Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 69

سورة النساء

وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیۡنَ اَنۡعَمَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیۡقِیۡنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیۡنَ ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیۡقًا ﴿ؕ۶۹﴾

And whoever obeys Allah and the Messenger - those will be with the ones upon whom Allah has bestowed favor of the prophets, the steadfast affirmers of truth, the martyrs and the righteous. And excellent are those as companions.

اور جو بھی اللہ تعالٰی کی اور رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی فرمانبرداری کرے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ تعالٰی نے انعام کیاہے ، جیسے نبی اور صدیق اور شہید اور نیک لوگ یہ بہترین رفیق ہیں ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

And whoever obeys Allah and the Messenger, then they will be in the company of those on whom Allah has bestowed His grace, of the Prophets, the Siddiqin, the martyrs, and the righteous. And how excellent these companions are! Consequently, whosoever implements what Allah and His Messenger have commanded him and avoids what Allah and His Messenger have prohibited, then Allah will grant him a dwelling in the Residence of Honor. There, Allah will place him in the company of the Prophets, and those who are lesser in grade, the true believers, then the martyrs and then the righteous, who are righteous inwardly and outwardly. Allah then praised this company, وَحَسُنَ أُولَـيِكَ رَفِيقًا (And how excellent these companions are!). Al-Bukhari recorded that Aishah said, "I heard the Messenger of Allah saying, مَا مِنْ نَبِيَ يَمْرَضُ إِلاَّ خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالاْاخِرَة Every Prophet who falls ill is given the choice between this life and the Hereafter. During the illness that preceded his death, his voice became weak and I heard him saying, مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاء وَالصَّالِحِينَ (in the company of those on whom Allah has bestowed His grace, the Prophets, the true believers (Siddiqin), the martyrs and the righteous). I knew then that he was being given the choice." Muslim recorded this Hadith. This Hadith explains the meaning of another Hadith; the Prophet said before his death; اللَّهُمَّ فِي الرَّفِيقِ الاَْعْلَى O Allah! In the Most High Company, three times, and he then died, may Allah's best blessings be upon him. The Reason Behind Revealing this Honorable Ayah Ibn Jarir recorded that Sa`id bin Jubayr said, "An Ansari man came to the Messenger of Allah while feeling sad. The Prophet said to him, `Why do I see you sad?' He said, `O Allah's Prophet! I was contemplating about something.' The Prophet said, `What is it?' The Ansari said, `We come to you day and night, looking at your face and sitting by you. Tomorrow, you will be raised with the Prophets, and we will not be able to see you.' The Prophet did not say anything, but later Jibril came down to him with this Ayah, وَمَن يُطِعِ اللّهَ وَالرَّسُولَ فَأُوْلَـيِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ (And whoever obeys Allah and the Messenger then they will be in the company of those on whom Allah has bestowed His grace, of the Prophets), and the Prophet sent the good news to the Ansari man." This Hadith was narrated in Mursal form from Masruq, Ikrimah, Amir Ash-Sha`bi, Qatadah and Ar-Rabi bin Anas. This is the version with the best chain of narrators. Abu Bakr bin Marduwyah recorded it with a different chain from Aishah, who said; "A man came to the Prophet and said to him, `O Messenger of Allah! You are more beloved to me than myself, my family and children. Sometimes, when I am at home, I remember you, and I cannot wait until I come and look at you. When I contemplate about my death and your death, I know that you will be with the Prophets when you enter Paradise. I fear that I might not see you when I enter Paradise.' The Prophet did not answer him until the Ayah, وَمَن يُطِعِ اللّهَ وَالرَّسُولَ فَأُوْلَـيِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاء وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَـيِكَ رَفِيقًا And whoever obeys Allah and the Messenger, then they will be in the company of those on whom Allah has bestowed His grace, of the Prophets, the true believers, the martyrs, and the righteous. And how excellent these companions are! was revealed to him." This was collected by Al-Hafiz Abu Abdullah Al-Maqdisi in his book, Sifat Al-Jannah, he then commented, "I do not see problems with this chain." And Allah knows best. Muslim recorded that Rabi`ah bin Ka`b Al-Aslami said, "I used to sleep at the Prophet's house and bring him his water for ablution and his needs. He once said to me, `Ask me.' I said, `O Messenger of Allah! I ask that I be your companion in Paradise.' He said, `Anything except that?' I said, `Only that.' He said, فَأَعِنِّي عَلى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السُّجُود Then help me (fulfill this wish) for you by performing many prostrations." Imam Ahmad recorded that `Amr bin Murrah Al-Juhani said, "A man came to the Prophet and said, `O Allah's Messenger! I bear witness that there is no deity worthy of worship except Allah and that you are the Messenger of Allah, pray the five (daily prayers), give the Zakah due on my wealth and fast the month of Ramadan.' The Messenger of Allah said, مَـــنْ مَـــاتَ عَلى هَـــذَا كَانَ مَـــعَ النَّبِيِّيــنَ وَالصِّــدِّيقِينَ وَالشُّــهَدَاءِ يَـــــــــوْمَ الْقِيَـــــامَةِ هَكَذا وَنَصَبَ أُصْبُعَيْهِ مَا لَمْ يَعُقَّ وَالِدَيْه Whoever dies in this state will be with the Prophets, the truthful and martyrs on the Day of Resurrection, as long as - and he raised his finger - he is not disobedient to his parents." Only Ahmad recorded this Hadith. Greater news than this is in the authentic Hadith collected in the Sahih and Musnad compilations, in Mutawatir form, narrated by several Companions that the Messenger of Allah was asked about the person who loves a people, but his status is not close to theirs. The Messenger said, الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَب One is with those whom he loves. Anas commented, "Muslims were never happier than with this Hadith." In another narration, Anas said, "I love the Messenger of Allah, Abu Bakr and Umar, and I hope that Allah will resurrect me with them, even though I did not perform actions similar to theirs." Allah said,

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

69۔ 1 اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کا صلہ بتلایا جا رہا ہے اس لئے حدیث میں آتا ہے۔ آدمی انہیں کے ساتھ ہوگا جن سے اس کو محبت ہوگی ' حضرت انس (رض) فرماتے ہیں ' صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو جتنی خوشی اس فرمان رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سن کر ہوتی اتنی خوشی کبھی نہیں ہوئی، کیونکہ وہ جنت میں بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رفاقت پسند کرتے تھے۔ اس کی شان نزول کی روایات میں بتایا گیا ہے کہ بعض صحابہ کرام نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے گا اور ہمیں اس سے فروتر مقام ہی ملے گا اور یوں ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت ورفاقت اور دیدار سے محروم رہیں گے۔ جو ہمیں دنیا میں حاصل ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر ان کی تسلی کا سامان فرمایا (ابن کثیر) بعض صحابہ (رض) نے بطور خاص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنت میں رفاقت کی درخواست کی (اسالک مرافقتک فی الجنۃ) جس پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں کثرت سے نفلی نماز پڑھنے کی تاکید فرمائی (فأعنی علی نفسک بکثرۃ السجود) پس تم کثرت سجود کے ساتھ میری مدد کرو۔ علاوہ ازیں ایک اور حدیث ہے (التاجر الصدوق الامین مع النبیین والصدیقین والشہداء) (ترمذی۔ کتاب البیوع باب ماجاء فی التجار و تسمیۃ النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایاھم) راست باز، امانت دار، تاجر انبیا، صدیقین اور شہدا کے ساتھ ہوگا۔ صدیقیت، کمال ایمان و کمال اطاعت کا نام ہے، نبوت کے بعد اس کا مقام ہے امت محمدیہ میں اس مقام میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) سب سے ممتاز ہیں۔ اور اسی لیے بالاتفاق غیر انبیاء میں وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد افضل ہیں، صالح وہ ہے جو اللہ کے حقوق اور بندوں کے حقوق کامل طور پر ادا کرے اور ان میں کوتاہی نہ کرے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[٩٩] منعم علیہم کون کون ہیں ؟ اس آیت میں چار قسم کے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ فضیلت اور درجہ کے لحاظ سے بلند تر مقام رکھتے ہیں (١) انبیاء۔ اس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں کہ نبی ہی اپنی امت کا افضل ترین فرد ہوتا ہے جسے اللہ نبوت کے لیے چن لیتا ہے۔ (٢) صدیق سے مراد ایسا شخص ہے جو اپنے ہر معاملہ میں راست باز ہو حق کا ساتھ دینے والا، ہمیشہ سچ بولنے والا، حق کی فوراً گواہی دینے والا اور باطل کے خلاف ڈٹ جانے والا ہو۔ (٣) شہید کا بنیادی معنیٰ گواہ ہے۔ اور اللہ کی راہ میں جان دینے والے کو شہید اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اپنے ایمان کی صداقت پر اپنی زندگی کے پورے طرز عمل سے شہادت دیتا ہے۔ حتیٰ کہ اپنی جان دے کر یہ ثابت کردیتا ہے کہ وہ جس چیز پر ایمان لایا تھا اسے فی الواقع درست سمجھتا تھا۔ (٤) صالح سے مراد ایسا نیک سرشت آدمی ہے جس کے ہر عمل اور ہر حرکت سے اس کی نیکی ظاہر ہوتی ہو اور اپنی پوری زندگی میں نیک رویہ رکھتا ہو۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی بسر و چشم اطاعت کرتا ہو، اس آیت میں اسے اخروی زندگی میں مندرجہ بالا چار قسم کے لوگوں کی رفاقت کی خوشخبری دی گئی ہے۔ اور یہ دراصل اس کے اعمال کا بدلہ نہیں بلکہ محض اللہ کا فضل ہوگا۔ مندرجہ ذیل احادیث اسی مضمون کی تفسیر پیش کرتی ہیں : ١ آپ کی رفاقت کیسے ؟ سیدنا انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔ دروازے پر ہمیں ایک آدمی ملا اور کہنے لگا & یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! قیامت کب آئے گی ؟ & آپ نے اس سے پوچھا & کیا تو نے قیامت کے لیے کچھ تیاری کر رکھی ہے ؟ & وہ کچھ جھینپ سا گیا اور کہنے لگا۔ & یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے نہ کچھ لمبے چوڑے روزے رکھے ہیں نہ نماز ہے اور نہ صدقہ۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں۔ & آپ نے فرمایا تو & قیامت کے دن) اسی کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے۔ & (بخاری، کتاب الاحکام، باب القضاء والفتیا فی الطریق) ٢۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آپ نے فرمایا & ہر نبی کو اس کے مرض میں اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہے تو دنیا میں رہے اور چاہے تو آخرت کو پسند کرے۔ & پھر آپ کو جب مرض الموت میں سخت دھچکا لگا تو میں نے سنا آپ فرما رہے تھے (مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّهَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا 69؀ۭ ) 4 ۔ النسآء :69) ۔۔ & تو میں سمجھ گئی کہ آپ کو بھی یہ اختیار ملا (اور آپ نے سفر آخرت کو پسند فرمایا) ۔ (بخاری، کتاب التفسیر) ٣۔ سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی (رض) کہتے ہیں کہ میں رات کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس رہا کرتا اور آپ کے پاس وضو اور حاجت کا پانی لایا کرتا۔ ایک دفعہ (میں آپ کو وضو کروا رہا تھا تو) آپ نے (خوش ہو کر) فرمایا & مانگ کیا مانگتا ہے ؟ & میں نے کہا & میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں۔ & آپ نے فرمایا & اس کے علاوہ کوئی اور بات بتاؤ & میں نے کہا & میں تو یہی چیز مانگتا ہوں & آپ نے فرمایا & اچھا تو پھر کثرت سجود (نماز نوافل وغیرہ) کو اپنے آپ پر لازم کرلو اور اس طرح اس سلسلہ میں میری مدد کرو۔ & (مسلم، کتاب الصلوۃ باب مایقال فی الرکوع والسجود کیونکہ سجدہ ہی وہ عبادت ہے جس میں بندے کو اللہ سے نہایت قرب حاصل ہوتا ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

یہ صدق سے مبالغہ ہے، یعنی جو بہت سچا ہو۔ بعض نے کہا، جو کبھی جھوٹ نہ بولے۔ بعض نے کہا، صدیق وہ ہے کہ صدق کی عادت کی وجہ سے اس سے جھوٹ ناممکن ہو اور بعض نے کہا کہ جو اپنے اعتقاد اور قول میں سچا ہو اور اپنے فعل کے ساتھ اپنے صدق کو ثابت کرے۔ ( مفردات) استاد محمد عبدہ (رض) لکھتے ہیں کہ صدیق صدق سے مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی جو جملہ امور دین کی تصدیق کرنے والا ہو اور کبھی کسی معاملے میں خلجان اور شک اس کے دل میں پیدا نہ ہو، یا وہ جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق میں سبقت کرنے کی وجہ سے دوسروں کے لیے اسوہ بنے، اس اعتبار سے اس امت کے صدیق ابوبکر (رض) ہی ہوسکتے ہیں، کیونکہ ابوبکر صدیق (رض) دوسرے افاضل صحابہ کے لیے نمونہ بنے ہیں۔ علی (رض) بھی اول مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں، مگر چھوٹے بچے ہونے کی وجہ سے دوسروں کے لیے نمونہ نہیں بن سکے۔ چونکہ نبی کے بعد صدیق کا درجہ ہے، اس لیے علمائے اہل سنت کا اجماع ہے کہ ابوبکر صدیق (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سب سے افضل ہیں۔ ” الشہداء “ یہ شہید کی جمع ہے، اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان دی اور امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بھی شہداء ہونے کا شرف حاصل ہے، اور ” الصالحین “ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو ہر طرح عقیدہ و عمل کے اعتبار سے صالح اور درست رہے اور ہر قسم کے فساد سے محفوظ رہے۔ (رازی) مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ ۔۔ : یہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کے انعام کا ذکر ہے کہ انھیں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی معیت، یعنی ان کا ساتھ نصیب ہوگا۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام (رض) کو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رہنے کا شوق بہت زیادہ تھا، دنیا میں بھی وہ اس کے بہت مشتاق تھے اور انھیں جنت میں آپ کی معیت کا شوق تو حد سے زیادہ تھا۔ ربیعہ بن کعب اسلمی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس رات بسر کیا کرتا تھا اور آپ کے لیے پانی اور دیگر ضروریات کا اہتمام کردیا کرتا تھا، ایک دن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کچھ مانگ لو ! “ میں نے عرض کی : میں آپ سے جنت میں آپ کی مرافقت (ساتھ) کا سوال کرتا ہوں۔ “ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” کوئی اور سوال ؟ “ میں نے عرض کی : ” وہ بھی یہی ہے۔ “ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” پھر سجدوں کی کثرت کے ساتھ اپنے بارے میں میری مدد کرو۔ “ [ مسلم، الصلاۃ، باب فضل السجود والحث علیہ : ٤٨٩ ] یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خالص محبت اور اطاعت کی برکت ہے کہ اگر عمل میں کچھ کمی ہوئی تب بھی اطاعت و اخلاص کی وجہ سے اتنے اونچے لوگوں کا ساتھ مل جائے گا۔ عبداللہ بن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : ” آپ اس شخص کے متعلق کیا فرماتے ہیں جو کچھ لوگوں سے محبت رکھتا ہے، مگر ابھی تک ( اعمال میں) ان سے نہیں مل سکا۔ “ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ” آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس سے اسے محبت ہوگی۔ “ [ بخاری، الأدب، باب علامۃ الحب فی اللہ عزوجل : ٦١٦٩ ] حقیقت یہ ہے کہ اطاعت اور محبت لازم و ملزوم ہیں، وہ محبت جس میں اطاعت نہ ہو جھوٹی ہے اور وہ اطاعت جس کی بنیاد محبت نہ ہو، دکھاوا ہے۔ ہاں، محبت و اخلاص کے ساتھ عمل و اطاعت میں کچھ کمی ہوگی تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے فضل سے پورا کر دے گا، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین سے زیادہ اچھا ساتھی کوئی نہیں اور اللہ کے فضل سے بڑی نعمت کوئی نہیں اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے دلوں کے حالات خوب جانتا ہے کہ کسے کس کے ساتھ رکھنا ہے۔ انس (رض) فرماتے ہیں : ” مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت ہے، ابوبکر و عمر (رض) سے محبت ہے، لہٰذا مجھے امید ہے کہ ان کے ساتھ محبت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ مجھے ان کے ساتھ ہی اٹھائیں گے، گو میں ان جیسے عمل نہیں کرسکا۔ “ [ بخاری، الفضائل، باب مناقب عمر بن الخطاب : ٣٦٨٨ ]

