Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 62

سورة النساء

فَکَیۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡکَ یَحۡلِفُوۡنَ ٭ۖ بِاللّٰہِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًا وَّ تَوۡفِیۡقًا ﴿۶۲﴾

So how [will it be] when disaster strikes them because of what their hands have put forth and then they come to you swearing by Allah , "We intended nothing but good conduct and accommodation."

پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتُوت کے باعث کوئی مصیبت آ پڑتی ہے تو پھر یہ آپ کے پاس آ کر اللہ تعالٰی کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَكَيْفَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ... How then, when a catastrophe befalls them because of what their hands have sent forth, meaning, how about it if they feel compelled to join you because of disasters that they suffer due to their sins, then they will be in need of you. ... ثُمَّ جَأوُوكَ يَحْلِفُونَ بِاللّهِ إِنْ أَرَدْنَا إِلاَّ إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا They come to you swearing by Allah, "We meant no more than goodwill and conciliation!" apologizing and swearing that they only sought goodwill and reconciliation when they referred to other than the Prophet for judgment, not that they believe in such alternative judgment, as they claim. Allah describes these people to us further in His statement, فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَى أَن تُصِيبَنَا دَايِرَةٌ فَعَسَى اللّهُ أَن يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِهِ فَيُصْبِحُواْ عَلَى مَا أَسَرُّواْ فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ And you see those in whose hearts there is a disease, they hurry to their friendship, saying: "We fear lest some misfortune of a disaster may befall us." Perhaps Allah may bring a victory or a decision according to His will. Then they will become regretful for what they have been keeping as a secret in themselves. (5:52) At-Tabarani recorded that Ibn Abbas said, "Abu Barzah Al-Aslami used to be a soothsayer who judged between the Jews in their disputes. When some Muslims came to him to judge between them, Allah sent down, أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ امَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ (Have you not seen those (hypocrites) who claim that they believe in that which has been sent down to you, and that which was sent down before you), (4:60) until, إِنْ أَرَدْنَا إِلاَّ إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا ("We meant no more than goodwill and conciliation!"). (4:62) Allah then said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

62۔ 1 یعنی جب اپنے اس کرتوت کی وجہ سے عتاب الٰہی کا شکار ہو کر مصیبتوں میں پھنستے ہیں تو پھر آکر کہتے ہیں کہ کسی دوسری جگہ جانے سے مقصد یہ نہیں تھا کہ وہاں سے ہم فیصلہ کروائیں یا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ ہمیں انصاف ملے گا بلکہ مقصد صلح اور ملاپ کرانا تھا۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٤] منافق کے قتل کے بعد اس کے وارث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور سیدنا عمر (رض) سے قصاص کا مقدمہ کردیا اور مقدمہ کی بنیاد یہ بنائی کہ ہمارا ارادہ آپ کے فیصلہ کے خلاف سیدنا عمر (رض) سے فیصلہ لینا ہرگز نہ تھا بلکہ ہمارا ارادہ یہ تھا کہ سیدنا عمر (رض) ان دونوں فریقین کے درمیان صلح اور سمجھوتہ کرا دیں گے اور اپنے اس بیان پر اللہ کی قسمیں بھی کھانے لگے کہ فی الواقع ہمارا سیدنا عمر (رض) کے پاس جانے کا مقصد سمجھوتہ ہی تھا۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یعنی جب اپنے کرتوتوں کے سبب عتاب الٰہی کا شکار ہو کر مصیبتوں میں پھنستے ہیں تو پھر آکر کہتے ہیں کہ کسی دوسری جگہ جانے سے مقصد یہ نہیں تھا کہ وہاں سے ہم فیصلہ کروائیں گے، یا آپ سے زیادہ ہمیں وہاں سے انصاف ملے گا، بلکہ مقصد صلح اور ملاپ کرانا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگرچہ ہم ان کے دلوں کے بھیدوں سے واقف ہیں، جس پر ہم انھیں جزا دیں گے، لیکن اے پیغمبر ! آپ ان کے ظاہر کو سامنے رکھتے ہوئے در گزر ہی فرمائیے اور وعظ و نصیحت اور قول بلیغ کے ذریعے سے ان کے باطن کی اصلاح کی کوشش جاری رکھیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسے دشمنوں کی سازش کو عفو و درگزر، وعظ و نصیحت اور قول بلیغ ہی کے ذریعے سے ناکام بنانے کی سعی کی جانی چاہیے۔ یاد رہے ! یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب منافق مغلوب تھے اور اسلام اور اس کے احکام اور عدالتیں غالب تھیں اور منافق دوسرے لوگوں سے فیصلہ کرانے پر پشیمان ہو کر عذر معذرتیں کرتے تھے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

The third verse (62) exposes as false all interpretations advanced by those who bypassed decisions given under God-given laws only to turn to decisions which were contrary to it. Their plea, in gist, was that they did not bypass the Messenger of Allah for any reason of lack of belief in the truth of his station and mission and that they did not prefer the decision of others over his decisions as if it was the ultimate Truth. Rather, they claimed, there were expedient considerations which led them to taking this course of action. For instance, one such expedient consideration was that, a case going to the Messenger of Allah would have meant that the decision would have been strictly legal, true and just - devoid of any options of mutual patch-up and tolerance (of &other& factors not necessarily just): Naturally, articu¬lating deceptively, they said they took the case somewhere else so that something good shows up for both parties through a mutual conciliation. As evident, they came up with all these interpretations only when their secret was revealed and their wickedness and hypocrisy came out in the open and their man was killed at the hands of Sayyidna ` Umar (رض) . In short, it was a consequence of their evil deed which brought upon them the disgrace or disaster of an accomplice killed, following which they started making statements on oath with all sorts of excuses and interpretations. Allah Almighty, in this verse, makes it very clear that these people are liars in their oaths and interpretations and that everything they have done, they have done because of their disbelief and hypocrisy. Their pattern of behaviour is that, when called to come to the Book of Allah and to His Messenger, they would turn away, all averse - which is no hallmark of a true Muslim. But they, as the verse says, would become all alert once they get into trouble as a result of their own evil deeds - like when the exposure of their breach of trust or hypocrisy brings shame on them, or when it leads to the killing of their man - then, they come to the Messenger swearing by Allah that they meant nothing but good. That they took their case to somebody else was not because they did not believe in the Prophet, or that they doubted the veracity of his judgment, but that their aim was to promote good and. bring about harmony between the disputing parties.

