Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 42

سورة النساء

یَوۡمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ عَصَوُا الرَّسُوۡلَ لَوۡ تُسَوّٰی بِہِمُ الۡاَرۡضُ ؕ وَ لَا یَکۡتُمُوۡنَ اللّٰہَ حَدِیۡثًا ﴿٪۴۲﴾  3

That Day, those who disbelieved and disobeyed the Messenger will wish they could be covered by the earth. And they will not conceal from Allah a [single] statement.

جس روز کافر اور رسول کے نافرمان آرزو کریں گے کہ کاش! انہیں زمین کے ساتھ ہموار کر دیا جاتا اور اللہ تعالٰی سے کوئی بات نہ چھُپا سکیں گے ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

يَوْمَيِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَعَصَوُاْ الرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّى بِهِمُ الاَرْضُ ... On that day those who disbelieved and disobeyed the Messenger will wish that they were buried in the earth, means, they will wish that the earth would open up and swallow them because of the horror of the gathering place and the disgrace, dishonor and humiliation they will suffer on that Day. This is similar to Allah's statement, يَوْمَ يَنظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدَاهُ The Day when man will see that (the deeds) which his hands have sent forth. (78:40) Allah then said, ... وَلاَ يَكْتُمُونَ اللّهَ حَدِيثًا but they will never be able to hide a single fact from Allah. indicating that they will admit to everything they did and will not hide any of it. Abdur-Razzaq recorded that Sa`id bin Jubayr said, "A man came to Ibn Abbas and said to him, `There are things that confuse me in the Qur'an.' Ibn Abbas said, `What things do you have doubts about in the Qur'an?' He said, `Not doubts, but rather confusing things.' Ibn Abbas said, `Tell me what caused you confusion.' He said, `I hear Allah's statement, ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ There will then be no test for them but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah." (6:23) but He also says, ... وَلاَ يَكْتُمُونَ اللّهَ حَدِيثًا but they will never be able to hide a single fact from Allah. They have indeed hid something. Ibn Abbas said, `As for Allah's statement, ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ وَاللّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ (There will then be no test for them but to say: "By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah)", when they see that on the Day of Resurrection that Allah does not forgive, except for the people of Islam, and that He forgives the sins, no matter how big they are, except Shirk, then the Mushriks will lie. They will say, وَاللّهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ `("By Allah, our Lord, we were not those who joined others in worship with Allah."), hoping that Allah will forgive them. However, Allah will then seal their mouths, and their hands and feet will disclose what they used to do. Then, يَوْمَيِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُواْ وَعَصَوُاْ الرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّى بِهِمُ الاَرْضُ وَلاَ يَكْتُمُونَ اللّهَ حَدِيثًا (those who disbelieved and disobeyed the Messenger will wish that they were buried in the earth, but they will never be able to hide a single fact from Allah)."'

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٧٤] پھر جب اللہ تعالیٰ کے روبرو ایسے نافرمان لوگوں پر شہادتیں مکمل ہوجائیں گی اور شہادتوں کی بنا پر ان کا جرم ثابت ہوجائے گا تو اس وقت یہ آرزو کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں سما جائیں تاکہ اپنی نافرمانیوں کے برے نتائج اور عذاب سے نجات حاصل کرسکیں۔ لیکن یہ کسی صورت ممکن نہ ہوگا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

يَوْمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ۔۔ : اس سے مقصود کفار کو وعید سنانا ہے جو اس موقع پر آرزو کریں گے کہ کاش ! ہم انسان نہ ہوتے بلکہ زمین میں مل کر خاک ہوجاتے۔ دیکھیے سورة نبا کی آخری آیت۔ (ابن کثیر) وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا : کفار کے متعلق قرآن میں یہ بھی ہے کہ وہ اپنے شرک سے انکار کردیں گے کہ ہم نے شرک کیا ہی نہیں۔ (انعام : ٢٣ ) مگر یہ آیت اس کے خلاف نہیں ہے کیونکہ وہ پہلے واقعی شرک کرنے سے انکار کریں گے مگر جب ان کے ہاتھ پاؤں ان کے خلاف گواہی دیں گے۔ (حم السجدۃ : ٢١ تا ٢٣) تو پھر وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز چھپا نہ سکیں گے۔ ابن عباس (رض) نے فرمایا : ” قیامت کا دن بہت لمبا دن ہے، کسی موقع پر وہ انکار کریں گے اور دوسرے موقع پر اپنے شرک اور بد اعمالی پر افسوس کریں گے۔ “ (رازی۔ ابن کثیر)

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

In يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا ، the text mentions the state of utter despair faced by disbelievers on the Last Day. That day they would wish to go extinct rather than face its ordeal, to become a patch of the earth underneath, or wish that the earth would crack open, suck them in leaving nothing on top but dust mingled with dust, so that they would be delivered of the scrutiny and retribution of that fateful time. (The statement: لَوْ تُسَوَّىٰ بِهِمُ الْأَرْ‌ضُ (42) has been translated here literally to express, in some measure at least, the power and poignancy of the original Qur&anic expression, as: &shall wish that the earth be levelled with them.) The same wish appears in Suratun-Nisa& where it was said: وَيَقُولُ الْكَافِرُ‌ يَا لَيْتَنِي كُنتُ تُرَ‌ابًا . This will be on the plains of Resurrection when the disbe¬lievers will see that all animals have been turned into dust after having exchanged the retribution of each other&s excesses. They too, would pine for an end like this wishing to have become all dust. Finally, the verse says: وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّـهَ حَدِيثًا (And they shall not conceal anything from Allah - 42). It means that these disbelievers will be unable to keep anything about their beliefs and deeds concealed from Allah. Their own hands and feet will confess. The prophets will testify and, of course, present there will be everything on record in their Books of Deeds. Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) was asked: |"At one place, the Holy Qur&an says: &And they shall not conceal anything from Allah& (4:42); while, at another place, it says: &By Allah, Our Lord, we were no mush¬riks& (6:23) - Is there, as it seems, any contradiction between the two verses?|" To this he replied: What will happen is that when the disbe¬lievers will begin to see that nobody except true Muslims is being admitted into the Paradise they would decide to refuse point-blank that they had ever committed shirk or any other evil deed, in the hope that the plan works and results in their salvation. But, soon after this refusal of theirs, the very parts of their body would testify against them, which would totally frustrate their plan to conceal the truth about their deeds. That will be the time when they will confess every-thing. Hence: |"They shall not conceal anything from Allah|".

یومئذ یود الذین کفروا میں میدان آخرت میں کافروں کی بدحالی کا ذکر ہے، کہ یہ لوگ قیامت کے دن تمنا کریں گے کہ کاش ہم زمین کا پیوند بن گئے ہوتے، کاش زمین پھٹ جاتی اور ہم اس میں دھنس کر مٹی بن جاتے اور اس وقت کی پوچھ گچھ اور عذاب و حساب سے نجات پا جاتے۔ میدان حشر میں جب کفار دیکھیں گے کہ تمام جانور ایک دوسرے کے مظالم کا بدلہ لینے دینے کے بعد مٹی بنا دیئے گئے تو ان کو حسرت ہوگی اور تمنا کریں گے کہ کاش ہم بھی مٹی ہوجاتے، جیسا کہ سورة نباء میں فرمایا : ویقول الکفر یلیتنی کنت ترباً ط آخر میں فرمایا ولایکتمون اللہ حدیثاً یعنی یہ کفار اپنے عقائد و اعمال سے متعلق کچھ بھی پوشیدہ نہ رکھ سکیں گے ان کے اپنے ہاتھ پیر اقرار کریں گے، انبیاء گواہی دیں گے اور اعمالناموں میں بھی سب کچھ موجود ہوگا۔ حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا گیا کہ قرآن کریم میں ایک جگہ یہ ارشاد ہے کہ کفار کچھ بھی نہ چھپائیں گے اور دوسری جگہ یہ ہے کہ وہ قسم کھا کر کہیں گے۔ واللہ ربنا ماکنا مشرکین (٦: ٣٢) کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔ بظاہر ان دو آیتوں میں تعارض ہے ؟ تو آپ نے جواب دیا کہ : ہوگا یوں کہ جب شروع میں کفار یہ دیکھیں گے کہ مسلمانوں کے سوا جنت میں کوئی جاتا ہی نہیں تو وہ یہ طے کرلیں گے کہ ہمیں اپنے شرک اور اعمال بد کا انکار ہی کردینا چاہئے، ہوسکتا ہے اس طرح ہم نجات پاجائیں، لیکن اس انکار کے بعد خود ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیں گے اور چھپانے کا جو مقصد انہوں نے بنایا تھا اس میں بالکل ناکام ہوجائیں گے اس وقت سب اقرار کرلیں گے، اس لئے فرمایا : ولایکتمون اللہ حدیثاً کچھ بھی نہیں چھپا سکیں گے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