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

1.Siddiq, lexically means &very truthful&. In the Islamic terminology, it normally refers to those Companions of a prophet who excel all others in their submission to Allah and His Messenger. They enjoy the highest status of piety after the Prophets, like Sayyidna Abu Bakr (رض) 2. Shuhada (plural of Shahid) means the persons who sacrificed their lives in the way of Allah. The word has not been translated here by the word &martyr` which sometimes is taken as an equivalent of Shahid, because the word &martyr& is also applied for the persons killed in ethnic or racial wars while they may not be termed as &Shuhada& in the Islamic terminology. In the verses appearing immediately earlier, the promise of a great reward was made to special addressees. at appears in the present verses is a universal promise. that those who obey Allah and His Messenger shall be rewarded as a standing rule. Commentary: Deeds wi11 be the criterion in ranks of Paradise Those who do everything Allah and His Messenger have asked them to do and stay away from everything Allah and His Messenger have prohibited, shall receive different ranks in terms of their deeds. The foremost among them will be blessed with the highest stations of Paradise along with the noble prophets, may peace be upon- them all. Next to them will come those who will be blessed with the rank of those who are only next to prophets. They are known as the Siddiqin, that is, the great Companions of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who came forward to believe in the very initial stage without any hesita¬tion or hostility, like Sayyidna Abu Bakr (رض) . Then, there will be a third rank of people who will be with the noble Shuhada. The Shuhada& are people who sacrificed their lives and wealth in the way of Allah. Then, those in the fourth rank will be with the revered Righteous. The Salihin or the Righteous are people who restrict themselves, outwardly and inwardly, to doing only what is good and right. In short, all those who are totally obedient to Allah and His Messenger shall be in the company of those who are the most exalted and the most favoured in the sight of Allah Almighty and who have been identified here under four ranks: Prophets, Siddiqin, Shuhada& and Salihin (righteous). The Background of Revelation This verse was revealed in the background of a special event which has been reported by the great commentator, Ibn Kathir as based on several sound authorities. It so happened, narrates Sayyidah ` A&ishah (رض) ، that a Companion came to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) one day and said to him: &Ya Rasulallah, I hold you dear, dearer than my own life, even more than my wife and more than my children. There are times when I do not seem to be at peace with myself even in my house until I come to you and have the pleasure of looking at you. That finally gives me the peace I missed. Now, I am worried about the time when you will leave this mortal world and I too will be taken away by death. In that case, what I know for sure is that you will be in Paradise with the blessed prophets housed in its most exalted stations. As for myself, first of all, I just do not know whether or not I shall be able to reach Paradise. Even if I do reach there, the level where I shall be will be way below from where you are. If I am unable to visit you and have the pleasure of seeing you there, how am I going to put this impatient heart of mine at rest?& The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) quietly heard what he said, but made no response, until came the revelation of this particular verse (69) وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَالرَّ‌سُولَ فَأُولَـٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ﴿٦٩﴾ It was only then that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gave him the glad tidings that the obedient ones shall have occasions to meet with the prophets, the Siddiqin, the Shuhada& and the righteous. In other words, despite the relative precedence of ranks in Paradise, there will be occasions of meeting and sitting together. Some forms of &meeting& in Paradise One such form will be that people will see each other from where they are, as it has been reported in Mu&atta of Imam Malik (رح) on the authority of a narration from Sayyidna Abu Said al-Khudri (رض) that the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: &The inmates of Paradise will see those in the strata above them like you see stars in the physical world.& Also there will be yet another form when visits will be made to the strata where they are, as Ibn Jarir has reported on the authority of a narration from Sayyidna Rabi& that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، while explaining this verse, said: &Those of the strata above will come down to those of the strata below to meet and sit with them.& It also possible that those of the strata below have the permis¬sion to visit and meet those of the higher strata, as the Holy Prophet 4 has, on the basis of this verse, given many people the glad tidings of being with him in the Paradise. It appears in Sahih Muslim &that Sayyidna Ka` b ibn Aslami ,.L .1JI used to spend nights in the company of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) At the time of Tahajjud on one of such nights, Sayyidna Ka&b Aslami (رض) brought water for wudu, the miswak and other things he might need at that time. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، quite pleased with him, said: &Is there anything I can do for you? Go ahead, ask.& Sayyidna Ka&b Aslami (رض) said: &I wish to have your company in Paradise.& He said: &Anything else?& Sayyidna Ka` b (رض) said: &Nothing else.& Thereupon, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: &If you want to be with me in Paradise, then |" أعنی علی نفسک بکثرۃ اسجود |" (literally - &help me by taking upon yourself the doing of plenty of prostrations& ). The elegant prophetic expression means that &your wish shall be granted, but you can also help me in this by offering plenty of prostrations (sujud, sajdah) that is, plenty of voluntary prayers (nawafl). According to the Musnad of Ahmad, a man came to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . and said: &Ya Rasulallah, I have testified that there is none worthy of worship other than Allah, and that you are the true Messenger of Allah, and I dutifully perform the five prescribed prayers every day, pay the Zakah due on me and fast during the month of Ramadan.& Hearing this, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: &Anyone who dies in this state will be with the prophets, the Siddiqin and the Shuhada - only if he does not disobey his parents.& Similarly, there is another hadith from Tirmidhi in which the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) reported to have said: اَلتاجر الصدوق الامین مع النبیِّن وَالصِّدِّیقین وَالشُھَدَآءِ , (The businessman who is truthful and trusty will be with the prophets and the Siddiqin and the Shuhada& ). Love is the sine qua non of Nearness The blessed company of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) can be acquired by loving him. This is conclusively proved by what has been reported in Sahih al-Bukhari on the authority of many uninterrupted chains of narrations from a large body of the noble Companions (رض) of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he, on being asked as to what will be the status of a person who does belong to a group emotionally but fails to achieve the standards of deeds set by it, said: اَلمَرَء مَعَ مَن اَحَبَّ that is, (on the Day of Resurrection) everyone will be with the ones whom he loves. Sayyidna Anas (رض) days that the Noble Companions (رض) were never so pleased with anything else in this mortal world as they were when they heard this hadith, because it gave them the most wonderful news, a delightful prophecy indeed, that those who love the Holy Prophet صلی اللہ علیہ وسلم will be with their noble master on the plains of Resurrection and in the gardens of Paradise. The company of the Holy Prophet is not restricted to any colour or race In al-Mu&jim al-Kabir al-Tabarani has reported from Sayyidna ` Abdullah ibn ` Umar (رض) that an Ethiopian came to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: &Ya Rasulallah, may His blessings be upon you, not only that you are distinct from us in the beauty of your physique and the colour of your skin but you also have the distinction of being a prophet and messenger of Allah. Now, if I were to believe in what you believe and do what you do, can I too have the honour of being with you in the Paradise?& The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ~ said: &Definitely yes (forget about your being black). I swear by the Power whose hands hold my life that all members of the black race will become fair and beautiful in Para¬dise radiating in their presence from a distance which might take a thousand years to cover. Then, Allah takes upon Himself the success and salvation of a person who says and believes in لا إلہ إلا اللہ ، (There is no god but Allah) and a person who recites سُبحانَ اللہ و بِحَمدِہ (Subhanallahi wa bihamdihi: &Pure is Allah and praised is He& ) has one hundred and twenty four thousand virtues written. in his Book of Deeds.& Hearing this, someone present there said: &Ya Rasulallah, when Allah is generous in giving such enormous awards on such minor good deeds, how can we ever perish or be punished?& He said: & (That is not the point), the truth is that some people will come up on the Day of Doom with so many virtues and good deeds, so many that, should all these be placed on a mountain, even the mountain would find their weight too heavy to hold. But, when they are compared to the bless¬ings from Allah (bestowed on them in the worldly life), man&s deeds and virtues remain no match to them - unless Allah Almighty Himself elects to be generous and merciful to him. It was this question and answer with the Ethiopian brother which caused the revelation of the following verse of Surah Ad-Daher: هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنسَانِ حِينٌ مِّنَ الدَّهْرِ‌ لَمْ يَكُن شَيْئًا مَّذْكُورً‌ا ﴿١﴾ (that is, man has indeed been through a period of time being nothing-76:1). Surprised, the Ethiopian gentleman asked: &Ya Rasulallah, will my eyes be seeing the same blessing which your blessed eyes will be witnessing?& He (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: &Definitely yes.& Hearing this, the newly converted Muslim from Ethiopia started weeping and so much so that he died in that very state - weeping his heart out. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) performed his last rites, bathing and shrouding and offering salatul¬ janazah and burial, all with his own blessed hands. Ranks of Paradise: Some details Now that we have gone through an explanation of the verse, including the background of its revelation and related clarifications, the only thing that remains to be determined is the nature of the four ranks of people blessed by Allah. We have to find out as to what is the basis on which these ranks have been established, how they are interconnected and how are they different from each other, and whether or not can these converge into one person. Commentators have written in great details about this subject. Some say that all these four ranks can be found in one person. According to them, all these attributes are overlapping because the one identified as &prophet& in the Holy Qur&an has also been called by the title of &siddiq&. For example, it has been said about Sayyidna Ibrahim (علیہ السلام) (Surely, he was a man of truth, a prophet - 19:41); and about Sayyidna Yahya (علیہ السلام) (and a prophet from among the righteous - 3:39); and similarly, about Sayyidna &Isa (علیہ السلام) (and he shall speak to the people in the cradle) &as well as in middle age, and shall be one of the right¬eous& - 3:46. The outcome is that, though these four attributes and ranks are distinct in terms of meaning and sense, yet it is possible to find all these combined in one person. Let us take an example to illustrate the proposition. Religious scholars, the ` ulama` are identified by their attributions, such as a Mufassir (commentator of the Holy Qur&an), a Muhaddith (scholar of hadith), a Faqih (Muslim jurist), a مُؤرِّخ Muwarrikh (historian). But, there could be some scholars who may combine in their person the excellence of all these fields. In our own time, when the trend is towards interdisciplinary education and training, it is not so difficult to conceive the convergence of the attributes of a doctor, an engineer and a pilot, all in one person. However, in accordance with commonly recognized practice, a person gets to be identified with an attribute which comes to take a dominating position in his life-work because of which such a person is usually associated with that particular field. It is for this reason that commentators generally take. &Siddiqin& to mean the most illustrious Companions of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and Shuhada& to mean the martyrs of the battle of Uhud and Salihin as signifying the general run of righteous Muslims. Imam Raghib al-Isfahani (رح) has determined that all these four ranks are different. The same things find mention in Tafsir al-Bahr al-Muhit, Ruh al-Ma&ani and Mazhari. The sense of this approach is that Allah Almighty has, in this verse classified true Muslims in four categories or ranks and for each He has appointed stations of precedence, and common Muslims have been induced to see that they do not lag far behind in their efforts to achieve the rankings of any of these ideal ones. Waging the best of their intellectual and practical struggle, they must do the best they can to reach such stations of excellence. However, the station of prophethood is something which can never be acquired by effort and struggle, but there is something one still gets to have and that is the company of the prophets. Imam Raghib (رح) says that the highest among these ranks is that of the prophets, may peace be upon them. They enjoy the support of the Divine power. They &are like someone who is seeing something from a close range. Therefore, Allah Almighty has said about such people: (Do you argue with him over what he sees? - 53:12). The definition of the Siddiqin The second rank is that of the Siddiqin. These are people close to the blessed prophets in the quality of spiritual excellence. They are like someone seeing something from a distance. Somebody asked Sayy¬idna ` Ali (رض) &Have you seen Allah Almighty?& He said: &I cannot worship something I have not seen.& Then, he further said: &Though people have not seen Allah Almighty with their eyes, but their hearts have seen Him through the realities of faith.& By his act of &seeing&, Sayyidna ` Ali meant the kind of sighting he has referred to later, for such intellectual or intuitive perception is like seeing. The definition of the Shuhada& The third rank is that of the Shuhada&. These are people who recog¬nize their ultimate objective through the chain of reasons and proofs. They have no access to direct vision, that is, mushahada is what they miss. They are like someone seeing something in a mirror from a close range - very similar to what Sayyidna Harithah (رض) said: &I feel I am seeing the Throne of my most sublime Lord.& The expression اَن تَعبُدَ اللہ کَاَنَّکَ تَرَاہُ ( (That you worship Allah as if you are seeing Him) in the famous hadith may also be interpreted to mean this very kind of &seeing&. The definition of the Sa1ihin The third rank is that of the Salihin. These are people who recog¬nize their ultimate objective through following the precepts of Shari&ah. It is like someone sees something in a mirror from a distance. In the other part of the famous hadith quoted above: فَاِن لَّم تَکُن تراہُ فَاِنَّہ یَرَاکَ (And if you cannot see Him, then, He sees you anyway) the reference may be to this very level of &seeing&. In short, this investigative approach taken by Imam Raghib al-Isfahani shows that all these ranks are ranks that reflect the quantum of knowledge one has of His Lord, and that the different gradations that are there are based on the respective rankings of this knowledge. As for the subject of the verse, it is clear enough. Here, all Muslims have been given the glad tidings that those who are totally obedient to Allah and His Messenger shall be with those who hold higher ranks in Paradise. May Allah Almighty bless us all with this love, آمِین Amin.

خلاصہ تفسیر اور جو شخص (ضروری احکام میں بھی) اللہ و رسول کا کہنا مان لے گا (گو تکثیر اطاعات سے کمال حاصل نہ کرسکے) تو ایسے اشخاص بھی (جنت میں) ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے (کامل) انعام (دین و قرب و قبول کا) فرمایا ہے، یعنی انبیاء (علیہم السلام) اور صدیقین (جو کہ انبیاء کی امت میں سب سے زیادہ رتبہ کے ہوتے ہیں، جن میں کمال باطنی بھی ہوتا ہے جن کو عرف میں اولیاء کہا جاتا ہے) اور شہدائ (جنہوں نے دین کی محبت میں اپنی جان تک دیدی) اور صلحائ (جو شریعت کے پورے متبع ہوتے ہیں واجبات میں بھی اور مستحبات میں بھی جن کو نیک بخت دیندار کہا جاتا ہے) اور یہ حضرات (جس کے رفیق ہوں) بہت ثمرہ ہوا کہ اس کو ایسے رفیق ملے) یہ (معیت اور رفاقت ان حضرات کے ساتھ محض) فضل ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے (یعنی عمل کا اجر نہیں ہے، کیونکہ اس کا مقتضاتو یہ تھا کہ جو درجہ اس عمل کو مقتضا تھا وہاں سے آگے نہ جاسکتا، پس یہ بطور انعام کے ہے) اور اللہ تعال کافی جاننے والے ہیں (ہر ایک عمل کو اور اس کے مقتضاکو اور اس مقتضا سے زائد مناسب انعام کی مقدار کو خوب جانتے ہیں، کیونکہ اس انعام میں بھی تفاوت ہوگا، کسی کو ان حضرات سے بار بار قرب ہوگا، کسی کو گاہ بگاہ و علی ہذا واللہ اعلم) ربط آیات :۔ اوپر اللہ و رسول کی اطاعت پر خاص مخاطبین سے اجر عظیم کا وعدہ تھا، اب ان آیات میں بطور قاعدہ کلیہ کے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر عام وعدہ کا ذکر ہے۔ معارف و مسائل جنت کے درجات اعمال کے اعتبار سے ہوں گے :۔ جو لوگ ان تمام چیزوں پر عمل کریں جن کے کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیا ہے، ان تمام چیزوں سے پرہیز کریں جن کے کرنے سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا ہے تو عمل کے اعتبار سے ان کے مختلف درجات ہوں گے اول درجہ کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ جنت کے مقامات عالیہ میں جگہ عطا فرمائیں گے، اور دوسرے درجہ کے لوگوں کو ان لوگوں کے ساتھ جگہ عطا فرمائیں گے جو انبیاء کے بعد میں جن کو صدیقین کہا جاتا ہے، یعنی وہ اجلہ صحابہ جنہوں نے بغیر کسی جھجک اور مخالفت کے اول ہی ایمان قبول کرلیا، جیسے حضرت ابوبکر صدیق پھر تیسرے درجہ کے حضرات شہداء کے ساتھ ہوں گے شہداء وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنی جان اور مال قربان کردیا، پھر چوتھے درجہ کے حضرات صلحاء کے ساتھ ہوں گے اور صلحاء وہ لوگ ہیں جو اپنے ظاہر و باطن میں اعمال صالحہ کے پابند ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت کرنے والے ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز اور مقبول ہیں جن کے چار درجے بتلائے گئے ہیں، انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین شان نزول :۔ یہ آیت ایک خاص واقعہ کی بناء پر نازل ہوئی ہے جس کو امام تفسیر حافظ ابن کثیر نے متعدد اسانید سے نقل کیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک روز ایک صحابی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ میرے دل میں آپ کی محبت اپنی جان سے بھی زیادہ ہے، اپنی بیوی سے بھی، اپنی اولاد سے بھی، بعض اوقات میں اپنے گھر میں بےچین رہتا ہوں یہاں تک کہ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کی زیارت کرلوں تب سکون ہوتا ہے، اب مجھے فکر ہے کہ جب اس دنیا سے آپ کی وفات ہوجائے اور مجھے بھی موت آجائے گی تو میں جانتا ہوں کہ آپ جنت میں انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ درجات عالیہ میں ہوں گے اور مجھے اول تو یہ معلوم نہیں کہ میں جنت میں پہنچوں گا بھی یا نہیں، اگر پہنچ بھی گیا تو میرا درجہ آپ سے بہت نیچے ہوگا میں وہاں آپ کی زیارت نہ کرسکوں گا تو مجھے کیسے صبر آئے گا ؟ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا کلام سن کر کچھ جواب نہ دیا، یہاں تک کہ یہ آیت مذکورہ نازل ہوگئی، ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھدآء و الصلحین، اس وقت آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو بشارت سنا دی کہ اطاعت گذاروں کو جنت میں انبیاء (علیہم السلام) اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کے ساتھ ملاقات کا موقع ملتا رہے گا، یعنی درجات میں تفاضل اور اعلی ادنی ہونے کے باوجود باہم ملاقات و مجالست کے مواقع ملیں گے۔ جنت میں ملاقات کی چند صورتیں :۔ جس کی ایک صورت یہ بھی ہوگی کہ اپنی اپنی جگہ سے ایک دوسرے کو دیکھیں گے جیسا کہ مؤ طا امام مالک میں براویت ابوسعید خدری منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اہل جنت اپنی کھڑکیوں میں اپنے سے اوپر کے طبقات والوں کو دیکھیں گے جیسے دنیا میں تم ستاروں کو دیکھتے ہو۔ اور یہ بھی صورت ہوگی کہ درجات میں ملاقات کے لئے آیا کریں گے، جیسا کہ ابن جریر نے بروایت ربیع نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس آیت کی تفسیر میں یہ ارشاد فرمایا کہ اونچے درجات والے نیچے درجات کی طرف اتر کر آیا کریں گے اور ان کے ساتھ ملاقات اور مجالست ہوا کرے گی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ نیچے کے درجات والوں کو ملاقات کے لیے اعلی درجات میں جانے کی اجازت ہو، اس آیت کی بناء پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بہت سے لوگوں کو جنت میں اپنے ساتھ رہنے کی بشارت دی۔ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت کعب بن اسلمی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رات گذارتے تھے، ایک رات تہجد کے وقت کعب اسلمی نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے وضو کا پانی اور مسواک وغیرہ ضروریات لا کر رکھی، تو آپ نے خوش ہو کر فرمایا : مانگو کیا مانگتے ہو، تو انہوں نے عرض کیا اور کچھ نہیں، اس پر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر تم جنت میں میرے ساتھ رہنا چاہتے ہو تو ” اعنی علی نفسک بکثرة السجود “ یعنی تمہارا مقصد حاصل ہوجائے گا لیکن اس میں تم بھی میری مدد اس طرح کرو کہ کثرت سے سجدے کیا کرو، یعنی نوافل کی کثرت کرو۔ اسی طرح ترمذی کی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ ” یعنی وہ بیوپاری جو سچا اور امانتدار ہو وہ انبیاء اور صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔ “ قرب کی شرط محبت ہے :۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صحبت اور رفاقت آپ کے ساتھ محبت کرنے سے حاصل ہوگی، چناچہ صحیح بخاری میں طریق متواترہ کے ساتھ صحابہ کرام کی ایک بڑی جماعت سے منقول ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا گیا کہ اس شخص کا کیا درجہ ہوگا جو کسی جماعت سے محبت اور تعلق رکھتا ہے مگر عمل میں ان کے درجہ کو نہیں پہنچا آپ نے فرمایا : المرامع من احب ” یعنی محشر میں ہر شخص اس کے ساتھ ہوگا جس سے اس کو محبت ہے۔ “ حضرت انس فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام کو دنیا میں کسی چیز سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی اس حدیث سے کیونکہ اس حدیث نے ان کو یہ بشارت دے دی کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ محبت کرنے والے محشر اور جنت میں بھی حضور کے ساتھ ہوں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رفاقت کسی رنگ نسل پر موقوف نہیں :۔ طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت عبداللہ بن عمر کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص حبشی آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ ہم سے حسن صورت اور حسین رنگ میں بھی ممتاز ہیں اور نبوت و رسالت میں بھی، اب اگر میں بھی اس چیز پر ایمان لے آؤں جس پر آپ ایمان رکھتے ہیں اور وہی عمل کروں جو آپ کرتے ہیں تو کیا میں بھی جنت میں آپ کے ساتھ ہوسکتا ہوں ؟ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں ضرور (تم اپنی حبشیانہ بدصورتی سے نہ گھبراؤ) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے جنت میں کالے رنگ کے حبشی سفید اور حسین ہوجائیں گے اور ایک ہزار سال کی مسافت سے چمکیں گے اور جو شخص لا الہ الا اللہ کا قائل ہو اس کی فلاح و نجات اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہوجاتی ہے اور جو شخص سبحان اللہ وبحمدہ پڑھتا ہے اس کے نامہ اعمال میں ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ یہ سن کر مجلس میں سے ایک شخص نے عرض کیا، یا رسول اللہ جب اللہ تعالیٰ کے دربار میں حسنات کی اتنی سخاوت ہے تو ہم پھر کیسے ہلاک ہو سکتے یا عذاب میں کیسے گرفتار ہو سکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا (یہ بات نہیں) حقیقت یہ ہے کہ قیامت میں بعض آدمی اتنا عمل اور حسنات لے کر آئیں گے کہ اگر ان کو پہاڑ پر رکھ دیا جائے تو پہاڑ بھی ان کے بوجھ کا تحمل نہ کرسکے، لیکن اس کے مقابلہ میں جب اللہ تعالیٰ کی نعمتیں آتی ہیں اور ان سے موازنہ کیا جاتا ہے تو انسان کا عمل ان کے مقابل ہمیں ختم ہوجاتا ہے، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کو اپنی رحمت سے نوازیں۔ اس حبشی کے سوال و جواب ہی پر سورة دہر کی یہ آیت نازل ہوئی، ھل اتی علی الانسان حین من الدھر لم یکن شیاً مذکوراً حبشی نے حیرت سے سوال کیا یا رسول اللہ میری آنکھیں بھی ان نعمتوں کو دیکھیں گی جن کو آپ کی مبارک آنکھیں مشاہدہ کریں ؟ آپ نے فرمایا :” ہاں ضرور۔ “ یہ سن کر حبشی نو مسلم نے رونا شروع کیا، یہاں تک کہ روتے روتے وہیں جان دے دی اور آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دست مبارک سے اس کی تجہیز و تکفین فرمائی۔ درجات کی تفصیل :۔ آیت کی تفسیر مع شان نزول اور متعلقہ تشریحات کے بیان ہوچکی، اب ایک بات قابل غور باقی رہ گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جن لوگوں پر انعام ہے ان کے چار درجے بیان فرمائے گئے ہیں یہ درجے کس اعتبار سے ہیں، اور ان چار درجوں میں باہمی نسبت اور فرق کیا ہے اور کیا یہ چاروں درجے کسی ایک شخص میں جمع ہو بھی سکتے ہیں یا نہیں ؟ حضرات مفسرین نے اس بارے میں مختلف اقوال اور طویل تفصیل لکھی ہے، بعض نے فرمایا کہ یہ چاروں درجے ایک شخص میں بھی جمع ہو سکتے ہیں اور یہ سب صفات متداخلہ کی طرح ہیں، کیونکہ قرآن کریم میں جس کو نبی فرمایا گیا ہے اس کو صدیق وغیرہ کے القاب بھی دیئے گئے ہیں، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق ارشاد ہے، انہ کان صدیقاً نبیاً اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے بارے میں آیا ہے، ونبیاً من الصلحین اسی طرح حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق وکلا ومن الصلحین آیا ہے۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ اگرچہ مفہوم و معنی کے اعتبار سے یہ چار صفات اور درجات الگ الگ ہیں لیکن یہ سب صفات ایک شخص میں بھی جمع ہو سکتی ہیں اس کی مثال ایسی ہے جیسے مفسر، محدث، فقیہ، مورخ اور متکلم مختلف صفات علماء کی ہیں، لیکن بعض علماء ایسے بھی ہو سکتے ہیں جو مفسر بھی ہوں محدث بھی، فقیہ بھی اور مورخ و متکلم بھی، یا جس طرح ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ مختلف صفات ہیں، مگر یہ سب کسی ایک شخص میں بھی جمع ہو سکتی ہیں۔ البتہ عرف عام میں قاعدہ ہے کہ جس شخص پر جس صفت کا غلبہ ہوتا ہے اسی کے نام سے وہ معروف ہوجاتا ہے، طبقات پر کتابیں لکھنے والے اس کو اسی طبقہ میں شمار کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے عامہ مفسرین نے فرمایا کہ ” صدیقین “ سے مراد اجلہ صحابہ اور ” شہداء “ سے شہداء احد اور ” صالحین “ سے عام نیک مسلمان مراد ہیں۔ اور امام راغب اصفہانی نے ان چاروں درجات کو مختلف درجات قرار دیا ہے، تفسیر بحر محیط، روح المعانی اور مظہری میں بھی یہی مذکور ہے، یعنی یہ کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مؤمنین کو چار قسموں میں تقسیم کر کے ہر ایک کے لئے درجات اعلی و ادنی مقرر فرمائے ہیں اور مسلمانوں کو اس کی ترغیب دی ہے کہ وہ ان میں سے کسی کے درجہ سے پیچھے نہ رہیں علمی اور عملی جدوجہد کے ذریعہ ان درجات تک پہنچنے کی کوشش کریں، ان میں نبوت ایک ایسا مقام ہے جو جدوجہد سے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا، لیکن انبیاء کی معیت پھر بھی حاصل ہوجاتی ہے، امام راغب نے فرمایا کہ ان درجات میں سب سے پہلا درجہ انبیاء (علیہم السلام) کا ہے، جن کو قوت الہیہ کی امداد حاصل ہے اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی چیز کو قریب سے دیکھ رہا ہو، اسی لئے حق تعالیٰ نے ان کے متعلق ارشاد فرمایا۔” افتمرونہ علی مایری۔ “ صدیقین کی تعریف :۔ دوسرا درجہ صدیقین کا ہے اور وہ لوگ ہیں جو معرفت میں انبیاء (علیہم السلام) کے قریب ہیں اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی چیز کو دور سے دیکھ رہا ہو، حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایا میں کسی ایسی چیز کی عبادت نہیں کرسکتا جس کو نہ دیکھا ہو، پھر فرمایا ہے اللہ تعالیٰ کو لوگوں نے آنکھوں سے تو نہیں دیکھا، لیکن ان کے قلوب نے حقائق ایمان کے ذریعہ دیکھ لیا ہے۔ اس دیکھنے سے حضرت علی کی مراد اس قسم کی رویت ہے کہ ان کی معرفت علمی مثال دیکھنے کے ہے۔ شہداء کی تعریف :۔ تیسرا درجہ شہداء کا ہے، یہ وہ لوگ ہیں جو مقصود کو دلائل وبراہین کے ذریعہ جانتے ہیں، مشاہدہ نہیں ہے، ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص کسی چیز کو آئینہ میں قریب سے دیکھ رہا ہو، جیسے حضرت حارثہ نے فرمایا کہ مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں اپنے رب کریم کے عرش کو دیکھ رہا ہوں۔ اور حدیث ان تعبداللہ کانک تراہ میں بھی اسی قسم کی رویت مراد ہو سکتی ہے۔ صالحین کی تعریف :۔ چوتھا درجہ صالحین کا ہے یہ وہ لوگ ہیں جو مقصود کو تقلید و اتباع کے ذریعہ پہچانتے ہیں، ان کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کسی چیز کو آئینہ میں دور سے دیکھے، اور حدیث میں فان لم تکن تراہ فانہ یراک وارد ہوا ہے اس میں بھی رویت کا یہی درجہ مراد ہوسکتا ہے امام راغب اصفہانی کی اس تحقیق کا حاصل یہ ہے کہ درجات معرفت رب کے درجات ہیں اور معرفت کے مختلف درجات کی بناء پر مختلف مداح ہیں ........ بہرحال آیت کا مضمون صاف ہے کہ اس میں مسلمانوں کو یہ بشارت دی گی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مکمل اطاعت کرنے والے درجات عالیہ کے رہنے والوں کے ساتھ ہوں گے، اللہ تعالیٰ یہ محبت ہم سب کو نصیب کرے۔ آمین

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَنْ يُّطِعِ اللہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰۗىِٕكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللہُ عَلَيْہِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ وَالصِّدِّيْقِيْنَ وَالشُّہَدَاۗءِ وَالصّٰلِحِيْنَ۝ ٠ۚ وَحَسُنَ اُولٰۗىِٕكَ رَفِيْقًا۝ ٦٩ۭ طوع الطَّوْعُ : الانقیادُ ، ويضادّه الكره قال عزّ وجلّ : ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] ، وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] ، والطَّاعَةُ مثله لکن أكثر ما تقال في الائتمار لما أمر، والارتسام فيما رسم . قال تعالی: وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] ، طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21] ، أي : أَطِيعُوا، وقد طَاعَ له يَطُوعُ ، وأَطَاعَهُ يُطِيعُهُ قال تعالی: وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] ، مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] ، وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] ، وقوله في صفة جبریل عليه السلام : مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] ، والتَّطَوُّعُ في الأصل : تكلُّفُ الطَّاعَةِ ، وهو في التّعارف التّبرّع بما لا يلزم کالتّنفّل، قال : فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] ، وقرئ :( ومن يَطَّوَّعْ خيراً ) ( ط و ع ) الطوع کے معنی ( بطیب خاطر ) تابعدار ہوجانا کے ہیں اس کے بالمقابل کرھ ہے جس کے منعی ہیں کسی کام کو ناگواری اور دل کی کراہت سے سر انجام دینا ۔ قرآن میں ہے : ۔ ائْتِيا طَوْعاً أَوْ كَرْهاً [ فصلت/ 11] آسمان و زمین سے فرمایا دونوں آؤ دل کی خوشی سے یا ناگواري سے وَلَهُ أَسْلَمَ مَنْ فِي السَّماواتِ وَالْأَرْضِ طَوْعاً وَكَرْهاً [ آل عمران/ 83] حالانکہ سب اہل آسمان و زمین بطبیب خاطر یا دل کے جبر سے خدا کے فرمانبردار ہیں ۔ یہی معنی الطاعۃ کے ہیں لیکن عام طور طاعۃ کا لفظ کسی حکم کے بجا لانے پر آجاتا ہے قرآن میں ہے : ۔ وَيَقُولُونَ طاعَةٌ [ النساء/ 81] اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ ہم دل سے آپ کے فرمانبردار ہیں ۔ طاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ [ محمد/ 21]( خوب بات ) فرمانبردار ی اور پسندیدہ بات کہنا ہے ۔ کسی کی فرمانبرداری کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ [ التغابن/ 12] اور اس کے رسول کی فر مانبردار ی کرو ۔ مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطاعَ اللَّهَ [ النساء/ 80] جو شخص رسول کی فرمانبردار ی کرے گا بیشک اس نے خدا کی فرمانبرداری کی ۔ وَلا تُطِعِ الْكافِرِينَ [ الأحزاب/ 48] اور کافروں کا کہا نہ مانو ۔ اور حضرت جبریل (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : ۔ مُطاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ [ التکوير/ 21] سردار اور امانتدار ہے ۔ التوطوع ( تفعل اس کے اصل معنی تو تکلیف اٹھاکر حکم بجالا نا کے ہیں ۔ مگر عرف میں نوافل کے بجا لانے کو تطوع کہا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْراً فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ [ البقرة/ 184] اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے ۔ ایک قرات میں ومن یطوع خیرا ہے الله الله : قيل : أصله إله فحذفت همزته، وأدخل عليها الألف واللام، فخصّ بالباري تعالی، ولتخصصه به قال تعالی: هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا [ مریم/ 65] . ( ا ل ہ ) اللہ (1) بعض کا قول ہے کہ اللہ کا لفظ اصل میں الہ ہے ہمزہ ( تخفیفا) حذف کردیا گیا ہے اور اس پر الف لام ( تعریف) لاکر باری تعالیٰ کے لئے مخصوص کردیا گیا ہے اسی تخصیص کی بناء پر فرمایا :۔ { هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا } ( سورة مریم 65) کیا تمہیں اس کے کسی ہمنام کا علم ہے ۔ نعم النِّعْمَةُ : الحالةُ الحسنةُ ، وبِنَاء النِّعْمَة بِناء الحالةِ التي يكون عليها الإنسان کالجِلْسَة والرِّكْبَة، والنَّعْمَةُ : التَّنَعُّمُ ، وبِنَاؤُها بِنَاءُ المَرَّة من الفِعْلِ کا لضَّرْبَة والشَّتْمَة، والنِّعْمَةُ للجِنْسِ تقال للقلیلِ والکثيرِ. قال تعالی: وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] ( ن ع م ) النعمۃ اچھی حالت کو کہتے ہیں ۔ اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو کسی حالت کے معنی کو ظاہر کرنے کے لئے آتا ہے جیسے : ۔ جلسۃ ورکبۃ وغیرہ ذالک ۔ اور نعمۃ کے معنی تنعم یعنی آرام و آسائش کے ہیں اور یہ فعلۃ کے وزن پر ہے جو مرۃ ہے جو مرۃ کے لئے استعمال ہوتا ہے جیسے : ۔ ضر بۃ وشتمۃ اور نعمۃ کا لفظ اسم جنس ہے جو قلیل وکثیر کیلئے استعمال ہوتا ہے چناچہ قرآن میں ہے وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَةَ اللَّهِ لا تُحْصُوها[ النحل/ 18] اور اگر خدا کے احسان گننے لگو تو شمار نہ کرسکو ۔ نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام لمن قال : يا نَبِيءَ اللہ فقال : «لَسْتُ بِنَبِيءِ اللہ ولكنْ نَبِيُّ اللهِ» لمّا رأى أنّ الرّجل خاطبه بالهمز ليَغُضَّ منه . والنَّبْوَة والنَّبَاوَة : الارتفاع، ومنه قيل : نَبَا بفلان مکانُهُ ، کقولهم : قَضَّ عليه مضجعه، ونَبَا السیفُ عن الضَّرِيبة : إذا ارتدَّ عنه ولم يمض فيه، ونَبَا بصرُهُ عن کذا تشبيهاً بذلک . ( ن ب و ) النبی بدون ہمزہ کے متعلق بعض علمائے نحو نے کہا ہے کہ یہ اصل میں مہموز ہے لیکن اس میں ہمزہ متروک ہوچکا ہے اور اس پر وہ مسلیمۃ بنی سوء کے محاورہ سے استدلال کرتے ہیں ۔ مگر بعض علما نے کہا ہے کہ یہ نبوۃ بمعنی رفعت سے مشتق ہے اور نبی کو نبی اس لئے کہا گیا ہے کہ وہ لوگوں کے اندر معزز اور بلند اقداد کا حامل ہوتا ہے جیسا کہ آیت کریمہ :۔ وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] اور ہم نے ان کو بلند در جات سے نوازا کے مفہوم سے سمجھاتا ہے پس معلوم ہوا کہ نبی بدوں ہمزہ ( مہموز ) سے ابلغ ہے کیونکہ ہر منبا لوگوں میں بلند قدر اور صاحب مرتبہ نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص نے آنحضرت کو ارہ بغض ا نبی اللہ کہہ کر کر پکارا تو آپ نے فرمایا لست ینبی اللہ ولکن نبی اللہ کہ میں نبی اللہ نہیں ہوں بلکہ نبی اللہ ہوں ۔ النبوۃ والنباوۃ کے معنی بلندی کے ہیں اسی سے محاورہ ہے ۔ نبا بفلان مکا نہ کہ اسے یہ جگہ راس نہ آئی جیسا کہ قض علیہ مضجعۃ کا محاورہ ہے جس کے معنی بےچینی سے کروٹیں لینے کے ہیں نبا السیف عن لضربیۃ تلوار کا اچٹ جانا پھر اس کے ساتھ تشبیہ دے کر نبا بصر ہ عن کذا کا محاورہ بھی استعمال ہوتا ہے جس کے معنی کسی چیز سے کرا ہت کرنے کے ہیں ۔ صِّدِّيقُ : من کثر منه الصّدق، وقیل : بل يقال لمن لا يكذب قطّ ، وقیل : بل لمن لا يتأتّى منه الکذب لتعوّده الصّدق، وقیل : بل لمن صدق بقوله واعتقاده وحقّق صدقه بفعله، قال : وَاذْكُرْ فِي الْكِتابِ إِبْراهِيمَ إِنَّهُ كانَ صِدِّيقاً نَبِيًّا [ مریم/ 41] ، وقال : وَاذْكُرْ فِي الْكِتابِ إِدْرِيسَ إِنَّهُ كانَ صِدِّيقاً نَبِيًّا [ مریم/ 56] ، وقال : وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ [ المائدة/ 75] ، وقال : فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَداءِ [ النساء/ 69] ، فَالصِّدِّيقُونَ هم قوم دُوَيْنَ الأنبیاء في الفضیلة علی ما بيّنت في «الذّريعة إلى مکارم الشّريعة» صدیق وہ ہے جو قول و اعتقاد میں سچا ہو اور پھر اپنی سچائی کی تصدیق اپنے عمل سے بھی کر دکھائے ۔ قرآن میں ہے ؛وَاذْكُرْ فِي الْكِتابِ إِبْراهِيمَ إِنَّهُ كانَ صِدِّيقاً نَبِيًّا [ مریم/ 41] اور کتاب میں ابراہیم کو یاد کرو بیشک وہ نہایت سچے پیغمبر تھے ۔ وَأُمُّهُ صِدِّيقَةٌ [ المائدة/ 75] اور ان کی والدہ ( مریم ) خدا کی ولی تھی ۔ اور آیت ؛مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَداءِ [ النساء/ 69] یعنی انبیاء اور صدیق اور شہداء میں صدیقین سے وہ لوگ مراد ہیں جو فضیلت میں انبیاء سے کچھ کم درجہ کے ہوتے ہیں جیسا کہ ہم اپنی کتاب الذریعۃ الی پکارم الشریعۃ میں بیان کرچکے ہیں ۔ صالح الصَّلَاحُ : ضدّ الفساد، وهما مختصّان في أكثر الاستعمال بالأفعال، وقوبل في القرآن تارة بالفساد، وتارة بالسّيّئة . قال تعالی: خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] ( ص ل ح ) الصالح ۔ ( درست ، باترتیب ) یہ فساد کی ضد ہے عام طور پر یہ دونوں لفظ افعال کے متعلق استعمال ہوتے ہیں قرآن کریم میں لفظ صلاح کبھی تو فساد کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے اور کبھی سیئۃ کے چناچہ فرمایا : خَلَطُوا عَمَلًا صالِحاً وَآخَرَ سَيِّئاً [ التوبة/ 102] انہوں نے اچھے اور برے عملوں کے ملا دیا تھا ۔ حسن الحُسْنُ : عبارة عن کلّ مبهج مرغوب فيه، وذلک ثلاثة أضرب : مستحسن من جهة العقل . ومستحسن من جهة الهوى. ومستحسن من جهة الحسّ. والحسنةُ يعبّر عنها عن کلّ ما يسرّ من نعمة تنال الإنسان في نفسه وبدنه وأحواله، فقوله تعالی: وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] ( ح س ن ) الحسن ہر خوش کن اور پسندیدہ چیز کو حسن کہا جاتا ہے اس کی تین قسمیں ہیں ۔ ( 1) وہ چیز جو عقل کے اعتبار سے مستحسن ہو ۔ ( 2) وہ جو خواہش نفسانی کی رو سے پسندیدہ ہو ۔ ( 3) صرف نگاہ میں بھی معلوم ہو ۔ الحسنتہ ہر وہ نعمت جو انسان کو اس کے نفس یا بدن یا اس کی کسی حالت میں حاصل ہو کر اس کے لئے مسرت کا سبب بنے حسنتہ کہلاتی ہے اس کی ضد سیئتہ ہے اور یہ دونوں الفاظ مشترکہ کے قبیل سے ہیں اور لفظ حیوان کی طرح مختلف الواع کو شامل ہیں چناچہ آیت کریمہ ۔ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا : هذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ [ النساء/ 78] اور ان لوگوں کو اگر کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے ۔ ( رفیقا) ، صفة مشبهة وزنه فعیل من رفق يرفق باب نصر وباب کرم وباب فرح، يجوز أن يستوي فيه الأفراد والجمع، ويمكن تأويله في الآية علی معنی الجمع أي رفقاء، أو كل واحد من هؤلاء الأنواع الأربعة رفیق

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٦٩۔ ٧٠) یہ آیت کریمہ حضرت ثوبان (رض) مولی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فضیلت و بزرگی کے بیان میں نازل ہوئی کیونکہ ان کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے حد درجہ محبت تھی، آپ کا دیدار کیے بغیر ان کو صبر نہیں آسکتا تھا، ایک مرتبہ یہ حاضر ہوئے اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے چہرے کا رنگ فق دیکھا عرض کرنے لگے یا رسول اللہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہیں آخرت میں آپ کے دیدار سے محروم نہ ہوجاؤں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو فرائض میں اللہ تعالیٰ کی اور سنت میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرے گا وہ جنت میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دیگر انبیاء کرام اور افضل اصحاب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور شہداء وصالحین امت محمدیہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہوگا اور جنت میں حضرات انبیاء کرام صدیقین اور شہداء اور صالحین کی معیت میں ہوگا، یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے انعام ہے، اور اللہ تعالیٰ حضرت ثوبان کی حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے گہری محبت اور جنت میں ان کے مقام کو کافی جاننے والا ہے۔ شان نزول : (آیت) ” ومن یطع اللہ والرسول “۔ (الخ) طبرانی (رح) اور ابن مردویہ (رح) نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کیا ہے فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ مجھے اپنی جان سے زیادہ محبوب ہیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اپنی اولاد سے بھی زیادہ پیارے ہیں اور میں جس وقت گھر میں ہوتا ہوں اور پھر آپ کی یاد آتی ہے تو آپ کا دیدار کیے بغیر ہرگز صبر نہیں آتا اور جس وقت اپنی موت اور آپ کے انتقال فرمانے کے بارے میں خیال کرتا ہوں تو سمجھتا ہوں کہ آپ جس وقت جنت میں تشریف لے جائیں گے تو آپ انبیاء کرام کے ساتھ درجات عالیہ میں تشریف فرما ہوں گے اور میں اس سے کہیں خاصی کم درجہ کی جنت میں جاؤں گا تو اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں آپ کے دیدار سے محروم نہ رہوں، (حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کس قدار والہانہ محبت ووابستگی کا اظہار ہے) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بات کا فورا کوئی جواب نہیں دیا پھر جبریل امین اس آیت کریمہ کو لے کر آپ پر نازل ہوئے۔ اور ابن ابی حاتم (رح) نے مسروق سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ایک لمحہ کے لیے بھی ہمیں آپ سے علیحدہ ہونا گوارہ نہیں، اگر آپ کا وصال ہم سے پہلے ہوگیا تو آپ درجات عالیہ کی طرف بلائے جائیں گے اور ہم آپ کا دیدار نہیں کرسکیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی نیز عکرمہ (رض) سے روایت کیا ہے۔ کہ ایک نوجوان رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا میں تو ہم آپ کے دیدار سے بہرہ ور ہوجاتے ہیں اور آخرت میں آپ کا دیدار نہ کرسکیں گے کیوں کہ آپ جنت میں درجات عالیہ میں ہوں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، تب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس نوجوان سے فرمایا کہ انشاء اللہ تعالیٰ تم جنت میں میرے ساتھ ہوگے۔ اور ابن جریر (رح) نے اسی طرح سعید بن حبیب (رض) ، مسروق (رض) ، ربیع (رض) ، قتادہ (رض) ، سدی (رض) سے مرسل روایات روایت کی ہیں۔