تیسری آیت میں ان تاویلات باطلہ کا غلط ہونا واضح کیا ہے جو شرعی فیصلہ کو چھوڑ کر غیر شرعی فیصلہ کی طرف رجوع ہونے والوں کی طرف سے پیش کی جاتی تھیں، جن کا خلاصہ یہ تھا کہ ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ناحق سمجھ کر نہیں چھوڑا اور دوسروں کے فیصلوں کو اس کے بالمقابل حق سمجھ کر اختیار نہیں کیا بلکہ بعض مصالح کی بناء پر ایسا کیا، مثلاً یہ مصلحت تھی کہ آپ کے پاس تو قانونی فیصلہ ہوتا، جس میں باہمی مصالحت اور رواداری کا کوئی سوال نہیں تھا، ہم مقدمہ کو دوسری جگہ اس لئے لے گئے کہ ان دونوں فریق کے لئے کوئی بھلائی کی صورت نکل آئے اور دونوں میں مصالحت کرا دی جائے۔ یہ تاویلیں ان لوگوں نے اس وقت پیش کیں جب کہ ان کا راز کھل گیا اور خباثت اور نفاق ظاہر ہوگیا ان کا آدمی حضرت عمر کے ہاتھ سے مارا گیا، غرض جب ان کے اعمال بد کے نتیجہ میں ان پر رسوائی یا قتل کی مصیبت پڑگئی، تو قسمیں کھا کر تاویلیں کرنے لگے، حق تعالیٰ نے اس آیت میں واضح فرما دیا کہ یہ اپنی قسموں اور تاویلوں میں جھوٹے ہیں انہوں نے جو کچھ کیا اپنے کفر و نفاق کی وجہ سے کیا ہے، ارشاد فرمایا کہ جب ان پر اپنے اعمال بد کے نتیجہ میں کوئی مصیبت پڑجاتی ہے، مثلاً خیانت و نفاق ظاہر ہو کر رسوائی ہوگئی، یا اس کے نتیجہ میں قتل کا واقعہ پیش آیا، تو اس وقت یہ لوگ آپ کے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سوا کسی دوسرے کے پاس مقدمہ لے جانے کا سبب کفر یا حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ کو ناحق سمجھنا نہیں تھا، بلکہ ہمارا مقصد احسان و توفیق تھا، یعنی فریقین کے لئے کوئی بھلائی اور مصالحت کی راہ تلاش کرنا مقصود تھا۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَكَيْفَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِيْبَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْہِمْ ثُمَّ جَاۗءُوْكَ يَحْلِفُوْنَ۝ ٠ۤۖ بِاللہِ اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّآ اِحْسَانًا وَّتَوْفِيْقًا۝ ٦٢ كيف كَيْفَ : لفظ يسأل به عمّا يصحّ أن يقال فيه : شبيه وغیر شبيه، كالأبيض والأسود، والصحیح والسّقيم، ولهذا لا يصحّ أن يقال في اللہ عزّ وجلّ : كيف، وقد يعبّر بِكَيْفَ عن المسئول عنه كالأسود والأبيض، فإنّا نسمّيه كيف، وكلّ ما أخبر اللہ تعالیٰ بلفظة كَيْفَ عن نفسه فهو استخبار علی طریق التنبيه للمخاطب، أو توبیخا نحو : كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] ، كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] ، كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] ، انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] ، فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] ، أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] . ( ک ی ف ) کیف ( اسم استفہام ) اس چیز کی حالت در یافت کرنے کے لئے آتا ہے جس پر کہ شیبہ اور غیر شیبہ کا لفظ بولا جاسکتا ہو جیسے ابیض ( سفید اسود ( سیاہی ) صحیح ( تندرست ) سقیم ( بیمار ) وغیرہ ۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے متعلق اس کا استعمال جائز نہیں ہے اور کبھی اس چیز پر بھی کیف کا اطلاق کردیتے ہیں جس کے متعلق سوال کر نا ہو مثلا کہا جاتا ہے کہ اسود اور ابیض مقولہ کیف سے ہیں اور جہاں کہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے متعلق کیف کا لفظ استعمال کیا ہے تو وہ تنبیہ یا قو بیخ کے طور پر مخاطب سے استخبار کے لئے لایا گیا ہے جیسے فرمایا : ۔ كَيْفَ تَكْفُرُونَ بِاللَّهِ [ البقرة/ 28] کافرو تم خدا سے کیونکر منکر ہوسکتے ہو ۔ كَيْفَ يَهْدِي اللَّهُ [ آل عمران/ 86] خدا ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے ۔ كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِينَ عَهْدٌ [ التوبة/ 7] بھلا مشرکوں کے لئے کیونکر قائم رہ سکتا ہے ۔ انْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثالَ [ الإسراء/ 48] دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائیں ۔ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ [ العنکبوت/ 20] اور دیکھو کہ اس نے کس طرح خلقت کو پہلی مر تبہ پیدا کیا ۔ أَوَلَمْ يَرَوْا كَيْفَ يُبْدِئُ اللَّهُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ [ العنکبوت/ 19] کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا کسی طرح خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا پھر کس طرح اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے ۔ ( صاب) مُصِيبَةُ والمُصِيبَةُ أصلها في الرّمية، ثم اختصّت بالنّائبة نحو : أَوَلَمَّا أَصابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْها[ آل عمران/ 165] ، فَكَيْفَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌالنساء/ 62] ، وَما أَصابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 166] ، وَما أَصابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِما كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ [ الشوری/ 30] ، وأصاب : جاء في الخیر والشّرّ. مصیبۃ اصل میں تو اس تیر کو کہتے ہیں جو ٹھیک نشانہ پر جا کر بیٹھ جائے اس کے بعد عرف میں ہر حادثہ اور واقعہ کے ساتھ یہ لفظ مخصوص ہوگیا ہے قرآن پاک میں ہے : ۔ أَوَلَمَّا أَصابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْها[ آل عمران/ 165]( بھلا یہ ) کیا بات ہے کہ ) جب ( احد کے دن کفار کے ہاتھ سے ) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ ( جنگ بدر میں ) اس سے دو چند مصیبت تمہارے ہاتھ سے انہیں پہنچ چکی تھی ۔ فَكَيْفَ إِذا أَصابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ [ النساء/ 62] تو کیسی ( ندامت کی بات ہے کہ جب ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے ۔ وَما أَصابَكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعانِ [ آل عمران/ 166] اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مابین مقابلہ کے دن واقع ہوئی ۔ وَما أَصابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِما كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ [ الشوری/ 30] اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے اعمال سے ۔ اور اصاب ( افعال ) کا لفظ خیرو شر دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ ثمَ ثُمَّ حرف عطف يقتضي تأخر ما بعده عمّا قبله، إمّا تأخيرا بالذات، أو بالمرتبة، أو بالوضع حسبما ذکر في ( قبل) وفي (أول) . قال تعالی: أَثُمَّ إِذا ما وَقَعَ آمَنْتُمْ بِهِ آلْآنَ وَقَدْ كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا، [يونس/ 51- 52] ، وقال عزّ وجلّ : ثُمَّ عَفَوْنا عَنْكُمْ مِنْ بَعْدِ ذلِكَ [ البقرة/ 52] ، وأشباهه . وثُمَامَة : شجر، وثَمَّتِ الشاة : إذا رعتها ، نحو : شجّرت : إذا رعت الشجر، ثم يقال في غيرها من النبات . وثَمَمْتُ الشیء : جمعته، ومنه قيل : كنّا أَهْلَ ثُمِّهِ ورُمِّهِ ، والثُّمَّة : جمعة من حشیش . و : ثَمَّ إشارة إلى المتبعّد من المکان، و «هنالک» للتقرب، وهما ظرفان في الأصل، وقوله تعالی: وَإِذا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ [ الإنسان/ 20] فهو في موضع المفعول ث م م ) ثم یہ حرف عطف ہے اور پہلی چیز سے دوسری کے متاخر ہونے دلالت کرتا ہے خواہ یہ تاخیر بالذات ہو یا باعتبار مرتبہ اور یا باعتبار وضع کے ہو جیسا کہ قبل اور اول کی بحث میں بیان ہپوچکا ہے ۔ قرآن میں ہے :۔ أَثُمَّ إِذا ما وَقَعَ آمَنْتُمْ بِهِ آلْآنَ وَقَدْ كُنْتُمْ بِهِ تَسْتَعْجِلُونَ ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا، [يونس/ 51- 52] کیا جب وہ آو اقع ہوگا تب اس پر ایمان لاؤگے ( اس وقت کہا جائے گا کہ ) اور اب ( ایمان لائے ) اس کے لئے تم جلدی مچایا کرتے تھے ۔ ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا، [يونس/ 51- 52] پھر ظالم لوگوں سے کہا جائے گا ۔ ثُمَّ عَفَوْنا عَنْكُمْ مِنْ بَعْدِ ذلِكَ [ البقرة/ 52] پھر اس کے بعد ہم نے تم کو معاف کردیا ۔ ثمامۃ ایک قسم کی گھاس جو نہایت چھوٹی ہوتی ہے اور ثمت الشاۃ کے اصل معنی بکری کے ثمامۃ گھاس چرنا کے ہیں جیسے درخت چرنے کے لئے شجرت کا محاورہ استعمال ہوتا ہے پھر ہر قسم کی گھاس چرنے پر یہ لفظ بولا جاتا ہے ثمت الشئی اس چیز کو اکٹھا اور دوست کیا ۔ اسی سے محاورہ ہے ۔ کنا اھل ثمہ ورمہ ہم اس کی اصلاح و مرمت کے اہل تھے ۔ الثمۃ خشک گھاس کا مٹھا ۔ ثم ۔ ( وہاں ) اسم اشارہ بعید کے لئے آتا ہے اور اس کے بالمقابل ھنالک اسم اشارہ قریب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور یہ دونوں لفظ دراصل اسم ظرف اور آیت کریمہ :۔ وَإِذا رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ [ الإنسان/ 20] اور بہشت میں ( جہاں آنکھ اٹھاؤ گے کثرت سے نعمت ۔۔۔ دیکھوگے ۔ میں ثم مفعول واقع ہوا ہے ۔ جاء جاء يجيء ومَجِيئا، والمجیء کالإتيان، لکن المجیء أعمّ ، لأنّ الإتيان مجیء بسهولة، والإتيان قد يقال باعتبار القصد وإن لم يكن منه الحصول، والمجیء يقال اعتبارا بالحصول، ويقال : جاء في الأعيان والمعاني، ولما يكون مجيئه بذاته وبأمره، ولمن قصد مکانا أو عملا أو زمانا، قال اللہ عزّ وجلّ : وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] ، ( ج ی ء ) جاء ( ض ) جاء يجيء و مجيئا والمجیء کالاتیانکے ہم معنی ہے جس کے معنی آنا کے ہیں لیکن مجی کا لفظ اتیان سے زیادہ عام ہے کیونکہ اتیان کا لفط خاص کر کسی چیز کے بسہولت آنے پر بولا جاتا ہے نیز اتبان کے معنی کسی کام مقصد اور ارادہ کرنا بھی آجاتے ہیں گو اس کا حصول نہ ہو ۔ لیکن مجییء کا لفظ اس وقت بولا جائیگا جب وہ کام واقعہ میں حاصل بھی ہوچکا ہو نیز جاء کے معنی مطلق کسی چیز کی آمد کے ہوتے ہیں ۔ خواہ وہ آمد بالذات ہو یا بلا مر اور پھر یہ لفظ اعیان واعراض دونوں کے متعلق استعمال ہوتا ہے ۔ اور اس شخص کے لئے بھی بولا جاتا ہے جو کسی جگہ یا کام یا وقت کا قصد کرے قرآن میں ہے :َ وَجاءَ مِنْ أَقْصَا الْمَدِينَةِ رَجُلٌ يَسْعى [يس/ 20] اور شہر کے پرلے کنارے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آپہنچا ۔ حلف الحِلْف : العهد بين القوم، والمُحَالَفَة : المعاهدة، وجعلت للملازمة التي تکون بمعاهدة، وفلان حَلِفُ کرم، وحَلِيف کرم، والأحلاف جمع حلیف، قال الشاعر وهو زهير : تدارکتما الأحلاف قد ثلّ عرشها أي : كاد يزول استقامة أمورها، وعرش الرجل : قوام أمره . والحَلِفُ أصله الیمین الذي يأخذ بعضهم من بعض بها العهد، ثمّ عبّر به عن کلّ يمين، قال اللہ تعالی: وَلا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَهِينٍ [ القلم/ 10] ، أي : مکثار للحلف، وقال تعالی: يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ ما قالوا[ التوبة/ 74] ، يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ وَما هُمْ مِنْكُمْ [ التوبة/ 56] ، يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ [ التوبة/ 62] ، وشیء مُحْلِف : يحمل الإنسان علی الحلف، وكميت محلف :إذا کان يشكّ في كميتته وشقرته، فيحلف واحد أنه كميت، وآخر أنه أشقر . والمُحَالَفَة : أن يحلف کلّ للآخر، ثم جعلت عبارة عن الملازمة مجرّدا، فقیل : حِلْفُ فلان وحَلِيفُه، وقال صلّى اللہ عليه وسلم : «لا حِلْفَ في الإسلام» . وفلان حَلِيف اللسان، أي : حدیده، كأنه يحالف الکلام فلا يتباطأ عنه، وحلیف الفصاحة . ( ح ل ف ) الحلف عہدو پیمانہ جو لوگوں کے درمیان ہو المحالفۃ ( مفاعلہ ) معاہدہ یعنی باہم عہدو پیمان کرنے کو کہتے ہیں پھر محالفت سے لزوم کے معنی لے کر کہا جاتا ہے یعنی وہ کرم سے جدا نہین ہوتا ۔ حلیف جس کے ساتھ عہد و پیمان کیا گیا ہو اس کی جمع احلاف ( حلفاء آتی ہے ۔ شاعر نے کہا ہے ( طویل ) تم نے ان حلیفوں کردیا جن کے پائے ثبات مترلزل ہوچکے تھے ۔ الحلف اصل میں اس قسم کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ ایک دوسرے سے عہد و پیمان کای جائے اس کے بعد عام قسم کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے قرآن میں ہے ۔ وَلا تُطِعْ كُلَّ حَلَّافٍ مَهِينٍ [ القلم/ 10] اور کسی ایسے شخس کے کہے میں نہ آجانا جو بہت قسمیں کھانے والا ذلیل اوقات ہے ۔ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ ما قالوا[ التوبة/ 74] خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے ( تو کچھ ) انہیں کہا يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ وَما هُمْ مِنْكُمْ [ التوبة/ 56] اور خدا کی قسمیں کھاتے میں کہ وہ تم میں سے ہیں حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں ۔ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ [ التوبة/ 62] یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کردیں ۔ ( مشکوک چیز ) جس کے ثابت کرنے کے لئے قسم کی ضرورت ہو ۔ کمیت محلف گھوڑا جس کے کمیت اور اشقر ہونے میں شک ہو ایک قسم کھائے کہ یہ کمیت ہے اور دوسرا حلف اٹھائے کہ یہ اشقر یعنی سرخ ہے المحالفۃ کے اصل معنی تو ایک دوسرے سامنے قسم کھانا کے ہیں اس سے یہ لفظ محض لزوم کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے اور جو کسی سے الگ نہ ہوتا ہو اسے اس کا حلف یا حلیف کہا جاتا ہے حدیث میں ہے اسلام میں زمانہ جاہلیت ایسے معاہدے نہیں ہیں ۔ فلان حلیف اللسان فلاں چرب زبان ہے کو یا اس نے بولنے سے عہد کر رکھا ہے اور اس سے ایک لمحہ نہیں رکتا حلیف الفصا حۃ وہ صحیح ہے ۔ احسان الإحسان فوق العدل، وذاک أنّ العدل هو أن يعطي ما عليه، ويأخذ أقلّ مما له، والإحسان أن يعطي أكثر مما عليه، ويأخذ أقلّ ممّا له «3» . فالإحسان زائد علی العدل، فتحرّي العدل واجب، وتحرّي الإحسان ندب وتطوّع، وعلی هذا قوله تعالی: وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] ، وقوله عزّ وجلّ : وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] ، ولذلک عظّم اللہ تعالیٰ ثواب المحسنین، فقال تعالی: وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] ، وقال تعالی:إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] ، وقال تعالی: ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] ، لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] . ( ح س ن ) الحسن الاحسان ( افعال ) احسان عدل سے بڑھ کر چیز ہے کیونکہ دوسرے کا حق پورا دا کرنا اور اپنا حق پورا لے لینے کا نام عدل ہے لیکن احسان یہ ہے کہ دوسروں کو ان کے حق سے زیادہ دیا جائے اور اپنے حق سے کم لیا جائے لہذا احسان کا درجہ عدل سے بڑھ کر ہے ۔ اور انسان پر عدل و انصاف سے کام لینا تو واجب اور فرض ہے مگر احسان مندوب ہے ۔ اسی بنا پر فرمایا :۔ وَمَنْ أَحْسَنُ دِيناً مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ [ النساء/ 125] اور اس شخص سے کس کا دین اچھا ہوسکتا ہے جس نے حکم خدا قبول کیا اور وہ نیکو کا ر بھی ہے ۔ اور فرمایا ؛ وَأَداءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسانٍ [ البقرة/ 178] اور پسندیدہ طریق سے ( قرار داد کی ) پیروی ( یعنی مطالبہ خونہار ) کرنا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محسنین کے لئے بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے ۔ چناچہ فرمایا :۔ وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ [ العنکبوت/ 69] اور خدا تو نیکو کاروں کے ساتھ ہے ۔ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ [ البقرة/ 195] بیشک خدا نیکی کرنیوالوں کو دوست رکھتا ہے ۔ ما عَلَى الْمُحْسِنِينَ مِنْ سَبِيلٍ [ التوبة/ 91] نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے ۔ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هذِهِ الدُّنْيا حَسَنَةٌ [ النحل/ 30] جنہوں نے اس دنیا میں نیکی کی ان کے لئے بھلائی ہے ۔ وفق الوِفْقُ : المطابقة بين الشّيئين . قال تعالی: جَزاءً وِفاقاً [ النبأ/ 26] والتَّوْفِيقُ نحوه لكنه يختصّ في التّعارف بالخیر دون الشّرّ. قال تعالی: وَما تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ [هود/ 88] ( و ف ق ) الوفق ۔ دو چیزوں کے درمیان مطابقت اور ہم آہنگی ہونے کو کہتے ہیں قرآن نے اعمال کے نتائج کو ۔۔۔ جَزاءً وِفاقاً [ النبأ/ 26] ( یہ ) بدلہ ہے پور اپورا ۔ توفقل یہ متعدی ہے اور عرف میں یہ خبر کے ساتھ مخصوص ہوچکا ہے ( یعنی اسباب کا مقصد کے مطابق مہیا کردینا ) اور شر میں استعمال نہیں ہوتا ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ وَما تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ [هود/ 88] اور مجھے توفیق کا ملنا خدا ہی کے فضل سے ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٢) اور جس وقت منافقین سے جن کی حضرت زبیر بن العوام (رض) کے ساتھ لڑائی تھی حکم خداوندی اور حکم رسول کی طرف آنے کو کہا جاتا تھا، تو آپ کے حکم سے اعراض کرتے اور منہ بنانے لگتے ہیں، سو ان کا اس وقت کیا حشر ہوگا، جب اس کی پاداش میں گرفتار ہوں گے اور پھر یہ لوگ آپ کے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں کہ ہمارا مقصد صرف بھلائی تھا۔ ان کے دلوں میں جو نفاق ہے اللہ تعالیٰ اس کو اچھی طرح جانتے ہیں اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے کہ جب منافقین نے مسجد ضرار بنائی اور پھر ان کو اس کی سزا بھگتنی پڑی تو ان میں سے بعض قسمیں کھاتے ہوئے آئے کہ ہمارا مقصود تو صرف مسلمانوں کی مدد اور آپ کے دین کی موافقت تھی اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٢ (فَکَیْفَ اِذَآ اَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌم بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ ) وہ چیختے چلاتے آئے کہ عمر نے ہمارا آدمی مار ڈالا ‘ ہمیں اس کا قصاص دلایا جائے۔ (ثُمَّ جَآءُ وْکَ یَحْلِفُوْنَق باللّٰہِ ) (اِنْ اَرَدْنَآ اِلَّآ اِحْسَانًا وَّتَوْفِیْقًا ) ہم تو عمر (رض) کے پاس محض اس لیے گئے تھے کہ کوئی مصالحت اور راضی نامہ ہوجائے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

93. This may mean that when Muslims become aware of their hypocritical activities and they feel afraid of being caught, censured, and eventually punished, the hypocrites resort to every stratagem, including oaths, in order to assure people that they are true believers.

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :93 غالباً اس سے مراد یہ ہے کہ جب ان کی اس منافقانہ حرکت کا مسلمانوں کو علم ہو جاتا ہے اور انہیں خوف ہوتا ہے کہ اب باز پرس ہوگی اور سزا ملے گی اس وقت قسمیں کھا کھا کر اپنے ایمان کا یقین دلانے لگتے ہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

43: یعنی جب ان کا یہ معاملہ تمام لوگوں پر کھل جاتا ہے کہ یہ آنحضرتﷺ کے فیصلے کے بجائے یا اس کے خلاف کسی اور کو اپنا فیصل بنارہے ہیں اور اس کے نتیجے میں انہیں ملامت یا کسی سزا کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ جھوٹی تاویل کرتے ہیں کہ ہم اس شخص کے پاس عدالتی فیصلہ کرانے نہیں گئے تھے ؛ بلکہ مصالحت کا کوئی راستہ نکالنا چاہتے تھے جس سے جھگڑے کے بجائے میل ملاپ کی کوئی صورت پیدا ہوجائے۔

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:62) ان اردنا۔ میں ان نافیہ ہے۔ توفیقا۔ توفیق کے معنی ہیں دو چیزوں میں مطابقت کرنا۔ اس لئے عرف عام میں تقدیر کے موافق اچھے اعمال سرزد ہونے کا نام توفیق ہے۔ یہاں مراد ٓسلح باہمی اور ملاپ کے ہیں ۔ باہمی مصالحت۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 آیت کا پہلا حصہ جملہ معترضہ ہے اور ثم جاعوت سے پہلی آیت کے ساتھ مربوط ہے ان آیات کی دوسری شان نزول یہ بھی بیان کی گئے ی ہے کہ مدینے میں ایک یہودی اور ایک مسلمان (منافق) کی کسی معاملہ میں نزاع ہوگئی یہو دی کو معلوم تھا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حق فیصلہ کریں گے اور رعایت سے کام نہیں لیں گے اس لیے منافق سے کہا کہ چلو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فیصلہ کرواتے ہیں منانفق کہا تم یہودیوں کے عالم رکعب بن اشرف کے پاس چلیں آخر دونوں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیان سن کر یہودی کو سچاقرار دیا۔ منا فق نے باہر آکر کہا کہ اچھا اب عمر (رض) کے پاس چلیں یہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے مدینے میں فیصلہ کرتے تھے۔ منافق نے غالبا یہ خیلا کیا ہوگا کہ حضرت عمر (رض) حمیت مذہبی کے باعث یہو دی کے مقابلے میں اس کی رعایت کریں گے چناچہ وہ دونوں حضرت عمر (رض) کے پاس آئے یہودی نے سارا ماجرا کہہ سنایا کہ حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے آئے ہیں اور انہوں نے مجھے سچا قرار دیا ہے حضرت عمر (رض) یہ سن کر گھر کے اندر تشریف لے گئے اور تلوار لاکر منافق کا سرقلم کردیا اور فرمایا جو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ پسند نہ کر اس کے بارے میں میرا فیصلہ یہ ہے منا فق کے ورثا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور حضرت عمر (رض) پر قتل کا دعویٰ کردیا اور قسمیں کھا نے لگے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس تو اس لیے گئے تھے کہ شاید باہم صلح کرادیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمای کہ میں یہ یقین نہیں کرسکتا کہ عمر (رض) کسی مسلمان کو ناحق قتل کردیں اس پر یہ آیات نازل ہوئیں اور حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) نے آنحضرت کو بتایا کہ عمر (رض) نے حق ارباطل کے درمیان فیصلہ کردیا ہے۔ چناچہ اس روز سے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر (رض) کو فارق کا لقب عطا فرمایا۔ (قرطبی۔ (فتح الباری باب سکرلانہار) اختلاف الفاظ کے ساتھ یہ قصہ معالم اور ابن کثیر میں بھی مذکور ہے مگر ابن کثیر میں فاروقی کی وجہ تسمیہ والا حصہ ساقط ہے۔ ( م۔ ع)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ ہونے کے ساتھ منافقین کی دوغلی پالیسی سے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آگاہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ آپ ان کو وعظ و نصیحت جاری رکھیں۔ اس فرمان میں آپ کو خبر دی جارہی ہے کہ آج تو منافقین اپنی سازشوں اور شرارتوں پر اتراتے اور دندناتے پھرتے ہیں۔ لیکن عنقریب وقت آنے والا ہے کہ جب ان کے کرتوت سامنے آئیں گے تو یہ اپنے کیے پر پچھتاتے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر حلف اٹھاتے ہوئے یہ کہہ کر اپنی صفائی پیش کریں گے کہ اس کام میں ہماری یہ مصلحت تھی اور یہ کام ہم نے فلاں وجہ سے کیا ہے۔ ہمارا مقصد صرف اور صرف باہمی یگانگت اور موافقت پیدا کرکے اچھا ماحول پیدا کرنا تھا چناچہ اس پیش گوئی اور خوشخبری کا ایک ایک حرف غزوۂ تبوک کے موقعہ پر پورا ہوا۔ جب آپ اس غزوہ سے واپس لوٹے تو پیچھے رہ جانے والے منافقین نے آپ کی خدمت میں آ آکر معذرتیں پیش کیں۔ لیکن آپ ان کے جواب میں خاموشی اور درگزر سے کام لیتے رہے۔ مزید گیا رھویں پارے کی ابتدائی آیات کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں۔ منافقین کی غلط بیانی اور ملمع سازی پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ جو کچھ اپنے دلوں میں چھپائے بیٹھے ہیں۔ زبان سے اس کے خلاف دعویٰ کرتے ہیں۔ وہ اپنی باتیں دنیا والوں سے تو چھپا سکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپا سکتے وہ تو ان کے دلوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔ لہٰذا میرے محبوب ! ان سے الجھنے کے بجائے اعراض فرمائیں، مسلسل نصیحت کرتے رہیں اور ان کو سمجھانے کے لیے اچھا انداز اور مؤثر الفاظ استعمال فرمائیں۔ اس میں آپ کی ذات گرامی کے حوالے سے ہر مبلغ کے لیے اصول ہے کہ وہ مخالفوں اور منافقوں کے ساتھ الجھنے کے بجائے بہتر رویہ اختیار کرے جس کا نتیجہ دنیا اور آخرت میں یقیناً بہتر ہوگا۔ حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کی کہ آپ اجازت دیں تو میں عبداللہ بن ابی منافق کا سر قلم کر دوں لیکن آپ نے منع فرمایا اور کہا لوگ کہیں گے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ساتھیوں کو قتل کراتا ہے۔ [ رواہ البخاری : تفسیر القرآن، قولہ یقولون لئن رجعنا إلی المدینۃ ] تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ ابن ابی اپنے اصل کردار کی وجہ سے اس قدر لوگوں کی نظروں میں حقیر ہوا کہ کوئی اس کے پروپیگنڈہ کی طرف توجہ نہیں کرتا تھا۔ اور اس طرح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ درست ثابت ہوا۔ مسائل ١۔ مصیبت کے وقت منافق قسم اٹھا کر مسلمانوں کی رفاقت کا دعو ٰی کرتا ہے۔ ٢۔ منافقوں سے چشم پوشی کر کے انہیں اچھی نصیحت کرتے رہنا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن منافقین کی چالیں : ١۔ دوغلی زبان اور دوغلا کردار۔ (البقرۃ : ١٣، ١٤) ٢۔ اسلام کا دعویٰ مگر طاغوت کے فیصلہ پر خوش ہونا۔ (النساء : ٦٠) ٣۔ مسلمانوں کو تکلیف پہنچا کر صفائی کی قسمیں اٹھانا۔ (النساء : ٦٢) ٤۔ بغیر تحقیق کے افواہیں اڑانا۔ (النساء : ٨٢) ٥۔ صرف دنیا کی کامیابی کی چاہت رکھنا۔ (النساء : ١٤١) ٦۔ زبان اور دل میں تضاد ہونا۔ (آل عمران : ١٦٧) وعظ و نصیحت کا انداز کیا ہونا چاہیے ؟ ١۔ نرم انداز میں گفتگو کرنی چاہیے۔ (طٰہٰ : ٤٤) ٢۔ وعظ میں مؤثر انداز اختیار کرنے کا حکم (النساء : ٦٣) ٣۔ جھگڑے کی بجائے احسن انداز اختیار کرنا۔ (النحل : ١٢٥) ٤۔ حکمت کے ساتھ موثر دعوت دینا چاہیے۔ (النحل : ١٢٥) ٥۔ بصیرت کے ساتھ دعوت دینا چاہیے۔ (یوسف : ١٠٨)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

منافق مذکور کے قبیلہ والوں کی غلط تاویلیں : صاحب روح المعانی نے بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ جس شخص کو حضرت عمر (رض) نے قتل کردیا تھا اس کے ورثاء خون کا بدلہ طلب کرنے کے لیے حاضر ہوگئے اور جب ان کے سامنے یہ بات لائی گئی کہ تمہارا آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ سن کر دو بارہ فیصلہ کرانے کے لیے اپنے ساتھی یعنی یہودی کو حضرت عمر (رض) کے پاس کیوں لے گیا اور حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے سے کیوں ناراض ہوا جو سراسر کفر ہے تو وہ اپنے آدمی کے اس عمل کی تاویلیں کرنے لگے۔ ان کی ان باتوں کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا (فَکَیْفَ اِذَآ اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ ) (الایۃ) کہ ان لوگوں کا کیا حال ہوگا کہ جب ان کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی مصیبت پہنچ جائے تو آپ کے پاس (مدد طلب کرنے کے لیے) آئیں اور قسمیں کھا کھا کر کہیں کہ بشر والے معاملے میں ہم لوگوں کا مقصد اچھی صورت نکالنا اور باہمی رضا مندی کے ذریعہ موافقت پیدا کرنا تھا۔ دل سے ہم کسی غیر کے فیصلے پر راضی نہ تھے۔ جو کچھ تھا اوپر اوپر سے تھا اس میں ان لوگوں کے لیے وعید ہے اور یہ بتایا ہے کہ وہ عذر پیش کریں گے لیکن عذر کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ان کا نفاق کھل کر سامنے آگیا لہٰذا کوئی معذرت قابل قبول نہ ہوگی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

45 مُصِیبَۃٌ سے قتل کا مذکورہ واقعہ مراد ہے اور مَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ سے حضرت رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ پر اعتماد نہ کرنا اور اسے کافی نہ سمجھنا مراد ہے کیونکہ مصیبت قتل ان پر اسی بناء پر آئی کہ انہوں نے دربار نبوی کا فیصلہ تسلیم نہ کیا۔ جب حضرت عمر (رض) نے بشر منافق کو قتل کردیا تو اس کے ورثاء نے حضرت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پہنچ کر مقتول کے خون بہا کا مطالبہ کیا اور لگے قسمیں کھانے کہ ہم نے آپ کا فیصلہ رد نہیں کیا تھا بلکہ حضرت عمر کے پاس جانے سے ہماری نیت یہ تھی کہ وہ ہمارے درمیان صلح کرا دیں۔ اُوْلئِکَ یَعْلَمُ اللہُ مَا فِیْ قُلُوْبِھِمْ الخ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتیں جانتا ہے اور اسے معلوم ہے کہ وہ منافق ہیں اور آپ کے سامنے جھوٹی قسمیں کھا رے ہیں اور صریح غلط بیانی کر رہے ہیں اس لیے آپ ان کے بیانات سے اعراض کریں اور ان کا خون بہا وغیرہ کا کوئی مطالبہ قبول نہ کریں۔ اور انہیں نہایت ہی صاف صاف الفاظ اور مؤثر انداز میں منافقت سے باز آجانے کی تلقین فرمائیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 2 پھر اس وقت ان کا کیا حال ہوتا ہے اور ان پر کیسی بنتی ہے جب ان کے ان اعمال اور حرکات کی بدولت جو یہ پہلے کرچکے ہوتے ہیں ان پر کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو پھر یہ آپ کی خدمت میں اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہوئے حاضر ہوتے ہیں کہ ہم دوسری جگہ گئے تھے تو خدا کی قسم ہمارا سوائے اس کے اور کچھ مقصد نہ تھا کہ آپس میں کوئی بھلائی کی صورت نکل آئے اور باہم موافقت اور میل ملاپ ہوجائے۔ (تیسیر) حضر ت شاہ صاحب فرماتے ہیں مدینے میں ایک یہودی اور ایک منافق کہ ظاہر میں مسلمان تھا جھگڑنے لگے یہودی نے کہا کہ چل محمد کے پاس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منافق نے کہا کہ چل کعب بن اشرف پاس وہ یہود کا سردار تھا آخر کار حضرت پاس …آئے حضرت نے یہودی کا حق ثابت کیا منافق نے باہر نکل کر کہا کہ چلو عمر کے پاس یہ حضرت کے حکم سے مدینہ میں قضا کرتے تھے منافق نے جانا کہ حمیت اسلام کریں گے جب گئے ان کے آگے یہودی نے کہہ دیا کہ حضرت پاس ہم جا چکے ہیں وہ مجھ کو سچا کرچکے ہیں۔ حضرت عمر نے منافق کی گردن ماری اس کے وارث حضرت کے پاس دعویٰ خون کو آئے اور قسمیں کھانے لگے کہ ہم گئے تھے اس واسطے کہ شاید صلح کروا دیں تب یہ آیتیں نازل ہوئیں اور ان کا نام فاروق فرمایا۔ (موضح القرآن) مطلب یہ ہے کہ جب ان منافقین کی ان حرکات ناشائستہ کے باعث ان پر کوئی مصیبت نازل ہوجاتی ہے خواہ وہ مصیبت ان کے راز کا افشا ہوجانا ہو یا ان کی خیانت کا کھل جانا ہو یا حضرت عمر کا قتل کردینا ہو یا کوئی اور مصیبت ہو جو منافقوں پر نازل ہوتی رہتی ہے تو پھر یہ آپ کی خدمت میں قسمیں کھا کھا کر صفائی دیتے ہوئے آتے ہیں اور یوں کہتے ہیں کہ ہمارا طاغوت کے پاس جانا اور کعب بن اشرف یا ابوبرزہ کاہن کے پاس جانا اس غرض سے نہ تھا کہ ہم ان کو حق پر جانتے تھے یا آپ کے فیصلے کو ناحق سمجھتے تھے بلکہ ان کے پا س جانے کا صرف مقصد یہ تھا کہ وہ باہم فریقین کو کچھ دبا کر باہم فیصلہ کرا دیں اور آپس میں مصالحت کرا دیں کیونکہ حاکم تو صاحب حق سے رعایت کرنے کو نہیں کہہ سکتا اور ہم یہ چاہتے تھے کہ فریقین کی بات رہ جائے اور آپس میں مخالفت نہ پڑے اور باہم میل ملاپ ہوجائے یہ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ کچھ صاحب حق کو دبایا جائے اور کچھ مدعا علیہ کو اور باہم ایک سمجھوتہ اور راضی نامہ کرا دیا جائے ہم تو اس لئے ان کے پاس گئے تھے اور حاشاد کلا آپ کو ناحق پر سمجھ کر ا ن کے پاس ہرگز نہیں گئے تھے منافقین کے سابقہ اعمال کا مطلب یہ ہے کہ رسول سے پہلو تہی کر کے دوسروں سے فیصلہ کرانا چاہتے ہیں اور مصیبت سے مراد عام ہے جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں صفائی دینے کا مطلب بھی ظاہر ہے۔ حضرت شاہ صاحب کی عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اعمال سابقہ سے مراد حضرت عمر کے پاس جانا اور مصیبت سے مراد حضرت عمر کا قتل کردینا ہے۔ اس تقریر پر صفائی کا مطلب یہ ہوگا کہ فیصلہ تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کا صحیح تھا اور ہم اس کے صحیح ہونے پر ایمان رکھتے ہیں۔ حضرت عمر کے پاس تو ہم صرف اس لئے گئے تھے کہ وہ آپ کے فیصلے کو جو یہودی کے حق میں تھا اس طرح اجراء کردیں کہ یہودی کو کچھ سمجھا بجھا کر اس سے اس کے حق میں کمی کرا دیں اور آپس میں دونوں کو گلے لگا دیں اور باہم میل ملاپ کرا دیں خدانخواستہ ہمارا یہ مطلب نہ تھا کہ ہم آپ کے فیصلے کو غلط سمجھتے تھے۔ غرض ! شان نزول کی کوئی روایت اختیار کی جائے ہر روایت کی بنا پر آیت کی تفسیر ہوسکتی ہے۔ (واللہ اعلم) آگے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اس بیان اور اس توجیہہ کی جو انہوں نے قسمیں کھا کر کی تھیں اس کی تکذیب اور تغلیط کرتا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ (تسہیل)