اور گروہ اس بات کا قائل ہے کہ ان پنچوں کو ملانے اور جدا کردینے کے پورے اختیارات ہیں ۔ ابن عباس ، سَعِید بن جُبَیر ، ابراہیم نَخَعی ، شَعبِی ، محمد بن سِیرِین ، اور بعض دوسرے حضرات نے یہی رائے اختیار کی ہے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلوں کی جو نظیریں ہم تک پہنچی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں حضرات پنچ مقرر کرتے ہوئے عدالت کی طرف سے ان کو حاکمانہ اختیارات دے دیتے تھے ۔ چنانچہ حضرت عَقیِل بن ابی طالب اور ان کی بیوی فاطمہ بنت عُتبہ بن ربیعہ کا مقدمہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی عدالت میں پیش ہوا تو انہوں نے شوہر کے خاندان میں سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ ، اور بیوی کے خاندان میں سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بن ابی سفیان کو پنچ مقرر کیا اور ان سے کہا کہ اگر آپ دونوں کی رائے میں ان کے درمیان تفریق کر دینا ہی مناسب ہو تو تفریق کر دیں ۔ اسی طرح ایک مقدمہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حَکَم مقرر کیے اور ان کو اختیار دیا کہ چاہے ملا دیں اور چاہیں جدا کردیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ پنچ بطور خود تو عدالتی اختیارات نہیں رکھتے ۔ البتہ اگر عدالت ان کو مقرر کرتے وقت انہیں اختیارات دے دے تو پھر ان کا فیصلہ ایک عدالتی فیصلے کی طرح نافذ ہو گا ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

فقط عورت کی طرف سے جب بگاڑ کی باتیں ہوں تو ان کا ذکر تھا۔ اس آیت میں میاں بی بی دونوں کی طرف سے جب بگاڑ کی باتیں ہوں تو ان کا ذکر ہے کہ عورت مرددونوں کے رشتہ داروں میں سے ایک ایک پنچ ٹھہرا جائے تاکہ وہ اس بگاڑ کا تصفیہ کردیں۔ خواہ یہ تصفیہ آئندہ کے ملاپ کا ہو یا جدائی کا ابو داؤد ابن ماجہ مستدرک حاکم میں عبد اللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا حلال چیزوں میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک جو ناپسند چیز ہے وہ عورت کی طلاق ہے ٣۔ اور ابو داؤد کی سند میں اگرچہ ایک راوی یحییٰ بن مسلم ہے ٤ جس کے حافظہ میں فتور ہے۔ لیکن وہ صدوق ہے۔ اسی واسطے حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ٥۔ غرض اللہ تعالیٰ کو میاں بی بی کا ملاپ پسند ہے اور طلاق ناپسند ہے اس لئے آیت میں فقط ملاپ کا ذکر فرمایا ناپسند چیز طلاق کا ذکر نہیں فرمایا۔ تاکہ پنچوں کی توجہ ملاپ کی طرف زیادہ مصروف رہے آیت میں فقط ملاپ کا ذکر ہے اس واسطے امام احمد کا مذہب یہ ہے کہ پنچوں کو میاں بی بی میں تفریق کردینے کا اختیار نہیں ہے اور علماء نے اس کا جواب دیا ہے کہ آیت میں اصلاح کا لفظ ہے جس میں ملاپ تفریق دونوں باتیں آسکتیں ہیں۔ کیونکہ بعض صورتوں میں بغیر تفریق کے اصلاح نہیں ہوسکتی ٦۔ رشتہ دار پنچ اس لئے فرمائے کہ وہ میاں بی بی کی حالت کو خوب جانتے ہیں۔ آخر کو فرمایا۔ اللہ تعالیٰ سب جانتا ہے۔ خبر رکھتا ہے۔ اس میں میاں بی بی پنچ سب کو تنبیہ ہے کہ ان میں سے جو ناحق طریقہ اختیار کرے گا وہ اللہ کے نزدیک مؤاخذہ کے قابل قرار پائے گا۔ اکثر علماء کے نزدیک ان پنچوں کا حکم میاں بی بی کے برخلاف جاری ہوسکتا ہے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:35) شقاق۔ الشق۔ شگاف کو کہتے ہیں۔ جیسے مشققۃ بنصفین میں نے اسے برابر دو ٹکڑوں میں کاٹ دیا۔ قرآن کریم میں ہے ثم شققنا الارض شقا (8:126) پھر ہم نے زمین کو چیرا پھاڑا۔ یا اذا السماء انشقت (84:1) جب آسمان پھٹ جائے گا۔ الشق (بکسرش) اس مشقت کو کہتے ہیں کہ جو تگ ودو سے بدن یا جسم کو لاحق ہوتی ہو۔ مثلاً الا بشق الانفس (16:7) مگر جان پر مشقت جھیلنے کے بعد۔ الشقاق۔ کے معنی مخالفت۔ عداوت۔ ناچاقی کے ہیں۔ باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ شق طرف شقاق بمعنی الگ الگ (مخالف) طرفوں میں ہونا۔ فابعثوا۔ تم بھیجو۔ تم بلا بھیجو۔ تم اٹھاؤ۔ مقرر کرو۔ بعث سے باب فتح۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ حکما۔ مفعول بہٖ ۔ منصف۔ بیچ۔ فیصلہ کرنے والا۔ حکم سے صفت مشبہ کا صیغہ واحد جمع۔ سب کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ فیصلہ کرنے والے کو حکم کہتے ہیں۔ حاکم سے زیادہ بلیغ۔ یریدا تثنیہ مذکر غائب اس سے مراد دو بنچ۔ ایک خاوند کی طرف سے ایک بیوی کی طرف سے۔ اصل میں یریدان تھا۔ ان ناصبہ کے عمل سے نون اعرابی گرگیا۔ یوفق اللہ۔ یوفق مضارع مجزوم مکسور بالوصل واحد مذکر غائب توفیق مصدر باب تفعیل موافقت پیدا کر دے گا۔ بینھما۔ میں ھما ضمیر تثنیہ مؤنث غائب مرد اور عورت کے لئے ہے۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 دو حکم ّپنج) مقرر کرنے کا اختیار حاکم کو ہے اور یہ اس وقت ہے جب تعلقا زیادہ خراب ہوجائیں ارجدئی کا اندیشہ ہو اکثر علما کے نزدیک ان حکموں کو یہ بھی اختیار ہوگا کہ اگر وہ صلح کرانے میں ناکام رہیں تو میاں بیوی کے درمیان تفریق کا فیصلہ کردیں، تفسیر ابن کثیر میں ہے کہ اس پر علما کا اجماع ہے (ابن کثیر)8 یعنی وہ دونوں حکم اگر نیک نیتی سے صلح کر انے کی کوشش کرینگے تو اللہ تعالیٰ ان کی کوشش میں برکت عطا فرمائے گا (ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیت نمبر 35: وان خفتم شقاق بینھما۔۔۔ علیما خبیرا۔ اب دوسری صورت یہ ہے کہ مرد کا قصور ہو یا عورت نافرمان و سرکش اور معاملہ گھر میں سدھرنے کی امید نہ رہے تو ایک دوسرے کو الزام دینے کی بجائے حاکم یا خاندان کے بزرگ مسلمانوں کی مقتدر جماعت دونوں طرف سے ایک ایک حکم مقرر کردیں یعنی دونوں خاندانوں میں سے ایک ایک فرد ایسا چنا جائے جس میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہو حکم کے لفظ میں صلاحیت کا ہونا از خود ثابت ہے کہ قوت فیصلہ ہی نہ ہو تو حکم نہیں کہا جاسکتا اور ظاہر ہے کہ ایسے پرخلوص اور دیانتدار آدمی چنے جائیں جو ذی علم بھی ہوں بات سمجھ سکیں اور آپس میں مشورہ کرکے فیصلہ کرسکیں بنیادی طور پر ان کا تقرر محض صلح کرانے کے لیے ہے اگر وہ بھی صلح نہ کرا سکیں تو معاملہ عدالت میں جائے گا جس میں کئی خرابیاں ہوں گی اخراجات ہوں گے گھر کی بات بازار تک پہنچے گی اور ممکن ہے غصے میں غلط الزامات لگائے جائیں یا غلط گواہیاں دی جائیں جس کے باعث آخرت بھی خراب ہو اور دنیاوی نقصان کے ساتھ بدنامی کا ڈر بھی ہے تو اگر وہ دونوں یعنی حکم خلوص کے ساتھ یہ ارادہ کرلیں گے کہ ان کی صلح ہوجائے اور یہ خاندان ایسے نہ رہے تو ایک دوسرے کو الزام دینے کی بجائے حاکم یا خاندان کے بزرگ مسلمانوں کی مقتدر جماعت دونوں طرف سے ایک ایک حکم مقرر کردیں یعنی دونوں خاندانوں میں سے ایک ایک فرد ایسا چنا جائے جس میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہو حکم کے لفظ میں صلاحیت کا ہونا از خود ثابت ہے کہ قوت فیصلہ ہی نہ ہو تو حکم نہیں کہا جاسکتا اور ظاہر ہے کہ ایسے پرخلوص اور دیانتدار آدمی چنے جائیں جو ذی علم بھی ہوں بات سمجھ سکیں اور آپس میں مشورہ کرکے فیصلہ کرسکیں بنیادی طور پر ان کا تقرر محض صلح کرانے کے لیے ہے اگر وہ بھی صلح نہ کرا سکیں تو معاملہ عدالت میں جائے گا جس میں کئی خرابیاں ہوں گی اخراجات ہوں گے گھر کی بات بازار تک پہنچے گی اور ممکن ہے غصے میں غلط الزامات لگائے جائیں یا غلط گوہیاں دی جائیں جس کے باعث آخرت بھی خراب ہو اور دنیاوی نقصان کے ساتھ بدنامی کا ڈر بھی ہے تو اگر وہ دونوں یعنی حکم خلوص کے ساتھ یہ ارادہ کرلیں گے کہ ان کی صلح ہوجائے اور یہ خاندان ایسے ہی قائم رہے تو اللہ کریم ان کی مدد فرمائے گا کہ میاں بیوی کے دل میں اتفاق و محبت پیدا فرما دے گا اور اس طرح سے نہ صرف ایک خاندان بچ جائیگا بلکہ ان کا مال اور اخلاق و کردار بھی محفوظ رہے گا ہاں اگر فریقین ان دونوں کو اختیار دے دیں تو پھر وہ اس معاملہ کے کلی طور پر مختار بن کر کوئی بھی فیصلہ کرسکتے ہیں طلاق پہ متفق ہوجائیں یا خلع وغیرہ کی کوئی صورت مقرر کردیں تو وہ فیصلہ نافذ ہوجائے گا۔ اس آیہ کریمہ سے فقہا نے یہ بات اخذ کی ہے کہ میاں بیوی کے علاوہ دوسرے جھگڑوں میں بھی حکم مقرر کیے جاسکتے ہیں بلکہ مناسب طریقہ ہی یہ ہے کہ عدالت جانے کی بجائے اس طرح سے فیصلہ کرلیا جائے۔ سیدنا فاروق اعظم (رض) کا فرمان بھی ملتا ہے کہ عدالتی فیصلوں کی جگہ کوشش کی جائے کہ پنچایتی فیصلے ہوں ان سے دلوں میں کدورت پیدا نہیں ہوتی جبکہ عدالتی فیصلے اگرچہ معاملہ طے کردیتے ہیں مگر ان سے دلوں میں کدورت پیدا ہوتی ہے سو اگر حکم خلوص سے کام لیں اور انہیں لینا چاہئے کہ اللہ کریم علیم بھی ہیں اور خبیر بھی جس طرح معاملہ ان کے سامنے ہے اسی طرح حکم کا دل اور عمل بھی تو اللہ کریم کی مدد سے معاملات سلجھ جاتے ہیں۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٣٥ اسلام یہ مشورہ نہیں دیتا کہ عورت کی جانب سے سرکشی شروع ہوتے ہی تم اس سرکشی اور نفرت کے سامنے ہتھیار ڈال دو اور نہ اسلام یہ مشورہ دیتا ہے کہ بس فورا معاہدہ نکاح کو ختم کر دو اور خاندان کی ہنڈیا ان لوگوں کے سر پر لا کر پھوڑ دو جن کا اس معاملے میں کوئی قصور نہیں ہے ‘ اس لئے اسلام اس کی اہمیت کی خاطر اسے از سر نو جدید اینٹوں کی مدد سے تعمیر کرتا ہے تاکہ وہ دوبارہ نشوونما حاصل کرسکے ۔ اب اسلامی نظام ادارہ نکاح کے ٹوٹنے کا خطرہ لاحق ہوتے ہیں اپنی آخری کوشش شروع کردیتا ہے ۔ حکم دیا جاتا ہے کہ ایک ثالث مرد کی مرضی کا مقرر ہو اور ایک ثالث عورت کی مرضی کا مقرر ہو اور وہ دونوں ان کے درمیان مصالحت کرانے کی سعی کریں ۔ یہ لوگ نہایت ہی ٹھنڈے ماحول میں جمع ہوں ۔ وہ اپنے ذاتی میلانات کو سامنے نہ رکھیں ‘ اپنے شعور اور احساس کے بوجھ سے الگ ہوجائیں اور معاشی حالات ومفادات کو نظر انداز کردیں ‘ جن کی وجہ سے زوجین کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی ۔ یہ حکم ان حالات سے ہٹ کر سوچیں جن کی وجہ سے زندگی کے ماحول میں کدورت پیدا ہوئی یا جن کی وجہ سے فریقین کے درمیان پیچیدگی پیدا ہوئی اور جن کی وجہ سے زوجین کے درمیان مشترکہ زندگی کے اچھے عوامل غیر موثر ہوگئے ۔ ان ثالثوں کو کوشش کرنا چائیے کہ وہ زوجین کے دونوں خاندانوں کی شہرت اور عزت کا بھی خیال رکھیں اور زوجین کے چھوٹے بچے ہوں تو ان کے مستقبل کا بھی خیال رکھیں اور وہ اپنے دل سے یہ خواہش نکال دیں کہ ان میں سے کوئی فریق کامیاب رہتا ہے یا ناکام ۔ کیونکہ ایسے حالات میں زوجین میں سے ہر ایک اپنی بات منوانا اپنے لئے باعث عزت سمجھتا ہے ۔ بلکہ ان ثالثوں کو زوجین کے مفادات ‘ ان کے بچوں کے مفادات اور اس ادارے کے مفادات کا خیال رکھنا چاہئے جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ یہ زوجین کے رازوں کے بھی امین ہوں گے کیونکہ یہ دونوں حکم ‘ دونوں خاندانوں اور زوجین کے نمائندے ہوں گے ۔ فریقین کو یہ خوف نہ ہوگا کہ ان سے ان کے راز افشا ہوں گے اور نہ ہونا چاہئیں کیونکہ رازوں کی تشہیر میں دونوں کی مصلحت نہیں ہوتی بلکہ دونوں کی مصلحت تو اس میں ہوتی ہے کہ ان کے راز پس پردہ ہی رہیں۔ ان ثالثوں کا اجتماع زوجین کے درمیان اصلاح کی خاطر ہوگا بشرطیکہ زوجین کے درمیان اصلاح احوال کی حقیقی خواہش ہو اور یہ خواہش اصلاح محض غصے کے نیچے دب گئی ہو ۔ اگر ثالثوں کے دلوں میں حقیقی خواہش ہو اور وہ مخلص ہوں تو اللہ تعالیٰ زوجین کو اصلاح احوال کی توفیق دے دے گا ۔ (آیت) ” ان یریدا اصلاحا یوفق اللہ بینھما “ (٤ : ٣٥) ” اگر وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا “۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ چونکہ وہ صدق دل سے اصلاح چاہتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبولیت بخشتا ہے اور اصلاح کی توفیق دیتا ہے ۔ یہ ہے لوگوں کی سعی اور انکے دلوں کا رابطہ اللہ کی تقدیر اور اس کی مشیت کے ساتھ ۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی قضا ہی لوگوں کی زندگیوں میں موثر ہوتی ہے ۔ لیکن اللہ کی تقدیر نے لوگوں کو یہ اختیار دیا ہے کہ ہو کوشش کریں اور اصلاح احوال کی سعی کریں ۔ ان کی اس کوشش کے جو نتائج نکلیں گے وہ اللہ کی تقدیر کے مطابق ہی ہوں گے ۔ جو نتائج بھی نکلیں گے وہ گہرے علم اور دور اندیشانہ مصلحت پر مبنی ہوں گے ۔ (آیت) ” ان اللہ کان علیما خبیرا “ (٤ : ٣٥) ” (اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے) غرض اس سبق میں یہ بات صاف نظر آتی ہے کہ اسلام زوجین کے درمیان اس تعلق کے نتیجے میں وجود میں آنے والے ادارہ خاندان کو بہت ہی اہمیت دیتا ہے ۔ ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ اسلام انسانی زندگی کے اس پہلو کی تنظیم پر کس قدر زور دیتا ہے ۔ پھر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے ابتدائی دور کی تحریک اسلامی میں زندگی کے اس پہلو کو بہتر سے بہتر کرنے میں کس قدر کوششیں کیں اور تحریک اسلامی کا ہاتھ پکڑ کر اسے جاہلیت کی گندگیوں سے نکالا ۔ اسے راہ ترقی پر ڈال کر بتدریج بلند ترین مقام اور مرتبہ تک اللہ کی ہدایات کے مطابق پہنچایا اس لئے کہ اللہ کی ہدایت کے سوا کوئی اور ہدایت انسان کے مفید مطلب نہیں ہے ۔ درس ٣٣ ایک نظر میں : اس سبق کے ابتدائی حصے اور پوری سورت کے موضوع ومضامنین کے درمیان کئی ربط ہیں۔ نیز اس سبق اور سابق درس کے مضامین کے درمیان بھی ربط پایا جاتا ہے ۔ اس سبق کے ذریعے اس مہم کا آغاز ہوا جس کو پیش نظر رکھ کر ‘ اسلامی معاشرے کی اجتماعی زندگی کی تنظیم کی گئی تھی اور اسے جاہلیت کی تمام آلائشوں سے پاک کرکے اس کے اندر جدید اسلامی خدوخال کو واضح اور مستحکم کرنے کا بیڑا اٹھایا گیا تھا ۔ اس مہم کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کو ان اہل کتاب کی سازشوں سے خبردار رکھا جائے جو یہودیوں کی صورت میں مدینہ کے اردگرد اپنے پورے شر اور سازشوں کے ساتھ پھیلے ہوئے تھے ‘ اور وہ ہر وقت اسلامی معاشرے کے خلاف اپنی سرگرمیوں میں مصروف تھے ۔ وہ رات دن اس کوشش میں لگے ہوئے تھے کہ اس معاشرے کی تشکیل وتکمیل کی راہ میں ممکن حد تک رکاوٹیں پیدا کریں ۔ خصوصا وہ مسلمانوں کی اخلاقی قدروں سے بہت ہی خائف تھے اور ان کی سعی تھی کہ وہ اخلاقی کمال حاصل نہ کریں ۔ نیز وہ مسلمانوں کے اتحاد واتفاق اور باہم تعاون وتکافل سے بھی خائف تھے ‘ اس لئے کہ اخلاقی اقدار اور معاشرتی اتحاد وتکافل ہی کی سوسائٹی کی اصل قوت ہوا کرتے ہیں۔ یہ نیا سبق ‘ دراصل ایک نہی مہم ہے اور اس کا آغاز اس اساسی اصول سے ہوا ہے جس کے اوپر اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی گئی ہے ‘ اور جس سے اسلامی نظام زندگی تشکیل پاتا ہے ۔ وہ اصول ہے خالص نظریہ توحید ۔ اسی اصول پر اسلامی نظام زندگی مبنی ہے ۔ اسلامی زندگی کا ہر پہلو اور اس کا ہر رخ اسی اصول سے پھوٹنے والی شاخ ہے ۔ اس سبق سے پہلے عائلی زندگی کی تنظیم پر متعدد پہلوؤں سے بات ہوچکی ہے ۔ اور اسی طرح اجتماعی زندگی کے معاملات بھی زیر بحث آچکے ہیں ۔ اس سے پہلے گزرنے والے سبق میں خاندانی زندگی ‘ اس کی تنظیم اور اس کے بچاؤ کی تدابیر کو زیر بحث لایا گیا تھا ۔ اور ان روابط سے بحث کی گئی تھی جو خاندان کو مستحکم اور مضبوط بناتے ہیں ۔ اب اس سے ذرا آگے بڑھ کر اس سبق میں پورے انسانی تعلقات اور روابط سے بحث کی گئی ہے ۔ یعنی وہ تعلقات جو اسلامی معاشرے میں خاندان کے محدود دائرے سے ذرا آگے بڑھ کر انسانی بنیادوں پر استوار ہوتے ہیں ۔ لیکن ان کا خاندانی نظام سے بھی تعلق ہوتا ہے ۔ مثلا آغاز ہوتا ہے والدین کے متعلق ہدایات سے جس کا تعلق خاندان سے بھی ہے ۔ والدین کے علاوہ پھر مزید روابط کو بیان کیا گیا ہے اور یہ روابط اس پاکیزہ محبت کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں جو خاندان کے اندر پائی جاتی ہے اور جس کے اثرات دوسرے انسانی روابط تک وسیع ہوجاتے ہیں ان خوشگوار روابط کا لطف انسان کو سب سے پہلے خود اپنے خاندان کے اندر آتا ہے ۔ یہاں وہ اچھے تعلقات رکھنا سیکھتا ہے ۔ یوں اس کے لئے یہ تعلقات ایک محدود خاندان سے وسیع انسانی خاندان تک پھیل جاتے ہیں جبکہ پہلے ان خوشگوار تعلقات کو خاندان کے اندر بویا جاتا ہے ۔ زیر بحث سبق میں بعض ہدایات تو محدود عائلی خاندان کے بارے میں ہیں اور بعض ہدایات ایک وسیع تر انسانی خاندان کے بارے میں ہیں ۔ اس زاوے سے اقدار اور پیمانوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے ۔ یعنی خرچ کرنے والوں کے کیا مراتب ہیں اور کنجوسوں کے کیا مراتب ہیں ؟ درس کا آغاز اس اساسی قاعدے سے ہوا جس پر تمام اقدار اور پیامنے مبنی ہیں جس طرح زندگی کی تمام تفصیلی ہدایات بھی اسی اساسی اصولی پر مبنی ہیں ۔ یعنی عقیدہ توحید ۔ مسلمانوں کی ہر حرکت اور ہر سرگرمی ‘ ان کا ہر تصور اور ہر تاثر عقیدہ توحید پر مبنی ہوتا ہے اور یہی اللہ کی بندگی ہے ۔ اس کا مقصود اللہ کی پرستش ہے ۔ انسان کی تمام سرگرمیوں کا منتہائے مقصود اللہ کی اطاعت اور بندگی ہے اور یک مسلم اپنے عقیدے اور عمل کے اعتبار سے اللہ کا بندہ ہوتا ہے ۔ چونکہ ہم نے اپنی پوری زندگی میں اللہ کی بندگی اور عبادت کرنی ہے ‘ اس نسبت سے اللہ کی مخصوص پرستش اور عبادت یعنی نماز اور طہارت کے سلسلے میں بعض احکام بھی بیان کئے گئے ۔ اور نماز چونکہ ایک مرحلہ تھی جس میں شراب کو حرام قرار دیا گیا تھا ‘ اس سے قبل نماز کی حالت میں بھی یہ ممکن تھا کہ کوئی شراب پئے ہوئے ہو ۔ اس لحاظ سے حکم دیا گیا کہ مدہوشی کی حالت میں نماز میں شریک نہ ہوا کرو ۔ یہ اسلام کے ہمہ گیر تربیتی اقدامات میں سے ایک اقدام تھا جو نماز کی مناسبت سے دیا گیا ۔ غرض اس سبق کی تمام کڑیاں ایک دوسرے سے ملی ہوئی ہیں ۔ درس سابق سے بھی تمام مضامین مناسبت رکھتے ہیں اور پھر اس سورة کے پورے محور کے ساتھ بھی متناسب ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

میاں بیوی کے درمیان مخالفت ہوجائے تو دو آدمی موافقت کرانے کے لیے بھیجے جائیں۔ جب دو آدمی ساتھ رہتے ہیں تو کبھی کبھی کوئی ناگواری کی بات پیش آہی جاتی ہے اور میاں بیوی کا تو روزانہ رات دن کا ساتھ ہے اس میں ناگواری پیش آجانا کوئی بعید بات نہیں۔ سمجھ دار میاں بیوی تو بات کو آئی گئی کردیتے ہیں، گویا کہ کچھ تھا ہی نہیں۔ لیکن کبھی بات بڑھ جاتی ہے اور زیادہ ناچاقی ہوجاتی ہے اس لیے اللہ جل شانہ نے صلح کرانے کے بارے میں ایک طریق کار تجویز فرمایا ہے اور وہ یہ کہ جب میاں بیوی کے درمیان آپس میں اختلاف ہوجائے (ان خفتم بمعنی علمتم علی ماقال بعض المفسرین) تو ایک آدمی مرد کے گھر والوں میں سے اور ایک آدمی عورت کے گھر والوں میں سے بھیج دیں جو حکم (فیصلہ کرنے والے) ہوں گے، یہ دونوں طرف کی شکایتیں سنیں اور مصالحت کی کوشش کریں۔ جوڑ بٹھائیں جس کی بھی زیادتی ہو اس کو سمجھائیں اگر ان دونوں فیصلہ کرنے والوں میں نیک جذبات ہوں گے اور اخلاص کے ساتھ کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان دونوں میں موافقت پیدا فرما دے گا انشاء اللہ۔ میاں بیوی کو بھی ایک دوسرے پر زیادتی کرنا اور ایک دوسرے کے بارے میں غلط بیان دینا جائز نہیں۔ اور جو لوگ فیصلہ کرنے کے لیے گئے ہیں ان کو بھی اختلاف بڑھانے کی باتیں کرنا اور مخالفت کی خلیج وسیع کرنا جائز نہیں۔ جو کوئی شخص غلط عمل کرے گا غلط بات کہے گا اس کا مواخذہ ہوگا، اس پر تنبیہ فرماتے ہوئے آیت کے آخر میں فرمایا کہ (اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا) (بےشک اللہ تعالیٰ جاننے والا باخبر ہے) اللہ تعالیٰ کو سب کے ظاہر اور باطن کا علم ہے، جو شخص ظلم اور زیادتی کرے گا مستحق سزا ہوگا۔ میاں بیوی میں جو جھگڑے ہوتے ہیں اور طول پکڑ جاتے ہیں جس میں بعض مرتبہ جدائی کی نوبت آجاتی ہے اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ دونوں ایک دوسرے پر زیادتی کرتے چلے جاتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کی ہمدردی کے جذبات ختم کردیتے ہیں۔ پھر اوپر سے اس لاوے پر دونوں فریق کے خاندانوں کا عمل آگ کا کام دیتا ہے دونوں خاندان صلح جوئی اور آپس میں موافقت کی فضا بنانے کی بجائے مزید مخالفت کو شہ دیتے ہیں جوڑ بٹھانے کی بجائے آپس میں تناؤ اور بعد پیدا کردیتے ہیں کہ مل بیٹھنے اور صلح صفائی کا موقع ہی نہیں دیتا۔ اللہ جل شانہ نے جو طریقہ اصلاح کا بیان فرمایا اس کی خلاف ورزی کے باعث میاں بیوی میں افتراق ہوجاتا ہے اور دونوں خاندانوں میں بغض وعناد اور دشمنی جگہ پکڑ لیتی ہے۔ بغض وعناد اور دشمنی کی فضا بنانا اسلامی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے اور یہ دنیا و آخرت میں گرفت کا باعث ہے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

28 چودہواں حکم رعیت :۔ (اگر خاوند بیوی کے درمیان اختلاف پیدا ہوجائے تو اصلاح کی کوشش کرو) اگر خاوند بیوی کے درمیان اختلاف شقاق و مخالفت کی حد تک پہنچ جائے اور وعظ و نصیحت اور مار پیٹ کے بعد بھی ان کے درمیان صلح کی کوئی صورت نظر نہ آئے تو مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ان کے درمیان اصلاح کی کوشش کریں اس طرح کہ دونوں کے رشتہ داروں سے ایک ایک سمجھدار اور معاملہ فہم آدمی منتخب کر کے ان کو زوجین کے درمیان اصلاح پر مقرر کریں۔ اِنْ یُّرِیْدَا اِصْلَاحاً یُّوَفِّقِ اللہُ بَیْنَھُمَا۔ یُرِیْدَا سے دونوں حکم مراد ہیں۔ اور بَیْنَھُمَا کی ضمیر زوجین کی طرف راجع ہے یعنی اگر وہ دونوں حکم نیک نیتی سے خاوند بیوی کے درمیان اصلاح کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں الفت و محبت ڈالدے گا اور ان کے درمیان موافقت کردے گا۔ ای ان قصدا اصلاح ذات البین وکانت نیتھما صحیحۃ وقلوبھما انا صحۃ لوجہ اللہ تعالیٰ (یُوَفِّقِ اللہُ بَیْنَھُمَا) یوقع بین الزوجین الموافقۃ والالفۃ والقی فی نفوسھما المودۃ والرافۃ (ابو السعود ج 3 ص 320) یہاں تک رعیت کے لیے چودہ امور انتظامیہ یا بالفاظ دیگر احکام رعیت مذکور ہوئے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 اور اگر تم لوگ ان دونوں میاں بیوی کے مابین باہمی مخالفت اور ضد اور کشمکش کے بڑھ جانے سے خوف کرو اور تم کو قرآئن سے یہ معلوم ہوجائے کہ ان دونوں میں باہم کشمکش دشمنی تک پہنچ گئی ہے کہ یہ اس کو آپس میں نہیں سلجھا سکیں گے تو ایسی حالت میں ایک شخص جو عادل ہو اور اصلاح کی صلاحیت رکھتا ہو مرد کے خاندان سے اور ایک شخص اسی قابلیت کا عورت کے خاندان سے جو عادل ہو ان میاں بیوی کے پاس بھیجو تاکہ وہ دونوں شخص ان کے معاملات کو سلجھا دیں اور ان کا باہمی تصفیہ کرا دیں اگر وہ دونوں شخص واقعی اصلاح کا ارادہ کریں گے اور ان کا مقصد واقعی اصلاح ذات البین ہوگا تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کی سعی سے ان دونوں میاں بیوی کے درمیان موافقت اور الفت پیدا کر دے گا۔ یقین کرو اللہ تعالیٰ سب کو جانتا ہے اور ہر معاملہ سے باخبر ہے وہ حکمین کی نیت کو بھی جانتا ہے اور زوجین کے ارادوں اور حالات سے بھی واقف ہے اگر حکمین کی نیت تصفیہ کی ہوگی اور زوجین کا ارادہ ان کے مشورہ پر عمل کرنے کا ہوگا تو یقینا ان کے مابین اللہ تعالیٰ موافقت واقع کر دے گا۔ (تیسیر) بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں خطاب زوجین کے اعزا کو یا عام لوگوں کو ہے کہ اگر وہ یہ دیکھیں کہ دونوں میں روز جھگڑا ان بن رہتی ہے تو وہ ایک شخص کو بیوی کی طرف سے اور ایک کو خاوند کی طرف سے مقرر کردیں اور ظاہر ہے کہ یہ تقرر بھی زوجین کی مرضی سے ہوگا اس صورت میں اگر شوہر اور بیوی اپنے اپنے حکم کو کچھ خاص اختیار دے دیں۔ مثلاً بیوی اپنے حکم کو خلع کا وکیل بنا دے یا شوہر اپنے حکم کو طلاق کا وکیل بنا دے تو پھر دونوں حکمین کو اپنے اپنے مئوکل اور مئوکلہ کی ہدایت کے موافق عمل کرنے کا حق ہوگا ورنہ اس جگہ حکمین کا صرف اتنا کام مذکور ہے کہ یہ دونوں شخص مشیر ہوں گے اور دونوں کے سامنے ایسی تدابیر اور صورتیں پیش کریں گے جن پر عمل کرنے سے دونوں کا گھر بس جائے اور ان میں باہم موافقت پیدا ہوجائے اس سے زیادہ ان حکمین کا اور کوئی کام نہیں اور نہ اس سے زیادہ کا ان کو حق ہوگا۔ اب اگر وہ دونوں منصف شخص اصلاح کا ارادہ کرلیں گے اور زوجین ان کے مشورہ پر عمل کرنے پر آمادہ ہوں گے تو انشاء اللہ ان میں موافقت ہوجائے گی۔ اس آیت میں حکمین کو صرف اسی قدر اختیارات مذکور ہیں حنفیہ کا مسلک یہی ہے اور امام شافعی کا قول جدید بھی یہی ہے اور اگر آیت میں خطاب حکام کو ہو تو مسئلہ کی صورت دوسری ہوجائے گی۔ جیسا کہ حضرت علی نے ایک موقعہ پر فریقین سے ایک ایک حکم لے کر ان کو حکم دیا تھا کہ جائو دیکھو اگر اتفاق کی صورت ہو تو اتفاق کرا دو اور اگر ایسا موقعہ نہ دیکھو تو تفریق کرا دو ۔ یا حضرت عثمان نے ایک دفعہ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت معاویہ کو حکم بنا کر ایسا ہی حکم دیا تھا لیکن کسی والی اور حاکم کا حکم مقرر کر نا یا زوجین کا حکم مقرر کرنا اور ان کو اختیار دینا اس کا حکم دوسرا ہے ۔ اس سے اس آیت میں کوئی تعارص نہیں ہے۔ آیت میں صرف موافقت کا ذکر فرمایا ہے تفریق کا کوئی ذکر نہیں۔ اسی لئے حضرت حسن بصری، قتادہ، زید بن اسلم اور امام احمد وغیرہ کا یہی قول ہے کہ یہ حکم دونوں کا ملاپ کرا سکتے ہیں لیکن جدائی کا ان کو حق نہ ہوگا۔ (واللہ اعلم) ہم نے تیسیر میں تصریح کردی ہے کہ حکم ایسے شخص کو منتخب کیا جائے جو عادل ہو اور تصفیہ کی صلاحیت رکھتا ہو یہ دونوں حکم میاں بیوی کی موافقت اور اصلاح کا جذبہ اگر لے کر جائیں گے تو انشاء اللہ کامیاب ہوں گے۔ من اھلہ اور من اھلھا کی قید استحبابی ہے اگر زوجین اس کے اہل نہ ہوں گے تب بھی ان کا حکم ہونا جائز ہوگا۔ اب تک زوجین کے حقوق یتامی کے حقوق اور وارثوں کے حقوق مذکور تھے آگے ان حقوق کو اور وسیع طور پر بیان فرماتے ہیں اور وسعت حقوق میں چونکہ اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لانا بھی شامل ہے اس لئے اس کا بھی بیان ہے اور ایمان لانے کا بھی ذکر ہے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد میں کوتاہی کرنے والیوں کی سزا بھی مذکور ہے اور یہ سلسلہ رکو ع کے آخر تک چلا گیا ہے اور ہم یہ بات پہلے ہی کئی بار عرض کرچکے ہیں کہ قرآن ان مسائل اعتقاد یہ بار بار مختلف انداز و عنوان سے بحث کرتا ہے جو شریعت اسلامیہ کی اصل روح ہیں اور ان میں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے پیرو ایک جانب ہیں اور تمام دنیا کے کافر و منکر ایک جانب ہیں اور وہی مسائل اعتقادیہ تمام اعمال و اخلاق اور معاشرت وغیرہ کی اصل بنیاد ہیں اس لئے احکام کے سلسلے میں ان مسائل اساسیہ کا تذکرہ ضروری ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)