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

فرمایا : آیت ٦٩ (وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓءِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ ) (مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآءِ وَالصّٰلِحِیْن ج) (وَحَسُنَ اُولٰٓءِکَ رَفِیْقًا ) یعنی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنے والوں کا شمار ان لوگوں کے زمرے میں ہوگا جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے۔ سورة الفاتحہ میں ہم نے یہ الفاظ پڑھے تھے : (اِھْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ ) آیت زیر مطالعہ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ “ کی تفسیر ہے۔ ان مراتب کو ذرا سمجھ لیجیے۔ صالح مسلمان گویا baseline پر ہے۔ وہ ایک نیک نیت مسلمان ہے جس کے دل میں خلوص کے ساتھ ایمان ہے۔ وہ اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احکام پر عمل کر رہا ہے ‘ محرّ مات سے بچا ہوا ہے۔ وہ اس سے اوپر اٹھے گا تو ایک اونچا درجہ شہداء کا ہے ‘ اس سے بلند تر درجہ صدیقین کا ہے اور بلندترین درجہ انبیاء کا ہے۔ اس بلند ترین درجے پر تو کوئی نہیں پہنچ سکتا ‘ اس لیے کہ وہ کوئی کسبی چیز نہیں ہے ‘ وہ تو ایک وہبی چیز تھی ‘ جس کا دروازہ بھی بند ہوچکا ہے۔ البتہ مرتبہ صالحیت سے بلند تر دو درجے ابھی موجود ہیں کہ انسان اپنی ہمت ‘ محنت اور کوشش سے شہادت اور صدیقیت کے مراتب پر فائز ہوسکتا ہے۔ یہ مضمون ان شاء اللہ سورة الحدید میں پوری وضاحت کے ساتھ بیان ہوگا

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

99. Siddiq denotes someone who is utterly honest, someone whose devotion to truth has reached a very high point. Such a person is always upright and straightforward in his dealings. He supports nothing but right and justice and does so with sincerity. He opposes whatever is contrary to truth, and does not waver in his opposition to falsehood. His life is so unblemished and selfless that even enemies, let alone friends, expect of him unadulterated probity and justice. The term shahid (pi. shuhada') means 'witness'. It signifies one who attests to the truth of his faith with his whole life. He who lays down his life fighting for God is called a shahid because by this sacrifice he confirms that his confession of faith was backed by a deep, genuine conviction of its truth, and that he valued it above his own life. The term shahid is also applied to those outstandingly honest people who are so trustworthy that their testimony, on any matter, is accepted without hesitation. Salih denotes one whose belief and thinking, motives and intentions, words and deeds, are based on righteousness. In short, he is a person whose life as a whole is oriented to righteousness. 100.He who enjoys, in this world, the company of the kind of people mentioned in this verse, and whom God judges worthy of the same company in the Hereafter is fortunate. The fact is that unless a man's natural sensitivity has atrophied, the companionship of corrupt and wicked people is a painful punishment even in this transient world, let alone that one should be subjected to the perpetual companionship of such people in the abiding life of the Hereafter. Good people have always longed for the company of like people, both in this world and the Next.

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :99 صدیق سے مراد وہ شخص ہے جو نہایت راستباز ہو ، جس کے اندر صداقت پسندی اور حق پرستی کمال درجہ پر ہو ، جو اپنے معاملات اور برتاؤ میں ہمیشہ سیدھا اور صاف طریقہ اختیار کرے ، جب ساتھ دے تو حق اور انصاف ہی کا ساتھ دے اور سچے دل سے دے ، اور جس چیز کو حق کے خلاف پائے اس کے مقابلہ میں ڈٹ کر کھڑا ہو جائے اور ذرا کمزوری نہ دکھائے ۔ جس کی سیرت ایسی ستھری اور بے لوث ہو کہ اپنے اور غیر کسی کو بھی اس سے خالص راست روی کے سوا کسی دوسرے طرز عمل کا اندیشہ نہ ہو ۔ شھید کے اصل معنی گواہ کے ہیں ۔ اس سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے ایمان کی صداقت پر اپنی زندگی کے پورے طرز عمل سے شہادت دے ۔ اللہ کی راہ میں لڑ کر جان دینے والے کو بھی شہید اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ جان دے کر ثابت کردیتا ہے کہ وہ جس چیز پر ایمان لایا تھا اسے واقعی سچے دل سے حق سمجھتا تھا اور اسے اتنا عزیز رکھتا تھا کہ اس کے لیے جان قربان کرنے میں بھی اس نے دریغ نہ کیا ۔ ایسے راستباز لوگوں کو بھی شہید کہا جاتا ہے جو اس قدر قابل اعتماد ہوں کہ جس چیز پر وہ شہادت دیں اس کا صحیح و برحق ہونا بلا تامل تسلیم کر لیا جائے ۔ صالح سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے خیالات اور عقائد میں ، اپنی نیت اور ارادوں میں اور اپنے اقوال و افعال میں راہ راست پر قائم ہو اور فی الجملہ اپنی زندگی میں نیک رویہ رکھتا ہو ۔ سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :100 یعنی وہ انسان خوش قسمت ہے جسے ایسے لوگ دنیا میں رفاقت کے لیے میسر آئیں اور جس کا انجام آخرت میں بھی ایسے ہی لوگوں کے ساتھ ہو ۔ کسی آدمی کے احساسات مردہ ہو جائیں تو بات دوسری ہے ، ورنہ درحقیقت بد سیرت اور بد کردار لوگوں کے ساتھ زندگی بسر کرنا دنیا ہی میں ایک عذاب الیم ہے کجا کہ آخرت میں بھی آدمی انہی کے ساتھ ان انجام سے دوچار ہو جو ان کے لیے مقدر ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی ہمیشہ یہی تمنا رہی ہے کہ ان کو نیک لوگوں کی سوسائیٹی نصیب ہو اور مر کر بھی وہ نیک ہی لوگوں کے ساتھ رہیں ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(69 ۔ 70) ۔ طبرانی ابن جریر ابی حاتم ابن مردویہ نے متعدد طریقوں سے جو شان نزول اس آیت کی بیان کی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کے غلام ثوبان اور چند صحابہ نے ایک روز عرض کیا کہ دنیا میں تو جب ہمارا دل آپ کے دیکھنے کا مشتاق ہوتا ہے ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو دیکھ لیتے ہیں جنت میں آپ تو عالی مقام میں تشریف رکھتے ہوں گے۔ اور ہم لوگ اپنے اپنے درجہ پر ہوں گے وہاں ہم لوگ آپ کو کیونکر دیکھ سکیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ١۔ معنی آیت کے یہ ہیں کہ جنت میں اوپر کے درجہ کے لوگ نیچے کے درجہ والوں سے اور نیچے کے درجہ والے اوپر کے درجہ والوں سے ملتے رہیں گے۔ مرفوع حدیث ٢ میں یہی معنی آیت کے آئے ہیں جس کو ابن جریر نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے یہ مطلب نہیں ہے کہ نبی اور امت کا درجہ جنت میں برابر ہوگا۔ کیونکہ آیات قرآن اور صحیح حدیثوں سے جنت کے درجوں کا تفاوت ثابت ہوا ہے، سورة الرحمان اور سورة واقعہ میں اس کا ذکر تفصیل سے آئے گا۔ نبی وہ جن پر اللہ کی طرف سے وحی آئے۔ صدیق جن میں وحی کی صداقت کا مادہ زیادہ ہو۔ شہید وہ جو اللہ کے حکم پر اپنی جان دینے کو تیار ہوں نیک وہ جس کی طبیعت میں ظاہر و باطن کی نیکی ہو۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:69) من ۔ بیانیہ ہے۔ حسن اولئک رفیقا۔ حسن بمعنی ما احسن تعجب کے لئے ہے۔ بظاہر حسن اولئک رفقاء چاہیے تھا ۔ علماء نے اس کے دو جواب دئیے ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ اس کی تقدیر کلام یہ ہے حسن کل واحد منھم رفیقا۔ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ رفیق ۔ برید کے الفاظ واحد۔ جمع ۔ جنس سب معانی کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔ اس لئے رفیق یہاں بمعنی رفقاء ہے

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 3 صدیق یہ صدق سے مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی جو جملہ امور دین کی تصدیق کرنے ولا ہو اور کبھی کسی معاملہ میں خلجان اور رشک اس کے دل میں پیدا نہ ہو یا وہ جو رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تصدیق میں سبقت کرنے کی وجہ سے دوسرے کے لیے اسوۃ بنے اس اعتبار سے اس امت کے صدیق حضرت ابوبکر (رض) ہی ہوسکتے ہیں۔ کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) دوسرے افاضل صحابہ (رض) کے لیے نمومہ بنتے ہیں حضرت علی (رض) بھی اول مسلمانوں میں شمار ہوتے ہیں۔ مگر چھوٹے بچے ہونے کی وجہ سے دوسروں کے لیے نمونہ نہیں بن سکتے چونکہ نبی کے بعد صدیق کا درجہ ہے اس لیے علما اہل سنت کا اجماع ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد سب سے افضل ہیں شہدا یہ شہید کی جمع ہے اس سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جان دی اور امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بھی شہدا ہونے کا شرف حاصل ہے اور صالحین سے مراد وہ لوگ ہیں جو عقیدہ وعمل کے اعتبار سے ہر قسم کے فساد سے محفوظ رہے۔ ( رازی) مجموعہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ صحابہ (رض) کے دل میں استیاق پیدا ہوا کہ جنت میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رفاقت حاصل ہوجائے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی صحیح مسلم میں ربیعہ بن کعب سلمی ٰ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے درخواست کی کہ جنت میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ نصیب ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کثرت سجود (کثرت نوافل) سے میری مدد کرو ترمذی کی ایک حدیث میں ہے التاجر الصدوق الامین لنبتین والصد یقین والشدآ کہ امانتدار اور سچ بولنے والا تاجر قیامت کے دن انبیا اور شہدا کے ساتھ ہوگا (ابن کثیر۔ رازی)

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : اطاعت رسول کے دنیا میں فوائد اور قیامت کے دن اس کے ثمرات۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے فیصلہ اور فرمان کو زندگی کے ہر شعبہ میں قطعی طور پر لائقِ اتباع اور باعث نجات سمجھنے والے کو دنیا اور آخرت کے آٹھ انعامات کی خوشخبری دی گئی ہے۔ دنیا میں ہر اعتبار سے بھلائی کا حصول۔ ایمان پر ثابت قدمی کی توفیق۔ عظیم اجر۔ صراط مستقیم کی رہنمائی کے ساتھ اور قیامت کو اللہ تعالیٰ کے عظیم المرتبت انبیاء، صدیق، شہداء اور صالح لوگوں کی رفاقت اور معیّت نصیب ہوگی۔ یہاں چار شخصیات کے حوالے سے درحقیقت چار قسم کے مراتب اور مقام کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ جنت میں لوگوں کی انہی چار مراتب کے لحاظ سے درجہ بندی کی جائے۔ آدمی کوشش کرے تو تین مراتب کو کسی نہ کسی حد تک حاصل کرسکتا ہے۔ جن میں صدیق بننا، شہادت کے مرتبہ پر فائز ہونا اور صالح کردار کا حامل بننا ہے۔ جہاں تک نبوت کا مرتبہ اور مقام ہے وہ تو اعمال کے ذریعے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا اپنا انتخاب ہے۔ جس کو چاہے اپنے پیغام کے لیے منتخب فرما لے اور یہ سلسلہ بھی محمد کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات پر اختتام کو پہنچ چکا ہے۔ لہٰذا اب کوئی شخص یا گروہ یہ دعو ٰی کرے کہ حسن اعمال کی بنیاد پر آدمی منصب نبوت پر فائز یا نبوت میں حصہ دار ہوسکتا ہے یہ سراسر گمراہی ہے۔ اس لیے یہاں رفاقت کا لفظ استعمال فرمایا ہے یعنی اسے نبی کی رفاقت نصیب ہوگی جس سے واضح طور پر اس باطل عقیدہ کی نفی ہوتی ہے کہ کوئی شخص قیامت تک ظلّی یا بروزی نبی نہیں بن سکتا یہ بحث سورة الاحزاب آیت : ٤٠ میں ختم نبوت کے سلسلہ میں ہوگی۔ صدیق : صدیق سے مراد ایسا شخص جو ہر حال میں سچ بولنے والا ‘ سچ پر قائم رہنے والا اور سچ کے لیے ہر چیز قربان کردینے والا ہو، امت میں اس مقام پر سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق (رض) فائز ہوئے۔ جن کے بارے میں رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زبان اطہر سے ان کے اعزاز کا اعلان فرمایا۔ باقی لوگ درجہ بدرجہ اس مقام کے حامل ہوسکتے ہیں۔ شہید : ایسی شخصیت کو کہتے ہیں جو دل کی سچائی کے ساتھ اسلام میں داخل ہو اور دین کی سربلندی کے لیے سب کچھ قربان کرنے کے لیے آمادہ اور تیار رہے اور میدان کارزار میں کٹ مرنے والے کو شہید کہتے ہیں۔ کیونکہ وہ اپنے خون جگر سے حق کی گواہی دیتا ہے۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہادت کے کئی مراتب ذکر فرماتے ہوئے مختلف قسم کے لوگوں کو شہداء میں شامل فرمایا ہے۔ امام رازی نے سورة آل عمران آیت ١٨ سے استدلال کیا ہے کہ عدل و انصاف کی گواہی دینے والے بھی شہداء میں شمار ہوں گے۔ صالحین : صالح سے مراد ہر وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی توحید پر قائم اور خلوص نیت کے ساتھ نبی آخر الزماں (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کرنے والا ہو۔ اس طرح امت کے تمام موحّد اور نیک لوگ درجہ بدرجہ صالحیت کے مقام پر فائز اور اپنے عمل کے لحاظ سے جنت میں مقام پائیں گے۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد سے باہر نکل رہے تھے دروازے پر آپ کو ایک آدمی ملا اور عرض کرنے لگا اللہ کے نبی ! قیامت کب برپا ہوگی ؟ آپ نے اس سے فرمایا کہ تو نے قیامت کے لیے کیا تیار کر رکھا ہے ؟ عرض کرتا ہے کہ میں نے نفلی کام تو زیادہ نہیں کیے تاہم اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت رکھتا ہوں۔ آپ نے فرمایا : (فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ) [ رواہ مسلم : کتاب البر والصلۃ والآداب، باب المرء مع من أحب ] ” تو اسی کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ تو محبت کرتا ہے۔ “ یہ مقام اور مراتب محض اعمال کی بنیاد پر نہیں بلکہ سراسر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا صلہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے افکار اور اعمال کو جانتا ہے۔ اس موقعہ پر اللہ تعالیٰ کے فضل کا ذکر کرتے ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ کوئی شخص اپنے اعمال کی بنیاد پر جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ ایک شخص نے عرض کیا آپ کا معاملہ بھی ایسا ہی ہوگا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! ہاں میں بھی اللہ کی رحمت کے بغیر جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔[ رواہ البخاری : کتاب المرضی، باب تمنی المریض الموت ] مسائل ١۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والا قیامت کے دن انبیاء، صدیقین، شہداء اور صلحاء کے ساتھ ہوگا۔ ٢۔ جنت میں نیک لوگوں کی رفاقت نصیب ہونا اللہ کا بڑا فضل ہوگا۔

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٦٩۔ ٧٠ : یہ ایک ایسا سچ ہے جس سے تمام قلبی احساسات جاگ اٹھتے ہیں بشرطیکہ کسی دل میں بھلائی کا کوئی ذرہ موجود ہو ‘ بشرطیکہ نیکی کا کوئی بیج موجود ہو بشرطیکہ اس میں کسی باعزت مقام اور اللہ کے جوار رحمت میں داخل ہونے اور اللہ کی شان کریمی کی تلاش کا کوئی داعیہ ہو ۔ یہ مجلس ایسے ہی اولوالعزم اور بلندیوں کے متلاشیوں کے لئے ہے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے اور اس فضل وکرم کے مقام تک کوئی شخص صرف اپنی اطاعت شعاری اور اپنے عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا ۔ بلکہ یہ تو صرف اللہ کا وسیع اور عمیق اور بھر پور فضل وکرم ہوتا ہے اور اس کا عمومی فیضان ہوتا ہے اور جس کی قسمت ہو اسے ڈھانپ لیتا ہے ۔ یہاں مناسب ہے کہ ہم چند لمحے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ کی محفل میں گزاریں ۔ یہ لوگ دنیا وآخرت میں دونوں میں حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محفل کے مشتاق تھے ۔ ان حضرات میں سے بعض تو ایسے تھے کہ وہ آپ کی جدائی کے تصور ہی سے پریشان ہوجاتے تھے ۔ حالانکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت ان کے درمیان موجود تھے ۔ اسی لئے یہ آیات نازل ہوئیں ‘ جس سے ان کی محبت تروتازہ ہوگئی اور ان کا پاکیزہ جذبہ جوش میں آگیا ۔ اور ان کی پاک و شفاف محبت اور پاک ہوگئی ۔ ابن جریر نے حضرت سعید ابن جبیر سے روایت کی ہے ۔ انصار میں سے ایک شخص آیا جو بہت ہی پریشان تھا ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ ” اے فلاں تم پریشان کیوں ہو ؟ اس نے جواب دیا اللہ کے نبی میں ایک معاملے میں سوچ رہا تھا ۔ آپ نے دریافت کیا کہ کیا تھا وہ ؟ اس نے کہا وہ یہ تھا کہ ہم صبح وشام آپ سے آکر ملتے ہیں آپ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہیں اور آپ کی مجلس میں بیٹھتے ہیں ۔ کل آپ نبیوں کے ہاں چلے جائیں گے تو ہم آپ سے ملاقات نہ کرسکیں گے ۔ حضرت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کے سوال کا کوئی جواب نہ دیا ۔ اتنے میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) یہ آیت لے کر آئے ۔ (آیت) ” ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین “۔ (٤ : ٦٩) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کے لئے پیغام بھیجا اور اسے خوشخبری دی ۔ حضرت ابوبکر (رض) ابن مردیہ نے حضرت عائشہ (رض) سے بھی اس روایت کو نقل کیا ہے کہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور عرض کیا حضور آپ میرے لئے میری جان سے زیادہ محبوب ہیں ‘ آپ میرے لئے میرے اہل خاندان سے زیادہ محبوب ہیں اور آپ میرے لئے میری بیٹیوں سے زیاہد محبوب ہیں اور جب میں گھر پہ ہوتا ہوں تو میں آپ کو یاد کرتا ہوں اور اٹھ کر آجاتا ہوں اور آپ کو دیکھ لیتا ہوں ‘ صبر نہیں کرسکتا ۔ جب میں اپنی موت اور آپ کی موت کے بارے میں سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ آپ جنت میں داخل ہو کر نبیوں کے گروہ میں داخل ہوجائیں گے اور میں اگر جنت میں چلا بھی جاؤں تو شاید آپ کو دیکھ نہ سکوں۔ اس شخص کے ان خدشات کا آپ نے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” ومن یطع اللہ والرسول فاولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین والشھدآء والصلحین وحسن اولئک رفیقا “۔ (٤ : ٦٩) ” جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صالحین اور اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں ۔ “ صحیح مسلم نے ربیعہ کی حدیث نقل کی ہے ‘ فرماتے ہیں میں ایک رات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھا ۔ میں نے آپ کو وضو کے لئے پانی اور دوسری ضروریات فراہم کیں تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مانگو جو مانگتے ہو تو میں نے کہا کہ اے رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں تو جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں ۔ آپ نے فرمایا اس کے سوا کچھ اور ؟ تو اس نے کہا بس صرف یہی ۔ تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آپ کثرت سجود کے ذریعے اپنے نفس کے خلاف میری معاونت کریں ۔ بخاری شریف میں متعدد طریقوں سے یہ روایت آئی ہے کہ ایک شخص ایک گروہ کو پسند کرتا ہے مگر ان سے ملاقات نہیں ہوتی تو اس کا کیا حال ہوگا ؟ آپ نے فرمایا آدمی انہیں لوگوں کے ساتھ ہوگا جن کو وہ محبوب سمجھتا ہے ۔ یہی بات تھی ‘ جس میں ان کے دل و دماغ ہر وقت مشغول تھے ۔ محبت رسول اور آخرت میں صحبت رسول ۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے دنیا میں بھی صحبت رسول کا مزہ چکھا ہوا تھا ۔ اور آج اس کا مزہ صرف وہی دل چکھ سکتا ہے جس کے اندر محبت رسول موجود ہو اور ہم لوگوں کے لئے اس آخری حدیث میں روشنی کی کرن ‘ اطمینان کا سامان اور امید کی شمع نظر آتی ہے ۔ درس ٣٦ ایک نظر میں : میں اس بات کو ترجیح دیتا ہوں کہ اس سبق میں آیات کا جو مجموعہ دیا گیا ہے ‘ وہ مدینہ کے ابتدائی دور میں غزوہ احد کے بعد اور غزوہ خندق سے پہلے نازل ہوا ہوگا کیونکہ اس میں اسلامی سوسائٹی کی جو تصویر کشی کی گئی ہے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ابھی تک پختگی کے مقام تک نہ پہنچی تھی ۔ اس سوسائٹی میں مختلف قسم کے گروہ موجود تھے ‘ جن میں بعض ناپختہ تھے اور بعض ایسے لوگ بھی موجود تھے جو ایمان ہی نہ لائے تھے اور محض منافقت کر رہے تھے ۔ ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی سوسائٹی کو اپنی تعلیم و تربیت کی مزید ضرورت تھی اور اس سلسلے میں عظیم جدوجہد اور گہری توجہ کی ضرورت تھی ۔ اسے اس عظیم مقصد کے لئے تیار کرنے اور وہ بوجھ اٹھانے کا اہل بنانے کی ضرورت تھی جو اسلام نے اس کے کاندھوں پر ڈال دیا گیا تھا ‘ نیز اسلامی انقلاب کے لئے جس سطح کے لوگوں کی ضرورت تھی ‘ اس سطح تک اس سوسائٹی کو بلند کرنا ضروری تھا ۔ چاہے یہ تربیت اور اصلاح عقائد و تصورات کے میدان میں ہو ‘ یا مخالف کیمپوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کے میدان میں ہو۔ اور یہ جو ہم کہہ رہے ہیں کہ بعض لوگ ناپختہ تھے ‘ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس سوسائٹی میں نہایت ہی بلند معیار کے لوگوں کی کمی تھی ۔ یہاں ہم اس وقت کی اسلامی سوسائٹی کو مجموعی طور پر لے رہے ہیں ۔ اس سوسائٹی میں مختلف عناصر موجود تھے ‘ لیکن سب ایک جیسے نہیں تھے ۔ لہذا اس بات کی ضرورت تھی کہ اس سوسائٹی کے تمام عناصر کو بلند سطح تک لانے کی سعی کی جائے تاکہ اس کے افراد کے درمیان مکمل ہم آہنگی پیدا ہو ۔ اس بات کا اظہار ان آیات وہدایات سے اچھی طرح ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل کردہ ان ہدایات کے گہرے مطالعے سے ہمیں اس وقت کی مسلم سوسائٹی کا جائزہ لینے کا موقع ملتا ہے اور جماعت مسلمہ کے ایسے خدوخال سامنے آتے ہیں جن میں یہ سوسائٹی ایک انسانی سوسائٹی نظر آتی ہے ۔ اس کا یہ پہلو ہم اکثر اوقات نظر انداز کردیتے ہیں ۔ اس سوسائٹی میں ہمیں اعلیٰ معیار کی تربیت اور قوت بھی نظر آتی ہے اور اس میں بعض کمزوریاں بھی نظر آتی ہیں ۔ یہ بھی نظر آتا ہے کہ قرآن کریم انسانی کمزوریوں ‘ جاہلیت کے باقی ماندہ آثار اور اسلام کے مخالف کیمپ کے ساتھ کس طرح معرکہ آرائی کرتا ہے اور یہ سب کام بیک وقت ہوتا ہے ۔ ہم قرآن کریم کے انداز تربیت کا مطالعہ کرتے ہیں تو قرآن عالم واقعہ میں زندہ انسانوں کے ساتھ معامل کرتا دکھائی دیتا ہے اور یہ بھی نظر آتا ہے کہ تربیت کے میدان میں قرآن کریم نے کس قد کامیاب جدوجہد کرکے ایک ایسی سوسائٹی تخلیق کی جس کو جاہلیت کے معاشرہ سے لیا گیا تھا ‘ جس میں مختلف درجات اور مختلف طبقات کے لوگ موجود تھے اور جس میں مختلف خصوصیات کے لوگ موجود تھے قرآن نے انہیں اس قدر ہم آہنگ ‘ اس قدر بلند ‘ اس قدر متحد بنا دیا جس کا کامل رنگ حضور کے آخری دور میں صاف نظر آتا ہے اور یہ اس قدر بلند اور کامل ومکمل سوسائٹی تھی جس سے آگے جانا انسانوں کے لئے ممکن نہیں ہے ۔ کسی انسانی سوسائٹی کے مطالعے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انسانی نفس کے اندر کیا کیا صلاحیتیں ہیں ‘ اور دنیا کی بہترین جماعت اور سوسائٹی میں ان کا ظہور کس شکل میں ہوتا ہے ۔ وہ جماعت جس کی تربیت خود حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھی اور یہ تربیت تھی بھی قرآنی منہاج کے مطابق ۔ اس سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کا منہاج تربیت کیا تھا اور یہ کہ قرآن کریم انسانی نفوس کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا تھا ۔ اس کا رویہ اس کے ساتھ کس قدر پر لطف تھا اور جماعت کے اندر مختلف سطح کے لوگوں کو اس نے کس طرح باہم متحد اور منسلک کردیا تھا ۔ ہم قرآن کریم کا مجاز تربیت دیکھتے ہیں اور ہمیں عالم واقعہ میں انسانی طبیعت کے مطابق یہ تربیتی نظام کام کرتا ہوا نظر آتا ہے ۔ اس سے ایک فائدہ ہمیں یہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ ہم اپنے حالات اور دوسری انسانی سوسائٹیوں کے حالات کا مقابلہ اس انسانی جماعت سے کریں جو اللہ نے برپا کی ہے اس کے بعد ان سوسائٹیوں کی انسانی اعتبار سے جو اصل صورت حال تھی اس کا مطالعہ کریں تاکہ اپنی کوتاہیوں کو دیکھ کر دور جدید میں اصلاح حال سے مایوس نہ ہوجائیں اور اپنی اصلاح کے لئے کوشش کرنا ترک نہ کردیں ۔ یہ بھی نہ ہو کہ اسلام کی یہ پہلی سوسائٹی ہمارے تصورات میں کہیں محض خیالی سو سائٹی ہی نہ بن جائے اور ہم کہیں یہ سعی ترک نہ کردیں کہ اس جماعت کے نقش قدم پر ہمیں چلنا ہے اور دور جدید میں ان جدید سوسائٹیوں کو موجودہ گراوٹ سے اونچا کرکے مقام بلند تک پہنچاتا ہے ۔ یہ عبرتوں کا ایک بڑا ذخیرہ ہے ۔ اور ظلال القرآن میں زندگی بسر کرکے جب ہم یہ ذخیرہ اخذ کریں گے تو یہ ہمارے لئے بھلائی کا ایک عظیم سامان ہوگا ۔ اس سبق میں دی گئی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی صفوں میں اس وقت درج ذیل قسم کے لوگ موجود تھے ۔ (الف) ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے آپ کو جہاد میں پیچھے رکھتے تھے اس سے دوسروے لوگوں میں بھی سستی پیدا ہوتی تھی اور اگر وہ جہاد کو نہ جاتے اور گھروں میں صحیح وسالم رہتے تو اسے اپنے لئے کامیابی سمجھتے تھے جبکہ جہاد میں شریک ہونے والے مسلمانوں کو اس جہاد میں مشکلات اور تکالیف پیش آتیں ۔ اسی طرح یہ لوگ اگر جہاد میں نہ جاتے اور مسلمانوں کو مال غنیمت مل جاتا تو ایسے لوگ محسوس کرتے کہ ان کو خسارہ ہوگیا کہ مال غنیمت میں سے ان کو حصہ نہ ملا ۔ اس طرح یہ لوگ آخرت کے مقابلے میں دنیا کو خریدتے تھے ۔ (ب) ان لوگوں میں بعض مہاجرین بھی تھے جب یہ لوگ مکہ میں تھے اور ان پر مظالم ہوتے تھے تو وہ جوش دفاع اور بہادری کے جذبے سے یہ کہتے تھے کہ کاش انہیں جہاد کرنے اور جنگ کرنے کی اجازت ہوتی لیکن وہاں ان کے لئے جنگ کرنا بالکل بند کردیا گیا تھا ۔ اب مدینہ طیبہ میں جب جہاد کا حکم آگیا اور یہ کہا گیا کہ کفار کے ساتھ جنگ شروع کر دو تو یہ لوگ تمنا کرنے لگے کہ کاش ابھی اور مہلت ملتی اور جنگ کا حکم نہ آیا ہوتا ۔ (ج) ان میں ایسے لوگ بھی تھے کہ اگر کوئی بھلائی نصیب ہوتی تو کہتے کہ یہ اللہ کا فضل ہے اور مصیبت آتی تو کہتے کہ یہ مصیبت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ذات کی وجہ سے ہے ۔ یہ بات وہ اس لئے نہ کہتے تھے کہ ان کا خدا تعالیٰ کی ذات پر پختہ ایمان اور بھروسہ تھا بلکہ وہ یہ باتیں اسلامی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کرتے تھے ۔ (د) بعض ایسے لوگ بھی تھے کہ جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اپنے آپ کو نہایت مطیع فرمان ظاہر کرتے مگر جب آپ کے پاس سے چلے جاتے تو مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے اور اپنے ہم نشینوں کے ساتھ کوئی اور بات کرتے ۔ (ھ) بعض ایسے لوگ تھے جو افواہوں پر کان دھرتے تھے اور اسلامی صفوں میں انہیں پھیلاتے تھے ۔ اس طرح وہ اسلامی محاذ میں بےچینی پیدا کردیتے تھے حالانکہ انہیں چاہئے تھا کہ وہ بات کو ثبوت تک پہنچاتے یا خود اسلامی قیادت کی طرف رجوع کرتے ۔ (ر) بعض لوگ ایسے بھی تھے جن کو اس بارے میں شک تھا کہ آیا ان ہدایات کا مصدر اور منبع اللہ کی ذات ہے یا نہیں ‘ وہ یہ سمجھتے تھے کہ بعض باتیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی جانب سے کرتے ہیں ۔ (ز) بعض ایسے تھے جو منافقین کی جانب سے مدافعت کیا کرتے تھے جیسا کہ اگلے سبق کے شروع میں بعض نمونے ہیں۔ ان کی کوشش یہ ہوتی کہ منافقین کے بارے میں جماعت مسلمہ دوگروہوں میں بٹ جائے ۔ اس سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کے اسلامی تصور اور تنظیم میں ابھی تک مکمل ہم آہنگی نہ تھی اور یہ لوگ قیادت کے فرائض اور ایسے معاملات میں قیادت کے ساتھ رابطے کی ضرورت کو اچھی طرح نہ سمجھتے تھے ۔ یہ تمام عناصر جو اسلامی صفوں میں موجود تھے یہ منافقین کے گروہ تھے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ ایک ہی گروہ سے متعلق ہوں ‘ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مدینہ کی سوسائٹی میں یہ لوگ منافقین کے کئی گروہوں سے تعلق رکھتے ہوں یا ان لوگوں میں بعض ضعیف الایمان مسلمان بھی ہوں جن کی ایمانی حالت ابھی پختہ نہ ہوئی ہو ۔ ان میں سے کچھ لوگ مہاجریں بھی ہو سکتے ہیں ۔ بہرحال ایسے کئی گروپ اسلامی جماعت کے اندر موجود تھے اور یہ جماعت اس وقت مدینہ کے یہودیوں میں گھری ہوئی تھی جبکہ مکہ میں وہ مشرکین کے نرغے میں تھی اور پورے جزیرۃ العرب میں یہ جماعت متربصین کے نرغے میں تھی جو انتظار کر رہے تھے کہ اس تحریک کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ یہ جماعت مسلسل مسلمانوں کی صفوں کے اندر بےچینی پیدا کر رہی تھی ۔ لہذا اندرونی صفوں میں تربیت وتطہیر کی ضرورت تھی اور لوگوں کو جہاد پر ابھارنے کی ضرورت تھی ۔ ان آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم نے یہ داخلی جہاد اور تربیت کس نہج پر کی ۔ قرآن نے مسلمانوں کی صفوں سے مایوسی کو دور کیا اور جماعت کے ہر فرد کو مطمئن کردیا ۔ نہایت ہی گہرائی دقت اور صبر کے ساتھ اور اس تحریک کے قائد حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہایت ہی صبر آزما حالات میں یہ تربیت فرما رہے تھے ۔ ذرا اس کے نمونے ملاحظہ فرمائیں ۔ (الف) حکم دیا جاتا ہے کہ ہر وقت محتاط رہو ۔ مجاہدین اور مومنین اکیلے نہ پھریں اور مہمات اور سرایا میں اکھٹے جائیں ۔ یعنی سرایا اور دستوں کی شکل میں یا سب کے سب فوج کی شکل میں نکلیں ۔ اس لئے کہ ان کے اردگرد کے علاقے میں مختلف قسم کی دشمنیاں ہیں اور دشمن گھات میں بیٹھے ہوئے ہیں جن کے اندر منافقین ہیں یا ایسے دشمن ہیں جن کو منافقین پناہ دے رہے ہیں ۔ نیز یہودی بھی پورے جزیرۃ العرب کے دشمنوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں جو موقع کے انتظار میں ہیں۔ (ب) بعض لوگ جو جہاد میں پیچھے رہ جاتے تھے ان کی بھی یہاں ایک قابل نفرت تصویر نظر آتی ہے ۔ ان کی ہمت جواب دے گئی ہے وہ مفاد پرست ہیں اور نہایت ہی متلون مزاج ہیں اور حالات کے ساتھ بہت جلد یہ لوگ بدل جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے حال پر تعجب ہوتا ہے کہ مکہ میں تو بہت ہی پرجوش تھے مگر اب جبکہ مدینہ میں جہاد فرض ہوگیا ہے تو وہ جزع وفزع کرتے ہیں ۔ (ج) یہاں اللہ کی راہ میں مقاتلین کے لئے اللہ کی جانب سے وعدہ بھی صاف نظر آتا ہے کہ اللہ انہیں اجر عظیم عطا کرے گا اور انہیں دو اچھے انجاموں میں سے ایک ضرور ملے گا ۔ یعنی ” اور جو شخص اللہ کی راہ میں قتال کرتا ہے اور مارا جاتا ہے ‘ یا غالب ہوجاتا ہے تو دونوں صورتوں میں اللہ اسے اجر عظیم دے گا “۔ (د) قرآن کریم مقاصد کی بلندی ‘ اہداف کی پاکیزگی ‘ اور کامرانی کے مقاصد کی نشاندہی بھی کرتا ہے جس کی وجہ سے جہاد و قتال فرض کیا گیا ہے کہ یہ ” اللہ کے راستے میں ’ ضعیف مردوں ‘ عورتوں اور بچوں کی حمایت میں ہے ‘ جو ہر وقت یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس گاؤں سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنی جانب سے کوئی ولی مقرر کر اور اپنی جانب سے ہمارے لئے کوئی مدد گار بنا ۔ “ (ھ) پھر قرآن مجید ان مقاصد کی سچائی کو بھی ریکارڈ پر لاتا ہے اور یہ طے کرتا ہے کہ ان کی پشت پر سند قوی ہے اور ان مقاصد کا برسرباطل ہونا بھی بتاتا ہے جن کے لئے کافر لڑتے ہیں اور ان کی سند بھی ضعیف ہے ۔ ” وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں ‘ پس تم شیطان کے دوستوں کے ساتھ لڑو ‘ بیشک شیطان کا مکر کمزور ہے ۔ “ ّ (و) ان آیات میں قرآن کریم ان تصورات فاسدہ کا علاج بھی کرتا ہے جن کی وجہ سے دل و دماغ میں فاسد احساسات اور کردار میں فاسد اور ضعیف طرز عمل جنم لیتا ہے ۔ اور یہ کام وہ غلط عقائد کی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کے ذریعے کرتا ہے ۔ ایک تو حقیقت دنیا اور حقیقت آخرت کے بیان کے ذریعے کرتا ہے ۔ ” کہہ دیجئے دنیا کا سامان بہت قلیل ہے ۔ اور آخرت ان لوگوں کے بہت ہی خیر ہے جو متقی ہیں اور تم پر ذرہ برابر ظلم نہ ہوگا ۔ “ اور دوسری حقیقت موت اور مقررہ وقت کے اٹل ہونے کے بارے میں کہ انسان جس قدر بھی احتیاط کرے اور جس قدر بھی جہاد سے دور بھاگے ‘ موت بہرحال اپنے وقت پر آپہنچتی ہے ۔ ” جہاں بھی تم ہوگے ‘ موت تمہیں پالے گی اگرچہ تم پختہ محلات میں بیٹھے ہو۔ “ پھر ان کے تصورات مسئلہ تقدیر کے بارے میں درست کئے جاتے ہیں کہ انسان کے عمل اور قضا وقدر کا تعلق کیا ہے ۔ ” اگر انکو کوئی بھلائی نصیب ہو تو کہتے ہیں کہ یہ تو اللہ کی جانب سے ہے اور اگر کوئی برائی پہنچے تو وہ کہتے ہیں یہ تمہاری جانب سے ہے ۔ کہو سب کچھ اللہ کی جانب سے آتا ہے ۔ لیکن ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ بات کو سمجھنے والے نہیں ۔ اگر تمہیں کوئی بھلائی ملے تو یہ اللہ کی جانب سے ہے اور اگر کوئی برائی تمہیں ملے تو یہ تمہارے نفس کی وجہ سے ہے ۔ “ (ز) قرآن کریم اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان گہرے تعلق کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ کہ رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت تصور ہوتی ہے ۔ پورے کا پورا قرآن مجید اللہ کی جانب سے ہے ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ اس کے اندر پائی جانے والی مکمل وحدت فکر پہ غور کرو ‘ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قرآن ایک ہی منبع سے آیا ہے ۔ “ ” جو رسول کی اطاعت کرے اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔ “ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا وہ قرآن کریم پر غور نہیں کرتے ‘ اگر وہ اللہ کے سوا کسی اور کی جانب سے آتا تو وہ اس میں بہت زیادہ اختلاف فکرپاتے ۔ “ (ح) ان آیات میں ہم دیکھتے ہیں کہ مدینہ میں افواہیں پھیلانے والوں کو صحیح طریق کار اپنانے کی ہدایت کی جاتی ہے ۔ وہ طریق کار کسی بھی صحت مند جماعت کی قیادت اور تنظیم کے لئے مناسب ہے اور وہ یہ ہے کہ ” اگر وہ کسی واقعہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان لوگوں کے پاس لاتے جن کے ہاتھ میں امور مملکت تھے تو جو لوگ اس سے صحیح نتائج اخذ کرسکتے تھے وہ ان کے علم میں آجاتا۔ “ (ط) ان آیات میں اس غلط طریق کار سے انہیں ڈرایا جاتا ہے اور ان کو یاد دلایا جاتا ہے کہ اللہ نے اپنا کرم کیا کہ ان کو ہدایت سے نوازا ” اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہوتا اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو تم لوگ شیطان کے متبع ہوتے مگر کم لوگ ۔ مدینہ کی اسلامی جماعت اور سوسائٹی کے جو حالات ان آیات ان آیات میں بیان ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انکی وجہ سے اس جماعت کے اندر کس قدر انتشار اور بےچینی پیدا کردی گئی تھی ۔ ان حالات میں جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جہاد و قتال کا حکم ہوا تو آپ کو کس قدر ہمہ جہت اور مختلف قسم کی جدوجہد کرنا پڑی ہوگی ۔ جب ہم یہ سنتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہتے کہ وہ جہاد کریں اگرچہ وہ اکیلے ہوں اور یہ کہ اہل ایمان کو جہاد پر اکسائیں ۔ آپ اپنی ذات ہی سے مسئول ہوں گے اور اللہ خود ہی معرکے میں حصہ لے گا ۔ ” پس اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم اللہ کی راہ میں لڑو ‘ تم اپنی ذات کے سوا کسی اور کے ذمہ دار نہیں ہو ۔ البتہ اہل ایمان کو لڑنے کے لئے اکساؤ ‘ بعید نہیں کہ اللہ کافروں کا زور توڑ دے ۔ اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست اور اس کی سزا سب سے زیادہ سخت ہے ۔ “ اس انداز گفتگو سے اہل ایمان کے اندر بہت ہی زیادہ جوش پیدا ہوتا ‘ اور ان کی ہمتیں بلند ہوجاتیں کیونکہ اس میں فتح ونصرت کی پوری امید بھی تھی ‘ اور اللہ کی تائید اور اس کی قوت پر پورا یقین بھی ۔ قرآن کریم اس جماعت کو لے کر متعدد میدانوں میں برسرپیکار تھا ۔ پہلا معرکہ نفس انسانی کے اندر برپا تھا ۔ یہ معرکہ وساوس ‘ خواہشات نفسانی ‘ بدظنی ‘ غلط افکار ‘ جاہلی تصورات اور انسانی اخلاق کی کمزوریوں کے خلاف تھا۔ اگرچہ یہ کمزورریاں نفاق کی وجہ سے نہ ہوں بلکہ بشری کمزوریاں ہوں ۔ قرآن کریم اس جماعت کو ایسی پالیسی کے ساتھ چلا رہا تھا کہ وہ قوت اور شوکت کے مقام تک پہنچ جائے ۔ پھر اس کے اندر ہر قسم کی ہم آہنگی اور یک جہتی پیدا ہوجائے ۔ اور یہ نہایت ہی دور رس اغراض ومقاصد تھے ۔ اس لئے کہ اگر کسی جماعت کے اندر زور آور لوگ بھی ہوں تو بھی اسے بےفکر نہ ہونا چاہئے ۔ اگر اس کی صفوں میں کمزور لوگ موجود ہوں ۔ تو جماعت کے اندر مختلف سطح کے لوگوں کے اندر مکمل تناسق اور مکمل یک جہتی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ خصوصا جب اسے مختلف قسم کے معرکوں سے سابقہ درپیش ہو۔ اس تبصرہ کے بعد اب مناسب یہ ہے کہ ہم اس سبق کی آیات پر تفصیلی بات چیت کریں ۔

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرنے والوں کے لیے بشارت عظیمہ اوپر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت اور فرمانبر داری کا ذکر ہے یہاں بطورقاعدہ کلیہ فرمانبرداروں کا عظیم مرتبہ ذکر فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرمانبر داری کا یہ صلہ ہے کہ ایسے لوگوں کو آخرت میں حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کی رفاقت حاصل ہو۔ صاحب معالم التنزیل (صفحہ ٤٥٠: ج ١) لکھتے ہیں کہ حضرت ثوبان (رض) جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آزاد کردہ غلام تھے ان کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بہت زیادہ محبت تھی اور آپ کی زیارت کے بغیر صبر نہیں کرسکتے تھے۔ ایک دن حاضر خدمت ہوئے تو ان کے چہرہ کا رنگ بدلا ہوا تھا جس کی وجہ سے رنج و غم کا اثر ظاہر ہو رہا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت فرمایا کہ تمہارا رنگ کس چیز نے بدل دیا عرض کیا یا رسول اللہ نہ مجھے کوئی مرض ہے نہ کوئی تکلیف ہے صرف اتنی بات ہے کہ مجھے آپ کی ملاقات کا بہت زیادہ شوق ہوا اور اس کے بغیر مجھے چین نہ آیا اور اپنے اندر سخت وحشت محسوس کرتا رہا، پھر مجھے آخرت یاد آگئی اس پر یہ خیال آیا کہ میں وہاں آپ کو نہ دیکھ سکوں گا کیونکہ آپ نبیوں کے درجات میں ہوں گے اور اگر میں جنت میں داخل ہوگیا تو آپ کے درجے سے نیچے کے درجے میں ہوں گا اور اگر جنت میں داخلہ نہ ملاتو کبھی بھی آپ کو نہ دیکھ سکوں گا اس پر آیت بالانازل ہوئی۔ معلوم ہوا کہ باوجود درجات مختلف ہونے کے اہل جنت کی آپس میں معیت اور ملاقات ہوگی۔ جس سے محبت ہو اس کے ساتھ ہوں گے : حضرت ابن مسعود (رض) نے بیان فرمایا کہ ایک شخص حاضر خدمت ہوا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ایسے شخص کے بارے میں آپ کا کیا ارشاد ہے جس نے کسی قوم سے محبت کی اور (علم و عمل) کے اعتبار سے ان (کے مقام) کو نہ پہنچا اس کے جواب میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اَلْمَرْءٗ مع من احب یعنی انسان اس کے ساتھ ہے جس سے محبت کرتا ہے۔ (رواہ البخاری کمافی المشکوٰۃ صفحہ ٤٢٦) حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! قیامت کب قائم ہوگی آپ نے فرمایا تجھ پر افسوس ہے (قیامت کے بارے میں سوال کر رہا ہے) یہ تو بتا کہ تو نے قیامت کے دن کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے کہا کہ میں نے اس کے سوا کوئی تیاری نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، فرمایا تو اس کے ساتھ ہے جس سے تو نے محبت کی۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ نعمت اسلام کے بعد کسی اور چیز سے مسلمانوں کو اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی اس بات سے خوشی ہوئی (کہ جو شخص جس سے محبت کرے گا اسی کے ساتھ ہوگا) ۔ (مشکوٰۃ صفحہ ٤٢٦ عن البخاری) آنحضرت سرور عالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ جو فرمایا کہ المرء مع من احب (انسان اسی کے ساتھ ہے جس سے اس نے محبت کی) اس کے عموم میں دونوں باتیں داخل ہیں اچھوں سے محبت کی تو اچھوں کے ساتھ ہوگا، اور بروں سے محبت کی تو بروں کے ساتھ ہوگا، نیز اس کا عموم دنیا و آخرت دونوں کے لیے شامل ہے۔ دنیا میں دیکھا جاتا ہے کہ بروں کے ساتھ برے لوگ ہوتے ہیں اور اچھوں کے ساتھ اچھے لوگ ہوتے ہیں اسی طرح سے آخرت میں تقسیم ہوجائیں گے۔ ہر ایک اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت رکھتا ہے اسی لیے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا المرء علی دین خلیلہ فلینظر احد کم من یخالل۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد) (یعنی انسان اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے سو تم میں سے ہر شخص غور کرے کہ وہ کس سے دوستی رکھتا ہے) ۔ جس نے نماز کی پابندی نہ کی قارون فرعون کے ساتھ ہوگا : حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) نے بیان فرمایا کہ ایک دن نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نماز کا تذکرہ فرمایا اور فرمایا جس نے نماز کی پابندی کی وہ اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگی اور (اس کے ایمان کی) دلیل ہوگی اور اس کی نجات (کا سامان) ہوگی۔ اور جس نے اس کی پابندی نہ کی اس کے لیے نہ نور ہوگی نہ دلیل ہوگی اور نہ نجات کا سامان ہوگی، اور وہ قیامت کے دن قارون، فرعون، ہامان اور ابی بن خلف کے ساتھ ہوگا۔ (رواہ احمد والدارمی و البیہقی فی شعب الایمان کمافی المشکوٰۃ صفحہ ٥٩) علماء حدیث نے حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرمایا کہ نماز کی پابندی نہ کرنے والے کئی قسم کے ہیں کچھ لوگ مال کی وجہ سے نماز کی پابندی نہیں کرتے یہ لوگ قارون کے ساتھی ہوں گے اور کچھ لوگ حکومت کی وجہ سے نماز کی پابندی نہیں کرتے یہ لوگ فرعون کے ساتھ ہوں گے اور کچھ لوگ ملازمت کی وجہ سے نماز کی پابندی نہیں کرتے یہ لوگ ہامان کے ساتھ گے (یہ شخص فرعون کا وزیر تھا) اور جو لوگ تجارت کی مشغولیت کی وجہ سے نماز کی پابندی نہیں کرتے وہ ابی بن خلف کے ساتھ ہوں گے۔ یہ ایک مشرک تھا جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے دست مبارک سے قتل کیا تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس طرح اچھے لوگ اچھے لوگوں کے ساتھ ہوں گے اسی طرح بد عمل برے لوگوں کے ساتھ ہوں گے۔ صاحب روح المعانی صفحہ ٨٧: ج ٥ لکھتے ہیں کہ انبیاء (علیہ السلام) اور صدیقین اور شہداء اور صالحین کی معیت کا جو آیت میں ذکر ہے اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ درجات میں اختلاف نہ ہوگا اور یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ صرف دخول جنت کے اشتراک کو معیت سے تعمیر فرما دیا ہو بلکہ مطلب یہ ہے کہ نیچے کے درجات والے اوپر کے درجات وا لوں کو بعد مسافت کے باوجود دیکھ بھی سکیں گے اور زیارت بھی کرسکیں گے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نیچے درجے والوں کو زیارت کے لیے اوپر جانے کی اجازت دی جائے اور بلند درجات والوں کو نیچے آنے کی اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنے بھائیوں کی زیارت کرلیں۔ جو بھی صورت ہو، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرنے والوں کو مذکورہ بالا حضرات کی معیت نصیب ہوگی۔ ان حضرات سے جو قلبی محبت ہے وہ ان کی معیت کا ذریعہ بن جائے گی، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ اگر دو بندوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے آپس میں محبت کی اگر ان میں سے ایک شخص مشرق میں تھا اور دوسرا مغرب میں تھا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان دونوں کو جمع فرمائیں گے اور ارشاد ہوگا کہ یہ ہے وہ شخص جس سے تو میرے لیے محبت کرتا تھا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٤٢٧) حضرت ربیعہ بن کعب کا واقعہ : حضرت ربیعہ بن کعب (رض) نے بیان فرمایا کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس رات گزارا کرتا تھا (یہ بعض احوال اور بعض اوقات کا بیان ہے) اور (رات کو جب آپ بیدار ہوتے تو) آپ کی خدمت میں وضو کا پانی اور دوسری چیزیں حاضر کردیتا تھا (ایک دن آپ نے فرمایا کہ سوال کرلو (جو تم چاہتے ہو) میں نے عرض کیا میں جنت میں آپ کی رفاقت چاہتا ہوں آپ نے فرمایا اس کے سوا اور کچھ چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا میرا مقصود تو یہی ہے، آپ نے فرمایا اگر ایسی ہی بات ہے تو اپنے نفس کے خلاف میری اس طرح مدد کرو کہ سجدے زیادہ کرتے رہو۔ (یعنی نفل نمازیں خوب زیادہ پڑھو) ۔ (رواہ مسلم صفحہ ١٩٣: ج ١) معلوم ہوا کہ بلند درجات والوں کی معیت حاصل ہونے کے لیے اعمال صالحہ میں لگا رہنا چاہیے اور نماز ایمان کے بعد سب سے بڑی چیز ہے جتنی زیادہ نمازیں پڑھیں گے اتنے زیادہ سجدے ہوں گے اور سجدوں کی یہ کثرت معیت کا ذریعہ بنے گی۔ آرزو کے ساتھ عمل بھی ہونا چاہیے۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ جو فرمایا کہ اپنے نفس کے مقابلہ میں میری مدد کرو اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ نفس انسان کو آگے نہیں بڑھنے دیتا اعمال صالحہ کرنے میں ہمت کرنی پڑتی ہے اور نفس سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ بعض اعمال صالحہ ایسے ہیں کہ خصوصیت کے ساتھ ان اعمال پر حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) اور صدیقین اور شہدا کی معیت کا وعدہ فرمایا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ سچا امانتدار تاجر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔ (رواہ الترمذی فی البیوع) جنت کے بالا خانے : حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ جنت میں سو درجے ہیں جن کو اللہ نے ان لوگوں کے لیے تیار فرمایا ہے جو اس کی راہ میں جہاد کرنے والے ہیں ہر دو درجوں کے درمیان اتنافاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان فاصلہ ہے سو جب تم اللہ سے سوال کرو تو جنت الفردوس کا سوال کرو کیونکہ وہ جنت کا سب سے زیادہ بہتر اور بلند درجہ ہے اور اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں جاری ہیں۔ (رواہ البخاری صفحہ ١١٠٤: ج ٢) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ بلاشبہ (عام) جنتی بالا خانوں کے رہنے والے کو اپنے اوپر اس طرح دیکھیں گے جیسے تم (دنیا میں) چمکدار ستارہ کو دیکھتے ہو جو آسمان کے کناروں میں مشرق یا مغرب کی جانب دور نظر آ رہا ہو اور یہ ان کے آپس کے فرق مراتب کی وجہ سے ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ تو انبیاء کرام (علیہ السلام) کے رہنے کی جگہیں ہوں گی جہاں اور کوئی نہ پہنچے گا۔ آپ نے فرمایا قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے انبیاء کرام (علیہ السلام) کے علاوہ وہ لوگ ان میں رہیں گے جو اللہ پر ایمان لائے اور پیغمبروں کی تصدیق کی۔ ) (رواہ البخاری صفحہ ٤٦١: ج ١ ) جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ان حضرات کو چار جماعتوں میں ذکر فرمایا اول حضرات انبیاء (علیہ السلام) ، دوم حضرات صدیقین یعنی وہ حضرات جنہوں نے حضرات انبیاء (علیہ السلام) کی تصدیق میں ذرا بھی تامل نہیں کیا۔ جب نبی کی دعوت سامنے آئی فوراً لبیک کہا اور پھر آخر تک نہایت اخلاص کے ساتھ اپنے جان و مال اور ہر طرح کی خدمات سے حاضر رہے۔ حضرت ابوبکر (رض) کو اسی لیے صدیق کہا جاتا ہے کہ انہوں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت سنتے ہی فوراً تصدیق کی۔ ہر منصب کی ایک ذمہ داری ہوتی ہے۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک دن حضرت ابوبکر (رض) کے پاس سے گزرے وہ اس وقت اپنے بعض غلاموں پر لعنت کررہے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کی طرف توجہ فرمائی اور فرمایا لعانین و صدیقین (یعنی کیا لعنت کرنے والے صدیق ہوسکتے ہیں ؟ ) پھر فرمایا کلا ورب الکعبہ یعنی رب کی قسم ایسا ہرگز نہیں (یعنی لعنت کرنے کی صفت اور صدیقیت دونوں جمع نہیں ہوسکتے) ۔ حضرت ابوبکر (رض) نے یہ سن کر اس دن اپنے بعض غلاموں کو آزاد کردیا پھر نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اب ایسا نہیں کروں گا۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ٤١٥) سوم شہداء یعنی وہ حضرات جنہوں نے اللہ کے دین کو بلند کرنے کے لیے دشمنان اسلام سے جنگ لڑی اور کافروں کے ہاتھوں مقتول ہوگئے یہ بھی مقربین بار گاہ الٰہی ہیں اور ان کے بڑے درجات ہیں۔ چہارم صالحین یعنی یعنی وہ حضرات جن کے قلوب برائیوں سے دور ہیں اور نیکیوں کی طرف راغب ہیں۔ اخلاص کے ساتھ نیکیوں ہی میں لگے رہتے ہیں۔ درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے کہ کوئی شخص صالح ہو اس کی طبیعت اور مزاج میں نیکی کرنا پوری طرح اثر انداز ہوچکا ہو صالح ہونا بہت بڑا وصف ہے اس لیے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو بھی اس صفت کے ساتھ موصوف کیا گیا ہے۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کے بارے میں (نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ ) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں (وَ مِنَ الصَّالِحِیْن) فرمایا ہے اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے دعا میں عرض کیا (تَوَفَّنِیْ مُسْلِماً وَّ اَلْحِقًنِیْ بالصَّالِحِیْنَ ) (اے اللہ مجھے اس حال میں موت دے کہ میں مسلم ہوں اور مجھے نیکوں کے ساتھ ملا دے) ۔ چونکہ حضرات انبیاء (علیہ السلام) کا ذکر اوپر آچکا ہے۔ اس لیے یہاں وہ صالحین مراد ہیں جو حضرات انبیاء (علیہ السلام) کے علاوہ ہیں۔ آیت کے مضمون سے معلوم ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے جن بندوں پر انعام فرمایا ہے وہ چار ہی قسم کے حضرات ہیں۔ انبیاء صدیقین، شہداء اور صالحین اور ان ہی حضرات کی راہ پر چلنے کی دعا کرنے کی تلقین فرمائی۔ ہر نماز کی ہر رکعت میں سورة فاتحہ پڑھتے ہیں اس میں (صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ ) تلاوت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ ہمیں ان لوگوں کے راستے پر چلا جن پر تو نے انعام فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بہت زیادہ ہیں۔ کافر اور فاسق بھی ان سے منتفع و متمتع ہوتے ہیں۔ لیکن اصل انعام وہی ہے جو مذکورہ اشخاص پر ہوا۔ کیونکہ ہدایت اور تعلق مع اللہ اور صلاح و فلاح کا جو انعام ہے وہی حقیقی انعام ہے۔ آخرت میں اس کی وجہ سے بلند درجات نصیب ہوں گے۔ دوسرے انعامات اور ان کے فوائد اسی دنیا میں رہ جائیں گے۔ آخر میں فرمایا (وَ حَسُنَ اُولٰٓءِکَ رَفِیْقًا) کہ مذکورہ بالا حضرات کی رفاقت بہت ہی اچھی ہے۔ کیونکہ جنتوں میں ان کی معیت اور رفاقت حاصل ہوگی۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

48 یہ دل و جان سے ماننے والے مخلص مومنین کیلئے اخروی بشارت ہے مطلب یہ ہے کہ جو لوگ احکام الٰہی اور ارشادات نبوی پر پورا پورا عمل کریں گے اور دل و جان سے ان کے احکام کے سامنے سر جھکا دیں گے قیامت کے دن جنت میں ان کو انبیاء علیہم السلام۔ صدیقین۔ شہداء اور نیک لوگوں کی معیت اور سنگت نصیب ہوگی اور وہ جنت میں ان کے ساتھ ہوں گے۔ آیت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے سے آدمی نبی بھی بن سکتا ہے کیونکہ رسالت و نبوت تو وہبی چیز ہے جو محض عطاء الٰہی سے حاصل ہوتی ہے ہے کسب اور ریاضت اور کثرت عبادت سے حاصل نہیں ہوسکتی جیسا کہ ارشاد ہے اللہ اَعْلَمُ حَیْچُ یَجْعَلُ رِسَالَتہ (انعام رکوع 15) آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس آیت کا یہی مفہوم منقول ہے۔ امام سعید بن جبیر، مسروق، ربیع اور سدی کبیر سے منقول ہے۔ صحابہ نے عرض کی یا رسول اللہ دنیا میں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کی جدائی گوارا نہیں کرسکتے لیکن آخرت میں آپ کا درجہ چونکہ بہت بلند ہوگا اس لیے آپ کی زیارت نہیں کرسکیں گے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ قال اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یا رسول اللہ ما ینغی لنا ان نفارقک فی الدنیا فانک لو قدمت رفعت فوقنا فلم نرک فانزل اللہ و من یطع اللہ والرسول الایۃ (ابن جریر ج 5 ص 97، ابن کثیر ج 1 ص 522) ۔ علامہ قرطبی فرماتے ہیں۔ ای ھم معھم فی دار واحدۃ و نعیم واحد یستمتعون برویتھم والحضور معھم لا انھم یساو ونھم فی الدرجۃ (قرطبی ج 5 ص 272) اور پھر آخر میں وَحَسُنَ اُولئِکَ رَفِیْقًا سے اس بات کی صراحت فرما دی یہ حضرات بہت ہی اچھے رفیق اور ساتھی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں اخروی معیت اور رفاقت کا ذکر ہے۔ چونکہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے انسان صدیق اور ولی تو بن سکتا ہے لیکن نبی نہیں ہوسکتا البتہ آخرت میں نبیوں کا رفیق بن سکتا ہے اسی لیے یہاں فرمایا ہے کہ آخرت میں فرمانبردار لوگ نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے رفیق ہوں گے اور دوسری جگہ فرمایا وَالَّذِیْنَ اٰمِنُوْا بِاللہِ و َرُسُلِہٖ اُولئِک ھُمُ الصِّدِّیقُوْنَ وَ الشُّھَداء (حدید رکوع 2) یعنی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے والے صدیق اور شہید ہیں یہ نہیں فرمایا کہ وہ نبی ہیں۔

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi