Surat un Nissa

Surah: 4

Verse: 75

سورة النساء

وَ مَا لَکُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الۡمُسۡتَضۡعَفِیۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الۡوِلۡدَانِ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡ ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃِ الظَّالِمِ اَہۡلُہَا ۚ وَ اجۡعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ وَلِیًّا ۚ ۙ وَّ اجۡعَلۡ لَّنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ نَصِیۡرًا ﴿ؕ۷۵﴾

And what is [the matter] with you that you fight not in the cause of Allah and [for] the oppressed among men, women, and children who say, "Our Lord, take us out of this city of oppressive people and appoint for us from Yourself a protector and appoint for us from Yourself a helper?"

بھلا کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اور ان ناتواں مردوں عورتوں اور ننھے ننھے بچوں کے چھٹکارے کے لئے جہاد نہ کرو؟ جو یُوں دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار! ان ظالموں کی بستی سے ہمیں نجات دے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے حمایتی مُقّرر کر دے اور ہمارے لئے خاص اپنے پاس سے مددگار بنا ۔

Tafseer Ibn-e-Kaseer by

Amam Ibn-e-Kaseer

Encouraging Jihad to Defend the Oppressed Allah say; وَمَا لَكُمْ لاَ تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاء وَالْوِلْدَانِ ... And what is wrong with you that you fight not in the cause of Allah, and for those weak, ill-treated and oppressed among men, women, and children, Allah encouraged His believing servants to perform Jihad in His cause and to strive hard to save the oppressed Muslims in Makkah, men, women and children who were restless because of having to remain there. This is why Allah said, ... الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَـذِهِ الْقَرْيَةِ ... whose cry is: "Our Lord! Rescue us from this town, referring to Makkah. In a similar Ayah, Allah said, وَكَأَيِّن مِّن قَرْيَةٍ هِىَ أَشَدُّ قُوَّةً مِّن قَرْيَتِكَ الَّتِى أَخْرَجَتْكَ And many a town, stronger than your town which has driven you out. (47:13) Allah then describes this town, ... الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا whose people are oppressors; and raise for us from You one who will protect, and raise for us from You one who will help. meaning, send protectors and helpers for us. Al-Bukhari recorded that Ibn Abbas said, "I and my mother were from the oppressed (in Makkah)." Allah then said,

شیطان کے دوستوں سے جنگ لازم ہے ۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنی راہ کے جہاد کی رغبت دلاتا ہے اور فرماتا ہے کہ وہ کمزور بےبس لوگو جو مکہ میں ہیں جن میں عورتیں اور بچے بھی ہیں جو وہاں کے قیام سے اکتا گئے ہیں جن پر کفار نت نئی مصیبتیں توڑ رہے ہیں ۔ جو محض بےبال و پر ہیں انہیں آزاد کراؤ ، جو بےکس دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اسی بستی یعنی مکہ سے ہمارا نکلنا ممکن ہو ، مکہ شریف کو اس آیت میں بھی قریہ کہا گیا ہے ( وَكَاَيِّنْ مِّنْ قَرْيَةٍ هِىَ اَشَدُّ قُوَّةً مِّنْ قَرْيَتِكَ الَّتِيْٓ اَخْرَجَتْكَ ۚ اَهْلَكْنٰهُمْ فَلَا نَاصِرَ لَهُمْ ) 47 ۔ محمد:13 ) بہت سی بستیاں اس بستی سے زیادہ طاقتور تھیں جس بستی سے ( یعنی وہاں کے رہنے والوں نے ) تمہیں نکالا ۔ اسی مکہ کے رہنے والے مسلمان کافروں کے ظلم کے شکایت بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اپنی دعاؤں میں کہہ رہے ہیں کہ اے رب کسی کو اپنی طرف سے ہمارا ولی اور مددگار بنا کر ہماری امداد کو بھیج ۔ صحیح بخاری شریف میں ہے حضرت عبداللہ بن عباس انہی کمزوروں میں تھے اور روایت میں ہے کہ آپ نے ( اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ حِيْلَةً وَّلَا يَهْتَدُوْنَ سَبِيْلًا ) 4 ۔ النسآء:98 ) پڑھ کر فرمایا میں اور میری والدہ صاحبہ بھی انہی لوگوں میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے معذور رکھا ۔ ارشاد ہے ایماندار اللہ تعالیٰ نے معذور رکھا ۔ ارشاد ہے ایماندار اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری اور اس کی رضا جوئی کے لئے جہاد کرتے ہیں اور کفار اطاعت شیطان میں لڑتے ہیں تو مسلمانوں کو چاہیے کہ شیطان کے دوستوں سے جو جو اللہ کے دشمن ہیں دل کھول کر جنگ کریں اور یقین مانیں کہ شیطان کے ہتھکنڈے اور اس کے مکر و فریب سب نقش برآب ہیں ۔

Ahsan ul Bayan by

Shah Fahd Abdul Azeez (al saud)

75۔ 1 ظالموں کی بستی سے مراد (نزول کے اعتبار سے) مکہ ہے۔ ہجرت کے بعد وہاں باقی رہ جانے والے مسلمان خاص طور پر بوڑھے مرد، عورتیں اور بچے، کافروں کے ظلم ستم سے تنگ آکر اللہ کی بارگاہ میں مدد کی دعا کرتے تھے۔ اور اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو متنبہ فرمایا کہ تم ان مستضعفین کو کفار سے نجات دلانے کے لئے جہاد کیوں نہیں کرتے ؟ اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے علماء نے کہا کہ جس علاقے میں مسلمان اس طرح ظلم و ستم کا شکار اور نرغا کفار میں گھرے ہوئے ہوں تو دوسرے مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ان کافروں سے ظلم و ستم سے بچانے کے لئے جہاد کریں، یہ جہاد دوسری قسم کا ہے یعنی دین کی نشرو اشاعت اور کلمۃ اللہ کے غلبے کے لئے لڑنا جس کا ذکر اس سے پہلی آیت میں اور مابعد کی آیت میں ہے۔

Taiseer ul Quran by

Abdul Rehman Kilani

[١٠٤] ہجرت نہ کرسکنے والے :۔ اس آیت میں ان کمزور مسلمانوں، بیواؤں اور بچوں کی طرف اشارہ ہے جو مکہ یا بعض قبائل میں آباد تھے۔ اسلام قبول کرچکے تھے مگر ہجرت کرنے پر قدرت نہ رکھتے تھے اور کافروں کے ظلم و تشدد برداشت کرنے پر مجبور تھے اور اللہ سے دعا کیا کرتے تھے کہ یا اللہ ! ان ظالموں سے رہائی کی کوئی صورت پیدا فرما دے یا ہمارا کوئی حامی و مددگار بھیج جو ہمیں ان ظالموں کے پنجہ سے نکال لے جائے۔ چناچہ سیدنا ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایسے لوگوں کے حق میں نماز میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد دعا فرماتے کہ && یا اللہ ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور دوسرے ناتواں مسلمانوں کو جو مکہ میں ہیں کافروں کی قید سے چھڑا دے۔ یا اللہ ! مضر کے کافروں پر سخت گرفت فرما اور ان پر ایسا قحط بھیج، جیسا یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں قحط پڑا تھا۔ && (بخاری، کتاب الادب، باب تسمیۃ الولید) اور سیدنا عبداللہ ابن عباس (رض) جب یہ آیت پڑھا کرتے تو کہا کرتے کہ && میں اور میری ماں (دونوں مکہ میں) ان لوگوں میں سے تھے جنہیں اللہ نے معذور رکھا۔ && (بخاری، کتاب التفسیر) اس آیت میں مسلمانوں کو ایسے ہی کمزور و ناتواں مسلمانوں کی مدد کو پہنچنے اور ایسے ظالموں سے جہاد کر کے انہیں ان کے ظلم سے بچانے کی ترغیب دی جا رہی ہے۔

Tafseer al Quran by

Abdul Salam Bhatvi

اس آیت کا تعلق بھی ترغیب جہاد سے ہے، یعنی دو وجوہ کی بنا پر تمہارے لیے کفار سے لڑنا ضروری ہے، اول : اعلائے کلمۃ اللہ، یعنی اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے، دوم ان مظلوم مسلمانوں کو نجات دلانے کے لیے جو کفار کے چنگل میں بےبس پڑے ہیں۔ (قرطبی) مکہ معظمہ میں بہت سے لوگ ایسے رہ گئے تھے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہجرت نہ کرسکے تھے اور ان کے اقارب ان پر تشدد کرنے لگے تھے، تاکہ انھیں اسلام سے پھیر کر پھر کافر بنالیں۔ پس ” الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ اَهْلُھَا ۚ“ سے مراد مکہ ہے اور مشرک ہونے کی وجہ سے یا مظلوم مسلمانوں کو ستانے کی وجہ سے اس کے باشندوں کو ظالم فرمایا ہے۔ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں اور میری والدہ بھی ان ” مستضعفین “ (بےبس مسلمانوں میں) شامل تھے (جنھیں اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا) ۔ [ بخاری، التفسیر : ٤٥٨٤ ] مدینہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان ” مستضعفین “ کے حق میں نام لے کر دعا فرمایا کرتے تھے : ( اَللّٰہُمَّ اَنْجِ الْوَلِیْدَ بْنَ الْوَلِیْدِ وَ سَلَمَۃَ بْنَ ہِشَامٍ وَ عَیَّاشَ بْنَ أَبِیْ رَبِیْعَۃَ وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ )” یا اللہ ! ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ اور (مکہ میں گھرے ہوئے) دوسرے بےبس مسلمانوں کو رہائی دلا۔ “ [ بخاری، الأذان، باب یھوی بالتکبیر حین یسجد : ٨٠٤، عن أبی ہریرہ ] افسوس کہ اس وقت مسلمان کفار کے مختلف ممالک کی غلامی میں بےبس ہیں، وہ انھیں نہ آزادی دیتے ہیں نہ نکلنے دیتے ہیں اور نہ کوئی مسلمان ملک انھیں قبول کرنے کے لیے تیار ہے، بتائیں اس وقت سے بڑھ کر جہاد کب فرض ہوگا۔

Maarif ul Quran by

Mufti Muhammad Shafi

Commentary Answering the call of the oppressed Left behind in Makkah were Muslims who were unable to migrate because of physical weakness and insufficiency of resources. Later on, the disbelievers themselves stopped them from going and started hurting and harassing them in all sorts of ways so that they turn away from their faith in Islam. The names of some of these are preserved in exegetic works, for example, Sayyidna Ibn ` Abbas (رض) and his mother, Sulyma ibn Hisham, Walid ibn Walid and Abu Jandal ibn Sahl, may Allah be pleased with them all (Qurtubi). These blessed people kept facing tyranny and torture because of their unflinching faith showing no signs that they would ever surrender their firm stand on Islam. However, they did continue praying to Allah Almighty for deliverance from this hard life which was finally accepted by Him when He commanded Muslims to wage Jihad against the disbelievers and rescue the oppressed from their coercion and persecution. According to this verse, Muslims had requested Allah Almighty the favour of two things - that they be rescued from that town (meaning Makkah) and that they be blessed with some supporter and helper. The fact is that Allah Almighty granted both these prayers when He provided some of them with the opportunity to move out from there which was the fulfillment of their first wish. However, some of them remained staying right there until the Conquest of Makkah. At that time, the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) appointed Sayyidna ` Attab ibn Asid as their caretaker and who had the oppressed Muslims delivered from their oppressors. Thus, granted was their second wish as well. It will be noted that the Holy Qur&an, rather than give a straightforward command to fight in this verse, has elected to use the words: وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ): (What has happened to you that you do not fight in the way of Allah?). Here the hint given is that fighting and Jihad is a natural duty under such conditions,_ not doing which is certainly far from a reasonable man.

خلاصہ تفسیر اور تمہارے پاس کیا عذر ہے کہ تم جہاد نہ کرو (باوجودیکہ اس کا قوی داعی موجود ہے، کیونکہ یہ جہاد) اللہ کی راہ میں (ہوتا ہے، یعنی اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے ہے جس کا اہتمام ضروری ہے) اور (اس اعلاء دین کے آثار میں سے ایک خاص اثر کی ضرورت بھی درپیش ہے، وہ یہ کہ) کمزور (ایمانداروں) کی خاطر سے (بھی لڑنا ضرور ہے تاکہ کفار کے پنجہ ستم سے رہائی پائیں) جن (بیچاروں) میں کچھ مرد ہیں اور کھ عورتیں ہیں اور کچھ بچے ہیں جو (کفار سے تنگ و پریشان ہو کر) دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو (کسی طرح) اس بستی سے (یعنی مکہ سے جو ہمارے لیے جیل خانہ بنا ہوا ہے) باہر نکال، جس کے رہنے والے سخت ظالم ہیں (کہ ہم پر آفت ڈھا رکھی ہے) اور ہمارے لئے غیب سے کسی دوست کو کھڑا کیجئے اور ہمارے لئے غیب سے کسی حامی کو بھیجئے (کہ ہماری حمایت کر کے ان ظالموں کے پنجہ سے چھڑا دے) جو لوگ پکے ایمان دار ہیں (وہ تو ان احکام کو سن کر) اللہ کی راہ میں (یعنی غلبہ اسلام کے قصد سے) جہاد کرتے ہیں اور جو لوگ (ان کے مقابلہ میں) کافر ہیں وہ شیطان کی راہ میں (یعنی غلبہ کفر کے قصد سے) لڑتے ہیں (اور ظاہر ہے کہ ان دونوں میں نصرت اللہ کی طرف سے ایمان داروں کو ہوگی، جب ایمان داروں کے ساتھ اللہ کی مدد ہے) تو اے ایماندارو) تم شیطان کے ساتھیوں سے (یعنی کافروں سے جو کہ اللہ کی مدد سے محروم ہیں) جہاد کرو، شیطان ان کفری تدبیروں کا حکم کرتا ہے) شیطانی تدبیر (خود) لچر ہوتی ہے، (کیونکہ اس میں غیبی امداد نہیں ہوتی اور کبھی چند روزہ غلبہ ہوجانا تو ان کو چند روزہ مہلت اور ڈھیل دینا ہے، تو غیبی امداد جو مؤمنین کے ساتھ ہے وہ تدبیر اس کا کیا مقابلہ کرے گی۔ خلاصہ یہ کہ داعی بھی ہے اور وعدہ نصرت بھی ہے، پھر کیا عذر ہے ؟ اس لئے مکرر تاکید کی گئی۔ معارف مسائل مظلوم کی فریاد رسی اسلام کا ایک اہم فریضہ ہے :۔ مکہ میں ایسے کمزور مسلمان رہ گئے تھے جو جسمانی ضعف اور کم سامانی کی وجہ سے ہجرت نہ کرسکے تھے اور بعد میں کافروں نے بھی ان کو جانے سے روک دیا اور طرح طرح کی اذیتیں دینی شروع کردیں، تاکہ یہ لوگ اسلام سے پھرجائیں، ان حضرات میں سے بعضوں کے نام ہی تفاسیر میں مذکور ہیں، مثلاً ابن عباس اور ان کی والدہ سلمہ بن ہشام ولید بن ولید اور ابوجندل بن سہل (قرطبی) یہ حضرات اپنے ایمان کی پختگی کی وجہ سے ان کے ظلم و ستم کو جھیلتے اور سہتے رہے اور اسلام پر بڑی مضبوطی سے جمے رہے، البتہ اللہ تعالیٰ سے ان مصائب سے نجات کی دعائیں انہوں نے برابر جاری رکھیں، آخر اللہ تعالیٰ نے ان کی دعاء قبول فرمائی اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ جہاد کر کے ان کو کفار کے جبر و تشدد سے چھٹکارا دلوائیں۔ اس آیت میں مؤمنین نے اللہ تعالیٰ سے دو چیزوں کی درخواست کی تھی ایک یہ کہ ہم کو اس قریہ سے نکالیں (یہاں قریہ سے مراد مکہ ہے) دوسری یہ کہ ہمارے لئے کوئی ناصر اور مددگار بھیج دیں، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دونوں باتیں قبول فرمائی ہیں، اس طرح کہ بعض کو وہاں سے نکلنے کے مواقع میسر کئے جن سے ان کی پہلی بات پوری ہوئی، بعض اسی جگہ رہے، یہاں تک کہ مکہ فتح ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عتاب بن اسید کو ان کا متولی مقرر کیا، جنہوں نے مظلومین کو ان کے ظالمین سے نجات دلائی، اس طرح سے ان کی دوسری بات بھی پوری ہوگئی، اس آیت میں صاف لفظوں میں حکم قتال دینے کے بجائے قرآن نے یہ الفاظ اختیار کئے، مالکم لاتقاتلون جن میں اس طرف اشارہ ہے کہ ان حالات میں قتال جہاد ایک طبعی اور فطری فریضہ ہے، جس کا نہ کرنا کسی بھلے آدمی سے بہت بعید ہے۔

Mufradat ul Quran by

Imam Raghib Isfahani

وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللہِ وَالْمُسْتَضْعَفِيْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاۗءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ھٰذِہِ الْقَرْيَۃِ الظَّالِمِ اَہْلُھَا۝ ٠ۚ وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِيًّا۝ ٠ۚۙ وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِيْرًا۝ ٧٥ۭ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] أي : نعم شيئا يعظکم به، وقوله : فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] فقد أجيز أن يكون ما نكرة في قوله : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها [ البقرة/ 26] ، وقد أجيز أن يكون صلة، فما بعده يكون مفعولا . تقدیره : أن يضرب مثلا بعوضة الثالث : الاستفهام، ويسأل به عن جنس ذات الشیء، ونوعه، وعن جنس صفات الشیء، ونوعه، وقد يسأل به عن الأشخاص، والأعيان في غير الناطقین . وقال بعض النحويين : وقد يعبّر به عن الأشخاص الناطقین کقوله تعالی: إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] ، إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] وقال الخلیل : ما استفهام . أي : أيّ شيء تدعون من دون اللہ ؟ وإنما جعله كذلك، لأنّ «ما» هذه لا تدخل إلّا في المبتدإ والاستفهام الواقع آخرا . الرّابع : الجزاء نحو : ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُ الآية [ فاطر/ 2] . ونحو : ما تضرب أضرب . الخامس : التّعجّب نحو : فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] . وأمّا الحروف : فالأوّل : أن يكون ما بعده بمنزلة المصدر كأن الناصبة للفعل المستقبَل . نحو : وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] فإنّ «ما» مع رَزَقَ في تقدیر الرِّزْق، والدّلالة علی أنه مثل «أن» أنه لا يعود إليه ضمیر لا ملفوظ به ولا مقدّر فيه، وعلی هذا حمل قوله : بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] ، وعلی هذا قولهم : أتاني القوم ما عدا زيدا، وعلی هذا إذا کان في تقدیر ظرف نحو : كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] ، كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] ، كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] . وأما قوله : فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] فيصحّ أن يكون مصدرا، وأن يكون بمعنی الذي . واعلم أنّ «ما» إذا کان مع ما بعدها في تقدیر المصدر لم يكن إلّا حرفا، لأنه لو کان اسما لعاد إليه ضمیر، وکذلک قولک : أريد أن أخرج، فإنه لا عائد من الضمیر إلى أن، ولا ضمیر لهابعده . الثاني : للنّفي وأهل الحجاز يعملونه بشرط نحو : ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] «1» . الثالث : الکافّة، وهي الدّاخلة علی «أنّ» وأخواتها و «ربّ» ونحو ذلك، والفعل . نحو : إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] ، إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] ، كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] وعلی ذلك «ما» في قوله : رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] ، وعلی ذلك : قَلَّمَا وطَالَمَا فيما حكي . الرابع : المُسَلِّطَة، وهي التي تجعل اللفظ متسلِّطا بالعمل، بعد أن لم يكن عاملا . نحو : «ما» في إِذْمَا، وحَيْثُمَا، لأنّك تقول : إذما تفعل أفعل، وحیثما تقعد أقعد، فإذ وحیث لا يعملان بمجرَّدهما في الشّرط، ويعملان عند دخول «ما» عليهما . الخامس : الزائدة لتوکيد اللفظ في قولهم : إذا مَا فعلت کذا، وقولهم : إمّا تخرج أخرج . قال : فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] ، وقوله : إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما[ الإسراء/ 23] . ( ما ) یہ عربی زبان میں دو قسم پر ہے ۔ اسمی اور حر فی پھر ہر ایک پانچ قسم پر ہے لہذا کل دس قسمیں ہیں ( 1 ) ما اسمی ہو تو واحد اور تذکیر و تانیث کے لئے یکساں استعمال ہوتا ہے ۔ پھر لفظا مفرد ہونے کے لحاظ سے اس کی طرف ضمیر مفرد بھی لوٹ سکتی ہے ۔ اور معنی جمع ہونے کی صورت میں ضمیر جمع کا لانا بھی صحیح ہوتا ہے ۔ یہ ما کبھی بمعنی الذی ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] اور یہ ( لوگ ) خدا کے سوا ایسی چیزوں کی پر ستش کرتے ہیں جو نہ ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں ۔ تو یہاں ما کی طرف یضر ھم میں مفرد کی ضمیر لوٹ رہی ہے اس کے بعد معنی جمع کی مناسب سے هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] آگیا ہے اسی طرح آیت کریمہ : ۔ وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جوان کو آسمانوں اور زمین میں روزیدینے کا ذرہ بھی اختیار نہیں رکھتے میں بھی جمع کے معنی ملحوظ ہیں اور آیت کریمہ : ۔ بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] کہ تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے ۔ میں بھی جمع کے معنی مراد ہیں اور کبھی نکرہ ہوتا ہے جیسے فرمایا : ۔ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ [ النساء/ 58] بہت خوب نصیحت کرتا ہے ۔ تو یہاں نعما بمعنی شیئا ہے نیز فرمایا : ۔ فَنِعِمَّا هِيَ [ البقرة/ 271] تو وہ بھی خوب ہیں ایت کریمہ : ما بَعُوضَةً فَما فَوْقَها[ البقرة/ 26] کہ مچھر یا اس سے بڑھ کر کیس چیز کی میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما نکرہ بمعنی شیاء ہو اور یہ بھی کہ ماصلہ ہو اور اس کا ما بعد یعنی بعوضۃ مفعول ہو اور نظم کلام دراصل یوں ہو أن يضرب مثلا بعوضة اور کبھی استفھا فیہ ہوتا ہے اس صورت میں کبھی کبھی چیز کی نوع یا جنس سے سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی کسی چیز کی صفات جنسیہ یا نوعیہ کے متعلق سوال کے لئے آتا ہے اور کبھی غیر ذوی العقول اشخاص اور اعیان کے متعلق سوال کے لئے بھی آجاتا ہے ۔ بعض علمائے نحو کا قول ہے کہ کبھی اس کا اطلاق اشخاص ذوی العقول پر بھی ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ إِلَّا عَلى أَزْواجِهِمْ أَوْ ما مَلَكَتْ أَيْمانُهُمْ [ المؤمنون/ 6] مگر ان ہی بیویوں یا ( کنیزوں سے ) جو ان کی ملک ہوتی ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مِنْ شَيْءٍ [ العنکبوت/ 42] جس چیز کو خدا کے سوا پکارتے ہیں خواہ وہ کچھ ہی ہو خدا اسے جانتا ہے ۔ میں خلیل نے کہا ہے کہ ماتدعون میں ما استفہامیہ ہے ای شئی تدعون من دون اللہ اور انہوں نے یہ تکلف اس لئے کیا ہے کہ یہ ہمیشہ ابتداء کلام میں واقع ہوتا ہے اور مابعد کے متعلق استفہام کے لئے آتا ہے ۔ جو آخر میں واقع ہوتا ہے جیسا کہ آیت : ۔ ما يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلا مُمْسِكَ لَها، وَما يُمْسِكْ فَلا مُرْسِلَ لَهُالآية [ فاطر/ 2] خدا جو اپنی رحمت کا در وازہ کھول دے اور مثال ماتضرب اضرب میں ہے ۔ اور کبھی تعجب کے لئے ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ فَما أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ [ البقرة/ 175] یہ ( آتش جہنم کیسی بر داشت کرنے والے ہیں ۔ ما حرفی ہونے کی صورت میں بھی پانچ قسم پر ہے اول یہ کہ اس کا بعد بمنزلہ مصدر کے ہو جیسا کہ فعل مستقبل پر ان ناصبہ داخل ہونے کی صورت میں ہوتا ہے چناچہ فرمایا : ۔ وَمِمَّا رَزَقْناهُمْ يُنْفِقُونَ [ البقرة/ 3] اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں ۔ تو یہاں ما رزق بمعنی رزق مصدر کے ہے اور اس ما کے بمعنی ان مصدر یہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اس کی طرف کہیں بھی لفظا ما تقدیر اضمیر نہیں لوٹتی ۔ اور آیت کریمہ : ۔ بِما کانُوا يَكْذِبُونَ [ البقرة/ 10] اور ان کے جھوٹ بولتے کے سبب ۔ میں بھی ما مصدر ری معنی پر محمول ہے ۔ اسی طرح اتانیالقوم ماعدا زیدا میں بھی ما مصدر یہ ہے اور تقدیر ظرف کی صورت میں بھی ما مصدر یہ ہوتا ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ كُلَّما أَضاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ [ البقرة/ 20] جب بجلی ( چمکتی اور ) ان پر روشنی ڈالتی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں ۔ كُلَّما أَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللَّهُ [ المائدة/ 64] یہ جب لڑائی کے لئے آگ جلاتے ہیں ۔ خدا اس کو بجھا دیتا ہے ۔ كُلَّما خَبَتْ زِدْناهُمْ سَعِيراً [ الإسراء/ 97] جب ( اس کی آگ ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو ( عذاب دینے ) کے لئے اور بھڑ کا دیں گے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ فَاصْدَعْ بِما تُؤْمَرُ [ الحجر/ 94] پس جو حکم تم کو ( خدا کی طرف سے ملا ہے وہ ( لوگوں ) کو سنا دو ۔ میں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ما مصدر یہ ہوا اور یہ بھی کہ ما موصولہ بمعنی الذی ہو ۔ یاد رکھو کہ ما اپنے مابعد کے ساتھ مل کر مصدری معنی میں ہونے کی صورت میں ہمیشہ حرفی ہوتا ہے کیونکہ اگر وہ اسی ہو تو اس کی طرف ضمیر کا لوٹنا ضروری ہے پس یہ ارید ان اخرک میں ان کی طرح ہوتا ہے جس طرح ان کے بعد ضمیر نہیں ہوتی جو اس کی طرف لوٹ سکے اسی طرح ما کے بعد بھی عائد ( ضمیر نہیں آتی ۔ دوم ما نافیہ ہے ۔ اہل حجاز اسے مشروط عمل دیتے ہیں چناچہ فرمایا : ۔ ما هذا بَشَراً [يوسف/ 31] یہ آدمی نہیں ہے تیسرا ما کا فہ ہے جو ان واخواتھا اور ( رب کے ساتھ مل کر فعل پر داخل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ إِنَّما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ [ فاطر/ 28] خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ۔ إِنَّما نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدادُوا إِثْماً [ آل عمران/ 178] نہیں بلکہ ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں ۔ كَأَنَّما يُساقُونَ إِلَى الْمَوْتِ [ الأنفال/ 6] گویا موت کی طرف دھکیلے جارہے ہیں ۔ اور آیت کریمہ : ۔ رُبَما يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا[ الحجر/ 2] کسی وقت کافر لوگ آرزو کریں گے ۔ میں بھی ما کافہ ہی ہے ۔ اور بعض نے کہا ہے کہ قلما اور لما میں بھی ما کافہ ہوتا ہے ۔ چہارم ما مسلمۃ یعنی وہ ما جو کسی غیر عامل کلمہ کو عامل بنا کر مابعد پر مسلط کردیتا ہے جیسا کہ اذا ما وحیتما کا ما ہے کہ ما کے ساتھ مرکب ہونے سے قبل یہ کلمات غیر عاملہ تھے لیکن ترکیب کے بعد اسمائے شرط کا سا عمل کرتے ہیں اور فعل مضارع کو جز م دیتے ہیں جیسے حیثما نقعد اقعد وغیرہ پانچواں مازائدہ ہے جو محض پہلے لفظ کی توکید کے لئے آتا ہے جیسے اذا مافعلت کذا ( جب تم ایسا کرو ماتخرج اخرج اگر تم باہر نکلو گے تو میں بھی نکلو نگا قرآن پاک میں ہے : ۔ فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَداً [ مریم/ 26] اگر تم کسی آدمی کو دیکھوں ۔ إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما [ الإسراء/ 23] اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھا پے کو پہنچ جائیں ۔ اسْتَضْعَفْ واسْتَضْعَفْتُهُ : وجدتُهُ ضَعِيفاً ، قال وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ [ النساء/ 75] ، قالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ [ النساء/ 97] ، إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي[ الأعراف/ 150] ، وقوبل بالاستکبار في قوله : قالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا[ سبأ/ 33] استضعفتہ ۔ میں نے اسے کمزور سمجھا حقیر جانا ۔ قران میں ہے : ۔ وَنُرِيدُ أَنْ نَمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا[ القصص/ 5] اور ہم چاہتے تھے کہ جنہیں ملک میں کمزور سمجھا گیا ہے ان پر احسان کریں : وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجالِ وَالنِّساءِ وَالْوِلْدانِ [ النساء/ 75] اور ان بےبس مردوں عورتوں اور بچوں قالوا فِيمَ كُنْتُمْ قالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ [ النساء/ 97] تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز اور ناتوان تھے ۔ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي[ الأعراف/ 150] کہ لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ قالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا[ سبأ/ 33] اور کمزور لوگ برے لوگوں سے کہیں گے ۔ میں استضاف استکبار کے مقابلہ میں استعمال ہوا ہے رجل الرَّجُلُ : مختصّ بالذّكر من الناس، ولذلک قال تعالی: وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا [ الأنعام/ 9] ( ر ج ل ) الرجل کے معنی مرد کے ہیں اس بنا پر قرآن میں ہے : ۔ وَلَوْ جَعَلْناهُ مَلَكاً لَجَعَلْناهُ رَجُلًا[ الأنعام/ 9] اگر ہم رسول کا مدد گار ) کوئی فرشتہ بناتے تو اس کو بھی آدمی ہی بناتے ۔ نِّسَاءُ والنِّسْوَان والنِّسْوَة جمعُ المرأةِ من غير لفظها، کالقومِ في جمعِ المَرْءِ ، قال تعالی: لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] ما بال النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] النساء والنسوان والنسوۃ یہ تینوں امراءۃ کی جمع من غیر لفظہ ہیں ۔ جیسے مرء کی جمع قوم آجاتی ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : لا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ إلى قوله : وَلا نِساءٌ مِنْ نِساءٍ [ الحجرات/ 11] اور نہ عورتیں عورتوں سے تمسخر کریں ما بال النِّسْوَةِ اللَّاتِي قَطَّعْنَ أَيْدِيَهُنَّ [يوسف/ 50] کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کا ٹ لئے تھے ۔ ولد الوَلَدُ : المَوْلُودُ. يقال للواحد والجمع والصّغير والکبير . قال اللہ تعالی: فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] ، ( و ل د ) الولد ۔ جو جنا گیا ہو یہ لفظ واحد جمع مذکر مونث چھوٹے بڑے سب پر بولاجاتا ہے ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ [ النساء/ 11] اور اگر اولاد نہ ہو ۔ رب الرَّبُّ في الأصل : التربية، وهو إنشاء الشیء حالا فحالا إلى حدّ التمام، يقال رَبَّهُ ، وربّاه ورَبَّبَهُ. وقیل : ( لأن يربّني رجل من قریش أحبّ إليّ من أن يربّني رجل من هوازن) فالرّبّ مصدر مستعار للفاعل، ولا يقال الرّبّ مطلقا إلا لله تعالیٰ المتکفّل بمصلحة الموجودات، نحو قوله : بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] ( ر ب ب ) الرب ( ن ) کے اصل معنی تربیت کرنا یعنی کس چیز کو تدریجا نشونما دے کر حد کہال تک پہنچانا کے ہیں اور ربہ ورباہ وربیہ تنیوں ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ کسی نے کہا ہے ۔ لان یربنی رجل من قریش احب الی من ان یربنی رجل من ھوازن ۔ کہ کسی قریشی کا سردار ہونا مجھے اس سے زیادہ عزیز ہے کہ بنی ہوازن کا کوئی آدمی مجھ پر حکمرانی کرے ۔ رب کا لفظ اصل میں مصدر ہے اور استعارۃ بمعنی فاعل استعمال ہوتا ہے اور مطلق ( یعنی اصافت اور لام تعریف سے خالی ) ہونے کی صورت میں سوائے اللہ تعالیٰ کے ، جو جملہ موجودات کے مصالح کا کفیل ہے ، اور کسی پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا چناچہ ارشاد ہے :۔ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ [ سبأ/ 15] عمدہ شہر اور ( آخرت میں ) گنا ه بخشنے والا پروردگار ،۔ خرج خَرَجَ خُرُوجاً : برز من مقرّه أو حاله، سواء کان مقرّه دارا، أو بلدا، أو ثوبا، وسواء کان حاله حالة في نفسه، أو في أسبابه الخارجة، قال تعالی: فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] ، ( خ رج ) خرج ۔ ( ن) خروجا کے معنی کسی کے اپنی قرار گاہ یا حالت سے ظاہر ہونے کے ہیں ۔ عام اس سے کہ وہ قرار گاہ مکان ہو یا کوئی شہر یا کپڑا ہو اور یا کوئی حالت نفسانی ہو جو اسباب خارجیہ کی بنا پر اسے لاحق ہوئی ہو ۔ قرآن میں ہے ؛ فَخَرَجَ مِنْها خائِفاً يَتَرَقَّبُ [ القصص/ 21] موسٰی وہاں سے ڈرتے نکل کھڑے ہوئے کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔ قرية الْقَرْيَةُ : اسم للموضع الذي يجتمع فيه الناس، وللناس جمیعا، ويستعمل في كلّ واحد منهما . قال تعالی: وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] قال کثير من المفسّرين معناه : أهل القرية . ( ق ر ی ) القریۃ وہ جگہ جہاں لوگ جمع ہو کر آباد ہوجائیں تو بحیثیت مجموعی ان دونوں کو قریہ کہتے ہیں اور جمع ہونے والے لوگوں اور جگہ انفراد بھی قریہ بولا جاتا ہے ۔ اور آیت کریمہ : ۔ وَسْئَلِ الْقَرْيَةَ [يوسف/ 82] بستی سے دریافت کرلیجئے ۔ میں اکثر مفسرین نے اہل کا لفظ محزوف مان کر قریہ سے وہاں کے با شندے مرے لئے ہیں ظلم وَالظُّلْمُ عند أهل اللّغة وكثير من العلماء : وضع الشیء في غير موضعه المختصّ به، إمّا بنقصان أو بزیادة، وإمّا بعدول عن وقته أو مکانه، قال بعض الحکماء : الظُّلْمُ ثلاثةٌ: الأوّل : ظُلْمٌ بين الإنسان وبین اللہ تعالی، وأعظمه : الکفر والشّرک والنّفاق، ولذلک قال :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] والثاني : ظُلْمٌ بينه وبین الناس، وإيّاه قصد بقوله : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ وبقوله : إِنَّمَا السَّبِيلُ عَلَى الَّذِينَ يَظْلِمُونَ النَّاسَ [ الشوری/ 42] والثالث : ظُلْمٌ بينه وبین نفسه، وإيّاه قصد بقوله : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] ، ( ظ ل م ) ۔ الظلم اہل لغت اور اکثر علماء کے نزدیک ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو اس کے مخصوص مقام پر نہ رکھنا خواہ کمی زیادتی کرکے یا اسے اس کی صحیح وقت یا اصلی جگہ سے ہٹاکر بعض حکماء نے کہا ہے کہ ظلم تین قسم پر ہے (1) وہ ظلم جو انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ کرتا ہے اس کی سب سے بڑی قسم کفر وشرک اور نفاق ہے ۔ چناچہ فرمایا :إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ [ لقمان/ 13] شرک تو بڑا بھاری ظلم ہے ۔ (2) دوسری قسم کا ظلم وہ ہے جو انسان ایک دوسرے پر کرتا ہے ۔ چناچہ آیت کریمہ : وَجَزاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ إلى قوله : إِنَّهُ لا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کرلے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمہ ہے اس میں شک نہیں کہ وہ ظلم کرنیوالوں کو پسند نہیں کرتا ۔ میں ظالمین سے اسی قسم کے لوگ مراد ہیں ۔ ۔ (3) تیسری قسم کا ظلم وہ ہے جو ایک انسان خود اپنے نفس پر کرتا ہے ۔ چناچہ اسی معنی میں فرمایا : فَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ [ فاطر/ 32] تو کچھ ان میں سے اپنے آپ پر ظلم کرتے ہیں لدن لَدُنْ أخصّ من «عند» ، لأنه يدلّ علی ابتداء نهاية . نحو : أقمت عنده من لدن طلوع الشمس إلى غروبها، فيوضع لدن موضع نهاية الفعل . قال تعالی: فَلا تُصاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْراً [ الكهف/ 76] ( ل دن ) لدن ۔ یہ عند سے اخص ہے کیونکہ یہ کسی فعل کی انتہاء کے آغاز پر دلالت کرتا ہے ۔ جیسے قمت عند ہ من لدن طلوع الشمس الیٰ غروبھا آغاز طلوع شمس سے غروب آفتاب اس کے پاس ٹھہرا رہا ۔ قرآن میں ہے : فَلا تُصاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْراً [ الكهف/ 76] تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھئے گا کہ آپ کو مجھے ساتھ نہ رکھنے کے بارے میں میری طرف سے عذر حاصل ہوگا ۔

Ahkam ul Quran by

Amam Abubakr Al Jassas

Tafseer Ibn e Abbas by

by Ibn e Abbas

(٧٥) اب جہاد فی سبیل اللہ سے ان لوگوں کے اعراض کا اللہ تعالیٰ ذکر فرماتے ہیں کہ اطاعت خداوندی میں کفار مکہ کے ساتھ کیوں جہاد نہیں کرتے، مکہ مکرمہ میں کمزور لوگ ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں کہ مکہ والے مشرک و ظالم ہیں اے اللہ ! یہاں سے ہمیں باہر نکال دے اور ہمارے لیے غیب سے کوئی مددگار اور کوئی حامی بھیج دے چناچہ اللہ تعالیٰ نیان کی دعا قبول کی اور رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے عتاب بن اسید (رض) کو معین ومحافظ بنا دیا ،

Bayan ul Quran by

Dr Israr Ahmed

چناچہ فرمایا : آیت ٧٥ (وَمَا لَکُمْ لاَ تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) (وَالْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالْوِلْدَانِ ) (الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْ ہٰذِہِ الْقَرْیَۃِ الظَّالِمِ اَہْلُہَا ج) (وَاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ وَلِیًّاج وَّاجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْکَ نَصِیْرًا ) ان کی یہ آہ و بکا تمہیں آمادۂ پیکار کیوں نہیں کر رہی ؟ ان پر ظلم ہو رہا ہے ‘ ان پر ستم ڈھائے جا رہے ہیں اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم اپنے گھروں سے نکلنے کو تیار نہیں ہو ؟ بعض لوگ اس آیت کا انطباق ان مختلف قسم کے سیاسی جہادوں پر بھی کردیتے ہیں جو کہ آج کل ہمارے ہاں جاری ہیں اور ان پر جہاد فی سبیل اللہ کا لیبل لگایا جا رہا ہے۔ لیکن یہ بات بالکل ہی قیاس مع الفارق ہے۔ واضح رہے کہ یہ خطاب ان اہل ایمان سے ہو رہا ہے جن کے ہاں اسلام قائم ہوچکا تھا۔ ہم اپنے ملک میں اسلام قائم کر نہیں سکتے۔ یہاں پر دین کے غلبہ و اقامت کی کوئی جدوجہد نہیں کر رہے۔ ہمارے ہاں کفر کا نظام چل رہا ہے۔ اس کے مخاطب اہل ایمان ہیں ‘ اور اہل ایمان کا فرض یہ ہے کہ پہلے اپنے گھر کو درست کرو ‘ پہلے اپنے ملک کے اندر اسلام قائم کرو لہٰذا جہاد کرنا ہے تو یہاں کرو ‘ جانیں دینی ہیں تو یہاں دو ۔ یہاں پر طاغوت کی حکومت ہے ‘ غیر اللہ کی حکومت ہے ‘ قرآن کے سوا کوئی اور قانون چل رہا ہے ‘ جبکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : (وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَا اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ ۔۔ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔۔ فَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ) (المائدۃ) اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلے نہیں کرتے وہی تو کافر ہیں ۔۔ وہی تو ظالم ہیں ۔۔ وہی تو فاسق ہیں۔ “ چناچہ کافر ‘ ظالم اور فاسق تو ہم خود ہیں۔ ہمیں پہلے اپنے گھر کی حالت درست کرنا ہوگی۔ اس کے بعد ایک جمعیت قائم ہوگی۔ ہماری حکومت تو ان لوگوں سے دوستیاں کرتی پھرتی ہے جن کے خلاف یہاں جہاد کا نعرہ بلند ہو رہا ہے ‘ جس میں جانیں دی جا رہی ہیں۔ تو یہ آیت اپنی جگہ ہے۔ ہرچیز کو اس کے سیاق وسباق کے اندر رکھنا چاہیے۔

Tafheem ul Quran by

Abdul Ala Maududi

104. This refers to those wronged, persecuted men, women and children of Makka and of the other tribes in Arabia who had embraced Islam, but were able neither to emigrate nor to protect themselves from the wrongs to which they were subjected. These helpless people suffered many forms of persecution, and prayed for deliverance from oppression.

سورة النِّسَآء حاشیہ نمبر :104 اشارہ ہے ان مظلوم بچوں ، عورتوں اور مردوں کی طرف جو مکہ میں اور عرب کے دوسرے قبائل میں اسلام قبول کرچکے تھے مگر نہ ہجرت پر قادر تھے اور نہ اپنے آپ کو ظلم سے بچاسکتے تھے یہ غریب طرح طرح سے تختہ مشق ستم بنائے جارہے تھے اور دعائیں مانگتے تھے کہ کوئی انہیں اس ظلم سے بچائے ۔

Aasan Tarjuma e Quran by

Mufti Taqi Usmani

Ahsan ut Tafaseer by

Hafiz M. Syed Ahmed Hassan

(75 ۔ 76) ۔ اوپر کی آیتوں کی ترغیب کے علاوہ مشرکین مکہ سے دین کی لڑائی میں یہ اور طرح سے ترغیب مسلمانوں کو دلائی۔ مکہ میں کمزور لوگ عورتیں بچے ایسے بہت آدمی تھے جو حضرت کے ساتھ ہجرت کر کے مدینہ کو نہ آسکے اب وہ مظلوم بن کر مشرکین مکہ کے قابوں میں تھے اور مشرکین مکہ ان مظلوموں پر طرح طرح کی زیادتی کرتے تھے۔ تاکہ وہ تنگ آن کر اپنے دین سے پھرجائیں اس لئے فرمایا کہ اے مسلمانو ! تم کو اس بات سے کس نے روکا ہے کہ تم نہ لڑو اللہ کی راہ میں ان لوگوں کو چھوڑانے میں جو مغلوب بن کر بےبس کافروں کے قابو میں ہیں اور رات دن اسی آفت سے نجات پانے کی اللہ سے التجا کرتے ہیں اور کہتے ہیں یا اللہ جلدی ہمارا کوئی ایسا حمایتی کھڑا کر جس کی حمایت سے ہم ان ظالموں کی بستی سے نکلیں۔ صحیح بخاری۔ مسلم۔ سنن اور مستدرک حاکم میں ابن عمر (رض) اور ابوہریرہ (رض) سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو مسلمان کسی مسلمان کی کسی طرح کی سختی رفع کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کی سختی رفع فرمائے گا۔ اور دنیا میں بھی ایسے شخص کی ہر طرح سے مدد کرے ٢ گا غرض اوپر کی آیتوں میں دین کی لڑائی کا جو اجر اور فائدہ تھا مشرکین مکہ سے لڑنے میں اس کے علاوہ مظلوموں کی مدد کا بھی اجر ہے۔ اس لئے اس کو خاص طور پر ان آیتوں میں فرمایا۔ پھر لڑائی پر مستعد ہوجانے کی مسلمانوں کی یوں جرأ ت بڑھائی کہ تم لوگ اللہ کی راہ میں لڑتے ہو اس لئے اللہ اپنے وعدہ کے موافق ہر حال میں تمہاری مدد کرے گا۔ اور اللہ کی مدد سے تمہارا ہی غلبہ ہوگا۔ کیونکہ اللہ سچا ہے اللہ کا وعدہ سچا ہے اور تمہارے دشمن شیطان کے ہوا خواہ ہیں جو خود بھی جھوٹا ہے اور اس کے سب وعدے بھی مکروفریب کے ہیں اس واسطے تمہارے دشمن آخر کو مغلوب ہوں گئے۔ اور جو مسلمان مظلوموں کی طرح دشمن کے قابو میں تھے ان کی رہائی ہوگئی۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں ہجرت سے پہلے جب تک مسلمانوں کی جماعت تھوڑی سی تھی اور ان کے پاس لڑائی سامان بھی کچھ نہیں تھا۔ اس وقت تک اگرچہ مکہ کے موجودہ مسلمان مشرکین مکہ کی طرح طرح کی ایذا سے تنگ آکر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت چاہتے تھے کہ مشرکین سے لڑیں۔ چناچہ آگے کی آیت میں اس کا ذکر ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی حکمت میں اس وقت تک لڑائی کے حکم کا نازل فرمانا خلاف مصلحت تھا۔ ان مسلمانوں کی خواہش پر لڑائی کا کوئی حکم نازل نہیں ہوا۔ بلکہ درگذر کی آیتیں نازل ہوتی رہیں۔ یہاں تک کہ ہجرت کا حکم نازل ہو کر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مدینہ میں تشریف لے آئے مہاجرین اور انصار کے ایک جا ہونے سے مسلمانوں کی جماعت بڑھ گئی۔ لڑائی کا کچھ سامان بھی فراہم ہوگیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دین کی لڑائی کا حکم نازل فرمایا۔ اور اس حکم کی تعمیل کی یہ ترغیبیں ہیں جن کا ان آیتوں میں ذکر ہے شریعت موسوی سے لے کر شریعت محمدی تک دین کی لڑائی کے جائز کردینے میں بڑی مصلحت یہ ہے کہ اس سے دین کی حفاظت ہوتی ہے کوئی مخالف کسی دین کی ہتک نہیں کرسکتا۔ چناچہ تفصیل سے یہ ذکر سورة حج کی تفسیر میں آئے گا۔

Anwar ul Bayan by

Muhammad Ali

(4:75) مالکم کیا ہوگیا ہے تمہیں۔ کیا وجہ ہے۔ یہ استفہام تحریض علی الجہاد کے لئے ہے یعنی جہاد میں برانگیختہ کرنے کے لئے ہے۔ والمستضعفین۔ اسم مفعول جمع مذکر (باب استفعال) سبیل اللہ پر عطف ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ یعنی کہ تم جنگ کیوں نہیں کرتے اللہ کی راہ میں اور بےبس مرد۔ عورتوں اور بچوں (کی خلاصی) کے لئے۔ یہاں بےبس مرد، عورتیں اور بچوں سے مراد ہیں وہ جو مکہ میں مسلمان ہوئے اور مشرکین نے ان کو ہجرت سے روکے رکھا۔ اور ان پر طرح طرح کی اذیتیں اور سختیاں کیں ۔

Ashraf ul Hawashi by

Muhammad Abdahul-Falah

ف 4 اس کا تعلق بھی ترغیب جہاد سے ہے یعنی دو وجوہ کی بنا پر تمہیں کفار سے لڑنا ضروری ہے اول اعلائے کلمتہ اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے دوم ان مظلوم مسلمانوں کے نجات دلانے کے لیے جو کفار کے چنگل میں بےبس پڑئے ہیں (قرطبی) مکہ معظمہ میں بہت سے ایسے لوگ رہ گئے تھے جو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہجرت نہ کرسکے تھے اور ان کے تعارب ان پر تشدد کرنے لگے تھے نانہ اسلام سے پھیر کر ان کو پھر سے کافر بنالیں پس القریتہ الظالم اھلھا سے مکہ مراد ہے۔ اور مشرک ہونے کی وجہ سے یا مظلوم مسلمانوں کی ستانے کی وجہ سے اس کے باشندوں کو ظالم فرمایا ہے حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ میں اور میر والدہ بھی ان بےبس مسلما نوں شامل تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا ہے (رازی۔ ابن کثیر) مدینہ میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان مستضعفین کے حق میں نام لے لیکر دعا فرمایا کرتے تھے اللھم انج الوالید بن الولید وسلم تہ بن ہشام و عیاش بن ابی ربعیہ والمستضعفین من المو منین۔ یا اللہ ولید بن ولید بن ہشام، عیاش، بن ابی ربیعہ اور مکہ میں گھرے ہوئے دوسرے بےبس مسلمانوں کو رہائی دلا (بخاری )

Asrar ut Tanzil by

Muhammad Akram Awan

Baseerat e Quran by

Muhammad Asif Qasmi

Bayan ul Quran by

Maulana Ashraf ali Thanvi

3۔ مکہ میں ایسے کمزور مسلمان رہ گئے تھے کہ اپنے ضعف وکم سامانی کی وجہ سے ہجرت نہ کرسکے پھر کافروں نے بھی نہ جانے دیا اور طرح طرح سے ان کو ستاتے تھے چناچہ احادیث وتفاسیر میں بعضون کے نام بھی آئے ہیں آخر اللہ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور بعضوں کی رہائی کا تو پہلے ہی سامان ہوگیا اور پھر مکہ معظمہ فتح ہوگیا جس سے سب کو امن اور اعزاز حاصل ہوگیا اور حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر حضرت عتاب بن اسید کو عامل وحاکم مقرر فرمایا پس ولی ونصیر کا مصداق خواہ رسول اللہ کو کہا جائے اور یہی اچھا معلوم ہوتا ہے اور یا حضرت عتاب کو کہا جائے کہ انہوں نے اپنے زمانہ حکومت میں سب کو خوب آرام پہنچایا۔

Fahm ul Quran by

Mian Muhammad Jameel

فہم القرآن ربط کلام : جہاد کے متعلق خطاب جاری ہے اور اس میں مظلوم کی مدد کرنا لازم قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وطن اور گھر کی محبت انسان ہی نہیں درندوں اور پرندوں کے دل میں بھی پیدا فرمائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ درندے اپنی غار کی اور پرندے اپنے گھونسلے کے ایک ایک تنکے کی حفاظت کرتے ہیں اور ہر جاندار شام کو اپنے ٹھکانے کی طرف پلٹتا ہے۔ کوئی جاندار اپنے گھر اور وطن کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ لیکن جب کسی کو اس قدر ستایا جائے کہ اسے اپنی جان کے لالے پڑجائیں تو وہ ہر چیز چھوڑنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے۔ یہی صورت انسان کی ہے جب مکہ معظمہ میں مسلمانوں پر اس قدر مظالم توڑے گئے کہ ظالم اور سفاک لوگوں نے مسلمان خواتین اور معصوم بچوں کو بھی معاف نہ کیا۔ جس کی وجہ سے مرد، عورتیں اور بچے بلبلا اٹھے کہ بار الٰہی ! ظالموں کی بستی سے نکلنے کے لیے اپنی طرف سے ہمارا سر پرست اور مددگار پیدا فرما۔ تاکہ ہم اپنے ایمان اور جان و مال کو بچا سکیں۔ اس دعا میں کمزور مسلمانوں کی مظلومیت کا نقشہ پیش کرنے کے ساتھ ان کی ہمدردی اور مدد کے لیے مسلمانوں پر جہاد کی فرضیت واضح کی جارہی ہے۔ یاد رہے کہ اسلامی جہاد کی بنیادی طور پر تین اقسام ہیں۔ ١۔ دفاعی۔ ٢۔ مظلوم مسلمان اور انسانیت کی مدد کرنا۔ ٣۔ اللہ کے باغیوں کو سرنگوں کرکے پرچم اسلام کو سر بلند رکھنا۔ کیونکہ زمین ومافیہا اللہ کی ملکیت ہے۔ لہٰذا باغی انسانوں کو سرنگوں کرنا اور رکھنا اللہ والوں کی ذمہ داری ہے۔ جہاں تک مظلوم انسانیت کی مدد کرنے کا معاملہ ہے دنیا میں دوسری قوموں کے مقابلے میں مسلمان لازوال تاریخ رکھتے ہیں۔ کیوں کہ انہوں نے اپنی اغراض کے بجائے محض اللہ کی رضا اور انسانیت کی حمایت کے لیے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ ہسپانیہ کی تاریخ گواہ ہے کہ جب عیسائی حکمران راڈرک نے اپنے ہی گورنر کی معصوم بچی کے ساتھ زیادتی کی تو گورنر نے مجبور ہو کر اپنے ہم منصب مسلمان ملک کے سرحدی گورنر موسیٰ بن نصیر کو خط لکھا۔ جس کے جواب میں طارق بن زیاد نے اسپین پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں تقریباً 8 سو سال تک اسپین امن وامان کا گہوارہ بنا۔ ہسپانوی مورخ اسے ہسپانیہ کی تاریخ کا سنہری دور تصور کرتے ہیں۔ ایسی ہی صورت حال سندھ میں پیدا ہوئی کہ جب مسلمان مسافروں پر راجہ داہر کے غنڈوں نے حملہ کیا تو ایک مسلمان بیٹی نے عراق کے گورنر حجاج بن یوسف کو دہائی دی۔ حجاج نے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو مظلوموں کی مدد کے لیے بھیجا۔ جس سے تقریباً ایک ہزار سال تک ہندو ستان میں اسلام کا پھریرا بلند رہا اور اس ملک میں وحدت پیدا ہوئی۔ لوگوں کو سیاسی ‘ علمی شعور ملنے کے ساتھ امن و سکون نصیب ہوا اور پاکستان وجود میں آیا۔ اسی جہاد کی ترجمانی قادسیہ میں جو اس وقت ایرانی حکومت کا دارالحکومت تھا حضرت ربیع (رح) نے رستم کے سامنے ان الفاظ میں کی تھی : (إِنَّا قَدْ أُرْسِلْنَا لِنُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ ظُلُمَاتِ الْجَھَالَۃِ إِلٰی نُوْرِ الْإِیْمَانِ وَمِنْ جَوْرِ الْمُلُوْکِ إِلٰی عَدْلِ الْإِسْلَامِ ) [ البدایہ والنہایہ ] ” (ہم خود نہیں آئے) ہمیں بھیجا گیا ہے تاکہ لوگوں کو جہالت کی تاریکیوں سے نکال کر نور ایمان میں لا کھڑا کریں۔ عوام الناس کو بڑے لوگوں کے جورو ستم سے نکال کر اسلام کے عادلانہ نظام میں زندگی گزارنے کا موقعہ فراہم کریں۔ “ مسائل ١۔ کفار کے مظالم سے مسلمانوں کو چھڑانا چاہیے۔ ٢۔ مظلوم کو اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرنی چاہیے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی مدد نہیں کرسکتا۔ تفسیر بالقرآن مظلوم کی مدد کرنا چاہیے : ١۔ مظلوم مسلمانوں کو جہاد کرنے کی اجازت ہے۔ (الحج : ٣٩) ٢۔ مظلوموں کی مدد کے لیے جہاد کرنا لازم ہے۔ (النساء : ٧٥)

Fi Zilal al Quran by

Sayyid Qutb Shaheed

(آیت) ” نمبر ٧٥۔ قتال فی سبیل اللہ میں سستی کرنے کا تمہارے لئے کیا موقعہ ہے جب کہ ان مجبور اور ضعیف مردوں ‘ عورتوں اور بچوں کا آزاد کرانا تمہارے فرائض میں سے ہے ۔ یہ لوگ جو قابل رحم حالت میں ہیں اور جن کی تصویر کشی قرآن کریم نہایت ہی اچر آفریں الفاظ میں کرتا ہے جس پر مسلمانوں کی حمیت جوش میں آتی ہے ۔ مسلمانوں کی عزت نفس جوش میں آتی ہے اور انسانی رحم اور ہمدردی کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں ‘ اس لئے کہ یہ لوگ شدید سے شدید تر مظالم کے شکار ہو رہے ہیں ۔ اس لئے بھی کہ ان پر یہ مظالم محض ان کے نظریات کی وجہ سے ہو رہے ہیں ۔ ان کے دین کی وجہ سے انہیں مبتلائے مصیبت کیا جارہا ہے ۔ اس کے سوا ان کا اور کوئی جرم نہیں ہے ۔ غرض نظریات اور دین کی وجہ سے جو مصائب آتے ہیں وہ جان ومال کی وجہ سے آنے والے مصائب سے زیادہ شدید اور سخت ہوتے ہیں ۔ اس لئے کہ یہ مصائب انسان پر انسانی خصوصیات کی وجہ سے آتے ہیں ۔ اور انسان کی عزت نفس اس کی عزت اور اس کے حق ملکیت وغیرہ کے حوالے سے مصائب کا درجہ اس کے بعد آتا ہے ۔ ایسی عورت کی تصویر جو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو ‘ ایسے بچوں کی مناظر جو نحیف وناتواں ہوں ‘ ایک ایسا منظر ہے جو جذبات کے اندر تلاطم پیدا کردیتا ہے ۔ خصوصا وہ ضعیف لوگ اور بوڑھے جو اپنا دفاع بھی نہیں کرسکتے اور خصوصا ایسے حالات میں جب اس دفاع کا تعلق دین اور عقیدے سے ہو ۔ یہ منظر ایسے وقت میں دکھایا جاتا ہے ۔ جس میں جہاد کی طرف دعوت دی جاتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے حالات میں جہاد کے لئے نہ اٹھنا نہایت ہی مکروہ فعل ہوگا ‘ جبکہ مظلوموں کی یہ چیخ و پکار سنی جا رہی ہو۔ یہ ایک ایسا اسلوب بیان ہے جو دلوں کو پگھلا دیتا ہے اور انسانی شعور اور احساس کے اندر گہرائی تک اتر جاتا ہے ۔ لہذا ایک نظر اس پہلو پر بھی ڈالیں کہ اسلامی تصور کے مطابق ملک ووطن کی حیثیت کیا ہے ۔ یہاں ملک اور بلدہ کی تعریف یوں کی جاتی ہے ۔ (الظالم اھلھا) جس کے لوگ ظالم ہیں ‘ یہ اسلام کے نزدیک دارالحرب ہے ۔ اور مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اس ملک کے ساتھ کمزور مسلمانوں اور ان کے بیوی بچوں کو چھڑانے کے لئے جنگ کریں اور یہ وطن مکہ ہے جو مہاجرین کا اصلی وطن تھا اور ان مہاجرین کو پرجوش دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اس مالک کے خلاف جنگ کریں اور ضعیف مسلمانوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ موقعہ پاتے ہی اس ظالم ملک سے نکل آئیں ۔ یہاں اس علاقے اور ملک کا مہاجرین کا وطن اصلی ہونا کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور اس وجہ سے اسلامی نقطہ نظر سے اس کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی جب کہ اس میں اللہ کی شریعت بھی نافذ نہیں ہے ۔ وہ اسلامی نظام حیات کے تحت نہیں ہے جس میں مومنین کو ان کے ایمان کی وجہ سے فتنوں اور مصیبتوں میں ڈالا جاتا ہے اور ان پر محض ان کے عقیدے کی وجہ سے مظالم ڈھائے جاتے ہیں بلکہ خود ان اصلی باشندوں کے نقطہ نظر سے یہ ملک دارالحرب بن گیا ہے ۔ وہ اپنے اس اصل وطن کی مدافعت نہیں کرتے بلکہ یہ لوگ خود اپنے اصل ملک کے خلاف اس لئے جنگ کرتے ہیں کہ وہاں سے اپنے مومن بھائیوں کو نکال لیں ۔ غرض مسلمان کا جھنڈا وہ ہوتا ہے جو اس کے عقیدے کا جھنڈا ہوتا ہے اور ایک مسلمان صرف ایک جھنڈے کی حمایت کرتا ہے ۔ اس کا وطن جس کے لئے ہو لڑتا ہے وہ وطن ہے جس میں اسلامی نظام تربیت نافذ ہو ‘ اور اس کی وہ سرزمین جس کا وہ دفاع کرے گا وہ سرزمین ہے جو دارالاسلام ہے اور جس میں اسلامی شریعت اور اسلامی نظام جاری وساری ہو۔ اس کے علاوہ کسی وطن کے بارے میں جس قدر تصورات ہیں وہ غیر اسلامی اور جاہلی تصورات میں اور اسلام ان تصورات کو ہر گز نہیں پہچانتا ۔ اس ایک دوسرا ٹچ اس موضوع کو دیا جاتا ہے ہمتوں کو تازہ کرنے کا ایک اور موقع ہے ‘ عزائم میں ایک نیا ولولہ پیدا ہوتا ہے ۔ ایک نئی راہ میں روشنی کے قمقمے چمک اٹھتے ہیں ۔ مقاصد ‘ مفادات اور اقدار حیات کی ایک نئی تعریف (Definition) سامنے آتی ہے ۔ ہر ایک گروہ اپنی اقدار کے لئے کام کرتا ہوا نظر آتا ہے

Anwar ul Bayan by

Maulana Aashiq illahi Madni

قتال کے دواعی ہوتے ہوئے قتال کیوں نہیں کرتے ؟ اس آیت میں مسلمانوں کو اللہ کی راہ میں جنگ کرنے کی تاکید فرمائی اور فرمایا تمہیں کیا عذر ہے کہ تم اللہ کی راہ میں قتال نہ کرو۔ قتال نہ کرنے کا تو کوئی عذر ہے ہی نہیں۔ قتال کرنے کا ایک بہت بڑا داعیہ موجود ہے اور وہ یہ کہ مردوں اور عورتوں اور بچوں میں جو لوگ ضعیف ہیں اور اپنے ضعف کی وجہ سے ہجرت کرنے سے عاجز ہیں اور مکہ معظمہ میں گھرے ہوئے ہیں اور مشرکین کے ظلم سے تنگ ہیں وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال دے جس کے رہنے والے ظالم ہیں۔ جو شرک کی وجہ سے ظلم عظیم کے مرتکب ہیں اور اہل ایمان کو بھی تکلیفیں دے رہے ہیں، یہ ضعفاء مظلومین یہ دعا بھی کر رہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمارا کوئی حمایتی بنا دے اور ہمارا کوئی مددگار بنادے۔ صاحب روح المعانی (صفحہ ٨٢: ج ٥) لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کی دعا قبول فرمائی۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہاتھوں مکہ فتح ہوا اور آپ نے ان سب ضعفاء کی مدد فرمائی۔ پھر آپ نے اپنے صحابی عتاب بن اسید (رض) کو مکہ کا والی بنا دیا انہوں نے ان ضعفاء کی حمایت اور مدد کی یہاں تک کہ یہ لوگ سب سے زیادہ عزت والے ہوگئے۔ صحیح بخاری صفحہ ٦٦٠: ج ٢ میں حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ میں اور میری والدہ بھی انہیں لوگوں میں سے تھے جن کا (وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ ) میں ذکر ہے۔ جو حضرات ضعفاء تھے ہجرت نہ کرسکتے تھے اور مکہ معظمہ میں مشرکین کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے ان میں ولید بن ولید، سلمہ بن ہشام، عیاش بن ابی ربیعہ بھی تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے لیے نماز میں رکوع کے بعد کھڑے ہو کر (آخری رکعت میں) دعا فرمایا کرتے تھے (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ ١١٣) پھر یہ حضرات کافروں کی بندش سے آزاد ہو کر مدینہ منورہ حاضر ہوگئے تھے۔ مومن اور کافر کی جنگ میں نیتوں کا فرق : پھر مومن کافر کی جنگ کے مقاصد کا تذکرہ فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ (اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ) (الآیۃ) یعنی جو لوگ مومن ہیں وہ اللہ کی راہ میں جنگ لڑتے ہیں ان کا مقصد صرف اللہ کو راضی کرنا اور اس کے دین کو بلند کرنا ہوتا ہے اور کافر جو جنگ لڑتے ہیں وہ طاغوت یعنی شیطان کی راہ میں جنگ کرتے ہیں ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ کفر کو رواج دیں اور کفر کا غلبہ ہو۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے مسلمانوں کو حکم دیا (فَقَاتِلُوْٓا اَوْلِیَآء الشَّیْطٰنِ ) کہ شیطان کے دوستوں سے جنگ کرو۔ شیطان اپنے دوستوں کی مدد تو کرتے ہیں لیکن ان کی مدد اللہ کی مدد کے سامنے کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتی جب مومن بندے اللہ کا بول بالا کرنے کے لیے میدان میں نکلتے ہیں اور ان کو اللہ کی مدد حاصل ہوجاتی ہے تو شیطان اور اس کے اولیاء راہ فرار اختیار کرتے ہیں اور مسلمانوں کی تھوڑی سی جماعت کے مقابلہ میں عاجز رہ جاتے ہیں۔ اور شیطان اور اس کی ساری تدبیریں دھری رہ جاتی ہیں۔ بس اہل ایمان میں ایمان کی قوت اور اخلاص یعنی جہاد فی سبیل اللہ ہونا چاہیے۔

Jawahir ur Quran by

Moulana Ghulamullah Khan

ٖ 52 تیسرا حکم سلطانی (کمزور اور ضعیف مسلمانوں کو جو مکہ میں تکلیفیں اٹھا رہے ہیں ان کو ظالم مشرکوں کے پنجہ استبداد سے چھڑاؤ) پہلے سے زیادہ واضح اور مدلل طریقہ سے مشرکین سے جہاد کرنے کا حکم دیا کہ اٹھو ہتھیار پہنو اور ان کمزور مسلمانوں کو مشرکین کے نرغے سے چھڑاؤ جو اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ رہے ہیں کہ اے اللہ ان ظالم مشرکوں سے ہمیں نجات دے لہذا تم اٹھو اور ان کی خلاصی کے لیے جہاد کرو۔ اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیلِ اللہِ یہ بھی ترغیب الی الجہاد ہے یعنی مومن تو ہمیشہ اللہ کے دین کو سر بلند کرنے اور دنیا میں امن وامان قائم کرنے کے لیے جہاد کرتے ہیں اس لیے اللہ تعالیٰ ان کا حامی اور ناصر و مددگار ہے اس کے برعکس کفار اور مشرکین باطل کی خاطر لڑتے ہیں اس لیے مسلمانوں کو ان باطل پرستوں سے قتال کرنا چاہیے تاکہ دنیا سے باطل مٹ جائے اور اللہ کا دین حق اور اس کی توحید غالب ہوجائے۔ توحید والوں کے مقابلے میں مشرکین ہمیشہ مخذول و مہزوم ہوں گے۔ رغب اللہ المومنین بانھم یقاتلون فی سبیل اللہ وھو ولیھم و ناصرھم و اعداء ھم یقاتلون فی سبیل الشیطان فلا ولی لھم الا الشیطان (مدارک ج 1 ص 184)

Kashf ur Rahman by

Ahmed Saeed Dehlvi

ف 1 اور اے مسلمانو ! آخر تم کو کیا عذر ہے کہ تم خدا کی راہ میں اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے کمزور و بےبس مسلمانوں کی خاطر جہاد نہ کرو جن میں کچھ مرد ہیں اور کچھ عورتیں ہیں اور کچھ بچے ہیں اور وہ کفار کے مظالم سے تنگ آ کر یوں دعا کر رہے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو اس بستی سے کسی طرح نکال جس کے رہنے والے سخت ظالم ہیں اور ہمارے لئے اپنی طرف سے اور اپنے پاس سے کوئی حمایت سرپرست اور والی پیدا کر دے اور اپنی طرف سے اور اپنے پاس سے ہمارے لئے کوئی مددگار بھیج دے جو ان ظالموں کے مقابلے میں ہماری مدد کرے اور ہم کو پنجہ ستم سے رستگاری دلائے۔ (تیسیر) قریۃ سے مراد یہاں مکہ معظمہ ہے مستضعفین سے مراد وہ مسلمان ہیں جو ہجرت نہ کرسکے اور مکہ کے کافران پر طرح طرح کے مظالم کیا کرتے تھے، حضرت عبداللہ بن عباس فرمایا کرتے تھے کہ میں اور میری ماں ان مستضعفین میں شامل ہیں احادیث میں اور بھی بعض لوگوں کے نام آتے ہیں۔ بہرحال جہاد کا ایک سبب یعنی اعلاء کلمتہ اللہ تو موجود ہی ہے جب تک اقتدار مسلمانوں کے ہاتھ میں نہ آئے گا اللہ تعالیٰ کا دین بلند نہیں ہوگا پھر اس پر سے ایک سبب اور بھی ہوگیا کہ بعض مظلوم مسلمان مکہ میں قید ہیں اور وہ موجود ہیں اور قوی داعی تمہارے سامنے ہے پھر تمہارے پاس کیا عذر ہے کہ تم اس کی بنا پر جہاد نہ کرو آیت سے معلوم ہوا کہ اگر مسلمان کفار کی قید میں ہوں تو ان کو کافروں کی قید سے رہا کرانا چاہئے اور حسب استطاعت اس کام میں کوشش کرنی چاہئے۔ حضرت شاہ صاحب فرماتے ہیں یعنی دو واسطے لڑائی تم کو ضرور ہے ایک تو اللہ کا دین بلند کرنے کو دوسرے مظلوم مسلمان جو کافروں کے ہاتھ میں بےبس پڑے ہیں ان کی خلاصی کرنے کو شہر مکہ میں ایسے لوگ بہت تھے کہ حضرت کے ساتھ ہجرت نہ کرسکے اور ان کے اقرباء ان پر ظلم کرنے لگے کہ مسلمان سے پھر کافر کریں۔ (موضح القرآن) غرض ! آیت وتحریض ہے مسلمانوں کو جہاد پر چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے سامان نجات پیدا کردیا کچھ تو فتح مکہ سے پہلے نکل آئے پھر مکہ فتح ہوگیا اور عتاب بن اسید کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ کا والی مقرر کیا اور انہوں نے اپنی ولایت کے دور میں مسلمانوں کی خوب خدمت کی آیت میں ولی اور نصیر سے مراد ہوسکتا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مراد ہوں یا ولی سے مراد حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہوں اور صنیر سے مراد عتاب بن اسید ہوں یا دونوں سے مراد عتاب بن اسید ہی ہوں۔ بہرحال ! پہلا قول راجح ہے وہ مستضعفین تو اللہ تعالیٰ سے والی اور نصیر طلب کر رہے تھے ان کی دعا قبول ہوئی اور مکہ کے قیدیوں نے رہائی پائی۔ (واللہ اعلم) یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے کہ اعلاء کلمتہ اللہ تو جہاد کا ایک مستقل سبب ہے اور اس سبب کو بعض دوسرے اسباب سے مزید قوت پہونچ جاتی ہے جیسے دشمنوں کا غلبہ یا کفار کا ہجوم یا شعائر اللہ کی بےحرمتی یا مسلمانوں پر ظلم وغیرہ تفصیل کتب فقہ میں ملاحظہ کیجیے یا مقامی علماء کرام سے دریافت کیجیے آگے پھر تحریض اور مسلمانوں اور کافروں کی جنگ کا فرق بیان فرماتا ہے جس سے جہاد کا فلسفہ اور اسلام جنگ کی حکمت بھی معلوم ہوجاتی ہے۔ چناچہ ارشاد ہتا ہے۔ (تسہیل)