Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 67

سورة النساء

وَّ اِذًا لَّاٰتَیۡنٰہُمۡ مِّنۡ لَّدُنَّـاۤ اَجۡرًا عَظِیۡمًا ﴿ۙ۶۷﴾

And then We would have given them from Us a great reward.

اور تب تو انہیں ہم اپنے پاس سے بڑا ثواب دیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

وَإِذاً لاَّتَيْنَاهُم مِّن لَّدُنَّـا ... And indeed We should then have bestowed upon them from Ladunna, (from Us) ... أَجْراً عَظِيمًا A great reward, (Paradise). وَلَهَدَيْنَاهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَّاِذًا لَّاٰتَيْنٰھُمْ مِّنْ لَّدُنَّآ اَجْرًا عَظِيْمًا۝ ٦٧ۙ إِيتاء : الإعطاء، [ وخصّ دفع الصدقة في القرآن بالإيتاء ] نحو : وَأَقامُوا الصَّلاةَ وَآتَوُا الزَّكاةَ [ البقرة/ 277] ، وَإِقامَ الصَّلاةِ وَإِيتاءَ الزَّكاةِ [ الأنبیاء/ 73] ، ووَ لا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئاً [ البقرة/ 229] ، ووَ لَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمالِ [ البقرة/ 247] الایتاء ( افعال ) اس کے معنی اعطاء یعنی دینا اور بخشنا ہے ہیں ۔ قرآن بالخصوص صدقات کے دینے پر یہ لفظ استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا :۔ { وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ } [ البقرة : 277] اور نماز پڑہیں اور زکوۃ دیں { وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ } [ الأنبیاء : 73] اور نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کا حکم بھیجا { وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ } ( سورة البقرة 229) اور یہ جائز نہیں ہے کہ جو مہر تم ان کو دے چکو اس میں سے کچھ واپس لے لو { وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِنَ الْمَالِ } [ البقرة : 247] اور اسے مال کی فراخی نہیں دی گئی لدن لَدُنْ أخصّ من «عند» ، لأنه يدلّ علی ابتداء نهاية . نحو : أقمت عنده من لدن طلوع الشمس إلى غروبها، فيوضع لدن موضع نهاية الفعل . قال تعالی: فَلا تُصاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْراً [ الكهف/ 76] ( ل دن ) لدن ۔ یہ عند سے اخص ہے کیونکہ یہ کسی فعل کی انتہاء کے آغاز پر دلالت کرتا ہے ۔ جیسے قمت عند ہ من لدن طلوع الشمس الیٰ غروبھا آغاز طلوع شمس سے غروب آفتاب اس کے پاس ٹھہرا رہا ۔ قرآن میں ہے : فَلا تُصاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْراً [ الكهف/ 76] تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئے گا کہ آپ کو مجھے ساتھ نہ رکھنے کے بارے میں میری طرف سے عذر حاصل ہوگا ۔ أجر الأجر والأجرة : ما يعود من ثواب العمل دنیویاً کان أو أخرویاً ، نحو قوله تعالی: إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ [يونس/ 72] ، وَآتَيْناهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ [ العنکبوت/ 27] ، وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا [يوسف/ 57] . والأُجرة في الثواب الدنیوي، وجمع الأجر أجور، وقوله تعالی: وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ [ النساء/ 25] كناية عن المهور، والأجر والأجرة يقال فيما کان عن عقد وما يجري مجری العقد، ولا يقال إلا في النفع دون الضر، نحو قوله تعالی: لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ [ آل عمران/ 199] ، وقوله تعالی: فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ [ الشوری/ 40] . والجزاء يقال فيما کان عن عقدٍ وغیر عقد، ويقال في النافع والضار، نحو قوله تعالی: وَجَزاهُمْ بِما صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيراً [ الإنسان/ 12] ، وقوله تعالی: فَجَزاؤُهُ جَهَنَّمُ [ النساء/ 93] . يقال : أَجَر زيد عمراً يأجره أجراً : أعطاه الشیء بأجرة، وآجَرَ عمرو زيداً : أعطاه الأجرة، قال تعالی: عَلى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمانِيَ حِجَجٍ [ القصص/ 27] ، وآجر کذلک، والفرق بينهما أنّ أجرته يقال إذا اعتبر فعل أحدهما، وآجرته يقال إذا اعتبر فعلاهما «1» ، وکلاهما يرجعان إلى معنی واحدٍ ، ويقال : آجره اللہ وأجره اللہ . والأجير : فعیل بمعنی فاعل أو مفاعل، والاستئجارُ : طلب الشیء بالأجرة، ثم يعبّر به عن تناوله بالأجرة، نحو : الاستیجاب في استعارته الإيجاب، وعلی هذا قوله تعالی: اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ [ القصص/ 26] . ( ا ج ر ) الاجر والاجرۃ کے معنی جزائے عمل کے ہیں خواہ وہ بدلہ دنیوی ہو یا اخروی ۔ چناچہ فرمایا : ۔ {إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ } [هود : 29] میرا اجر تو خدا کے ذمے ہے ۔ { وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ } [ العنکبوت : 27] اور ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں سے ہوں گے ۔ { وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ لِلَّذِينَ آمَنُوا } [يوسف : 57] اور جو لوگ ایمان لائے ۔ ۔۔۔ ان کے لئے آخرت کا اجر بہت بہتر ہے ۔ الاجرۃ ( مزدوری ) یہ لفظ خاص کر دنیوی بدلہ پر بولا جاتا ہے اجر کی جمع اجور ہے اور آیت کریمہ : { وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ } [ النساء : 25] اور ان کے مہر بھی انہیں ادا کردو میں کنایہ عورتوں کے مہر کو اجور کہا گیا ہے پھر اجر اور اجرۃ کا لفظ ہر اس بدلہ پر بولاجاتا ہے جو کسی عہد و پیمان یا تقریبا اسی قسم کے عقد کی وجہ سے دیا جائے ۔ اور یہ ہمیشہ نفع مند بدلہ پر بولا جاتا ہے ۔ ضرر رساں اور نقصان دہ بدلہ کو اجر نہیں کہتے جیسے فرمایا { لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ } [ البقرة : 277] ان کو ان کے کاموں کا صلہ خدا کے ہاں ملے گا ۔ { فَأَجْرُهُ عَلَى اللهِ } ( سورة الشوری 40) تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے الجزاء ہر بدلہ کو کہتے ہیں خواہ وہ کسی عہد کی وجہ سے ہو یا بغیر عہد کے اچھا ہو یا برا دونوں پر بولا جاتا ہے ۔ چناچہ فرمایا ۔ { وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوا جَنَّةً وَحَرِيرًا } [ الإنسان : 12] اور ان کے صبر کے بدلے ان کو بہشت کے باغات اور ریشم ( کے ملبوسات) عطا کریں گے ۔ { فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ } ( سورة النساء 93) اس کی سزا دوزخ ہے ۔ محاورہ میں ہے اجر ( ن ) زید عمرا یا جرہ اجرا کے معنی میں زید نے عمر کو اجرت پر کوئی چیز دی اور اجر عمر زیدا کے معنی ہوں گے عمرو نے زید کو اجرت دی قرآن میں ہے :۔ { عَلَى أَنْ تَأْجُرَنِي ثَمَانِيَ حِجَجٍ } [ القصص : 27] کہ تم اس کے عوض آٹھ برس میری خدمت کرو ۔ اور یہی معنی اجر ( مفاعلہ ) کے ہیں لیکن اس میں معنی مشارکت کا اعتبار ہوتا ہے اور مجرد ( اجرتہ ) میں مشارکت کے معنی ملحوظ نہیں ہوتے ہاں مال کے لحاظ سے دونوں ایک ہی ہیں ۔ محاورہ ہی ۔ اجرہ اللہ واجرہ دونوں طرح بولا جاتا ہے یعنی خدا اسے بدلہ دے ۔ الاجیرہ بروزن فعیل بمعنی فاعل یا مفاعل ہے یعنی معاوضہ یا اجرت کا پر کام کرنے والا ۔ الاستیجار کے اصل معنی کسی چیز کو اجرت پر طلب کرنا پھر یہ اجرت پر رکھ لینے کے معنی میں بولا جاتا ہے جس طرح کہ استیجاب ( استفعال ) بمعنی اجاب آجاتا ہے چناچہ آیت کریمہ : { اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ } [ القصص : 26] اسے اجرت پر ملازم رکھ لیجئے کیونکہ بہتر ملازم جو آپ رکھیں وہ ہے جو توانا اور امانت دار ہو میں ( استئجار کا لفظ ) ملازم رکھنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:67) اذا۔ حرف جزا ہے۔ جواب شرط۔ جزا کے لئے آتا ہے تب۔ اس وقت۔ (دیکھو 4:53) اصل میں یہ اذن ہے وقف کی صورت میں نون کو الف کی صورت میں بدل لیتے ہیں۔ یہاں اذا۔ وہ جواب ہے جس کا سوال مقدر ہے۔ جیسے کہ سوال ہے کہ اس خیر انھم اور اشد تثبیتا کے بعد پھر کیا ہوتا تو جواب ہے۔ تو پھر ہم ان کو اپنے پاس سے اجر عظیم عطا کرتے۔ من لدنا۔ ہماری طرف سے لدن ظرف زمان ہے تو نہایت وقت کی ابتداء پر دلالت کرتا ہے۔ جیسے اقمت عندہ من لدن طلوع الشمس الی غروبھا۔ میں اس کے پاس مقیم رہا ابتداء طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک۔ ظرف مکان بھی ہے جس کا معنی ہے پاس۔ طرف ۔ قرآن حکیم میں عموماً اسی کا استعمال ہے مثلاً آیۃ ہذا۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

آیت نمبر 67 تا 70: آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو زندگی کی سہل ترین راہوں پہ چلنے کا حکم دیتے ہیں یعنی دین اسلام زندگی گذارنے کا سب سے آسان طریقہ ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ کام کو کرنے کا درست انداز ہمیشہ آسان ہوتا ہے اور غلط انداز اس کی نسبت مشکل ہوتا ہے اور کام بھی ڈھنگ سے نہیں ہوپاتا سو زندگی تو بہرحال سب کو بسر کرنا ہے اگر آپ کے بتائے ہوئے نظریات اور قواعد کو اختیار نہیں کریں گے تو کوئی نہ کوئی دوسری راہ اپنانا پڑے گی جو نہ صرف مشکل ہوگی بلکہ دو عالم میں کبھی چین نصیب نہ ہوگا پھر کتنے بد نصیب ہیں وہ لوگ جو آپ کی اطاعت سے محروم رہیں حالانکہ آپ کی عظمت اور آپ کا مقام اس سے بہت بلند ہے اگر ہم آپ کی اطاعت کے ثبوت کے لیے یہ حکم ارشاد فرما دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کردو یا اپنے گھروں سے اپنے آبائی وطن سے سب کچھ چھوڑ کر نکل جاؤ اگرچہ انسانی مزاج کے خلاف ہونے کے باعث یہ حکم بہت کٹھن نظر آتا اور کم ہی لوگوں کو اس عمل کرنے کا حوصلہ ہوتا مگر شرط نجات یہی حکم قرار پاتا اور اسی پر عمل کرنے میں بہتری ہوتی اسی کی تعمیل میں خیر بھی ہوتی اور یہی دین پر ثابت قدم رہنے کا باعث بھی بنتا۔ انہیں مشکلات و مصائب پر عمل پیرا ہو کر ہی اللہ کے ہاں سے اجر عظیم بھی پا سکتے اور ایسے ہی لوگوں کو راہ ہدایت بھی نصیب ہوتی۔ یعنی یہاں محض عقل کا گذر نہیں بلکہ بات محبت سے متعلق ہے ایسی محبت جو نفع و نقصان کی گھاٹیوں میں نہ پڑنے دے بلکہ اطاعت کے اس صاف اور روشن میدان میں لے آئے جہاں رخ محبوب سورج کی طرح سامنے جلوے بکھیر رہا ہو یہ تو اللہ کریم کا بہت برا احسان ہے کہ عقائد و نظریات صاف ستھرے اور ساری مخلوق کے سامنے سے اٹھر کر مومن کی پیشانی کو صرف اور صرف ذات باری تعالیٰ کی چوکھٹ پر جھکنے کی سعادت بخشی اس کے ساتھ لباس خوراک ، جنس گھر ، اولاد ، دولت جائیداد کسی بھی نعمت دنیا کو ترک کرنے یا اس سے محروم رہنے کا حکم نہیں دیا ان سب نعمتوں کے حصول کا خوبصورت ترین انداز تعمیر فرما کر زندگی کی راہیں آسان کردیں اور اسی کو دین و مذہب بھی قرار دے کر قرب الہی اور اجر عظیم کا سبب قرار دے دیا عبادات تو مزید انعام ہیں کہ مومن کو شرف حضوری نصیب رہے اور اس کا دل آباد ، پیشانی روشن تابندہ رہے اور یہی نہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت ہی اللہ کریم کی اطاعت ہے بلکہ اس پر اس قدر عظیم انعامات مرتب ہوتے ہیں جن کا اندازہ صرف اللہ کے بتانے سے ہی ممکن ہے ورنہ انسانی سوچ کے پر جھڑ جاتے ہیں اسے سمجھنے کے لیے تھوڑی سی تفصیل درکار ہوگی اور وہ یہ کہ باقی تمام قسم کی مخلوق میں اور انسان میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ انسان کو اور صرف انسان کو یہ شعور عطا فرمایا گیا کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق اللہ کی ذات کو پہچان سکے۔ اس کی معرفت حاصل کرسکے اسی لیے اس کی راہنمائی عظمت باری ، جمالِ باری اور احسانات باری کی طرف کی گئی اور اس کی عبادت و اطاعت کی دعوت تو ضرور دی گئی مگر اطاعت پہ مجبور نہیں کیا گیا اس لیے کہ اگر اسے کوئی ذرہ معرفت کا نصیب ہوجائے تو اسے بغیر اطاعت چین ہی نہیں ملتا اور اگر اس نعمت سے محروم رہے تو گویا انسانیت ہی سے محروم ہوگیا اب کمال معرفت نبوت ہے اللہ کریم کی جو پہچان اس کی عظمت کا جو ادراک مقام نبوت پر فائز ہو کر نصیب ہوسکتا ہے وہ بغیر اس مقام پر پہنچ نصیب نہیں ہوتا اور نبوت صرف انسانوں کو عطا فرمائی گئی دوسری کسی مخلوق کو اس مرتبہ عظیم سے نوازا ہی نہیں گیا اس لیے کہ اس کی استعداد ہی صرف انسانوں میں ودیعت فرمائی گئی تھی اب نبوت کا دوسرا خاصہ یہ ہے کہ یہ وہبی نعمت ہے یعنی اللہ کریم کی طرف سے عطا ہوتی ہے کوئی شخص محنت کرکے یا مجاہدہ کرکے حاصل نہیں کرسکتا مگر جو لوگ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حق ادا کرتے ہیں انہیں انبیاء کی معیت حاصل ہوسکتی ہے یعنی اگر نبی اس محل میں بطور شہنشاہ تشریف رکھتا ہے تو امتی بھی بطور خادم کے شرف باریابی پا سکتا ہے مگر یہ اس کا مقام نہیں ہوتا جیسے محل کسی غلام کا نہیں ہوسکتا دوسرے وہ باتباع نبوت وہاں تک پہنچتا ہے جبکہ نبی کی ذات کا وہی مقام ہوتا ہے۔ یہ بہت بازک بحث ہے اسے اس طرح بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ روحانی ترقی کے مدارج جب نصیب ہوتے ہیں تو ایک حد ہے جہاں تک ولایت اولیا کہلاتی ہے اس سے آگے ولایت انبیاء شروع ہوتی ہے اس سے مراد وہ ولایت ہے جو انبیاء کو بعثت سے قبل نصیب ہوتی ہے یہاں تک اولیاء اللہ کی رسائی ممکن ہے یہ ضروری نہیں کہ ہر ولی اللہ وہاں تک رسائی رکھتا ہو مگر ایسا ہوسکتا ہے اور اللہ کے بندوں میں سے بیشتر کو یہ نعمت نصیب ہوتی ہے اس سے آگے وہ مقامات بلند ہیں جو نبوت کا خاصہ ہیں اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو بعد از بعثت جن میں عروج نصیب ہوتا ہے امتی کو بھی ان میں رسائی نصیب ہوسکتی ہے مگر صرف بطور خادم بادشاہ کے ہمرکاب اور بس اور وہاں جن کو اللہ نے پہنچایا انہیں جو درجہ معرفت کا نصیب ہوا یہ نبوت کے بعد عظیم تر ہے اور یہی صدیقیت ہے یہ ایک منصب و مرتبہ بھی ہے اور مقام و کیفیت بھی جسے یہ منصب نصیب ہوتا ہے اس کی ذات کا وصف بن جاتا ہے جیسے ابوبکر صدیق (رض) اور جس کا گذر ان مقامات تک ہوتا ہے اسے بھی ان کیفیات میں سے حظ وافر نصیب ہوتا ہے یہ یاد رہے کہ ایسے خوش نصیب صدیوں میں کوئی ایک نظر آتے ہیں اور ایک بات خاص طور پر جان لینے کی ہے کہ اگر نبی کو صدیق کہا جائے گا تو اس کا شان بحیثیت نبی کے ہوگا اگر صحابی کو یہ مرتبہ نصیب ہوگا تو اس کا شان اپنی حیثیت کے مطابق اور ولی کو نصیب ہوگا تو اس کی حیثیت اپنی کہ یہ داخلی اوصاف ہیں صدیق شہید اور صالح ہونا تو یہ سب اوصاف بیک وقت ایک انسان میں بھی جمع ہوسکتے ہیں جیسے عالم ہونا شمشیر زن ہونا اور اچھا ڈرائیور ہونا علیحدہ ہونے کے باوجود ایک انسان کے اوصاف بھی ہوسکتے ہیں۔ اس کے بعد شہید کا مقام ہے یہ اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال ہوتی ہے جو اللہ کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کردیتے ہیں مگر ایسے لوگ بھی جو روحانی بلندی کی ان منازل پر فائز ہوتے ہیں جو قرب الہی کی لذتیں اور جمال الہی کی راحتیں دوسری طرف جانے نہیں دیتیں حتی کہ وہ موت قبول کرسکتے ہیں مگر اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی قبول کرنا ان کے بس میں نہیں ہوتا وہ بھی شہید ہوتے ہیں اور اگر کوئی عظمت صدیقیت کی کیفیات تک نہ سہی لطف شہادت تک ہی پہنچ پاتا ہے ورنہ صالحین کا یہ چوتھا درجہ ارشاد ہوا ہے کہ ایسے لوگ جن کی سوچ نیک ارادے نیک عمل نیک اور ایک ایسی کیفیت جس نے انہیں یہ انداز بخشا اطاعت رسول کے باعث نصیب ہوجاتی ہے اس آیہ کریمہ کا شان نزول سیدہ عائشۃ الصدیقہ سے یوں روایت ہے کہ ایک صحابی نے مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ یہاں تو جب جی چاہتا ہے آپ کے جمال سے آنکھیں روشن اور دل ٹھنڈا کرلیتے ہیں مگر آخرت میں آپ مقام محمود کی بلندیوں پر تشریف فرما ہوں گے ہم عاجز جنت پہنچ بھی پائیں گے یا نہیں اور پہنچ گئے مگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محفل و زیارت نصیب نہ ہوئی تو پھر جنت بھی ہمیں کوئی راحت نہ دے سکے گی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سکوت فرمایا کہ یہ آیات نازل ہوئیں جن کا مفہوم مختصراً یہ ہے کہ اطاعت شرط ہے وہ اطاعت جس میں جذب دروں ہو محبت کی چاشنی ہو چون و چناں سے بالاتر پھر دیکھو جنت میں بھی گھر تو اپنے اپنے ہوں گے مگر حاضری سے روکا نہ جائے گا مفسرین کرام نے اس کی مختلف صورتیں نقل فرمائی ہیں مگر دنیا اخروی زندگی کی اساس ہے اور ساری عمارت اسی بنیاد پر بنتی ہے سو جنہیں آخرت کی مجالس میں حاضری کا شرف نصیب ہوگا وہ دنیا میں بھی کیفیات و لذات معیت رسالت سے مستفید ہوتے ہیں اور کیفیات محسوس کی جاسکتی ہیں ، انہیں لکھنا پڑھنا یا بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا اللہ کریم ہمیں اس درجے کی غلامی نصیب فرمائے جو ہمارے قلوب کو بھی ان کے پرتو جمال سے روشن کردے۔ آمین

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi