Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 39

سورة النساء

وَ مَاذَا عَلَیۡہِمۡ لَوۡ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ اَنۡفَقُوۡا مِمَّا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ بِہِمۡ عَلِیۡمًا ﴿۳۹﴾

And what [harm would come] upon them if they believed in Allah and the Last Day and spent out of what Allah provided for them? And Allah is ever, about them, Knowing.

بھلا ان کا کیا نقصان تھا اگر یہ اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان لاتے اور اللہ تعالٰی نے جو انہیں دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ، اللہ تعالٰی انہیں خوب جاننے والا ہے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ امَنُواْ بِاللّهِ وَالْيَوْمِ الاخِرِ وَأَنفَقُواْ مِمَّا رَزَقَهُمُ اللّهُ ... And what loss have they if they had believed in Allah and in the Last Day, and they spend out of what Allah has given them for sustenance! This Ayah means, what harm would it cause them if they believe in Allah, go on the righteous path, replace showing off with sincerity, have faith in Allah, and await His promise in the Hereafter, for those who do good and spend what He has given them on what He likes and is pleased with. Allah's statement: ... وَكَانَ اللّهُ بِهِم عَلِيمًا And Allah is Ever All-Knower of them. means, He has perfect knowledge of their intentions, whether good or evil. Indeed, Allah knows those who deserve success, and He grants them success and guidance, directing them to perform righteous actions that will earn them His pleasure. He also knows those who deserve failure and expulsion from His great mercy, which amounts to utter failure in this life and the Hereafter for them, we seek refuge in Allah from this evil end.

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٢] یعنی اللہ اور آخرت پر ایمان لاتے ہوئے اللہ ہی کے دیئے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے تو ان کا نقصان نہیں بلکہ فائدہ ہی تھا کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی احسان شناسی بھی ہے اور آخرت میں سینکڑوں گنا اجر بھی۔ نقصان تو اس صورت میں ہے کہ مال بھی ہاتھ سے نکل گیا اور اس کا کچھ ثواب ملنا تو درکنار الٹا عذاب ہوگا اور ریاکار کا یہی انجام ہوگا۔ آخرت کے منکر خسارہ میں ہیں :۔ سیدنا علی (رض) سے منقول ہے کہ انہیں کسی کافر نے کہا کہ جس آخرت پر تم ایمان لاتے ہو وہ محض ایک مفروضہ ہے جسے تم یقینی طور پر ثابت نہیں کرسکتے۔ پھر اس مفروضہ کی بنا پر مختلف قسم کی پابندیاں اپنے آپ پر عائد کرتے ہو مال خرچ کرتے ہو پھر ہر طرح کے لذائذ دنیا سے محروم رہتے ہو۔ یہ تو صریح نقصان کی بات ہے، آپ (رض) نے اسے جواب دیا کہ ہم جتنا وقت اللہ کی عبادت میں رہتے ہیں یہ تو یقینی بات ہے کہ کم از کم اتنی دیر ہم بری باتوں اور برے کاموں سے بچے رہتے ہیں۔ اور اگر مال خرچ کرتے ہیں تو اس کا بھی کسی ضرورت مند کو ضرور فائدہ پہنچتا ہے۔ پھر ہمیں ان کاموں سے خوشی بھی حاصل ہوتی ہے۔ رہے لذائذ دنیا اور ان سے مزے اڑانے کی بات، تو یہ چند دنوں کی بات ہے۔ موت کے بعد ہم اور تم برابر ہوئے۔ مرنے کے بعد اگر ہمارا نظریہ درست ثابت ہوا تو جاودانی راحتوں اور نعمتوں کے مستحق ہوں گے اور تمہیں کئی طرح کے مصائب اور جہنم کا عذاب ہوگا اور یہ دائمی عذاب ہوگا۔ اور اگر بالفرض تمہارا نظریہ درست نکلا تو بتاؤ ہمارا کیا بگڑے گا ؟ لہذا اچھی طرح سوچ لو کہ خطرے میں ہم لوگ ہیں یا تم لوگ ؟ یہ سن کر اسے ہوش آگیا اور وہ ایمان لے آیا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

بخل اور ریاکاری کی مذمت کے بعد ایمان و طاعت اور صدقہ و خیرات کی ترغیب دلائی، پھر مزید ترغیب کے لیے فرمایا کہ جب ذرا ذرا سی چیز کا اللہ تعالیٰ کئی گنا اجر دیتے ہیں، پھر لوگ کیوں نیک کاموں میں سستی کرتے اور ریا کاری سے کام لے کر اپنے اجر کو ضائع کرتے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے بندوں کو خبر دی ہے کہ وہ کسی پر ایک ذرہ کے برابر بھی ظلم نہیں کرے گا، بلکہ ایک نیکی ہوگی تو اسے بھی بڑھا چڑھا کر اپنے پاس سے اجر عظیم دے کر نجات کا باعث بنا دے گا۔ ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ( ایک طویل حدیث) میں فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ( فرشتوں سے) فرمائے گا، تم جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی خیر ( یعنی ایمان) کو پاؤ اسے بھی جہنم سے نکال لاؤ، چناچہ وہ بہت سی مخلوق کو نکال لائیں گے۔ “ یہ حدیث بیان کرنے کے بعد ابو سعید (رض) فرمایا کرتے تھے : ” اگر تم مجھے اس حدیث میں سچا نہ جانو تو یہ آیت پڑھو : ( اِنَّ اللّٰهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۚ وَاِنْ تَكُ حَسَنَةً يُّضٰعِفْھَا ) [ مسلم، الإیمان، باب معرفۃ الطریق الرؤیۃ : ١٨٣ ] بیشک اللہ ایک ذرے کے برابر ظلم نہیں کرتا اور اگر ایک نیکی ہوگی تو اسے دگنا کر دے گا اور اپنے پاس سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا، یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اس پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم کھائی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Previous verses carried the condemnation of those who refused to believe in Allah and in the Akhirah and were miserly. The present verses persuade people to believe in Allah and the Akhirah and engage in the gainful activity of spending in the way of Allah. Then, towards the end (41-42), a description of the trying situations prevailing on the plains of Resurrection appears to warn people, who refuse to believe and refuse to do what is good, of their evil end. Commentary In the first verse (39): وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ آمَنُوا بِاللَّـهِ it is said: What conceivable harm could have affected them if they had believed in Allah and the Last Day and spent out of what Allah had given them? at is so tough, difficult or frightening about it? All these are as easy as they come. Going by them, taking to them and believing in them does not hurt or harm or cause any inconvenience. Why then, would someone elect to be disobedient, the certain outcome of which is nothing but disaster in the Akhirah?

ربط آیات : ماقبل کی آیات میں انکار خدا، انکار آخرت اور بخل وغیرہ کی مذمت مذکور تھی اور ان آیات میں خدا و آخرت پر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب مذکور ہے اور آخر میں مواقف حشر کا بیان کر کے ان لوگوں کو انجام بد سے ڈرایا گیا ہے جو ایمان نہیں لاتے اور نہ نیک عمل کرتے ہیں۔ خلاصہ تفسیر اور ان پر کیا مصیبت نازل ہوجاوے گی اگر وہ لوگ اللہ تعالیٰ پر اور آخری دن (یعنی قیامت) پر ایمان لے آویں اور اللہ تعالیٰ نے جو ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ (اخلاص کیساتھ) خرچ کرتے رہا کریں (یعنی کچھ بھی ضرر نہیں ہر طرح نفع ہی نفع ہے) اور اللہ تعالیٰ ان (کے نیک و بد) کو خوب جانتے ہیں (پس ایمان و انفاق پر ثواب دیں گے اور کفر وغیرہ پر عذاب) بلاشبہ اللہ تعالیٰ ایک ذرہ برابر بھی ظلم نہ کریں گے ( کہ کس کا ثواب مار لیں یا بےوجہ عذاب دینے لگیں جو کہ ظاہراً ظلم ہے) اور (بلکہ وہ تو ایسے رحیم ہیں کہ) اگر ایک نیکی ہوگی تو اس کو کئی گنا (کر کے ثواب دیں گے، جیسا کہ دوسری آیت میں وعدہ مذکور ہے) اور (اس ثواب موعود کے علاوہ) اپنے پاس سے (بلامعاوضہ عمل بطور انعام اور) اجر عظیم (الگ) دیں گے، سو اس وقت بھی کیا حال ہوگا جب کہ ہر ہر امت میں سے ایک ایک گواہ کو حاضر کریں گے اور آپ کو ان لوگوں پر (جن کا آپ سے سابقہ ہوا ہے) گواہی دینے کے لئے حاضر لاویں گے (یعنی جن لوگوں نے خدائی احکام دنیا میں نہ مانے ہوں گے، ان کے مقدمہ کی پیشی کے وقت بطور سرکاری گواہ کے انبیاء (علیہم السلام) کے اظہارات سنے جاویں گے، جو جو معاملات انبیاء کی موجودگی میں پیش آئے تھے سب ظاہر کردیں گے، اس شہادت کے بعد ان مخالفین پر جرم ثابت ہو کہ سزا دی جائے گی اوپر فرمایا تھا کہ اس وقت کیا حال ہوگا آگے اس حال کو خود بیان فرماتے ہیں کہ) اس روز (یہ حال ہوگا کہ) جن لوگوں نے (دنیا میں) کفر کیا ہوگا اور رسول کا کہنا نہ مانا ہوگا وہ اس بات کی آرزو کریں گے کہ کاش (اس وقت) ہم زمین کے پیوند ہوجاویں (تاکہ اس رسوائی اور آفت سے محفوظ رہیں) اور (گواہی کے علاوہ خود وہ اقراری مجرم بھی ہوں گے کیونکہ) اللہ تعالیٰ سے کسی بات کا (جو ان سے دنیا میں صادر ہوئی تھیں) اخفاء نہ کرسکیں گے ( پس دونوں طور پر فرد قرار داد جرم ان پر لگا دی جائے گی۔ معارف ومسائل پہلی آیت میں فرمایا وماذا علیھم لو امنوا باللہ، یعنی ان کو کیا نقصان پہنچ جائے اور کیا مصیبت پیش آجائے اگر یہ لوگ اللہ پر اور آخرت پر ایمان لائیں اور اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے خرچ کریں، یہ سب آسان کام ہیں، ان کے اختیار کرنے میں کچھ بھی تکلیف نہیں، پھر کیوں نافرمان بن کر آخرت کی تباہی اپنے سر لے رہے ہیں۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَاذَا عَلَيْہِمْ لَوْ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَاَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقَھُمُ اللہُ۝ ٠ۭ وَكَانَ اللہُ بِہِمْ عَلِــيْمًا۝ ٣٩ ( ماذا) يستعمل علی وجهين : أحدهما . أن يكون ( ما) مع ( ذا) بمنزلة اسم واحد، والآخر : أن يكون ( ذا) بمنزلة ( الذي) ، فالأوّل نحو قولهم : عمّا ذا تسأل ؟ فلم تحذف الألف منه لمّا لم يكن ما بنفسه للاستفهام، بل کان مع ذا اسما واحدا، وعلی هذا قول الشاعر : دعي ماذا علمت سأتّقيه أي : دعي شيئا علمته . وقوله تعالی: وَيَسْئَلُونَكَ ماذا يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 219] ، فإنّ من قرأ : قُلِ الْعَفْوَ بالنّصب فإنّه جعل الاسمین بمنزلة اسم واحد، كأنّه قال : أيّ شيء ينفقون ؟ ومن قرأ : قُلِ الْعَفْوَ بالرّفع، فإنّ ( ذا) بمنزلة الذي، وما للاستفهام أي : ما الذي ينفقون ؟ وعلی هذا قوله تعالی: ماذا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ ؟ قالُوا : أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ [ النحل/ 24] ، و (أساطیر) بالرّفع والنصب ( ماذا ) اور ماذا ، ، بھی دو طرح استعمال ہوتا ہے ۔ اول یہ کہ ، ، مازا کے ساتھ مل کر بمنزلہ ایک اسم کے ہو ۔ دوم یہ کہ ذا لذی کے ہو ( ما بمعنی اول یہ کہ ماذا ، ، کے ساتھ مل کر بمنزلہ ایک اسم کے ہو ۔ دوم یہ کہ ذا بمنزلہ الذی کے ہو ( ما بمعنی ای شئی کے ہو پہلی قسم کی مثال جیسے : عما ذا تسال کہ کسی چیز کے بارے میں سوال کرتے ہو اس صورت میں چونکہ ، ، ماذا اکیلا ، ، استفہام کے لئے نہیں ہے بلکہ ، ، ذا کے ساتھ مل کر ایک اسم بنتا ہے اس لئے ، ، ما ، ، کے الف کو حزف نہیں کیا گیا ۔ اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے یعنی جو چیز تجھے معلوم ہے اسے چھوڑ دے میں اس سے بچنے کی کوشش کرونگا ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَيَسْئَلُونَكَ ماذا يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 219] اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ کہ ( خدا کی راہ میں ) کونسا مال خرچ مال کریں ۔ میں جو لوگ کو منصوب پڑھتے ہیں ۔ وہ ماذا کو بمنزلہ ایک اسم کے مانتے ہیں کونسی چیز صرف کریں مگر جن کے نزدیک ہے اور ما استفہا میہ ہے یعنی وہ کونسی چیز ہے جسے خرچ کریں ۔ اس بنا پر آیت کریمہ : ۔ ماذا أَنْزَلَ رَبُّكُمْ ؟ قالُوا : أَساطِيرُ الْأَوَّلِينَ [ النحل/ 24] کہ تمہارے پروردگار نے کیا اتارا ہی تو کہتے ہیں کہ ( وہ تو ) پہلے لوگوں کی حکایتیں ہیں ۔ میں اساطیر رفع اور نصب دونوں جائز ہیں ۔ لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ نفق نَفَقَ الشَّيْءُ : مَضَى ونَفِدَ ، يَنْفُقُ ، إِمَّا بالبیع نحو : نَفَقَ البَيْعُ نَفَاقاً ، ومنه : نَفَاقُ الأَيِّم، ونَفَقَ القَوْمُ : إذا نَفَقَ سُوقُهُمْ ، وإمّا بالمَوْتِ نحو : نَفَقَتِ الدَّابَّةُ نُفُوقاً ، وإمّا بالفَنَاءِ نحو : نَفِقَتِ الدَّرَاهِمُ تُنْفَقُ وأَنْفَقْتُهَا . والإِنْفَاقُ قد يكون في المَالِ ، وفي غَيْرِهِ ، وقد يكون واجباً وتطوُّعاً ، قال تعالی: وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] ، وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 254] ( ن ف ق ) نفق ( ن ) س الشئی کے منعی کسی چیز کے ختم ہونے یا چلے جانے کے ہیں ۔ اور چلے جانے کی مختلف صورتیں ہیں ( 1 ) خوب فروخت ہونے سے جیسے نفق البیع ( سامان کا ) خوب فروخت ہونا اسی سے نفاق الایتیم ہے جس کے معنی بیوہ عورت سے نکاح کے طلب گاروں کا بکثرت ہونا کے ہیں ۔ نفق القوم بازار کا پر رونق ہونا ۔ ( 2 ) بذیعہ مرجانے کے جیسے نفقت الدابۃ نفوقا جانور کا مرجانا ۔ ( 3 ) بذریعہ فنا ہوجانے کے جیسے نفقت الدراھم درواہم خرچ ہوگئے ۔ انفق تھا ان کو خرچ کردیا ۔ الا نفاق کے معنی مال وغیرہ صرف کرنا کے ہیں اور یہ کبھی واجب ہوتا ہے ۔ اور کبھی مستحب اور مال اور غیر مال یعنی علم وغیرہ کے متعلق استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا ۔ وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ [ البقرة/ 195] اور خدا کی راہ میں مال خرچ کرو ۔ وأَنْفِقُوا مِمَّا رَزَقْناكُمْ [ البقرة/ 254] اور جو مال ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرلو ۔ رزق الرِّزْقُ يقال للعطاء الجاري تارة، دنیويّا کان أم أخرويّا، وللنّصيب تارة، ولما يصل إلى الجوف ويتغذّى به تارة ، يقال : أعطی السّلطان رِزْقَ الجند، ورُزِقْتُ علما، قال : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] ، أي : من المال والجاه والعلم، ( ر ز ق) الرزق وہ عطیہ جو جاری ہو خواہ دنیوی ہو یا اخروی اور رزق بمعنی نصیبہ بھی آجاتا ہے ۔ اور کبھی اس چیز کو بھی رزق کہاجاتا ہے جو پیٹ میں پہنچ کر غذا بنتی ہے ۔ کہاجاتا ہے ۔ اعطی السلطان رزق الجنود بادشاہ نے فوج کو راشن دیا ۔ رزقت علما ۔ مجھے علم عطا ہوا ۔ قرآن میں ہے : وَأَنْفِقُوا مِنْ ما رَزَقْناكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ [ المنافقون/ 10] یعنی جو کچھ مال وجاہ اور علم ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے صرف کرو الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (وماذاعلیھم لوامنوا بااللہ والیوم الاخر وانفقوا ممارزقھم اللہ ، آخر ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی ہے اگر یہ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ۔ یہ آیت فرقہ جبریہ کے مذہب کے بطلان پر دلالت کرتی ہے کیونکہ اگر یہ لوگ اللہ پر ایمان لانے اور اپنامال اس کی راہ میں خرچ کرنے کی استطاعت نہ رکھتے تو ان کے متعلق آیت میں کہی ہوئی بات درست نہ ہوتی اس لیے کہ ان کا عذر واضح ہے اور وہ یہ کہ جس بات کی طرف انہیں بلایاجارہا ہے اس کی نہ انہیں استطاعت ہے اور نہ ہی قدرت۔ جس طرح کسی اندھے کے متعلق یہ کہنا درست نہیں کہ اگر وہ دیکھ لیتا تو اس پر کیا آفت آجاتی، یامریض کے متعلق یہ کہنا کہ اگر وہ تندرست ہوتاتو اس کا کیا بگڑ جاتا۔ اس میں اس بات کی واضح ترین دلیل موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو ایمان لانے اور تمام دوسری عبادات بجالانے کا جومکلف بنایا ہے تو اس سلسلے میں ان کے تمام عذر کو ختم کردیا ہے اور یہ بتادیا ہے کہ انہیں عبادات کے بجالانے کی قدرت حاصل ہے۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٣٩) ان یہود پر حالانکہ ان کا کوئی نقصان نہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرآن کریم بعث بعدالموت اور جنت کی نعمتوں پر اگر یہ ایمان لے آئیں اور جو مال اللہ تعالیٰ نے ان کو دیا ہے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کردیں تو ان کے لیے بہتر ہے لیکن اللہ تعالیٰ یہودیوں کو اچھی طرح جانتا ہے کہ انمیں سے کون ایمان لائے گا اور کون نہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:39) وما ذاعلیہم۔ اور کیا تکلیف ہوتی ان کو۔ اور کیا مصیبت آجاتی ان پر۔ اور کیا نقصان ہوتا ان کا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیت 39 تا 42: وما ذا علیہم لو امنوا۔۔ ولا یکتمون اللہ حدیثا۔ اگر یہ اللہ پر اور آخرت پر ایمان ہی لے آتے تو ان کا کیا بگڑ جاتا اگر اللہ کے دئیے کو اسی کے حکم کے مطابق خرچ کرتے تو انہیں کوئی نقصان اٹھانا نہ پڑتا بلکہ ایمان باللہ ہی وہ نعمت ہے جو زندگی آسان کردیتی ہے اور ایک ایسا سہارا نصیب ہوجاتا ہے جو مزید کسی سہارے کا محتاج نہیں رہنے دیتا ایمان بالآخرت ہی انسانی معاشرے کی اصلاح کا بنیادی پتھر ہے اگر اللہ اور آخرت پر ایمان نہ ہو تو زندگی جہنم کا نمونہ بن جاتی ہے جس پر مغرب کا خدا فراموش معاشرہ پکار پکار کر شہادت دے رہا ہے کہ حکومت اور اس کے وسائل سب کچھ ہے مگر جرائم پہ قابو نہیں پایا جا رہا کہ پس دیوار صرف ایمان کی قوت کام آتی ہے حکومت کی آنکھ نہیں دیکھ سکتی تو اگر لوگوں کو یہ نعمت نصہب ہوتی تو خود ان کے لیے آسانیاں پیدا ہوجاتیں نیز مال و دولت ہو یا علم قوت جسمانی ہو یا عہدہ اور مرتبہ یہ سب اللہ کریم ہی کی عطا ہے اگر انہیں اسی کی رضا کے لیے اور اسی کے حکم کے مطابق استعمال میں لاتے تو تھوڑی محنت سے زیادہ نتائج حاصل کرتے پھر حق بات یہ ہے کہ اللہ کریم سب لوگوں سے ان کی سوچ اور عمل سے خوب واقف بھی ہے یعنی کوئی خیال یا حرکت اس کی ذات سے چھپی ہوئی نہیں ہے اسلام نظریات اور اعمال کے مجموعہ کا نام ہے کہ نظریہ بغیر عمل کے بےکار ہوتا ہے اور عمل بغیر نظریے کے لاحاصل تو گویا ایمان کے بغیر یا اطاعتِ الہی کے باہر کوئی انسانی کوشش مثبت نتائج پیدا نہیں کرسکتی اور اسلام انسانیت کی ضرورت ہے اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کسی بھی کام کو کرنے کا جو سلیقہ اللہ کریم کی طرف سے بتایا جائے گا وہ صحیح ترین طریقہ ہوگا اور جو طریقہ درست ہوتا ہے وہی آسان ترین ہوتا ہے اس کے علاوہ اگر کوئی راہ اپنائی جائے تو مشکل بھی ہوتی ہے اور اگر کام ہو بھی جائے تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکتے گویا اسلام ایک بھرپور آرام دہ باعزت زندگی کا نام ہے جو موت اور مابعد الموت کو بھی آسان بنا دے پھر نہ ماننے والے لوگ کتنے ہی بیوقوف اور نادان ہیں کہ وہ اللہ کریم کے روبرو کچھ چھپا بھی نہ سکیں گے اب رہی بات عذاب کی تو اللہ کریم کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ وہ کسی کے ساتھ ناانصافی کرے بات صرف اتنی ہے کہ انسان کو ایسا باشعور پیدا فرمایا کہ وہ بھلے برے میں تمیز کرسکتا ہے پھر اسے بھلا اور برا سمجھا بھی دیا۔ اور جب بھی جہاں بھی ضرورت پیدا ہوئی نبی بھیج کر اس کو پورا کردیا اور انسان کو راہ اپنانے کا اختیار بھی عطا فرمایا اب اگر کوئی گرفتار بلا ہوتا ہے یا عذاب الہی میں خود کو گراتا ہے تو یہ اس کی اپنی رائے اور پسند کا قصور ہے ورنہ اللہ تو ایسا کریم ہے کہ خطا پہ سزا تو بقدر خطا ہوگی مگر اطاعت کے اجر کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے جس کے بارے ارشاد ہے کہ کم از کم دس گنا ثواب عطا فرمتا ہے اور زیادہ کی حد نہیں بعض اعمال پر بیس لاکھ گنا اجر عطا فرمایا جاتا ہے اور بعض کو اس قدر بڑھا دیتا ہے کہ شمار میں نہیں آسکتا۔ کہ یوت من لدنہ اجرا عظیما۔ بہت بڑا جر حدوحساب سے باہر اجر عطا فرماتا ہے اور یہ بھی یاد رہے کہ محض اپنے ذاتی علم پر ہی سزا نہ دے گا بلکہ ہر امت پر اس کے نبی سے شہادت لی جائے گی جس کی دو صورتیں مذکور ہیں اول یہ کہ ہر امت پر اس کا نبی اس بات کی گواہی دے گا کہ ان تک دعوت الہیہ پہنچی تھی اور کس کس نے قبول کی اور کن لوگوں نے انکار کیا۔ چناچہ کفار وہاں پھر انکار کریں گے جس پر انبیا علیہم الصلوۃ والسلام سے سوال ہوگا کہ آپ کی بات پر کون تصدیق کرتا ہے تو عرض کریں گے بار الہ امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گواہی لی جائے چناچہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت گواہی دے گی تو کفار کہیں گے کہ انہوں نے ہمارا زمانہ نہیں پایا تو عرض کریں گے کہ اے اللہ ہم نے تیرے نازل کردہ قرآن میں یہ سب حالات پڑھے تھے حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی امت پر اسی امر کی شہادت دیں گے کہ انہوں نے میری دعوت قبول کرکے میری اطاعت کی تھی اور مجھ سے ہی ان تک آپ کا کلام پہنچا تھا جس میں خود آپ نے انہیں امت وسط اور خیر امت فرمایا تھا چناچہ تمام کفار کا جھوٹ ظاہر ہوجائے گا اس کے بعد کفار خود بھی اقرار کرکے عذر خواہ ہوں گے اور دوسری قسم شہادت کی یہ بھی ہوگی کہ دعوی اسلام کے ساتھ جو عمل ہم کرتے ہیں کیا وہ نبی کے فرمودہ امور ہیں یا لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیے ہیں جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال ہوگا۔ ء انت قلت للناس۔ کیا آپ نے لوگوں کو حکم دیا تھا کہ مجھے اور میری والدہ کو معبود بنا لو تو وہ عرض کریں گے اے اللہ میں نے تو وہی کچھ کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا یہ تو ان بدنصیبوں کی اپنی ایجادات ہیں ایسے ہی جملہ اعمال جن پر ہمیں ثواب کی امید ہوتی ہے ہر امت کے نبی کی شہادت سے ہی قبول ہوں گے کہ وہ نبی کے حکم کے مطابق تھے اس لیے رسومات کو دین سمجھ لینا سخت نادانی ہے جن پر دنیا میں وقت محنت اور دولت صرف کی اور آخرت میں بجائے ثواب کے الٹا رسوائی کا اور عذاب کا سبب بن جائیں تو کس قدر حسرت ہوگی اس امر پر بھی روایات موجود ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر امت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں جن کی حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تصدیق یا تردید فرماتے ہیں وہی شہادت میدان حشر میں بھی پیش ہوگی تو کفار اور نافرمان یہ خواہش کریں گے کہ کاش انہیں مٹی میں ملا دیا جائے اور ان کا نام و نشان نہ رہے کہ پوچھ گچھ سے اور عذاب الہی سے بچ سکیں مگر خود ان کا چپنا تو کجا اپنے کسی چھوٹے سے چھوٹے عمل کو بھی نہ چھپا سکیں گے کفر تو بجائے خود بہت بڑی مصیبت ہے مگر ایسے لوگوں کا حال بھی کچھ کم برا نہ ہوگا جو رسومات کو دین سمجھ بیٹھے ہیں اس لیے کسی بھی کام کو کرنے سے پہلے خوب سمجھ لینا چاہئے کہ آیا واقعی یہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم ہے اور سنت خیر الانام کی خلاف ورزی تو نہیں اور ایسے امور جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت نہ ہو کو ہرگز دین نہ سمجھا جائے۔ یہاں ختم نبوت کی دلیل بھی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد نہ کوئی نبی نہ کوئی امت کو آخری امت بطور گواہ اور آخری نبی بطور شہادت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کی ذات عالی ہوگی لہذا آپ صلی اللہ عہلیہ وسلم کی بعثت کے بعد کسی بھی نئے نبی کا دعوی باطل ہے۔

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

5۔ یعنی کچھ بھی ضرر نہیں ہر طرح نفع ہی ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : ریا کاری اور بخل سے اجتناب اور انفاق فی سبیل اللہ تبھی قبول ہوسکتا ہے جب اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین کامل ہو کہ جو کچھ صدقہ وہ کرے یا کوئی عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کا اجر ضائع نہیں کرتاقیامت کو اس کو پورا پورا اجر ملے گا۔ (عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مَنْ تَصَدَّقَ بِعَدْلِ تَمْرَۃٍ مِّنْ کَسْبٍ طَیِّبٍ وَّلَا یَقْبَلُ اللّٰہُ إِلَّا الطَّیِّبَ فَإِنَّ اللّٰہَ یَتَقَبَّلُھَا بِیَمِیْنِہٖ ثُمَّ یُرَبِّیْھَا لِصَاحِبِہٖ کَمَا یُرَبِّیْ أَحَدُکُمْ فُلُوَّہٗ حَتّٰی تَکُوْنَ مِثْلَ الْجَبَلِ ) [ رواہ البخاری : کتاب الزکوۃ، باب الصدقۃ من کسب طیب ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو آدمی کھجور کے برابر اپنی پاک کمائی سے صدقہ کرتا ہے اور اللہ کے ہاں صرف پاک چیز ہی قبول ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے قبول کرتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ میں لے کر اس کو اس طرح پالتا اور بڑھاتا ہے جیسے تم میں سے کوئی بچھڑے کو پالتا ہے حتیٰ کہ صدقہ پہاڑ کی مانند ہوجاتا ہے۔ “ مسائل ١۔ لوگوں کو اخلاص کے ساتھ اللہ اور آخرت پر ایمان لانے کے ساتھ انفاق فی سبیل اللہ کرنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ ظلم نہیں کرتا : ١۔ اللہ تعالیٰ بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ (آل عمران : ١٨٢) ٢۔ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتے۔ (النساء : ٤٠) ٣۔ اللہ تعالیٰ ظلم نہیں کرتا بلکہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں۔ (آل عمران : ١١٧)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” وما ذا علیھم لو امنوا باللہ والیوم الاخر وانفقوا مما رزقھم اللہ وکان اللہ بھم علیما (٣٩) ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃ وان تک حسنۃ یضعفھا ویوت من لدنہ اجرا عظیما (٤٠) (٤ (٣٩۔ ٤٠) ” آخر ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے اور اگر یہ ایسا کرتے تو اللہ سے ان کی نیکی کا حال چھپا نہ رہ جاتا ۔ اللہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا ‘ اگر کوئی ایک نیکی کرے تو اللہ اسے دوچند کرتا ہے اور پھر اپنی طرف سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے ۔ ہاں ‘ انہیں کیا ہوجاتا ۔ وہ کیا نقصان ہے ‘ جس کی بابت وہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے سے ڈرتے ہیں ۔ جس کی بابت وہ انفاق کرنے سے ڈرتے ہیں ‘ یعنی اللہ کا دیا ہوا ‘ اللہ کے راستے میں ‘ اللہ تو اس چیز کو بھی جانتا ہے جو وہ خرچ کرتے ہیں اور ان اسباب اور دواعی سے بھی باخبر ہے جن کی وجہ سے وہ خرچ کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ تو ذرہ برابر کسی پر ظلم نہیں کرتے ۔ اس لئے اس بات کا ڈر نہیں ہے کہ اللہ کو ان کے ایمان اور ان کے انفاق کے بارے میں علم نہ ہو سکے گا ۔ اس لئے اللہ انہیں جو جزاء دے گا اس میں ظلم نہ ہوگا بلکہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے اس میں خاص اضافہ فرمائے گا ۔ نیکیاں زیادہ کردی جائیں گی اور اللہ اپنی جانب سے بلاحساب دے گا ۔ ایمان کا راستہ ہر صورت میں محفوظ اور مفید ہے ۔ یعنی مادی مفادات ونقصانات کے نقطہ نظر سے بھی ۔ اگر خالص مادی نقطہ نظر سے بھی دیکھا جائے تو ایمان پھر بھی مفید اور محفوظ راستہ ہے ۔ اس لئے پوچھا جاتا ہے کہ انہیں کیا نقصان ہوگا اگر وہ اللہ پر ایمان لائیں اور یوم آخرت پر یقین رکھیں اور انہیں اللہ نے جو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کریں ۔ اس لئے کہ وہ جو کچھ خرچ کر رہے ہیں ‘ اس میں سے کوئی چیز انکی پیدا کردہ نہیں ہے ۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ بطور برواحسان خرچ کرنے والوں کو کئی گنا اجر دیتا ہے اور اس پر اس کا فضل وکرم مستزاد ہوگا حالانکہ وہ جو کچھ خرچ کر رہے ہیں وہ اللہ کے دیئے ہوئے سے خرچ کر رہے ہیں ۔ کیا ہی عظیم ہے اللہ کا فضل وکرم ۔ کیا ہی بہترین سودا ہے یہ ۔ اس سے تو کوئی جاہل ہی باز رہ سکتا ہے ۔ آخر میں اوامر اونوہی اور ترغیب اور تحریک کا خاتمہ مشاہد قیامت میں سے ایک منظر پر ہوتا ہے ۔ یہاں ان کے موقف کو مجسم شکل میں اور حرکت کرتے ہوئے زندہ کرداروں میں پیش کیا جاتا ہے ‘ جس طرح قرآن کریم ہمیشہ مشاہدات قیامت کو زندہ اور متحرک شکل میں پیش کرتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

پھر فرمایا (وَ مَاذَا عَلَیْھِمْ لَوْ اٰمَنُوْا باللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ ) الآیۃ (یعنی یہ لوگ جو کفر میں مبتلا ہیں اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کے منکر ہیں اور اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے خرچ نہیں کرتے ان پر کیا وبال آجائے اور کیا ضرر لاحق ہوجائے اگر ایمان لائیں اور اللہ کے دیئے ہوئے مال میں سے خرچ کریں) یہ سوال بطور استفہام انکاری کے ہے۔ بطور زجر و توبیخ یہ سوال کیا ہے اور ان کو توجہ دلائی ہے کہ اپنے طرز زندگی کے بارے میں فکر مند ہوں اور نفع و نقصان کے بارے میں سوچیں۔ اگر غور کریں گے تو ان پر واضح ہوجائے گا کہ ان کا طریقہ غلط ہے اور جو اہل ایمان کا طریقہ ہے اسی کو اختیار کرنا لازم ہے اسی میں ان کا بھلا ہے اور اس کی مخالفت میں ضرر ہے اور وبال ہے۔ قال صاحب الروح صفحہ ٢١: ج ٥ بل المراد تَوْبِیْخُھُمْ عَلَی الْجَھْلِ بِمَکَان المنفعۃِ وَالْاِ عْتَقَادِ فِی الشیَّیء عَلَی خلاَفِ مَا ھُوْ عَلَیْہِ وَ تَحْرِ یُضھم عَلٰی صَرْفِ الفِکْر التحصیل الجَوَابِ لَعَلَّہٗ یُؤَدِّی بھمْ اِلَی الْعِلْمِ ۔۔ الخ

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi