Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 65

سورة النساء

فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَ یُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا ﴿۶۵﴾

But no, by your Lord, they will not [truly] believe until they make you, [O Muhammad], judge concerning that over which they dispute among themselves and then find within themselves no discomfort from what you have judged and submit in [full, willing] submission.

سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے ، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کرلیں

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

فَلَ وَرَبِّكَ لاَ يُوْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ... But no, by your Lord, they can have no faith, until they make you judge in all disputes between them, Allah swears by His Glorious, Most Honorable Self, that no one shall attain faith until he refers to the Messenger for judgment in all matters. Thereafter, whatever the Messenger commands, is the plain truth that must be submitted to inwardly and outwardly. Allah said, ... ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا and find in themselves no resistance against your decisions, and accept (them) with full submission. meaning: they adhere to your judgment, and thus do not feel any hesitation over your decision, and they submit to it inwardly and outwardly. They submit to the Prophet's decision with total submission without any rejection, denial or dispute. Al-Bukhari recorded that Urwah said, "Az-Zubayr quarreled with a man about a stream which both of them used for irrigation. Allah's Messenger said to Az-Zubayr, اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلى جَارِك O Zubayr! Irrigate (your garden) first, and then let the water flow to your neighbor. The Ansari became angry and said, `O Allah's Messenger! Is it because he is your cousin?' On that, the face of Allah's Messenger changed color (because of anger) and said, اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلى جَارِك Irrigate (your garden), O Zubayr, and then withhold the water until it reaches the walls (surrounding the palms). Then, release the water to your neighbor. So, Allah's Messenger gave Az-Zubayr his full right when the Ansari made him angry. Before that, Allah's Messenger had given a generous judgment, beneficial for Az-Zubayr and the Ansari. Az-Zubayr said, `I think the following verse was revealed concerning that case, فَلَ وَرَبِّكَ لاَ يُوْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ But no, by your Lord, they can have no faith, until they make you (O Muhammad) judge in all disputes between them."' Another Reason In his Tafsir, Al-Hafiz Abu Ishaq Ibrahim bin Abdur-Rahman bin Ibrahim bin Duhaym recorded that Damrah narrated that; two men took their dispute to the Prophet, and he gave a judgment to the benefit of whoever among them had the right. The person who lost the dispute said, "I do not agree." The other person asked him, "What do you want then?" He said, "Let us go to Abu Bakr As-Siddiq." They went to Abu Bakr and the person who won the dispute said, "We went to the Prophet with our dispute and he issued a decision in my favor." Abu Bakr said, "Then the decision is that which the Messenger of Allah issued." The person who lost the dispute still rejected the decision and said, "Let us go to Umar bin Al-Khattab." When they went to Umar, the person who won the dispute said, "We took our dispute to the Prophet and he decided in my favor, but this man refused to submit to the decision." Umar bin Al-Khattab asked the second man and he concurred. Umar went to his house and emerged from it holding aloft his sword. He struck the head of the man who rejected the Prophet's decision with the sword and killed him. Consequently, Allah revealed, فَلَ وَرَبِّكَ لاَ يُوْمِنُونَ (But no, by your Lord, they can have no faith).

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

65۔ 1 اس آیت کا شان نزول ایک یہودی اور مسلمان کا واقعہ عموماً بیان کیا جاتا ہے جو بارگاہ رسالت سے فیصلے کے باوجود حضرت عمر (رض) سے فیصلہ کروانے گیا جس پر حضرت عمر (رض) نے اس مسلمان کا سر قلم کردیا۔ لیکن سنداً یہ واقعہ صحیح نہیں ہے جیسا کہ ابن کثیر نے بھی وضاحت کی، صحیح واقعہ یہ ہے جو اس آیت کے نزول کا سبب ہے کہ حضرت زبیر (رض) کا جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پھوپھی زاد تھے۔ اور ایک آدمی کا کھیت کو سیراب کرنے والے (نالے) کے پانی پر جھگڑا ہوگیا۔ معاملہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچا آپ نے صورت حال کا جائزہ لے کر جو فیصلہ دیا تو وہ اتفاق سے حضرت زبیر (رض) کے حق میں تھا، جس پر دوسرے آدمی نے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فیصلہ اس لئے کیا ہے کہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پھوپھی زاد ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کسی بات یا فیصلے سے اختلاف تو کجا دل میں انقباض بھی محسوس کرنا ایمان کے منافی ہے۔ یہ آیت منکریں حدیث کے لئے لمحہ فکریہ ہے

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٧] یہ سابقہ آیات کا تتمہ ہے جس میں ایک مستقل قانون دیا گیا ہے جو صرف مقدمہ کے منافق کے لیے ہی نہیں بلکہ ساری امت کے لیے ہے اور قیامت تک کے لیے ہے اور وہ یہ ہے کہ جو مسلمان آپ کے ارشاد، حکم یا فیصلہ کو بدل و جان قبول کرلینے اور اس کے آگے سر تسلیم خم کردینے پر آمادہ نہیں ہوتا وہ سرے سے مسلمان ہی نہیں ہوسکتا۔ اور آپ کے ارشادات، احکام اور فیصلے سب کچھ کتب احادیث میں مذکور ہوچکے ہیں۔ اب جو شخص ان کے مقابلہ میں کسی اور شخص، عالم، پیر یا امام کے قول کو ترجیح دے گا وہ بھی اس حکم میں داخل ہے۔ یہ آیت بھی امت کے تمام اختلافات اور جھگڑوں کا فیصلہ کرنے میں ہماری رہنما اور کسوٹی ہے۔ اس آیت سے یہ نتیجہ بھی نکلتا ہے کہ کتاب و سنت کی موجودگی میں قیاس کرنا حرام ہے۔ اس مضمون کو خود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان الفاظ میں بیان فرمایا & کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اپنی خواہشات کو اس چیز کے تابع نہ بنا دے جو میں لے کر آیا ہو۔ & (شرح السنۃ بحوالہ مشکوٰۃ، کتاب الاعتصام بالکتاب والسنۃ فصل ثانی) اور بالخصوص اس آیت کا شان نزول کتب احادیث میں درج ذیل مذکور ہے : اختلافات کے خاتمہ کا واحد حل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کا جواب :۔ سیدنا عروہ بن زبیر (رض) روایت کرتے ہیں کہ زبیر (رض) (میرے باپ) اور ایک انصاری میں حرہ میں واقع پانی کی نالی پر جھگڑا ہوا۔ نبی اکرم نے زبیر (رض) کو کہا & تم اپنے درختوں کو پانی پلا لو پھر اسے اپنے ہمسایہ کے باغ میں جانے دو ۔ & یہ سن کر وہ انصاری کہنے لگا & کیوں نہیں آخر زبیر (رض) آپ کی پھوپھی کا بیٹا جو ہوا۔ & اس پر آپ کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ نے زبیر (رض) کو کہا & زبیر ! اپنے کھیت کو پانی پلاؤ اور جب تک پانی منڈیروں تک نہ پہنچ جائے اس کے لیے پانی نہ چھوڑو۔ & یعنی جب انصاری نے آپ کو غصہ دلایا تو پھر آپ نے زبیر کو اس کا پورا حق دلایا۔ جبکہ آپ کے پہلے حکم میں دونوں کی رعایت ملحوظ تھی۔ زبیر (رض) کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی مقدمہ میں نازل ہوئی (بخاری، کتاب التفسیر و کتاب المساقاۃ، باب سکر الانہار۔۔ مسلم، کتاب الفضائل باب وجوب اتباعہ )

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ ۔۔ : اس آیت کی شان نزول میں ایک مسلمان اور یہودی کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فیصلہ کروانے کے بعد عمر (رض) سے فیصلہ کروانے گیا تھا، جس پر عمر (رض) نے اس مسلمان کی گردن اڑا دی تھی۔ مگر یہ واقعہ سنداً صحیح نہیں ہے، جیسا کہ حافظ ابن کثیر (رض) نے بھی وضاحت کی ہے، ویسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحابہ کے اصرار کے باوجود منافقوں کی بڑی بڑی گستاخیوں پر نہ انھیں قتل کرتے، نہ قتل کی اجازت دیتے اور وجہ یہ بتاتے تھے کہ لوگ کہیں گے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے ہی ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔ [ مسلم، الزکوٰۃ، باب ذکر الخوارج : ١٠٦٣ ] 2 عبداللہ بن زبیر (رض) راوی ہیں کہ زبیر (رض) اور ایک انصاری کے درمیان حرہ کی نالیوں میں جھگڑا ہوگیا۔ زبیر (رض) کی زمین اوپر کی جانب تھی، جہاں سے پانی آتا تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر (رض) سے انصاری کے حق میں رعایت کی سفارش کی اور فرمایا : ” اپنے باغ کو پانی دے کر اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو ۔ “ اس پر انصاری نے کہا : ” یہ اس لیے کہ زبیر (t) آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ “ مطلب یہ تھا کہ آپ نے اس رشتے کی رعایت کی ہے، اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف محسوس ہوئی اور فرمایا : ” زبیر ! اپنے باغ کو اتناپانی دو کہ منڈیروں تک چڑھ جائے، پھر اس کے لیے چھوڑ دو ، پہلے آپ نے انصاری کی سفارش کی تھی، اب جب اس نے آپ کو غصہ دلایا تو آپ نے سفارش کے بجائے فیصلہ کیا اور زبیر (رض) کو ان کا پورا حق دلوایا۔ زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ آیت : ( فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ ) اس بارے میں نازل ہوئی۔ [ مسلم، الفضائل، باب وجوب اتباعہ، ص : ٢٣٥٧۔ بخاری : ٤٥٨٥ ] حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا ۔۔ : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر مومن ہونے کی تین شرطیں بیان کی ہیں، پہلی یہ کہ کسی بھی جھگڑے کا فیصلہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کسی اور کے پاس نہ لے جایا جائے۔ [ دیکھیے النور : ٥١۔ الأحزاب : ٣٦ ] دوسری یہ کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے پر دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہ کی جائے اور تیسری یہ کہ صاف اعلان کر کے اس فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر عمل کیا جائے۔ اب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد قرآن و سنت سے فیصلہ طلب کیا جائے گا۔ اس سے منکرین حدیث کے ایمان کی حقیقت پوری طرح کھل جاتی ہے۔ یہ آیت منکرین حدیث کے علاوہ ان لوگوں کے لیے بھی لمحہ فکر یہ ہے جن کے امام یا پیر کے خلاف کوئی آیت یا حدیث آجائے تو وہ صرف دل میں تنگی ہی محسوس نہیں کرتے بلکہ ماننے سے صاف انکار کردیتے ہیں کہ کیا ہمارے امام کو اس آیت و حدیث کا علم نہ تھا، یا پھر اس کی تاویل کرنے یا اسے منسوخ قرار دینے کے لیے اپنی ساری قوت صرف کردیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت کے صریح الفاظ کے مطابق نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلے کے خلاف دل میں ذرہ بھر تنگی یا نا پسندیدگی محسوس کی جائے تو یہ ایمان کے منافی ہے۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Not accepting the decision of the Holy Prophet is Kufr This verse, while projecting a powerful view of the highly exalted station of the noble Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) presents a very explicit statement concerning the need to obey him, something conclusively proved by so many verses of the Holy Qur&an. The verse opens with the ultimate oath, |"by your Lord|", following which Allah Almighty proclaims that nobody can become a Muslim unless he accepts the verdict of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) willingly, calmly and fully to the extent that there remains even in his heart not the slightest strain because of this verdict. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is himself the exerciser of God-given authority over his community in his capacity as the Messenger of Allah and he is thus responsible for adjudicating in every dispute that may arise. The authority he excercises in making decisions certainly does not depend upon his being made a judge by some litigants. We should also keep in mind that Muslims have been asked to make the prophet their judge because people are generally not satisfied with judgments delivered by someone appointed by the government as compared with an arbitrator they themselves choose to have. But, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، is not only the ruler of a state, he is a Messenger of Allah, protected against sins by Him, and sent as mercy for the worlds, and also a loving father for his community - so, the compassionate instruction given is that, whenever a situation of conflict arises in social or religious matters, the contesting parties are duty-bound to make the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the arbitrator and judge and have him give the final verdict, and once the verdict has been given by him, let them all accept it whole-heartedly and act accordingly. The Authority of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) extends to all times Commentators say that acting in accordance with this command of the Holy Qur&n is not restricted to the blessed times when he graced this mortal world. After him, the verdict of the sacred Law left by him, is nothing but his own verdict. Therefore, the rule reigns supreme right through the Last Day, the rule that guidance should be sought by-turning directly to the Holy Prophet LI during his blessed life-time, and after him, one must turn to his Shari&ah which is, in all reality, a return to him, may Allah bless him forever and ever. Some problems and their solutions 1. To begin with, as already stated earlier, the rule is that a person who is not satisfied with the decision given by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، in every dispute and in every problem or issue, is not a Muslim. As we already know, this was the reason why Sayyidna ` Umar (رض) killed the person who was not satisfied with the decision given by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) following which he carried the case to Sayyidna ` Umar for an alternate judgment. The heirs of the person killed went to the court of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) with a suit against Sayy¬idna ` Umar (رض) accusing him of having killed a Muslim without a valid legal reason. It is important to note here, and this has not been taken up earlier, that the following words, when the case was presented before the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم ، came out spontaneously from his blessed lips: |" مَا کنت أظن أن عمر یجترء علٰی قتل رجل مؤمن |" (that is, I never thought ` Umar will ever dare killing a believing Muslim). This proves that the higher authority, when approached with an appeal against the decision of a lower authority, should not take sides with his subor¬dinate authority, but should come up with a decision based on justice and fairness alone, as it has been illustrated above where the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) expressed his displeasure over the decision of Sayyidna ` Umar (رض) - before the revelation of the verse had a bearing on this incident. Once this verse was revealed, the reality came out in the open that the person killed was not a believing Muslim as confirmed by this verse. 2. The second ruling which emerges from the expression: فیما شَجَرَ (in the disputes which arise) settles that it is not restricted to dealings and rights alone; it covers articles of belief, ideas and many other theo¬retical problems. (at-Bahr al-Muhit) Therefore, given such a wide spectrum if intellectual and social activity, it is not unlikely that things could go to the undesirable limits of mutual differences in views and ways when confronting a certain problem. When this does happen, it is the duty of a Muslim not to continue mutual disputation, instead of which, both parties should revert back to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، and when he is not with them personally, they must revert back to his Shari’ ah to search for the solution of their problems. 3. The third rule of self-assessment that we find from here is: Doing something, which was provenly said or done by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، with a heavy heart is a sign of weakness in faith (&Iman). For example, there are occasions when the Shari’ ah has allowed the performance of salah by making tayammum in place of the regular wudu with water; now, if a person feels uneasy and not so satisfied with the idea of making the symbolic tayammum in place of a regular wuclu he would very much like to do, then, he should not take this attitude of his as a sign of taqwa or piety, instead, he should take it to be caused by some spiritual sickness. Who can be more muttaqi, more God-fearing than the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? If the form and condition in which he allowed people to perform their prayers while sitting - and he himself performed it while sitting - does not find favour with a person looking for the satisfaction of his heart, and he elects to undergo unbearable hardship by insisting to stand and perform his prayer in that position, then, he better be sure that there is some sickness is his heart. However, if a person, whose pain or discomfort or need is not that acute, elects not to use the leave (rukhsah) given to him by the Shari’ ah and, instead of that, chooses to take the path of high determination.(` azimah) which is, then, correct in accordance with the very teaching of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . But feeling any strain in utilizing the leaves (rukhsah) granted by the Shari’ ah as some sort of absolute rule is no taqwa. It is for this reason that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said: یُحِبُّ اَن تُؤتٰی اِنَ اللہ تعالیٰ یُحِبُّ اَن تُؤتٰی رُخصہ کَمَا یُحِبُّ اَن تُؤتٰی عَزَایٔمُہ (that is, &the way Allah Almighty is pleased with what is done with high determination, so is He pleased with what is done by using leaves).& The best method of general ` Ibadat (acts of worship), Adhkar اَذکَار (plural of dhikr: the remembrance of Allah), Aurad اوراد (plural of wird وِرد : self-allotted voluntary recitations, made privately in specified hours of the morning or night), Durud (prayer to Allah that peace and blessings be on the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and Tasbih (glorification of Allah) is no different than what used to be the routine of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) himself and which was, after him, followed consistently by his noble Companions, may Allah be pleased with them all. All Muslims must, as a matter or personal obligation, find these out from the authentic and sound narrations of hadith so that they can make them an integral part of their daily routine of life. Special Note Details given above clearly show that the Holy Prophet was not only a reformer and moral leader but was a just ruler as well, an authority of such class and majesty that his judgment was declared to be the very criterion of belief and disbelief, a &distinguishing feature between &Iman and Kufr, as evident from the incident relating to Bishr, the hypocrite. To make this prophetic station more explicit, Allah Almighty has, at many places in His sacred Book made the obedience of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) mandatory along with His own due obedience incumbent on all believers. Thus, the Qur&an says: أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّ‌سُولَ (Obey Allah and obey the Messenger - 3:32; 3:132; 4:59; 5:92; 24:54; 47:33; 64:12). Then, elsewhere it says: مَّن يُطِعِ الرَّ‌سُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ (Whoever obeys the Messenger, he really obeys Allah - 4:80).1 1. For a detailed treatment of this aspect, please see |"The Authority of Sunnah|" by Muhammad Taqi Usmani. A little deliberation in these verses will unfold the radiant gran¬deur of his authority, a practical demonstration of which became manifest when Allah Almighty sent to him His Law so that he can decide cases in accordance with it. Therefore, it was said: إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَ‌اكَ اللَّـهُ ۚ (that is, &We revealed to you the Book with the truth so that you may judge between people by what Allah makes you see.& ) (4:105)

خلاصہ تفسیر پھر قسم ہے آپ کے رب کی یہ لوگ (جو صرف زبانی ایمان ظاہر کرتے پھرتے ہیں عند اللہ) ایمان دار نہ ہوں گے جب تک یہ بات نہ ہو کہ ان کے آپس میں جھگڑا واقع ہو، اس میں یہ لوگ آپ سے (اور آپ نہ ہوں تو آپ کی شریعت سے) فیصلہ کرا دیں پھر (جب آپ تصفیہ کردیں تو) اس آپ کے تصفیہ سے اپنے دلوں میں (انکار کی) تنگی نہ پاویں اور (اس فیصلہ کو) پورا پورا (ظاہری سے باطن سے) تسلیم کرلیں۔ معارف و مسائل رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ کو تسلیم نہ کرنا کفر ہے :۔ اس آیت میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عظمت اور علو مرتبت کے اظہار کے ساتھ آپ کی اطاعت جو بیشمار آیات قرآنیہ سے ثابت ہے اس کی واضح تشریح بیان فرمائی ہے اس آیت میں قسم کھا کر حق تعالیٰ شانہ نے فرمایا کہ کوئی آدمی اس وقت تک مومن یا مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک وہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ٹھنڈے دل سے پوری طرح تسلیم نہ کرے کہ اس کے دل میں بھی اس فیصلہ سے کوئی تنگی نہ پائی جائے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بحیثیت رسول خود امت کے حاکم اور ہر پیش آنے والے جھگڑے کا فیصلہ کرنے کے ذمہ دار ہیں، آپ کی حکومت اور آپ کا فیصلہ کسی کے حکم بنانے پر موقوف نہیں پھر اس آیت میں مسلمانوں کو حکم بنانے کی تلقین اس لئے فرمائی گئی ہے کہ حکومت کے مقرر کردہ حاکم اور اس کے فیصلہ پر تو بہت سے لوگوں کو اطمینان نہیں ہوا کرتا، جیسا اپنے مقررہ کردہ ثالث یا حکم پر ہوتا ہے، مگر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صرف حاکم نہیں بلکہ رسول معصوم بھی ہیں رحمتہ للعالمین بھی ہیں، امت کے شفیق و مہربان باپ بھی ہیں، اس لئے تعلیم یہ دی گئی کہ جب بھی کسی معاملہ میں یا کسی مسئلہ میں باہم اختلاف کی نوبت آئے تو فریقین کا فرض ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حکم بنا کر اس کا فیصلہ کرائیں اور پھر آپ کے فیصلہ کو دل و جان سے تسلیم کر کے عمل کریں۔ اختلافات میں آپ کو حکم بنانا آپ کے عہد مبارک کے ساتھ مخصوص نہیں :۔ حضرات مفسرین نے فرمایا کہ ارشاد قرآنی پر عمل آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد مبارک کے ساتھ مخصوص نہیں، آپ کے بعد آپ کی شریعت مطہرہ کا فیصلہ خود آپ ہی کا فیصلہ ہے، اس لئے یہ حکم قیامت تک اس طرح جاری ہے کہ آپ کے زمانہ مبارک میں خود بلاواسطہ آپ سے رجوع کیا جائے اور آپ کے بعد آپ کی شریعت کی طرف رجوع کیا جائے جو درحقیقت آپ ہی کی طرف رجوع ہے۔ چند اہم مسائل :۔ اول یہ کہ وہ شخص مسلمان نہیں جو اپنے ہر جھگڑے اور ہر مقدمہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ پر مطمئن نہ ہوا، یہی وجہ ہے کہ حضرت فاروق اعظم نے اس شخص کو قتل کر ڈالا جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ پر راضی نہ ہوا اور پھر اس معاملہ کو حضرت عمر پر دعویٰ کردیا کہ انہوں نے ایک مسلمان کو بلاوجہ قتل کردیا جب یہ استغاثہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ہوا تو بےساختہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان مبارک سے نکلا، ماکنت الظن ان عمر یجتوء علی قتل رجل مومن “ (یعنی مجھے یہ گمان نہ تھا کہ عمر کسی مرد مومن کے قتل کی جرأت کریں گے) اس سے ثابت ہوا کہ حاکم اعلی کے پاس اگر کسی ماتحت حاکم کے فیصلہ کی اپیل کی جائے تو اس کو اپنے حاکم ماتحت کی جانب داری کے بجائے انصاف کا فیصلہ کرنا چاہئے، جیسا اس واقعہ میں آیت نازل ہونے سے پہلے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمر کے فیصلہ پر اظہار ناراضی فرمایا پھر جب یہاں یہ آیت نازل ہوئی تو حقیقت کھل گئ کہ اس آیت کی رو سے وہ شخص مومن ہی نہیں تھا۔ دوسرا مسئلہ اس آیت سے یہ نکلا کہ لفظ فیما شجر صرف معاملات اور حقوق کے ساتھ متعلق نہیں، عقائد اور نظریات اور دوسرے نظری مسائل کو بھی حاوی ہے۔ (بحر محیط) اس لئے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ جب بھی کسی مسئلہ میں باہم اختلاف کی نوبت آئے تو باہم جھگڑتے رہنے کے بجائے دونوں فریق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف اور آپ کے بعد آپ کی شریعت کی طرف رجوع کر کے مسئلہ کا حل تلاش کریں۔ تیسرا مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ جو کام آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے قولاً یا عملاً ثابت ہو، اس کے کرنے سے دل میں تنگی محسس کرنا بھی ضعف ایمان کی علامت ہے، مثلاً جہاں شریعت نے تمیم کر کے نماز پڑھنے کی اجازت دی وہاں تمیم کرنے پر جس شخص کا دل راضی نہ ہو وہ اس کو تقوی نہ سمجھے بلکہ اپنے دل کا روگ سمجھے، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ کوئی متقی نہیں ہوسکتا جس صورت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی اجازت دی اور خود بیٹھ کر ادا فرمائی، اگر کسی شخص کا دل اس پر راضی نہ ہو اور ناقابل براشت محنت و مشقت اٹھا کر کھڑے ہی ہو کر نماز ادا کرے، تو وہ سمجھ لے کہ اس کے دل میں روگ ہے ہاں معمولی ضرورت یا تکلیف کے وقت اگر رخصت کو چھوڑ کر عزیمت پر عمل کرے تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی کی تعلیم کے مطابق درست ہے، مگر مطلقاً شرعی رخصتوں سے تنگدلی محسوس کرنا کوئی تقوی نہیں، اس لئے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” یعنی اللہ تعالیٰ جس طرح عزیمتوں پر عمل کرنے سے خوش ہوتے ہیں اسی طرح رخصتوں پر عمل کرنے کو بھی پسند فرماتے ہیں۔ “ عام عبادات و اذکار و اوراد، درود و تسبیح میں سب سے بہتر طریقہ وہی ہے جو خود رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنا معمول رہا اور آپ کے بعد آپ کے صحابہ کرام کا جس پر عمل رہا، مسلمانوں کا فرض ہے کہ حدیث کی مستند روایات سے اس کو معلوم کر کے اسی کو اپنا لائحہ عمل بنائیں۔ ایک اہم فائدہ :۔ گزشتہ تفصیل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امت کے صرف مصلح اور اخلاقی رہبر ہی نہیں تھے بلکہ وہ ایک عادل حاکم بھی تھے، پھر حاکم بھی اس شان کے کہ آپ کے فیصلہ کو ایمان و کفر کا معیار قرار دیا گیا، جیسا کہ بشر منافق کے واقعہ سے ظاہر ہے، اس چیز کی وضاحت کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی مقدس کتاب میں متعدد مقامات پر اپنی اطاعت کی تعلیم کے ساتھ ساتھ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کو بھی لازمی قرار دیا ہے، ارشاد ہوتا ہے : اطیعواللہ واطیعوا الرسول، ” یعنی تم اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو۔ “ ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا، من یطح الرسول فقد اطاع اللہ، یعنی ” جو رسول “ کی اطاعت کرے اس نے درحقیقت اللہ کی اطاعت کی۔ “ ان آیات میں غور کرنے سے آپ کی شان حاکمیت بھی نکھر کر سامنے آجاتی ہے جس کی عملی صورت ظاہر کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے پاس اپنا قانون بھیجا، تاکہ آپ مقدمات کے فیصلے اسی کے مطابق کرسکیں، چناچہ ارشاد ہوتا ہے : انا انزلنا الیک الکتب بالحق لتحکم بین الناس بما اراک اللہ، یعنی ” ہم نے آپ پر کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا، تاکہ آپ لوگوں کے درمیان میں اس طرح فیصلہ کریں جس طرح اللہ آپ کو دکھلائے اور سمجھائے۔ “

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰي يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَــرَ بَيْنَھُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوْا فِيْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِــيْمًا۝ ٦٥ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] وفي أخری: وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] وقد يجيء «لَا» داخلا علی کلام مثبت، ويكون هو نافیا لکلام محذوف وقد حمل علی ذلک قوله : لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ، فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] ، فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ، فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] لا وأبيك ابنة العامريّ «1» وقد حمل علی ذلک قول عمر رضي اللہ عنه۔ وقد أفطر يوما في رمضان فظنّ أنّ الشمس قد غربت ثم طلعت۔: لا، نقضيه ما تجانفنا لإثم فيه، وذلک أنّ قائلا قال له قد أثمنا فقال لا، نقضيه . فقوله : «لَا» ردّ لکلامه قد أثمنا، ثم استأنف فقال : نقضيه «2» . وقد يكون لَا للنّهي نحو : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] ، وَلا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] ، وعلی هذا النّحو : يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] ، وعلی ذلك : لا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ، وقوله : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] فنفي قيل تقدیره : إنهم لا يعبدون، وعلی هذا : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] وقوله : ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] يصحّ أن يكون «لا تقاتلون» في موضع الحال «3» : ما لکم غير مقاتلین . ويجعل «لَا» مبنيّا مع النّكرة بعده فيقصد به النّفي . نحو : فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] ، [ وقد يكرّر الکلام في المتضادّين ويراد إثبات الأمر فيهما جمیعا . نحو أن يقال : ليس زيد بمقیم ولا ظاعن . أي : يكون تارة كذا وتارة كذا، وقد يقال ذلک ويراد إثبات حالة بينهما . نحو أن يقال : ليس بأبيض ولا أسود ] «4» ، وإنما يراد إثبات حالة أخری له، وقوله : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] . فقد قيل معناه : إنها شرقيّة وغربيّة «5» . وقیل معناه : مصونة عن الإفراط والتّفریط . وقد يذكر «لَا» ويراد به سلب المعنی دون إثبات شيء، ويقال له الاسم غير المحصّل . نحو : لا إنسان، إذا قصدت سلب الإنسانيّة، وعلی هذا قول العامّة : لا حدّ. أي : لا أحد . ( لا ) حرف ) لا ۔ یہ کبھی عدم محض کے لئے آتا ہے ۔ جیسے : زید عالم یعنی جاہل ہے اور کبھی نفی کے لئے ہوتا ہے ۔ اور اسم و فعل دونوں کے ساتھ ازمنہ ثلاثہ میں نفی کے معنی دیتا ہے لیکن جب زمانہ ماضی میں نفی کے لئے ہو تو یا تو اس کے بعد فعل کو ذکر ہی نہیں کیا جاتا مثلا اگر کوئی ھل خرجت کہے تو اس کے جواب میں صرف ، ، لا ، ، کہ دنیا کافی ہے یعنی لاخرجت اور اگر نفی فعل مذکور بھی ہوتا ہے تو شاذو نا در اور وہ بھی اس وقت (11) جب لا اور فعل کے درمیان کوئی فاعل آجائے ۔ جیسے لارجل ضربت ولا امرءۃ (2) جب اس پر دوسرے فعل کا عطف ہو جیسے ۔ لا خرجت ولاضربت اور یا (3) لا مکرر ہو جیسے ؛فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] اس ناعاقبت اندیش نے نہ تو کلام خدا کی نعمتوں کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی ۔ اور یا (4) جملہ دعائیہ میں جیسے لا کان ( خدا کرے ایسا نہ ہو ) لا افلح ( وہ کامیاب نہ ہوا وغیرہ ۔ اور زمانہ مستقبل میں نفی کے متعلق فرمایا : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ ذَرَّةٍ [ سبأ/ 3] ذرہ پھر چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ۔ اور کبھی ، ، لا ، ، کلام مثبت پر داخل ہوتا ہے اور کلام محذوف کی نفی کے لئے آتا ہے ۔ جسیے فرمایا : وَما يَعْزُبُ عَنْ رَبِّكَ مِنْ مِثْقالِ ذَرَّةٍ فِي الْأَرْضِ وَلا فِي السَّماءِ [يونس/ 61] اور تمہارے پروردگار سے ذرہ برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے نہ زمین میں اور نہ آسمان میں ۔۔۔ اور مندرجہ ذیل آیات میں بھی بعض نے لا کو اسی معنی پر حمل کیا ہے ۔ لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيامَةِ [ القیامة/ 1] ہم کو روز قیامت کی قسم ۔ فَلا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشارِقِ [ المعارج/ 40] میں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی قسم کھاتا ہوں ۔ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ [ النساء/ 65] تمہارے پروردگار کی قسم یہ مومن نہیں ہوں گے ۔ فَلا أُقْسِمُ بِمَواقِعِ النُّجُومِ [ الواقعة/ 75] ہمیں تاروں کی منزلوں کی قسم ۔ اور اسی معنی میں شاعر نے کہا ہے ( المتقارب ) (388) لاوابیک ابتہ العامری نہیں تیرے باپ کی قسم اسے عامری کی بیٹی ۔ اور مروی ہے (105) کہ ا یک مرتبہ حضرت عمر نے یہ سمجھ کر کہ سورج غروب ہوگیا ہے روزہ افطار کردیا اس کے بعد سورج نکل آیا تو آپ نے فرمایا : لانقضیہ ماتجالفنا الاثم فیہ اس میں بھی لا کلام محذوف کی نفی کے لئے ہے یعنی اس غلطی پر جب لوگوں نے کہا کہ آپ نے گناہ کا ارتکاب کیا تو اس کی نفی کے لئے انہوں نے لا فرمایا ۔ یعنی ہم گنہگار نہیں ہیں ۔ اس کے بعد تفضیہ سے از سر نو جملہ شروع کیا ہے ۔ اور کبھی یہ لا نہی کے لئے آتا ہے جیسے فرمایا : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ [ الحجرات/ 11] کوئی قوم کسی قوم سے تمسخرنہ کرے ولا تَنابَزُوا بِالْأَلْقابِ [ الحجرات/ 11] اور نہ ایک دوسرے کا برنام رکھو ۔ اور آیت ؛ يا بَنِي آدَمَ لا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطانُ [ الأعراف/ 27] اے بنی آدم دیکھنا کہیں شیطان تمہیں بہکادے ۔ اور نیزلا يَحْطِمَنَّكُمْ سُلَيْمانُ وَجُنُودُهُ [ النمل/ 18] ایسانہ ہو ک سلمان اور اس کے لشکر تم کو کچل ڈالیں ۔۔۔ میں بھی لا نہی کے لئے ہے ۔ اور آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَ بَنِي إِسْرائِيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ [ البقرة/ 83] اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سو اکسی کی عبادت نہ کرنا ۔ کی تفسیر میں بعض نے کہا ہے کہ لانا فیہ یعنی خبر ہے یعنی وہ اللہ کے سو ا کسی کی عبادت نہیں کریں گے ۔ اسی طرح آیت کریمہ : وَإِذْ أَخَذْنا مِيثاقَكُمْ لا تَسْفِكُونَ دِماءَكُمْ [ البقرة/ 84] اور جب ہم نے تم سے عہد لیا ک تم آپس میں کشت وخون نہیں کروگے ۔ میں بھی لانفی پر محمول ہے اور فرمان باری تعالیٰ ما لَكُمْ لا تقاتلُونَ [ النساء/ 75] تمہیں کیا ہوا کہ خدا کی راہ میں نہیں لڑتے ۔ میں ہوسکتا ہے کہ لاتقاتلو ن موضع حال میں ہو ۔ اور معنی ی ہو مالکم غیر مقاتلین یعنی تمہیں کیا ہوا اور آنحالیکہ لڑنے والے نہیں ہو ۔ اور لا کے بعد اسم نکرہ آجائے تو وہ مبنی بر فتحہ ہوتا ہے اور لا لفی کے مبنی دیتا ہے جیسے فرمایا : نہ عورتوں سے اختلاط کرے نہ کوئی برا کام کرے ۔ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ [ البقرة/ 197] اور کبھی دو متضادمعنوں کے درمیان لا مکرر آجاتا ہے ۔ اور دونوں کا اثبات مقصود ہوتا ہے جیسے : لا زید بمقیم ولا ظاعن نہ زید مقیم ہے اور نہ ہی مسافر یعن کبھی مقیم ہے اور کبھی سفر پر اور کبھی متضاد مقصود ہوتا ہے جیسے ۔ لیس ابیض ولااسود سے مراد ہے کہ وہ ان دونوں رنگوں کے درمیان ہے یا پھر یہ بھی ہوسکتا ہے ہے کہ ان دونوں کے علاوہ کوئی تیسرا رنگ ہو چناچہ آیت کریمہ : لا شَرْقِيَّةٍ وَلا غَرْبِيَّةٍ [ النور/ 35] یعنی زیتون کی نہ مشرق کی طرف منسوب اور نہ مغرب کیطر کے بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ وہ بیک وقت مشرقی بھی ہے اور غربی بھی ۔ اور بعض نے اس کا افراط اور تفریط سے محفوظ ہونا مراد لیا ہے ۔ کبھی لا محض سلب کے لئے استعمال ہوتا ہے اور اس سے ایک شے کی نفی کرکے دوسری کا اثبات مقصود نہیں ہوتا مثلا لا انسان کہہ کہ صرف انسانیت کی نفی کا قصد کیا جائے اور عامی محاورہ لاحد بھی اسی معنی پر محمول ہے ۔ حَتَّى حَتَّى حرف يجرّ به تارة كإلى، لکن يدخل الحدّ المذکور بعده في حکم ما قبله، ويعطف به تارة، ويستأنف به تارة، نحو : أكلت السمکة حتی رأسها، ورأسها، ورأسها، قال تعالی: لَيَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] ، وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] . ويدخل علی الفعل المضارع فينصب ويرفع، وفي كلّ واحد وجهان : فأحد وجهي النصب : إلى أن . والثاني : كي . وأحد وجهي الرفع أن يكون الفعل قبله ماضیا، نحو : مشیت حتی أدخل البصرة، أي : مشیت فدخلت البصرة . والثاني : يكون ما بعده حالا، نحو : مرض حتی لا يرجونه، وقد قرئ : حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] ، بالنصب والرفع «1» ، وحمل في كلّ واحدة من القراء تین علی الوجهين . وقیل : إنّ ما بعد «حتی» يقتضي أن يكون بخلاف ما قبله، نحو قوله تعالی: وَلا جُنُباً إِلَّا عابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا [ النساء/ 43] ، وقد يجيء ولا يكون کذلک نحو ما روي : «إنّ اللہ تعالیٰ لا يملّ حتی تملّوا» «2» لم يقصد أن يثبت ملالا لله تعالیٰ بعد ملالهم حتی ٰ ( حرف ) کبھی تو الیٰ کی طرح یہ حرف جر کے طور پر استعمال ہوتا ہے لیکن اس کے مابعد غایت ماقبل کے حکم میں داخل ہوتا ہے اور کبھی عاطفہ ہوتا ہے اور کبھی استیناف کا فائدہ دیتا ہے ۔ جیسے اکلت السملۃ حتی ٰ راسھا ( عاطفہ ) راسھا ( جارہ ) راسھا ( مستانفہ قرآن میں ہے ليَسْجُنُنَّهُ حَتَّى حِينٍ [يوسف/ 35] کچھ عرصہ کے لئے نہیں قید ہی کردیں ۔ وحَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ [ القدر/ 5] طلوع صبح تک ۔۔۔۔ جب یہ فعل مضارع پر داخل ہو تو اس پر رفع اور نصب دونوں جائز ہوتے ہیں اور ان میں ہر ایک کی دو وجہ ہوسکتی ہیں نصب کی صورت میں حتی بمعنی (1) الی آن یا (2) گی ہوتا ہے اور مضارع کے مرفوع ہونے ایک صورت تو یہ ہے کہ حتی سے پہلے فعل ماضی آجائے جیسے ؛۔ مشیت حتی ادخل ۔ البصرۃ ( یعنی میں چلا حتی کہ بصرہ میں داخل ہوا ) دوسری صورت یہ ہے کہ حتیٰ کا مابعد حال واقع ہو جیسے مرض حتی لایرجون و دو بیمار ہوا اس حال میں کہ سب اس سے ناامید ہوگئے ) اور آیت کریمۃ ؛۔ حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ [ البقرة/ 214] یہاں تک کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پکار اٹھے ۔ میں یقول پر رفع اور نصب دونوں منقول ہیں اور ان ہر دو قرآت میں دونوں معنی بیان کئے گئے ہیں ۔ بعض نے کہا ہے کہ حتیٰ کا مابعد اس کے ماقبل کے خلاف ہوتا ہے ۔ جیسا ک قرآن میں ہے : وَلا جُنُباً إِلَّا عابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا [ النساء/ 43] ۔ اور جنابت کی حالت میں بھی نماز کے پاس نہ جاؤ ) جب تک کہ غسل ( نہ ) کرو ۔ ہاں اگر بحالت سفر رستے چلے جارہے ہو اور غسل نہ کرسکو تو تیمم سے نماز پڑھ لو ۔ مگر کبھی اس طرح نہیں بھی ہوتا جیسے مروی ہے ۔ اللہ تعالیٰ لاتمل حتی تملو ا ۔ پس اس حدیث کے یہ معنی نہیں ہیں کہ تمہارے تھک جانے کے بعد ذات باری تعالیٰ بھی تھک جاتی ہے ۔ بلکہ معنی یہ ہیں کہ ذات باری تعالیٰ کو کبھی ملال لاحق نہیں ہوتا ۔ حَكَمُ : المتخصص بذلک، فهو أبلغ . قال اللہ تعالی: أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِي حَكَماً [ الأنعام/ 114] ، وقال عزّ وجلّ : فَابْعَثُوا حَكَماً مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَماً مِنْ أَهْلِها [ النساء/ 35] ، وإنما قال : حَكَماً ولم يقل : حاکما، تنبيها أنّ من شرط الحکمين أن يتولیا الحکم عليهم ولهم حسب ما يستصوبانه من غير مراجعة إليهم في تفصیل ذلك، ويقال الحکم للواحد والجمع، وتحاکمنا إلى الحاکم . قال تعالی: يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ [ النساء/ 60] ، وحَكَّمْتُ فلان اور حکم ( منصف ) ماہر حاکم کو کہاجاتا ہے اس لئے اس میں لفظ حاکم سے زیادہ مبالغہ پایا جاتا ہے قرآن میں ہے ؛أَفَغَيْرَ اللَّهِ أَبْتَغِي حَكَماً [ الأنعام/ 114]( کبو ) کیا میں خدا کے سوا اور منعف تلاش کردں ۔ اور آیت کریمہ :۔ فَابْعَثُوا حَكَماً مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَماً مِنْ أَهْلِها [ النساء/ 35] تو ایک منصف مرد کے خاندان میں سے اور ایک منصف عورت کے خاندان میں سے مقرر کردو ۔ میں حاکما کی بجائے حکما کہنے سے اس امر پر تنبیہ کرنا مقصود ہے کہ دو منصف مقرر کرنے کی شرط یہ ہے کہ وہ دونوں تفصیلات کی طرف مراجعت کئے بغیر اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کریں خواہ وہ فیصلہ فریقین کی مرضی کے موافق یا ہو مخالف اور حنم کا لفظ واحد جمع دونوں پر بولاجاتا ہے ۔ ہم حاکم کے پاس فیصلہ لے گئے قرآن میں ہے ۔ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ [ النساء/ 60] اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ کے پاس لے جاکر فیصلہ کر آئیں ۔ حکمت فلان ۔ کسی کو منصف ان لینا ۔ قرآن میں سے : حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيما شَجَرَ بَيْنَهُمْ [ النساء/ 65] جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنایئں ۔ جب یہ کہا جاتا ہے حکم بالباطل تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس نے باطل کو بطور حکم کے جاری کیا شجر الشَّجَرُ من النّبات : ما له ساق، يقال : شَجَرَةٌ وشَجَرٌ ، نحو : ثمرة وثمر . قال تعالی: إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ [ الفتح/ 18] ، وقال : أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها [ الواقعة/ 72] ، وقال : وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ [ الرحمن/ 6] ، لَآكِلُونَ مِنْ شَجَرٍ مِنْ زَقُّومٍ [ الواقعة/ 52] ، إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ [ الدخان/ 43] . وواد شَجِيرٌ: كثير الشّجر، وهذا الوادي أَشْجَرُ من ذلك، والشَّجَارُ الْمُشَاجَرَةُ ، والتَّشَاجُرُ : المنازعة . قال تعالی: حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيما شَجَرَ بَيْنَهُمْ [ النساء/ 65] . وشَجَرَنِي عنه : صرفني عنه بالشّجار، وفي الحدیث : «فإن اشْتَجَرُوا فالسّلطان وليّ من لا وليّ له» «1» . والشِّجَارُ : خشب الهودج، والْمِشْجَرُ : ما يلقی عليه الثّوب، وشَجَرَهُ بالرّمح أي : طعنه بالرّمح، وذلک أن يطعنه به فيتركه فيه . ( ش ج ر ) الشجر ( درخت وہ نبات جس کا تنہ ہو ۔ واحد شجرۃ جیسے ثمر و ثمرۃ ۔ قرآن میں ہے : إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ [ الفتح/ 18] جب مومن تم سے درخت کے نیچے بیعت کررہے تھے ۔ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَها [ الواقعة/ 72] کیا تم نے اس کے درخت کو پیدا کیا ۔ وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ [ الرحمن/ 6] اور بوٹیاں اور درخت سجدہ کررہے ہیں ۔ مِنْ شَجَرٍ مِنْ زَقُّومٍ [ الواقعة/ 52] ، تھوہر کے درخت سے إِنَّ شَجَرَةَ الزَّقُّومِ [ الدخان/ 43] بلاشبہ تھوہر کا درخت گنجان درختوں والی وادی ۔ بہت درختوں والی جگہ ۔ ھذا الوادی اشجر من ذالک اس وادی میں اس سے زیادہ درخت ہیں ۔ الشجار والمشاجرۃ والتشاجر باہم جھگڑنا اور اختلاف کرنا ۔ قرآن میں ہے ۔ فِيما شَجَرَ بَيْنَهُمْ [ النساء/ 65] اپنے تنازعات میں ۔ شجرنی عنہ مجھے اس سے جھگڑا کرکے دور ہٹا دیا یا روک دیا حدیث میں ہے ۔ (189) فان اشتجروا فالسلطان ولی من لا ولی لہ اگر تنازع ہوجائے تو جس عورت کا ولی نہ ہو بادشاہ اس کا ولی ہے الشجار ۔ ہودہ کی لکڑی چھوٹی پالکی ۔ المشجر لکڑی کا اسٹینڈ جس پر کپڑے رکھے یا پھیلائے جاتے ہیں ۔ شجرہ بالرمح اسے نیزہ مارا یعنی نیزہ مار کر اس میں چھوڑ دیا ۔ بين بَيْن موضوع للخلالة بين الشيئين ووسطهما . قال تعالی: وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] ، يقال : بَانَ كذا أي : انفصل وظهر ما کان مستترا منه، ولمّا اعتبر فيه معنی الانفصال والظهور استعمل في كلّ واحد منفردا، فقیل للبئر البعیدة القعر : بَيُون، لبعد ما بين الشفیر والقعر لانفصال حبلها من يد صاحبها . ( ب ی ن ) البین کے معنی دو چیزوں کا درمیان اور وسط کے ہیں : ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَجَعَلْنا بَيْنَهُما زَرْعاً «1» [ الكهف/ 32] اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی ۔ محاورہ ہے بان کذا کسی چیز کا الگ ہوجانا اور جو کچھ اس کے تحت پوشیدہ ہو ، اس کا ظاہر ہوجانا ۔ چونکہ اس میں ظہور اور انفصال کے معنی ملحوظ ہیں اس لئے یہ کبھی ظہور اور کبھی انفصال کے معنی میں استعمال ہوتا ہے حرج أصل الحَرَج والحراج مجتمع الشيئين، وتصوّر منه ضيق ما بينهما، فقیل للضيّق : حَرَج، وللإثم حَرَج، قال تعالی: ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً [ النساء/ 65] ، وقال عزّ وجلّ : وَما جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ [ الحج/ 78] ، وقد حرج صدره، قال تعالی: يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً حَرَجاً [ الأنعام/ 125] ، وقرئ حرجا «1» ، أي : ضيّقا بکفره، لأنّ الکفر لا يكاد تسکن إليه النفس لکونه اعتقادا عن ظن، وقیل : ضيّق بالإسلام کما قال تعالی: خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وقوله تعالی: فَلا يَكُنْ فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِنْهُ [ الأعراف/ 2] ، قيل : هو نهي، وقیل : هو دعاء، وقیل : هو حکم منه، نحو : أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ [ الشرح/ 1] ، والمُتَحَرِّج والمتحوّب : المتجنّب من الحرج والحوب . ( ح ر ج ) الحرج والحراج ( اسم ) کے اصل معنی اشب کے مجتع یعنی جمع ہونے کی جگہ کو کہتے ہیں ۔ اور جمع ہونے میں چونکہ تنگی کا تصور موجود ہے اسلئے تنگی اور گناہ کو بھی حرج کہاجاتا ہے قرآن میں ہے ؛۔ ثُمَّ لا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجاً [ النساء/ 65] اور ۔۔۔ اپنے دل میں تنگ نہ ہوں ۔ وَما جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ [ الحج/ 78 اور تم پر دین ( کی کسی بات ) میں تنگی نہیں کی ۔ حرج ( س) حرجا ۔ صدرہ ۔ سینہ تنگ ہوجانا ۔ قرآن میں ہے ؛۔ يَجْعَلْ صَدْرَهُ ضَيِّقاً حَرَجاً [ الأنعام/ 125] اس کا سینہ تنگ اور گھٹا ہوا کردیتا ہے ۔ ایک قرآت میں حرجا ہے ۔ یعنی کفر کی وجہ سے اس کا سینہ گھٹا رہتا ہے اس لئے کہ عقیدہ کفر کی بنیاد وظن پر ہوتی ہے جس کی وجہ سے انسان کو کبھی سکون نفس حاصل نہیں ہوتا اور بعض کہتے کہ اسلام کی وجہ سے اس کا سینہ تنگ ہوجاتا ہے جیسا کہ آیت خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] سے مفہوم ہوتا ہے ۔ اور آیت کریمہ ؛۔ فَلا يَكُنْ فِي صَدْرِكَ حَرَجٌ مِنْهُ [ الأعراف/ 2] اس سے تم کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے ۔ میں لایکن فعل نہی کے معنی میں بھی ہوسکتا ہے اور ۔۔۔۔ جملہ دعائیہ بھی ۔ بعض نے اسے جملہ خبر یہ کے معنی میں لیا ہے ۔ جیسا کہ آیت کریمہ ۔ أَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ [ الشرح/ 1] سے مفہوم ہوتا ہے ،۔ المنحرج ( صفت فاعلی ) گناہ اور تنگی سے دور رہنے والا جیسے منحوب ۔ حوب ( یعنی گنا ہ) بچنے والا ۔ قضی الْقَضَاءُ : فصل الأمر قولا کان ذلک أو فعلا، وكلّ واحد منهما علی وجهين : إلهيّ ، وبشريّ. فمن القول الإلهيّ قوله تعالی: وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] أي : أمر بذلک، ( ق ض ی ) القضاء کے معنی قولا یا عملا کیس کام کا فیصلہ کردینے کے ہیں اور قضاء قولی وعملی میں سے ہر ایک کی دو قسمیں ہیں قضا الہیٰ اور قضاء بشری چناچہ قضاء الہیٰ کے متعلق فرمایا : ۔ وَقَضى رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ [ الإسراء/ 23] اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٥) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پروردگار کی قسم ہے یہ لوگ عنداللہ ہرگز ایمان والے نہیں ہوسکتے جب تک کہ یہ لوگ اپنے باہمی جھگڑوں میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فیصلہ نہ کروائیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ کے بعد ان کے دلوں میں کسی قسم کا کوئی شک وشبہ باقی نہ رہے اور اس فیصلے کو پوری طرح دل سے تسلیم کرلیں۔ شان نزول : آیت ”۔ فلا وربک لایؤمنون حتی “۔ (الخ) آئمہ ستہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) سے روایت کیا ہے کہ حضرت زبیر (رض) کا ایک شخص سے حرہ کی زمین کی سیرابی کے بارے میں کچھ جھگڑا ہوا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا، اے زبیر اپنی زمین کو اولا خوب پانی دو اور پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو ، وہ شخص کہنے لگا یہ فیصلہ اس لیے ہے کہ زبیر (رض) آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ یہ سن کر حیرت اور غصہ کے مارے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرۂ انور کا رنگ تبدیل ہوگیا، آپ نے فرمایا زبیر ! پانی دینے کے بعد روکے رکھو یہاں تک کہ پانی ڈولوں پر سے نکلنے لگے، اس کے بعد اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑو، اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صاف طور پر حضرت زبیر (رض) کو اس کا پورا حق دے دیا اور اس سے پہلے ایسی چیز کی طرف اشارہ فرمایا تھا جس میں دونوں کے لیے سہولت تھی، زبیر (رض) فرماتے ہیں یہ آیتیں اسی واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ طبرائی (رح) نے کبیر میں اور حمیدی (رح) نے اپنی مسند میں ام سلمہ (رض) سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر (رض) کا ایک شخص سے جھگڑا ہوا، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زبیر (رض) کے حق میں فیصلہ فرما دیا، وہ شخص کہنے لگا یہ فیصلہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس لیے کیا ہے کہ حضرت زبیر (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پھوپھی زاد بھائی ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ قسم ہے آپ کے پروردگار کی یہ لوگ ایمان دارنہ ہوں گے ، (الخ) نیز ابن ابی حاتم نے سعید بن مسیب (رض) سے فرمان خداوندی (آیت) ” فل اور بک “۔ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت زبیر بن عوام (رض) اور ایک دوسرے شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے، دونوں میں پانی کے بارے میں تنازع تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ فیصلہ فرما دیا کہ پہلے بلندی والی زمین کو پانی دیا جائے اس کے بعد نچلی زمین کو۔ اور ابن ابی حاتم (رح) اور ابن مردویہ (رح) نے اسود سے روایت کیا ہے کہ دو شخص رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جھگڑتے ہوئے آئے، آپ نے دونوں کے درمیان فیصلہ فرما دیا، جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا، وہ کہنے لگا کہ ہم حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس فیصلہ لے کر جائیں چناچہ دونوں حضرت عمر (رض) کے پاس گئے، تو اس کا ساتھی کہنے لگا کہ میرے حق میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فیصلہ فرما دیا تھا مگر یہ کہنے لگا کہ عمر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہم فیصلہ لے جائیں حضرت عمر (رض) نے اس دوسرے شخص سے پوچھا کیا ایسا ہی ہے اس نے کہا جی ہاں، حضرت عمر (رض) نے فرمایا اسی جگہ ٹھہرو، میں ابھی آکر تمہارا فیصلہ کردوں گا۔ چناچہ حضرت عمر (رض) ان دونوں کے پاس اپن تلوار سونت کر تشریف لائے اور اس شخص کو جس نے یہ کہا کہ حضرت عمر (رض) سے فیصلہ کروائیں گے، قتل کردیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یہ روایت مرسل غریب ہے۔ اور اس کی سند میں ابن لھیعہ ہے مگر اس روایت کے دیگر شواہد موجود ہیں، اسی روایت کو رحیم نے اپنی تفسیر میں عتبہ بن ضمرہ عن ابیہ کے حوالہ سے روایت کیا ہے

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

آیت ٦٥ (فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ ) اس میں انہیں کوئی اختیار (choice) حاصل نہیں ہے۔ ان کے مابین جو بھی نزاعات اور اختلافات ہوں ان میں اگر یہ آپ کو حکم نہیں مانتے تو آپ کے رب کی قسم یہ مؤمن نہیں ہیں۔ کلام الٰہی کا دوٹوک اور پر جلال انداز ملاحظہ کیجیے ۔ ( ثُمَّ لاَ یَجِدُوْا فِیْٓ اَنْفُسِہِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ ) اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ‘ کا فیصلہ قبول بھی کرلیا ‘ لیکن دل کی تنگی اور کدورت کے ساتھ کیا تب بھی یہ مؤمن نہیں ہیں۔ (وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا ) واضح رہے کہ یہ حکم صرف رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی تک محدود نہیں تھا ‘ بلکہ یہ قیامت تک کے لیے ہے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

95.The application of the injunction embodied in this verse is not confined to the life-time of the Prophet (peace be on him). It will remain in force until the Day of Judgement. The guidance the Prophet (peace be on him) proclaimed on God's behalf, and the manner in which he followed God's direction and inspiration, will for ever remain the universal touchstone for Muslims. In fact, recognition of that guidance as the final authority is the criterion of true belief. This principle was pronounced by the Prophet (peace be on him) in the following words: 'None of you can become a believer until his desires become subservient to what I have brought (i.e. my teachings).' (Cited by al-Nawawi in al-Arba'in, see the tradition no. 41, transmitted on their authority of Abu al-Qasim Isma'il b. Muhammad al-Isfahani, Kitab al-Hujjah with the opinion that it is a 'good' and 'sound' tradition, with a sound chain of transmission - Ed.)

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :95 اس آیت کا حکم صرف حضور صلی اللہ علیہ کی زندگی تک محدود نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے لئے ہے جو کچھ اللہ کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اور جس طریقہ پر اللہ کی ہدایت و راہنمائی کے تحت آپ نے عمل کیا ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کن سند ہے ۔ اور اس سند کو ماننے یا نہ ماننے ہی پر آدمی کے مومن ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ ہے حدیث میں اسی بات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے کہ لایومن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہش نفس اس طریقہ کی تابع نہ ہوجائے جسے میں لے کر آیا ہوں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

اوپر اللہ کے رسول کی اطاعت کی تاکید تھی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس تاکید کو اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر اور قوت دے دی ہے اس آیت کی شان نزول کی بابت صحاخ ستہ کی کتابوں میں عبد اللہ بن زبیر (رض) سے روایت ہے کہ ایک انصاری اور حضرت زبیر کا کھیت متصل تھا۔ اور ایک ہی ذریعہ آب پاشی سے دو کھیتوں کو پانی پہنچتا تھا۔ اس پانی کی بابت زبیر (رض) اور انصاری کا جھگڑا ہوا آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس وہ جھگڑا فیصلہ کو آیا آنحضرت نے زبیر (رض) سے کہا کہ تم اپنے کھیت کو پانی دے کر انصاری کے کھیت کے لئے پانی چھوڑ دیا کرو انصاری نے کہا کہ زبیر (رض) آپ کے قرابت دار ہیں اس لئے آپ نے ان کی رعایت کا فیصلہ کیا ہے اس پر آپ کو غصہ آیا اور آپ نے فرمایا کہ زبیر (رض) تم پانی کو یہاں تک روکا کرو کہ تمہارے کھیت کے مینڈتک پانی چڑھا جایا کرے۔ پھر پانی چھوڑا کرو اور انصاری کے خلاف شان نبوت گفتگو کرنے پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ١۔ اور اپنی ذات پاک کی قسم کھا کر فرمایا کہ رسول وقت کے فیصلہ اور حکم پر جو کوئی دل سے پابندی اختیار نہ کرے گا وہ ہرگز مسلمان نہیں ہے جو لوگ قول رسول کے مقابلہ میں صریح قول رسول کو چھوڑ کر ادھر ادھر کے قولوں کو مانتے ہیں ان کی نسبت پورا خوب ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنی قسم پوری کرے اور ان لوگوں کو پورے مسلمانوں کے زمرہ میں شمار نہ فرمائے۔ یہ شان نزول از خود عروہ کی روایت سے مرسل طور پر بھی ہے اور عروہ نے اپنے بھائی عبد اللہ بن زبیر (رض) سے متصل طور پر بھی اس کو روایت کیا ہے چناچہ بخاری کی کتاب المساقات میں یہ دونوں روایتیں ہیں۔ یہ عبد اللہ بن زبیر (رض) وہی ہیں جن کو ہجرت کے بعد مہاجرین کی پہلی اولاد کہا جاتا ہے۔ امام بخاری نے عروہ کی مرسل روایت کو عروہ کے بھائی عبد اللہ کی متصل ٢ روایت سے قوت دی ہے۔ عروہ کی مرسل روایت کو حاکم نے یہ جو کہا کہ صحیحین میں یہ روایت نہیں ہے ٣۔ حاکم کا یہ قول سہو سے خالی نہیں کیونکہ یہ مرسل روایت بخاری میں موجود ہے ٤۔ اس طرح حمیدی نے اپنی کتاب جمع بین الصحیحین میں یہ جو کہا ہے کہ صحیحین میں عرہ نے اپنے بھائی عبد اللہ سے اور انہوں نے اپنے باپ زبیر (رض) سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ حمیدی کا بھی یہ قول سہو سے خالی نہیں کیونکہ اس طرح کی سند جس میں عبد اللہ کے بعد زبیر کا بھی ذکر ہے سوا نسائی ٥ کے صحاح ستہ کی کسی کتاب میں نہیں ہے ٦۔” نہ پائیں اپنے جی میں خفگی تیری چکوتی سے “ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان کو اللہ کے رسول کا حکم خالص دل سے ماننا چاہیے۔ اگر کسی نے اس کو ظاہری طور پر مان لیا اور دل میں کچھ خلجان باقی رکھا تو یہ سمجھ لینا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ ایسا شخص اللہ کے نزدیک پورا مسلمان نہیں ہے جن انصاری سے زبیر (رض) کا پانی پر جھگڑا تا۔ ان کے نام کی صراحت بعض روایتوں میں ہے کہ وہ حاطب بن ابی بلتعہ ٧ تھے۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:65) فلا وربک لا یؤمنون۔ اس جملہ میں فلا کی مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں۔ (1) یہ نفی کے لئے ہے۔ ای لیس الامر کما یقولون یعنی بات وہ نہیں جو یہ کہتے ہیں یعنی وہ جو قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ان اردنا الا احسانا و توفیقا۔ غلط کہتے ہیں ۔ جھوٹ کہتے ہیں بلکہ تیرے رن کی قسم بات یہ ہے کہ لا یؤمنون ۔۔ الخ۔ (ب) یہ لا تاکید کے لئے ہے ۔ یعنی قسم کی تاکید میں۔ (ج) یہ نفی کے معنی میں ہے اور لا یؤمنون کی نفی کی تاکید میں۔ یعنی نہیں ۔ تیرے رب کی قسم ۔ یہ ہرگز مومن نہیں ہوسکتے ۔۔ الخ۔ اس کے قریب قریب اردو میں بھی ہم بولتے ہیں کہ نہیں خدا کی قسم میں یہ نہیں کروں گا۔ مطلب یہ کہ میں ہرگز ہرگز یہ نہیں کروں گا۔ یحکموک۔ مضارع جمع مذکر غائب۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر۔ حکم یحکم تحکیم (تفعیل) کسی کو منصف بنانا۔ یعنی جب تک آپ کو منصف نہ بنائیں گے۔ شجر۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ باب نصر۔ اختلاف ہوا۔ جھگڑا ہوا۔ شجور سے جس کے معنی آپس میں جھگڑنے اور اختلاف کرنے کے ہیں۔ قضیت۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ قضی یقضی (باب ضرب) قضاء مصدر تو نے فیصلہ کردیا۔ تو نہ حکم دیا۔ حرجا۔ تنگی۔ مضائقہ۔ حرچ۔ خلش۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 1 اس آیت سے معلوم ہوا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ کے خلاف دل میں ذرہ بھر بھی تنگی اور باپسند ید گی محسوس کی جائے تو یہ ایمان کے منا فی چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہش نفس میرے لائے ہوئے طریقہ کے تابع نہ ہوجائے بعض نے کہا ہے کہ یہ ّآیت پہلے قصہ کے ساتھ ہی متعلق اور بعض نے لکھا ہے کہ حضرت زبیر (رض) اور ایک انصاری کے درمیان شراج حرۃ کے پانی کے بارے میں نزاع ہوگئی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زبیر (رض) سے رعایت کی سفارش کی اور فرمایا اپنے باغ کو پانی دے کر اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دے اس پر انصاری نے کہا یہ اس لے کہ زبیر (رض) تمہارے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ مطلب یہ تھا کہ اس رشتے کی رعایت کی ہے اس پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تکلیف محسوس ہوئی اور فرمایا کہ زبیر (رض) اپنے باغ کو اتنا پانی دو کہ دیوار تک چڑھ آئے پر اس کے لیے چھوڑ دو اس پر انصاری اور زیادہ تلملا یا اور یہ آیت نازل ہوئی (بخاری تفیسر و کتاب الشرب) معلوم ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہر فیصلہ تنقید ہے بالا ہے اور ہر حاکم وقت کے فیصلہ سے بلند ہے اور یہ اس لے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں (م، ع)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

آیت نمبر 65-70 لغات القرآن : شجر، جھگڑا ہوا۔ حرج، تنگی۔ قضیت، آپ نے فیصلہ کردیا۔ اشد تثبیتا، بہت مضبوط۔ انعم اللہ، اللہ نھے انعام کیا۔ حسن، بہترین۔ رفیق، ساتھ، ساتھی۔ تشریح : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں بظاہر کسی مومن کا آپ کی عدالت میں مقدمہ نہ لانا یا آہ کے فیصلے سے دل و جان سے راضی نہ ہونا منافقت کی دلیل تھی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تمہارے رب کی قسم وہ لوگ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جو اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو منصف نہ مان لیں اور پھر جو کچھ آپ فیصلہ کردیں اس پر دل میں کوئی تکلف اور تنگی محسوس نہ کریں بلکہ سر جھکا کر تسلیم و اطاعت کی روش اختیار کریں۔ اب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دنیا سے پردہ فرما لیا ہے لیکن آپ کی سنت زندہ ہے۔ مومن کی شان یہ ہے کہ اس فیصلہ پر دل و جان سے سرجھکا دے جو قرآن و سنت کی روشنی میں کیا گیا ہو ورنہ وہ منافق ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جب آں حضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زینب (رض) کی شادی حضرت زید (رض) بن حارثہ سے کردی جو ایک آزاد کردہ غلام تھے تو حضرت زینب (رض) کے رشتہ دار دل سے ناراض ہوئے۔ لیکن جب یہ آیت 65 اتری تو سب سے سر تسلیم خم کردیا۔ منافقوں کے سلسلہ میں آگے کی ایات 67 اور 68 بتایا گیا ہے کہ یہ وہی حکم مانتے ہیں جس میں ان کا فائدہ ہے۔ اگر کوئی حکم ان کے لئے سخت ہے تو نہیں مانتے۔ مومن کی شان یہ ہے کہ جو حکم بھی دیا جائے اس پر بےچون و چرا عمل کرتے ہیں۔ اس طرح اس کے تین فائدے ہیں۔ (1) اللہ کا حکم ہمیشہ بندے کی بھلائی کے لئے ہوتا ہے۔ عین ممکن ہے یہ بھلائی آگے چل کر ظاہر ہو۔ (2) اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے بڑا اجر عنایت کرتا ہے اور صراط مستقیم پر چلنے کی زیادہ توفیق عطا کرتا ہے۔ اللہ اور رسول کی اطاعت کرنے والوں کے لئے جو انعامات آخرت میں رکھے گئے ہیں ان میں ایک زبردست انعام کا ذکر یوں فرمایا گیا ہے کہ جو بھی اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ آخرت میں ان لوگوں کے ساتھ رہے گا جن پر اللہ نے انعامات نازل کئے ہیں یعنی انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین۔ اس آیت سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ انبیاء ، صدیقین، شہداء اور صالحین جنت میں باہم ہر وقت ملتے جلتے رہیں گے اور کوئی تفریق نہ ہوگی۔ کوئی شخص نبی اور صدیق نہیں بن سکتا لیکن شہید اور صالح بننے کی انتہائی کوشش کرسکتا ہے۔

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ اور آپ نہ ہوں تو آپ کی شریعت سے۔ 4۔ تحکیم اور عدم حرج اور تسلیم کے مراتب تین ہیں اراعتقاد سے اور زبان سے اور عمل سے۔ اعتقاد سے یہ کہ قانون شریعت کو حق اور موضوع التحکیم جانتا ہے اور اس میں مرتبہ عقل میں ضیق نہیں اور اسی مرتبہ میں اس کو تسلیم کرتا ہوں اور زبان سے یہ کہ ان امور کا اقرار کرتا ہوں کہ حق اسی طرح ہے اور عمل سے یہ کہ مقدمہ لے بھی جاتا ہے اور طبعی ضیق بھی نہیں اور اس فیصلہ کے موافق کاروائی بھی کرلی سواول مرتبہ تصدیق و ایمان کا ہے اس کانہ ہونا عنداللہ کفر ہے اور منافقین میں خود اسی کی کمی تھی چناچہ تنگی کے ساتھ لفظ انکار اسی کی توضیح کے لیے ظاہر کردیا ہے اور دوسرا مرتبہ اقرار کا ہے اس کا نہ ہونا عندالناس کفر ہے تیسرامرتبہ تقوی وصلاح کا ہے اس کانہ ہونافسق ہے اور طبعی تنگی معاف ہے۔ پس آیت میں بقرینہ ذکر منافقین مرتبہ اول مراد ہے۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : پہلی آیات میں منافقین کو رسول کو مطاع تسلیم کرنے اور اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ اب قطعی انداز میں رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فیصل ماننے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا فیصلہ کُن انداز میں منافقوں، کافروں اور سب لوگوں کی غلط فہمی دور کی جارہی ہے کہ کسی کا ایمان اس وقت تک قابل قبول نہیں ہوسکتا جب تک حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زندگی کے تمام معاملات میں حکم تسلیم نہ کرلیا جائے۔ جونہی آپ کا فیصلہ سامنے آئے تو اسے دل کی رغبت اور طبیعت کی چاہت کے ساتھ من وعن تسلیم کرنا ہوگا اور اس کے تسلیم کرنے میں کسی قسم کا تردد اور تأمل نہیں ہونا چاہیے۔ یہاں قرآن مجید نے ” شجر “ کا لفظ استعمال کیا ہے جس کا معنیٰ ایسا درخت جس کی شاخیں ایک دوسرے کے ساتھ پھنسی اور الجھی ہوئی ہوں۔ اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ تمہارے معاملات خواہ کتنے ہی الجھے اور بگڑے ہوئے کیوں نہ ہوں تمہیں ہر حال میں اللہ کے رسول کو حکم تسلیم کرنا پڑے گا۔ معاملات سیاسی ہوں یا معاشی، اخلاقی ہوں یا معاشرتی، انفرادی ہوں یا اجتماعی غرض کہ زندگی کا کوئی معاملہ اور شعبہ ہو۔ اس میں اللہ کے رسول کو حکم تسلیم کرنا لازم ہے۔ اس آیت کا شان نزول حضرت زبیر (رض) اس طرح بیان کرتے ہیں : (أَنَّ رَجُلًا مِّنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَیْرَ عِنْدَ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فِیْ شِرَاجِ الْحَرَّۃِ الَّتِیْ یَسْقُوْنَ بِھَا النَّخْلَ فَقَالَ الْأَنْصَارِیُّ سَرِّحِ الْمَآءَ یَمُرُّ فَأَبٰی عَلَیْہِ فَاخْتَصَمَا عِنْدَ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لِلزُّبَیْرِ أَسْقِ یَا زُبَیْرُ ثُمَّ أرْسِلِ الْمَآءَ إِلٰی جَارِکَ فَغَضِبَ الْأَنْصَارِیُّ فَقَالَ أَنْ کَانَ ابْنَ عَمَّتِکَ فَتَلَوَّنَ وَجْہُ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ثُمَّ قَالَ اسْقِ یَا زُبَیْرُ ثُمَّ احْبِسْ الْمَآءَ حتّٰی یَرْجِعَ إِلَی الْجَدْرِ فَقَال الزُّبَیْرُ وَاللّٰہِ إِنِّیْ لَأَحْسِبُ ھٰذِہِ الْآیَۃَ نَزَلَتْ فِیْ ذٰلِکَ (فلَاَ وَرَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ ) [ رواہ البخاری : کتاب المساقاۃ، باب سکر الأنھار ] ” انصار کے ایک آدمی کا حضرت زبیر (رض) سے پانی کے نالے کے بارے میں اختلاف ہوگیا جس سے وہ کھجوروں کو پانی دیتے تھے۔ انصاری نے کہا پانی چھوڑو اسے آگے آنے دو ۔ حضرت زبیر (رض) نے انکار کیا دونوں اپنا جھگڑا رسول گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لائے تو آپ نے حضرت زبیر (رض) سے فرمایا زبیر ! پانی لگا کر ہمسائے کے لیے چھوڑ دو ۔ انصاری نے غضبناک ہو کر کہا وہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہوا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ متغیر ہوگیا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا زبیر ! پانی لگا جب تک وہ منڈیروں تک نہ پہنچ جائے پانی کو روکے رکھنا۔ حضرت زبیر (رض) فرماتے ہیں۔ اللہ کی قسم ! میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت ” فَلاَ وَرَبِّکَ “ اس موقعہ پر نازل ہوئی ہے۔ “ ” حضرت معقل بن یسار (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں مسلمانوں کے ایک آدمی سے اپنی بہن کی شادی کی وہ اس کے پاس کچھ عرصہ رہی پھر اس نے اسے ایک طلاق دی اور عدت بھی گزر گئی لیکن رجوع نہ کیا۔ اب پھر دونوں ایک دوسرے کو چاہنے لگے پھر اس آدمی نے منگنی کے لیے آدمی بھیجا تو معقل بن یسار (رض) نے کہا : کمینے ! میں نے تیری عزت کرتے ہوئے اس کے ساتھ شادی کی اور تو نے اسے طلاق دے دی۔ اللہ کی قسم اب کبھی یہ تیرے پاس نہیں لوٹے گی یہ آخری باری تھی۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں میاں بیوی کے جذبات کو قبول کیا تو یہ آیت نازل فرمائی (وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَھُنَّ ) جب معقل بن یسار (رض) نے یہ آیت سنی تو کہا کہ سَمْعًا لِّرَبِّیْ وَطَاعَۃً میں نے اپنے رب کی بات کو سنا اور مان لیا۔ پھر انہوں نے اس آدمی کو بلایا اور کہا میں تیری شادی بھی کرتا ہوں اور عزت بھی۔ “ [ رواہ الترمذی : کتاب التفسیر، باب ومن سورة البقرۃ ] مسائل ١۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فیصل تسلیم کیے بغیر لوگ ہرگز ایمان دار نہیں ہوسکتے۔ ٢۔ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ دل و جان سے ماننا ایمان ہے۔ تفسیر بالقرآن مقام نبوت : ١۔ رسول محترم بہترین اسوہ ہیں۔ (الاحزاب : ٢١) ٢۔ ہر معاملہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹانا چاہیے۔ (النساء : ٥٩) ٣۔ اللہ اور رسول سے آگے نہ بڑھو۔ (الحجرات : ١) ٤۔ رسول جو تمہیں دے اسے پکڑلو۔ (الحشر : ٧) ٥۔ رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے۔ (النساء : ٨٠) ٦۔ اللہ کی محبت رسول کی اطاعت میں ہے۔ (آل عمران : ٣١) ٧۔ رسول کی مخالفت سے اعمال برباد ہوجاتے ہیں۔ (محمد : ٣٣)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” فلا وربک لا یومنون حتی یحکموک فیما شجر بینھم ثم لا یجدوا فی انفسھم حرجا مما قضیت ویسلموا تسلیما “۔ (٤ : ٦٥) ” نہیں اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ محسوس کریں ‘ بلکہ سربسر تسلیم کرلیں۔ “ ایک بار پھر ہم شرط ایمان کے سامنے کھڑے ہیں ‘ ایمان کی حدود ہمارے سامنے ہیں۔ اللہ تعالیٰ خود فیصلہ فرماتے ہیں اور اس فیصلے پر اپنی ذات پاک کا حلف اٹھاتے ہیں ‘ اس کے بعد اب کسی کے لئے کالم کی کیا گنجائش رہ جاتی ہیں ۔ اسلام کی شرط اور ایمان کی حدود کی نشاندہی کردی جاتی ہے ۔ اور اس کے جن الفاظ میں یہ نشاندہی کی گئی ہے ان میں کسی قسم کی تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ ہاں اگر کوئی خواہ مخواہ جھگڑا کرے تو اور بات ہے ۔ اس کی بات میں کوئی وزن نہ ہوگا اور وہ بات یہ ہو سکتی ہے کہ یہ حکم حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے کے لئے تھا ۔ اور صرف صحابہ کرام (رض) اجمعین کے لئے تھا ۔۔۔۔۔ اگر کوئی یہ تاویل کرتا ہے تو معلوم ہوگا کہ اس شخص کو اسلام کا کوئی پتہ نہیں ہے اور وہ قرآن کے انداز کلام سے واقف نہیں ہے ‘ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک قاعدہ کلیہ ہے ۔ جسے حلفیہ بیان کے ساتھ بتاکید مزید لایا گیا ہے ‘ جس کے اندر زمان ومکان کی کوئی تحدید نہیں ہے ۔ نہ اس واہمہ کے لئے کوئی گنجائش ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلوں سے مراد آپ کی شریعت کے فیصلے ہیں ۔ اگر یہی مفہوم لے لیا جائے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد آپ کی سنت اور آپ کی شریعت کا کوئی مقام نہ رہے گا ۔ اور یہ قول تو ان لوگوں کا تھا جو عہد ابوبکر (رض) میں مرتد ہوگئے تھے ۔ اور حضرت ابوبکر (رض) نے ان سے اس طرح جہاد کیا جس طرح مرتدین سے کیا جاتا ہے ۔ بلکہ ان کے ساتھ مرتدین سے بھی سخت رویہ اختیار کیا گیا اس لئے کہ انہوں نے صرف زکوۃ کے معاملے میں انکار کیا تھا اور آپ کی وفات کے بعد زکوۃ کی ادائیگی بند کردی تھی ۔ اگر اسلام کے لئے یہ کافی ہے کہ لوگ اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے کرائیں تو ایمان کے لئے اس سے بھی زیادہ شرائط ہیں مثلا یہ کہ وہ ان فیصلوں پر دل سے راضی ہوں اور دل سے انہیں قبول کریں اور خوشی اور اطمینان سے ان پر راضی ہوں۔ یہ ہے اسلام اور یہ ہے ایمان ۔ ہر کسی کو اپنا جائزہ لینا چاہئے کہ وہ اسلام سے کس قدر دور ہے اور اس کے ایمان کا کیا حال ہے اور اس کے بعد وہ اسلام اور ایمان کا دعوی کرے ۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے فیصلے کرانے ‘ اور پھر آپ جو فیصلہ فرمائیں اس کو بطیب خاطر قبول کرنے کے بعد اب یہ کہا جاتا ہے کہ یہ نظام جس کی طرف تمہیں دعوت دی جا رہی ہے ‘ اور یہ شریعت جس کے مطابق تمہیں اپنے فیصلے کرانے کا حکم دیا جاتا ہے (اور اس کے سوا کسی اور قانون کے مطابق فیصلے کی اجازت نہیں ہے) اور یہ فیصلے جس پر راضی برضا ہونا ضروری ہے ‘ یہ نظام دراصل نہایت ہی آسان ‘ سیدھا اور منصفانہ اور رحیمانہ نظام ہے ۔ یہ نظام تمہیں تمہاری طاقت سے زیادہ کسی چیز کا حکم نہیں دیتا ‘ اور نہ تم پر کوئی ایسی مصیبت لاتا ہے جو تمہارے لئے ناقابل برداشت ہو ‘ اور نہ تم سے کسی ایسی قربانی کا مطالبہ کرتا ہے جو تم سے نہ دی جاسکے ۔ اس لئے کہ انسان کی ضعیفی اللہ کی نظر میں ہے ۔ وہ ان کی کمزوری کی وجہ سے ان پر بہت ہی رحم فرماتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ اگر انسانوں پر بھاری فرائض عائد کئے گئے تو وہ انہیں ادا نہ کرسکیں گے ۔ اس لئے اللہ نے یہ ارادہ ہی نہیں کیا کہ انسانوں پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالے اور نہ اللہ کا ارادہ تھا کہ لوگ معصیت کا ارتکاب کریں ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے بھاری احکام ان پر فرض ہی نہیں کئے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو کہ زیادہ لوگ معصیت پر اتر آئیں ۔ اگر لوگ ان آسان فرائض پر عمل پیرا ہوتے جو اللہ نے ان پر فرض کئے تھے ‘ اور اس نصیحت سے فائدہ اٹھاتے جو اللہ تعالیٰ ان کے لئے نازل کر رہے ہیں تو وہ دنیا اور آخرت دونوں میں عظیم بھلائی جمع کرلیتے ۔ اللہ تعالیٰ راہ ہدایت پر آنے میں ان کی امداد فرماتے ‘ اور یہ اللہ کی سنت ہے کہ جو شخص بھی اپنے عمل ‘ ارادہ اور عزم بالجزم سے اللہ کی راہ میں سعی کرے اپنی طاقت کے حدود کے اندر ‘ تو اللہ اس کی پوری پوری معاونت کرتا ہے ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

رسول اللہ کے فیصلہ کو دل و جان سے قبول کیے بغیر مومن نہ ہوں گے صحیح بخاری کتاب التفسیر ٦٦٠: ج ١ میں حضرت عروہ بن زبیر (رض) سے مروی ہے کہ حضرت زبیر بن العوام (رض) کا ایک انصاری سے کاشت کے سیراب کرنے کے سلسلہ میں جھگڑا ہوگیا۔ دونوں حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے (پانی کا بہاؤ کچھ اس طرح سے تھا کہ پہلے حضرت زبیر (رض) کی زمین پڑتی تھی) آپ نے فرمایا کہ اے زبیر ! تم پانی کھیتی کو سیراب کرلو پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو ۔ اس انصاری نے کہا کہ یا رسول اللہ یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے اس لیے آپ نے اس کے حق میں فیصلہ دیا اور اس کو ترجیح دے دی، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا چہرہ مبارک متغیر ہوگیا اور فرمایا اے زبیر ! تم اپنی زمین کو سیراب کرو اور پانی یہاں تک روک لو کہ تمہاری کیا ریوں کے اوپر تک آجائے پھر اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دو ، آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس انصاری کے غصہ دلانے والے کلمات کی وجہ سے زبیر کو ان کا صاف صاف پورا حق دلا دیا، حالانکہ آپ نے پہلے ایسی بات فرمائی تھی جس میں دونوں کے لیے گنجائش تھی۔ حضرت زبیر (رض) نے فرمایا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ یہ آیت (فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَاشَجَرَ بَیْنَھُمْ ) میرے ہی بارے میں نازل ہوئی (مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ پر جب فریق مقابل راضی نہ ہوا بلکہ اعتراض بھی کردیا کہ آپ نے اپنی پھوپھی کے بیٹے کو ترجیح دے دی تو اس پر تنبیہ فرمانے کے لیے آیت شریفہ نازل ہوئی) حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت زبیر کو اپنی زمین کو سیراب کرنے کا حق پہلے اس لیے دیا کہ ان کی زمین پہلے پڑ رہی تھی اور آپ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ پہلے اپنی کیا ریوں میں اوپر تک پانی بھر لینا بلکہ صرف اتنا فرما دیا تھا کہ تم اپنی زمین سیراب کرکے اپنے پڑوسی کی طرف پانی چھوڑ دینا۔ لیکن انصاری نے جب ایسی بات کہہ دی جو اوپر مذکور ہوئی تو آپ نے زبیر کو ان کا پورا پورا حق دے دیا کہ پہلے تم اچھی طرح سیراب کرلو پھر پانی چھوڑ دو ۔ پہلا فیصلہ انصاری کے حق میں بہتر تھا اس نے یہ تو نہ دیکھا کہ زبیر کو پوری کیا ریاں پر کرنے کو نہیں فرمایا ہے بلکہ یہ دیکھ لیا کہ ان کو پہلے اپنی زمین سیراب کرنے کا حق دے دیا۔ آیت بالا میں مستقل یہ قانون بتادیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلوں پر دل و جان سے راضی ہونا یہی ایمان کا تقاضا ہے۔ جب آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا کوئی فیصلہ سامنے آجائے تو اس کے خلاف اپنے نفس میں ذرا بھی کچھ تنگی محسوس نہ کرے۔ سبب نزول خواہ وہی ہو جو حضرت زبیر (رض) نے بیان فرمایا لیکن آیت کے عموم نے بتادیا کہ جب کبھی بھی کوئی واقعہ پیش آجائے تو جہاں ایک شخص دوسرے پر دعویٰ کرتا ہو اور ان کے جھگڑے مٹانے کے لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فیصلہ موجود ہو تو ہر فریق دل و جان سے اسی پر راضی ہوجائے۔ ذرا سا بھی کوئی تکدر اور میل اپنے دل میں نہ لائے۔ بہت سے لوگ جو اپنے معاملات اور مخاصمات میں غیر اسلامی قوانین کی طرف دوڑتے ہیں اور ان کے سامنے قرآن و حدیث کا فیصلہ لایا جاتا ہے تو اس سے راضی نہیں ہوتے ایسے لوگ اپنے ایمان کے بارے میں غور کرلیں۔ اللہ تعالیٰ شانہٗ نے آیت بالا میں قسم کھا کر خوب واضح طریقے پر بتادیا کہ جب تک رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے جھگڑوں کے درمیان فیصلہ کرنے والا نہ بنائیں اور فیصلہ کراکر آپ کے فیصلے پر دل و جان سے راضی نہ ہوں اور پوری طرح فیصلے کو تسلیم نہ کرلیں تو ایسے لوگ مومن نہ ہوں گے، جب تک آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس دنیا میں تھے اس وقت تک آپ کی ذات اطہر سامنے تھی اور آپ کے تشریف لے جانے کے بعد قرآن مجید اور آپ کی احادیث موجود ہیں۔ اب ان کو سامنے رکھ کر اپنے فیصلے چکائیں اور جو مسلمان قاضی اور حاکم ہیں انہیں کے مطابق فیصلے کریں۔ اگر ایسا نہ کریں گے قرآن مجید کی تصریح کے مطابق (لاَ یُؤْمِنُوْنَ ) کا مصداق ہوں گے۔ دور حاضر کے لوگوں کی بد حالی : لوگوں کے ذہن مغرب کے بنائے ہوئے ظالمانہ قوانین سے اس قدر مغلوب اور مانوس ہوچکے ہیں کہ ان کے مطابق ظالم بننے اور مظلوم بننے کو تیار ہیں لیکن اسلام کے عادلا نہ قوانین پر عمل کرنے کو تیار نہیں۔ زناکاری کے عام ہوجانے پر خوش ہیں چوری اور ڈکیتی کی وار داتیں ہوتی رہتی ہیں جنہیں بھگتتے رہتے ہیں اللہ تعالیٰ شانہٗ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بتائے ہوئے قوانین کو نافذ کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ان قوانین کو نہ صرف دل سے برا جانتے ہیں بلکہ صاف الفاظ میں ظالمانہ کہہ کر کفر اختیار کرلیتے ہیں۔ اگر چوروں کے ہاتھ کاٹے جائیں اور زانیوں کو سنگسار کرنے اور کوڑے لگانے کی حد جاری کی جائے اور شراب پینے والوں کو کوڑے لگائے جائیں اور ڈاکوؤں کے ساتھ وہ معاملہ کیا جائے جو سورة مائدہ میں مذکور ہے کہ ان کو (حسب واردات) قتل کیا جائے یا سولی پر چڑھا جائے یا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں یا جیل میں ڈالا جائے اور قاتلوں سے قصاص دلایا جائے اور دیت کے احکام نافذ ہوں تو یہ جھگڑے، فسادات، چوریاں، ڈکیتیاں اور زنا کاری کا وجود ختم ہوجائے۔ کہنے کو مسلمان ہیں لیکن احکام قرآنیہ پر راضی نہیں، کافروں کے قوانین کے مطابق فیصلے کرتے ہیں اور فیصلے کراتے ہیں ایسے لوگ غور کرلیں ان کا کیا دین و ایمان ہے، آیت بالا میں فرمایا کہ مومن ہونے کے لیے صرف یہی شرط نہیں ہے کہ اپنے جھگڑوں کے فیصلے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کرائیں بلکہ یہ بھی شرط ہے کہ آپ کے فیصلے پر دل میں ذراسی بھی تنگی محسوس نہ کریں۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

47 یہاں ایمان کیلئے تین شرطیں بیان کی گئی ہیں۔ اول حَتّیٰ یُحَکِّمُوْکَ آپ کو فیصل مانیں دوم لَا یَجِدُوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ حَرَجًا آپ کے فیصلے کو دل و جان سے قبول کریں۔ سوم وَیُسَلِّمُوْا تَسْلِیْماً آپ کے فیصلے کے خلاف زبان پر گلہ کا کوئی لفظ نہ لائیں حاصل یہ کہ صرف زبانی اقرار سے مومن نہیں بن سکتے۔ جب زبانی اقرار کے ساتھ عملی طور پر بھی پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فیصل نہ مانیں گے۔ اور آپ کا فیصلہ دل سے قبول نہیں کریں گے اور فیصلہ اپنے خلاف ہونے کی صورت میں کبیدہ خاطر اور دل میں رنجیدہ نہیں ہوں گے اور نہ زبان پر حرف شکایت لائیں گے اس وقت تک مومن نہیں بن سکتے۔ وَ لَوْا اَنَّا کَتَبْنَا عَلَیْھِمْ اَنِ اقْتُلوْا اَنْفُسَکُم الخ یہ لوگ اس قسم کے آسان احکام پر بھی عمل نہیں کرتے اگر ان پر سخت احکام فرض کردئیے جاتے تو سوائے معدود چند ان میں سے کوئی بھی ان پر عمل کرتا یہ احکام تو نہایت آسان ہیں اگر یہ لوگ ان پر دل و جان سے عمل کرلیتے تو اس میں ان کی اپنی ہی بہتری تھی۔ دنیا میں بھی امن اور چین سے رہتے اور آخرت میں بھی بہت بڑا اجر پاتے۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 اور ہم نے کسی رسول کو مبعوث نہیں کیا مگر اس لئے کہ بحکم خداوندی اس کی اطاعت کی جائے یعنی تمام پیغمبروں کی بعثت کا مقصد خاص یہی ہوتا ہے کہ باذن الٰہی ان کی اطاعت و فرمانبرداری کی جائے اور ان کو مطاع سمجھا جائے اور اگر یہ لوگ اسی وقت جبکہ انہوں نے گناہ کر کے خود اپنے حق میں برائی کی تھی اور اپنے کو نقصان پہنچایا تھا آپ کی خدمت میں حاضر ہوجاتے اور پھر اللہ تعالیٰ کی جناب میں بخشش طلب کرتے اور نادم ہو کر اپنے گناہ کی معافی چاہتے اور رسول بھی ان کے لئے بخشش و مغفرت کے خواستگار ہوتے تو یہ لوگ ضرور اللہ تعالیٰ کو معاف کرنے والا اور مہربانی کرنے والا پاتے، پھر قسم ہے آپ کے رب کی یہ لوگ اس وقت تک خدا کے نزدیک مومن نہیں ہوں گے اور ایماندار شمار نہیں کئے جائیں گے جب تک یہ بات نہ ہو کہ جو جھگڑا ان کے مابین واقع ہو اس میں آپ ہی کو منصف بنائیں اور سا جھگڑے کا فیصلہ اور تصفیہ آپ ہی سے کرائیں اور جب آپ فیصلہ فرما دیں تو آپ کے فیصلے سے اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور کوئی گرانی محسوس نہ کریں اور آپ کے فیصلے کو ہر اعتبار سے پوری طرح تسلیم کریں۔ (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ ہر پیغمبر کے بھیجنے کا بڑا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور چونکہ پیغمبر کی اطاعت حضر حق کے حکم اور ان کے منشا کے مطابق ہے اس لئے یہ رسول کی اطاعت بھی خدا ہی کی اطاعت ہے جیسا کہ آگے آجائے گا اور چونکہ پیغمبر کی تشریف آوری کا بڑا مقصد یہی ہوتا ہے اسی لئے ہر پیغمبر نے اپنی تقریر میں فاتقوا اللہ و اطیعون فرمایا جیسا کہ سورة شعراء میں انشاء اللہ آجائے گا اور چونکہ یہ اطاعت منشاء الہی کے موافق ہوتی ہے اس لئے باذن اللہ کی قید کو ظاہر کردیا کہ رسول کی یہ اطاعت بحکم خداوندی ہوتی ہے اس تمہیدی فقرے کے بعد اصل واقعہ کا صحیح حل بتایا کہ طاغوت کے پاس فیصلہ لے جانی کی جس غلطی کا ارتکاب ہوا تھا اس کا علاج یہ نہ تھا کہ جھوٹی قسمیں کھا کر جھوٹ بولیں۔ ان اردنا الا احساناً و توفیقاً بلکہ گناہ کا اصل علاج اور اس غلطی کا اصل حل تو یہ تھا کہ آپ کی خدمت میں نادم ہو کر حاضر ہوتے کفر و نفاق سے توبہ کر کے ایمان لاتے اور جو گناہ ہوا تھا اس کی اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگتے ۔ ہم نے ایمان کی شرط اس لئے لگائی کہ ایمان اصل مبنی ہے اگر ایمان نہ لاتے تو منافق اور کافر کا کسی گناہ سے توبہ کرنا کوئی چیز نہیں کفر و نفاق کی موجودگی میں گناہ سے توبہ ناقابل اعتبار ہے۔ بہرحال ! آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے ایمان لاتے اور اپنی جانوں پر جو ظلم کیا تھا یعنی طاغوت کے پاس جانے کا گناہ اس سے خدا کی جناب میں استغفار کرتے اور ادھر رسول بھی ان کے لئے استغفار کرتا کیونکہ ان کی اس ناشائستہ حرکت سے جو رسول کو گرانی ہوئی تھی وہ دور ہوجاتی اور وہ بھی ان سے راضی ہو کر ان کے لئے بخشش مانگتا تو ان کا کام بن جاتا اور یہ اللہ تعالیٰ کو تو اب و رحیم پاتے اگرچہ کافر اور عاصی کی توبہ کا معاملہ محض اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے جو گناہگار نادم ہو کر اللہ تعالیٰ کے روبرو توبہ کرے اور پشیمان ہو کر اس سے معافی مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے لیکن اس آیت میں دو باتیں اور زائد بیان فرمائی ہیں ایک حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہونا اور دوسرے آپ کا ان کے لئے استغفار کرنا ایک قید کی وجہ تو ظاہر ہی ہے جس کی طرف ہم نے تسہیل میں اشارہ بھی کیا ہے یعنی رسول کے پاس نہ آنا اور طاغوت کے پاس جانا اس کی تلافی کے لئے فرمایا کہ رسول کی خدمت میں حاضر ہوتے اور رسول کو جو اذیت پہنچائی تھی اس کی تلافی اور تدارک کرتے البتہ دوسری قید کہ رسول بھی ان کے لئے بخشش طلب کرتا تو اس کے لئے لوگوں نے مختلف وجوہ بیان کئے ہیں لیکن ایک سیدھی اور آسان بات یہ ہے کہ آپ ک استغفار کرنا اور ان کے لئے بخشش طلب کرنا آپ کے راضی ہونے کی دلیل ہوگی اور یہ معلوم ہو سکے گا کہ پیغمبر کو جو تکلیف پہونچی تھی وہ اس نے معاف کردی۔ یا یوں کہا جائے کہ پیغمبر کا استغفار توبہ کے لئے کوئی لازمی شرط نہ تھی بلکہ ان کے لئے توفیق توبہ کی زیادتی اور صحیح توبہ کا سبب تھی، بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ پیغمبر کا استغفار نفس توبہ کی قید نہیں ہے۔ بلکہ کامل توبہ کی قید ہے۔ (واللہ اعلم) بہرحال کسی بزرگ سے استغفار کی درخواست کرنا اور اپنی توبہ کے ساتھ اس کو بھی اپنے لئے استغفار میں شریک کرلینا اس کے لئے موجب برکت اور موجب قبولیت اور موجب تقویت ہونے سے انکار نہیں کہا جاسکتا اگرچہ نفس توبہ کے لئے ضروری نہ ہو۔ دوسری آیت میں ایک مکمل ضابطہ فرمایا اور اپنی ذات کی قسم کھا کر اس کو موکد فرمایا مطلب یہ ہے کہ یہ طاغوت کو حکم بنانے والے اور جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے کو مسلمان ظاہر کرنے والے اس وقت تک خدا کے نزدیک مسلمان نہیں ہوسکتے اور اس وقت تک ان کا ایمان خدا کے ہاں معتبر نہیں ہوسکتا جب تک یہ لوگ اس امر کی پابندی نہ کریں کہ آپس کا کوئی جھگڑا خواہ وہ جانی ہو یا مالی یا کوئی اور چھوٹا بڑا قصہ ہو۔ غرض جو قضیہ اور جھگڑا ہو اس میں آپ ہی کو حکم بنائیں اور اس جھگڑے کا فیصلہ آپ ہی سے کرائیں اور آپ کی شریعت اور آپ کے قانون کے موافق اس جھگڑے کو طے کرائیں اور جو کچھ آپ طے کردیں اس پر دل تنگ نہ ہوں۔ دل کی تنگی اور عدم ضیق کا یہ مطلب کہ ان کا قلب اس فیصلے سے مطمئن ہو یہ خیال نہ کریں آپ نے حق کے خلاف فیصلہ کیا یا آپ نے فیصلے میں خیانت کی۔ باقی رہی وہ تنگی اور گرانی جو اپنے خلاف فیصلہ سن کر دل پر ہوتی ہے وہ ایک طبعی اور فطری چیز ہے جو کسی حج کا فیصلہ اپنے خلاف سن کر قلب پر ایک اثر پڑتا ہے وہ دوسری چیز ہے۔ یہاں مراد معاندانہ اور منکرانہ تنگی ہے اور شک و شبہ ہے جو شکی لوگوں کے دل میں پیدا ہوتا ہے اسی لئے حضرت مجاہد نے ضیق کی تفسیر شک سے کی ہے، تسلیم سے مراد انقیاد یعنی بلاکسی ناگواری کے رغبت کے ساتھ ظاہراً اور باطناً اطاعت و فرمانبرداری کے جذبے سے آپ کے فیصلے کو قبول کریں جب تک یہ طریقہ اختیار نہ کریں گے یہ لوگ مومن نہ ہوں گے اور بارگاہ خداوندی میں ان لوگوں کا شمار مومنوں میں نہیں ہوگا۔ ہم نے جو شریعت اور قانون کا لفظ استعمال کیا ہے وہ اس لئے کہ آپ کی وفات کے بعد آپ کو حکم بنانے کا مطلب آپ کی شریعت اور آپ کے قوانین کی جانب رجوع کرنا ہے۔ بعض مفسرین نے آیت فلا و ربک لایئومنون کے تحت ایک واقعہ حضرت زبیر اور ایک انصاری کا نقل کیا ہے اور اس آیت کا شان نزول اس قصے کو قرار دیا ہے قصہ کا خلاصہ اس قدر ہے کہ پانی حاصل کرنے پر ان دونوں کا قصہ تھا زبیر کا کھیت بالائی حصے میں تھا اور اس انصاری کا کھیت نیچے کے حصے میں تھا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زبیر کے حق میں فیصلہ دیا کہ زبیر اپنے کھیت میں پہلے پانی لے اور پھر پانی کو نیچے کے کھیت میں جانے کے لئے چھوڑ دے اس پر فریق ثانی کے منہ سے یہ نکل گیا کہ زبیر آپ کی پھوپھی کا لڑکا ہے اس لئے ایسا فیصلہ کیا ہے۔ اس پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غضب آلود لہجہ میں فرمایا ، زبیر تو اپنی زمین کو پانی پلا اور پانی کو روک لے یہاں تک کہ تیرے کھیت کی مینڈھ تک پانی پہنچ جائے ۔ جب یہ دونوں فریق حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے نکلے اور مقداد نے ان سے دریافت کیا تو اس انصاری نے استہزاًء کہا کہ اپنی پھوپھی کے بیٹے کے لئے فیصلہ کردیا اور پانی کا حق اس کو دلوا دیا اس انصاری کی بات کو سن کر ایک یہودی نے کہا جو حضرت مقداز کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ خدا ان لوگوں کو ہلاک کرے کہ یہ ان کے رسول اللہ ہونے کی شہادت دیتے ہیں اور پھر ان کے فیصلے پر معترض بھی ہوتے ہیں اور ان پر طرف داری کا الزام لگاتے ہیں۔ خدا کی قسم ہم نے موسیٰ کی زندگی میں ایک گناہ کیا تھا اس پر موسیٰ نے ہم کو بلا کر کہا کہ تمہاری توبہ اس وقت قبول ہوگی جب تم اپنے آپ کو قتل کرو گے چناچہ ایسا ہی ہوا اور ہم میں سے ستر ہزار آدمی قتل ہوئے تب ہماری توبہ قبول ہوئی اور ہم نے اپنے پروردگار کی رضامندی حاصل کی۔ حضرت زبیر کا یہ مقابل جس کو انصاری کہا اجتا ہے شاید کوئی منافق ہوگا بہرحال شان نزول کا اگر یہ واقعہ بھی ہو تب بھی ہماری گذارش کے منافی نہیں کیونکہ یہ آیتیں مسلسل منافقوں کی کمزوری کے بیان میں ہیں اور خاص طور پر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض فیصلوں پر اعتراض کرنے پر اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بجائے غیروں کو حکم بنانے پر جن کمزوریوں کا ان کی جانب سے اظہار ہوتا تھا ان آیتوں میں ان کا رد ہے اب آگے صحیح اطاعت کرنے والوں کے فوائد اور ان منافع کا ذکر ہے جو کامل فرمانبرداروں کو ملنے والے ہیں۔ (تسہیل)