يَوْمَىِٕذٍ يَّوَدُّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَعَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُـسَوّٰى بِہِمُ الْاَرْضُ۝ ٠ۭ وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللہَ حَدِيْثًا۝ ٤٢ۧ يَوْمَئِذٍ ويركّب يَوْمٌ مع «إذ» ، فيقال : يَوْمَئِذٍ نحو قوله عزّ وجلّ : فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وربّما يعرب ويبنی، وإذا بني فللإضافة إلى إذ . اور کبھی یوم کے بعد اذ بڑھا دیاجاتا ہے اور ( اضافت کے ساتھ ) یومئذ پڑھا جاتا ہے اور یہ کسی معین زمانہ کی طرف اشارہ کے لئے آتا ہے اس صورت میں یہ معرب بھی ہوسکتا ہے اور اذ کی طرف مضاف ہونے کی وجہ سے مبنی بھی ۔ جیسے فرمایا : وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ [ النحل/ 87] اور اس روز خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے ۔ فَذلِكَ يَوْمَئِذٍ يَوْمٌ عَسِيرٌ [ المدثر/ 9] وہ دن بڑی مشکل کا دن ہوگا ۔ اور آیت کریمہ : وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ [إبراهيم/ 5] اور ان کو خدا کے دن یا ددلاؤ۔ میں ایام کی لفظ جلالت کی طرف اضافت تشریفی ہے اور ا یام سے وہ زمانہ مراد ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے فضلو انعام کے سمندر بہا دیئے تھے ۔ ودد الودّ : محبّة الشیء، وتمنّي كونه، ويستعمل في كلّ واحد من المعنيين علی أن التّمنّي يتضمّن معنی الودّ ، لأنّ التّمنّي هو تشهّي حصول ما تَوَدُّهُ ، وقوله تعالی: وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] ( و د د ) الود ۔ کے معنی کسی چیز سے محبت اور اس کے ہونے کی تمنا کرنا کے ہیں یہ لفظ ان دونوں معنوں میں الگ الگ بھی استعمال ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ کسی چیز کی تمنا اس کی محبت کے معنی کو متضمعن ہوتی ہے ۔ کیونکہ تمنا کے معنی کسی محبوب چیز کی آرزو کرنا کے ہوتے ہیں ۔ اور آیت : ۔ وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً [ الروم/ 21] اور تم میں محبت اور مہربانی پیدا کردی ۔ كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( ک ف ر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا ہے ۔ اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا شریعت حقہ یا نبوات کا انکار ہے ۔ پھر کفران کا لفظ زیادہ نعمت کا انکار کرنے کے معنی ہیں استعمال ہوتا ہے ۔ اور کفر کا لفظ انکار یہ دین کے معنی میں اور کفور کا لفظ دونوں قسم کے انکار پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا اسے قبول نہ کیا ۔ عصا العَصَا أصله من الواو، لقولهم في تثنیته : عَصَوَانِ ، ويقال في جمعه : عِصِيٌّ. وعَصَوْتُهُ : ضربته بالعَصَا، وعَصَيْتُ بالسّيف . قال تعالی: وَأَلْقِ عَصاكَ [ النمل/ 10] ، فَأَلْقى عَصاهُ [ الأعراف/ 107] ، قالَ هِيَ عَصايَ [ طه/ 18] ، فَأَلْقَوْا حِبالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ [ الشعراء/ 44] . ويقال : ألقی فلانٌ عَصَاهُ : إذا نزل، تصوّرا بحال من عاد من سفره، قال الشاعر : فألقت عَصَاهَا واستقرّت بها النّوى وعَصَى عِصْيَاناً : إذا خرج عن الطاعة، وأصله أن يتمنّع بِعَصَاهُ. قال تعالی: وَعَصى آدَمُ رَبَّهُ [ طه/ 121] ، وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ النساء/ 14] ، آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُيونس/ 91] . ويقال فيمن فارق الجماعة : فلان شقّ العَصَا ( ع ص ی ) العصا : ( لاٹھی ) یہ اصل میں ناقص وادی ہے کیونکہ اس کا تثنیہ عصوان جمع عصی آتی عصوتہ میں نے اسے لاٹھی سے مارا عصیت بالسیف تلوار کو لاٹھی کی طرح دونوں ہاتھ سے پکڑ کت مارا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَلْقِ عَصاكَ [ النمل/ 10] اپنی لاٹھی دال دو ۔ فَأَلْقى عَصاهُ [ الأعراف/ 107] موسٰی نے اپنی لاٹھی ( زمین پر ) ڈال دی ۔ قالَ هِيَ عَصايَ [ طه/ 18] انہوں نے کہا یہ میری لاٹھی ہے ۔ فَأَلْقَوْا حِبالَهُمْ وَعِصِيَّهُمْ [ الشعراء/ 44] تو انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں ڈالیں ۔ القی فلان عصاہ کسی جگہ پڑاؤ ڈالنا کیونکہ جو شخص سفر سے واپس آتا ہے وہ اپنی لاٹھی ڈال دیتا ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( 313 ) والقت عصاھا واستقربھا النوی ( فراق نے اپنی لاٹھی ڈال دی اور جم کر بیٹھ گیا ) عصی عصیانا کے معنی اطاعت سے نکل جانے کے ہیں دراصل اس کے معنی ہیں اس نے لاٹھی ( عصا ) سے اپنا بچاؤ کیا ۔ قرآن میں ہے : وَعَصى آدَمُ رَبَّهُ [ طه/ 121] اور آدم نے اپنے پروردگار کے حکم کے خلاف کیا تو ( وہ اپنے مطلوب سے ) بےراہ ہوگئے ۔ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ النساء/ 14] اور جو خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا ۔ آلْآنَ وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ [يونس/ 91] ( جواب ملا کہ ) اب ( ایمان لاتا ہے ) حالانکہ تو پہلے نافرمانی کرتا رہا ۔ اور اس شخص کے متعلق جو جماعت سے علیدہ گی اختیار کر سے کہا جاتا ہے فلان شق لعصا ۔ رسل أصل الرِّسْلِ : الانبعاث علی التّؤدة وجمع الرّسول رُسُلٌ. ورُسُلُ اللہ تارة يراد بها الملائكة، وتارة يراد بها الأنبیاء، فمن الملائكة قوله تعالی: إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] ، وقوله : إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ومن الأنبیاء قوله : وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] ( ر س ل ) الرسل الرسل ۔ اصل میں اس کے معنی آہستہ اور نرمی کے ساتھ چل پڑنے کے ہیں۔ اور رسول کی جمع رسل آتہ ہے اور قرآن پاک میں رسول اور رسل اللہ سے مراد کبھی فرشتے ہوتے ہیں جیسے فرمایا : إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ [ التکوير/ 19] کہ یہ ( قرآن ) بیشک معزز فرشتے ( یعنی جبریل ) کا ( پہنچایا ہوا ) پیام ہے ۔ إِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ يَصِلُوا إِلَيْكَ [هود/ 81] ہم تمہارے پروردگار کے بھیجے ہوئے ہی یہ لوگ تم تک نہیں پہنچ پائیں گے ۔ اور کبھی اس سے مراد انبیا (علیہ السلام) ہوتے ہیں جیسے فرماٰیا وَما مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ [ آل عمران/ 144] اور محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس سے بڑھ کر اور کیا کہ ایک رسول ہے اور بس لو لَوْ : قيل : هو لامتناع الشیء لامتناع غيره، ويتضمّن معنی الشرط نحو : قوله تعالی: قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] . ( لو ) لو ( حرف ) بعض نے کہا ہے کہ یہ امتناع الشئی لا متناع غیر ہ کے لئے آتا ہے ( یعنی ایک چیز کا دوسری کے امتناع کے سبب ناممکن ہونا اور معنی شرط کو متضمن ہوتا ہے چناچہ قرآن پاک میں ہے : ۔ قُلْ لَوْ أَنْتُمْ تَمْلِكُونَ [ الإسراء/ 100] کہہ دو کہ اگر میرے پروردگار کی رحمت کے خزانے تمہارے ہاتھ میں ہوتے ۔ سوا ( مساوات برابر) الْمُسَاوَاةُ : المعادلة المعتبرة بالذّرع والوزن، والکيل، وتَسْوِيَةُ الشیء : جعله سواء، إمّا في الرّفعة، أو في الضّعة، وقوله : الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ [ الانفطار/ 7] ، أي : جعل خلقتک علی ما اقتضت الحکمة، وقوله : وَنَفْسٍ وَما سَوَّاها [ الشمس/ 7] ، فإشارة إلى القوی التي جعلها مقوّمة للنّفس، فنسب الفعل إليها، وکذا قوله : فَإِذا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] ، ( س و ی ) المسا واۃ کے معنی وزن کیل یا مسا حت کے لحاظ سے دو چیزوں کے ایک دوسرے کے برابر ہونے کے ہیں التسویۃ کے معنی کسی چیز کو ہموار کرنے ہیں اور آیت : ۔ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ [ الانفطار/ 7] دو ہی تو ہے ) جس نے تجھے بنایا اور تیرے اعضاء کو ٹھیک کیا ۔ میں سواک سے مراد یہ ہے کہ انسان کی خلقت کو اپنی حکمت کے اقتضاء کے مطابق بنایا اور آیت : ۔ وَنَفْسٍ وَما سَوَّاها [ الشمس/ 7] اور انسان کی اور اس کی جس نے اس کے قوی کو برابر بنایا ۔ اسی طرح آیت کریمہ : ۔ فَإِذا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي [ الحجر/ 29] جب اس کو ( صورت انسانیہ میں ) درست کرلوں اور اس میں ( اپنی بےبہا چیز یعنی ) روح پھونک دوں ۔ كتم الْكِتْمَانُ : ستر الحدیث، يقال : كَتَمْتُهُ كَتْماً وكِتْمَاناً. قال تعالی: وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] ، ( ک ت م ) کتمہ ( ن ) کتما وکتما نا کے معنی کوئی بات چھپانا کے ہیں ۔ قرآن پاک میں ہے : ۔ وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهادَةً عِنْدَهُ مِنَ اللَّهِ [ البقرة/ 140] اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو خدا کی شہادت کو جو اس کے پاس کتاب اللہ میں موجود ہے چھپائے حدیث وكلّ کلام يبلغ الإنسان من جهة السمع أو الوحي في يقظته أو منامه يقال له : حدیث، قال عزّ وجلّ : وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] ، وقال تعالی: هَلْ أَتاكَ حَدِيثُ الْغاشِيَةِ [ الغاشية/ 1] ، وقال عزّ وجلّ : وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحادِيثِ [يوسف/ 101] ، أي : ما يحدّث به الإنسان في نومه، حدیث ہر وہ بات جو انسان تک سماع یا وحی کے ذریعہ پہنچے اسے حدیث کہا جاتا ہے عام اس سے کہ وہ وحی خواب میں ہو یا بحالت بیداری قرآن میں ہے ؛وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلى بَعْضِ أَزْواجِهِ حَدِيثاً [ التحریم/ 3] اور ( یاد کرو ) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی ۔ أَتاكَ حَدِيثُ الْغاشِيَةِ [ الغاشية/ 1] بھلا ترکو ڈھانپ لینے والی ( یعنی قیامت کا ) حال معلوم ہوا ہے ۔ اور آیت کریمہ :۔ وَعَلَّمْتَنِي مِنْ تَأْوِيلِ الْأَحادِيثِ [يوسف/ 101] اور خوابوں کی تعبیر کا علم بخشا۔ میں احادیث سے رویا مراد ہیں

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

قول باری ہے (یومئذ یود الذین کفروا وعصوالرسول لوتسوی بھم الارض ولایکتمون اللہ حدیثا) اس وقت وہ سب لوگ جنہوں نے رسول کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے تمناکریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اسمیں سماجائیں وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے چھپا نہیں سکیں گے ) ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا کہ وہاں یہ لوگ اپنا کوئی حال اور اپنا کوئی عمل اللہ سے چھپا نہیں سکیں گے کیونکہ انہیں معلوم ہوگا کہ اللہ کو ان کے تمام اعمال کی اطلاع ہے اور وہ ان کی تمام پوشیدہ باتوں سے آگاہ ہے اس لیے وہ اپنے ان اعمال کا اعتراف کرلیں گے اور انہیں پوشیدہ نہیں رکھیں گے ایک قول ہے کہ یہ کہنا بھی درست ہے کہ یہ لوگ وہاں اپنی پوشیدہ باتوں پر پردہ نہیں ڈال سکیں گے جس طرح انہوں نے دنیا میں ان پر پردہ ڈال رکھا ہے۔ اگریہ کہاجائے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق بتایا ہے وہ یہ کہیں گے ہمیں اللہ اپنے رب کی قسم، ہم مشرک نہیں تھے، تو اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ آخرت کے کئی مراحل ہیں ایک مرحلہ تو وہ ہے جہاں آپ ان کے ہمس یعنی دھیمی آواز کے سوا کچھ نہیں سنیں گے ایک اور مرحلہ وہ ہے جہاں ان لوگوں کو کذب بیانی کا موقعہ مل جائے گا اور وہ کہیں گے ہم توبرے کام نہیں کرتے تھے اللہ ہمارے رب کی قسم ہم تو شرک نہیں کرتے تھے ۔ نیز ایک مرحلہ وہ ہے جہاں یہ لوگ اپنی غلطی کا اعتراف کرلیں گے اور اللہ سے درخواست کریں گے انہیں دوبارہ دنیا میں بھیج دیاجائے حسن سے یہ تفسیر مروی ہے حضڑت ابن عباس کا قول ہے کہ قول باری (ولایکتمون اللہ حدیثا) اس تمنا میں داخل ہے جس کا ذکر آیت کی ابتداء میں ہوچکا ہے جب ان نافرمانوں کے اعضاء وجوارح زبان گویائی حاصل کرکے ان کا پول کھول دیں گے تو ان کی یہ تمنا ہوگی۔ ایک قول کے مطابق آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ان کے کتمان کو کوئی اہمیت نہیں دی جائے گی کیونکہ اللہ پر سب کچھ عیاں ہے اور اس کی نظروں س کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے گویا عبارت کی ترتیب یوں ہے، انھم غیر قادرین ھنالک علی الکتمان لان اللہ یظھرہ، یہ لوگ وہاں کتمان پر قادر نہیں ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ اسے ظاہر کردے گا) ۔ ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے کتمان کا ارادہ نہیں کیا کیون کہ انہوں نے یہ بات اپنے توہم کے مطابق کی ہے اور یہ بات انہیں اس سے خارج نہیں کرتی کہ انہوں نے کتمان کیا تھا (واللہ اعلم) ۔

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٤٢) اور قیامت کے دن کفار اس بات کی تمنا کریں گے، کہ کاش ہم بھی جانوروں کی طرح خاک ہوجائیں اور ہمارا حساب کتاب بالکل نہ ہو۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٤٢ (یَوْمَءِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَعَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰی بِہِمُ الْاَرْضُ ط) ۔ یعنی کسی طرح زمین پھٹ جائے اور ہم اس میں دفن ہوجائیں ‘ ہمیں نسیاً منسیّا کردیا جائے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:42) یود۔ مضارع واحد مذکر غائب مودۃ (باب سمع) مصدر۔ وہ پسند کرتا ہے وہ آرزو کرتا ہے یا کرے گا۔ لو تسوی بھم الارض کاش انہیں دبا کر اوپر سے مٹی برابر کردی گئی ہوتی۔ تو سی وہ برابر کردی گئی۔ وہ برابر کردی جائے۔ وہ ملا دی جائے۔ مضارع مجہول واحد مؤنث غائب۔ زمین ان کو اپنے اندر لے کر برابر ہوجاتی۔ لو مصدریہ بھی ہوسکتا ہے جملہ ب تاویل مفرد بود کا مفعول ہوگا۔ ای یودون ان یدفنوا۔ حدیثا۔ بات۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 7 اوپر کی آیتوں میں قیامت کے دن ظلم کی نفی اور کئی گہا اجر کا وعدہ فرمایا اب یہاں بیان فرما جارہا ہے کہا اچھا یا برا بدلہ پیغمبر کی شہادت سے ملے گا جن کو اللہ تعالیٰ نے مخلوق پر حجت بنا کر بھیجا ہے۔ (کبیر) اس مقصود اکفار کو وعید سنانا ہے جو اس موقعہ پر آزاد کرنیگے کاش ہم آدمی نہ ہوتے اور زمین میں مل کر خاک ہوجاتے۔ دیکھئے سورت النبا : 40 بقرۃ : 143 ۔ (ابن کثیر)8 کفار کے متعلق یہ بھی ہے کہ وہ اپنے شرک سے انکار کرینگے (الا نعام :23) مگر یہ آیت اس کے خلاف نہیں ہے کہ انکار کے بعد جب ان کے ہاتھ پاوں ان کے خلاف گواہی دینگے۔ ( سورت فصٰلت آیت :21 ۔ 23) تو پھر اللہ تعالیٰ سے کوئی بات نہیں چھپا سکیں گے . اور علما نے یہ بھی لکھا ہے کہ قیامت کے دن بہت سے مواقع ہو نگے، کسی موقع پر وہ انکا کرے گے اور دسرے موقع پر اپنے شرک اور بدا عمالی پر افسوس کرینگے۔ (دیکھئے سورت الا نعام : کبیر۔ ابن کثیر )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” یومئذ یود الذین کفروا وعصوا الرسول لو تسوی بھم الارض ولا یکتمون اللہ حدیثا (٤ : ٤٢) ” اس وقت جنہوں نے رسول کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے ‘ تمنا کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں ۔ وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے۔ اس زندہ اور متحرک انداز تعبیر کی جھلکیوں کے درمیان سے ہم ان تمام معانی کو پاتے ہیں اور یہ سب تاثرات کو چشم تصور سے دیکھ لیتے ہیں جو حشر میں کھڑے ان لوگوں کے چہروں سے عیاں ہوں گے ۔ یہ تاثرات ہم نہایت ہی گہرے ادراک کے ساتھ زندہ اور متحرک پاتے ہیں۔ دنیا کے تمام ادب پاروں کو کھنگال لیجئے ! آپ کو کسی بھی بیانیہ کلام یا تجزیہ نگاری میں یہ تاثر نہ ملے گا قیامت کے مناظر بیان کرتے ہوئے قرآن بطور خاص یہ انداز اختیار کرتا ہے اور قرآن میں بعض دوسرے مقامات پر بھی اس کے نمونے ملتے ہیں ۔ اس درس کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ اللہ کی بندگی اور عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کرو ‘ نماز چونکہ اللہ کی بندگی اور عبادت کی محسوس ترین شکل ہے ‘ اس لئے اگلی آیت میں نماز کے بعض احکام کو بیان کیا جاتا ہے ۔ نیز نماز کی تیاری کے لئے طہارت کے بعض احکام بھی بیان ہوتے ہیں۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قیامت کے دن کافروں کی آرزو کہ کاش زمین کا پیوند ہو جاتے گزشتہ آیت میں جس دن کی گواہی کا ذکر ہے اس دن کی مصیبت اور شدت اور بد حالی اس آیت میں بیان فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ جس دن یہ گواہیاں ہوں گی اس دن کفار اور وہ لوگ جنہوں نے رسولوں کی نافرمانی کی (علی ارادۃ الجنس) اس بات کی تمنا کریں گے کہ ہائے کاش ! ہم آج کے دن دفن کردیے جاتے اور زمین کا پیوند بنا دیے جاتے اور جس عذاب اور مصیبت میں مبتلا ہیں اس سے رہائی ہوجاتی۔ اور اس دن اللہ سے کوئی بات نہ چھپا سکیں گے خود اپنے اقرار اور اپنے اعضا وجوارح کے اقرار سے دوزخ میں داخل ہوں گے اس دن حالات مختلف ہوں گے کبھی تو پوشیدہ رکھیں گے اور کہیں گے واللہ ربنا ما کنا مشرکین (کہ قسم ہے اللہ کی جو ہمارے رب ہے ہم شرک کرنے والے نہ تھے) لیکن پھر اعضاء اور جوارح کی گواہیوں کے بعد اپنی نافرمانیوں کا اقرار کرلیں گے اس وقت یہ کہیں گے کہ ہائے کاش ! ہم زمین کا پیوند بنا دیے جاتے۔ (من روح المعانی صفحہ ٣٥: ج ٥)

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

ٖ 32 یہاں کافروں اور نافرمانوں کا حال بیان کیا گیا ہے جس کی طرف پہلے اشارہ کیا گیا تھا استئناف لبیان حالھم التی اشیر الی شدقھا و نظاع تھا (روح ج 5 ص 34) لَوْ تُسَوّٰی میں لَوْ مصدریہ ہے اور جملہ بتاویل مفرد یَوَدُّ کا مفعول ہے۔ لو مصدریۃ ای یودون ان یدفنوا وتسی الارض ملتبسۃ بہم (روح) ۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 بھلا اس وقت ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر ایک امت میں سے ایک ایک گواہ یعنی احوال بتانے والا میدان حشر میں طلب کریں گے اور اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو ان لوگوں پر یعنی آپ کی امت پر گواہی دینے اور ان کے احوال بتانے کی غرض سے طلب کریں گے۔ اس دن ان لوگوں کا جنہوں نے دنیا میں کفر کیا ہوگا اور اللہ کے رسول کا کہنا نہ مانا ہوگا یہ حال ہوگا کہ وہ اس اس بات کی تمنا اور آرزو کریں گے کہ کاش ! ان پر زمین پٹ جاتی اور وہ اس میں سما جاتے اور ان پر زمین برابر کردی جاتی اور وہ زمین کے پیوند ہوجاتے اور وہ اللہ تعالیٰ سے کوئی بات پوشیدہ نہ رکھ سکیں گے۔ کیونکہ معتبر گواہوں کی شہادت کے بعد اس کے سوا چارہ بھی کیا ہے کہ اپنے جرائم کا خود ہی اقرار کریں (تیسیر) قیامت کے دن جس طرح تمام امتوں سے یہ دریافت کیا جائیگا کہ تم نے اپنے اپنے پیغمبروں کی دعوت کا کیا جواب دیا تھا اسی طرح پیغمبروں کو بھی بلا کر ان کی امت کے متعلق دریافت کیا جائے گا کہ تمہاری امتوں نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا اسی کو شہادت کہا گیا ہے تاکہ مجرموں پر فرد جرم قائم کی جاسکے اس شہادت کی تفصیل ہم دوسرے پارے میں عرض کرچکے ہیں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پیغمبروں کے ساتھ ان کی امت کے بھی بعض مخلفین کا بیان لیا جائے۔ اسی سلسلے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی اپنی امت کے احوال دریافت کئے جائیں گے۔ یہاں امت سے مراد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت دعوت ہے۔ حضرت سعید بن مسیب کا ایک قول قرطبی نے نقل کیا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تمام امت ہر روز صبح شام آپ کے روبرو پیش کی جاتی ہے اس لئے آپ ان کی علامات سے قیامت کے دن ان کو پہچان لیں گے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ اے عبداللہ سورة نساء سنائو انہوں نے پڑھنا شروع کیا جب اس آیت پر پہونچے تو کہا عبداللہ بس کرو۔ عبداللہ ابن مسعود نے دیکھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس قدر آنسو بہہ رہے تھے کہ رخسار مبارک اور قریش مبارک سب تر تھی اس موقع پر آپ نے فرمایا یا رب شھدت علی من انابین اظھرھم فکیف بمن لم ارہ یعنی اے رب میں ان پرتو شہادت دے سکتا ہوں جن میں میں موجود ہوں لیکن جن کو میں نے نہیں دیکھا ان پر شہادت کیوں کر دوں گا۔ (ابن ابی حاتم) حضرت سعید بن مسیب کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سب کو شناخت کرلیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امت اجابت کی طرح امت دعوت پر بھی کوئی خاص علامت ہو۔ امت اجابت کی شناخت کا ذکر تو احادیث میں آتا ہے کہ آثار وضو سے پہچانے جائیں گی اسی طرح ہوسکتا ہے کہ امت اجابت پر بھی کوئی علامت لگا دی جائے۔ دوسری آیت میں خود ہی اس وقت کی حالت کا جواب دیا ہے کہ اس دن کا فر اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نافرمان زمین کا پیوند بننے کی تمنا کرتے ہوں گے یعنی مرجائیں اور زمین میں دفن ہوجائیں۔ جیسا کہ قتادہ اور ابو عبیدہ نے کہا ہے اور بعضوں نے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ ہم قبروں سے اٹھائے نہ جاتے کلبی نے کہا جب جانوروں کو حکم دیا جائے گا کہ مٹی ہو جائو اس وقت کافر یہ تمنا کریں گے کہ ہم بھی مٹی ہوجائے۔ بات نہ چھپانے کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ کسی وقت جھوٹ بھی بولیں جیسے عذاب کو دیکھ کر کہیں گے واللہ ربنا ماکنا مشرکین لیکن آخر میں اپنے کفر کا اعتراف کریں گے اور کوئی بات حضرت حق سے چھپا نہ سکیں گے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی ہر امت اور عہد کے لوگوں کا احوال اس وقت کے پیغمبر سے اور معتبر نیک بختوں سے بیان کروائیں گے منکروں کا انکار اور اطاعت والوں کی اطاعت بیان ہوگی تب منکر آرزو کریں گے کہ ہم انسان نہ ہوتے مٹی میں مل کر خاک ہوجاتے۔ (موضح القرآن) شاہ صاحب نے جو کچھ فرمایا ہے اس کے بعد شناخت اور عدم شناخت کی کوئی بحث باقی نہیں رہتی۔ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آیت ان تعذبھم فانھم عبادک کی تلاوت کرتے وقت جو کچھ فرمایا تھا وہ انشاء اللہ سورة مائدہ کے آخر میں عرض کیا جائیگا چونکہ اوپر کی آیت میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم ہوا تھا اور عبادت میں سب سے اہم نماز ہے اس لئے نماز اور اس کے متعلق بعض مسائل کا ذکر فرمایا اور یہ واقعہ ہے کہ اگر نماز کو اس کی تمام رعایتوں کے ساتھ ادا کیا جائے تو وہ بیشمار اخلاقی امراض کا علاج ہے اور بیشمار مفاسد سے وہ نماز روکنے والی ہے۔ اس لئے درمیان میں نماز کا ذکر کردیا گیا تاکہ جن امراض کا اوپر ذکر کیا گیا تھا خواہ وہ حقوق الہیہ ہوں یا حق العباد، ان کا علاج بھی معلوم ہوجائے اور ہم یہ بات اس سورت کی تمہید میں عرض کرچکے تھے کہ جنگ بدر کے بعد اسلام کی ترقی کا ایک خاص دور شروع ہوچکا تھا اس کے بعد غزوہ احد کے باعث نئی نئی ضرورتیں پیش آگئی تھیں اور نئے نئے سوال سامنے آگئے تھے نیز تجارت اور جہاد کی وجہ سے مختلف مقامات میں سفر کی ضرورت بھی پیش آتی تھی اس لئے اس سورت میں ان تمام حالات کے پیش نظر مختلف مسائل مذکور ہوئے ہیں چناچہ نماز کے ساتھ تمیم کا ذکر فرمانا ان ہی ضروریات کو پورا کرنا ہے جو مسلمانوں کو بعض غزوات میں پیش آئی تھیں۔ (تسہیل)